واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > عقیدہ رسالت




سب سے بڑے قائد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-11-08, 12:02 AM   #1
سب سے بڑے قائد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم
عبداللہ حیدر عبداللہ حیدر آف لائن ہے 09-11-08, 12:02 AM

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم جو امتِ اسلامیہ ہی نہیں بلکہ ساری انسانیت کے سب سے بلند پایہ قائد و رہنما ہیں ایسے جسمانی جمال، نفسانی کمال، کریمانہ اخلاق، باعظمت کردار اور شریفانہ عادات و اطوار سے بہرہ ور تھے کہ دل خود بخود آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی جانب کھنچے چلے جاتے تھے اور طبیعتیں خود بخود آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر نچھاور ہوتی تھیں، کیونکہ جن کمالات پر لوگ جان چھڑکتے ہیں ان سے آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو اتنا بھرپور حصہ ملا تھا کہ اتنا کسی اور انسان کو دیا ہی نہیں گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم شرف وعظمت اور فضل و کمال کی سب سے بلند چوٹی پر جلوہ فگن تھے، عفت و امانت، صدق و صفا اور جملہ امورِ خیر میں آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو وہ امتیازی مقام تھا کہ رفقاء تو رفقاء آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے دشمنوں کو بھی آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی یکتائی و انفرادیت پر کبھی شک نہ گذرا۔ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی زبان سے جو بات نکل گئی، دشمنوں کو بھی یقین ہو گیا کہ وہ سچی ہے اور ہو کر رہے گی۔ واقعات اس کی شہادت دیتے ہیں۔ ایک بار قریش کے ایسے تین آدمی اکٹھے ہوئے جن میں سے ہر ایک نے اپنے بقیہ دو ساتھیوں سے چھپ چھپا کر قرآنِ مجید سنا تھا لیکن بعد میں ہر ایک کا راز دوسرے پر فاش ہو گیا تھا۔ ان ہی تین آدمیوں میں سے ایک ابوجہل بھی تھا۔ تینوں اکٹھے ہوئے تو ایک نے ابوجہل سے دریافت کیا کہ بتاؤ تم نے جو کچھ محمد (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ) سے سنا ہے اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ ابو جہل نے کہا: “میں نے کیا سنا ہے؟ بات دراصل یہ ہے کہ ہم نے اور بنو عبدِ مناف نے شرف و عظمت میں ایک دوسرے کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے (غرباء و مساکین کو) کھلایا تو ہم نے بھی کھلایا، انہوں نے داد دہش میں سواریاں عطا کیں تو ہم نے بھی عطا کیں، انہوں نے لوگوں کو عطیات سے نوازا تو ہم نے بھی ایسا کیا، یہاں تک کہ جب ہم اور وہ گھٹنوں گھٹنوں ایک دوسرے کے ہم پلہ ہو گئے اور ہامری اور ان کی حیثیت ریس کے دو مدِّ مقابل گھوڑوں کی سی ہو گئی تو اب بنو عبدِ مناف کہتے ہیں کہ ہمارے اندر ایک نبی (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ) ہے جس کےپاس آسمان سے وحی آتی ہے۔ بھلا بتائیے ہم اسے کب پا سکتے ہیں؟ خدا کی قسم! ہم اس شخص پر کبھی ایمان نہ لائیں گے، اور اس کی ہرگز تصدیق نہ کریں گے”۔ (ا)
چنانچہ ابو جہل کہا کرتا تھا “اے محمد (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ) ہم تمہیں جھوٹا نہیں کہتے لیکن تم جو کچھ لے کر آئے ہو اس کی تکذیب کرتے ہیں” اسی بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
فَإِنَّهُمْ لاَ يُكَذِّبُونَكَ وَلَكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللّهِ يَجْحَدُونَ [الأنعام : 33]
"یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے، بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔"
اس واقعے کی تفصیل گزر چکی ہے کہ ایک روز کفار نے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو تین بار لعن طعن کی اور تیسری دفعہ میں آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا کہ اے قریش کی جماعت! میں تمہارے پاس ذبح (کا حکم) لے کر آیا ہوں تو یہ بات ان پر اس طرح اثر کر گئی کہ جو شخص عداوت میں سب سے بڑھ کر تھا وہ بھی بہتر سے بہتر جو جملہ پا سکتا تھا اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو راضی کرنے کی کوشش میں لگ گیا۔ اسی طرح اس کی تفصیل بھی گزر چکی ہے کہ جب حالتِ سجدہ میں آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر اوجھڑی ڈالی گئی، اور آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے سر اٹھانے کے بعد اس حرکت کے کرنے والوں پر بد دعا کی تو ان کی ہنسی ہوا ہو گئی۔ اور ان کے اندر غم و قلق کی لہر دوڑ گئی۔ انہیں یقین ہو گیا کہ اب ہم بچ نہیں سکتے۔
یہ واقعہ بھی بیان کیا جا چکا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ابولہب کے بیٹے عُتَیبہ پر بددعا کی تو اسے یقین ہو گیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی بد دعا کی زد سے بچ نہیں سکتا، چنانچہ اس نے ملک شام کے سفر میں شیر کو دیکھتے ہی کہا "واللہ، محمد (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم) نے مکہ میں رہتے ہوئے مجھے قتل کر دیا"۔
ابیّ بن خلف کا واقعہ ہے کہ وہ بار بار آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو قتل کی دھمکیاں دیا کرتا تھا۔ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے جوابًا فرمایا کہ (تم نہیں ) بلکہ میں تمہیں قتل کروں گا، ان شاء اللہ۔ اس کے بعدجب آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے جنگ احد کے روز ابیّ کی گردن پر نیزہ مارا تو اگرچہ اس سے معمولی خراش آئی تھی لیکن ابیّ برابر یہی کہے جا رہا تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم) نے مجھ سے مکہ میں کہا تھا کہ میں تمہیں قتل کروں گا اس لیے اگر وہ مجھ پر تھوک ہی دیتا تو بھی میری جان نکل جاتی۔ (تفصیل آگے آ رہی ہے)
اسی طرح ایک بار حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے مکے میں امیّہ بن خلف سے کہہ دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان تمہیں قتل کر دیں گے تو اس سے امیّہ پر سخت گھبراہٹ طاری ہو گئی، جو مسلسل قائم رہی۔ چنانچہ اس نے عہد کر لیا کہ وہ مکے سے باہر ہی نہ نکلے گا اور جب جنگِ بدر کے موقع پر ابوجہل کے اصرار سے مجبور ہو کر نکلنا پڑا تو اس نے مکے کا سب سے تیز رو اونٹ خریدا تا کہ خطرے کی علامات ظاہر ہوتے ہیں چَمپَت ہو جائے۔ ادھر جنگ میں جانے پر آمادہ دیکھ کر اس کی بیوی نے بھی ٹوکا کہ "ابو صفوان! آپ کے یثربی بھائی نے جو کچھ کہا تھا اسے آپ بھول گئے؟"۔ ابو صفوان نے جواب دیا کہ نہیں، بلکہ میں خدا کی قسم ان کے ساتھ تھوڑی ہی دور جاؤں گا۔ (4)
یہ تو آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے دشمنوں کا حال تھا۔ باقی رہے آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم اور رفقاء تو آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم تو ان کے لیے دیدہ و دل اور جان و روح کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے دل کی گہرائیوں سے آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے لیے حبِّ صادق کے جذبے اس طرح ابلتے تھے جیسے نشیب کی طرف پانی بہتا ہے اور جان و دل اس طرح آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف کھنچے چلے جاتے تھے جیسے لوہا مقناطین کی طرف کھنچتا ہے۔
اس محبت و فداکاری اور جاں نثاری کا نتیجہ یہ تھا کہ صحابہ کرام کو یہ گوارا نہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ناخن میں خراش تک آ جائے یا آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے پاؤں میں کانٹا ہی چبھ جائے خواہ اس کےلیے گردنیں ہی کیوں نہ کوٹ دی جائیں۔
ایک روز ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بری طرح کچل دیا گیا اور انہیں سخت مار ماری گئی۔ عُتیبہ بن ربیعہ ان کے قریب آ کر انہیں دو پیوند لگے جوتوں سے مارنے لگا۔ چہرے کو خصوصیت سے نشانہ بنایا گیا۔ پھر پیٹ پر چڑھ گیا، کیفیت یہ تھی کہ چہرے اور ناک کا پتہ نہیں چل رہا تھا۔ پھر ان کے قبیلہ بنو تَیم کے لوگ انہیں ایک کپڑے میں لپیٹ کر گھر لے گئے۔ انہیں یقین تھا کہ اب یہ زندہ نہ بچیں گے لیکن دن کے خاتمے کے قریب ان کی زبان کھل گئی۔ (اور زبان کھلی تو یہ) بولے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کیا ہوئے؟ اس پر بنو تَیم نے انہیں سخت سست کہا۔ ملامت کی اور ان کی ماں ام الخیر سے یہ کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے کہ انہیں کچھ کھلا پلا دینا۔ جب وہ تنہا رہ گئیں تو انہوں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کھانے پینے کے لیے اصرار کیا لیکن ابو بکر رضی اللہ عنہ یہی کہتے رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا کیا ہوا؟ آخر کار ام الخیر نے کہا "مجھے تمہارے ساتھی کا حال معلوم نہیں"۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا "ام جمیل بنت خطاب کے پاس جاؤ اور اس سے دریافت کرو"۔ وہ ام جمیل کے پاس گئیں اور بولیں "ابوبکرؓ تم سے محمد بن عبداللہ (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم) کے بارے میں دریافت کر رہے ہیں"۔ ام جمیل نے کہا "میں نہ ابوبکرؓ کو جانتی ہوں نہ محمد بن عبداللہ (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم) کو۔ البتہ اگر تم چاہو تو میں تمہارے ساتھ تمہارے صاحبزادے کے پاس چل سکتی ہوں۔" ام الخیر نے کہا بہترہے۔ اس کے بعد ام جمیل ان کے ہمراہ آئیں تو ابوبکرؓ انتہائی خستہ حال پڑے تھے۔ پھر قریب ہوئیں تو چیخ پڑیں اور کہنے لگیں "جس قوم نے آپ کی یہ درگت بنائی ہے وہ یقینًا بدقماش اور کافر قوم ہے۔ مجھے امید ہے اللہ آپ کا بدلہ ان سے لے کر رہے گا"۔ ابوبکرؓ نے پوچھا "رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کیا ہوئے"؟ انہوں نے کہا "یہ آپ کی ماں سن رہی ہیں"۔ کہا "کوئی بات نہیں"۔ بولیں "آپ (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم) صحیح سالم ہیں"۔ پوچھا "کہاں ہیں؟"۔ کہا "ابن ارقم کے گھر میں ہیں"۔ ابوبکرؓ نے فرمایا "اچھا تو پھر اللہ کے لیے مجھ پر عہد ہے کہ میں نہ کوئی کھانا کھاؤں گا یہ پانی پیوں گا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو جاؤں"۔ اس کے بعد ام الخیر اور ام جمیل رکی رہیں۔ جب آمد و رفت بند ہو گئی اور سناٹا چھا گیا تو یہ دونوں ابوبکرؓ کو لے کر نکلیں۔ وہ ان پر ٹیک لگائے ہوئے تھے اور اس طرح انہوں نے ابوبکرؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا دیا۔
(الرحیق المختوم ص 169 تا 173)

Last edited by عبداللہ حیدر; 09-02-10 at 03:47 PM..

 
عبداللہ حیدر's Avatar
عبداللہ حیدر
ذیلی ناظم

تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 383
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
arslansun (22-02-09), میاں شاہد (09-11-08), محمدخلیل (22-02-09), ام غزل (22-02-09), حسن مغل (09-11-08), طارق راحیل (10-03-09)
پرانا 22-02-09, 09:55 PM   #2
Senior Member
 
arslansun's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 619
کمائي: 5,541
شکریہ: 1,072
222 مراسلہ میں 354 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: سب سے بڑے قائد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم

بہت ہی خوب ۔
arslansun آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 22-02-09, 11:53 PM   #3
ناظم اعلی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,500
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: سب سے بڑے قائد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم

تھے کے لفظ کی تصیح کریں نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے لئے ہیں کا لفظ استعمال کریں۔
شکریہ۔
ام غزل آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 23-02-09, 01:42 AM   #4
Administrator
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: دل
مراسلات: 2,759
کمائي: 8,530
شکریہ: 0
561 مراسلہ میں 1,027 بارشکریہ ادا کیا گیا
زبیر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: سب سے بڑے قائد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم

درست فرفایا ام غزل آپ نے
بہت اچھا موضوع لکھا ہے آپ نے ، آپ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو تو اللہ تعالی نے تمام جہانوں کے لیے ایک رہنما بنا کر بجھا ہے
مزید موضوعات لکھتے رہیں اور اللہ تعالی آپ کو اس کی جزا دے
__________________
[SIGPIC][/SIGPIC]
زبیر آف لائن ہے   Reply With Quote
زبیر کا شکریہ ادا کیا گیا
ام غزل (23-02-09)
پرانا 24-02-09, 02:06 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb جواب: سب سے بڑے قائد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ام غزل مراسلہ دیکھیں
تھے کے لفظ کی تصیح کریں نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے لئے ہیں کا لفظ استعمال کریں۔
شکریہ۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ، جزاکِ اللہ خیرا بہن ام غزل ،
بھتیجے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سب سے بڑے قائد و امام تھے ، اور ہیں اور ہمیشہ رہیں گے ، کیونکہ ان کے بعد کوئی اور اس رتبے پر ہر گز نہیں آ سکتا ، مخلوق کے لیے جو بلند ترین رتبہ تھے وہ اللہ نے اپنے آخری رسول مُحمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو عطا فرما دیے ، پس اس رتبے کی نسبت سے صرف """تھے""" کی بات مناسب نہیں ،
""" ہیں """ سے مراد دنیا میں‌ موجود ہونا نہیں ، بلکہ ان صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ربے کا بقا ہے ، امید ہے آپ چچا کی بات پر غور فرمائیں گے ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
arslansun (27-02-09), ام غزل (24-02-09)
پرانا 10-03-09, 12:46 PM   #6
Senior Member
 
طارق راحیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 27
مراسلات: 2,895
کمائي: 31,889
شکریہ: 4,003
1,212 مراسلہ میں 2,417 بارشکریہ ادا کیا گیا
طارق راحیل کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: سب سے بڑے قائد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم

مراسلہ دیکھیں
اللھم صلی علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔
اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔
اللھم صل وسلم وبارک علٰی محمد بعدد کل معلم لک دائما ابدا۔
جزاللہ عنا سیدنا ومولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ما ھو اہلہ۔۔
اللھم صل علی محمدن النبی الامی وعلٰی آلہ وسلم تسلیما۔۔
الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یارسول اللہ
وعلٰی آلک واصحابک یا سیدی یا حبیب اللہ
الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا نور من نور اللہ
وعلیٰ الک واصحابک یا سیدی یا خیر خلق اللہ
الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا شفیع المذنبین
وعلیٰ الک واصحابک یا سیدی رحمۃ اللعٰلمین




جشن عید میلاد النبی مبارک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
__________________
سمجھو تو بہت قابلِ تعظیم ہے لوگوں
اِک دوست کا اِک دوست سے پیار کا رشتہ
www.tariqraheel.blogspot.com
طارق راحیل آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 11-03-09, 12:35 AM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb جواب: سب سے بڑے قائد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طارق راحیل مراسلہ دیکھیں
مراسلہ دیکھیں
اللھم صلی علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔
آمین اللّھُمَ آمین
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طارق راحیل مراسلہ دیکھیں
اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔
آمین اللّھُمَ آمین
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طارق راحیل مراسلہ دیکھیں
اللھم صل وسلم وبارک علٰی محمد بعدد کل معلم لک دائما ابدا۔
آمین اللّھُمَ آمین
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طارق راحیل مراسلہ دیکھیں
جزاللہ عنا سیدنا ومولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ما ھو اہلہ۔۔
آمین اللّھُمَ آمین
رسولک صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سیدنا ::: اے اللہ تمہارے رسول مُحمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ہمارے سردار ہیں ::: و انت مولانا و لا مولا لنا غیرک ::: اور تو ہمارا مولا ہے اور تیرے سوا ہمارا کوئی مولا نہیں
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طارق راحیل مراسلہ دیکھیں
اللھم صل علی محمدن النبی الامی وعلٰی آلہ وسلم تسلیما۔۔
آمین اللّھُمَ آمین
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طارق راحیل مراسلہ دیکھیں
الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یارسول اللہ
الصلاۃ و السلام علی رسول اللہ سید الأولین و الآخرین
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طارق راحیل مراسلہ دیکھیں
وعلٰی آلک واصحابک یا سیدی یا حبیب اللہ
و علی آلہ و أصحابہ و أزواجہ و ذریتہ و من تبعھم باحسان الی یوم الدین
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طارق راحیل مراسلہ دیکھیں
الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا نور من نور اللہ
الصلاۃ و السلام علی رسول اللہ ، و لم یکن نورٌ مِن نور اللہ کام عبدٌ للہ و لم یکن جُزء مِن اللہ ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اللہ کے نور میں سے نور نہ تھے اللہ کے بندے تھے نہ کہ اللہ کا جُز ::: و ماذا یکون الشرک بعد ذلک؟ ::: ایسی بات کے بعد اور شرک کیا ہو گا ؟ ::: نور اللہ صفۃ من صفات اللہ و لا شریک لہ فی ذاتہ و لا فی صفاتہ::: اللہ کا نور یعنی روشنی اللہ کی صفات میں سے ایک صفت ہے اور اللہ کا کوئی شریک نہیں نہ اس کی ذات میں اور نہ ہی اس کی صفات میں :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طارق راحیل مراسلہ دیکھیں
وعلیٰ الک واصحابک یا سیدی یا خیر خلق اللہ
و علی آلہ و أصحابہ انہ کان خیر خلقہ و لا ریب
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طارق راحیل مراسلہ دیکھیں
الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا شفیع المذنبین
وعلیٰ الک واصحابک یا سیدی رحمۃ اللعٰلمین
الصلاۃ و السلام علی رسول اللہ ، شفیعُ المُذنِبِین ، و رحمۃ للعالمین ، و علی آلہ و أصحابہ أجمعین
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طارق راحیل مراسلہ دیکھیں
جشن عید میلاد النبی مبارک
بدعت کبھی مبارک نہیں ہوتی ، بلکہ جس رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی محبت میں یہ جشن یا اس قسم کی دوسری بلا دلیل و حجت رسمیں منائی جاتی ہیں ان کا فیصلہ ہے ((((( کل بِدعۃ ضلالۃ و کُلّ ضلاۃ فی النار ::: ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں ہے )))))
"""" عید میلاد النبی اور ہم """" کا مطالعہ کیجیے ،
پاک نیٹ کی انتظامیہ اپنے طے کردہ قوانین کے نفاذ کی طرف توجہ کرے ،
و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ٹیک, واقعات, لوگ, مکہ, مقابلہ, ماں, مجید, محبت, معلوم, آدمی, ایمان, اللہ, بھائی, حکم, خدا, دل, دریافت, دعا, سفر, شام, شخص, ظالم, عہد, غزل, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
::::::: اپنے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی مدد کیجیے ::::::: عادل سہیل عقیدہ رسالت 16 23-08-11 01:39 AM
بھروسہ فیصل ناصر قہقہے ہی قہقے 10 28-04-11 06:39 PM
ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم,,,,لاؤڈ اسپیکر…ڈاکٹرعامرلیاقت حسین آبی ٹوکول عمومی بحث 2 31-03-11 08:11 PM
حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام چیتا چالباز اخلاق و آداب 6 19-10-10 05:41 PM
موسم بہار کے امراض چیتا چالباز شعبہ طب 0 20-12-08 08:18 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:54 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger