| 20 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | ghaffarjan (09-11-09), shafresha (02-12-10), پاکستان دوست (02-12-10), نیلم خان (14-11-09), محمد عاصم (05-12-10), معظم (16-11-09), Wahid Mahmood (16-11-09), ایکسٹو (01-12-10), ابو عبداللہ (05-02-11), ارشد کمبوہ (01-12-10), بلال اویسی (01-12-10), حیدر (20-07-10), سام (18-11-09), شمشاد احمد (01-12-10), عادل سہیل (06-12-10), عبداللہ آدم (04-12-10), عبداللہ حیدر (30-09-09), عبداللہ خراسانی (06-11-09), عروج (11-12-10), غلام خان (02-12-10) |
|
|
#46 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایک بات بالکل سمجھ نہیں آتی کہ ڈاکٹر عافیہ کیس کو توہین رسالت سے جوڑنے کی وجہ کیا ہے ۔ ابھی تک میں نے کوئی پاکستانی ایسا نہیں دیکھا جسے ڈاکٹر عافیہ سے ہمدردی نہ ہو۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
|
|
#47 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرا ایک سوال ہے؟
یقینا توہین رسالت کی سزا سزائے موت ہونی چاہے۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اگر کوئی توہین کے بعد ندامت کااظہار کر دے۔ اور توبہ کرے اور حالات اور قرائن سے بھی واضح ہو کہ یہ شخص واقعی نادم ہے اور سچی توبہ کر رہا ہے۔۔۔۔ تو کیا ایسے شخص توہین رسالت کے جرم میں دی جانے والی سزا کو معاف کرنے کا شرعا کیا حکم ہے؟؟؟؟ میرا مطلب ہے کہ کیا شرعا ایسے شخص کی سزا معاف کی جا سکتی ہے یا نہیں۔ اگر کوئی بھائی تفصیل جواب عنایت فرما دیں تو نوازش ہو گی۔۔۔۔ آج کل کام وغیرہ کی مصروفیات کی وجہ سے وقت نہیں نکل پا رہا۔۔۔ بس جب تھوڑا سا وقت ملتا ہے تو حاضری لگا دیتاہوں۔۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#48 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس دھاگے میں بھی شاتم رسولوں کی طرف نشاندہی کی گئی ہے ۔ یعنی آدھی سے بھی کہیں زیادہ قوم گستاخ رسول ہے ۔ ان کو سزا دینے کے لیئے ہر گلی کے نکڑ پر عدالت قائم کرنی ہوگی اور ہر روز پھانسی ۔ وزارت بہبود آبادی والے کتنا خوش ہونگے اس عمل سے ۔
بریلوی دیوبندی تاریخ اور اختلافات |
|
|
|
|
|
#49 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
قوانین ایک طرح سے زندگی کا لازمی جز ہیں ۔ جب قانون کی پابندی اور پاسداری کی جاتی ہے تو نظام نہایت احسن طریقے سے چلتا ہے ۔ آپ کو غصہ آیا لیکن آپ نے فورم کے قوانین کا خیال رکھا اور نظام میں کسی قسم کی گڑ بڑ نہیں ہوئی ۔
ایک طرف شیریں رحمان ہے جسے دیکھ کر شرمائیں گیلانی اور زرداری ۔ جبکی دوسری طرف ہم لوگ بھی تو ہیں ۔ کیا آج مسلمان مجموعی طور پر وہ کردار رکھتے ہیں کہ جنہیں دیکھ کر کفار یہ کہ سکیں کہ واقعی یہ کسی خاص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں ۔ ویسے تو انبیا کے دشمن ہر قوم میں رہے ہیں اور ہر دور میں رہے ہیں ۔ اور آج بڑھتی ہوئی توہین رسالت میں تمام کا تمام تو نہیں مگر ایک حصہ ضرور امتیوں کے کردار کا بھی ہے ۔ مجھے جس سے محبت ہے تو میں اس کا کردار اپناوں گا اگر کردار نہیں اپنا سکا تو باقی سب باتیں کھوکھلی ہیں اور جھوٹے دعوے ہیں ۔ اور حقیقتاً جھوٹے دعوے ہی ہیں کیونکہ زوال کا سبب قوم کا منفقانہ طرز عمل ہے۔ توہین رسالت کے جلسے میں شامل ہو کر چیخ چیخ کر احتجاج تو کر سکتے ہیں لیکن رشوت کھانا نہیں چھوڑ سکتے ۔ بہت سے لوگ قوم کے زوال کا سبب مغرب کی تقلید کو قرار دیتے ہیں ۔ یہ بھی کچھ نا مناسب ہے۔ کیونکہ اسلامی جمہوریہ جیسی کرپشن مغرب میں کم از کم میں نے تو نہیں دیکھی ۔ کرپشن سے مراد ہر کام میں 2 نمبر طریقہ اختیار کرنا۔ قوم کے زوال کا سبب درحقیقت شیطان کے نقش قدم کی پیروی ہے آپ شاید میری بات سے اتفاق کریں کہ اگر مسلمان کردار کے پکے اور بات کے سچے ہوتے تو آج دنیائے کفرمیں اتنی جرت نہیں ہوتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کر سکے شیری رحمان نے توہین رسالت ایکٹ میں ترمیم کا بل جمع کروادیا |
|
|
|
|
|
#50 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
آسیہ سے محبت یا اس کے عمل کو جائز قرار دینے کی بات نہیں ہورہی بلکہ کیا آسیہ کو اس جرم میں دی گئی سزا کو رحم کی بنیاد پر معاف کیا جائے یا نہیں پر رائے دی جارہی ایک عورت ہونے کے ناطے کیا آپ اس بات کو ٹھیک سمجھ سکتی ہیں کے رسول اللہ نے دودھ پلاتی ماں کے سینے سے لگے بچے کو چھڑا اسکو قتل کرنے کی حمایت اس وجہ سے کی ہوگی کے وہ رسول اللہ کی توہین کرتی تھی میں یا شاہد بھائی یا اور کوئی ممبر بھی یہ نہیں کہہ رہا کے آسیہ نے کوئی اچھا عمل کیا کوئی ہار پہنانے کو نہیں جارہا کوئی نہیں چاہتا کے نعوذبااللہ رسول اللہ کی توہین کی جائے ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں پاکستان میں قوانین کا استعمال کس طرح کیا جاتا ہے صرف توہین رسالت ہی نہیں دیگر بہت سے قوانین ہیں جن کی روح کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں اور خصوصا توہین رسالت تو 99 فیصد دشمنی کے لئے استعمال ہوتا ہے ابھی کچھ دن پہلے ہی دو اور مسیحی نوجوانوں کو مقدمے کے دوران ہی قتل کیا گیا بعد میں معلوم ہوا وہ کسی نے ذاتی دشمنی نکالی چلیں ہم مان بھی لیں آسیہ ان 1 فیصد میں سے ہے جس نے واقعی توہین کی ہے تو ذرا یہ بھی سوچیں کے وہ کس مذہب سے تعلق رکھتی ہے وہ تو اپنے بچپن سے آج تک یہی کچھ سنتی اور سمجھتی آئی ہے جو اس نے بیان کیا ، ہم حضرت عیسی کو نبی اور پیغمبر مانتے ہیں اور ان کی عزت کرتے ہیں ان سے عقیدت رکھتے ہیں ۔ لیکن کیا عیسائیوں میں ایسا کوئی عقیدہ ہے کے محمد اللہ کے رسول اور پیغمبر ہیں ؟ کیا آسیہ کا بیان اس کے لئے بھی توہین کا وہی پیمانہ رکھتا ہے جو آپ کے لئے ہے اور اب جبکہ آسیہ اپنے عمل سے تائب ہوکر معافی مانگ رہی ہے تو اب ہمارا عمل کیا ہونا چاہئے کیا ہمیں اس کو معاف کرکے یہ پیغام دینا چاہئے کے ہم اس نبی کے پیروکار ہیں جو سب کے لئے رحمت تھے جو لوگوں کا دل اپنے اخلاق و محبت سے جیت لیا کرتا تھے۔جو فتح مکہ پر اپنے جانی دشمنوں اور رشتہ داروں کے قاتلوں کے لئے عام معافی کا اعلان کرتے تھے ۔ یا آسیہ کے بچوں اور دیگر غیر مسلم دنیا کو کسی سفاک و سنگدل اسلام کا چہرہ دکھانا چاہئے اور ان کے آگے پیش کی گئی جھوٹی کہانیوں کو تقویت پہنچانی چاہئے کیا آپ بھی یہ سمجھتی ہیں کے اب غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے کا کام ختم ہوگیا اور مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ صرف زیادہ بچے پیدا کرکے اور دیگر غیر مسلموں کو ختم کرنے سے ہونا چاہئے ؟ کیا آپ کو علم نہیں کے نبی کا کام کیا تھا دین کو پھیلانا کیا آپ کو علم نہیں رسول اللہ نے کس کے آگے دین رکھا کافروں کے آگے کیا نبی کی اصل سنت یہ نہیں کے ہم اللہ کے دین کو مزید انسانوں تک پھیلائیں اور اپنے کردار و اخلاق سے ان کو متاثر کریں یا پھر دین صرف عقائد کی تصحیح ، کفر کے فتوے ، مسالک کی جنگ اور نفرت کی ترویج کا نام رہ گیا ہے کوئی رسول اللہ کی کردارکشی کرکے اپنی گردن فخِر "حب رسول " کے باعث چاہے اکڑاتا پھرے مگر میں اس" توہین " کو ماننے کے بجائے اپنی گردن جھکا کر" کفر کا فتویٰ" خود پر لگوانا زیادہ پسند کرونگا لہجے میں کوئی سختی محسوس ہو تو معافی چاہوں گا
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں Last edited by فیصل ناصر; 04-12-10 at 02:23 AM. وجہ: spelling correction |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | sahj (04-12-10), shafresha (04-12-10), فاروق سرورخان (05-12-10), نورالدین (01-01-11), مرزا عامر (04-12-10) |
|
|
#51 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اور مجھے یہ بھی یقین ہے کے میرے والدین نے بھی ان کو معاف کردیا تھا اور میرے اس فیصلے سے میرے والدین کو انشااللہ راحت ہی ملی ہوگی |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#52 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
شاہد بھائی آپ صحیحین کی مٹی پلید کرنے کے قائل نہیں ہیں اس لیے صرف آپ کے لیے::
( رواہ البخاری کتاب المغازی باب قتل کعب بن الاشرف ، رواہ مسلم کتاب الجہاد والسیر باب قتل کعب بن الاشرف طاغوف الیھود ) ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کعب بن اشرف کا کام کون تمام کرے گا ۔ اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کو تکلیف دی ہے اس پر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ۔ اور عرض کی ۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند کرتے ہیں کہ میں اسے قتل کر آؤں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ہاں ۔ مجھ کو یہ پسند ہے ۔ محمد بن مسلمہ نے عرض کیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کچھ کہنے کی اجازت دے دیں یعنی ایسے مبہم کلمات اور ذومعنیٰ الفاظ جنہیں میں کہوں اور وہ سن کر خوش و خرم ہو جائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اجازت ہے ۔ “ محمد بن مسلمہ کعب بن اشرف کے پاس آئے آ کر اس سے کہا کہ یہ شخص ( اشارہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھا ) ہم سے صدقہ مانگتا ہے اس نے ہمیں تھکا مارا ہے اس لئے میں تم سے قرض لینے آیا ہوں ۔ جواباً کعب نے کہا ۔ ابھی آگے دیکھنا اللہ کی قسم بالکل اکتا جاؤ گے ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ چونکہ ہم نے اب ان کی اتباع کر لی ہے جب تک ہم اس کا انجام نہ دیکھ لیں اسے چھوڑنا مناسب نہیں ہے ۔ میں تم سے ایک دو وسق غلہ قرض لینے آیا ہوں کعب نے کہا ۔ میرے پاس کوئی چیز گروی رکھ دو ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ تم کیا چیز چاہتے ہو ۔ کہ میں گروی رکھ دوں ۔ کعب نے کہا ۔ اپنی عورتوں کو گروی رکھ دو ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا تم عرب کے خوبصورت جوان ہو تمہارے پاس ہم اپنی عورتیں کس طرح گروی رکھ سکتے ہیں ۔ کعب نے کہا ۔ پھر اپنے بیٹوں کو گروی رکھ دو ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ ہم اپنے بیٹوں کو گروی کس طرح رکھ سکتے ہیں ۔ کل انہیں اس پر ہر کوئی گالیاں دے گا کہ آپ کو ایک دو وسق غلے کے عوض گروی رکھا گیا تھا ۔ یہ ہمارے لئے بڑی عار ہو گی البتہ ہم آپ کے پاس اپنے اسلحہ کو گروی رکھ سکتے ہیں جس پر کعب راضی ہو گیا محمد بن مسلمہ نے کعب سے کہا کہ میں دوبارہ آؤں گا ۔ دوسری دفعہ محمد بن مسلمہ کعب کے پاس رات کے وقت آئے ۔ ان کے ہمراہ ابو نائلہ بھی تھے یہ کعب کے رضاعی بھائی تھے ۔ پھر انہوں نے اس کے قلعے کے پاس جا کر آواز دی ۔ وہ باہر آنے لگا ۔ تو اس کی بیوی نے کہا مجھے تو یہ آواز ایسی لگتی ہے جیسے اس سے خون ٹپک رہا ہے کعب نے جواب دیا کہ یہ تو محمد بن مسلمہ اور میرے رضاعی بھائی ابونائلہ ہیں اگر شریف آدمی کو رات کے وقت بھی نیزہ بازی کیلئے بلایا جائے تو وہ نکل پڑتا ہے محمد بن مسلمہ اور ابونائلہ کے ہمراہ ابوعبس بن جبر ، حارث بن اوس اور عباد بن بشر بھی تھے ۔ محمد بن مسلمہ نے اپنے ساتھیوں کو ہدایت کی تھی کہ جب کعب آئے تو میں اس کے سر کے بال ہاتھ میں لوں گا اور اسے سونگھنے لگوں گا ۔ جب تمہیں اندازہ ہو جائے کہ میں نے اس کا سر مضبوطی سے پکڑ لیا ہے تو پھر تم اس کو قتل کر ڈالنا ۔ کعب چادر لپٹے ہوئے باہر آیا ۔ اس کا جسم خوشبو سے معطر تھا ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ میں نے آج سے زیادہ عمدہ خوشبو کبھی نہیں سونگھی ۔ کعب نے کہا ۔ میرے پاس عرب کی وہ عورت ہے جو عطر میں ہر وقت بسی رہتی ہے اور حسن و جمال میں بھی اس کی کوئی مثال نہیں محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ کیا مجھے تمہارے سر کو سونگھنے کی اجازت ہے ؟ کعب نے کہا اجازت ہے ۔ محمد بن مسلمہ نے کعب کا سر سونگھا اس کے بعد اس کے ساتھیوں نے سونگھا پھر انہوں نے کہا ۔ دوبارہ سونگھنے کی اجازت ہے ؟ کعب نے کہا ۔ اجازت ہے ۔ پھر جب محمد بن مسلمہ نے پوری طرح سے اسے قابو کر لیا تو اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا کہ تیار ہو جاؤ چنانچہ انہوں نے اسے قتل کر دیا ۔ پھر رات کے آخری حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھتے ہی فرمایا : افلحت الوجوہ ان چہروں نے فلاح پائی اور کامیاب ہوئے ۔ انہوں نے جواباً عرض کیا ووجھک یا رسول اللہ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے بعد کعب بن اشرف کا قلم کیا ہوا سر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے الحمد للہ کہا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ۔
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد : "وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة، أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة" |
|
|
|
|
|
#53 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فیصل بھائی
بات آسیہ یا کسی اور کی نہیں بات سوچ کی ہے ۔ بات دل میں رحم کی ہے ۔ عورت ہونے پر رحم کی بات آپ کررہے ہیں ۔ تو ہم ڈاکٹر عافیہ کی بات کرسکتے ہیں ، اس معاملے میں امریکہ اور کفار کے دلوں میں رحم کی بات تو رہنے دیں ۔ ہم مسلمانوں کے دلوں میں کتنا رحم ہے یہ آپ کو اسی فورم میں معلوم ہوگیا ہوگا کہ کسی نے یہاں تک کہا کہ امریکہ میں رہنے کا بہت شوق تھا نا عافیہ کو تو رہے ۔ اور جو کرے گی تو بھرے گی اور بہت کچھ عافیہ کے خلاف انہی مسلمان بھائیوں نے کہا ہے ویسے مسلمانوں کے کردار کے خلاف بولنا بھی ایک فیشن بن گیا ہے ۔ اچھے برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں لیکن آج بھی بہت مسلمان خالص اسلام پر عمل کرنے والے ملیں گے ۔ بات صرف آسیہ کو معاف کرنے کی نہیں بات یہ ہے کہ عدالت نے اس کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے اب اگر اس کو معاف کیا جاتا ہے تو نا عدالت کی کوئی اہمیت باقی رہتی ہے اور نا توہین رسالت قانون کی اور جہاں تک آسیہ کے معافی مانگنے کی بات ہے کسی قانون میں فیصلہ سنانے کے بعد معافی مانگنے پر کیا جج کا فیصلہ بدل جاتا ہے ۔ وہ اپیل کرسکتی ہے اور اپیل پر بھی عدالت ہی فیصلہ کرے گی لیکن کسی مقدمے کے بغیر عدالتی فیصلے پر معافی کیا معنی رکھتی ہے ۔
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
| کمائي نے سحر کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 04-12-10 | شمشاد احمد | کسی قانون میں فیصلہ سنانے کے بعد معافی مانگنے پر کیا جج کا فیصلہ بدل جاتا ہے ۔ | 10 |
|
|
#54 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اقتباس:
ناجانے کیوں (اللہ مجھے ہدایت دے) اس روایت نے میری طبیعت کو مکدر کردیا ہے!!! تو گویا گستاخانِ رسول کو دھوکے اور عیاری سے بھی ہلاک کیا جانا مستحب و مستحسن ہے!!!! یعنیٰ کسی نا کسی حال میں اُنہیں ہلاک ہی کرنا ضروری ہے۔۔۔۔
__________________
میںتمھارے اس حق کے لیئے کہ تم مجھ سے "اختلاف" کرسکو، آخری وقت تک لڑوںگا! |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | sahj (04-12-10), فاروق سرورخان (04-12-10), نورالدین (01-01-11), شمشاد احمد (04-12-10), عبداللہ آدم (04-12-10) |
|
|
#55 | ||
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اقتباس:
اقتباس:
اخلاقیات کا دین اور ہے اور دین کی اخلاقیات اور!!! اسلام کو اپنے""میعار اخلاق"" پر پرکھنے کی بجائے اسلام پر خود کو پرکھنے کی کوشش کریں تو ایسے تضادات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا |
||
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#56 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جی آپ دین کو سمجھنے کی بات کررہے ہیں اور میں رسول اللہ
کی شخصیت و کردار کو بتانا چاہتا ہوںاس نکتے کو سمجھے بغیر گفتگو بیکار ہے |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (05-12-10), فاروق سرورخان (04-12-10) |
|
|
#57 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
كيا رسول اللہ صلي اللہ عليہ والہ وسلم كي شخصيت اور كردار دين سے ہٹ كر كئي چيز ہے۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | shafresha (05-12-10), عبداللہ آدم (04-12-10) |
|
|
#58 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کیا آپ رسول اللہ
کو ایک جابر ،سنگدل ،سفاک ، شخصیت کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں ؟؟کوئی بھی "رحمت اللعالمین" کے معافی بیان کرنے کے بجائے سنگدلی و سفاکیت کی ایک نئی روایت سامنے لے آتا ہے پھر آپ اللہ کا دیا ہوا " رحمت اللعالمین "کا لقب رسول اللہ کی ذات سے ہٹا کیوں نہیں دیتے ؟میں پھر کہتا ہوں محمد کی شخصیت کے جس روپ کو آپ پیش کرنا چاہتے ہیں یہی "توہین رسالت " ہے
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#59 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فیصل بھائی
ذرا آرام سے اگر آپ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کا یہ پہلو سمجھ نہیں آرہا تو اس کا مطلب ہر گز نہیں کہ یہ پہلو غلط ہے یہ پہلو قطعی جابر اور سنگدل نہیں ، یہ آپ کی سوچ ہے کہ یہ پہلو سنگدلی ہے ۔ بے شک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رحمت العالمین ہیں ۔ اور میں ان تمام روایات کو تسلیم کرنے کے بعد بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سو مرتبہ رحمت العامین کہتی ہوں ۔ پہلے اپنے ذہن میں چند باتیں کلئیر کریں ، پہر آپ کو بات سمجھ آئے گی ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عام شخصیت نہیں ہیں ۔ میں صرف عزت اور تقدس کے لحاظ سے نہیں کہہ رہی ہوں بلکہ منصب کے اعتبار سے کہہ رہی ہوں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عمل اللہ کے حکم کے تابع ہوتا تھا ۔ دین اسلام کی بنیاد قرآن اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور عمل پر قائم ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے ۔ دین اسلام کی عظمت کو قائم رکھنے کے لیے ۔ اس لیے دونوں پہلووں پر ذور دیا گیا معاف بھی کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گستاخوں کو اور جو حد سے گزرے ہوئے تھے ان کو سزا بھی دی گئی اسلام دشمنوں پر رعب بہت ضروری ہوتا ہے، اس لیے کہ کفار میں جو فساد کرنے والے ہیں ان کی فطرت سے اللہ ہم سے ذیادہ جانتا ہے ۔ ایسے لوگوں کو جنہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ہو ان کو قتل کی سزا دینا ، کوئی سنگدلی نہیں ہے |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (05-12-10), ھارون اعظم (04-12-10), مسٹر شیف (05-12-10), شمشاد احمد (04-12-10), طاھر (13-12-10), عادل سہیل (06-12-10), عبداللہ آدم (04-12-10) |
|
|
#60 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
سنگدلی و سفاکیت کی ایک نئی روایت سامنے لے آتا ہے
جناب فیصل بھائی! بس جو دل کو نا بھائے...............اس پر اتنے بڑے بہتان!!!یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی احآدیث ہیں، اور قرآن کی تشریح ان سے ہو گی نہ کہ ہماری perceptions سے................!!!یا تو سیدھا انکار کر دیں کہ بات ہی ختم ہوجائے...................یہ مین میخ تو قرآن میں بھی بقول بدر بھائی کے بندہ کمر باندھ لے تو نکال سکتا ہے.نعوذ باللہ جناب میں کون ہوتا ہوں یا اور کوئی خود گھر سے سامنے تو نہیں لے آتے...............یہ وہ دین ہے جس کا ذمہ اللہ نے لیا ہے اور یہ وہ مسئلہ ہے جس میں آج تک کسی بھی صحآبی.تابعی.محدث.امام.عالم یا فرقے کا قطعا اختلاف نہیں رہا... ...............اور قرآن کی تشریح آج تک انہی احآدیث مبارکہ سے ہوئ ہے نہ کہ...........پھجے چھولے والے کے پاس یہ حق ہے.............!!! ہے................ قرآن میں آپ کو یہ "سنگدلی" اور "سفاکی" اور زیادہ ملے گی................فرمائیں تو عرض کرنا شروع کروں!!! آپ جیسے تمام اصحاب کاش کہ دین کو اپنی سمجھ سے سمجھنے کی بجائے...............قرآن و سنت سے سمجھیں............. اور جو غزوات ہوئے ان میں کتنی "سنگدلانہ" کاروائیاں کی گئیں تھیں................ ان کو بھی ہم جھٹلا دیں؟؟ کہ یہ رحمت اللعالمین ہونے کے منافی ہیں................... ایک آیت ہے کہ:: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ اور (اے رسولِ محتشم!) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر الانبیاء:107 اور دوسری آیت کہتی ہے کہ:: مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اﷲ کے رسول ہیں، اور جو لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت اور سنگت میں ہیں (وہ) کافروں پر بہت سخت اور زور آور ہیں آپس میں بہت نرم دل اور شفیق ہیں۔ الفتح:آخری آیت آُپ سے گزارش ہے کہ قرآن کے اس تضاد کو دور فرمائے................... |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | shafresha (05-12-10), فاروق سرورخان (04-12-10) |
![]() |
| Tags |
| پسند, واقعات, قدم, قرآنی, قصہ, لوگ, نفرت, نماز, مکہ, ماں, مجید, معلوم, آج, آدمی, اللہ, اسلام, اشعار, بھائی, تلاش, حسن, غزوہ بدر, صحابہ, صحابی, صدقہ, صدمہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| موہنِ رسول کی سزائے قتل پر ائمہ اربعہ اور علماء امت کا اجماع ! | sahj | عقیدہ رسالت | 0 | 09-01-11 05:17 PM |
| گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا موت ہے! علمائے کرام کا متفقہ فیصلہ | ALI-OAD | اسلام اور عصر حاضر | 6 | 03-01-11 09:22 PM |
| گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ کا کلام | آبی ٹوکول | اپکے کالم | 0 | 15-12-10 06:36 AM |
| حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام | چیتا چالباز | اخلاق و آداب | 6 | 19-10-10 05:41 PM |