رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر صلاۃ و سلام کے فضائل
بِسّمِ اللہ الرّ حمٰنِ الرَّحیم
اِنَّ اَلحَمدَ لِلِّہِ نَحمَدہ، وَ نَستَعِینہ، وَ نَستَغفِرہ، وَ نَعَوذ بَاللَّہِ مِن شَرورِ أنفسِنَا وَ مِن سِیَّأاتِ أعمَالِنَا ، مَن یَھدِ ہ اللَّہُ فَلا مُضِلَّ لَہ ُ وَ مَن یُضلِل ؛ فَلا ھَاديَ لَہ ُ، وَ أشھَد أن لا إِلٰہَ إِلَّا اللَّہ وَحدَہ لا شَرِیکَ لَہ ، وَ أشھَد أن مُحمَداً عَبدہ، وَ رَسو لہ ::: بے شک خالص تعریف اللہ کے لیے ہے ، ہم اُس کی ہی تعریف کرتے ہیں اور اُس سے ہی مدد طلب کرتے ہیں اور اُس سے ہی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں اپنی جانوں کی بُرائی سے اور اپنے گندے کاموں سے ، جِسے اللہ ہدایت دیتا ہے اُسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا ، اور جِسے اللہ گُمراہ کرتا ہے اُسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ کے عِلاوہ کوئی سچا اور حقیقی معبود نہیں اور وہ اکیلا ہے اُس کا کوئی شریک نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں :
اعوذُ باللہ من الشیطٰن الرجیم و مِن ہمزہ و نفخہ و نفثہ
(((((
اِنَّ اللّٰہ َ و مَلآئِکتَہ ُ یُصَلُّونَ علیٰ النَّبيِّ یٰۤا ایُّھَا الَّذِینَ اٰمنُوا صلُّوا عَلِیہِ و سَلِّمُوا تَسلِیماً :::
اللہ اور اسکے فرشتے نبی پر رحمت بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی اُن پر (بذریعہ دُعا) رحمت بھیجو اور خوب سلام بھی ))))) سورت الاحزاب/آیت٥٦۔
اس آیت مبارکہ میں اللہ رب العالمین نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر اپنی اور فرشتوں کی طرف سے صلاۃ (جِسے عام طور پر دُرُود کا نام دیا جا چُکا ہے )کرنے کی خبر دی ہے اللہ تعالیٰ کا نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر صلاۃ فرمانا فرشتوں کے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی تعریف و توصیف کرنا اور ان پر اپنی خاص رحمتِ نازل فرمانا ہے، اور فرشتوں اور اِنسانوں کے دُرود بھیجنے کا مطلب دعائے رحمت و سلامتی کرنا ہے ۔ تفسیر القران العظیم ( تفسیر ابن کثیر ) ،تفسیر الجامع لِاحکامِ القُران ( تفسیر القُرطبی) صحیح البُخاری/ تفسیر سورت الاحزاب،
اور سلام بھیجنا ، سلامتی کی دُعا کرنا ہے ،ہر مومن کو اِیمان کی نعمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے نصیب ہوئی ہے اوریہ اتنی بڑی نعمت ہے کہ دین و دنیا کی کوئی دوسری نعمت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اس نعمت کا احسان تو ہم کبھی نہیں چکا سکتے لیکن اتنا تو ضرور کر سکتے ہیں کہ اپنے اِس محسن اعظم، اور حقیقی اور اکیلے قائدِاعظم ،صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت سے سرشار ہوں اور ان کے حق میں دعائے رحمت و برکت کیا کریں ، یہ اﷲ تعالیٰ کا حکم بھی ہے اور ہمارے درجات میں بلندی کا سبب بھی، ذیل میں ہم اس عظیم عبادت کے بارے میں چند صحیح ثابت شدہ احادیث بیان کرتے ہیں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ُسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا(((((
مَن صلَّی عَليَّ واحِدۃً صلَّی اللَّہ ُ عَلِیہِ عَشراً :::
جو شخص ایک مرتبہ میرے لیئے (صلاۃ)رحمت و برکت کی دُعا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ))))) صحیح مسلم / حدیث٣٨٤ /کتاب الصلاۃ /باب ٦۔
انس رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا (((((
مَن صلَّی عَليَّ واحِدۃً صلَّی اللَّہ ُ عَلِیہِ عَشراَ صلواتٍ وَ حُطَّت عنہ ُ عَشرَ خَطِیااتٍ و رُفِعَت لہ ُ عَشرَ درَجاتٍ :::
جو شخص ایک مرتبہ میرے لیئے (صلاۃ ) رحمت و برکت کی دُعا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اُس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ، اور اُس کی دس غلطیاں ( اُسکے کھاتے میں سے ) مٹادی جاتی ہیں ، اور اُسکے درجے بُلندی دی جاتی ہے ))))) سُنن النسائی /حدیث ١٢٩٧ / امام الالبانی نے کہا حدیث صحیح ہے ۔
ابو الدّرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا (((((
مَن صَلَّی عَليَّ حِینَ یُصبِحُ عَشراً ، وَ حِینَ یُمسِيُ عِشراً ادرِکَتہ ُ شِفاعِتِی یَومَ القِیامۃ :::
جس نے دس مرتبہ صبح اور دس مرتبہ شام کے وقت مجھ پر درود بھیجا، اسے قیامت کے دن میری شفاعت نصیب ہو گی))))) حدیث حسن ہے ، معجم الطبرانی۔
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا (((((
اِنَّ البخیل مَن ذُکِرت ُ عِندَہ ُ فلم یُصلِّی عليَّ :::
جس کے سامنے میرا نام لیا جائے اور ورود نہ پڑھے وہ بخیل ہے ))))) مسند احمد ، صحیح ابن حبان ، مستدرک الحاکم ،حدیث صحیح ہے ، فضل الصلاۃ علی النبی ، اِمام اسماعیل بن اسحاق القاضی ، تحقیق امام الالبانی، حدیث ٣١ ، صفحہ ٣٩ ۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ُسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا(((((
رَغِمَ انف ُ رَجُل ذَکِرت عِندَہ ُ وَ لَم یُصلَّی عَليَّ، رَغِمَ انف ُ رَجُل ادرکَ ابویہِ عِندَ الکِبرِ فَلم یَدخُلاہُ الجَنَّۃ، رَغِمَ انف ُ رَجُل دَخَلَ عَلِیہِ رَمضان ثُم انسلخَ قَبلَ ان یَدخُلَ الجَنَّۃ :::
برباد ہو گیا وہ شخص جِس کے سامنے میرا ذِکر کیا جائے اور وہ میرے لیئے رحمت کی دُعا نہ کرے ، اور برباد ہو گیا وہ شخص جِس کو بُڑھاپے کی حالت میں اپنے والدین کا ساتھ مِلا ہو اور وہ اُسے جنّت میں داخل نہ کروا سکیں ( یعنی وہ اِنکی خدمت نہ کرے اور والدین اُسکے جنّت میں داخلے کا سبب نہ بن سکیں ) ، برباد ہو گیا وہ شخص جِسکے پاس ماہِ رمضان آیا اور اِس اُس شخص کی مغفرت ہونے سے پہلے چلا گیا))))) سُنن الترمذی ، مُستدرک الحاکم ، حدیث صحیح ہے ، سابقہ حوالہ، حدیث١٦ ، صفحہ٣١۔
(رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنے اِس مذکورہ بالافرمان مبارک میں والدین کی حق اور خدمت کی اہمیت کا بھی بڑا واضح بیان فرمایا ہے )
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ُسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا (((((
ما قعَدََ قَومٌ مَقعَداً لم یَذکُرُوا فِیہِ اللَّہَ عز َّ و جلَّ، و یَصلُّوا عَلی نَبِي ، اِلَّا کان عَلِیھِم حَسرۃً یَومَ القِیامۃِ، واِن دَخَلُوا الجَنَّۃَ لِلثوابِ :::
جس محفل میں لوگ نہ اللہ کا ذکر کریں اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے لیئے رحمت کی دُعاء کریں ، وہ مجلس قیامت کے دن اِن لوگوں کے لیے باعثِ حسرت ہو گی، خواہ وہ (دیگر) نیک اعمال کے بدلے میں جنت ہی میں کیوںنہ چلے جائیں))))) مُسند احمد،صحیح ابن حبان، حدیث صحیح ہے سابقہ حوالہ، حدیث٥٥ ، صفحہ٥٢۔
نواسہ رسول حُسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا (((((
مَن یَنسی الصَّلاۃ عَليَّ خَطیءَ ابواب الجَنَّۃ :::
جومیرے لیئے رحمت کی دُعا کرنا بھول گیا، (گویا کہ )اُس نے جنت کے دروازوں( کے راستہ )کو کھو دیا ))))) معجم الطبرانی الکبیر، حدیث حسن ، سابقہ حوالہ، حدیث ٤١ ، صفحہ ٤٤ ۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا ذِکرمُبارک ہو ، پڑھنے میں ہو یا بولنے میں یا لکھنے میں ، تو اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے لیے صلاۃ یعنی رحمت کی دُعا کرنے کی اہمیت اور اُس کا ثواب ، اورنہ کرنے کی سزا آپ نے ملاحظہ فرمائی ،
اب یہ دیکھیئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے خود اپنی زبان مبارک سے ہمیں ، اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے لیئے صلاۃ ، یعنی رحمت کی دُعا کرنے کاکیا طریقہ سیکھایا ہے ،
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ُکہتے ہیں کہ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے پوچھا '''
اے اللہ کے رسول!آپ پر سلام کرنا تو ہم کو معلوم ہو گیا ہے، لیکن آپ پر صلاۃ کیسے کریں(یہ معلوم نہیں)'' تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا(((((
کہو :::
اللَّھُمَ صَلِّ علیٰ مَحمدٍ و عَلیٰ آلِ مُحمدٍ کمَا صَلَّیت َ عَلیٰ ابرَاھِیمَ و عَلیٰ آلِ ابرَاھِیمَ اِنَّکَ حَمیدٌ مَجِیدٌ ، اللَّھُم بارِک علیٰ مَحمدٍ و عَلیٰ آلِ مُحمدٍ کمَا بارِکت َ عَلیٰ ابرَاھِیمَ و عَلیٰ آلِ ابرَاھِیمَ اِنَّکَ حَمیدٌ مَجِیدٌ ))))) صحیح البخاری ، کتاب التفسیر
یہ وہی صلاۃ ہے جو ہم اپنی نمازوں میں پڑھتے ہیں جِسے عام طور پر ' دُرُود ابراہیمی ' کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ابی حُمید السّاعدی رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا (((((
کہو::
اللھُم صلِّ علیٰ مُحمدٍ و ازواجِہِ وذُریتہِ کما صلِّیت َ علیٰ ابراھیمَ ، و بارِک علیٰ مُحمدٍ وازواجِہِ وذُریتہِ کما بارِکت عَلیٰ ابراھیمَ ، اِنَّکَ حَمید ٌ مَجِید ))))) مُتفقٌ علیہِ ۔
اگر ہم اپنے اِرد گِرد نظر دوڑائیں تو ہمیں بہت سے ایسے لوگ نظر آئیں گے جو مُحبتِ رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن قرآن و حدیث سے دوری کی وجہ سے وہ بہت سے ایسے کاموں میں مبتلا ہو جاتے ہیں جن کا قرآن و حدیث یا اسلافِ امت کے طرزِ عمل میں کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت کے اظہار کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایسے کاموں میں وقت اور سرمایہ برباد کرنے کی بجائے ان پر زیادہ سے زیادہ صلوٰۃ و سلام پڑھا جائے۔ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا (((((
مَن احدث فی امرِنا ھذا ما لیسَ فِیہِ فَھو ردٌ :::
جِس نے ہمارے اِس کام ( یعنی دِین ) میں کوئی ایسا نیا کام بنایا جو اِس ( یعنی دِین ) میں نہیں تو وہ کام مردُود ہے ))))) صحیح البُخاری /٢٦٩٧ ، مُسند ابو یعلیٰ المُوصلی/ ٤٥٧٥
سُنیئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا اِرشادِ گرامی (((((
اُوصیکُم بتقوی اللَّہ وَ السَّمع ِ وَ الطَّاعۃِ وَ اِن عَبداً حبشيٌ ، فَاِنَّہُ مَن یَعِیش مَنکُم بَعدِي فَسَیَریٰ اِختلافاً کثیراً ، فَعلیکُم بسُنَّتي وَ سُنَّۃِ الخُلفاءِ الرَّاشِدِینَ المَہدِیِنَ ، تَمسَّکُوا بِھا و عَضَّوا عَلیھا بِالنَّواجِذِ ، وَ ایاکُم و مُحدثات الاُئمُورِ فِاِنَّ کُلَّ مُحدثۃٍ بِدَعۃٌ و کُلُّ بِدعۃٍ ضلالۃٌ ( و کُلَّ ضلالۃٍ فی النَّارِ ) ):::
میں تُم لوگوں کو اللہ سے بچنے ( یعنی اللہ کی نافرمانی سے باز رہ کر اللہ کے عذاب سے بچنے ) کی وصیت کرتا ہوں اور (حق)بات سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں ، خواہ (کہنے والاکوئی )حبشی غُلام ہی ہو ( یعنی اگر بات حق ہے تو اُسے مانو اور اُس پر عمل کرو اِس وجہ سے بات کو رد نہ کرو کہ کہنے والا کوئی بڑی حیثیت نہیں رکھتا ) بے شک تُم سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت اختلافات دیکھے گا پس تُم لوگوں پر میری اور (میرے) ہدایت یافتہ ، ہدایت دینے والے خُلفاء کی سنَّت فرض ہے ،اِسکو(انتہائی مضبوطی سے ) تھام لو اور( یہاں تک کہ ) اُس پر دانت گاڑ دو ، اور خبردار باز رہو نئے کاموں سے ، بے شک ہر نیا کام بِدَعت ہے اور ہر بِدَعت گُمراہی ہے ( اور ہر گُمراہی آگ میں ہے ) ))))) مُستدرک الحاکم/حدیث ٣٢٩ ، سنن ابو داؤد/حدیث ، ٤٥٩٤
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر بدعت اور گمراہی سے محفوظ رکھے اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا سچی مُحبت کرنے والا بنائے کہ ہم اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی تابع فرمانی کریں نہ کہ اُن کی نافرمانی کرتے ہوئے اپنی مرضی کی عبادات کرتے رہیں.
اِن احادیث کو ایک دفعہ پھر غور سے پڑھیئے ، یقین مانیے اِن میں دی گئی خبر روزانہ کی سیاسی، فلمی کھیل وغیرہ کی اخبار ، جِس کو پڑھے اور سُنے بغیر اکثر لوگوں کا دِن نہیں گذرتا، اُس اخبار سے سے کہیں زیادہ اہم اور ہر لحاظ سے سچی اور ہیں کیونکہ اُس معصوم اور پاک ہستی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی زُبان سے سُنائی گئی ہیں ، جِن کی زُبان اللہ کی طرف سے وحی کے بغیر بولتی نہ تھی، ہم اُسی مُبارک زُبان سے سیکھائی گئے اِلفاظ کے ساتھ اُس معصوم ہستی پر صلاۃ کرتے ہیں ،
اللَّھُمَ صَلِّ علیٰ مَحمدٍ و عَلیٰ آلِ مُحمدٍ کمَا صَلَّیت َ عَلیٰ ابرَاھِیمَ و عَلیٰ آلِ ابرَاھِیمَ اِنَّکَ حَمیدٌ مَجِیدٌ ، اللَّھُم بارِک علیٰ مَحمدٍ و عَلیٰ آلِ مُحمدٍ کمَا بارِکت َ عَلیٰ ابرَاھِیمَ و عَلیٰ آلِ ابرَاھِیمَ اِنَّکَ حَمیدٌ مَجِیدٌ ،
آپ سب بھی اپنے روزمرہ معمولات میں اس مبارک عمل کو ضرور شامل کیجیے، خصوصاً صبح شام کے وقت دس دس مرتبہ درود پڑھنا نہ بھولیئے تا کہ قیامت کے دن ہم اِن لوگوں میں شامل ہو سکیں جن کو اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت عطاء فرمائے گا، اور لوگوں کے اپنے بنائے الفاظ سے دُور رہیئے ، یہ بظاہر کتنے ہی خوبصورت لگتے ہوں لیکن قدروقیمت اور اﷲ تعالیٰ کے ہاں قبولیت کے اعتبار سے وہ ان مبارک الفاظ کے مُقابلے میں کُچھ بھی نہیں ہیں ، کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے الفاظ کو چھوڑ کر کِسی اور کے الفاظ کو اپنانا ، یقینا اُن الفاظ کو بہتر جاننا ہے اور یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی شان میں گُستاخی ہے اور یقینا اللہ کی ناراضگی کا سبب ہے،لہذا اپنی دُعاؤں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر صلاۃ و سلام کے لیئے صِرف اور صِرف وہ ہی الفاظ اور طریقہ اور وقت اور کیفیت اپنائیے جو اس زبانِ مبارک کے ذریعے ہمیں سِکھائے گئے ہیں جو وحی الٰہی کے بغیر حرکت بھی نہ کرتی تھی۔ اور ایسے الفاظ کو اختیار کرنے سے بھی مکمل پرہیز کیجیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات مبارک سےثابت نہ ہوتے ہوں ، ایسے الفاظ اور اعمال کو سنت مان لینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر بہتان ہے اور اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے محبت کے دعوے کا بطلان ہے۔
السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ، طلبگارِ دُعا ، عادِل سُہیل ظفر ۔