واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > عقیدہ رسالت




حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نور تھے یا بشر؟؟؟؟؟

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-04-09, 10:06 AM   #1
حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نور تھے یا بشر؟؟؟؟؟
میاں شاہد میاں شاہد آف لائن ہے 03-04-09, 10:06 AM


توجہ فرمائیں
اس مضمون کے مندرجات پر مسلکی اختلاف پایا جاتا ہے
اگر کوئی رکن اس حوالے سے قرآن و حدیث کی روشنی میں اظہارِ خیال کرنا چاہے تو اسے خوش آمدید کہا جائے گا
شکریہ

پاک نیٹ مجلس شوریٰ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات کے لحاظ سے نہ صرف نوعِ لبشر میں داخل ہیں بلکہ آپ کا افضل البشر،سیدالبشر اور اکمل البشر ہونا ہر شک وشبہ سے بالا تر ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نوعِ انسانی کے سردار ہیں۔حوا وآدم علیہھما السلام کیلئے سرمایہء صدا افتخار ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

انا سید ولد ادم یوم القیامۃ۔
(صحیح مُسلم ، کتاب الفضائل ، باب 2 )


میں اولادِ آدم کا سردارہوں گا قیامت کے دن۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بشر، انسان اور آدمی ہونا نہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے طرئہ امتیاز اور کمالِ شرف ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بشر ہونے سے انسانیت وبشریت رشک ِ ملائکہ بنی ہے۔
اﷲ رب العزت خلقتِ آدم کے وقت کا تذکرہ فرماتے ہوئے کہتے ہیں۔

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلائِكَةِ اسْجُدُوا لآدَمَ
(البقرہ آیت ٣٤)


اور جب ہم نے حکم دیا فرشتوں کو کہ سجدہ (تعظیمی)کرو آدم کو۔
پھر شیطان کا تکبر دیکھئے قرآن کریم نے بتلایا ہے کہ بشر کی تحقیر سب سے پہلے ابلیس نے کی اور بشر اوّل حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے یہ کہکر انکار کیا۔

قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ
(سورہ ص۔آیت ٧٦)


کہا(شیطان نے)میں تو اس سے بہتر ہوں۔مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے (میں کیونکر اسے سجدہ کروں)
دوسرے مقام پر یہی مضمون اس طرح ہے۔

قَالَ لَمْ أَكُنْ لأسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ
(الحجرآیت ٣٣)


کہنے لگا(میری شان ایسی نہیں)کہ بشر کو سجدہ کروں۔جس کو آپ نے بجتی ہوئی مٹی سے جو سڑے ہوئے گارے سے بنی ہے پیدا کیا ہے۔
بعد میں اﷲ جمیع اِنسانیت کی تخلیق کے بارے میں فرماتے ہیں۔

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الإنْسَانَ مِنْ سُلالَةٍ مِنْ طِينٍ
(مومنون آیت١٢)


اور تحقیق ہم نے انسان کو چُنی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔


خَلَقَ الإنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ
(الرحمن آیت ١٤)


بنایا انسان کو کھنکھنانی مٹی سے جیسے ٹھیکرا
اب اس مٹی سے بنے انسان کو زمین پر اپنی نیابت وخلافت کیلئے چنا گیا اور نوری مخلوق(فرشتوں)کو اسکے آگے جھکادیا گیا اس سے آدم خاکی کی رفعت شان اورعالی مرتبے کا پتہ معلوم ہوتاہے۔اگر ٹھنڈے دل سے بیٹھ کر غوروفکرکرتے ہوئے اُممِ سابقہ کے حالات وواقعات پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ دعوت توحید کے مخالفین(مشرکین)کا پہلا اعتراض انبیاء کی بشریت پر ہی ہوا ہے اور اسی بنا پر کفار نے انکی اتباع سے منہ پھیرا کہ یہ تو ہماری طرح کے بشر ہے ہم انہیں کیونکر رسول مانیں۔۔۔۔۔۔؟؟آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بشر ہونے پر سب سے پہلے ولید بن مغیرہ نے ہرزہ سرائی کی ،کہنے لگا:

إِنْ هَذَا إِلا قَوْلُ الْبَشَرِ
(مدثر آیت ٢٥)


کچھ نہیں یہ تو کہا ہوا ہے آدمی کا۔
اﷲ نے جواب دیا صبر کر تجھے اس بکواس بکنے کے سبب ایسی جہنم میں داخل کیا جائیگا جس پر اُنیس فرشتے نگہبانی کیلئے مامور ہیں جو آدمی کو جلاکر خاکستر کر ڈالے گی کہ نہ اسمیں جی سکے گا اور نہ مرسکے گا۔
ابنِ کثیروطبرانی میں معاویہ بن سفیانؓ سے مروی ہے کہ مشرکین مکہ نے یہود سے ملکر روح،اصحاب کہف اور ذوالقرنین کی بابت سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا اچھا ٹھیک ہے میں کل جواب دوں گا(لیکن انشاء اﷲ کہنا بھول گئے)لہٰذا کچھ روز سلسلئہ وحی منقطع رہا۔جس پر انہوں نے بغلیں بجائیں۔اﷲ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم فرمائی کہ انہیں یوں جواب دیں۔

قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلا صَالِحًا وَلا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا
(الکھف آیت١١٠)


اے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ کہدیجیئے میں بھی ایک آدمی ہوں جیسے تم ہو۔حکم (وحی) آتا ہے مجھکو کہ معبود تمہارا ایک ہی ہے۔سو جس کو امید ہو اپنے رب سے ملنے کی وہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی ایک کو شریک نہ کرے۔
صالح علیہ السلام کی قوم۔۔۔۔۔۔اپنے نبی کے بارے میں کیسا گمان رکھے بیٹھی ہے،دیکھئے:

فَقَالُوا أَبَشَرًا مِنَّا وَاحِدًا نَتَّبِعُهُ إِنَّا إِذًا لَفِي ضَلالٍ وَسُعُرٍ
(القمر آیت ٢٤)


پس کہنے لگے کیا ہم ایسے شخص کی اتباع کرینگے جو ہماری جنس کا آدمی ہے اور اکیلا ہے۔اس صورت میں تو ہم بڑی غلطی اور جنون میں پڑ گے۔
جب اﷲ نے ایک علاقے میں رسول کے دونائب(پیغام رساں)بھیجے تو قوم نے جھٹلادیا پھر انکی تائید کیلیے تیسرے شخص کا انتخاب کیا۔قوم نے کہاواہ جی آپ لوگوں میں کیا خوبی ہے۔۔۔۔۔۔؟ان کا اعتراض سُنیئے:

قَالُوا مَا أَنْتُمْ إِلا بَشَرٌ مِثْلُنَا وَمَا أَنْزَلَ الرَّحْمَنُ مِنْ شَيْءٍ إِنْ أَنْتُمْ إِلا تَكْذِبُونَ
(یسٰن آیت١٥)


وہ بولے تم تو یہی انسان ہو جیسے ہم اور رحمن نے کچھ نہیں اتارا تم سارے جھوٹ کہتے ہو۔
قوم شعیب علیہ السلام اپنے نبی کی بشریت کا انکار کرتی نظر آرہی ہے

وَمَا أَنْتَ إِلا بَشَرٌ مِثْلُنَا وَإِنْ نَظُنُّكَ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ
(الشعراء آیت ١٨٦)


اور تو بھی ایک آدمی ہے جیسے ہم۔اور ہمارے خیال میں تو تو جھوٹاہے۔
قوم صالح علیہ السلام پر اپنے نبی کا بشر ہونا ناگراں ثابت ہورہاہے۔

مَا أَنْتَ إِلا بَشَرٌ مِثْلُنَا فَأْتِ بِآيَةٍ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ
(الشعراء آیت ١٥٤)


تو بھی ایک آدمی ہے جیسے ہم سو لے آ کچھ نشانی اگر تو سچا ہے۔
اور ھود علیہ السلام کی قوم تو اپنے نبی کو اپنے اوپر قیاس کر بیٹھی کہ ہم میں اور اس میں (بوجہ بشریت)کوئی خاص فرق تو نہیں یعنی وہ نبوت کے قائل ہونیکے باوجود کھانے پینے اور بازار میں چلنے والے آدمی کونبی ماننے پر تیار نہیں تھے۔

مَا هَذَا إِلا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يَأْكُلُ مِمَّا تَأْكُلُونَ مِنْهُ وَيَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُونَ
(مومنون آیت ٣٣)


اور کچھ نہیں یہ ایک آدمی ہے جیسے تم کھاتا ہے جس قسم سے تم کھاتے ہو اور پیتا۔ہے جس قسم سے تم پیتے ہو۔ اور کہیں تم ایک آدمی کے کہنے پر چلنے لگے تو بیشک تم خسارہ پاؤ گے۔
نوح علیہ السلام کی قوم تو بشر کو نبی ماننے پر تیار ہی نہیں اور متمنی ہے کہ (نوری مخلوق)ملائکہ کو بھیجا جائے تو مانیں گے بشر سے ہمیں کیا غرض۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟

مَا هَذَا إِلا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُرِيدُ أَنْ يَتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لأنْزَلَ مَلائِكَةً مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي آبَائِنَا الأوَّلِينَ (٢٤)إِنْ هُوَ إِلا رَجُلٌ بِهِ جِنَّةٌ (٢٥)
(مومنون آیت 24 اور 25)


یہ کیا ہے آدمی ہے جیسے تم ہو۔چاہتا ہے کہ بڑائی چاہے تم پر۔اور اگر اﷲچاہتا تو فرشتے نازل کردیتا ہم نے تو ایسا کچھ نہیں سنا اپنے باپ دادوں سے۔اور کچھ نہیں(محسوس ہوتا ہے کہ)یہ ایک مرد ہے جس پر جن ہے۔
جب مشرکین مکہ کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت حق کے مقابلے کی سکت نہ رہی تو خُفیہ پلاننگ شروع کردی۔انکی''بند کمرہ میٹنگ''کو اﷲ افشاء فرما رہے ہیں۔

وَأَسَرُّوا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا هَلْ هَذَا إِلا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنْتُمْ تُبْصِرُونَ
(الانبیاء آیت ٣)


اور چھپا کر مصلحت کی بے انصافوں نے(کہ)یہ شخص کون ہے ایک آدمی ہے تم ہی جیسا پھر جانتے بوجھتے اسکے جادو میں کیوں پھنستے ہو۔
سورئہ ابراہیم میں اﷲ فرماتا ہے آؤ ہم تمہیں قوم نوح، عادو ثمود اور انکے بعد والی قوموں کی خبر دیتے ہیں جب انکے رسولوں نے انہیں دعوت حق دی تو سب جھٹلابیٹھے پھر انکے رسولوں نے جواب دیا۔

قَالَتْ رُسُلُهُمْ أَفِي اللَّهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ
(ابراہیم آیت ١٠)


بولے انکے رسول،کیا تمہیں اﷲ میں شبہہ ہے جس نے آسمان وزمین بنائے ہیں۔
وہ اﷲ تو تمہیں بخشش ومغفرت کیطرف بلاتاہے پھر یہ سرکشی کیسی۔۔۔۔۔۔؟وہ ڈھٹائی سے پہلو بدلتے ہوئے بولے اچھا خدا کی بحث چھوڑیں آپ اپنی نسبت کہیں کیا آپ آسمانی فرشتے ہیں یا نوعِ بشر کے علاوہ کوئی دوسری مخلوق ہیں۔۔۔۔۔۔؟

قَالُوا إِنْ أَنْتُمْ إِلا بَشَرٌ مِثْلُنَا تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا فَأْتُونَا بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ
(ابراہیم۔آیت١٠)


کہنے لگے تم تو یہی آدمی ہو ہم جیسے تم چاہتے ہو کہ روک دو ہم کو ان چیزون سے جنکو ہمارے باپ دادے پوجتے رہے سو کوئی سند تو لاؤ واضح۔
اس بھونڈے سوال کے جواب میں اﷲ تعالیٰ نے جمیع انبیاء علیہ السلام کا مسلک اعتدال انہی کی زبانی سمجھا دیا۔

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِنْ نَحْنُ إِلا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَمُنُّ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَمَا كَانَ لَنَا أَنْ نَأْتِيَكُمْ بِسُلْطَانٍ إِلا بِإِذْنِ اللَّهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
(ابراہیم آیت١١)


اور انکو کہا انکے رسولوں نے ہم تو یہی آدمی ہیں جیسے تم۔لیکن اﷲ احسان کرتاہے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے۔اور ہمارا کام یہ نہیں کہ کوئی سند تمہارے پاس لے آئیں مگر اﷲ کے حکم سے ۔اور اﷲ پر بھروسہ کرنا چاہیے ایمان والوں کو۔
آخر میں اﷲ نے تمام لوگوں سے کہا کہ اے ناقدر انسانو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!تمہیں تو اﷲ کے وقار کا لحاظ اور خوف بھی نہیں تم ایک طے شدہ بات کے اندر بھی بغیر دلیل کے جھگڑا کرنے لگے ہو۔آؤ ہم تمہیں حقیقت حال سے آگاہ کریں۔

وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِذْ قَالُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى بَشَرٍ مِنْ شَيْءٍ
(الانعام آیت ٩١)


اور نہیں پہچانا انہوں نے اﷲ کو (پوری طرح)پہنچاننا۔جب کہنے لگے کہ نہیں اتاری اﷲ نے کسی انسان پر کوئی چیز
تو معلوم ہو اکہ اﷲ کی معرفت کا ذریعہ بھی یہی ہے انبیاء کو انسان(بشر)تسلیم کیا جائے۔اس سے بھی بڑھکر آگے اﷲ پاک منکرین رسالت کا عقیدہ نقل فرماتا ہے کہ یہ اپنی حماقت سے اس بات پر تعجب کرتے ہیں کہ انہی کے خاندان اور نسل کا ایک آدمی انکی طرف رسول بناکر کیونکر آیا ہے۔

ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ (١)بَلْ عَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِنْهُمْ (٢)
(سورۃ ۔ ق آیت 1اور 2)


ق۔ قسم ہے اس قرآن بڑی شان والے کی بلکہ انکو تعجب ہوا کہ آیا انکے پاس ڈرسنانیوالا انہی میں کا۔
فقہء حنفی کی مشہور کتاب''فتاوئ عالمگیری''(ص٢٦٣) میں لکھا ہے کہ جو شخص یوں کہے:

میں نہیں جانتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انسان تھے یا جن، وہ مسلمان نہیں۔

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے ''نور'' میں سے تھے جو لباسِ بشریت میں جلوہ گر ہوئے اور بعض حُماقہ کے نزدیک تو ''احد'' اور ''احمد'' میں صرف میمؔ کا پردہ ہے(العیاذ باﷲ) یہ وہی عقیدہ ہے جو عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں رکھتے ہیں۔

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ
(المائدہ آیت ٧٢)


بیشک کافر ہوئے وہ لوگ جنہوں نے کہا،اﷲ تو مسیح بن مریم(میں حلول کرگیا)ہے۔

اللہ اور عبداللہ کو ایک کہنا اس سے زیادہ بیہودہ اور لغو بات اور کیا ہوگی۔۔۔۔۔۔؟سچ کہا جاتا ہے کہ عشق وہ جو عقل و حواس کو معطل کر دے ، ایسے ہی عشق سے متاثر کسی شخص کا یہ شعر اللہ سبحانہ و تعالی کے پاک کلام کا کھلا مخالف ہے۔نقلِ کفر، کفر نباشد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

وہی جو مستوئ عرش تھا خدا ہوکر
اتر آیا ہے مدینے میں مصطفی ہوکر
اسلام میں ایسے باطل عقیدے کی کوئی گنجائش نہیں۔خود اسلام میں داخلے کا دروازہ کلمئہ شہادت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اﷲ کا بندہ اور اسکا رسول قرار دیتا ہے تو ہم چوں چراں کرنیوالے کون ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔؟؟
اہل سنت والجماعت کے عقائد کی مشہور کتاب''شرح عقائد نسفی''میں رسول کی کی یہ تعریف کی گئی ہے۔

انسان بعثہ اﷲ لتبلیغ الرسالۃ والاحکام۔


رسول وہ انسان ہے جسے اﷲ تعالیٰ اپنے پیغامات واحکام بندوں تک پہنچانے کیلئے کھڑا کرتاہے۔
اﷲ پاک بھی کلام پاک میں یہ اصول بیان فرماتے ہیں کہ پیغمبراوّل تو ہمیشہ نوع بشر سے ہوگا دوسرے یہ کہ ہوگا بھی جنسِ رجال سے یعنی آدمی۔

وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ إِلا رِجَالا نُوحِي إِلَيْهِمْ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ
(الانبیاء آیت٧۔النحل آیت ٤٣)


اور آپ(صلی اللہ علیہ وسلم )سے پہلے بھی ہم نے یہی مرد بھیجے تھے(پیغمبر بناکر)کہ حکم(یعنی وحی) بھیجتے تھے ہم انکی طرف،سو پوچھو اہل علم سے اگر تم کو معلوم نہیں۔
ایک اور مقام پر فرمایا:

وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ إِلا رِجَالا نُوحِي إِلَيْهِمْ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى
(یوسف آیت١٠٩)


اور آپ(صلی اللہ علیہ وسلم ) سے پہلے جتنے بھی پیغمبر بھیجے وہ سب مرد ہی تھے کہ وہے بھیجتے تھے ہم انکی طرف بستیوں کے رہنے والے تھے۔
واقعہء معراج کے بیان سے پہلے ہی اﷲ نے بطور تمہید وضاحت کردی کہ کہیں کم فہم لوگ یہاں بھی اپنے قیاس کے گھوڑے دوڑانا شروع نہ کردیں۔ویسے قضیئہ نور وبشر کے حل کیلئے اسراء معراج کی جزئیات پرہی غور کرلیا جائے تو کافی ہوگا کہ نوری مخلوق کا سردار(حضرت جبرئیلؑ)تو معذرت خواہ ہے کہ مجھے ایک قدم بھی آگے جانیکی اجازت نہیں لیکن بشر اعظم(ؐ) کی بلندئ پرواز انکی رفعت شان کا پتا دیتی ہے۔پھر اسے شروع بھی لفظ''بندے'' سے کیا جارہاہے۔

سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الأقْصَى
(بنی اسرائیل: آیت ١)


پاک ہے وہ ذات جو لے گیا اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک۔
پھر درمیان سورت مشرکین نے احمقانہ فرمائش کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے آسمان پر چڑھکرکتاب لے آئیں تو اﷲ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ انہیں یوں جواب دو۔

قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلا بَشَرًا رَسُولا
(بنی اسرائیل:آیت٩٣)


آپ(صلی اللہ علیہ وسلم ) کہدیجئیے پاک ہے اﷲ میں کون ہوں مگر ایک آدمی ہوں بھیجا ہوا۔
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے بارے میں غلو کا اندیشہ تھا اس لیے امت کو یہ ہدایت فرمائی۔

''میری تعریف میں ایسا مبالغہ نہ کیجئیو جیسا کہ عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کیا کہ انہیں خدا اور خدا کا بیٹا بناڈالا۔میں اﷲ کا بندہ اور اسکا رسول ہوں مجھے اﷲ کا بندہ اور رسول ہی کہیو۔(صحیح بخاری ۔ص١٠٠٩)
یہ حقیقت واضح ہے کہ تمام اہل سنت والجماعت اس امر پر متفق ہیں کہ صرف نوعِ انسانی ہی سے اﷲ تعالیٰ انبیاء کو مبعوث فرماتاہے گویا کسی نبی کی نبوت پر ایمان لانے کا مطلب ہی یہ ہے کہ انکو بشر اور رسول بہ یک وقت تسلیم کیا جائے۔یہی نکتہ کلام پاک بھی بیان کرتاہے کہ انبیاء ہمیشہ نوعِ بشر ہی سے بھیجے گئے ہیں۔گویا کہ عطائے نبوت کے بارے میں یہ بات اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ضابطہ کی حیثیت رکھتی ہے۔

مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُؤْتِيَهُ اللَّهُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُوا عِبَادًا لِي مِنْ دُونِ اللَّهِ
(آل عمران:آیت ٧٩)


کسی بشر سے یہ بات نہیں ہوسکتی کہ اﷲ تعالیٰ اس کو کتاب فہم اور نبوت عطا فرمائے پھر وہ لوگوں سے کہنے لگے کہ اﷲ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ۔
جس طرح قرآن کریم نے انبیاء علیہ السلام کی بشریت کا اعلان فرمایا ہے اسی طرح احادیث طیبّہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بلا تردّد اپنی بشریت کا اعلان کیا ہے۔ملاحظہ کیجئیے:
حضرت عائشہؓ نے فرمایا میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ نماز کے بعد دعا فرمارہے تھے:

اللھم انما انا بشر فای المسلمین لعنتہ اوسبتہ فاجعلہ لہ زکوٰۃ واجرا
(مسلم شریف۔ص٣٢٦)


اے اﷲ میں بھی ایک انسان ہی ہوں پس جس مسلمان پر میں نے لعنت کی ہو۔یا اسے برا بھلا کہا ہو آپ اسکو اس شخص کے واسطے پاکیزگی واجر کا ذریعہ بنادیجئیے۔
دوسری جگہ فرمایا:

اللھم انما محمد بشربغضب کما یغضب البشر
(مسلم ۔ص٣٢٤)


اے اﷲ۔۔۔۔۔۔! محمدبھی ایک انسان ہی ہیں انکو بھی غصّہ آتا ہے جس طرح اور انسانوں کو غصّہ آتاہے۔
ایک اور مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اقرار بشریت کیساتھ ساتھ اپنی ذات سے علم غیب کی بھی نفی فرماتے نظر آتے ہیں۔

انما انا بشر مثلکم انسیٰ کماتنسون فاذا نسیت فذکرونی۔
(صحیح البخاری ۔ص٥٨،صحیح المسلم ۔ص٢١٢)


میں بھی تم جیسا انسان ہی ہوں۔میں بھی بھول جاتاہوں جیسے تم بھول جاتے ہو۔پس جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلادیا کرو۔
حجتہ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ألا ایھالناس۔۔۔۔۔۔! فانما انا بشر یوشک ان یأتی رسول ربی فاجیب۔۔۔۔۔۔ الخ
(مسلم شریف ۔ص٢٧٩)


سنو اے لوگو۔۔۔۔۔۔!پس میں بھی ایک انسان ہی ہوں۔قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد(یہاں سے کوچ کا پیغام لیکر)آئے تو میں اسکو لبیّک کہوں۔
تو واضح ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کمالات وخصوصیات میں تمام کائنات میں سب سے اعلیٰ واشرف اور یکتا ہیں کوئی آپ کا ہمثل وثانی نہیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہر حال انسان ہیں۔کیونکہ بشریت کوئی عاروعیب کی چیز نہیں جسکی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیطرف کرنا بے ادبی میں شمار ہو۔''اشرف المخلوقات'' کا رتبہ بشرو انسان ہی کو تو ملا ہے لہٰذا بشریت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال ہے۔نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم ''ہادئ راہ''ہونیکی حیثیت سے سراپا نور بھی ہیں۔پس ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور وبشر ہونے میں کوئی ایسی منافات نہیں کہ ایک کا اثبات کرکے دوسرے کی نفی کیجائے۔بلکہ(جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا)آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفت ہدایت اور باطنی نورانیت کے اعتبار سے''نور مجسّم''ہیں لیکن اپنی نوع کی اعتبار سے خالص وکامل بشر ہیں۔

Last edited by عبداللہ حیدر; 03-04-09 at 05:03 PM..

 
میاں شاہد's Avatar
میاں شاہد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: www.alkamunia.com
مراسلات: 10,442
شکریہ: 8,508
4,556 مراسلہ میں 9,750 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1629
14 قاری/قارئین نے میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا
arslansun (04-04-09), waseemsv (08-04-09), ایکسٹو (03-04-09), ام طلحہ (07-04-09), ام غزل (08-04-09), ابو محمد (13-04-09), ابو زین (18-04-09), احمد غزنوی (04-04-09), جمعہ خان (03-04-09), خرم شہزاد خرم (10-04-09), راجہ اکرام (03-04-09), رضی (09-04-09), عبداللہ حیدر (03-04-09), غازی اسلام (03-04-09)
پرانا 03-04-09, 11:29 AM   #2
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,997
کمائي: 49,108
شکریہ: 7,300
5,971 مراسلہ میں 15,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ہم تو بس اتنا جانتے ہیں

کی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمدخلیل آن لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
ام طلحہ (07-04-09), رضی (09-04-09)
پرانا 03-04-09, 11:48 AM   #3
Senior Member
 
ایکسٹو's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 766
کمائي: 12,969
شکریہ: 1,216
532 مراسلہ میں 1,581 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ایکسٹو آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے ایکسٹو کا شکریہ ادا کیا
ام طلحہ (07-04-09), رضی (09-04-09)
پرانا 03-04-09, 11:55 AM   #4
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,663
کمائي: 254,787
شکریہ: 53,125
7,706 مراسلہ میں 22,602 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس متنازعہ موضوع پر میری جانب سے سکوت ہے!!!
shafresha آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (03-04-09), عرفان حیدر (09-04-09)
پرانا 03-04-09, 12:10 PM   #5
Senior Member
مقبول
 
غازی اسلام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: Khatm-e-nubuwwat
مراسلات: 166
کمائي: 6,869
شکریہ: 65
123 مراسلہ میں 416 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ بہت خوب بھائی یہ متنازعہ موضوع نہین ہے بلکہ اس کو متنازعہ بنا لیا گیا ہے کیا عقائد بھی کبھی متنازعہ ہوتے ہیں۔۔۔۔؟؟؟؟؟
غازی اسلام آف لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے غازی اسلام کا شکریہ ادا کیا
مباح (15-04-09), ام طلحہ (07-04-09), ابو زین (22-04-09), رضی (09-04-09)
پرانا 03-04-09, 12:12 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
شاھد بھائی اللہ آپ کو بہترین اجر عطا فرمائے ، اور مزید خیر کی ہمت عطا فرمائے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
ام طلحہ (07-04-09), رضی (09-04-09)
پرانا 03-04-09, 12:21 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : خلیل مراسلہ دیکھیں
ہم تو بس اتنا جانتے ہیں

کی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
خلیل بھائی ، لوح و قلم اللہ صرف اور صرف اللہ کے ہیں ، اور صرف اور صرف اسی کے اختیار میں ہیں ، کسی کو ان میں کسی بھی قِسم کا تصرف حاصل نہیں ، جب تک اللہ کی طرف سے اجازت نہ ہو ، اور کسی کے لیے ایسی اجازت کا کوئی ثبوت میسر نہیں ،
اگر کوئی بندہ اس تبدیلی کے اسباب مہیا کر لے اور اللہ انہیں قبول فرما کے تو جو کچھ اللہ کے حکم سے لوح محفوظ میں لکھا جا چکا اسے صرف اللہ ہی تبدیل کر سکتا ہے ،
پس نہ تو لوح و قلم کسی کی ملکیت میں ہو سکتی ہیں اور نہ ہی کسی کے تصرف ذاتی یا کسبی یا وھبی میں ،
رہا معاملہ محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے وفا کا تو ، یقینا ، ایسا کرنا اللہ کی رضا کے حصول کا بنیادی سبب ہے ،
لیکن ، وفا ، اللہ کے ہاں وہی ہے جو اللہ اور محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی مقرر کردہ حدود میں ہو گی ، نہ کہ وہ جسے کوئی وفا سمجھے ہو ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
محمدخلیل (03-04-09), ابو زین (22-04-09)
پرانا 03-04-09, 12:22 PM   #8
Senior Member
 
میاں شاہد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: www.alkamunia.com
مراسلات: 10,442
کمائي: 38,201
شکریہ: 8,508
4,556 مراسلہ میں 9,750 بارشکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں میاں شاہد کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : خلیل مراسلہ دیکھیں
ہم تو بس اتنا جانتے ہیں

کی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

کاش ہم وفا کے تقاضوں‌کو بھی جان اور پہچان لیں

اللہ پاک ہم سب کو توفیق عطا فرمائے کہ ہم عشق نبی صلی اللہ علیہ وسلام اور اس کے تقاضوں‌کو سمجھنے اور عمل کرنے والے بن جائیں‌آمین
میاں شاہد آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا
محمدخلیل (03-04-09), عادل سہیل (03-04-09)
پرانا 03-04-09, 12:24 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
اس متنازعہ موضوع پر میری جانب سے سکوت ہے!!!
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بہت اچھے صدیقی بھائی ، عموما سکوت ہی اچھا ہوتا ہے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد (03-04-09)
پرانا 03-04-09, 12:25 PM   #10
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,577
کمائي: 315,297
شکریہ: 25,210
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم و رحمۃ اللہ

شاہد بھائی بہت اچھی پوسٹ ہے۔ جذباتیت سے ہٹ کر حقائق اور دلائل کے ساتھ موقف پیش کیا گیا ہے۔
در اصل یہی اسلوب ہے حق تک رسائی کا۔

اللہ ہمیں صحیح اسلامی تعلیمات سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
راجہ اکرام آن لائن ہے  
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد (03-04-09)
پرانا 03-04-09, 12:31 PM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : غازی اسلام مراسلہ دیکھیں
جزاک اللہ بہت خوب بھائی یہ متنازعہ موضوع نہین ہے بلکہ اس کو متنازعہ بنا لیا گیا ہے کیا عقائد بھی کبھی متنازعہ ہوتے ہیں۔۔۔۔؟؟؟؟؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
باکل ٹھیک کہا غازی اسلام بھائی ،اگر ہم اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی مقرر کردہ حدود میں رہیں تو اسلامی عقائد میں تنازع کی تو کوئی گنجائش ہی نہیں ،
اور فقہی مسائل کا تنازع بھی نہ ہونے کے برابر رہ جائے ،
یقینا بہت سے مسائل کو """ تنازع محض """ بنا لیا گیا ہے اور اس کو حل کرنے سے روکنے کا بڑا سبب یہ سوچ ہے کہ """" متنازع مسائل پر بات مت کرو """" و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد (03-04-09)
پرانا 03-04-09, 12:33 PM   #12
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سلام ؛- شاہد بھائی بہت محنت طلب کام ہے جو اپ نے کیا ایات لکھی ، اور احادیث جمع کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہت ہی مناسب اور معقول دلائل دے،
جب اپ نے اتنی محنت کی، وقت لگایا، ایات جمع کیں، احادیث لکھی۔ ۔ ۔ ۔ تو ہمیں بھی چاہیے کہ کم از کم اتنا نہ سہی ادھا تو لکھیں ۔ ۔ ۔۔ اور فیصلہ کن بھی ہو
انشااللہ ۔
لکھ چکے خط ، ، ، جاچکا خط کا جواب۔
اضطراب ، ، ، اضطراب، ، ، ، ، ، ، ،و اضطراب۔ ۔
حیدر Rehan آن لائن ہے  
پرانا 03-04-09, 01:02 PM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : میاں شاہد مراسلہ دیکھیں
کاش ہم وفا کے تقاضوں‌کو بھی جان اور پہچان لیں

اللہ پاک ہم سب کو توفیق عطا فرمائے کہ ہم عشق نبی صلی اللہ علیہ وسلام اور اس کے تقاضوں‌کو سمجھنے اور عمل کرنے والے بن جائیں‌آمین
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
آمین اللھم آمین و جعلنا من فداء رسولک
عادل سہیل آف لائن ہے  
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد (03-04-09)
پرانا 03-04-09, 01:13 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rajaikram مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم و رحمۃ اللہ

شاہد بھائی بہت اچھی پوسٹ ہے۔ جذباتیت سے ہٹ کر حقائق اور دلائل کے ساتھ موقف پیش کیا گیا ہے۔
در اصل یہی اسلوب ہے حق تک رسائی کا۔

اللہ ہمیں صحیح اسلامی تعلیمات سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، راجہ بھائی ، شاہد بھائی نے یقینا بہت ہی اچھے انداز میں بات کی ہے ، اللہ انہیں بھی بہترین اجر عطا فرمائے ، اور ہم سب کی دعائیں قبول فرمائے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
میاں شاہد (03-04-09), راجہ اکرام (03-04-09)
پرانا 03-04-09, 01:59 PM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
سلام ؛- شاہد بھائی بہت محنت طلب کام ہے جو اپ نے کیا ایات لکھی ، اور احادیث جمع کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہت ہی مناسب اور معقول دلائل دے،
جب اپ نے اتنی محنت کی، وقت لگایا، ایات جمع کیں، احادیث لکھی۔ ۔ ۔ ۔ تو ہمیں بھی چاہیے کہ کم از کم اتنا نہ سہی ادھا تو لکھیں ۔ ۔ ۔۔ اور فیصلہ کن بھی ہو
انشااللہ ۔
لکھ چکے خط ، ، ، جاچکا خط کا جواب۔
اضطراب ، ، ، اضطراب، ، ، ، ، ، ، ،و اضطراب۔ ۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جی ہاں واقع ہی شاھد بھائی نے کافی مشقت کی ہے ، اللہ ان کی مشقت قبول فرمائے ،
آپ جو کچھ لکھنا چاہتے ہیں ، اسے خود ہی اپنے تیئں """ فیصلہ کُن """ تصور کیے ہوئے ہیں ،
ایسی سوچ ، یعنی دلائل کی جانچ پرکھ کیے بغیر ، دوسروں سے بات کیے بِنا پہلے ہی سے اپنی بات کو """ فیصلہ کن """ سمجھنا ، حق کی قبولیت سے دور رکھنے کے بڑے اسباب میں سے ایک ہے ،
آپ کے پیغام کی ٓخری دو سطریں کوئی شعر ہیں شاید ، یا شعرانہ پیرائے میں کوئی فلسفہ ،
ویسے یہ تو بتایے ایک خط لکھا گیا دوسرا خط کا جواب جا چکا ، لیکن ، اضطراب تین کیوں ؟
اور پھر یہ کہ اضطراب ہے کہاں؟ خط لکھنے میں یا خط کا جواب جانے میں ، یا دونوں کے درمیان‌کہیں ؟
کاتب خط کی شخصیت میں ، کاتب خط کی تحریر میں ؟
کاتب جواب کی شخصیت میں ، کاتب جواب کی تحریر میں ؟
جسے خط لکھا گیا اس کی شخصیت میں ، یا اس کی سوچ میں ؟
یا سب میں سے کسی کی شخصیت میں ؟ یا سب ہی کی شخصیت میں ؟
یا سب کی صفات میں ؟ یا سب میں سے کسی ایک کی صفت ہے ؟
خط کے عنوان میں ، خط کے موضوع میں، خط کے مواد میں ، خط کے خط میں؟
خط کے نام میں ، کاتب خط کے نام میں ، جس کی طرف خط بھیجا گیا اس کے نام میں ، کاتب جواب کے نام میں ؟ و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
میاں شاہد (03-04-09), ام طلحہ (07-04-09), راجہ اکرام (06-04-09), طاھر (05-04-09), عبداللہ حیدر (03-04-09)
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
color, فورم, پوسٹ, پاک, قرآن, قران, لوگ, نظر, منتقل, محبت, آج, اللہ, اسلام, بہترین, بھائی, تحریر, جواب, حل, حدیث, خرم, درخواست, عالم, عشق, صورتحال, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو نیلم خان عمومی بحث 42 07-11-11 11:43 PM
گئے موسم میں جو کھلتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ M.UMER پروین شاکر 0 14-06-09 10:00 AM
ایک دعا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر کرتے تھے احمد بلال علوم قرآن کریم 2 26-05-09 03:47 AM
مرزاکے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ وسلم سور کی چربی استعمال کرتے تھے غازی اسلام عقیدہ رسالت 0 27-03-09 04:57 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:52 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger