|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 493
|
||||
| 2 قاری/قارئین نے ام محمد کا شکریہ ادا کیا | محمد عاصم (11-03-11), ارشد کمبوہ (10-03-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا، آپ کا سوال بڑا اچھا ہے ، اللہ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم کسی بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے منسوب کرنے ، ماننے سے پہلے اس کی چھان بین ضرور کر لیا کریں ، ان میں سے کوئی روایت صحیح نہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے آئینہ دیکھنے کی کوئی دُعا ثابت نہیں ، ان شاء اللہ تفصیلات چند دنوں میں ارسال کروں گا ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,803
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
جزاک اللہ خیرا ام محمد بہن آپ کا شکریہ سوال پوچھنے کا۔ عادل بھائی، آپ کا شکریہ، شارٹ کٹ میں جواب دینے کا۔ تفصیلی جواب کا انتظار رہے گا۔ انشاء اللہ والسلام علیکم
__________________
بیاض کمبوہ پڑھنے کے لیے ایڈریس بار میں ٹائپ کریں، biazekamboh.co.cc شکریہ والسلام
|
|
|
|
| ارشد کمبوہ کا شکریہ ادا کیا گیا | ام محمد (11-03-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,803
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
Last edited by ارشد کمبوہ; 10-03-11 at 08:18 AM. وجہ: ڈبل پوسٹنگ |
|
|
|
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ارشد بھائی ، بہن ام محمد نے واقعتا بڑا اہم سوال کیا ہے ، شارٹ کٹ جواب کی بجائے اب ان شاء اللہ تفصیلی جواب پیش کرتا ہوں ، لیکن ان شاء اللہ ، ایک ایک روایت کے بارے میں روزانہ ایک ایک مراسلے میں ، خود بھی پڑھیے اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دیجیے تا کہ زیادہ سے زیادہ قارئین کرام کو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے منسوب ان روایات کی حقیقت کی پہچان ہو سکے ، ان شاء اللہ ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | ام محمد (12-03-11), ارشد کمبوہ (17-03-11) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
محترمہ بہن ام محمد آپ کی لگائی تصاویر میں سب سے پہلے جو رویات مذکور ہے وہ مع سند درج ذیل ہے :::"""""أخبرنا علي بن أحمد بن سليمان ، ثنا أبو معاوية محمد بن علي بن داود ، ثنا سلمة بن قادم ، ثنا أبو معاوية هاشم بن عيسى ، أخبرنا الحارث بن مسلم ، عن الزهري ، عن أنس بن مالك ، رضي الله عنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا نظر وجهه في المرآة قال ((((( الحمد لله الذي سوى خلقي فعد له ، وكرم صورة وجهي فحسنها ، وجعلني من المسلمين::: اللہ کی تعریف ہے جس نے ٹھیک طور پر میری تخلیق فرمائی اور اسے معتدل (اورمتوازن )فرمایا ، اور میرے چہرے کی صورت کو عزت دی پس اسے بہترین بنایا ، اور مجھے مسلمانوں میں سے بنایا)))))""""" اس روایت کی سند میں """ ھاشم بن عیسی """ نامی راوی ہے ، جو کہ مجھول بالنقل ہیں ، یعنی اس کی طرف سے نقل کی گئی خبر کی درستگی کا حال معروف نہیں ، اس ہاشم کا ذِکر امام ابن السنی (اس کتاب عمل الیوم و اللیلہ کے مؤلف ) نے اس سند میں """ ابو معاویہ """ کُنیت کے ساتھ کیا ہے ، جو اس شخص کی شخصیت کے بارے میں جاننے میں کافی مددگار ہوا ہے ، اس کا پورا نام """ ہاشم بن عیسی الیزنی الحمصی """ بتایا گیا ہے ، امام العقیلی نے اپنی معروف کتاب """ الضعفاء """ میں اس کے بارے میں بتایا ہے کہ ::: """""هاشم بن عيسى اليزني الحمصي عن أبيه عن يحيى بن سعيد منكر الحديث وهو وأبوه مجهولان بالنقل ::: ھاشم بن عیسی الیزنی الحمصی اپنے باپ سے ، اور وہ یحیی بن سعید سے روایت کرتے ہیں ، یہ ھاشم منکر الحدیث ہے (یعنی اس کی حدیث منکر ہے ) اور وہ اور اس کا باپ دونوں ہی (حدیث ) نقل کرنے میں مجھول ہیں """"" اور امام الھیثمی رحمہ ُ اللہ نے اسی مذکورہ بالا روایت کی سند پر حکم صادر فرماتے ہوئے لکھا ::: """"" رواه الطبراني في الأوسط وفيه هاشم بن عيسى البزي ولم أعرفه وبقية رجاله ثقات::: اس روایت کو طبرانی نے (المعجم )الاوسط میں روایت کیا ہے اور اس کی سند میں ہاشم بن عیسیٰ البزی ہے جسے میں نہیں جانتااور اس سند کے باقی راوی قابل اعتماد ہیں """"" مجمع الزوائد / کتاب الاذکار باب 56، اور ایک اور جگہ لکھا """""هاشم بن عيسى وهو مجهول وحديثه منكر ::: ہاشم بن عیسیٰ مجھول ہے اور اس کی حدیث منکر ہے """"" مجمع الزوائد ، امام الہیثمی رحمہُ اللہ جیسے امام کی طرف کسی شخص کے بارے میں مجھول ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ شخص حدیث کے راویوں میں کچھ درجہ نہ رکھتا تھا ، حتیٰ کہ عام طور پر اس کے حال احوال کی بھی خبر میسر نہ تھی ، یہ گواہیاں اس روایت کے ضعیف یعنی کمزور ، نا قابل حجت ہونے کے لیے کافی ہیں ، پس یہ ثابت ہوا کہ یہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے بارے میں ثابت نہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ اگلی روایت کے بارے میں معلومات کل پیش کروں گا ، باذن اللہ ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
محترمہ بہن ، ام محمد ، أنس ابن مالک رضی اللہ کی روایت کے طور پر مروی پہلی روایت کے بعد آپ کی لگائی ہوئی تصویری دستاویز میں اگلی روایت أمیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ ُ کی روایت کے طور پر مروی ہے اور وہ درج ذیل ہے ::: """"" أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا نَظَرَ وَجْهَهُ فِي الْمِرْآةِ قَالَ(((الْحَمْدُ لِلَّهِ، اللَّهُمَّ كَمَا حَسَّنْتَ خَلْقِي فَحَسِّنْ خُلُقِي))) جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئینے میں نظر فرماتے تو اِرشاد فرمایا کرتے (((((اللہ کی ہی تعریف ہے ، اے اللہ جِس طرح بہترین طور پر آپ نے میری تخلیق فرمائی، لہذا ( اسی طرح)میرا اخِلاق بھی بہترین بنا دیجیے""""" آپ کی ارسال کردہ فائل میں اس روایت کا حوالہ درج نہیں ہے ، الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ ، جس کا حوالہ دیا گیا ہے وہ احادیث کی کتاب نہیں ، یہ روایت بھی سابقہ روایت والے حوالے سے ہے ، یعنی امام ابن السنی رحمہُ اللہ نے اسے اپنی معروف کتاب """ عمل الیوم و اللیلہ """ میں ہی خارج کیا ہے ، اوراس کی سند میں """ الحسین بن ابی السَری """ نامی راوی ایسا ہے جس کے بارے میں امام الذھبی نے اپنی """میزان الاعتدال/ترجمہ رقم 2003""" میں بتایا ہے کہ ::: """"" الحسين بن أبي السري العسقلاني، أخو محمد بن أبي السري، ضعفه أبو داود، وقال أخوه محمد، لا تكتبوا عن أخي، فإنه كذاب، وقال أبو عروبة الحراني، هو خال أمي، وهو كذاب::: الحسین بن ابی السَری ، محمد بن ابی السَری کا بھائی تھا ، (اِن دونوں کے والد کا نام المتوکل تھا) امام ابو داود نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے ، ان(مذکورہ بالا) محمد کا اپنے بھائی کے بارے میں کہنا ہے کہ میرا بھائی جھوٹ بولتا ہے لہذا اس کی روایت کردہ حدیث مت لکھا کرو، اور ابی عروبہ الحرانی کا کہنا ہے کہ یہ الحسین بن ابی السَری میری والدہ کا ماموں ہے ، اور جھوٹا شخص ہے """ دیگر کتب الرجال میں بھی اس شخص کا یہی حال بیان ہوا ہے ، تو بہن جی ایسے شخص کی روایت قطعا قابل قبول نہیں ہوتی ، لہذا یہ دوسری روایت بھی ضعیف جِداً یعنی بہت ہی زیادہ کمزور ، اور ناقابل حجت ہے ۔ اس کے بعد آپ کی ارسال کردہ پی ڈی ایف میں امام الشوکانی کی کتاب """ تحفۃ الذاکرین بعدۃ الحصن الحصین """کے برقی نسخے سے ایک پیرا گراف کاپی کیا گیا ہے، جس میں ایک ہی عبارت کی سی صورت میں کئی روایات کاپی پیسٹ کی گئی ہیں ، اگلے مراسلات میں ان شاء اللہ ، میں ان کو الگ الگ لکھ کر ان کی صحت کے بارے میں بیان کروں گا، اِن شاء اللہ ،و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | ام محمد (17-03-11), ارشد کمبوہ (17-03-11) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,803
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
جزاک اللہ خیرا |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ہیں؟, کٹ, پہلے, پہچان, پڑھنے, مہربانی, آئینہ, اللہ, الرحمن, احادیث, بسم, تمام, ثابت, جواب, دُعا, دیکھ, دیکھنے, دے, دعا, رہنمائی, رحمتہ, سوال, سند, شارٹ, صحیح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|