واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث



علوم حدیث علوم حدیث


عورت گدھوں اور کتوں کی مثل

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-02-12, 06:03 PM  
عورت گدھوں اور کتوں کی مثل
rana ammar mazhar rana ammar mazhar آن لائن ہے 02-02-12, 06:03 PM


5 - نماز کا بیان : (322)
نمازی کے سترہ کی مقدار کے بیان میں
حدثنا أبو بکر بن أبي شيبة حدثنا إسمعيل ابن علية قال ح و حدثني زهير بن حرب حدثنا إسمعيل بن إبراهيم عن يونس عن حميد بن هلال عن عبد الله بن الصامت عن أبي ذر قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم إذا قام أحدکم يصلي فإنه يستره إذا کان بين يديه مثل آخرة الرحل فإذا لم يکن بين يديه مثل آخرة الرحل فإنه يقطع صلاته الحمار والمرأة والکلب الأسود قلت يا أبا ذر ما بال الکلب الأسود من الکلب الأحمر من الکلب الأصفر قال يا ابن أخي سألت رسول الله صلی الله عليه وسلم کما سألتني فقال الکلب الأسود شيطان
صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1132 حدیث مرفوع مکررات 7 متفق علیہ 2 بدون مکرر
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسماعیل بن علیہ، زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، یونس، حمید بن ہلال، عبداللہ بن صامت، حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا اور اس کے سامنے بطور سترہ اونٹ کے کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز ہو تو وہ کافی ہے اور اس کی مثل نہ ہو تو اس کی نماز کو گدھا عورت اور سیاہ کتا منقطع کر دیتا ہے راوی کہتا ہے میں نے کہا اے ابوذر سیاہ کتے کی سرخ و زرد کتے سے تخصیص کی کیا وجہ ہے تو انہوں نے کہا اے بھیجتے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسا ہی سوال کیا جیسا تو نے مجھ سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔
Abu Dharr reported: The Messenger of 'Allah (may peace be upon him) said: When any one of you stands for prayer and there is a thing before him equal to the back of the saddle that covers him and in case there is not before him (a thing) equal to the back of the saddle, his prayer would be cut off by (passing of an) ass, woman, and black dog. I said: O Abu Dharr, what feature is there in a black dog which distinguish it from the red dog and the yellow dog? He said: O, son of my brother, I asked the Messenger of Allah (may peace be upon him) as you are asking me, and he said: The black dog is a devil.

5 - نماز کا بیان : (322)
نمازی کے سترہ کی مقدار کے بیان میں
حدثنا إسحق بن إبراهيم أخبرنا المخزومي حدثنا عبد الواحد وهو ابن زياد حدثنا عبيد الله بن عبد الله بن الأصم حدثنا يزيد بن الأصم عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم يقطع الصلاة المرأة والحمار والکلب ويقي ذلک مثل مؤخرة الرحل
صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1134 حدیث مرفوع مکررات 3 متفق علیہ 1 بدون مکرر
اسحاق بن ابراہیم، مخزومی، عبدالواحد، ابن زیاد، عبیداللہ بن عبداللہ بن اصم، یزید بن اصم، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عورت گدھا اور کتا نماز کو قطع کر دیتا ہے ہاں اگر کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے برابر سترہ ہو تو نماز باقی رہتی ہے۔
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah (may peace be upon him) said: A woman, an ass and a dog disrupt the prayer, but something like the back of a saddle guards against that.

2 - نماز کا بیان : (1086)
کس چیز کے سامنے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟
حدثنا حفص بن عمر حدثنا شعبة ح و حدثنا عبد السلام بن مطهر وابن کثير المعنی أن سليمان بن المغيرة أخبرهم عن حميد بن هلال عن عبد الله بن الصامت عن أبي ذر قال حفص قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم يقطع صلاة الرجل وقال عن سليمان قال أبو ذر يقطع صلاة الرجل إذا لم يکن بين يديه قيد آخرة الرحل الحمار والکلب الأسود والمرأة فقلت ما بال الأسود من الأحمر من الأصفر من الأبيض فقال يا ابن أخي سألت رسول الله صلی الله عليه وسلم کما سألتني فقال الکلب الأسود شيطان
سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 699 حدیث مرفوع مکررات 7
حفص بن عمر، شعبہ، عبدالسلام، بن مطہر، ابن کثیر، سلیمان بن مغیرہ، حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آدمی کی نماز ٹوٹ جاتی ہے جبکہ اس کے سامنے کوئی چیز پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر نہ ہو اور اس کے سامنے سے گدھا، کالا کتا اور عورت گزر جائے میں نے کہا کالے رنگ کی کیا خصوصیت ہے؟ اگر وہ سرخ زرد یا سفید ہو تو کیسا ہے؟ فرمایا اے بھتیجے جو بات تم نے مجھ سے پوچھی ہے وہی بات میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔

9 - قبلہ کے متعلق احادیث : (35)
بحالت نماز کونسی شے کے سامنے سے گزرنے سے نماز فاسد ہوتی ہے اور کونسی شے سے نہیں
أخبرنا عمرو بن علي قال أنبأنا يزيد قال حدثنا يونس عن حميد بن هلال عن عبد الله بن الصامت عن أبي ذر قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم إذا کان أحدکم قاما يصلي فإنه يستره إذا کان بين يديه مثل آخرة الرحل فإن لم يکن بين يديه مثل آخرة الرحل فإنه يقطع صلاته المرأة والحمار والکلب الأسود قلت ما بال الأسود من الأصفر من الأحمر فقال سألت رسول الله صلی الله عليه وسلم کما سألتني فقال الکلب الأسود شيطان
سنن نسائی:جلد اول:حدیث نمبر 754 حدیث مرفوع مکررات 7
عمرو بن علی، یزید، یونس، حمید بن ہلال، عبداللہ بن صامت، ابوذر سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس وقت تمہارے میں سے کوئی شخص کھڑے ہو کر نماز ادا کرتا ہے تو اس کے واسطے کوئی شئی آڑ بن جائے گی۔ جو کہ پالان کی لکڑی کے برابر ہو لیکن اگر اس کے سامنے اتنی پڑی کوئی شئی نہ ہو تو اس کی نماز کو عورت اور گدھی اور کالا کتا فاسد کر دے گا (جب کہ یہ تین اشیاء نمازی کے سامنے سے گزریں) حضرت عبداللہ بن صامت نے فرمایا کہ میں نے ابوذر سے دریافت کیا سیاہ رنگ کے کتے کی کیا خصوصیت ہے؟ اگر زرد یا لال رنگ کا کتا ہو تو پھر کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہم نے بھی حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔
It was narrated that Qatadah said: “I said to Jabir bin Zaid: ‘What invalidates prayer?’ He said: ‘Ibn ‘Abbas used to say: A menstruating woman and a dog. (One of the narrators) Yahya said: “Shu’bah said it was a Marfa’ report.” (Sahih)

2 - نماز کا بیان : (297)
نماز کتے گدھے اور عورت کے گزرنے کے علاوہ کسی چیز سے نہیں ٹوٹتی
حدثنا أحمد بن منيع حدثنا هشيم أخبرنا يونس بن عبيد ومنصور بن زاذان عن حميد بن هلال عن عبد الله بن الصامت قال سمعت أبا ذر يقول قال رسول الله صلی الله عليه وسلم إذا صلی الرجل وليس بين يديه کآخرة الرحل أو کواسطة الرحل قطع صلاته الکلب الأسود والمرأة والحمار فقلت لأبي ذر ما بال الأسود من الأحمر من الأبيض فقال يا ابن أخي سألتني کما سألت رسول الله صلی الله عليه وسلم فقال الکلب الأسود شيطان قال وفي الباب عن أبي سعيد والحکم بن عمرو الغفاري وأبي هريرة وأنس قال أبو عيسی حديث أبي ذر حديث حسن صحيح وقد ذهب بعض أهل العلم إليه قالوا يقطع الصلاة الحمار والمرأة والکلب الأسود قال أحمد الذي لا أشک فيه أن الکلب الأسود يقطع الصلاة وفي نفسي من الحمار والمرأة شي قال إسحق لا يقطعها شي إلا الکلب الأسود
جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 325 حدیث مرفوع مکررات 7
احمد بن منیع، ہشیم، یونس، منصور بن زاذان، حمید بن ہلال، عبداللہ بن صامت سے روایت ہے کہ میں نے ابوذر سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص نماز پڑھے اور اس کے سامنے کجاوے کی پچھلی لکڑی کے برابر یا فرمایا درمیانی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو تو اس کی نماز کالے کتے گدھے یا عورت کے گزرنے سے ٹوٹ جائے گی عبداللہ بن صامت کہتے ہیں میں نے ابوذر سے پوچھا کالے اور سفید یا سرخ کی کیا قید ہے تو انہوں نے فرمایا اے بھیجتے تو نے مجھ سے ایسا ہی سوال کیا ہے جس طرح میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کالا کتا شیطان ہے اس باب میں ابوسعید حکم غفاری ابوہریرہ اور انس سے بھی روایات مروی ہیں امام ابوعیسی ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابوذر حسن صحیح ہے اور بعض اہل علم کا یہی خیال ہے کہ گدھے عورت یا کالے کتے کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے امام احمد فرماتے ہیں کہ سیاہ کتے کے گزرنے سے نماز ٹوٹنے میں تو مجھے شک نہیں البتہ گدھے اور عورت کے بارے میں مجھے شک ہے امام اسحاق فرماتے ہیں کہ سوائے کالے کتے کے کسی چیز سے نماز نہیں ٹوٹتی
Abdullah ibn Samit (RA) reported having heard from Sayyidina Abu Dharr (RA) that Allah’s Messenger (SAW) said, “If anyone prays and there is nothing is nothing in front of him like the hack, or like the middle of a saddle then his salah is cut off by the passing ahead of a black dog, a donkey or a woman.” Abdullah asked Abu Dharr. “What is the difference between black and white or red?” He said, “Brother, you put the same question to me as I had put to Allah’s Messenger He had said that the black dog is a devil.”

7 - اقامت نماز اور اس کا طریقہ : (630)
جس چیز کے سامنے سے گز رنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے
حدثنا زيد بن أخزم أبو طالب حدثنا معاذ بن هشام حدثنا أبي عن قتادة عن زرارة بن أوفی عن سعد بن هشام عن أبي هريرة عن النبي صلی الله عليه وسلم قال يقطع الصلاة المرأة والکلب والحمار
سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 950 حدیث مرفوع مکررات 3
زید بن احزم ابوطالب، معاذ بن ہشام، ہشام، قتادہ، زرارة بن اوفیٰ، سعد بن ہشام، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا عورت کتا اور گدھا نماز کو توڑ دیتے ہیں ۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet P.B.U.H said: "The prayer is severed by a woman, a dog and a donkey.(Sahih)

7 - اقامت نماز اور اس کا طریقہ : (630)
جس چیز کے سامنے سے گز رنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے
حدثنا جميل بن الحسن حدثنا عبد الأعلی حدثنا سعيد عن قتادة عن الحسن عن عبد الله بن مغفل عن النبي صلی الله عليه وسلم قال يقطع الصلاة المرأة والکلب والحمار
سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 951 حدیث مرفوع مکررات 3
جمیل بن حسن، عبدالاعلی، سعید، قتادة، حسن، حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عورت ، کتا اور گدھا نماز کو توڑ دیتے ہیں ۔
It was narrated from ‘Abdullâh bin Mughaffal that the Prophet said P.B.U.H “The prayer is severed by a woman, a dog and a donkey.” (Sahih)

7 - اقامت نماز اور اس کا طریقہ : (630)
جس چیز کے سامنے سے گز رنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے
حدثنا محمد بن بشار حدثنا محمد بن جعفر حدثنا شعبة عن حميد بن هلال عن عبد الله بن الصامت عن أبي ذر عن النبي صلی الله عليه وسلم قال يقطع الصلاة إذا لم يکن بين يدي الرجل مثل مؤخرة الرحل المرأة والحمار والکلب الأسود قال قلت ما بال الأسود من الأحمر قال سألت رسول الله صلی الله عليه وسلم کما سألتني فقال الکلب الأسود شيطان
سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 952 حدیث مرفوع مکررات 7
محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، حمید بن ہلال، عبداللہ بن صامت، حضرت اذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب مرد کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو تو عورت ، گدھا اور سیاہ کتا نماز کو توڑ دیتے ہیں۔ روای کہتے ہیں میں نے حضرت ابوذر سے پوچھا کہ سیاہ کتے اور سرخ کتے میں کیا فرق ہے (کہ سیاہ کتے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے باقی سے نہیں) فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا تو آپ نے فرمایا سیاہ کتا شیطان ہے ۔
It was narrated from ‘Abdullâh bin Sâmit from Abu Dharr, that the prophet P.B.U.H said: “The prayer is severed by a woman, a donkey, and a black dog, if there is not something like the handle of a saddle in front of a man.” I (‘Abdullâh) said: “What is wrong with a black dog and not a red one?” He (Abu Dharr) said: ‘I asked the Messenger of Allah p.b.u.h the same questiofl and he said: “The black dog is a Shaithn (satan).” (Sahih)

7 - اقامت نماز اور اس کا طریقہ : (630)
نمازی کے سامنے سے جو چیز گزرے اس کو کہاں تک ہو سکے رو کے ۔
حدثنا أحمد بن عبدة أنبأنا حماد بن زيد حدثنا يحيی أبو المعلی عن الحسن العرني قال ذکر عند ابن عباس ما يقطع الصلاة فذکروا الکلب والحمار والمرأة فقال ما تقولون في الجدي إن رسول الله صلی الله عليه وسلم کان يصلي يوما فذهب جدي يمر بين يديه فبادره رسول الله صلی الله عليه وسلم القبلة
سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 953 حدیث مرفوع مکررات 3
احمد بن عبدة، حماد بن زید، یحییٰابومعلی، حضرت حسن عرنی فرماتے ہیں حضرت ابن عباس کے پاس نماز کو توڑنے والی چیزوں کا ذکر ہوا تو بعضوں نے کہا کتا ، گدھا ، عورت (بھی نماز کو توڑ دیتے ہیں) آپ نے فرمایا بکری کے بچہ کے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک نماز ادا فرما رہے تھے کہ ایک بکری کا بچہ آپ کے سامنے سے گزرنے لگا تو آپ اس سے پہلے جلدی سے قبلہ کی طرف ہو گئے ۔
It was narrated that Hasan AI-'Urani said: "Mention was made in the presence of Ibn 'Abbas about what severs the prayer. They mentioned a dog, a donkey and a woman. He said: 'What do you say about kids (young goats)? The Messenger of Allah P.B.U.Hwas performing prayer one day, when a kid came and wanted to pass in front of him. The Messenger of Allah P.B.U.H preceded it toward the Qiblah. (to tighten the space and prevent it
from passing in front of him).''' (Da'if)

11 - نماز کا بیان : (527)
سترہ نماز کی محافظت کرتا ہے
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم تَقْطَعُ الصَّلٰوۃَ الْمَرْاَۃُ وَالْحِمَارُ وَالْکَلْبُ وَےَقِیْ ذَالِکَ مِثْلُ مُؤَخِّرَۃِ الرَّحْلِ۔ (صحیح مسلم)
مشکوۃ شریف:جلد اول:حدیث نمبر 741
" اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آقائے نا مدار صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عورت، گدھا اور کتا ( نمازی کے آگے سے گزرنے کی صورت میں) نماز کو باطل کر دیتے ہیں اور کجاوہ کی پچھلی لکٹری کی مانند کسی چیز کو (نمازی کے آگے سترہ بنا کر) رکھ لینا (نماز کے) اس باطل کر دینے کو بچا لیتا ہے۔" (صحیح مسلم)

3 - نماز کا بیان : (392)
آگے سے گزرنے والی کون سی چیز نماز کو توڑتی ہے اور کون سی نہیں توڑتی۔
أخبرنا أبو الوليد وحجاج قالا حدثنا شعبة أخبرني حميد بن هلال قال سمعت عبد الله بن الصامت عن أبي ذر أنه قال يقطع صلاة الرجل إذا لم يكن بين يديه كآخرة الرحل الحمار والكلب الأسود والمرأة قال قلت فما بال الأسود من الأحمر من الأصفر قال سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم كما سألتني فقال الأسود شيطان
سنن دارمی:جلد اول:حدیث نمبر 1378 حدیث مرفوع
حضرت عبداللہ بن صامت بیان کرتے ہیں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے بتایا اگر انسان کے نماز پڑھنے کے دوران اس کے آگے پالان کی پچھلی لکڑی جتنی کوئی رکاوٹ نہ ہو تو گدھا، کالا کتا، عورت کے آگے سے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ عبداللہ بن صامت کہتے ہیں میں نے دریافت کیا کالا کتا ہی کیوں۔ سرخ یا زرد کیوں نہیں؟ تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا جس طرح تم نے مجھ سے سوال کیا ہے اسی طرح میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ہی سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔

1 - ا ب ج : (26407)
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حدثنا يحيى عن شعبة قال حدثني قتادة عن جابر بن زيد عن ابن عباس قال يحيى كان شعبة يرفعه يقطع الصلاة الكلب والمرأة الحاض
مسند احمد:جلد دوم:حدیث نمبر 1331 حدیث مرفوع
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے غالبا مرفوعا مروی ہے کہ کتا اور ایام والی عورت کے نمازی کے آگے سے گذرنے پر نماز ٹوٹ جاتی ہے۔

1 - ا ب ج : (26407)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مرویات
حدثنا معاذ بن هشام حدثني أبي عن قتادة عن زرارة بن أوفى عن سعد بن هشام عن أبي هريرة أن نبي الله صلى الله عليه وسلم قال يقطع الصلاة المرأة والكلب والحمار
مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 821 حدیث مرفوع
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت کتا اور گدھا نماز کے آگے سے گذرنے پر نماز ٹوٹ جاتی ہے۔

1 - ا ب ج : (26407)
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حدثنا إسماعيل قال أخبرنا هشام الدستواي عن قتادة عن زرارة بن أوفى عن أبي هريرة قال يقطع الصلاة الكلب والحمار والمرأة قال هشام ولا أعلمه إلا عن النبي صلى الله عليه وسلم
مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 2305 حدیث مرفوع
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت، کتا اور گدھا نمازی کے آگے سے گذرنے پر نماز ٹوٹ جاتی ہے۔

1 - ا ب ج : (26407)
حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ کی مرویات
قال حدثنا محمد بن جعفر وعبد الأعلى قالا حدثنا سعيد عن قتادة عن الحسن عن عبد الله بن مغفل أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يقطع الصلاة المرأة والكلب والحمار
مسند احمد:جلد ششم:حدیث نمبر 2600 حدیث مرفوع
حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نمازی کے آگے سے عورت کتا یا گدھا گزر جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے۔

1 - ا ب ج : (26407)
حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
حدثنا عبد الأعلى حدثنا سعيد عن قتادة عن الحسن عن عبد الله بن مغفل عن النبي صلى الله عليه وسلم قال يقطع الصلاة المرأة والحمار والكلب
مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 737 حدیث مرفوع
حضرت ابن مغفل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نمازی کے آگے سے عورت، کتا یا گدھا گذر جانے سے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے۔

1 - ا ب ج : (26407)
حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدثنا عفان حدثنا شعبة أخبرني حميد بن هلال سمع عبد الله بن الصامت عن أبي ذر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يقطع صلاة الرجل إذا لم يكن بين يديه كآخرة الرحل المرأة والحمار والكلب الأسود قلت ما بال الأسود من الأحمر قال ابن أخي سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم كما سألتني فقال الكلب الأسود شيطان
مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 1434 حدیث مرفوع
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر انسان کے سامنے کجاوے کا پچھلا حصہ بھی نہ ہو تو اس کی نماز عورت، گدھے یا کالے کتے کے اس کے آگے سے گذرنے پر ٹوٹ جائے گی، راوی نے پوچھا کہ کالے اور سرخ کتے میں کیا فرق ہے ؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھیتجے! میں نے بھی اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔

1 - ا ب ج : (26407)
حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدثنا إسماعيل عن يونس عن حميد بن هلال عن عبد الله بن صامت عن أبي ذر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام أحدكم يصلي فإنه يستره إذا كان بين يديه مثل آخرة الرحل فإذا لم يكن بين يديه مثل آخرة الرحل فإنه يقطع صلاته الحمار والمرأة والكلب الأسود قلت يا أبا ذر ما بال الكلب الأسود من الكلب الأحمر من الكلب الأصفر قال يا ابن أخي سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم كما سألتني فقال الكلب الأسود شيطان
مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 1454 حدیث مرفوع
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر انسان کے سامنے کجاوے کا پچھلا حصہ بھی نہ ہو تو اس کی نماز عورت، گدھے یا کالے کتے کے اس کے آگے سے گذرنے پر ٹوٹ جائے گی، راوی نے پوچھا کہ کالے اور سرخ کتے میں کیا فرق ہے ؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھیتجے! میں نے بھی اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔

1 - ا ب ج : (26407)
حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدثنا بهز حدثنا سليمان بن المغيرة حدثنا حميد عن عبد الله بن الصامت عن أبي ذر قال يقطع صلاة الرجل إذا لم يكن بين يديه مثل آخرة الرحل المرأة والحمار والكلب الأسود قال قلت لأبي ذر ما بال الكلب الأسود من الكلب الأحمر قال يا ابن أخي سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم كما سألتني فقال الكلب الأسود شيطان
مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 1488 حدیث مرفوع
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر انسان کے سامنے کجاوے کا پچھلا حصہ بھی نہ ہو تو اس کی نماز عورت، گدھے یا کالے کتے کے اس کے آگے سے گذرنے پر ٹوٹ جائے گی، راوی نے پوچھا کہ کالے اور سرخ کتے میں کیا فرق ہے ؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھیتجے! میں نے بھی اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔

1 - ا ب ج : (26407)
حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدثنا إسماعيل عن يونس عن حميد بن هلال عن عبد الله بن الصامت عن أبي ذر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أحدكم قام يصلي فإنه يستره إذا كان بين يديه مثل آخرة الرحل فإن لم يكن بين يديه مثل آخرة الرحل فإنه يقطع صلاته الحمار والمرأة والكلب الأسود قال فقلت يا أبا ذر ما بال الكلب الأسود من الكلب الأحمر من الكلب الأصفر فقال يا ابن أخي سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم كما سألتني فقال الكلب الأسود شيطان
مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 1528 حدیث مرفوع
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر انسان کے سامنے کجاوے کا پچھلا حصہ بھی نہ ہو تو اس کی نماز عورت، گدھے یا کالے کتے کے اس کے آگے سے گذرنے پر ٹوٹ جائے گی، راوی نے پوچھا کہ کالے اور سرخ کتے میں کیا فرق ہے ؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھیتجے! میں نے بھی اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔

1 - ا ب ج : (26407)
حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدثنا محمد بن جعفر وحجاج قالا حدثنا شعبة عن حميد بن هلال عن عبد الله بن الصامت عن أبي ذر عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال يقطع الصلاة إذا لم يكن بين يدي الرجل مثل آخرة الرحل المرأة والحمار والكلب الأسود فقلت ما بال الأسود في الأحمر فقال سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم كما سألتني فقال إن الأسود شيطان
مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 1534 حدیث مرفوع
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر انسان کے سامنے کجاوے کا پچھلاحصہ بھی نہ ہو تو اس کی نماز عورت، گدھے یا کالے کتے کے اس کے آگے سے گذرنے پر ٹوٹ جائے گی، راوی نے پوچھا کہ کالے اور سرخ کتے میں کیا فرق ہے ؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھیتجے! میں نے بھی اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

1 - ا ب ج : (26407)
حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدثنا عبد الرزاق حدثنا معمر عن علي بن زيد بن جدعان عن عبد الله بن الصامت عن أبي ذر قال يقطع الصلاة الكلب الأسود أحسبه قال والمرأة الحاض قال قلت لأبي ذر ما بال الكلب الأسود قال أما إني قد سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذاك فقال إنه شيطان
مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 1556 حدیث مرفوع
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر انسان کے سامنے کجاوے کا پچھلا حصہ بھی نہ ہو تو اس کی نماز عورت، گدھے یا کالے کتے کے اس کے آگے سے گذرنے پر ٹوٹ جائے گی، راوی نے پوچھا کہ کالے اور سرخ کتے میں کیا فرق ہے ؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھیتجے! میں نے بھی اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"

rana ammar mazhar
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 552
پرانا 03-02-12, 06:14 AM   #16
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
رانا صاحب کے مخالفین حضرات عادل سہیل، عبد اللہ حیدر، شکاری، طاہر رفیق، کنعان اور معظم عام طورپر یہ ثابت کرنے پر تلے رہتے ہیں‌ کہ یہ روایات بالکل درست ہیں۔ ا ور یہ اصحاب ان کتب کی ہر روایت پر ایمان بھی رکھتے ہیں۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ ان روایات کو پھر منسوخ‌بھی قرار دے دیتے ہیں کیا مزا ہے کہ اپنے ہی ایمان کو لوگ خود ہی منسوخ‌ قرار دیں
علمي گفتگو اور بحث مباحثہ كا لطف اس وقت آتا ہے جب فريق مخالف كے نظريہ اور عقيدے اور اچھي طرح سمجھ كر اس پر كوئي علمي اشكال يا نقص پيش كيا جائے۔۔۔ ليك جب دوسرے كو عقيدے كو اپنے ہي فہم و فراست سے سمجھ كر اس پر اپنے تيئں تبصرے تجزے كرنے سے‌اپنا نفس تو مظئمن ہو سكتا ہے۔۔۔ليكن دوسرے كو فائدہ نہيں ہو سكتا۔۔۔

يہي ديكھ ليجئے ناسخ و منسوخ ۔۔۔ حديث ۔۔۔۔ پر يہاں كتني مباحث ہو چكي ہيں عبد اللہ حيدر، شكاري، طاہر رفيق، كنعان اور معظم اينڈ كو نے كھل كر اس كو بيان بھي كيا ہے۔۔

ليكن ساري رام كہاني كے بعد پھر خان صاحب كو طرفہ تماشہ۔۔۔ اور مزا ہي آرہا ہے۔۔۔۔‌ليكن فريق مخالف كا نظريہ سمجھ‌نہيں آ رہا

ميں يہ نہيں كہتا كہ خان صاحب دوسرے كا نظريہ قبول كر ليں ۔۔۔‌ميں بس يہ كہہ رہا ہوں‌كہ اگر علمي اشكال يا اعتراض ہي كرنا ہے تو ان كے‌نظريہ پر كريں نہ كہ ان كے‌نظريے‌كو اپنا مفہوم دے راشن پٕاني لے‌كر چڑھ جائيں۔

مطبل كہنے كا يہ ہے‌كہ

حديث كا صحيح ہونا۔۔۔۔‌أور حديث كا منسوخ ہونا كيا باہمي متضاد نظريے ہيں۔۔۔‌جو خان صاحب كو يہ كہنا پڑا كہ

اقتباس:
یہ اصحاب ان کتب کی ہر روایت پر ایمان بھی رکھتے ہیں۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ ان روایات کو پھر منسوخ‌بھی قرار دے دیتے ہیں کیا مزا ہے کہ اپنے ہی ایمان کو لوگ خود ہی منسوخ‌ قرار دیں
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (03-02-12), skjatala (04-02-12), کنعان (03-02-12), ھارون اعظم (04-02-12)
پرانا 03-02-12, 09:04 AM   #17
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرے خیال میں‌ ڈھیل بہت ہو چکی ہے۔ رانا صاحب، خان صاحب کا روئے سخن ہماری جانب رہے، ہمیں‌کوئی اعتراض نہیں۔ ہمارے بزرگوں کو پرکھوں کہہ کر ان پر کیچڑ اچھالتے رہیں، تب بھی ہم برداشت کر سکتے ہیں۔

لیکن جہاں معاملہ پوری امت مسلمہ کے بزرگان دین اور علمائے امت ، فقہائے عظام اور محدثین کرام سے بڑھ کر ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال پر کیچڑ اچھالنے کا چل نکلے، تو اسے کنٹرول کرنا ضروری ہے۔ ہم یہ نہیں‌کہتے کہ کتب روایات میں‌جو کچھ ہے وہ سب کا سب درست ہے۔ اس میں‌صحیح، ضعیف سب کچھ ہے۔ اور ہم خود صحیح‌و ضعیف میں‌ تمیز کے سب سے بڑے داعی ہیں۔ لیکن یہ تمیز اصولوں کے تحت ہونی چاہئے نا کہ اپنی عقلی موشگافیوں کے تحت۔ پھر صحیح‌ احادیث‌میں‌ بھی ناسخ و منسوخ موجود ہیں۔ جس کی تفصیلی بحث علیحدہ دھاگوں‌میں‌ہو چکی اور ایک آدھ میں‌ چل بھی رہی ہے۔ لیکن یہ ہرگز برداشت نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث‌لکھ کر ان پر استہزائیہ، طنزیہ فقرے کسے جائیں، ذو معنی ہیڈنگز اور پھڑکتے ہوئے تبصرے کر کے ان سے لطف اندوز ہوا جائے۔ اگر کسی کو کسی حدیث‌پر اعتراض ہے تو سنجیدگی سے پیش کرے، متانت سے اس پر علمی انداز میں‌تنقید کرے، ہم اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے ایک ایک لفظ‌ کے دفاع کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور ان شاءاللہ دلائل کے ساتھ ایک ایک حدیث‌پر لگائے جانے والے الزامات کی تردید کے لئے بھی تیار ہیں۔

لیکن اس انداز میں‌ اقوال رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ، تبرا اور فقرے بازی ہرگز برداشت نہیں۔ اور مخالفین کی ڈھٹائی سے یہ بھی احساس ہو رہا ہے کہ ان کے لگائے جانے والے الزامات کی جس قدر بھی دلائل کے ساتھ تردید کی جائے، ان کے دلوں‌میں‌حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نفرت کا لاوا اتنا ہی ابھرتا ہے۔ اور اس میں‌بہت ہاتھ انتظامیہ کا بھی ہے، کہ فورم کے قوانین صرف دکھانے کے لئے رکھ چھوڑے ہیں۔ ورنہ تو ہر شخص کی مرضی ہے، دل چاہے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی بالواسطہ یا بلاواسطہ توہین کی جاتی رہے، نہ ان کی جانب سے کوئی ایکشن لیا جاتا ہے، نہ کسی کو تنبیہ ہوتی ہے۔ ہاں، خاں صاحب کی ذات شریف پر ایک دھاگے میں‌ اقتباس لکھا تھا، تو فیصل ناصر صاحب پوری گرم دماغی کے ساتھ مجھ پر چڑھ دوڑے تھے۔ لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یا ان سے منسوب احادیث‌کا معاملہ ہو تو خیر ہے، حیدر صاحب تشریف لا کر فقط اتنا فرما دیں‌کہ جی میں ناظم ہوں اور زندہ ہوں، ہوشیار ہو جاؤ اور پھر کسی کونے میں جا کر سو جائیں کہ جیسا چل رہا ہے چلنے دیا جائے۔ نہ انتظامیہ کے پاس اتنا وقت ہے کہ ہر ایک دھاگے کا معائنہ کرتے پھریں، نہ اس کی ضرورت اور پرواہ ہی ہے۔ بس چند سرپھرے آپس میں‌سرپھٹول کر رہے ہیں، پاک نیٹ پر دھاگوں اور مراسلہ جات کی تعداد بڑھ رہی ہے، اور ڈونیشن کی مد میں‌ آمدن جاری ہے، تو لڑنے مرنے دو سب کو، ہماری بلا سے۔

آزادی اظہار خیال غالباً اسی کا نام ہے کہ جو اقلیت میں‌ہوں، وہ اکثریت کے عقائد کی سر عام توہین کرتے پھریں، لیکن کوئی شخص رد عمل میں‌بھی انہیں منمناتے ہوئے کچھ کہہ گزرے تو توپ لے کر اس پر چڑھ دوڑو۔

پوری امت مسلمہ ایک طرف اور یہ معدودے چند افراد ایک طرف، جن کی زندگیوں‌کا مقصد ہی بس یہ رہ گیا ہے کہ ہزاروں‌احادیث‌میں‌سے چن چن کر ایسی احادیث‌ ڈھونڈی جائیں، جن کے ظاہری الفاظ‌سے عوام الناس کو دھوکہ دیا جا سکے کہ گویا احادیث‌کا تو پورا ذخیرہ ہی ایسی روایات پر مشتمل ہے۔ اور پھر آنکھوں میں‌مگرمچھ کے آنسو بھر کر دہائی دی جائے کہ دیکھ لو ہم تو ان احادیث‌کا انکار کرتے ہیں، اسی لئے ہمیں‌منکرین حدیث‌کہا جاتا ہے۔ اور خبردار تم نے اگر عورت کو کتا اور گدھا نہ مانا یا منحوس نہ مانا تو تم پر بھی منکر حدیث‌کا فتویٰ لگ جائے گا۔ حالانکہ ان روایات کی نہ تو یہ تشریح ہے، نہ ان سے یہ مطلب اخذ ہوتا ہے جو کیا جاتا ہے۔ اگر ایسا ہی ہوتا تو حجیت حدیث کا قائل طبقہ اپنی خواتین کو منحوس، کتا اور گدھا ہی سمجھتا۔ لیکن الحمدللہ، کہ ہم اپنی خواتین کو ویسا ہی احترام دیتے ہیں اور وہی عزت کرتے ہیں جو ان کی عظمت کے لائق ہے۔ اور ہم جس بنیاد پر ان لوگوں کو منکرین حدیث‌کہتے ہیں، وہ ان کی قرآن میں‌تحریف، کثیر مبادیات اسلام کے انکار کی وجہ سے ہے۔

یہ منکرین حدیث‌وہی ہیں، جن کے کفر پر پوری امت متفق و متحد ہوئی ہے۔ برصغیر میں‌اس فتنہ کے صحیح‌معنوں میں بانی غلام احمد پرویز صاحب تھے، اور ان کے کفر پر علمائے عرب و عجم کی مہر تصدیق ثبت ہے۔ وجہ؟ وجہ یہ نہیں‌تھی جو موجودہ دھاگے کی طرح کے عامیانہ دھاگوں میں‌ بتانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بلکہ:

1۔ اللہ کو ذات کے بجائے، نظام، قانون، قوت باور کروانا۔
2۔ اللہ و رسول سے امام وقت یا مرکز ملت مراد لینا۔
3۔ رسول کے مطاع ہونے کا انکار۔
4۔ حجیت احادیث کا انکار۔
5۔ فرشتوں کے وجود کا انکار اور انہیں‌داخلی یا خارجی و کائناتی قوتیں قرار دینا۔
6۔ ابلیس کے وجود کا انکار اور اسے قوائے بہیمی قرار دینا۔
7۔ حضرت آدم علیہ السلام کے اول البشر اور نبی ہونے کا انکار۔
8۔ کتاب اللہ کی تفہیم میں‌ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہمیت کا انکار۔
9۔ معجزات کا انکار۔
10۔ تقدیر پر ایمان لانے سے انکار۔
11۔ آخرت کا انکار اور اس سے دنیاوی مستقبل مراد لینا۔
12۔ جنت اور جہنم کو اگلی دنیا کی اچھی یا بری جگہیں سمجھنے کے بجائے اس سے کیفیات مراد لینا۔اور دنیا ہی میں جنت و جہنم کو کھینچ لانا۔
13۔ صلوٰۃ سے یا تو مراد ہی نفاذ‌نظام الٰہی لے کر قرآنی صلوٰۃ سے چھٹکارا پا لینا، یا قرآن سے کھرچ کھرچ کر نمازوں کی تعداد اخذ کرنا۔ اور پھر کوئی دو نمازیں‌پڑھ رہا ہے اور کوئی تین۔ کوئی ایک رکعت میں‌ایک ہی سجدہ کا قائل ہے۔
14۔ زکوٰۃ ، جس کی چند قبائل کی جانب سے عدم عدائیگی پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف اعلان جہاد کر دیا تھا، اسی کی حد تحریف کو پہنچتی تاویلات کر کے اسے ٹیکس سمجھنا، ڈھائی فیصد کا انکار۔ وغیرہ۔
15۔ جنات کے مخلوق ہونے کا انکار۔ انہیں‌صحرائی انسان سمجھنا۔

وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔۔

کس کس عقیدے کو ہائی لائٹ کریں‌اور کس کو چھوڑیں۔ یہ تو چند اہم مسائل کا تذکرہ ہوا، دیگر کئی مسائل، مثلاً‌خواتین کا دائرہ کار بیرون خانہ متعین کرنا، مرد و زن کی مخلوط معاشرت کی ترویج، حجاب و نقاب کا استہزاء، قرآن کے برخلاف خواتین کو مردوں کے مساوی بلکہ مردوں‌پر قوام قرار دینا، وغیرہ۔

پھر سب سے بڑھ کر ہر وقت قرآن ہاتھ میں‌اٹھا کر قرآن ہی کی مرمت کرنے والا یہ گروہ خود قرآن ہی کی دنیا بھر میں‌رائج قراءات کا انکار کر کے ایمان بالقرآن سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔

ایمان بالرسول تو پہلے ہی فقط قولی اور زبانی باقی ہے۔ کیونکہ رسول کی اہمیت ان حضرات کے دین میں‌فقط اتنی ہے کہ جیسی کسی ڈاکئے یا براڈکاسٹنگ اسٹیشن کی ہوتی ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شارع، قاضی، حاکم ، مفسر، مربی، معلم ، ان تمام حیثیتوں کا انکار کرتے ہیں۔ اگر پوچھا جائے کہ جناب والا آپ کا جو ایمان محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بحیثیت رسول ہے، اس میں‌اور دیگر انبیاء پر ایمان میں‌عملاً فرق کیا ہے، تو یہ کچھ بھی فرق نہیں بتا سکتے۔ جیسے گزشتہ انبیا پر ہم ایمان لاتے ہیں، ان کی تصدیق کرتے ہیں، لیکن ان کی پیروی نہیں کرتے، وہی حیثیت ہمارے ان بھائیوں کے ہاں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم وسلم کی ہے، کہ زبانی ایمان لاتے ہیں، زبانی تصدیق کرتے ہیں، عملی پیروی نہیں کرتے۔

آخر میں‌انتظامیہ سے گزارش کی جاتی ہے کہ فورم پر موجود اکثر مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھا جائے، اور حدیث چاہے ضعیف ہو، موضوع ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب نسبت ثابت ہو یا نہ ہو، اس کا مذاق اڑانے اور اس کے ساتھ ٹھٹھا کرنے والوں‌ کو وارن کریں۔ سنجیدہ علمی مباحث کے لئے ہم تیار ہیں، لیکن جو لوگ منہ کھولیں‌ اور براہ راست احادیث‌پر اپنی ذہنی سڑاند انڈیلنا شروع کر دیں، ان کا کسی طرح کا احترام یا عزت ہم پر واجب نہیں۔
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65]
شکاری آن لائن ہے  
7 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (03-02-12), skjatala (04-02-12), کنعان (03-02-12), پاکستانی (03-02-12), شمشاد احمد (03-02-12), عبداللہ آدم (03-02-12), عبداللہ حیدر (03-02-12)
پرانا 03-02-12, 10:23 AM   #18
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,645
کمائي: 28,550
شکریہ: 7,151
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

قرآن حکیم کی ہر آیت کی طرح ان خلاف قران روایات کو ‌ آپ کسی خلیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کی عدالت میں دی ہوئی گواہی سے ثابت کردیجئے کہ یہ رسول اللہ صلعم نے فرمایا تھا ۔ ہم بھی مان لیں‌گے ۔


بات آپ سے ہورہی ہے، نا کہ کسی مرحوم شخصیت سے ؟ کیا وجہ ہے کہ صاف صاف کہنے پر بھی آپ کو شبہ ہے کہ میں‌ کسی اور سے بات کررہا ہوں؟

بات ڈھیل کی نا کیجئے۔ ۔۔ دلائیل لائیے ۔ تبصرے نہیں ۔۔۔

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (03-02-12)
پرانا 03-02-12, 10:27 AM   #19
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اپنے دعوی ایمانی اور اور مخالف کے کے لئے دعوی بے ایمانی سے پہلے اپنے ضمیر سے یہ سوال ضرور کرلیں کے
" میں یہ سارا زور اللہ کے دین کی وفاداری کے کے لئے لگا رہا ہوں یا مسلک کی وفاداری کے لئے "

رانا صاحب کی ہیڈنگ سخت ہے بہت چبھتی ہے
ان کے اس انداز پر شور شرابہ بھی بہت ہے ہونا بھی چاہئے

لیکن
ابھی تک اس بات کی توجیح کسی نے پیش نہیں کی کے حدیث کے ان الفاظ کا مفہوم کیا ہے

بس منہ بند کردو !

چلیں آپ لوگوں کے نزدیک آنکھیں بند کرنے سے بلی بھاگ جاتی ہے تو اس موضوع کو بند کئے دیتا ہوں
رانا صاحب کو وارننگ دی جاتی ہے
اپنے انداز بیان کو مناسب کریں ورنہ دیگر تھریڈز کا بھی یہی حشر ہوگا

کاپی پیسٹ سے نالاں ممبران سے مودبانہ گذارش ہے کے احادیث کی کاپی پیسٹ " کاپی پیسٹ" کے زمرے میں نہیں آتی !!!
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (03-02-12), فاروق سرورخان (03-02-12), پاکستانی (03-02-12), عبدالقدوس (03-02-12)
کمائي نے فیصل ناصر کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
03-02-12 شکاری یا تو دھاگا ڈیلیٹ کریں یا کھولیں اور ہمیں جواب دینے دیں۔ ہمیں صرف ان لوگوں کی بدزبانی پر اعتراض ہے اور بھی حدیث جس کی اہمیت قرآن کے بعد دوسرے ن 1
پرانا 03-02-12, 10:43 AM   #20
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,725
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فوزیہ وہاب کی نمائش میں شرکت
کنعان آن لائن ہے  
کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (03-02-12)
پرانا 04-02-12, 08:17 AM   #21
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں
یہ ہیں ہمارے ’’ اکابر علما ‘‘ کے دین میں اختیارات۔


دوسرے یہ کہ یہ حدیث منسوخ ہے۔ دیکھئے ماہنامہ اہل حدیث ۲۴۔۲۵ منسوخ حدیث سے استدلال کرنا غلط ہوتا ہے۔
آپ نے یہاں یہ تو لکھ دیا کہ یہ احادیث منسوخ ہیں اور وجہ نہیں لکھی کہ کیسے منسوخ ہیں اور بغیر کسی تمہید کے الزام اکابر علماء پر ڈال دیا ۔
یہ حدیث ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی وجہ سے منسوخ ہوئی ہے
حضرت عائشہ فرماتی ہیں جس کا مفہوم ہے
کہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوتی تھی اور وہ نماز ادا کرتے تھے ۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ امہات مومنیں اور صحابیہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ساتھ ایک خاتون بھی ہیں اور فقیہہ بھی ہیں ۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو ایک خاتون ہونے کے باوجود یہ مقام حاصل ہے کہ ان کی پیش کی ہوئی حدیث اگر کسی بھی صحابی کی پیش کی ہوئی حدیث سے مخالف ہو تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی پیش کی ہوئی حدیث کو تمام اکابر علماء تسلیم کرتے ہیں ۔
یہ ہے مقام عورت کا جو اسلام نے عورت کو دیا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے دیا گیا ۔
اگر علم و عمل میں ایک خاتوں مردوں سے بہتر ہے تو ان کی بات کو مردوں پر فوقیت دی جائے گی ۔

نوٹ : دھاگے کا عنوان تبدیل کیا جائے کیونکہ مندرجہ بالا حدیث میں عورت کی کسی مماثلت کا ذکر نہیں ہے ۔ بلکہ یہ عنوان فساد کی نیت سے رکھا گیا ہے ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے  
7 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (04-02-12), skjatala (04-02-12), کنعان (04-02-12), ھارون اعظم (04-02-12), احمد نذیر (04-02-12), شکاری (04-02-12), عبدالقدوس (04-02-12)
پرانا 04-02-12, 09:19 AM   #22
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تھریڈ مزید رپلائیز کے لیے "عارضی طور پر" بند ہے۔
اصول و ضوابط طے کیجیے۔

احادیث سے متعلقہ تھریڈز اور لائحہ عمل
حیدر آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (04-02-12), شکاری (04-02-12)
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
کتا, گدھا, مثل, عورت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
لیموں کا رس دانتوں کے درد اور مسوڑھوں کی سوزش میں مفید زارا شعبہ طب 2 22-10-11 03:35 PM
حقہ پینے سے دانتوں اور مسوڑھوں کو نقصان پہنچتا ہے سیپ شعبہ طب 0 23-02-11 11:13 PM
دانتوں کے درد اور مسوڑھوں کی سوزش میں مفید سیپ شعبہ طب 2 02-02-11 02:43 AM
عورتوں کا عالمی دن ALIA عمومی بحث 8 27-08-10 10:36 AM
حاملہ عورتوں کے لئے متلی اور قے سے بچاو کے طریقے پاکستانی شعبہ طب 0 24-08-07 07:53 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:57 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger