واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > عقیدہ رسالت




مسیح موعود کون ہیں؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-11-07, 12:50 PM  
مسیح موعود کون ہیں؟
عبداللہ حیدر عبداللہ حیدر آف لائن ہے 10-11-07, 12:50 PM

پچھلی صدی عیسوی میں برصغیر میں مسلمانوں کو جن فتنوں کا سامنا کرنا پڑا ان میں جھوٹی نبوت کا فتنہ بہت بڑا تھا۔ نبوت کا دعوٰی کرنے والا صاحب نے اپنے آپ کو "مسیح موعود" قرار دیا یعنی وہ مسیح جن کی آمد کا مسلمان انتظار کر رہے ہیں۔ ذیل میں احادیث کی رورشنی میں اسی مسئلے پر بحث کی گئی ہے۔
’’مسیح مَو عُود‘‘ کی حقیقت‘‘

نئی نبوت کی طرف بلانے والے حضرات عام طور پر ناواقف مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ احادیث میں ’’مسیح موعود ‘‘ کے آنے کی خبر دی گئی ہے، اور مسیح نبی تھے ، اس لیے ان کے آنے سے ختم نبوت میں کوئی خرابی واقع نہیں ہوتی ، بلکہ ختمِ نبوت بھی برحق اور اس کے باوجود مسیح موعود کا آنا بھی برحق ۔
اسی سلسلے میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ’’ مسیح موعود‘‘ سے مراد عیسیٰ ابن مریم نہیں ہیں۔ ان کا تو انتقال ہوچکا ۔ اب جس کے آنے کی خبرنبوت کے خلاف نہیں ہے۔
اس فریب کا پردہ چاک کرنے کے لیے ہم یہاں پورے حوالوں کے ساتھ وہ مستند روایات نقل کیے دیتے ہیں جو اس مسئلے کے متعلق حدیث کی معتبر ترین کتابوں میں پائی جاتی ہیں۔ اِ ن احدیث کو دیکھ کر ہر شخص خود معلوم کرسکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا اور آج اس کو کیا بنایا جارہا ہے۔
احادیث درباب نزولِ عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السّلام
(۱)عن ابی ھریر ۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والذی نفوی بیدہ لَیَوْ شِکَنَّ ان ینزل فِیکم ابن مریم حکمًا عد لًا فیکسر الصلیب و یقتل الخنزیر و یَضَعَ الحربَ و یُفیضَ المال حتیٰ لا یقبلِہ احد حتٰی تکون السجدہ الوا حدۃ خیرًا من الدّ نیا وما فیھا (بخاری کتاب احادیث الانبیاء، باب نزول عیسیٰ ابن مریم ۔مسلم ، باب بیان نزول عیسیٰ ۔ ترمذی ابواب الفتن، باب فی نزول عیسیٰ ۔ مسند احمد، کرویات ابو ہریرہؓ)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ضروراُتریں گے تمہارے درمیان ابن مریم حاکم عادل بن کر ، پھر وہ صلیب کو توڑ ڈالین گے، اور خنزیر کو ہلاک کردیں گے۔ ( صلیب کو توڑ ڈالنے اور خنزیر کو ہلاک کردینے کا مطلب یہ ہے کہ عیسائیت ایک الگ دین کی حیثیت سے ختم ہوجائے گی۔ دینِ عیسوی کی پوری عمارت اس عقیدے پر قائم ہے کہ اللہ نے اپنے اکلوتے بیٹے (یعنی حضرت عیسیٰ) کو صلیب پر ’’ لعنت ‘‘ کی موت دی جس سے وہ انسان کے گناہ کا کفارہ بن گیا۔ اور انبیاء کی امتوں کے درمیان عیسائیوں کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے صرف عقیدے کو لے کر اللہ کی پوری شریعت ردکردی حتّٰی کہ خنزیر پر تک کو حلال کرلیا جو تمام انبیاء کی شریعتوں میں حرام رہا ہے۔ پس جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آکر خود اعلان کر دیں گے کہ نہ میں اللہ کا بیٹا ہوں ، نہ میں نے صلیب پر جان دی، نہ میں کسی گناہ کا کفارہ بنا تو عیسائی عقیدے کے لیے سرے سے کوئی بنیاد ہی باقی نہ رہے گی۔ اسی طرح جب وہ بتائیں گے کہ میں نے تو نہ اپنے پیرووں کے لیے سُور حلال کیا تھا اور نہ ان کو شریعت کی پابندی سے آزاد ٹھیرایا تھا، تو عیسائیت کی دوسری امتیازی خصوصیت کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔) اور جنگ کا خاتمہ کردیں گے (دوسری روایت میں حرت کے بجائے جزیہ کا لفظ ہے ، یعنی جزیہ ختم کردیں گے۔) (دوسرے الفاظ میںاس کا مطلب یہ ہے کہ اُس وقت ملّتوں کے اختلافات ختم ہو کر سب لوگ ایک مِلّت اسلام میں شامل ہوجائیں گے اور اس طرح نہ جنگ ہوگی اور نہ کسی پر جزیہ عائد کیا جائے گا۔ ا سی بات پر آگے احادیث نمبر ۵ و ۱۵ دلالت کررہی ہیں۔ )اور مال کی وہ کثرت ہوگی کہ اس ک قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا اور (حالت یہ ہو جائے گی کہ لوگوں کے نزدیک اللہ کے حضور) ایک سجدہ کرلینا دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا۔
(۲)۔ایک اور روایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ میں ہے کہ لا تقعم السّا عۃ حتّٰی ینزل عیسٰی ابن مریم......قیامت قائم نہ ہوگی جب تک نازل نہ ہولیں عیسٰی ابن مریم..........اور اس کے بعد ہی مضمون ہے جو اوپر کی حدیث میں بیان ہوا ہے (بخاری ، کتاب المظالم، باب کسرالصلیب۔ ابن ماجہ ، کتاب الفتن، باب فتنتہ الدجال)
(۳)۔ عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال کیف انتم اذانزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم۔ (بخاری، کتاب احادیث الانبیاء ، باب نزول عیسیٰ ۔ مسلم ، بیان نزول عیسیٰ ۔ مسند احمد ، مرویات ابی ہریرہؓ)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیسے ہوگے تم جبکہ تمہارے درمیان ابن مریم اتریں گے اور تمہارا امام اس وقت خود تم میں سے ہوگا۔‘‘ (یعنی نماز میں حضرت عیسیٰ حضرت عیسیٰ امامت نہیں کرائیں گے بلکہ مسلمانوں کا جو امام پہلے سے ہوگا اسی کے پیچھے وہ نماز پڑھیں گے۔)
(۴)۔ عن ابی حریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ینزل عیسیٰ ابن مریم فیقتل الخنزیر و یمحواالصلیب و تجمع لہ الصلوٰۃ و یعطی المال حتی لا یقبل و یضع الخراج و ینزل الرَّوحاء فیحجّ منھا، او یعتمو، او یجمعھما (مسند احمد ، بسلسلہ ، مرویات ابی ہریرہؓ مسلم ، کتاب الحج ۔ باب جواز التمتُّع فی الحج والقرآن)
حضر ت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گیپھر وہ خنزیر کو قوتل کریں گے اور صلیب کو مٹادیں گے اور ان کے لیے نماز جمع کی جائے گی اور وہ اتنا مال تقویم کریں گے کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہ ہوگا اور وہ خراج ساقط کردیں گے اور رَوحائ(مدینہ سے ۳۵ میل کے راصلے پر ایک مقام) کے مقام پر منزل کرکے وہاں سے حج یا عمرہ کریں گے ، یا دونوں کو جمع کریں گے( واضح رہے کہ اس زمانے میں جن صاحبکو مثیلِ مسیح قرار دیاگیا ہے انہوں نے اپنی زندگی میں نہ حج کیا اور نہ عمرہ) راوی کو شک ہے کہ حضوؐر نے ان میں سے کونسی بات فرمائی تھی۔ (۵)۔
عن ابی ھریرۃ (بعد ذکر خروج الدجال) فبینما ھم یعدّوس للقتال یسوّون الصّفوف اذا اقیمت الصلوٰۃ فینزل عیسیٰ ؑ ابن مریم فامّھم فاذار اٰہ عدواللہ یذوب کما یذوب الملح فی الماء فلو ترکہ الانذاب حتٰی یھلک ولٰکن یقتلہ اللہ بیدہ فیریھم دمہ فی حربتہٖ( مشکوٰۃکتاب الفتن، باب الملاحم، بحوالٔہ مسلم)۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے (دجّال کے خروج کا ذکرکرنے کے بعد حضوؐر نے فرمایا)اس اثنا میں کہ مسلمان اس سے لڑنے کی تیاری کررہے ہوں گے، صفیں باندھ رہے ہوں گے اور نماز کے لیے تکبیراقامت کہی جاچکی ہوگی کہ عیسیٰ ابنِ مریم نازل ہوجائیں گے۔ اور نماز مین مسلمانوں کی امامت کریں گے۔ اور اللہ کادشمن (یعنی دجّال) ان کو دیکھتے ہی اس طرح گھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گھلتا ہے۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام اس کو اُس کے حال پر چھوڑ دیں تو وہ آپ ہی گھل کر مر جائے۔ مگر اللہ اس کو اُن کے ہاتھ سے قتل کرائے گا اور وہ اپنے نیزے میںاُس کا خون مسلمانوں کو دکھائیں گے۔‘‘
(۶)۔ عن ابی ھریرۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لیس بینی وبینہٗ نبی (یعنی عیسیٰ) وانہ نازل فاذارأیتموہ ماعر فوہ رجل مربو الی الحمر ۃ والبیاص، بین ممصرتین کان رأسہ یقطروَان لم یصبہ بلل فیقاتل الناس علیالاسلام فیدق الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃویھلک اللہ فی زمانہ الملل کلھا الاا لاسلام ویھلک المسیح الدجال فیمکث فی الارض اربعین سنۃ تم یتوفی فی صلی علیہ المسلمون۔(ابوداؤد ، کتاب الملاحم، باب خروج الدّجال۔ مُسند احمد مرویات ابو ہریرہؓ)
ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے اور اُن (یعنی عیسیٰ علیہ السلام)کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔ اوریہ کہ وہ اُترنے والے ہیں، پسجب تم ان کو دیکھو تو پہچان لینا ، وہ ایک میانہ قد آدمی ہیں ، رنگ مائل بسُرخی و سپیدی ہے، دوزرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے۔ ان کے سر کے بال ایسے ہوں گے گویا اب ان سے پانی ٹپکنے والا ہے، حالانکہ وہ بھیگے ہوئے نہ ہوں گے۔ وہ اسلام پرلوگوں سے جنگ کریں گے، صلیب کو پاش پاش کردیں گے، خنزیر کو قتل کردیں گے ، جزیہ ختم دیں گے، اور اللہ ان کے زمانے میں اسلام کے سوا تمام مِلّتوں کو مٹادے گا، اور وہ مسیح دجال کو ہلاک کردیں گے، اور زمین میں وہ چالیس سال ٹھیریں گے۔ پھر ان کا انتقال ہوجائے گا اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔‘‘ (۷)۔
عن جابر بن عبداللہ قال سمعت روسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم.......فینزل عیسیٰ ابن مریم صلی اللہ علیہ وسلم فیقو ل امیر ھم تعل فصلِّ فیقول الا ان بعضکم علیٰ بعضامراء تکرمۃ اللہ ھٰذہ الامۃ۔ (مسلم، بیاننزول عیسیٰ ابن مریم۔ مُسند احمد بسلسلہ مرویات جابرؓ بن عبداللہ)
حضرت جابربن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سُنا کہ ....پھر عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے۔ مسلمانوں کا امیر اُن سے کہے گا کہ آئے، آپ نماز پڑھائیے، مگر وہ کہیں گے کہ نہیں ، تم لوگ خود ہی ایک دوسرے کے امیر ہو۔( یعنی تمہارا امیر خود تم ہی میں سے ہونا چاہیے۔) یہ وہ اُس عزّت کا لحاظ کرتے ہوئے کہیں گے جوجواللہ نے اس اُمّت کو دی ہے۔‘‘
(۸)۔ عن جابر بن عبداللہ (فی قصۃ ابن صیاد)فقال عمر بن الخطاب ائذن لی فاقتلہٗ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان یکن ھو فلست صاحبہ انما صاحبہ عیسیٰ ابن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام، و ان لا یکن فلیس لک ان تقتل رجلا من اھل العھد(مشکوٰۃ۔ کتاب الفتن، باب قصّۂ بن صیّاد ، بحوالہشرح السُّنہ بَغَوی)
جا بر بن عبداللہ (قصّۂ ابن صیّاد کے سلسلہ میں) روایت کرتے ہیں کہ پھر عمر بن خطاب نے عرض کیا، یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اسے قتل کردوں ۔ اس پرحضوؐر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ وہی شخص (یعنی دجال) ہے تو اس کے قتل کرنے والے تم نہیں ہو بلکہ اسے تو عیسیٰ بن مریم ہی قتل کریں گے۔ اور اگر یہ وہ شخص نہیں ہے تو تمہیں اہلِ عہد (یعنی ذمیوں) میں سے ایک آدمی کو قتل کردینے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘‘ (۹)۔ عن جابر عبداللہ (فی قصہ الدجال) فاذاھم بعیسیٰ ابن مریم علیہ السلام فتقام الصلوٰۃ فیقال لہ تقدم یا روح اللہ فیقول لیتقدم امامکم فلیصلِّ بکم فاذاصلی صلوٰۃ الصبح خرجو االیہ، قال جحین یری انکذاب کما ینماث الملح فی الماء فیمشی الیہ فیقتلہٗ حتی ان الشجر والحجر ینادی یا روح اللہ ھٰذا الیھودیُّ ، فلا یترک ممن کان یتبعہ احداالاقتلہٗ ۔ (مسنداحمد ، بسلسلۂ روایات جابر بن عبداللہ)
جابربن عبداللہ سے روایت ہے کہ (دجال کا قصہ بیان کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اس وقت یکایک عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام مسلمانوں کے درمیان آجائیںگے ۔ پھر نماز کھڑی ہوگی اور ان سے کہا جائے گا کہ اے روح اللہ آگے بڑھئے ، مگر وہ کہیںکہ نہیں ، تمہارے امام ہی کو آگے بڑھنا چاہیے، وہی نماز پڑھائے۔ پھرصبح کی نماز سے فارغ ہوکر مسلمان دجال کے مقابلے پر نکلیں گے۔ فرمایا، جب وہ کذّاب حضرت عیسیٰ کو دیکھے گا تو گھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گھلتا ہے۔ پھر وہ اس کی طرف بڑھیں گے اور اسے قتل کردیں گے اور حالت یہ ہوکی کہ درخت اور پتھر پکار اٹھیں گے کہ اے روح اللہ یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے ۔ دجال کے پیرووں میں سے کوئی نہ بچے گا وہ (یعنی عیسیٰؑ ) قتل نہ کردیں۔ (۱۰)٘۔
عن النواس بن سمعان ( فی قصۃ الدجّال) فبینما ھو کذٰلک اذ بعث اللہ المسیح بن مریم فینزل عندالمنارۃ البیضاء شرقی دمشق بین مھرو ذتین واضعًا کفیہ علیٰ اجنحہ ملکین اذاطاُ طأ راسہٗ قطرواذا رفعہ تحد رمنہ جمان کا للوٗلوٗ فلایحل لکافر یجد ریح نفسہ الامات و نفسہ ینتہی الیٰ حیث ینتہی طرفہ فیطلبہ حتیٰ
ید کہ ببابِلُدٍّ فیقتلہ۔(مسلم، ذکرالدجّال ۔ ا بو داوٗد، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال ۔ ترمذی، ابو اب الفتن ، باب فتنۃ الدّجال۔ ابن ماجہ ، کتاب الفتن، باب فتنۃالدّجال )
حضرت نَاّس بن سَمْعان کلانی (قسۂ دجال بیان کرتے ہوئے ) راویت کرتے ہیں: اس اثناء میں کہ دجال یہ کچھ کررہا ہوگا، اللہ تعالیٰ مسیحؑ ابن مریم کو بھیج دے گااور وہ دمشق کے مشرقی حصے میں ، سفیدمینار کے پاس، زرد رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے، دو فرشتوں کے بازؤوں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے۔جب وہ سر جھکائیں گے تو ایسا محسوس ہوگا کہ قطرے ٹپک رہے ہیں ، اور جب سر اٹھائیں گے توموتی کی طرح قطرے ڈھلکتے نظر آئیں گے۔ ان کے سانس کی ہو ا جس کافر تک پہنچے گے .......اور وہ ان کی حد نظر تک جائے گی ۔۔۔۔۔۔.......... وہ زندہ نہ بچے گا۔ پھر ابن مریم دجال کا پیچھا کریں گے اور لُدّ(واضھ رہیکہ لُدّ (Lyddu)فلسطین میں ریاست اسرائیل کے دارلسلطنت تل ابیب سے چند میل کے فاصلے پر واقع ہے اور یہودیوں نے وہان بہت بڑا ہوائی اڈہ بنا رکھا ہے۔) کے دروازے پر اسے جا پکڑیں گے اور قتل کردیں گے۔
(۱۱)۔ عن عبداللہ بن عمر وقال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یخرج الدجال فی امتی فیمکث اربعین (لا ادری اربعین یومًا اواربعین شھرًا او ربعین عامًا)فیبعث اللہ عیسیٰ بن مریم کانہ عُروۃ بن مسعود فیطلبہ ثم یمکث الناس سبع سنین لیس بین اثنین عداوۃ(مسلم، ذکر الدجال)
عبداللہ بن عاص کہتے ہیں کہ رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال میری امت میں نکلے گا اور چالیس( میں نہیں جانتا چالیس دن یا چالیس مہینے یاچالیس سال) (یہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کا اپنا قول ہے) رہے گا ۔ پھر اللہ عیسیٰ ابن مریم کو بھیجے گا۔ ان کا حلیہ عُروہ بن مسعود (ایک صحابی) سے مشابہ ہوگا۔ وہ اس کا پیچھا کریں گے اور اسے ہلاک کردیں گے، پھر سات سال تک لوگ اس حال میں رہیں گے کہ دو آدمیوں کے درمیان بھی عداوت نہ ہوگی۔
(۱۲)۔ عن حذیفۃ بن اسید الفاری قال اطلع النبی صلی اللہ علیہ وسلم علینا و نحن نتذاکر فقال ما تذکرون قالو انذ کر السّاعۃ قال انھالن تقوم حتیٰ ترون قبلھا عشراٰیات فذکر الدخان والدجال والدابۃ و طلوع الشمس من مغر بھا و نزول عیسیٰ ابن مریم ویاجوج و ماجوج و ثلثۃ خسوف، خسف بالمشرق و خسف بالمغرب، وخسف بجزیرۃ العرب ، و اٰ خر ذٰلک نار تخرج من الیمن تطرد الناس الیٰ محشر ھم(مسلم: کتاب الملاحم، باب امارات الساعہ)
حُذیفہ بن اسید الغفاری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مجلس میں تشریف لائے اور ہم آپس میں بات چیت کررہے تھے۔ آپ نے پوچھا کیا بات ہورہی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا ہم قیامت کا ذکر کررہے تھے۔ فرمایا وہ ہرگز قائم نہ ہوگی جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں ظاہر نہ ہوجائیں ۔ پھر آپ نے وہ دس نشانیاں یہ بتائیں : (۱) دُھواں،(۲)دجال،(۳) دابتہ الارض، (۴) سورج کا مغرب سے طلوع ہونا(۵) عیسیٰ ابنِ مریم کا نزول،(۶)یاجوج و ماجوج، (۷)تین بڑے خَسَف( زمین دھس جاناLandslide)، ایک مشرق میں، (۸)دوسرا مغرب میں، (۹) تیسرا جزیرۃ العرب میں، (۱۰) سب سے آخر میں ایک زردست آگ جو یمن سے اٹھے گی اور لوگوں کو ہانکتی ہوئی محشر کی طرف لے جائے گی۔ (۱۳)۔ عن ثوبان مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن النبی صلی اللہ وسلم عصابتان من امتی احرز ھما اللہ تعالیٰ من النار۔ عصابۃ تغزوالھند، وعصا بۃ تکون مع عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام (نسائی، کتاب الجہاد ۔ مسند احمد، بسلسلہ روایات ثُوبان)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان روایت کرتے ہیںکہ حضورؐ نے فرمایا’’ میری امت کے دو لشکر ایسے ہیں جن کو اللہ نے دوزخ کی آگ سے بچالیا۔ایک وہ لشکر جو ہندوستان پر حملہ کرے گا۔ دوسرا وہ جو عیسٰی ابن مریمؑ کے ساتھ ہوگا۔
(۱۴)۔ عن مُجمِّع بن جاریۃ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول یقتل ابنُ مریم الدّجال بباب لُدّ( مسنداحمد ۔ترمذی ، ابواب الفتن )
مُجَمّع بن جاریتہ انصاری کہتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ابن مریم دجال کو لُدّ کے دروازے پر قتل کریں گے۔
(۱۵)۔ عن ابی اُمامۃ الباھلی(فی حدیث طویل فی ذکر الد جال) فبینما اما مھم قد تقدم یصلّی بھم الصنح اذنز ل علیھم عیسیٰبن مریم فرجع ذٰلک الامام ینکص یمشی تھقریٰ لیتقدم عیسیٰ فیضع عیسیٰ یدہ بین کتفیہ تم یقول لہٗتقدم فصل فانھا لک اقیمت فیصلی بھم اما مھم فا ذا انصرف قال عیسیٰ علیہ السسلام افتحوا الباب فیفتح و وراء ہ الدجال ومعہ سبعون الفیھودی کلھم ذوسیف محلی وساج فاذانظر الیہ الدجال ذاب کما یذوب الملح فی الماء وینطلق ھا ربًا ویقول عیسیٰ ان لی جیک ضربۃلن تسبقنی بھا فیدرکہ عندباب الُّلدِّ الشرقی فیھزم اللہ الیھود..... وتملأالارض منالمسلم کما یملأالا ناء من الماء وتکون الکلمۃ واحدۃ فلا یعبد الا اللہ تعالیٰ (ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب فتنتہ الدجال)
ابو اُمامہ باہلی (ایک طویل حدیث میں دجال کا ذکر کرتے ہوئے ) روایت کرتے ہیں کہ عین اس وقت جب مسلمانوں کا امام صبح کی نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھ چکا ہوگا۔ عیسیٰ ابن مریم اُن پر اُتر آئیں گے۔امام پیچھے پلٹے گا تاکہ عیسیٰؑ آگے بڑھیں ، مگر عیسیٰ اس کے شانوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر کہیں گے کہ نہیں تم ہی نماز پڑھاؤکیونکہ یہ تمہارے لیے ہی کھڑی ہوئی ہے ۔ چنانچہ وہی نماز پڑھائے گا۔ سلام پھیرنے کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے کہ دروازہ کھولو ن، چنانچہ وہ کھولا جائے گا۔ باہر دجال ۷۰ ہزار مسلح یہودیوں کے ساتھ موجود ہوگا۔ جوں ہی کہ عیسیٰ علیہ السلام پر اس کی نظر پڑے گی وہ اس طرح گھُلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گُھلتا ہے اور سہ بھاگ نکلے گا۔ عیسیٰ کہیں گے میرے پاس تیرے لیے ایک ایسی ضرب ہے جس سے تو بچ کر نہ جا سکے گا پھر وہ اُسے لُدّ کے مشرقی دروازے پر لے جائیں گے اور اللہ یہودیوں کو ہرادے گا...... اور زمین مسلمانوں سے اس طرح بھر جائے گی جیسے برتن پانی سے بھر جائے۔ سب دنبا کا کلمہ ایک ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ ہوگی۔
(۱۶)۔ عن عثمان بن انی العاص قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول .. ... وینزل عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام عند صلوۃ الفجر فیقول لہ امیرھم یاروح اللہ تقدم ، صلِّ، فیقول ھٰذہ الامۃ بعضھم امراء علیٰ فیتادم امیر ھم فیصلی، فاذا قضیٰ صلوٰتہٗ اخذ عیسیٰ حربتہٗ فیذھب نحوالدجال فاذایراہ الدجال ذاب کما یذوب الرصاس فیضع حربتہ بین شندوبتہ فیقتلہٗ وینھزم اصحابہ لیس یومعِذ شیء یواری منھم احداحتیٰ ان الشجر لیقول یا مومن ھٰذا کافرو یقول الحجر یا مومن ھٰذا کافر(مُسند احمد۔ طُبرانی۔ حاکم)
عثمان بن انی العاص کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے ....اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام فجر کی نماز کے وقت اُتر آئیں گے۔
مسلمانوں کا امیر ان سے کہے گا اے رُوح اللہ آپ نماز پڑھایئے۔ وہ جواب دیں گے کہ اس امت کے لوگ خود ہی ایک دوسرے پر امیر ہیں ۔ تب مسلمانوں کا امیر آگے بڑھ کر نماز پڑھائے گا ۔ پھر نماز سے فا رغ ہوکر عیسیٰ اپنا حربہ لے کر دجال کی طرف چلیں گے ۔ وہ جب ان کو دیکھیگا تو اس طرح پگھلے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام اپنے حرنے سے اس کو ہلاک کردیں گے اور اس کے ساتھی شکست کھا کر بھاگیں گے مگر کہیں انہیں چھپنے کو جگہ نہ ملے گی، حتیٰ کہ درخت پکاریں گے اے مومن ، یہ کافریہان موجودہے اور پتھر پکاریں گے کہ اے مومن، یہ کافر یہاں موجود ہے۔
(۱۷)۔ عن سمرۃ بن جُنْدُب عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم(فی حدیث طویل) فیصبح فیھم عیسیٰ ابن مریم فیھزمہ اللہ وجنودہ حتیٰ ان اجذم الحائط واصل الشجر لینادی یا مومن ھٰذا کافر یستتربی فتعال اقتلہ۔
سَمُرہ جُندُب(ایک طویل حدیث میں)نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رواسیت کرتے ہیں ، پھر صُبح کے وقت مسلمانوں کے درمیان عیسیٰ ابن مریم آجائیں گے اور اللہ دجال اور اس کے لشکروں کوشکست دے گا یہاں تک کہ دیواریں اور درختوں کی جڑیں پکار اٹھیں گی کہ اے مومن ، یہ کافر میرے پیچھے چھپا ہوا ہے، آ اور اسے قتل کر۔
(۱۸) عن عمر ان بن حصین انّ رسول اللہ علیہ وسلم قال لا تزال طائفۃ من امتی علی الحق ظاھرین علیٰ من نوأ ھم حتیٰ یاتی امراللہ تبارک وتعالیٰ وینزل عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام۔ (مُسند احمد)
عمران بن حصین سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا: میری اُمت میں ہمیشہ ایک گروہ ایسا موجود رہے گا جو حق پر قائم اور مخالفین پر بھاری ہوگا یہاں تک کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فیصلہ آجائے اور عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام نازل ہوجائیں۔
(۱۹)عن عائشۃؓ(فی قصۃ الدّجال) فینزل عیسیٰ علیہ السلام فیقتلہ ثم یمکث عیسیٰ علیہ السلام فی الارض اربعین سنۃ امامًا عادلًا حَکَمًا مُقسطًا ۔(مسند احمد)
حضرت عائشہؓ (دجال کے قصّے میں) روایت کرتی ہیں: پھر عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال تک زمین میں ایک امامِ عادل اور حاکم منصف کی حیثیت سے رہیں گے۔‘‘
(۲۰)۔ عن سفینۃ مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (فی قصۃالدجّال ) فینزل عیسیٰ الیہ السالم فیقتلہ اللہ تعالیٰ عند عقیۃ اُفیق۔(مسند احمد)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سفینہ(دجال کے قصے میں)روایت کرتے ہیں: پھر عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور اللہ تعالیٰدجال کو اُفیق(اَفیق، جسے آج کل رفیق کہتے ہیں،شام اور اسرائیل کی سرحد پر موجودہ ریاست شام کا آخری شہر ہے۔ اس کے آگے مغرب کی جانب چند میل کے فاصلہ پر طَبَریہ ّ نامی جھیل ہے جس میں سے دریا ئے اُردُن نکلتا ہے، اور اس کے جنوب مغرب کی طرف پہاڑوں کے درمیان ایک نشیبی راستے کو عَقَبہْ اَفیق کی گھاٹی کہتے ہیں۔ ) کی گھاٹی کے قریب ہلاک کردے گا۔
(۲۱)٘ عن حذیفۃ(فی ذکرالدجال ) فلما قاموایصلّون نزل عیسیٰ بن مریم امامہم فصلّی بھم فلما انصرف قال ھٰکذا مْر کوابینی وبین عدداللہ...........ویسلط اللہ علیھم المسلمین فیقتلو نھم حتیٰ ان الشجر ولحجرلینادی یا عبداللہ یا عبدالرحمٰن یا مسلم ھٰذالیھودی فقتلھم فیفنیھم اللہ تعالیٰ ویظھر المسلمون فیکسرون الصلیب ویقتلون الخنزیر ویضعون الجزیۃ(مستدرک حاکم ۔ مسلم میں بھی یہ روایت اختصار کے ساتھ آئی ہے۔ اور حافظ ابن حجرنے فتح الباری جلد۶ ص، ۴۵ میںاسے صحیح قرار دیا ہے)
حضرت حُذَیفہ بن یَمان (دجال کا ذکر کرتے ہوئے) بیان کرتے ہیں:’’ پھر جب مسلمان نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوں گے تو اُن کی آنکھوںکے سامنے عیسیٰ ابن مریم اتر آئیں گے اور وہ مسلمانوں کو نماز پڑھائیں گے پھر سلام پھیرنے کے بعد لوگوں سے کہیں گے کہ میرے اور اللہ کے اس دشمن کے درمیان سے ہٹ جاؤ ........اور اللہ دجال کے ساتھیوں پر مسلمانوں کو مسلط کردے گا اور مسلمان انھیں خوب ماریں گے یہاں تک کہ درخت اور پتھر پکار اٹھیں گے اے عبداللہ ، اے عبدالرحمٰن ، اے مسلمان، یہ رہا ایک یہودی، مار اسے۔ اس طرح اللہ ان کو فنا کردے گا اور مسلمان غالب ہوں گے اور صلیب توڑدیں گے، خنزیر کو قتل کردیںگے اور جزیہ ساقط کردیںگے۔ یہ جملہ ۲۱ روایات ہیں جو ۱۴ صحابیوں سے صحیح سندوں کے ساتھ حدیث کی معتبر ترین کتابوں میں وارد ہوئی ہیں۔ اگر چہ ان کے علاوہ دوسری بہت سی احادیث میں بھی یہ ذکر آیا ہے، لیکن طولِ کلام سے بچنے کے لیے ہم نے ان سب کو نقل نہیں کیا ہے بلکہ صرف وہ روایتیں لے لی ہیں جو سند کے لحاظ سے قوی تر ہیں۔

 
عبداللہ حیدر's Avatar
عبداللہ حیدر
ذیلی ناظم

تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 4386
Reply With Quote
14 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
arslansun (22-02-09), dxbgraphics (02-11-11), rana ammar mazhar (16-01-12), فاروق درویش (07-03-12), نبیل خان (01-11-11), میاں شاہد (29-10-08), ملک اظہر (14-11-11), مرزا عامر (15-11-11), ابن جلال (31-10-08), احمد بلال (21-09-09), تفسیر حیدر (30-10-08), سیپ (31-10-08), عادل سہیل (31-10-08), غازی اسلام (24-03-09)
پرانا 01-11-11, 05:36 PM   #46
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default یہ اہل سنت کا بھی متفق علیہ عقیدہ نہیں ہے اور قادیانیوں کا اگر متفق علیہ بھی ہے تو بالکل باطل ہے

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم،
رانا صاحب، یہ تھریڈ قادیانیوں کے جواب میں‌لکھا گیا ہے جو اہل سنت کے ایک متفق علیہ عقیدے کی غلط تشریح کر کے گمراہی پھیلاتے ہیں۔ اگر آپ نزول عیسیٰ اور امام مہدی کی آمد پر بحث کرنا چاہتے ہیں تو یہ تھریڈ آپ کے لیے نہیں‌ہے، اس موضوع پر پہلے سے جاری تھریڈز میں تشریف لے جائیے۔

یہ اہل سنت کا بھی متفق علیہ عقیدہ نہیں ہے اور قادیانیوں کا اگر متفق علیہ بھی ہے تو بالکل باطل اور فراڈ ہے !!!


پہلے سے جاری تھریڈز کا لنک پوسٹ کر دیں
http://pak.net/%DA%A9%D9%81%D8%B1%D9...53/#post469520
اس کے علاوہ
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 14-11-11, 10:04 PM   #47
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 259
کمائي: 5,659
شکریہ: 447
126 مراسلہ میں 516 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default دعویٰ مرزا صاحب

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : arifkarim مراسلہ دیکھیں
مرزا قادیانی نے بھی یہی کہا تھا کہ وہ کوئی نئی شریعت لیکر نہیں آیا ہے، بلکہ شریعت محمدی ہی میں‌ مسیح موعود ہے۔
دعویٰ مرزا صاحب
جناب مرزا صاحب قادیانی کا دعویٰ خود ان کے الفاظ میں نقل کرنا مناسب ہے ۔ گو آپ کا دعویٰ اس قدر مشہور و معروف ہے کہ کسی کو مجال انکار نہیں ہے ۔ گو اُن کے دعوئ نبوۃ و رسالت وغیرہ کے متعلق خود ان کی امت میں اختلاف ہے ۔ لیکن ان کے دعوئ مسیحیت کی بابت اختلاف نہیں ۔ تاہم انہی کے الفاظ میں ان کا دعویٰ سناتے ہیں ۔
وکنت اظن بعد ھذہ التسمیۃ ان المسیح الموعود خارج وما کنت اظن انہ انا حتی ظھر السر المخفی الذی اخفاہ اللہ علیٰ کثیرمن عبادہ ابتلائً امن عندہ وسمانی ربی عیسیٰ ابن مریم فی الھام من عندہ وقال یا عیسیٰ انی متوفیک و رافعک الیَّ ومطھرک من الذین کفروا وجاعل الذین تبعوک فوق الذین کفروا الیٰ یوم القیامۃ انا جعلنک عیسیٰ ابن مریم وانت منی بمزلۃ لا یعلمھا الخلق وانت منی بمنزلۃ توحیدی و نفر یدی و انک الیوم لدینا مکین امین ۔ فھذا ھو الدعویٰ الذی یجادلنی وقومی فیہ و یحسبوننی من المرتدین ۔ (حمامۃ البشریٰ ص
’’ خدا نے میرانام متوکل رکھا ۔ میں اس کے بعد بھی سمجھتا رہا کہ مسیح موعود آئے گا اور میں نہیں سمجھتا تھا کہ میں ہی ہوں گا ۔ یہاں تک کہ مخفی بھید مجھ پر کھل گیا جو بہت سے لوگوں پر نہیں کھلا ۔ اور میرے پرور دگار نے اپنے الہام میں میرا نام عیسیٰ ابن مریم رکھا ۔ اور فرمایا اے عیسیٰ ہم ( خدا ) نے تجھے عیسیٰ بن مریم کیا اور تو مجھ سے ایسے مقام میں ہے کہ مخلوق اس کو نہیں جانتی اور تو (مرزا) میرے نزدیک میری توحید اور وحدت کے رتبے میں ہے اور تو آج ہمارے نزدیک بڑی عزت والا ہے ۔ پس یہی (مسیح موعود ہونے کا ) دعویٰ ہے ۔ جس میں مسلمان قوم مجھ سے جھگڑتی ہے ۔ اور مجھ کو مرتد جانتی ہے‘‘۔
یہ عبارت صاف لفظوں میں مرزا صاحب کا دعویٰ بتا رہی ہے ۔ کہ آپ اس بات کے مدعی تھے کہ احادیث میں جن عیسیٰ موعود کی بابت خبر آئی ہے کہ وہ دنیا میں قریب قیامت کے ظاہر ہوں گے ۔ وہ میں ہوں ۔
یہ بھی اس عبارت سے صاف ثابت ہے کہ مسلمان مرزا صاحب سے اسی دعوے میں بحث اور نزاع کرتے ہیں ۔ یعنی وہ آپ کو عیسیٰ موعود وغیرہ نہیں مانتے ۔ یہی اصلی نزاع ہے ۔ اس کے سوا باقی کوئی ہے تو فرعی ۔ یہ ہے مرزا صاحب کے دعوے کی تقریر جو انہی کے الفاظ میں نقل کی گئی ۔

چونکہ عیسیٰ موعود کا منصب اور تشریف آوری حدیثوں سے ثابت ہے ۔ اس لئے ہم چند حدیثوں سے شہادات نقل کرتے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ ان حدیثوں کے مطابق جناب مرزا مسیح موعود ہیں ؟
پہلی شہادت
سب سے پہلے بخاری مسلم کی متفق علیہ حدیث ہے جس کے الفاظ مع ترجمہ یہ ہیں :
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکماعدلاً فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر و یضع الجزیۃ ویفیض المال حتیٰ لا یقبل احد حتیٰ تکون سجدۃ واحدۃ خیراً من الدنیا و ما فیھا ثم یقول ابو ھریرۃ فاقرؤا ان شئتم وان من اھل الکتاب الا لیؤ منن بہ قبل موتہ ۔ ۔ ۔ الاٰیۃ (متفق علیہ، مشکوٰۃ شریف ص 479 باب نزول عیسیٰ علیہ السلام))
’’ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ، قسم ہے اللہ پاک کی بہت جلد ابن مریم منصف حاکم ہو کر تم میں اتریں گے ۔ پھر وہ عیسائیوں کی صلیب کو (جس کو وہ پوجتے ہیں اسے ) توڑ دیں گے اور خنزیر ( جو خلاف حکم شریعت عیسائی کھاتے ہیں اُس) کو قتل کرائیں گے اور کافروں سے جو جزیہ لیا جاتا ہے اسے موقوف کر دیں گے اور مال بکثرت لوگوں کو دیں گے یہاں تک کہ کوئی اسے قبول نہ کرے گا ۔ لوگ ایسے مستغنی اور عابد ہوں گے کہ ایک ایک سجدہ ان کو ساری دنیا کے مال و متاع سے اچھا معلوم ہو گا ۔ ( حدیث کے یہ الفاظ سنا کر )ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ کہتے تھے تم اس حدیث کی تصدیق قرآن مجید میں چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو : ان من اھل الکتاب آخر تک ‘‘۔ ( اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اترتے وقت کل اہل کتاب اُن پر ایمان لے آویں گے )۔
یہ حدیث اپنا مطلب بتانے میں کسی شرح کی محتاج نہیں ۔ صاف لفظوں میں حضرت عیسیٰ موعود علیہ السلام کو منصف حاکم یعنی بادشاہ قرار دیا ہے ۔ اور مرزا صاحب کو یہ وصف حاصل نہ تھا ۔ چنانچہ آگے اس کا ذکر آتا ہے
دوسری شہادت :
اس سے بھی زیادہ صاف اور فیصلہ کن ہے جو صحیح مسلم میں مروی ہے ۔
عن النبی صلی اللہ علی وسلم والذی نفسی بیدہ لیہلن ابن مریم بفج الروحاء حاجّاً او معتمراً او لیثنینھما (صحیح مسلم باب جواز التمتع فی الحج والقِران)
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے مسیح موعود فج الروحاء سے (جو مکہ مدینہ کے درمیان جگہ ہے۔ نووی شرح مسلم ) حج کا احرام باندھیں گے ‘‘۔
یہ حدیث حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تشریف آوری کے بعد ان کے حج کرنے اور ان کے احرام باندھنے کے لئے مقام کی بھی تعیین کرتی ہے ۔ مرزا صاحب کی بابت تو یہ بلا اختلاف مسلمہ ہے کہ وہ حج کو نہیں گئے ۔ مقام معین سے احرام باندھنا تو کجا ۔
حیرت ہے :کہ مرزا غلام احمد صاحب اور ان کی احمدی امت نے اور حدیثوں کے جوابات دینے پر تو توجہ کی چاہے وہ کسی قسم کی ہو ۔ مگر اس حدیث کا نام بھی ان کی تحریرات میں ہم نے نہیں دیکھا ۔ حالانکہ اخبار اہل حدیث مورخہ 15شوال (یکم جون 1923ء) میں یہ حدیث نقل کرکے جوا ب طلب کیا گیا تھا۔
تیسری شہادت :
وہ ہے جسے جناب مرزا صاحب نے خود بھی نقل کیا ہے ۔ جس کے الفاظ یہ ہیں :
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ینزل عیسی ابن مریم الی الارض فیتزوج ویولد لہ و یمکث خمساً و اربعین سنۃً ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا و عیسیٰ ابن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر و عمر (مشکوٰۃ شریف باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین کی طرف اتریں گے ، پھر نکاح کریں گے اور ان کے اولاد پیدا ہو گی اور آپ پینتالیس سال زمین پر رہیں گے پھر فوت ہو کر میرے مقبرہ میں میرے ساتھ دفن ہوں گے ۔ پھر میں ( رسول اللہ ) اور حضرت عیسیٰ ایک ہی مقبرہ سے قیامت کو اٹھیں گے جبکہ ہم ابو بکر اور عمر کے درمیان ہوں گے ‘‘ ۔
اس حدیث سے صاف ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ موعود کا انتقال مدینہ طیبہ میں ہوگا ۔ اس حدیث کو مرزا صاحب نے خود اپنے استدلال میں لیا ہوا ہے ۔ اس میں جو حضرت عیسیٰ موعود کے تزوج (نکاح ) کا ذکر ہے اس کی نسبت مرزا صاحب نے بہت کوشش کی ہے کہ یہ ان پر صادق آئے۔
ناظرین کو معلوم ہونا چاہئے کہ جناب موصوف نے ایک نکاح کی بابت الہامی پیش گوئی فرمائی تھی ۔ جس کو اعجازی نکاح(1) کہتے ہیں ۔ جناب ممدوح لکھتے ہیں کہ یہ نکاح جو حضرت عیسیٰ ابن مریم موعود کا مذکورہ حدیث میں آیا ہے اس سے وہی اعجازی نکاح مراد ہے جس کی بابت میں نے پیش گوئی کی ہوئی ہے ۔ چنانچہ آپ کے اپنے الفاظ یہ ہیں :
انہ یتزوج و ذلک ایماء الیٰ آیۃ یظھر(2) عند تزوجہ من ید القدرۃ و ارادۃ حضرت الوتر و قد ذکرنا ھا مفصلا فی کتابنا التبلیغ والتحفۃ واثبتنا فیہما ان ھذہ الاٰیت سیظھر علیٰ یدی (حمامۃ البشریٰ ص 26)
’’حضرت عیسیٰ موعود نکاح کریں گے ۔ یہ اس نشان کی طرف اشارہ ہے جو اس کے نکاح کے موقع قادر کی قدرت سے ظاہر ہو گا ۔ اور ہم نے اس نشان کو مفصل اپنی دونوں کتابوں تبلیغ اور تحفہ میں ذکر کیا ہوا ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ یہ نشان میرے ہاتھ پر ظاہر ہو گا ‘‘۔
یعنی یہ نکاح وہی ہے جو میرا ہوگا ۔ تھوڑی سی تفصیل کے ساتھ اس کو دوسری کتاب ضمیمہ انجام آتھم میں یوں لکھتے ہیں :
’’ اس پیش گوئی ( یعنی میرے نکاح) کی تصدیق کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ یتزوج و یولدلہ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیزو ہ صاحب اولاد ہوگا ۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں ۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا ۔ اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی موجود ہے ۔ گویا اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی ۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص 53)
یہ عبارت باآوازبلند کہہ رہی ہے کہ جناب مرزا صاحب کو اس حدیث کی تسلیم سے انکار نہیں بلکہ اس کو اپنی دلیل میں لایا کرتے تھے ۔ اس لئے ہم بھی اس حدیث سے استدلال کرنے کا حق رکھتے ہیں جو یوں ہے کہ :
’’ چونکہ مرزا صاحب مدینہ شریف میں فوت ہو کر روضۂ مقدسہ میں دفن نہیں ہوئے ۔ اس لئے عیسیٰ موعود نہیں ‘‘ ۔
الحمدللہ کہ ازروئے احادیث شریفہ ہم نے ثابت کردیا کہ مرزا صاحب کا دعویٰ مسیحیت موعودہ کا صحیح نہیں ۔
آنکس کہ بقرآن دخبر از نرہی
اینست جوابش کہ جوابش ندہی

احادیث اس مضمون کی بکثرت ہیں مگر ہم نے بہ نیت اختصار بطور نمونہ انہی تین حدیثوں پر اکتفا کیا ۔ کیونکہ ماننے والے کے لئے یہ بھی کافی سے زیادہ ہیں ۔ نہ ماننے والے کو بہت بھی کچھ نہیں ۔
اگر صد باب حکمت پیش ناداں
بخوانی آئدش بازیچۂ درگوش


مختصر مضمون احادیث ثلاثہ :
تینوں حدیثوں کا مختصر مضمون تین فقروں میں ہے (1) حضرت عیسیٰ علیہ السلام حاکمانہ صورت میں آئیں گے (2) حضرت عیسیٰ علیہ السلام حج کریں گے ان کے احرام کی جگہ کا نام فج الروحاء ہے (3) حضرت عیسیٰ موعود علیہ السلام نکاح کرکے پینتالیس سال دنیا میں زندہ رہیں گے ۔
ان تینوں مضامین کے لحاظ سے مرزا صاحب کے حق میں نتیجہ صاف ہے کہ ’’ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی عیسیٰ موعود نہ تھے ‘‘
__________________
یکے آنکہ در خویش خود بیں مباش
دوم آنکہ در غیر بد بیں مباش

Last edited by ملک اظہر; 14-11-11 at 10:48 PM.
ملک اظہر آن لائن ہے   Reply With Quote
ملک اظہر کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 15-11-11, 05:21 PM   #48
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

امام مہدی کی آمد ہو چکی ہے ۔
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (27-11-11), فیصل ناصر (15-11-11)
جواب

Tags
کتابوں, پہچان, قصہ, لوگ, نماز, نظر, موت, معلوم, آج, آدمی, اللہ, انسان, امیر, اسلام, جواب, حدیث, خون, خلاف, خبر, ختم نبوت, دیکھو, عیسیٰ, عبادت, صحابی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سیاستدانوں' جرنیلوں اور افسر شاہی پر تنقید کرنے والے عوام خود کیا کررہے ہیں؟ جاویداسد خبریں 1 15-12-10 08:56 PM
تبدیلی کتنی ضروری ہے؟ ضروری ہے بھی یا نہیں؟ تبدیلی کا راستہ سیاستدان خود ہموار کررہے ہیں جاویداسد خبریں 2 21-09-10 09:08 PM
سعودی فتویٰ تعلیم اور روزگار کے مقامات پر مردوعورت کا اختلاط حرام Real_Light خبریں 37 29-08-10 03:13 PM
کہاں کی سیر کریں؟ gul2836 پاکستان کی سیاحت 3 01-08-10 07:49 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:51 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger