| 14 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | arslansun (22-02-09), dxbgraphics (02-11-11), rana ammar mazhar (16-01-12), فاروق درویش (07-03-12), نبیل خان (01-11-11), میاں شاہد (29-10-08), ملک اظہر (14-11-11), مرزا عامر (15-11-11), ابن جلال (31-10-08), احمد بلال (21-09-09), تفسیر حیدر (30-10-08), سیپ (31-10-08), عادل سہیل (31-10-08), غازی اسلام (24-03-09) |
|
|
#46 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
یہ اہل سنت کا بھی متفق علیہ عقیدہ نہیں ہے اور قادیانیوں کا اگر متفق علیہ بھی ہے تو بالکل باطل اور فراڈ ہے !!! پہلے سے جاری تھریڈز کا لنک پوسٹ کر دیں http://pak.net/%DA%A9%D9%81%D8%B1%D9...53/#post469520 اس کے علاوہ __________________ كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن" |
|
|
|
|
|
|
#47 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 259
کمائي: 5,659
شکریہ: 447
126 مراسلہ میں 516 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جناب مرزا صاحب قادیانی کا دعویٰ خود ان کے الفاظ میں نقل کرنا مناسب ہے ۔ گو آپ کا دعویٰ اس قدر مشہور و معروف ہے کہ کسی کو مجال انکار نہیں ہے ۔ گو اُن کے دعوئ نبوۃ و رسالت وغیرہ کے متعلق خود ان کی امت میں اختلاف ہے ۔ لیکن ان کے دعوئ مسیحیت کی بابت اختلاف نہیں ۔ تاہم انہی کے الفاظ میں ان کا دعویٰ سناتے ہیں ۔ وکنت اظن بعد ھذہ التسمیۃ ان المسیح الموعود خارج وما کنت اظن انہ انا حتی ظھر السر المخفی الذی اخفاہ اللہ علیٰ کثیرمن عبادہ ابتلائً امن عندہ وسمانی ربی عیسیٰ ابن مریم فی الھام من عندہ وقال یا عیسیٰ انی متوفیک و رافعک الیَّ ومطھرک من الذین کفروا وجاعل الذین تبعوک فوق الذین کفروا الیٰ یوم القیامۃ انا جعلنک عیسیٰ ابن مریم وانت منی بمزلۃ لا یعلمھا الخلق وانت منی بمنزلۃ توحیدی و نفر یدی و انک الیوم لدینا مکین امین ۔ فھذا ھو الدعویٰ الذی یجادلنی وقومی فیہ و یحسبوننی من المرتدین ۔ (حمامۃ البشریٰ ص ’’ خدا نے میرانام متوکل رکھا ۔ میں اس کے بعد بھی سمجھتا رہا کہ مسیح موعود آئے گا اور میں نہیں سمجھتا تھا کہ میں ہی ہوں گا ۔ یہاں تک کہ مخفی بھید مجھ پر کھل گیا جو بہت سے لوگوں پر نہیں کھلا ۔ اور میرے پرور دگار نے اپنے الہام میں میرا نام عیسیٰ ابن مریم رکھا ۔ اور فرمایا اے عیسیٰ ہم ( خدا ) نے تجھے عیسیٰ بن مریم کیا اور تو مجھ سے ایسے مقام میں ہے کہ مخلوق اس کو نہیں جانتی اور تو (مرزا) میرے نزدیک میری توحید اور وحدت کے رتبے میں ہے اور تو آج ہمارے نزدیک بڑی عزت والا ہے ۔ پس یہی (مسیح موعود ہونے کا ) دعویٰ ہے ۔ جس میں مسلمان قوم مجھ سے جھگڑتی ہے ۔ اور مجھ کو مرتد جانتی ہے‘‘۔ یہ عبارت صاف لفظوں میں مرزا صاحب کا دعویٰ بتا رہی ہے ۔ کہ آپ اس بات کے مدعی تھے کہ احادیث میں جن عیسیٰ موعود کی بابت خبر آئی ہے کہ وہ دنیا میں قریب قیامت کے ظاہر ہوں گے ۔ وہ میں ہوں ۔ یہ بھی اس عبارت سے صاف ثابت ہے کہ مسلمان مرزا صاحب سے اسی دعوے میں بحث اور نزاع کرتے ہیں ۔ یعنی وہ آپ کو عیسیٰ موعود وغیرہ نہیں مانتے ۔ یہی اصلی نزاع ہے ۔ اس کے سوا باقی کوئی ہے تو فرعی ۔ یہ ہے مرزا صاحب کے دعوے کی تقریر جو انہی کے الفاظ میں نقل کی گئی ۔ چونکہ عیسیٰ موعود کا منصب اور تشریف آوری حدیثوں سے ثابت ہے ۔ اس لئے ہم چند حدیثوں سے شہادات نقل کرتے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ ان حدیثوں کے مطابق جناب مرزا مسیح موعود ہیں ؟ پہلی شہادت سب سے پہلے بخاری مسلم کی متفق علیہ حدیث ہے جس کے الفاظ مع ترجمہ یہ ہیں : عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکماعدلاً فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر و یضع الجزیۃ ویفیض المال حتیٰ لا یقبل احد حتیٰ تکون سجدۃ واحدۃ خیراً من الدنیا و ما فیھا ثم یقول ابو ھریرۃ فاقرؤا ان شئتم وان من اھل الکتاب الا لیؤ منن بہ قبل موتہ ۔ ۔ ۔ الاٰیۃ (متفق علیہ، مشکوٰۃ شریف ص 479 باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)) ’’ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ، قسم ہے اللہ پاک کی بہت جلد ابن مریم منصف حاکم ہو کر تم میں اتریں گے ۔ پھر وہ عیسائیوں کی صلیب کو (جس کو وہ پوجتے ہیں اسے ) توڑ دیں گے اور خنزیر ( جو خلاف حکم شریعت عیسائی کھاتے ہیں اُس) کو قتل کرائیں گے اور کافروں سے جو جزیہ لیا جاتا ہے اسے موقوف کر دیں گے اور مال بکثرت لوگوں کو دیں گے یہاں تک کہ کوئی اسے قبول نہ کرے گا ۔ لوگ ایسے مستغنی اور عابد ہوں گے کہ ایک ایک سجدہ ان کو ساری دنیا کے مال و متاع سے اچھا معلوم ہو گا ۔ ( حدیث کے یہ الفاظ سنا کر )ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ کہتے تھے تم اس حدیث کی تصدیق قرآن مجید میں چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو : ان من اھل الکتاب آخر تک ‘‘۔ ( اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اترتے وقت کل اہل کتاب اُن پر ایمان لے آویں گے )۔ یہ حدیث اپنا مطلب بتانے میں کسی شرح کی محتاج نہیں ۔ صاف لفظوں میں حضرت عیسیٰ موعود علیہ السلام کو منصف حاکم یعنی بادشاہ قرار دیا ہے ۔ اور مرزا صاحب کو یہ وصف حاصل نہ تھا ۔ چنانچہ آگے اس کا ذکر آتا ہے دوسری شہادت : اس سے بھی زیادہ صاف اور فیصلہ کن ہے جو صحیح مسلم میں مروی ہے ۔ عن النبی صلی اللہ علی وسلم والذی نفسی بیدہ لیہلن ابن مریم بفج الروحاء حاجّاً او معتمراً او لیثنینھما (صحیح مسلم باب جواز التمتع فی الحج والقِران) ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے مسیح موعود فج الروحاء سے (جو مکہ مدینہ کے درمیان جگہ ہے۔ نووی شرح مسلم ) حج کا احرام باندھیں گے ‘‘۔ یہ حدیث حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تشریف آوری کے بعد ان کے حج کرنے اور ان کے احرام باندھنے کے لئے مقام کی بھی تعیین کرتی ہے ۔ مرزا صاحب کی بابت تو یہ بلا اختلاف مسلمہ ہے کہ وہ حج کو نہیں گئے ۔ مقام معین سے احرام باندھنا تو کجا ۔ حیرت ہے :کہ مرزا غلام احمد صاحب اور ان کی احمدی امت نے اور حدیثوں کے جوابات دینے پر تو توجہ کی چاہے وہ کسی قسم کی ہو ۔ مگر اس حدیث کا نام بھی ان کی تحریرات میں ہم نے نہیں دیکھا ۔ حالانکہ اخبار اہل حدیث مورخہ 15شوال (یکم جون 1923ء) میں یہ حدیث نقل کرکے جوا ب طلب کیا گیا تھا۔ تیسری شہادت : وہ ہے جسے جناب مرزا صاحب نے خود بھی نقل کیا ہے ۔ جس کے الفاظ یہ ہیں : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ینزل عیسی ابن مریم الی الارض فیتزوج ویولد لہ و یمکث خمساً و اربعین سنۃً ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا و عیسیٰ ابن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر و عمر (مشکوٰۃ شریف باب نزول عیسیٰ علیہ السلام) ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین کی طرف اتریں گے ، پھر نکاح کریں گے اور ان کے اولاد پیدا ہو گی اور آپ پینتالیس سال زمین پر رہیں گے پھر فوت ہو کر میرے مقبرہ میں میرے ساتھ دفن ہوں گے ۔ پھر میں ( رسول اللہ ) اور حضرت عیسیٰ ایک ہی مقبرہ سے قیامت کو اٹھیں گے جبکہ ہم ابو بکر اور عمر کے درمیان ہوں گے ‘‘ ۔ اس حدیث سے صاف ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ موعود کا انتقال مدینہ طیبہ میں ہوگا ۔ اس حدیث کو مرزا صاحب نے خود اپنے استدلال میں لیا ہوا ہے ۔ اس میں جو حضرت عیسیٰ موعود کے تزوج (نکاح ) کا ذکر ہے اس کی نسبت مرزا صاحب نے بہت کوشش کی ہے کہ یہ ان پر صادق آئے۔ ناظرین کو معلوم ہونا چاہئے کہ جناب موصوف نے ایک نکاح کی بابت الہامی پیش گوئی فرمائی تھی ۔ جس کو اعجازی نکاح(1) کہتے ہیں ۔ جناب ممدوح لکھتے ہیں کہ یہ نکاح جو حضرت عیسیٰ ابن مریم موعود کا مذکورہ حدیث میں آیا ہے اس سے وہی اعجازی نکاح مراد ہے جس کی بابت میں نے پیش گوئی کی ہوئی ہے ۔ چنانچہ آپ کے اپنے الفاظ یہ ہیں : انہ یتزوج و ذلک ایماء الیٰ آیۃ یظھر(2) عند تزوجہ من ید القدرۃ و ارادۃ حضرت الوتر و قد ذکرنا ھا مفصلا فی کتابنا التبلیغ والتحفۃ واثبتنا فیہما ان ھذہ الاٰیت سیظھر علیٰ یدی (حمامۃ البشریٰ ص 26) ’’حضرت عیسیٰ موعود نکاح کریں گے ۔ یہ اس نشان کی طرف اشارہ ہے جو اس کے نکاح کے موقع قادر کی قدرت سے ظاہر ہو گا ۔ اور ہم نے اس نشان کو مفصل اپنی دونوں کتابوں تبلیغ اور تحفہ میں ذکر کیا ہوا ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ یہ نشان میرے ہاتھ پر ظاہر ہو گا ‘‘۔ یعنی یہ نکاح وہی ہے جو میرا ہوگا ۔ تھوڑی سی تفصیل کے ساتھ اس کو دوسری کتاب ضمیمہ انجام آتھم میں یوں لکھتے ہیں : ’’ اس پیش گوئی ( یعنی میرے نکاح) کی تصدیق کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ یتزوج و یولدلہ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیزو ہ صاحب اولاد ہوگا ۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں ۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا ۔ اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی موجود ہے ۔ گویا اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی ۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص 53) یہ عبارت باآوازبلند کہہ رہی ہے کہ جناب مرزا صاحب کو اس حدیث کی تسلیم سے انکار نہیں بلکہ اس کو اپنی دلیل میں لایا کرتے تھے ۔ اس لئے ہم بھی اس حدیث سے استدلال کرنے کا حق رکھتے ہیں جو یوں ہے کہ : ’’ چونکہ مرزا صاحب مدینہ شریف میں فوت ہو کر روضۂ مقدسہ میں دفن نہیں ہوئے ۔ اس لئے عیسیٰ موعود نہیں ‘‘ ۔ الحمدللہ کہ ازروئے احادیث شریفہ ہم نے ثابت کردیا کہ مرزا صاحب کا دعویٰ مسیحیت موعودہ کا صحیح نہیں ۔ آنکس کہ بقرآن دخبر از نرہی اینست جوابش کہ جوابش ندہی احادیث اس مضمون کی بکثرت ہیں مگر ہم نے بہ نیت اختصار بطور نمونہ انہی تین حدیثوں پر اکتفا کیا ۔ کیونکہ ماننے والے کے لئے یہ بھی کافی سے زیادہ ہیں ۔ نہ ماننے والے کو بہت بھی کچھ نہیں ۔ اگر صد باب حکمت پیش ناداں بخوانی آئدش بازیچۂ درگوش مختصر مضمون احادیث ثلاثہ : تینوں حدیثوں کا مختصر مضمون تین فقروں میں ہے (1) حضرت عیسیٰ علیہ السلام حاکمانہ صورت میں آئیں گے (2) حضرت عیسیٰ علیہ السلام حج کریں گے ان کے احرام کی جگہ کا نام فج الروحاء ہے (3) حضرت عیسیٰ موعود علیہ السلام نکاح کرکے پینتالیس سال دنیا میں زندہ رہیں گے ۔ ان تینوں مضامین کے لحاظ سے مرزا صاحب کے حق میں نتیجہ صاف ہے کہ ’’ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی عیسیٰ موعود نہ تھے ‘‘
__________________
یکے آنکہ در خویش خود بیں مباش دوم آنکہ در غیر بد بیں مباش Last edited by ملک اظہر; 14-11-11 at 10:48 PM. |
|
|
|
|
| ملک اظہر کا شکریہ ادا کیا گیا | ملک زوالفقار (15-11-11) |
|
|
#48 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
امام مہدی کی آمد ہو چکی ہے ۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (27-11-11), فیصل ناصر (15-11-11) |
![]() |
| Tags |
| کتابوں, پہچان, قصہ, لوگ, نماز, نظر, موت, معلوم, آج, آدمی, اللہ, انسان, امیر, اسلام, جواب, حدیث, خون, خلاف, خبر, ختم نبوت, دیکھو, عیسیٰ, عبادت, صحابی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سیاستدانوں' جرنیلوں اور افسر شاہی پر تنقید کرنے والے عوام خود کیا کررہے ہیں؟ | جاویداسد | خبریں | 1 | 15-12-10 08:56 PM |
| تبدیلی کتنی ضروری ہے؟ ضروری ہے بھی یا نہیں؟ تبدیلی کا راستہ سیاستدان خود ہموار کررہے ہیں | جاویداسد | خبریں | 2 | 21-09-10 09:08 PM |
| سعودی فتویٰ تعلیم اور روزگار کے مقامات پر مردوعورت کا اختلاط حرام | Real_Light | خبریں | 37 | 29-08-10 03:13 PM |
| کہاں کی سیر کریں؟ | gul2836 | پاکستان کی سیاحت | 3 | 01-08-10 07:49 PM |