واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > عقیدہ رسالت




دوسرا تقاضا : نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بے مثل ماننا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 21-01-08, 04:29 AM   #1
دوسرا تقاضا : نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بے مثل ماننا
خرم شہزاد خرم خرم شہزاد خرم آف لائن ہے 21-01-08, 04:29 AM

دوسرا تقاضا : نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بے مثل ماننا
اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لانے کے بعد ایک امتی پر جو بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ مقام رسالت کی رفعت و انفرادیت کو سمجھنے اور کمالات و خصائص نبوت کو دل و جان سے تسلیم کرے، یہ نہیں کہ اللہ کے رسول کو عام انسانوں جیسا ایک فرد تصور کرتے ہوئے اپنے جیسا سمجھنے لگ جائے، یہ کافرانہ سوچ اور ابلیسی نقطہ نظر ہے۔ قرآن پاک نے بتایا ہے، کافر لوگ اسی انداز سے نبی پر اعتراض کرتے تھے اور اپنے جیسا بشر قرار دے کر ایمان نہ لانے کا جواز پیش کرتے تھے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے کہا تھا۔

مَانَرَاکَ اِلَّا بَشَرٌ مِثْلَنَا.

’’ہم تمہیں نہیں دیکھتے مگر اپنے جیسا بشر‘‘۔

مَاهٰذَا اِلَّا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ.

’’نہیں ہے یہ مگر تمہاری مثل بشر‘‘۔

اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا.

’’نہیں ہو تم مگر ہماری مثل بشر‘‘۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کا رسول بشر ہوتا ہے، اسے بشر ماننا ضروری ہے مگر یہ کوئی تُک نہیں کہ اسے اپنے جیسا سمجھے اور اس کے نورانی و باکمال اور سراپا جمال، مقبول و مطہر وجود کو اپنے ناپاک اور گندے وجود پر قیاس کرے اور یہ کہنے لگ جائے کہ وہ کھاتے پیتے اور چلتے پھرتے تھے اور ہم بھی یہی کچھ کرتے ہیں، اس لئے ہم میں اور ان میں کوئی فرق نہیں۔ کفار نے یہ بھی کہا تھا:

مَالِهٰذا الرَّسُوْلِ يَاکُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِیْ فَی الْاَسْوَاقِ.

’’یہ کیسا رسول ہے جو کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے‘‘۔

کھانا پینا اور چلنا پھرنا، بشر کا خاصا ہے، یہ ایسی چیز نہیں کہ ایک دانا شخص کے لئے ایمان لانے کے راستے کا پتھر بن جائے، دیکھنا یہ ہے کہ خدا نے جو اسے رسالت کے لئے منتخب کیا ہے تو آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ وہ کون سی خاص بات اور نوع امتیاز ہے جس نے اسے تخت نبوت پر بیٹھنے اور تاج رسالت سر پر سجانے کا اہل بنادیا ہے۔ چلنے پھرنے والے اور لوگ بھی تو تھے انہیں یہ انوکھا اعزاز کیوں نہ بخشا؟

ثابت ہوا نبی کے اندر خصوصی اوصاف ہوتے ہیں جو اسے پوری قوم سے ممتاز کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان اوصاف ہی کی وجہ سے اسے رسالت کے لئے منتخب کرلیتا ہے بلکہ حق بات تو یہ ہے کہ وہ شروع ہی سے منتخب و محبوب ہوتا ہے۔ اس کی عادت بے مثل اور اطوار منفرد ہوتے ہیں مگر بے بصر اور محروم لوگوں کو نظر نہیں آتے، وہ اس کا کھانا پینا اور چلنا پھرنا ہی دیکھتے رہتے ہیں اور مکہ مکرمہ میں قریب ترین رہتے ہوئے بھی ابوجہل اور ابولہب بن جاتے ہیں اور جو اہل نظر خوش نصیب ہوتے ہیں وہ فارس، روم، حبشہ اور دور دراز علاقوں سے آتے ہیں اور کافروں کی طرح اوصاف بشریت پر نظریں جمانے کی بجائے اوصاف نبوت کو دیکھتے ہیں اور آسمان والوں کی آنکھ کا تارا بن جاتے ہیں دنیا انہیں سلمان، صہیب اور بلال کے نام سے یاد کرتی ہے اور لبوں پر ان کا نام آتے ہی فرط ادب اور عقیدت سے اپنی آنکھیں جھکالیتی ہے۔

ابلیس کی کوتاہ نظری
ابلیس کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا وہ حضرت ابوالبشر آدم علیہ السلام کے خاکی وجود اور مٹی کے پیکر ہی کو دیکھتا رہ گیا لیکن فرشتے اس کے اندر چھپے ہوئے کمالات کو دیکھ کر اور اس کی عظمت کا اعتراف اور دل و جان سے اس کی تعظیم کرکے بازی لے گئے۔ جس کی تفصیل یہ ہے۔ اللہ پاک نے اپنے ارادے سے فرشتوں کو آگاہ فرمایا:

اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِيفَة.

’’میں زمین پر ایک خلیفہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہوں‘‘۔

فَاِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُوْحِی فَقَعُوْا لَهُ سَاجِدِيْنَ.

’’جب میں اسے بنالوں اور اس میں ’’خاص روح‘‘ پھونک دوں تو تم اس کے حضور اظہار تعظیم کے لئے جھک جانا‘‘۔

جب پیکر آدم بن گیا تو ابلیس کی نظر صرف اس کے خاکی وجود پر ہی مرکوز رہی وہ اس سے آگے اوصاف آدم کو نہ دیکھ سکا مگر جب فرشتوں نے اس میں ڈالی جانے والی نورانی روح کا مشاہدہ کیا اور اس کی برکت سے جناب آدم علیہ السلام کو حاصل ہونے والے اوصاف پر ان کی نظر گئی تو وہ جان گئے کہ اس پیکر میں کمالات علمی اور اوصاف نبوت کی صورت میں وہ کچھ ودیعت کردیا گیا ہے جو ہمیں حاصل نہیں اور ان اوصاف و کمالات اور خصائص و فضائل نے حضرت آدم علیہ السلام کو ہم پر فوقیت بخش دی ہے۔لہذا وہ اسی وقت تعظیم کے لئے جھک گئے۔

مگر ابلیس اکڑا رہا اس کی نظر خاک، مٹی اور بشریت ہی میں الجھ کر رہ گئی۔ اس پیکر بشر میں جو کچھ رکھ دیا گیا تھا وہ اس ’’نور‘‘ کو نہ دیکھ سکا اور اپنے ناری وجود کو ہی دیکھتا رہا اور پھر بڑی روعونت سے بولا۔

اَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَارٍ وَ خَلَقْتَهُ مِنْ طِيْنٍ.

’’میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ اور اسے مٹی سے پید اکیا ہے‘‘۔

لَمْ اَکُنْ لِاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَاٍ مَسْنُوْنٍ.

’’میں اس بشر کو سجدہ نہیں کروں گا جسے تو نے گوندھی ہوئی بجنے والی چکنی مٹی سے بنایا ہے‘‘۔

اَبٰی وَسْتَکْبَرَوَ کَانَ مِنَ الْکَافِرِيْن.

’’اس نے تعظیم و آداب بجا لانے سے صاف انکار کردیا اور زبردست تکبر کیا اور وہ کافروں میں سے ہوگیا‘‘۔

اہل کفر کے شعار اور ابلیس کے ان عبرتناک واقعات کو دیکھتے ہوئے ایک مومن کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہوش و خرد سے کام لے اور نبی کی بشریت پر ہی نظریں مرکوز نہ رکھے اور بشر بشر ہی کی رٹ نہ لگاتا رہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے وجود کو جن اوصاف و خصائص اور بے مثل کمالات کی وجہ سے رسالت کے لئے چنا اور جو اعزازات بخشے اور مخلوق پر امتیازات عطا کئے، انہیں بھی پیش نظر رکھے اور ان کے مقام و مرتبہ کی تعظیم و تکریم سے کبھی غافل نہ ہو۔

مقام نبوت کی عظمت و شوکت کا عالم یہ ہے کہ قرآن پاک نے ان کی بارگاہ میں حاضری دینے، وہاں بیٹھنے اور گفتگو کرنے تک کے آداب سکھائے ہیں اور آداب ملحوظ نہ رکھنے والوں کو جاہل، جہنمی اور کافر قرار دیا ہے۔

اس لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت پر ایمان لانے کا دوسرا تقاضا یہ ہے کہ امتی انہیں رسول ہونے کی حیثیت سے بے مثل مانے اور ان کی عظمت و سیادت اور منفرد شان کو دل سے تسلیم کرے۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز

 
خرم شہزاد خرم's Avatar
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 464
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
S_S_G_Commando (11-02-08), کنعان (02-01-12), گلاب خان (02-01-12), مفتی (01-01-12), عبداللہ حیدر (15-05-08), عرفان حیدر (14-02-08)
پرانا 14-02-08, 09:04 AM   #2
Senior Member
 
عرفان حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
عمر: 30
مراسلات: 2,046
کمائي: 8,259
شکریہ: 889
722 مراسلہ میں 1,442 بارشکریہ ادا کیا گیا
عرفان حیدر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عرفان حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: دوسرا تقاضا : نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بے مثل ماننا

سلام،
اس سلسلے میں بھی کچھ پیش کرنا چاہوں گا۔ کیا فوٹوٹیک81 بھائی اجازت ہے۔
وسلام
عرفان حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-02-08, 02:15 AM   #3
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,349
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: دوسرا تقاضا : نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بے مثل ماننا

کس طرح کی اجازت جناب اجازت ہے
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا
عرفان حیدر (15-02-08)
پرانا 19-03-08, 08:11 PM   #4
Senior Member
مقبول
 
S_S_G_Commando's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 31
مراسلات: 167
کمائي: 2,099
شکریہ: 156
81 مراسلہ میں 193 بارشکریہ ادا کیا گیا
S_S_G_Commando کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں S_S_G_Commando کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: دوسرا تقاضا : نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بے مثل ماننا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ و مغفرتہ
عرفان صاحب پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف بیان کرنے میں اجازت کی کیا بات ہے.جب اللہ نے بیان کئے خود پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کئے صحابہ نے بیان کئے .تو کسی کو کون روک سکتا ہے .اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم لوگ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف بیان کرنے والوں میں سے ہیں نہ کے نقائص ڈھوٹڈنے والوں میں سے.
S_S_G_Commando آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے S_S_G_Commando کا شکریہ ادا کیا
گلاب خان (02-01-12), مفتی (01-01-12), خرم شہزاد خرم (20-03-08)
پرانا 01-01-12, 10:12 PM   #5
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 45
کمائي: 878
شکریہ: 179
24 مراسلہ میں 64 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملک زوالفقار آف لائن ہے   Reply With Quote
ملک زوالفقار کا شکریہ ادا کیا گیا
مفتی (01-01-12)
پرانا 02-01-12, 12:00 AM   #6
Senior Member
 
حسنین ایوب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: پاک نیٹ
مراسلات: 1,064
کمائي: 19,020
شکریہ: 1,708
625 مراسلہ میں 1,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
حسنین ایوب کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سبحان اللہ جزاک اللہ
حسنین ایوب آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-01-12, 02:18 PM   #7
Senior Member
 
مفتی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مراسلات: 540
کمائي: 7,068
شکریہ: 489
308 مراسلہ میں 689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی شیئرنگ ہے ۔۔۔۔جزاک اللہ خیر
مفتی آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
پیارے, پاک, واقعات, قرآن, لوگ, نظر, مکہ, ایمان, اللہ, بھائی, تاج, خوش, خدا, خصوصی, دل, شخص, عالم, صحابہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم,,,,لاؤڈ اسپیکر…ڈاکٹرعامرلیاقت حسین آبی ٹوکول عمومی بحث 2 31-03-11 08:11 PM
دوسری سوچ اور دوسرا سوال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبداللہ آدم گپ شپ 23 01-03-11 11:14 PM
حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام چیتا چالباز اخلاق و آداب 6 19-10-10 05:41 PM
ہم نے کھلنے نہ دیا بے سروسامانی کو The Great شعر و شاعری 0 25-08-09 01:41 PM
مونا لزا اور ٹماٹر (دوسری اور آخری قسط),,,,انداز بیاں اور…اطہر شاہ خان خرم شہزاد خرم خبریں 0 29-10-07 10:31 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:53 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger