|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 906
|
||||
| 22 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | sahj (11-02-11), saraah (11-02-11), کنعان (11-02-11), پاکستانی (11-02-11), ھارون اعظم (10-02-11), نورالدین (12-02-11), ناصر نعمان (11-02-11), نبیل خان (16-12-11), مرزا عامر (11-02-11), آبی ٹوکول (11-02-11), ایکسٹو (11-02-11), ام حازم (19-02-11), ابرارحسین (11-02-11), احمد بلال (10-02-11), بلال الراعی (17-12-11), راجہ اکرام (12-02-11), رضی (16-12-11), سیپ (11-02-11), شکاری (16-12-11), عبیداللہ عبید (16-02-11), عبداللہ آدم (11-02-11), عروج (20-04-11) |
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
جزاک اللٰہ۔ اللٰہ تعالیٰ ہمیں اعتدال اور میانہ روی کی توفیق عطا فرمائے اور حضور صلی اللٰہ علیہ وسلم سے محبت کو ہمارے دلوں میں قائم رکھے۔ آمین
__________________
http:// haroonazam.wordpress.com ھارون اعظم کا بلاگ۔ |
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,725
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
السلام علیکم! شمشاد بھائی، رائے دینے سے پہلے یہ جاننا بھی ضروری ھے اس پر کچھ کہنا چاہتا ہوں، جس وجہ سے آپ نے ایک طویل مضموں تشکیل دیا ھے اس کو آپ نے کوئی روشنی نہیں ڈالی کہ آخر میں مسئلہ کس طرح بخوبی انجام پایا، پرنسپل صاحب نے آپکی بات مان کر کیا کیا میلاد مصطفٰے (صلی اللہ علیہ وسلم) کی خوشی کی یا نہیں، اگر کی تو کس طرح کہ کلاس میں ہر قسم کے طالب علم کو کوئی اعتراض نہ ہوا، اور اگر نہیں کی تو اس پر انہوں نے سب کو کس طرح پروگرام کو نہ کرنے پر لیکچر پیش کی۔ اس کے بغیر تحریر نامکمل سی لگ رہی ھے۔ جزاک اللہ خیر والسلام
__________________
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
کنعان بھائی اہم نقطے کی طرف آپ نے توجہ مبذول کروائی ہے۔۔۔ اس کی لئےمشکور ہوں۔۔۔ اصل میں وہاں کوئی ایسا اہم یا مختلف فیہ مسئلہ نہیں تھا جس کو حل کرنا پڑا۔۔ ایک اتفاقی ملاقات میں ضمنا ایک بات سامنے آ گئی تھی پرنسپل صاحب کے وہ پمفلٹ ہیڈ مسٹرس کو دینے اور اس پر رائے طلب کرنے سے ہیڈ مسٹریس صاحب کو یہ خدشہ پیدا ہو گیا کہ اب میں کیا کہوں۔۔ ایک طرف حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات سےمحبت کی بات ہے دوسری طرف کالج میں ربیع الاول میں اختیار کئے جانے والے مروجہ امور کے اختیار کرنے سے مذہبی منافرت پھلنے کا اندیشہ تو ا پس منظر میں میری اوپر کی گفتگو ہوئی تھی۔ ورنہ کالج میں ہر سال ایک ماہ ربیع الاول میں ایک سیرت پروگرام ہوتا ہے۔ جس میں کسی بھی باہر کے سکالر کو بلا کر سیرت پر بچوں کی ذہنی صلاحیت کے مطابق گفتگو کی جاتی ہے۔۔ سکول کے استاتذہ اور بچے اپنے اپنے انداز میں حصہ لیتے ہیں۔ جن میں تقاریر ہوتی ہیں نعتیں پڑھی جاتی ہیں۔ درود شریف پڑھا جاتا ہے۔ سیرت سے متعلق دلچسپ معلومات پیش کی جاتی ہیں۔ اس پرگرام کی تیاری میں اساتذہ اور طلبہ کئی دن لگاتے ہیں اور مواد کے انتخاب کے لئے اساتذہ سے رجوع کیا جاتا ہے اور ان کی منظوری کے بعد ہی کسی تقریر یا نعت وغیرہ کو پیش کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس منظور ی میں چند امور دیکھے جاتے ہیں۔ سب سے اہم اس میں یہ ہوتا ہے کہ کوئی اختلافی مواد نہ ہو۔ معیار علمی اور ادبی ہو۔ کوئی تقریر یا نعت ڈبل نہ ہو۔ وغیرہ۔ اس جلسہ کے روز کالج میں چھٹی ہوتی ہے۔والدین کو باقاعدہ شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔۔۔ اور ایک بچوں کے حوالے سے اچھا پروگرام ہوتا ہے۔۔۔ گذشتہ سال کالج میں ہونے والی گفتگو مجھے یہاں کے بعض دھاگے دیکھ کر یاد آ گئی اس لئے میں نے واقعہ قدرے تفصیل سے ذکر کر دیا۔۔ اور آپ دوستوں سے رائے طلب کی ہے کہ ربیع الاول کے حوالے سے جو میں اب تک سمجھ رہا ہوں کیا وہ درست ہے یا اس پر غور کرنےکی ضرورت ہے۔۔۔ خلاصہ ساری بات کا یہ کہ۔۔۔۔ ہم سے شرعا عشق رسول کا تقاضا ہے۔۔ عشق رسول کو مانے کے طریقے شرعا مطلوب نہیں ہیں۔۔۔ اگر عشق ہو گا اور اس کے اظہار کے طریقے بھی انسان اختیار کر لے گا۔ |
|
|
| 9 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | sahj (11-02-11), مرزا عامر (15-02-11), آبی ٹوکول (11-02-11), ایکسٹو (11-02-11), ام حازم (19-02-11), راجہ اکرام (12-02-11), رضی (16-12-11), عبداللہ آدم (11-02-11), عروج (20-04-11) |
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,725
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
شمشاد بھائی، اب تو آپ ایک مرتبہ اپنی دونوں تحریریں پڑھ لیں شائد کہیں کوئی کوتاہی/فرق سمجھ آ جائے۔ معذرت کے ساتھ بات اب بھی ادھوری ھے، بحرحال پھر بھی اس پر مثبت رائے دینے کی کوشش پرسوں کروں گا۔والسلام |
|
|
| 4 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: pakistan
مراسلات: 431
کمائي: 5,442
شکریہ: 630
273 مراسلہ میں 547 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
----------------- |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے saraah کا شکریہ ادا کیا | ام حازم (19-02-11), شمشاد احمد (11-02-11) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کنعان بھائی
اپنی کج فہمی کی وجہ سے شاید میں آپ کی بات سمجھ نہیں پا رہا ہوں۔۔۔ یا اپنی سمجھا نہیں پا رہا ہوں۔۔۔۔ بہر حال۔ معاملہ جو بھی ہو۔۔ ان گذارشات کا مقصد یہی تھا کہ اگر اس میں کہیں اصلاح کی ضرورت ہے تو وہ ساتھیوں کے توجہ دلانے پر کر لی جائے۔۔۔۔۔ بہر حال آپ کو جب موقع میسر ہو تو کوتاہی یا فرق کو واضح کر دیجئے گا ۔۔۔ تا کہ میں اپنی اصلاح کر سکوں۔۔۔۔ شکریہ۔ |
|
|
|
|
#8 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,577
کمائي: 315,297
شکریہ: 25,210
16,398 مراسلہ میں 41,649 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
یہ بات بالکل بجا ہے کہ ہم سے مطلوب محبت ہے، محبت کے اظہار کے طریقے نہیں۔ اور یہی فطرت کا بھی تقاضا ہے۔ کیوں کہ اظہار محبت ایک انفرادی معاملہ ہے لہذا ہر دو انسانوں کا طریقہ اظہار عموما مختلف ہی ہوتا ہے۔ یہی اعتدال کی راہ ہے کہ عشق مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم سکھایا جائے اور اظہار عشق کو ہر انفرادی انتخاب ہی رہنے دیا جائے۔ لیکن یہ بات ہمیشہ مد نظر رہے کہ ہمارے لئے دور صحابہ اور عمل صحابہ رضی اللہ عنہم اور عمل اہل مدینہ ہمارے لئے بہترین مشعل راہ ہے۔ اللہ تعالی ہمیں عقل سلیم کو استعمال کرنے اور نقل صحیح پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔ آمین
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | آبی ٹوکول (12-02-11), ام حازم (19-02-11), شمشاد احمد (12-02-11), عبداللہ آدم (13-02-11), عروج (20-04-11) |
|
|
#9 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 36
کمائي: 818
شکریہ: 1
24 مراسلہ میں 75 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔
ماشاء اللہ تمام دوستوں کی باتوں کو پڑھا تو سوچا کے کچھ میں بھی شیئر کروں،،،جہاں تک تقاضائے حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے عید میلاد کے حوالے سے تو ہمیں یہ معلوم ہونا چاہئے کے دین اور اسوہ حسنہ کو سمجھنے کے حریص ہم سے زیادہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی جماعت تھی اگر ایسا کوئی عمل اُن سے ثابت ہو تو دلیل موجود ہے اور اگر نہیں تو یہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے کے ہم کن چیزوں میں وقت برباد کررہے ہیں |
|
|
| 7 قاری/قارئین نے حرب بن شداد کا شکریہ ادا کیا | نورالدین (12-02-11), نبیل خان (16-12-11), مرزا عامر (15-02-11), ام حازم (19-02-11), شمشاد احمد (12-02-11), عبداللہ آدم (13-02-11), عروج (20-04-11) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام علیکم !
شمشاد بھائی آپ نے بہت عمدہ اور معتدلانہ خیالات کا اظہار کیا جسے پڑھ کر دل خوش ہوا اللہ کرئے ہم سب مسلمان اسی سوچ کہ حامل ہوجائیں اور ایک دوسرے کے مکاتب فکر کا اول اسی فکر سے مطالعہ کریں نیز اختلاف کو فقط اختلاف کی حد تک محدود رکھیں اور ایکدوسرے کہ اختلافی نظریات کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنے کی اخلاقی جرات رکھیں مگر ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا میں یہاں پر پہلے بھی بعض احباب کے استفسار پر میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فقہی اصطلاح کے تناظر میں مباح اور مستحب ہونا بیان کرچکا ہوں مگر افسوس کہ احباب کو اصطلاح مباح کے فہم میں ابھی تک دشواری ہے ۔۔۔۔۔ مباح کا مطلب ہی المطلق ،الجائز و الحلال ہوتا ہے یعنی اصول فقہ میں ایسا تکلیفی حکم کے جس کے بجا لانے یا نہ بجا لانے کا اختیار شارع نے مکلف کو دے دیا ہوتا ہے لہزا وہ عمل اپنے ہونے کہ اعتبار سے فی نفسہ مباح ہوتا ہے مگر اس میں شامل حسن نیت اور اس عمل کا دیگر نیک عوامل کے ساتھ مل جانا اسے شریعت کی نگاہ میں مستحسن و مستحب بنا دیتا ہے بلکہ بعض مرتبہ ان درجات سے بھی بڑھا دیتا ہے ۔۔۔ پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ احباب بار بار اس مباح عمل کو روکنے کی کیوں کوشش کرتے ہیں جبکہ انھے خود یہ تسلیم ہے کہ یہ مباح ہے اور شارع نے بھی مکلفین کو اس سے نہیں روکا ؟؟؟؟؟؟ ساتھ ہی یہ عرض کردوں کہ صحابہ کرام کا ہر عمل سر آنکھوں پر انکی محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نہ کسی کو کوئی شک و شبہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی آج کہ دور کہ مسلمانوں کا یہ مقام ہے کہ انکی محبت رسول صحابہ کرام کی محبت رسول کے برابر بھی ہو چہ جائیکہ بڑھنا تو بہت دور کی بات مگر اس سب کہ باجود بھی عرض یہ کرنا چاہتا ہوں کہ بلا شبہ صحابہ کرام کا کسی عمل کو کسی بھی ہیئت مخصوصہ میں انجام دینا دین میں بطور دلیل اور اصول کے تو پیش کیا جاسکتا ہے مگر اس کے برعکس صحابہ کرام کا کسی فعل کو نہ کرنا یا کسی مخصوص ہیئت سے انجام نہ دینا ہرگز دین کا نہ تو کوئی اصول ہے اور نہ ہی اسے بطور دلیل پیش کیا جاسکتا ہے بلکہ صحابہ تو بعد میں آتے ہیں خود رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلقا کسی فعل کو ترک کرنا دین میں اسکی ممانعت کی دلیل کے بطور پیش نہیں کیا جاسکتا اور جو لوگ ایسا کرتے اور سمجھتے ہیں یہ ان کا قلت فہم و مطالعہ ہے اور ایسے لوگ یقینا اصول دین سے بے خبر ہیں ۔ ۔ ۔ ۔والسلام
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیکرِ دلرُبا بن کے آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا Last edited by آبی ٹوکول; 12-02-11 at 06:09 PM. |
|
|
|
|
#11 | |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 36
کمائي: 818
شکریہ: 1
24 مراسلہ میں 75 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
| حرب بن شداد کا شکریہ ادا کیا گیا | شمشاد احمد (14-02-11) |
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جیسے اصول فقہ کی مشھور کتاب " مختصر شرح الروضة " کی الفصل الثالث في أحكام التكليف میں حکم " المباح " کے تحت یہ تعریف رقم ہے کہ ۔ ۔ المباح : الْمُبَاحُ : مَا اقْتَضَى خِطَابُ الشَّرْعِ التَّسْوِيَةَ بَيْنَ فِعْلِهِ وَتَرْكِهِ ، مِنْ غَيْرِ مَدْحٍ يَتَرَتَّبُ عَلَيْهِ ، وَلَا ذَمٍّ ۔ ۔۔ ۔ ۔ وَقَالَ الْآمِدِيُّ : هُوَ مَا دَلَّ الدَّلِيلُ السَّمْعِيُّ عَلَى خِطَابِ الشَّارِعِ بِالتَّخْيِيرِ فِيهِ ۔ ۔ ۔ ۔ مفھوم :- مباح : یعنی شارع کا ایسا خطاب جو کہ فعل کے عدم و جواز کے درمیان بطور تصفیہ کے ہو اور جس کے مکلف کی نہ مدح کی جاسکے اور نہ ہی مذمت ۔ ۔ ۔۔ اور آمدی نے کہا کہ: خطاب شارع پر ادلہ سمعیہ کہ ایسی دلالت جو کہ مکلف کہ حق میں اختیار کو واضح کرے وہ مباح کہلاتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ امید کرتا ہوں اب بات سمجھ میں آگئی ہوگی ۔ ۔ ۔ ۔والسلام |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
نہیں میرے بھائی میں کوئی عالم نہیں ہوں بلکہ علماء کی تو خاک بھی نہیں بس بچپن سے مطالعہ کا شوق تھا سو فقط اپنا مطالعہ ہی شئر کرتا ہوں سو اس حوالہ سے دین کا ایک ادنٰی سا طالب علم آپ کہہ سکتے ہیں اس سے زائد کچھ نہیں ۔والسلام |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | کنعان (17-02-11), شمشاد احمد (16-02-11) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ویسے میں نے ایسے بہت کم ایسے غیر عالم لوگ دیکھے ہیں جن کی دینی معلومات وسیع اور انداز بیان وتحریر دلکش ہوتا ہے۔۔۔۔۔ یہاں پاک نٹ پر مجھے یہ دونوں خوبیاں آبی بھائی میں نظر آئی ہیں۔۔۔۔
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کالج, گمان, گذارش, لوگ, ممکن, ماں, محبت, معلوم, ایمان, اللہ, بہترین, بچوں, تلاش, تعلیم, جواب, حکم, حل, حال, حضرات, رات, راستہ, سٹاف, عشق, صحابہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ربیع الاول کا مہینہ آنے والا ہے | رضی | پاک۔نیٹ پراجیکٹس | 35 | 16-12-11 08:11 PM |
| عدنان سمیع کی ایک اور شادی | گلاب خان | شادی / منگنی کی تقریبات اور انتظامات | 19 | 03-11-10 10:08 PM |
| یکم ربیع الاول | گلاب خان | خبریں | 4 | 18-02-10 01:24 AM |
| عدنان سمیع خان اور مائیکل جیکسن کا مشترکہ البم؟ | طارق راحیل | خبریں | 0 | 23-02-09 09:02 PM |
| عدنان سمیع کا گانا - بارش | منتظمین | گانے | 14 | 17-10-08 06:37 PM |