| 14 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | arslansun (22-02-09), dxbgraphics (02-11-11), rana ammar mazhar (16-01-12), فاروق درویش (07-03-12), نبیل خان (01-11-11), میاں شاہد (29-10-08), ملک اظہر (14-11-11), مرزا عامر (15-11-11), ابن جلال (31-10-08), احمد بلال (21-09-09), تفسیر حیدر (30-10-08), سیپ (31-10-08), عادل سہیل (31-10-08), غازی اسلام (24-03-09) |
|
|
#31 | |||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
بھائی عارف ، آپ کے پہلے سوال کے جواب میں بھائی شاہد نے جو کہا وہ درست ہے ، مہدی رحمۃ اللہ علیہ کے ظاہر ہونے کا عقیدہ اہل سنت و الجماعت اور شیعہ دونوں میں پایا جاتا ہے ، جی ہاں فرق مہدی علیہ رحمۃ اللہ کی صفات اور ان کے ظہور کے بعد پیش آنے والے واقعات میں ہے ، جس پر صدیوں سے علما امت سیر حاصل بحث کر چکے ہیں ، اور علمی قوانین و قواعد کی روشنی میں درست و نا درست واضح ہو چکا ہے ، بھائی محمد سہیل خان صاحب نے بہت بڑی بات کی ہے کہ ’’’ مسلم کی حدیث میں جو مہدی کا ذکر ہے اس سے مراد عیسیٰ علیہ السلام ہیں ‘‘‘ اور اس بات کی دلیل کے طور پر ان کا یہ کہنا کہ ’’’ امام مہدی کے متعلق بیان کی جانے والی تمام روایات ضعیف،موضوع ہیں ‘‘‘ بھی اسی طرح ہے جس طرح پہلی بات ہے ، اگر غور کیا جائے تو اُن کی دوسری بات پہلی بات کے موافق نہیں ، کیونکہ پہلی روایت صحیح مسلم کی ہے جس کی صحت میں کوئی شک نہیں اور دوسری بات میں بھائی محمد سہیل کسی استثنا کے بغیر تمام روایات کو کمزور اور من گھڑت قرار دے رہے ہیں ، لا محالہ صحیح مسلم کی یہ روایت بھی ان کے اس حکم کی زد میں آتی ہے کیونکہ انہوں نے ’’’ تمام ‘‘‘ روایات پر حکم لگا دیا ہے ، الحمد للہ ، بھائی عبداللہ حیدر نے بہت سے احادیث پیش کی ہیں ، اور اگر مزید کی ضرورت ہو ان شا اللہ میں یہاں علما حدیث کی مقرر کردہ کسوٹیوں کے مطابق صدیوں سے پرکھ کر قبول کی ہوئی ایسی احادیث کی قطار قائم کر سکتا ہوں جن میں بڑی وضاحت سے یہ بیان ہے کہ ’’’ مہدی رحمۃ اللہ علیہ ‘‘‘ ’’’عیسی علیہ السلام ‘‘‘ نہیں ہیں ، ایک الگ شخصیت ہیں اور ان کا نام و نسب ، اور اور اور ، بہت کچھ بیان ہوا ہے ، لیکن اس سے پہلے یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بھائی محمد سہیل خان صاحب اپنی وہ تحقیق سامنے لائیں جس کی بنیاد ہر انہوں نے اس موضوع پر وارد تمام کی تمام احادیث کو ضعیف اور موضوع قرار دیا ہے ، تا کہ ہم سب کے عقائد کی تصحیح ہو سکے ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب Last edited by عادل سہیل; 31-10-08 at 11:35 PM. وجہ: کتابت کی تصحیح |
|||
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | arif (01-11-08), dxbgraphics (02-11-11), میاں شاہد (01-11-08), ابن جلال (31-10-08), احمد نذیر (01-11-11) |
|
|
#32 | |||||
|
Senior Member
![]() ![]() |
السلامُ علیکم
اقتباس:
اقتباس:
اس سلسلے میں عرض یہ کرنا چاہتا ہوں کہ اس حوالے سے پائی جانے والی تمام تر روایات کے مطالعے سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ جس نماز فجر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا اس کی امامت تو حضرت مہدی رضی اللہ عنہ ہی کریں گے مگر اس کے بعد مسلمانوں کی امامت کے فرائض حضرت عیسیٰ علیہ السلام سرانجام دیں گے اور جن روایات میں حضرت عیسیٰ کے امام ہونے کے الفاظ مذکور ہیں اُن میں کہیں بھی یہ صراحت نہیں ہے کہ وہ "اُس نمازِ فجر" میں بھی امام ہوں گے جس سے قبل ان کا نزول ہوگا وہاں مطلق امام کا ذکر ہے اور اس نماز کے بعد وہی مسلمانوں کی امامت کے فرائض سر انجام دیں گے جبکہ دوسری روایات میں حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کا فقط فجر کی نماز میں امامت کا ذکر ہے جبکہ حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کے اصرار کے باوجود حضرت عیسیٰ علیہ السلام اُس نمازِ فجر کی امامت نہیں فرمائیں گے، چناچہ اس تفصیل سے بظاہر مختلف نظر آنے والی دونوں باتوں کا ایک ہی ہونا با آسانی معلوم ہوجاتا ہے اور یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مسلمانوں کی امامت کون کرے گا اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
__________________
![]() Last edited by میاں شاہد; 01-11-08 at 01:08 AM. |
|||||
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا | arif (01-11-08), نبیل خان (01-11-11), احمد نذیر (01-11-11), عادل سہیل (01-11-08), عبداللہ حیدر (01-11-08) |
|
|
#33 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 665
کمائي: 7,277
شکریہ: 0
371 مراسلہ میں 828 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| arifkarim کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (16-01-12) |
|
|
#34 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
جو شخص بھی ان احدیث کو پڑھے گا وہ خود دیکھ لے گا کہ ان میں کسی’’مسیح موعود ‘‘ یا ’’مثیلِ مسیح‘‘ یا ’’ بروزِ مسیح‘‘ کا سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔ نہ ان میں اس امر کی کوئی گنجائش ہے کہ کوئی شخص اِس زمانے میں کسی ماں کے پیٹ اور کسی باپ کے نُطفے سے پیدا ہوکر یہ دعویٰ کردے کہ میں ہی وہ مسیح ہوں جس کے آنے کی سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشن گوئی فرمائی تھی۔ یہ تمام حدیثیں صاف اور صریح الفاظ میں اُن عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کی خبر دے رہی ہیں جو اب سے دوہزار سال پہلے باپ کے بغیر حضرت مریم علیہا السلام کے بطن سے پیدا ہوئے تھے عیسیٰ علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے پہلے ہی نبی بنائے جا چکے تھے۔ جن احادیث میں اب کسی نبی کے نہ آنے کی خبر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اب کوئی نیا نبی نہیں بنایا جائے گا۔ اور جو کوئی ایسا دعوٰی کرے اس کے لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے خبر دے دی تھی کہ وہ دجال اور کذاب ہے۔ اور یہ بھی بتا دیا کہ اس امت میں ایسے تیس دجال کذاب ہوں گے جن میں سے ہر ایک دعوٰی نبوت کرے گا۔ آپ اس دھاگے کے پہلے دونوں مراسلوں کو غور سے پڑھیے اور درج ذیل دھاگے کا بھی مطالعہ کیجیے۔ امید ہے بہت سی الجھنیں اللہ تعالیٰ دور فرما دے گا۔ آیۃ ختم نبوت کا اصل مفہوم |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#35 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
سلام،
مجھے میاں صاحب کی تجویز پسند آئی کہ بہتر ہوگا اگر ہم مسلک کی بھی نشاندھی کردیں۔ دوسری بات یہ کہ بہتر ہوگا اگر ہم اس موضوع میں اختلافی گفتگو نہ کریں وگرنا یہی ہوگا کہ موضوع کا مزا خراب ہوجائے گا (یہ ایک مشورہ ہے) وسلام |
|
|
|
| عرفان حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (16-01-12) |
|
|
#36 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
سلام،
اہل تشیع: یہ بات بالکل واضع ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم آخری بنی ہیں آور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد اب نبی نہیں آئے گا۔ جہاں تک حضرت عیسی علیہ السلام کے آنے کا زکر ہے تو وہ ایک امتی کی حیثیت سے آئیں گے انکاعلیہ السلام کا اپنا نبی ہونے کا عہدہ برقرارہے گا لیکن ساتھ ہی ساتھ انکو علیہ السلام کو آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی امتی کی حیثت بھی مل جائے گا۔ وسلام |
|
|
|
| عرفان حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (16-01-12) |
|
|
#37 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 619
کمائي: 5,541
شکریہ: 1,072
222 مراسلہ میں 354 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
او بھائی اللہ کے بندوں حضرت مھدی صحابی نہیںہونگے۔ اللہ کے نبی صلی وصلم کی نسل میںسے ہونگے اہل بیت میںسے حضرت فاطمہ رض کی اولاد میںسے۔
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے arslansun کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#38 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: Khatm-e-nubuwwat
مراسلات: 166
کمائي: 6,869
شکریہ: 65
123 مراسلہ میں 416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ بھائی بہت اچھے کوشش ہے
|
|
|
|
| غازی اسلام کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (16-01-12) |
|
|
#39 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
کمائي: 32,134
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مرزاٰی مرزا ھی کو مسیح موعود اور امام مھدی کھتے ھیں مسیح مو عود کا معنی ھے
وہ مسیح جنکے آنے کا وعدہ ھے حا لانکہ مرزا نےخود مسیح موعود کے دور کی نشا نیاں بیان کی ھیں اب اگر مرزا ھی مسیح ھے تو اسکی بیان شدہ کو ی نشا نی بھی اس مین نھیں پای جا تی مرزا اپنی کتاب تحفہ گو لڑویہ میں مسیح کی نشا نیا ن لکتا ھے اشعار کی صورت مین کیوں بھو لتے ھوتم یضع الحرب کی خبر کیا یہ نھیں بخاری میں دیکھو تم کھو لکر فرما چکا ھے سید الکو نین مصطفے عیسے مسیح جنگوں کاکر دے گا التوا جب آے گا تو صلح کو ساتھ لاے گا جنگوں کے سلسلہ کو وہ یکسر مٹاے گا پو یں گے ایک گھاٹ پر شیر اور گو سپند کھلیں گے بچے سانپوں سے بے خوف وگزند یعنی وہ وقت امن کا ھوگا نہ جنگ کا بھو لیں گے لوگ مشغلہ تیر وتفنگ کا اب ان مین سے کو ی نشانی نھی پای جاتی مرزا کی وفات ھوی 1908 مین 1914 مین پہلی جنگ عظیم ھوی اور 1939 مین دوسری جنگ عظیم پھر پاکستان ھندو ستان کی دوجنگین اب بھی جنگیں جاری ھیں دور امن کا ھو گا اب تو ابتری کا دور ھے ۔۔2،،شیر بیھڑ بکری ایک جگہ سے پینںگے یھاں تو انسان اکھٹے ھونے کو تیار نیھن 3۔۔۔۔۔بچے سانپوں سئ کھلیں گے بے خوف مرزای بچون کو سانپ پکڑا کر دیکھ لیتے ھیں معلوم ھوا جنکے آنے کی بات ھے وہ نھیں آے مرزا جی |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حسن قادری کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (16-01-12), نبیل خان (01-11-11) |
|
|
#40 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
امام مہدی اور نزول عیسٰی علیہ السلام کے متعلق بیان کی جانے والی تمام روایات ضعیف، موضوع ہیں ۔ اسلام میں امامت مہدی نہیں ہے !!! کسی ایک حدیث سے بھی امام مہدی اور نزول عیسٰی علیہ السلام کا آپس میں تعلق ثابت نہیں کیا جاسکتا !!! 55 - فتنوں کا بیان : (182) قسطنطنیہ کی فتح اور خروج دجال اور سیدنا عیسیٰ ابن مریم کے نزول کے بیان میں ؟؟؟ حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی يَنْزِلَ الرُّومُ بِالْأَعْمَاقِ أَوْ بِدَابِقٍ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ مِنْ الْمَدِينَةِ مِنْ خِيَارِ أَهْلِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ فَإِذَا تَصَافُّوا قَالَتْ الرُّومُ خَلُّوا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الَّذِينَ سَبَوْا مِنَّا نُقَاتِلْهُمْ فَيَقُولُ الْمُسْلِمُونَ لَا وَاللَّهِ لَا نُخَلِّي بَيْنَکُمْ وَبَيْنَ إِخْوَانِنَا فَيُقَاتِلُونَهُمْ فَيَنْهَزِمُ ثُلُثٌ لَا يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَبَدًا وَيُقْتَلُ ثُلُثُهُمْ أَفْضَلُ الشُّهَدَائِ عِنْدَ اللَّهِ وَيَفْتَتِحُ الثُّلُثُ لَا يُفْتَنُونَ أَبَدًا فَيَفْتَتِحُونَ قُسْطَنْطِينِيَّةَ فَبَيْنَمَا هُمْ يَقْتَسِمُونَ الْغَنَائِمَ قَدْ عَلَّقُوا سُيُوفَهُمْ بِالزَّيْتُونِ إِذْ صَاحَ فِيهِمْ الشَّيْطَانُ إِنَّ الْمَسِيحَ قَدْ خَلَفَکُمْ فِي أَهْلِيکُمْ فَيَخْرُجُونَ وَذَلِکَ بَاطِلٌ فَإِذَا جَائُوا الشَّأْمَ خَرَجَ فَبَيْنَمَا هُمْ يُعِدُّونَ لِلْقِتَالِ يُسَوُّونَ الصُّفُوفَ إِذْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَيَنْزِلُ عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّهُمْ فَإِذَا رَآهُ عَدُوُّ اللَّهِ ذَابَ کَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَائِ فَلَوْ تَرَکَهُ لَانْذَابَ حَتَّی يَهْلِکَ وَلَکِنْ يَقْتُلُهُ اللَّهُ بِيَدِهِ فَيُرِيهِمْ دَمَهُ فِي حَرْبَتِهِ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2778 حدیث مرفوع مکررات 2 متفق علیہ 1 بدون مکرر زہیر بن حرب، معلی بن منصور سلیمان بن بلال سہیل حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ رومی اعماق یا دابق میں اتریں ان کی طرف ان سے لڑنے کے لئے ایک لشکر مدینہ روانہ ہوگا اور وہ ان دنوں زمین والوں میں سے نیک لوگ ہوں گے جب وہ صف بندی کریں گے تو رومی کہیں گے کہ تم ہمارے اور ان کے درمیان دخل اندازی نہ کرو جنہوں نے ہم میں سے کچھ لوگوں کو قیدی بنا لیا ہے ہم ان سے لڑیں گے مسلمان کہیں گے نہیں اللہ کی قسم ہم اپنے بھائیوں کو تنہا نہ چھوڑیں گے کہ تم ان سے لڑتے رہو بالآخر وہ ان سے لڑائی کریں گے بالآخر ایک تہائی مسلمان بھاگ جائیں گے جن کی اللہ کبھی بھی توبہ قبول نہ کرے گا اور ایک تہائی قتل کئے جائیں گے جو اللہ کے نزدیک افضل الشہداء ہوں گے اور تہائی فتح حاصل کرلیں گے انہیں کبھی آزمائش میں نہ ڈالا جائے گا پس وہ قسطنطنیہ کو فتح کریں گے جس وقت وہ آپس میں مال غنمیت تقسیم کر رہے ہوں اور ان کی تلواریں زیتون کے درختوں کے ساتھ لٹکی ہوئی ہوں گی تو اچانک شیطان چیخ کر کہے گا تحقیق مسیح دجال تمہارے بال بچوں تک پہنچ چکا ہے وہ وہاں سے نکل کھڑے ہوں گے لیکں یہ خبر باطل ہوگی جب وہ شام پہنچیں گے تو اس وقت دجال نکلے گا اسی دوران کہ وہ جہاد کے لئے تیاری کر رہے ہوں گے اور صفوں کو سیدھا کررہے ہوں گے کہ نماز کے لئے اقامت کہی جائے گی اور عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے اور مسلمانوں کی نماز کی امامت کریں گے پس جب اللہ کا دشمن انہیں دیکھے گا تو وہ اس طرح پگھل جائے گا جس طرح پانی میں نمک پگھل جاتا ہے اگرچہ عیسیٰ اسے چھوڑ دیں گے تب بھی وہ پگھل جائے گا یہاں تک کہ ہلاک ہو جائے گا لیکن اللہ تعالیٰ اس کو اپنے ہاتھ سے قتل کرے گا پھر لوگوں کو اس کا خون اپنے نیزے پر دکھائے گا۔ Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: The Last Hour would not come until the Romans would land at al-A'maq or in Dabiq. An army consisting of the best (soldiers) of the people of the earth at that time will come from Medina (to counteract them). When they will arrange themselves in ranks, the Romans would say: Do not stand between us and those (Muslims) who took prisoners from amongst us. Let us fight with them; and the Muslims would say: Nay, by Allah, we would never get aside from you and from our brethren that you may fight them. They will then fight and a third (part) of the army would run away, whom Allah will never forgive. A third (part of the army) which would be constituted of excellent martyrs in Allah's eye, would be killed and the third who would never be put to trial would win and they would be conquerors of Constantinople. And as they would be busy in distributing the spoils of war (amongst themselves) after hanging their swords by the olive trees, the Satan would cry: The Dajjal has taken your place among your family. They would then come out, but it would be of no avail. And when they would come to Syria, he would come out while they would be still preparing themselves for battle drawing up the ranks. Certainly, the time of prayer shall come and then Jesus (peace be upon him) son of Mary would descend and would lead them in prayer. When the enemy of Allah would see him, it would (disappear) just as the salt dissolves itself in water and if he (Jesus) were not to confront them at all, even then it would dissolve completely, but Allah would kill them by his hand and he would show them their blood on his lance عادل سہیل صاحب صحیح مسلم کی روایت بیان کرنا پسند کریں گے جس میں امام مہدی کا بیان ہو !!! ایسی کوئی حدیث نہیں ہے !!! __________________ كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن" |
|
|
|
|
|
|
#41 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
لیکن نئی شریعت میں جزیہ کو موقوف کریں گے اور کس وجہ سے موقوف کریں گے اس کو ابن حجر سمجھاتے ہیں اور "ويضع الحرب" صاف کھا گئے !!! راویوں کی جہاد کے خلاف سازش "ويضع الحرب" جنگ ختم کریں گے !!! کیوں ؟؟؟ بخاری کے ۲۱ نسخے مشہور ہیں صرف ایک الكشميهني کے نسخے میں "ويضع الجزية" ہے !!! جزیہ قبول نہیں کریں گے یا جنگ ختم کریں گے ؟؟؟ قوله : ( ويضع الحرب ) في رواية الكشميهني " الجزية " ایک اور غیر قرآنی عقیدہ راویوں کو یہ بھی یاد نہیں کہ "مثل و معہ قرآن وحی خفی غیر متلو" کے الفاظ کیا تھے ؟؟؟ __________________ كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن" Last edited by rana ammar mazhar; 31-10-11 at 10:26 PM. |
|
|
|
|
|
|
#42 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
![]() . .
|
|
|
|
|
| فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (31-10-11) |
|
|
#43 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
راویوں کی جہاد کے خلاف سازش "ويضع الحرب" صفحہ 369 of 449 پر صاف لکھا ہے چیک کر لیں !!! http://www.archive.org/download/Sahi..._Bukhari02.pdf جزیہ قبول نہیں کریں گے یا جنگ ختم کریں گے ؟؟؟ قوله : ( ويضع الحرب ) في رواية الكشميهني " الجزية " ایک اور غیر قرآنی عقیدہ راویوں کو یہ بھی یاد نہیں کہ "مثل و معہ قرآن وحی غیر متلو" کے الفاظ کیا تھے ؟؟؟ قوله : ( فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ) أي يبطل دين النصرانية بأن يكسر الصليب حقيقة ويبطل ما تزعمه النصارى من تعظيمه ، ويستفاد منه تحريم اقتناء الخنزير وتحريم أكله وأنه نجس ، لأن الشيء المنتفع به لا يشرع إتلافه ، وقد تقدم ذكر شيء من ذلك في أواخر البيوع . ووقع للطبراني في " الأوسط " من طريق أبي صالح عن أبي هريرة فيكسر الصليب ويقتل الخنزير والقرد زاد فيه القرد وإسناده لا بأس به ، وعلى هذا فلا يصح الاستدلال به على نجاسة عين الخنزير لأن القرد ليس بنجس العين اتفاقا ، ويستفاد منه أيضا تغيير المنكرات وكسر آلة الباطل . ووقع في رواية عطاء بن ميناء عن أبي هريرة عند مسلم ولتذهبن الشحناء والتباغض والتحاسد . قوله : ( ويضع الحرب ) في رواية الكشميهني " الجزية " ، والمعنى أن الدين يصير واحدا فلا يبقى أحد من أهل الذمة يؤدي الجزية ، وقيل معناه أن المال يكثر حتى لا يبقى من يمكن صرف مال الجزية له فتترك الجزية استغناء عنها . وقال عياض : يحتمل أن يكون المراد بوضع الجزية تقريرها على الكفار من غير محاباة ، ويكون كثرة المال بسبب ذلك . وتعقبه النووي وقال : الصواب أن عيسى لا يقبل إلا الإسلام . قلت : ويؤيده أن عند أحمد من وجه آخر عن أبي هريرة وتكون الدعوى واحدة قال النووي : ومعنى وضع عيسى الجزية مع أنها مشروعة في هذه الشريعة أن مشروعيتها مقيدة بنزول عيسى لما دل عليه هذا الخبر ، وليس عيسى بناسخ لحكم الجزية بل نبينا صلى الله عليه وسلم هو المبين للنسخ بقوله هذا ، قال ابن بطال : وإنما قبلناها قبل نزول عيسى للحاجة إلى المال بخلاف زمن عيسى فإنه لا يحتاج فيه إلى المال فإن المال في زمنه يكثر حتى لا يقبله أحد ، ويحتمل أن يقال إن مشروعية قبولها من اليهود والنصارى لما في أيديهم من شبهة الكتاب وتعلقهم بشرع قديم بزعمهم ، فإذا نزل عيسى عليه السلام زالت الشبهة بحصول معاينته فيصيرون كعبدة الأوثان في انقطاع حجتهم وانكشاف أمرهم ، فناسب أن يعاملوا معاملتهم في عدم قبول الجزية منهم . هكذا ذكره بعض مشايخنا احتمالا والله أعلم . http://islamweb.net/newlibrary/displ..._no=52&ID=2077 قوله : ( ويضع الحرب ) في رواية الكشميهني " الجزية " اوپر کے اقتباس میں کیوں جزیہ کو موقوف کریں گے اور کس وجہ سے موقوف کریں گے اس کو ابن حجر سمجھاتے ہیں اور "ويضع الحرب" صاف کھا گئے !!! کیوں ؟؟؟ بخاری کے ۲۱ نسخے مشہور ہیں صرف ایک الكشميهني کے نسخے میں "ويضع الجزية" ہے !!! باب نزول عيسى ابن مريم عليهما السلام 3264 حدثنا إسحاق أخبرنا يعقوب بن إبراهيم حدثنا أبي عن صالح عن ابن شهاب أن سعيد بن المسيب سمع أبا هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم والذي نفسي بيده ليوشكن أن ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله أحد حتى تكون السجدة الواحدة خيرا من الدنيا وما فيها ثم يقول أبو هريرة واقرءوا إن شئتم وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا http://www.islamweb.net/newlibrary/d...k_no=0&ID=2077 بيان حال عيسى -عليه السلام- عندما ينزل آخر الزمان [س 15]: نرجو من فضيلتكم- أجزل الله لكم الأجر- بيان حال عيسى -عليه السلام- عندما ينزل آخر الزمان ؟ الجواب: في الصحيحين عن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- والذي نفسي بيده ليوشكن أن ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا، فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الحرب، ويفيض المال حتى لا يقبله أحد، حتى تكون السجدة الواحدة خيرا له من الدنيا وما فيها . ثم يقول أبو هريرة: اقرؤوا إن شئتم: وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا أي: موت عيسى بيان حال عيسى -عليه السلام- عندما ينزل آخر الزمان __________________ كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن" |
|
|
|
|
|
|
#44 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
دوسری روایت میں حرت کے بجائے جزیہ کا لفظ ہے !!! اقتباس:
سب خلاف قرآن !!! __________________ كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن" |
||
|
|
|
|
|
#45 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم،
رانا صاحب، یہ تھریڈ قادیانیوں کے جواب میںلکھا گیا ہے جو اہل سنت کے ایک متفق علیہ عقیدے کی غلط تشریح کر کے گمراہی پھیلاتے ہیں۔ اگر آپ نزول عیسیٰ اور امام مہدی کی آمد پر بحث کرنا چاہتے ہیں تو یہ تھریڈ آپ کے لیے نہیںہے، اس موضوع پر پہلے سے جاری تھریڈز میں تشریف لے جائیے۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (01-11-11), احمد نذیر (01-11-11) |
![]() |
| Tags |
| کتابوں, پہچان, قصہ, لوگ, نماز, نظر, موت, معلوم, آج, آدمی, اللہ, انسان, امیر, اسلام, جواب, حدیث, خون, خلاف, خبر, ختم نبوت, دیکھو, عیسیٰ, عبادت, صحابی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سیاستدانوں' جرنیلوں اور افسر شاہی پر تنقید کرنے والے عوام خود کیا کررہے ہیں؟ | جاویداسد | خبریں | 1 | 15-12-10 08:56 PM |
| تبدیلی کتنی ضروری ہے؟ ضروری ہے بھی یا نہیں؟ تبدیلی کا راستہ سیاستدان خود ہموار کررہے ہیں | جاویداسد | خبریں | 2 | 21-09-10 09:08 PM |
| سعودی فتویٰ تعلیم اور روزگار کے مقامات پر مردوعورت کا اختلاط حرام | Real_Light | خبریں | 37 | 29-08-10 03:13 PM |
| کہاں کی سیر کریں؟ | gul2836 | پاکستان کی سیاحت | 3 | 01-08-10 07:49 PM |