|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 4377
|
||||
| 14 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | arslansun (22-02-09), dxbgraphics (02-11-11), rana ammar mazhar (16-01-12), فاروق درویش (07-03-12), نبیل خان (01-11-11), میاں شاہد (29-10-08), ملک اظہر (14-11-11), مرزا عامر (15-11-11), ابن جلال (31-10-08), احمد بلال (21-09-09), تفسیر حیدر (30-10-08), سیپ (31-10-08), عادل سہیل (31-10-08), غازی اسلام (24-03-09) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
اِن احادیث سے کیا ثابت ہوتا ہے؟
جو شخص بھی ان احدیث کو پڑھے گا وہ خود دیکھ لے گا کہ ان میں کسی’’مسیح موعود ‘‘ یا ’’مثیلِ مسیح‘‘ یا ’’ بروزِ مسیح‘‘ کا سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔ نہ ان میں اس امر کی کوئی گنجائش ہے کہ کوئی شخص اِس زمانے میں کسی ماں کے پیٹ اور کسی باپ کے نُطفے سے پیدا ہوکر یہ دعویٰ کردے کہ میں ہی وہ مسیح ہوں جس کے آنے کی سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشن گوئی فرمائی تھی۔ یہ تمام حدیثیں صاف اور صریح الفاظ میں اُن عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کی خبر دے رہی ہیں جو اب سے دوہزار سال پہلے باپ کے بغیر حضرت مریم علیہا السلام کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔ اس مقام پر یہ بحث چھیڑنا بالکل لا حاصل ہے کہ وہ وفات پاچکے ہیں یا زندہ کہیں موجود ہیں۔ بالفرض وہ وفات ہی پاچکے ہوں تو اللہ انہیں زندہ کرکے اُٹھا لانے پر قادر ہے( جو لوگ اس باست کا انکار کرتے ہیں انہیں سورۂ بقرہ کی آیت نمبر ۲۵۹ ملاحظہ فرمالینی چاہیے جس میں اللہ تعالیٰ صاف الفاظ میں فرماتا ہے کہ اس نے اپنے ایک بندے کو۱۰۰ برس تک مُردہ رکھااور پھر زندہ کردیا فَاَمَاتَہُ مِائَۃَعامٍ ثمَّ بَعَثَہہ۔ )،وگرنہ یہ بات بھی اللہ کی قدرت سے ہرگز بعید نہیںہے کہ وہ اپنے کسی بندے کو اپنی کائنات میں کہیں ہزارہا سال تک زندہ رکھے اور جب چاہے دنیا میں واپس لے آئے ۔ بہر حال اگر کوئی شخص حدیث کومانتا ہو تو اُسے یہ ماننا پڑے گاکہ آنے والے وہی عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہوں گے۔ اور اگر کوئی شخص حدیث کو نہ مانتا ہو تو وہ سرے سے کسی آنے والے کی آمد کا قائل ہی نہیں ہوسکتا، کیونکہ آنے والے کی آمد کا عقیدہ احادیث کے سوا کسی اور چیز پر مبنی نہیں ہے۔ لیکن یہ ایک عجیب مذاق ہے کہ آنے والے کی آمد کا عقیدہ تولے لیا جائے احادیث سے اور پھر انہی احادیث کی اس تصریح کو نظر انداز کردیا جائے کہ وہ آنے والے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہوں گے نہ کہ کوئی مثیلِ مسیح۔ دوسر ی بات جواتنی ہی وضاحت کے ساتھ ان احادیث سے ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کایہ دوبارہ نزول نبی مقرر ہوکر آنے والے شخص کی حیثیت سے نہیں ہوگا۔ نہ ان پر وحی نازل ہوگی، نہ وہ اللہ کی طرف سے کوئی نیایا کوئی نئے احکام لائیں گے، نہ وہ شریعت محمدی میں کوئی اضافہ یا کوئی کمی کریں گے، نہ ان کوتجدید دین کے لیے دنیامیں لایا جائے گا، نہ وہ آکر لوگوں کواپنے اوپرایمن لانے کی دعوت دیں گے، اورنہ و ہ اپنے ماننے والوں کی ایک الگ اُمت بنائیں گے( علماء اسلام نے اس مسئلے کوپوری وضاحت کے ساتھ بیان کردیاہے۔علامۂ تَفتازانی (۷۲۲ھ۔۷۹۲ھ) شرح عقائد نُسَفی میں لکھتے ہیں: ثبت انہ اٰخرالنبیاء۔ ۔ ۔ فان قیل قد روی فی الحدیث نزول عیسی علیہ السلام بعدہ قلنا نعم لکنہ یتابع محمدعلیہ السلام لان شریعۃ قد نسخت لا یکون الیہ وحی ولا نصب احکام بل یکون خلیفۃ رسول اللہ علیہ السلام (طبع مصر، ص ۱۳۵) دوسری بات جو اتنی ہی وضاحت کے ساتھ ان احادیث سے ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام کا یہ دوبارہ نزول نبی مقرر ہوکر آنے والے شخص کی حیثیت سے نہیں ہوگا۔ نہ ان پر وحی نازل ہوگی، نہ وہ اللہ کی طرف سے کوئی نیا پیغام یا نئے احکام لائیںگے، نہ وہ شریعتِ محمدی میں کوئی اضافہ یا کوئی کمی کریںگے، ان کو تجدید دین کے لیے دنیا میں لایاجائے گا، نہ وہ آکر لوگوں کو اپنے اوپر ایمان لانے کی دعوت دیںگے، اور نہ وہ اپنے ماننے والوں کو ایک الگ امت بنائیں گے۔ (علماء نے اس مسئلے کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کردیا ہے۔ علامہ تفتازانی (۷۲۲ ھ ۔۷۹۲ھ ) شرح عقائد نسفی میں لکھتے ہیں: یہ ثابت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔ ۔ ۔ اگر کہا جائے کہ آپ کے بعد عیسی علیہ السلام کے نزول کا ذکر احادیث میں آیا ہے، تو ہم کہیںگے کہ ہاں، آیا ہے، مگر وہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہوںگے، کیونکہ ان کی شریعت تو منسوخ ہوچکی ہے، اس لیے نہ ان کی طرف وحی ہوگی اور نہ وہ احکام مقرر کریںگے، بلکہ وہ رسول اللہ ﷺکے نائب کی حیثیت کام کریںگے۔ اور یہی بات علامہ آلوسی تفسیر روح المعانی میں کہتے ہیں: ثمالہ علیہ السلام حین ینزل باق علی نبوتہ السابقۃ لم یعزل عنھا بحال لکنہ لا یتعبد بھالنسخھا نی حقہ وحق غیر ہ وتکلیفہ باحکام ہذا الشریعۃ اصلاً وفرعاً فلا یکون الیہ علیہ السلام وحی ولا نصب احکام بدیکون خلیفہ لرسول اللہ صلی اللہ لعیہ وسلم وحاکما من حکام ملتہ بین امتہ (جلد۲۲۔ص۳۲) پھر، عیسی علیہ السلام جب نازل ہوںگے تو وہ اپنی سابق نبوت پر باقی ہوںگے، بہر حال اس سے معزول تونہ ہوجائیںگے، مگر وہ اپنی پچھلی شریعت کے پیرونہ ہوںگے کیونکہ وہ ان کے اور دوسرے سب لوگوں کے حق میں منسوخ ہوچکی ہے، اور اب وہ اصول اور فروغ مین اس شریعت کی پیروی پر تکلف ہوںگے، لہذا ان پر نہ اب وحی آئے گی اور نہ انہیں انہیں احکام مقرر کرنے کا اختیار ہوگا، بلکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب اور آپ کی امت میں ملت محمدیہ کے حاکموں میں سے ایک حاکم کی حیثیت سے کام کریںگے۔ امام رازی اس بات کو اور زیادہ وضاحت کے ساتھ اس طرح بیان کرتے ہیں: انتہاء الانبیاء الی مبعث محمدصلی اللہ علیہ وسلم فعند مبعثہ انتھت تلک المدۃ لا یبعدان یصیر(ای عیسی ابن مریم) بعد نزولہ تبعاً لمحمدؐ (تفسیر کبیر، ج ۔۳۔ص ۳۴۳) انبیاء کا دور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تک تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوگئے تو انبیاء کی آمد کا زمانہ ختم ہوگیا۔ اب یہ بات بعید از قیاس نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ نازل ہونے کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہوںگے۔ ) وہ صرف ایک کارخاص بھیجے جائیںگے، اور وہ یہ ہوگا کہ دجال کے تنے کا استیصال کردیں۔ اس غرض کے لیے وہ ایسے طریقے سے نال ہونگے کہ جن مسلمانوں کے درمیان ان کا نزول ہوگا، انہیں اس امر میں کوئی شک نہ رہے گا کہ یہ عیسیٰ ابن مریم ہی ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشنگوئیوں کے مطابق ٹھیک وقت پر تشریف لائے ہیں۔ وہ آکر مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوجائیںگے، جو بھی مسلمانوں کا امام اس وقت ہوگا سی کے پیچھے نماز پڑھیںگے (اگرچہ دو روایتوں (نمر۵ و۲۱) میں بیان کیاگیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نازل ہونے کے بعد پہلی نماز خود پڑھائیںگے، لیکن بیشتر اور قوی تر روایات (نمبر ۳،۷،۷،۱۵،۱۶) یہی کہتی ہیں کہ وہ نماز میں امامت کرانے سے انکار کریںگے اور جو اس وقت مسلمانوں کا امام ہوگا اسی کو آگے بڑھائیںگے۔ اسی بات کو محدثین اور مفسرین نے بالاتفاق تسلیم کیاہے۔ ) اور جو بھی اس وقت مسلمانوں کا امیر ہوگا اسی کو آگے رکھیںگے ، تاکہ اس شبہ کی کوئی ادنیٰ سی گنجائش بھی نہ رہے کہ ہ اپنی سابق پیغمبرانہ حیثیت کی طرح اب پھر پیغمبری کے فرائض انجام دینے کے لیے واپس آئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ کسی جماعت میں اگر اللہ کا پیغمبر موجود ہو تو نہ اس کا کوئی امام دوسرا شخص ہوسکتا ہے اور نہ امیر۔ پس جب وہ مسلمانوں کی جماعت میں آکر محض ایک فرد کی حیثیت سے شامل ہوںگے تو یہ گویا خود بخود اس امر کا اعلان ہوگا کہ وہ پیغمبر کی حیثیت سے تشریف نہیں لائے ہیں، اور اس بنا پر ان کی آد سے مہر نبوت کے ٹوٹنے کا قطعاً کوئی سوال پیدا نہ ہوگا۔ ان کا آنا بلا تشبیہ اسی نوعت کا ہوگا جیسے ایک صدر ریاست کے دور میں کوئی سابق صدر آئے اور وقت کے صدر کی ماتحتی میں مملکت کی کوئی خدمت انجام دے۔ ایک معمولی سمجھ بوجھ کا آدمی بھی یہ بات بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ ایک صدر کے دور میں کسی سابق صدر کے محض آجانے سے آئین نہیں ٹوٹتا۔ البتہ دونوں صورتوں میں آئین کی خلاف ورزی لازم آتی ہے۔ ایک یہ کہ سابق صدر آکر پھر سے فرائض صدارت سنبھالنے کی کوشش کرے۔ دوسرے یہ کہ کوئی شخص کی سابق صدارت کا بھی انکار کردے ، کیونکہ یہ ان تمام کاموں کے جواب کو چیلنج کرنے کا ہم معنی ہوگا جو ا سکے دور صدارت میں انجام پائے تھے۔ ان دونوں صورتوں میں سے کوئی صورت بھی نہ تو بجائے خود سابق صدر کی آمد آینی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں کرسکتی۔ یہی معاملہ حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کابھی ہے کہ ان کے محض آجانے سے ختم نبوت نہیں ٹوٹتی ۔ البتہ اگر وہ آکر پھر نبوت کا منصب سنبھال لیں اور فائض نبوت انجام دینے شروع کردیں، یا کوئی شخص ان کی سابق نبوت کابھی انکار کردے تو اس سے اللہ تعالیٰ کے آئین نبوت کی خلاف وری لازم آئے گی۔ احادیث نے پوری وضاحت کے ساتھ دونوں صورتوں کا سد باب کردیا ہے۔ ایک طرف وہ تصریح کرتی ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبوت نہیں ہے۔ اور دوسری طرف وہ خبر دیتی ہیں کہ عیسی ابن مریم علیہ السلام دوبارہ نازل ہوںگے۔ اس سے صاف ظاہر ہوجاتا ہے کہ ان کی یہ آمدثانی منصب نبوت کے فرائض انجام دینے کے لیے نہ ہوگی۔ اسی طرح ان کی آمدسے مسلمانوں کے اندر کفر وایمان کا بھی کوئی نیا سوال پیدا نہ ہوگا۔ ان کی سابقہ نبوت پر تو آج بھی اگر کوئی ایمان نہ لائے تو کافر ہوجائے۔ محمدصلی اللہ علیہ وسلم خود ان کی اس نبوت پر ایمان رکھتے تھے اور آپ کی ساری امت ابتداء سے ان کی مومت ہے۔ یہی حیثیت اس وقت بھی ہوگی۔ مسلمان کسی تازہ نبوت پر ایمان نہ لائیںگے بلکہ عیسی ابن مریم علیہ السلام کی سابقہ نبوت پر ہی ایمان رکھیں گے جس طرح آج رکھتے ہیں۔ یہ چیز نہ آج ختم نبوت کے خلاف ہے نہ اس وقت ہوگی آخری بات جو ان احادیث سے، اور بکثرت دوسری احادیث سے بھی معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ دجال ، جس کے فتنہ عظیم کااستیصال کرنے کے لیے حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام کو بھیجا جائے گا، یہودیوں میں سے ہوگا اور اپنے آپ کو ’’مسیح‘‘ کی حیثیت سے پیش کرے گا۔ اس معاملے کی حقیقت کوئی شخص نہیں سمجھ سکتا جب تک وہ یہودیوں کی تاریخ اور ان کے مذہبی تصورات سے واقف نہ ہو۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات جب نبی اسرائیل پے درپے تنزل کی حالت میں مبتلا ہوتے چلے گئے، یہاں تک کہ آخر کار بابل اور اسیریا کی سلطنتوں نے ان کو غلام بناکر زمین میں تتر بتر کردیا، تو انبیائے بنی اسرائیل نے ان کو خوشخبری دینی شروع کی کہ اللہ کی طرف سے ایک ’’مسیح ‘‘ آنے والاہے جو ان کو اس ذلت سے نجات دلائے گا۔ ان پیشینگوئیوں کی بنا پر یہودی ایک مسیح کی آمد کے متوقع تھے جو باداہ ہو، لڑکر ملک فتح کرے، بی اسرائیل کو ملک ملک سے اکر فلسطین میں جمع کردے، اور ان کی ایک زبردست قائم کردے۔ لیکن ان کی ان توقعات کے خلاف جب حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اللہ کی طرف سے مسیح ہوکر آئے اور کوئی لشکر ساتھ نہ لائے تو یہودیوں نے ان کی مسیحیت تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور انہیں ہلاک کرنے کے درپے ہوگئے۔ اس وقت سے آج تک دنیا بھر کے یہودی اس مسیح موعود (Promised Messiah) کے منتظر ہیں جس کے آنے کی خوشخبریاں ان کو دی گئی تھیں۔ ان کا لٹریچر اس آنے والے دور کے سہانے خوابوں سے بھر اپڑا ہے۔ تلمود: اور ربیوں کے ادبیات میں اس کا جو نقشہ کھینچاگیا ہے۔ اس کی خیالی لذت کے سہارے صدیوں سے یہودی جی رہے ہیں اور یہ امید لئے بیٹھے ہیں کہ یہ مسیح موعود ایک زبردست جنگی و سیاسی لیڈر ہوگا جو دریائے نیل سے دریائے فرات تک کاعلاقہ (جسے یہودی اپنی میراث کا ملک سمجھتے ہیں) انہیں واپس دلائے گا، اور دنیا کے گوشے گوشے سے یہودیوں کو لاکر اس ملک میں پھر سے جمع کردے گا۔ اب اگر کوئی شخص مشرقی وسطیٰ کے حالات پر ایک نگاہ ڈالے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشینگوئیوں کے پس منظر میں ان کو دیکھے تو وہ فوراً یہ محسوس کرے گا کہ اس دجال اکبر کے ظہور کے لیے اسٹیج بالکل تیار ہوچکا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دی ہوئی خبروں کے مطابق یہودیوں کا ’’مسیح موعود‘‘ بن کر اٹھے گا۔ فلسطین کے بڑے حصے سے مسلمان بے دخل کیے جاچکے ہیں اور وہاں اسرائیل کے نام سے ایک یہودی ریاست قائم کردی گئی ہے۔ اس ریاست میں دنیا بھر کے یہودی کھیچ کھیچ کر چلے آرہے ہیں۔ امریکہ ، برطانیہ اور فرانس نے اس کو ایک زبردست جنگی طاقت بنادیا ہے۔ یہودی سرمائے کی بے پایاں امداد سے یہودی سائنس داں اور ماہرین فنون اس کو روز افزوں ترقی دیتے چلے جارہے ہیں،اور اس کی یہ طاقت گردو پیش کی مسلمان قوموں کے لیے ایک خطرہ عظیم بن گئی ہے۔ اس ریاست کے لیڈروں نے اپنی اس تمنا کو کچھ چھپاکر نہیں رکھا ہے کہ وہ اپنی ’’میراث کا ملک‘‘ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ مستقبل کی یہودی سلطنت کا جو نقشہ وہ ایک مدت سے کھلم کھلا شائع کررہے ہیں اسے مقابل کے صفحے پر ملاحظہ فرمایئے۔ اس سے ظاہر ہو کہ وہ پورا شام، پورا لبنان پورا اردن اور تقریباً سارا عراق لینے کے علاوہ ترکی سے اسکندرون، مصر سے سینا اور ڈیلٹا کا علاقہ اور سعودی عرب سے بالائی حجاز ونجد کا علاقہ لینا چاہتے ہیں جس میں مدینہ منورہ بھی شامل ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے صاف محسوس ہوتا ہے کہ آئندہ کسی عالمگیر جنگ کی ہڑبونگ سے فائدہ اٹھاکر وہ ان علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کریںگے اور ٹھیک اس موقع پر وہ دجال اکبر ان کا مسیح موعود بن کر اٹھے گا جس کے ظہور کی خبردینے ہی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اکتفا نہیں فرمایا ہے بلکہ یہ بھی بتادیا ہے کہ اس زمانے میں مسلمانوں پر مصائب کے ایسے پہاڑ ٹوٹیں گے کہ ایک دن ایک سال کے برابر محسوس ہوتا ہوگا۔ اسی بناء پر آپ فتنۂ دجال سے خود بھی اللہ کی پناہ مانگتے تھے اور اپنی امت کو بھی پناہ مانگنے کی تلقین فرماتے تھے۔ اس مسیح دجال کا مقابلہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کسی مثیل مسیح کو نہیں بلکہ اس اصل مسیح کو نازل فرمائے گا جسے دوہزار برس پہلے یہودیوں نے ماننے سے انکار کردیا تھا اور جسے وہ اپنی دانست میں صلیب پر چرھاکر ٹھکانے لگا چکے تھے۔ اس حقیقی مسیح کے نزول کی جگہ ہندوستان یا افریقہ یا امریکہ میں نہیں بلکہ دمشق میں ہوگی کیونکہ یہی مقام اس وقت عین محاذ جنگ پر ہوگا۔ براہ کرم دوسرے صفحے پر نقشہ ملاحظہ فرمائے۔ اس میں آپ دیکھیں گے کہ اسرائیل کی سرحد سے دمشق بمشکل 60،50 میل کے فاصلے پر ہے۔ پہلے جو احادیث ہم نقل کرآئے ہیں ان کا مضمون اگر آپ کو یاد ہے تو آپ کو یہ سمجھنے میں کوئی زحمت نہ ہوگی کہ مسیح دجال ۷۰ ہزار یہودیوں کا لشکر لے کر شام میں گھسے گا اور دمشق کے سامنے جا پہنچے گا۔ ٹھیک اس ناک موقع پر دمشق کے مشرقی حصے میں ایک سفید مینار کے قریب حضرت عیسیؑ ابن مریم صبحدم نازل ہوںگے اور نماز فجر کے بعد مسمانوں کو اس کے مقابلے پر لے کر نکلیں گے۔ ان کے حملے سے دجال پسپاہوکر افیق کی گھاٹی سے (ملاحظہ ہو حدیث نمبر ۲۱) اسرائیل کی طرف پلتے گا اور وہ اس کا تعاقب کریںگے۔ آخر کا لُد کے ہوائی اڈے پر پہنچ کر وہ ان کے ہاتھوں ماراجائے گا (حدیث نمبر ۱۰،۱۴،۱۵) اس کے بعد یہودی چن چن کر قتل کیے جائیںگے اور ملت یہود کا خاتمہ ہوجائے گا (حدیث نمبر ۹،۱۵،۲۱) عیسائیت بھی حضرت عیسیؑ کی طرف سے اظہار حقیقت ہوجانے کے بعد ختم ہوجائے گی۔(حدیث نمبر ۱،۲،۴،۶) اور تمام ملیتں ایک ہی ملت مسلمہ میں ضم ہوجائیں گی (حدیث نمبر۶۔۱۵) یہ ہے وہ حقیقت جو کسی اشتباہ بغیر احادیث میں صاف نظر آتی ہے۔ اس کے بعد امر میں کیا شک باقی رہ جاتا ہے کہ ’’مسیح موعود‘‘ کے نام سے جو کاروبار ہمارے ملک میں پھیلایاگیا ہے وہ ایک جعل سازی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ اس جعل سازی کا سب سے زیادہ مضحکہ انگیز پہلو یہ ہے کہ جو صاحب اپنے آپ کو ان پیشن گوئیوں کا مصداق قراردیتے ہیں انہوں نے خود ابن مریم بننے کے لیے یہ دلچسپ تاول فرمائی ہے: ’’اس نے (یعنی اللہ تعالیٰ نے) براہینِ احمدیہ کے تیسرے حصے میں میرا نام مریم رکھا۔ پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے، دوبرس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی۔ ۔ ۔ پھر۔ ۔ ۔ مریم کی طرح عیسی کی روح مجھ سے نفخ کی گئی اور استعارے کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایاگیا،اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں، بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم میں درج ہے، مجھے مریم سے عیسیٰ بنادیاگیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔‘‘ (کشتی نوح۔ ص ۸۷،۸۸،۸۹) یعنی پہلے مریم بنے، پھر خود ہی حاملہ ہوئے، پھر اپنے پیٹ سے آپ عیسیٰ ابن مریم بن کر تولد ہوگئے! اس کے بعد یہ مشکل پی آئی کہ عیسی ابن مریم کا نزول تو احادیث کی رو س دمشق میں ہوتا تھا جو کئی ہزار برس سے شام کا ایک مشہور و معروف مقام ہے اور آج بھی دنیا کے نقشے پر اسی نام سے موجود ہے۔ یہ مشکل ایک دوسری پر لطف تاول سے یوں رفع کی گحضورئی: ’’واضح ہو کہ دمشق کے لفظ کی تعبیر میں میرے پر منجاب اللہ یہ ظاہر کیاگیا ہے کہ اس جگہ ایسے قصبے کا نام دمشق رکھاگیا ہے جس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو یزیدی ابطع اور یزید پلید کی عادات اور خیالات کے پیرو ہیں۔ ۔ ۔ یہ قصبہ قادیان بوجہ اس کے کہ اکثر یزیدی الطبع لوگ اس میں سکونت رکھتے ہیں دمشق سے ایک مشابہت اور مناسبت رکھتا ہے ‘‘۔ (حاشیۂ ازالۂ اوہام ص ۶۳۔۷۳) پھر ایک اور الجھن یہ باقی رہ گئی کہ احادیث کی روسے ابن مریم کو ایک سفید منارہ کے پاس اترنا تھا۔ چنانچہ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ مسیح صاحب نے آکر اپنا منارہ خود بنوالیا۔ اب اسے کون دیکھتا ہے کہ احادیث کی رو سے منارہ وہاں ابن مریم ؑ کے نزول سے پہلے موجود ہونا چاہئے تھا، اور یہاں وہ مسیح موعود صاحب کی تشریف آوری کے بعد تعمیر کیاگیا۔ آخری اور زبردست الجھن یہ تھی کہ احادیث کی رو سے تو عیسی ابن مریم کو لُد کے دروازے پر دجال کو قتل کرنا تھا۔ اس مشکل کو رفع کرنے کی فکر میں پہلے طرح طرح کی تاویلیں کی گئیں۔ کبھی تسلیم کیاگیا کہ لُدبیت المقدس کے دیہات میں سے ایک گاؤں کا نام ہے (ازالہ اوہام، شائع کردہ انجمن احمدیہ لاہور، تبقیطع خورد، صفحہ ۲۲۰) پھر کہاگیا کہ ’’لُد ان لوگوں کو کہتے ہیں جو بے جا جھگڑا کرنے والے ہوں۔ ۔ ۔ جب دجال کے بیجا جھگڑے کمال تک پہنچ جائٰںگے تب مسیح موعود ظہور کرے گا اور اس کے تمام جھگڑوں کا خاتمہ کردے گا ‘‘ (ازالۂ اوہام ، صفحہ ۷۳۰) لیکن جب اس سے بھی بات نہ بنی تو صاف کہہ دیاگیا کہ لُد سے مراد لدھیانہ ہے اور اس کے دروازے پر دجال کے قتل سے مراد ہے کہ اشرار کی مخالفت کے باوجود وہیں سب سے پہلے مرزا صاحب کے ہاتھ پر بعیت ہوئی (الہدیٰ ص ۹۱) ان تاویلات کو جوشخص بھی کھلی آنکھوں سے دیکھے گا اسے معلوم ہوجائے گا کہ یہ جھوٹے بہروپ (false impersonation) کا صریح ارتکاب ہے جو علی الاعلان کیاگیاہے۔ (تفہیم القرآن جلد چہارم، تفسیر سورہ الاحزاب اور ضمیمہ بسلسلہ حاشیہ نمبر77) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ٭٭۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ |
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | arslansun (22-02-09), نبیل خان (01-11-11), میاں شاہد (29-10-08), منتظمین (10-11-07), احمد بلال (21-09-09), تفسیر حیدر (30-10-08), رحیم (06-12-07), سیپ (31-10-08), شاہد جمیل حفیظ (31-10-08), عادل سہیل (31-10-08) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
سلام،
حضرت عیسیٰٰ علیہ السلام حضر ت امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کے بعد دنیا میں تشریف لایں گے اور ایک امتی کی حیثیت سے امام علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عرفان حیدر کا شکریہ ادا کیا | فاروق درویش (07-03-12), نبیل خان (01-11-11) |
|
|
#4 |
|
Junior Member
اجنبی
|
جزاک اللہ، بہت خوب بیان کیا۔
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
امتی سےمراد یہ ہے کہ وہ کوئی نئی شریعت لے کر نہیںآئیں گے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شریعت کے پیروی کریں گے۔
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (31-10-11), فاروق درویش (07-03-12), کملا (29-10-08), نبیل خان (01-11-11), میاں شاہد (29-10-08), مرزا عامر (15-11-11), تفسیر حیدر (30-10-08), عرفان حیدر (07-12-07) |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 126
کمائي: 139
شکریہ: 64
78 مراسلہ میں 125 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
حضرت عیسیٰٰ علیہ السلام امامت خودکریں گے یا امام کوئی اور ہونگے ؟ |
|
|
|
|
| arif کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (31-10-11) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
.................................................. ....
Last edited by میاں شاہد; 29-10-08 at 01:00 PM. |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا | arif (29-10-08), rana ammar mazhar (31-10-11) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 126
کمائي: 139
شکریہ: 64
78 مراسلہ میں 125 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حضر ت امام زمانہ علیہ السلام اورحضرت مہدی رضی اللہ عنہ ایک ہی ہے یا الگ الگ ؟
اوران میں سے نبی کون ہے اور صحابی کون ہے ؟ |
|
|
|
| arif کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (31-10-11) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
باب: قسطنطنیہ کی فتح کے متعلق ۔
مسلم 2029: سیدنا ابوہریرہ رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ص نے فرمایا: قیامت قائم نہ ہو گی، یہاں تک کہ روم کے نصاریٰ کا لشکر اعماق میں یا دابق میں اترے گا (یہ دونوں مقام شام میں ہیں حلب کے قریب)۔ پھر مدینہ سے ایک لشکر ان کی طرف نکلے گا، جو ان دنوں تمام زمین والوں میں بہتر ہو گا۔ جب دونوں لشکر صف باندھیں گے تو نصاریٰ کہیں گے کہ تم ان لوگوں (یعنی مسلمانوں) سے الگ ہو جاؤ جنہوں نے ہماری بیویاں اور لڑکے پکڑے اور لونڈی غلام بنائے ہیں ہم ان سے لڑیں گے۔ مسلمان کہیں گے کہ نہیں اللہ کی قسم! ہم کبھی اپنے بھائیوں سے نہ الگ ہوں گے۔پھر لڑائی ہو گی تو مسلمانوں کا ایک تہائی لشکر بھاگ نکلے گا۔ ان کی توبہ اللہ تعالیٰ کبھی قبول نہ کرے گا اور تہائی لشکر مارا جائے گا، وہ اللہ کے پاس سب شہیدوں میں افضل ہوں گے اور تہائی لشکر کی فتح ہو گی، وہ عمر بھر کبھی فتنے اور بلا میں نہ پڑےں گے۔ پھر وہ قسطنطنیہ (استنبول) کو فتح کریں گے (جو نصاریٰ کے قبضہ میں آگیا ہو گا۔ اب تک یہ شہر مسلمانوں کے قبضہ میں ہے) وہ اپنی تلواریں زیتون کے درختوں سے لٹکا کر مالِ غنیمت بانٹ رہے ہوں گے کہ شیطان یہ پکار لگائے گا کہ تمہارے پیچھے تمہارے گھروں میں دجال کا ظہور ہو چکا ہے۔ پس مسلمان وہاں سے نکلیں گے حالانکہ یہ خبر جھوٹ ہو گی۔ جب شام کے ملک میں پہنچیں گے تو تب دجال نکلے گا۔ پس جس وقت مسلمان لڑائی کےلئے مستعد ہو کر صفیں باندھتے ہوں گے کہ نماز کا وقت ہو گا اسی وقت سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہما الصلوٰۃ والسلام اتریں گے اور امام بن کر نماز پڑھائیں گے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ کا دشمن دجال سیدنا عیسیٰ ع کو دیکھے گا تو اس طرح ڈر سے گھل جائے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے اور جو عیسیٰ ع اس کو یونہی چھوڑ دیں تب بھی وہ خود بخود گھل کر ہلاک ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ اس کو سیدنا عیسیٰ ع کے ہاتھوں سے قتل کرائے گا اور لوگوں کو اس کا خون عیسیٰ ں کی برچھی میں دکھلائے گا۔
__________________
![]() Last edited by میاں شاہد; 29-10-08 at 01:47 PM. |
|
|
|
| میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا گیا | arslansun (22-02-09) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی ہیں لیکن اس امت میںانکی حیثیت اُمتی کی ہے اور حضرت مہدی رضی اللہ عنہ صحابی ہوں گے
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (31-10-11), نبیل خان (01-11-11) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 126
کمائي: 139
شکریہ: 64
78 مراسلہ میں 125 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| arif کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (31-10-11) |
|
|
#14 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 126
کمائي: 139
شکریہ: 64
78 مراسلہ میں 125 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| arif کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (31-10-11) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
معذرت:
مراسلہ نمبر 11 میں پیش کی گئی حدیث بخاری شریف کی نہیں بلکہ مسلم شریف سے ہے اور اس کی تصیح کر دیگئی ہے تمام احباب نوٹ کرلیں شکریہ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا | احمد بلال (21-09-09), عبداللہ حیدر (29-10-08) |
![]() |
| Tags |
| کتابوں, پہچان, قصہ, لوگ, نماز, نظر, موت, معلوم, آج, آدمی, اللہ, انسان, امیر, اسلام, جواب, حدیث, خون, خلاف, خبر, ختم نبوت, دیکھو, عیسیٰ, عبادت, صحابی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سیاستدانوں' جرنیلوں اور افسر شاہی پر تنقید کرنے والے عوام خود کیا کررہے ہیں؟ | جاویداسد | خبریں | 1 | 15-12-10 08:56 PM |
| تبدیلی کتنی ضروری ہے؟ ضروری ہے بھی یا نہیں؟ تبدیلی کا راستہ سیاستدان خود ہموار کررہے ہیں | جاویداسد | خبریں | 2 | 21-09-10 09:08 PM |
| سعودی فتویٰ تعلیم اور روزگار کے مقامات پر مردوعورت کا اختلاط حرام | Real_Light | خبریں | 37 | 29-08-10 03:13 PM |
| کہاں کی سیر کریں؟ | gul2836 | پاکستان کی سیاحت | 3 | 01-08-10 07:49 PM |