|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اے قائدِاعظم ، شکر ھے کہ آپ زندہ نہیں ھیں ،
ملک کو برباد کر کے بھی ھم شرمندہ نہیں ھیں احساس آزادی کا رھا ھے نہ دل میں ، محبت بھی تمہا ری مر گئ دل میں ، صرف اپنی محبت زندہ ھے اب توھم میں ، وطن کی قدر تو پاتال میں جا چھپائی ھم نے، کسی کا دکھ اب ھمارا نہیں بنتا ، کسی کا بیٹا اب ھمیں اپنا نہیں دکھتا ، تکلیف نہیں پہنچتی کسی کی بیٹی کو تڑپاکر، دل نہیں روتا کسی کی ماں کا آنسو دیکھ کر، خوشبو رھے صرف ھم تک ، اسی میں جان کھپا دیتے ھیں، دولت رھے ھمیں تک ، اس میں دین بُھلا دیتے ھیں ۔ |
|
|
|
| 11 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا | shafresha (12-10-10), فیصل ناصر (15-12-10), فاروق سرورخان (12-10-10), ھارون اعظم (29-03-11), یاسر عمران مرزا (20-11-10), Zullu230 (09-06-11), احمد نذیر (11-06-11), حیدر (15-12-10), رضی (11-09-11), شاہ جی 90 (12-10-10), غلام خان (15-10-10) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ بتیس افراد نے صرف دیکھنے پر ھی اکتفا کیوں کیا؟ کمنٹس کی کنجوسی کیوں؟
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,524
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,209 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہم لوگ عموماً متنازعہ موضوعات پر تبصرے کرنے اور تنازعے کو برھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
اُ بھی متنازعیہ شاعری شروع کر دیجیے۔ پھر دیکھیے ۔ ۔ ۔ ۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اقتباس:
پاک نیٹ پر ممبران کی تعداد اور پوسٹس زیادہ ہونے کی وجہ سے آپ کے مراسلے پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ اس لئے بہتر طریقہ یہی ہے کہ آپ وزیٹر میسیج کے ذریعے اپنے تھریڈز کا لنک ممبران کو بھیجیں۔ اس طرح اگر کوئی مصروف بھی ہو، تو آپ کے تھریڈ کا لنک موجود ہونے کی وجہ سے اس کو تبصرہ کرنے میںآسانی ہوگی۔ امید ہے آپ کو وزیٹر میسیج کے استعمال کا طریقہ معلوم ہوگا۔
__________________
http:// haroonazam.wordpress.com ھارون اعظم کا بلاگ۔ |
|
|
|
|
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| عروج کا شکریہ ادا کیا گیا | احمد نذیر (11-06-11) |
|
|
#9 | ||
|
Senior Member
![]() |
اچھا یہ نہ کوئی سجیشن ہے نا کوئی درستگی بس مجھے لگا کہ یہ شعر
اقتباس:
اقتباس:
باقی اور کُچھ کہوں تو چھوٹا منہ بڑی بات ہوگی شکریہ لکھتے رہا کریں
__________________
اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں
|
||
|
|
|
|
|
#10 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,602
کمائي: 172,517
شکریہ: 8,802
5,784 مراسلہ میں 21,391 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عروج یہ آپ کی اپنی شاعری ہے ؟ شاعری تو بہت ذبردست ہے
لیکن اس پر لکھنے کے لیے کچھ نہیں ہے ۔ بس اتنا کہوں گی کہ جس معاشرے میں بے حسی اور خود غرضی عام ہوجائے اس معاشرے سے خیر کی امید نہیں رکھی جاسکتی ہے ۔
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,851
کمائي: 278,029
شکریہ: 1,151
6,266 مراسلہ میں 14,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلامُ علیکم
موجودہ صورتحال کی ترجمانی کر رہی ہے یہ شاعری۔ ایک ایک لفظ اس قوم کا حال بتا رہا ہے۔ |
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 4,146
کمائي: 58,225
شکریہ: 3,271
1,521 مراسلہ میں 3,405 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس نظم کا مرکزی خیال موجودہ پاکستانی صورتحال ہے جس کی روشنی میں عروج نے اپنے احساسات کو عام فہم زبان میں لفظی جامہ پہنایا ہے۔ شاعر ہو یا شاعرہ دونوں عام انسانوں کی طرح ہوتے ہیں ۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ شعرا عام انسانوں کی نسبت زیادی حساس ہوتے ہیں اور اپنے ارد گرد کے ماحول سے متاثر ہو کر اپنے احساسات کو شاعری کی شکل میں ڈھال کر عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت جو حالات ہیں کوئی بھی پاکستانی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ محترمہ عروج کی کاوش فکر اسی احساس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اُمید ہے کہ وہ اپنی شاعری کی طرف مزید توجہ فرما کر اسے خوب سے خوب تر بنانے کی جد و جہد جاری رکھیں گی۔ میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔
برسبیل تذکرہ ایک بات اور کرتا چلوں کہ شاعری صرف قافیے ملانے کا نام نہیں بلکہ شاعری وہ ہوتی ہے جو پڑھنے یا سُننے والے کے دل کو چُھو جائے۔ اردو زبان کے بڑے بڑے شعرا جن میں میر تقی میر، مرزا غالب، حکیم مومن خان مومن ، میر درد،علامہ اقبال، فیض احمد فیض، احمد فراز اور دیگر مشہور شعرا نے ایسے ایسے شعر کہے کہ پڑھنے والے کو یوں لگتا ہے کہ اُس کے باطنی احساسات کو الفاظ کی زبان مل گئی ہے۔ ان میں سے بعض ایسے اشعار ہیں جو زبان زد خاص و عام ہیں۔ اُس کی وجہ یہ ہے ایک جیسے ماحول میں رہنے، ایک جیسے حالات و واقعات سے گزرنے والے جب اُسی ماحول سے متاثر ہو کر لکھی جانے والی شاعری پڑھتے ہیں تو اُنہیں یو ں لگتا ہے کہ اُن کے باطنی احساسات کو لفظوں کی زبان مل گئی ہے۔ عروج نے جو نظم لکھی ہے وہ بھی موجودہ حالات سے متاثر ہو کر لکھی ہے۔ اُمید ہے کہ آپ اپنی مشق سُخن جاری رکھیں گی۔ مجھے شاعر کا نام یاد نہیں رہا لیکن اُس کا لکھا ایک آفاقی شعر مجھے ابھی تک یاد ہے۔ بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھائوں گھنی ہوتی ہے ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے
__________________
Watch your thoughts; they become words. Watch your words; they become actions. Watch your actions; they become habits. Watch your habits; they become character. Watch your character; it becomes your destiny. |
|
|
|
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,169
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حفیظ جونپوری
/ ۔ اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1,217
کمائي: 17,937
شکریہ: 2,333
913 مراسلہ میں 2,330 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
موجودہ پاکستان کودیکھ کر قائداوراقبال کی روحیں توتڑپ کریہی کہتی ہوںگی
الٰہی یہ تصورتوہرگزہمارانہیں |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ھیں, ھے, ھم, قائد, قدر, ماں, مر, آنسو, آزادی, اپنی, اعظم, بیٹی, بیٹا, بنتا, جان, دکھ, دیکھ, دین, دل, رھا, ری, روتا, زندہ, شکر, شرمندہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|