واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > عقیدہ رسالت




مسیح موعود کون ہیں؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-11-07, 12:50 PM  
مسیح موعود کون ہیں؟
عبداللہ حیدر عبداللہ حیدر آف لائن ہے 10-11-07, 12:50 PM

پچھلی صدی عیسوی میں برصغیر میں مسلمانوں کو جن فتنوں کا سامنا کرنا پڑا ان میں جھوٹی نبوت کا فتنہ بہت بڑا تھا۔ نبوت کا دعوٰی کرنے والا صاحب نے اپنے آپ کو "مسیح موعود" قرار دیا یعنی وہ مسیح جن کی آمد کا مسلمان انتظار کر رہے ہیں۔ ذیل میں احادیث کی رورشنی میں اسی مسئلے پر بحث کی گئی ہے۔
’’مسیح مَو عُود‘‘ کی حقیقت‘‘

نئی نبوت کی طرف بلانے والے حضرات عام طور پر ناواقف مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ احادیث میں ’’مسیح موعود ‘‘ کے آنے کی خبر دی گئی ہے، اور مسیح نبی تھے ، اس لیے ان کے آنے سے ختم نبوت میں کوئی خرابی واقع نہیں ہوتی ، بلکہ ختمِ نبوت بھی برحق اور اس کے باوجود مسیح موعود کا آنا بھی برحق ۔
اسی سلسلے میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ’’ مسیح موعود‘‘ سے مراد عیسیٰ ابن مریم نہیں ہیں۔ ان کا تو انتقال ہوچکا ۔ اب جس کے آنے کی خبرنبوت کے خلاف نہیں ہے۔
اس فریب کا پردہ چاک کرنے کے لیے ہم یہاں پورے حوالوں کے ساتھ وہ مستند روایات نقل کیے دیتے ہیں جو اس مسئلے کے متعلق حدیث کی معتبر ترین کتابوں میں پائی جاتی ہیں۔ اِ ن احدیث کو دیکھ کر ہر شخص خود معلوم کرسکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا اور آج اس کو کیا بنایا جارہا ہے۔
احادیث درباب نزولِ عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السّلام
(۱)عن ابی ھریر ۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والذی نفوی بیدہ لَیَوْ شِکَنَّ ان ینزل فِیکم ابن مریم حکمًا عد لًا فیکسر الصلیب و یقتل الخنزیر و یَضَعَ الحربَ و یُفیضَ المال حتیٰ لا یقبلِہ احد حتٰی تکون السجدہ الوا حدۃ خیرًا من الدّ نیا وما فیھا (بخاری کتاب احادیث الانبیاء، باب نزول عیسیٰ ابن مریم ۔مسلم ، باب بیان نزول عیسیٰ ۔ ترمذی ابواب الفتن، باب فی نزول عیسیٰ ۔ مسند احمد، کرویات ابو ہریرہؓ)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ضروراُتریں گے تمہارے درمیان ابن مریم حاکم عادل بن کر ، پھر وہ صلیب کو توڑ ڈالین گے، اور خنزیر کو ہلاک کردیں گے۔ ( صلیب کو توڑ ڈالنے اور خنزیر کو ہلاک کردینے کا مطلب یہ ہے کہ عیسائیت ایک الگ دین کی حیثیت سے ختم ہوجائے گی۔ دینِ عیسوی کی پوری عمارت اس عقیدے پر قائم ہے کہ اللہ نے اپنے اکلوتے بیٹے (یعنی حضرت عیسیٰ) کو صلیب پر ’’ لعنت ‘‘ کی موت دی جس سے وہ انسان کے گناہ کا کفارہ بن گیا۔ اور انبیاء کی امتوں کے درمیان عیسائیوں کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے صرف عقیدے کو لے کر اللہ کی پوری شریعت ردکردی حتّٰی کہ خنزیر پر تک کو حلال کرلیا جو تمام انبیاء کی شریعتوں میں حرام رہا ہے۔ پس جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آکر خود اعلان کر دیں گے کہ نہ میں اللہ کا بیٹا ہوں ، نہ میں نے صلیب پر جان دی، نہ میں کسی گناہ کا کفارہ بنا تو عیسائی عقیدے کے لیے سرے سے کوئی بنیاد ہی باقی نہ رہے گی۔ اسی طرح جب وہ بتائیں گے کہ میں نے تو نہ اپنے پیرووں کے لیے سُور حلال کیا تھا اور نہ ان کو شریعت کی پابندی سے آزاد ٹھیرایا تھا، تو عیسائیت کی دوسری امتیازی خصوصیت کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔) اور جنگ کا خاتمہ کردیں گے (دوسری روایت میں حرت کے بجائے جزیہ کا لفظ ہے ، یعنی جزیہ ختم کردیں گے۔) (دوسرے الفاظ میںاس کا مطلب یہ ہے کہ اُس وقت ملّتوں کے اختلافات ختم ہو کر سب لوگ ایک مِلّت اسلام میں شامل ہوجائیں گے اور اس طرح نہ جنگ ہوگی اور نہ کسی پر جزیہ عائد کیا جائے گا۔ ا سی بات پر آگے احادیث نمبر ۵ و ۱۵ دلالت کررہی ہیں۔ )اور مال کی وہ کثرت ہوگی کہ اس ک قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا اور (حالت یہ ہو جائے گی کہ لوگوں کے نزدیک اللہ کے حضور) ایک سجدہ کرلینا دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا۔
(۲)۔ایک اور روایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ میں ہے کہ لا تقعم السّا عۃ حتّٰی ینزل عیسٰی ابن مریم......قیامت قائم نہ ہوگی جب تک نازل نہ ہولیں عیسٰی ابن مریم..........اور اس کے بعد ہی مضمون ہے جو اوپر کی حدیث میں بیان ہوا ہے (بخاری ، کتاب المظالم، باب کسرالصلیب۔ ابن ماجہ ، کتاب الفتن، باب فتنتہ الدجال)
(۳)۔ عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال کیف انتم اذانزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم۔ (بخاری، کتاب احادیث الانبیاء ، باب نزول عیسیٰ ۔ مسلم ، بیان نزول عیسیٰ ۔ مسند احمد ، مرویات ابی ہریرہؓ)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیسے ہوگے تم جبکہ تمہارے درمیان ابن مریم اتریں گے اور تمہارا امام اس وقت خود تم میں سے ہوگا۔‘‘ (یعنی نماز میں حضرت عیسیٰ حضرت عیسیٰ امامت نہیں کرائیں گے بلکہ مسلمانوں کا جو امام پہلے سے ہوگا اسی کے پیچھے وہ نماز پڑھیں گے۔)
(۴)۔ عن ابی حریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ینزل عیسیٰ ابن مریم فیقتل الخنزیر و یمحواالصلیب و تجمع لہ الصلوٰۃ و یعطی المال حتی لا یقبل و یضع الخراج و ینزل الرَّوحاء فیحجّ منھا، او یعتمو، او یجمعھما (مسند احمد ، بسلسلہ ، مرویات ابی ہریرہؓ مسلم ، کتاب الحج ۔ باب جواز التمتُّع فی الحج والقرآن)
حضر ت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گیپھر وہ خنزیر کو قوتل کریں گے اور صلیب کو مٹادیں گے اور ان کے لیے نماز جمع کی جائے گی اور وہ اتنا مال تقویم کریں گے کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہ ہوگا اور وہ خراج ساقط کردیں گے اور رَوحائ(مدینہ سے ۳۵ میل کے راصلے پر ایک مقام) کے مقام پر منزل کرکے وہاں سے حج یا عمرہ کریں گے ، یا دونوں کو جمع کریں گے( واضح رہے کہ اس زمانے میں جن صاحبکو مثیلِ مسیح قرار دیاگیا ہے انہوں نے اپنی زندگی میں نہ حج کیا اور نہ عمرہ) راوی کو شک ہے کہ حضوؐر نے ان میں سے کونسی بات فرمائی تھی۔ (۵)۔
عن ابی ھریرۃ (بعد ذکر خروج الدجال) فبینما ھم یعدّوس للقتال یسوّون الصّفوف اذا اقیمت الصلوٰۃ فینزل عیسیٰ ؑ ابن مریم فامّھم فاذار اٰہ عدواللہ یذوب کما یذوب الملح فی الماء فلو ترکہ الانذاب حتٰی یھلک ولٰکن یقتلہ اللہ بیدہ فیریھم دمہ فی حربتہٖ( مشکوٰۃکتاب الفتن، باب الملاحم، بحوالٔہ مسلم)۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے (دجّال کے خروج کا ذکرکرنے کے بعد حضوؐر نے فرمایا)اس اثنا میں کہ مسلمان اس سے لڑنے کی تیاری کررہے ہوں گے، صفیں باندھ رہے ہوں گے اور نماز کے لیے تکبیراقامت کہی جاچکی ہوگی کہ عیسیٰ ابنِ مریم نازل ہوجائیں گے۔ اور نماز مین مسلمانوں کی امامت کریں گے۔ اور اللہ کادشمن (یعنی دجّال) ان کو دیکھتے ہی اس طرح گھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گھلتا ہے۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام اس کو اُس کے حال پر چھوڑ دیں تو وہ آپ ہی گھل کر مر جائے۔ مگر اللہ اس کو اُن کے ہاتھ سے قتل کرائے گا اور وہ اپنے نیزے میںاُس کا خون مسلمانوں کو دکھائیں گے۔‘‘
(۶)۔ عن ابی ھریرۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لیس بینی وبینہٗ نبی (یعنی عیسیٰ) وانہ نازل فاذارأیتموہ ماعر فوہ رجل مربو الی الحمر ۃ والبیاص، بین ممصرتین کان رأسہ یقطروَان لم یصبہ بلل فیقاتل الناس علیالاسلام فیدق الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃویھلک اللہ فی زمانہ الملل کلھا الاا لاسلام ویھلک المسیح الدجال فیمکث فی الارض اربعین سنۃ تم یتوفی فی صلی علیہ المسلمون۔(ابوداؤد ، کتاب الملاحم، باب خروج الدّجال۔ مُسند احمد مرویات ابو ہریرہؓ)
ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے اور اُن (یعنی عیسیٰ علیہ السلام)کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔ اوریہ کہ وہ اُترنے والے ہیں، پسجب تم ان کو دیکھو تو پہچان لینا ، وہ ایک میانہ قد آدمی ہیں ، رنگ مائل بسُرخی و سپیدی ہے، دوزرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے۔ ان کے سر کے بال ایسے ہوں گے گویا اب ان سے پانی ٹپکنے والا ہے، حالانکہ وہ بھیگے ہوئے نہ ہوں گے۔ وہ اسلام پرلوگوں سے جنگ کریں گے، صلیب کو پاش پاش کردیں گے، خنزیر کو قتل کردیں گے ، جزیہ ختم دیں گے، اور اللہ ان کے زمانے میں اسلام کے سوا تمام مِلّتوں کو مٹادے گا، اور وہ مسیح دجال کو ہلاک کردیں گے، اور زمین میں وہ چالیس سال ٹھیریں گے۔ پھر ان کا انتقال ہوجائے گا اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔‘‘ (۷)۔
عن جابر بن عبداللہ قال سمعت روسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم.......فینزل عیسیٰ ابن مریم صلی اللہ علیہ وسلم فیقو ل امیر ھم تعل فصلِّ فیقول الا ان بعضکم علیٰ بعضامراء تکرمۃ اللہ ھٰذہ الامۃ۔ (مسلم، بیاننزول عیسیٰ ابن مریم۔ مُسند احمد بسلسلہ مرویات جابرؓ بن عبداللہ)
حضرت جابربن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سُنا کہ ....پھر عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے۔ مسلمانوں کا امیر اُن سے کہے گا کہ آئے، آپ نماز پڑھائیے، مگر وہ کہیں گے کہ نہیں ، تم لوگ خود ہی ایک دوسرے کے امیر ہو۔( یعنی تمہارا امیر خود تم ہی میں سے ہونا چاہیے۔) یہ وہ اُس عزّت کا لحاظ کرتے ہوئے کہیں گے جوجواللہ نے اس اُمّت کو دی ہے۔‘‘
(۸)۔ عن جابر بن عبداللہ (فی قصۃ ابن صیاد)فقال عمر بن الخطاب ائذن لی فاقتلہٗ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان یکن ھو فلست صاحبہ انما صاحبہ عیسیٰ ابن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام، و ان لا یکن فلیس لک ان تقتل رجلا من اھل العھد(مشکوٰۃ۔ کتاب الفتن، باب قصّۂ بن صیّاد ، بحوالہشرح السُّنہ بَغَوی)
جا بر بن عبداللہ (قصّۂ ابن صیّاد کے سلسلہ میں) روایت کرتے ہیں کہ پھر عمر بن خطاب نے عرض کیا، یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اسے قتل کردوں ۔ اس پرحضوؐر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ وہی شخص (یعنی دجال) ہے تو اس کے قتل کرنے والے تم نہیں ہو بلکہ اسے تو عیسیٰ بن مریم ہی قتل کریں گے۔ اور اگر یہ وہ شخص نہیں ہے تو تمہیں اہلِ عہد (یعنی ذمیوں) میں سے ایک آدمی کو قتل کردینے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘‘ (۹)۔ عن جابر عبداللہ (فی قصہ الدجال) فاذاھم بعیسیٰ ابن مریم علیہ السلام فتقام الصلوٰۃ فیقال لہ تقدم یا روح اللہ فیقول لیتقدم امامکم فلیصلِّ بکم فاذاصلی صلوٰۃ الصبح خرجو االیہ، قال جحین یری انکذاب کما ینماث الملح فی الماء فیمشی الیہ فیقتلہٗ حتی ان الشجر والحجر ینادی یا روح اللہ ھٰذا الیھودیُّ ، فلا یترک ممن کان یتبعہ احداالاقتلہٗ ۔ (مسنداحمد ، بسلسلۂ روایات جابر بن عبداللہ)
جابربن عبداللہ سے روایت ہے کہ (دجال کا قصہ بیان کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اس وقت یکایک عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام مسلمانوں کے درمیان آجائیںگے ۔ پھر نماز کھڑی ہوگی اور ان سے کہا جائے گا کہ اے روح اللہ آگے بڑھئے ، مگر وہ کہیںکہ نہیں ، تمہارے امام ہی کو آگے بڑھنا چاہیے، وہی نماز پڑھائے۔ پھرصبح کی نماز سے فارغ ہوکر مسلمان دجال کے مقابلے پر نکلیں گے۔ فرمایا، جب وہ کذّاب حضرت عیسیٰ کو دیکھے گا تو گھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گھلتا ہے۔ پھر وہ اس کی طرف بڑھیں گے اور اسے قتل کردیں گے اور حالت یہ ہوکی کہ درخت اور پتھر پکار اٹھیں گے کہ اے روح اللہ یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے ۔ دجال کے پیرووں میں سے کوئی نہ بچے گا وہ (یعنی عیسیٰؑ ) قتل نہ کردیں۔ (۱۰)٘۔
عن النواس بن سمعان ( فی قصۃ الدجّال) فبینما ھو کذٰلک اذ بعث اللہ المسیح بن مریم فینزل عندالمنارۃ البیضاء شرقی دمشق بین مھرو ذتین واضعًا کفیہ علیٰ اجنحہ ملکین اذاطاُ طأ راسہٗ قطرواذا رفعہ تحد رمنہ جمان کا للوٗلوٗ فلایحل لکافر یجد ریح نفسہ الامات و نفسہ ینتہی الیٰ حیث ینتہی طرفہ فیطلبہ حتیٰ
ید کہ ببابِلُدٍّ فیقتلہ۔(مسلم، ذکرالدجّال ۔ ا بو داوٗد، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال ۔ ترمذی، ابو اب الفتن ، باب فتنۃ الدّجال۔ ابن ماجہ ، کتاب الفتن، باب فتنۃالدّجال )
حضرت نَاّس بن سَمْعان کلانی (قسۂ دجال بیان کرتے ہوئے ) راویت کرتے ہیں: اس اثناء میں کہ دجال یہ کچھ کررہا ہوگا، اللہ تعالیٰ مسیحؑ ابن مریم کو بھیج دے گااور وہ دمشق کے مشرقی حصے میں ، سفیدمینار کے پاس، زرد رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے، دو فرشتوں کے بازؤوں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے۔جب وہ سر جھکائیں گے تو ایسا محسوس ہوگا کہ قطرے ٹپک رہے ہیں ، اور جب سر اٹھائیں گے توموتی کی طرح قطرے ڈھلکتے نظر آئیں گے۔ ان کے سانس کی ہو ا جس کافر تک پہنچے گے .......اور وہ ان کی حد نظر تک جائے گی ۔۔۔۔۔۔.......... وہ زندہ نہ بچے گا۔ پھر ابن مریم دجال کا پیچھا کریں گے اور لُدّ(واضھ رہیکہ لُدّ (Lyddu)فلسطین میں ریاست اسرائیل کے دارلسلطنت تل ابیب سے چند میل کے فاصلے پر واقع ہے اور یہودیوں نے وہان بہت بڑا ہوائی اڈہ بنا رکھا ہے۔) کے دروازے پر اسے جا پکڑیں گے اور قتل کردیں گے۔
(۱۱)۔ عن عبداللہ بن عمر وقال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یخرج الدجال فی امتی فیمکث اربعین (لا ادری اربعین یومًا اواربعین شھرًا او ربعین عامًا)فیبعث اللہ عیسیٰ بن مریم کانہ عُروۃ بن مسعود فیطلبہ ثم یمکث الناس سبع سنین لیس بین اثنین عداوۃ(مسلم، ذکر الدجال)
عبداللہ بن عاص کہتے ہیں کہ رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال میری امت میں نکلے گا اور چالیس( میں نہیں جانتا چالیس دن یا چالیس مہینے یاچالیس سال) (یہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کا اپنا قول ہے) رہے گا ۔ پھر اللہ عیسیٰ ابن مریم کو بھیجے گا۔ ان کا حلیہ عُروہ بن مسعود (ایک صحابی) سے مشابہ ہوگا۔ وہ اس کا پیچھا کریں گے اور اسے ہلاک کردیں گے، پھر سات سال تک لوگ اس حال میں رہیں گے کہ دو آدمیوں کے درمیان بھی عداوت نہ ہوگی۔
(۱۲)۔ عن حذیفۃ بن اسید الفاری قال اطلع النبی صلی اللہ علیہ وسلم علینا و نحن نتذاکر فقال ما تذکرون قالو انذ کر السّاعۃ قال انھالن تقوم حتیٰ ترون قبلھا عشراٰیات فذکر الدخان والدجال والدابۃ و طلوع الشمس من مغر بھا و نزول عیسیٰ ابن مریم ویاجوج و ماجوج و ثلثۃ خسوف، خسف بالمشرق و خسف بالمغرب، وخسف بجزیرۃ العرب ، و اٰ خر ذٰلک نار تخرج من الیمن تطرد الناس الیٰ محشر ھم(مسلم: کتاب الملاحم، باب امارات الساعہ)
حُذیفہ بن اسید الغفاری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مجلس میں تشریف لائے اور ہم آپس میں بات چیت کررہے تھے۔ آپ نے پوچھا کیا بات ہورہی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا ہم قیامت کا ذکر کررہے تھے۔ فرمایا وہ ہرگز قائم نہ ہوگی جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں ظاہر نہ ہوجائیں ۔ پھر آپ نے وہ دس نشانیاں یہ بتائیں : (۱) دُھواں،(۲)دجال،(۳) دابتہ الارض، (۴) سورج کا مغرب سے طلوع ہونا(۵) عیسیٰ ابنِ مریم کا نزول،(۶)یاجوج و ماجوج، (۷)تین بڑے خَسَف( زمین دھس جاناLandslide)، ایک مشرق میں، (۸)دوسرا مغرب میں، (۹) تیسرا جزیرۃ العرب میں، (۱۰) سب سے آخر میں ایک زردست آگ جو یمن سے اٹھے گی اور لوگوں کو ہانکتی ہوئی محشر کی طرف لے جائے گی۔ (۱۳)۔ عن ثوبان مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن النبی صلی اللہ وسلم عصابتان من امتی احرز ھما اللہ تعالیٰ من النار۔ عصابۃ تغزوالھند، وعصا بۃ تکون مع عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام (نسائی، کتاب الجہاد ۔ مسند احمد، بسلسلہ روایات ثُوبان)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان روایت کرتے ہیںکہ حضورؐ نے فرمایا’’ میری امت کے دو لشکر ایسے ہیں جن کو اللہ نے دوزخ کی آگ سے بچالیا۔ایک وہ لشکر جو ہندوستان پر حملہ کرے گا۔ دوسرا وہ جو عیسٰی ابن مریمؑ کے ساتھ ہوگا۔
(۱۴)۔ عن مُجمِّع بن جاریۃ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول یقتل ابنُ مریم الدّجال بباب لُدّ( مسنداحمد ۔ترمذی ، ابواب الفتن )
مُجَمّع بن جاریتہ انصاری کہتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ابن مریم دجال کو لُدّ کے دروازے پر قتل کریں گے۔
(۱۵)۔ عن ابی اُمامۃ الباھلی(فی حدیث طویل فی ذکر الد جال) فبینما اما مھم قد تقدم یصلّی بھم الصنح اذنز ل علیھم عیسیٰبن مریم فرجع ذٰلک الامام ینکص یمشی تھقریٰ لیتقدم عیسیٰ فیضع عیسیٰ یدہ بین کتفیہ تم یقول لہٗتقدم فصل فانھا لک اقیمت فیصلی بھم اما مھم فا ذا انصرف قال عیسیٰ علیہ السسلام افتحوا الباب فیفتح و وراء ہ الدجال ومعہ سبعون الفیھودی کلھم ذوسیف محلی وساج فاذانظر الیہ الدجال ذاب کما یذوب الملح فی الماء وینطلق ھا ربًا ویقول عیسیٰ ان لی جیک ضربۃلن تسبقنی بھا فیدرکہ عندباب الُّلدِّ الشرقی فیھزم اللہ الیھود..... وتملأالارض منالمسلم کما یملأالا ناء من الماء وتکون الکلمۃ واحدۃ فلا یعبد الا اللہ تعالیٰ (ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب فتنتہ الدجال)
ابو اُمامہ باہلی (ایک طویل حدیث میں دجال کا ذکر کرتے ہوئے ) روایت کرتے ہیں کہ عین اس وقت جب مسلمانوں کا امام صبح کی نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھ چکا ہوگا۔ عیسیٰ ابن مریم اُن پر اُتر آئیں گے۔امام پیچھے پلٹے گا تاکہ عیسیٰؑ آگے بڑھیں ، مگر عیسیٰ اس کے شانوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر کہیں گے کہ نہیں تم ہی نماز پڑھاؤکیونکہ یہ تمہارے لیے ہی کھڑی ہوئی ہے ۔ چنانچہ وہی نماز پڑھائے گا۔ سلام پھیرنے کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے کہ دروازہ کھولو ن، چنانچہ وہ کھولا جائے گا۔ باہر دجال ۷۰ ہزار مسلح یہودیوں کے ساتھ موجود ہوگا۔ جوں ہی کہ عیسیٰ علیہ السلام پر اس کی نظر پڑے گی وہ اس طرح گھُلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گُھلتا ہے اور سہ بھاگ نکلے گا۔ عیسیٰ کہیں گے میرے پاس تیرے لیے ایک ایسی ضرب ہے جس سے تو بچ کر نہ جا سکے گا پھر وہ اُسے لُدّ کے مشرقی دروازے پر لے جائیں گے اور اللہ یہودیوں کو ہرادے گا...... اور زمین مسلمانوں سے اس طرح بھر جائے گی جیسے برتن پانی سے بھر جائے۔ سب دنبا کا کلمہ ایک ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ ہوگی۔
(۱۶)۔ عن عثمان بن انی العاص قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول .. ... وینزل عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام عند صلوۃ الفجر فیقول لہ امیرھم یاروح اللہ تقدم ، صلِّ، فیقول ھٰذہ الامۃ بعضھم امراء علیٰ فیتادم امیر ھم فیصلی، فاذا قضیٰ صلوٰتہٗ اخذ عیسیٰ حربتہٗ فیذھب نحوالدجال فاذایراہ الدجال ذاب کما یذوب الرصاس فیضع حربتہ بین شندوبتہ فیقتلہٗ وینھزم اصحابہ لیس یومعِذ شیء یواری منھم احداحتیٰ ان الشجر لیقول یا مومن ھٰذا کافرو یقول الحجر یا مومن ھٰذا کافر(مُسند احمد۔ طُبرانی۔ حاکم)
عثمان بن انی العاص کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے ....اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام فجر کی نماز کے وقت اُتر آئیں گے۔
مسلمانوں کا امیر ان سے کہے گا اے رُوح اللہ آپ نماز پڑھایئے۔ وہ جواب دیں گے کہ اس امت کے لوگ خود ہی ایک دوسرے پر امیر ہیں ۔ تب مسلمانوں کا امیر آگے بڑھ کر نماز پڑھائے گا ۔ پھر نماز سے فا رغ ہوکر عیسیٰ اپنا حربہ لے کر دجال کی طرف چلیں گے ۔ وہ جب ان کو دیکھیگا تو اس طرح پگھلے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام اپنے حرنے سے اس کو ہلاک کردیں گے اور اس کے ساتھی شکست کھا کر بھاگیں گے مگر کہیں انہیں چھپنے کو جگہ نہ ملے گی، حتیٰ کہ درخت پکاریں گے اے مومن ، یہ کافریہان موجودہے اور پتھر پکاریں گے کہ اے مومن، یہ کافر یہاں موجود ہے۔
(۱۷)۔ عن سمرۃ بن جُنْدُب عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم(فی حدیث طویل) فیصبح فیھم عیسیٰ ابن مریم فیھزمہ اللہ وجنودہ حتیٰ ان اجذم الحائط واصل الشجر لینادی یا مومن ھٰذا کافر یستتربی فتعال اقتلہ۔
سَمُرہ جُندُب(ایک طویل حدیث میں)نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رواسیت کرتے ہیں ، پھر صُبح کے وقت مسلمانوں کے درمیان عیسیٰ ابن مریم آجائیں گے اور اللہ دجال اور اس کے لشکروں کوشکست دے گا یہاں تک کہ دیواریں اور درختوں کی جڑیں پکار اٹھیں گی کہ اے مومن ، یہ کافر میرے پیچھے چھپا ہوا ہے، آ اور اسے قتل کر۔
(۱۸) عن عمر ان بن حصین انّ رسول اللہ علیہ وسلم قال لا تزال طائفۃ من امتی علی الحق ظاھرین علیٰ من نوأ ھم حتیٰ یاتی امراللہ تبارک وتعالیٰ وینزل عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام۔ (مُسند احمد)
عمران بن حصین سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا: میری اُمت میں ہمیشہ ایک گروہ ایسا موجود رہے گا جو حق پر قائم اور مخالفین پر بھاری ہوگا یہاں تک کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فیصلہ آجائے اور عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام نازل ہوجائیں۔
(۱۹)عن عائشۃؓ(فی قصۃ الدّجال) فینزل عیسیٰ علیہ السلام فیقتلہ ثم یمکث عیسیٰ علیہ السلام فی الارض اربعین سنۃ امامًا عادلًا حَکَمًا مُقسطًا ۔(مسند احمد)
حضرت عائشہؓ (دجال کے قصّے میں) روایت کرتی ہیں: پھر عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال تک زمین میں ایک امامِ عادل اور حاکم منصف کی حیثیت سے رہیں گے۔‘‘
(۲۰)۔ عن سفینۃ مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (فی قصۃالدجّال ) فینزل عیسیٰ الیہ السالم فیقتلہ اللہ تعالیٰ عند عقیۃ اُفیق۔(مسند احمد)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سفینہ(دجال کے قصے میں)روایت کرتے ہیں: پھر عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور اللہ تعالیٰدجال کو اُفیق(اَفیق، جسے آج کل رفیق کہتے ہیں،شام اور اسرائیل کی سرحد پر موجودہ ریاست شام کا آخری شہر ہے۔ اس کے آگے مغرب کی جانب چند میل کے فاصلہ پر طَبَریہ ّ نامی جھیل ہے جس میں سے دریا ئے اُردُن نکلتا ہے، اور اس کے جنوب مغرب کی طرف پہاڑوں کے درمیان ایک نشیبی راستے کو عَقَبہْ اَفیق کی گھاٹی کہتے ہیں۔ ) کی گھاٹی کے قریب ہلاک کردے گا۔
(۲۱)٘ عن حذیفۃ(فی ذکرالدجال ) فلما قاموایصلّون نزل عیسیٰ بن مریم امامہم فصلّی بھم فلما انصرف قال ھٰکذا مْر کوابینی وبین عدداللہ...........ویسلط اللہ علیھم المسلمین فیقتلو نھم حتیٰ ان الشجر ولحجرلینادی یا عبداللہ یا عبدالرحمٰن یا مسلم ھٰذالیھودی فقتلھم فیفنیھم اللہ تعالیٰ ویظھر المسلمون فیکسرون الصلیب ویقتلون الخنزیر ویضعون الجزیۃ(مستدرک حاکم ۔ مسلم میں بھی یہ روایت اختصار کے ساتھ آئی ہے۔ اور حافظ ابن حجرنے فتح الباری جلد۶ ص، ۴۵ میںاسے صحیح قرار دیا ہے)
حضرت حُذَیفہ بن یَمان (دجال کا ذکر کرتے ہوئے) بیان کرتے ہیں:’’ پھر جب مسلمان نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوں گے تو اُن کی آنکھوںکے سامنے عیسیٰ ابن مریم اتر آئیں گے اور وہ مسلمانوں کو نماز پڑھائیں گے پھر سلام پھیرنے کے بعد لوگوں سے کہیں گے کہ میرے اور اللہ کے اس دشمن کے درمیان سے ہٹ جاؤ ........اور اللہ دجال کے ساتھیوں پر مسلمانوں کو مسلط کردے گا اور مسلمان انھیں خوب ماریں گے یہاں تک کہ درخت اور پتھر پکار اٹھیں گے اے عبداللہ ، اے عبدالرحمٰن ، اے مسلمان، یہ رہا ایک یہودی، مار اسے۔ اس طرح اللہ ان کو فنا کردے گا اور مسلمان غالب ہوں گے اور صلیب توڑدیں گے، خنزیر کو قتل کردیںگے اور جزیہ ساقط کردیںگے۔ یہ جملہ ۲۱ روایات ہیں جو ۱۴ صحابیوں سے صحیح سندوں کے ساتھ حدیث کی معتبر ترین کتابوں میں وارد ہوئی ہیں۔ اگر چہ ان کے علاوہ دوسری بہت سی احادیث میں بھی یہ ذکر آیا ہے، لیکن طولِ کلام سے بچنے کے لیے ہم نے ان سب کو نقل نہیں کیا ہے بلکہ صرف وہ روایتیں لے لی ہیں جو سند کے لحاظ سے قوی تر ہیں۔

 
عبداللہ حیدر's Avatar
عبداللہ حیدر
ذیلی ناظم

تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 4386
Reply With Quote
14 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
arslansun (22-02-09), dxbgraphics (02-11-11), rana ammar mazhar (16-01-12), فاروق درویش (07-03-12), نبیل خان (01-11-11), میاں شاہد (29-10-08), ملک اظہر (14-11-11), مرزا عامر (15-11-11), ابن جلال (31-10-08), احمد بلال (21-09-09), تفسیر حیدر (30-10-08), سیپ (31-10-08), عادل سہیل (31-10-08), غازی اسلام (24-03-09)
پرانا 31-10-08, 11:33 PM   #31
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb جواب: مسیح موعود کون ہیں؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : arif مراسلہ دیکھیں
کافی اچھی بات ہو رہی ہے اس بارے میں کسی کا کوئی اورنظریہ ہو تو وہ بھی بیان کرے
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : میاں شاہد مراسلہ دیکھیں
اس بارے میں یہی دو نظریات ہیں اس کے علاوہ کوئی مذید عقیدہ یا نظریہ نہیں ہے
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : arif مراسلہ دیکھیں
ایک یہ نظرہ بھی تو بیان ہوا ہے
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمد سہیل خان مراسلہ دیکھیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مسیح موعود عیسیٰ علیہ السلام ہیں، وہ امتی کی حیثیت سے آئیں گے۔ وہ بنی اسرائیل کے لے نبی بنائے گئے تھے، انکا رفع ہوا ،اب جب دوبارہ نزول ہوگا تو نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت ہوگی وہ اس کی تحت ایک امیر ہوں گے۔ انہی کی امارت میں یہودیوں سے جنگ ہوگی اور مسلمین کو فتح حاصل ہوگی۔ صحیح احادیث میں کسی نئے امام مہدی کا کوئی تصور نہیں مسلم کی حدیث میں جو مہدی کا ذکر ہے اس سے مراد عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔امام مہدی کے متعلق بیان کی جانے والی تمام روایات ضعیف،موضوع ہیں۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھائی عارف ، آپ کے پہلے سوال کے جواب میں بھائی شاہد نے جو کہا وہ درست ہے ، مہدی رحمۃ اللہ علیہ کے ظاہر ہونے کا عقیدہ اہل سنت و الجماعت اور شیعہ دونوں میں پایا جاتا ہے ، جی ہاں فرق مہدی علیہ رحمۃ اللہ کی صفات اور ان کے ظہور کے بعد پیش آنے والے واقعات میں ہے ، جس پر صدیوں سے علما امت سیر حاصل بحث کر چکے ہیں ، اور علمی قوانین و قواعد کی روشنی میں درست و نا درست واضح ہو چکا ہے ،
بھائی محمد سہیل خان صاحب نے بہت بڑی بات کی ہے کہ ’’’ مسلم کی حدیث میں جو مہدی کا ذکر ہے اس سے مراد عیسیٰ علیہ السلام ہیں ‘‘‘ اور اس بات کی دلیل کے طور پر ان کا یہ کہنا کہ ’’’ امام مہدی کے متعلق بیان کی جانے والی تمام روایات ضعیف،موضوع ہیں ‘‘‘ بھی اسی طرح ہے جس طرح پہلی بات ہے ،
اگر غور کیا جائے تو اُن کی دوسری بات پہلی بات کے موافق نہیں ، کیونکہ پہلی روایت صحیح مسلم کی ہے جس کی صحت میں کوئی شک نہیں اور دوسری بات میں بھائی محمد سہیل کسی استثنا کے بغیر تمام روایات کو کمزور اور من گھڑت قرار دے رہے ہیں ، لا محالہ صحیح مسلم کی یہ روایت بھی ان کے اس حکم کی زد میں آتی ہے کیونکہ انہوں نے ’’’ تمام ‘‘‘ روایات پر حکم لگا دیا ہے ،
الحمد للہ ، بھائی عبداللہ حیدر نے بہت سے احادیث پیش کی ہیں ، اور اگر مزید کی ضرورت ہو ان شا اللہ میں یہاں علما حدیث کی مقرر کردہ کسوٹیوں کے مطابق صدیوں سے پرکھ کر قبول کی ہوئی ایسی احادیث کی قطار قائم کر سکتا ہوں جن میں بڑی وضاحت سے یہ بیان ہے کہ ’’’ مہدی رحمۃ اللہ علیہ ‘‘‘ ’’’عیسی علیہ السلام ‘‘‘ نہیں ہیں ، ایک الگ شخصیت ہیں اور ان کا نام و نسب ، اور اور اور ، بہت کچھ بیان ہوا ہے ،
لیکن اس سے پہلے یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بھائی محمد سہیل خان صاحب اپنی وہ تحقیق سامنے لائیں جس کی بنیاد ہر انہوں نے اس موضوع پر وارد تمام کی تمام احادیث کو ضعیف اور موضوع قرار دیا ہے ، تا کہ ہم سب کے عقائد کی تصحیح ہو سکے ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب

Last edited by عادل سہیل; 31-10-08 at 11:35 PM. وجہ: کتابت کی تصحیح
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
arif (01-11-08), dxbgraphics (02-11-11), میاں شاہد (01-11-08), ابن جلال (31-10-08), احمد نذیر (01-11-11)
پرانا 01-11-08, 01:00 AM   #32
Senior Member
 
میاں شاہد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: www.alkamunia.com
مراسلات: 10,442
کمائي: 38,201
شکریہ: 8,508
4,556 مراسلہ میں 9,750 بارشکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں میاں شاہد کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: جواب: مسیح موعود کون ہیں؟

السلامُ علیکم
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
۔
مسلمانوں کا امیر اُن سے کہے گا کہ آئے، آپ نماز پڑھائیے، مگر وہ کہیں گے کہ نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر جب مسلمان نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوں گے تو اُن کی آنکھوںکے سامنے عیسیٰ ابن مریم اتر آئیں گے اور وہ مسلمانوں کو نماز پڑھائیں گے پھر سلام پھیرنے کے بعد لوگوں سے کہیں گے کہ میرے اور اللہ کے اس دشمن کے درمیان سے ہٹ جاؤ
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : arif مراسلہ دیکھیں
حضرت عیسیٰٰ علیہ السلام امامت خودکریں گے یا امام کوئی اور
ہونگے ؟
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : میاں شاہد مراسلہ دیکھیں
باب: قسطنطنیہ کی فتح کے متعلق ۔مسلم 2029: پس جس وقت مسلمان لڑائی کےلئے مستعد ہو کر صفیں باندھتے ہوں گے کہ نماز کا وقت ہو گا اسی وقت سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہما الصلوٰۃ والسلام اتریں گے اور امام بن کر نماز پڑھائیں گے۔ ۔
مذکورہ بالا اقتباسات سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس بات میں اختلاف ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا تو جو نماز پڑھائی جانے والی ہوگی اس کی امامت کون کرے گا ؟ اور اس کے بعد کی نمازوں کی امامت کون کرے گا؟
اس سلسلے میں عرض یہ کرنا چاہتا ہوں کہ اس حوالے سے پائی جانے والی تمام تر روایات کے مطالعے سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ جس نماز فجر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا اس کی امامت تو حضرت مہدی رضی اللہ عنہ ہی کریں گے مگر اس کے بعد مسلمانوں کی امامت کے فرائض حضرت عیسیٰ علیہ السلام سرانجام دیں گے اور جن روایات میں حضرت عیسیٰ کے امام ہونے کے الفاظ مذکور ہیں اُن میں کہیں بھی یہ صراحت نہیں ہے کہ وہ "اُس نمازِ فجر" میں بھی امام ہوں گے جس سے قبل ان کا نزول ہوگا وہاں مطلق امام کا ذکر ہے اور اس نماز کے بعد وہی مسلمانوں کی امامت کے فرائض سر انجام دیں گے جبکہ دوسری روایات میں حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کا فقط فجر کی نماز میں امامت کا ذکر ہے جبکہ حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کے اصرار کے باوجود حضرت عیسیٰ علیہ السلام اُس نمازِ فجر کی امامت نہیں فرمائیں گے، چناچہ اس تفصیل سے بظاہر مختلف نظر آنے والی دونوں باتوں کا ایک ہی ہونا با آسانی معلوم ہوجاتا ہے اور یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مسلمانوں کی امامت کون کرے گا
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
شاہد بھائی نے ان کے صحابی ہونے کا ذکر کیا ہے۔ اگر میں غلط نہیں سمجھا تو اس سے مراد عیسیٰ علیہ السلام کے صحابی ہیں۔ کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے دور سے بہت بعد میں آئیں گے۔
جی ! میں بھائی عبداللہ کی تائید کرتا ہوں کتب بینی سے یہ بات واضح ہوئی کہ حضرت مہدی رضی اللہ عنہ ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صحابی ہوں گے اس لئے اہلسنت کی بعض کتب میں انکے لئے "رضی اللہ عنہ" کے الفاظ وارد ہوتے ہیں اور یہاں میں اپنی اس بات میں خود ہی مناسب تبدیلی کرلوں کہ :
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : میاں شاہد مراسلہ دیکھیں
حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کے صحابی ہونے پر ایک سے زیادہ رائے ہوسکتی ہیں کیونکہ صحابی ہونے کی شرائط کے تحت وہ صحابی نہیں کہلاسکتے اور رہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صحابی ہونے کی بات تو واللہ اعلم اُس وقت حضرت عیسیٰ خود اُمتی ہوں گے اور صحابی کا تعلق کسی نہ کسی نبی سے ہوتا ہے
اور جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ :
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : میاں شاہد مراسلہ دیکھیں
تاہم اب ضروری محسوس ہوتا ہے کہ اس معاملے پر کچھ کُتب بینی کی جائے اور اس کا حاصل یہاں پیش کر دیا جائے تو انشا اللہ کوشش کروں گا کہ آج رات تک اس حوالے سے کچھ عرض کر سکوں
چناچہ اس حوالے سے بقدر ضرورت مطالعہ سے یہ بات سامنے آئی کہ اگر میں اپنی مندرجہ ذیل تحریر میں ایک معمولی سی تبدیلی کردوں تو معاملہ صاف ہوجائے گا، تحریری میں مجوزہ اضافہ نیلے رنگ میں دکھایا گیا ہے تاہم اصل تحریر میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں کی ہے
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : میاں شاہد مراسلہ دیکھیں
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی ہیں لیکن اس امت میں‌انکی
حیثیت اُمتی کی ہے اور حضرت مہدی رضی اللہ عنہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صحابی ہوں گے
__________________

Last edited by میاں شاہد; 01-11-08 at 01:08 AM.
میاں شاہد آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا
arif (01-11-08), نبیل خان (01-11-11), احمد نذیر (01-11-11), عادل سہیل (01-11-08), عبداللہ حیدر (01-11-08)
پرانا 01-11-08, 07:16 AM   #33
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 665
کمائي: 7,277
شکریہ: 0
371 مراسلہ میں 828 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: جواب: مسیح موعود کون ہیں؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
امتی سےمراد یہ ہے کہ وہ کوئی نئی شریعت لے کر نہیں‌آئیں گے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شریعت کے پیروی کریں گے۔
مرزا قادیانی نے بھی یہی کہا تھا کہ وہ کوئی نئی شریعت لیکر نہیں آیا ہے، بلکہ شریعت محمدی ہی میں‌ مسیح موعود ہے۔
arifkarim آف لائن ہے   Reply With Quote
arifkarim کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (16-01-12)
پرانا 01-11-08, 03:25 PM   #34
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,486
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: جواب: جواب: مسیح موعود کون ہیں؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : arifkarim مراسلہ دیکھیں
مرزا قادیانی نے بھی یہی کہا تھا کہ وہ کوئی نئی شریعت لیکر نہیں آیا ہے، بلکہ شریعت محمدی ہی میں‌ مسیح موعود ہے۔
بنیادی فرق یہ ہے کہ مسیح موعود عیسٰی علیہ السلام جو مریم علیہا السلام کے بیٹے ہیں، ان کی دوبارہ آمد کی خبر نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے نام لے کر دی ہے۔ آپ کی آسانی کے لیے چند فقرے دوبارہ نقل کر دیتا ہوں۔ لیکن بہتر ہوگا پہلے دونوں مراسلوں کو ایک نظر پھر سے دیکھ لیں۔
جو شخص بھی ان احدیث کو پڑھے گا وہ خود دیکھ لے گا کہ ان میں کسی’’مسیح موعود ‘‘ یا ’’مثیلِ مسیح‘‘ یا ’’ بروزِ مسیح‘‘ کا سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔ نہ ان میں اس امر کی کوئی گنجائش ہے کہ کوئی شخص اِس زمانے میں کسی ماں کے پیٹ اور کسی باپ کے نُطفے سے پیدا ہوکر یہ دعویٰ کردے کہ میں ہی وہ مسیح ہوں جس کے آنے کی سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشن گوئی فرمائی تھی۔ یہ تمام حدیثیں صاف اور صریح الفاظ میں اُن عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کی خبر دے رہی ہیں جو اب سے دوہزار سال پہلے باپ کے بغیر حضرت مریم علیہا السلام کے بطن سے پیدا ہوئے تھے
عیسیٰ علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے پہلے ہی نبی بنائے جا چکے تھے۔ جن احادیث میں اب کسی نبی کے نہ آنے کی خبر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اب کوئی نیا نبی نہیں بنایا جائے گا۔ اور جو کوئی ایسا دعوٰی کرے اس کے لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے خبر دے دی تھی کہ وہ دجال اور کذاب ہے۔ اور یہ بھی بتا دیا کہ اس امت میں ایسے تیس دجال کذاب ہوں گے جن میں سے ہر ایک دعوٰی نبوت کرے گا۔
آپ اس دھاگے کے پہلے دونوں مراسلوں کو غور سے پڑھیے اور درج ذیل دھاگے کا بھی مطالعہ کیجیے۔ امید ہے بہت سی الجھنیں اللہ تعالیٰ دور فرما دے گا۔
آیۃ ختم نبوت کا اصل مفہوم
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-01-12), نبیل خان (01-11-11), میاں شاہد (02-11-08)
پرانا 03-11-08, 01:55 PM   #35
Senior Member
 
عرفان حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
عمر: 30
مراسلات: 2,046
کمائي: 8,259
شکریہ: 889
722 مراسلہ میں 1,442 بارشکریہ ادا کیا گیا
عرفان حیدر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عرفان حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: مسیح موعود کون ہیں؟

سلام،

مجھے میاں صاحب کی تجویز پسند آئی کہ بہتر ہوگا اگر ہم مسلک کی بھی نشاندھی کردیں۔
دوسری بات یہ کہ بہتر ہوگا اگر ہم اس موضوع میں اختلافی گفتگو نہ کریں وگرنا یہی ہوگا کہ موضوع کا مزا خراب ہوجائے گا (یہ ایک مشورہ ہے)

وسلام
عرفان حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
عرفان حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (16-01-12)
پرانا 03-11-08, 01:59 PM   #36
Senior Member
 
عرفان حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
عمر: 30
مراسلات: 2,046
کمائي: 8,259
شکریہ: 889
722 مراسلہ میں 1,442 بارشکریہ ادا کیا گیا
عرفان حیدر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عرفان حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: مسیح موعود کون ہیں؟

سلام،

اہل تشیع:
یہ بات بالکل واضع ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم آخری بنی ہیں آور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد اب نبی نہیں آئے گا۔ جہاں تک حضرت عیسی علیہ السلام کے آنے کا زکر ہے تو وہ ایک امتی کی حیثیت سے آئیں گے انکاعلیہ السلام کا اپنا نبی ہونے کا عہدہ برقرارہے گا لیکن ساتھ ہی ساتھ انکو علیہ السلام کو آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی امتی کی حیثت بھی مل جائے گا۔

وسلام
عرفان حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
عرفان حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (16-01-12)
پرانا 22-02-09, 10:00 PM   #37
Senior Member
 
arslansun's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 619
کمائي: 5,541
شکریہ: 1,072
222 مراسلہ میں 354 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: مسیح موعود کون ہیں؟

او بھائی اللہ کے بندوں حضرت مھدی صحابی نہیں‌ہونگے۔ اللہ کے نبی صلی وصلم کی نسل میں‌سے ہونگے اہل بیت میں‌سے حضرت فاطمہ رض کی اولاد میں‌سے۔
arslansun آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے arslansun کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-01-12), نبیل خان (01-11-11), حیدر Rehan (24-10-09), حسن قادری (10-06-11)
پرانا 24-03-09, 07:47 PM   #38
Senior Member
مقبول
 
غازی اسلام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: Khatm-e-nubuwwat
مراسلات: 166
کمائي: 6,869
شکریہ: 65
123 مراسلہ میں 416 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ بھائی بہت اچھے کوشش ہے
غازی اسلام آف لائن ہے   Reply With Quote
غازی اسلام کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (16-01-12)
پرانا 10-06-11, 05:36 PM   #39
Senior Member
 
حسن قادری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
کمائي: 32,134
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مرزاٰی مرزا ھی کو مسیح موعود اور امام مھدی کھتے ھیں مسیح مو عود کا معنی ھے
وہ مسیح جنکے آنے کا وعدہ ھے حا لانکہ مرزا نےخود مسیح موعود
کے دور کی نشا نیاں بیان کی ھیں اب اگر مرزا ھی مسیح ھے تو اسکی بیان شدہ
کو ی نشا نی بھی اس مین نھیں پای جا تی
مرزا اپنی کتاب تحفہ گو لڑویہ میں مسیح کی نشا نیا ن لکتا ھے اشعار کی صورت مین

کیوں بھو لتے ھوتم یضع الحرب کی خبر
کیا یہ نھیں بخاری میں دیکھو تم کھو لکر
فرما چکا ھے سید الکو نین مصطفے
عیسے مسیح جنگوں کاکر دے گا التوا
جب آے گا تو صلح کو ساتھ لاے گا
جنگوں کے سلسلہ کو وہ یکسر مٹاے گا
پو یں گے ایک گھاٹ پر شیر اور گو سپند
کھلیں گے بچے سانپوں سے بے خوف وگزند
یعنی وہ وقت امن کا ھوگا نہ جنگ کا
بھو لیں گے لوگ مشغلہ تیر وتفنگ کا
اب ان مین سے کو ی نشانی نھی پای جاتی مرزا کی وفات ھوی 1908 مین 1914
مین پہلی جنگ عظیم ھوی اور 1939 مین دوسری جنگ عظیم پھر پاکستان ھندو ستان کی دوجنگین اب بھی جنگیں جاری ھیں دور امن کا ھو گا اب تو ابتری کا دور ھے
۔۔2،،شیر بیھڑ بکری ایک جگہ سے پینںگے یھاں تو انسان اکھٹے ھونے کو تیار نیھن
3۔۔۔۔۔بچے سانپوں سئ کھلیں گے بے خوف مرزای بچون کو سانپ پکڑا کر دیکھ لیتے ھیں
معلوم ھوا جنکے آنے کی بات ھے وہ نھیں آے مرزا جی
حسن قادری آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حسن قادری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-01-12), نبیل خان (01-11-11)
پرانا 31-10-11, 09:40 PM   #40
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default امام مہدی اور نزول عیسٰی علیہ السلام کے متعلق بیان کی جانے والی تمام روایات ضعیف، موضوع ہیں ۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھائی عارف ، آپ کے پہلے سوال کے جواب میں بھائی شاہد نے جو کہا وہ درست ہے ، مہدی رحمۃ اللہ علیہ کے ظاہر ہونے کا عقیدہ اہل سنت و الجماعت اور شیعہ دونوں میں پایا جاتا ہے ، جی ہاں فرق مہدی علیہ رحمۃ اللہ کی صفات اور ان کے ظہور کے بعد پیش آنے والے واقعات میں ہے ، جس پر صدیوں سے علما امت سیر حاصل بحث کر چکے ہیں ، اور علمی قوانین و قواعد کی روشنی میں درست و نا درست واضح ہو چکا ہے ،
بھائی محمد سہیل خان صاحب نے بہت بڑی بات کی ہے کہ ’’’ مسلم کی حدیث میں جو مہدی کا ذکر ہے اس سے مراد عیسیٰ علیہ السلام ہیں ‘‘‘ اور اس بات کی دلیل کے طور پر ان کا یہ کہنا کہ ’’’ امام مہدی کے متعلق بیان کی جانے والی تمام روایات ضعیف،موضوع ہیں ‘‘‘ بھی اسی طرح ہے جس طرح پہلی بات ہے ،
اگر غور کیا جائے تو اُن کی دوسری بات پہلی بات کے موافق نہیں ، کیونکہ پہلی روایت صحیح مسلم کی ہے جس کی صحت میں کوئی شک نہیں اور دوسری بات میں بھائی محمد سہیل کسی استثنا کے بغیر تمام روایات کو کمزور اور من گھڑت قرار دے رہے ہیں ، لا محالہ صحیح مسلم کی یہ روایت بھی ان کے اس حکم کی زد میں آتی ہے کیونکہ انہوں نے ’’’ تمام ‘‘‘ روایات پر حکم لگا دیا ہے ،
الحمد للہ ، بھائی عبداللہ حیدر نے بہت سے احادیث پیش کی ہیں ، اور اگر مزید کی ضرورت ہو ان شا اللہ میں یہاں علما حدیث کی مقرر کردہ کسوٹیوں کے مطابق صدیوں سے پرکھ کر قبول کی ہوئی ایسی احادیث کی قطار قائم کر سکتا ہوں جن میں بڑی وضاحت سے یہ بیان ہے کہ ’’’ مہدی رحمۃ اللہ علیہ ‘‘‘ ’’’عیسی علیہ السلام ‘‘‘ نہیں ہیں ، ایک الگ شخصیت ہیں اور ان کا نام و نسب ، اور اور اور ، بہت کچھ بیان ہوا ہے ،
لیکن اس سے پہلے یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بھائی محمد سہیل خان صاحب اپنی وہ تحقیق سامنے لائیں جس کی بنیاد ہر انہوں نے اس موضوع پر وارد تمام کی تمام احادیث کو ضعیف اور موضوع قرار دیا ہے ، تا کہ ہم سب کے عقائد کی تصحیح ہو سکے ، و السلام علیکم۔

امام مہدی اور نزول عیسٰی علیہ السلام کے متعلق بیان کی جانے والی تمام روایات ضعیف، موضوع ہیں ۔

اسلام میں امامت مہدی نہیں ہے !!!

کسی ایک حدیث سے بھی امام مہدی اور نزول عیسٰی علیہ السلام کا آپس میں تعلق ثابت نہیں کیا جاسکتا !!!


55 - فتنوں کا بیان : (182)

قسطنطنیہ کی فتح اور خروج دجال اور سیدنا عیسیٰ ابن مریم کے نزول کے بیان میں ؟؟؟

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی يَنْزِلَ الرُّومُ بِالْأَعْمَاقِ أَوْ بِدَابِقٍ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ مِنْ الْمَدِينَةِ مِنْ خِيَارِ أَهْلِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ فَإِذَا تَصَافُّوا قَالَتْ الرُّومُ خَلُّوا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الَّذِينَ سَبَوْا مِنَّا نُقَاتِلْهُمْ فَيَقُولُ الْمُسْلِمُونَ لَا وَاللَّهِ لَا نُخَلِّي بَيْنَکُمْ وَبَيْنَ إِخْوَانِنَا فَيُقَاتِلُونَهُمْ فَيَنْهَزِمُ ثُلُثٌ لَا يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَبَدًا وَيُقْتَلُ ثُلُثُهُمْ أَفْضَلُ الشُّهَدَائِ عِنْدَ اللَّهِ وَيَفْتَتِحُ الثُّلُثُ لَا يُفْتَنُونَ أَبَدًا فَيَفْتَتِحُونَ قُسْطَنْطِينِيَّةَ فَبَيْنَمَا هُمْ يَقْتَسِمُونَ الْغَنَائِمَ قَدْ عَلَّقُوا سُيُوفَهُمْ بِالزَّيْتُونِ إِذْ صَاحَ فِيهِمْ الشَّيْطَانُ إِنَّ الْمَسِيحَ قَدْ خَلَفَکُمْ فِي أَهْلِيکُمْ فَيَخْرُجُونَ وَذَلِکَ بَاطِلٌ فَإِذَا جَائُوا الشَّأْمَ خَرَجَ فَبَيْنَمَا هُمْ يُعِدُّونَ لِلْقِتَالِ يُسَوُّونَ الصُّفُوفَ إِذْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَيَنْزِلُ عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّهُمْ فَإِذَا رَآهُ عَدُوُّ اللَّهِ ذَابَ کَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَائِ فَلَوْ تَرَکَهُ لَانْذَابَ حَتَّی يَهْلِکَ وَلَکِنْ يَقْتُلُهُ اللَّهُ بِيَدِهِ فَيُرِيهِمْ دَمَهُ فِي حَرْبَتِهِ

صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2778 حدیث مرفوع مکررات 2 متفق علیہ 1 بدون مکرر
زہیر بن حرب، معلی بن منصور سلیمان بن بلال سہیل حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ رومی اعماق یا دابق میں اتریں ان کی طرف ان سے لڑنے کے لئے ایک لشکر مدینہ روانہ ہوگا اور وہ ان دنوں زمین والوں میں سے نیک لوگ ہوں گے جب وہ صف بندی کریں گے تو رومی کہیں گے کہ تم ہمارے اور ان کے درمیان دخل اندازی نہ کرو جنہوں نے ہم میں سے کچھ لوگوں کو قیدی بنا لیا ہے ہم ان سے لڑیں گے مسلمان کہیں گے نہیں اللہ کی قسم ہم اپنے بھائیوں کو تنہا نہ چھوڑیں گے کہ تم ان سے لڑتے رہو بالآخر وہ ان سے لڑائی کریں گے بالآخر ایک تہائی مسلمان بھاگ جائیں گے جن کی اللہ کبھی بھی توبہ قبول نہ کرے گا اور ایک تہائی قتل کئے جائیں گے جو اللہ کے نزدیک افضل الشہداء ہوں گے اور تہائی فتح حاصل کرلیں گے انہیں کبھی آزمائش میں نہ ڈالا جائے گا پس وہ قسطنطنیہ کو فتح کریں گے جس وقت وہ آپس میں مال غنمیت تقسیم کر رہے ہوں اور ان کی تلواریں زیتون کے درختوں کے ساتھ لٹکی ہوئی ہوں گی تو اچانک شیطان چیخ کر کہے گا تحقیق مسیح دجال تمہارے بال بچوں تک پہنچ چکا ہے وہ وہاں سے نکل کھڑے ہوں گے لیکں یہ خبر باطل ہوگی جب وہ شام پہنچیں گے تو اس وقت دجال نکلے گا اسی دوران کہ وہ جہاد کے لئے تیاری کر رہے ہوں گے اور صفوں کو سیدھا کررہے ہوں گے کہ نماز کے لئے اقامت کہی جائے گی اور عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے اور مسلمانوں کی نماز کی امامت کریں گے پس جب اللہ کا دشمن انہیں دیکھے گا تو وہ اس طرح پگھل جائے گا جس طرح پانی میں نمک پگھل جاتا ہے اگرچہ عیسیٰ اسے چھوڑ دیں گے تب بھی وہ پگھل جائے گا یہاں تک کہ ہلاک ہو جائے گا لیکن اللہ تعالیٰ اس کو اپنے ہاتھ سے قتل کرے گا پھر لوگوں کو اس کا خون اپنے نیزے پر دکھائے گا۔

Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: The Last Hour would not come until the Romans would land at al-A'maq or in Dabiq. An army consisting of the best (soldiers) of the people of the earth at that time will come from Medina (to counteract them). When they will arrange themselves in ranks, the Romans would say: Do not stand between us and those (Muslims) who took prisoners from amongst us. Let us fight with them; and the Muslims would say: Nay, by Allah, we would never get aside from you and from our brethren that you may fight them. They will then fight and a third (part) of the army would run away, whom Allah will never forgive. A third (part of the army) which would be constituted of excellent martyrs in Allah's eye, would be killed and the third who would never be put to trial would win and they would be conquerors of Constantinople. And as they would be busy in distributing the spoils of war (amongst themselves) after hanging their swords by the olive trees, the Satan would cry: The Dajjal has taken your place among your family. They would then come out, but it would be of no avail. And when they would come to Syria, he would come out while they would be still preparing themselves for battle drawing up the ranks. Certainly, the time of prayer shall come and then Jesus (peace be upon him) son of Mary would descend and would lead them in prayer. When the enemy of Allah would see him, it would (disappear) just as the salt dissolves itself in water and if he (Jesus) were not to confront them at all, even then it would dissolve completely, but Allah would kill them by his hand and he would show them their blood on his lance


عادل سہیل صاحب صحیح مسلم کی روایت بیان کرنا پسند کریں گے جس میں امام مہدی کا بیان ہو !!!

ایسی کوئی حدیث نہیں ہے !!!

__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 31-10-11, 10:02 PM   #41
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default نئی شریعت میں جزیہ کو موقوف کریں گے اور کس وجہ سے موقوف کریں گے اس کو ابن حجر سمجھاتے ہیں ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
امتی سےمراد یہ ہے کہ وہ کوئی نئی شریعت لے کر نہیں‌آئیں گے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شریعت کے پیروی کریں گے۔

لیکن نئی شریعت میں جزیہ کو موقوف کریں گے اور کس وجہ سے موقوف کریں گے اس کو ابن حجر سمجھاتے ہیں اور "ويضع الحرب" صاف کھا گئے !!!

راویوں کی جہاد کے خلاف سازش "ويضع الحرب" جنگ ختم کریں گے !!!

کیوں ؟؟؟

بخاری کے ۲۱ نسخے مشہور ہیں صرف ایک الكشميهني کے نسخے میں "ويضع الجزية" ہے !!!

جزیہ قبول نہیں کریں گے یا جنگ ختم کریں گے ؟؟؟

قوله : ( ويضع الحرب ) في رواية الكشميهني " الجزية "

ایک اور غیر قرآنی عقیدہ راویوں کو یہ بھی یاد نہیں کہ "مثل و معہ قرآن وحی خفی غیر متلو" کے الفاظ کیا تھے ؟؟؟

__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"

Last edited by rana ammar mazhar; 31-10-11 at 10:26 PM.
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 31-10-11, 10:23 PM   #42
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
بخاری کے ۲۱ نسخے مشہور ہیں صرف ایک الكشميهني کے نسخے میں "ويضع الجزية" ہے !!!











. .
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (31-10-11)
پرانا 31-10-11, 10:45 PM   #43
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جزیہ قبول نہیں کریں گے یا جنگ ختم کریں گے ایک اور غیر قرآنی عقیدہ راویوں کو یہ بھی یاد نہیں !

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں


بخاری کے ۲۱ نسخے مشہور ہیں صرف ایک الكشميهني کے نسخے میں "ويضع الجزية" ہے !!!

. .
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
عادل بھائی
یہ ایک پوائنٹ مجھے بھی تنگ رکھتا ہے

راویوں کی جہاد کے خلاف سازش "ويضع الحرب" صفحہ

369

of

449

پر صاف لکھا ہے چیک کر لیں !!!


http://www.archive.org/download/Sahi..._Bukhari02.pdf

جزیہ قبول نہیں کریں گے یا جنگ ختم کریں گے ؟؟؟

قوله : ( ويضع الحرب ) في رواية الكشميهني " الجزية "

ایک اور غیر قرآنی عقیدہ راویوں کو یہ بھی یاد نہیں کہ "مثل و معہ قرآن وحی غیر متلو" کے الفاظ کیا تھے ؟؟؟

قوله : ( فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ) أي يبطل دين النصرانية بأن يكسر الصليب حقيقة ويبطل ما تزعمه النصارى من تعظيمه ، ويستفاد منه تحريم اقتناء الخنزير وتحريم أكله وأنه نجس ، لأن الشيء المنتفع به لا يشرع إتلافه ، وقد تقدم ذكر شيء من ذلك في أواخر البيوع . ووقع للطبراني في " الأوسط " من طريق أبي صالح عن أبي هريرة فيكسر الصليب ويقتل الخنزير والقرد زاد فيه القرد وإسناده لا بأس به ، وعلى هذا فلا يصح الاستدلال به على نجاسة عين الخنزير لأن القرد ليس بنجس العين اتفاقا ، ويستفاد منه أيضا تغيير المنكرات وكسر آلة الباطل . ووقع في رواية عطاء بن ميناء عن أبي هريرة عند مسلم ولتذهبن الشحناء والتباغض والتحاسد .

قوله : ( ويضع الحرب ) في رواية الكشميهني " الجزية " ، والمعنى أن الدين يصير واحدا فلا يبقى أحد من أهل الذمة يؤدي الجزية ، وقيل معناه أن المال يكثر حتى لا يبقى من يمكن صرف مال الجزية له فتترك الجزية استغناء عنها . وقال عياض : يحتمل أن يكون المراد بوضع الجزية تقريرها على الكفار من غير محاباة ، ويكون كثرة المال بسبب ذلك . وتعقبه النووي وقال : الصواب أن عيسى لا يقبل إلا الإسلام . قلت : ويؤيده أن عند أحمد من وجه آخر عن أبي هريرة وتكون الدعوى واحدة قال النووي : ومعنى وضع عيسى الجزية مع أنها مشروعة في هذه الشريعة أن مشروعيتها مقيدة بنزول عيسى لما دل عليه هذا الخبر ، وليس عيسى بناسخ لحكم الجزية بل نبينا صلى الله عليه وسلم هو المبين للنسخ بقوله هذا ، قال ابن بطال : وإنما قبلناها قبل نزول عيسى للحاجة إلى المال بخلاف زمن عيسى فإنه لا يحتاج فيه إلى المال فإن المال في زمنه يكثر حتى لا يقبله أحد ، ويحتمل أن يقال إن مشروعية قبولها من اليهود والنصارى لما في أيديهم من شبهة الكتاب وتعلقهم بشرع قديم بزعمهم ، فإذا نزل عيسى عليه السلام زالت الشبهة بحصول معاينته فيصيرون كعبدة الأوثان في انقطاع حجتهم وانكشاف أمرهم ، فناسب أن يعاملوا معاملتهم في عدم قبول الجزية منهم . هكذا ذكره بعض مشايخنا احتمالا والله أعلم .

http://islamweb.net/newlibrary/displ..._no=52&ID=2077

قوله : ( ويضع الحرب ) في رواية الكشميهني " الجزية "

اوپر کے اقتباس میں کیوں جزیہ کو موقوف کریں گے اور کس وجہ سے موقوف کریں گے اس کو ابن حجر سمجھاتے ہیں اور "ويضع الحرب" صاف کھا گئے !!!

کیوں ؟؟؟

بخاری کے ۲۱ نسخے مشہور ہیں صرف ایک الكشميهني کے نسخے میں "ويضع الجزية" ہے !!!


باب نزول عيسى ابن مريم عليهما السلام

3264 حدثنا إسحاق أخبرنا يعقوب بن إبراهيم حدثنا أبي عن صالح عن ابن شهاب أن سعيد بن المسيب سمع أبا هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم والذي نفسي بيده ليوشكن أن ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله أحد حتى تكون السجدة الواحدة خيرا من الدنيا وما فيها ثم يقول أبو هريرة واقرءوا إن شئتم وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا

http://www.islamweb.net/newlibrary/d...k_no=0&ID=2077

بيان حال عيسى -عليه السلام- عندما ينزل آخر الزمان

[س 15]: نرجو من فضيلتكم- أجزل الله لكم الأجر- بيان حال عيسى -عليه السلام- عندما ينزل آخر الزمان ؟
الجواب: في الصحيحين عن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- والذي نفسي بيده ليوشكن أن ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا، فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الحرب، ويفيض المال حتى لا يقبله أحد، حتى تكون السجدة الواحدة خيرا له من الدنيا وما فيها .
ثم يقول أبو هريرة: اقرؤوا إن شئتم: وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا أي: موت عيسى

بيان حال عيسى -عليه السلام- عندما ينزل آخر الزمان
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 31-10-11, 10:58 PM   #44
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default آپ کے سوال کا جواب یہاں بھی ہے !!! دوسری روایت میں حرت کے بجائے جزیہ کا لفظ ہے !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں


بخاری کے ۲۱ نسخے مشہور ہیں صرف ایک الكشميهني کے نسخے میں "ويضع الجزية" ہے !!!
. .
آپ کے سوال کا جواب یہاں بھی ہے !!!

دوسری روایت میں حرت کے بجائے جزیہ کا لفظ ہے !!!


اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
پچھلی صدی عیسوی میں برصغیر میں مسلمانوں کو جن فتنوں کا سامنا کرنا پڑا ان میں جھوٹی نبوت کا فتنہ بہت بڑا تھا۔ نبوت کا دعوٰی کرنے والا صاحب نے اپنے آپ کو "مسیح موعود" قرار دیا یعنی وہ مسیح جن کی آمد کا مسلمان انتظار کر رہے ہیں۔ ذیل میں احادیث کی رورشنی میں اسی مسئلے پر بحث کی گئی ہے۔
’’مسیح مَو عُود‘‘ کی حقیقت‘‘

نئی نبوت کی طرف بلانے والے حضرات عام طور پر ناواقف مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ احادیث میں ’’مسیح موعود ‘‘ کے آنے کی خبر دی گئی ہے، اور مسیح نبی تھے ، اس لیے ان کے آنے سے ختم نبوت میں کوئی خرابی واقع نہیں ہوتی ، بلکہ ختمِ نبوت بھی برحق اور اس کے باوجود مسیح موعود کا آنا بھی برحق ۔
اسی سلسلے میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ’’ مسیح موعود‘‘ سے مراد عیسیٰ ابن مریم نہیں ہیں۔ ان کا تو انتقال ہوچکا ۔ اب جس کے آنے کی خبرنبوت کے خلاف نہیں ہے۔
اس فریب کا پردہ چاک کرنے کے لیے ہم یہاں پورے حوالوں کے ساتھ وہ مستند روایات نقل کیے دیتے ہیں جو اس مسئلے کے متعلق حدیث کی معتبر ترین کتابوں میں پائی جاتی ہیں۔ اِ ن احدیث کو دیکھ کر ہر شخص خود معلوم کرسکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا اور آج اس کو کیا بنایا جارہا ہے۔
احادیث درباب نزولِ عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السّلام
(۱)عن ابی ھریر ۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والذی نفوی بیدہ لَیَوْ شِکَنَّ ان ینزل فِیکم ابن مریم حکمًا عد لًا فیکسر الصلیب و یقتل الخنزیر و یَضَعَ الحربَ و یُفیضَ المال حتیٰ لا یقبلِہ احد حتٰی تکون السجدہ الوا حدۃ خیرًا من الدّ نیا وما فیھا (بخاری کتاب احادیث الانبیاء، باب نزول عیسیٰ ابن مریم ۔مسلم ، باب بیان نزول عیسیٰ ۔ ترمذی ابواب الفتن، باب فی نزول عیسیٰ ۔ مسند احمد، کرویات ابو ہریرہؓ)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ضروراُتریں گے تمہارے درمیان ابن مریم حاکم عادل بن کر ، پھر وہ صلیب کو توڑ ڈالین گے، اور خنزیر کو ہلاک کردیں گے۔ ( صلیب کو توڑ ڈالنے اور خنزیر کو ہلاک کردینے کا مطلب یہ ہے کہ عیسائیت ایک الگ دین کی حیثیت سے ختم ہوجائے گی۔ دینِ عیسوی کی پوری عمارت اس عقیدے پر قائم ہے کہ اللہ نے اپنے اکلوتے بیٹے (یعنی حضرت عیسیٰ) کو صلیب پر ’’ لعنت ‘‘ کی موت دی جس سے وہ انسان کے گناہ کا کفارہ بن گیا۔ اور انبیاء کی امتوں کے درمیان عیسائیوں کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے صرف عقیدے کو لے کر اللہ کی پوری شریعت ردکردی حتّٰی کہ خنزیر پر تک کو حلال کرلیا جو تمام انبیاء کی شریعتوں میں حرام رہا ہے۔ پس جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آکر خود اعلان کر دیں گے کہ نہ میں اللہ کا بیٹا ہوں ، نہ میں نے صلیب پر جان دی، نہ میں کسی گناہ کا کفارہ بنا تو عیسائی عقیدے کے لیے سرے سے کوئی بنیاد ہی باقی نہ رہے گی۔ اسی طرح جب وہ بتائیں گے کہ میں نے تو نہ اپنے پیرووں کے لیے سُور حلال کیا تھا اور نہ ان کو شریعت کی پابندی سے آزاد ٹھیرایا تھا، تو عیسائیت کی دوسری امتیازی خصوصیت کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔) اور جنگ کا خاتمہ کردیں گے (دوسری روایت میں حرت کے بجائے جزیہ کا لفظ ہے ، یعنی جزیہ ختم کردیں گے۔) (دوسرے الفاظ میںاس کا مطلب یہ ہے کہ اُس وقت ملّتوں کے اختلافات ختم ہو کر سب لوگ ایک مِلّت اسلام میں شامل ہوجائیں گے اور اس طرح نہ جنگ ہوگی اور نہ کسی پر جزیہ عائد کیا جائے گا۔ ا سی بات پر آگے احادیث نمبر ۵ و ۱۵ دلالت کررہی ہیں۔ )اور مال کی وہ کثرت ہوگی کہ اس ک قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا اور (حالت یہ ہو جائے گی کہ لوگوں کے نزدیک اللہ کے حضور) ایک سجدہ کرلینا دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا۔
(۲)۔ایک اور روایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ میں ہے کہ لا تقعم السّا عۃ حتّٰی ینزل عیسٰی ابن مریم......قیامت قائم نہ ہوگی جب تک نازل نہ ہولیں عیسٰی ابن مریم..........اور اس کے بعد ہی مضمون ہے جو اوپر کی حدیث میں بیان ہوا ہے (بخاری ، کتاب المظالم، باب کسرالصلیب۔ ابن ماجہ ، کتاب الفتن، باب فتنتہ الدجال)
(۳)۔ عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال کیف انتم اذانزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم۔ (بخاری، کتاب احادیث الانبیاء ، باب نزول عیسیٰ ۔ مسلم ، بیان نزول عیسیٰ ۔ مسند احمد ، مرویات ابی ہریرہؓ)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیسے ہوگے تم جبکہ تمہارے درمیان ابن مریم اتریں گے اور تمہارا امام اس وقت خود تم میں سے ہوگا۔‘‘ (یعنی نماز میں حضرت عیسیٰ حضرت عیسیٰ امامت نہیں کرائیں گے بلکہ مسلمانوں کا جو امام پہلے سے ہوگا اسی کے پیچھے وہ نماز پڑھیں گے۔)
(۴)۔ عن ابی حریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ینزل عیسیٰ ابن مریم فیقتل الخنزیر و یمحواالصلیب و تجمع لہ الصلوٰۃ و یعطی المال حتی لا یقبل و یضع الخراج و ینزل الرَّوحاء فیحجّ منھا، او یعتمو، او یجمعھما (مسند احمد ، بسلسلہ ، مرویات ابی ہریرہؓ مسلم ، کتاب الحج ۔ باب جواز التمتُّع فی الحج والقرآن)
حضر ت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گیپھر وہ خنزیر کو قوتل کریں گے اور صلیب کو مٹادیں گے اور ان کے لیے نماز جمع کی جائے گی اور وہ اتنا مال تقویم کریں گے کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہ ہوگا اور وہ خراج ساقط کردیں گے اور رَوحائ(مدینہ سے ۳۵ میل کے راصلے پر ایک مقام) کے مقام پر منزل کرکے وہاں سے حج یا عمرہ کریں گے ، یا دونوں کو جمع کریں گے( واضح رہے کہ اس زمانے میں جن صاحبکو مثیلِ مسیح قرار دیاگیا ہے انہوں نے اپنی زندگی میں نہ حج کیا اور نہ عمرہ) راوی کو شک ہے کہ حضوؐر نے ان میں سے کونسی بات فرمائی تھی۔ (۵)۔
عن ابی ھریرۃ (بعد ذکر خروج الدجال) فبینما ھم یعدّوس للقتال یسوّون الصّفوف اذا اقیمت الصلوٰۃ فینزل عیسیٰ ؑ ابن مریم فامّھم فاذار اٰہ عدواللہ یذوب کما یذوب الملح فی الماء فلو ترکہ الانذاب حتٰی یھلک ولٰکن یقتلہ اللہ بیدہ فیریھم دمہ فی حربتہٖ( مشکوٰۃکتاب الفتن، باب الملاحم، بحوالٔہ مسلم)۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے (دجّال کے خروج کا ذکرکرنے کے بعد حضوؐر نے فرمایا)اس اثنا میں کہ مسلمان اس سے لڑنے کی تیاری کررہے ہوں گے، صفیں باندھ رہے ہوں گے اور نماز کے لیے تکبیراقامت کہی جاچکی ہوگی کہ عیسیٰ ابنِ مریم نازل ہوجائیں گے۔ اور نماز مین مسلمانوں کی امامت کریں گے۔ اور اللہ کادشمن (یعنی دجّال) ان کو دیکھتے ہی اس طرح گھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گھلتا ہے۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام اس کو اُس کے حال پر چھوڑ دیں تو وہ آپ ہی گھل کر مر جائے۔ مگر اللہ اس کو اُن کے ہاتھ سے قتل کرائے گا اور وہ اپنے نیزے میںاُس کا خون مسلمانوں کو دکھائیں گے۔‘‘
(۶)۔ عن ابی ھریرۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لیس بینی وبینہٗ نبی (یعنی عیسیٰ) وانہ نازل فاذارأیتموہ ماعر فوہ رجل مربو الی الحمر ۃ والبیاص، بین ممصرتین کان رأسہ یقطروَان لم یصبہ بلل فیقاتل الناس علیالاسلام فیدق الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃویھلک اللہ فی زمانہ الملل کلھا الاا لاسلام ویھلک المسیح الدجال فیمکث فی الارض اربعین سنۃ تم یتوفی فی صلی علیہ المسلمون۔(ابوداؤد ، کتاب الملاحم، باب خروج الدّجال۔ مُسند احمد مرویات ابو ہریرہؓ)
ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے اور اُن (یعنی عیسیٰ علیہ السلام)کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔ اوریہ کہ وہ اُترنے والے ہیں، پسجب تم ان کو دیکھو تو پہچان لینا ، وہ ایک میانہ قد آدمی ہیں ، رنگ مائل بسُرخی و سپیدی ہے، دوزرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے۔ ان کے سر کے بال ایسے ہوں گے گویا اب ان سے پانی ٹپکنے والا ہے، حالانکہ وہ بھیگے ہوئے نہ ہوں گے۔ وہ اسلام پرلوگوں سے جنگ کریں گے، صلیب کو پاش پاش کردیں گے، خنزیر کو قتل کردیں گے ، جزیہ ختم دیں گے، اور اللہ ان کے زمانے میں اسلام کے سوا تمام مِلّتوں کو مٹادے گا، اور وہ مسیح دجال کو ہلاک کردیں گے، اور زمین میں وہ چالیس سال ٹھیریں گے۔ پھر ان کا انتقال ہوجائے گا اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔‘‘ (۷)۔
عن جابر بن عبداللہ قال سمعت روسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم.......فینزل عیسیٰ ابن مریم صلی اللہ علیہ وسلم فیقو ل امیر ھم تعل فصلِّ فیقول الا ان بعضکم علیٰ بعضامراء تکرمۃ اللہ ھٰذہ الامۃ۔ (مسلم، بیاننزول عیسیٰ ابن مریم۔ مُسند احمد بسلسلہ مرویات جابرؓ بن عبداللہ)
حضرت جابربن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سُنا کہ ....پھر عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے۔ مسلمانوں کا امیر اُن سے کہے گا کہ آئے، آپ نماز پڑھائیے، مگر وہ کہیں گے کہ نہیں ، تم لوگ خود ہی ایک دوسرے کے امیر ہو۔( یعنی تمہارا امیر خود تم ہی میں سے ہونا چاہیے۔) یہ وہ اُس عزّت کا لحاظ کرتے ہوئے کہیں گے جوجواللہ نے اس اُمّت کو دی ہے۔‘‘
(۸)۔ عن جابر بن عبداللہ (فی قصۃ ابن صیاد)فقال عمر بن الخطاب ائذن لی فاقتلہٗ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان یکن ھو فلست صاحبہ انما صاحبہ عیسیٰ ابن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام، و ان لا یکن فلیس لک ان تقتل رجلا من اھل العھد(مشکوٰۃ۔ کتاب الفتن، باب قصّۂ بن صیّاد ، بحوالہشرح السُّنہ بَغَوی)
جا بر بن عبداللہ (قصّۂ ابن صیّاد کے سلسلہ میں) روایت کرتے ہیں کہ پھر عمر بن خطاب نے عرض کیا، یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اسے قتل کردوں ۔ اس پرحضوؐر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ وہی شخص (یعنی دجال) ہے تو اس کے قتل کرنے والے تم نہیں ہو بلکہ اسے تو عیسیٰ بن مریم ہی قتل کریں گے۔ اور اگر یہ وہ شخص نہیں ہے تو تمہیں اہلِ عہد (یعنی ذمیوں) میں سے ایک آدمی کو قتل کردینے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘‘ (۹)۔ عن جابر عبداللہ (فی قصہ الدجال) فاذاھم بعیسیٰ ابن مریم علیہ السلام فتقام الصلوٰۃ فیقال لہ تقدم یا روح اللہ فیقول لیتقدم امامکم فلیصلِّ بکم فاذاصلی صلوٰۃ الصبح خرجو االیہ، قال جحین یری انکذاب کما ینماث الملح فی الماء فیمشی الیہ فیقتلہٗ حتی ان الشجر والحجر ینادی یا روح اللہ ھٰذا الیھودیُّ ، فلا یترک ممن کان یتبعہ احداالاقتلہٗ ۔ (مسنداحمد ، بسلسلۂ روایات جابر بن عبداللہ)
جابربن عبداللہ سے روایت ہے کہ (دجال کا قصہ بیان کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اس وقت یکایک عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام مسلمانوں کے درمیان آجائیںگے ۔ پھر نماز کھڑی ہوگی اور ان سے کہا جائے گا کہ اے روح اللہ آگے بڑھئے ، مگر وہ کہیںکہ نہیں ، تمہارے امام ہی کو آگے بڑھنا چاہیے، وہی نماز پڑھائے۔ پھرصبح کی نماز سے فارغ ہوکر مسلمان دجال کے مقابلے پر نکلیں گے۔ فرمایا، جب وہ کذّاب حضرت عیسیٰ کو دیکھے گا تو گھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گھلتا ہے۔ پھر وہ اس کی طرف بڑھیں گے اور اسے قتل کردیں گے اور حالت یہ ہوکی کہ درخت اور پتھر پکار اٹھیں گے کہ اے روح اللہ یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے ۔ دجال کے پیرووں میں سے کوئی نہ بچے گا وہ (یعنی عیسیٰؑ ) قتل نہ کردیں۔ (۱۰)٘۔
عن النواس بن سمعان ( فی قصۃ الدجّال) فبینما ھو کذٰلک اذ بعث اللہ المسیح بن مریم فینزل عندالمنارۃ البیضاء شرقی دمشق بین مھرو ذتین واضعًا کفیہ علیٰ اجنحہ ملکین اذاطاُ طأ راسہٗ قطرواذا رفعہ تحد رمنہ جمان کا للوٗلوٗ فلایحل لکافر یجد ریح نفسہ الامات و نفسہ ینتہی الیٰ حیث ینتہی طرفہ فیطلبہ حتیٰ
ید کہ ببابِلُدٍّ فیقتلہ۔(مسلم، ذکرالدجّال ۔ ا بو داوٗد، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال ۔ ترمذی، ابو اب الفتن ، باب فتنۃ الدّجال۔ ابن ماجہ ، کتاب الفتن، باب فتنۃالدّجال )
حضرت نَاّس بن سَمْعان کلانی (قسۂ دجال بیان کرتے ہوئے ) راویت کرتے ہیں: اس اثناء میں کہ دجال یہ کچھ کررہا ہوگا، اللہ تعالیٰ مسیحؑ ابن مریم کو بھیج دے گااور وہ دمشق کے مشرقی حصے میں ، سفیدمینار کے پاس، زرد رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے، دو فرشتوں کے بازؤوں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے۔جب وہ سر جھکائیں گے تو ایسا محسوس ہوگا کہ قطرے ٹپک رہے ہیں ، اور جب سر اٹھائیں گے توموتی کی طرح قطرے ڈھلکتے نظر آئیں گے۔ ان کے سانس کی ہو ا جس کافر تک پہنچے گے .......اور وہ ان کی حد نظر تک جائے گی ۔۔۔۔۔۔.......... وہ زندہ نہ بچے گا۔ پھر ابن مریم دجال کا پیچھا کریں گے اور لُدّ(واضھ رہیکہ لُدّ (Lyddu)فلسطین میں ریاست اسرائیل کے دارلسلطنت تل ابیب سے چند میل کے فاصلے پر واقع ہے اور یہودیوں نے وہان بہت بڑا ہوائی اڈہ بنا رکھا ہے۔) کے دروازے پر اسے جا پکڑیں گے اور قتل کردیں گے۔
(۱۱)۔ عن عبداللہ بن عمر وقال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یخرج الدجال فی امتی فیمکث اربعین (لا ادری اربعین یومًا اواربعین شھرًا او ربعین عامًا)فیبعث اللہ عیسیٰ بن مریم کانہ عُروۃ بن مسعود فیطلبہ ثم یمکث الناس سبع سنین لیس بین اثنین عداوۃ(مسلم، ذکر الدجال)
عبداللہ بن عاص کہتے ہیں کہ رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال میری امت میں نکلے گا اور چالیس( میں نہیں جانتا چالیس دن یا چالیس مہینے یاچالیس سال) (یہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کا اپنا قول ہے) رہے گا ۔ پھر اللہ عیسیٰ ابن مریم کو بھیجے گا۔ ان کا حلیہ عُروہ بن مسعود (ایک صحابی) سے مشابہ ہوگا۔ وہ اس کا پیچھا کریں گے اور اسے ہلاک کردیں گے، پھر سات سال تک لوگ اس حال میں رہیں گے کہ دو آدمیوں کے درمیان بھی عداوت نہ ہوگی۔
(۱۲)۔ عن حذیفۃ بن اسید الفاری قال اطلع النبی صلی اللہ علیہ وسلم علینا و نحن نتذاکر فقال ما تذکرون قالو انذ کر السّاعۃ قال انھالن تقوم حتیٰ ترون قبلھا عشراٰیات فذکر الدخان والدجال والدابۃ و طلوع الشمس من مغر بھا و نزول عیسیٰ ابن مریم ویاجوج و ماجوج و ثلثۃ خسوف، خسف بالمشرق و خسف بالمغرب، وخسف بجزیرۃ العرب ، و اٰ خر ذٰلک نار تخرج من الیمن تطرد الناس الیٰ محشر ھم(مسلم: کتاب الملاحم، باب امارات الساعہ)
حُذیفہ بن اسید الغفاری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مجلس میں تشریف لائے اور ہم آپس میں بات چیت کررہے تھے۔ آپ نے پوچھا کیا بات ہورہی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا ہم قیامت کا ذکر کررہے تھے۔ فرمایا وہ ہرگز قائم نہ ہوگی جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں ظاہر نہ ہوجائیں ۔ پھر آپ نے وہ دس نشانیاں یہ بتائیں : (۱) دُھواں،(۲)دجال،(۳) دابتہ الارض، (۴) سورج کا مغرب سے طلوع ہونا(۵) عیسیٰ ابنِ مریم کا نزول،(۶)یاجوج و ماجوج، (۷)تین بڑے خَسَف( زمین دھس جاناLandslide)، ایک مشرق میں، (۸)دوسرا مغرب میں، (۹) تیسرا جزیرۃ العرب میں، (۱۰) سب سے آخر میں ایک زردست آگ جو یمن سے اٹھے گی اور لوگوں کو ہانکتی ہوئی محشر کی طرف لے جائے گی۔ (۱۳)۔ عن ثوبان مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن النبی صلی اللہ وسلم عصابتان من امتی احرز ھما اللہ تعالیٰ من النار۔ عصابۃ تغزوالھند، وعصا بۃ تکون مع عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام (نسائی، کتاب الجہاد ۔ مسند احمد، بسلسلہ روایات ثُوبان)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان روایت کرتے ہیںکہ حضورؐ نے فرمایا’’ میری امت کے دو لشکر ایسے ہیں جن کو اللہ نے دوزخ کی آگ سے بچالیا۔ایک وہ لشکر جو ہندوستان پر حملہ کرے گا۔ دوسرا وہ جو عیسٰی ابن مریمؑ کے ساتھ ہوگا۔
(۱۴)۔ عن مُجمِّع بن جاریۃ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول یقتل ابنُ مریم الدّجال بباب لُدّ( مسنداحمد ۔ترمذی ، ابواب الفتن )
مُجَمّع بن جاریتہ انصاری کہتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ابن مریم دجال کو لُدّ کے دروازے پر قتل کریں گے۔
(۱۵)۔ عن ابی اُمامۃ الباھلی(فی حدیث طویل فی ذکر الد جال) فبینما اما مھم قد تقدم یصلّی بھم الصنح اذنز ل علیھم عیسیٰبن مریم فرجع ذٰلک الامام ینکص یمشی تھقریٰ لیتقدم عیسیٰ فیضع عیسیٰ یدہ بین کتفیہ تم یقول لہٗتقدم فصل فانھا لک اقیمت فیصلی بھم اما مھم فا ذا انصرف قال عیسیٰ علیہ السسلام افتحوا الباب فیفتح و وراء ہ الدجال ومعہ سبعون الفیھودی کلھم ذوسیف محلی وساج فاذانظر الیہ الدجال ذاب کما یذوب الملح فی الماء وینطلق ھا ربًا ویقول عیسیٰ ان لی جیک ضربۃلن تسبقنی بھا فیدرکہ عندباب الُّلدِّ الشرقی فیھزم اللہ الیھود..... وتملأالارض منالمسلم کما یملأالا ناء من الماء وتکون الکلمۃ واحدۃ فلا یعبد الا اللہ تعالیٰ (ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب فتنتہ الدجال)
ابو اُمامہ باہلی (ایک طویل حدیث میں دجال کا ذکر کرتے ہوئے ) روایت کرتے ہیں کہ عین اس وقت جب مسلمانوں کا امام صبح کی نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھ چکا ہوگا۔ عیسیٰ ابن مریم اُن پر اُتر آئیں گے۔امام پیچھے پلٹے گا تاکہ عیسیٰؑ آگے بڑھیں ، مگر عیسیٰ اس کے شانوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر کہیں گے کہ نہیں تم ہی نماز پڑھاؤکیونکہ یہ تمہارے لیے ہی کھڑی ہوئی ہے ۔ چنانچہ وہی نماز پڑھائے گا۔ سلام پھیرنے کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے کہ دروازہ کھولو ن، چنانچہ وہ کھولا جائے گا۔ باہر دجال ۷۰ ہزار مسلح یہودیوں کے ساتھ موجود ہوگا۔ جوں ہی کہ عیسیٰ علیہ السلام پر اس کی نظر پڑے گی وہ اس طرح گھُلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گُھلتا ہے اور سہ بھاگ نکلے گا۔ عیسیٰ کہیں گے میرے پاس تیرے لیے ایک ایسی ضرب ہے جس سے تو بچ کر نہ جا سکے گا پھر وہ اُسے لُدّ کے مشرقی دروازے پر لے جائیں گے اور اللہ یہودیوں کو ہرادے گا...... اور زمین مسلمانوں سے اس طرح بھر جائے گی جیسے برتن پانی سے بھر جائے۔ سب دنبا کا کلمہ ایک ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ ہوگی۔
(۱۶)۔ عن عثمان بن انی العاص قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول .. ... وینزل عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام عند صلوۃ الفجر فیقول لہ امیرھم یاروح اللہ تقدم ، صلِّ، فیقول ھٰذہ الامۃ بعضھم امراء علیٰ فیتادم امیر ھم فیصلی، فاذا قضیٰ صلوٰتہٗ اخذ عیسیٰ حربتہٗ فیذھب نحوالدجال فاذایراہ الدجال ذاب کما یذوب الرصاس فیضع حربتہ بین شندوبتہ فیقتلہٗ وینھزم اصحابہ لیس یومعِذ شیء یواری منھم احداحتیٰ ان الشجر لیقول یا مومن ھٰذا کافرو یقول الحجر یا مومن ھٰذا کافر(مُسند احمد۔ طُبرانی۔ حاکم)
عثمان بن انی العاص کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے ....اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام فجر کی نماز کے وقت اُتر آئیں گے۔
مسلمانوں کا امیر ان سے کہے گا اے رُوح اللہ آپ نماز پڑھایئے۔ وہ جواب دیں گے کہ اس امت کے لوگ خود ہی ایک دوسرے پر امیر ہیں ۔ تب مسلمانوں کا امیر آگے بڑھ کر نماز پڑھائے گا ۔ پھر نماز سے فا رغ ہوکر عیسیٰ اپنا حربہ لے کر دجال کی طرف چلیں گے ۔ وہ جب ان کو دیکھیگا تو اس طرح پگھلے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام اپنے حرنے سے اس کو ہلاک کردیں گے اور اس کے ساتھی شکست کھا کر بھاگیں گے مگر کہیں انہیں چھپنے کو جگہ نہ ملے گی، حتیٰ کہ درخت پکاریں گے اے مومن ، یہ کافریہان موجودہے اور پتھر پکاریں گے کہ اے مومن، یہ کافر یہاں موجود ہے۔
(۱۷)۔ عن سمرۃ بن جُنْدُب عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم(فی حدیث طویل) فیصبح فیھم عیسیٰ ابن مریم فیھزمہ اللہ وجنودہ حتیٰ ان اجذم الحائط واصل الشجر لینادی یا مومن ھٰذا کافر یستتربی فتعال اقتلہ۔
سَمُرہ جُندُب(ایک طویل حدیث میں)نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رواسیت کرتے ہیں ، پھر صُبح کے وقت مسلمانوں کے درمیان عیسیٰ ابن مریم آجائیں گے اور اللہ دجال اور اس کے لشکروں کوشکست دے گا یہاں تک کہ دیواریں اور درختوں کی جڑیں پکار اٹھیں گی کہ اے مومن ، یہ کافر میرے پیچھے چھپا ہوا ہے، آ اور اسے قتل کر۔
(۱۸) عن عمر ان بن حصین انّ رسول اللہ علیہ وسلم قال لا تزال طائفۃ من امتی علی الحق ظاھرین علیٰ من نوأ ھم حتیٰ یاتی امراللہ تبارک وتعالیٰ وینزل عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام۔ (مُسند احمد)
عمران بن حصین سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا: میری اُمت میں ہمیشہ ایک گروہ ایسا موجود رہے گا جو حق پر قائم اور مخالفین پر بھاری ہوگا یہاں تک کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فیصلہ آجائے اور عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام نازل ہوجائیں۔
(۱۹)عن عائشۃؓ(فی قصۃ الدّجال) فینزل عیسیٰ علیہ السلام فیقتلہ ثم یمکث عیسیٰ علیہ السلام فی الارض اربعین سنۃ امامًا عادلًا حَکَمًا مُقسطًا ۔(مسند احمد)
حضرت عائشہؓ (دجال کے قصّے میں) روایت کرتی ہیں: پھر عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال تک زمین میں ایک امامِ عادل اور حاکم منصف کی حیثیت سے رہیں گے۔‘‘
(۲۰)۔ عن سفینۃ مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (فی قصۃالدجّال ) فینزل عیسیٰ الیہ السالم فیقتلہ اللہ تعالیٰ عند عقیۃ اُفیق۔(مسند احمد)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سفینہ(دجال کے قصے میں)روایت کرتے ہیں: پھر عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور اللہ تعالیٰدجال کو اُفیق(اَفیق، جسے آج کل رفیق کہتے ہیں،شام اور اسرائیل کی سرحد پر موجودہ ریاست شام کا آخری شہر ہے۔ اس کے آگے مغرب کی جانب چند میل کے فاصلہ پر طَبَریہ ّ نامی جھیل ہے جس میں سے دریا ئے اُردُن نکلتا ہے، اور اس کے جنوب مغرب کی طرف پہاڑوں کے درمیان ایک نشیبی راستے کو عَقَبہْ اَفیق کی گھاٹی کہتے ہیں۔ ) کی گھاٹی کے قریب ہلاک کردے گا۔
(۲۱)٘ عن حذیفۃ(فی ذکرالدجال ) فلما قاموایصلّون نزل عیسیٰ بن مریم امامہم فصلّی بھم فلما انصرف قال ھٰکذا مْر کوابینی وبین عدداللہ...........ویسلط اللہ علیھم المسلمین فیقتلو نھم حتیٰ ان الشجر ولحجرلینادی یا عبداللہ یا عبدالرحمٰن یا مسلم ھٰذالیھودی فقتلھم فیفنیھم اللہ تعالیٰ ویظھر المسلمون فیکسرون الصلیب ویقتلون الخنزیر ویضعون الجزیۃ(مستدرک حاکم ۔ مسلم میں بھی یہ روایت اختصار کے ساتھ آئی ہے۔ اور حافظ ابن حجرنے فتح الباری جلد۶ ص، ۴۵ میںاسے صحیح قرار دیا ہے)
حضرت حُذَیفہ بن یَمان (دجال کا ذکر کرتے ہوئے) بیان کرتے ہیں:’’ پھر جب مسلمان نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوں گے تو اُن کی آنکھوںکے سامنے عیسیٰ ابن مریم اتر آئیں گے اور وہ مسلمانوں کو نماز پڑھائیں گے پھر سلام پھیرنے کے بعد لوگوں سے کہیں گے کہ میرے اور اللہ کے اس دشمن کے درمیان سے ہٹ جاؤ ........اور اللہ دجال کے ساتھیوں پر مسلمانوں کو مسلط کردے گا اور مسلمان انھیں خوب ماریں گے یہاں تک کہ درخت اور پتھر پکار اٹھیں گے اے عبداللہ ، اے عبدالرحمٰن ، اے مسلمان، یہ رہا ایک یہودی، مار اسے۔ اس طرح اللہ ان کو فنا کردے گا اور مسلمان غالب ہوں گے اور صلیب توڑدیں گے، خنزیر کو قتل کردیںگے اور جزیہ ساقط کردیںگے۔ یہ جملہ ۲۱ روایات ہیں جو ۱۴ صحابیوں سے صحیح سندوں کے ساتھ حدیث کی معتبر ترین کتابوں میں وارد ہوئی ہیں۔ اگر چہ ان کے علاوہ دوسری بہت سی احادیث میں بھی یہ ذکر آیا ہے، لیکن طولِ کلام سے بچنے کے لیے ہم نے ان سب کو نقل نہیں کیا ہے بلکہ صرف وہ روایتیں لے لی ہیں جو سند کے لحاظ سے قوی تر ہیں۔
اور جنگ کا خاتمہ کردیں گے (دوسری روایت میں حرت کے بجائے جزیہ کا لفظ ہے ، یعنی جزیہ ختم کردیں گے۔) (دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اُس وقت ملّتوں کے اختلافات ختم ہو کر سب لوگ ایک مِلّت اسلام میں شامل ہوجائیں گے اور اس طرح نہ جنگ ہوگی اور نہ کسی پر جزیہ عائد کیا جائے گا۔

سب خلاف قرآن !!!
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 31-10-11, 11:06 PM   #45
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,486
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم،
رانا صاحب، یہ تھریڈ قادیانیوں کے جواب میں‌لکھا گیا ہے جو اہل سنت کے ایک متفق علیہ عقیدے کی غلط تشریح کر کے گمراہی پھیلاتے ہیں۔ اگر آپ نزول عیسیٰ اور امام مہدی کی آمد پر بحث کرنا چاہتے ہیں تو یہ تھریڈ آپ کے لیے نہیں‌ہے، اس موضوع پر پہلے سے جاری تھریڈز میں تشریف لے جائیے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (01-11-11), احمد نذیر (01-11-11)
جواب

Tags
کتابوں, پہچان, قصہ, لوگ, نماز, نظر, موت, معلوم, آج, آدمی, اللہ, انسان, امیر, اسلام, جواب, حدیث, خون, خلاف, خبر, ختم نبوت, دیکھو, عیسیٰ, عبادت, صحابی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سیاستدانوں' جرنیلوں اور افسر شاہی پر تنقید کرنے والے عوام خود کیا کررہے ہیں؟ جاویداسد خبریں 1 15-12-10 08:56 PM
تبدیلی کتنی ضروری ہے؟ ضروری ہے بھی یا نہیں؟ تبدیلی کا راستہ سیاستدان خود ہموار کررہے ہیں جاویداسد خبریں 2 21-09-10 09:08 PM
سعودی فتویٰ تعلیم اور روزگار کے مقامات پر مردوعورت کا اختلاط حرام Real_Light خبریں 37 29-08-10 03:13 PM
کہاں کی سیر کریں؟ gul2836 پاکستان کی سیاحت 3 01-08-10 07:49 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:51 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger