واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > عقیدہ رسالت




نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی شفاعت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-06-09, 01:56 AM   #1
نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی شفاعت
عبداللہ حیدر عبداللہ حیدر آف لائن ہے 19-06-09, 01:56 AM

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَکَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَشَ مِنْهَا نَهْشَةً ثُمَّ قَالَ أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهَلْ تَدْرُونَ مِمَّ ذَلِکَ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ يُسْمِعُهُمْ الدَّاعِي وَيَنْفُذُهُمْ الْبَصَرُ وَتَدْنُو الشَّمْسُ فَيَبْلُغُ النَّاسَ مِنْ الْغَمِّ وَالْکَرْبِ مَا لَا يُطِيقُونَ وَلَا يَحْتَمِلُونَ فَيَقُولُ النَّاسُ أَلَا تَرَوْنَ مَا قَدْ بَلَغَکُمْ أَلَا تَنْظُرُونَ مَنْ يَشْفَعُ لَکُمْ إِلَی رَبِّکُمْ فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ عَلَيْکُمْ بِآدَمَ فَيَأْتُونَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَيَقُولُونَ لَهُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ خَلَقَکَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيکَ مِنْ رُوحِهِ وَأَمَرَ الْمَلَائِکَةَ فَسَجَدُوا لَکَ اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَی إِلَی مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ آدَمُ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنَّهُ قَدْ نَهَانِي عَنْ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَی غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَی نُوحٍ فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُونَ يَا نُوحُ إِنَّکَ أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَی أَهْلِ الْأَرْضِ وَقَدْ سَمَّاکَ اللَّهُ عَبْدًا شَکُورًا اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِيهِ فَيَقُولُ إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنَّهُ قَدْ کَانَتْ لِي دَعْوَةٌ دَعَوْتُهَا عَلَی قَوْمِي نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَی غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَی إِبْرَاهِيمَ فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُونَ يَا إِبْرَاهِيمُ أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ وَخَلِيلُهُ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِيهِ فَيَقُولُ لَهُمْ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنِّي قَدْ کُنْتُ کَذَبْتُ ثَلَاثَ کَذِبَاتٍ فَذَکَرَهُنَّ أَبُو حَيَّانَ فِي الْحَدِيثِ نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَی غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَی مُوسَی فَيَأْتُونَ مُوسَی فَيَقُولُونَ يَا مُوسَی أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ فَضَّلَکَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِکَلَامِهِ عَلَی النَّاسِ اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِيهِ فَيَقُولُ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنِّي قَدْ قَتَلْتُ نَفْسًا لَمْ أُومَرْ بِقَتْلِهَا نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَی غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَی عِيسَی ابْنِ مَرْيَمَ فَيَأْتُونَ عِيسَی فَيَقُولُونَ يَا عِيسَی أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَکَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَی مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ وَکَلَّمْتَ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِيهِ فَيَقُولُ عِيسَی إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ قَطُّ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ ذَنْبًا نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَی غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَی مُحَمَّدٍ فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا فَيَقُولُونَ يَا مُحَمَّدُ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَخَاتِمُ الْأَنْبِيَائِ وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ أَلَا تَرَی إِلَی مَا نَحْنُ فِيهِ فَأَنْطَلِقُ فَآتِي تَحْتَ الْعَرْشِ فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ مَحَامِدِهِ وَحُسْنِ الثَّنَائِ عَلَيْهِ شَيْئًا لَمْ يَفْتَحْهُ عَلَی أَحَدٍ قَبْلِي ثُمَّ يُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَکَ سَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ أُمَّتِي يَا رَبِّ أُمَّتِي يَا رَبِّ أُمَّتِي يَا رَبِّ فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ أَدْخِلْ مِنْ أُمَّتِکَ مَنْ لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ مِنْ الْبَابِ الْأَيْمَنِ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ وَهُمْ شُرَکَائُ النَّاسِ فِيمَا سِوَی ذَلِکَ مِنْ الْأَبْوَابِ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ کَمَا بَيْنَ مَکَّةَ وَحِمْيَرَ أَوْ کَمَا بَيْنَ مَکَّةَ وَبُصْرَی صحیح البخاری کتاب احادیث الانبیاء باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى
{ إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ أَنْ أَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

"ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی خدمت میں گوشت لایا گیا تو آپ کو ایک دست اٹھا کردی گئی کیونکہ دست کا گوشت آپ کو بہت مرغوب تھا آپ نے اس کو تناول فرمایا پھر ارشاد فرمایا کہ میں قیامت کے دن سب کا سردار ہوں کیا تم کو معلوم ہے کہ روز قیامت تمام اولین و آخرین ایک ہی میدان میں جمع کیے جائیں گے وہ میدان ایسا ہموار اور وسیع ہوگا کہ ایک پکارنے والے کی آواز سب سن سکیں گے اور دیکھنے والا سب کو دیکھ سکے گا سورج بہت قریب آ جائے گا لوگوں کو ایسی تکلیف ہوگی کہ برداشت نہ کر سکیں گے وہ کہیں گے دیکھو! کتنی بڑی تکلیف ہو رہی ہے کسی سفارشی کو تلاش کرو بعض کی رائے ہوگی کہ آدم علیہ السلام کے پاس چلو لہذا سب ان کے پاس جائیں گے اور کہیں گے آپ ابوالبشر ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے بنایا ہے اور اپنی روح آپ میں پھونکی ہے اور ملائکہ سے آپ کو سجدہ کرایا ہے ہماری سفارش فرمائیے دیکھئے ہم کیسی تکلیف میں مبتلا ہیں آدم جواب دیں گے کہ آج میرا رب بہت غصہ میں ہے اس نے مجھے ایک درخت کے قریب جانے سے روکا تھا تو میں اس سے شرمندہ ہوں اور وہ نفسی نفسی کہیں گے اور فرمائیں گے کہ تم سب نوح کے پاس جاؤ وہ سب نوح کے پاس جائیں گے اور عرض کریں گے کہ آپ پہلے نبی ہیں اور خدا نے آپ کو اپنے شکر گزار بندے کے نام سے یاد فرمایا ہے لہذا آپ ہماری سفارش کیجئے کیونکہ ہماری حالت بہت خراب ہو رہی ہے نوح فرمائیں گے کہ آج اللہ تعالیٰ بہت غصہ میں ہے میں نے ایسا غصہ کبھی نہیں دیکھا اور اس نے تو مجھے ایک دعا دی تھی وہ میں اپنی امت کے لئے مانگ چکا ہوں پھر وہ بھی نفسی نفسی فرمائیں گے اور لوگوں سے کہیں گے کہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ سب لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے کہ آپ خلیل اللہ ہیں اور اللہ کے پیغمبر ہیں آپ ہمارے لئے شفاعت کیجئے وہ بھی یہی جواب دیں گے کہ آج اللہ تعالیٰ بہت غصہ میں ہے غصہ جو نہ پہلے آیا اور نہ پھر آئے گا اور میں نے دنیا میں یہ خطا کی تھی کہ تین جھوٹ بولے تھے ابوحیان نے ان تینوں جھوٹوں کا بھی بیان کیا ہے پھر وہ بھی نفسی نفسی پکاریں گے اور لوگوں سے فرمائیں گے کہ تم موسٰی علیہ السلام کے پاس جاؤ چناچہ تمام لوگ موسٰی علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہیں خدا نے آپ سے باتیں کیں اور آپ کو لوگوں پر بزرگی عطا فرمائی ہے آپ ہماری شفاعت فرمایئے دیکھے ہم کس مصیبت میں مبتلا ہیں موسٰی علیہ السلام فرمائیں گے آج تو میرا رب بہت خفا ہے اس سے پہلے اتنے غصہ میں نہیں آیا اور نہ آئندہ آئے گا میں نے دنیا میں ایک خطا کی تھی ایک آدمی کو مار ڈالا تھا جس کے مارنے کا حکم نہیں تھا آج مجھے نفسی نفسی پڑی ہے۔ تم عیسٰی علیہ السلام کے پاس جاؤ سب لوگ عیسٰی علیہ السلام کی خدمت میں آئیں گے اور عرض کریں گے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور وہ کلمہ ہیں جو اللہ نے مریم پر ڈالا تھا آپ اللہ کی روح ہیں آپ نے بچپن میں لوگوں سے باتیں کی ہیں لہذا ہماری سفارش کیجئے دیکھئے ہم کیسی مصیبت میں مبتلا ہیں وہ فرمائیں گے آج میرا رب بہت غصہ میں ہے نہ پہلے ایسا غصہ آیا نہ آئندہ آئے گا پھر وہ دنیا کا کوئی گناہ بیان نہیں کریں گے اور صرف نفسی نفسی فرمائیں گے اور کہیں گے آج تو تم محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے پاس جاؤ لوگ آن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ اے اللہ کے رسول! آپ خاتم الانبیاء ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کے تمام اگلے اور پچھلے گناہوں کو معاف فرما دیا ہے آپ ہماری شفاعت فرمایئے دیکھئے! ہم کیسی تکلیف میں ہیں اس وقت میں عرش کے نیچے سجدہ میں گر جاؤں گا خدا تعالیٰ اپنی حمد و تعریف کا ایسا طریقہ مجھ پر منکشف فرمائے گا جو اس سے قبل کسی کو نہیں بتایا گیا لہذا میں اس طرح اس کی حمد بجا لاؤں گا پھر حکم باری ہوگا اے محمد! اپنے سر کو اٹھایئے اور مانگئے جو آپ مانگنا چاہتے ہیں جو شفاعت آپ کریں گے قبول کی جائے گی میں سجدے سے سر کو اٹھا کر امتی امتی کہوں گا حکم ہوگا اے محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم! اپنی امت میں ان ستر ہزارلوگوں کو جن کا حساب کتاب نہیں ہوگا داہنے دروازے سے جنت میں داخل کردیجئے اور ان کو بھی اختیار ہے جس دروازے سے چاہیں داخل ہو جائیں اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ جنت کے ایک دروازہ کی چوڑائی اتنی ہے جیسا مکہ اور حمیر کے درمیان کا فاصلہ یا مکہ اور بصری کے درمیان کی مسافت۔"

 
عبداللہ حیدر's Avatar
عبداللہ حیدر
ذیلی ناظم

تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 876
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
Arabian (26-06-09), shafresha (19-06-09), فیصل ناصر (19-06-09), نعیم۔ (26-03-10), محمدخلیل (19-06-09), آبی ٹوکول (24-03-10), اویسی (24-03-10), سحر (19-06-09), عارف اقبال (24-03-10), عبداللہ آدم (24-03-10)
پرانا 24-03-10, 02:25 PM   #2
Senior Member
 
اویسی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2010
مراسلات: 1,087
کمائي: 19,171
شکریہ: 9,216
761 مراسلہ میں 1,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
Post جنت میں لیکر جائیگی محبت رسول ص کی

جنت میں لیکر جائیگی محبت رسول کی۔ سبحان اللہ
اویسی آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے اویسی کا شکریہ ادا کیا
نعیم۔ (26-03-10), ابن آدم (07-08-10), عارف اقبال (24-03-10), عبداللہ حیدر (24-03-10)
پرانا 24-03-10, 02:54 PM   #3
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام علیکم عبداللہ حیدر بھائی بہت خوب اللہ پاک آپکو جزائے خیر عطا فرمائے عرض فقط اتنی ہے کہ اس حدیث کی تشریح بھی فرمادیجئے تاکہ حدیث میں جو لفظ ذنب انبیاء علیھم السلام کی نسبت استعمال ہوا اسکا صحیح محمل واضح ہوجائے تاکہ پرانگندہ ذہنیتیں عصمت انبیاء کہ عقیدہ کو مجروع نہ کرسکیں والسلام
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
نعیم۔ (26-03-10), اویسی (25-03-10), عبداللہ حیدر (24-03-10)
جواب

Tags
arabic, کی۔, لیکر, مکہ, محبت, معلوم, آج, آدمی, اللہ, بچپن, تلاش, جھوٹ, جواب, جنت, جائیگی, حکم, حدیث, خدا, دیکھو, دعا, رسول, سبحان, سردار, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
نعت محمد صلی اللہ علیہ وسلم گوندل اپکے کالم 1 12-02-11 06:49 AM
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت sahj عبادات 0 03-10-09 11:02 PM
نیکی صرف اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا نام ہے sahj پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 5 24-09-09 04:55 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:56 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger