واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > عقیدہ رسالت




گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا ۔۔۔

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-09-09, 03:38 PM  
گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا ۔۔۔
sahj sahj آف لائن ہے 27-09-09, 03:38 PM

گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام

قرآنی نصوص ، احادیث مبارکہ ، عمل صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ، فتاویٰ ائمہ اور اجماع امت سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح اور عیاں ہے کہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا قتل ہے اس کی معافی کو قبول نہ کیا جائے ۔ لہٰذا مسلم ممالک کے حکمرانوں کو چاہیے کہ ان کے اس منافقانہ طرز عمل سے متاثر ہونے کے بجائے ایک غیور مسلمان کا موقف اختیار کریں ۔

یہود و نصاریٰ شروع دن سے ہی شان اقدس میں نازیبا کلمات کہتے چلے آ رہے ہیں ۔ کبھی یہودیہ عورتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں ، کبھی مردوں نے گستاخانہ قصیدے کہے ۔ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں اشعار پڑھے اور کبھی نازیبا کلمات کہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شان نبوت میں گستاخی کرنے والے بعض مردوں اور عورتوں کو بعض مواقع پر قتل کروا دیا ۔ کبھی صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حکم دے کر اور کبھی انہیں پورے پروگرام کے ساتھ روانہ کر کے ۔ کبھی کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے حب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں خود گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جگر کو چیر دیا اور کسی نے نذر مان لی کہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور قتل کروں گا ۔ کبھی کسی نے یہ عزم کر لیا کہ خود زندہ رہوں گا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گستاخ ۔ اور کبھی کسی نے تمام رشتہ داریوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خود دیکھنے کے لئے گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور یہودیوں کے سردار کا سر آپکے سامنے لا کر رکھ دیا ۔ جو گستاخان مسلمانوں کی تلواروں سے بچے رہے اللہ تعالیٰ نے انہیں کن عذابوں میں مبتلا کیا اور کس رسوائی کا وہ شکار ہوئے اور کس طرح گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر نے اپنے اندر رکھنے کے بجائے باہر پھینک دیا تا کہ دنیا کیلئے عبرت بن جائے کہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انجام کیا ہے انہیں تمام روایات و واقعات کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے یہ اوراق اپنوں اور بیگانوں کو پیغام دے رہے ہیں کہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور بات کا حلیہ نہ بگاڑنا ۔ ذات اور بات کا حلیہ بگاڑنے سے امام الانبیاءعلیہما لسلام کی شان اقدس میں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ آپ اپنی دنیا و آخرت تباہ کر بیٹھو گے ۔ رسوائی مقدر بن جائے گی ۔

جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ رب العزت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دینے والوں کے بارے میں ارشاد فرما رہے ہیں ۔
ان الذین یوذون اللّٰہ ورسولہ لعنھم اللّٰہ فی الدنیا والآخرۃ واعد لھم عذابا مھینا
( 33/احزاب 57 )
” بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا و آخرت میں ان پر لعنت ہے اور ان کیلئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ “

آئیے گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انجام دیکھئے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اسی حوالے سے کارہائے نمایاں ملاحظہ فرمائیے اور اسی بارے میں ائمہ سلف کے فرامین و فتاویٰ بھی پڑھئے پھر فیصلہ فرمائیے کہ ان حالات میں عالم اسلام کی کیا ذمہ داری ہے ۔

یہودیہ عورت کا قتل :

چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :
ان یھودیۃ کانت تشتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم وتقع فیہ ، فخنقھا رجل حتی ماتت ، فاطل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دمھا
( رواہ ابوداود ، کتاب الحدود باب الحکم فیمن سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم )

ایک یہودیہ عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھی ایک آدمی نے اس کا گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا ۔

گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ام ولد کا قتل :

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ :
ایک اندھے شخص کی ایک ام ولد لونڈی تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھی وہ اسے منع کرتا تھا وہ گالیاں دینے سے باز نہیں آتی تھی وہ اسے جھڑکتا تھا مگر وہ نہ رکتی تھی ایک رات اس عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینا شروع کیں اس نے ایک بھالا لے کر اس کے پیٹ میں پیوست کر دیا اور اسے زور سے دبا دیا جس سے وہ مر گئی ۔ صبح اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جمع کرکے فرمایا ۔ میں اس آدمی کو قسم دیتا ہوں جس نے کیا ۔ جو کچھ کیا ۔ میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سن کر ایک نابینا آدمی کھڑا ہو گیا ۔ اضطراب کی کیفیت میں لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا ۔ اس نے آکر کہا ۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اسے منع کرتا تھا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے سے باز نہیں آتی تھی ۔ میں اسے جھڑکتا تھا مگر وہ اس کی پرواہ نہیں کرتی تھی اس کے بطن سے میرے دو ہیروں جیسے بیٹے ہیں اور وہ میری رفیقہ حیات تھی گزشتہ رات جب وہ آپکو گالیاں دینے لگی تو میں نے بھالا لے کر اس کے پیٹ میں پیوست کر دیا میں نے زور سے اسے دبایا یہاں تک کہ وہ مر گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری گفتگو سننے کے بعد فرمایا تم گواہ رہو اس کا خون ہد رہے ۔
( ابوداود ، الحدود ، باب الحکم فیمن سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، نسائی ، تحریم الدم ، باب الحکم فیمن سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم )

گستاخ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور گستاخ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا حکم :
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من سب نبیا قتل ، ومن سب اصحابہ جلد
( رواہ الطبرانی الصغیر صفحہ 236 جلد 1 )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی اسے قتل کیا جائے اور جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو گالی دی اسے کوڑے مارے جائیں ۔


حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا فتویٰ :

حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ :
کنت عند ابی بکر رضی اللہ عنہ ، فتغیظ علیٰ رجل ، فاشتد علیہ ، فقلت : ائذن لی یا خلیفۃ رسول اللّٰہ اضرب عنقہ قال : فاذھبت کلمتی غضبہ ، فقام فدخل ، فارسل الی فقال : ما الذی قلت آنفا ؟ قلت : ائذن لی اضرب عنقہ ، قال : اکنت فاعلا لو امرتک ؟ قلت : نعم قال : لا واللّٰہ ما کانت لبشر بعد رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم
( رواہ ابوداود ، کتاب الحدود باب الحکم فیمن سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم )

میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تھا آپ کسی شخص سے ناراض ہوئے تو وہ بھی جواباً بدکلامی کرنے لگا ۔ میں نے عرض کیا ۔ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ۔ مجھے اجازت دیں ۔ میں اس کی گردن اڑا دوں ۔ میرے ان الفاظ کو سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا سارا غصہ ختم ہو گیا ۔ آپ وہاں سے کھڑے ہوئے اور گھر چلے گئے ۔ گھر جا کر مجھے بلوایا اور فرمانے لگے ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ نے مجھے کیا کہا تھا ۔ میں نے کہا ۔ کہا تھا ۔ کہ آپ رضی اللہ عنہ مجھے اجازت دیں میں اس گستاخ کی گردن اڑا دوں ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرمانے لگے اگر میں تم کو حکم دے دیتا ۔ تو تم یہ کام کرتے ؟ میں نے عرض کیا اگر آپ رضی اللہ عنہ حکم فرماتے تو میں ضرور اس کی گردن اڑا دیتا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۔ نہیں ۔ اللہ کی قسم ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ کسی کے لئے نہیں کہ اس سے بدکلامی کرنے والے کی گردن اڑا دی جائے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے کی ہی گردن اڑائی جائے گی ۔



‘ عصماءبنت مروان کا قتل :

اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :
ھجت امراۃ من خطمۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال : ( من لی بھا ؟ ) فقال رجل من قومھا : انا یا رسول اللّٰہ ، فنھض فقتلھا فاخبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، فقال : ( لا ینتطح فیھا عنزان
( الصارم المسلول 129 )

” خَطمَہ “ قبیلے کی ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس عورت سے کون نمٹے گا ۔ “ اس کی قوم کے ایک آدمی نے کہا ۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کام میں سرانجام دوں گا ، چنانچہ اس نے جا کر اسے قتل کر دیا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو بکریاں اس میں سینگوں سے نہ ٹکرائیں یعنی اس عورت کا خون رائیگاں ہے اور اس کے معاملے میں کوئی دو آپس میں نہ ٹکرائیں ۔ بعض مورخین نے اس کی تفصیل یوں بیان کی ہے ۔

عصماءبنت مروان بنی امیہ بن زید کے خاندان سے تھی وہ یزید بن زید بن حصن الخطمی کی بیوی تھی یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاءو تکلیف دیا کرتی ۔ اسلام میں عیب نکالتی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لوگوں کو اکساتی تھی ۔ عمیر بن عدی الخطمی کو جب اس عورت کی ان باتوں اور اشتعال انگیزی کا علم ہوا ۔ تو کہنے لگا ۔ اے اللہ میں تیری بارگاہ میں نذر مانتا ہوں اگر تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخیر و عافیت مدینہ منورہ لوٹا دیا تو میں اسے ضرور قتل کردوں گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بدر میں تھے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر سے واپس تشریف لائے تو عمیر بن عدی آدھی رات کے وقت اس عورت کے گھر میں داخل ہوئے ۔ تو اس کے اردگرد اس کے بچے سوئے ہوئے تھے ۔ ایک بچہ اس کے سینے پر تھا جسے وہ دودھ پلا رہی تھی ۔ عمیر نے اپنے ہاتھ سے عورت کو ٹٹولا ۔ تو معلوم ہوا کہ یہ عورت اپنے اس بچے کو دودھ پلا رہی ہے ۔ عمیر نے بچے کو اس سے الگ کر دیا ۔ پھر اپنی تلوار کو اس کے سینے پر رکھ کر اسے زور سے دبایا کہ وہ تلوار اس کی پشت سے پار ہو گئی ۔ پھر نماز فجر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو عمیر کی طرف دیکھ کر فرمایا کیا تم نے بنت مروان کو قتل کیا ہے ؟ کہنے لگے ۔ جی ہاں ۔ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔

عمیر کو اس بات سے ذرا ڈر سا لگا کہ کہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی کے خلاف تو قتل نہیں کیا ۔ کہنے لگے ۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس معاملے کی وجہ سے مجھ پر کوئی چیز واجب ہے ؟ فرمایا دو بکریاں اس میں سینگوں سے نہ ٹکرائیں ۔ پس یہ کلمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلی مرتبہ سنا گیا عمیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اردگرد دیکھا پھر فرمایا تم ایسے شخص کو دیکھنا پسند کرتے ہو جس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی غیبی مدد کی ہے تو عمیر بن عدی کو دیکھ لو ۔
( الصارم المسلول 130 )

’ابوعفک یہودی کا قتل :

ابن تیمیہ رحمہ اللہ مورخین کے حوالے سے شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم ابوعفک یہودی کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ :
ان شیخا من بنی عمرو بن عوف یقال لہ ابوعفک وکان شیخا کبیرا قد بلغ عشرین ومائۃ سنۃ حین قدم النبی صلی اللہ علیہ وسلم المدینۃ ، کان یحرض علیٰ عداوۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ولم یدخل فی الاسلام ، فلما خرج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الی بدر ظفرہ اللہ بما ظفرہ ، فحسدہ وبغی فقال ، وذکر قصیدۃ تتضمن ھجو النبی صلی اللہ علیہ وسلم وذم من اتبعہ
( الصارم المسلول 138 )

بنی عمرو بن عوف کا ایک شیخ جسے ابوعفک کہتے تھے وہ نہایت بوڑھا آدمی تھا اس کی عمر 120 سال تھی جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے ۔ تو یہ بوڑھا لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت پر بھڑکاتا تھا اور مسلمان نہیں ہوا تھا جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف نکلے غزوہ بدر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطاءفرمائی تو اس شخص نے حسد کرنا شروع کر دیا اور بغاوت و سرکشی پر اتر آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مذمت میں ہجو کرتے ہوئے ایک قصیدہ کہا ۔ اس قصیدے کو سن کر سالم بن عمیر نے نذر مان لی کہ میں ابوعفک کو قتل کروں گا یا اسے قتل کرتے ہوئے خود مرجاؤں گا ۔ سالم موقع کی تلاش میں تھا ۔ موسم گرما کی ایک رات ابوعفک قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے صحن میں سویا ہوا تھا سالم بن عمیر رضی اللہ عنہ اس کی طرف آئے اور اس کے جگر پر تلوار رکھ دی جس سے وہ بستر پر چیخنے لگا ۔ لوگ اس کی طرف آئے جو اس کے اس قول میں ہم خیال تھے وہ اسے اس کے گھر لے گئے ۔ جس کے بعد اسے قبر میں دفن کر دیا اور کہنے لگے اس کو کس نے قتل کیا ہے ؟ اللہ کی قسم اگر ہم کو معلوم ہو جائے کہ اسے کس نے قتل کیا ہے تو ہم اس کو ضرور قتل کر دیں گے ۔


“ انس بن زنیم الدیلمی کی گستاخی :

انس بن زنیم الدیلمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی اس کو قبیلہ خزاعہ کے ایک بچے نے سن لیا اس نے انس پر حملہ کر دیا انس نے اپنا زخم اپنی قوم کو آ کر دکھایا ۔


واقدی نے لکھا ہے کہ عمرو بن سالم خزاعی قبیلہ خزاعہ کے چالیس سواروں کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدد طلب کرنے کیلئے گیا انہوں نے آ کر اس واقع کا تذکرہ کیا جو انہیں پیش آیا تھا جب قافلہ والے فارغ ہوئے تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انس بن زنیم الدیلمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دیا ۔
( الصارم المسلول139 )

” گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت :

ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من یکفینی عدوی ” میری دشمن کی خبر کون لےگا ؟ تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو قتل کر دیا ۔ “

( الصارم المسلول163 )

مشرک گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قتل :

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
ان رجلا من المشرکین شتم رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم ( من یکفینی عدوی ؟ ) فقام الزبیر بن العوام فقال : انا فبارزہ ، فاعطاہ رسولُ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلمسلبہ
( الصارم المسلول : 177 )
مشرکین میں سے ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے اس دشمن کی کون خبر لے گا ؟ تو حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے عرض کرنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سامان حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو دے دیا ۔ “

11 ۔ کعب بن اشرف یہودی کا قتل :

کعب بن اشرف ایک سرمایا دار متعصب یہودی تھا اسے اسلام سے سخت عداوت اور نفرت تھی جب مدینہ منورہ میں بدر کی فتح کی خوش خبری پہنچی ۔ تو کعب کو یہ سن کر بہت صدمہ اور دکھ ہوا ۔ اور کہنے لگا ۔ اگر یہ خبر درست ہے کہ مکہ کے سارے سردار اور اشراف مارے جا چکے ہیں تو پھر زندہ رہنے سے مر جانا بہتر ہے ۔ جب اس خبر کی تصدیق ہو گی تو کعب بن اشرف مقتولین کی تعزیت کے لئے مکہ روانہ ہوا مقتولین پر مرثئے لکھے ۔ جن کو پڑھ کر وہ خود بھی روتا اور دوسروں کو بھی رلاتا ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف قتال کے لئے لوگوں کو جوش دلاتا رہا ۔ مدینہ واپس آکر اس نے مسلمان عورتوں کے خلاف عشقیہ اشعار کہنے شروع کر دئیے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں بھی اشعار کہے ۔ کعب مسلمانوں کو مختلف طرح کی ایذائیں دیتا ۔ اہل مکہ نے کعب سے پوچھا کہ ہمارا دین بہتر ہے یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ۔ تو اس نے جواب دیا کہ تمہارا دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے بہتر ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حرکات کی وجہ سے اسکے قتل کا پروگرام بنایا اور قتل کے لئے روانہ ہونے والے افراد کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع کی قبرستان تک چھوڑنے آئے ۔ چاندنی رات تھی پھر فرمایا جاؤ ۔ اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے ۔



حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ :
قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم ( من لکعب بن الاشرف ، فانہ قد اذی اللّٰہ ورسولہ ؟ ) فقام محمد بن مسلمۃ فقال : انا یا رسول اللّٰہ اتحب ان اقتلہ ؟ قال نعم قال : فاذن لی ان اقول شیا ، قال : قل
( رواہ البخاری کتاب المغازی باب قتل کعب بن الاشرف ، رواہ مسلم کتاب الجہاد والسیر باب قتل کعب بن الاشرف طاغوف الیھود )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کعب بن اشرف کا کام کون تمام کرے گا ۔ اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کو تکلیف دی ہے اس پر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ۔ اور عرض کی ۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند کرتے ہیں کہ میں اسے قتل کر آؤں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ہاں ۔ مجھ کو یہ پسند ہے ۔ محمد بن مسلمہ نے عرض کیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کچھ کہنے کی اجازت دے دیں یعنی ایسے مبہم کلمات اور ذومعنیٰ الفاظ جنہیں میں کہوں اور وہ سن کر خوش و خرم ہو جائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اجازت ہے ۔ “

محمد بن مسلمہ کعب بن اشرف کے پاس آئے آ کر اس سے کہا کہ یہ شخص ( اشارہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھا ) ہم سے صدقہ مانگتا ہے اس نے ہمیں تھکا مارا ہے اس لئے میں تم سے قرض لینے آیا ہوں ۔ جواباً کعب نے کہا ۔ ابھی آگے دیکھنا اللہ کی قسم بالکل اکتا جاؤ گے ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ چونکہ ہم نے اب ان کی اتباع کر لی ہے جب تک ہم اس کا انجام نہ دیکھ لیں اسے چھوڑنا مناسب نہیں ہے ۔ میں تم سے ایک دو وسق غلہ قرض لینے آیا ہوں کعب نے کہا ۔ میرے پاس کوئی چیز گروی رکھ دو ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ تم کیا چیز چاہتے ہو ۔ کہ میں گروی رکھ دوں ۔ کعب نے کہا ۔

اپنی عورتوں کو گروی رکھ دو ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا تم عرب کے خوبصورت جوان ہو تمہارے پاس ہم اپنی عورتیں کس طرح گروی رکھ سکتے ہیں ۔ کعب نے کہا ۔ پھر اپنے بیٹوں کو گروی رکھ دو ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ ہم اپنے بیٹوں کو گروی کس طرح رکھ سکتے ہیں ۔ کل انہیں اس پر ہر کوئی گالیاں دے گا کہ آپ کو ایک دو وسق غلے کے عوض گروی رکھا گیا تھا ۔ یہ ہمارے لئے بڑی عار ہو گی البتہ ہم آپ کے پاس اپنے اسلحہ کو گروی رکھ سکتے ہیں جس پر کعب راضی ہو گیا محمد بن مسلمہ نے کعب سے کہا کہ میں دوبارہ آؤں گا ۔

دوسری دفعہ محمد بن مسلمہ کعب کے پاس رات کے وقت آئے ۔ ان کے ہمراہ ابو نائلہ بھی تھے یہ کعب کے رضاعی بھائی تھے ۔ پھر انہوں نے اس کے قلعے کے پاس جا کر آواز دی ۔ وہ باہر آنے لگا ۔ تو اس کی بیوی نے کہا مجھے تو یہ آواز ایسی لگتی ہے جیسے اس سے خون ٹپک رہا ہے کعب نے جواب دیا کہ یہ تو محمد بن مسلمہ اور میرے رضاعی بھائی ابونائلہ ہیں اگر شریف آدمی کو رات کے وقت بھی نیزہ بازی کیلئے بلایا جائے تو وہ نکل پڑتا ہے محمد بن مسلمہ اور ابونائلہ کے ہمراہ ابوعبس بن جبر ، حارث بن اوس اور عباد بن بشر بھی تھے ۔

محمد بن مسلمہ نے اپنے ساتھیوں کو ہدایت کی تھی کہ جب کعب آئے تو میں اس کے سر کے بال ہاتھ میں لوں گا اور اسے سونگھنے لگوں گا ۔ جب تمہیں اندازہ ہو جائے کہ میں نے اس کا سر مضبوطی سے پکڑ لیا ہے تو پھر تم اس کو قتل کر ڈالنا ۔ کعب چادر لپٹے ہوئے باہر آیا ۔ اس کا جسم خوشبو سے معطر تھا ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ میں نے آج سے زیادہ عمدہ خوشبو کبھی نہیں سونگھی ۔ کعب نے کہا ۔ میرے پاس عرب کی وہ عورت ہے جو عطر میں ہر وقت بسی رہتی ہے اور حسن و جمال میں بھی اس کی کوئی مثال نہیں محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ کیا مجھے تمہارے سر کو سونگھنے کی اجازت ہے ؟ کعب نے کہا اجازت ہے ۔ محمد بن مسلمہ نے کعب کا سر سونگھا اس کے بعد اس کے ساتھیوں نے سونگھا پھر انہوں نے کہا ۔ دوبارہ سونگھنے کی اجازت ہے ؟ کعب نے کہا ۔ اجازت ہے ۔ پھر جب محمد بن مسلمہ نے پوری طرح سے اسے قابو کر لیا تو اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا کہ تیار ہو جاؤ چنانچہ انہوں نے اسے قتل کر دیا ۔

پھر رات کے آخری حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھتے ہی فرمایا : افلحت الوجوہ ان چہروں نے فلاح پائی اور کامیاب ہوئے ۔ انہوں نے جواباً عرض کیا ووجھک یا رسول اللہ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے بعد کعب بن اشرف کا قلم کیا ہوا سر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے الحمد للہ کہا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ۔
( فتح الباری 272/7 )


سبحان اللہ
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری

 
sahj's Avatar
sahj
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 3420
Reply With Quote
20 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
ghaffarjan (09-11-09), shafresha (02-12-10), پاکستان دوست (02-12-10), نیلم خان (14-11-09), محمد عاصم (05-12-10), معظم (16-11-09), Wahid Mahmood (16-11-09), ایکسٹو (01-12-10), ابو عبداللہ (05-02-11), ارشد کمبوہ (01-12-10), بلال اویسی (01-12-10), حیدر (20-07-10), سام (18-11-09), شمشاد احمد (01-12-10), عادل سہیل (06-12-10), عبداللہ آدم (04-12-10), عبداللہ حیدر (30-09-09), عبداللہ خراسانی (06-11-09), عروج (11-12-10), غلام خان (02-12-10)
پرانا 03-12-10, 09:53 AM   #31
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,787
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
آپ سب سے میرا ایک سوال ہے جو کفار کے قتل پر غمگین ہیں ۔
کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے والے کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہیے ۔
ان کو پھولوں کا ہار پہنا کر ملک سے باہر بھیج دینا چاہیے ۔
آپ لوگ اپنے ماں باپ کو گالی دینے والے کو تو کبھی معاف نہیں کریں گے
لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے والے کے لیے آپ کے دلوں میں رحمت ہی رحمت ہے
یقینا ہم لوگ اپنے ماں باپ کو گالی دینے والے کو تو کبھی معاف نہیں کریں گے۔۔۔۔۔
ہم اُن سے نفرت کریں گے۔۔۔
آپ کیا سمجھتی ہیں کہ ہمیں‌اُن لوگوں کو قتل کردینا چاہیئے؟؟؟؟

ہم لوگ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرنے والوں سے بھی شدید نفرت کرتے ہیں اور اُن سے ہر طرح کے تعلقات کے منقطع کرنے کے حامی ہیں۔
آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے تو خود پر ظلم کرنے والوں‌کو معاف کیا تھا، دیکھ لیجیئے فتح مکہ کے موقعے پر بڑے بڑے گستاخوں کو معاف کردیا تھا۔۔۔۔۔۔
پھر ہم ان جیسے خبیثوں کے خون سے اپنے ہاتھوں کو گندا کیوں کریں!!!!
__________________
میں‌تمھارے اس حق کے لیئے کہ تم مجھ سے "اختلاف" کرسکو، آخری وقت تک لڑوں‌گا!

Last edited by shafresha; 03-12-10 at 10:11 AM.
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 03-12-10, 10:01 AM   #32
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 594
کمائي: 8,412
شکریہ: 2,421
379 مراسلہ میں 903 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ہر قسم کا احترام وتقدیر آپ تمام کے لیے رکھتے ہوئے عرض کرتاہوں

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
آپ سب سے میرا ایک سوال ہے جو کفار کے قتل پر غمگین ہیں ۔
کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے والے کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہیے ۔
ان کو پھولوں کا ہار پہنا کر ملک سے باہر بھیج دینا چاہیے ۔
آپ لوگ اپنے ماں باپ کو گالی دینے والے کو تو کبھی معاف نہیں کریں گے
لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے والے کے لیے آپ کے دلوں میں رحمت ہی رحمت ہے
جس طرح صدر ، وزیر اعظم، مولانا فضل الرحمن ، نواز شریف، کیانی ، دوسرے ضمیر فروش اپنے مغربی آقاؤں کی خوشنودی کے لیے اپنی ہر چیز بیچ ڈالتے ہیں اسی طرح ان کے شاباشی کی تھپکی حاصل کرنے کے لیے اور پاکستانی بھی تو اسلام کو بش کے مزاج کے مطابق پیش کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔۔۔( ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخاسرین)
غلام خان آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے غلام خان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-12-10), محمد عاصم (05-12-10), عبداللہ آدم (04-12-10)
پرانا 03-12-10, 10:12 AM   #33
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 594
کمائي: 8,412
شکریہ: 2,421
379 مراسلہ میں 903 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
یقینا ہم لوگ اپنے ماں باپ کو گالی دینے والے کو تو کبھی معاف نہیں کریں گے۔۔۔۔۔
ہم اُن سے نفرت کریں گے۔۔۔
آپ کیا سمجھتی ہیں کہ ہمیں‌اُن لوگوں کو قتل کردینا چاہیئے؟؟؟؟

آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے تو خود پر ظلم کرنے والوں‌کو معاف کیا تھا، دیکھ لیجیئے فتح مکہ کے موقعے پر بڑے بڑے گستاخوں کو معاف کردیا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تھے ابھی ، گستاخی آپ کے سامنے پیش آیا ، ھمارا ایمان کا تقاضہ کیا ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

دوسری بات: ھم اسی موضوع پر صرف کیوں جوش مارتاہے ، عدالت جو بھی فیصلہ کرے وہ بہتر ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ میں ایمان اور اسلام پر قائم رکھیں
غلام خان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے غلام خان کا شکریہ ادا کیا
sahj (03-12-10), shafresha (03-12-10)
پرانا 03-12-10, 10:14 AM   #34
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,787
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی غلام خان السلام علیکم،
قراں پاک نے "سوء ظنی"‌ سے منع فرمایا ہے!!!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (03-12-10), مرزا عامر (04-12-10), غلام خان (03-12-10)
پرانا 03-12-10, 10:14 AM   #35
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,787
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : غلام خان مراسلہ دیکھیں
جس طرح صدر ، وزیر اعظم، مولانا فضل الرحمن ، نواز شریف، کیانی ، دوسرے ضمیر فروش اپنے مغربی آقاؤں کی خوشنودی کے لیے اپنی ہر چیز بیچ ڈالتے ہیں اسی طرح ان کے شاباشی کی تھپکی حاصل کرنے کے لیے اور پاکستانی بھی تو اسلام کو بش کے مزاج کے مطابق پیش کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔۔۔( ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخاسرین)
بھائی غلام خان السلام علیکم،
قراں پاک نے "سوء ظنی"‌ سے منع فرمایا ہے!!!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 03-12-10, 10:26 AM   #36
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
یقینا ہم لوگ اپنے ماں باپ کو گالی دینے والے کو تو کبھی معاف نہیں کریں گے۔۔۔۔۔
ہم اُن سے نفرت کریں گے۔۔۔
آپ کیا سمجھتی ہیں کہ ہمیں‌اُن لوگوں کو قتل کردینا چاہیئے؟؟؟؟

آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے تو خود پر ظلم کرنے والوں‌کو معاف کیا تھا، دیکھ لیجیئے فتح مکہ کے موقعے پر بڑے بڑے گستاخوں کو معاف کردیا تھا۔۔۔۔۔۔
شاہ فریشہ بھائی
دین اسلام ایک نظام ہے جو اللہ نے دیا ہے اس دنیا والوں کے لیے قیامت تک کے لیے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں

آپ نے کہا ماں باپ کو گالی دینے والے سے ہم نفرت کریں گے
لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تو کہا کہ اپنی ذات اور ماں باپ کو گالی دینے کو معاف کردو ۔
احسن طریقہ تو یہ ہے کہ ہم ان سے نفرت بھی نا کریں ۔ قتل تو دور کی بات ہے ۔

لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے جس کا مفہوم پے
تم اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک میں تم کو تمھارے ماں ، باپ اور بیوی بچوں سے ذیادہ محبوب نا ہوجاوں ۔

دین اسلام اللہ کا دین ہے کوئی مذاق نہیں ہے کہ جو بھی چاہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا بولنا شروع کردے

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے سامنے نا میری کوئی حیثیت ہے اور نا میرے ماں باپ کی کوئی حیثیت ہے ۔

فتح مکہ کے وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان گستاخان کو معاف کیا ۔
لیکن مسلمان ہونے کے ناطے کسی مسلمان کو یہ حق نہیں کہ وہ گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو معاف کریں ۔
اور جن صحابہ رضی اللہ علیہ نے ایسے گستاخوں کو قتل کیا آپ کے خیال میں
ان کا قصاص لینا چاہیے تھا ۔ ہرگز نہیں
بےشک وہ خون راہیگاں گیا ۔

جس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے جس کی حمایت قرآن میں اللہ نے کی
ایک یہودی اور ایک کلمہ گو مسلمان فیصلے کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کے حق میں فیصلہ دیا ۔
کلمہ گو مسلمان نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ قبول نا کیا
اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور پوری روداد سنائی اور فیصلہ کرنے کو کہا۔
حضرت عمر گئے تلوار اٹھائی اور کملہ گو مسلمان کا سر قلم کردیا ۔
اور فرمایا کہ میرا فیصلہ یہی ہے
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے

Last edited by سحر; 03-12-10 at 10:42 AM.
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
sahj (03-12-10), مسٹر شیف (03-12-10), عادل سہیل (06-12-10), عبداللہ آدم (04-12-10), غلام خان (03-12-10)
پرانا 03-12-10, 10:43 AM   #37
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,994
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نورالدین مراسلہ دیکھیں



کس قدر ظالمانہ راویت ہے یہ ۔ جلاد ذہنیت کی عکاس ہے یہ راویت ۔۔
جو کہ عورتوں اور بچوں کا لحاظ کیے بغیر قتل ناحق پر اکساتی ہے ۔
یہ کہانی کس کتاب کی ہے ۔ اس کتاب کی کیا حیثیت ہے دین اسلام میں ؟ (الصارم المسلول)




اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نورالدین مراسلہ دیکھیں

یہ " حدیث " شیخ الاسلام (نامعلوم) کی کتاب میں ہے مگر کیا وجہ ہے کہ حدیٹ کی بڑی بڑی کتابوں میں نہیں ہے
خاص کر وہ کتابیں جن کو سو فیصد صحیح مانا جاتاہے
جن کی ایک ایک راویت کو صحیح ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جاتا ہے ۔۔
اور بھی بہت سے طریقے ہیں سچ اور جھوٹ کو پرکھنے کے مگر پتہ نہيں کیا ہوگیا مسلمانوں کی عقل کو ۔
سب ایک رو میں بہے چلے جارہے ہيں ۔
جیسے کو تیسا والی بات دھیان میں رکھنا چاہیے ۔
اگر کوئی قتل کرے تو بدلے میں اس کو قتل کرنا چاہیے ۔
لیکن کیا مذکورہ واقعے میں قتل کا کوئی جواز بنتا ہے ۔



اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں


سورۃ احزاب غزوہ احزاب سے متعلق ہے ۔ اگر آپ اسے جہاد کی آیات نہ بھی سمجھیں تو بھی یہ آیات رسول کی ذات پر کی گئی باتوں سے متعلق نہیں ہیں ۔ یہ ان لوگوں کے لئے ہیں - جو معاشرے میں فساد اور بگاڑ کا سبب بنتے ہیں ۔ اور کسی کو برا بھلا کہنے سے معاشرے میں بگاڑ پیدا نہیں ہوتا ۔
۔


اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
آپ کے نزدیک یہ رحمت ہے ؟

آپ کو اس کہانی پر یقین ہے ؟

میرے نزدیک یہ "توہین رسول اللہ "ہے
اس پر" توہین رسالت" کا قانون لاگو ہونا چاہئے
یہ رسول اللہ کی کردار کشی ہے



اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
آخر اس قسم کی روایات صحیحین میں‌نظر کیوں نہیں آتیں؟؟؟؟

السلام علیکم

آعوذبااللہ من الشیطان الرجیم

بسم اللہ الرحمان الرحیم

إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
﴿033:056﴾
اللہ اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں مومنو! تم بھی پیغمبر پر درود اور سلام بھیجا کرو

تفسیر ابن کثیر

صلوۃ و سلام کی فضیلت ۔
صحیح بخاری شریف میں حضرت ابو العالیہ سے مروی ہے کہ اللہ کا اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا اپنے فرشتوں کے سامنے آپ کی ثناء و صفت کا بیان کرنا ہے اور فرشتوں کا درود آپ کے لئے دعا کرنا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں یعنی برکت کی دعا۔ اکثر اہل علم کا قول ہے کہ اللہ کا درود رحمت ہے فرشتوں کا درود استغفار ہے۔ عطا فرماتے ہیں اللہ تبارک و تعالٰی کی صلوۃ سبوح قدوس سبقت رحمتی غضبی ہے۔ مقصود اس آیت شریفہ سے یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر و منزلت عزت و مرتبت لوگوں کی نگاہوں میں جچ جائے وہ جان لیں کہ خود اللہ تعالٰی آپ کا ثناء خواں ہے اور اس کے فرشتے آپ پر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ ملاء اعلیٰ کی یہ خبر دے کر اب زمین والوں کو حکم دیتا ہے کہ تم بھی آپ پر درود و سلام بھیجا کرو تاکہ عالم علوی اور عالم سفلی کے لوگوں کا اس پر اجتماع ہو جائے۔

إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُهِينًا
﴿033:057﴾
اور جو لوگ اللہ اور اسکے پیغمبر کو رنج پہنچاتے ہیں ان پر اللہ دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لئے اس نے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے3

تفسیر ابن کثیر

ملعون و معذب لوگ۔
جو لوگ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرکے اس کے روکے ہوئے کاموں سے نہ رک کر اس کی نافرمانیوں پر جم کر اسے ناراض کر رہے ہیں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے طرح طرح کے بہتان باندھتے ہیں وہ ملعون اور معذب ہیں۔ بخاری و مسلم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے مجھے ابن آدم ایذاء دیتا ہے وہ زمانے کو گالیاں دیتا ہے اور زمانہ میں ہوں میں ہی دن رات کا تغیر و تبدل کر رہا ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ جاہلیت والے کہا کرتے تھے ہائے زمانے کی ہلاکت اس نے ہمارے ساتھ یہ کیا اور یوں کیا۔ پس اللہ کے افعال کو زمانے کی طرف منسوب کرکے پھر زمانے کو برا کہتے تھے گویا افعال کے فاعل یعنی خود اللہ کو برا کہتے تھے۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا تو اس پر بھی بعض لوگوں نے باتیں بنانا شروع کی تھیں ۔ بقول ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ آیت اس بارے میں اتری ۔ آیت عام ہے کسی طرح بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دے وہ اس آیت کے ماتحت ملعون اور معذب ہے۔ اس لئے کہ رسول اللہ کو ایذاء دینی گویا اللہ کو ایذاء دینی ہے۔ جس طرح آپ کی اطاعت عین اطاعت الٰہی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تمہیں اللہ کو یاد دلاتا ہوں دیکھو اللہ کو بیچ میں رکھ کر تم سے کہتا ہوں کہ میرے اصحاب کو میرے بعد نشانہ نہ بنالینا میری محبت کی وجہ سے ان سے بھی محبت رکھنا ان سے بغض دبیر رکھنے والا مجھ سے دشمنی کرنے والا ہے۔ انہیں جس نے ایذاء دی اور جس نے اللہ کو ایذاء دی یقین مانو کہ اللہ اس کی بھوسی اڑا دے گا۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے۔

وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا
﴿033:058﴾‏ ‏
اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے کام (کی تہمت سے) جو انہوں نے نہ کیا ہو ایذا دیں تو انہوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا

تفسیر ابن کثیر

جو لوگ ایمانداروں کی طرف ان برائیوں کو منسوب کرتے ہیں۔ جن سے وہ بری ہیں وہ بڑے بہتان باز اور زبردست گناہ گار ہیں۔ اس وعید میں سب سے پہلے تو کفار داخل ہیں پھر رافضی جوصحابہ پر عیب گیری کرتے ہیں اور اللہ نے جن کی تعریفیں کی ہیں یہ انہیں برا کہتے ہیں۔ اللہ تعالٰی نے صاف فرما دیا ہے کہ وہ انصار و مہاجرین سے خوش ہے۔ قرآن کریم میں جگہ جگہ ان کی مدح و ستائش موجود ہے۔ لیکن یہ بےخبر کند ذہن انہیں برا کہتے ہیں ان کی مذمت کرتے ہیں اور ان میں وہ باتیں بتاتے ہیں جن سے وہ بالکل الگ ہیں۔ حق یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ان کے دل اوندھے ہوگئے ہیں اس لئے ان کی زبانیں بھی الٹی چلتی ہیں۔ قابل مدح لوگوں کی مذمت کرتے ہیں اور مذمت والوں کی تعریفیں کرتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ غیبت کسے کہتے ہیں؟ آپ فرماتے ہیں تیرا اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرنا جسے اگر وہ سنے تو اسے برا معلوم ہو۔ آپ سے سوال ہوا کہ اگر وہ بات اس میں ہو تب؟ آپ نے فرمایا جبھی تو غیبت ہے ورنہ بہتان ہے۔ (ترمذی) ایک مرتبہ اپنے اصحاب سے سوال کیا کہ سب سے بڑی سود خواری کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ جانے اور اللہ کا رسول۔ آپ نے فرمایا سب سے بڑا سود اللہ کے نزدیک کسی مسلمان کی آبرو ریزی کرنا ہے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔


يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا
﴿033:059﴾‏
اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ (باہر نکلا کریں تو) اپنے (مونہوں) پر چادر لٹکا کر (گھونگھٹ نکال) لیا کریں یہ امر ان کے لئے موجب شناخت (وامتیاز) ہوگا تو کوئی انکو ایذا نہ دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

تفسیر ابن كثیر

تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل کون؟

اللہ تعالٰی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تسلیما کو فرماتا ہے کہ آپ مومن عورتوں سے فرما دیں بالخصوص اپنی بیویوں اور صاحبزادیوں سے کیونکہ وہ تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل ہیں کہ وہ اپنی چادریں قدریں لٹکالیا کریں تاکہ جاہلیت کی عورتوں سے ممتاز ہو جائیں اسی طرح لونڈیوں سے بھی آزاد عورتوں کی پہچان ہو جائے۔ جلباب اس چادر کو کہتے ہیں جو عورتیں اپنی دوپٹیاکے اوپر ڈالتی ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالٰی مسلمان عورتوں کو حکم دیتا ہے کہ جب وہ اپنے کسی کام کاج کیلئے باہر نکلیں تو جو چادر وہ اوڑھتی ہیں اسے سر پر سے جھکا کر منہ ڈھک لیا کریں، صرف ایک آنکھ کھلی رکھیں۔ امام محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ کے سوال پر حضرت عبیدہ سلمانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنا چہرہ اور سر ڈھانک کر اور بائیں آنکھ کھلی رکھ کر بتا دیا کہ یہ مطلب اس آیت کا ہے۔ حضرت عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ اپنی چادر سے اپنا گلا تک ڈھانپ لے۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اس آیت کے اترنے کے بعد انصار کی عورتیں جب نکلتی تھیں تو اس طرح لکی چھپی چلتی تھیں گویا ان کے سروں پر پرند ہیں سیاہ چادریں اپنے اوپر ڈال لیا کرتی تھیں۔

لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا
﴿033:060﴾‏
اگر منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے اور جو مدینے (کے شہر) میں بری بری خبریں اڑایا کرتے ہیں (اپنے کردار) سے باز نہ آئیں گے تو ہم تم کو انکے پیچھے لگا دینگے پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہ رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن

مَلْعُونِينَ ۖ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلًا
﴿033:061﴾‏
لعنت بھیجی جائے گی ان پر (ہرطرف سے)، جہاں کیں پائے جائیں گے، پکڑے جائیں گے اور قتل کیے جائیں گے بری طرح۔

سُنَّةَ اللَّهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ ۖ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا
﴿033:062﴾

تفسیر ابن کثیر
اگر منافق لوگ اور بدکار اور جھوٹی افواہیں اڑانے والے اب بھی باز نہ آئے اور حق کے طرفدار نہ ہوئے تو ہم اے نبی تجھے ان پر غالب اور مسلط کردیں گے۔ پھر تو وہ مدینے میں ٹھہر ہی نہیں سکیں گے ۔ بہت جلد تباہ کردیے جائیں گے اور جو کچھ دن ان کے مدینے کی اقامت سے گزریں گے وہ بھی لعنت و پھٹکار میں ذلت اور مار میں گزریں گے۔ ہر طرف سے دھتکارے جائیں گے، راندہ درگاہ ہو جائیں گے، جہاں جائیں گے گرفتار کئے جائیں گے اور بری طرح قتل کئے جائیں گے۔ ایسے کفار و منافقین پر جبکہ وہ اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں مسلمانوں کو غلبہ دینا ہماری قدیمی سنت ہے جس میں نہ کبھی تغیر و تبدل ہوا نہ اب ہو۔






اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام

ان الذین یوذون اللّٰہ ورسولہ لعنھم اللّٰہ فی الدنیا والآخرۃ واعد لھم عذابا مھینا
( 33/احزاب 57 )
” بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا و آخرت میں ان پر لعنت ہے اور ان کیلئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ “



یہودیہ عورت کا قتل :

چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :
ان یھودیۃ کانت تشتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم وتقع فیہ ، فخنقھا رجل حتی ماتت ، فاطل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دمھا
( رواہ ابوداود ، کتاب الحدود باب الحکم فیمن سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم )



گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ام ولد کا قتل :

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ :
ایک اندھے شخص کی ایک ام ولد لونڈی تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھی وہ اسے منع کرتا تھا وہ گالیاں دینے سے باز نہیں آتی تھی وہ اسے جھڑکتا تھا مگر وہ نہ رکتی تھی ایک رات اس عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینا شروع کیں اس نے ایک بھالا لے کر اس کے پیٹ میں پیوست کر دیا اور اسے زور سے دبا دیا جس سے وہ مر گئی ۔ صبح اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جمع کرکے فرمایا ۔ میں اس آدمی کو قسم دیتا ہوں جس نے کیا ۔ جو کچھ کیا ۔ میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سن کر ایک نابینا آدمی کھڑا ہو گیا ۔ اضطراب کی کیفیت میں لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا ۔ اس نے آکر کہا ۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اسے منع کرتا تھا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے سے باز نہیں آتی تھی ۔ میں اسے جھڑکتا تھا مگر وہ اس کی پرواہ نہیں کرتی تھی اس کے بطن سے میرے دو ہیروں جیسے بیٹے ہیں اور وہ میری رفیقہ حیات تھی گزشتہ رات جب وہ آپکو گالیاں دینے لگی تو میں نے بھالا لے کر اس کے پیٹ میں پیوست کر دیا میں نے زور سے اسے دبایا یہاں تک کہ وہ مر گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری گفتگو سننے کے بعد فرمایا تم گواہ رہو اس کا خون ہد رہے ۔
( ابوداود ، الحدود ، باب الحکم فیمن سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، نسائی ، تحریم الدم ، باب الحکم فیمن سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم )


حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من سب نبیا قتل ، ومن سب اصحابہ جلد
( رواہ الطبرانی الصغیر صفحہ 236 جلد 1 )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی اسے قتل کیا جائے اور جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو گالی دی اسے کوڑے مارے جائیں ۔


حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا فتویٰ :

حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ :
کنت عند ابی بکر رضی اللہ عنہ ، فتغیظ علیٰ رجل ، فاشتد علیہ ، فقلت : ائذن لی یا خلیفۃ رسول اللّٰہ اضرب عنقہ قال : فاذھبت کلمتی غضبہ ، فقام فدخل ، فارسل الی فقال : ما الذی قلت آنفا ؟ قلت : ائذن لی اضرب عنقہ ، قال : اکنت فاعلا لو امرتک ؟ قلت : نعم قال : لا واللّٰہ ما کانت لبشر بعد رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم
( رواہ ابوداود ، کتاب الحدود باب الحکم فیمن سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم )

میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تھا آپ کسی شخص سے ناراض ہوئے تو وہ بھی جواباً بدکلامی کرنے لگا ۔ میں نے عرض کیا ۔ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ۔ مجھے اجازت دیں ۔ میں اس کی گردن اڑا دوں ۔ میرے ان الفاظ کو سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا سارا غصہ ختم ہو گیا ۔ آپ وہاں سے کھڑے ہوئے اور گھر چلے گئے ۔ گھر جا کر مجھے بلوایا اور فرمانے لگے ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ نے مجھے کیا کہا تھا ۔ میں نے کہا ۔ کہا تھا ۔ کہ آپ رضی اللہ عنہ مجھے اجازت دیں میں اس گستاخ کی گردن اڑا دوں ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرمانے لگے اگر میں تم کو حکم دے دیتا ۔ تو تم یہ کام کرتے ؟ میں نے عرض کیا اگر آپ رضی اللہ عنہ حکم فرماتے تو میں ضرور اس کی گردن اڑا دیتا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۔ نہیں ۔ اللہ کی قسم ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ کسی کے لئے نہیں کہ اس سے بدکلامی کرنے والے کی گردن اڑا دی جائے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے کی ہی گردن اڑائی جائے گی ۔



حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ :
قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم ( من لکعب بن الاشرف ، فانہ قد اذی اللّٰہ ورسولہ ؟ ) فقام محمد بن مسلمۃ فقال : انا یا رسول اللّٰہ اتحب ان اقتلہ ؟ قال نعم قال : فاذن لی ان اقول شیا ، قال : قل
( رواہ البخاری کتاب المغازی باب قتل کعب بن الاشرف ، رواہ مسلم کتاب الجہاد والسیر باب قتل کعب بن الاشرف طاغوف الیھود )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کعب بن اشرف کا کام کون تمام کرے گا ۔ اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کو تکلیف دی ہے اس پر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ۔ اور عرض کی ۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند کرتے ہیں کہ میں اسے قتل کر آؤں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ہاں ۔ مجھ کو یہ پسند ہے ۔ محمد بن مسلمہ نے عرض کیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کچھ کہنے کی اجازت دے دیں یعنی ایسے مبہم کلمات اور ذومعنیٰ الفاظ جنہیں میں کہوں اور وہ سن کر خوش و خرم ہو جائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اجازت ہے ۔ “




آپ حضرات کی آسانی کی خاطر آیات قرآنی اور ان کا ترجمہ اور تفسیر پیش کردی ھے اور تھریڈ کے لیڈنگ مراسلے کا اقتباس بھی ، دیکھ لیجئے کہ اس میں صحاح ستہ سے بھی حوالے موجود ہیں ۔

شکریہ

والسلام
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-12-10), نورالدین (03-12-10), محمد عاصم (05-12-10), عبداللہ آدم (04-12-10), غلام خان (03-12-10)
پرانا 03-12-10, 11:22 AM   #38
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 594
کمائي: 8,412
شکریہ: 2,421
379 مراسلہ میں 903 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
بھائی غلام خان السلام علیکم،
قراں پاک نے "سوء ظنی"‌ سے منع فرمایا ہے!!!
آپ کا قول بالکل بجا: اس مین کوئی شک نہیں

لیکن جو شخص : قرآن کی آیات اورقول،فعل،تقریر رسول صلی اللہ علیہ وسلم، اور اقوال وعمل صحابہ ، اور اقوال علماء کے ذکر کے بعد کہیے کہ یہ ظالمانہ ذھنیت ہے تو آپ ہی کہیں ان جیسے لوگوں کے بارے میں کونسا ظن رکھوں ؟؟؟؟؟

شیخ الاسلام میرا کوئی تایا نہیں لگتا بلکہ جو بھی مسلمان عقیدہ توحید والا ہے وہ ان سب اشخاص کے لیے قابل احترام ہیں ، ان کی کتاب الصارم المسلول علی شاتم الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر یہ واقعات موجود ہیں دلائل قرآن وحدیث اور صحابہ کرام کے قول وفعل اور چاروں آئمہ کے اقوال اور علماء محدثیں کے اقوال کے ساتھ مذکور ہے ، خود کو اس بارے میں علم نہ ہونا تو چھپاکر کہتاہے کہ یہ کہانیاں اور ظالمانہ ذھنیت ، ھمارے روشن خیالی نے ہی تو ھمیں امریکہ ایرپورٹ پر ننگاکر کے باھر نکالتے ہیں اور کتنی عزت ھمیں مزید درکار ھے کافروں سے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟:"
غلام خان آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے غلام خان کا شکریہ ادا کیا
sahj (03-12-10), shafresha (03-12-10), نورالدین (03-12-10), محمد عاصم (05-12-10), عادل سہیل (06-12-10), عبداللہ آدم (04-12-10)
پرانا 03-12-10, 11:42 AM   #39
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,994
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : غلام خان مراسلہ دیکھیں
آپ کا قول بالکل بجا: اس مین کوئی شک نہیں

لیکن جو شخص : قرآن کی آیات اورقول،فعل،تقریر رسول صلی اللہ علیہ وسلم، اور اقوال وعمل صحابہ ، اور اقوال علماء کے ذکر کے بعد کہیے کہ یہ ظالمانہ ذھنیت ہے تو آپ ہی کہیں ان جیسے لوگوں کے بارے میں کونسا ظن رکھوں ؟؟؟؟؟

شیخ الاسلام میرا کوئی تایا نہیں لگتا بلکہ جو بھی مسلمان عقیدہ توحید والا ہے وہ ان سب اشخاص کے لیے قابل احترام ہیں ، ان کی کتاب الصارم المسلول علی شاتم الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر یہ واقعات موجود ہیں دلائل قرآن وحدیث اور صحابہ کرام کے قول وفعل اور چاروں آئمہ کے اقوال اور علماء محدثیں کے اقوال کے ساتھ مذکور ہے ، خود کو اس بارے میں علم نہ ہونا تو چھپاکر کہتاہے کہ یہ کہانیاں اور ظالمانہ ذھنیت ، ھمارے روشن خیالی نے ہی تو ھمیں امریکہ ایرپورٹ پر ننگاکر کے باھر نکالتے ہیں اور کتنی عزت ھمیں مزید درکار ھے کافروں سے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟:"
السلام علیکم بھائی غلام خان

ہمارے دوستوں کو گستاخ کے انجام کو دیکھ کر " رحم " آجاتاھے کہ "آسیہ بی بی " کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ۔ لیکن موجودہ دور کے ہی تازہ ترین واقعے میں "ڈاکڑت عافیہ بہن " کو جس "ظالمانہ" سزا سے نوازا گیا وہ خاص " رحم " پر مبنی ھے ؟۔ اور " رحم " انہیں آتا بھی ھے تو صرف ایسے گستاخوں پر جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی گندی زبان دراز کرتے ہیں ؟

والسلام
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-12-10), نورالدین (03-12-10), عبداللہ آدم (04-12-10), غلام خان (03-12-10)
پرانا 03-12-10, 12:36 PM   #40
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 301
کمائي: 7,143
شکریہ: 256
262 مراسلہ میں 945 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بے غیرت ۔
طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
طلحہ کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (03-12-10)
پرانا 03-12-10, 12:48 PM   #41
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,645
کمائي: 28,550
شکریہ: 7,151
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

قرآن کریم سے جتنے بھی حوالے پیش کئے گئے ہیں ۔ ان میں سے ایک کا بھی تعلق، رسول اللہ صلعم سے گستاخی کے بارے میں نہیں۔ تمام کی تمام آیات کا تعلق الگ الگ واقعات سے ہے۔ اس بحث میں جائے بغیر کہ یہ واقعات کیا ہیں ۔۔۔ اگر یہ فرض بھی کرلیا جائے کہ ان آیات سے مطلق اصول وضع کئے جارہے ہیں تو بھی ان آیات سے یہ ثابت تو ہوتا ہے کہ گستاخ ِ رسول پر اللہ کی لعنت اور آخرت کا عذاب ہے لیکن کسی گستاخ رسول کو قتل کرنے کا حکم اللہ تعالی نے نہیں دیا۔ قتل کا حکم ، اللہ تعالی کی طرف سے حالت امن میں صرف قتل اور ارتداد کی شکل میں ہے۔ ورنہ دوسری صورت میں صرف اور صرف جنگ کی صورت میں ہے۔

انہی روایتوں‌کی مدد سے، جو کہ بعد کے انسانوں کی مرتب کی ہوئی تاریخ ہیں۔ ان تواریخ کے مرتب کرنے والے زیادہ تر یہودی ہیں ، ان کا مقصد ، رسول اللہ صلعم کو ایک جابر، ظالم ، قاتل ثابت کرنا مقصود تھا۔ لیکن مسلمانوں میں سے بہت سے لوگوں نے ان کتب کو گلے سے لگایا اور ہندوستان کی بھیانک ترین خونی تاریخ‌لکھی۔ ہندوستان کی خونی تاریخ، تاریخ انسانی کی بھیانک ترین تواریخ میں سے ایک ہے۔


ان ہی آیات کو دوبارہ پڑھئیے۔ کیا آپ کو ان آیات میں سے کسی میں گستاخ رسول کو قتل کرنے کے بارے میں کوئی صریح‌حکم ملتا ہے؟ نہیں۔۔۔۔۔

سنت رسول اکرم ایک انتہائی نرم مزاج انسان کی سنت ہے۔ تاریخ‌بھی گواہ ہے کہ رسول اکرم نے کسی کا ناحق خون نہیں کیا۔ کیا آُ جانتے ہیں کہ تمام غزوات میں ملا کر قتل ہونے والوں‌کی تعداد کتنی تھی؟ یہ ضرور ہے کہ دین اسلام کی حفاظت کے لئے اللہ تعالی کے حکم کے مطابق، رسول اللہ نے تلوار اٹھائی لیکن اس طرح سازشیں کرکے عورتوں اور بچوں‌کو قتل نہیں کیا اور نا ہی ایسے قتل کروایا۔ یہ رسول اللہ صلعم پر ایک بہتان ہے۔

آپ جب سنت رسول اور قرآن کریم پڑھتے ہیں تو اس شخص‌کو پہچاننے لگتے ہیں جو دنیا ہی نہیں‌دونون عالم کی بزرگ ترین ہستی ہیں ، یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ آپ جاننے لگتے ہیں کہ یہ ایک منصف المزاج انسان ہیں ، جن کا مقصد ہی عدل و انصاف اور مساوات ہے۔ ان کا مقصد خفیہ مشن بھیج کر رات کی تاریکی میں دودھ پلاتی عورتوں‌کو قتل کرنا نہیں۔

غور سے تمام کہانیوں کو پڑھئے۔ ان تمام کہانیوں‌کے مرکزی کردار یہودی ہیں۔ جس نبی اکرم نے کبھی حالت جنگ میں اس قسم کی خفیہ کاروائیاں کرنے کا حکم نہیں دیا وہ بھلا کیوں رات کی تاریکی میں دودھ پلاتی عورتوں کے قتل کا حکم دینے لگے؟؟؟؟؟ وہ بھی کسی ایسی وجہ کی غیر موجودگی میں جس وجہ یا جرم کے لئے اللہ تعالی کا فرمان قرآن قتل کی سزا تجویز نہیں کرتا۔۔۔ کیا اس عورت نے تلوار اٹھائی تھی؟؟ نہیں ؟‌ کیا یہ عورت حالت جنگ میں تھی ؟؟؟‌نہیں ۔ پھر رسول اکرم پر اس میں سے کسی بھی قتل کا الزام ایک اتہام تراشی ہے۔

کیا اسلام کے مذہب کا تعین ، اللہ تعالی کے فرمان قرآن حکیم کے احکام کریں گے یا پھر انسانوں کی لکھی ہوئی تواریخ؟

یاد رکھئے ، نبی اکرم کو نبی بنانے کا واحد مقصد، اللہ تعالی کے فرمان قرآن کو انسانیت تک پہنچانا تھا۔ یہ کتاب کسی گستاخ‌رسول کو اس دنیا میں قتل کرنے کا حکم نہیں دیتی۔ اسلامی معاشرے میں ایسا کرنے والے کی مکمل جائداد کی ضبطی ، ایسے اقدامات کی بہتر حوصلہ شکنی کرتی ہے نا کہ ناحق قتل؟

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-12-10), مرزا عامر (04-12-10), غلام خان (03-12-10)
پرانا 03-12-10, 12:49 PM   #42
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 594
کمائي: 8,412
شکریہ: 2,421
379 مراسلہ میں 903 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طلحہ مراسلہ دیکھیں
بے غیرت ۔
طلحہ صاحب یہ کجھ زیادہ مبہم ہے جناب کی مراد بھی بتادیں سچ بولنے سے مت ڈرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھمیں کہہ رہے ہو یا کسی اور کو جو بھی ہے ھمیں برا نہیں لگتا یہ آپ کا حق ہے آپ جو بولیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔؟؟؟ !!!!
غلام خان آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے غلام خان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-12-10), فاروق سرورخان (03-12-10), محمد عاصم (05-12-10), مرزا عامر (04-12-10)
پرانا 03-12-10, 01:04 PM   #43
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 594
کمائي: 8,412
شکریہ: 2,421
379 مراسلہ میں 903 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
قرآن کریم سے جتنے بھی حوالے پیش کئے گئے ہیں ۔ ان میں سے ایک کا بھی تعلق، رسول اللہ صلعم سے گستاخی کے بارے میں نہیں۔ تمام کی تمام آیات کا تعلق الگ الگ واقعات سے ہے۔ اس بحث میں جائے بغیر کہ یہ واقعات کیا ہیں ۔۔۔ اگر یہ فرض بھی کرلیا جائے کہ ان آیات سے مطلق اصول وضع کئے جارہے ہیں تو بھی ان آیات سے یہ ثابت تو ہوتا ہے کہ گستاخ ِ رسول پر اللہ کی لعنت اور آخرت کا عذاب ہے لیکن کسی گستاخ رسول کو قتل کرنے کا حکم اللہ تعالی نے نہیں دیا۔ قتل کا حکم ، اللہ تعالی کی طرف سے حالت امن میں صرف قتل اور ارتداد کی شکل میں ہے۔ ورنہ دوسری صورت میں صرف اور صرف جنگ کی صورت میں ہے۔

انہی روایتوں‌کی مدد سے، جو کہ بعد کے انسانوں کی مرتب کی ہوئی تاریخ ہیں۔ ان تواریخ کے مرتب کرنے والے زیادہ تر یہودی ہیں ، ان کا مقصد ، رسول اللہ صلعم کو ایک جابر، ظالم ، قاتل ثابت کرنا مقصود تھا۔ لیکن مسلمانوں میں سے بہت سے لوگوں نے ان کتب کو گلے سے لگایا اور ہندوستان کی بھیانک ترین خونی تاریخ‌لکھی۔ ہندوستان کی خونی تاریخ، تاریخ انسانی کی بھیانک ترین تواریخ میں سے ایک ہے۔


ان ہی آیات کو دوبارہ پڑھئیے۔ کیا آپ کو ان آیات میں سے کسی میں گستاخ رسول کو قتل کرنے کے بارے میں کوئی صریح‌حکم ملتا ہے؟ نہیں۔۔۔۔۔

سنت رسول اکرم ایک انتہائی نرم مزاج انسان کی سنت ہے۔ تاریخ‌بھی گواہ ہے کہ رسول اکرم نے کسی کا ناحق خون نہیں کیا۔ کیا آُ جانتے ہیں کہ تمام غزوات میں ملا کر قتل ہونے والوں‌کی تعداد کتنی تھی؟ یہ ضرور ہے کہ دین اسلام کی حفاظت کے لئے اللہ تعالی کے حکم کے مطابق، رسول اللہ نے تلوار اٹھائی لیکن اس طرح سازشیں کرکے عورتوں اور بچوں‌کو قتل نہیں کیا اور نا ہی ایسے قتل کروایا۔ یہ رسول اللہ صلعم پر ایک بہتان ہے۔

آپ جب سنت رسول اور قرآن کریم پڑھتے ہیں تو اس شخص‌کو پہچاننے لگتے ہیں جو دنیا ہی نہیں‌دونون عالم کی بزرگ ترین ہستی ہیں ، یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ آپ جاننے لگتے ہیں کہ یہ ایک منصف المزاج انسان ہیں ، جن کا مقصد ہی عدل و انصاف اور مساوات ہے۔ ان کا مقصد خفیہ مشن بھیج کر رات کی تاریکی میں دودھ پلاتی عورتوں‌کو قتل کرنا نہیں۔

غور سے تمام کہانیوں کو پڑھئے۔ ان تمام کہانیوں‌کے مرکزی کردار یہودی ہیں۔ جس نبی اکرم نے کبھی حالت جنگ میں اس قسم کی خفیہ کاروائیاں کرنے کا حکم نہیں دیا وہ بھلا کیوں رات کی تاریکی میں دودھ پلاتی عورتوں کے قتل کا حکم دینے لگے؟؟؟؟؟ وہ بھی کسی ایسی وجہ کی غیر موجودگی میں جس وجہ یا جرم کے لئے اللہ تعالی کا فرمان قرآن قتل کی سزا تجویز نہیں کرتا۔۔۔ کیا اس عورت نے تلوار اٹھائی تھی؟؟ نہیں ؟‌ کیا یہ عورت حالت جنگ میں تھی ؟؟؟‌نہیں ۔ پھر رسول اکرم پر اس میں سے کسی بھی قتل کا الزام ایک اتہام تراشی ہے۔

کیا اسلام کے مذہب کا تعین ، اللہ تعالی کے فرمان قرآن حکیم کے احکام کریں گے یا پھر انسانوں کی لکھی ہوئی تواریخ؟

یاد رکھئے ، نبی اکرم کو نبی بنانے کا واحد مقصد، اللہ تعالی کے فرمان قرآن کو انسانیت تک پہنچانا تھا۔ یہ کتاب کسی گستاخ‌رسول کو اس دنیا میں قتل کرنے کا حکم نہیں دیتی۔ اسلامی معاشرے میں ایسا کرنے والے کی مکمل جائداد کی ضبطی ، ایسے اقدامات کی بہتر حوصلہ شکنی کرتی ہے نا کہ ناحق قتل؟

والسلام
آپ کو نظر نہیں آیا بجا فرمایا فاروق بھائی کیونکہ آپکو عافیہ صدیقی کے اوپر جو مظالم ہوئے وہ بھی تو نظر نہيں ايا لیکککنننننننننننن ملعونہ آسیہ کی سزا مین ظلم اور ہر قسم کی بربریت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نظر آگيا واہ مسلمان تیری بصارت پر قربان جاؤں تجھے خامی ،ظلم ، زیادتی ، جلادی ، نظر آیا تو دین حنیف کے احکام مین نظر آیا، معذرت کے ساتھ عرض کرتا چلوں کہ آپ جیسے صاحب بصارت والوں ہی کے بارے میں قرآن پہلے ہی اعلان کرچکا ہے ( لھم قلوب لایفقہوں بہا ولھم آذان لایسمعوں بہا ولھم اعین لایبصرون ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اولئک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔) اللہ ھم سب کو ھدایت دیں

وسلام علی من اتبع الھدی۔۔۔۔۔۔۔
غلام خان آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے غلام خان کا شکریہ ادا کیا
sahj (03-12-10), shafresha (03-12-10), نورالدین (03-12-10), محمد عاصم (05-12-10), عادل سہیل (06-12-10), عبداللہ آدم (04-12-10)
پرانا 03-12-10, 01:26 PM   #44
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,787
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : غلام خان مراسلہ دیکھیں
آپ کو نظر نہیں آیا بجا فرمایا فاروق بھائی کیونکہ آپکو عافیہ صدیقی کے اوپر جو مظالم ہوئے وہ بھی تو نظر نہيں ايا لیکککنننننننننننن ملعونہ آسیہ کی سزا مین ظلم اور ہر قسم کی بربریت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نظر آگيا واہ مسلمان تیری بصارت پر قربان جاؤں تجھے خامی ،ظلم ، زیادتی ، جلادی ، نظر آیا تو دین حنیف کے احکام مین نظر آیا، معذرت کے ساتھ عرض کرتا چلوں کہ آپ جیسے صاحب بصارت والوں ہی کے بارے میں قرآن پہلے ہی اعلان کرچکا ہے ( لھم قلوب لایفقہوں بہا ولھم آذان لایسمعوں بہا ولھم اعین لایبصرون ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اولئک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔) اللہ ھم سب کو ھدایت دیں

وسلام علی من اتبع الھدی۔۔۔۔۔۔۔
بھائی کتنی آسانی سے آپ کفار کے حق میں‌نازل ہونے والی آیات کا اطلاق عامۃ المسلیمن پر کررہے ہیں!!!!

کیا یہ کُھلا تضاد نہیں!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (03-12-10), مرزا عامر (04-12-10), غلام خان (06-12-10)
پرانا 03-12-10, 01:36 PM   #45
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Angry


السلام وعلیکم
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
آپ سب سے میرا ایک سوال ہے جو کفار کے قتل پر غمگین ہیں ۔
کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے والے کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہیے ۔
ان کو پھولوں کا ہار پہنا کر ملک سے باہر بھیج دینا چاہیے ۔
آپ لوگ اپنے ماں باپ کو گالی دینے والے کو تو کبھی معاف نہیں کریں گے
لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے والے کے لیے آپ کے دلوں میں رحمت ہی رحمت ہے
میری پیاری بہن
اعتدال - - - - !
'اس مسئلے کا حل ہے اعتدال ۔۔
آپ نے خود ہی فرض کر لیا کہ اپنے ماں باپ کو گالی دینے والوں کو معاف نہیں کریں گے ۔ ہم یقیناً معاف کریں گے مگر اس وقت جب وہ معافی مانگے گا ۔ خواہ ڈرامہ کر کے معافی مانگے یا دل سے ۔
اور اگر وہ معافی نہ بھی مانگے تب اس کو قتل بھی نہیں کر سکتے ۔ کیوں کہ ایسا کہیں حکم نہیں ہے ۔۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : غلام خان مراسلہ دیکھیں
آپ کا تعلق مرجئة اور جهمية سے تو نہیں میرے بھائي ؟؟؟؟؟ ناراض مت ہونا پوچھ رہاہون
نہيں بھائی ناراض ہونے کی بات نہيں اس میں ۔۔ میں ویسے ہی بڑا کول مائنڈ ہوں ۔۔
بس اس سوال کا مطلب سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ آپ کے پاس میرے سوال کا جواب نہيں ہے ۔ اس لیے یہ غیر متعلقہ سوال کیا ۔
اقتباس:
شیخ الاسلام میرا کوئی تایا نہیں لگتا بلکہ جو بھی مسلمان عقیدہ توحید والا ہے وہ ان سب اشخاص کے لیے قابل احترام ہیں ، ان کی کتاب الصارم المسلول علی شاتم الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر یہ واقعات موجود ہیں دلائل قرآن وحدیث اور صحابہ کرام کے قول وفعل اور چاروں آئمہ کے اقوال اور علماء محدثیں کے اقوال کے ساتھ مذکور ہے ،
شیخ الاسلام کی تو میں بھی دل عزت کرتا ہوں مگر یہ بات پڑھ کرمجھے یقین نہیں آیا کہ یہ دین کے شیخ الاسلام ہيں
وہی دین اسلام جو تلواروں سے نہيں حسن عمل سے پھیلا ہے میں مزید معلومات کروں گا اس شیخ الاسلام کے متعلق ۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
ہمارے دوستوں کو گستاخ کے انجام کو دیکھ کر " رحم " آجاتاھے کہ "آسیہ بی بی " کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ۔ لیکن موجودہ دور کے ہی تازہ ترین واقعے میں "ڈاکڑت عافیہ بہن " کو جس "ظالمانہ" سزا سے نوازا گیا وہ خاص " رحم " پر مبنی ھے ؟۔ اور " رحم " انہیں آتا بھی ھے تو صرف ایسے گستاخوں پر جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی گندی زبان دراز کرتے ہیں ؟
تو کیا اس سے ہم یہ سمجھیں کہ توہین رسالت تو محض بہانہ ہے ڈاکٹر عافیہ کا انتقام لینے کے لیے ۔۔کیا اس مقدمے کا توہین رسالت سے کوئی تعلق نہيں ہے ؟
تو پھر بڑی نا انصافی ہے ۔۔ کہ ظلم کیا امریکی حکومت نے اور بدلہ لے رہے ہيں ایک عیسائی عورت سے ۔۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : غلام خان مراسلہ دیکھیں
آپ کو نظر نہیں آیا بجا فرمایا فاروق بھائی کیونکہ آپکو عافیہ صدیقی کے اوپر جو مظالم ہوئے وہ بھی تو نظر نہيں ايا لیکککنننننننننننن ملعونہ آسیہ کی سزا مین ظلم اور ہر قسم کی بربریت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نظر آگيا واہ مسلمان تیری بصارت پر قربان جاؤں تجھے خامی ،ظلم ، زیادتی ، جلادی ، نظر آیا تو دین حنیف کے احکام مین نظر آیا، معذرت کے ساتھ عرض کرتا چلوں کہ آپ جیسے صاحب بصارت والوں ہی کے بارے میں قرآن پہلے ہی اعلان کرچکا ہے ( لھم قلوب لایفقہوں بہا ولھم آذان لایسمعوں بہا ولھم اعین لایبصرون ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اولئک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔) اللہ ھم سب کو ھدایت دیں

وسلام علی من اتبع الھدی۔۔۔۔۔۔۔
عافیہ کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کا مقابلہ کرنے کے اور بھی طریقے ہیں یہ کون سا طریقہ ہے انتقام لینے کا ۔۔ اس کے لیے عدالتوں کا نظام موجود ہے ۔ آپ کا ملک ہے آپکا معاشرہ ہے ۔
رائے عامہ ہے آپکی کمیونٹی ہے ۔ اپنی بات میں وزن لائیں اور اپنے ایسے لوگوں کو حکمران بنائیں جو آپکی بات اتنی عالمی سطح تک پہنچا سکیں کہ اس کا اثر ہو سکے ۔۔
امریکہ میں یہ سب کچھ آخر سعودی اور جاپانی لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں ہوتا ۔۔

آخر میں آپ تمام حب نبوی کے نام پر نام نہاد جوش اور دیوانگی سے کام لینے والوں سے کہنا چاہوں گا ۔
جو کہ میں نے سیکھنے کے بعد اپنی زندگی میں اپلائی کیا اور فائدے میں رہا ہوں ۔

اگر کتا ہمیں دانت کاٹے تو اس کا یہ مطلب نہيں کہ ہم بھی کتے کو دانت کانٹیں ۔۔

والسلام

__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-12-10), مرزا عامر (03-12-10)
جواب

Tags
پسند, واقعات, قدم, قرآنی, قصہ, لوگ, نفرت, نماز, مکہ, ماں, مجید, معلوم, آج, آدمی, اللہ, اسلام, اشعار, بھائی, تلاش, حسن, غزوہ بدر, صحابہ, صحابی, صدقہ, صدمہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
موہنِ رسول کی سزائے قتل پر ائمہ اربعہ اور علماء امت کا اجماع ! sahj عقیدہ رسالت 0 09-01-11 05:17 PM
گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا موت ہے! علمائے کرام کا متفقہ فیصلہ ALI-OAD اسلام اور عصر حاضر 6 03-01-11 09:22 PM
گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ کا کلام آبی ٹوکول اپکے کالم 0 15-12-10 06:36 AM
حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام چیتا چالباز اخلاق و آداب 6 19-10-10 05:41 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:51 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger