واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > عقیدہ رسالت




مسیح موعود کون ہیں؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-11-07, 12:50 PM  
مسیح موعود کون ہیں؟
عبداللہ حیدر عبداللہ حیدر آف لائن ہے 10-11-07, 12:50 PM

پچھلی صدی عیسوی میں برصغیر میں مسلمانوں کو جن فتنوں کا سامنا کرنا پڑا ان میں جھوٹی نبوت کا فتنہ بہت بڑا تھا۔ نبوت کا دعوٰی کرنے والا صاحب نے اپنے آپ کو "مسیح موعود" قرار دیا یعنی وہ مسیح جن کی آمد کا مسلمان انتظار کر رہے ہیں۔ ذیل میں احادیث کی رورشنی میں اسی مسئلے پر بحث کی گئی ہے۔
’’مسیح مَو عُود‘‘ کی حقیقت‘‘

نئی نبوت کی طرف بلانے والے حضرات عام طور پر ناواقف مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ احادیث میں ’’مسیح موعود ‘‘ کے آنے کی خبر دی گئی ہے، اور مسیح نبی تھے ، اس لیے ان کے آنے سے ختم نبوت میں کوئی خرابی واقع نہیں ہوتی ، بلکہ ختمِ نبوت بھی برحق اور اس کے باوجود مسیح موعود کا آنا بھی برحق ۔
اسی سلسلے میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ’’ مسیح موعود‘‘ سے مراد عیسیٰ ابن مریم نہیں ہیں۔ ان کا تو انتقال ہوچکا ۔ اب جس کے آنے کی خبرنبوت کے خلاف نہیں ہے۔
اس فریب کا پردہ چاک کرنے کے لیے ہم یہاں پورے حوالوں کے ساتھ وہ مستند روایات نقل کیے دیتے ہیں جو اس مسئلے کے متعلق حدیث کی معتبر ترین کتابوں میں پائی جاتی ہیں۔ اِ ن احدیث کو دیکھ کر ہر شخص خود معلوم کرسکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا اور آج اس کو کیا بنایا جارہا ہے۔
احادیث درباب نزولِ عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السّلام
(۱)عن ابی ھریر ۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والذی نفوی بیدہ لَیَوْ شِکَنَّ ان ینزل فِیکم ابن مریم حکمًا عد لًا فیکسر الصلیب و یقتل الخنزیر و یَضَعَ الحربَ و یُفیضَ المال حتیٰ لا یقبلِہ احد حتٰی تکون السجدہ الوا حدۃ خیرًا من الدّ نیا وما فیھا (بخاری کتاب احادیث الانبیاء، باب نزول عیسیٰ ابن مریم ۔مسلم ، باب بیان نزول عیسیٰ ۔ ترمذی ابواب الفتن، باب فی نزول عیسیٰ ۔ مسند احمد، کرویات ابو ہریرہؓ)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ضروراُتریں گے تمہارے درمیان ابن مریم حاکم عادل بن کر ، پھر وہ صلیب کو توڑ ڈالین گے، اور خنزیر کو ہلاک کردیں گے۔ ( صلیب کو توڑ ڈالنے اور خنزیر کو ہلاک کردینے کا مطلب یہ ہے کہ عیسائیت ایک الگ دین کی حیثیت سے ختم ہوجائے گی۔ دینِ عیسوی کی پوری عمارت اس عقیدے پر قائم ہے کہ اللہ نے اپنے اکلوتے بیٹے (یعنی حضرت عیسیٰ) کو صلیب پر ’’ لعنت ‘‘ کی موت دی جس سے وہ انسان کے گناہ کا کفارہ بن گیا۔ اور انبیاء کی امتوں کے درمیان عیسائیوں کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے صرف عقیدے کو لے کر اللہ کی پوری شریعت ردکردی حتّٰی کہ خنزیر پر تک کو حلال کرلیا جو تمام انبیاء کی شریعتوں میں حرام رہا ہے۔ پس جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آکر خود اعلان کر دیں گے کہ نہ میں اللہ کا بیٹا ہوں ، نہ میں نے صلیب پر جان دی، نہ میں کسی گناہ کا کفارہ بنا تو عیسائی عقیدے کے لیے سرے سے کوئی بنیاد ہی باقی نہ رہے گی۔ اسی طرح جب وہ بتائیں گے کہ میں نے تو نہ اپنے پیرووں کے لیے سُور حلال کیا تھا اور نہ ان کو شریعت کی پابندی سے آزاد ٹھیرایا تھا، تو عیسائیت کی دوسری امتیازی خصوصیت کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔) اور جنگ کا خاتمہ کردیں گے (دوسری روایت میں حرت کے بجائے جزیہ کا لفظ ہے ، یعنی جزیہ ختم کردیں گے۔) (دوسرے الفاظ میںاس کا مطلب یہ ہے کہ اُس وقت ملّتوں کے اختلافات ختم ہو کر سب لوگ ایک مِلّت اسلام میں شامل ہوجائیں گے اور اس طرح نہ جنگ ہوگی اور نہ کسی پر جزیہ عائد کیا جائے گا۔ ا سی بات پر آگے احادیث نمبر ۵ و ۱۵ دلالت کررہی ہیں۔ )اور مال کی وہ کثرت ہوگی کہ اس ک قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا اور (حالت یہ ہو جائے گی کہ لوگوں کے نزدیک اللہ کے حضور) ایک سجدہ کرلینا دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا۔
(۲)۔ایک اور روایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ میں ہے کہ لا تقعم السّا عۃ حتّٰی ینزل عیسٰی ابن مریم......قیامت قائم نہ ہوگی جب تک نازل نہ ہولیں عیسٰی ابن مریم..........اور اس کے بعد ہی مضمون ہے جو اوپر کی حدیث میں بیان ہوا ہے (بخاری ، کتاب المظالم، باب کسرالصلیب۔ ابن ماجہ ، کتاب الفتن، باب فتنتہ الدجال)
(۳)۔ عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال کیف انتم اذانزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم۔ (بخاری، کتاب احادیث الانبیاء ، باب نزول عیسیٰ ۔ مسلم ، بیان نزول عیسیٰ ۔ مسند احمد ، مرویات ابی ہریرہؓ)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیسے ہوگے تم جبکہ تمہارے درمیان ابن مریم اتریں گے اور تمہارا امام اس وقت خود تم میں سے ہوگا۔‘‘ (یعنی نماز میں حضرت عیسیٰ حضرت عیسیٰ امامت نہیں کرائیں گے بلکہ مسلمانوں کا جو امام پہلے سے ہوگا اسی کے پیچھے وہ نماز پڑھیں گے۔)
(۴)۔ عن ابی حریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ینزل عیسیٰ ابن مریم فیقتل الخنزیر و یمحواالصلیب و تجمع لہ الصلوٰۃ و یعطی المال حتی لا یقبل و یضع الخراج و ینزل الرَّوحاء فیحجّ منھا، او یعتمو، او یجمعھما (مسند احمد ، بسلسلہ ، مرویات ابی ہریرہؓ مسلم ، کتاب الحج ۔ باب جواز التمتُّع فی الحج والقرآن)
حضر ت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گیپھر وہ خنزیر کو قوتل کریں گے اور صلیب کو مٹادیں گے اور ان کے لیے نماز جمع کی جائے گی اور وہ اتنا مال تقویم کریں گے کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہ ہوگا اور وہ خراج ساقط کردیں گے اور رَوحائ(مدینہ سے ۳۵ میل کے راصلے پر ایک مقام) کے مقام پر منزل کرکے وہاں سے حج یا عمرہ کریں گے ، یا دونوں کو جمع کریں گے( واضح رہے کہ اس زمانے میں جن صاحبکو مثیلِ مسیح قرار دیاگیا ہے انہوں نے اپنی زندگی میں نہ حج کیا اور نہ عمرہ) راوی کو شک ہے کہ حضوؐر نے ان میں سے کونسی بات فرمائی تھی۔ (۵)۔
عن ابی ھریرۃ (بعد ذکر خروج الدجال) فبینما ھم یعدّوس للقتال یسوّون الصّفوف اذا اقیمت الصلوٰۃ فینزل عیسیٰ ؑ ابن مریم فامّھم فاذار اٰہ عدواللہ یذوب کما یذوب الملح فی الماء فلو ترکہ الانذاب حتٰی یھلک ولٰکن یقتلہ اللہ بیدہ فیریھم دمہ فی حربتہٖ( مشکوٰۃکتاب الفتن، باب الملاحم، بحوالٔہ مسلم)۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے (دجّال کے خروج کا ذکرکرنے کے بعد حضوؐر نے فرمایا)اس اثنا میں کہ مسلمان اس سے لڑنے کی تیاری کررہے ہوں گے، صفیں باندھ رہے ہوں گے اور نماز کے لیے تکبیراقامت کہی جاچکی ہوگی کہ عیسیٰ ابنِ مریم نازل ہوجائیں گے۔ اور نماز مین مسلمانوں کی امامت کریں گے۔ اور اللہ کادشمن (یعنی دجّال) ان کو دیکھتے ہی اس طرح گھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گھلتا ہے۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام اس کو اُس کے حال پر چھوڑ دیں تو وہ آپ ہی گھل کر مر جائے۔ مگر اللہ اس کو اُن کے ہاتھ سے قتل کرائے گا اور وہ اپنے نیزے میںاُس کا خون مسلمانوں کو دکھائیں گے۔‘‘
(۶)۔ عن ابی ھریرۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لیس بینی وبینہٗ نبی (یعنی عیسیٰ) وانہ نازل فاذارأیتموہ ماعر فوہ رجل مربو الی الحمر ۃ والبیاص، بین ممصرتین کان رأسہ یقطروَان لم یصبہ بلل فیقاتل الناس علیالاسلام فیدق الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃویھلک اللہ فی زمانہ الملل کلھا الاا لاسلام ویھلک المسیح الدجال فیمکث فی الارض اربعین سنۃ تم یتوفی فی صلی علیہ المسلمون۔(ابوداؤد ، کتاب الملاحم، باب خروج الدّجال۔ مُسند احمد مرویات ابو ہریرہؓ)
ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے اور اُن (یعنی عیسیٰ علیہ السلام)کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔ اوریہ کہ وہ اُترنے والے ہیں، پسجب تم ان کو دیکھو تو پہچان لینا ، وہ ایک میانہ قد آدمی ہیں ، رنگ مائل بسُرخی و سپیدی ہے، دوزرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے۔ ان کے سر کے بال ایسے ہوں گے گویا اب ان سے پانی ٹپکنے والا ہے، حالانکہ وہ بھیگے ہوئے نہ ہوں گے۔ وہ اسلام پرلوگوں سے جنگ کریں گے، صلیب کو پاش پاش کردیں گے، خنزیر کو قتل کردیں گے ، جزیہ ختم دیں گے، اور اللہ ان کے زمانے میں اسلام کے سوا تمام مِلّتوں کو مٹادے گا، اور وہ مسیح دجال کو ہلاک کردیں گے، اور زمین میں وہ چالیس سال ٹھیریں گے۔ پھر ان کا انتقال ہوجائے گا اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔‘‘ (۷)۔
عن جابر بن عبداللہ قال سمعت روسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم.......فینزل عیسیٰ ابن مریم صلی اللہ علیہ وسلم فیقو ل امیر ھم تعل فصلِّ فیقول الا ان بعضکم علیٰ بعضامراء تکرمۃ اللہ ھٰذہ الامۃ۔ (مسلم، بیاننزول عیسیٰ ابن مریم۔ مُسند احمد بسلسلہ مرویات جابرؓ بن عبداللہ)
حضرت جابربن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سُنا کہ ....پھر عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے۔ مسلمانوں کا امیر اُن سے کہے گا کہ آئے، آپ نماز پڑھائیے، مگر وہ کہیں گے کہ نہیں ، تم لوگ خود ہی ایک دوسرے کے امیر ہو۔( یعنی تمہارا امیر خود تم ہی میں سے ہونا چاہیے۔) یہ وہ اُس عزّت کا لحاظ کرتے ہوئے کہیں گے جوجواللہ نے اس اُمّت کو دی ہے۔‘‘
(۸)۔ عن جابر بن عبداللہ (فی قصۃ ابن صیاد)فقال عمر بن الخطاب ائذن لی فاقتلہٗ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان یکن ھو فلست صاحبہ انما صاحبہ عیسیٰ ابن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام، و ان لا یکن فلیس لک ان تقتل رجلا من اھل العھد(مشکوٰۃ۔ کتاب الفتن، باب قصّۂ بن صیّاد ، بحوالہشرح السُّنہ بَغَوی)
جا بر بن عبداللہ (قصّۂ ابن صیّاد کے سلسلہ میں) روایت کرتے ہیں کہ پھر عمر بن خطاب نے عرض کیا، یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اسے قتل کردوں ۔ اس پرحضوؐر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ وہی شخص (یعنی دجال) ہے تو اس کے قتل کرنے والے تم نہیں ہو بلکہ اسے تو عیسیٰ بن مریم ہی قتل کریں گے۔ اور اگر یہ وہ شخص نہیں ہے تو تمہیں اہلِ عہد (یعنی ذمیوں) میں سے ایک آدمی کو قتل کردینے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘‘ (۹)۔ عن جابر عبداللہ (فی قصہ الدجال) فاذاھم بعیسیٰ ابن مریم علیہ السلام فتقام الصلوٰۃ فیقال لہ تقدم یا روح اللہ فیقول لیتقدم امامکم فلیصلِّ بکم فاذاصلی صلوٰۃ الصبح خرجو االیہ، قال جحین یری انکذاب کما ینماث الملح فی الماء فیمشی الیہ فیقتلہٗ حتی ان الشجر والحجر ینادی یا روح اللہ ھٰذا الیھودیُّ ، فلا یترک ممن کان یتبعہ احداالاقتلہٗ ۔ (مسنداحمد ، بسلسلۂ روایات جابر بن عبداللہ)
جابربن عبداللہ سے روایت ہے کہ (دجال کا قصہ بیان کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اس وقت یکایک عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام مسلمانوں کے درمیان آجائیںگے ۔ پھر نماز کھڑی ہوگی اور ان سے کہا جائے گا کہ اے روح اللہ آگے بڑھئے ، مگر وہ کہیںکہ نہیں ، تمہارے امام ہی کو آگے بڑھنا چاہیے، وہی نماز پڑھائے۔ پھرصبح کی نماز سے فارغ ہوکر مسلمان دجال کے مقابلے پر نکلیں گے۔ فرمایا، جب وہ کذّاب حضرت عیسیٰ کو دیکھے گا تو گھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گھلتا ہے۔ پھر وہ اس کی طرف بڑھیں گے اور اسے قتل کردیں گے اور حالت یہ ہوکی کہ درخت اور پتھر پکار اٹھیں گے کہ اے روح اللہ یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے ۔ دجال کے پیرووں میں سے کوئی نہ بچے گا وہ (یعنی عیسیٰؑ ) قتل نہ کردیں۔ (۱۰)٘۔
عن النواس بن سمعان ( فی قصۃ الدجّال) فبینما ھو کذٰلک اذ بعث اللہ المسیح بن مریم فینزل عندالمنارۃ البیضاء شرقی دمشق بین مھرو ذتین واضعًا کفیہ علیٰ اجنحہ ملکین اذاطاُ طأ راسہٗ قطرواذا رفعہ تحد رمنہ جمان کا للوٗلوٗ فلایحل لکافر یجد ریح نفسہ الامات و نفسہ ینتہی الیٰ حیث ینتہی طرفہ فیطلبہ حتیٰ
ید کہ ببابِلُدٍّ فیقتلہ۔(مسلم، ذکرالدجّال ۔ ا بو داوٗد، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال ۔ ترمذی، ابو اب الفتن ، باب فتنۃ الدّجال۔ ابن ماجہ ، کتاب الفتن، باب فتنۃالدّجال )
حضرت نَاّس بن سَمْعان کلانی (قسۂ دجال بیان کرتے ہوئے ) راویت کرتے ہیں: اس اثناء میں کہ دجال یہ کچھ کررہا ہوگا، اللہ تعالیٰ مسیحؑ ابن مریم کو بھیج دے گااور وہ دمشق کے مشرقی حصے میں ، سفیدمینار کے پاس، زرد رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے، دو فرشتوں کے بازؤوں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے۔جب وہ سر جھکائیں گے تو ایسا محسوس ہوگا کہ قطرے ٹپک رہے ہیں ، اور جب سر اٹھائیں گے توموتی کی طرح قطرے ڈھلکتے نظر آئیں گے۔ ان کے سانس کی ہو ا جس کافر تک پہنچے گے .......اور وہ ان کی حد نظر تک جائے گی ۔۔۔۔۔۔.......... وہ زندہ نہ بچے گا۔ پھر ابن مریم دجال کا پیچھا کریں گے اور لُدّ(واضھ رہیکہ لُدّ (Lyddu)فلسطین میں ریاست اسرائیل کے دارلسلطنت تل ابیب سے چند میل کے فاصلے پر واقع ہے اور یہودیوں نے وہان بہت بڑا ہوائی اڈہ بنا رکھا ہے۔) کے دروازے پر اسے جا پکڑیں گے اور قتل کردیں گے۔
(۱۱)۔ عن عبداللہ بن عمر وقال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یخرج الدجال فی امتی فیمکث اربعین (لا ادری اربعین یومًا اواربعین شھرًا او ربعین عامًا)فیبعث اللہ عیسیٰ بن مریم کانہ عُروۃ بن مسعود فیطلبہ ثم یمکث الناس سبع سنین لیس بین اثنین عداوۃ(مسلم، ذکر الدجال)
عبداللہ بن عاص کہتے ہیں کہ رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال میری امت میں نکلے گا اور چالیس( میں نہیں جانتا چالیس دن یا چالیس مہینے یاچالیس سال) (یہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کا اپنا قول ہے) رہے گا ۔ پھر اللہ عیسیٰ ابن مریم کو بھیجے گا۔ ان کا حلیہ عُروہ بن مسعود (ایک صحابی) سے مشابہ ہوگا۔ وہ اس کا پیچھا کریں گے اور اسے ہلاک کردیں گے، پھر سات سال تک لوگ اس حال میں رہیں گے کہ دو آدمیوں کے درمیان بھی عداوت نہ ہوگی۔
(۱۲)۔ عن حذیفۃ بن اسید الفاری قال اطلع النبی صلی اللہ علیہ وسلم علینا و نحن نتذاکر فقال ما تذکرون قالو انذ کر السّاعۃ قال انھالن تقوم حتیٰ ترون قبلھا عشراٰیات فذکر الدخان والدجال والدابۃ و طلوع الشمس من مغر بھا و نزول عیسیٰ ابن مریم ویاجوج و ماجوج و ثلثۃ خسوف، خسف بالمشرق و خسف بالمغرب، وخسف بجزیرۃ العرب ، و اٰ خر ذٰلک نار تخرج من الیمن تطرد الناس الیٰ محشر ھم(مسلم: کتاب الملاحم، باب امارات الساعہ)
حُذیفہ بن اسید الغفاری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مجلس میں تشریف لائے اور ہم آپس میں بات چیت کررہے تھے۔ آپ نے پوچھا کیا بات ہورہی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا ہم قیامت کا ذکر کررہے تھے۔ فرمایا وہ ہرگز قائم نہ ہوگی جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں ظاہر نہ ہوجائیں ۔ پھر آپ نے وہ دس نشانیاں یہ بتائیں : (۱) دُھواں،(۲)دجال،(۳) دابتہ الارض، (۴) سورج کا مغرب سے طلوع ہونا(۵) عیسیٰ ابنِ مریم کا نزول،(۶)یاجوج و ماجوج، (۷)تین بڑے خَسَف( زمین دھس جاناLandslide)، ایک مشرق میں، (۸)دوسرا مغرب میں، (۹) تیسرا جزیرۃ العرب میں، (۱۰) سب سے آخر میں ایک زردست آگ جو یمن سے اٹھے گی اور لوگوں کو ہانکتی ہوئی محشر کی طرف لے جائے گی۔ (۱۳)۔ عن ثوبان مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن النبی صلی اللہ وسلم عصابتان من امتی احرز ھما اللہ تعالیٰ من النار۔ عصابۃ تغزوالھند، وعصا بۃ تکون مع عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام (نسائی، کتاب الجہاد ۔ مسند احمد، بسلسلہ روایات ثُوبان)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان روایت کرتے ہیںکہ حضورؐ نے فرمایا’’ میری امت کے دو لشکر ایسے ہیں جن کو اللہ نے دوزخ کی آگ سے بچالیا۔ایک وہ لشکر جو ہندوستان پر حملہ کرے گا۔ دوسرا وہ جو عیسٰی ابن مریمؑ کے ساتھ ہوگا۔
(۱۴)۔ عن مُجمِّع بن جاریۃ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول یقتل ابنُ مریم الدّجال بباب لُدّ( مسنداحمد ۔ترمذی ، ابواب الفتن )
مُجَمّع بن جاریتہ انصاری کہتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ابن مریم دجال کو لُدّ کے دروازے پر قتل کریں گے۔
(۱۵)۔ عن ابی اُمامۃ الباھلی(فی حدیث طویل فی ذکر الد جال) فبینما اما مھم قد تقدم یصلّی بھم الصنح اذنز ل علیھم عیسیٰبن مریم فرجع ذٰلک الامام ینکص یمشی تھقریٰ لیتقدم عیسیٰ فیضع عیسیٰ یدہ بین کتفیہ تم یقول لہٗتقدم فصل فانھا لک اقیمت فیصلی بھم اما مھم فا ذا انصرف قال عیسیٰ علیہ السسلام افتحوا الباب فیفتح و وراء ہ الدجال ومعہ سبعون الفیھودی کلھم ذوسیف محلی وساج فاذانظر الیہ الدجال ذاب کما یذوب الملح فی الماء وینطلق ھا ربًا ویقول عیسیٰ ان لی جیک ضربۃلن تسبقنی بھا فیدرکہ عندباب الُّلدِّ الشرقی فیھزم اللہ الیھود..... وتملأالارض منالمسلم کما یملأالا ناء من الماء وتکون الکلمۃ واحدۃ فلا یعبد الا اللہ تعالیٰ (ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب فتنتہ الدجال)
ابو اُمامہ باہلی (ایک طویل حدیث میں دجال کا ذکر کرتے ہوئے ) روایت کرتے ہیں کہ عین اس وقت جب مسلمانوں کا امام صبح کی نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھ چکا ہوگا۔ عیسیٰ ابن مریم اُن پر اُتر آئیں گے۔امام پیچھے پلٹے گا تاکہ عیسیٰؑ آگے بڑھیں ، مگر عیسیٰ اس کے شانوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر کہیں گے کہ نہیں تم ہی نماز پڑھاؤکیونکہ یہ تمہارے لیے ہی کھڑی ہوئی ہے ۔ چنانچہ وہی نماز پڑھائے گا۔ سلام پھیرنے کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے کہ دروازہ کھولو ن، چنانچہ وہ کھولا جائے گا۔ باہر دجال ۷۰ ہزار مسلح یہودیوں کے ساتھ موجود ہوگا۔ جوں ہی کہ عیسیٰ علیہ السلام پر اس کی نظر پڑے گی وہ اس طرح گھُلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گُھلتا ہے اور سہ بھاگ نکلے گا۔ عیسیٰ کہیں گے میرے پاس تیرے لیے ایک ایسی ضرب ہے جس سے تو بچ کر نہ جا سکے گا پھر وہ اُسے لُدّ کے مشرقی دروازے پر لے جائیں گے اور اللہ یہودیوں کو ہرادے گا...... اور زمین مسلمانوں سے اس طرح بھر جائے گی جیسے برتن پانی سے بھر جائے۔ سب دنبا کا کلمہ ایک ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ ہوگی۔
(۱۶)۔ عن عثمان بن انی العاص قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول .. ... وینزل عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام عند صلوۃ الفجر فیقول لہ امیرھم یاروح اللہ تقدم ، صلِّ، فیقول ھٰذہ الامۃ بعضھم امراء علیٰ فیتادم امیر ھم فیصلی، فاذا قضیٰ صلوٰتہٗ اخذ عیسیٰ حربتہٗ فیذھب نحوالدجال فاذایراہ الدجال ذاب کما یذوب الرصاس فیضع حربتہ بین شندوبتہ فیقتلہٗ وینھزم اصحابہ لیس یومعِذ شیء یواری منھم احداحتیٰ ان الشجر لیقول یا مومن ھٰذا کافرو یقول الحجر یا مومن ھٰذا کافر(مُسند احمد۔ طُبرانی۔ حاکم)
عثمان بن انی العاص کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے ....اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام فجر کی نماز کے وقت اُتر آئیں گے۔
مسلمانوں کا امیر ان سے کہے گا اے رُوح اللہ آپ نماز پڑھایئے۔ وہ جواب دیں گے کہ اس امت کے لوگ خود ہی ایک دوسرے پر امیر ہیں ۔ تب مسلمانوں کا امیر آگے بڑھ کر نماز پڑھائے گا ۔ پھر نماز سے فا رغ ہوکر عیسیٰ اپنا حربہ لے کر دجال کی طرف چلیں گے ۔ وہ جب ان کو دیکھیگا تو اس طرح پگھلے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام اپنے حرنے سے اس کو ہلاک کردیں گے اور اس کے ساتھی شکست کھا کر بھاگیں گے مگر کہیں انہیں چھپنے کو جگہ نہ ملے گی، حتیٰ کہ درخت پکاریں گے اے مومن ، یہ کافریہان موجودہے اور پتھر پکاریں گے کہ اے مومن، یہ کافر یہاں موجود ہے۔
(۱۷)۔ عن سمرۃ بن جُنْدُب عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم(فی حدیث طویل) فیصبح فیھم عیسیٰ ابن مریم فیھزمہ اللہ وجنودہ حتیٰ ان اجذم الحائط واصل الشجر لینادی یا مومن ھٰذا کافر یستتربی فتعال اقتلہ۔
سَمُرہ جُندُب(ایک طویل حدیث میں)نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رواسیت کرتے ہیں ، پھر صُبح کے وقت مسلمانوں کے درمیان عیسیٰ ابن مریم آجائیں گے اور اللہ دجال اور اس کے لشکروں کوشکست دے گا یہاں تک کہ دیواریں اور درختوں کی جڑیں پکار اٹھیں گی کہ اے مومن ، یہ کافر میرے پیچھے چھپا ہوا ہے، آ اور اسے قتل کر۔
(۱۸) عن عمر ان بن حصین انّ رسول اللہ علیہ وسلم قال لا تزال طائفۃ من امتی علی الحق ظاھرین علیٰ من نوأ ھم حتیٰ یاتی امراللہ تبارک وتعالیٰ وینزل عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام۔ (مُسند احمد)
عمران بن حصین سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا: میری اُمت میں ہمیشہ ایک گروہ ایسا موجود رہے گا جو حق پر قائم اور مخالفین پر بھاری ہوگا یہاں تک کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فیصلہ آجائے اور عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام نازل ہوجائیں۔
(۱۹)عن عائشۃؓ(فی قصۃ الدّجال) فینزل عیسیٰ علیہ السلام فیقتلہ ثم یمکث عیسیٰ علیہ السلام فی الارض اربعین سنۃ امامًا عادلًا حَکَمًا مُقسطًا ۔(مسند احمد)
حضرت عائشہؓ (دجال کے قصّے میں) روایت کرتی ہیں: پھر عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال تک زمین میں ایک امامِ عادل اور حاکم منصف کی حیثیت سے رہیں گے۔‘‘
(۲۰)۔ عن سفینۃ مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (فی قصۃالدجّال ) فینزل عیسیٰ الیہ السالم فیقتلہ اللہ تعالیٰ عند عقیۃ اُفیق۔(مسند احمد)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سفینہ(دجال کے قصے میں)روایت کرتے ہیں: پھر عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور اللہ تعالیٰدجال کو اُفیق(اَفیق، جسے آج کل رفیق کہتے ہیں،شام اور اسرائیل کی سرحد پر موجودہ ریاست شام کا آخری شہر ہے۔ اس کے آگے مغرب کی جانب چند میل کے فاصلہ پر طَبَریہ ّ نامی جھیل ہے جس میں سے دریا ئے اُردُن نکلتا ہے، اور اس کے جنوب مغرب کی طرف پہاڑوں کے درمیان ایک نشیبی راستے کو عَقَبہْ اَفیق کی گھاٹی کہتے ہیں۔ ) کی گھاٹی کے قریب ہلاک کردے گا۔
(۲۱)٘ عن حذیفۃ(فی ذکرالدجال ) فلما قاموایصلّون نزل عیسیٰ بن مریم امامہم فصلّی بھم فلما انصرف قال ھٰکذا مْر کوابینی وبین عدداللہ...........ویسلط اللہ علیھم المسلمین فیقتلو نھم حتیٰ ان الشجر ولحجرلینادی یا عبداللہ یا عبدالرحمٰن یا مسلم ھٰذالیھودی فقتلھم فیفنیھم اللہ تعالیٰ ویظھر المسلمون فیکسرون الصلیب ویقتلون الخنزیر ویضعون الجزیۃ(مستدرک حاکم ۔ مسلم میں بھی یہ روایت اختصار کے ساتھ آئی ہے۔ اور حافظ ابن حجرنے فتح الباری جلد۶ ص، ۴۵ میںاسے صحیح قرار دیا ہے)
حضرت حُذَیفہ بن یَمان (دجال کا ذکر کرتے ہوئے) بیان کرتے ہیں:’’ پھر جب مسلمان نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوں گے تو اُن کی آنکھوںکے سامنے عیسیٰ ابن مریم اتر آئیں گے اور وہ مسلمانوں کو نماز پڑھائیں گے پھر سلام پھیرنے کے بعد لوگوں سے کہیں گے کہ میرے اور اللہ کے اس دشمن کے درمیان سے ہٹ جاؤ ........اور اللہ دجال کے ساتھیوں پر مسلمانوں کو مسلط کردے گا اور مسلمان انھیں خوب ماریں گے یہاں تک کہ درخت اور پتھر پکار اٹھیں گے اے عبداللہ ، اے عبدالرحمٰن ، اے مسلمان، یہ رہا ایک یہودی، مار اسے۔ اس طرح اللہ ان کو فنا کردے گا اور مسلمان غالب ہوں گے اور صلیب توڑدیں گے، خنزیر کو قتل کردیںگے اور جزیہ ساقط کردیںگے۔ یہ جملہ ۲۱ روایات ہیں جو ۱۴ صحابیوں سے صحیح سندوں کے ساتھ حدیث کی معتبر ترین کتابوں میں وارد ہوئی ہیں۔ اگر چہ ان کے علاوہ دوسری بہت سی احادیث میں بھی یہ ذکر آیا ہے، لیکن طولِ کلام سے بچنے کے لیے ہم نے ان سب کو نقل نہیں کیا ہے بلکہ صرف وہ روایتیں لے لی ہیں جو سند کے لحاظ سے قوی تر ہیں۔

 
عبداللہ حیدر's Avatar
عبداللہ حیدر
ذیلی ناظم

تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 4386
Reply With Quote
14 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
arslansun (22-02-09), dxbgraphics (02-11-11), rana ammar mazhar (16-01-12), فاروق درویش (07-03-12), نبیل خان (01-11-11), میاں شاہد (29-10-08), ملک اظہر (14-11-11), مرزا عامر (15-11-11), ابن جلال (31-10-08), احمد بلال (21-09-09), تفسیر حیدر (30-10-08), سیپ (31-10-08), عادل سہیل (31-10-08), غازی اسلام (24-03-09)
پرانا 29-10-08, 04:45 PM   #16
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,486
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: مسیح موعود کون ہیں؟

اہل سنت و الجماعت کے تمام مکاتب فکر کے نزدیک کوئی غیر نبی کسی نبی سے افضل نہیں‌ہو سکتا۔ لہٰذا یہ طے ہے کہ محمد بن عبداللہ جن کا لقب مہدی ہو گا، عیسیٰ علیہ السلام انکی امامت نماز ایک حکمت کے تحت پڑھیں گے، اوپر کے دونوں مراسلے پڑھیے، وہ حکمت بھی معلوم ہو جائے گی ان شاء اللہ۔
شاہد بھائی نے ان کے صحابی ہونے کا ذکر کیا ہے۔ اگر میں غلط نہیں سمجھا تو اس سے مراد عیسیٰ علیہ السلام کے صحابی ہیں۔ کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے دور سے بہت بعد میں آئیں گے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-01-12), میاں شاہد (31-10-08), عادل سہیل (31-10-08)
پرانا 30-10-08, 12:52 PM   #17
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 126
کمائي: 139
شکریہ: 64
78 مراسلہ میں 125 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: جواب: مسیح موعود کون ہیں؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : میاں شاہد مراسلہ دیکھیں
۔ پس جس وقت مسلمان لڑائی کےلئے مستعد ہو کر صفیں باندھتے ہوں گے کہ نماز کا وقت ہو گا اسی وقت سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہما الصلوٰۃ والسلام اتریں گے اور امام بن کر نماز پڑھائیں گے۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
لہٰذا یہ طے ہے کہ محمد بن عبداللہ جن کا لقب مہدی ہو گا، عیسیٰ علیہ السلام انکی امامت نماز ایک حکمت کے تحت پڑھیں گے
پھرسے دو بات الگ الگ بات ہو گئی صحیح کیا ہے کیسے معلوم ہو؟
arif آف لائن ہے   Reply With Quote
arif کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (16-01-12)
پرانا 30-10-08, 02:11 PM   #18
Senior Member
 
عرفان حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
عمر: 30
مراسلات: 2,046
کمائي: 8,259
شکریہ: 889
722 مراسلہ میں 1,442 بارشکریہ ادا کیا گیا
عرفان حیدر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عرفان حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: مسیح موعود کون ہیں؟

سلام،

یہ مراسلہ جات میں نے بہت دیر سے پڑھے ہیں شاید میں کچھ تفصیل بیان کرسکوں۔
1۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک امتی کی حیثت سے آئیں گے۔
2۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام بارہوں اور آخری امام ہیں جو اس وقت پردہ غیب میں ہیں اور انہیں علیہ السلام کا ظہور ہوگا۔ انکی پہلی غیبت کا نام ہے غیبت صغریٰ اور دوسری جو ابھی تک جاری ہے اسکو غیبت کبریٰ کہتے ہیں۔ اسکی تفصیل آپ مختلف کتب میں پڑھ سکتے ہیں۔
3۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت امام مہدی علیہ السلام کی امامت میں نماز ادا فرمائیں گے، اسکی تفصیل کتب میں موجود ہے۔
4۔ امام مہدی علیہ السلام کو امام زمانہ علیہ السلام، امام عصرعلیہ السلام، قائم آل محمدعلیہ السلام، ابالصالح علیہ السلام بھی کہتے ہیں۔
5۔ آپکا علیہ السلام کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا نام یعنی "م ح م د" (زمانہ غیبت میں آپکا علیہ السلام کا مذکورہ نام لینا ممنوع ہے) ہے اور کنیت ابوالقاسم ہے۔

وسلام
عرفان حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عرفان حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-01-12), حیدر Rehan (24-10-09)
پرانا 30-10-08, 06:36 PM   #19
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,486
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: مسیح موعود کون ہیں؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عرفان حیدر مراسلہ دیکھیں
سلام،
یہ مراسلہ جات میں نے بہت دیر سے پڑھے ہیں شاید میں کچھ تفصیل بیان کرسکوں۔
1۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک امتی کی حیثت سے آئیں گے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام بارہوں اور آخری امام ہیں جو اس وقت پردہ غیب میں ہیں اور انہیں علیہ السلام کا ظہور ہوگا۔ انکی پہلی غیبت کا نام ہے غیبت صغریٰ اور دوسری جو ابھی تک جاری ہے اسکو غیبت کبریٰ کہتے ہیں۔ اسکی تفصیل آپ مختلف کتب میں پڑھ سکتے ہیں۔
3۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت امام مہدی علیہ السلام کی امامت میں نماز ادا فرمائیں گے، اسکی تفصیل کتب میں موجود ہے۔
امام مہدی علیہ السلام کو امام زمانہ علیہ السلام، امام عصرعلیہ السلام، قائم آل محمدعلیہ السلام، ابالصالح علیہ السلام بھی کہتے ہیں۔
5۔ آپکا علیہ السلام کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا نام یعنی "م ح م د" (زمانہ غیبت میں آپکا علیہ السلام کا مذکورہ نام لینا ممنوع ہے) ہے اور کنیت ابوالقاسم ہے۔
وسلام
سرخ رنگ سے ممتاز کے گئے جملے شیعہ حضرات کے عقیدے کی ترجمانی ہیں۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (02-11-11), rana ammar mazhar (16-01-12), میاں شاہد (31-10-08), مون لائیٹ آفریدی (17-07-09), احمد غزنوی (30-10-08), تفسیر حیدر (30-10-08), عرفان حیدر (31-10-08)
پرانا 30-10-08, 10:47 PM   #20
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
کمائي: 49,108
شکریہ: 7,300
5,971 مراسلہ میں 15,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: مسیح موعود کون ہیں؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : میاں شاہد مراسلہ دیکھیں
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی ہیں لیکن اس امت میں‌انکی حیثیت اُمتی کی ہے اور حضرت مہدی رضی اللہ عنہ صحابی ہوں گے
جناب وہ ہمارے 12 امام ہونگے ----
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (16-01-12)
پرانا 31-10-08, 10:19 AM   #21
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2
کمائي: 215
شکریہ: 0
2 مراسلہ میں 6 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: مسیح موعود کون ہیں؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کملا مراسلہ دیکھیں
جزاک اللہ ،،،،،،،،،،،
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مسیح موعود عیسیٰ علیہ السلام ہیں، وہ امتی کی حیثیت سے آئیں گے۔ وہ بنی اسرائیل کے لے نبی بنائے گئے تھے، انکا رفع ہوا ،اب جب دوبارہ نزول ہوگا تو نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت ہوگی وہ اس کی تحت ایک امیر ہوں گے۔ انہی کی امارت میں یہودیوں سے جنگ ہوگی اور مسلمین کو فتح حاصل ہوگی۔ صحیح احادیث میں کسی نئے امام مہدی کا کوئی تصور نہیں مسلم کی حدیث میں جو مہدی کا ذکر ہے اس سے مراد عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔امام مہدی کے متعلق بیان کی جانے والی تمام روایات ضعیف،موضوع ہیں۔

Last edited by محمد سہیل خان; 31-10-08 at 10:34 AM.
محمد سہیل خان آف لائن ہے   Reply With Quote
محمد سہیل خان کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (16-01-12)
پرانا 31-10-08, 10:36 AM   #22
Senior Member
 
میاں شاہد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: www.alkamunia.com
مراسلات: 10,442
کمائي: 38,201
شکریہ: 8,508
4,556 مراسلہ میں 9,750 بارشکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں میاں شاہد کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: مسیح موعود کون ہیں؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
اہل سنت و الجماعت کے تمام مکاتب فکر کے نزدیک کوئی غیر نبی کسی نبی سے افضل نہیں‌ہو سکتا۔ لہٰذا یہ طے ہے کہ محمد بن عبداللہ جن کا لقب مہدی ہو گا، عیسیٰ علیہ السلام انکی امامت نماز ایک حکمت کے تحت پڑھیں گے، اوپر کے دونوں مراسلے پڑھیے، وہ حکمت بھی معلوم ہو جائے گی ان شاء اللہ۔
شاہد بھائی نے ان کے صحابی ہونے کا ذکر کیا ہے۔ اگر میں غلط نہیں سمجھا تو اس سے مراد عیسیٰ علیہ السلام کے صحابی ہیں۔ کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے دور سے بہت بعد میں آئیں گے۔
حضرت مہری رضی اللہ عنہ کے صحابی ہونے پر ایک سے زیادہ رائے ہوسکتی ہیں کیونکہ صحابی ہونے کی شرائط کے تحت وہ صحابی نہیں کہلاسکتے اور رہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صحابی ہونے کی بات تو واللہ اعلم اُس وقت حضرت عیسیٰ خود اُمتی ہوں گے اور صحابی کا تعلق کسی نہ کسی نبی سے ہوتا ہے تاہم اب ضروری محسوس ہوتا ہے کہ اس معاملے پر کچھ کُتب بینی کی جائے اور اس کا حاصل یہاں پیش کر دیا جائے تو انشا اللہ کوشش کروں گا کہ آج رات تک اس حوالے سے کچھ عرض کر سکوں

والسلام
__________________
میاں شاہد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-01-12), عرفان حیدر (31-10-08)
پرانا 31-10-08, 10:40 AM   #23
Senior Member
 
میاں شاہد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: www.alkamunia.com
مراسلات: 10,442
کمائي: 38,201
شکریہ: 8,508
4,556 مراسلہ میں 9,750 بارشکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں میاں شاہد کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: مسیح موعود کون ہیں؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : خلیل مراسلہ دیکھیں
جناب وہ ہمارے 12 امام ہونگے ----
یہ بات تفصیل سے بیان کی جاچکی ہے کہ مذکورہ بالا عقیدہ اہل تشیع کا ہے اور ہم یہاں‌اہلسنت کے عقائد بیان کر رہے ہیں اور میرا خیال ہے ہم میں سے کسی نے اہل تشیع کے آئمہ کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے اور شاید اس مضمون میں اس کی ضرورت بھی نہیں ہے ۔
میاں شاہد آف لائن ہے   Reply With Quote
میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (16-01-12)
پرانا 31-10-08, 11:24 AM   #24
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,486
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: جواب: مسیح موعود کون ہیں؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : میاں شاہد مراسلہ دیکھیں
حضرت مہری رضی اللہ عنہ کے صحابی ہونے پر ایک سے زیادہ رائے ہوسکتی ہیں کیونکہ صحابی ہونے کی شرائط کے تحت وہ صحابی نہیں کہلاسکتے اور رہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صحابی ہونے کی بات تو واللہ اعلم اُس وقت حضرت عیسیٰ خود اُمتی ہوں گے اور صحابی کا تعلق کسی نہ کسی نبی سے ہوتا ہے تاہم اب ضروری محسوس ہوتا ہے کہ اس معاملے پر کچھ کُتب بینی کی جائے اور اس کا حاصل یہاں پیش کر دیا جائے تو انشا اللہ کوشش کروں گا کہ آج رات تک اس حوالے سے کچھ عرض کر سکوں
والسلام
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! میں آپ کے مراسلے کا انتظار کروں گا۔ ان کی صحابیت کے بارے میں جو کچھ میں نے اوپر لکھا اسے ایک سوال سمجھیے کیونکہ اس موضوع پر میں تفصیلی مطالعہ نہیں کر سکا۔ یہاں اسلامی یونیورسٹی ریاض یعنی جامعۃ الامام محمد میں مہدی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی، یہودیوں کے خلاف ان کے جہاد اور اس زمانے میں اسلام کے غلبے، اور ان کے بارے پھیلی ہوئی غلط باتوں پر ایک مقالہ لکھا گیا تھا۔ مجھے ایک ذریعے سے اس کی کاپی دستیاب ہو گئی تھی جو اب بھی گھر والے کتب خانے میں موجود ہو گی۔ موقع ملتے ہی اسے پڑھوں گا ان شاء اللہ
والسلام علیکم

Last edited by عبداللہ حیدر; 31-10-08 at 05:18 PM.
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-01-12), میاں شاہد (31-10-08), احمد بلال (21-09-09)
پرانا 31-10-08, 11:32 AM   #25
Senior Member
 
عرفان حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
عمر: 30
مراسلات: 2,046
کمائي: 8,259
شکریہ: 889
722 مراسلہ میں 1,442 بارشکریہ ادا کیا گیا
عرفان حیدر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عرفان حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: مسیح موعود کون ہیں؟

سلام،

جس وقت امام زمانہ علیہ السلام ظہور فرمائیں گے اس وقت آپ علیہ السلام کعبتہ اللہ سے ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے۔ آپ علیہ السلام کے ظہور کے فورا بعد آپ علیہ السلام کے سپریم جنرلز جن کی تعداد 313 بیان کی جاتی ہے چشم و زن میں آپ علیہ السلام کی خدمت میں پہنچ جائیں گے، واضع رہے کہ ان میں 50 خواتین بھی ہونگی۔

وسلام
عرفان حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
عرفان حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (16-01-12)
پرانا 31-10-08, 11:42 AM   #26
Senior Member
 
میاں شاہد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: www.alkamunia.com
مراسلات: 10,442
کمائي: 38,201
شکریہ: 8,508
4,556 مراسلہ میں 9,750 بارشکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں میاں شاہد کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: مسیح موعود کون ہیں؟

میرا خیال ہے کہ اس بات کی وضاحت بھی ساتھ ساتھ ہوتی رہے کہ بیان کردہ الفاظ شیعہ مسلک کے ہیں یا اہلسنت مسلک کے ، کیوں کہ ان دونوں‌میں‌بہت زیادہ اختلاف ہے اس بارے میں اگر وضاحت نہیں ہوگی تو قارئیں کو بہت مغالطہ اور دقت در پیش ہوگی بات کو سمجھنے میں‌ جیسا کہ مراسلہ نمبر 25 میں عرفان حیدر صاحب نے شیعہ مسلک کے حوالے سے تفصیلات پیش کی ہیں
میاں شاہد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (02-11-11), عرفان حیدر (03-11-08)
پرانا 31-10-08, 03:49 PM   #27
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb جواب: مسیح موعود کون ہیں؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھائیو کافی اچھا موضوع چل رہا ہے ، اور کئی قسم کے خیالات و آرا سامنے آ رہی ہیں ، جن میں اہلسنت و الجماعت ، شعیہ ، اور دونوں سے الگ بات بھی جیسا کہ مراسلہ 21 میں ہے ،
اس کے بارے میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ جنہیں لقب ’’’ مہدی ‘‘‘ سے جانا جاتا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ان کے بارے میں یہ بتایا ہے کہ ، ان کا نام ’’’ محمد بن عبداللہ ‘‘‘ ہو گا ، دیکھیے سنن الترمذی ، کتاب الفتن ، باب ما جا فی المھدی ، اور حدیث صحیح ہے ، مزید تخریج کے لیے ملاحظہ فرمایے ، سلسلہ الا حادیث الصحیحہ ، حدیث رقم 1529 ،
رہا کنیت ’’’ ابو القاسم ہونے کا جو بھائی عرفان حیدر صاحب نے لکھا تو شعیہ مسلک میں ہو گا ، ہم اہلسنت و الجاعت کے لیے تو یہ نا قابل قبول ہے کیونکہ رسول اللہ‌ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ کسی شخص کا نام محمد اور کنیت ابو القاسم ہو ، پس یہ نہیں مانا جا سکتا کہ جس کام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے منع فرمایا ہو ، مہدی رحمۃ اللہ علیہ ، اسی کام کے ساتھ ظاہر ہوں ،
اگر اس موضوع پر دیگر اور صرف صحیح احادیث سامنے لائی جائیں ، تو اہلسنت و الجماعت کا سارا موقف و عقیدہ واضح ہو جائے گا ، کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرامین و تعلیمات میں کسی کی بڑی یا چھوٹی غیبوبیت کا کوئی معاملہ ہے اور نہ کسی خاص امامت کا کوئی ذکر ہے ، اور نہ ہی اُس خاص امامت یا عام امامت کے سلسلے میں اماموں کی کوئی گنتی کہیں مقرر ہے ،
یہ سب کسی سے بحث و ضد کے لیے نہیں کہا جا رہا ، حق وہ ہی ہے جو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے یقنی ثابت شدہ دلیل رکھتا ہو ، پس ہر ’’’ لا الہ الا اللہ و محمد رسول اللہ ‘‘‘ کہنے والے کو وہ حق پہچاننا چاہییے اور اس کلمے کا حق ادا کرنا چاہیے ،
بھائی عبداللہ حیدر نے جامعہ امام محمد سے جاری شدہ کسی مضمون کا ذکر کیا ہے ، اگر وہ اس کے ذریعے کچھ تحقیق شدہ مواد سامنے لائیں تو اچھا ہے ، اس میں مدد کے لیے شیخ ابو النصر الشلبی کی ’’’ صحیح اشراط الساعۃ ‘‘‘ کا مطالعہ بہت کار آمد رہے گا ، ان شا اللہ ،
اور جیسا بھائی شاہد نے مشورہ دیا کہ جو بات شعیہ حضرات کی ترجمانی کے طور پر لکھی جائے اس کے ساتھ وضاحت سے یہ بتایا جائے کہ یہ اُن کے فرقے کے مذہب کے مطابق ہے تا کہ قارئیں کے لیے یہاں درج کردہ معلومات فائدہ مند ہونے کی بجائے نقصان نہ ہوں ،
میری تمنا ہے کہ بھائی عبداللہ حیدر اور ، بھائی شاہد ، اس موضوع پر کام کریں ، میں بھی ان شا اللہ کبھی کبھی آپ صاحبان کی گفتگو میں مخل ہوتا رہوں گا ،
اللہ تعالی ہم سب کو کسی ضد اور تعصب کے بغیر ، حق جاننے ، پہچاننے ، سیکھنے ، اس پر عمل کرنے ، اُسے نشر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اسی پر ہمارے خاتمے فرمائے ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (02-11-11), rana ammar mazhar (16-01-12), نبیل خان (01-11-11), میاں شاہد (31-10-08), احمد نذیر (01-11-11)
پرانا 31-10-08, 04:49 PM   #28
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 126
کمائي: 139
شکریہ: 64
78 مراسلہ میں 125 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: مسیح موعود کون ہیں؟

کافی اچھی بات ہو رہی ہے اس بارے میں کسی کا کوئی اورنظریہ ہو تو وہ بھی بیان کرے
arif آف لائن ہے   Reply With Quote
arif کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (16-01-12)
پرانا 31-10-08, 05:10 PM   #29
Senior Member
 
میاں شاہد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: www.alkamunia.com
مراسلات: 10,442
کمائي: 38,201
شکریہ: 8,508
4,556 مراسلہ میں 9,750 بارشکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں میاں شاہد کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: مسیح موعود کون ہیں؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : arif مراسلہ دیکھیں
کافی اچھی بات ہو رہی ہے اس بارے میں کسی کا کوئی اورنظریہ ہو تو وہ بھی بیان کرے
اس بارے میں یہی دو نظریات ہیں اس کے علاوہ کوئی مذید عقیدہ یا نظریہ نہیں ہے
میاں شاہد آف لائن ہے   Reply With Quote
میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (16-01-12)
پرانا 31-10-08, 05:18 PM   #30
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 126
کمائي: 139
شکریہ: 64
78 مراسلہ میں 125 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: جواب: مسیح موعود کون ہیں؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : میاں شاہد مراسلہ دیکھیں
اس بارے میں یہی دو نظریات ہیں اس کے علاوہ کوئی مذید عقیدہ یا نظریہ نہیں ہے
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمد سہیل خان مراسلہ دیکھیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مسیح موعود عیسیٰ علیہ السلام ہیں، وہ امتی کی حیثیت سے آئیں گے۔ وہ بنی اسرائیل کے لے نبی بنائے گئے تھے، انکا رفع ہوا ،اب جب دوبارہ نزول ہوگا تو نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت ہوگی وہ اس کی تحت ایک امیر ہوں گے۔ انہی کی امارت میں یہودیوں سے جنگ ہوگی اور مسلمین کو فتح حاصل ہوگی۔ صحیح احادیث میں کسی نئے امام مہدی کا کوئی تصور نہیں مسلم کی حدیث میں جو مہدی کا ذکر ہے اس سے مراد عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔امام مہدی کے متعلق بیان کی جانے والی تمام روایات ضعیف،موضوع ہیں۔
ایک یہ نظرہ بھی تو بیان ہوا ہے
arif آف لائن ہے   Reply With Quote
arif کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (16-01-12)
جواب

Tags
کتابوں, پہچان, قصہ, لوگ, نماز, نظر, موت, معلوم, آج, آدمی, اللہ, انسان, امیر, اسلام, جواب, حدیث, خون, خلاف, خبر, ختم نبوت, دیکھو, عیسیٰ, عبادت, صحابی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سیاستدانوں' جرنیلوں اور افسر شاہی پر تنقید کرنے والے عوام خود کیا کررہے ہیں؟ جاویداسد خبریں 1 15-12-10 08:56 PM
تبدیلی کتنی ضروری ہے؟ ضروری ہے بھی یا نہیں؟ تبدیلی کا راستہ سیاستدان خود ہموار کررہے ہیں جاویداسد خبریں 2 21-09-10 09:08 PM
سعودی فتویٰ تعلیم اور روزگار کے مقامات پر مردوعورت کا اختلاط حرام Real_Light خبریں 37 29-08-10 03:13 PM
کہاں کی سیر کریں؟ gul2836 پاکستان کی سیاحت 3 01-08-10 07:49 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:51 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger