واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > عقیدہ رسالت




گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا ۔۔۔

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-09-09, 03:38 PM  
گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا ۔۔۔
sahj sahj آف لائن ہے 27-09-09, 03:38 PM

گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام

قرآنی نصوص ، احادیث مبارکہ ، عمل صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ، فتاویٰ ائمہ اور اجماع امت سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح اور عیاں ہے کہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا قتل ہے اس کی معافی کو قبول نہ کیا جائے ۔ لہٰذا مسلم ممالک کے حکمرانوں کو چاہیے کہ ان کے اس منافقانہ طرز عمل سے متاثر ہونے کے بجائے ایک غیور مسلمان کا موقف اختیار کریں ۔

یہود و نصاریٰ شروع دن سے ہی شان اقدس میں نازیبا کلمات کہتے چلے آ رہے ہیں ۔ کبھی یہودیہ عورتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں ، کبھی مردوں نے گستاخانہ قصیدے کہے ۔ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں اشعار پڑھے اور کبھی نازیبا کلمات کہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شان نبوت میں گستاخی کرنے والے بعض مردوں اور عورتوں کو بعض مواقع پر قتل کروا دیا ۔ کبھی صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حکم دے کر اور کبھی انہیں پورے پروگرام کے ساتھ روانہ کر کے ۔ کبھی کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے حب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں خود گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جگر کو چیر دیا اور کسی نے نذر مان لی کہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور قتل کروں گا ۔ کبھی کسی نے یہ عزم کر لیا کہ خود زندہ رہوں گا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گستاخ ۔ اور کبھی کسی نے تمام رشتہ داریوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خود دیکھنے کے لئے گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور یہودیوں کے سردار کا سر آپکے سامنے لا کر رکھ دیا ۔ جو گستاخان مسلمانوں کی تلواروں سے بچے رہے اللہ تعالیٰ نے انہیں کن عذابوں میں مبتلا کیا اور کس رسوائی کا وہ شکار ہوئے اور کس طرح گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر نے اپنے اندر رکھنے کے بجائے باہر پھینک دیا تا کہ دنیا کیلئے عبرت بن جائے کہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انجام کیا ہے انہیں تمام روایات و واقعات کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے یہ اوراق اپنوں اور بیگانوں کو پیغام دے رہے ہیں کہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور بات کا حلیہ نہ بگاڑنا ۔ ذات اور بات کا حلیہ بگاڑنے سے امام الانبیاءعلیہما لسلام کی شان اقدس میں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ آپ اپنی دنیا و آخرت تباہ کر بیٹھو گے ۔ رسوائی مقدر بن جائے گی ۔

جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ رب العزت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دینے والوں کے بارے میں ارشاد فرما رہے ہیں ۔
ان الذین یوذون اللّٰہ ورسولہ لعنھم اللّٰہ فی الدنیا والآخرۃ واعد لھم عذابا مھینا
( 33/احزاب 57 )
” بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا و آخرت میں ان پر لعنت ہے اور ان کیلئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ “

آئیے گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انجام دیکھئے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اسی حوالے سے کارہائے نمایاں ملاحظہ فرمائیے اور اسی بارے میں ائمہ سلف کے فرامین و فتاویٰ بھی پڑھئے پھر فیصلہ فرمائیے کہ ان حالات میں عالم اسلام کی کیا ذمہ داری ہے ۔

یہودیہ عورت کا قتل :

چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :
ان یھودیۃ کانت تشتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم وتقع فیہ ، فخنقھا رجل حتی ماتت ، فاطل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دمھا
( رواہ ابوداود ، کتاب الحدود باب الحکم فیمن سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم )

ایک یہودیہ عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھی ایک آدمی نے اس کا گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا ۔

گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ام ولد کا قتل :

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ :
ایک اندھے شخص کی ایک ام ولد لونڈی تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھی وہ اسے منع کرتا تھا وہ گالیاں دینے سے باز نہیں آتی تھی وہ اسے جھڑکتا تھا مگر وہ نہ رکتی تھی ایک رات اس عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینا شروع کیں اس نے ایک بھالا لے کر اس کے پیٹ میں پیوست کر دیا اور اسے زور سے دبا دیا جس سے وہ مر گئی ۔ صبح اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جمع کرکے فرمایا ۔ میں اس آدمی کو قسم دیتا ہوں جس نے کیا ۔ جو کچھ کیا ۔ میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سن کر ایک نابینا آدمی کھڑا ہو گیا ۔ اضطراب کی کیفیت میں لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا ۔ اس نے آکر کہا ۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اسے منع کرتا تھا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے سے باز نہیں آتی تھی ۔ میں اسے جھڑکتا تھا مگر وہ اس کی پرواہ نہیں کرتی تھی اس کے بطن سے میرے دو ہیروں جیسے بیٹے ہیں اور وہ میری رفیقہ حیات تھی گزشتہ رات جب وہ آپکو گالیاں دینے لگی تو میں نے بھالا لے کر اس کے پیٹ میں پیوست کر دیا میں نے زور سے اسے دبایا یہاں تک کہ وہ مر گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری گفتگو سننے کے بعد فرمایا تم گواہ رہو اس کا خون ہد رہے ۔
( ابوداود ، الحدود ، باب الحکم فیمن سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، نسائی ، تحریم الدم ، باب الحکم فیمن سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم )

گستاخ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور گستاخ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا حکم :
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من سب نبیا قتل ، ومن سب اصحابہ جلد
( رواہ الطبرانی الصغیر صفحہ 236 جلد 1 )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی اسے قتل کیا جائے اور جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو گالی دی اسے کوڑے مارے جائیں ۔


حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا فتویٰ :

حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ :
کنت عند ابی بکر رضی اللہ عنہ ، فتغیظ علیٰ رجل ، فاشتد علیہ ، فقلت : ائذن لی یا خلیفۃ رسول اللّٰہ اضرب عنقہ قال : فاذھبت کلمتی غضبہ ، فقام فدخل ، فارسل الی فقال : ما الذی قلت آنفا ؟ قلت : ائذن لی اضرب عنقہ ، قال : اکنت فاعلا لو امرتک ؟ قلت : نعم قال : لا واللّٰہ ما کانت لبشر بعد رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم
( رواہ ابوداود ، کتاب الحدود باب الحکم فیمن سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم )

میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تھا آپ کسی شخص سے ناراض ہوئے تو وہ بھی جواباً بدکلامی کرنے لگا ۔ میں نے عرض کیا ۔ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ۔ مجھے اجازت دیں ۔ میں اس کی گردن اڑا دوں ۔ میرے ان الفاظ کو سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا سارا غصہ ختم ہو گیا ۔ آپ وہاں سے کھڑے ہوئے اور گھر چلے گئے ۔ گھر جا کر مجھے بلوایا اور فرمانے لگے ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ نے مجھے کیا کہا تھا ۔ میں نے کہا ۔ کہا تھا ۔ کہ آپ رضی اللہ عنہ مجھے اجازت دیں میں اس گستاخ کی گردن اڑا دوں ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرمانے لگے اگر میں تم کو حکم دے دیتا ۔ تو تم یہ کام کرتے ؟ میں نے عرض کیا اگر آپ رضی اللہ عنہ حکم فرماتے تو میں ضرور اس کی گردن اڑا دیتا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۔ نہیں ۔ اللہ کی قسم ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ کسی کے لئے نہیں کہ اس سے بدکلامی کرنے والے کی گردن اڑا دی جائے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے کی ہی گردن اڑائی جائے گی ۔



‘ عصماءبنت مروان کا قتل :

اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :
ھجت امراۃ من خطمۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال : ( من لی بھا ؟ ) فقال رجل من قومھا : انا یا رسول اللّٰہ ، فنھض فقتلھا فاخبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، فقال : ( لا ینتطح فیھا عنزان
( الصارم المسلول 129 )

” خَطمَہ “ قبیلے کی ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس عورت سے کون نمٹے گا ۔ “ اس کی قوم کے ایک آدمی نے کہا ۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کام میں سرانجام دوں گا ، چنانچہ اس نے جا کر اسے قتل کر دیا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو بکریاں اس میں سینگوں سے نہ ٹکرائیں یعنی اس عورت کا خون رائیگاں ہے اور اس کے معاملے میں کوئی دو آپس میں نہ ٹکرائیں ۔ بعض مورخین نے اس کی تفصیل یوں بیان کی ہے ۔

عصماءبنت مروان بنی امیہ بن زید کے خاندان سے تھی وہ یزید بن زید بن حصن الخطمی کی بیوی تھی یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاءو تکلیف دیا کرتی ۔ اسلام میں عیب نکالتی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لوگوں کو اکساتی تھی ۔ عمیر بن عدی الخطمی کو جب اس عورت کی ان باتوں اور اشتعال انگیزی کا علم ہوا ۔ تو کہنے لگا ۔ اے اللہ میں تیری بارگاہ میں نذر مانتا ہوں اگر تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخیر و عافیت مدینہ منورہ لوٹا دیا تو میں اسے ضرور قتل کردوں گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بدر میں تھے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر سے واپس تشریف لائے تو عمیر بن عدی آدھی رات کے وقت اس عورت کے گھر میں داخل ہوئے ۔ تو اس کے اردگرد اس کے بچے سوئے ہوئے تھے ۔ ایک بچہ اس کے سینے پر تھا جسے وہ دودھ پلا رہی تھی ۔ عمیر نے اپنے ہاتھ سے عورت کو ٹٹولا ۔ تو معلوم ہوا کہ یہ عورت اپنے اس بچے کو دودھ پلا رہی ہے ۔ عمیر نے بچے کو اس سے الگ کر دیا ۔ پھر اپنی تلوار کو اس کے سینے پر رکھ کر اسے زور سے دبایا کہ وہ تلوار اس کی پشت سے پار ہو گئی ۔ پھر نماز فجر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو عمیر کی طرف دیکھ کر فرمایا کیا تم نے بنت مروان کو قتل کیا ہے ؟ کہنے لگے ۔ جی ہاں ۔ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔

عمیر کو اس بات سے ذرا ڈر سا لگا کہ کہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی کے خلاف تو قتل نہیں کیا ۔ کہنے لگے ۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس معاملے کی وجہ سے مجھ پر کوئی چیز واجب ہے ؟ فرمایا دو بکریاں اس میں سینگوں سے نہ ٹکرائیں ۔ پس یہ کلمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلی مرتبہ سنا گیا عمیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اردگرد دیکھا پھر فرمایا تم ایسے شخص کو دیکھنا پسند کرتے ہو جس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی غیبی مدد کی ہے تو عمیر بن عدی کو دیکھ لو ۔
( الصارم المسلول 130 )

’ابوعفک یہودی کا قتل :

ابن تیمیہ رحمہ اللہ مورخین کے حوالے سے شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم ابوعفک یہودی کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ :
ان شیخا من بنی عمرو بن عوف یقال لہ ابوعفک وکان شیخا کبیرا قد بلغ عشرین ومائۃ سنۃ حین قدم النبی صلی اللہ علیہ وسلم المدینۃ ، کان یحرض علیٰ عداوۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ولم یدخل فی الاسلام ، فلما خرج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الی بدر ظفرہ اللہ بما ظفرہ ، فحسدہ وبغی فقال ، وذکر قصیدۃ تتضمن ھجو النبی صلی اللہ علیہ وسلم وذم من اتبعہ
( الصارم المسلول 138 )

بنی عمرو بن عوف کا ایک شیخ جسے ابوعفک کہتے تھے وہ نہایت بوڑھا آدمی تھا اس کی عمر 120 سال تھی جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے ۔ تو یہ بوڑھا لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت پر بھڑکاتا تھا اور مسلمان نہیں ہوا تھا جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف نکلے غزوہ بدر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطاءفرمائی تو اس شخص نے حسد کرنا شروع کر دیا اور بغاوت و سرکشی پر اتر آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مذمت میں ہجو کرتے ہوئے ایک قصیدہ کہا ۔ اس قصیدے کو سن کر سالم بن عمیر نے نذر مان لی کہ میں ابوعفک کو قتل کروں گا یا اسے قتل کرتے ہوئے خود مرجاؤں گا ۔ سالم موقع کی تلاش میں تھا ۔ موسم گرما کی ایک رات ابوعفک قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے صحن میں سویا ہوا تھا سالم بن عمیر رضی اللہ عنہ اس کی طرف آئے اور اس کے جگر پر تلوار رکھ دی جس سے وہ بستر پر چیخنے لگا ۔ لوگ اس کی طرف آئے جو اس کے اس قول میں ہم خیال تھے وہ اسے اس کے گھر لے گئے ۔ جس کے بعد اسے قبر میں دفن کر دیا اور کہنے لگے اس کو کس نے قتل کیا ہے ؟ اللہ کی قسم اگر ہم کو معلوم ہو جائے کہ اسے کس نے قتل کیا ہے تو ہم اس کو ضرور قتل کر دیں گے ۔


“ انس بن زنیم الدیلمی کی گستاخی :

انس بن زنیم الدیلمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی اس کو قبیلہ خزاعہ کے ایک بچے نے سن لیا اس نے انس پر حملہ کر دیا انس نے اپنا زخم اپنی قوم کو آ کر دکھایا ۔


واقدی نے لکھا ہے کہ عمرو بن سالم خزاعی قبیلہ خزاعہ کے چالیس سواروں کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدد طلب کرنے کیلئے گیا انہوں نے آ کر اس واقع کا تذکرہ کیا جو انہیں پیش آیا تھا جب قافلہ والے فارغ ہوئے تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انس بن زنیم الدیلمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دیا ۔
( الصارم المسلول139 )

” گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت :

ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من یکفینی عدوی ” میری دشمن کی خبر کون لےگا ؟ تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو قتل کر دیا ۔ “

( الصارم المسلول163 )

مشرک گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قتل :

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
ان رجلا من المشرکین شتم رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم ( من یکفینی عدوی ؟ ) فقام الزبیر بن العوام فقال : انا فبارزہ ، فاعطاہ رسولُ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلمسلبہ
( الصارم المسلول : 177 )
مشرکین میں سے ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے اس دشمن کی کون خبر لے گا ؟ تو حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے عرض کرنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سامان حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو دے دیا ۔ “

11 ۔ کعب بن اشرف یہودی کا قتل :

کعب بن اشرف ایک سرمایا دار متعصب یہودی تھا اسے اسلام سے سخت عداوت اور نفرت تھی جب مدینہ منورہ میں بدر کی فتح کی خوش خبری پہنچی ۔ تو کعب کو یہ سن کر بہت صدمہ اور دکھ ہوا ۔ اور کہنے لگا ۔ اگر یہ خبر درست ہے کہ مکہ کے سارے سردار اور اشراف مارے جا چکے ہیں تو پھر زندہ رہنے سے مر جانا بہتر ہے ۔ جب اس خبر کی تصدیق ہو گی تو کعب بن اشرف مقتولین کی تعزیت کے لئے مکہ روانہ ہوا مقتولین پر مرثئے لکھے ۔ جن کو پڑھ کر وہ خود بھی روتا اور دوسروں کو بھی رلاتا ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف قتال کے لئے لوگوں کو جوش دلاتا رہا ۔ مدینہ واپس آکر اس نے مسلمان عورتوں کے خلاف عشقیہ اشعار کہنے شروع کر دئیے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں بھی اشعار کہے ۔ کعب مسلمانوں کو مختلف طرح کی ایذائیں دیتا ۔ اہل مکہ نے کعب سے پوچھا کہ ہمارا دین بہتر ہے یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ۔ تو اس نے جواب دیا کہ تمہارا دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے بہتر ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حرکات کی وجہ سے اسکے قتل کا پروگرام بنایا اور قتل کے لئے روانہ ہونے والے افراد کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع کی قبرستان تک چھوڑنے آئے ۔ چاندنی رات تھی پھر فرمایا جاؤ ۔ اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے ۔



حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ :
قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم ( من لکعب بن الاشرف ، فانہ قد اذی اللّٰہ ورسولہ ؟ ) فقام محمد بن مسلمۃ فقال : انا یا رسول اللّٰہ اتحب ان اقتلہ ؟ قال نعم قال : فاذن لی ان اقول شیا ، قال : قل
( رواہ البخاری کتاب المغازی باب قتل کعب بن الاشرف ، رواہ مسلم کتاب الجہاد والسیر باب قتل کعب بن الاشرف طاغوف الیھود )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کعب بن اشرف کا کام کون تمام کرے گا ۔ اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کو تکلیف دی ہے اس پر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ۔ اور عرض کی ۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند کرتے ہیں کہ میں اسے قتل کر آؤں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ہاں ۔ مجھ کو یہ پسند ہے ۔ محمد بن مسلمہ نے عرض کیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کچھ کہنے کی اجازت دے دیں یعنی ایسے مبہم کلمات اور ذومعنیٰ الفاظ جنہیں میں کہوں اور وہ سن کر خوش و خرم ہو جائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اجازت ہے ۔ “

محمد بن مسلمہ کعب بن اشرف کے پاس آئے آ کر اس سے کہا کہ یہ شخص ( اشارہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھا ) ہم سے صدقہ مانگتا ہے اس نے ہمیں تھکا مارا ہے اس لئے میں تم سے قرض لینے آیا ہوں ۔ جواباً کعب نے کہا ۔ ابھی آگے دیکھنا اللہ کی قسم بالکل اکتا جاؤ گے ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ چونکہ ہم نے اب ان کی اتباع کر لی ہے جب تک ہم اس کا انجام نہ دیکھ لیں اسے چھوڑنا مناسب نہیں ہے ۔ میں تم سے ایک دو وسق غلہ قرض لینے آیا ہوں کعب نے کہا ۔ میرے پاس کوئی چیز گروی رکھ دو ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ تم کیا چیز چاہتے ہو ۔ کہ میں گروی رکھ دوں ۔ کعب نے کہا ۔

اپنی عورتوں کو گروی رکھ دو ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا تم عرب کے خوبصورت جوان ہو تمہارے پاس ہم اپنی عورتیں کس طرح گروی رکھ سکتے ہیں ۔ کعب نے کہا ۔ پھر اپنے بیٹوں کو گروی رکھ دو ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ ہم اپنے بیٹوں کو گروی کس طرح رکھ سکتے ہیں ۔ کل انہیں اس پر ہر کوئی گالیاں دے گا کہ آپ کو ایک دو وسق غلے کے عوض گروی رکھا گیا تھا ۔ یہ ہمارے لئے بڑی عار ہو گی البتہ ہم آپ کے پاس اپنے اسلحہ کو گروی رکھ سکتے ہیں جس پر کعب راضی ہو گیا محمد بن مسلمہ نے کعب سے کہا کہ میں دوبارہ آؤں گا ۔

دوسری دفعہ محمد بن مسلمہ کعب کے پاس رات کے وقت آئے ۔ ان کے ہمراہ ابو نائلہ بھی تھے یہ کعب کے رضاعی بھائی تھے ۔ پھر انہوں نے اس کے قلعے کے پاس جا کر آواز دی ۔ وہ باہر آنے لگا ۔ تو اس کی بیوی نے کہا مجھے تو یہ آواز ایسی لگتی ہے جیسے اس سے خون ٹپک رہا ہے کعب نے جواب دیا کہ یہ تو محمد بن مسلمہ اور میرے رضاعی بھائی ابونائلہ ہیں اگر شریف آدمی کو رات کے وقت بھی نیزہ بازی کیلئے بلایا جائے تو وہ نکل پڑتا ہے محمد بن مسلمہ اور ابونائلہ کے ہمراہ ابوعبس بن جبر ، حارث بن اوس اور عباد بن بشر بھی تھے ۔

محمد بن مسلمہ نے اپنے ساتھیوں کو ہدایت کی تھی کہ جب کعب آئے تو میں اس کے سر کے بال ہاتھ میں لوں گا اور اسے سونگھنے لگوں گا ۔ جب تمہیں اندازہ ہو جائے کہ میں نے اس کا سر مضبوطی سے پکڑ لیا ہے تو پھر تم اس کو قتل کر ڈالنا ۔ کعب چادر لپٹے ہوئے باہر آیا ۔ اس کا جسم خوشبو سے معطر تھا ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ میں نے آج سے زیادہ عمدہ خوشبو کبھی نہیں سونگھی ۔ کعب نے کہا ۔ میرے پاس عرب کی وہ عورت ہے جو عطر میں ہر وقت بسی رہتی ہے اور حسن و جمال میں بھی اس کی کوئی مثال نہیں محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ کیا مجھے تمہارے سر کو سونگھنے کی اجازت ہے ؟ کعب نے کہا اجازت ہے ۔ محمد بن مسلمہ نے کعب کا سر سونگھا اس کے بعد اس کے ساتھیوں نے سونگھا پھر انہوں نے کہا ۔ دوبارہ سونگھنے کی اجازت ہے ؟ کعب نے کہا ۔ اجازت ہے ۔ پھر جب محمد بن مسلمہ نے پوری طرح سے اسے قابو کر لیا تو اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا کہ تیار ہو جاؤ چنانچہ انہوں نے اسے قتل کر دیا ۔

پھر رات کے آخری حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھتے ہی فرمایا : افلحت الوجوہ ان چہروں نے فلاح پائی اور کامیاب ہوئے ۔ انہوں نے جواباً عرض کیا ووجھک یا رسول اللہ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے بعد کعب بن اشرف کا قلم کیا ہوا سر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے الحمد للہ کہا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ۔
( فتح الباری 272/7 )


سبحان اللہ
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری

 
sahj's Avatar
sahj
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 3420
Reply With Quote
20 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
ghaffarjan (09-11-09), shafresha (02-12-10), پاکستان دوست (02-12-10), نیلم خان (14-11-09), محمد عاصم (05-12-10), معظم (16-11-09), Wahid Mahmood (16-11-09), ایکسٹو (01-12-10), ابو عبداللہ (05-02-11), ارشد کمبوہ (01-12-10), بلال اویسی (01-12-10), حیدر (20-07-10), سام (18-11-09), شمشاد احمد (01-12-10), عادل سہیل (06-12-10), عبداللہ آدم (04-12-10), عبداللہ حیدر (30-09-09), عبداللہ خراسانی (06-11-09), عروج (11-12-10), غلام خان (02-12-10)
پرانا 03-12-10, 06:07 PM   #46
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ایک بات بالکل سمجھ نہیں آتی کہ ڈاکٹر عافیہ کیس کو توہین رسالت سے جوڑنے کی وجہ کیا ہے ۔ ابھی تک میں نے کوئی پاکستانی ایسا نہیں دیکھا جسے ڈاکٹر عافیہ سے ہمدردی نہ ہو۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
sahj (04-12-10), shafresha (04-12-10), فیصل ناصر (03-12-10)
پرانا 03-12-10, 06:11 PM   #47
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرا ایک سوال ہے؟

یقینا توہین رسالت کی سزا سزائے موت ہونی ‌چاہے۔۔۔۔۔۔۔ لیکن
اگر کوئی توہین کے بعد ندامت کااظہار کر دے۔ اور توبہ کرے اور حالات اور قرائن سے بھی واضح ہو کہ یہ شخص واقعی نادم ہے اور سچی توبہ کر ‌رہا ہے۔۔۔۔ تو کیا ایسے شخص توہین رسالت کے جرم میں دی جانے والی سزا کو معاف کرنے کا شرعا کیا حکم ہے؟؟؟؟

میرا مطلب ہے کہ کیا شرعا ایسے شخص کی سزا معاف کی جا سکتی ہے یا نہیں۔

اگر کوئی بھائی تفصیل جواب عنایت فرما دیں تو نوازش ہو گی۔۔۔۔ ‏آج کل کام وغیرہ کی مصروفیات کی وجہ سے وقت نہیں نکل پا رہا۔۔۔ بس جب تھو‎ڑا سا وقت ملتا ہے تو حاضری لگا دیتاہوں۔۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (04-12-10), فیصل ناصر (03-12-10), عبداللہ آدم (04-12-10)
پرانا 03-12-10, 06:29 PM   #48
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس دھاگے میں بھی شاتم رسولوں کی طرف نشاندہی کی گئی ہے ۔ یعنی آدھی سے بھی کہیں زیادہ قوم گستاخ رسول ہے ۔ ان کو سزا دینے کے لیئے ہر گلی کے نکڑ پر عدالت قائم کرنی ہوگی اور ہر روز پھانسی ۔ وزارت بہبود آبادی والے کتنا خوش ہونگے اس عمل سے ۔
بریلوی دیوبندی تاریخ اور اختلافات
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (04-12-10), فیصل ناصر (03-12-10), نورالدین (01-01-11)
پرانا 03-12-10, 06:41 PM   #49
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

قوانین ایک طرح سے زندگی کا لازمی جز ہیں ۔ جب قانون کی پابندی اور پاسداری کی جاتی ہے تو نظام نہایت احسن طریقے سے چلتا ہے ۔ آپ کو غصہ آیا لیکن آپ نے فورم کے قوانین کا خیال رکھا اور نظام میں کسی قسم کی گڑ بڑ نہیں ہوئی ۔
ایک طرف شیریں رحمان ہے جسے دیکھ کر شرمائیں گیلانی اور زرداری ۔ جبکی دوسری طرف ہم لوگ بھی تو ہیں ۔ کیا آج مسلمان مجموعی طور پر وہ کردار رکھتے ہیں کہ جنہیں دیکھ کر کفار یہ کہ سکیں کہ واقعی یہ کسی خاص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں ۔
ویسے تو انبیا کے دشمن ہر قوم میں رہے ہیں اور ہر دور میں رہے ہیں ۔ اور آج بڑھتی ہوئی توہین رسالت میں تمام کا تمام تو نہیں مگر ایک حصہ ضرور امتیوں کے کردار کا بھی ہے ۔
مجھے جس سے محبت ہے تو میں اس کا کردار اپناوں گا اگر کردار نہیں اپنا سکا تو باقی سب باتیں کھوکھلی ہیں اور جھوٹے دعوے ہیں ۔
اور حقیقتاً جھوٹے دعوے ہی ہیں کیونکہ زوال کا سبب قوم کا منفقانہ طرز عمل ہے۔ توہین رسالت کے جلسے میں شامل ہو کر چیخ چیخ کر احتجاج تو کر سکتے ہیں لیکن رشوت کھانا نہیں چھوڑ سکتے ۔
بہت سے لوگ قوم کے زوال کا سبب مغرب کی تقلید کو قرار دیتے ہیں ۔ یہ بھی کچھ نا مناسب ہے۔ کیونکہ اسلامی جمہوریہ جیسی کرپشن مغرب میں کم از کم میں نے تو نہیں دیکھی ۔ کرپشن سے مراد ہر کام میں 2 نمبر طریقہ اختیار کرنا۔
قوم کے زوال کا سبب درحقیقت شیطان کے نقش قدم کی پیروی ہے
آپ شاید میری بات سے اتفاق کریں کہ اگر مسلمان کردار کے پکے اور بات کے سچے ہوتے تو آج دنیائے کفرمیں اتنی جرت نہیں ہوتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کر سکے
شیری رحمان نے توہین رسالت ایکٹ میں ترمیم کا بل جمع کروادیا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (04-12-10), فیصل ناصر (03-12-10), نورالدین (01-01-11)
پرانا 04-12-10, 02:09 AM   #50
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
آپ سب سے میرا ایک سوال ہے جو کفار کے قتل پر غمگین ہیں ۔
کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے والے کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہیے ۔
ان کو پھولوں کا ہار پہنا کر ملک سے باہر بھیج دینا چاہیے ۔
آپ لوگ اپنے ماں باپ کو گالی دینے والے کو تو کبھی معاف نہیں کریں گے
لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے والے کے لیے آپ کے دلوں میں رحمت ہی رحمت ہے
کسی سے نفرت نا کرنے کا یہ مطلب نہیں کے اس کی محبت میں گرفتار ہوا جائے

آسیہ سے محبت یا اس کے عمل کو جائز قرار دینے کی بات نہیں ہورہی
بلکہ کیا آسیہ کو اس جرم میں دی گئی سزا کو رحم کی بنیاد پر معاف کیا جائے یا نہیں پر رائے دی جارہی

ایک عورت ہونے کے ناطے کیا آپ اس بات کو ٹھیک سمجھ سکتی ہیں کے رسول اللہ نے دودھ پلاتی ماں کے سینے سے لگے بچے کو چھڑا اسکو قتل کرنے کی حمایت اس وجہ سے کی ہوگی کے وہ رسول اللہ کی توہین کرتی تھی


میں یا شاہد بھائی یا اور کوئی ممبر بھی یہ نہیں کہہ رہا کے آسیہ نے کوئی اچھا عمل کیا
کوئی ہار پہنانے کو نہیں جارہا
کوئی نہیں چاہتا کے نعوذبااللہ رسول اللہ کی توہین کی جائے

ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں پاکستان میں قوانین کا استعمال کس طرح کیا جاتا ہے
صرف توہین رسالت ہی نہیں دیگر بہت سے قوانین ہیں جن کی روح کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں اور خصوصا توہین رسالت تو 99 فیصد دشمنی کے لئے استعمال ہوتا ہے

ابھی کچھ دن پہلے ہی دو اور مسیحی نوجوانوں کو مقدمے کے دوران ہی قتل کیا گیا بعد میں معلوم ہوا وہ کسی نے ذاتی دشمنی نکالی

چلیں ہم مان بھی لیں آسیہ ان 1 فیصد میں سے ہے جس نے واقعی توہین کی ہے

تو ذرا یہ بھی سوچیں کے وہ کس مذہب سے تعلق رکھتی ہے وہ تو اپنے بچپن سے آج تک یہی کچھ سنتی اور سمجھتی آئی ہے جو اس نے بیان کیا ، ہم حضرت عیسی کو نبی اور پیغمبر مانتے ہیں اور ان کی عزت کرتے ہیں ان سے عقیدت رکھتے ہیں ۔ لیکن کیا عیسائیوں میں ایسا کوئی عقیدہ ہے کے محمد اللہ کے رسول اور پیغمبر ہیں ؟ کیا آسیہ کا بیان اس کے لئے بھی توہین کا وہی پیمانہ رکھتا ہے جو آپ کے لئے ہے

اور اب جبکہ آسیہ اپنے عمل سے تائب ہوکر معافی مانگ رہی ہے
تو
اب ہمارا عمل کیا ہونا چاہئے
کیا ہمیں اس کو معاف کرکے یہ پیغام دینا چاہئے کے ہم اس نبی کے پیروکار ہیں جو سب کے لئے رحمت تھے جو لوگوں کا دل اپنے اخلاق و محبت سے جیت لیا کرتا تھے۔
جو فتح مکہ پر اپنے جانی دشمنوں اور رشتہ داروں کے قاتلوں کے لئے عام معافی کا اعلان کرتے تھے ۔
یا
آسیہ کے بچوں اور دیگر غیر مسلم دنیا کو کسی سفاک و سنگدل اسلام کا چہرہ دکھانا چاہئے اور ان کے آگے پیش کی گئی جھوٹی کہانیوں کو تقویت پہنچانی چاہئے

کیا آپ بھی یہ سمجھتی ہیں کے اب غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے کا کام ختم ہوگیا اور مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ صرف زیادہ بچے پیدا کرکے اور دیگر غیر مسلموں کو ختم کرنے سے ہونا چاہئے ؟

کیا آپ کو علم نہیں کے نبی کا کام کیا تھا
دین کو پھیلانا
کیا آپ کو علم نہیں رسول اللہ نے کس کے آگے دین رکھا
کافروں کے آگے

کیا نبی کی اصل سنت یہ نہیں کے ہم اللہ کے دین کو مزید انسانوں تک پھیلائیں اور اپنے کردار و اخلاق سے ان کو متاثر کریں
یا پھر دین صرف عقائد کی تصحیح ، کفر کے فتوے ، مسالک کی جنگ اور نفرت کی ترویج کا نام رہ گیا ہے

کوئی رسول اللہ کی کردارکشی کرکے اپنی گردن فخِر "حب رسول " کے باعث چاہے اکڑاتا پھرے مگر میں اس" توہین " کو ماننے کے بجائے اپنی گردن جھکا کر" کفر کا فتویٰ" خود پر لگوانا زیادہ پسند کرونگا


لہجے میں کوئی سختی محسوس ہو تو معافی چاہوں گا
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں

Last edited by فیصل ناصر; 04-12-10 at 02:23 AM. وجہ: spelling correction
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
sahj (04-12-10), shafresha (04-12-10), فاروق سرورخان (05-12-10), نورالدین (01-01-11), مرزا عامر (04-12-10)
پرانا 04-12-10, 03:12 AM   #51
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
آپ لوگ اپنے ماں باپ کو گالی دینے والے کو تو کبھی معاف نہیں کریں گے
لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے والے کے لیے آپ کے دلوں میں رحمت ہی رحمت ہے
الحمداللہ میں نے اپنے والدین کو گالیاں دینے والوں کو خلوص دل سے اللہ کی رضا کے لئے معاف کیا ہے اور اُن کی خدمت بھی کی ہے
اور مجھے یہ بھی یقین ہے کے میرے والدین نے بھی ان کو معاف کردیا تھا اور میرے اس فیصلے سے میرے والدین کو انشااللہ راحت ہی ملی ہوگی
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (04-12-10), فاروق سرورخان (05-12-10), نورالدین (01-01-11), مرزا عامر (04-12-10)
پرانا 04-12-10, 10:51 AM   #52
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
آخر اس قسم کی روایات صحیحین میں‌نظر کیوں نہیں آتیں؟؟؟؟
شاہد بھائی آپ صحیحین کی مٹی پلید کرنے کے قائل نہیں ہیں اس لیے صرف آپ کے لیے::

( رواہ البخاری کتاب المغازی باب قتل کعب بن الاشرف ، رواہ مسلم کتاب الجہاد والسیر باب قتل کعب بن الاشرف طاغوف الیھود )

” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کعب بن اشرف کا کام کون تمام کرے گا ۔ اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کو تکلیف دی ہے اس پر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ۔ اور عرض کی ۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند کرتے ہیں کہ میں اسے قتل کر آؤں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ہاں ۔ مجھ کو یہ پسند ہے ۔ محمد بن مسلمہ نے عرض کیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کچھ کہنے کی اجازت دے دیں یعنی ایسے مبہم کلمات اور ذومعنیٰ الفاظ جنہیں میں کہوں اور وہ سن کر خوش و خرم ہو جائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اجازت ہے ۔ “

محمد بن مسلمہ کعب بن اشرف کے پاس آئے آ کر اس سے کہا کہ یہ شخص ( اشارہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھا ) ہم سے صدقہ مانگتا ہے اس نے ہمیں تھکا مارا ہے اس لئے میں تم سے قرض لینے آیا ہوں ۔ جواباً کعب نے کہا ۔ ابھی آگے دیکھنا اللہ کی قسم بالکل اکتا جاؤ گے ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ چونکہ ہم نے اب ان کی اتباع کر لی ہے جب تک ہم اس کا انجام نہ دیکھ لیں اسے چھوڑنا مناسب نہیں ہے ۔ میں تم سے ایک دو وسق غلہ قرض لینے آیا ہوں کعب نے کہا ۔ میرے پاس کوئی چیز گروی رکھ دو ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ تم کیا چیز چاہتے ہو ۔ کہ میں گروی رکھ دوں ۔ کعب نے کہا ۔

اپنی عورتوں کو گروی رکھ دو ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا تم عرب کے خوبصورت جوان ہو تمہارے پاس ہم اپنی عورتیں کس طرح گروی رکھ سکتے ہیں ۔ کعب نے کہا ۔ پھر اپنے بیٹوں کو گروی رکھ دو ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ ہم اپنے بیٹوں کو گروی کس طرح رکھ سکتے ہیں ۔ کل انہیں اس پر ہر کوئی گالیاں دے گا کہ آپ کو ایک دو وسق غلے کے عوض گروی رکھا گیا تھا ۔ یہ ہمارے لئے بڑی عار ہو گی البتہ ہم آپ کے پاس اپنے اسلحہ کو گروی رکھ سکتے ہیں جس پر کعب راضی ہو گیا محمد بن مسلمہ نے کعب سے کہا کہ میں دوبارہ آؤں گا ۔

دوسری دفعہ محمد بن مسلمہ کعب کے پاس رات کے وقت آئے ۔ ان کے ہمراہ ابو نائلہ بھی تھے یہ کعب کے رضاعی بھائی تھے ۔ پھر انہوں نے اس کے قلعے کے پاس جا کر آواز دی ۔ وہ باہر آنے لگا ۔ تو اس کی بیوی نے کہا مجھے تو یہ آواز ایسی لگتی ہے جیسے اس سے خون ٹپک رہا ہے کعب نے جواب دیا کہ یہ تو محمد بن مسلمہ اور میرے رضاعی بھائی ابونائلہ ہیں اگر شریف آدمی کو رات کے وقت بھی نیزہ بازی کیلئے بلایا جائے تو وہ نکل پڑتا ہے محمد بن مسلمہ اور ابونائلہ کے ہمراہ ابوعبس بن جبر ، حارث بن اوس اور عباد بن بشر بھی تھے ۔

محمد بن مسلمہ نے اپنے ساتھیوں کو ہدایت کی تھی کہ جب کعب آئے تو میں اس کے سر کے بال ہاتھ میں لوں گا اور اسے سونگھنے لگوں گا ۔ جب تمہیں اندازہ ہو جائے کہ میں نے اس کا سر مضبوطی سے پکڑ لیا ہے تو پھر تم اس کو قتل کر ڈالنا ۔ کعب چادر لپٹے ہوئے باہر آیا ۔ اس کا جسم خوشبو سے معطر تھا ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ میں نے آج سے زیادہ عمدہ خوشبو کبھی نہیں سونگھی ۔ کعب نے کہا ۔ میرے پاس عرب کی وہ عورت ہے جو عطر میں ہر وقت بسی رہتی ہے اور حسن و جمال میں بھی اس کی کوئی مثال نہیں محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ کیا مجھے تمہارے سر کو سونگھنے کی اجازت ہے ؟ کعب نے کہا اجازت ہے ۔ محمد بن مسلمہ نے کعب کا سر سونگھا اس کے بعد اس کے ساتھیوں نے سونگھا پھر انہوں نے کہا ۔ دوبارہ سونگھنے کی اجازت ہے ؟ کعب نے کہا ۔ اجازت ہے ۔ پھر جب محمد بن مسلمہ نے پوری طرح سے اسے قابو کر لیا تو اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا کہ تیار ہو جاؤ چنانچہ انہوں نے اسے قتل کر دیا ۔

پھر رات کے آخری حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھتے ہی فرمایا : افلحت الوجوہ ان چہروں نے فلاح پائی اور کامیاب ہوئے ۔ انہوں نے جواباً عرض کیا ووجھک یا رسول اللہ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے بعد کعب بن اشرف کا قلم کیا ہوا سر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے الحمد للہ کہا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ۔
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (04-12-10), سحر (04-12-10), عادل سہیل (06-12-10)
پرانا 04-12-10, 10:55 AM   #53
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فیصل بھائی
بات آسیہ یا کسی اور کی نہیں
بات سوچ کی ہے ۔ بات دل میں رحم کی ہے ۔ عورت ہونے پر رحم کی بات آپ کررہے ہیں ۔
تو ہم ڈاکٹر عافیہ کی بات کرسکتے ہیں ، اس معاملے میں امریکہ اور کفار کے دلوں میں رحم کی بات تو رہنے دیں ۔ ہم مسلمانوں کے دلوں میں کتنا رحم ہے یہ آپ کو اسی فورم میں معلوم ہوگیا ہوگا
کہ کسی نے یہاں تک کہا کہ امریکہ میں رہنے کا بہت شوق تھا نا عافیہ کو تو رہے ۔ اور جو کرے گی تو بھرے گی اور بہت کچھ عافیہ کے خلاف انہی مسلمان بھائیوں نے کہا ہے

ویسے مسلمانوں کے کردار کے خلاف بولنا بھی ایک فیشن بن گیا ہے ۔
اچھے برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں
لیکن آج بھی بہت مسلمان خالص اسلام پر عمل کرنے والے ملیں گے ۔
بات صرف آسیہ کو معاف کرنے کی نہیں
بات یہ ہے کہ عدالت نے اس کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے اب اگر اس کو معاف کیا جاتا ہے تو نا عدالت کی کوئی اہمیت باقی رہتی ہے اور نا توہین رسالت قانون کی
اور جہاں تک آسیہ کے معافی مانگنے کی بات ہے
کسی قانون میں فیصلہ سنانے کے بعد معافی مانگنے پر کیا جج کا فیصلہ بدل جاتا ہے ۔
وہ اپیل کرسکتی ہے اور اپیل پر بھی عدالت ہی فیصلہ کرے گی
لیکن کسی مقدمے کے بغیر عدالتی فیصلے پر معافی کیا معنی رکھتی ہے ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
sahj (04-12-10), shafresha (04-12-10), شمشاد احمد (04-12-10), عبداللہ آدم (04-12-10)
کمائي نے سحر کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
04-12-10 شمشاد احمد کسی قانون میں فیصلہ سنانے کے بعد معافی مانگنے پر کیا جج کا فیصلہ بدل جاتا ہے ۔ 10
پرانا 04-12-10, 11:23 AM   #54
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,787
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
شاہد بھائی آپ صحیحین کی مٹی پلید کرنے کے قائل نہیں ہیں اس لیے صرف آپ کے لیے::

( رواہ البخاری کتاب المغازی باب قتل کعب بن الاشرف ، رواہ مسلم کتاب الجہاد والسیر باب قتل کعب بن الاشرف طاغوف الیھود )

” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کعب بن اشرف کا کام کون تمام کرے گا ۔ اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کو تکلیف دی ہے اس پر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ۔ اور عرض کی ۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند کرتے ہیں کہ میں اسے قتل کر آؤں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ہاں ۔ مجھ کو یہ پسند ہے ۔ محمد بن مسلمہ نے عرض کیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کچھ کہنے کی اجازت دے دیں یعنی ایسے مبہم کلمات اور ذومعنیٰ الفاظ جنہیں میں کہوں اور وہ سن کر خوش و خرم ہو جائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اجازت ہے ۔ “

محمد بن مسلمہ کعب بن اشرف کے پاس آئے آ کر اس سے کہا کہ یہ شخص ( اشارہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھا ) ہم سے صدقہ مانگتا ہے اس نے ہمیں تھکا مارا ہے اس لئے میں تم سے قرض لینے آیا ہوں ۔ جواباً کعب نے کہا ۔ ابھی آگے دیکھنا اللہ کی قسم بالکل اکتا جاؤ گے ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ چونکہ ہم نے اب ان کی اتباع کر لی ہے جب تک ہم اس کا انجام نہ دیکھ لیں اسے چھوڑنا مناسب نہیں ہے ۔ میں تم سے ایک دو وسق غلہ قرض لینے آیا ہوں کعب نے کہا ۔ میرے پاس کوئی چیز گروی رکھ دو ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ تم کیا چیز چاہتے ہو ۔ کہ میں گروی رکھ دوں ۔ کعب نے کہا ۔

اپنی عورتوں کو گروی رکھ دو ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا تم عرب کے خوبصورت جوان ہو تمہارے پاس ہم اپنی عورتیں کس طرح گروی رکھ سکتے ہیں ۔ کعب نے کہا ۔ پھر اپنے بیٹوں کو گروی رکھ دو ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ ہم اپنے بیٹوں کو گروی کس طرح رکھ سکتے ہیں ۔ کل انہیں اس پر ہر کوئی گالیاں دے گا کہ آپ کو ایک دو وسق غلے کے عوض گروی رکھا گیا تھا ۔ یہ ہمارے لئے بڑی عار ہو گی البتہ ہم آپ کے پاس اپنے اسلحہ کو گروی رکھ سکتے ہیں جس پر کعب راضی ہو گیا محمد بن مسلمہ نے کعب سے کہا کہ میں دوبارہ آؤں گا ۔

دوسری دفعہ محمد بن مسلمہ کعب کے پاس رات کے وقت آئے ۔ ان کے ہمراہ ابو نائلہ بھی تھے یہ کعب کے رضاعی بھائی تھے ۔ پھر انہوں نے اس کے قلعے کے پاس جا کر آواز دی ۔ وہ باہر آنے لگا ۔ تو اس کی بیوی نے کہا مجھے تو یہ آواز ایسی لگتی ہے جیسے اس سے خون ٹپک رہا ہے کعب نے جواب دیا کہ یہ تو محمد بن مسلمہ اور میرے رضاعی بھائی ابونائلہ ہیں اگر شریف آدمی کو رات کے وقت بھی نیزہ بازی کیلئے بلایا جائے تو وہ نکل پڑتا ہے محمد بن مسلمہ اور ابونائلہ کے ہمراہ ابوعبس بن جبر ، حارث بن اوس اور عباد بن بشر بھی تھے ۔

محمد بن مسلمہ نے اپنے ساتھیوں کو ہدایت کی تھی کہ جب کعب آئے تو میں اس کے سر کے بال ہاتھ میں لوں گا اور اسے سونگھنے لگوں گا ۔ جب تمہیں اندازہ ہو جائے کہ میں نے اس کا سر مضبوطی سے پکڑ لیا ہے تو پھر تم اس کو قتل کر ڈالنا ۔ کعب چادر لپٹے ہوئے باہر آیا ۔ اس کا جسم خوشبو سے معطر تھا ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ میں نے آج سے زیادہ عمدہ خوشبو کبھی نہیں سونگھی ۔ کعب نے کہا ۔ میرے پاس عرب کی وہ عورت ہے جو عطر میں ہر وقت بسی رہتی ہے اور حسن و جمال میں بھی اس کی کوئی مثال نہیں محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ کیا مجھے تمہارے سر کو سونگھنے کی اجازت ہے ؟ کعب نے کہا اجازت ہے ۔ محمد بن مسلمہ نے کعب کا سر سونگھا اس کے بعد اس کے ساتھیوں نے سونگھا پھر انہوں نے کہا ۔ دوبارہ سونگھنے کی اجازت ہے ؟ کعب نے کہا ۔ اجازت ہے ۔ پھر جب محمد بن مسلمہ نے پوری طرح سے اسے قابو کر لیا تو اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا کہ تیار ہو جاؤ چنانچہ انہوں نے اسے قتل کر دیا ۔

پھر رات کے آخری حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھتے ہی فرمایا : افلحت الوجوہ ان چہروں نے فلاح پائی اور کامیاب ہوئے ۔ انہوں نے جواباً عرض کیا ووجھک یا رسول اللہ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے بعد کعب بن اشرف کا قلم کیا ہوا سر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے الحمد للہ کہا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ۔
آپ کے حسن ظن کا شکریہ بھائی۔۔۔۔

ناجانے کیوں (اللہ مجھے ہدایت دے) اس روایت نے میری طبیعت کو مکدر کردیا ہے!!!

تو گویا گستاخانِ رسول کو دھوکے اور عیاری سے بھی ہلاک کیا جانا مستحب و مستحسن ہے!!!!
یعنیٰ
کسی نا کسی حال میں اُنہیں ہلاک ہی کرنا ضروری ہے۔۔۔۔
__________________
میں‌تمھارے اس حق کے لیئے کہ تم مجھ سے "اختلاف" کرسکو، آخری وقت تک لڑوں‌گا!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
sahj (04-12-10), فاروق سرورخان (04-12-10), نورالدین (01-01-11), شمشاد احمد (04-12-10), عبداللہ آدم (04-12-10)
پرانا 04-12-10, 12:37 PM   #55
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
آپ کے نزدیک یہ رحمت ہے ؟

آپ کو اس کہانی پر یقین ہے ؟

میرے نزدیک یہ "توہین رسول اللہ "ہے
اس پر" توہین رسالت" کا قانون لاگو ہونا چاہئے
یہ رسول اللہ کی کردار کشی ہے
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
الحمد اللہ یہ ہے میرے پیارے نبی کا نرم دل اور جذبہ رحم
مجھے اس واقعے کی صحت پر رتی برابر بھی شبہ نہیں چاہے اس کا کوئی حوالہ ہو یا نا ہو -
واصف علی واصف ا ایک قول ہے کہ::

اخلاقیات کا دین اور ہے اور دین کی اخلاقیات اور!!!

اسلام کو اپنے""میعار اخلاق"" پر پرکھنے کی بجائے اسلام پر خود کو پرکھنے کی کوشش کریں تو ایسے تضادات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
sahj (04-12-10), shafresha (05-12-10), شمشاد احمد (04-12-10), عادل سہیل (06-12-10)
پرانا 04-12-10, 02:51 PM   #56
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جی آپ دین کو سمجھنے کی بات کررہے ہیں اور میں رسول اللہ کی شخصیت و کردار کو بتانا چاہتا ہوں

اس نکتے کو سمجھے بغیر گفتگو بیکار ہے
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-12-10), فاروق سرورخان (04-12-10)
پرانا 04-12-10, 03:25 PM   #57
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

كيا رسول اللہ صلي اللہ عليہ والہ وسلم كي شخصيت اور كردار دين سے ہٹ كر كئي چيز ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-12-10), عبداللہ آدم (04-12-10)
پرانا 04-12-10, 05:08 PM   #58
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کیا آپ رسول اللہ کو ایک جابر ،سنگدل ،سفاک ، شخصیت کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں ؟؟
کوئی بھی "رحمت اللعالمین" کے معافی بیان کرنے کے بجائے
سنگدلی و سفاکیت کی ایک نئی روایت سامنے لے آتا ہے

پھر آپ اللہ کا دیا ہوا " رحمت اللعالمین "کا لقب رسول اللہ کی ذات سے ہٹا کیوں نہیں دیتے ؟

میں پھر کہتا ہوں محمد کی شخصیت کے جس روپ کو آپ پیش کرنا چاہتے ہیں یہی "توہین رسالت " ہے
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-12-10), فاروق سرورخان (04-12-10), نورالدین (01-01-11)
پرانا 04-12-10, 05:40 PM   #59
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فیصل بھائی
ذرا آرام سے
اگر آپ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کا یہ پہلو سمجھ نہیں آرہا تو اس کا مطلب ہر گز نہیں کہ یہ پہلو غلط ہے
یہ پہلو قطعی جابر اور سنگدل نہیں ، یہ آپ کی سوچ ہے کہ یہ پہلو سنگدلی ہے ۔

بے شک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رحمت العالمین ہیں ۔
اور میں ان تمام روایات کو تسلیم کرنے کے بعد بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سو مرتبہ رحمت العامین کہتی ہوں ۔

پہلے اپنے ذہن میں چند باتیں کلئیر کریں ، پہر آپ کو بات سمجھ آئے گی ۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عام شخصیت نہیں ہیں ۔ میں صرف عزت اور تقدس کے لحاظ سے نہیں کہہ رہی ہوں بلکہ منصب کے اعتبار سے کہہ رہی ہوں ۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عمل اللہ کے حکم کے تابع ہوتا تھا ۔
دین اسلام کی بنیاد قرآن اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور عمل پر قائم ہے
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے ۔ دین اسلام کی عظمت کو قائم رکھنے کے لیے ۔
اس لیے دونوں پہلووں پر ذور دیا گیا معاف بھی کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گستاخوں کو
اور جو حد سے گزرے ہوئے تھے ان کو سزا بھی دی گئی

اسلام دشمنوں پر رعب بہت ضروری ہوتا ہے، اس لیے کہ کفار میں جو فساد کرنے والے ہیں ان کی فطرت سے اللہ ہم سے ذیادہ جانتا ہے ۔
ایسے لوگوں کو جنہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ہو ان کو قتل کی سزا دینا ، کوئی سنگدلی نہیں ہے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-12-10), ھارون اعظم (04-12-10), مسٹر شیف (05-12-10), شمشاد احمد (04-12-10), طاھر (13-12-10), عادل سہیل (06-12-10), عبداللہ آدم (04-12-10)
پرانا 04-12-10, 05:59 PM   #60
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سنگدلی و سفاکیت کی ایک نئی روایت سامنے لے آتا ہے

جناب فیصل بھائی!

بس جو دل کو نا بھائے...............اس پر اتنے بڑے بہتان!!!یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی احآدیث ہیں، اور قرآن کی تشریح ان سے ہو گی نہ کہ ہماری perceptions سے................!!!یا تو سیدھا انکار کر دیں کہ بات ہی ختم ہوجائے...................یہ مین میخ تو قرآن میں بھی بقول بدر بھائی کے بندہ کمر باندھ لے تو نکال سکتا ہے.نعوذ باللہ

جناب میں کون ہوتا ہوں یا اور کوئی خود گھر سے سامنے تو نہیں لے آتے...............یہ وہ دین ہے جس کا ذمہ اللہ نے لیا ہے اور یہ وہ مسئلہ ہے جس میں آج تک کسی بھی صحآبی.تابعی.محدث.امام.عالم یا فرقے کا قطعا اختلاف نہیں رہا... ...............اور قرآن کی تشریح آج تک انہی احآدیث مبارکہ سے ہوئ ہے نہ کہ...........پھجے چھولے والے کے پاس یہ حق ہے.............!!!
ہے................

قرآن میں آپ کو یہ "سنگدلی" اور "سفاکی" اور زیادہ ملے گی................فرمائیں تو عرض کرنا شروع کروں!!!

آپ جیسے تمام اصحاب کاش کہ دین کو اپنی سمجھ سے سمجھنے کی بجائے...............قرآن و سنت سے سمجھیں.............

اور جو غزوات ہوئے ان میں کتنی "سنگدلانہ" کاروائیاں کی گئیں تھیں................ ان کو بھی ہم جھٹلا دیں؟؟

کہ یہ رحمت اللعالمین ہونے کے منافی ہیں...................

ایک آیت ہے کہ::

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ

اور (اے رسولِ محتشم!) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر
الانبیاء:107

اور دوسری آیت کہتی ہے کہ::

مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ
محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اﷲ کے رسول ہیں، اور جو لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت اور سنگت میں ہیں (وہ) کافروں پر بہت سخت اور زور آور ہیں آپس میں بہت نرم دل اور شفیق ہیں۔
الفتح:آخری آیت


آُپ سے گزارش ہے کہ قرآن کے اس تضاد کو دور فرمائے...................
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-12-10), فاروق سرورخان (04-12-10)
جواب

Tags
پسند, واقعات, قدم, قرآنی, قصہ, لوگ, نفرت, نماز, مکہ, ماں, مجید, معلوم, آج, آدمی, اللہ, اسلام, اشعار, بھائی, تلاش, حسن, غزوہ بدر, صحابہ, صحابی, صدقہ, صدمہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
موہنِ رسول کی سزائے قتل پر ائمہ اربعہ اور علماء امت کا اجماع ! sahj عقیدہ رسالت 0 09-01-11 05:17 PM
گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا موت ہے! علمائے کرام کا متفقہ فیصلہ ALI-OAD اسلام اور عصر حاضر 6 03-01-11 09:22 PM
گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ کا کلام آبی ٹوکول اپکے کالم 0 15-12-10 06:36 AM
حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام چیتا چالباز اخلاق و آداب 6 19-10-10 05:41 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:51 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger