واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > عقیدہ رسالت




گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا ۔۔۔

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-09-09, 03:38 PM  
گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا ۔۔۔
sahj sahj آف لائن ہے 27-09-09, 03:38 PM

گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام

قرآنی نصوص ، احادیث مبارکہ ، عمل صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ، فتاویٰ ائمہ اور اجماع امت سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح اور عیاں ہے کہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا قتل ہے اس کی معافی کو قبول نہ کیا جائے ۔ لہٰذا مسلم ممالک کے حکمرانوں کو چاہیے کہ ان کے اس منافقانہ طرز عمل سے متاثر ہونے کے بجائے ایک غیور مسلمان کا موقف اختیار کریں ۔

یہود و نصاریٰ شروع دن سے ہی شان اقدس میں نازیبا کلمات کہتے چلے آ رہے ہیں ۔ کبھی یہودیہ عورتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں ، کبھی مردوں نے گستاخانہ قصیدے کہے ۔ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں اشعار پڑھے اور کبھی نازیبا کلمات کہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شان نبوت میں گستاخی کرنے والے بعض مردوں اور عورتوں کو بعض مواقع پر قتل کروا دیا ۔ کبھی صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حکم دے کر اور کبھی انہیں پورے پروگرام کے ساتھ روانہ کر کے ۔ کبھی کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے حب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں خود گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جگر کو چیر دیا اور کسی نے نذر مان لی کہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور قتل کروں گا ۔ کبھی کسی نے یہ عزم کر لیا کہ خود زندہ رہوں گا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گستاخ ۔ اور کبھی کسی نے تمام رشتہ داریوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خود دیکھنے کے لئے گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور یہودیوں کے سردار کا سر آپکے سامنے لا کر رکھ دیا ۔ جو گستاخان مسلمانوں کی تلواروں سے بچے رہے اللہ تعالیٰ نے انہیں کن عذابوں میں مبتلا کیا اور کس رسوائی کا وہ شکار ہوئے اور کس طرح گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر نے اپنے اندر رکھنے کے بجائے باہر پھینک دیا تا کہ دنیا کیلئے عبرت بن جائے کہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انجام کیا ہے انہیں تمام روایات و واقعات کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے یہ اوراق اپنوں اور بیگانوں کو پیغام دے رہے ہیں کہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور بات کا حلیہ نہ بگاڑنا ۔ ذات اور بات کا حلیہ بگاڑنے سے امام الانبیاءعلیہما لسلام کی شان اقدس میں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ آپ اپنی دنیا و آخرت تباہ کر بیٹھو گے ۔ رسوائی مقدر بن جائے گی ۔

جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ رب العزت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دینے والوں کے بارے میں ارشاد فرما رہے ہیں ۔
ان الذین یوذون اللّٰہ ورسولہ لعنھم اللّٰہ فی الدنیا والآخرۃ واعد لھم عذابا مھینا
( 33/احزاب 57 )
” بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا و آخرت میں ان پر لعنت ہے اور ان کیلئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ “

آئیے گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انجام دیکھئے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اسی حوالے سے کارہائے نمایاں ملاحظہ فرمائیے اور اسی بارے میں ائمہ سلف کے فرامین و فتاویٰ بھی پڑھئے پھر فیصلہ فرمائیے کہ ان حالات میں عالم اسلام کی کیا ذمہ داری ہے ۔

یہودیہ عورت کا قتل :

چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :
ان یھودیۃ کانت تشتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم وتقع فیہ ، فخنقھا رجل حتی ماتت ، فاطل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دمھا
( رواہ ابوداود ، کتاب الحدود باب الحکم فیمن سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم )

ایک یہودیہ عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھی ایک آدمی نے اس کا گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا ۔

گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ام ولد کا قتل :

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ :
ایک اندھے شخص کی ایک ام ولد لونڈی تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھی وہ اسے منع کرتا تھا وہ گالیاں دینے سے باز نہیں آتی تھی وہ اسے جھڑکتا تھا مگر وہ نہ رکتی تھی ایک رات اس عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینا شروع کیں اس نے ایک بھالا لے کر اس کے پیٹ میں پیوست کر دیا اور اسے زور سے دبا دیا جس سے وہ مر گئی ۔ صبح اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جمع کرکے فرمایا ۔ میں اس آدمی کو قسم دیتا ہوں جس نے کیا ۔ جو کچھ کیا ۔ میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سن کر ایک نابینا آدمی کھڑا ہو گیا ۔ اضطراب کی کیفیت میں لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا ۔ اس نے آکر کہا ۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اسے منع کرتا تھا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے سے باز نہیں آتی تھی ۔ میں اسے جھڑکتا تھا مگر وہ اس کی پرواہ نہیں کرتی تھی اس کے بطن سے میرے دو ہیروں جیسے بیٹے ہیں اور وہ میری رفیقہ حیات تھی گزشتہ رات جب وہ آپکو گالیاں دینے لگی تو میں نے بھالا لے کر اس کے پیٹ میں پیوست کر دیا میں نے زور سے اسے دبایا یہاں تک کہ وہ مر گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری گفتگو سننے کے بعد فرمایا تم گواہ رہو اس کا خون ہد رہے ۔
( ابوداود ، الحدود ، باب الحکم فیمن سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، نسائی ، تحریم الدم ، باب الحکم فیمن سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم )

گستاخ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور گستاخ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا حکم :
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من سب نبیا قتل ، ومن سب اصحابہ جلد
( رواہ الطبرانی الصغیر صفحہ 236 جلد 1 )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی اسے قتل کیا جائے اور جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو گالی دی اسے کوڑے مارے جائیں ۔


حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا فتویٰ :

حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ :
کنت عند ابی بکر رضی اللہ عنہ ، فتغیظ علیٰ رجل ، فاشتد علیہ ، فقلت : ائذن لی یا خلیفۃ رسول اللّٰہ اضرب عنقہ قال : فاذھبت کلمتی غضبہ ، فقام فدخل ، فارسل الی فقال : ما الذی قلت آنفا ؟ قلت : ائذن لی اضرب عنقہ ، قال : اکنت فاعلا لو امرتک ؟ قلت : نعم قال : لا واللّٰہ ما کانت لبشر بعد رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم
( رواہ ابوداود ، کتاب الحدود باب الحکم فیمن سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم )

میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تھا آپ کسی شخص سے ناراض ہوئے تو وہ بھی جواباً بدکلامی کرنے لگا ۔ میں نے عرض کیا ۔ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ۔ مجھے اجازت دیں ۔ میں اس کی گردن اڑا دوں ۔ میرے ان الفاظ کو سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا سارا غصہ ختم ہو گیا ۔ آپ وہاں سے کھڑے ہوئے اور گھر چلے گئے ۔ گھر جا کر مجھے بلوایا اور فرمانے لگے ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ نے مجھے کیا کہا تھا ۔ میں نے کہا ۔ کہا تھا ۔ کہ آپ رضی اللہ عنہ مجھے اجازت دیں میں اس گستاخ کی گردن اڑا دوں ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرمانے لگے اگر میں تم کو حکم دے دیتا ۔ تو تم یہ کام کرتے ؟ میں نے عرض کیا اگر آپ رضی اللہ عنہ حکم فرماتے تو میں ضرور اس کی گردن اڑا دیتا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۔ نہیں ۔ اللہ کی قسم ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ کسی کے لئے نہیں کہ اس سے بدکلامی کرنے والے کی گردن اڑا دی جائے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے کی ہی گردن اڑائی جائے گی ۔



‘ عصماءبنت مروان کا قتل :

اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :
ھجت امراۃ من خطمۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال : ( من لی بھا ؟ ) فقال رجل من قومھا : انا یا رسول اللّٰہ ، فنھض فقتلھا فاخبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، فقال : ( لا ینتطح فیھا عنزان
( الصارم المسلول 129 )

” خَطمَہ “ قبیلے کی ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس عورت سے کون نمٹے گا ۔ “ اس کی قوم کے ایک آدمی نے کہا ۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کام میں سرانجام دوں گا ، چنانچہ اس نے جا کر اسے قتل کر دیا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو بکریاں اس میں سینگوں سے نہ ٹکرائیں یعنی اس عورت کا خون رائیگاں ہے اور اس کے معاملے میں کوئی دو آپس میں نہ ٹکرائیں ۔ بعض مورخین نے اس کی تفصیل یوں بیان کی ہے ۔

عصماءبنت مروان بنی امیہ بن زید کے خاندان سے تھی وہ یزید بن زید بن حصن الخطمی کی بیوی تھی یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاءو تکلیف دیا کرتی ۔ اسلام میں عیب نکالتی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لوگوں کو اکساتی تھی ۔ عمیر بن عدی الخطمی کو جب اس عورت کی ان باتوں اور اشتعال انگیزی کا علم ہوا ۔ تو کہنے لگا ۔ اے اللہ میں تیری بارگاہ میں نذر مانتا ہوں اگر تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخیر و عافیت مدینہ منورہ لوٹا دیا تو میں اسے ضرور قتل کردوں گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بدر میں تھے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر سے واپس تشریف لائے تو عمیر بن عدی آدھی رات کے وقت اس عورت کے گھر میں داخل ہوئے ۔ تو اس کے اردگرد اس کے بچے سوئے ہوئے تھے ۔ ایک بچہ اس کے سینے پر تھا جسے وہ دودھ پلا رہی تھی ۔ عمیر نے اپنے ہاتھ سے عورت کو ٹٹولا ۔ تو معلوم ہوا کہ یہ عورت اپنے اس بچے کو دودھ پلا رہی ہے ۔ عمیر نے بچے کو اس سے الگ کر دیا ۔ پھر اپنی تلوار کو اس کے سینے پر رکھ کر اسے زور سے دبایا کہ وہ تلوار اس کی پشت سے پار ہو گئی ۔ پھر نماز فجر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو عمیر کی طرف دیکھ کر فرمایا کیا تم نے بنت مروان کو قتل کیا ہے ؟ کہنے لگے ۔ جی ہاں ۔ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔

عمیر کو اس بات سے ذرا ڈر سا لگا کہ کہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی کے خلاف تو قتل نہیں کیا ۔ کہنے لگے ۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس معاملے کی وجہ سے مجھ پر کوئی چیز واجب ہے ؟ فرمایا دو بکریاں اس میں سینگوں سے نہ ٹکرائیں ۔ پس یہ کلمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلی مرتبہ سنا گیا عمیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اردگرد دیکھا پھر فرمایا تم ایسے شخص کو دیکھنا پسند کرتے ہو جس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی غیبی مدد کی ہے تو عمیر بن عدی کو دیکھ لو ۔
( الصارم المسلول 130 )

’ابوعفک یہودی کا قتل :

ابن تیمیہ رحمہ اللہ مورخین کے حوالے سے شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم ابوعفک یہودی کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ :
ان شیخا من بنی عمرو بن عوف یقال لہ ابوعفک وکان شیخا کبیرا قد بلغ عشرین ومائۃ سنۃ حین قدم النبی صلی اللہ علیہ وسلم المدینۃ ، کان یحرض علیٰ عداوۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ولم یدخل فی الاسلام ، فلما خرج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الی بدر ظفرہ اللہ بما ظفرہ ، فحسدہ وبغی فقال ، وذکر قصیدۃ تتضمن ھجو النبی صلی اللہ علیہ وسلم وذم من اتبعہ
( الصارم المسلول 138 )

بنی عمرو بن عوف کا ایک شیخ جسے ابوعفک کہتے تھے وہ نہایت بوڑھا آدمی تھا اس کی عمر 120 سال تھی جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے ۔ تو یہ بوڑھا لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت پر بھڑکاتا تھا اور مسلمان نہیں ہوا تھا جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف نکلے غزوہ بدر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطاءفرمائی تو اس شخص نے حسد کرنا شروع کر دیا اور بغاوت و سرکشی پر اتر آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مذمت میں ہجو کرتے ہوئے ایک قصیدہ کہا ۔ اس قصیدے کو سن کر سالم بن عمیر نے نذر مان لی کہ میں ابوعفک کو قتل کروں گا یا اسے قتل کرتے ہوئے خود مرجاؤں گا ۔ سالم موقع کی تلاش میں تھا ۔ موسم گرما کی ایک رات ابوعفک قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے صحن میں سویا ہوا تھا سالم بن عمیر رضی اللہ عنہ اس کی طرف آئے اور اس کے جگر پر تلوار رکھ دی جس سے وہ بستر پر چیخنے لگا ۔ لوگ اس کی طرف آئے جو اس کے اس قول میں ہم خیال تھے وہ اسے اس کے گھر لے گئے ۔ جس کے بعد اسے قبر میں دفن کر دیا اور کہنے لگے اس کو کس نے قتل کیا ہے ؟ اللہ کی قسم اگر ہم کو معلوم ہو جائے کہ اسے کس نے قتل کیا ہے تو ہم اس کو ضرور قتل کر دیں گے ۔


“ انس بن زنیم الدیلمی کی گستاخی :

انس بن زنیم الدیلمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی اس کو قبیلہ خزاعہ کے ایک بچے نے سن لیا اس نے انس پر حملہ کر دیا انس نے اپنا زخم اپنی قوم کو آ کر دکھایا ۔


واقدی نے لکھا ہے کہ عمرو بن سالم خزاعی قبیلہ خزاعہ کے چالیس سواروں کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدد طلب کرنے کیلئے گیا انہوں نے آ کر اس واقع کا تذکرہ کیا جو انہیں پیش آیا تھا جب قافلہ والے فارغ ہوئے تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انس بن زنیم الدیلمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دیا ۔
( الصارم المسلول139 )

” گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت :

ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من یکفینی عدوی ” میری دشمن کی خبر کون لےگا ؟ تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو قتل کر دیا ۔ “

( الصارم المسلول163 )

مشرک گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قتل :

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
ان رجلا من المشرکین شتم رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم ( من یکفینی عدوی ؟ ) فقام الزبیر بن العوام فقال : انا فبارزہ ، فاعطاہ رسولُ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلمسلبہ
( الصارم المسلول : 177 )
مشرکین میں سے ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے اس دشمن کی کون خبر لے گا ؟ تو حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے عرض کرنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سامان حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو دے دیا ۔ “

11 ۔ کعب بن اشرف یہودی کا قتل :

کعب بن اشرف ایک سرمایا دار متعصب یہودی تھا اسے اسلام سے سخت عداوت اور نفرت تھی جب مدینہ منورہ میں بدر کی فتح کی خوش خبری پہنچی ۔ تو کعب کو یہ سن کر بہت صدمہ اور دکھ ہوا ۔ اور کہنے لگا ۔ اگر یہ خبر درست ہے کہ مکہ کے سارے سردار اور اشراف مارے جا چکے ہیں تو پھر زندہ رہنے سے مر جانا بہتر ہے ۔ جب اس خبر کی تصدیق ہو گی تو کعب بن اشرف مقتولین کی تعزیت کے لئے مکہ روانہ ہوا مقتولین پر مرثئے لکھے ۔ جن کو پڑھ کر وہ خود بھی روتا اور دوسروں کو بھی رلاتا ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف قتال کے لئے لوگوں کو جوش دلاتا رہا ۔ مدینہ واپس آکر اس نے مسلمان عورتوں کے خلاف عشقیہ اشعار کہنے شروع کر دئیے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں بھی اشعار کہے ۔ کعب مسلمانوں کو مختلف طرح کی ایذائیں دیتا ۔ اہل مکہ نے کعب سے پوچھا کہ ہمارا دین بہتر ہے یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ۔ تو اس نے جواب دیا کہ تمہارا دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے بہتر ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حرکات کی وجہ سے اسکے قتل کا پروگرام بنایا اور قتل کے لئے روانہ ہونے والے افراد کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع کی قبرستان تک چھوڑنے آئے ۔ چاندنی رات تھی پھر فرمایا جاؤ ۔ اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے ۔



حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ :
قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم ( من لکعب بن الاشرف ، فانہ قد اذی اللّٰہ ورسولہ ؟ ) فقام محمد بن مسلمۃ فقال : انا یا رسول اللّٰہ اتحب ان اقتلہ ؟ قال نعم قال : فاذن لی ان اقول شیا ، قال : قل
( رواہ البخاری کتاب المغازی باب قتل کعب بن الاشرف ، رواہ مسلم کتاب الجہاد والسیر باب قتل کعب بن الاشرف طاغوف الیھود )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کعب بن اشرف کا کام کون تمام کرے گا ۔ اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کو تکلیف دی ہے اس پر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ۔ اور عرض کی ۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند کرتے ہیں کہ میں اسے قتل کر آؤں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ہاں ۔ مجھ کو یہ پسند ہے ۔ محمد بن مسلمہ نے عرض کیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کچھ کہنے کی اجازت دے دیں یعنی ایسے مبہم کلمات اور ذومعنیٰ الفاظ جنہیں میں کہوں اور وہ سن کر خوش و خرم ہو جائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اجازت ہے ۔ “

محمد بن مسلمہ کعب بن اشرف کے پاس آئے آ کر اس سے کہا کہ یہ شخص ( اشارہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھا ) ہم سے صدقہ مانگتا ہے اس نے ہمیں تھکا مارا ہے اس لئے میں تم سے قرض لینے آیا ہوں ۔ جواباً کعب نے کہا ۔ ابھی آگے دیکھنا اللہ کی قسم بالکل اکتا جاؤ گے ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ چونکہ ہم نے اب ان کی اتباع کر لی ہے جب تک ہم اس کا انجام نہ دیکھ لیں اسے چھوڑنا مناسب نہیں ہے ۔ میں تم سے ایک دو وسق غلہ قرض لینے آیا ہوں کعب نے کہا ۔ میرے پاس کوئی چیز گروی رکھ دو ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ تم کیا چیز چاہتے ہو ۔ کہ میں گروی رکھ دوں ۔ کعب نے کہا ۔

اپنی عورتوں کو گروی رکھ دو ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا تم عرب کے خوبصورت جوان ہو تمہارے پاس ہم اپنی عورتیں کس طرح گروی رکھ سکتے ہیں ۔ کعب نے کہا ۔ پھر اپنے بیٹوں کو گروی رکھ دو ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ ہم اپنے بیٹوں کو گروی کس طرح رکھ سکتے ہیں ۔ کل انہیں اس پر ہر کوئی گالیاں دے گا کہ آپ کو ایک دو وسق غلے کے عوض گروی رکھا گیا تھا ۔ یہ ہمارے لئے بڑی عار ہو گی البتہ ہم آپ کے پاس اپنے اسلحہ کو گروی رکھ سکتے ہیں جس پر کعب راضی ہو گیا محمد بن مسلمہ نے کعب سے کہا کہ میں دوبارہ آؤں گا ۔

دوسری دفعہ محمد بن مسلمہ کعب کے پاس رات کے وقت آئے ۔ ان کے ہمراہ ابو نائلہ بھی تھے یہ کعب کے رضاعی بھائی تھے ۔ پھر انہوں نے اس کے قلعے کے پاس جا کر آواز دی ۔ وہ باہر آنے لگا ۔ تو اس کی بیوی نے کہا مجھے تو یہ آواز ایسی لگتی ہے جیسے اس سے خون ٹپک رہا ہے کعب نے جواب دیا کہ یہ تو محمد بن مسلمہ اور میرے رضاعی بھائی ابونائلہ ہیں اگر شریف آدمی کو رات کے وقت بھی نیزہ بازی کیلئے بلایا جائے تو وہ نکل پڑتا ہے محمد بن مسلمہ اور ابونائلہ کے ہمراہ ابوعبس بن جبر ، حارث بن اوس اور عباد بن بشر بھی تھے ۔

محمد بن مسلمہ نے اپنے ساتھیوں کو ہدایت کی تھی کہ جب کعب آئے تو میں اس کے سر کے بال ہاتھ میں لوں گا اور اسے سونگھنے لگوں گا ۔ جب تمہیں اندازہ ہو جائے کہ میں نے اس کا سر مضبوطی سے پکڑ لیا ہے تو پھر تم اس کو قتل کر ڈالنا ۔ کعب چادر لپٹے ہوئے باہر آیا ۔ اس کا جسم خوشبو سے معطر تھا ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ میں نے آج سے زیادہ عمدہ خوشبو کبھی نہیں سونگھی ۔ کعب نے کہا ۔ میرے پاس عرب کی وہ عورت ہے جو عطر میں ہر وقت بسی رہتی ہے اور حسن و جمال میں بھی اس کی کوئی مثال نہیں محمد بن مسلمہ نے کہا ۔ کیا مجھے تمہارے سر کو سونگھنے کی اجازت ہے ؟ کعب نے کہا اجازت ہے ۔ محمد بن مسلمہ نے کعب کا سر سونگھا اس کے بعد اس کے ساتھیوں نے سونگھا پھر انہوں نے کہا ۔ دوبارہ سونگھنے کی اجازت ہے ؟ کعب نے کہا ۔ اجازت ہے ۔ پھر جب محمد بن مسلمہ نے پوری طرح سے اسے قابو کر لیا تو اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا کہ تیار ہو جاؤ چنانچہ انہوں نے اسے قتل کر دیا ۔

پھر رات کے آخری حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھتے ہی فرمایا : افلحت الوجوہ ان چہروں نے فلاح پائی اور کامیاب ہوئے ۔ انہوں نے جواباً عرض کیا ووجھک یا رسول اللہ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے بعد کعب بن اشرف کا قلم کیا ہوا سر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے الحمد للہ کہا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ۔
( فتح الباری 272/7 )


سبحان اللہ
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری

 
sahj's Avatar
sahj
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 3420
Reply With Quote
20 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
ghaffarjan (09-11-09), shafresha (02-12-10), پاکستان دوست (02-12-10), نیلم خان (14-11-09), محمد عاصم (05-12-10), معظم (16-11-09), Wahid Mahmood (16-11-09), ایکسٹو (01-12-10), ابو عبداللہ (05-02-11), ارشد کمبوہ (01-12-10), بلال اویسی (01-12-10), حیدر (20-07-10), سام (18-11-09), شمشاد احمد (01-12-10), عادل سہیل (06-12-10), عبداللہ آدم (04-12-10), عبداللہ حیدر (30-09-09), عبداللہ خراسانی (06-11-09), عروج (11-12-10), غلام خان (02-12-10)
پرانا 04-12-10, 06:22 PM   #61
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,994
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
کیا آپ رسول اللہ کو ایک جابر ،سنگدل ،سفاک ، شخصیت کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں ؟؟
کوئی بھی "رحمت اللعالمین" کے معافی بیان کرنے کے بجائے
سنگدلی و سفاکیت کی ایک نئی روایت سامنے لے آتا ہے

پھر آپ اللہ کا دیا ہوا " رحمت اللعالمین "کا لقب رسول اللہ کی ذات سے ہٹا کیوں نہیں دیتے ؟

میں پھر کہتا ہوں محمد کی شخصیت کے جس روپ کو آپ پیش کرنا چاہتے ہیں یہی "توہین رسالت " ہے
السلام علیکم بھائی فیصل ناصر

آپ کی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت قابل تعریف ھے بھائی ،
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم رحمت اللعالمین بھی ہیں اور نبی السیف بھی ہیں اور کچھ شک نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالٰی کے آخری پیغمبر رسول نبی ہیں اور یہ بھی حقیقت ھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسی کوئی اور ہستی بھی نہیں ھے نا ہی آسکتی ھے یہاں تک کے ازل سے لے کر قیامت تک کے اللہ تعالٰی کے تمام مقرب بندے بشمول انبیاء کرام و تمام فرشتوں سمیت ، اگر ایک انسان میں ڈھل جائیں اور دوسری جانب میرے اور آپ کے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ھوں وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس ہستی پر قرآن نازل ھوا تو میرا ایمان ھے کہ تمام کائنات کے مقربین الٰہی ایسے ھوں گے جیسے میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں بلکہ نعلین مبارک کے نیچے لگی ھوئی راستے کی دھول ۔
تو ایسا ھے بھائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بزات خود کسی شاتم کو معاف کیا ھے تو یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی حق ھے وہ جسے چاہے معاف کر سکتے تھے (اللہ کے حکم سے) کیونکہ صحیح احادیث سے معلوم ھوتا ھے کہ کئی بدبختوں‌کو ان کی گستاخی کی سزا میں قتل کیا گیا ھے۔

اور یہ یاد رکھنا چاھئے ہمیں کہ ہم کسی ولی اللہ کے قدموں کی بھی دھول نہیں ہیں نا بن سکتے ہیں ، تو جب ساری کائنات کے مقربین الٰہی مل کر بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر تو کجا قدموں کی دھول بھی نہیں تو پھر کوئی کیسے کسی گستاخ کو معاف کرسکتا ھے ؟ اسلئے بھائی تصدیق کرلیجئے گا کسی بھی عالم دین سے دین اسلام میں کسی شاتم رسول کو معاف کرنے کا حق کسی امتی کو ہے ہی نہیں۔

رحمت اللعالمین کا ایک اور مفہوم بھی آپ کو بتاتا ھوں بھائی فیصل ناصر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام عالمین کے لئے رحمت ہیں اس لئے کہ مسلمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مان کر رحمت کی چھاؤں میں آتا ھے اور کافر جو کہ اس رحمت کا دشمن ھے براہ راست ۔ اور مرتدین جو رحمت کی چھتری سے نکل کر کفر کی دلدل میں پڑجاتے ہیں ان کے کئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عمل کے مطابق اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اجماع کے مطابق مرتدین و گستاخان اور رحمت اللعالمین کے دشمن (کفار) جو رحمت اللعالمین کے امتیوں کی جان اور مال کے درپے ہیں ، کو سزا دی جاتی ھے تو یہ سزا بھی ان کفار و مرتدین و گستاخان کے لئے رحمت اللعالمین کی جانب سے رحمت ہی ھے کہ اگر ان گستاخوں کو ان کی گستاخی کے باوجود ڈھیل دے دی جائے اور ان کو سزا نہ دی جائے تو وہ اپنی گستاخی میں جری ھوتے جائیں گے ، اور جتنا زیادہ گستاخی کی دلدل میں گرتے جائیں گے اتنا ہی زیادہ دوزخ کی آگ میں انہیں جلنا پڑے گا ۔ اسلئے گستاخ کو سزا دے دینے سے ایک تو وہ گستاخ جس نے گستاخی کا ارتکاب کیا ھے وہ مزید گستاخی کرنے کے قابل نہیں رہتا اور دوسرے یہ کہ دشمنان رسول صٌی اللہ علیہ وسلم کی ہمتیں پست ھوجاتی ہیں اور وہ گستاخانہ عمل کرنے سے بچ جاتے ہیں ۔ اور یقین مانئے جو کافر ھو کر بھی کم گناہ کرے گا وہ کم آگ میں جلے گا اور جس کی گستاخی اور کفر زیادہ ھوگا وہ زیادہ شدید آگ میں جلے گا ۔ یہ الگ بات ھے کہ دوزخ میں گیا کافر ھو یا گستاخ وہ کبھی بھی دوزخ سے نہیں نکل سکتا اور ان کے عزاب میں کوئی کمی بھی نہیں ھوسکتی ۔

یہ بھی سمجھ لیں بھائی فیصل ناصر اگر کوئی مسلمان مومن ھو لیکن اس سے کوئی جرم سر زد ھوجائے یا کرلے تو اس کی تلافی توبہ سے بھی ھوجاتی ھے یا اس پر حد جاری کردی جائے تب بھی مسلمان جہنم کی آگ سے بچ جاتا ھے یعنی دنیا میں ہی سزا بھگت چکا ۔ اور اگر کسی مسلمان بندے یا بندی کو حد جاری کرکے سزا نہ دی جائے اور اسے چھوٹ دے دی جائے کہ جتنے مرضی گناہ اور جرائم کرتا رہے اور توبہ بھی نہ کرے تو بھائی جان دنیا کی سزا سے بچ جانے والا کیا اپنے جرائم کی سزا آگ کی صورت میں نہ پائے گا ؟ اسی لئے یہ بھی رحمت ھے رحمت اللعالمین کی ، کہ مجرم کو اس کے گناہ کی سزا دنیا میں ہی دے دی جائے تاکہ وہ دوزخ کی آگ سے بچ جائے ۔ یا عزاب میں کمی ھوجائے ۔

تو بھائی فیصل ناصر اگر گستاخ کو جرم ثابت ھوجانے پر فوراً سزا دے دی جائے تو یہ فتنہ جو ہر چند دنوں بعد ہمارے سامنے آتا رہتا ھے ختم نا بھی ھو تو کم ضرور ھوجائے گا ۔ اور گستاخی کرنے والا ھو سکتا ھے سزا پانے کے بعد دوزخ کے عذاب میں کمی کا بھی مستحق ھو جائے ۔

شکریہ

والسلام
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-12-10), محمد عاصم (05-12-10), عبداللہ آدم (04-12-10)
پرانا 04-12-10, 07:19 PM   #62
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,645
کمائي: 28,550
شکریہ: 7,151
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عبد اللہ آدم صاحب ، سلام۔

تما م ڈاکٹر یہ قسم کھا کر نکلتے ہیں کہ وہ انسانیت کی خدمت کریں گے۔ انسانوں کو آرام پہنچائیں گے اور ا ن کو کبھی تکلیف نا دیں گے۔

ارے باپ رے باپ ، ذرا کسی دل کے مریض سے پوچھئے کہ آپریشن کے بعد کتنی تکلیف ہوتی ہے؟ کبھی پھوڑے کے کاٹنے کی تکلیف کا پوچھیں۔ کبھی کینسر زدہ بدن کے کاٹے جانے کی تکلیف کا پوچھیں۔ کبھی کسی شوگر کے مریض کے پیر کٹنے کی تکلیف کا پوچھیں۔

یہ انتہائی درجے کی حماقت ہوگی کہ ایسا سوال جائے کہ یار یہ ڈاکٹر تو قسم کھاکر نکلتے ہیں کہ کسی کو تکلیف نا دیں گے لیکن پھر یہ آپریشن سے سرجری سے بدن کاٹ کر کیوں تکلیف دیتے ہیں۔

اسی طرح یہ بھی انتہائی درجے کی حماقت ہوگی سوال کیا جائے کہ رسول اللہ نے قرآن کے مطابق --- جہاد اور جنگ ----- کیوں‌ کی؟۔ لیکن حالت امن میں‌ قتل کبھی نہیں کیا۔

یہ تمام جنگیں اللہ تعالی کے حکم سے ، قرآن کے اصولوں کے عین مطابق ہوئیں۔ اللہ کے فرمان قرآن کے مطابق آج بھی تمام جنگیں لڑی جاتی ہیں۔ اگر اللہ کے فرمان قرآن کے مطابق کوئی جنگ نہیں‌لڑی جاتی تو اس کو "وار کرائم" یعنی جنگی جرم کہا جاتا ہے۔ کیا آپ نے جنیوا کنونشن پڑھا ہے؟ کیا جنیوا کنونشن کے جنگ کے کسی بھی اصول کے بارے میں کسی بھی اسلامی ملک نے آواز اٹھائی ہے؟ کیا جنیوا کنونشن کا کوئی بھی اصول قرآن کے فراہم کردہ جنگ کے اصولوں کے مخالف ہے؟

کیا آپ کسی کو قتل کرکے ---- جنیوا کنونشن ---- کی مدد سے بچ سکتے ہیں؟ قرآن کے جنگ کرنے کے اصول مسلمان کے لئے اور غیر مسلم دونوں کے لئے یکساں ہیں۔

اب آتے ہیں حالت امن میں قتل کی طرف ۔۔۔
جس طرح آپ حالت امن میں‌ قتل کرکے --- جنیوا کنونشن ----- کو استعمال کرکے نہیں بچ سکتے اسی طرح ہر وہ شخص جو ماورائے عدالت قتل کرتا ہے بچ نہیں‌سکتا۔۔۔ چاہے وہ کوئی رسول ہی کیوں نا ہو۔ کسی رسول نے بھی اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی نہیں کی۔ رسول اللہ صلعم جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کبھی ماورائے عدالت قتل نہیں کیا اور نا ہی ماورائے عدالت بناء جرم ثابت ہوئے کسی کو قتل کا حکم دیا۔ جناب صلعم ۔ ایک منصف ترین حکمران تھے۔ اس بات کا اعتراف آج کے غیر مسلم مؤرخین بھی کرتے ہیں۔

کیا آپ ایسے انسانوں کی لکھی ہوئی تاریخ سے قوانین اخذ کریں گے جنہوں نے کبھی رسول اللہ صلعم کو دیکھا بھی نہیں ۔ بلکہ ان کے باپ اور دادوں نے بھی نہیں‌ دیکھا؟

جن کہانیوں کی کتب میں یہ کہانیاں لکھی ہیں ان کی حیثیت کسی تاریخ کی کتاب سے زیادہ نہیں۔ یہ بھی پتہ نہیں کہ اصل مصنف نے اس میں‌ کیا لکھا تھا۔ آپ کی آسانی کے لئے اللہ تعالی نے وہ تمام اصل کتب ہی دجلہ میں‌ تاتاریوں کے ہاتھوں بہا دیں تھیں۔ ان کتب کو ایک طرح کی تاریخی کہانیاں سمجھ کر پڑھئیے۔ اس کو کسی نبی نے نہیں‌لکھا۔

اب بھی آپ کے ذہن میں ان دونوں آیات کا فرق نہیں معلوم تو پھر سے دیکھ لیجئے۔

پہلی آیت قرآر دیتی ہے کہ محمدصلعم دونوں جہانون کے لئے ڈاکٹر ہیں، رحم کرنے والے ہیں۔
دوسری آیت قرار دیتی ہے کہ یہ کفار یعنی --- جب پھوڑے پھنسی نکل آئیں ---- یعنی حالت جنگ ہو تو --- کسی ڈاکٹر کی طرح اس پھوڑے پھنسی کو کاٹ کر پھینک دیتے ہیں---- یعنی جہاد کرتے ہیں۔

آپ کا قصور:
آپ کا قصور یہ ہے کہ آپ نعوذ باللہ ، آپ دشمناں اسلام کی بات پر یقین کرکے۔ رسول اکرم کو قاتل قرار دے رہے ہیں ۔ یعنی زمانہ ء امن میں ، کسی کا جرم ثابت ہوئے بغیر اس کو قتل کرنے یا قتل کرنے کا ماورائے عدالت حکم۔ یہ روایت جن لوگوں نے گھڑ کر رسول اللہ صلعم پر قتل کا الزام لگایا ہے وہ صرف اور‌صرف دشمنان اسلام ہی کرسکتے ہیں۔ رسول اللہ صلعم مجاہد ضرور تھے لیکن قاتل نہیں تھے۔ نا قتل کیا اور نا ہی قتل کا حکم دیا۔

رسول اللہ صلعم ایک منصف حکمران تھے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت فتح مکہ ہے کہ جب جناب (صلعم) کے پاس قتل کا موقع تھا تو معاف کردیا۔ تو ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ کسی دودھ پلانے والی عورت کے رات کی تاریکی میں قتل کا الزام رسول اللہ پر رکھا جائے اور ایک مسلمان اس کو قبول کرلے۔ پھر آپ یہ نا بھولئے کہ اللہ تعالی کی ذات مبارک ہر دم رسول اللہ کی ہدایت کرتی رہتی تھی۔ کیا قرآن حکیم میں اللہ تعالی نے ایسے کسی قتل کی صریح حمایت کی یا حکم دیا کہ ابو لہب کو قتل کردیجئے؟ یہ آیات ---- ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹیں ۔۔۔۔ اس حقیقت کی سب سے بڑی گواہ ہے کہ اللہ تعالی نے ایسے معاملات کو اپنے ہی ہاتھ میں رکھا۔۔۔۔ کبھی رسول اللہ کو ابو لہب جیسے شخص کا حکم نہیں دیا تو ایک معصوم دودھ پلاتی عورت کے قتل کا حکم کس طرح ممکن ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟

یہ تمام کی تمام روایات ان کتب میں پائی جاتی ہیں جو ایسے انسانوں نے لکھیں جو رسول اللہ صلعم کے 150 سے 650 سال بعد آئے۔ ایسی کہانیاں ناقابل اعتبار ہیں۔ یہ کسی قسم کی مسخ‌شدہ تاریخ تو ہو سکتی ہے لیکن مسلمان کے ایمان کا حصہ نہیں۔ ۔۔۔

کیا نبی اکرم نے ان ڈیڑھ سو سال بعد لکھی والی کتب پر ایمان رکھنے کا حکم دیا تھا؟
کیا وجہ ہے کہ یہ کتب خلاف قرآن اصولوں سے بھرپور ہیں؟
کیا وجہ ہے کہ ان کتب کے قاتلانہ اور خونی اصولوں کو تسلیم کرنے کے بعد قرآن حکیم کی تکفیر کی جائے ؟؟؟؟۔۔۔ نعو‌ذ باللہ۔

آئے دیکھتے ہیں کہ جس شخص نے رسول اللہ صلعم کے خلاف سب سے بڑی مہم چلائی ہوئی تھی۔ جس کا اندراج تاریخی کتب میں‌ موجود ہے۔ کتب روایات میں موجود ہے۔ کفار کی کتاب میں موجود ہے۔ وہ شخص تھا ابو لہب۔ اس شخص نے قرآن کی تکفیر کی، اللہ تعالی کی توہین کی اور رسول اللہ صلعم کی توہین کی۔ اس کی بیوی بھی اس کام میں پیچھے نہیں تھی۔ یہ بھی ہم کو کتابوں سے پتہ چلتا ہے۔ بات یہاں‌تک پہنچی کے اللہ تعالی بھی ناراض ہوئے۔ اللہ تعالی نام لے کر کسی بڑے سے بڑے صحابی تک کو قرآن میں مخاطب نہیں‌کرتے ہیں (جناب زید کا نام لے کر تذکرہ سورۃ الاحزاب آیت 37 میں کیا ہے ، لیکن نام لے کر مخاطب نہیں‌کیا)۔ جن لوگوں‌کو جنت کی خوش خبری سنائی گئی ان کا نام بھی قرآن میں نہیں، رسول اللہ صلعم کے خاندان والوں کا نام قرآن میں نہیں۔ لیکن ابو لہب کا جرم اتنا بڑا تھا کہ اللہ تعالی کو ابو لہب کی زندگی ہی میں اس کا فیصلہ اس کا نام لے کر قرآن حکیم میں کیا ۔۔۔۔۔۔ اگر گستاخی ء رسول کا یہ جرم اتنا بڑا تھا کہ اس کا فیصلہ اللہ تعالی کی عالی عداالت میں ہو رہا ہے تو بھی اس کے قتل کا حکم نہیں دیا جارہا ہے۔ اگر اس گستاخ رسول کے قتل کا حکم اللہ تعالی نے نہیں‌دیا تو پھر ایسا کیسے ممکن ہے کہ معمولی درجے کے گستاخ رسول کے قتل کا حکم رسول اکرم زمانہ امن میں دیں اور سلامتی کے احکامات کے خلاف عمل کریں؟؟؟؟

پڑھئے سورۃ‌ 111 المسد
111:1 تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ
ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ تباہ ہو جائے

اپنے ذہن سے یہ بات نکال دیجئے کہ رسول اللہ قاتل ہوسکتے ہیں ۔۔ ایک مجاہد ، غازی میں اور ایک قاتل میں بہت ہی بڑا فرق ہوتا ہے۔ جب تک اس فرق کو نا سمجھیں۔۔۔۔ ان روایات پر بے پر کے تبصرے نا کیجئے۔ یہ رسول اکرم کی شان میں گستاخی ہے۔ انجانے میں یہ گنا ہ نا کیجئے۔ رسول اللہ صلعم کی محبت میں ایسی کہانیوں کو بنا پرکھے نا مانئے جو ہتک رسول کے لئے لکھی گئی ہیں۔

اللہ تعالی ہم سب کو ہدایت عطا فرمائیں اور قرآن کریم کو پڑھنے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ اور یہ سمجھ بھی عطا فرمائیں کے قرآن کی تفسیر کہانیوں کی کتب سے نہیں ہوسکتی۔ قرآن اپنی تفسیر خود کرتا ہے اور اپنے آپ کو سب سے بڑی تفسیر و تفصیل قرآر دیتا ہے۔ لہذا ایسا کہنا کہ ہم دوسری کتب سے قرآن کی تشریح کریں گے اپنی جگہ قران کی اس آیت کی تکفیر ہے۔

25:33 وَلَا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ وَأَحْسَنَ تَفْسِيرًا
اور نہ لے کر آئیں یہ تمہارے پاس کوئی نرالی بات مگر لائیں گے ہم تمہارے پاس حق اور بہترین وضاحت۔

اگر مسلمانوں میں اختلافات ہوں تو کس کتاب سے فیصلہ کیا جائے؟؟؟؟؟ روایات اور کہانیوں اور تاریخ کی کتب سے؟؟؟؟‌ یا پھر قرآن حکیم سے؟؟؟؟؟

16:64 وَمَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ إِلاَّ لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُواْ فِيهِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
اور ہم نے آپ کی طرف کتاب نہیں اتاری مگر اس لئے کہ آپ ان پر وہ (اُمور) واضح کر دیں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں اور (اس لئے کہ) یہ (کتاب) ہدایت اور رحمت ہے اس قوم کے لئے جو ایمان لے آئی ہے

آپ کا اگر کوئی اختلاف ہے تو قرآن حکیم کی مدد سے ہدایت حاصل کیجئے نا کہ تواریخ کی کتب سے؟؟؟ جن کے لکھنے والوں کا بھی پتہ نہیں؟؟؟؟؟

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-12-10), فیصل ناصر (04-12-10), نورالدین (01-01-11), مرزا عامر (04-12-10), تانیہ رحمان ستارہ (05-12-10), حیدر Rehan (06-12-10)
پرانا 04-12-10, 07:31 PM   #63
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فيصل بھائي

اللہ مجھے معاف كرے۔۔۔۔‌ميرا خيال ہے اس موضوع پر آپ سے بات كرنا مناسب نہيں ہے۔۔۔۔ يقينا آپ نے سيرت النبي كا مطالعہ كيا ہو گا۔۔۔۔‌بس ميري گذارش ہے كہ سيرت صلي اللہ عليہ والہ وسلم كے مختلف گوشوں كا مطالعہ اگر ہو سكے تو خالي الدماغ ہو كر كيجئے۔۔۔۔ شكريہ۔۔۔۔
مجھے كوئي خوشي نہيں ہو گي كہ ميرا ايك مسلمان بھائي كي بھي وجہ سے كوئي ايسي بات زبان سے نكال دے۔۔۔ نہيں نكالني چاہے۔۔۔
ميرے لئے بھي دعا كيجئے گا۔
والسلام عليكم۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-12-10), فاروق سرورخان (05-12-10), مرزا عامر (04-12-10), عبداللہ آدم (04-12-10)
پرانا 04-12-10, 09:23 PM   #64
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

فاروق صاحب!

پھر سوال کی جسارت کر رہا ہوں کہ جو آپ بیان کر رہے ہیں..............ساری امت میں سے کس نے ایسا بیان کیا ہے.

شاید آپ کے لیے یہ بات نئی ہو کہ اسلام میں تسلسل کی ایک بہت بڑی اہمیت ہے!!!جو بات 10 15 سال پیھچے دم توڑ دیتی ہو اس پر بات کرنا تو اس کی طرف التفات ہی فضول ہے!!!


میں آپ سے کوئی دلیل نہیں مانگ رہا صرف یہ بتادیں کہ جو اس امت کے بہترین لوگ قرون ثالثہ کے ان کا مصادر کے بارے میں یا موقف تھا؟؟؟آیا وہ بھی قرآن کے علاوہ باقی سب کو "کہانیاں" سمجھتے تھے؟؟یا پھر کیا حیثیت تھی ان کے نزدیک احادیث کی؟؟؟

جو انہیں سمجھ آئی اس سے زیادہ مجھے یا آپ کو نہیں آ سکتی.............تو کیا خیال ہے پہیا ایجاد رنے کا فائدہ؟؟

ہمیں صرف چلنا ہے اس راستے پر جو پہلے دن سے انتہائی واضح ہے...............نہ کہ اپنی اپچ نکالیں..........

والسلام
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-12-10), فاروق سرورخان (05-12-10), محمد عاصم (05-12-10), آبی ٹوکول (04-12-10), شمشاد احمد (04-12-10)
پرانا 04-12-10, 11:00 PM   #65
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
سنگدلی و سفاکیت کی ایک نئی روایت سامنے لے آتا ہے

جناب فیصل بھائی!

بس جو دل کو نا بھائے...............اس پر اتنے بڑے بہتان!!!یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی احآدیث ہیں، اور قرآن کی تشریح ان سے ہو گی نہ کہ ہماری perceptions سے................!!!یا تو سیدھا انکار کر دیں کہ بات ہی ختم ہوجائے...................یہ مین میخ تو قرآن میں بھی بقول بدر بھائی کے بندہ کمر باندھ لے تو نکال سکتا ہے.نعوذ باللہ

جناب میں کون ہوتا ہوں یا اور کوئی خود گھر سے سامنے تو نہیں لے آتے...............یہ وہ دین ہے جس کا ذمہ اللہ نے لیا ہے اور یہ وہ مسئلہ ہے جس میں آج تک کسی بھی صحآبی.تابعی.محدث.امام.عالم یا فرقے کا قطعا اختلاف نہیں رہا... ...............اور قرآن کی تشریح آج تک انہی احآدیث مبارکہ سے ہوئ ہے نہ کہ...........پھجے چھولے والے کے پاس یہ حق ہے.............!!!
ہے................

قرآن میں آپ کو یہ "سنگدلی" اور "سفاکی" اور زیادہ ملے گی................فرمائیں تو عرض کرنا شروع کروں!!!

آپ جیسے تمام اصحاب کاش کہ دین کو اپنی سمجھ سے سمجھنے کی بجائے...............قرآن و سنت سے سمجھیں.............

اور جو غزوات ہوئے ان میں کتنی "سنگدلانہ" کاروائیاں کی گئیں تھیں................ ان کو بھی ہم جھٹلا دیں؟؟

کہ یہ رحمت اللعالمین ہونے کے منافی ہیں...................

ایک آیت ہے کہ::

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ

اور (اے رسولِ محتشم!) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر
الانبیاء:107

اور دوسری آیت کہتی ہے کہ::

مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ
محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اﷲ کے رسول ہیں، اور جو لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت اور سنگت میں ہیں (وہ) کافروں پر بہت سخت اور زور آور ہیں آپس میں بہت نرم دل اور شفیق ہیں۔
الفتح:آخری آیت


آُپ سے گزارش ہے کہ قرآن کے اس تضاد کو دور فرمائے...................

اس کی وضاحت تو انشااللہ میں بعد میں کردونگا

لیکن آپ کے خیال میں کیا یہ دو آیات ایکدوسرے کی متضاد ہیں ؟
تو
اب یہ بتائیں اس میں سے کونسی آیت آپ کے خیال سے منسوخ کہلائی ؟
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں

Last edited by فیصل ناصر; 04-12-10 at 11:03 PM.
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-12-10), نورالدین (01-01-11)
پرانا 04-12-10, 11:29 PM   #66
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
کیا آپ رسول اللہ کو ایک جابر ،سنگدل ،سفاک ، شخصیت کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں ؟؟
کوئی بھی "رحمت اللعالمین" کے معافی بیان کرنے کے بجائے
سنگدلی و سفاکیت کی ایک نئی روایت سامنے لے آتا ہے

پھر آپ اللہ کا دیا ہوا " رحمت اللعالمین "کا لقب رسول اللہ کی ذات سے ہٹا کیوں نہیں دیتے ؟

میں پھر کہتا ہوں محمد کی شخصیت کے جس روپ کو آپ پیش کرنا چاہتے ہیں یہی "توہین رسالت " ہے
میرے بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رحمۃ اللعالمین ہونا تو اللہ پاک سے بعد میں آتا ہے اللہ وہ ہے کہ جس نے حضور کو رحمت بنا کر بھیجا یعنی حضور کی صفت رحمت اللہ ہی کی دی ہوئی ہے لہزا اگر اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والوں کو حدا قتل کرنا سفاکیت ہے تو پھر کیا خیال ہے کہ قرآن پاک میں اللہ پاک فرماتا ہے " ورحمتی وسعت کل شئی " کہ میر رحمت ہر شئے پر وسیع ہے یاد رہے کہ اصول کی زبان میں شئی کا اطلاق ہر مخلوق پر ہوگا یعنی اللہ کی رحمت ہر شئے کے اوپر وسیع ہے اب کیا اس آیت کو بنیاد بنا کر انسان جو جو کچھ بھی گناہ کرتا ہے جو بھی برے افعال کرتا ہے (یاد رہے انسان کے افعال بھی شئی کے اندر ہی آتے ہیں ) لوگوں کے ساتھ ظلم و زیادتیاں کرتا ہے آیا اس آیت کو بنیاد بنا کر دنیا میں سے تمام قوانین کا خاتمہ نہ کردیا جائے ؟؟؟؟ کہ ہر انسان جو چاہے جو مرضی گل کھلاتا پھرے کوئی کسی کو پوچھنے والا نہ ہو آپ چاہیں تو کسی کا گھر لوٹ لیں چاہیں تو کسی کو قتل کردیں چاہیں تو زنا کرلیں اور جب کوئی قرآن کے مطابق آپ کو اللہ کی بیان کردہ حدود سے آگاہ کرے اور آپ پر وہ حد جاری کرنا چاہے تو آپ فرمادیں بھائی میرے اعمال اور میری ذات کی حیثیت ہی کیا میری گناہوں کہ آگے میرے مولا کی رحمت بڑی وسیع ہے لہذا مجھے کھلی چھوت اس اللہ نے دے دی ہے کہ جسکی رحمت ہر شئے پر وسیع ہے آپ لوگ کون ہوتے ہیں میرے اور میرے رب کے درمیان میں آنے والے اور زبردستی مجھ پر ان حدود کو لاگو کرنے والے ؟؟؟؟ کیا آپ لوگ مجھ پر اللہ کی رحمت کی بجائے اس کی حدود کو نافذ کرکے اللہ پاک کو (نعوذباللہ میں ذالک ) ظالم و سفاک ثابت کرنا چاہتے ہیں ؟؟؟ نہیں میںایسا نہیں ہونے دوں گا میں جو چاہوں کروں کیونکہ میرے اللہ کا فرمان ہے کہ ورحمتی وسعت کل شئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔والسلام
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-12-10), محمد عاصم (05-12-10), حیدر Rehan (06-12-10), سحر (04-12-10), عادل سہیل (06-12-10), عبداللہ آدم (05-12-10)
پرانا 04-12-10, 11:38 PM   #67
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم بھائی فیصل ناصر


نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم رحمت اللعالمین بھی ہیں اور نبی السیف بھی ہیں
شکریہ

والسلام
الحمداللہ میں رسول اللہ کو نبی السیف بھی سمجھتا ہوں اور میں تو ہر جہاد کے مخالف کو یہی بیان کرتا ہوں کے رسول اللہ تو خود مجاہد تھے

لیکن نبی السیف ہیں حالت جنگ میں دشمن کے لشکر کے سامنے
ناکہ ایک مجبور عورت جو اپنے گناہ پر معافی کی طلبگار ہو اس کےلئے
میں یہ بھی نہیں کہتا کے لازمی ہے اس کو معاف ہی کیا جائے لیکن یہاں تو " رحم کی حمایت "کرنے کو ہی جب عیب سمجھا جارہا ہے
اور اس بنیاد پر لوگوں کو ایجنٹ قرار دیا جارہا ہے

پھر میرا یہ سوال ہمیشہ طعن و تشنیع میں دبادیا جاتا ہے
اگر کافر اتنے ہی قابل نفرت ہیں تو رسول اللہ نے دین کافروں کے آگے کیوں پیش کیا ؟
جن صحابہ کی عظمت کے آج گیت گائے جاتے ہیں وہ صحابہ قبول اسلام سے پہلے کون تھے ؟

ساھج بھائی
پتہ نہیں کب اللہ کس کو ہدایت دے دے
اور وہ تقویٰ میں ہم سے کہیں آگے نکل جائے

سحر بہن
ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ اگر غلط ہوا ہے تو سب کے ساتھ میں نے ان کے لئے آواز اٹھائی تھی
اور آج بھی ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ کی گئی زیادتی پر سراپا احتجاج ہوں
لیکن کیا آسیہ کے قتل کو آپ ڈاکٹر عافیہ کا جواب سمجھتی ہیں

ایک اور بات ضمنا عرض کردوں
ڈاکٹر عافیہ کے لئے غیر مسلم ممالک کے غیر مسلم لوگوں کے احتجاج کو آپ کس خانے میں فٹ کریں گی
عراق اور افغانستان اور فلسطین کے حق میں غیر مسلموں کے احتجاج کو کیا رنگ دیا جاسکتا ہے

قرآن کو جلانے والے ایک خبیث پادری کی بنیا د پر کیا ساری عیسائی قوم کو مار ڈالنا چاہئے ؟



اے اللہ ہم کو سیدھا راستہ دکھا

Last edited by فیصل ناصر; 04-12-10 at 11:45 PM.
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-12-10), فاروق سرورخان (05-12-10), نورالدین (01-01-11), حیدر Rehan (06-12-10)
پرانا 05-12-10, 01:50 AM   #68
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,645
کمائي: 28,550
شکریہ: 7,151
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

برادر من عبد اللہ آدم ، سلام،

آپ نے اخترا ع اور ایجاد کے بارے میں پوچھا اور تسلسل کی شکایت پیش کی۔

میں ان ہی صفحات میں جناب احمد رضا شاہ بریلوی کے یہ مشہور الفاظ پیش کرچکا ہوں کہ " روایات پر تمام فرقوں‌کا اتفاق نہیں ، مسلمانوں کے بہت سے فرقے ان کتب کو نہیں مانتے ، اللہ اور اس کے رسول نے کہاں فرمایا کہ بعد کی کتب پر ایمان رکھنا ہے" یہ جناب کوئی ڈیڑھ سو سال پہلے گذرے تھے۔ پھر تسلسل کے لئے آپ مختلف فرقوں‌کی آراء دیکھ لیجئے۔ آپس میں کوئی اتفاق نہیں۔

الفاظ اگر من و عن نہیں تو بھی مفہوم یہی ہے۔ موقع ملا تو حوالہ پیش کردوں‌گا۔ برادر من کیا کوئی بھی ان تاریخی کتب پر ایمان رکھتا ہے؟ بطور ریفرنس ان کتب کا استعمال درست ہے ۔ لیکن ان پر ایمان کہ یہ قرآن حکیم کے مساوی ہیں درست نہیں۔ یا ان کتب کے خلاف قران روایات کو بھی ماننا ضروری ہے ۔ ایسا بھی درست نہیں۔ یہ انسانوں کی لکھی ہوئی تاریخ‌ہے اور بس۔

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-12-10), نورالدین (01-01-11)
پرانا 05-12-10, 07:47 AM   #69
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,683
کمائي: 52,638
شکریہ: 5,151
1,536 مراسلہ میں 5,934 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

دورِ جدید کے جدید فتنے۔
اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ان فتنوں سے آمین۔
نبی علیہ السلام کی حدیث کو نکال دیں تو قرآن آج کے جاہل فلسفی کی عقل سے سمجھیں؟
نبی علیہ اسلام کی پیاری باتوں کو نکال دیں تو کیا قرآن کو امریکہ کے ایجنٹوں کی عقل سے سمجھیں؟؟؟
نبی علیہ السلام کی قرآن کی تفسیر کو نکال دیں تو کیا آج کے عقل پرست جاہل انسان کی تفسیر کو مانیں؟؟؟
لعنت ہو ایسے جاہلوں پر جو نبی علیہ السلام کے طریقے اور تفسیر کے مقابلے پر آج کے فتنہ پرست اور جاہل انسانوں کی عقلوں کو میعارِ حق سمجھے بیٹھے ہیں۔
کاش میرے پاس وقت ہوتا تو اپنی یہ باتیں ثبوت کے ساتھ کر سکتا۔
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-12-10), عادل سہیل (06-12-10)
پرانا 05-12-10, 07:55 AM   #70
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فیصل بھائی
آپ بات کو سمجھ ہی نہیں رہے ہیں
دو تین مختلف باتوں کو ایک جگہ ملا رہے ہیں ۔
میں نے کہیں نہیں کہا کہ آسیہ کا قتل ڈاکٹر عافیہ کا بدلہ ہے ۔
آسیہ نے قصور کیا ہے اس کی اس کو سزا ملی ہے ۔
کیا ڈاکٹر عافیہ کے بدلے میں پاکستان میں بے گناہ عیسائی عورتوں کو قتل کیا جارہا ہے ؟

میں نے صرف عورت پر رحم کھانے پر ڈاکٹر عافیہ کی مثال دی تھی کہ وہی لوگ اسی فورم پر جو آسیہ کے لیے دکھی ہیں وہی ممبرز ڈاکٹر عافیہ کے خلاف بہت کچھ لکھ چکے ہیں ۔
ان میں فیصل بھائی آپ ہرگز شامل نہیں ہیں ۔

یہاں دو مختلف اشوز پر بات ہورہی ہے
ایک تو قانون توہین رسالت ۔
اگر آپ یہ مانتے ہیں کہ توہین رسالت کی سزا موت ہے تو وہ کس بیس پر مانتے ہیں‌ ۔ قرآن میں تو ایسا کوئی حکم نہیں ۔
یہ قانون احادیث کی رو سے ہی بنایا گیا ہے ۔
اگر ان احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانا جائے ۔ تو توہین رسالت پر قتل کی سزا کی حمایت آپ کیوں کررہے ہیں ۔
بھایئ میرے اسلام میں کوئی بھی سزا اللہ اور رسول کے حکم سے ہی بنائی جاسکتی ہے ۔ اپنے دل سے کوئی بھی قتل کی سزا نہیں‌سنا سکتا ہے ۔

اور تیسرا اشو ہے
آسیہ کا عورت ہوتے ہوئے معافی مانگنا ۔
اسلام میں جو سزائیں ہیں وہ مرد و عورت کہہ کر نہیں ہیں بلکہ دونوں کے لیے مساوی ہیں
جیسے اگر عورت کسی کو بھی قتل کرے گی تو اس کو بھی قتل کیا جائے گا ، اسی طرح مرد کسی کو قتل کرے گا تو اس کو بھی قتل کیا جائے گا ۔
عورت کہہ کر سزا میں نرمی کا تصور اسلام میں نہیں
کیوں کہ سزا گناہ کی دی جاتی ہے ،
چھوٹے بچوں کی ماں یا دودھ پلاتے بچے کی ماں کو گناہ کرتے ہوئے خود بھی خیال ہونا چاہیے کہ وہ کیا کررہی ہے اور اس کا انجام کیا ہوگا ۔
جنگوں میں عورتوں اور بچوں کو مارنے سے منع اس لیے کیا جاتا ہے کہ وہ بے گناہ ہوتے ہیں‌۔
لیکن جنگ میں بھی کوئی عورت اور کوئی بچہ تلوار لے کے آجائے اور لڑنا شروع کردے تو اس کو بھی قتل کیا جائے گا ۔
یہاں بات عورت اور مرد کی نہیں ۔
بلکہ فرق بے گناہ اور گناہ گار کا ہے۔

اور آسیہ نے جو معافی مانگی ہے اس کا جواب میں پہلے دے چکی ہوں کہ
کسی بھی قانون میں سزا سنانے کے بعد معافی مانگنے پر کیا جج کا فیصلہ تبدیل ہوجاتا ہے
آسیہ اس فیصلے پر اپیل کرسکتی ہے اور اپیل کا فیصلہ بھی عدالت ہی دے گی ۔
عدالت کے فیصلے پر بغیر کسی مقدمے کے معافی بالکل غلط ہے ۔ اور وہ بھی اتنے نازک معاملے میں ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
sahj (05-12-10), shafresha (05-12-10), آبی ٹوکول (05-12-10), عادل سہیل (06-12-10), عبداللہ آدم (05-12-10)
پرانا 05-12-10, 03:19 PM   #71
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
اس کی وضاحت تو انشااللہ میں بعد میں کردونگا

لیکن آپ کے خیال میں کیا یہ دو آیات ایکدوسرے کی متضاد ہیں ؟
تو
اب یہ بتائیں اس میں سے کونسی آیت آپ کے خیال سے منسوخ کہلائی ؟
سوال آپ سے تھا..............!!!

یہ ایک مثال تھی نہ کہ میں نعوذ باللہ ایسا سمجھتا ہوں................ صرف یہ سمجھانے کے لیےکہ ظآہر الفاظ کو لے کر اور روح کو سمجھے بغیر تو تضاد کہییں بھی" پیدا " کیا جا سکتا ہے..............

تو آپ بھی رحمت اللعالمین ہونے کو گستاخ کے قتل کے ساتھ نہ ملائیں...........!!!

دونوں ہی اپنی اپنی جگہ ٹھیک ہیں..........اور دونوں ہی باتیں قرآن و سنت میں

مذکور ہیں ان پر ایمان لائیں.
........................بات ختم ہو جاتی ہے...........

اب اگر آپ احادیث کا ظاہری خلاف ثابت کریں گے قرآن سے تو پھر لازما قرآن میں بھی اسے ہی لاگو کر کے دیکھیں.................!!!

شاہد بھائی صحیحین کی حدیث پیش کر دی تھی.............اب بھی طبیعت مکدر ہے تو کسی اللہ والے کی صحبت میں بیٹھیں............یہ آیت بھی دیکھ لیں::

إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَن يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ

ایمان والوں کی بات تو فقط یہ ہوتی ہے کہ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ فرمائے تو وہ یہی کچھ کہیں کہ ہم نے سن لیا، اور ہم (سراپا) اطاعت پیرا ہو گئے، اور ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

النور::51

فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُواْ فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيمًا

پس (اے حبیب!) آپ کے رب کی قسم یہ لوگ مسلمان نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ وہ اپنے درمیان واقع ہونے والے ہر اختلاف میں آپ کو حاکم بنالیں پھر اس فیصلہ سے جو آپ صادر فرما دیں اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور (آپ کے حکم کو) بخوشی پوری فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں

النساء::65

والسلام
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-12-10), عادل سہیل (06-12-10)
پرانا 05-12-10, 03:32 PM   #72
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
برادر من عبد اللہ آدم ، سلام،

آپ نے اخترا ع اور ایجاد کے بارے میں پوچھا اور تسلسل کی شکایت پیش کی۔

میں ان ہی صفحات میں جناب احمد رضا شاہ بریلوی کے یہ مشہور الفاظ پیش کرچکا ہوں کہ " روایات پر تمام فرقوں‌کا اتفاق نہیں ، مسلمانوں کے بہت سے فرقے ان کتب کو نہیں مانتے ، اللہ اور اس کے رسول نے کہاں فرمایا کہ بعد کی کتب پر ایمان رکھنا ہے" یہ جناب کوئی ڈیڑھ سو سال پہلے گذرے تھے۔ پھر تسلسل کے لئے آپ مختلف فرقوں‌کی آراء دیکھ لیجئے۔ آپس میں کوئی اتفاق نہیں۔

الفاظ اگر من و عن نہیں تو بھی مفہوم یہی ہے۔ موقع ملا تو حوالہ پیش کردوں‌گا۔ برادر من کیا کوئی بھی ان تاریخی کتب پر ایمان رکھتا ہے؟ بطور ریفرنس ان کتب کا استعمال درست ہے ۔ لیکن ان پر ایمان کہ یہ قرآن حکیم کے مساوی ہیں درست نہیں۔ یا ان کتب کے خلاف قران روایات کو بھی ماننا ضروری ہے ۔ ایسا بھی درست نہیں۔ یہ انسانوں کی لکھی ہوئی تاریخ‌ہے اور بس۔

والسلام
جناب میرا نہیں خیال کہ انہوں نے ایسا ہا ہو گا جیسا کہ آپ بتا رہے ہیں..........بہحال کوئی حوالہ ہو تا بات کی جا سکتی ہے.............

جب ان کتب کے اتھینٹک ریفرنس پیش کیے جائیں تو پھر اس کے بعد::

مستند روایات کی """"موافق القرآن"" اور ""مخالف القرآن"" میں تقسیم کس کی معتبر مانی جائے گی؟؟؟؟کون اتھارٹی ہے؟؟؟

..............ہر کوئی اپنی عقل کے مطابق جو حدیث اسے خلاف قرآن لگے گی وہ اسے ترک کرے گا اور جو اسے قرآن کے مطابق نظر آئے گی اس پر عمل کرے گا؟؟

یا پھر.............. کچھ خاص لوگوں کا اعتبار کیا جائے گا...........؟؟؟


اس سٹیپ کو کلیر فرما دیں

والسلام
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-12-10), عادل سہیل (06-12-10), غلام خان (06-12-10)
پرانا 05-12-10, 05:06 PM   #73
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,645
کمائي: 28,550
شکریہ: 7,151
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سلام عبداللہ آدم صاحب،

جناب یہ تاریخی کتب ڈیڑھ سو سال بعد لکھی گئیں اور ان کے لکھوانے والے رسول اکرم نہیں تھے۔ لہذا ان تاریخی کتب میں خلاف قران کیا اور موافق القرآن کیا۔ اس کا فیصلہ صرف قرآن حکیم ہی کرسکتا ہے انسان نہیں۔ قرآن حکیم کے بیانات مفصل اور مفسر ہیں ۔ بہت کم لوگ ہیں جن کا اس پر اتفاق نہیں۔

آپ کو احمد رضا شاہ بریلوی کی کتاب کا حوالہ فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ چھپی ہوئی کتاب سے۔ انشاء‌اللہ۔

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-12-10), حیدر Rehan (06-12-10), غلام خان (06-12-10)
پرانا 06-12-10, 12:30 PM   #74
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 594
کمائي: 8,412
شکریہ: 2,421
379 مراسلہ میں 903 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default شیخ الاسلام امام ابن تيميہ رحمہ اللہ کا مختصر تعارف




--------------------------------------------------------------------------------

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ایھاالاخوہ الکرام :

السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ:-

شيخ الاسلام امام احمد ابن تيميہ رحمہ اللہ مختصر تعارف



شيخ الاسلام تقي الدين ابو العباس احمد بن عبد الحليم بن عبد السلام بن عبد اللہ بن الخضر بن محمد بن الخضر بن علي بن عبد اللہ ابن تيميہ نميرى ، حرانى، دمشقى ، حنبلى (ولادت 661 ہجری ـــ وفات 728 ہجری ) عہد مملوكى كے نابغہ روزگار علماء ميں سے تھے ۔ اللہ تعالى نے انہیں ايك مجدد كى صلاحيتوں سے نوازا تھا ۔

آپ نے عقائد ، فقہ، رد فرق باطلہ، تصوف اور سياست سميت تقريبا ہر موضوع پر قلم اٹھایا اور اہل علم ميں منفرد مقام پایا ۔ آپ بہت فصيح اللسان اور قادر الكلام تھے ۔ علم وحكمت، تعبير وتفسير اور علمِ اصول ميں انہیں خاص مہارت حاصل تھی ۔اپنے والد كى وفات كے بعد دمشق كے دارالحديث السكرية كى مسندِ حديث پر جب آپ نے پہلا درس ديا، اس وقت آپ كى عمر بيس سال كے قريب تھی، اس ميں قاضي القضاة اور ديگر مشايخ زمانہ موجود تھے ۔آپ نے صرف بسم اللہ الرحمن الرحيم كے بارے ميں اتنے نكات بيان كيے کہ سامعين دنگ رہ گئے ۔ شيخ الاسلام تاج الدين فزارى شافعى ( م 690 ہجرى) نے ان كا پورا درس حرف بحرف قلم بند كر كے دارالحديث السكرية كے كتب خانہ ميں محفوظ كروا ديا ۔

ذہانت اور بے پناہ علمى قابليت كے ساتھ ساتھ آپ کی زندگی جہدِ مسلسل سے عبارت تھی ۔ آپ نے اپنے دور كے كئى علماء كے ساتھ علمى مناظرے بھی کیے اور حكومتِ وقت كے ساتھ مل كر تاتاريوں اور باغيوں کے خلاف عملى جہاد ميں بھی حصہ ليا ۔

نفاذِ شريعت كى كوششوں كے سلسلہ ميں آپ كو كئى تجاويز وشكايات لے كر وفود كے ساتھ حكام كے پاس جانے كا موقع بھی ملا۔ آپ كا انداز محققانہ اور محتاط تھا ۔ايك مرتبہ آپ كو قاضى كا عہدہ بھی پیش كيا گیا مگر آپ نے حكومتى شرائط سے متفق نہ ہونے كى وجہ سے اسے قبول نہیں کیا۔

موصوف كى انسانيت دوستى كا يہ عالم تھا کہ شام كے جنگی قيديوں كى رہائی كے ليے تاتارى مسلمان بادشاہ غازان كے پاس جا پہنچے ۔ اس نے آپ کے احترام ميں صرف مسلمان قيديوں كى رہائی كا اشارہ ديا تو آپ اس پر راضى نہ ہوئے اور يہ کہہ كر سب قيديوں كى رہائی پر اصرار كيا كہ یہودی اور نصرانى بھی ہماری رعايا ہیں اور ان كے جان ومال كى حفاظت ہم پر ضرورى ہے چنانچہ سبھی كو رہا كر ديا گیا ۔

آپ بےباك اس قدر تھے كہ 27 ربيع الاول 699 ہجرى كو جب شام كے شہر حمص اور سلميہ کے درميان وادى خازندار ميں تاتارى سلطان غازان اور سلطانِ مصر ملك ناصر محمدبن قلاؤن كے درميان سخت لڑائی كے نتیجے میں بہت تباہی ہوئی ، مصرى اور شامى فوجوں كا بہت نقصان ہوا اور ملك ناصر بھی فرار ہو كر قاہرہ پہنچ گئے تو امام ابن تيميہ رحمہ اللہ مشائخ دمشق كو لے كر 3 ربيع الثاني 699 ہجری كو بعلبك كے قريب تاتارى بادشاہ غازان سے ملاقات كرنے پہنچ گئے ۔ انہوں نے بادشاہ کے سامنے بہت پُرجوش انداز ميں عدل وانصاف كى خوبياں بيان كيں اور اس كے آباؤ اجداد كے مظالم كے ساتھ ساتھ ان كے بعض اصولوں اور وفائے عہد كا تذكرہ كيا ۔ غازان اگرچہ اس سے قبل ہی مسلمان ہو چکا تھا مگر تاتارى اور غيرتاتارى كى لڑائی تسلسل سے جارى تھی ۔ آپ كى تقريريں اس قدر سخت اور جملے اس قدر تندوتيز تھے كہ پورے وفد كو آپ کے قتل ہو جانے كا يقين ہو چلا تھا ۔ غازان نے انہیں قتل كرنے كى بجائے اپنے امراء كے سامنے ان كى بےباكى اور شجاعت كى تعريف كى اور ان سے دعاؤں كى درخواست كى ۔امام ابن تيميہ رحمه اللہ نے اس كے ليے يہ دعا كى :

" اے اللہ اگر تو جانتا ہے كہ غازان تيرا كلمہ بلند كرنے كے ليے لڑ رہا ہے اور وہ تيرى راہ ميں جہاد کے ليے نكلا ہے تو تو اس كى مدد كر ۔اور اگر تيرے علم ميں ہے کہ وہ مال ودولت حاصل كرنے كے ليے نكلا ہے تو اس كو اس كى پوری جزا عطا كر ۔"
غازان اس پوری دعا پر آمين كہتا رہا !

آپ كى حق گوئی اور بے نفسى كا يہ عالم تھا كہ غازان نے آپ كے وفد كے ليے دسترخوان لگوايا مگر آپ نے وہاں كھانے سے انكار كرديا اور كہا: "ميں یہ کھانا كيسے کھا سکتا ہوں جب كہ اس كو لوٹ کھسوٹ كے مال سے تيار كيا گیا ہے ؟"

امام ابن تيميہ رحمہ اللہ نے كسى کے خوف اور دباؤ كی پرواہ كيے بغير اپنی منفرد علمى تحقيقات كى اشاعت كى ۔ اپنے بعض علمى مباحثوں اور فتووں كى وجہ سے آپ كو ايك مدت تك قيد وبند كى صعوبتيں بھی برداشت كرنا پڑیں، حتى كہ جب داعئ اجل كو لبيك كہنے كا وقت آيا تو آپ زندگی كى آخرى قيد برداشت كر رہے تھے اور آپ كا جنازہ جيل ہی سے نكلا ۔ آپ كى كل مدت قيد سوا چھ سال بنتى ہے ۔

خير الدين زركلى نے دُرر كے حوالہ سے لکھا ہے كہ آپ كى تصانيف چار ہزاراجزاء سے متجاوز ہیں ۔ فوات الوفيات ميں ان كى تعداد تين سو مجلد منقول ہے ۔ ان ميں سے آپ كا ايك مبسوط فتاوى ، الجوامع، السياسة الشرعية ، الجمع بين العقل والنقل، الصارم المسلول على شاتم الرسول، رفع الملام عن الأئمة الأعلام، مجموعة الرسائل والمسائل بھی ہیں ۔

آپ کے حالات زندگی پر ابن قدامہ نے العقود الدرية في مناقب شيخ الإسلام أحمد بن تيمية ، شيخ مرعى حنبلى نے الكوكب الدرية ، سراج الدين عمر البزار نے الأعلام العلية في مناقب ابن تيمية ، عبدالسلام حافظ نے الإمام ابن تيمية ، شيخ محمد ابو زہرہ نے ابن تيمية ؛ حياته وعصره_ آراؤه وفقهه، اور اسى طرح شهاب الدين أحمد بن يحيى بن فضل الله العمري، ابو عبدالله محمد بن أحمد بن عبدالهادي الحنبلي، وغيره كئى اہل علم نے عليحدہ عليحدہ كتابيں لکھیں ۔اردو ميں آپ كى سوانح پرڈاکٹر غلام جيلانى برق كى كتاب امام ابن تيميہ، افضل العلماء محمد يوسف كوكن عمرى كى مبسوط كتاب امام ابن تيميہ، اور مولانا ابو الحسن على ندوى كى كتاب تاريخ دعوت وعزيمت جلد دوم بہت مفيد ہیں۔
غلام خان آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے غلام خان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (06-12-10), فاروق سرورخان (06-12-10), نورالدین (01-01-11), محمد عاصم (10-12-10)
پرانا 06-12-10, 01:06 PM   #75
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,787
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کاپی پیسٹ کا شکریہ!!!!!!!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
نورالدین (01-01-11)
جواب

Tags
پسند, واقعات, قدم, قرآنی, قصہ, لوگ, نفرت, نماز, مکہ, ماں, مجید, معلوم, آج, آدمی, اللہ, اسلام, اشعار, بھائی, تلاش, حسن, غزوہ بدر, صحابہ, صحابی, صدقہ, صدمہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
موہنِ رسول کی سزائے قتل پر ائمہ اربعہ اور علماء امت کا اجماع ! sahj عقیدہ رسالت 0 09-01-11 05:17 PM
گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا موت ہے! علمائے کرام کا متفقہ فیصلہ ALI-OAD اسلام اور عصر حاضر 6 03-01-11 09:22 PM
گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ کا کلام آبی ٹوکول اپکے کالم 0 15-12-10 06:36 AM
حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام چیتا چالباز اخلاق و آداب 6 19-10-10 05:41 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:51 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger