واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > عقیدہ رسالت




موہنِ رسول کی سزائے قتل پر ائمہ اربعہ اور علماء امت کا اجماع !

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-01-11, 05:17 PM   #1
موہنِ رسول کی سزائے قتل پر ائمہ اربعہ اور علماء امت کا اجماع !
sahj sahj آف لائن ہے 09-01-11, 05:17 PM

موہنِ رسول کی سزائے قتل پر ائمہ اربعہ اور علماء امت کا اجماع فقہ اسلامی میں ”سب و شتم“ سے کیا مراد ہے؟

عربی لغت میں”سب“ کا معنی یہ ہے کہ ”کسی چیز کے بارے میں ایسے کلمات کہے جائیں جن سے اس چیز میں عیب و نقص پیدا ہو سکے۔(مرقاة)ابن ِ تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” جو کلامِ عرف میں نقص، عیب،طعن کے لیے بولی جاتی ہو، وہ ’سب و شتم ‘ ہے“۔ (الصارم المسلول، ص ۵۳۴)
معاملہ جب رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور ذاتِ مقدسہ کا ہو تو احتیاط و ادب کا لازم ہونا کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام اور نبوت سے اختلاف بھی اباحت ِ دم کے زمرے میں آتا ہے، چہ جائیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور مذمت کی جائے۔ علامہ ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ اس سلسلہ میں یوں رقم طراز ہیں: ” اس کی مزید توضیح یہ ہے کہ اس کے محض آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے سے اعراض کرنے کی وجہ سے (جبکہ وہ معاہد نہ ہو) اس کا خون مباح ہو جاتا ہے اور ان حقوقِ واجبہ سے روگردانی کرنے کی بنا پر اس کو سزا دینا روا ہو جاتا ہے۔ یہ صورتحال محض اسے اس لیے پیش آتی ہے کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعزاز و احترام سے صرف سکوت اختیار کیا، لیکن جب اس کے عین برعکس وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذمت کرتا ،گالی دیتا اور توہین کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کی وجہ سے اس کی سزا اباحت سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے کہ سزا کا تعین جرم کی نوعیت کے اعتبار سے کیا جاتا ہے۔“ (الصارم المسلول، ص۵۹۳، اردو ترجمہ )

علامہ ابنِ تیمییہ رحمہ اللہ مزید صراحت فرماتے ہیں کہ ”جب ہم کسی مشرک یاکتابی کو سنیں کہ وہ الله اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوایذا دے رہا ہے تو ہمارے اور اس کے مابین کوئی عہد قائم نہیں رہتا بلکہ بقدرِ امکان و استطاعت ان سے جہاد و قتال ہم پر واجب ہے“۔
(الصارم المسلول، ص۲۹۱، اردو ترجمہ )

گالی کے معنی و مفہوم معلوم ہو جانے کے بعد دیکھئے گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا سے متعلق احکام الفقہ کیا ہیں اور ائمہ اربعہ کے فتاویٰ اور تصریحات کیا ہیں:


امامِ اعظم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب



علامہ خیرالدین رملی حنفی فتاوٰی بزازیہ میں لکھتے ہیں: ”شاتمِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بہرطور حداً قتل کرنا ضروری ہے۔اس کی توبہ بالکل قبول نہیں کی جائے گی، خواہ یہ توبہ گرفت کے بعد ہو یا اپنے طور پر تائب ہو جائے کیونکہ ایسا شخص زندیق کی طرح ہوتا ہے، جس کی توبہ قابلِ توجہ ہی نہیں اور اس میں کسی مسلمان کے اختلاف کاتصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس جرم کا تعلق حقوق العباد سے ہے، یہ صرف توبہ سے ساقط نہیں ہو سکتا، جس طرح دیگر حقوق (چوری، زنا) توبہ سے ساقط نہیں ہوتے اور جس طرح حد ِ تہمت توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔یہی سیّدناابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، امام اعظم رحمہ اللہ، اہل ِکوفہ اورامام مالک رحمہ اللہ کا مذہب ہے“۔
(تنبیہ الولاة و احکام، ص ۳۲۸)

امام ابن عابدین شامی حنفی رحمہ اللہ امت کی رائے بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
” تمام اہلِ علم کا اتفاق ہے کہ گستاخِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قتل واجب ہے اور امام مالک رحمہ اللہ، امام ابولیث رحمہ اللہ، امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ، امام اسحاق رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ، حتیٰ کہ سید نا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ ،ان تمام کا مسلک یہی ہے کہ اس کی توبہ قبول نہ کی جائے “۔
(فتاویٰ شامی، ج۳، ص۳۱۸)


فقہ حنفی کے ایک معتبر امام، اما م ابن ہمام رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ” جو بھی شخص حضور اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلم سے بغض رکھے، وہ مرتد ہو جاتا ہے ۔گالی دینے والا تو بطریقِ اولیٰ مرتد ہو گا، ہمارے نزدیک ایسے شخص کو بطورِ حد قتل کرنا ضروری ہے اور اس کی توبہ کو قبول کرتے ہوئے قتل معاف نہیں کیا جائے گا ، اہلِ کوفہ، امام مالک رحمہ اللہ، بلکہ سید نا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے یہی منقول ہے“۔علماء نے یہاں تک فرمایا کہ گالی دینے والا نشے میں ہو تب بھی قتل کیا جائے گا اور معاف نہیں ہوگا۔
(فتح القدیر، ج۴، ص۴۰۷)

علامہ طاہر بخاری رحمہ اللہ اپنی کتاب خلاصہ الفتاویٰ میں لکھتے ہیں کہ:

محیط میں ہے کہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت کرے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دینی معاملات یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف میں سے کسی وصف کے بارے میں عیب جوئی کرے چاہے گالی دینے والا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے ہو خواہ اہل کتاب وغیرہ میں سے ہو ذمی یا حربی، خواہ یہ گالی اہانت اور عیب جوئی جان بوجھ کر ہو یا سہواً اور غفلت کی بناء پر نیز سنجیدگی کے ساتھ ہو یا مذاق سے، ہر صورت میں ہمیشہ کے لئے یہ شخص کافر ہوگا اس طرح کہ اگر توبہ کرے گا تو بھی اس کی توبہ نہ عنداللہ مقبول ہے اور نہ عند الناس اور تمام متقدمین اور تمام متاخرین و مجتہدین کے نزدیک شریعت مطہرہ میں اس کی قطعی سزا قتل ہے۔حاکم اور اس کے نائب پر لازم ہے کہ وہ ایسے شخص کے قتل کے بارے میں ذرا سی نرمی سے بھی کام نہ لے“۔

(خلاصہ الفتاویٰ ص ۳۸۶، ج۶)


خطابی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جس نے بدگو کے قتل کے واجب ہونے میں اختلاف کیا ہو اور اگر یہ بدگوئی اللہ تعالیٰ کی شان میں ہو تو ایسے شخص کی توبہ سے اس کا قتل معاف ہو جائے گا ۔“ (فتح القدیر ص ۳۳۲، ج ۵)

بزازی رحمہ اللہ نے اس کی علت بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا تعلق حقوق العباد سے ہے اور حق العبد توبہ سے معاف نہیں ہوتا جیسے تمام حقوق العباد اور جیسا کہ حد قذف (تہمت کی سزا)توبہ سے ختم نہیں ہوتی۔ بزازی رحمہ اللہ نے اس کی بھی تصریح کی ہے کہ انبیاء میں سے کسی ایک کو برا کہنے کا یہی حکم ہے“۔


امام مالک رحمہ اللہ کا مذہب



ابنِ قاسم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ سے مصر سے ایک فتویٰ طلب کیا گیا، جس میں میرے فتویٰ کے بارے میں، جس میں کہ میں نے شاتمِ رسو ل علیہ السلام کے قتل کا حکم دیا تھا، تصدیق چاہی گئی تھی۔ اس فتویٰ کے جواب میں امام مالک رحمہ اللہ نے مجھ ہی کو اس فتویٰ کا جواب لکھنے کا حکم دیا۔ چنانچہ میں نے یہ جواب لکھا کہ ایسے شخص کو عبرتناک سزا دی جائے اور اس کی گردن اُڑا دی جائے۔ یہ کلمات کہہ کر میں نے امام مالک رحمہ اللہ سے عرض کی کہ اے ابو عبدالله! (کنیت اما م مالک رحمہ اللہ) اگر اجازت ہو تویہ بھی لکھ دیا جائے کہ قتل کے بعد اس لاش کو جلا دیا جائے۔ یہ سن کر امام مالک رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا،” یقیناً وہ گستاخ اسی بات کا مستحق ہے اور یہ سزا اس کے لیے مناسب ہے۔چنانچہ یہ کلمات میں نے امام موصوف کے سامنے ان کی ایماء پر لکھ دیے اور اس سلسلے میں امام صاحب نے کسی مخالفت کا اظہار نہ کیا۔ چنانچہ یہ کلمات لکھ کر میں نے فتویٰ روانہ کر دیا اور اس فتویٰ کی روشنی میں اس گستاخ کو قتل کر کے اس کی لاش کو جلا دیا گیا“۔


(الشفاء، ج۲، ص۴۵۳، اردو ترجمہ)


ابنِ کنانہ رحمہ اللہ کا حکام کو مشورہ

” مسبوط میں ابنِ کنانہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اگر کوئی یہودی یا نصرانی بارگاہِ رسالت میں گستاخی کا مرتکب ہو تو میں حاکمِ وقت کو مشورہ دیتا ہوں اور ہدایت کرتا ہوں کہ ایسے گستاخ کو قتل کر کے اس کی لاش کو پھونک دیا جائے یا براہ راست آگ میں جھونک دیا جائے“۔
(الشفاء، ج۲، ص۴۵۳ ،از قاضی عیاض مالکی رحمہ اللہ)

حکمِ قتل پر علمائے مالکیہ کی دلیل


قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے علمائے مالکیہ نے ایسے گستاخ ذمی کے قتل کے حکم پر قرآنِ کریم کی اس آیت سے استدلال کیا ہے: ” اور اگر وہ اپنی قسموں کو توڑیں اور عہد شکنی کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے بارے میں بدگوئیاں کریں، تو ان کفر کے سرغنوں سے لڑو“۔ (التوبہ، ۱۲)

اس آیت ِ قرآنی کے علاوہ علمائے مالکیہ نے سرکارِدوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے بھی استدلال کیا ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن اشرف کو اس کی گستاخیوں کی وجہ سے قتل کروایا تھا۔ اس گستاخ کے علاوہ اور دوسرے گستاخ بھی تعمیلِ حکمِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں قتل کیے گئے تھے۔“
(الشفاء، ج۲، ص ۴۴۶۔۴۴۷)

علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
” جوشخص بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات یا دین یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت میں نقص و عیب نکالے یا اسے ایسا شبہ لاحق ہو، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیصِ شان، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض و عداوت اور نقص و عیب کا پہلو نکلتا ہو، وہ دشنام دہندہ ہے اور اس کا حکم وہی ہے جو گالی دینے والے کا ہے ا ور وہ یہ کہ اسے قتل کیا جائے۔ اس مسئلہ کی کسی شاخ کونہ مستثنیٰ کیا جائے اور نہ اس میں شک و شبہ روا رکھا جائے خواہ گالی صراحتاً دی جائے یااشارةً۔ وہ شخص بھی اسی طرح ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر لعنت کرے یا آپ ا کو نقصان پہنچانا چاہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بددعا کرے یا آپ ا کی شان کے لائق نہ ہو یا آپ ا کی کسی چیز کے بارے میں رکیک ، بے ہودہ اور جھوٹی بات کرے یا جن مصائب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوچار ہوئے ان کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر عیب لگائے یا بعض بشری عوارض کی وجہ سے، جن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوچار ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیصِ شان کرے، اس بات پر تمام علماء اورائمہ الفتویٰ کا عہدِ صحابہ سے لے کر اگلے تاریخی ادوار تک اجماع چلا آرہاہے۔“

(الصارم المسلول، ص ۷۴۵، اردو ترجمہ )

امام قرطبی رحمہ اللہ اپنی مشہور تفسیر میں لکھتے ہیں: ”مروی ہے کہ ایک آدمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مجلس میں کہا کہ کعب بن اشرف کو بدعہدی کرکے قتل کیا گیا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اس کہنے والے کی گردن مار دی جائے۔(کیونکہ کعب بن اشرف کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں تھا بلکہ وہ مسلسل بدگوئی اور ایذاء رسانی کی وجہ سے مباح الدم بن گیا تھا)۔


اسی طرح کا جملہ ایک اور شخص ابن یامین کے منہ سے نکلا تو کعب بن اشرف کو مارنے والے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا آپ کی مجلس میں یہ بات کہی جا رہی ہے اور آپ خاموش ہیں۔خدا کی قسم! اب آپ کے پاس کسی عمارت کی چھت تلے نہ آؤں گااور اگر مجھے یہ شخص باہر مل گیا تو اسے قتل کر ڈالوں گا۔ علماء نے فرمایا ایسے شخص سے توبہ کے لیے بھی نہ کہا جائے گا بلکہ قتل کردیا جائے گا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بدعہدی کو منسوب کرے ۔ یہی وہ بات ہے، جسے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے سمجھا ،اس لیے کہ یہ تو زندقہ ہے“۔
(تفسیر قرطبی،ص ۸۲، جلد ۸)

اسلام (کافر ساب) کے قتل کو ساقط نہ کرے گا۔اس لئے کہ یہ قتل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق کی وجہ سے واجب ہوچکا ہے، کیونکہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے عزتی کی ہے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نقص و عیب لگانے کا ارادہ کیا ہے، اس لئے اسلام لانے کی وجہ سے بھی اس کا قتل معاف نہ ہوگا اور نہ یہ کافر مسلمان سے بہتر ہوگا، بلکہ بدگوئی کی وجہ سے باوجود توبہ کے دونوں کو چاہے کافر ہو یا مسلم قتل کر دیا جائے گا۔

( تفسیر قرطبی،ص ۸۴، ج۸)


امام شافعی رحمہ اللہ علیہ کا مذہب



امام شافعی رحمہ اللہ سے صراحتاً منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینے سے عہد ٹوٹ جاتا ہے اور ایسے شخص کو قتل کر دینا چاہیے۔ابن المنذررحمہ اللہ ، الخطابی رحمہ اللہ اور دیگر علماء نے ان سے اسی طرح نقل کیا ہے۔

امام شافعی رحمہ اللہ اپنی کتاب”الام“ میں فرماتے ہیں : ”جب حاکمِ وقت جزیہ کا عہد نامہ لکھنا چاہے تو اس میں مشروط کا ذکر کرے۔ عہد نامے میں تحریر کیا جائے کہ اگر تم میں سے کو ئی شخص محمدصلی اللہ علیہ وسلم یا کتاب الله یا دینِ اسلام کا تذکرہ نازیبا الفاظ میں کرے گا تو اس سے الله تعالیٰ اور تمام مسلمانوں کی ذمہ داری اٹھ جائے گی، جو امان اس کو دی گئی تھی، ختم ہو جائے گی اور اس کا خون اور مال امیر المومنین کے لیے اس طرح مباح ہو جائے گا جس طرح حربی کافروں کے اموال اور خون مباح ہیں“۔

(الصارم المسلول، ص ۳۲۔۳۳، اردو ترجمہ)

امام محمد رحمہ اللہ بن سخنون بھی اجماع نقل کرتے ہیں:

”اس بات پر علماء کااجماع منعقد ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوگالی دینے والا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والا کافر ہے اور اس کے بارے میں عذاب ِ خداوندی کی وعید آئی ہے۔ امت کے نزدیک اس کا حکم یہ ہے کہ اسے قتل کیا جائے اور جو شخص اس کے کفر اور اس کی سزا میں شک کرے وہ بھی کافر ہے“۔

(الدرمختار، ج۳، ص۳۱۷، نسیم الریاض، شرح الشفاء، ج۴، ص۳۳۸، الصارم المسلول، ص ۲۵۔۲۶ ، اردو ترجمہ)

صحیح بخاری کے مشہور شارح جلیل القدر محدث ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ اپنی کتاب فتح الباری( ص ۲۳۶ج۱۲) میں لکھتے ہیں: "ابن المنذر نے اس بات پر علماء کا اتفاق نقل کیا کہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے، اسے قتل کرنا واجب ہے ۔ ائمہ شوافع کے معروف امام ابو بکر الفارسی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الاجماع میں نقل کیا ہے کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تہمت کے ساتھ برا کہے، اس کے کافر ہونے پر تمام علماء کا اتفاق ہے،وہ توبہ کرے تو بھی اس کا قتل ختم نہ ہوگا کیونکہ قتل اس کے تہمت لگانے کی سزا ہے اور تہمت کی سزا توبہ سے ساقط نہیں ہوتی"۔


امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مذہب



”جو شخص رسو لِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرے، خواہ وہ مسلم ہو یا کافر، تو وہ واجب القتل ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ اسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کامطالبہ نہ کیا جائے“۔

دوسری جگہ فرماتے ہیں:

"ہر آدمی جو ایسی بات کرے جس سے الله تعالیٰ کی تنقیصِ شان کاپہلو نکلتا ہو، وہ واجب القتل ہے"؛ خواہ مسلم ہو یا کافر، یہ اہلِ مدینہ کا مذہب ہے۔ہمارے اصحاب کہتے ہیں کہ الله اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گالی کا اشارہ کرنا ارتداد ہے، جو موجبِ قتل ہے۔یہ اسی طرح جیسے صراحتاً گالی دی جائے۔علامہ ابن ِتیمیہ رحمہ اللہ اپنے امام کا عقیدہ ارقام فرماتے ہیں:
”ابوطالب سے مروی ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہو۔ فرمایا : اسے قتل کیا جائے، کیونکہ اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے کر اپنا عہد توڑ دیا“۔

حرب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد رحمہ اللہ سے ایک ذمی کے بارے میں سوال کیاکہ جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی تھی۔ آپ نے جواب دیاکہ اسے قتل کیا جائے“۔

امام احمد رحمہ اللہ نے جملہ اقوال میں ایسے شخص کے واجب القتل ہونے کی تصریح ہے، اس لیے کہ اس نے عہد شکنی کا ارتکاب کیا۔ اس مسئلہ میں ان سے کوئی اختلاف منقول نہیں۔
(الصارم المسلول، ص۲۷۔۲۸، اردو ترجمہ)

خلاصہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینے والے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والے کے کفر اور اس کے مستحقِ قتل ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ چاروں ائمہ (امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ،امام شافعی رحمہ اللہ، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ) سے یہی منقول ہے۔
(فتاویٰ شامی ، ج۳، ص۳۲۱)

ائمہ اربعہ کی تصریحات کے بعد چاروں مذاہب کے جیّد اور محقق علمائے کرام نے اس خاص مسئلہ پر چار انمول کتب تصنیف فرما کر اتمامِ حجت کر دیا ہے اور ان میں گستاخِ رسول کی سزا اپنے اپنے زاویہ نظر سے ”حداً قتل“ قرار دی گئی ہے۔ ان کتب کے نام درج ذیل ہیں:

۱․․․ کتاب الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ، مرتبہ قاضی عیاض اندلسی مالکی متوفی ۵۵۴ھ،
۲․․․ الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول ، مولفہ امام حافظ ابنِ تیمیہ حنبلی متوفی ۷۲۸ھ
۳․․․ السیف المسلول علیٰ شاتم الرسول ،مولفہ امام تقی الدین سبکی شافعی متوفی ۷۵۶ھ
۴․․․ تنبیہ الولاة وا لحکام علیٰ احکام شاتم خیر الانام صلی اللہ علیہ وسلم ، علامہ شامی حنفی


نبیِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی مخالفت بھی کفر ہے



”اگر کسی شخص نے بیان کیا کہ ناخنوں کا کاٹنا نبی علیہ السلام کی سنت ہے اور سننے والے نے کہا ٹھیک ہے سنت تو ہے مگر میں پھر بھی نہیں کاٹتا، اس سے بھی وہ کافر ہو جائے گا۔“
(خلاصة الفتاوٰی، ج۴، ص۳۸۶)

امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا واقعہ نقل کیا گیا ہے کہ ایک مرتبہ خلیفہ مامون کے سامنے بیان کیا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کدو پسند فرماتے تھے۔ ایک آدمی فوراً بولا: میں اسے پسند نہیں کرتا ۔ حضرت امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے حکم دیا کہ تلوار اور چمڑا لایا جائے (جو قتل کے لئے منگوایا جاتا ہے) اس آدمی نے کہا میں نے جو کچھ ذکر کیا اس سے اور تمام موجبات کفر سے استغفار کرتا ہوں۔اشہد ان لا الہ اللّٰہ و اشہد ان محمدا عبدہ و رسولہ۔امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے اسے چھوڑ دیا اور قتل نہیں کیا۔اسی قسم کا ایک واقعہ یہ ہے کہ خلیفہ مامون کے زمانے میں ایک شخص سے پوچھا گیا کہ اگر کسی نے جولاہے کو قتل کیا تو کیا حکم ہے ؟جواب دینے والے نے (قتل کے حکم ِ شرعی کا) مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ایک خوبصورت تروتازہ باندی دینی ہوگی۔ مامون نے یہ جواب سنا تو جواب دینے والے شخص کی گردن اڑانے کا حکم دیا جس پر عمل کیا گیا اور مامون نے کہا کہ یہ شریعت کے احکام کا استہزاء ہے اور شریعت کے کسی بھی حکم کا مذاق اڑانا کفر ہے۔“
(شرح الفقہ الاکبر للقاری رحمہ اللہ ص۱۳۲تا ص۱۳۴)


دیوبندی مسلک کے فتاویٰ



حکیم الامة حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:


” انبیاء علیہم السلام کی شان میں گستاخی اور اہانت کرنا کفر ہے“
(امداد الفتاویٰ ، ج۵، ص۳۹۳)

فتاویٰ دارالعلوم دیو بند میں ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی طرف فواحش کی نسبت کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا: ” یہ کفر ہے، کیونکہ یہ چیز انہیں گالی دینے اور ان کی توہین و تحقیر کے برابر ہے۔“
( فتاویٰ دارالعلوم دیو بند ، ص ۳۶۲، فتاویٰ عالمگیری مصری، ج۲، ص ۳۶۳ )

مولانا سیّد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

” مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس نے الله یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی تو وہ کافر ہے“۔
(اکفار الملحدین ،ص۱۱۹ ، فتاویٰ شامی، ج۳، ص ۳۱۷)

شیخ العرب والعجم سیّد حسین احمد مدنی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :


”نبی کریم ا کے بارے میں الفاظ ِقبیحہ بولنے والا اگرچہ معنی حقیقتاً مراد نہیں لیتا بلکہ معنی مجازاً مراد لیتا ہے، تاہم ایہام گستاخی و اہانت و اذیت ذاتِ پاک حق تعالیٰ شانہ اور جناب رسول ِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خالی نہیں کہ اس میں گستاخی، اہانت اور اذیت کاوہم پایا جاتا ہے اور یہی سبب ہے کہ حق تعالیٰ شانہ نے لفظ ” راعنا“ بولنے سے منع فرمایا اور ”انظرنا“ کا لفظ عرض کرنا ارشاد فرمایا۔ پس ان کلماتِ کفر کے بکنے والے کو منع شدید کرنا چاہیے ۔اگر مقدور ہو اور اگر باز نہ آئے تو قتل کر دیا جائے کہ موذی حق تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مجرم ہے“۔
(الشہاب الثاقب، ص۵۰، لطائفِ رشیدیہ ص۲۲)

غیر مقلدین کے فتاویٰ


مذاہبِ اربعہ کی ان بے پایاں تصانیف اور خدمت کے بعد غیر مقلدین کے مشہور و معروف اور معتبر عالم علامہ وحید الزماں رحمہ اللہ بھی اس موقف کی تائید کر تے ہیں:

” کسی نبی کی تحقیر یا توہین کفر ہے ۔۔۔۔۔۔۔ مسلمان نہ جناب خاتمِ رسالت ا کے ساتھ بے ادبی کرنے کو گوارہ کریں گے اور نہ جناب عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ، نہ کسی اور نبی کے ساتھ اور جو کوئی جناب عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بے ادبی کرے گا، اس مردود کو بھی ہم اسی طرح ماریں گے اور قتل کریں گے جیسے حضرت محمدصلی الله علیہ وسلم کے ساتھ بے ادبی کرنے پر اسکو ماریں گے اور قتل کریں گے“۔
(حاشیہ سنن ابنِ ماجہ، مترجم علامہ وحید الزماں، حاشیہ بربذکر البعاث، ص۳۹۶، مطبوعہ: الحدیث اکادمی کشمیری بازار لاہور)


بریلوی مسلک کا فتویٰ



مولانا احمد رضا خا ن صاحب بریلوی الاشباہ والنظائر کے حوالے سے لکھتے ہیں:


” نشے کی حالت میں کسی مسلمان کے منہ سے کلمہ کفر نکل گیاتو اسے کافر نہ کہیں گے اور نہ سزائے کفر دیں گے مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی وہ کفر ہے کہ نشے کی بے ہوشی سے بھی صادر ہو تو اسے معافی نہ دیں گے“ ۔
(فتاویٰ رضویہ ج۶،ص۴۰)

گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے معافی ایک دھوکہ ہے !


بعض اخباروں میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ کارٹونسٹ نے معافی مانگ لی کہ ” اگر“ کسی کو تکلیف پہنچی ہو تومیں اس سے معافی چاہتا ہوں،حالانکہ معروف ہستیوں کے نام لے لے کر اُن کی توہین کرنا آزادیِ اظہار نہیں، لیکن پھر بھی معافی ایک دھوکہ ہے، کیونکہ یہ پہلی مرتبہ ایسا نہیں کیا گیا بلکہ بار بار کیا گیاہے اور اس پر تمام دنیا کے اہل ایمان سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ”معافیاں“ مانگی گئی ہیں لیکن محسوس ہوتاہے کہ گستاخیاں کرنااور پھر اس پر ”معافی“ مانگناان کا وتیرہ بن چکا ہے۔

اللہ کے محبوب ترین ہستیوں کی شان میں ادنیٰ سی گستاخی کرنابھی الله کے عذاب کو دعوت دینا ہے۔ الله اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچانا، دنیااور آخرت میں اپنے اوپر، اپنے حمایتیوں پر، اپنے ہمنواوٴں پر بلکہ ساتھ میں بہت سے عوام پر بھی عذابوں کا مطالبہ کر لینا ہے۔ظاہر ہے کہ اوّل تو اُن سے معافی طلب نہیں کی گئی جس ہستی کو ایذا پہنچائی گئی۔دوسرے شریعت میں معافی کی گنجائش ہی نہیں اور وہاں سے معافی حاصل ہی نہیں ہو سکتی، تویہ سارے عالم کو دھوکہ دے کر اندھا بنانا ہے۔ پھر یہ کہ کارٹونسٹ اور اُس کے سرپرستوں کے بیان میں ”اگر“ کا لفظ بتا رہا ہے کہ اب بھی اُن کے نزدیک کوئی بات اہانت، تذلیل و تحقیر کی واقعی نہیں ہوئی، اگر کسی کو خوامخواہ تکلیف ہوئی ہو تو معافی چاہتے ہیں۔


ذرا غور تو کریں کہ معافی اور وہ بھی صرف اُس وقت کے متنبہ کرنے والوں سے اور پھر اپنی نظر میں غیر واقعی بات کہ ”اگر“ ہو تو، یہ کیا معافی مانگنا ہوا ، یہ تمام دنیا کو دھوکہ دینے کے سوا اور کیا ہے؟ یاد رکھئے الله تعالیٰ کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔ وہ دلوں کا حال خوب جانتے ہیں۔


دنیا بھر کے اربوں مسلمانوں کو جو اس وقت سخت اضطراب کی آگ میں بھن رہے ہیں اور تڑپ رہے ہیں، کیا اس دھوکہ سے ان کو کوئی سکون ہو سکتا ہے؟جب مسلمانوں کو شرعی طور پر معاف کرنے کا حق ہی نہیں ہے تو کیا وہ عذاباتِ الٰہی جو ایسے عرش ہلا دینے والے گناہوں پر بے قرار ہو کر برس پڑتے ہیں، اس سے ان کی کوئی رکاوٹ ہو سکتی ہے؟

احکامِ الٰہی، ارشاداتِ نبوی، اجماعِ امت ، قیاسِ شرعی، عقلِ سلیم، ہتکِ عزّت کا قانون تمام دنیا کی قوموں اور مملکتوں میں دیکھ چکے ہیں تو اس کے سوا کیا چارہ کار ممکن ہے کہ ان توہین کرنے والوں اور ایذا دینے والوں کے وجود سے زمین و آسمان کو پاک کر دیا جائے، یہی اصل توبہ ہے،چاہے و ہ بدبخت مسلمان ہو، ذمی ہو یا حربی کافر ہو۔


عقلی وجوہات


سب جانتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، الله تعالیٰ کی منتخب وہ اعلیٰ ہستی ہیں جن کے لئے الله نے اس دنیا کو قائم کیا اور تمام انبیاء پر مقدّم رکھا، جو ان کی توہین کرے ، برا کہے یا مذاق اڑائے ایسے لوگ یا ا ن کاساتھ دینے والے آخر کیسے الله کے عذاب سے بچ سکتے ہیں ،یہ خدائی احترامات کو پامال کرنے کا جرم ہے جو انتہائی خطرناک اور ناقابلِ معافی گناہ ہے، چاہے ایسا کرنے والا پہلے مسلمان ہو پھر مرتد ہو کر دوبارہ اسلام قبول کر لے، چاہے ذمی یا حربی کافر ہو اورتوہین کرنے کے بعداسلام قبول کر لے ۔ اسی طرح توہین کرنے والوں کو بے قصور تصور کرنا یا پھر یہ کہہ کر ان کے جرم کو ہلکا کرنا کہ وہ توہین کرتے ہیں تو کسی وجہ سے نہیں بلکہ اُن کو اس بات کی اہمیت ہی معلوم نہیں کہ رسول ا ہمارے لئے کیا ہیں۔ یہ کہہ کر ان کو معاف کرنا اتنا ہی بڑا گناہ ہے جتنا کہ توہین کرنے والاشخص گناہگار ہے ۔ کیونکہ برائی کو برُا نہ سمجھنا بھی گناہ ہی ہے، جس طرح ظلم پر خاموش رہنا بھی ظالم کا ساتھ دینا ہوتا ہے۔ پھر کافر اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے لئے کیا درجہ رکھتے ہیں، جبھی تو وہ اُن کی طرح طرح سے توہین کرتے ہیں۔

امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ” اگر کوئی شخص اپنے نبی کی شان میں گستاخی سن کر خاموش رہے، تو وہ شخص بھی اُس نبی کی امّت سے خارج ہو جاتا ہے“۔
(تحفظ ناموسِ رسالت اور گستاخِ رسول کی سزا ، ص۳۲۳، شائع کردہ عالمی تحفظ ختم نبوت، ملتان)

ہر شخص یہ بات جانتا ہے کہ معمولی آدمی کی ہتکِ عزت بڑا جرم ہے اور ہر حکومت میں یہ جرم قابلِ سزا ہوتا ہے۔اور جب ہتکِ عزت انتہائی معززین کی ہو تو انتہائی سزاوئں کا مستحق ہوتا ہے۔

تمام قوموں سے ایک سوال



اسرائیل ہو یا ساری دنیا، مشرق و مغرب ،شمال وجنوب کی کوئی مملکت یا اقوامِ متحدہ یا کوئی ادارہ جس میں انسانیت کی کوئی رمق باقی ہو، بلکہ دنیا بھر کے ہر ہر فرد سے یہ سوال ہے کہ اگر کوئی مسلمان یا دوسرے دین کا کوئی فرد آپ کے نبیوں، مقتداؤں، دین کے ستونوں اور ان کے اہلِخانہ کے نام لے لے کر یہ انتہائی برا کام کرے کہ ایک دن کو مقرر کر کے کارٹون ڈے منائے اور اس کو کرنے سے پہلے اعلان کرے کہ جو بھی حصہ لینا چاہے اسے دعوت عام ہے، اور آپ کو اس پر طاقت و قدرت حاصل ہو تو آپ اُس کے ساتھ کیا کریں گے؟
اگر یہ حرکت عالمِ انسانیت کسی طرح اپنے لئے قطعی برداشت نہیں کر سکتی تو اُس وقت وہ انسانیت کہاں غائب ہو جاتی ہے جب ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات آجاتی ہے؟ کیا آپ برداشت کر سکتے ہیں؟ کیا آپ اُس وقت آگ بگولہ نہ ہوں گے؟


مسلمانوں سے سوال



الله اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دینے والوں سے متعلق قرآنی آیات آپ کے سامنے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمٰعین کا گستاخوں کے ساتھ معاملہ آپ کے علم میں آ گیا۔ احکاماتِ فقہ، فتاوی ائمہ، علماء کے ردعمل اور اجماعِ امت سے واقف ہونے کے بعد اب کوئی ابہام نہیں رہا کہ توہینِ رسالت کی سزا قتل کے سوا کچھ نہیں اور معافی کا کوئی تصوّر نہیں۔

آخر ہم نے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کی حفاظت کا اب تک کتنا حق اداکیا؟ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو تمام عمر یہی دعا کرتے رہے کہ یا الله !میری امّت کو بخش دے اور جب اس دنیا سے تشریف لے جانے لگے تو اُن کے لبوں پر یہی الفاظ تھے کہ یا الله! میری امّت کو بخش دے۔ نہ کبھی اپنے لئے الله پاک سے سوال کیا نہ اپنی اولادوں کے لئے کچھ مانگا ، ہمیشہ امّت کا غم دل میں رکھا۔ وہ جن کی دعاوئں سے آج ہم اجتماعی تباہی سے بچے ہوئے ہیں، ورنہ وہ کون سا گناہ ہے جو امّت ِمحمد یہ نہیں کر رہی جن کی وجہ سے پچھلی قوموں کو الله جل شانہُ نے عذاب میں پکڑا اور صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ ہم ایسے کریم شفقت کرنے والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایسے الفاظ یا توہین آمیز خاکے کیسے برداشت کر لیتے ہیں؟ اپنی بزدلی اور ایمانی کمزوری کا اقرار کرنے کے بجائے یہ کہہ کر اپنے آپ کو تسلّی دے لیتے ہیں کہ اب تو انہوں نے معافی مانگ لی، حالانکہ شریعت میں اِس جرم کی تو معافی ہے ہی نہیں۔

دین ہم تک پہنچانے والے کی ناموس کی حفاظت کے لئے ہم کھڑے نہ ہوئے تو ہمیں مسلمان کہلانے کا کیاحق ہے۔یہ آیت شاید ہم جیسوں کے لئے ہی نازل ہوئی ہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: یہ گنوار کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے۔تم کہہ دو کہ ابھی ایمان تو تمہارے دلوں میں اُترا ہی نہیں، بلکہ یوں کہو کہ ہم مسلمان ہوگئے۔
(الحجرات، ۱۴)
آج ہمارا زمانہ بھی صحابہ رضی اللہ عنہ کے دور سے قریب تر ہے۔جو اجر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمٰعین نے سمیٹ لیا اب وہ کوئی اور نہیں پا سکتا، انہوں نے اسلام کی بنیاد رکھی، انہوں نے اُس وقت دین کو تقویت دی جب چاروں طرف کفر کی ظلمت چھائی ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنے چار وں طرف پھیلے کافروں سے ٹکر لی، خاص طور پر اُس وقت کی دو بڑی سلطنتوں روم اور فارس کی شوکت کو توڑا۔ ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ان کو بلاواسطہ رسول الله کی صحبت نصیب ہوئی ۔آج اسلام پھر غریب الوطن ہے ۔آج ہمارے زمانے میں بھی ساری دنیا پر عالمِ کفر چھایا ہوا ہے اور کہنے کو تو بہت سارے اسلامی ممالک بھی ہیں، لیکن کسی بھی ملک میں شرعی اسلامی حکومت نہیں ہے ، ہر اسلامی ملک نے سربراہ چننے کا جو نظام اپنایا ہوا ہے ،اس میں کسی صورت عالمِ کفر کی مرضی کے برخلاف کوئی اسلامی ذہن رکھنے والا شخص منتخب ہی نہیں ہو سکتا۔یہ اور بھی خطرناک وقت ہے کہ الله کی زمین پر الله کا نظام نافذ کرنے کی کوشش کرنے والوں کوصرف کفار سے ہی نہیں ٹکرانا ہوتا ہے بلکہ ان کی حفاظت کرنے والے مسلمان اتحادیوں کی مخالفتوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی لیے ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمارا زمانہ بعینہ صحابہ رضی اللہ عنہ کی طرح نہیں پھر بھی ان سے مماثلت رکھتا ہے ۔ہم میں سے اکثر یہ ذکر کرتے ہیں کہ ہم اگر دورِ صحابہ رضی اللہ عنہ میں ہوتے تو اسلام کی فلاں خدمت کرتے، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کر کے انوارات سمیٹتے۔ ذرا آنکھ بند کر کے تصّور کریں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے روضے مبارک میں تشریف فرما ہیں، فرشتے امت کے اعمال اور حالات آپ ا کو پیش کر رہے ہیں۔رسول ِپاک صلی اللہ علیہ وسلم د ل گرفتہ ہیں․․․ ہاں مدینے کی طرف کان لگا کر سنیں․․․ رسو ل الله صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں:” من یکفینی عدوی“میرے شمن کی خبر کون لے گا؟ یہ ہم کو ایذا دیتے ہیں۔ اب آنکھ کھول لیں ․․․ ہاں ، اب آنکھ کھول ہی لیں، اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں، آپ میں ایمان کی کتنی رمق باقی ہے؟ یقینا ہر مومن کہے گا ” میں حاضر ہوں اے الله کے ر سول صلی اللہ علیہ وسلم “۔
ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” آخری وقتوں میں لوگوں کی ایک ایسی نسل ہو گی کہ جن میں سے ایک کا اجر پچاس کے برابر ہو گا۔ صحابہ نے پوچھا کہ ہم میں سے پچاس یا اُن میں سے پچاس۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تم میں سے پچاس“۔
(الله ہمیں فتح کے لیے تیار کر رہا ہے“، امام انورالعلوقی)
اتنے زیادہ اجر کا ذکر کیوں فرمایا․․․ حالات کی سختیوں کی وجہ سے۔ توجب اجر بٹنے کا وقت ہے پھر پیچھے رہنا کون چاہے گا۔ہاں !جنت کے اعلیٰ درجات تو قربانیوں سے ہی حاصل ہوتے ہیں، لہٰذا سوچیں اورسمجھیں اپنے اعمال پہ نظر کریں، اپنی صلاحیتوں کو ٹٹولیں اور دین کی سربلندی اور ناموس ِرسالت ا کی حفاظت کے لئے استعمال کریں۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کافروں سے اتنی تکلیف نہیں پہنچتی جتنی اپنی امّت کے رویہ سے پہنچتی ہے۔ اس دنیا سے آگے بھی ایک دنیا ہے، جہاں ہمیں جانا ہے، کسی کی سفارش یا مصلحت کام نہیں آئے گی، اس دنیا میں تو ہم اپنے آپ کو دھوکہ دے سکتے ہیں مگر وہاں الله تعالیٰ سب کھول کر رکھ دیں گے۔ جو صراطِ مستقیم پر چلے گا اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کرے گا اُسی کا بیڑا پار ہو گا۔

ماہنامہ بینات
جنوری 2011
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری

Last edited by sahj; 09-01-11 at 05:19 PM..

 
sahj's Avatar
sahj
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 371
Reply With Quote
جواب

Tags
پیارے, پاک, پسند, قرآنی, لوگ, نظر, ممکن, محبت, معلوم, آدمی, ایمان, اللہ, انمول, امیر, احتجاج, اردو, اسلامی, اعلیٰ, جواب, جرم, خون, خبر, عیسیٰ, صحابہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سوچنے کی بات: آپ بھی سوچیں حیدر گپ شپ 29 30-10-11 06:19 PM
گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا ۔۔۔ sahj عقیدہ رسالت 101 06-02-11 03:23 PM
گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا موت ہے! علمائے کرام کا متفقہ فیصلہ ALI-OAD اسلام اور عصر حاضر 6 03-01-11 09:22 PM
شاتم رسول کی سزا اور اسکی معافی؟ ALI-OAD اسلامی عقیدہ 10 08-12-10 12:19 AM
حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا اور اس کا انجام چیتا چالباز اخلاق و آداب 6 19-10-10 05:41 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:55 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger