واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > عقیدہ رسالت




وفا۔۔کی محمد سے وفا تونے۔۔۔

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-04-09, 10:47 AM   #1
وفا۔۔کی محمد سے وفا تونے۔۔۔
غازی اسلام غازی اسلام آف لائن ہے 10-04-09, 10:47 AM

بسم اللہ الرحمن الرحیم
وفا

قسط نمبرا


وہ دن بھر کا تھکا ماندہ رات کو گھر پہنچا تو سامنے کمرے میں لگے گھڑیال نے بارہ دفعہ ٹن ٹن بجا کر اس کا استقبال کیا ۔وہ اپنے بیڈروم میں داخل ہوا ۔بستر پر پہنچتے ہی اس نے اپنا جسم بیڈ پر یوں گرا دیا جیسے کوئی تھکا ہارا مزدور منزل پر پہنچ کر سر سے بھاری گھٹری زمین پر پھینک دیتا ہے۔اس میں اتنی بھی ہمت نہ تھی کہ وہ کپڑے بدل سکے اس کا انگ انگ درد کر رہا تھا ۔اس نے کمرے کی لائٹ بجھائی اور بستر پر دراز ہوگیا ۔اس نے اپنی آنکھوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ دئے اور اعصاب کو سکون دینے کی کوشش کرنے لگا ۔تھوڑی دیر بعد وہ نیند کی آغوش میں پہنچ چکا تھا ۔رات کو پچھلے پہر وہ خواب دیکھتا ہے کہ وہ مرچکا ہے ۔
اس کے والدین ،بہن بھائی بچہ اس کی چارپائی کے گرد گھیراڈالے چیخ و پکار کر رہے ہیں ۔وہ ان کی دلدوز آوازیں سن رہا ہے ،لیکن جواب نہیں دےسکتا ،اسکا منہ کپڑے سے زور سے باندھ دیا جاتا ہے کہ کہیں منہ ٹیڑا نہ ہوجائے اور اسکی دونوں ٹانگیں ٹخنوں کے قریب رسی سے باندھ دی جاتی ہے تاکہ ٹانگیں کھل نہ جائیں۔وہ سنتا ہے کہ اس کے گھر کے ٹیلی فون سے اس کے عزیز و اقارب کو اس کی موت کی اطلاع دی جارہی ہے۔وہ یہ بھی سنتا ہے کہ اس کے بھائی شہر میں رہنے والے اسکے عزیزو اقارب کو اس کی موت کی خبر سنا نے جارہے ہیں،وہ دیکھتا ہے کہ محلے کی عورتیں گھر میں اکھٹا ہونا شروع ہوگئی ہیں ۔اچانک وہ مسجد کے لاو¿ڈ اسپیکر سے آواز سنتا ہے کہ کوئی منادی اعلان کرتا ہے:
::حضرات! ایک ضروری اعلان سنئے ،چوہدری افضل حسین قضائے الٰہی سے انتقال کرگے ہے ۔اسکا جنازہ ٹھیک چار بجے اسکے گھر سے اٹھایا جائےگا ۔تمام حضرات سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ جنازے میں شرکت فرما کر ثواب دارین حاصل کرےں::۔
وہ یہ خوفناک اعلان سن کر چیخنا چاہتا ہے لیکن قوت گویائی سلب ہوچکی ہے ۔وہ اُٹھ کر بھگنا چاہتا ہے لیکن اعضا حکم ماننے سے بغاوت کرچکے ہیں ۔پھر اس نے سنا کہ اسکا چچا اپنے بیٹے سے کہہ رہا ہے کہ غسال اور کفن سینے والے درزی کا بندوبست کرو ۔پھر اسکا ماموں اسکے چچا سے کہہ رہا تھا کہ پہلے محلے کے مولوی صاحب سے یہ تو پوچھ لو کہ کفن کو کپڑا کتنا لگے گا۔پھر اس کے ماموں نے اس کے چچا سے پوچھا کہ کیا قبر کا بندوبست ہوگیا ہے ؟ اس کے چچا نے کہا کہ قبر کا بندوبست تو میں صبح ہی کر آیا تھا اور اپنے سامنے ہی کھدائی شروع کرادی تھی۔اسے پتہ چلتا ہے کہ باہر دریاں بچھ گئی ہیں ۔محلے دار دریوں پر بیٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔اندرون شہر سے آنے والے عزیز و اقارب بھی پہنچنا شروع ہوگئے۔اس نے سنا کہ ملتان سے اسکی بہن کا فون آیا ہے اور اس نے تاکیداََ کہا ہے کہ میں فوراََ آرہی ہوں میرے آنے سے پہلے میرے بھائی کا جنازہ نہ آٹھایا جائے۔
اچانک اسکے کانوں میں ایک خوفناک آواز پڑتی ہے:©”میت کو غسل کےلئے تیار کرو اور غسل کا سامان لے آو¿“۔ےہ غسال کی آواز تھی ۔غسال کے حکم پر چند نوجوان اسکی چارپائی اٹھا کر اسکے گھر کے صحن کے ایک کونے میں رکھ دیتے ہیںاور پردے کےلئے ارد گرد چادریں تان دیتے ہیں۔سب سے پہلے اسکا بھائی اسکی کلائی سے اس کی محبوب ”راڈو“ گھڑی اتارتا ہے جو اس نے اپنے دوست سے دوبئی سے منگوائی تھی ۔پھر اس کے ہاتھوں سے سونے کی انگو ٹھی اتار لی جاتی ہے جو اس کی ساس نے اسے اسکی منگنی کے دن پہنائی تھی۔اسکی جامہ تلاشی لی جاتی ہے اور اسکی جیب سے ہزاروں روپے اور کاغذات نکالے جاتے ہیں ،وہ حسرت سے اس ڈرامہ کا ٹکٹ دےکھتا ہے ،جسکی اس نے آج ہی ایڈوانس بکنگ کروائی تھی اور کل دوستوں کے ساتھ الحمرا آرٹ سےنٹر میں وہ ڈرامہ دےکھنا تھا،اس کی قمیض اتار دی جاتی ہے۔اس کی خوبصورت نسواری رنگ کی پینٹ جو اس نے آج ہی پہنی تھی اسکے جسم سے جدا کردی جاتی ہے۔اب اسکے جسم پر فقط ایک جائنگہ رہ جاتا ہے،وہ غسال سے چیخ چیخ کر کہنا چاہتا ہے کہ خدارا میرا جا ئنگہ نہ اتارنا،میں بالکل ننگا ہوجاو¿ں گا،لیکن اسکی زبان تو ہمیشہ کےلئے خاموش ہوچکی تھی ۔غسال کے بے رحم ہاتھ بڑھتے ہیں اور اسکا واحد تن پوش جائنگہ بھی اترجا تا ہے ۔اس ننگ دھڑنگ کو اٹھا کر نہانے والے پھٹے پر لٹا دیا جا تا ہے ۔پھر پانی اور بالٹی کی آواز آتی ہے۔اچانک ٹھنڈے پانی کا ایک ڈونگا اس کے جسم پر گرتا ہے وہ کانپنا چاہتاہے لیکن کانپ نہیں سکتا ۔پھر دھڑا دھڑ اس پرپانی کے ڈونگے گرنے لگتے ہیں ۔پھر غسالاپنے سخت ہاتھوں سے اسکے جسم پر صابن ملنے لگتا ہے ۔اسے الٹا سےدھا کرتا ہے ۔کبھی کسی پہلو لٹا تا ہے اور کبھی کسی پہلو ۔نہلانے کے بعد اسے کفن پہنایا جاتا ہے،اسکے نتھنوں میں روئی ٹھونس دی جاتی ہے،عطر کا چھڑکاو¿ ہوتا ہے ،کفن پر مشک بور بکھیر دیا جاتا ہے ،اور اسے اٹھا کر جنازے والی چارپائی پر لٹا دیا جاتا ہے اور چارپائی کو اٹھا کر گھر کے صحن میں رکھ دیا جاتاہے۔سےنکڑوں مرد و زن اسکا چہرہ دیکھنے کےلئے اسکی طرف لپکتے ہیں۔چیخوں کا ایک طوفان اٹھتا ہے ،آنسو و¿ں کا ایک سیلاب بہہ جاتا ہے۔اسکی بیوی اور اسکی بہنیں اسکے اوپر گرجاتی ہیں ۔اسکے والیےن اور اسکے بچے رورو کر نڈھال ہوجاتے ہیں ۔اچانک مسجد سے پھر ایک اعلان ہوتا ہے :

 
غازی اسلام's Avatar
غازی اسلام
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: Khatm-e-nubuwwat
مراسلات: 166
شکریہ: 65
123 مراسلہ میں 416 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 880
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے غازی اسلام کا شکریہ ادا کیا
sahj (04-12-10), میاں شاہد (11-04-09), مباح (25-04-09), رضی (11-04-09)
پرانا 10-04-09, 10:52 AM   #2
Senior Member
مقبول
 
غازی اسلام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: Khatm-e-nubuwwat
مراسلات: 166
کمائي: 6,869
شکریہ: 65
123 مراسلہ میں 416 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

قسط نمبر2

” حضرات! افضل حسین کا جنازہ تیار ہے جو احباب جنازے میں شریک ہونا چاہتے ہیں وہ مرحوم کے گھر فورا پہنچ جائیں“َ۔
چار پانچ نوجوان جنازے کی چارپائی کو اٹھانے کےلئے اگے بڑھتے ہیں۔گھر کی عورتیں مزاحم ہوتی ہیںلیکن وہ کلمہ شہادت کی ایک زوردار صدا لگا کر جنازے کی چارپائی اٹھالیتے ہیں ۔ادھر جنازہ اٹھتا ہے ،ادھر چیخوں کی خوفناک آندھی سے ماحول تھر تھراتا ہے۔وہ یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہا تھا۔جب جنازہ گھر سے نکلا تو اس نے دیکھا کہ اسکی نئی سوزوکی گاڑی جو اس نے پچھلے مہینے ہی خریدی تھی باہر گلی میں کھڑی ہے ۔بازار سے جب اسکا جنازہ گزر رہاتھا تو اسے محلے کی وہ دکانیں نظر آرہی تھیں جہاں وہ بچپن میں گھر سے اچھل کود کرتا ہوا سودا سلف لےنے کےلئے آیا کرتا تھا۔راستہ میں اسے وہ کھیل کامیدان بھی نظر آیا جہاں وہ بچپن میں دوستوں کے ساتھ گلی ڈنڈا اور فٹ بال کھیلتا تھا ۔راہ میں اسے اپنا اسکول نظر آیا جہاں ہر سال پاس ہونے پر اسکے والد صاحب اسکو پھولوں کے ہار پہنایا کرتے تھے ۔سفر کرتے کرتے جنازہ جنازہ گاہ میں پہنچ گیا۔یہ جنازہ گاہ اسنے پہلے بھی کئی دفعہ دےکھی تھی ،لیکن ہر دفعہ جنازہ کسی اور کا ہوتا تھا اور وہ نماز جنازہ پڑھنے کےلئے آتا تھا ،لیکن آج جنازہ اسکا اپنا تھا اور دوسرے جنازہ پڑھنے کےلئے آئے تھے ،جنازہ زمین پر رکھ کر لوگ وضو کےلئے چلے گئے۔جونہی لوگ وضو کرکے واپس آئے فضا میں ایک گرجدار آواز گونجی :
”تمام بھائی نماز جنازہ کی نیت سن لیں،یہ نمازے جنازہ پڑھانے والے مولوی صاحب کی آواز تھی۔“
انہوں نے کہا‘
”چار تکبیر نماز جنازہ فرض کفایہ ثناءواسطے اللہ تعالیٰ کے درود واسطے نبی ﷺ کے دعا واسطے اس حاضر میت کے منہ طرف قبلہ شریف کے پیچھے اس امام کے“ ۔ اس کے بعد امام صاحب نے نماز جنازہ کا طریقہ بتایا ۔اس نے سوچا کیا ان لوگوں کو نماز جنازہ اور اسکی نیت نہیں آتی؟ لیکن جلد ہی اس کے ضمیر نے جواب دیا کہ تجھے بھی تو یہ سب کچھ نہ آتا تھا ۔تو بھی تو لوگوں کے جنازے ایسے ہی پڑھا کرتا تھا ۔تو اس جواب سے اسکی خوب تسلی ہوگئی۔
نماز جنازہ شروع ہونے سے قبل جب صفیں تیارہوچکی تھیں،اچانک اس کے خمیدہ کمر والد صاحب مجمع کے سامنے آئے اور انہوں نے کہا کہ اگر میرے مرحوم بیٹے نے کسی کا قرض دینا ہو تو وہ اپنا قرض مجھ سے لے سکتا ہے ۔اس نے دیکھا کہ ادھر سے اسکے والد صاحب نے یہ اعلان کیا ادھر اسکا دوست منشی خان جس سے اس نے پچاس ہزار روپے لینے تھے اور کئی دفعہ رقم طلب کرنے پر وہ اسے آج کل پر ٹرخا دیتا۔صفوں سے باہر نکلا اور پوری آواز سے چلا کر سارے مجمع کو مخاطب کرکے کہنے لگا : ©©”میں نے افضل حسین سے پچاس ہزار روپے لےنے تھے ،لیکن میں اسکا دوست ہونے کے ناتے اسے معاف کرتا ہوں“َ۔
غازی اسلام آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے غازی اسلام کا شکریہ ادا کیا
sahj (04-12-10), فیصل ناصر (12-04-09), میاں شاہد (11-04-09), مباح (25-04-09), رضی (11-04-09)
کمائي نے غازی اسلام کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
11-04-09 میاں شاہد ، 150
10-04-09 ایس اے نقوی v good 100
پرانا 10-04-09, 10:58 AM   #3
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,019
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت اچھی تحریر ہےجاری رکھیں اور سرورق کےلئے منتظمین سے رابطہ فرمائیں
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا گیا
غازی اسلام (10-04-09)
پرانا 10-04-09, 10:59 AM   #4
Senior Member
مقبول
 
غازی اسلام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: Khatm-e-nubuwwat
مراسلات: 166
کمائي: 6,869
شکریہ: 65
123 مراسلہ میں 416 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

قسط نمنر3
منشی خان کا یہ اعلان اس پر دوسری موت طاری کرگیا اور وہ سوچتا رہ گیا کہ شقی القلب دنیا موت کے ساتھ بھی ہنسی مذاق سے نہیں چوکتی۔نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے اور جنازہ سوئے قبرستان روانہ ہوجاتا ہے ۔قبر کے کنارے چارپائی رکھ دی جاتی ہے۔لوگ قبر کے گڑھے کو دیکھ کر اللہ اللہ کی صدائیں بلند کر رہے ہیں۔جنازہ کی چارپائی کے ایک سائیڈ کو کھولا گیا۔ایک باہمت نوجوان آگے کو بڑھا اور اس نے اس کی کمر میں ایک مضبوط کپڑا ڈال کر اسے درمیان سے اٹھایا۔دو نوجوانوں نے اس کا سر اور پاو¿ں پکڑا ۔کلمہ شہادت کا ایک زوردار ورد ہو ااور وہ لوگوں کے سہارے سے زمین سے زیر زمین جاچکا تھا۔قبر نے اسے اپنے پیٹ میں لٹا دیا تھا ۔اس کا منہ قبلہ رخ کیا گیا ۔پھر اس نے اپنے محلے کے ایک بزرگ جسے وہ چاچا کر م دین کے نام سے پکار تا تھا، کی آواز سی:
”بچو! وقت کم ہے ،شام کے سائے بڑھ رہے ہیں۔جلدی سے سلیں رکھو اور مٹی ڈالو۔“
یہ آواز سن کر اس کے جسم میں ایک زلزلہ آگیا۔اس کا اہل دنیا کے ساتھ یہ آخری مصافحہ تھا۔قبر پر سلیں رکھ دی گئیں۔پھر یکدم لوگوں نے قبر پر مٹی ڈالنی شروع کردی۔قبر میں ہولناک اندھیرا چھا گیا۔وہ زمین کے بار والے انسانوں کے دیکھ تونہ سکتا تھالیکن ابھی کسی سوراخ سے ان کی آوازیں آرہی تھیں۔اس وقت اس کے دال میں سخت حسرت پیدا ہوئی کاش ان کی آوازوں میں اس کی بیوی بچوں کی آواز بھی ہوتی۔قبر کو مٹی سے مکمل ڈھانپ دیا گیا۔اور اس کے ساتھ ہی بار سے آنے والی آوازیں خاموش ہوگئیں۔
قبر میں اس قدر اندھیرا چھا گیا کہ اسے قبر کی دیواریں بھی دکھائی نہ دیتی تھی۔اسے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اپنے اردگرد اور اوپر نےچے سانپ اور بچھو نظر آرہے تھے اور اسے یوں محسوس ہورہا تھا جےسے ان میں سے کوئی ابھی اس پر اپنا زہریلا ڈنک آزمائےگا اور اسے جلا کر خاک سیاہ بنادے گا۔اچانک ایک خوفناک آواز آتی ہے اورقبر اسے اٹھا کر باہر پھےنک دےتی ہے۔وہ سخت حیران ہوتا ہے کہ اس قبرستان کی ساری قبروں نے اپنے مردوں کو بار پھےنک دیا ہے۔سارے قبروں والے خوف کے مارے تھر تھر کانپ رہے ہیں کہ انھیں حکم ہوتا ہے کہ حشر کے میدان کی طرف بھاگو۔جہاں تم سے تمہارے اعمال کا حساب لیا جائےگا۔سب سرپٹ حشر کے میدان کی طرف اس سرعت وتیزی سے بھاگتے ہیں کہ تھوڑی دیر میں وہ حشر کے میدان میں موجود ہوتے ہیں۔
میدان حشر میں ان گنت انسان جمع ہیں۔لوگ سخت گھبراہٹ میں ہیںاور ریوڑوں کی صورت میں ادھر اُدھر بھاگ رہے ہیں۔سورج کی تمازت سے انسانی جسموں سے چربی پگھل رہی ہے۔زبانیں سوکھ کر کانٹا ہوگئی ہیں۔شدت پےاس سے ہونٹ اور زبانیں پھٹ چکی ہیں۔بھوک کا یہ عالم ہے کہ انسان کہنیوں تک اپنا گوشت کھا چکے ہیں۔انسانی رشتے کچے دھاگے کی طرح ٹوٹ چکے ہیں۔کوئی کسی کا غمگسار اور پر سان حا ل نہیں۔ماں باپ اولاد کو دیکھ کر بھاگتے ہیں اور اولاد ماں باپ کو دیکھ کر دوڑ جاتی ہے کہ کہیں کوئی ہم سے نےکی نہ مانگ لے۔ہر انسان نفسی نفسی پکار رہا ہے۔زمین اس قدر گرم ہے کہ اس پر پاو¿ں نہےں ٹکتے۔ہر انسان اپنے گناہوں کے مطابق پسےنے مےں ڈوبا ہوا ہے۔
اچانک وہ دیکھتا ہے کہ ایک بہت بڑا گروہ میدان حشر کی ایک سمت کو بھاگا جارہا ہے۔وہ اس تیزی سے بھاگ رہا ہے جیسے بکریوں کا ریوڑ حملہ آوار شےر کو دےکھ کر بھاگتا ہے ،لےکن اسے محسوس ہوتا ہے کہ ےہ گروہ کسی سکون گاہ کی طرف جارہا ہے۔وہ اس گروہ کے ایک فرد کو روک کر پوچھتا ہے کہ تم لوگ کدھر جارہے ہو؟اسے بتا یا جاتا ہے کہ یہاں سے کچھ فاصلے پر شافع محشر جناب محمد ﷺ کا دربار لگا ہے۔اور یہ پریشان لوگ شفاعت رسول ﷺ حاصل کرنے جارہے ہیں۔اسے بتایا جاتا ہے کہ شافع محشر ﷺ حوض کوثر پر تشریف فرماہیںاور اپنے پیاسے امتیوں کو جام کوثر بھر بھر کر پلارہے ہیں۔اور جو ایک جام پی لے اسے پھر دوبارہ پیا س نہیں لگے گی۔اس نے دیکھا کہ بہت سے لوگ پروانہ شفاعت حاصل کرکر اور جام کوثر پی کر سائے جنت جارہے ہیں۔اب ان پر کوئی غم نہیں،وہ شاداں و فرحاں ہیں،ان کے چہرے ستاروں سے زیادہ تابناک ہیں اور ان کے قلوب اطمینان کی دولت سے مالا مال ہیں۔جنت کی بہاریں ان کےلئے چشم براہ ہیں۔رضوان جنت ان کے استقبال کا منتظر ہے۔یہ فرحت بخش منظر دیکھ کر غم سے ڈوبا ہوا اس کا دل خوشی سے اچھل پڑا اور وہ شفاعت رسول ﷺ کا پروانہ اور جام کوثر حاصل کر نے کےلئے دوڑ نے لگا،لیکن اسے یوں محسوس ہوا جیسے کسی غیر مرئی طاقت نے اسے روک لیا ہے۔اس کے قدموں میں کسی نے میخیں ٹھونک دی ہیں ۔اسے یوں محسوس ہواکہ ا س کا ضمیر اس کی راہ میں ہمالیہ پہاڑ بن کر کھڑا ہوگیا ہے۔اس کا ضمیر ایک شعلہ بیاں مقرر کی طرح بے تکان بولنے لگا ۔اس کا ضمیر کہنے لگا:

Last edited by غازی اسلام; 10-04-09 at 11:03 AM.
غازی اسلام آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے غازی اسلام کا شکریہ ادا کیا
میاں شاہد (11-04-09), مباح (25-04-09)
پرانا 10-04-09, 11:10 AM   #5
Senior Member
مقبول
 
غازی اسلام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: Khatm-e-nubuwwat
مراسلات: 166
کمائي: 6,869
شکریہ: 65
123 مراسلہ میں 416 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

” اے بے وفا بے مروت انسان ! کس منہ سے شافع محشر ﷺ کے پاس جا رہا ہے۔تہرا ان سے کہا تعلق ؟ تہرا ان سے کہا واسطہ ؟ تہرا ان سے کہا رشتہ ؟ تجھے ان سے کہا محبت؟تجھے ان سے کہا چاہت ؟تہری زندگی مہں جب تو جوان تھا ِمرزا قادیانی نے شافع محشر ﷺ کی ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالا۔۔۔۔تونے کیا کیا؟
مرزا قادیانی اور اس کے بدمعاش ساتھیوں نے ساقی کوثر ﷺ کی شان میں ہرزا سرائی کی تونے کیا کیا ؟
سرور کائنات ﷺ کے قلب اطہر پر نازل ہونے والی کتاب قرآن مجید میں تحریف وتبدل کیا ۔۔۔تونے کیا کیا؟
مرزا قادیانی نے اپنی بکواسات کو احادیث رسول ﷺ کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو نے کیا کیا؟
مرزا قادیانی نے اپنے مرتد ساتھیوں کو صحابی رسول کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تونے کیا کیا؟
مرزا قادیانی نے اپنے چیلوں چاٹوں کو اصحاب بدر کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تونے کیا کیا؟
پیارے نبی ﷺ کے پیارے ابو بکر ؓ و عمر ؓ کو گالیاں دی گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو نے کیا کیا؟
محبو ب ﷺ کی لاڈلی بیٹی فاطمة الزہرا ؓ کے مقابلے میں مرزا قادیانی نے اپنی بیٹی کو سیدة النساءکہا ۔۔۔۔۔۔۔۔تو نے کیا کیا؟
سید الکائنات ﷺ کی ازواج مطھرات کے مقابلے میں مرزا قادیانی کی بیوی کو ام المومنین کہا گیا ۔۔۔۔۔۔۔ تو نے کیا کیا؟
محسن انسانیت ﷺ کے پیارے شہر مکہ ومدینہ کے مقابلے میں مرزا قادیانی کے منحوس شہر ”قادیان“ کو مکہ و مدینہ کہا گیا۔۔۔تونے کیا کیا؟
تیرے سامنے اسلام لٹتارہا۔۔۔۔۔۔۔قرآن لٹتا رہا۔۔۔۔۔رسول ﷺ کے امتی مرتد ہوکر قادیانی بنتے رہے اور تو دولت سمیٹنے میں مست رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تیرے کانوں پر کبھی جوں تک نہ رینگی ۔۔۔۔۔۔اتنے بڑے حادثوں نے تیرے دل پر کبھی چوٹ نہ لگائی۔۔۔۔۔۔اتنے بڑے سانحوں نے کبھی تجھے متفکر نہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔اب بتا تیرا رسول ﷺ سے کیا تعلق ؟۔۔۔۔۔تیرا رسول ﷺ سے کیا ناتا؟۔۔۔۔۔

وہ حشر کے میدان میں اپنے ضمیر کے سامنے لاجواب کھڑا ہے۔۔۔ضمیر کے سوالوں نے اسے گھائل کر کے رکھ دیا ہے ۔۔۔۔ضمیر اس کو ایک زور دار دھکا مارتا ہے اور کہتا ہے چل اب جہنم کو ۔۔۔۔جہاں کے لپکتے شعلے تیرے ،منتظر ہیں۔۔۔جہاں کے بچھو اور سانپ تیرے انتظار میں اپنے ڈنک کےلئے بیقراری سے لوٹ رہے ہیں۔۔۔یہ منظر دیکھ کر اس کے منہ سے ذبح ہوتے بکرے کی طرح دردناک چیخ نکلتی ہے۔۔۔جس کی ہولناکی سے وہ خواب سے بےدار ہوجاتا ہے ۔۔۔۔۔ وہ بری طرح کانپ رہا تھا ۔۔۔اس کاجسم پسینے سے شرابور تھا۔۔۔تھوڑے اوسان بحال ہوئے تو اس نے سنا کہ محلے کی مسجد سے صبح کی اذان کی آواز آرہی تھی ۔
حضرت بلال ؓ کا جانشین کہہ رہا تھا::
اشھد ان محمد ا رسو ل اللہ
اشھد ان محمد ا رسول اللہ
وہ آنکھےں کھول کر دیوانہ وار ادھر ادھر دیکھنے لگتا ہے ۔اچانک اس کی نظر سامنے لگے کیلنڈر پر پڑتی ہے ،جس پر جلی حروف سے لکھا تھا۔
((((( لِتُؤمِنُوا بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ وَتُعَزِّرُوہُ وَتُوَقِّرُوہُ وَتُسَبِّحُوہُ بُکرَۃً وَأَصِیلاً ::: لازم ہے کہ تُم لوگ اللہ پر اِیمان لاؤ اور رسول پر اور اُسکی عِزت کرو اور اُسکی توقیر کرو اور صُبح اورشام اللہ کی پاکیزگی بیان کرو )))))

ختم شد


آپ کی رائے کا منتظر
طالب دعاٍ
غازی اسلام

Last edited by غازی اسلام; 11-04-09 at 08:38 AM.
غازی اسلام آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے غازی اسلام کا شکریہ ادا کیا
sahj (04-12-10), میاں شاہد (11-04-09), منتظمین (10-04-09), مباح (27-05-09), محمدخلیل (10-04-09)
پرانا 10-04-09, 11:11 AM   #6
Senior Member
مقبول
 
غازی اسلام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: Khatm-e-nubuwwat
مراسلات: 166
کمائي: 6,869
شکریہ: 65
123 مراسلہ میں 416 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سید انجم شاہ مراسلہ دیکھیں
بہت اچھی تحریر ہےجاری رکھیں اور سرورق کےلئے منتظمین سے رابطہ فرمائیں
پسند فرمانے کا شکریہ
غازی اسلام آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 10-04-09, 11:14 AM   #7
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,019
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت ہی اچھی بہت ہی کمال کی تحریر ہے تعریف کےلئے الفاظ منتخب کرنے پڑیں گے
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 10-04-09, 11:15 AM   #8
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,019
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

تلاش کریں اگر تاریخ ثانی محمد (ص)
ثانی تو بڑی چیز ہے سایہ نہ ملے گا
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل (10-04-09)
پرانا 10-04-09, 09:55 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ ،
اللہ خوش رکھے غازی بھائی ، آپ کو اور مجھے اور اس کے آخری رسول اور نبی محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والے ہر ایک مومن اور مومنہ کو اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا سچا حقیقی عملی تابع فرمان بنا دے اور ان صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی عزت و تعظیم کے لیے قربان ہونے تک کی ہمت عطا فرمادے ، ہمیں قبول فرمالے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (04-12-10), میاں شاہد (11-04-09), مباح (27-05-09), محمدخلیل (10-04-09), ایس اے نقوی (25-04-09), غازی اسلام (11-04-09)
پرانا 11-04-09, 12:23 PM   #10
Senior Member
 
میاں شاہد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: www.alkamunia.com
مراسلات: 10,442
کمائي: 38,201
شکریہ: 8,508
4,556 مراسلہ میں 9,750 بارشکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں میاں شاہد کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default


ماشا اللہ، سبحان اللہ

آپ نے بہت عمدہ اور بہترین باتیں پیش کی ہیں
اللہ پاک ہمیں دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے آمین
آپ کا بہت بہت شکریہ
میاں شاہد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا
sahj (04-12-10), مباح (27-05-09), ایس اے نقوی (25-04-09)
پرانا 11-04-09, 10:06 PM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,645
کمائي: 28,550
شکریہ: 7,151
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس اچھی تحریر سے سبق حاصل کیجئے اور رسول عربی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیش کردہ قرآن روزانہ پڑھئیے۔ کہ قرآن پر عمل ، اس کا علم حاصل کرنا اور پھر اس قرآن اور نبی کریم کی سنت سے حاصل شدہ علم کی مدد سے اپنا کاروبار زندگی چلانا ہی محمد صلعم سے اصل وفا ہے ۔
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
sahj (04-12-10), ایس اے نقوی (25-04-09)
پرانا 12-04-09, 02:15 AM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
اس اچھی تحریر سے سبق حاصل کیجئے اور رسول عربی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیش کردہ قرآن روزانہ پڑھئیے۔ کہ قرآن پر عمل ، اس کا علم حاصل کرنا اور پھر اس قرآن اور نبی کریم کی سنت سے حاصل شدہ علم کی مدد سے اپنا کاروبار زندگی چلانا ہی محمد صلعم سے اصل وفا ہے ۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بہت اچھے فاروق بھائی ، بالکل ٹھیک کہا ، ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ قران کو پڑھنا اپنے روزمرہ معمولات میں شامل رکھے ، اور اللہ کی طرف سے اللہ کے کلام کی قولی اور عملی تفسیر کرنے کے لیے بھیجے گئے اللہ کے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے قولی فعلی اور تقریری سنت کے مطابق اس کو سمجھے ، اور اس پر عمل کرے ، کہیں سنت کو ترک کیا تو بلا شک و شبہہ قران کے مطلوب و مقصود کو کھو دیا ، اور اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے آگے بڑھنے کا مجرم ہوا ، اللہ ہم سب کو اس اور ہر گمراہی سے محفوظ رکھے ، اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے ثابت شدہ ہر ایک سنت کو قبول کرنے اپنانے اور اسی پر عمل پیرا رہنے کی فوفیق عطا فرمائے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
پرانا 25-04-09, 12:48 PM   #13
Senior Member
 
مباح's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: karachi
مراسلات: 250
کمائي: 6,023
شکریہ: 762
208 مراسلہ میں 554 بارشکریہ ادا کیا گیا
مباح کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم برادر!
سبحان اللہ میں قربان جاؤں اپنے سوہنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں پر اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان فتنوں کا مقابلہ کرنے کی اور قادیانییت کے فتنے کو طاقت بصیرت اور علم کے ساتھ لڑنے کی توفییق عنایت فرمائے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں صرف یہی کہنا چاہوں گا کہ اللہ آپ کو اسی طرح قادیانییت کا مقابلہ کرنے کی اور ان مرتدوں کا پردا فاش کرنے کی توفیق دے اور آپ کی اس کوشش کو قبول و منظور فرمائے آمین
مباح آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مباح کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (25-04-09), غازی اسلام (14-05-09)
پرانا 04-12-10, 04:39 PM   #14
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,994
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سبحان اللہ

اللہ تعالٰی بھائی غازی کو جزائے خیر عطا فرمائے
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, کمال, پاک, وفا, قرآن, قران, نیند, موت, مقابلہ, مسجد, آج, اللہ, بہترین, بھائی, تلاش, تحریر, ترک, جواب, خوش, دوست, دعا, زندگی, عزت, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
جعلی پیر کا خاتون پر تشدد،کپڑے پھاڑ دیے‘متاثرہ خاتون کا خود سوزی کا اعلان ابن جلال خبریں 21 06-06-11 08:45 PM
جن باٹوں سے تول كر دوگے، تمہيں بھی تو اُن ہی باٹوں سے تول كر ملے گا ناں! ابو عمار گپ شپ 3 13-01-11 08:31 AM
wajee ذیلی ناظم کی ملک توڑنے کی بات "ہندوستان کو توڑ دیا یہ کیا چیز ہے" اویسی تھانہ 27 23-04-10 04:41 PM
پشتونستان سے خیبر پختونخواہ تک ھارون اعظم سیاست 15 12-04-10 01:34 PM
تعلق توڑتا ہوں تو مکمل توڑ دیتا ہوں The Great شعر و شاعری 0 26-08-09 11:20 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:56 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger