واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > عقیدہ رسالت




قانون توہین رسالت پر علمی اعتراضات

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-01-11, 12:18 AM   #1
قانون توہین رسالت پر علمی اعتراضات
عبداللہ آدم عبداللہ آدم آن لائن ہے 17-01-11, 12:18 AM

السلام علیکم::

ساتھیو! جیسا کہ آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ سلمان تاثیر کی "شاندار" رخصتی کے بعد ہر کس و ناکس کی طرف سے آقا علیہ السلام کی ناموس کے حوالے سے اسلامی قانون پر اعتراضات کا سلسلہ کافی شدومد سے جاری ہے.....

اسی سلسلے میں نیٹ گردی کرتے ہوئے اپنے تئیں کافی علمی سمجھے جانے والے اعتراضات سے پالا پڑا ہے جنہں اب میں باری باری یہاں شیر کروں گا اور ان پر متعلقہ افراد اور بالخصوص اہل علم سے درخواست ہو گی کہ وہ ان "بظاہر" علمی اعتراضات کا جواب علمی انداز ہی میں عنایت فرمائیں.............

کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ایسے انداز میں جوابات عنایت فرمائے جائیں کہ بعد میں آنے والوں میں کم از کم ان پہلوؤں پر تشنگی نہ باقی رہے!!!

اس تھریڈ سے میرا مقصد فقط اس دجل کا پردہ چاک کرنا ہے جو نیٹ ی دنیا میں ایک خلقت کثیر کو گمراہ کرنے کا سبب بن رہا ہے.!!!

تو بسم اللہ کرتے ہیں:::

اول::::

""توہین رسالت قابل معافی جرم ہے""

دلائل یہ ہیں::

حضرت ابو ہریرہ کی والدہ کا واقعہ

اور کیا آپ کو حضرت ابو ہریرہ اور انکی مشرکہ والدہ کا واقعہ یاد ہے کہ جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخانہ کلمات کہے تو اس پر حضرت ابو ہریرہ انہیں قتل کرتے تھے اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ نے اسکا پتا چلنے پر انہیں قتل کرنے کا حکم دیا۔ نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ نے انکی والدہ کے لیے ہدایت کی اللہ سے دعا فرمائی۔

صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ:۔

' اورحضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ میں اپنی والدہ کو جو مشترکہ تھیں قبول اسلام کی تلقین کیا کرتا تھا ، چنانچہ ایک دن میں نے ان کو ( معمول کے مطابق ) اسلام قبول کرنے کی تلقین کی تو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس کے متعلق ايك ايسى بات كہی جو مجھے ناگوار گزری بلکہ میں تو اب بھی اس کو نقل کرنے کوگوارا نہیں کرتا۔ میں ( اس بات سے مغموم اور رنجیدہ ہو کر کہ انہوں نے میرے سامنےایسے الفاظ زبان سے نکالے ہیں اور ماں ہونے کی ودہ سے میں ان کی تادیب بھی نہیں کر سکتا ) روتا ہوا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا اور عرض کیا کہ یار سول اللہ ! اب تو آپ ہی اللہ سے دعا فرما دیجئے کہ ابو ہریرہ کی ماں کو ہدایت عطا فرمائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ۔ اے اللہ ! ابو ہریرہ کی ماں کو ہدایت عطا فرما ! میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاسے بڑی خوش آیند امید لے کر ( بارگاہ نبوت سے ) واپس لوٹا اور جب اپنی والدہ کے گھر کے دروازہ پر پہنچا تو دیکھا کہ دروازہ بند ہے ، لیکن میری والدہ نے میرے قدموں کی آواز سن لی تھی انہوں نے ، ( اندر سے آواز دے کر کہا کہ ' ' ابو ہریرہ ! وہیں ٹھہرو ( یعنی ابھی گھر میں نہ آؤ ) پھر میں نے پانی گر نے کی آواز سنی '' میری والدہ نے غسل کیا ، کپڑا پہنا اور مارے جلدی کے دوپٹہ اوڑھے بغیر دروازہ کھول دیا اور ( مجھے دیکھ کر ) کہا ، میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ میں یہ دیکھتے ہی کہ میری پیاری ماں کو ہدایت مل گئی اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا ، الٹے پاؤں لوٹا اور خوشی کے آنسو گراتا ہوا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خدمت میں حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی تعریف کی اور میری والدہ کے اسلام پر شکر ادا کیا اور '' اچھا فرمایا ۔ '' ( صحیح مسلم ) ۔

کیا رسول اللہ ﷺ کا یہ اسوہ حسنہ ہمارے لیے سبق نہیں کہ ہمارے جذباتی بھائی چھوٹی سی بات پر بھی بھڑک اٹھ کر انسانی خون بہا دینے کی بجائے صبر و ضبط کا مظاہرہ کریں اور اللہ تعالی سے گمراہ لوگوں کی ہدایت کے لیے دعا مانگیں؟(ادھر ہماری جذباتی بھائیوں کی حالت یہ ہے کہ ایک ڈاکٹر صاحب ، جنکا نام "محمد" ہے، انہوں نے اپنا وزیٹنگ کارڈ ردی کی ٹوکری میں ڈالا تو اُن بے چارے کو پکڑ کر انکے خلاف توہین رسالت کا پرچہ کٹوا کر انہیں زبردستی حوالات کے پیچھے پہنچا دیا )۔


حکم بن العاص کو بھی رسول اللہ ﷺ کا بستر مرگ پر معاف کر دینا

چھوٹی موٹی بات تو ایک طرف رہی، اللہ کے رسول ، رحمت اللعالمین ﷺ نے تو حکم بن العاص جیسے شریر و گستاخِ رسول شخص کو بھی بستر مرگ پر معاف کر دیا تھا۔

حکم بن العاص کا شمار اُن لوگوں میں ہوتا ہے جو فتح مکہ کے بعد اسلام لائے اور انہیں طلقاء کہا جاتا ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ اپنی کسی صحابی سے رازداری سے کوئی بات کرتے تھے تو یہ شخص انہیں چھپ کر سن لیتا تھا اور پھر آگے جا کر پھیلا دیتا تھا جس سے منافقین کو پہلے سے بہت سی باتوں کا علم ہو جاتا تھا۔

حکم بن العاص رسول اللہ ﷺ کے پیچھے چلتے ہوئے انکی چال ڈھال کی اور چہرہ مبارک کی نقلیں اتارا کرتا تھا۔ اور نماز کے دوران بھی ہاتھ اور انگلیوں سے بُرے بُرے انداز بناتا تھا۔ یہ اتنی بڑی گستاخی تھی کہ جب رسول اللہ ﷺ نے اس کو یہ حرکتیں ہوئے پکڑا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایسے ہی رہو۔ اس لعنت کے نتیجے میں وہ اُسی حالت میں ویسا کا ویسا ہی رہ گیا اور تامرگ ایسا ہی رہا کہ اسکا منہ، چہرہ اور ہاتھ ہر وقت اس بری حالت میں ہلتے ہی رہتے تھے۔

بہرحال، حکم بن العاص اس لعنت کے باوجود اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا۔ ایک دن رسول اللہ ﷺ اپنی ایک زوجہ کے گھر میں تھے کہ یہ خاموشی سے آ کر دروازے کے سوراخ سے جھانکنے لگا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسکو پہچان لیا ۔ آپ ﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ کون ہے جو مجھے اس گندے شخص سے بچائے گا؟ پھر آپ ﷺ نے مزید فرمایا کہ یہ شخص اور اسکی آل اولاد ہرگز اس شہر میں نہیں رہ سکتی جس میں میں موجود ہوں، اور اسکے بعد آپ نے اسکو بمع اسکے بیٹے مروان بن الحکم کے طائف کی طرف شہر بدر کر دیا۔

اہم بات یہ ہے کہ اتنا کچھ ہونے کے باوجود بھی رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کو قتل نہیں کروایا بلکہ صرف شہر بدر کیا۔

اور صرف یہ ہی نہیں بلکہ بستر مرگ پر اسے معاف بھی کر دیا ۔

حضرت عثمان بن عفان نے رسول اللہ ﷺ سے اسکی سفارش کی تو رسول اللہ ﷺ نے اسکو بستر مرگ پر معاف کر دیا۔ مگر حضرت ابو بکر اور حضرت عمر نے اسکو اپنے دور میں مدینہ نہیں آنے دیا کیونکہ انہوں نے حضرت عثمان سے اس معافی کے وقت کا گواہ طلب کیا تھا جو موجود نہ تھا۔ مگر جب حضرت عثمان خلیفہ مقرر ہوئے تو انہوں نے حکم بن العاص اور اسکے بیٹے مروان بن حکم کو واپس مدینہ بلا لیا۔


نتیجہ:

اب ذرا حکم بن العاص کا موازنہ آپ آسیہ بی بی کی کیس سے کریں۔ حکم بن العاص بہت بدبخت شخص تھا اور اگر کوئی مارے جانے کے قابل تھا تو وہ یہ شخص تھا۔ اس نے ایسے ملعون فعل ادا کیے کہ پہلے یہ ہزار بار قتل ہو تو پھر کہیں جا کر آسیہ بی بی جیسوں کی باری آ سکتی ہے۔
پانچواں: عبداللہ ابن ابی کی شانِ رسالت میں گستاخی پر سزا کا نہ دیا جانا

اب عبداللہ ابن ابی کے قصے کو یہ حضرات کہاں فٹ کریں گے؟ اس نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں انتہائی گستاخی کی۔ اس گستاخی پر نہ رسول اللہ ﷺ نے اسکے قتل کا حُکم دیا اور نہ ہی وہاں پر موجود مسلمانوں نے اسے قتل کیا۔ اور اللہ نے بھی اسکے قتل کا حُکم نہیں دیا اور آیت تو نازل ہوئی مگر وہ اسے قتل کرنے کی نہیں تھی بلکہ یہ تھی کہ اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کروا دو۔

صحیح بخاری، کتاب الصلح:

ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا کہا میں نے اپنے باپ سے سنا کہ انسؓ نے کہا لوگوں نے نبی ﷺ کو رائے دی اگر آپ عبداللہ بن ابی کے پاس تشریف لے چلیں تو بہتر ہے یہ سن کر آپؐ ایک گدھے پر سوار ہو کر اس کے پاس گئے مسلمان آپؐ کے ساتھ چلے وہاں کی زمین کھاری تھی جب آپ اس (عبداللہ ابن ابی) کے پاس پہنچے تو وہ رسول ﷺ کو کہنے لگا کہ چلو پرے ہٹو تمہارے گدھے کی بد بو نے میرا دماغ پریشان کر دیا ہے۔ یہ سن کر ایک انصاری (عبداللہ بن رواحہ) بولے خدا کی قسم رسول اللہ ﷺ کا گدھا تجھ سے زیادہ خوشبودار ہے اس پر عبداللہ کی قوم کا ایک شخص (صحابی) غصے ہوا۔ دونوں میں گالی گلوچ ہوئی اور دونوں طرف کے لوگوں کو غصہ آیا اور وہ چھڑیوں، ہاتھوں اور جوتوں سے آپس میں لڑ پڑے۔ انسؓ نے کہا ہم کو یہ بات پہنچی کہ (سورت حجرات کی آیت وَ اِن طَائِفَتَانِ ِمنَ المُؤمِنِینَ اقتَتَلُوا فَاصلحُوا بَینھمَا) اسی بات میں اتری۔ (یعنی مسلمانوں کے دو گروہ لڑ پڑیں تو ان میں صلح کروا دو)۔

عبداللہ ابن ابی نے رسول اللہ ﷺ کی شانِ اقدس میں براہ راست یہ گستاخی کی، مگر رسول اللہ ﷺ نے پھر بھی صبر و ضبط کا مظاہرہ کیا اور فوراً ہی اسکے قتل کے در پے نہیں ہو گئے اور اگرچہ کہ دو مسلمان گروہوں میں ابتدائی طور پر جھگڑا ہوا، مگر رسول اللہ ﷺ کی اس صبر و تحمل کی وجہ سے یہ جھگڑا ختم ہو گیا۔
چھٹا: قرآن کی گواہی کہ یہودی رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے تھے

سورہ نساء (٤)کی آیت ٤٦ میں اللہ تعالیٰ نے مدینہ کے یہود کی اس گستاخانہ روش کا ذکر کیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے وقت 'راعنا' (ہماری رعایت فرمایے) کے لفظ کو اس طرح بگاڑ کر ادا کرتے کہ وہ سب وشتم کا ایک کلمہ بن جاتا [رَاعِنَا کے معنی ہیں، ہمارا لحاظ اور خیال کیجئے۔ بات سمجھ میں نہ آئے تو سامع اس لفظ کا استعمال کر کے متکلم کو اپنی طرف متوجہ کرتا تھا، لیکن یہودی اپنے بغض و عناد کی وجہ سے اس لفظ کو تھوڑا سا بگاڑ کر استعمال کرتے تھے جس سے اس کے معنی میں تبدیلی اور ان کے جذبہ عناد کی تسلی ہو جاتی، مثلا وہ کہتے رَعِینَا (اَحمْق) وغیرہ ۔ اسی طرح وہ السلامُ علیکم کی بجائے السامُ علیکم (تم پر موت آئے) کہا کرتے تھے۔]۔ اسی طرح وہ آپ کو مخاطب کرکے 'اِسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ' (سنو، تمھیں سنائی نہ دے) کے بددعائیہ کلمات بھی کہتے۔ قرآن مجید نے یہاں ان کی اس روش پر کوئی قانونی سزا تجویز نہیں کی اور عہد رسالت، عہد صحابہ اور اسلامی تاریخ میں بھی اس نوعیت کے واقعات پر صرف نظر اور تحمل و برداشت کا حکیمانہ رویہ اختیار کرنے کا ثبوت ملتا ہے۔


یہ پہلا مدلل اعتراض ہے.....................اس پر گفتگو کے بعد ان شاء اللہ بندہ دوسرا اعتراض پیش کرے گا...............


والسلام

 
عبداللہ آدم's Avatar
عبداللہ آدم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1012
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (17-01-11), مرزا عامر (15-02-11)
پرانا 17-01-11, 11:57 AM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,577
کمائي: 315,297
شکریہ: 25,210
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
اعتراضات واقعی متقاضی ہیں کہ کوئی صاحب علم علمی اور مدلل انداز سے جوابات پیش کرے
لیکن تا حال خاموشی چھائی ہوئی ہے
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 13-02-11, 01:00 AM   #3
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ادھر بھی توجہ ہو جائے میرے خیال میں اب جذباتیت کی وہ فضا جس میں کافی لوگوں کی نظر میں مجھ جیسے کئی لوگ گم تھے..............وہ ختم ہو چکی؟؟ہے تو اب سنجیدہ بات میرے خیال میں ہونی چاہیے.
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 13-02-11, 10:28 AM   #4
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jul 2008
مراسلات: 27
کمائي: 666
شکریہ: 3
23 مراسلہ میں 83 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
عبداللہ آدم بھائی کی خواہش تھی کہ میں براہ راست اس ڈسکشن میں حصہ لوں کیونکہ میں ہی صاحبِ آرٹیکل ہوں (بمع دو مزید بھائیوں کے جن کی مدد سے یہ آرٹیکل مکمل ہوا)۔

آرٹیکل کے متعلق:
1۔ عبداللہ آدم بھائی نے آرٹیکل کا پہلا حصہ پیش فرمایا ہے۔ اس پہلے حصے میں دلائل پیش کیے گئے ہیں کہ رسول اللہ (ص) نے توہینِ رسالت پر فوراً قتل نہیں کیا۔
2۔ جبکہ آرٹیکل کے دوسرے حصے میں اُن حضرات کے دلائل کا تجزیہ کیا گیا ہے جو کہ اس بات کے قائل ہیں کہ توہین رسالت کی ہلکی سی بھی غلطی ہونے پر فوراً قتل کرنا واجب ہو جاتا ہے اور معافی و درگذر اور اچھی نصیحت کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔

مکمل آرٹیکل آپ اس لنک پر پڑھ سکتے ہیں۔
مہوش علی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مہوش علی کا شکریہ ادا کیا
ابن جمال (13-02-11), عبداللہ آدم (13-02-11)
پرانا 13-02-11, 10:53 AM   #5
Member
اجنبی
 
عمر فاروقی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مقام: ڈیرہ غازی خان
مراسلات: 92
کمائي: 1,307
شکریہ: 13
49 مراسلہ میں 105 بارشکریہ ادا کیا گیا
عمر فاروقی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس لنک پر آئیں اور محدث کے شمارہ فروری میں اس کے بارہ میں مضامین ہیں اور آپ کو اس کا جواب مل جائے گا۔
WELCOME TO MONTHLEY MOHADDIS
عمر فاروقی آف لائن ہے   Reply With Quote
عمر فاروقی کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 13-02-11, 11:26 AM   #6
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jul 2008
مراسلات: 27
کمائي: 666
شکریہ: 3
23 مراسلہ میں 83 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عمر فاروقی مراسلہ دیکھیں
اس لنک پر آئیں اور محدث کے شمارہ فروری میں اس کے بارہ میں مضامین ہیں اور آپ کو اس کا جواب مل جائے گا۔
WELCOME TO MONTHLEY MOHADDIS
شکریہ۔
مگر آپ کے لنک پر فروی کا کوئی شمارہ موجود نہیں ہے۔ کیا آپ براہ راست مضمون کا لنک فراہم کر سکتے ہیں؟
مہوش علی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 13-02-11, 01:57 PM   #7
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم::

جناب عمر بھائی جان! محدث کا شمارہ میری نظر سے گزر چکا ہے آپ کے لنک سے پہلے.......اس میں اس پہلے اعتراض کا جواب کہیں نہیں ہے،

اور محترمہ مہوش کو میں خوش آمدید کہتا ہوں.......اعتراضات کی یہ لڑی دراصل انہی کے ذوق علمی کا نتیجہ ہے اور صحت مند بادلائل بحث کا میں خود بھی متمنی ہوں کیوں کہ فی الحال تک ان کے دلائل میں کافی وزن نظر آتا ہے.!!!

بالخصوص چچا جان اور عبد اللہ حیدر بھائی سے التماس ہے کہ.........

والسلام
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 13-02-11, 11:38 PM   #8
Senior Member
مقبول
 
ابن جمال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 165
کمائي: 5,060
شکریہ: 266
149 مراسلہ میں 489 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

خوشی ہوئی یہ دیکھ کر کچھ لوگ توہین رسالت کے موضوع پر جذباتیت اور خاص طورپراس اندھی جذباتیت جودور حاضر میں مسلمانوں کا خاصہ اورپہچان بن چکی ہے اس سے ہٹ کر کسی موضوع پر سنجیدگی سے بحث کرناچاہتے ہیں۔
توہین رسالت کے بارے کئی نقطہ نظر ہیں میں نے ایک مرتبہ کوشش کی تھی کہ اس مسئلہ پر فقہاء کرام کا نقطہ نظرکیاہے اس تعلق سے کچھ لکھوں لیکن پھرفرصت نہیں ملی۔
بہرحال اگراس موضوع پر بحث کرنااوربات سمجھنابھی ہے تو میرے خیال سے پہلے ترتیب بنالیں۔
اولایہ بات کہ توہین رسالت کا صدوراگرمسلمان سے ہواتواس کی کیاسزاہوگی۔
ثانیا کیااس کی توبہ قبول ہوگی یانہیں۔
ثالثاکیاتوہین رسالت کفر ہے یاحد ہے جس کی سزا قتل ہے۔
رابعآاگرذمی سے صادر ہوتواس کیاسزاہوگی۔
خامسا اس کی معذرت قبول ہوگی یانہیں۔
اگران سبھی موضوعات پر ترتیب وار بحث کریں گے اوراپنے نقطہ نظرکوٹھونسنے کی کوشش نہ کریں بلکہ دلائل بیان کرناکافی سمجھیں توپھر ایک مثبت اورکارآمد بحث ہوسکتی ہے۔والسلام
ابن جمال آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ابن جمال کا شکریہ ادا کیا
کنعان (14-02-11), بلال الراعی (14-02-11), عبداللہ آدم (13-02-11)
پرانا 14-02-11, 12:50 AM   #9
Senior Member
مقبول
 
ابن جمال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 165
کمائي: 5,060
شکریہ: 266
149 مراسلہ میں 489 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ مضمون میں ایک دوسرے فورم پر بھی لکھ چکاہوں لیکن نامکمل،کوشش کروں گاکہ یہاں‌یہ مضمون مکمل ہوجائے ۔خداہی کی مدد سے یہ کام پوراہوگا۔اللہ حامی وناصرہو۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنا اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ دل سے ایمان رخصت ہوچکاہے ورنہ وہ محترم ہستی جس کی محبت عین ایمان ہے اس پر کوئی زبان وقلم سے کس طرح کیچڑ اچھال سکتاہے وہ پاک ہستی جس کا نام لینے کیلئے زبان ودہن کو ہزار بار مشک وگلاب سے دھوناناکافی اوراس کے باوجود نام لینابے ادبی ہو۔ایمان کے ہوتے ہوئے اس کی شان میں گستاخی کرنے کی کوئی سوچ بھی کیسے سکتاہے۔
ہزار بار بشویم دہن زمشک وگلاب
ہنوز نام توگفتن کمال بے ادبی است


وہ ذات عالی جس کی بارگاہ میں جاروب کشی کی تمنا جنیدوشبلی اوردیگر بزرگان امت ہو اس کی شان والاتبار پر کوئی دھبہ کیسے لگاسکتاہے
ادب گاہیست زیرآسمان ازعرش نازک تر
نفس گم کردہ میں آید جنیدوبایزید این جا


وہ سرکارذی وقار جن کے قدموں تک رسائی مومن کی معراج ہو۔اس کی شان میں گستاخی بھلاکوئی سوچ کیسے سکتاہے اوراس کے بعد ایمان کابھی دعویٰ ہو۔این خیال است ومحال است وجنوں
تیری معراج کہ تولوح وقلم تک پہنچا
میری معراج کہ میں تیرے قدم تک پہنچا


یہ دل کے جذبات تھے جو بے ساختہ نکل پڑے۔اب یہ ایک ٹرینڈ بن چکاہے عمومی طورپر کہ تمام مسلمات کا علم وتحقیق کے نام پر انکار کرتے جائیے اوراسکانام روشن خیالی اورعلم وتحقیق کی معراج قراردیجئے۔کیاامت نے زناکی سزا رجم میں کوئی شک کیاتھالیکن دور جدید کے مدعیان ہمیں یہ بتلارہے ہیں کہ زنا کی سزارجم قراردینا ایک غلطی تھی اورامت کئی صدیوں سے اسی غلطی میں گرفتار تھی۔
اسی طرح حالیہ مسئلہ شان رسالت گستاخی کرنے والے کے تعلق سے ہے۔اس پر کچھ صاحبان ردوقدح کا دعویٰ ہے کہ شتم رسول کی سزاموت جہالت کی بات ہے اورجن لوگوں نے ایساکہاہے انہوں نے غلطی کی ہے۔
ہمیں آ جکل کے مدعیان تحقیق سے ایک بڑی شکایت یہ ہے کہ وہ پہلے ایک رائے قائم کرلیتے ہیں اوراس کے بعد دلائل کی تلاش میں نکل کھرے ہوتے ہین اورجہاں جہاں سے ان کو دلیل یادلیل کے مشابہ کوئی چیز ملتی جائے اس کو سلیقہ اورترتیب اورانشاپردازی کے حسن کے ساتھ عوام کو پیش کردیتے ہین کہ دیکھوفلاں مسئلہ کے بارے میں اسلام کیاکہتاہے اورعوام کالانعام اسی کو سچ سمجھ بیٹھتے ہیں۔
دوسری شکایت ہمیں مدعیان تحقیق سے یہ ہے کہ وہ کہیں بڑے محقق نظرآئیں گے اورکہیں بڑے مقلد ۔جہاں تقلید ان کے مطلب کی ہوگی وہاں وہ تقلید کریں گے اورجہاں تقلید ان کے مطلب کی نہ ہوگی وہاں وہ تحقیق کے علمبردار بن جائیں گے ۔ایسی مثالیں ڈھونڈنے سے بہت مل جاتی ہیں۔
اس بحث کو میں کئی حصوں میں تقسیم کردیتاہوں۔
1شان رسالت میں توہین کرنے والامسلمان ہے توکیاحکم ہوگا۔2اس کی توبہ قبول ہوگی یانہیں۔اگرتوہین کا مرتکب ذمی یامعاہد ہے تواس کاکیاحکم ہوگا ۔4فقہائے احناف کے نزدیک ذمی اگررسول اللہ کی شان میں گستاخی کرے تواس کاکیاحکم ہوگا۔
اگرمسلمان ہے تو

اس بات میں علماء کے درمیان کسی قسم کااختلاف نہیں ہے کہ اگر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والامسلمان ہواوروہ توبہ کرکے دوبارہ اسلام کے سایہ عاطفت میں نہ آئے تواسے قتل کردیاجائے۔چنانچہ قاضی عیاض مالکی لکھتے ہیں۔
اجمعت الامة علیٰ قتل منتقصہ من المسلمین وسابہ(الشفاء بتعریف حقوق المصطفی2/211)
رسول اللہ کی شان میں تنقیص کرنے والے ااوربرابھلاکہنے والے کے قتل پر امت کااجماع ہے۔
ابوبکر ابن المنذر علمائے شافعیہ میںبرے مرتبہ کے حامل ہیں ان کے بارے میں کہاجاتاہے کہ انہیں درجہ اجہتاد حاصل ہے۔وہ اپنی کتاب ''الاشراف علی مذاہب اہل العلم ''(3/16)میں لکھتے ہیں۔
اجمع عوام اہل العلم علی ان علی من سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم القتل وممن قال ذلک مالک بن انس،واللیث،واحمدواسحاق وھومذہب الشافعی
عمومی طورپر اہل علم کااس امرپر اتفاق ہے کہ جورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برابھلاکہے اسے قتل کردیاجائے اوراس کے قائل مالک بن انس ،امام لیث بن سعد اورامام احمد،اسحاق ہیں اوریہ امام شافعی کابھی مذہب ہے۔
یہاں پر ائمہ اربعہ میں سے امام مالک ،امام شافعی اورامام احمد بن حنبل کاذکر ہوگیا۔ صرف امام ابوحنیفہ کاذکر باقی رہ گیاتھا۔لیجئے وہ بھی پوراہواچاہتاہے۔
قاضی عیاض کہتے ہیں۔
وبمثلہ قال ابوحنیفہ واصحابہ والثوری واہل الکوفہ والاوزاعی فی المسلم (الشفائ2/215)
اوراسی کے مثل ابوحنیفہ(الامام)اورانکے شاگردوں اورثوری اوراوزاعی اوراہل کوفہ نے مسلم کے بارے میں کہاہے۔(کہنامقصود یہ ہے کہ اگرگستاخی کرنے والامسلمان ہے تواس صورت میں امام ابوحنیفہ اوران کے شاگردوں کی بھی رائے یہی ہے کہ اس کو قتل کردیاجائے۔(ہان ذمی کی صورت میں ان کااختلاف ہے اس پر باتیں آگے چل کرہوں گی۔
واضح رہے کہ قاضی عیاض مالکی ہیں۔ان کی بات ذکر ہوچکی۔ابن منذر کا شمار شوافع میں ہوتاہے ان کا قول بھی نقل کردیاگیاہے۔اب مالکیہ کے ہی ایک اوربڑے عالم امام سحنون کے الفاظ دیکھئے وہ کیاکہتے ہیں
زیر بحث مسئلہ کے بارے میں۔
''اجمع العلماء ان شاتم النبی علیہ السلام ،المتنقص لہ کافروالوعید جار علیہ بعذاب اللہ وحکمہ عندالامة القتل،ومن شک فی کفرہ وعذابہ کفر۔(الشفاء 2/215)
علماء کا اجماع ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ کی شان میں گستاخی کرنے والا یاتنقیص کرنے والا کافر ہے اوراس پر اللہ کے عذاب کی وعید جاری ہوگی اورامت کے نزدیک اس کا حکم قتل کردیئے جانے کاہے اورایسوں کے کفر میں شک کرنابھی کفر والاکام ہے۔
ایک اورشافعی بڑے عالم امام خطابی بھی اس موضوع پر امت کااجماع ذکرکرتے ہوئے کہتے ہیں۔
لااعلم احدا من المسلمین اختلف فی وجوب قتلہ (معالم السنن 6/199)
میں مسلمانوں میں سے کسی کونہیں جانتاہوں جس نے اس کے(شاتم رسول)کے قتل مین اختلاف کیاہو)یہاں پر علامہ تاج الدین سبکی وضاحت کی خاطر لکھتے ہیں۔یہ امت کااجماع اس وقت ہے جب اذاکان مسلمایعنی جب کہ توہین رسالت کا مرتکب اورشاتم رسول مسلمان ہو اورتوبہ کرکے دوبارہ اسلام کے سایہ عاطفت میں نہ آناچاہتاہو۔
مناسب ہوگاکہ اس موقع پر میں ایک بڑیمحدث اورفقیہہ مام اسحق بن راہویہ کی بھی تحریر پیش کردوں۔وہ کہتے ہیں۔
اجمع المسلمون ان من سب اللہ اورسب رسولہ صلی اللہ علیہ وسلم اودفع شیئا مماانزل اللہ اوقتل نبیا من انبیاء اللہ عزوجل انہ کافر بذلک وان کان مقرا بکل ماانزل اللہ (التمہھید لمافی الموطامن المعانی والاسانید لابن عبدالبر4/226)
مسلمانوں کا اجماع ہے کہ جوکوئی اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوبرابھلاکہے یااللہ کی نازل کردہ چیزوں میں سے کسی بے زاری کااظہار کرے یااللہ کے نبیوں میں کسی نبی کوقتل کرے تواس سے وہ کافر ہوجاتاہے اگرچہ اس کے بعد وہ تمام چیزوں کا اقرارکرتاہو۔

Last edited by ابن جمال; 14-02-11 at 12:53 AM.
ابن جمال آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ابن جمال کا شکریہ ادا کیا
کنعان (14-02-11), آبی ٹوکول (14-02-11), عبداللہ آدم (14-02-11)
پرانا 14-02-11, 03:35 AM   #10
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,725
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مہوش علی مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم

آرٹیکل کے متعلق:
1۔ آرٹیکل کا پہلا حصہ۔ اس پہلے حصے میں دلائل پیش کیے گئے ہیں کہ رسول اللہ (ص) نے توہینِ رسالت پر فوراً قتل نہیں کیا۔

2۔ جبکہ آرٹیکل کے دوسرے حصے میں اُن حضرات کے دلائل کا تجزیہ کیا گیا ہے جو کہ اس بات کے قائل ہیں کہ توہین رسالت کی ہلکی سی بھی غلطی ہونے پر فوراً قتل کرنا واجب ہو جاتا ہے اور معافی و درگذر اور اچھی نصیحت کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔

مکمل آرٹیکل آپ اس لنک پر پڑھ سکتے ہیں۔

السلام علیکم!

محترمہ آپ نے آرٹیکل بہت اچھا اور خوبصورتی سے تیار کر کے پیش کیا ھے مگر آپ نے کہیں علماء کرام پر کوتاہی برتتے ہوئے بڑی بےدردی سے اپنی قلم چلا دی۔ پاکستان میں جنرل ضیاء کے دور میں توہین کی سزا موت امینڈمنٹ کی گئی تو وہ آپ اور میرے جیسوں کے کہنے سے تو قانون کا حصہ نہیں بنی ہو گی سرٹیفائیڈ اور ایکسپیرینس علماء کرام کی مشاورت سے ہی ایسا ہوا ہو گا ضعیف حدیث مبارکہ سے تو یہ ناممکن ھے کیونکہ دوسرے مسالک والے بھی اسی میں شامل ہیں اور اگر ضعیف حدیث مبارکہ سے قانون میں امینڈمنٹ کی گئی ہوتی بھی تو کسی کو تو اس پر اعتراض ہوتا اور اگر ایسا ھے تو آپ کو چاہئے کہ ان حدیث مبارکہ کی نشاندہی حکومت کو کروائیں کہ جس سے قانون بدلنے میں مدد ملے۔

اگر بات میرے دل کی لیں تو سزائے موت کوئی بھی ہو اس کیفیت سے میرا دل بھی بہت ہلتا ھے کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے، جان اللہ سبحان تعالی کی دی ہوئی ھے اس لئے ہمیں کوئی اختیار نہیں کہ کسی کی جان لی جائے، مگر میرے دل کو تو نہیں دیکھا جائے گا یہ میرے دل تک ہی محدود ھے، دیکھنا یہ ھے کہ گستاخ رسول پر قرآن مجید اور حدیث مبارکہ سے ہمیں کیا حکم ملتا ھے۔

محترمہ آپ نے جو پہلا حصہ پیش کیا ھے اس میں ایس کوئی بھی معاملہ نہیں جو توہین کے زمرے میں آتا ہو، وہ ڈائریکٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آئے ہوئے واقعات ہیں جس پر مدعی کو چھوڑنے/معاف کرنے کا پورا اختیار ہوتا ھے۔ اس پر دو مثالیں پیش کرتا ہوں یہ آپ کے مزاج کے مطابق بھی پوری اترے گی۔

" حضرت علی کرم اللہ وجہہ جنہوں نے دشمن کو زیر کیا اور اس کی چھاتی پر بیٹھ کر اپنی نیام سے تلوار نکالی تو دشمن نے ان کے منہ پر ؟؟؟ دیا جس پر حضرت علیؓ نے اس پر تلوار کا وار کرنے کا ارادہ ترک کر دیا اور اسے جان بچا کر بھاگ جانے دیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے ایک موذی دشمن کو زیر کرکے بھی کیوں چھوڑ دیا؟ تو حضرت علیؓ نے فرمایا کہ پہلے میری اسکے ساتھ کفر اور اسلام کی جنگ تھی مگر جب اس نے میرے منہ پر ؟؟؟ دیا تو اس کے بعد میں اس کی جان لیتا تو سمجھا جاتا کہ میں نے اس سے ذاتی انتقام لیا ہے۔"

ایک دنیاوی مثال بھی پیش کر دیتا ہوں، "باپ یا ماں کے ساتھ اگر کوئی اول درجہ کا بے عزت کرتا ھے تو وہ اسے معاف کر دیں گے وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی پر معاف کرنے کا پورا اختیار رکھتے ہیں مگر ساتھ اگر بیٹا کھڑا ہو گا تو وہ کبھی بھی معاف نہیں کرے گا، والدین کے سامنے اگر کچھ نہ کر سکا تو بعد میں ضرور ۔۔۔۔۔۔۔"

یہ آپ کے پہلے حصہ کا جواب ھے

دوسرے حصہ میں کچھ جگہوں پر آپ نے سائنٹیفکٹ طریقہ استعمال کیا ھے۔ ایسے نہیں ویسے، ایسا نہیں ہوا ویسا ہو گا وغیرہ وغیرہ اور پھر اپنی ہی بات منانی ہو تو کسی بھی حدیث کا ضعیف ہونا گوگل نٹ کے ذریعے تلاش کرن کوئی مشکل کام نہیں کہیں نہ کہیں سے میٹیریل مل ہی جاتا ھے درست طریقہ یہی ھے کہ سرٹیفائیڈ علماء سے اس پر تصدیق کروائی جائے۔

میرا اعتراض صرف اس پر ھے کہ اگر کوئی ایسی معاملہ میں پکڑا جاتا ھے تو اس کے ساتھ کسی کی زندگی اور موت جڑی ہوئی ھے اور ابتدائی شروعات میں سپرٹینڈنٹ پولیس کو انوالو ہونا چاہئے اور وہ سپرٹینڈنٹ جو تعلیم یافتہ ہو، وہ نہیں جو ایف۔اے پاس اور سفارشات کے ذریعے چوٹی عمر میں سپرٹنڈنٹ بنا دیا گیا ہو۔ تھانہ میں ایس۔ایچ۔او سے پرچہ کٹوا کر کسی کو بھی موت تک پہچانا مشکل کام نہیں میرا اعتراض صرف قانون پر ھے اور دوسرا جو اپنی مرضی سے کسی کا بیان سن کر کسی کو قتل کر دیتے ہیں، صفائی کا موقع ضرور ملنا چاہئے تاکہ کسی بےگناہ کی جان نہ ضائع ہو جائے۔

والسلام
__________________



Last edited by کنعان; 14-02-11 at 03:37 AM.
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (15-02-11), ابن جمال (14-02-11), عبداللہ آدم (14-02-11)
پرانا 14-02-11, 05:36 AM   #11
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jul 2008
مراسلات: 27
کمائي: 666
شکریہ: 3
23 مراسلہ میں 83 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم!

محترمہ آپ نے آرٹیکل بہت اچھا اور خوبصورتی سے تیار کر کے پیش کیا ھے مگر آپ نے کہیں علماء کرام پر کوتاہی برتتے ہوئے بڑی بےدردی سے اپنی قلم چلا دی۔ پاکستان میں جنرل ضیاء کے دور میں توہین کی سزا موت امینڈمنٹ کی گئی تو وہ آپ اور میرے جیسوں کے کہنے سے تو قانون کا حصہ نہیں بنی ہو گی سرٹیفائیڈ اور ایکسپیرینس علماء کرام کی مشاورت سے ہی ایسا ہوا ہو گا ضعیف حدیث مبارکہ سے تو یہ ناممکن ھے کیونکہ دوسرے مسالک والے بھی اسی میں شامل ہیں اور اگر ضعیف حدیث مبارکہ سے قانون میں امینڈمنٹ کی گئی ہوتی بھی تو کسی کو تو اس پر اعتراض ہوتا اور اگر ایسا ھے تو آپ کو چاہئے کہ ان حدیث مبارکہ کی نشاندہی حکومت کو کروائیں کہ جس سے قانون بدلنے میں مدد ملے۔
السلام علیکم

1۔ جس وقت یہ قوانین تشکیل دیے جا رہے تھے، اُس وقت میں موجود نہیں تھی۔

2۔ مجھے ان قوانین اور انکے پیچھے پیش کیے گئے دلائل اور روایات کے مطالعہ کا موقع آج کے دور میں ملا ہے۔

3۔ اس مطالعہ کے بعد نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ یہ روایات عیوب سے خالی نہیں ہیں اور ان پر اعتراضات کے کئی پہلو ہیں۔

4۔ اور یہ اعتراضات آج کے نہیں ہیں بلکہ مجھ سے پہلے ہی علماء کا ہی ایک گروہ ان میں سے بعض روایات پر اختلاف کرتا ہوا انہیں ضعیف اور حتیٰ کہ کچھ کو موضوع کہہ رہا ہے۔ پھر دیکھئے کیسے مجھ پر یہ الزام آ سکتا ہے کہ آج انٹرنیٹ پر بیٹھ کر کسی روایت کو ضعیف کر دینا میرے لیے (یا پھر کسی کے لیے) بھی ممکن ہے؟

5۔ خالی ضعیف ہونے کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ تضادات اور ڈبل سٹینڈرڈز کا بھی مسئلہ ہے، جیسا کہ عصماء بنت مروان کی روایت ہے کہ جسے توہینِ رسالت کے موضوع پر علماء کا ہی ایک گروہ جوش و خروش سے پیش کر رہا ہوتا ہے، جبکہ دوسری طرف علماء کا ہی ایک گروہ غیر مسلموں سے بحث کے دوران اسے ضعیف اور موضوع قرار دے رہا ہوتا ہے۔
مجھے نہیں علم کہ علماء حضرات کے اس دوہرے رویے کو بیان کرنے پر کس طرح الٹا میں ہی مورد الزام ٹہرائی جا سکتی ہوں؟ اگر یہ تضادات موجود ہیں تو انہیں بیان کرنا ہی ہو گا، وگرنہ یہ تضادات دور نہیں ہو سکتے۔

اقتباس:
محترمہ آپ نے جو پہلا حصہ پیش کیا ھے اس میں ایس کوئی بھی معاملہ نہیں جو توہین کے زمرے میں آتا ہو، وہ ڈائریکٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آئے ہوئے واقعات ہیں جس پر مدعی کو چھوڑنے/معاف کرنے کا پورا اختیار ہوتا ھے۔
آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ بات فقط "قیاس" ہے کہ رسول اللہ (ص) نے ذاتی طور پر ان کو معاف کیا ہے۔ آپ اس قیاس پر کوئی ٹھوس ثبوت پیش کر سکتے ہیں تو براہ مہربانی پیش فرمائیے۔

اس قیاس کے مقابلے میں ٹھوس شواہد یہی بات پیش کر رہے ہیں کہ یہ قیاس ہرگز درست نہیں ہے۔

1۔ اللہ نے سورۃ آل عمران ، آیت 186 میں صرف رسول ﷺ کو ہی نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کو صبر وتحمل کرنے کا حکم دیا ہے۔

2۔ اور جب حضرت ابوہریرہ کی والدہ نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی تو حضرت ابو ہریرہ اس پر شدید رنجیدہ ہوئے، مگر آپ نے انکی اس گستاخی پر عفو و درگذر سے کام لیا، نہ کہ فوراً انکو قتل کر ڈالا۔
چنانچہ اگر اس قیاس کے تحت چلا جائے تب بھی معاف کرنے کا اختیار صرف رسول اللہ (ص) کے پاس تھا، حضرت ابو ہریرہ کے پاس نہیں۔ چنانچہ انہیں تو فی الفور اپنی والدہ کو توہینِ رسالت کرنے پر قتل کر دینا چاہیے تھا؟

3۔ بلکہ موجودہ آرڈیننس کے حامی حضرات کی اپنی پیش کردہ نابینا صحابی اور یہودیہ عورت والی روایات کو بھی مان لیا جائے تب بھی ان سب سے یہ ہی ثابت ہوتا ہے کہ پہلا قدم عفو و درگذر اور صبر و تحمل اور نیک نصیحت کا ہے، اور یہ عفو و درگذر فقط رسول ﷺ تک محدود نہیں بلکہ وہ نابینا صحابی پہلے قدم میں عفو و درگذر کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

چنانچہ جتنے شواہد موجود ہیں (چاہے ہماری طرف سے پیش کردہ ہوں یا پھر موجودہ آرڈیننس کے حامیان کی طرف سے) ان سب سے صرف اور صرف ایک بات ثابت ہے کہ یہ قیاس صحیح نہیں ہے۔ اگر اسکے بعد بھی آپکے پاس کوئی دلیل موجود ہے تو پیش فرمائیے۔

اقتباس:
دوسرے حصہ میں کچھ جگہوں پر آپ نے سائنٹیفکٹ طریقہ استعمال کیا ھے۔ ایسے نہیں ویسے، ایسا نہیں ہوا ویسا ہو گا وغیرہ وغیرہ اور پھر اپنی ہی بات منانی ہو تو کسی بھی حدیث کا ضعیف ہونا گوگل نٹ کے ذریعے تلاش کرن کوئی مشکل کام نہیں کہیں نہ کہیں سے میٹیریل مل ہی جاتا ھے درست طریقہ یہی ھے کہ سرٹیفائیڈ علماء سے اس پر تصدیق کروائی جائے۔
جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکی ہوں کہ انٹرنیٹ پر بیٹھنے سے کوئی روایت ضعیف نہیں ہو جاتی ہے۔ عصماء بنتِ مروان کا واقعہ ہو یا پھرانس بن زنیم کا، یا پھر بوڑھے یہودی ابن عفک کا ۔۔۔ یہ سب واقعات شروع دن سے ہی ضعیف تھے اور احکام شریعت تشکیل دیتے ہوئے ایسے واقعات کو بغیر تنقید کے مستقل نقل کر کے معصوم لوگوں کے ذہنوں میں بٹھاتے رہنا میرا قصور نہیں بلکہ حقیقتاً علماء حضرات کا قصور ہے۔
آپ بتلائیے کہ میرے پاس اسکے علاوہ اور کیا چوائس ہے کہ ان روایات کا ضعف چھپانے کی بجائے انہیں بیان کروں تاکہ ہر چیز کے ساتھ "انصاف" ہو سکے؟ کیا آپ کے نزدیک انکا ضعف چھپا جانا واقعی "انصاف" کی بات تھی؟

اسی طرح نابینا صحابی کی کنیز کے قتل کا واقعہ ہو یا پھر شعبی کی علی ابن ابی طالب سے مراسیل کا مسئلہ ہو، تو یہ بھی سرٹیفائیڈ علماء ہی ہیں جو ان پر اعتراض کر رہے ہیں اور انہیں ضعیف بتلا رہے ہیں۔

چنانچہ اول تو تقریبا تمام ہی چیزیں سرٹیفائیڈ علماء ہی کے حوالے سے پیش ہوئی ہیں، اور دوم یہ کہ اس وقت آپ اور میں اور ہم لوگ عدالت میں موجود ہیں اور ایک مسئلے پر بحث کرتے ہوئے تمام تر زاویوں پر "دلائل" لا رہے ہیں۔ ایسے میں "درست طریقہ" جو ہے وہ سرٹیفائیڈ علماء نہیں رہ جاتے، بلکہ "درست طریقہ" ہوتا ہے قرآنی حکم کہ "دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو"۔

اگر آپ کے پاس سرٹیفائیڈ علماء کے دلائل موجود ہیں کہ عصماء بنتِ مروان اور ابن عفک یہودی اور انس بن زنیم جیسے واقعات "صحیح" ہیں تو براہ مہربانی یہ دلائل پیش فرمائیے۔

نیز یہ کہ نابینا صحابی والی روایت ہو یا پھر یہودی عورت والی، ان سب کو اگر صحیح مان بھی لیا جائے تب بھی ہرگز "موجودہ" توہینِ رسالت قانون ثابت نہیں ہوتا ہے۔ اس پر احناف کے فقیہہ ابن عابدین کا فتوی پیش ہو چکا ہے کہ صرف عادی اور معمول بنا کر شب و ستم کرنے والے کو سزا دی جائے گی ورنہ پہلا قدم عفو و درگذر اور نیک نصیحت کا ہی ہے۔ چنانچہ یہ روایات بذات خود موجودہ توہینِ رسالت آرڈیننس کے خلاف جا رہی ہیں۔

میری درخواست ہو گی کہ مسائل کو ٹوٹے کر کے ایک آدھی چیز پر بحث نہ کی جائے، بلکہ ایک ایک مسئلے پر پیش کردہ "مکمل"دلائل کو سامنے رکھتے ہوئے مکمل بحث کی جائے تاکہ کوئی پہلو تشنہ نہ رہ جائے۔

اقتباس:
میرا اعتراض صرف اس پر ھے کہ اگر کوئی ایسی معاملہ میں پکڑا جاتا ھے تو اس کے ساتھ کسی کی زندگی اور موت جڑی ہوئی ھے اور ابتدائی شروعات میں سپرٹینڈنٹ پولیس کو انوالو ہونا چاہئے اور وہ سپرٹینڈنٹ جو تعلیم یافتہ ہو، وہ نہیں جو ایف۔اے پاس اور سفارشات کے ذریعے چوٹی عمر میں سپرٹنڈنٹ بنا دیا گیا ہو۔ تھانہ میں ایس۔ایچ۔او سے پرچہ کٹوا کر کسی کو بھی موت تک پہچانا مشکل کام نہیں میرا اعتراض صرف قانون پر ھے اور دوسرا جو اپنی مرضی سے کسی کا بیان سن کر کسی کو قتل کر دیتے ہیں، صفائی کا موقع ضرور ملنا چاہئے تاکہ کسی بےگناہ کی جان نہ ضائع ہو جائے۔

والسلام
یہ آپ نے بہت احسن بات کی ہے۔
اسکے ساتھ ساتھ تھانیدار جو بھی ہو، علماء حضرات اور مذہبی تنظیموں پر بھی ایک چیز واجب ہوتی ہے کہ وہ ایسے معاملات پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور جلتی پر تیلی کا کام نہ کریں اور نہ ہی تھانوں کا محاصرہ کر کے تھانیداروں سے زور زبردستی کے ساتھ غلط پرچے کٹوائیں (جیسا کہ محمد نامی ڈاکٹر کے ساتھ حال ہی میں واقعہ پیش آیا ہے)۔

والسلام

Last edited by مہوش علی; 14-02-11 at 10:08 AM.
مہوش علی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مہوش علی کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (15-02-11), عبداللہ آدم (14-02-11)
پرانا 14-02-11, 06:21 AM   #12
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jul 2008
مراسلات: 27
کمائي: 666
شکریہ: 3
23 مراسلہ میں 83 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ابن جمال مراسلہ دیکھیں
یہ مضمون میں ایک دوسرے فورم پر بھی لکھ چکاہوں لیکن نامکمل،کوشش کروں گاکہ یہاں‌یہ مضمون مکمل ہوجائے ۔خداہی کی مدد سے یہ کام پوراہوگا۔اللہ حامی وناصرہو۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنا اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ دل سے ایمان رخصت ہوچکاہے ورنہ وہ محترم ہستی جس کی محبت عین ایمان ہے اس پر کوئی زبان وقلم سے کس طرح کیچڑ اچھال سکتاہے وہ پاک ہستی جس کا نام لینے کیلئے زبان ودہن کو ہزار بار مشک وگلاب سے دھوناناکافی اوراس کے باوجود نام لینابے ادبی ہو۔ایمان کے ہوتے ہوئے اس کی شان میں گستاخی کرنے کی کوئی سوچ بھی کیسے سکتاہے۔
ہزار بار بشویم دہن زمشک وگلاب
ہنوز نام توگفتن کمال بے ادبی است


وہ ذات عالی جس کی بارگاہ میں جاروب کشی کی تمنا جنیدوشبلی اوردیگر بزرگان امت ہو اس کی شان والاتبار پر کوئی دھبہ کیسے لگاسکتاہے
ادب گاہیست زیرآسمان ازعرش نازک تر
نفس گم کردہ میں آید جنیدوبایزید این جا


وہ سرکارذی وقار جن کے قدموں تک رسائی مومن کی معراج ہو۔اس کی شان میں گستاخی بھلاکوئی سوچ کیسے سکتاہے اوراس کے بعد ایمان کابھی دعویٰ ہو۔این خیال است ومحال است وجنوں
تیری معراج کہ تولوح وقلم تک پہنچا
میری معراج کہ میں تیرے قدم تک پہنچا


یہ دل کے جذبات تھے جو بے ساختہ نکل پڑے۔اب یہ ایک ٹرینڈ بن چکاہے عمومی طورپر کہ تمام مسلمات کا علم وتحقیق کے نام پر انکار کرتے جائیے اوراسکانام روشن خیالی اورعلم وتحقیق کی معراج قراردیجئے۔کیاامت نے زناکی سزا رجم میں کوئی شک کیاتھالیکن دور جدید کے مدعیان ہمیں یہ بتلارہے ہیں کہ زنا کی سزارجم قراردینا ایک غلطی تھی اورامت کئی صدیوں سے اسی غلطی میں گرفتار تھی۔
اسی طرح حالیہ مسئلہ شان رسالت گستاخی کرنے والے کے تعلق سے ہے۔اس پر کچھ صاحبان ردوقدح کا دعویٰ ہے کہ شتم رسول کی سزاموت جہالت کی بات ہے اورجن لوگوں نے ایساکہاہے انہوں نے غلطی کی ہے۔
ہمیں آ جکل کے مدعیان تحقیق سے ایک بڑی شکایت یہ ہے کہ وہ پہلے ایک رائے قائم کرلیتے ہیں اوراس کے بعد دلائل کی تلاش میں نکل کھرے ہوتے ہین اورجہاں جہاں سے ان کو دلیل یادلیل کے مشابہ کوئی چیز ملتی جائے اس کو سلیقہ اورترتیب اورانشاپردازی کے حسن کے ساتھ عوام کو پیش کردیتے ہین کہ دیکھوفلاں مسئلہ کے بارے میں اسلام کیاکہتاہے اورعوام کالانعام اسی کو سچ سمجھ بیٹھتے ہیں۔
دوسری شکایت ہمیں مدعیان تحقیق سے یہ ہے کہ وہ کہیں بڑے محقق نظرآئیں گے اورکہیں بڑے مقلد ۔جہاں تقلید ان کے مطلب کی ہوگی وہاں وہ تقلید کریں گے اورجہاں تقلید ان کے مطلب کی نہ ہوگی وہاں وہ تحقیق کے علمبردار بن جائیں گے ۔ایسی مثالیں ڈھونڈنے سے بہت مل جاتی ہیں۔
اس بحث کو میں کئی حصوں میں تقسیم کردیتاہوں۔
1شان رسالت میں توہین کرنے والامسلمان ہے توکیاحکم ہوگا۔2اس کی توبہ قبول ہوگی یانہیں۔اگرتوہین کا مرتکب ذمی یامعاہد ہے تواس کاکیاحکم ہوگا ۔4فقہائے احناف کے نزدیک ذمی اگررسول اللہ کی شان میں گستاخی کرے تواس کاکیاحکم ہوگا۔
اگرمسلمان ہے تو

اس بات میں علماء کے درمیان کسی قسم کااختلاف نہیں ہے کہ اگر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والامسلمان ہواوروہ توبہ کرکے دوبارہ اسلام کے سایہ عاطفت میں نہ آئے تواسے قتل کردیاجائے۔چنانچہ قاضی عیاض مالکی لکھتے ہیں۔
اجمعت الامة علیٰ قتل منتقصہ من المسلمین وسابہ(الشفاء بتعریف حقوق المصطفی2/211)
رسول اللہ کی شان میں تنقیص کرنے والے ااوربرابھلاکہنے والے کے قتل پر امت کااجماع ہے۔
ابوبکر ابن المنذر علمائے شافعیہ میںبرے مرتبہ کے حامل ہیں ان کے بارے میں کہاجاتاہے کہ انہیں درجہ اجہتاد حاصل ہے۔وہ اپنی کتاب ''الاشراف علی مذاہب اہل العلم ''(3/16)میں لکھتے ہیں۔
اجمع عوام اہل العلم علی ان علی من سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم القتل وممن قال ذلک مالک بن انس،واللیث،واحمدواسحاق وھومذہب الشافعی
عمومی طورپر اہل علم کااس امرپر اتفاق ہے کہ جورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برابھلاکہے اسے قتل کردیاجائے اوراس کے قائل مالک بن انس ،امام لیث بن سعد اورامام احمد،اسحاق ہیں اوریہ امام شافعی کابھی مذہب ہے۔
یہاں پر ائمہ اربعہ میں سے امام مالک ،امام شافعی اورامام احمد بن حنبل کاذکر ہوگیا۔ صرف امام ابوحنیفہ کاذکر باقی رہ گیاتھا۔لیجئے وہ بھی پوراہواچاہتاہے۔
قاضی عیاض کہتے ہیں۔
وبمثلہ قال ابوحنیفہ واصحابہ والثوری واہل الکوفہ والاوزاعی فی المسلم (الشفائ2/215)
اوراسی کے مثل ابوحنیفہ(الامام)اورانکے شاگردوں اورثوری اوراوزاعی اوراہل کوفہ نے مسلم کے بارے میں کہاہے۔(کہنامقصود یہ ہے کہ اگرگستاخی کرنے والامسلمان ہے تواس صورت میں امام ابوحنیفہ اوران کے شاگردوں کی بھی رائے یہی ہے کہ اس کو قتل کردیاجائے۔(ہان ذمی کی صورت میں ان کااختلاف ہے اس پر باتیں آگے چل کرہوں گی۔
واضح رہے کہ قاضی عیاض مالکی ہیں۔ان کی بات ذکر ہوچکی۔ابن منذر کا شمار شوافع میں ہوتاہے ان کا قول بھی نقل کردیاگیاہے۔اب مالکیہ کے ہی ایک اوربڑے عالم امام سحنون کے الفاظ دیکھئے وہ کیاکہتے ہیں
زیر بحث مسئلہ کے بارے میں۔
''اجمع العلماء ان شاتم النبی علیہ السلام ،المتنقص لہ کافروالوعید جار علیہ بعذاب اللہ وحکمہ عندالامة القتل،ومن شک فی کفرہ وعذابہ کفر۔(الشفاء 2/215)
علماء کا اجماع ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ کی شان میں گستاخی کرنے والا یاتنقیص کرنے والا کافر ہے اوراس پر اللہ کے عذاب کی وعید جاری ہوگی اورامت کے نزدیک اس کا حکم قتل کردیئے جانے کاہے اورایسوں کے کفر میں شک کرنابھی کفر والاکام ہے۔
ایک اورشافعی بڑے عالم امام خطابی بھی اس موضوع پر امت کااجماع ذکرکرتے ہوئے کہتے ہیں۔
لااعلم احدا من المسلمین اختلف فی وجوب قتلہ (معالم السنن 6/199)
میں مسلمانوں میں سے کسی کونہیں جانتاہوں جس نے اس کے(شاتم رسول)کے قتل مین اختلاف کیاہو)یہاں پر علامہ تاج الدین سبکی وضاحت کی خاطر لکھتے ہیں۔یہ امت کااجماع اس وقت ہے جب اذاکان مسلمایعنی جب کہ توہین رسالت کا مرتکب اورشاتم رسول مسلمان ہو اورتوبہ کرکے دوبارہ اسلام کے سایہ عاطفت میں نہ آناچاہتاہو۔
مناسب ہوگاکہ اس موقع پر میں ایک بڑیمحدث اورفقیہہ مام اسحق بن راہویہ کی بھی تحریر پیش کردوں۔وہ کہتے ہیں۔
اجمع المسلمون ان من سب اللہ اورسب رسولہ صلی اللہ علیہ وسلم اودفع شیئا مماانزل اللہ اوقتل نبیا من انبیاء اللہ عزوجل انہ کافر بذلک وان کان مقرا بکل ماانزل اللہ (التمہھید لمافی الموطامن المعانی والاسانید لابن عبدالبر4/226)
مسلمانوں کا اجماع ہے کہ جوکوئی اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوبرابھلاکہے یااللہ کی نازل کردہ چیزوں میں سے کسی بے زاری کااظہار کرے یااللہ کے نبیوں میں کسی نبی کوقتل کرے تواس سے وہ کافر ہوجاتاہے اگرچہ اس کے بعد وہ تمام چیزوں کا اقرارکرتاہو۔
احسن۔

ایک بات واضح فرما دیں۔ آپ نے لکھا ہے:
اقتباس:
اس بات میں علماء کے درمیان کسی قسم کااختلاف نہیں ہے کہ اگر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والامسلمان ہواوروہ توبہ کرکے دوبارہ اسلام کے سایہ عاطفت میں نہ آئے تواسے قتل کردیاجائے۔
یہاں آپ نے توبہ و درگذر کا راستہ کھلا رکھا ہے (مسلمان ہونے کی صورت میں بھی)۔

مگر اسکے بعد آپ نے جتنے علماء کے اقوال نقل کیے ہیں، ان میں سے کسی نے اس "توبہ" کے دوبارہ اسلام کے سایہ عاطفت میں آنے کی بات نہیں لکھی ہے۔

البتہ تاج الدین سبکی صاحب نے یہ ضرور لکھا ہے، مگر اسکی انہوں نے کوئی دلیل فراہم نہیں کی ہے
اقتباس:
علامہ تاج الدین سبکی وضاحت کی خاطر لکھتے ہیں۔یہ امت کااجماع اس وقت ہے جب اذاکان مسلمایعنی جب کہ توہین رسالت کا مرتکب اورشاتم رسول مسلمان ہو اورتوبہ کرکے دوبارہ اسلام کے سایہ عاطفت میں نہ آناچاہتاہو۔
چنانچہ اگر ممکن ہو سکے تو یہ بات واضح فرمائیے:

۔ چند علماء براہ راست بغیر کسی توبہ کا موقع دیے بغیر قتل کرنے کے قائل ہیں (مسلمان کے کیس میں بھی)
۔ جبکہ چند علماء مسلمان کے کیس میں اسے توبہ کا موقع دینے کے قائل ہیں اور اس سے مرتد والا معاملہ کر رہے ہیں جس اُسے توبہ کے لیے تین دن کا وقت دیا جاتا ہے۔

سنتِ نبوی سے براہ راست کوئی دلیل؟

مزید یہ کہ کیا مسلمان کے کیس میں سنتِ نبوی سے براہ راست کوئی واضح دلیل مل سکتی ہے جہاں کسی مسلمان نے توہینِ رسالت کی ہو اور رسول اللہ (ص) نے فرمایا ہو کہ اسے اس جرم کی پاداش میں قتل کر دیا جائے؟
مسلمان کے کیس میں ایک مثال تو حکم بن العاص کی سامنے آئی ہے۔ جبکہ دوسری مثال عبداللہ ابن ابی منافق کی ہے جو کہ مسلمانوں کے بھیس میں تھا۔

میں اس وقت زیادہ گہرائی میں نہیں جانا چاہتی۔ آپ نے جو سلسلہ شروع کیا ہے اور جس طرح بحث کو تقسیم کیا ہے، وہ میرے لیے دلچسپی کا باعث ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ پہلے اپنی بات مکمل کریں اور پھر میرے سوالات کے جواب کی طرف آئیے گا۔

والسلام
مہوش علی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مہوش علی کا شکریہ ادا کیا
ابن جمال (14-02-11), عبداللہ آدم (14-02-11)
پرانا 14-02-11, 11:39 AM   #13
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت شکریہ سب کا

ایک ترتیب پر متفق ہو کر باری باری بات کر لیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ورنہ یہ تھریڈ بھی بے سمتی کا شکار ہو جائے گا۔

والسلام
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 14-02-11, 01:01 PM   #14
Senior Member
مقبول
 
ابن جمال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 165
کمائي: 5,060
شکریہ: 266
149 مراسلہ میں 489 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم!

محترمہ آپ نے آرٹیکل بہت اچھا اور خوبصورتی سے تیار کر کے پیش کیا ھے مگر آپ نے کہیں علماء کرام پر کوتاہی برتتے ہوئے بڑی بےدردی سے اپنی قلم چلا دی۔ پاکستان میں جنرل ضیاء کے دور میں توہین کی سزا موت امینڈمنٹ کی گئی تو وہ آپ اور میرے جیسوں کے کہنے سے تو قانون کا حصہ نہیں بنی ہو گی سرٹیفائیڈ اور ایکسپیرینس علماء کرام کی مشاورت سے ہی ایسا ہوا ہو گا ضعیف حدیث مبارکہ سے تو یہ ناممکن ھے کیونکہ دوسرے مسالک والے بھی اسی میں شامل ہیں اور اگر ضعیف حدیث مبارکہ سے قانون میں امینڈمنٹ کی گئی ہوتی بھی تو کسی کو تو اس پر اعتراض ہوتا اور اگر ایسا ھے تو آپ کو چاہئے کہ ان حدیث مبارکہ کی نشاندہی حکومت کو کروائیں کہ جس سے قانون بدلنے میں مدد ملے۔

اگر بات میرے دل کی لیں تو سزائے موت کوئی بھی ہو اس کیفیت سے میرا دل بھی بہت ہلتا ھے کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے، جان اللہ سبحان تعالی کی دی ہوئی ھے اس لئے ہمیں کوئی اختیار نہیں کہ کسی کی جان لی جائے، مگر میرے دل کو تو نہیں دیکھا جائے گا یہ میرے دل تک ہی محدود ھے، دیکھنا یہ ھے کہ گستاخ رسول پر قرآن مجید اور حدیث مبارکہ سے ہمیں کیا حکم ملتا ھے۔

محترمہ آپ نے جو پہلا حصہ پیش کیا ھے اس میں ایس کوئی بھی معاملہ نہیں جو توہین کے زمرے میں آتا ہو، وہ ڈائریکٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آئے ہوئے واقعات ہیں جس پر مدعی کو چھوڑنے/معاف کرنے کا پورا اختیار ہوتا ھے۔ اس پر دو مثالیں پیش کرتا ہوں یہ آپ کے مزاج کے مطابق بھی پوری اترے گی۔

" حضرت علی کرم اللہ وجہہ جنہوں نے دشمن کو زیر کیا اور اس کی چھاتی پر بیٹھ کر اپنی نیام سے تلوار نکالی تو دشمن نے ان کے منہ پر ؟؟؟ دیا جس پر حضرت علیؓ نے اس پر تلوار کا وار کرنے کا ارادہ ترک کر دیا اور اسے جان بچا کر بھاگ جانے دیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے ایک موذی دشمن کو زیر کرکے بھی کیوں چھوڑ دیا؟ تو حضرت علیؓ نے فرمایا کہ پہلے میری اسکے ساتھ کفر اور اسلام کی جنگ تھی مگر جب اس نے میرے منہ پر ؟؟؟ دیا تو اس کے بعد میں اس کی جان لیتا تو سمجھا جاتا کہ میں نے اس سے ذاتی انتقام لیا ہے۔"

ایک دنیاوی مثال بھی پیش کر دیتا ہوں، "باپ یا ماں کے ساتھ اگر کوئی اول درجہ کا بے عزت کرتا ھے تو وہ اسے معاف کر دیں گے وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی پر معاف کرنے کا پورا اختیار رکھتے ہیں مگر ساتھ اگر بیٹا کھڑا ہو گا تو وہ کبھی بھی معاف نہیں کرے گا، والدین کے سامنے اگر کچھ نہ کر سکا تو بعد میں ضرور ۔۔۔۔۔۔۔"

یہ آپ کے پہلے حصہ کا جواب ھے

دوسرے حصہ میں کچھ جگہوں پر آپ نے سائنٹیفکٹ طریقہ استعمال کیا ھے۔ ایسے نہیں ویسے، ایسا نہیں ہوا ویسا ہو گا وغیرہ وغیرہ اور پھر اپنی ہی بات منانی ہو تو کسی بھی حدیث کا ضعیف ہونا گوگل نٹ کے ذریعے تلاش کرن کوئی مشکل کام نہیں کہیں نہ کہیں سے میٹیریل مل ہی جاتا ھے درست طریقہ یہی ھے کہ سرٹیفائیڈ علماء سے اس پر تصدیق کروائی جائے۔

میرا اعتراض صرف اس پر ھے کہ اگر کوئی ایسی معاملہ میں پکڑا جاتا ھے تو اس کے ساتھ کسی کی زندگی اور موت جڑی ہوئی ھے اور ابتدائی شروعات میں سپرٹینڈنٹ پولیس کو انوالو ہونا چاہئے اور وہ سپرٹینڈنٹ جو تعلیم یافتہ ہو، وہ نہیں جو ایف۔اے پاس اور سفارشات کے ذریعے چوٹی عمر میں سپرٹنڈنٹ بنا دیا گیا ہو۔ تھانہ میں ایس۔ایچ۔او سے پرچہ کٹوا کر کسی کو بھی موت تک پہچانا مشکل کام نہیں میرا اعتراض صرف قانون پر ھے اور دوسرا جو اپنی مرضی سے کسی کا بیان سن کر کسی کو قتل کر دیتے ہیں، صفائی کا موقع ضرور ملنا چاہئے تاکہ کسی بےگناہ کی جان نہ ضائع ہو جائے۔

والسلام
محترمہ مہوش علی صاحبہ سے ہماری بھی گزارش یہی ہے وہ اپنانقطہ نظرپیش کریں لیکن اس بارے میں سخت رویہ اورعلمائے کے حق میں ایسی باتیں نہ کہیں جو ان کی شان سے بعید ہوں۔
ابن جمال آف لائن ہے   Reply With Quote
ابن جمال کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (14-02-11)
پرانا 14-02-11, 01:07 PM   #15
Senior Member
مقبول
 
ابن جمال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 165
کمائي: 5,060
شکریہ: 266
149 مراسلہ میں 489 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

گستاخ رسول مسلم کی توبہ قبول ہوگی یانہیں ہوگی

علماء مالکیہ
قاضی عیاض مالکی لکھتے ہیں
وحکمہ حکم الزندیق ومسر الکفر فی ھذاالقول ،سواء اکانت توبتہ بعد القدرة والشہادة علی قولہ ام جاء تائبا من قبل نفسہ لانہ حد وجب لاتسقطہ التوبہ کسائر الحدود(الشفاء:2/254)
اوراس کا حکم(رسول اللہ کو برابھلاکہنے والے)زندیق اورکفر کوچھپانے والے کاہے ۔اب چاہے اس کی توبہ گرفت میں آنے کے بعد اوراس پر شہادت قائم ہونے کے بعد ہو یاپھر وہ خود ہی تائب ہوکر آئے اس پر حد واجب ہوگی ۔اس لئے کہ گستاخ رسول کی سزا قتل حد ہے اوریہ توبہ سے ساقط نہیں ہوتی جیساکہ دوسرے حدود کا معاملہ ہے۔
دوسرے مالکی عالم لکھتے ہیں۔
وقال ابن سحنون فیمن شتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم من الموحدین ثم تاب لم تزل توبتہ عندالقتل (المصدرالسابق)
ابن سحنون اس شخص کے بارے میں جورسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے ،اس کی توبہ سے اس کاقتل نہیں ختم ہوگا۔
ابوعمران الفاسی :من سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ثم ارتد عن الاسلام قتل ولم یستتب ،لان السب من حقوق الآدمیین التی لاتسقط عن المرتد۔(المصدرالسابق)
ابوعمران فاسی کہتے ہیں جو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو برابھلاکہے پھر اسلام سے پھرجائے تواسے قتل کردیاجائے گا اس لئے کہ برابھلاکہناآدمیوں کے حقوق میں سے ہے جو مرتد سے ساقط نہیں ہوسکتی۔
علماء حنابلہ
شاتم رسول کے تعلق سے امام احمد سے منقول مشہور قول یہی ہے کہ اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی
چنانچہ علامہ سبکی اس بارے میں امام احمد سے قول نقل کرتے ہیں
اباعبداللہ یقول کل من شتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم اوتنقصہ مسلما کان اوکافرا فعلیہ القتل واری ان یقتل ولایستتاب(السیف المسلول 23
ابوعبداللہ(امام احمد کی یہ کنیت ہے)کہتے ہیں کہ ہروہ شخص جو رسول پاک کو برابھلاکہے یاان کی شان میں تنقیص کرے تووہ چاہے مسلمان ہویاکافر اس کو قتل کردیاجائے اوراس سے توبہ کامطالبہ نہ کیاجائے۔
ابن تیمیہ مشہور حنبلی فقییہ ہیں اگرچہ بعض لوگوں نے انہیں مجتہد مطلق قراردینے کی کوشش کی ہے لیکن صحیح ترین قول کے مطابق ان کا مقام ومرتبہ مجتہد فی المذہب کاہے۔ان کی بھی اس موضوع پر مشہور کتاب ہے جس کا نام ہے ''الصارم المسلول علی من سب الرسول ''
اس میں وہ شاتم رسول کے مسلمان ہونے کی صورت میں اس کے توبہ قبول کرنے یانہ کرنے کے متعلق وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
وقبول توبة من سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم وقد ذکرنا ان المشہور عن مالک واحمد انہ لایستتاب ولاتسقط القتل عنہ توبتہ ،وھو قول اللیث بن سعد،وقد ذکر القاضی عیاض انہ المشہور من قول السلف وجمہورالعلماء وھواحد الوجہین لاصحاب الشافعی وحکی عن مالک واحمد انہ تقبل توبتہ وھوقول ابی حنیفة واصحابہ وھوالمشہور من مذہب الشافعی بنائً علی قبول توبہ المرتد(الصارم المسلول 57
اوررسول اللہ کوبرابھلاکہنے کی توبہ کے متعلق(بات مسلمان کی چل رہی ہے ماقبل سے)اورہم قبل ازیں ذکر کرچکے ہیں کہ اس سلسلے میں امام مالک اورامام احمد کا مشہور قول یہ ہے کہ اس سے توبہ کامطالبہ نہیں کیاجائے گا۔اورنہ اس کے توبہ کرنے سے اس سے قتل کی سزاساقط ہوگی۔اوریہی قول امام لیث بن سعد کاہے۔اورقاضی عیاض نے ذکر کیاہے کہ سلف اورجمہورعلماء سے بھی منقول مشہور قول یہی ہے اورفقہائے شوافع کا ایک قول یہی ہے۔(اس کے برخلاف)امام احمد اورمالک سے ایک قول یہ بھی نقل کیاگیاہے کہ شاتم رسول کی توبہ قبول کی جائے گی اوروہی امام ابوحنیفہ اوران کے اصحاب کا قول ہے اورفقہ شافعی میں مشہور قول یہی ہے اوراس کی بنیاد مرتد کے توبہ قبول کرنے پر ہے۔
امام ابن تیمیہ نے مختصر طورپر بتادیاہے کہ اس سلسلے میں کس کا کیامسلک ہے۔
امام مالک اورامام احمد بن حنبل کا مشہور قول توبہ قبول کرنے کااورشاتم رسول کے قتل کرنے کاہے۔اسی کے ساتھ دونوں سے ایک قول توبہ قبول کرنے کابھی ہے۔
امام شافعی کامشہور قول توبہ قبول کرنے کا ہے لیکن ایک قول یہ ہے کہ توبہ قبول نہیں کیاجائے گااوراسے قتل کردیاجائے گا۔امام ابوحنیفہ سے اس بارے میں صرف ایک قول منقول ہے کہ توبہ قبول کیاجائے گا۔
ایک وضاحت :یہاں ضروری ہے وہ کردوں کہ بسااوقات کوئی فقیہہ اورعالم ذکر کرتاہے کہ اس بارے میں جمہور کاقول یہی ہے تواس کی تحقیق کرنی چاہئے کیونکہ ہرایک نے اپنی معلومات کے مطابق لکھاہے چنانچہ جہاں ایک طرف قاضی عیاض اپنی مشہور تالیف(الشفافی تعریف حقوق المصطفے)میں توبہ قبول کرنے کے قول کا جمہور علماء کا قول نقل کرتے ہیں وہیں امام نووی جو ابن تیمیہ سے متقدم ہیں وہ توبہ قبول کرنے اورتوبہ کی صورت میں شاتم رسول کو قتل نہ کرنے کوجمہور علماء کا قول بیان کرتے ہیں۔ دیکھئے روضة الطالبین(10/332)
خود ایک دوسرے مقام جہاں قاضی عیاض نے اس بارے میں کہ حضور کے قبر اطہر میں وہ مٹی جورسول پاک کے جسدمبارک سے متصل ہے اسے ہرچیز سے افضل قراردینے پر علماء کا اجماع نقل کیاہے اس کو ابن تیمیہ غلط بتاتے ہوئے لکھتے ہیں۔
واما التربة التی دفن فیہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فلااعلم احدا من الناس قال انھاافضل من المسجد الحرام اوالمسجد النبوی اوالمسجد الاقصیٰ الالقاضی عیاض فذکر ذلک اجماعا وھوقول لم یسبق الیہ احد فی ماعلمناہ ولاحجة علیہ (فتح الملہم جلد)اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قبر کی مٹی تومیں نہیں جانتاکہ کسی نے کہاکہ وہ مسجد حرام سے یامسجد نبویۖ سے یامسجد اقصیٰ سے افضل ہے۔ اس کا ذکر صرف قاضی عیاض نے کیاہے اوراس پر اجماع بتایاہے حالانکہ یہ ایساقول ہے جوان سے پہلے کسی نے نہیں کہا۔اورنہ اس پر کوئی دلیل قائم ہے۔
یہ ایک مثال ہم نے ذکر کی ہے تواب ابن تیمیہ یاکوئی دوسرے عالم کسی مسئلہ پر اجماع وغیرہ ذکر کریں تواس پر جلد بازی نہیں کرنی چاہئے بلکہ دیگر فقہاء کی آراء بھی تلاش کرنی چاہئے کہ وہ بھی اس کی تائید کرتے ہیں یانہیں۔
علمائے شوافع
امام سبکی علمائے شوافع سے شاتم رسول کی توبہ کے متعلق جواختلافات منقول ہیں اس کے بارے میں لکھتے ہیں
ولکن المشہور علی الالسنة وعندالحکام ومایزالون یحکمون بہ ان مذہب الشافعی قبول التوبہ واماالرافعی فانہ قال المسلم اذاذکراللہ تعالیٰ بمایقتضیہ التکفیر فھومرتد مدعوالی الاسلام وکذا لو کذب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فان عاد وتاب قبلت توبتہ ومن قذف النبی صلی اللہ علیہ وسلم وصرح بنسبتہ الی الزنا فھوکافر باتفاق الاصحاب ،فان عاد الی الاسلام ففیہ ثلاثة اوجہ
احدھا ونظم الوجیز یقتضی ترجیحہ وبہ قال الاستاذ ابواسحاق انہ لایلزمہ شی لانہ صارمرتدا بذلک وقد عاد الی الاسلام
والثانی وبہ قال ابوبکرالفارسی انہ یقتل حدا لان قذف النبی صلی اللہ علیہ وسلم حدہ القتل وحدالقذف لایسقط بالتوبة
والثالث :قال الصیدلانی :یجلدثمانین حدالان سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم کفر موجب للقتل ،فان عاد الی الاسلام سقط القتل الواجب بالردة ویبقی حد القذف علی قیاس مااذاقذف انسانا وارتدثم عاد الی الاسلام (السیف المسلول علی من سب الرسول ص171)
لیکن زبانوں پر مشہور اورحکام کے نزدیک اورجس پر وہ برابرعمل کرتے رہے ہیں وہ یہ کہ امام شافعی کامذہب توبہ کے قبول کاہے اورامام رافعی کہتے ہیں جب کوئی مسلمان باری تعالیٰ کی جانب میں کوئی ایسی بات کہے جو کفر والی ہو تو وہ دین اسلام سے نکل جائے گا اسے اسلام کی دعوت دی جائے اورایسے ہی اگرکسی نے (نعوذباللہ)نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کوجھٹلایا ۔پھر وہ اپنے قول سے رجوع کرلے اورتوبہ کرلے(توبہ سے مراد اسلام قبول کرلیناہے)تواس کی توبہ قبول کی جائے گی اورجس نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی تہمت لگائی اور(نعوذباللہ)زناکی جانب ان کی نسبت کی تو وہ بالاتفاق کافر ہے۔اوراس کے بعد اگر وہ اسلام کی جانب لوٹتاہے تواس میں تین قول ہیں۔
پہلا اوروجیز کی نظم کا تقاضابھی اس کی ترجیح کا تقاضہ کرتی ہے اوراستاذابواسحاق(مشہور شافعی فقیہہ)کاقول بھی یہی ہے کہ اس پر کچھ حد وغیرہ نہیں ہوگی کیونکہ اس قول سے وہ مرتد ہوگیاتھااورجب اس نے دوبارہ اسلام قبول کرلیاتو اب اس پر کچھ الزام نہیں رہا۔
دوسراقول جس کے قائل ابوبکر الفاسی ہیں وہ یہ کہ اس کو(نعوذباللہ نبی پاک صلی اللہ پرتہمت لگانے والے)حد کے طورپر قتل کردیاجائے گا۔کیونکہ رسول پاک صلی اللہ پر تہمت لگانے کی سزاقتل ہے اورقذف (تہمت لگانا)کی حد توبہ سے ساقط نہیں ہوتی ہے۔اورتیسراجس کے قائل صیدلانی ہیں وہ یہ کہ اس کو حد کے طورپر اسی کوڑے لگائے جائیں گے اس لئے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو برابھلاکفر ہے جس کی سزا قتل ہے ۔اگر وہ دوبارہ اسلام کی جانب لوٹے تواس سے قتل ساقط ہوجائے گا لیکن تہمت لگانے کی سزا برقرارہے گی ۔جس طرح کوئی شخص کسی پر زناکی تہمت لگاتاہے اورپھر مرتد ہوجاتاہے ۔اس کے بعد اگر وہ اسلام قبول کرلیتاہے تواس سے قتل کا حکم جوارتداد کی وجہ تھا ساقط ہوجائے گالیکن تہمت کی سزا برقرارہے گی۔
وحاصل المنقول عندالشافعیہ انہ متی لم یسلم قتل قطعا ومتی اسلم فان کان السب قذفا فالاوجہ الثلاثة ھل یقتل ،اویجلد اولاشی وان کان السب غیرقذف فلااعرف فیہ نقلاللشافعیہ غیرقبول توبتہ (المصدرالسابق )
خلاصہ کلام یہ کہ شوافع کے نزدیک اگر وہ اسلام قبول نہیں کرتا تو قتل کردیاجائے گا اوراگراسلام قبول کرلیتا ہے لیکن نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اس نے جو گستاخی کی ہے وہ از قبیل تہمت ہے تواس کی تین صورتیں ہیں۔کہ وہ قتل کردیاجائے،اسے اسی کوڑے لگائے جائیں یااس پر کچھ سزانہیں۔اوراگر نبی پاکی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی تہمت کے قبیل سے نہیں تو توبہ قبول کرنے کے سوا اورکوئی نقل منقول نہیں ہے۔
علمائے احناف
اس بارے میںامام ابویوسف اپنی مشہور زمانہ اورشہرہ آفاق تصنیف ''کتاب الخراج میں لکھتے ہیں
وایمارجل مسلم سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اوکذبہ اوعابہ او تنقصہ فقد کفر باللہ وبانت منہ زوجتہ ،فان تاب والاقتل وکذلک المراة الا ان اباحنیفہ قال :لاتقتل المرأة وتجبرعلی الاسلام (کتاب الخراج ،صفحہ182)
اورجوئی مسلم شخص رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو برابھلاکہے یاان کی تکذیب کرے یاان کی شان میں تنقیص کا مرتکب ہو تواس کا اللہ کا انکار کیا اوراس سے اس کی بیوی جداہوجائے گی ۔اگر وہ توبہ قبول نہ کرے(دوبارہ اسلام قبول نہ کرے )تواسے قتل کردیاجائے ۔اوریہی حکم عورت کاہے۔ہاں !ابوحنیفہ نے یہ کہاہے کہ عورت کو مذکورہ صورت مین قتل نہیں کیاجائے گا بلکہ اس کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیاجائے گا ۔(اوریہی رائے حضرت ابن عباس کی بھی ہے۔)
اوریہی حکم امام طحاوی نے مختصرمیں بھی لکھاہے۔بہرحال امام ابویوسف ،امام طحاوی ،اورقاضی عیاض اورابن تیمیہ کے نقول کے مطابق یہ بات چھن کر سامنے آگئی کہ اس مسئلہ میں امام ابوحنیفہ کی رائے کیاہے۔
ایک اشکال
لیکن اسی کے ساتھ ایک اشکال بھی ہوتاہے کہ بعض حنفی فقہاء سے شاتم رسول کی توبہ قبول نہ کرنے اوراسے قتل کرنے کی بابت آراء نقل کی گئی ہیںمثلا صاحب فتاوی بزازیہ ابن ہمام اوردیگر فقہاء حنفیہ سے شاتم رسول کی توبہ قبول نہ کرنے اورقتل کردینے کا قول مذکور ہے تواس کی حقیقت کیاہے۔
اصل یہ ہے کہ اس مسئلہ میں مذکورہ فقہاء کو اشتباہ ہواہے اوربطورخاص حنفی فقیہہ بزازی کو اس مسئلے میں اشتباہ ہواہے۔چنانچہ بزازی اوردیگر فقہائے احناف میں جس میں درمختار کے مصنف بھی شامل ہیں ان کے مغالطہ اوراشتباہ کا ذکر کرتے ہوئے ابن عابدین لکھتے ہیں۔
ان البزازی لامستند لہ الاعبارة الشفاء الاتری کیف نقل عن مشائخ المالکیہ ثم احال دلائل المسئلہ علی الصارم المسلول لعمدة الحنابلة شیخ الاسلام ابن تیمیہ ولوکان لہ مستندعن احد میں اھل مذہبہ لذکرہ لانہ ثبت لمدعاہ والظن ان صاحب الدرر قلد البزازی فی ذلک فنقل الحکم جازما بہ لماراہ مسطورا کذلک فی البزازیہ التی ھی من کتب المذہب وکذلک فعل المحقق ابن الھمام ثم تواردالمسئلہ کذلک من بعدھم کماذکر ذلک فی منح الغفار حیث قال بعد ماعزی المسئلہ للبزازیہ وفتح القدیر وغیرھما لکن سمعت من مولانا شیخ الاسلام امین الدین بن عبدالعال مفتی الحنفیہ بالدیارالمصریہ ان صاحب الفتح تبع البزازی فی ذلک وان البزازی تبع صاحب الصارم المسلول فانہ عزی فی البزازیہ مانقلہ من ذلک وان البزازی تبع الصاحب الصارم المسلول فانہ عزی فی البزازیہ مانقلہ من ذلک الیہ ولم یعزہ الی احد من علماء الحنفیہ انتھی وقد نقل فی معین الحکام انہاردة وحکمہ حکم المرتدین وکذا فی النتف وممن نقل انہاردة عن ابی حنیفہ القاضی عیاض فی الشفاء انتھی کلام منح الغفار باختصار وقد ذکرہ العلامہ السید احمد الحموی فی حاشیة الاشتباہ نقلاعن بعض العلماء ان ماذکرہ ابن نجیم فی الاشباہ من عدم قبول التوبة قد انکرہ علیہ اھل عصرہ وان ذلک انمایحفظ لبعض اصحاب مالک کمانقلہ القاضی عیاض وغیرہ اماعلی طریقتنا فلاانتھی۔
وللعلامة النحریر الشہیر بحسام چلپی من عظماء دولة السلطان سلیم خان بن بایزید خان العثمانی رسالة لطیفة الفھارداعلی البزازیہ فی حکم تلک المسالة ذکر حاصلھافی اواخر نورالعین فقال ''اعلم ان سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم کفر وارتداد لانہ مناف لتعظیمہ ولایمان بہ الثابت بالادلة القطعیة التی لاشبھة فیھا فسبہ جحود لہ فیکون کفرا فیقتل بہ ان لم یتب وھذا مجمع علیہ بین المجتہدین لکنہ ان تاب وعاد الی الاسلام تقبل توبتہ فلایقتل عندالحنفیہ والشافعیہ خلافا للمالکیة والحنبلیة علی ماصرح بہ شیخ الاسلام علی السبکی فی کتاب السیف المسلول فی سب الرسول صی اللہ علیہ وسلم ۔(تنبیہ الولاة والحکام علی احکام شاتم خیرالانام اواحد الصحابة الکرام،مجموعیہ رسائل ابن عابدین جلد اول )
اس پوری بحث کے بعد (امام ابوحنیفہ اوردیگر ائمہ حنفیہ سے اس صراحت کے بعد کہ رسول پاک کی شان میں گستاخی کرنے والااگرمسلمان ہے تواس کی توبہ قبول کی جائے گی)ہم جان چکے ہیں کہ بزازی(مشہور حنفی فقیہہ کی اس عبارت کا مدار شفائ(قاضی عیاض کی مشہور کتاب)ہے۔کیاآپ نہیں دیکھ رہے ہیں کہ انہوں نے کیسے مالکی مشائخ کی آراء نقل کی ہیں پھر دلائل کے حوالہ کیلئے الصارم المسلول کا نام لیاجومشہور حنبلی فقیہ ابن تیمیہ کی کتاب ہے اگران کے پاس ائمہ احناف کی نقولات ہوتی تواس کو ذکر کرتے کیونکہ اس سے ان کا مدعا ثابت ہوگا۔
گمان یہ ہے کہ صارالدرر (الدرالمحتار)نے اس باب میں بزازی کی تقلید کی ہے اوربزازیہ میں یہ عبارت دیکھنے کے بعد اس کوجزم کے ساتھ نقل کردیا کیونکہ یہ فقہ حنفی کی معتمد کتاب ہے اورایساہی محقق ابن ہمام نے کیاہے پھراس کے بعد علماء نے انہی کے بھروسہ پر ایساکیاہے جیساکہ منح الغفار کے مولف نے مذکورہ عبارت ذکر کرنے کے بعداس کی نسبت بزازیہ اورفتح القدیر کی جانب کی ہے۔لیکن میں نے شیخ الاسلام امین الدین بن عبدالعال مصری میں حنفیوں کے فقیہہ سے سناہے کہ فتح القدیر کے مولف(ابن ہمام)نے بزازی کے مولف کی پیروی کی اوربزازی نے صارم المسلول کے مولف کی پیروی کی ۔ابن ہمام نے جوکچھ نقل کیاہے اس کیلئے بزازیہ کا حوالہ دیاہے اوربزازیہ کے مولف نے جوکچھ نقل کیاہے اس کیلئے الصارم المسلول کا حوالہ دیا ہے اوراس حکم کو علمائے احنا ف کی جانب منسوب نہیں کیاہے۔
معین الحکام کے مولف نے نقل کیاہے کہ رسول پاکی شان میں گستاخی کرنا ارتداد ہے اوراس کا حکم مرتدین کاحکم ہے اورایساہی النتف الحسان میں بھی منقول ہے اورجن لوگوں نے امام ابوحنیفہ سے یہ نقل کیاہے کہ وہ رسول پاکی شان میں گستاخی کرنا ارتداد ہے ان میں قاضی عیاض بھی ہیں انہوں نے شفا میں اس کا ذکرکیاہے۔منح الغفار کی عبارت مختصراذکر کی گئی ہے۔علامہ سید احمد حموی نے الاشباہ(الاشباہ والنظائر(ابن نجیم مصری کی مشہور تالیف ہے)کے حاشیہ میں ذکر کیاہے کہ انہوںنے الاشباہ میں رسول پاک کی شان میں گستاخی کرنے والی توبہ قبول نہ کرنے کا ذکرکیاہے جس پر ان کے دور کے علماء نے ان پر نکیر کی اوریہ (شاتم رسول کی توبہ قبول نہ کرنا)علمائے مالکیہ سے منقول ہے۔علماء احناف سے نہیں۔
علامہ حسام چلپی سلطان سلیم خان بن بایزید خان عثمانی کے دور سلطنت کے سربرآورہ علماء میں سے تھے انہوں نے بزازیہ کی اس عبارت کے رد میں(کہ شاتم رسول کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی)ایک مختصررسالہ لکھا اوراس کا خلاصہ نورالعین میں ذکر کیاہے جس میں کہا۔جان لو کہ کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو برابھلاکہنا کفراوردین حق سے پلٹ جانا ہے اس لئے کہ وہ رسول اللہ کی تعظیم اوران پر ایمان کے منافی ہے جو
ادلہ قطعیہ سے ثابت ہے جس میں کوئی شبہ نہیں توان کو برابھلاکہنا ان کا انکار کرناہے لہذا نبی پاک کاانکار کفر ہوگا اوراگرتوبہ نہ کرے تو قتل کیاجائے گا اوراس پر مجہتدین کا اجماع ہے لیکن اگر وہ توبہ کرے اوراسلام کی جانب پلٹ جائے تواس کی توبہ قبول کی جائے اوراسے قتل نہیں کیاجائے ۔یہ حکم احناف اورشوافع کے نزدیک ہے جب کہ مالکیہ اورحنابلہ کے نزدیک شاتم رسول کی توبہ قبول نہ ہوگی اوراسے قتل کیاجائے گا جس کی تصریح شیخ الاسلام السبکی نے اپنی تصنیف السیف المسلول فی سب الرسول میں کردی ہے۔

Last edited by ابن جمال; 14-02-11 at 05:25 PM.
ابن جمال آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ابن جمال کا شکریہ ادا کیا
کنعان (14-02-11), مرزا عامر (15-02-11)
جواب

Tags
کارڈ, پہچان, واقعات, قرآن, نماز, نظر, مکہ, موت, منافقین, ماں, مجید, اللہ, اسلامی, اسلامی تاریخ, بھائی, جواب, جرم, حکم, خون, خوش, خلاف, خدا, دعا, صحابی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
جعلی پیر کا خاتون پر تشدد،کپڑے پھاڑ دیے‘متاثرہ خاتون کا خود سوزی کا اعلان ابن جلال خبریں 21 06-06-11 08:45 PM
شاہد آفریدی کا اعتراف زارا کرکٹ 5 29-10-10 10:55 PM
12 سالہ بچے کا قرآن پاک کی تمام آیات کو نمبر شمار کے اعتبار سے یاد کرنے کا ریکارڈ گلاب خان خبریں 1 05-07-10 02:23 AM
ایک عجیب کہانی! ( فاعتبرہ یا اولیٰ الابصار) shafresha عمومی بحث 2 11-01-10 11:24 AM
اک بار کر کے اعتبار لکھ دو gorgeous شعر و شاعری 6 05-11-09 09:32 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:55 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger