| 20 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | ghaffarjan (09-11-09), shafresha (02-12-10), پاکستان دوست (02-12-10), نیلم خان (14-11-09), محمد عاصم (05-12-10), معظم (16-11-09), Wahid Mahmood (16-11-09), ایکسٹو (01-12-10), ابو عبداللہ (05-02-11), ارشد کمبوہ (01-12-10), بلال اویسی (01-12-10), حیدر (20-07-10), سام (18-11-09), شمشاد احمد (01-12-10), عادل سہیل (06-12-10), عبداللہ آدم (04-12-10), عبداللہ حیدر (30-09-09), عبداللہ خراسانی (06-11-09), عروج (11-12-10), غلام خان (02-12-10) |
|
|
#31 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اقتباس:
ہم اُن سے نفرت کریں گے۔۔۔ آپ کیا سمجھتی ہیں کہ ہمیںاُن لوگوں کو قتل کردینا چاہیئے؟؟؟؟ ہم لوگ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرنے والوں سے بھی شدید نفرت کرتے ہیں اور اُن سے ہر طرح کے تعلقات کے منقطع کرنے کے حامی ہیں۔ آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے تو خود پر ظلم کرنے والوںکو معاف کیا تھا، دیکھ لیجیئے فتح مکہ کے موقعے پر بڑے بڑے گستاخوں کو معاف کردیا تھا۔۔۔۔۔۔ پھر ہم ان جیسے خبیثوں کے خون سے اپنے ہاتھوں کو گندا کیوں کریں!!!!
__________________
میںتمھارے اس حق کے لیئے کہ تم مجھ سے "اختلاف" کرسکو، آخری وقت تک لڑوںگا! Last edited by shafresha; 03-12-10 at 10:11 AM. |
|
|
|
|
|
|
#32 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 594
کمائي: 8,412
شکریہ: 2,421
379 مراسلہ میں 903 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے غلام خان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#33 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 594
کمائي: 8,412
شکریہ: 2,421
379 مراسلہ میں 903 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
دوسری بات: ھم اسی موضوع پر صرف کیوں جوش مارتاہے ، عدالت جو بھی فیصلہ کرے وہ بہتر ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ میں ایمان اور اسلام پر قائم رکھیں |
|
|
|
|
|
|
#34 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
بھائی غلام خان السلام علیکم،
قراں پاک نے "سوء ظنی" سے منع فرمایا ہے!!! |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#35 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اقتباس:
قراں پاک نے "سوء ظنی" سے منع فرمایا ہے!!! |
|
|
|
|
| shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (03-12-10) |
|
|
#36 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
دین اسلام ایک نظام ہے جو اللہ نے دیا ہے اس دنیا والوں کے لیے قیامت تک کے لیے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں آپ نے کہا ماں باپ کو گالی دینے والے سے ہم نفرت کریں گے لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تو کہا کہ اپنی ذات اور ماں باپ کو گالی دینے کو معاف کردو ۔ احسن طریقہ تو یہ ہے کہ ہم ان سے نفرت بھی نا کریں ۔ قتل تو دور کی بات ہے ۔ لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے جس کا مفہوم پے تم اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک میں تم کو تمھارے ماں ، باپ اور بیوی بچوں سے ذیادہ محبوب نا ہوجاوں ۔ دین اسلام اللہ کا دین ہے کوئی مذاق نہیں ہے کہ جو بھی چاہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا بولنا شروع کردے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے سامنے نا میری کوئی حیثیت ہے اور نا میرے ماں باپ کی کوئی حیثیت ہے ۔ فتح مکہ کے وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان گستاخان کو معاف کیا ۔ لیکن مسلمان ہونے کے ناطے کسی مسلمان کو یہ حق نہیں کہ وہ گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو معاف کریں ۔ اور جن صحابہ رضی اللہ علیہ نے ایسے گستاخوں کو قتل کیا آپ کے خیال میں ان کا قصاص لینا چاہیے تھا ۔ ہرگز نہیں بےشک وہ خون راہیگاں گیا ۔ جس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے جس کی حمایت قرآن میں اللہ نے کی ایک یہودی اور ایک کلمہ گو مسلمان فیصلے کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کے حق میں فیصلہ دیا ۔ کلمہ گو مسلمان نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ قبول نا کیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور پوری روداد سنائی اور فیصلہ کرنے کو کہا۔ حضرت عمر گئے تلوار اٹھائی اور کملہ گو مسلمان کا سر قلم کردیا ۔ اور فرمایا کہ میرا فیصلہ یہی ہے
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے Last edited by سحر; 03-12-10 at 10:42 AM. |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | sahj (03-12-10), مسٹر شیف (03-12-10), عادل سہیل (06-12-10), عبداللہ آدم (04-12-10), غلام خان (03-12-10) |
|
|
#37 | |||||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
السلام علیکم آعوذبااللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمان الرحیم إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ﴿033:056﴾ اللہ اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں مومنو! تم بھی پیغمبر پر درود اور سلام بھیجا کرو تفسیر ابن کثیر صلوۃ و سلام کی فضیلت ۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت ابو العالیہ سے مروی ہے کہ اللہ کا اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا اپنے فرشتوں کے سامنے آپ کی ثناء و صفت کا بیان کرنا ہے اور فرشتوں کا درود آپ کے لئے دعا کرنا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں یعنی برکت کی دعا۔ اکثر اہل علم کا قول ہے کہ اللہ کا درود رحمت ہے فرشتوں کا درود استغفار ہے۔ عطا فرماتے ہیں اللہ تبارک و تعالٰی کی صلوۃ سبوح قدوس سبقت رحمتی غضبی ہے۔ مقصود اس آیت شریفہ سے یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر و منزلت عزت و مرتبت لوگوں کی نگاہوں میں جچ جائے وہ جان لیں کہ خود اللہ تعالٰی آپ کا ثناء خواں ہے اور اس کے فرشتے آپ پر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ ملاء اعلیٰ کی یہ خبر دے کر اب زمین والوں کو حکم دیتا ہے کہ تم بھی آپ پر درود و سلام بھیجا کرو تاکہ عالم علوی اور عالم سفلی کے لوگوں کا اس پر اجتماع ہو جائے۔ إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُهِينًا ﴿033:057﴾ اور جو لوگ اللہ اور اسکے پیغمبر کو رنج پہنچاتے ہیں ان پر اللہ دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لئے اس نے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے3 تفسیر ابن کثیر ملعون و معذب لوگ۔ جو لوگ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرکے اس کے روکے ہوئے کاموں سے نہ رک کر اس کی نافرمانیوں پر جم کر اسے ناراض کر رہے ہیں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے طرح طرح کے بہتان باندھتے ہیں وہ ملعون اور معذب ہیں۔ بخاری و مسلم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے مجھے ابن آدم ایذاء دیتا ہے وہ زمانے کو گالیاں دیتا ہے اور زمانہ میں ہوں میں ہی دن رات کا تغیر و تبدل کر رہا ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ جاہلیت والے کہا کرتے تھے ہائے زمانے کی ہلاکت اس نے ہمارے ساتھ یہ کیا اور یوں کیا۔ پس اللہ کے افعال کو زمانے کی طرف منسوب کرکے پھر زمانے کو برا کہتے تھے گویا افعال کے فاعل یعنی خود اللہ کو برا کہتے تھے۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا تو اس پر بھی بعض لوگوں نے باتیں بنانا شروع کی تھیں ۔ بقول ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ آیت اس بارے میں اتری ۔ آیت عام ہے کسی طرح بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دے وہ اس آیت کے ماتحت ملعون اور معذب ہے۔ اس لئے کہ رسول اللہ کو ایذاء دینی گویا اللہ کو ایذاء دینی ہے۔ جس طرح آپ کی اطاعت عین اطاعت الٰہی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تمہیں اللہ کو یاد دلاتا ہوں دیکھو اللہ کو بیچ میں رکھ کر تم سے کہتا ہوں کہ میرے اصحاب کو میرے بعد نشانہ نہ بنالینا میری محبت کی وجہ سے ان سے بھی محبت رکھنا ان سے بغض دبیر رکھنے والا مجھ سے دشمنی کرنے والا ہے۔ انہیں جس نے ایذاء دی اور جس نے اللہ کو ایذاء دی یقین مانو کہ اللہ اس کی بھوسی اڑا دے گا۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے۔ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا ﴿033:058﴾ اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے کام (کی تہمت سے) جو انہوں نے نہ کیا ہو ایذا دیں تو انہوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا تفسیر ابن کثیر جو لوگ ایمانداروں کی طرف ان برائیوں کو منسوب کرتے ہیں۔ جن سے وہ بری ہیں وہ بڑے بہتان باز اور زبردست گناہ گار ہیں۔ اس وعید میں سب سے پہلے تو کفار داخل ہیں پھر رافضی جوصحابہ پر عیب گیری کرتے ہیں اور اللہ نے جن کی تعریفیں کی ہیں یہ انہیں برا کہتے ہیں۔ اللہ تعالٰی نے صاف فرما دیا ہے کہ وہ انصار و مہاجرین سے خوش ہے۔ قرآن کریم میں جگہ جگہ ان کی مدح و ستائش موجود ہے۔ لیکن یہ بےخبر کند ذہن انہیں برا کہتے ہیں ان کی مذمت کرتے ہیں اور ان میں وہ باتیں بتاتے ہیں جن سے وہ بالکل الگ ہیں۔ حق یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ان کے دل اوندھے ہوگئے ہیں اس لئے ان کی زبانیں بھی الٹی چلتی ہیں۔ قابل مدح لوگوں کی مذمت کرتے ہیں اور مذمت والوں کی تعریفیں کرتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ غیبت کسے کہتے ہیں؟ آپ فرماتے ہیں تیرا اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرنا جسے اگر وہ سنے تو اسے برا معلوم ہو۔ آپ سے سوال ہوا کہ اگر وہ بات اس میں ہو تب؟ آپ نے فرمایا جبھی تو غیبت ہے ورنہ بہتان ہے۔ (ترمذی) ایک مرتبہ اپنے اصحاب سے سوال کیا کہ سب سے بڑی سود خواری کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ جانے اور اللہ کا رسول۔ آپ نے فرمایا سب سے بڑا سود اللہ کے نزدیک کسی مسلمان کی آبرو ریزی کرنا ہے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا ﴿033:059﴾ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ (باہر نکلا کریں تو) اپنے (مونہوں) پر چادر لٹکا کر (گھونگھٹ نکال) لیا کریں یہ امر ان کے لئے موجب شناخت (وامتیاز) ہوگا تو کوئی انکو ایذا نہ دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے تفسیر ابن كثیر تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل کون؟ اللہ تعالٰی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تسلیما کو فرماتا ہے کہ آپ مومن عورتوں سے فرما دیں بالخصوص اپنی بیویوں اور صاحبزادیوں سے کیونکہ وہ تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل ہیں کہ وہ اپنی چادریں قدریں لٹکالیا کریں تاکہ جاہلیت کی عورتوں سے ممتاز ہو جائیں اسی طرح لونڈیوں سے بھی آزاد عورتوں کی پہچان ہو جائے۔ جلباب اس چادر کو کہتے ہیں جو عورتیں اپنی دوپٹیاکے اوپر ڈالتی ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالٰی مسلمان عورتوں کو حکم دیتا ہے کہ جب وہ اپنے کسی کام کاج کیلئے باہر نکلیں تو جو چادر وہ اوڑھتی ہیں اسے سر پر سے جھکا کر منہ ڈھک لیا کریں، صرف ایک آنکھ کھلی رکھیں۔ امام محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ کے سوال پر حضرت عبیدہ سلمانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنا چہرہ اور سر ڈھانک کر اور بائیں آنکھ کھلی رکھ کر بتا دیا کہ یہ مطلب اس آیت کا ہے۔ حضرت عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ اپنی چادر سے اپنا گلا تک ڈھانپ لے۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اس آیت کے اترنے کے بعد انصار کی عورتیں جب نکلتی تھیں تو اس طرح لکی چھپی چلتی تھیں گویا ان کے سروں پر پرند ہیں سیاہ چادریں اپنے اوپر ڈال لیا کرتی تھیں۔ لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا ﴿033:060﴾ اگر منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے اور جو مدینے (کے شہر) میں بری بری خبریں اڑایا کرتے ہیں (اپنے کردار) سے باز نہ آئیں گے تو ہم تم کو انکے پیچھے لگا دینگے پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہ رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن مَلْعُونِينَ ۖ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلًا ﴿033:061﴾ لعنت بھیجی جائے گی ان پر (ہرطرف سے)، جہاں کیں پائے جائیں گے، پکڑے جائیں گے اور قتل کیے جائیں گے بری طرح۔ سُنَّةَ اللَّهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ ۖ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا ﴿033:062﴾ تفسیر ابن کثیر اگر منافق لوگ اور بدکار اور جھوٹی افواہیں اڑانے والے اب بھی باز نہ آئے اور حق کے طرفدار نہ ہوئے تو ہم اے نبی تجھے ان پر غالب اور مسلط کردیں گے۔ پھر تو وہ مدینے میں ٹھہر ہی نہیں سکیں گے ۔ بہت جلد تباہ کردیے جائیں گے اور جو کچھ دن ان کے مدینے کی اقامت سے گزریں گے وہ بھی لعنت و پھٹکار میں ذلت اور مار میں گزریں گے۔ ہر طرف سے دھتکارے جائیں گے، راندہ درگاہ ہو جائیں گے، جہاں جائیں گے گرفتار کئے جائیں گے اور بری طرح قتل کئے جائیں گے۔ ایسے کفار و منافقین پر جبکہ وہ اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں مسلمانوں کو غلبہ دینا ہماری قدیمی سنت ہے جس میں نہ کبھی تغیر و تبدل ہوا نہ اب ہو۔ اقتباس:
آپ حضرات کی آسانی کی خاطر آیات قرآنی اور ان کا ترجمہ اور تفسیر پیش کردی ھے اور تھریڈ کے لیڈنگ مراسلے کا اقتباس بھی ، دیکھ لیجئے کہ اس میں صحاح ستہ سے بھی حوالے موجود ہیں ۔ شکریہ والسلام |
|||||
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | shafresha (03-12-10), نورالدین (03-12-10), محمد عاصم (05-12-10), عبداللہ آدم (04-12-10), غلام خان (03-12-10) |
|
|
#38 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 594
کمائي: 8,412
شکریہ: 2,421
379 مراسلہ میں 903 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
لیکن جو شخص : قرآن کی آیات اورقول،فعل،تقریر رسول صلی اللہ علیہ وسلم، اور اقوال وعمل صحابہ ، اور اقوال علماء کے ذکر کے بعد کہیے کہ یہ ظالمانہ ذھنیت ہے تو آپ ہی کہیں ان جیسے لوگوں کے بارے میں کونسا ظن رکھوں ؟؟؟؟؟ شیخ الاسلام میرا کوئی تایا نہیں لگتا بلکہ جو بھی مسلمان عقیدہ توحید والا ہے وہ ان سب اشخاص کے لیے قابل احترام ہیں ، ان کی کتاب الصارم المسلول علی شاتم الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر یہ واقعات موجود ہیں دلائل قرآن وحدیث اور صحابہ کرام کے قول وفعل اور چاروں آئمہ کے اقوال اور علماء محدثیں کے اقوال کے ساتھ مذکور ہے ، خود کو اس بارے میں علم نہ ہونا تو چھپاکر کہتاہے کہ یہ کہانیاں اور ظالمانہ ذھنیت ، ھمارے روشن خیالی نے ہی تو ھمیں امریکہ ایرپورٹ پر ننگاکر کے باھر نکالتے ہیں اور کتنی عزت ھمیں مزید درکار ھے کافروں سے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟:" |
|
|
|
|
|
|
#39 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
ہمارے دوستوں کو گستاخ کے انجام کو دیکھ کر " رحم " آجاتاھے کہ "آسیہ بی بی " کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ۔ لیکن موجودہ دور کے ہی تازہ ترین واقعے میں "ڈاکڑت عافیہ بہن " کو جس "ظالمانہ" سزا سے نوازا گیا وہ خاص " رحم " پر مبنی ھے ؟۔ اور " رحم " انہیں آتا بھی ھے تو صرف ایسے گستاخوں پر جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی گندی زبان دراز کرتے ہیں ؟ والسلام |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#41 |
|
Senior Member
![]() |
قرآن کریم سے جتنے بھی حوالے پیش کئے گئے ہیں ۔ ان میں سے ایک کا بھی تعلق، رسول اللہ صلعم سے گستاخی کے بارے میں نہیں۔ تمام کی تمام آیات کا تعلق الگ الگ واقعات سے ہے۔ اس بحث میں جائے بغیر کہ یہ واقعات کیا ہیں ۔۔۔ اگر یہ فرض بھی کرلیا جائے کہ ان آیات سے مطلق اصول وضع کئے جارہے ہیں تو بھی ان آیات سے یہ ثابت تو ہوتا ہے کہ گستاخ ِ رسول پر اللہ کی لعنت اور آخرت کا عذاب ہے لیکن کسی گستاخ رسول کو قتل کرنے کا حکم اللہ تعالی نے نہیں دیا۔ قتل کا حکم ، اللہ تعالی کی طرف سے حالت امن میں صرف قتل اور ارتداد کی شکل میں ہے۔ ورنہ دوسری صورت میں صرف اور صرف جنگ کی صورت میں ہے۔
انہی روایتوںکی مدد سے، جو کہ بعد کے انسانوں کی مرتب کی ہوئی تاریخ ہیں۔ ان تواریخ کے مرتب کرنے والے زیادہ تر یہودی ہیں ، ان کا مقصد ، رسول اللہ صلعم کو ایک جابر، ظالم ، قاتل ثابت کرنا مقصود تھا۔ لیکن مسلمانوں میں سے بہت سے لوگوں نے ان کتب کو گلے سے لگایا اور ہندوستان کی بھیانک ترین خونی تاریخلکھی۔ ہندوستان کی خونی تاریخ، تاریخ انسانی کی بھیانک ترین تواریخ میں سے ایک ہے۔ ان ہی آیات کو دوبارہ پڑھئیے۔ کیا آپ کو ان آیات میں سے کسی میں گستاخ رسول کو قتل کرنے کے بارے میں کوئی صریححکم ملتا ہے؟ نہیں۔۔۔۔۔ سنت رسول اکرم ایک انتہائی نرم مزاج انسان کی سنت ہے۔ تاریخبھی گواہ ہے کہ رسول اکرم نے کسی کا ناحق خون نہیں کیا۔ کیا آُ جانتے ہیں کہ تمام غزوات میں ملا کر قتل ہونے والوںکی تعداد کتنی تھی؟ یہ ضرور ہے کہ دین اسلام کی حفاظت کے لئے اللہ تعالی کے حکم کے مطابق، رسول اللہ نے تلوار اٹھائی لیکن اس طرح سازشیں کرکے عورتوں اور بچوںکو قتل نہیں کیا اور نا ہی ایسے قتل کروایا۔ یہ رسول اللہ صلعم پر ایک بہتان ہے۔ آپ جب سنت رسول اور قرآن کریم پڑھتے ہیں تو اس شخصکو پہچاننے لگتے ہیں جو دنیا ہی نہیںدونون عالم کی بزرگ ترین ہستی ہیں ، یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ آپ جاننے لگتے ہیں کہ یہ ایک منصف المزاج انسان ہیں ، جن کا مقصد ہی عدل و انصاف اور مساوات ہے۔ ان کا مقصد خفیہ مشن بھیج کر رات کی تاریکی میں دودھ پلاتی عورتوںکو قتل کرنا نہیں۔ غور سے تمام کہانیوں کو پڑھئے۔ ان تمام کہانیوںکے مرکزی کردار یہودی ہیں۔ جس نبی اکرم نے کبھی حالت جنگ میں اس قسم کی خفیہ کاروائیاں کرنے کا حکم نہیں دیا وہ بھلا کیوں رات کی تاریکی میں دودھ پلاتی عورتوں کے قتل کا حکم دینے لگے؟؟؟؟؟ وہ بھی کسی ایسی وجہ کی غیر موجودگی میں جس وجہ یا جرم کے لئے اللہ تعالی کا فرمان قرآن قتل کی سزا تجویز نہیں کرتا۔۔۔ کیا اس عورت نے تلوار اٹھائی تھی؟؟ نہیں ؟ کیا یہ عورت حالت جنگ میں تھی ؟؟؟نہیں ۔ پھر رسول اکرم پر اس میں سے کسی بھی قتل کا الزام ایک اتہام تراشی ہے۔ کیا اسلام کے مذہب کا تعین ، اللہ تعالی کے فرمان قرآن حکیم کے احکام کریں گے یا پھر انسانوں کی لکھی ہوئی تواریخ؟ یاد رکھئے ، نبی اکرم کو نبی بنانے کا واحد مقصد، اللہ تعالی کے فرمان قرآن کو انسانیت تک پہنچانا تھا۔ یہ کتاب کسی گستاخرسول کو اس دنیا میں قتل کرنے کا حکم نہیں دیتی۔ اسلامی معاشرے میں ایسا کرنے والے کی مکمل جائداد کی ضبطی ، ایسے اقدامات کی بہتر حوصلہ شکنی کرتی ہے نا کہ ناحق قتل؟ والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
|
|
#42 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 594
کمائي: 8,412
شکریہ: 2,421
379 مراسلہ میں 903 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے غلام خان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#43 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 594
کمائي: 8,412
شکریہ: 2,421
379 مراسلہ میں 903 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
وسلام علی من اتبع الھدی۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
|
|
|
#44 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اقتباس:
کیا یہ کُھلا تضاد نہیں!
|
|
|
|
|
|
|
#45 | |||||
|
Senior Member
![]() |
السلام وعلیکم اقتباس:
اعتدال - - - - ! 'اس مسئلے کا حل ہے اعتدال ۔۔ آپ نے خود ہی فرض کر لیا کہ اپنے ماں باپ کو گالی دینے والوں کو معاف نہیں کریں گے ۔ ہم یقیناً معاف کریں گے مگر اس وقت جب وہ معافی مانگے گا ۔ خواہ ڈرامہ کر کے معافی مانگے یا دل سے ۔ اور اگر وہ معافی نہ بھی مانگے تب اس کو قتل بھی نہیں کر سکتے ۔ کیوں کہ ایسا کہیں حکم نہیں ہے ۔۔ اقتباس:
بس اس سوال کا مطلب سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ آپ کے پاس میرے سوال کا جواب نہيں ہے ۔ اس لیے یہ غیر متعلقہ سوال کیا ۔ اقتباس:
وہی دین اسلام جو تلواروں سے نہيں حسن عمل سے پھیلا ہے میں مزید معلومات کروں گا اس شیخ الاسلام کے متعلق ۔ اقتباس:
تو پھر بڑی نا انصافی ہے ۔۔ کہ ظلم کیا امریکی حکومت نے اور بدلہ لے رہے ہيں ایک عیسائی عورت سے ۔۔ اقتباس:
رائے عامہ ہے آپکی کمیونٹی ہے ۔ اپنی بات میں وزن لائیں اور اپنے ایسے لوگوں کو حکمران بنائیں جو آپکی بات اتنی عالمی سطح تک پہنچا سکیں کہ اس کا اثر ہو سکے ۔۔ امریکہ میں یہ سب کچھ آخر سعودی اور جاپانی لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں ہوتا ۔۔ آخر میں آپ تمام حب نبوی کے نام پر نام نہاد جوش اور دیوانگی سے کام لینے والوں سے کہنا چاہوں گا ۔ جو کہ میں نے سیکھنے کے بعد اپنی زندگی میں اپلائی کیا اور فائدے میں رہا ہوں ۔ اگر کتا ہمیں دانت کاٹے تو اس کا یہ مطلب نہيں کہ ہم بھی کتے کو دانت کانٹیں ۔۔ والسلام
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔ |
|||||
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پسند, واقعات, قدم, قرآنی, قصہ, لوگ, نفرت, نماز, مکہ, ماں, مجید, معلوم, آج, آدمی, اللہ, اسلام, اشعار, بھائی, تلاش, حسن, غزوہ بدر, صحابہ, صحابی, صدقہ, صدمہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| موہنِ رسول کی سزائے قتل پر ائمہ اربعہ اور علماء امت کا اجماع ! | sahj | عقیدہ رسالت | 0 | 09-01-11 05:17 PM |
| گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا موت ہے! علمائے کرام کا متفقہ فیصلہ | ALI-OAD | اسلام اور عصر حاضر | 6 | 03-01-11 09:22 PM |
| گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ کا کلام | آبی ٹوکول | اپکے کالم | 0 | 15-12-10 06:36 AM |
| حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام | چیتا چالباز | اخلاق و آداب | 6 | 19-10-10 05:41 PM |