| 20 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | ghaffarjan (09-11-09), shafresha (02-12-10), پاکستان دوست (02-12-10), نیلم خان (14-11-09), محمد عاصم (05-12-10), معظم (16-11-09), Wahid Mahmood (16-11-09), ایکسٹو (01-12-10), ابو عبداللہ (05-02-11), ارشد کمبوہ (01-12-10), بلال اویسی (01-12-10), حیدر (20-07-10), سام (18-11-09), شمشاد احمد (01-12-10), عادل سہیل (06-12-10), عبداللہ آدم (04-12-10), عبداللہ حیدر (30-09-09), عبداللہ خراسانی (06-11-09), عروج (11-12-10), غلام خان (02-12-10) |
|
|
#61 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
آپ کی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت قابل تعریف ھے بھائی ، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم رحمت اللعالمین بھی ہیں اور نبی السیف بھی ہیں اور کچھ شک نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالٰی کے آخری پیغمبر رسول نبی ہیں اور یہ بھی حقیقت ھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسی کوئی اور ہستی بھی نہیں ھے نا ہی آسکتی ھے یہاں تک کے ازل سے لے کر قیامت تک کے اللہ تعالٰی کے تمام مقرب بندے بشمول انبیاء کرام و تمام فرشتوں سمیت ، اگر ایک انسان میں ڈھل جائیں اور دوسری جانب میرے اور آپ کے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ھوں وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس ہستی پر قرآن نازل ھوا تو میرا ایمان ھے کہ تمام کائنات کے مقربین الٰہی ایسے ھوں گے جیسے میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں بلکہ نعلین مبارک کے نیچے لگی ھوئی راستے کی دھول ۔ تو ایسا ھے بھائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بزات خود کسی شاتم کو معاف کیا ھے تو یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی حق ھے وہ جسے چاہے معاف کر سکتے تھے (اللہ کے حکم سے) کیونکہ صحیح احادیث سے معلوم ھوتا ھے کہ کئی بدبختوںکو ان کی گستاخی کی سزا میں قتل کیا گیا ھے۔ اور یہ یاد رکھنا چاھئے ہمیں کہ ہم کسی ولی اللہ کے قدموں کی بھی دھول نہیں ہیں نا بن سکتے ہیں ، تو جب ساری کائنات کے مقربین الٰہی مل کر بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر تو کجا قدموں کی دھول بھی نہیں تو پھر کوئی کیسے کسی گستاخ کو معاف کرسکتا ھے ؟ اسلئے بھائی تصدیق کرلیجئے گا کسی بھی عالم دین سے دین اسلام میں کسی شاتم رسول کو معاف کرنے کا حق کسی امتی کو ہے ہی نہیں۔ رحمت اللعالمین کا ایک اور مفہوم بھی آپ کو بتاتا ھوں بھائی فیصل ناصر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام عالمین کے لئے رحمت ہیں اس لئے کہ مسلمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مان کر رحمت کی چھاؤں میں آتا ھے اور کافر جو کہ اس رحمت کا دشمن ھے براہ راست ۔ اور مرتدین جو رحمت کی چھتری سے نکل کر کفر کی دلدل میں پڑجاتے ہیں ان کے کئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عمل کے مطابق اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اجماع کے مطابق مرتدین و گستاخان اور رحمت اللعالمین کے دشمن (کفار) جو رحمت اللعالمین کے امتیوں کی جان اور مال کے درپے ہیں ، کو سزا دی جاتی ھے تو یہ سزا بھی ان کفار و مرتدین و گستاخان کے لئے رحمت اللعالمین کی جانب سے رحمت ہی ھے کہ اگر ان گستاخوں کو ان کی گستاخی کے باوجود ڈھیل دے دی جائے اور ان کو سزا نہ دی جائے تو وہ اپنی گستاخی میں جری ھوتے جائیں گے ، اور جتنا زیادہ گستاخی کی دلدل میں گرتے جائیں گے اتنا ہی زیادہ دوزخ کی آگ میں انہیں جلنا پڑے گا ۔ اسلئے گستاخ کو سزا دے دینے سے ایک تو وہ گستاخ جس نے گستاخی کا ارتکاب کیا ھے وہ مزید گستاخی کرنے کے قابل نہیں رہتا اور دوسرے یہ کہ دشمنان رسول صٌی اللہ علیہ وسلم کی ہمتیں پست ھوجاتی ہیں اور وہ گستاخانہ عمل کرنے سے بچ جاتے ہیں ۔ اور یقین مانئے جو کافر ھو کر بھی کم گناہ کرے گا وہ کم آگ میں جلے گا اور جس کی گستاخی اور کفر زیادہ ھوگا وہ زیادہ شدید آگ میں جلے گا ۔ یہ الگ بات ھے کہ دوزخ میں گیا کافر ھو یا گستاخ وہ کبھی بھی دوزخ سے نہیں نکل سکتا اور ان کے عزاب میں کوئی کمی بھی نہیں ھوسکتی ۔ یہ بھی سمجھ لیں بھائی فیصل ناصر اگر کوئی مسلمان مومن ھو لیکن اس سے کوئی جرم سر زد ھوجائے یا کرلے تو اس کی تلافی توبہ سے بھی ھوجاتی ھے یا اس پر حد جاری کردی جائے تب بھی مسلمان جہنم کی آگ سے بچ جاتا ھے یعنی دنیا میں ہی سزا بھگت چکا ۔ اور اگر کسی مسلمان بندے یا بندی کو حد جاری کرکے سزا نہ دی جائے اور اسے چھوٹ دے دی جائے کہ جتنے مرضی گناہ اور جرائم کرتا رہے اور توبہ بھی نہ کرے تو بھائی جان دنیا کی سزا سے بچ جانے والا کیا اپنے جرائم کی سزا آگ کی صورت میں نہ پائے گا ؟ اسی لئے یہ بھی رحمت ھے رحمت اللعالمین کی ، کہ مجرم کو اس کے گناہ کی سزا دنیا میں ہی دے دی جائے تاکہ وہ دوزخ کی آگ سے بچ جائے ۔ یا عزاب میں کمی ھوجائے ۔ تو بھائی فیصل ناصر اگر گستاخ کو جرم ثابت ھوجانے پر فوراً سزا دے دی جائے تو یہ فتنہ جو ہر چند دنوں بعد ہمارے سامنے آتا رہتا ھے ختم نا بھی ھو تو کم ضرور ھوجائے گا ۔ اور گستاخی کرنے والا ھو سکتا ھے سزا پانے کے بعد دوزخ کے عذاب میں کمی کا بھی مستحق ھو جائے ۔ شکریہ والسلام |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#62 |
|
Senior Member
![]() |
عبد اللہ آدم صاحب ، سلام۔
تما م ڈاکٹر یہ قسم کھا کر نکلتے ہیں کہ وہ انسانیت کی خدمت کریں گے۔ انسانوں کو آرام پہنچائیں گے اور ا ن کو کبھی تکلیف نا دیں گے۔ ارے باپ رے باپ ، ذرا کسی دل کے مریض سے پوچھئے کہ آپریشن کے بعد کتنی تکلیف ہوتی ہے؟ کبھی پھوڑے کے کاٹنے کی تکلیف کا پوچھیں۔ کبھی کینسر زدہ بدن کے کاٹے جانے کی تکلیف کا پوچھیں۔ کبھی کسی شوگر کے مریض کے پیر کٹنے کی تکلیف کا پوچھیں۔ یہ انتہائی درجے کی حماقت ہوگی کہ ایسا سوال جائے کہ یار یہ ڈاکٹر تو قسم کھاکر نکلتے ہیں کہ کسی کو تکلیف نا دیں گے لیکن پھر یہ آپریشن سے سرجری سے بدن کاٹ کر کیوں تکلیف دیتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی انتہائی درجے کی حماقت ہوگی سوال کیا جائے کہ رسول اللہ نے قرآن کے مطابق --- جہاد اور جنگ ----- کیوں کی؟۔ لیکن حالت امن میں قتل کبھی نہیں کیا۔ یہ تمام جنگیں اللہ تعالی کے حکم سے ، قرآن کے اصولوں کے عین مطابق ہوئیں۔ اللہ کے فرمان قرآن کے مطابق آج بھی تمام جنگیں لڑی جاتی ہیں۔ اگر اللہ کے فرمان قرآن کے مطابق کوئی جنگ نہیںلڑی جاتی تو اس کو "وار کرائم" یعنی جنگی جرم کہا جاتا ہے۔ کیا آپ نے جنیوا کنونشن پڑھا ہے؟ کیا جنیوا کنونشن کے جنگ کے کسی بھی اصول کے بارے میں کسی بھی اسلامی ملک نے آواز اٹھائی ہے؟ کیا جنیوا کنونشن کا کوئی بھی اصول قرآن کے فراہم کردہ جنگ کے اصولوں کے مخالف ہے؟ کیا آپ کسی کو قتل کرکے ---- جنیوا کنونشن ---- کی مدد سے بچ سکتے ہیں؟ قرآن کے جنگ کرنے کے اصول مسلمان کے لئے اور غیر مسلم دونوں کے لئے یکساں ہیں۔ اب آتے ہیں حالت امن میں قتل کی طرف ۔۔۔ جس طرح آپ حالت امن میں قتل کرکے --- جنیوا کنونشن ----- کو استعمال کرکے نہیں بچ سکتے اسی طرح ہر وہ شخص جو ماورائے عدالت قتل کرتا ہے بچ نہیںسکتا۔۔۔ چاہے وہ کوئی رسول ہی کیوں نا ہو۔ کسی رسول نے بھی اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی نہیں کی۔ رسول اللہ صلعم جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کبھی ماورائے عدالت قتل نہیں کیا اور نا ہی ماورائے عدالت بناء جرم ثابت ہوئے کسی کو قتل کا حکم دیا۔ جناب صلعم ۔ ایک منصف ترین حکمران تھے۔ اس بات کا اعتراف آج کے غیر مسلم مؤرخین بھی کرتے ہیں۔ کیا آپ ایسے انسانوں کی لکھی ہوئی تاریخ سے قوانین اخذ کریں گے جنہوں نے کبھی رسول اللہ صلعم کو دیکھا بھی نہیں ۔ بلکہ ان کے باپ اور دادوں نے بھی نہیں دیکھا؟ جن کہانیوں کی کتب میں یہ کہانیاں لکھی ہیں ان کی حیثیت کسی تاریخ کی کتاب سے زیادہ نہیں۔ یہ بھی پتہ نہیں کہ اصل مصنف نے اس میں کیا لکھا تھا۔ آپ کی آسانی کے لئے اللہ تعالی نے وہ تمام اصل کتب ہی دجلہ میں تاتاریوں کے ہاتھوں بہا دیں تھیں۔ ان کتب کو ایک طرح کی تاریخی کہانیاں سمجھ کر پڑھئیے۔ اس کو کسی نبی نے نہیںلکھا۔ اب بھی آپ کے ذہن میں ان دونوں آیات کا فرق نہیں معلوم تو پھر سے دیکھ لیجئے۔ پہلی آیت قرآر دیتی ہے کہ محمدصلعم دونوں جہانون کے لئے ڈاکٹر ہیں، رحم کرنے والے ہیں۔ دوسری آیت قرار دیتی ہے کہ یہ کفار یعنی --- جب پھوڑے پھنسی نکل آئیں ---- یعنی حالت جنگ ہو تو --- کسی ڈاکٹر کی طرح اس پھوڑے پھنسی کو کاٹ کر پھینک دیتے ہیں---- یعنی جہاد کرتے ہیں۔ آپ کا قصور: آپ کا قصور یہ ہے کہ آپ نعوذ باللہ ، آپ دشمناں اسلام کی بات پر یقین کرکے۔ رسول اکرم کو قاتل قرار دے رہے ہیں ۔ یعنی زمانہ ء امن میں ، کسی کا جرم ثابت ہوئے بغیر اس کو قتل کرنے یا قتل کرنے کا ماورائے عدالت حکم۔ یہ روایت جن لوگوں نے گھڑ کر رسول اللہ صلعم پر قتل کا الزام لگایا ہے وہ صرف اورصرف دشمنان اسلام ہی کرسکتے ہیں۔ رسول اللہ صلعم مجاہد ضرور تھے لیکن قاتل نہیں تھے۔ نا قتل کیا اور نا ہی قتل کا حکم دیا۔ رسول اللہ صلعم ایک منصف حکمران تھے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت فتح مکہ ہے کہ جب جناب (صلعم) کے پاس قتل کا موقع تھا تو معاف کردیا۔ تو ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ کسی دودھ پلانے والی عورت کے رات کی تاریکی میں قتل کا الزام رسول اللہ پر رکھا جائے اور ایک مسلمان اس کو قبول کرلے۔ پھر آپ یہ نا بھولئے کہ اللہ تعالی کی ذات مبارک ہر دم رسول اللہ کی ہدایت کرتی رہتی تھی۔ کیا قرآن حکیم میں اللہ تعالی نے ایسے کسی قتل کی صریح حمایت کی یا حکم دیا کہ ابو لہب کو قتل کردیجئے؟ یہ آیات ---- ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹیں ۔۔۔۔ اس حقیقت کی سب سے بڑی گواہ ہے کہ اللہ تعالی نے ایسے معاملات کو اپنے ہی ہاتھ میں رکھا۔۔۔۔ کبھی رسول اللہ کو ابو لہب جیسے شخص کا حکم نہیں دیا تو ایک معصوم دودھ پلاتی عورت کے قتل کا حکم کس طرح ممکن ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟ یہ تمام کی تمام روایات ان کتب میں پائی جاتی ہیں جو ایسے انسانوں نے لکھیں جو رسول اللہ صلعم کے 150 سے 650 سال بعد آئے۔ ایسی کہانیاں ناقابل اعتبار ہیں۔ یہ کسی قسم کی مسخشدہ تاریخ تو ہو سکتی ہے لیکن مسلمان کے ایمان کا حصہ نہیں۔ ۔۔۔ کیا نبی اکرم نے ان ڈیڑھ سو سال بعد لکھی والی کتب پر ایمان رکھنے کا حکم دیا تھا؟ کیا وجہ ہے کہ یہ کتب خلاف قرآن اصولوں سے بھرپور ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ ان کتب کے قاتلانہ اور خونی اصولوں کو تسلیم کرنے کے بعد قرآن حکیم کی تکفیر کی جائے ؟؟؟؟۔۔۔ نعوذ باللہ۔ آئے دیکھتے ہیں کہ جس شخص نے رسول اللہ صلعم کے خلاف سب سے بڑی مہم چلائی ہوئی تھی۔ جس کا اندراج تاریخی کتب میں موجود ہے۔ کتب روایات میں موجود ہے۔ کفار کی کتاب میں موجود ہے۔ وہ شخص تھا ابو لہب۔ اس شخص نے قرآن کی تکفیر کی، اللہ تعالی کی توہین کی اور رسول اللہ صلعم کی توہین کی۔ اس کی بیوی بھی اس کام میں پیچھے نہیں تھی۔ یہ بھی ہم کو کتابوں سے پتہ چلتا ہے۔ بات یہاںتک پہنچی کے اللہ تعالی بھی ناراض ہوئے۔ اللہ تعالی نام لے کر کسی بڑے سے بڑے صحابی تک کو قرآن میں مخاطب نہیںکرتے ہیں (جناب زید کا نام لے کر تذکرہ سورۃ الاحزاب آیت 37 میں کیا ہے ، لیکن نام لے کر مخاطب نہیںکیا)۔ جن لوگوںکو جنت کی خوش خبری سنائی گئی ان کا نام بھی قرآن میں نہیں، رسول اللہ صلعم کے خاندان والوں کا نام قرآن میں نہیں۔ لیکن ابو لہب کا جرم اتنا بڑا تھا کہ اللہ تعالی کو ابو لہب کی زندگی ہی میں اس کا فیصلہ اس کا نام لے کر قرآن حکیم میں کیا ۔۔۔۔۔۔ اگر گستاخی ء رسول کا یہ جرم اتنا بڑا تھا کہ اس کا فیصلہ اللہ تعالی کی عالی عداالت میں ہو رہا ہے تو بھی اس کے قتل کا حکم نہیں دیا جارہا ہے۔ اگر اس گستاخ رسول کے قتل کا حکم اللہ تعالی نے نہیںدیا تو پھر ایسا کیسے ممکن ہے کہ معمولی درجے کے گستاخ رسول کے قتل کا حکم رسول اکرم زمانہ امن میں دیں اور سلامتی کے احکامات کے خلاف عمل کریں؟؟؟؟ پڑھئے سورۃ 111 المسد 111:1 تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ تباہ ہو جائے اپنے ذہن سے یہ بات نکال دیجئے کہ رسول اللہ قاتل ہوسکتے ہیں ۔۔ ایک مجاہد ، غازی میں اور ایک قاتل میں بہت ہی بڑا فرق ہوتا ہے۔ جب تک اس فرق کو نا سمجھیں۔۔۔۔ ان روایات پر بے پر کے تبصرے نا کیجئے۔ یہ رسول اکرم کی شان میں گستاخی ہے۔ انجانے میں یہ گنا ہ نا کیجئے۔ رسول اللہ صلعم کی محبت میں ایسی کہانیوں کو بنا پرکھے نا مانئے جو ہتک رسول کے لئے لکھی گئی ہیں۔ اللہ تعالی ہم سب کو ہدایت عطا فرمائیں اور قرآن کریم کو پڑھنے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ اور یہ سمجھ بھی عطا فرمائیں کے قرآن کی تفسیر کہانیوں کی کتب سے نہیں ہوسکتی۔ قرآن اپنی تفسیر خود کرتا ہے اور اپنے آپ کو سب سے بڑی تفسیر و تفصیل قرآر دیتا ہے۔ لہذا ایسا کہنا کہ ہم دوسری کتب سے قرآن کی تشریح کریں گے اپنی جگہ قران کی اس آیت کی تکفیر ہے۔ 25:33 وَلَا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ وَأَحْسَنَ تَفْسِيرًا اور نہ لے کر آئیں یہ تمہارے پاس کوئی نرالی بات مگر لائیں گے ہم تمہارے پاس حق اور بہترین وضاحت۔ اگر مسلمانوں میں اختلافات ہوں تو کس کتاب سے فیصلہ کیا جائے؟؟؟؟؟ روایات اور کہانیوں اور تاریخ کی کتب سے؟؟؟؟ یا پھر قرآن حکیم سے؟؟؟؟؟ 16:64 وَمَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ إِلاَّ لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُواْ فِيهِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ اور ہم نے آپ کی طرف کتاب نہیں اتاری مگر اس لئے کہ آپ ان پر وہ (اُمور) واضح کر دیں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں اور (اس لئے کہ) یہ (کتاب) ہدایت اور رحمت ہے اس قوم کے لئے جو ایمان لے آئی ہے آپ کا اگر کوئی اختلاف ہے تو قرآن حکیم کی مدد سے ہدایت حاصل کیجئے نا کہ تواریخ کی کتب سے؟؟؟ جن کے لکھنے والوں کا بھی پتہ نہیں؟؟؟؟؟ والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | shafresha (05-12-10), فیصل ناصر (04-12-10), نورالدین (01-01-11), مرزا عامر (04-12-10), تانیہ رحمان ستارہ (05-12-10), حیدر Rehan (06-12-10) |
|
|
#63 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فيصل بھائي
اللہ مجھے معاف كرے۔۔۔۔ميرا خيال ہے اس موضوع پر آپ سے بات كرنا مناسب نہيں ہے۔۔۔۔ يقينا آپ نے سيرت النبي كا مطالعہ كيا ہو گا۔۔۔۔بس ميري گذارش ہے كہ سيرت صلي اللہ عليہ والہ وسلم كے مختلف گوشوں كا مطالعہ اگر ہو سكے تو خالي الدماغ ہو كر كيجئے۔۔۔۔ شكريہ۔۔۔۔ مجھے كوئي خوشي نہيں ہو گي كہ ميرا ايك مسلمان بھائي كي بھي وجہ سے كوئي ايسي بات زبان سے نكال دے۔۔۔ نہيں نكالني چاہے۔۔۔ ميرے لئے بھي دعا كيجئے گا۔ والسلام عليكم۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#64 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
فاروق صاحب!
پھر سوال کی جسارت کر رہا ہوں کہ جو آپ بیان کر رہے ہیں..............ساری امت میں سے کس نے ایسا بیان کیا ہے. شاید آپ کے لیے یہ بات نئی ہو کہ اسلام میں تسلسل کی ایک بہت بڑی اہمیت ہے!!!جو بات 10 15 سال پیھچے دم توڑ دیتی ہو اس پر بات کرنا تو اس کی طرف التفات ہی فضول ہے!!! میں آپ سے کوئی دلیل نہیں مانگ رہا صرف یہ بتادیں کہ جو اس امت کے بہترین لوگ قرون ثالثہ کے ان کا مصادر کے بارے میں یا موقف تھا؟؟؟آیا وہ بھی قرآن کے علاوہ باقی سب کو "کہانیاں" سمجھتے تھے؟؟یا پھر کیا حیثیت تھی ان کے نزدیک احادیث کی؟؟؟ جو انہیں سمجھ آئی اس سے زیادہ مجھے یا آپ کو نہیں آ سکتی.............تو کیا خیال ہے پہیا ایجاد رنے کا فائدہ؟؟ ہمیں صرف چلنا ہے اس راستے پر جو پہلے دن سے انتہائی واضح ہے...............نہ کہ اپنی اپچ نکالیں.......... والسلام |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | shafresha (05-12-10), فاروق سرورخان (05-12-10), محمد عاصم (05-12-10), آبی ٹوکول (04-12-10), شمشاد احمد (04-12-10) |
|
|
#65 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اس کی وضاحت تو انشااللہ میں بعد میں کردونگا لیکن آپ کے خیال میں کیا یہ دو آیات ایکدوسرے کی متضاد ہیں ؟ تو اب یہ بتائیں اس میں سے کونسی آیت آپ کے خیال سے منسوخ کہلائی ؟
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں Last edited by فیصل ناصر; 04-12-10 at 11:03 PM. |
|
|
|
|
|
|
#66 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | shafresha (05-12-10), محمد عاصم (05-12-10), حیدر Rehan (06-12-10), سحر (04-12-10), عادل سہیل (06-12-10), عبداللہ آدم (05-12-10) |
|
|
#67 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
لیکن نبی السیف ہیں حالت جنگ میں دشمن کے لشکر کے سامنے ناکہ ایک مجبور عورت جو اپنے گناہ پر معافی کی طلبگار ہو اس کےلئے میں یہ بھی نہیں کہتا کے لازمی ہے اس کو معاف ہی کیا جائے لیکن یہاں تو " رحم کی حمایت "کرنے کو ہی جب عیب سمجھا جارہا ہے اور اس بنیاد پر لوگوں کو ایجنٹ قرار دیا جارہا ہے پھر میرا یہ سوال ہمیشہ طعن و تشنیع میں دبادیا جاتا ہے اگر کافر اتنے ہی قابل نفرت ہیں تو رسول اللہ نے دین کافروں کے آگے کیوں پیش کیا ؟ جن صحابہ کی عظمت کے آج گیت گائے جاتے ہیں وہ صحابہ قبول اسلام سے پہلے کون تھے ؟ ساھج بھائی پتہ نہیں کب اللہ کس کو ہدایت دے دے اور وہ تقویٰ میں ہم سے کہیں آگے نکل جائے سحر بہن ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ اگر غلط ہوا ہے تو سب کے ساتھ میں نے ان کے لئے آواز اٹھائی تھی اور آج بھی ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ کی گئی زیادتی پر سراپا احتجاج ہوں لیکن کیا آسیہ کے قتل کو آپ ڈاکٹر عافیہ کا جواب سمجھتی ہیں ایک اور بات ضمنا عرض کردوں ڈاکٹر عافیہ کے لئے غیر مسلم ممالک کے غیر مسلم لوگوں کے احتجاج کو آپ کس خانے میں فٹ کریں گی عراق اور افغانستان اور فلسطین کے حق میں غیر مسلموں کے احتجاج کو کیا رنگ دیا جاسکتا ہے قرآن کو جلانے والے ایک خبیث پادری کی بنیا د پر کیا ساری عیسائی قوم کو مار ڈالنا چاہئے ؟ اے اللہ ہم کو سیدھا راستہ دکھا Last edited by فیصل ناصر; 04-12-10 at 11:45 PM. |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#68 |
|
Senior Member
![]() |
برادر من عبد اللہ آدم ، سلام،
آپ نے اخترا ع اور ایجاد کے بارے میں پوچھا اور تسلسل کی شکایت پیش کی۔ میں ان ہی صفحات میں جناب احمد رضا شاہ بریلوی کے یہ مشہور الفاظ پیش کرچکا ہوں کہ " روایات پر تمام فرقوںکا اتفاق نہیں ، مسلمانوں کے بہت سے فرقے ان کتب کو نہیں مانتے ، اللہ اور اس کے رسول نے کہاں فرمایا کہ بعد کی کتب پر ایمان رکھنا ہے" یہ جناب کوئی ڈیڑھ سو سال پہلے گذرے تھے۔ پھر تسلسل کے لئے آپ مختلف فرقوںکی آراء دیکھ لیجئے۔ آپس میں کوئی اتفاق نہیں۔ الفاظ اگر من و عن نہیں تو بھی مفہوم یہی ہے۔ موقع ملا تو حوالہ پیش کردوںگا۔ برادر من کیا کوئی بھی ان تاریخی کتب پر ایمان رکھتا ہے؟ بطور ریفرنس ان کتب کا استعمال درست ہے ۔ لیکن ان پر ایمان کہ یہ قرآن حکیم کے مساوی ہیں درست نہیں۔ یا ان کتب کے خلاف قران روایات کو بھی ماننا ضروری ہے ۔ ایسا بھی درست نہیں۔ یہ انسانوں کی لکھی ہوئی تاریخہے اور بس۔ والسلام |
|
|
|
|
|
#69 |
|
Senior Member
![]() |
دورِ جدید کے جدید فتنے۔
اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ان فتنوں سے آمین۔ نبی علیہ السلام کی حدیث کو نکال دیں تو قرآن آج کے جاہل فلسفی کی عقل سے سمجھیں؟ نبی علیہ اسلام کی پیاری باتوں کو نکال دیں تو کیا قرآن کو امریکہ کے ایجنٹوں کی عقل سے سمجھیں؟؟؟ نبی علیہ السلام کی قرآن کی تفسیر کو نکال دیں تو کیا آج کے عقل پرست جاہل انسان کی تفسیر کو مانیں؟؟؟ لعنت ہو ایسے جاہلوں پر جو نبی علیہ السلام کے طریقے اور تفسیر کے مقابلے پر آج کے فتنہ پرست اور جاہل انسانوں کی عقلوں کو میعارِ حق سمجھے بیٹھے ہیں۔ کاش میرے پاس وقت ہوتا تو اپنی یہ باتیں ثبوت کے ساتھ کر سکتا۔
__________________
![]() یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین |
|
|
|
|
|
#70 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فیصل بھائی
آپ بات کو سمجھ ہی نہیں رہے ہیں دو تین مختلف باتوں کو ایک جگہ ملا رہے ہیں ۔ میں نے کہیں نہیں کہا کہ آسیہ کا قتل ڈاکٹر عافیہ کا بدلہ ہے ۔ آسیہ نے قصور کیا ہے اس کی اس کو سزا ملی ہے ۔ کیا ڈاکٹر عافیہ کے بدلے میں پاکستان میں بے گناہ عیسائی عورتوں کو قتل کیا جارہا ہے ؟ میں نے صرف عورت پر رحم کھانے پر ڈاکٹر عافیہ کی مثال دی تھی کہ وہی لوگ اسی فورم پر جو آسیہ کے لیے دکھی ہیں وہی ممبرز ڈاکٹر عافیہ کے خلاف بہت کچھ لکھ چکے ہیں ۔ ان میں فیصل بھائی آپ ہرگز شامل نہیں ہیں ۔ یہاں دو مختلف اشوز پر بات ہورہی ہے ایک تو قانون توہین رسالت ۔ اگر آپ یہ مانتے ہیں کہ توہین رسالت کی سزا موت ہے تو وہ کس بیس پر مانتے ہیں ۔ قرآن میں تو ایسا کوئی حکم نہیں ۔ یہ قانون احادیث کی رو سے ہی بنایا گیا ہے ۔ اگر ان احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانا جائے ۔ تو توہین رسالت پر قتل کی سزا کی حمایت آپ کیوں کررہے ہیں ۔ بھایئ میرے اسلام میں کوئی بھی سزا اللہ اور رسول کے حکم سے ہی بنائی جاسکتی ہے ۔ اپنے دل سے کوئی بھی قتل کی سزا نہیںسنا سکتا ہے ۔ اور تیسرا اشو ہے آسیہ کا عورت ہوتے ہوئے معافی مانگنا ۔ اسلام میں جو سزائیں ہیں وہ مرد و عورت کہہ کر نہیں ہیں بلکہ دونوں کے لیے مساوی ہیں جیسے اگر عورت کسی کو بھی قتل کرے گی تو اس کو بھی قتل کیا جائے گا ، اسی طرح مرد کسی کو قتل کرے گا تو اس کو بھی قتل کیا جائے گا ۔ عورت کہہ کر سزا میں نرمی کا تصور اسلام میں نہیں کیوں کہ سزا گناہ کی دی جاتی ہے ، چھوٹے بچوں کی ماں یا دودھ پلاتے بچے کی ماں کو گناہ کرتے ہوئے خود بھی خیال ہونا چاہیے کہ وہ کیا کررہی ہے اور اس کا انجام کیا ہوگا ۔ جنگوں میں عورتوں اور بچوں کو مارنے سے منع اس لیے کیا جاتا ہے کہ وہ بے گناہ ہوتے ہیں۔ لیکن جنگ میں بھی کوئی عورت اور کوئی بچہ تلوار لے کے آجائے اور لڑنا شروع کردے تو اس کو بھی قتل کیا جائے گا ۔ یہاں بات عورت اور مرد کی نہیں ۔ بلکہ فرق بے گناہ اور گناہ گار کا ہے۔ اور آسیہ نے جو معافی مانگی ہے اس کا جواب میں پہلے دے چکی ہوں کہ کسی بھی قانون میں سزا سنانے کے بعد معافی مانگنے پر کیا جج کا فیصلہ تبدیل ہوجاتا ہے آسیہ اس فیصلے پر اپیل کرسکتی ہے اور اپیل کا فیصلہ بھی عدالت ہی دے گی ۔ عدالت کے فیصلے پر بغیر کسی مقدمے کے معافی بالکل غلط ہے ۔ اور وہ بھی اتنے نازک معاملے میں ۔
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | sahj (05-12-10), shafresha (05-12-10), آبی ٹوکول (05-12-10), عادل سہیل (06-12-10), عبداللہ آدم (05-12-10) |
|
|
#71 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اقتباس:
یہ ایک مثال تھی نہ کہ میں نعوذ باللہ ایسا سمجھتا ہوں................ صرف یہ سمجھانے کے لیےکہ ظآہر الفاظ کو لے کر اور روح کو سمجھے بغیر تو تضاد کہییں بھی" پیدا " کیا جا سکتا ہے.............. تو آپ بھی رحمت اللعالمین ہونے کو گستاخ کے قتل کے ساتھ نہ ملائیں...........!!! دونوں ہی اپنی اپنی جگہ ٹھیک ہیں..........اور دونوں ہی باتیں قرآن و سنت میں مذکور ہیں ان پر ایمان لائیں.........................بات ختم ہو جاتی ہے........... اب اگر آپ احادیث کا ظاہری خلاف ثابت کریں گے قرآن سے تو پھر لازما قرآن میں بھی اسے ہی لاگو کر کے دیکھیں.................!!! شاہد بھائی صحیحین کی حدیث پیش کر دی تھی.............اب بھی طبیعت مکدر ہے تو کسی اللہ والے کی صحبت میں بیٹھیں............یہ آیت بھی دیکھ لیں:: إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَن يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ایمان والوں کی بات تو فقط یہ ہوتی ہے کہ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ فرمائے تو وہ یہی کچھ کہیں کہ ہم نے سن لیا، اور ہم (سراپا) اطاعت پیرا ہو گئے، اور ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں النور::51 فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُواْ فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيمًا پس (اے حبیب!) آپ کے رب کی قسم یہ لوگ مسلمان نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ وہ اپنے درمیان واقع ہونے والے ہر اختلاف میں آپ کو حاکم بنالیں پھر اس فیصلہ سے جو آپ صادر فرما دیں اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور (آپ کے حکم کو) بخوشی پوری فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں النساء::65 والسلام |
|
|
|
|
|
|
#72 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اقتباس:
جب ان کتب کے اتھینٹک ریفرنس پیش کیے جائیں تو پھر اس کے بعد:: مستند روایات کی """"موافق القرآن"" اور ""مخالف القرآن"" میں تقسیم کس کی معتبر مانی جائے گی؟؟؟؟کون اتھارٹی ہے؟؟؟ ..............ہر کوئی اپنی عقل کے مطابق جو حدیث اسے خلاف قرآن لگے گی وہ اسے ترک کرے گا اور جو اسے قرآن کے مطابق نظر آئے گی اس پر عمل کرے گا؟؟ یا پھر.............. کچھ خاص لوگوں کا اعتبار کیا جائے گا...........؟؟؟ اس سٹیپ کو کلیر فرما دیں والسلام |
|
|
|
|
|
|
#73 |
|
Senior Member
![]() |
سلام عبداللہ آدم صاحب،
جناب یہ تاریخی کتب ڈیڑھ سو سال بعد لکھی گئیں اور ان کے لکھوانے والے رسول اکرم نہیں تھے۔ لہذا ان تاریخی کتب میں خلاف قران کیا اور موافق القرآن کیا۔ اس کا فیصلہ صرف قرآن حکیم ہی کرسکتا ہے انسان نہیں۔ قرآن حکیم کے بیانات مفصل اور مفسر ہیں ۔ بہت کم لوگ ہیں جن کا اس پر اتفاق نہیں۔ آپ کو احمد رضا شاہ بریلوی کی کتاب کا حوالہ فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ چھپی ہوئی کتاب سے۔ انشاءاللہ۔ والسلام |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#74 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 594
کمائي: 8,412
شکریہ: 2,421
379 مراسلہ میں 903 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
-------------------------------------------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم ایھاالاخوہ الکرام : السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ:- شيخ الاسلام امام احمد ابن تيميہ رحمہ اللہ مختصر تعارف شيخ الاسلام تقي الدين ابو العباس احمد بن عبد الحليم بن عبد السلام بن عبد اللہ بن الخضر بن محمد بن الخضر بن علي بن عبد اللہ ابن تيميہ نميرى ، حرانى، دمشقى ، حنبلى (ولادت 661 ہجری ـــ وفات 728 ہجری ) عہد مملوكى كے نابغہ روزگار علماء ميں سے تھے ۔ اللہ تعالى نے انہیں ايك مجدد كى صلاحيتوں سے نوازا تھا ۔ آپ نے عقائد ، فقہ، رد فرق باطلہ، تصوف اور سياست سميت تقريبا ہر موضوع پر قلم اٹھایا اور اہل علم ميں منفرد مقام پایا ۔ آپ بہت فصيح اللسان اور قادر الكلام تھے ۔ علم وحكمت، تعبير وتفسير اور علمِ اصول ميں انہیں خاص مہارت حاصل تھی ۔اپنے والد كى وفات كے بعد دمشق كے دارالحديث السكرية كى مسندِ حديث پر جب آپ نے پہلا درس ديا، اس وقت آپ كى عمر بيس سال كے قريب تھی، اس ميں قاضي القضاة اور ديگر مشايخ زمانہ موجود تھے ۔آپ نے صرف بسم اللہ الرحمن الرحيم كے بارے ميں اتنے نكات بيان كيے کہ سامعين دنگ رہ گئے ۔ شيخ الاسلام تاج الدين فزارى شافعى ( م 690 ہجرى) نے ان كا پورا درس حرف بحرف قلم بند كر كے دارالحديث السكرية كے كتب خانہ ميں محفوظ كروا ديا ۔ ذہانت اور بے پناہ علمى قابليت كے ساتھ ساتھ آپ کی زندگی جہدِ مسلسل سے عبارت تھی ۔ آپ نے اپنے دور كے كئى علماء كے ساتھ علمى مناظرے بھی کیے اور حكومتِ وقت كے ساتھ مل كر تاتاريوں اور باغيوں کے خلاف عملى جہاد ميں بھی حصہ ليا ۔ نفاذِ شريعت كى كوششوں كے سلسلہ ميں آپ كو كئى تجاويز وشكايات لے كر وفود كے ساتھ حكام كے پاس جانے كا موقع بھی ملا۔ آپ كا انداز محققانہ اور محتاط تھا ۔ايك مرتبہ آپ كو قاضى كا عہدہ بھی پیش كيا گیا مگر آپ نے حكومتى شرائط سے متفق نہ ہونے كى وجہ سے اسے قبول نہیں کیا۔ موصوف كى انسانيت دوستى كا يہ عالم تھا کہ شام كے جنگی قيديوں كى رہائی كے ليے تاتارى مسلمان بادشاہ غازان كے پاس جا پہنچے ۔ اس نے آپ کے احترام ميں صرف مسلمان قيديوں كى رہائی كا اشارہ ديا تو آپ اس پر راضى نہ ہوئے اور يہ کہہ كر سب قيديوں كى رہائی پر اصرار كيا كہ یہودی اور نصرانى بھی ہماری رعايا ہیں اور ان كے جان ومال كى حفاظت ہم پر ضرورى ہے چنانچہ سبھی كو رہا كر ديا گیا ۔ آپ بےباك اس قدر تھے كہ 27 ربيع الاول 699 ہجرى كو جب شام كے شہر حمص اور سلميہ کے درميان وادى خازندار ميں تاتارى سلطان غازان اور سلطانِ مصر ملك ناصر محمدبن قلاؤن كے درميان سخت لڑائی كے نتیجے میں بہت تباہی ہوئی ، مصرى اور شامى فوجوں كا بہت نقصان ہوا اور ملك ناصر بھی فرار ہو كر قاہرہ پہنچ گئے تو امام ابن تيميہ رحمہ اللہ مشائخ دمشق كو لے كر 3 ربيع الثاني 699 ہجری كو بعلبك كے قريب تاتارى بادشاہ غازان سے ملاقات كرنے پہنچ گئے ۔ انہوں نے بادشاہ کے سامنے بہت پُرجوش انداز ميں عدل وانصاف كى خوبياں بيان كيں اور اس كے آباؤ اجداد كے مظالم كے ساتھ ساتھ ان كے بعض اصولوں اور وفائے عہد كا تذكرہ كيا ۔ غازان اگرچہ اس سے قبل ہی مسلمان ہو چکا تھا مگر تاتارى اور غيرتاتارى كى لڑائی تسلسل سے جارى تھی ۔ آپ كى تقريريں اس قدر سخت اور جملے اس قدر تندوتيز تھے كہ پورے وفد كو آپ کے قتل ہو جانے كا يقين ہو چلا تھا ۔ غازان نے انہیں قتل كرنے كى بجائے اپنے امراء كے سامنے ان كى بےباكى اور شجاعت كى تعريف كى اور ان سے دعاؤں كى درخواست كى ۔امام ابن تيميہ رحمه اللہ نے اس كے ليے يہ دعا كى : " اے اللہ اگر تو جانتا ہے كہ غازان تيرا كلمہ بلند كرنے كے ليے لڑ رہا ہے اور وہ تيرى راہ ميں جہاد کے ليے نكلا ہے تو تو اس كى مدد كر ۔اور اگر تيرے علم ميں ہے کہ وہ مال ودولت حاصل كرنے كے ليے نكلا ہے تو اس كو اس كى پوری جزا عطا كر ۔" غازان اس پوری دعا پر آمين كہتا رہا ! آپ كى حق گوئی اور بے نفسى كا يہ عالم تھا كہ غازان نے آپ كے وفد كے ليے دسترخوان لگوايا مگر آپ نے وہاں كھانے سے انكار كرديا اور كہا: "ميں یہ کھانا كيسے کھا سکتا ہوں جب كہ اس كو لوٹ کھسوٹ كے مال سے تيار كيا گیا ہے ؟" امام ابن تيميہ رحمہ اللہ نے كسى کے خوف اور دباؤ كی پرواہ كيے بغير اپنی منفرد علمى تحقيقات كى اشاعت كى ۔ اپنے بعض علمى مباحثوں اور فتووں كى وجہ سے آپ كو ايك مدت تك قيد وبند كى صعوبتيں بھی برداشت كرنا پڑیں، حتى كہ جب داعئ اجل كو لبيك كہنے كا وقت آيا تو آپ زندگی كى آخرى قيد برداشت كر رہے تھے اور آپ كا جنازہ جيل ہی سے نكلا ۔ آپ كى كل مدت قيد سوا چھ سال بنتى ہے ۔ خير الدين زركلى نے دُرر كے حوالہ سے لکھا ہے كہ آپ كى تصانيف چار ہزاراجزاء سے متجاوز ہیں ۔ فوات الوفيات ميں ان كى تعداد تين سو مجلد منقول ہے ۔ ان ميں سے آپ كا ايك مبسوط فتاوى ، الجوامع، السياسة الشرعية ، الجمع بين العقل والنقل، الصارم المسلول على شاتم الرسول، رفع الملام عن الأئمة الأعلام، مجموعة الرسائل والمسائل بھی ہیں ۔ آپ کے حالات زندگی پر ابن قدامہ نے العقود الدرية في مناقب شيخ الإسلام أحمد بن تيمية ، شيخ مرعى حنبلى نے الكوكب الدرية ، سراج الدين عمر البزار نے الأعلام العلية في مناقب ابن تيمية ، عبدالسلام حافظ نے الإمام ابن تيمية ، شيخ محمد ابو زہرہ نے ابن تيمية ؛ حياته وعصره_ آراؤه وفقهه، اور اسى طرح شهاب الدين أحمد بن يحيى بن فضل الله العمري، ابو عبدالله محمد بن أحمد بن عبدالهادي الحنبلي، وغيره كئى اہل علم نے عليحدہ عليحدہ كتابيں لکھیں ۔اردو ميں آپ كى سوانح پرڈاکٹر غلام جيلانى برق كى كتاب امام ابن تيميہ، افضل العلماء محمد يوسف كوكن عمرى كى مبسوط كتاب امام ابن تيميہ، اور مولانا ابو الحسن على ندوى كى كتاب تاريخ دعوت وعزيمت جلد دوم بہت مفيد ہیں۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے غلام خان کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| پسند, واقعات, قدم, قرآنی, قصہ, لوگ, نفرت, نماز, مکہ, ماں, مجید, معلوم, آج, آدمی, اللہ, اسلام, اشعار, بھائی, تلاش, حسن, غزوہ بدر, صحابہ, صحابی, صدقہ, صدمہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| موہنِ رسول کی سزائے قتل پر ائمہ اربعہ اور علماء امت کا اجماع ! | sahj | عقیدہ رسالت | 0 | 09-01-11 05:17 PM |
| گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا موت ہے! علمائے کرام کا متفقہ فیصلہ | ALI-OAD | اسلام اور عصر حاضر | 6 | 03-01-11 09:22 PM |
| گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ کا کلام | آبی ٹوکول | اپکے کالم | 0 | 15-12-10 06:36 AM |
| حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام | چیتا چالباز | اخلاق و آداب | 6 | 19-10-10 05:41 PM |