واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > عقیدہ رسالت




ماہ ربیع الاول اور راہ اعتدال

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-02-11, 11:20 PM   #1
ماہ ربیع الاول اور راہ اعتدال
شمشاد احمد شمشاد احمد آف لائن ہے 10-02-11, 11:20 PM

ماہ ربیع الاول اور راہ اعتدال

گذشتہ سال ربیع الاول کی بات ہے۔میں ایک پرائیوٹ کالج میں گیا جہاں میرا اکثر ‏آنا جاتا رہتا ہے پرنسپل صاحب اور تقریبا سارے ہی سٹاف سے ا‌چھا تعلق ہے۔ پرنسپل صاحب میں یہ جذبہ بہر حال کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے کہ ہمارے بچوں کو بہترین تعلیم اور تربیت ملنی ‌چاہے۔ اور اس کے لئے وہ اپنی ‌چادر میں رہتے ہوئے بھرپور اقدامات کرتے رہتے ہیں۔

پرنسپل صاحب سے ملاقات ہوئی انھوں نے حسب معلوم مختلف امور پر تبادلہ خیال کے بعد ربیع الاول کے حوالے سے بات شروع کی اور کہا کہ ایک بچے کی والدہ نے ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کا ایک پمفلٹ لا کر دیا ہے جس کا عنوان غالبایہ تھا کہ عید میلاد النبی کیسے منایا جائے۔۔والدہ نے تاکید کی کہ ماہ ربیع الاول کے موقع پر یہ یہ اقدامات کر کے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کیا جائے اور بچوں کو یہ بتایا جائے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت کیسےکی جاتی ہے۔اور اس پمفلٹ میں ان امور کو لکھا گیا تھا کہ ہمیں اس دن کیا کیا کرنا ‌چاہے جس سے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ہماری محبت کا اظہار ہوتا ہو۔ ان امور میں یہی ‌چراغاں کرنا، لائٹس لگانا، درود کی محافل کا انعقاد کرنا وغیرہ جیسے کوئی درجن بھر امور تھے۔پرنسپل صاحب نے اس پر میری رائے طلب کی اور کہا ہم یہاں سکول اور کالج کے بچوں میں ان میں سےاپنے وسائل میں رہتے ہوئے کون کون سے کام کر سکتے ہیں جس سے اس ایونٹ کو ہم سلیبریٹ بھی کریں۔اور عشق رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا اظہار بھی کریں۔

میں نے ان سے کہا مجھے وہ پمفلٹ دکھائیں پھر ہی کوئی رائے دے سکتا ہوں۔۔ خیر تلاش کرنے پر وہ پمفلٹ انہیں نہ ملا اور یاد ‏آیا کہ وہ انھوں نے ہیڈ مسٹریس کے پاس بھیجوا دیا تھا کہ وہ اس پر غور وفکر کے بعد تجاویز پیش کریں۔

میں ہیڈ مسٹریس کے پاس ملاقات کے لئے گیا انھوں نے یہ قضیہ کھول کر رکھ دیا اورنہایت ہی پریشانی اور افسردگی کے عالم میں کہا کہ مجھے سمجھ نہیں ‏آتا کہ میں پرنسپل صاحب کو کیا جواب دوں کیوں کہ ایک طرف حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا یوم پیدائش منانے کا شعور بچوں کو سکھانے کی بات ہے دوسری طرف کالج کا نظم و نسق ہے۔۔ کیوں کہ یہاں ہر سکول ‏آف تھاٹ کے بچے زیر تعلیم ہیں۔ مجھے خدشہ ہی نہیں اپنے تجربہ کی بنا پر غالب گمان ہے کہ کہیں یہاں مذہبی اور فرقہ وارانہ اختلافات نہ بھڑک اٹھیں۔ اور جو نبی رحمت سارے مسلمانوں کو جسد واحد کی طرح رکھنا اور دیکھنا ‌چاہتے تھے ہم ان کے یوم پیدائش پر ہی باہمی اختلاف کا شکار ہو جائیں۔۔مجھے وہ کہنے لگیں مجھے سمجھ نہیں ‏آ ہا کہ میں کیا کروں اور کیا نہ کروں۔اللہ کا شکر ہے ‏آپ ‏آ گئے ہیں اب مجھے کوئی مشورہ دیں کہ میں سر کوکیا کہوں۔

میں نے ان سے وہ پمفلٹ لیا اور اس کا مطالعہ کیا۔۔ پھر ان سے کہا دیکھیں میڈم اصل میں بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر معاملے میں عموما افراط و تفریط کا طریقہ ہی اختیار کیا جاتا ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو اس افراد و تفریط کے درمیان میں ہمیشہ ایک راستہ ہوتا ہے اور وہی راستہ صراط مستقیم ہوتا ہے۔ بس اسی کی تلاش کی کوشش کرنی ‌چاہے اور اس پر ‌چلتے ہوئے جو بھی ہو جائے اس کی پروا نہیں ہونی ‌چاہے۔

حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت اور عقیدت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ بھی ہے اور ایمان کا تقاضا بھی ہے جس سے کسی کو انکار نہیں ‌چاہے وہ ربیع الاول میں عید منائے یا نہ منائے ۔

اس پمفلٹ میں ماہ ربیع الاول میں جو جو اقدامات کرنے کا کہا گیا ہے ان پر اگر ‏آپ غور کریں تو ‏آپ کو ایک بات سمجھ میں ‏آئے گی کہ ان نقاط میں یہ کہا گیا ہے کہ ‏آپ کو جو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت و عقیدت ہے اس کے اظہار کے لئے ‏آپ یہ یہ طریقہ اختیار کیجئے۔ حتی کہ بسا اوقات ان امور کو لازمی اور ضروری قرار دے دیا جاتا ہے اور نہ کرنے والوں پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں۔۔ مثلا
‌چراغاں کیجئے
لنگر تقسیم کیجئے
جلوس نکالئے
سبز جھنڈیاں لگائیں۔
‌چراغاں کیجئے
اجتماعی محافل درود کا انعقاد کیجئے
اس روز عید کی طرح نئے نئے کپڑے زیب تن کیجئے وغیرہ
جب کوئی طبقہ یا گروہ ایسا کرنا شروع ہوتا ہے تو دوسرے لوگ جو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے اپنی محبت و عقیدت کا اظہار اس طرح نہیں کرتے یا وہ ایسا کرنے کو بعض وجوہات کی بنا پر درست نہیں سمجھتے تو اختلاف کی خلیج جنم لینا شروع کرتی ہے اور بحث مباحثے کا ایک دروازہ کھل جاتا ہے۔۔ اور پھر بات کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہے۔

ان دونوں انتہاؤں کے درمیان راہ اعتداد یہ ہے کہ ماہ ربیع الاول میں کئے جانے والے یہ سارے کام اصل میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت و عقیدت نہیں ہے بلکہ محبت اور عقیدت کے اظہار اختیار کردہ انسانی طریقے ہیں جن کا شریعت سے تعلق نہیں ہے۔۔۔۔ شریعت ‏آپ سے صرف یہ تقاضا کرتی ہے اور اس کا بس یہی مطالبہ ہے ‏آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت اور عقیدت ہونی ‌چاہے بلکہ سب سے زیادہ ہونی ‌چاہے۔۔ لیکن اس محبت اور عقیدہ کا اظہار ‏آپ کس طرح کریں گے اس کا کوئی طریقہ شریعت نے ‏آپ کو نہیں بتایا۔

محبت ‌چیز ہی ایسی ہے کہ اس کے اظہار کے لئے ہم ہر شخص کو ایک یونیفارم کی طرز کا طریقہ نہیں دے سکتے۔۔۔ ایک ہی ماں باپ کے ‌چار بچے ہوتے ہیں۔ اور ‌چاروں کو ماں باپ سے محبت ہوتی ہے لیکن ان کی محبت کے اظہارکے طریقے مختلف ہوتے ہیں۔
میاں بیوی میں باہمی محبت ہوتی ہے لیکن بسا اوقات دونوں کے محبت کے اظہار کے طریقے الگ ہوتے ہیں۔
اسی طرح دیگر رشتوں پر بھی ‏آپ غور کر لیں۔

تو میڈم شریعت ہم سے صرف یہ تقاضا کرتی ہے کہ ہم اپنی اولاد کو محبت رسول سکھائیں۔۔ محبت رسول کے اظہار کے لئے اختیار کردہ طریقے نہیں۔۔۔ لیکن ہمارے ہاں اب یہ روش ‌چل نکلنی ہے کہ حقیقی عشق مصطفی سکھانے کی طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن عشق کے طریقے سکھائے جانے اور منائے جانے پر زور دیا جا رہا ہے۔۔۔ ‌چاہے اس کے لئے ساری رات سرکاری بجلی کی تاروں پر کنڈے ڈال کر بوفر سپیکر لگا کر بیماروں کے ‏آرام میں خلل ڈال کر ہی ہمیں کیوں نہ جلسہ کرنا پڑے لیکن ہم ایسا کریں گے ضرور۔

میں نے کہا میڈم ‏آپ اپنے اسلاف اور۔۔۔۔ماہ ربیع الاول کو دیکھیں۔ یہ ماہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حیات میں63 بار ‏آیا اور ‏آپ کی وفات کے بعد

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں 2 بار اور حیات میں 2 بار ‏آیا
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں 10 بار اور حیات میں 12 بار ‏آیا۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں 12 بار اور حیات میں 24 بار ‏آیا۔
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں 5 بار اور حیات میں 29 بار ‏آیا۔
حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں 19 بار اور حیات میں تقریبا 49 مرتبہ ‏آیا

غرض اسی طرح اگر ہم ازدواج مطہرات حضرات حسین اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے اداور کو دیکھیں اس کے بعد تابعین اور ائمہ فقہاء امام ابو حنیفہ، امام شافعی امام مالک امام احمد بن حنبل علیہم الرحمہ کے ادوار کو دیکھیں تو کیا ان کے مبارک دوروں میں بھی سچے عاشق رسول ہونے کا ثبوت دینے کے لئے ماہ ربیع الاول میں گلی گو‌چوں میں یہی سب کچھ ہوتا تھا۔ جو ‏آج ہمارے ہاں ہو رہا ہے اور ایسا نہ کرنے والے کو گستاخ رسول اور منکر قرار دیا جاتاتھا۔۔۔۔

اس لئے میری ‏آپ سے گذارش ہے کہ ‏آپ یہاں کالج کے نظم و نسق میں رہتے ہوئے بچوں کو عشق رسول سکھائیں۔۔۔ عشق رسول کے طریقے مت سکھائیں۔۔۔ اگر ان میں حقیقی عشق پیدا ہو گیا تو اس کے اظہار کا طریقہ وہ خود منتخب کر لیں گے۔۔ یہ فطرت ہے۔۔۔


الحمد للہ میری ان گذارشات سے ان کو تشفی ہوئی اور پرنسپل صاحب سے انھوں نے بات کی اور بعد میں میری بات بھی ہوئی اس اس مسئلہ کو بحسن و خوبی حل کیا گیا۔۔۔

لہذا ہر جگہ اور خصوصا یہاں بحث میں الجھے ہوئے ساتھیوں سے گذارش ہے کہ کیا ایسا ممکن نہیں کہ حب رسول کے اظہار کے طریقوں سے زیادہ حب رسول کو پیدا کرنے کی فکر کی جائے۔۔۔ اور ان طریقوں کو الہامی اور شرعت کا حکم سمجھنے کے تصور پر تھو‎ڑا سا غور کر لیا جائے اور تا کہ ہم یہ فیصلہ کر سکیں کہ زیادہ زور حب رسول کے اظہار کے طریقوں پر لگانا مفید ہے یا حب رسول پیدا کرنے پر زور لگا نا بہتر ہے۔

‏آپ سب کی ‏آراء کا انتظار رہے گا۔
شکریہ

والسلام۔۔۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔

Last edited by شمشاد احمد; 11-02-11 at 04:16 AM..

 
شمشاد احمد's Avatar
شمشاد احمد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 906
22 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
sahj (11-02-11), saraah (11-02-11), کنعان (11-02-11), پاکستانی (11-02-11), ھارون اعظم (10-02-11), نورالدین (12-02-11), ناصر نعمان (11-02-11), نبیل خان (16-12-11), مرزا عامر (11-02-11), آبی ٹوکول (11-02-11), ایکسٹو (11-02-11), ام حازم (19-02-11), ابرارحسین (11-02-11), احمد بلال (10-02-11), بلال الراعی (17-12-11), راجہ اکرام (12-02-11), رضی (16-12-11), سیپ (11-02-11), شکاری (16-12-11), عبیداللہ عبید (16-02-11), عبداللہ آدم (11-02-11), عروج (20-04-11)
پرانا 10-02-11, 11:27 PM   #2
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,610
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جزاک اللٰہ۔ اللٰہ تعالیٰ ہمیں اعتدال اور میانہ روی کی توفیق عطا فرمائے اور حضور صلی اللٰہ علیہ وسلم سے محبت کو ہمارے دلوں میں قائم رکھے۔ آمین
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔
ھارون اعظم آف لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (12-02-11), احمد بلال (10-02-11), شمشاد احمد (10-02-11)
پرانا 11-02-11, 04:10 AM   #3
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,725
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
ماہ ربیع الاول اور راہ اعتدال

الحمد للہ میری ان گذارشات سے ان کو تشفی ہوئی اور پرنسپل صاحب سے انھوں نے بات کی اور بعد میں میری بات بھی ہوئی اس اس مسئلہ کو بحسن و خوبی حل کیا گیا ۔۔۔

‏آپ سب کی ‏آراء کا انتظار رہے گا۔

شکریہ

والسلام۔۔۔۔

السلام علیکم!

شمشاد بھائی، رائے دینے سے پہلے یہ جاننا بھی ضروری ھے اس پر کچھ کہنا چاہتا ہوں، جس وجہ سے آپ نے ایک طویل مضموں تشکیل دیا ھے اس کو آپ نے کوئی روشنی نہیں ڈالی کہ آخر میں مسئلہ کس طرح بخوبی انجام پایا، پرنسپل صاحب نے آپکی بات مان کر کیا کیا میلاد مصطفٰے (صلی اللہ علیہ وسلم) کی خوشی کی یا نہیں، اگر کی تو کس طرح کہ کلاس میں ہر قسم کے طالب علم کو کوئی اعتراض نہ ہوا، اور اگر نہیں کی تو اس پر انہوں نے سب کو کس طرح پروگرام کو نہ کرنے پر لیکچر پیش کی۔ اس کے بغیر تحریر نامکمل سی لگ رہی ھے۔

جزاک اللہ خیر

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے  
6 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (15-02-11), ایکسٹو (11-02-11), ام حازم (19-02-11), رضی (16-12-11), شمشاد احمد (11-02-11), عبدالقدوس (11-02-11)
پرانا 11-02-11, 05:41 AM   #4
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
کنعان بھائی اہم نقطے کی طرف ‏آپ نے توجہ مبذول کروائی ہے۔۔۔ اس کی لئےمشکور ہوں۔۔۔
اصل میں وہاں کوئی ایسا اہم یا مختلف فیہ مسئلہ نہیں تھا جس کو حل کرنا پڑا۔۔ ایک اتفاقی ملاقات میں ضمنا ایک بات سامنے ‏آ گئی تھی پرنسپل صاحب کے وہ پمفلٹ ہیڈ مسٹرس کو دینے اور اس پر رائے طلب کرنے سے ہیڈ مسٹریس صاحب کو یہ خدشہ پیدا ہو گیا کہ اب میں کیا کہوں۔۔ ایک طرف حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات سےمحبت کی بات ہے دوسری طرف کالج میں ربیع الاول میں اختیار کئے جانے والے مروجہ امور کے اختیار کرنے سے مذہبی منافرت پھلنے کا اندیشہ تو ا پس منظر میں میری اوپر کی گفتگو ہوئی تھی۔

ورنہ کالج میں ہر سال ایک ماہ ربیع الاول میں ایک سیرت پروگرام ہوتا ہے۔ جس میں کسی بھی باہر کے سکالر کو بلا کر سیرت پر بچوں کی ذہنی صلاحیت کے مطابق گفتگو کی جاتی ہے۔۔ سکول کے استاتذہ اور بچے اپنے اپنے انداز میں حصہ لیتے ہیں۔
جن میں تقاریر ہوتی ہیں
نعتیں پڑھی جاتی ہیں۔
درود شریف پڑھا جاتا ہے۔
سیرت سے متعلق دلچسپ معلومات پیش کی جاتی ہیں۔
اس پرگرام کی تیاری میں اساتذہ اور طلبہ کئی دن لگاتے ہیں اور مواد کے انتخاب کے لئے اساتذہ سے رجوع کیا جاتا ہے اور ان کی منظوری کے بعد ہی کسی تقریر یا نعت وغیرہ کو پیش کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس منظور ی میں ‌چند امور دیکھے جاتے ہیں۔
سب سے اہم اس میں یہ ہوتا ہے کہ کوئی اختلافی مواد نہ ہو۔
معیار علمی اور ادبی ہو۔
کوئی تقریر یا نعت ڈبل نہ ہو۔
وغیرہ۔

اس جلسہ کے روز ‌کالج میں ‌چھٹی ہوتی ہے۔والدین کو باقاعدہ شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔۔۔ اور ایک بچوں کے حوالے سے ا‌چھا پروگرام ہوتا ہے۔۔۔

گذشتہ سال کالج میں ہونے والی گفتگو مجھے یہاں کے بعض دھاگے دیکھ کر یاد ‏آ گئی اس لئے میں نے واقعہ قدرے تفصیل سے ذکر کر دیا۔۔ اور ‏آپ دوستوں سے رائے طلب کی ہے کہ ربیع الاول کے حوالے سے جو میں اب تک سمجھ رہا ہوں کیا وہ درست ہے یا اس پر غور کرنےکی ضرورت ہے۔۔۔

خلاصہ ساری بات کا یہ کہ۔۔۔۔ ہم سے شرعا عشق رسول کا تقاضا ہے۔۔ عشق رسول کو مانے کے طریقے شرعا مطلوب نہیں ہیں۔۔۔ اگر عشق ہو گا اور اس کے اظہار کے طریقے بھی انسان اختیار کر لے گا۔
شمشاد احمد آف لائن ہے  
9 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
sahj (11-02-11), مرزا عامر (15-02-11), آبی ٹوکول (11-02-11), ایکسٹو (11-02-11), ام حازم (19-02-11), راجہ اکرام (12-02-11), رضی (16-12-11), عبداللہ آدم (11-02-11), عروج (20-04-11)
پرانا 11-02-11, 01:38 PM   #5
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,725
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!

شمشاد بھائی، اب تو آپ ایک مرتبہ اپنی دونوں تحریریں پڑھ لیں شائد کہیں کوئی کوتاہی/فرق سمجھ آ جائے۔ معذرت کے ساتھ بات اب بھی ادھوری ھے، بحرحال پھر بھی اس پر مثبت رائے دینے کی کوشش پرسوں کروں گا۔


والسلام
کنعان آن لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
ام حازم (19-02-11), رضی (16-12-11), شمشاد احمد (11-02-11), عبدالقدوس (11-02-11)
پرانا 11-02-11, 05:13 PM   #6
Senior Member
 
saraah's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: pakistan
مراسلات: 431
کمائي: 5,442
شکریہ: 630
273 مراسلہ میں 547 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اس لئے میری ‏آپ سے گذارش ہے کہ ‏آپ یہاں کالج کے نظم و نسق میں رہتے ہوئے بچوں کو عشق رسول سکھائیں۔۔۔ عشق رسول کے طریقے مت سکھائیں۔۔۔ اگر ان میں حقیقی عشق پیدا ہو گیا تو اس کے اظہار کا طریقہ وہ خود منتخب کر لیں گے۔۔ یہ فطرت ہے۔۔۔
good point
-----------------
saraah آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے saraah کا شکریہ ادا کیا
ام حازم (19-02-11), شمشاد احمد (11-02-11)
پرانا 11-02-11, 06:38 PM   #7
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کنعان بھائی
اپنی کج فہمی کی وجہ سے شاید میں ‏آپ کی بات سمجھ نہیں پا رہا ہوں۔۔۔ یا اپنی سمجھا نہیں پا رہا ہوں۔۔۔۔ بہر حال۔ معاملہ جو بھی ہو۔۔ ان گذارشات کا مقصد یہی تھا کہ اگر اس میں کہیں اصلاح کی ضرورت ہے تو وہ ساتھیوں کے توجہ دلانے پر کر لی جائے۔۔۔۔۔ بہر حال ‏آپ کو جب موقع میسر ہو تو کوتاہی یا فرق کو واضح کر دیجئے گا ۔۔۔ تا کہ میں اپنی اصلاح کر سکوں۔۔۔۔ شکریہ۔
شمشاد احمد آف لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
کنعان (12-02-11), آبی ٹوکول (12-02-11), ام حازم (19-02-11), رضی (16-12-11)
پرانا 12-02-11, 11:24 AM   #8
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,577
کمائي: 315,297
شکریہ: 25,210
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
لہذا ہر جگہ اور خصوصا یہاں بحث میں الجھے ہوئے ساتھیوں سے گذارش ہے کہ کیا ایسا ممکن نہیں کہ حب رسول کے اظہار کے طریقوں سے زیادہ حب رسول کو پیدا کرنے کی فکر کی جائے۔۔۔ اور ان طریقوں کو الہامی اور شرعت کا حکم سمجھنے کے تصور پر تھو‎ڑا سا غور کر لیا جائے اور تا کہ ہم یہ فیصلہ کر سکیں کہ زیادہ زور حب رسول کے اظہار کے طریقوں پر لگانا مفید ہے یا حب رسول پیدا کرنے پر زور لگا نا بہتر ہے۔
السلام علیکم برادرم شمشاد
یہ بات بالکل بجا ہے کہ ہم سے مطلوب محبت ہے، محبت کے اظہار کے طریقے نہیں۔
اور یہی فطرت کا بھی تقاضا ہے۔ کیوں کہ اظہار محبت ایک انفرادی معاملہ ہے لہذا ہر دو انسانوں کا طریقہ اظہار عموما مختلف ہی ہوتا ہے۔
یہی اعتدال کی راہ ہے کہ عشق مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم سکھایا جائے اور اظہار عشق کو ہر انفرادی انتخاب ہی رہنے دیا جائے۔

لیکن یہ بات ہمیشہ مد نظر رہے کہ ہمارے لئے دور صحابہ اور عمل صحابہ رضی اللہ عنہم اور عمل اہل مدینہ ہمارے لئے بہترین مشعل راہ ہے۔
اللہ تعالی ہمیں عقل سلیم کو استعمال کرنے اور نقل صحیح پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔ آمین
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
آبی ٹوکول (12-02-11), ام حازم (19-02-11), شمشاد احمد (12-02-11), عبداللہ آدم (13-02-11), عروج (20-04-11)
پرانا 12-02-11, 03:21 PM   #9
Member
اجنبی
 
حرب بن شداد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 36
کمائي: 818
شکریہ: 1
24 مراسلہ میں 75 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔
ماشاء اللہ تمام دوستوں کی باتوں کو پڑھا تو سوچا کے کچھ میں بھی شیئر کروں،،،جہاں تک تقاضائے حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے عید میلاد کے حوالے سے تو ہمیں یہ معلوم ہونا چاہئے کے دین اور اسوہ حسنہ کو سمجھنے کے حریص ہم سے زیادہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی جماعت تھی اگر ایسا کوئی عمل اُن سے ثابت ہو تو دلیل موجود ہے اور اگر نہیں تو یہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے کے ہم کن چیزوں میں وقت برباد کررہے ہیں
حرب بن شداد آف لائن ہے  
7 قاری/قارئین نے حرب بن شداد کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (12-02-11), نبیل خان (16-12-11), مرزا عامر (15-02-11), ام حازم (19-02-11), شمشاد احمد (12-02-11), عبداللہ آدم (13-02-11), عروج (20-04-11)
پرانا 12-02-11, 04:14 PM   #10
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام علیکم !
شمشاد بھائی آپ نے بہت عمدہ اور معتدلانہ خیالات کا اظہار کیا جسے پڑھ کر دل خوش ہوا اللہ کرئے ہم سب مسلمان اسی سوچ کہ حامل ہوجائیں اور ایک دوسرے کے مکاتب فکر کا اول اسی فکر سے مطالعہ کریں نیز اختلاف کو فقط اختلاف کی حد تک محدود رکھیں اور ایکدوسرے کہ اختلافی نظریات کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنے کی اخلاقی جرات رکھیں مگر ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا میں یہاں پر پہلے بھی بعض احباب کے استفسار پر میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فقہی اصطلاح کے تناظر میں مباح اور مستحب ہونا بیان کرچکا ہوں مگر افسوس کہ احباب کو اصطلاح مباح کے فہم میں ابھی تک دشواری ہے ۔۔۔۔۔
مباح کا مطلب ہی المطلق ،الجائز و الحلال ہوتا ہے یعنی اصول فقہ میں ایسا تکلیفی حکم کے جس کے بجا لانے یا نہ بجا لانے کا اختیار شارع نے مکلف کو دے دیا ہوتا ہے لہزا وہ عمل اپنے ہونے کہ اعتبار سے فی نفسہ مباح ہوتا ہے مگر اس میں شامل حسن نیت اور اس عمل کا دیگر نیک عوامل کے ساتھ مل جانا اسے شریعت کی نگاہ میں مستحسن و مستحب بنا دیتا ہے بلکہ بعض مرتبہ ان درجات سے بھی بڑھا دیتا ہے ۔۔۔ پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ احباب بار بار اس مباح عمل کو روکنے کی کیوں کوشش کرتے ہیں جبکہ انھے خود یہ تسلیم ہے کہ یہ مباح ہے اور شارع نے بھی مکلفین کو اس سے نہیں روکا ؟؟؟؟؟؟ ساتھ ہی یہ عرض کردوں کہ صحابہ کرام کا ہر عمل سر آنکھوں پر انکی محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نہ کسی کو کوئی شک و شبہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی آج کہ دور کہ مسلمانوں کا یہ مقام ہے کہ انکی محبت رسول صحابہ کرام کی محبت رسول کے برابر بھی ہو چہ جائیکہ بڑھنا تو بہت دور کی بات مگر اس سب کہ باجود بھی عرض یہ کرنا چاہتا ہوں کہ بلا شبہ صحابہ کرام کا کسی عمل کو کسی بھی ہیئت مخصوصہ میں انجام دینا دین میں بطور دلیل اور اصول کے تو پیش کیا جاسکتا ہے مگر اس کے برعکس صحابہ کرام کا کسی فعل کو نہ کرنا یا کسی مخصوص ہیئت سے انجام نہ دینا ہرگز دین کا نہ تو کوئی اصول ہے اور نہ ہی اسے بطور دلیل پیش کیا جاسکتا ہے بلکہ صحابہ تو بعد میں آتے ہیں خود رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلقا کسی فعل کو ترک کرنا دین میں اسکی ممانعت کی دلیل کے بطور پیش نہیں کیا جاسکتا اور جو لوگ ایسا کرتے اور سمجھتے ہیں یہ ان کا قلت فہم و مطالعہ ہے اور ایسے لوگ یقینا اصول دین سے بے خبر ہیں ۔ ۔ ۔ ۔والسلام
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا

Last edited by آبی ٹوکول; 12-02-11 at 06:09 PM.
آبی ٹوکول آن لائن ہے  
6 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
کنعان (14-02-11), نورالدین (12-02-11), مفتی (16-12-11), مرزا عامر (15-02-11), شمشاد احمد (12-02-11), عروج (20-04-11)
پرانا 14-02-11, 01:15 PM   #11
Member
اجنبی
 
حرب بن شداد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 36
کمائي: 818
شکریہ: 1
24 مراسلہ میں 75 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
مباح کا مطلب ہی المطلق، الجائز و الحلال ہوتا ہے۔۔۔ یعنی اصول فقہ میں ایسا تکلیفی حکم کے جس کے بجا لانے یا نہ بجا لانے کا اختیار شارع نے مکلف کو دے دیا ہوتا ہے۔۔۔
عبادات میں یا معاملات میں؟؟؟۔۔۔لیکن جیسا کے آپ نے لکھا کے اُصول فقہ میں یہ بات سمجھ نہیں آئی۔۔۔
حرب بن شداد آف لائن ہے  
حرب بن شداد کا شکریہ ادا کیا گیا
شمشاد احمد (14-02-11)
پرانا 14-02-11, 07:05 PM   #12
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حرب بن شداد مراسلہ دیکھیں
عبادات میں یا معاملات میں؟؟؟۔۔۔لیکن جیسا کے آپ نے لکھا کے اُصول فقہ میں یہ بات سمجھ نہیں آئی۔۔۔
اسلام علیکم میرے پیارے بھائی مباح جو کہ نام ہے شرعی اصطلاح کا اسکا اطلاق عبادات و معاملات بلکہ شریعت کہ تمام عوارض پر بصورت اصول کے ہوتا ہے عبادات و معاملات تو براہ راست فقہ کا موضوع ہیں جبکہ فقہ میں ان امور پر جس طریق سے بحث کی جاتی ہے اس کا انحصار اصول فقہ پر ہوتا ہے لہذا یہ سب چیزیں اصول فقہ کہ تحت ہی ہیں ۔
جیسے اصول فقہ کی مشھور کتاب " مختصر شرح الروضة " کی الفصل الثالث في أحكام التكليف میں حکم " المباح " کے تحت یہ تعریف رقم ہے کہ ۔ ۔

المباح :
الْمُبَاحُ : مَا اقْتَضَى خِطَابُ الشَّرْعِ التَّسْوِيَةَ بَيْنَ فِعْلِهِ وَتَرْكِهِ ، مِنْ غَيْرِ مَدْحٍ يَتَرَتَّبُ عَلَيْهِ ، وَلَا ذَمٍّ ۔ ۔۔ ۔ ۔

وَقَالَ الْآمِدِيُّ : هُوَ مَا دَلَّ الدَّلِيلُ السَّمْعِيُّ عَلَى خِطَابِ الشَّارِعِ بِالتَّخْيِيرِ فِيهِ ۔ ۔ ۔ ۔

مفھوم :- مباح :
یعنی شارع کا ایسا خطاب جو کہ فعل کے عدم و جواز کے درمیان بطور تصفیہ کے ہو اور جس کے مکلف کی نہ مدح کی جاسکے اور نہ ہی مذمت ۔ ۔ ۔۔

اور آمدی نے کہا کہ: خطاب شارع پر ادلہ سمعیہ کہ ایسی دلالت جو کہ مکلف کہ حق میں اختیار کو واضح کرے وہ مباح کہلاتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔
امید کرتا ہوں اب بات سمجھ میں آگئی ہوگی ۔ ۔ ۔ ۔والسلام
آبی ٹوکول آن لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
کنعان (17-02-11), مرزا عامر (15-02-11), شمشاد احمد (14-02-11)
پرانا 16-02-11, 01:41 PM   #13
Member
اجنبی
 
حرب بن شداد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 36
کمائي: 818
شکریہ: 1
24 مراسلہ میں 75 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔
آبی ٹو کول ۔۔۔ میں صرف یہ جاننا چاہ رہا تھا کے کیا آپ عالم ہیں یا بس مطالعے کی حد تک ہی محدود ہیں؟؟؟۔۔۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
اسلام علیکم ۔ ۔ ۔ ۔والسلام
حرب بن شداد آف لائن ہے  
حرب بن شداد کا شکریہ ادا کیا گیا
آبی ٹوکول (16-02-11)
پرانا 16-02-11, 01:59 PM   #14
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حرب بن شداد مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔
آبی ٹو کول ۔۔۔ میں صرف یہ جاننا چاہ رہا تھا کے کیا آپ عالم ہیں یا بس مطالعے کی حد تک ہی محدود ہیں؟؟؟۔۔۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

نہیں میرے بھائی میں کوئی عالم نہیں ہوں بلکہ علماء کی تو خاک بھی نہیں بس بچپن سے مطالعہ کا شوق تھا سو فقط اپنا مطالعہ ہی شئر کرتا ہوں سو اس حوالہ سے دین کا ایک ادنٰی سا طالب علم آپ کہہ سکتے ہیں اس سے زائد کچھ نہیں ۔والسلام
آبی ٹوکول آن لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
کنعان (17-02-11), شمشاد احمد (16-02-11)
پرانا 16-02-11, 04:48 PM   #15
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ویسے میں نے ایسے بہت کم ایسے غیر عالم لوگ دیکھے ہیں جن کی دینی معلومات وسیع اور انداز بیان وتحریر دلکش ہوتا ہے۔۔۔۔۔ یہاں پاک نٹ پر مجھے یہ دونوں خوبیاں ‏آبی بھائی میں نظر ‏آئی ہیں۔۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
کنعان (17-02-11), آبی ٹوکول (16-02-11)
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
کالج, گمان, گذارش, لوگ, ممکن, ماں, محبت, معلوم, ایمان, اللہ, بہترین, بچوں, تلاش, تعلیم, جواب, حکم, حل, حال, حضرات, رات, راستہ, سٹاف, عشق, صحابہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ربیع الاول کا مہینہ آنے والا ہے رضی پاک۔نیٹ پراجیکٹس 35 16-12-11 08:11 PM
عدنان سمیع کی ایک اور شادی گلاب خان شادی / منگنی کی تقریبات اور انتظامات 19 03-11-10 10:08 PM
یکم ربیع الاول گلاب خان خبریں 4 18-02-10 01:24 AM
عدنان سمیع خان اور مائیکل جیکسن کا مشترکہ البم؟ طارق راحیل خبریں 0 23-02-09 09:02 PM
عدنان سمیع کا گانا - بارش منتظمین گانے 14 17-10-08 06:37 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:55 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger