واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث



علوم حدیث علوم حدیث


امام بخاری کی معصومیت اور انبیائے کرام کی لغزشیں

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-11-10, 11:09 AM   #1
امام بخاری کی معصومیت اور انبیائے کرام کی لغزشیں
نوشاد احمد نوشاد احمد آف لائن ہے 27-11-10, 11:09 AM

امام بخاری کی معصومیت اور انبیائے کرام کی لغزشیں
کتاب کا نام ہے ’’ دفاع صحیح بخاری ‘‘ لکھنے والے ہیں اہل حدیث کے مشہور عالم ’’ شیخ الا سلام مولانا محمد ابوالقاسم سیف بنارسی صاحب ‘‘ کتاب پر تقدیم لکھی ہے ’’فضیلۃ الشیخ مولانا ارشاد الحق اثری صاحب نے‘‘اور ’’جناب فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عزیر شمس صاحب نے‘‘۔تحقیق و تعلیق ہے جناب ’’حافظ شاہد محمود صاحب کی ‘‘جوفاضل مدینہ یو نیورسٹی ہیں۔
ناشر ہیں ام القری پبلی کیشنز سیالکوٹ روڈ فتو منڈ ، گوجرانوالہ
کتاب کا صفحہ نمبر ہے 72.73
اس صفحہ پر جناب مولف نے ایک ذیلی عنوان باندھا ہے جس کا نام ہے ’’ امام بخاری کا معصوم نہ ہونا ‘‘ اس ذیل میں جو حضرت علامہ نے لکھا ہے وہ ہم من و عن نقل کرتے ہیں۔

’’امام پر یہ اعتراض کہ’’ وہ معصوم نہ تھے ،لہذا ان سے وقو ع خطا ممکن ہے‘‘۔معترض کی انتہا درجی کی بے عقلی پر دال ہے۔اس لئے کہ لغزش ( تقدیمی و تاخیری )کا صدور تو معصومین سے بھی ہوا ہے،پھر غیر معصوم کیوں کر بچ سکتا ہے؟لیکن قابل غور امر یہ ہے کہ امام بخاری نے کونسا کام کیا اور ان سے کس امر میں خطا ہوئی؟امام بخاری نے صرف احادیث شتے [ مختلف]( ت پر کھڑا زبر ہے۔نوشاد )کی تدوین کی ،فن حدیث میں غلطی ممکن نہیں کیوں کہ وہ قول نبی ہےجو محلی بعصمت از خطا ہے،یا قول صحابہ جو اہل زبان ہیں۔سند حدیث میں بھی خطا ممکن نہیں ،کیوں کہ با اتفاق امت اس کے رواۃ نہایت ثقہ اور حجت ہیں،پس رہ گئی تدوین اس میں البتہ امکان کو دخل ہے،لہذا اس میں خطا نہیں بلکہ تقدیمی و تاخیری لغزش کو ضرور دخل ہوگا،اور ایسی لغزشیں انبیائے معصومین سے ثابت ہیں۔

’’ لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر‘‘سورۃ الفتح سورۃ نمبر ۴۸ آیت نمبر ۲
’’ عفا اللہ عنک لم اذنت لھم‘‘ سورہ التوبۃ سورۃ نمبر ۹ آیت نمبر ۴۳

وغیرہ آیات قرانیہ میں اسی کی طرف اشارہ ہے،پس انبیا کی ایسی لغزشیں چونکہ معاف اور ناقابل مواخذہ ہیں،اسی طرح امام بخاری کی یہ
لغزش بھی قابل اعتراض اور صحت کے لیئے مضر نہیں۔‘‘

( مولف نےصرف آیات کے ایک ایک حصے بیان کیئے ہیں پوری آیت درج نہیں کی ہےاور ان کا ترجمہ بھی درج نہیں کیا ذیل میں ہم صرف آیات کے ان حصوں کا ترجمہ نقل کرتے ہیں۔مضمون کے آخر میں ان شا اللہ تعالی پوری پوری آیت اور اس کا ترجمہ درج کریں گے۔نوشاد)

( اللہ آپ کی اگلی اور پچھلی لغزشوں کو معاف فرما چکا ہے الفتح ۔آیت نمبر دو )

( اللہ نے آپ کو معاف کیا آپ نے ان کو اجازت کیوں دے دی التوبۃ آیت نمبر تینتالیس )
( اب کتاب کے مولف جناب بنارسی صاحب کی تحریر ہے ۔نوشاد )

ثانیا:۔امام بخاری کا جامع صحیح کی تالیف کے وقت ایسا انتظام و التزام اور اہتمام دیکھ کر عقل باور نہیں کر سکتی کہ اس قدر محافظ و گارڈ کے ہوتے ہوئے جرم و خطا وہاں پھٹک بھی سکے،چنانچہ امام بخاری خود فرماتے ہیںجس کو ہم ایک معتبر حنفی کی کتاب سے نقل کرتے ہیں۔
( مولف نے عربی عبارت بھی دی ہے مگر ہم انہی کا کیا ہوا صرف ترجمہ درج کرتے ہیں۔نوشاد)
ترجمہ:۔امام بخاری نے فرمایا میں نے اس کتاب(جامع صحیح ) میںکو ئی حدیث بغیر نہائےاور دو رکعت نماز پڑھے بغیر نہیں رکھی ،اور میں نے تقریبا چھ لاکھ حدیثوں سے انتخاب کر کے اس میں رکھی۔اور سولہ برس میں اس کو تصنیف کیا۔اور میں نے کوئی حدیث اس میں داخل نہیں کی ،جب تک کہ خدا سے استخارہ نہ کیا اور دو رکعت نماز نہ پڑھ لی اور جب تک مجھے اس کا صحیح ہونا متیقن نہیں ہوا ۔
( مرقاۃ ملا علی قاری حنفی ۱۔۱۳ )
اللہ اکبر ایک ایک حدیث کی جانچ پڑتال میں ڈیڑھ ڈیڑھ یوم کامل صرف ہوئے۔اور وہ بھی صرف تدوینی امر میں اور پھر اس پر الزام خطا۔

تکاد السموت یتفطر ن منہ وتنشق الارض وتخرالجبال ھدا سورۃ مریم انیسویں سورہ آیت نمبر ۹۰
( مولف نے اس آیت کا ترجمہ بھی نہیں دیا ذیل میں ہم شاہ عبد القادر کے ترجمے سے اس آیت کا ترجمہ لکھتے ہیں۔نوشاد )
( ابھی آسمان پھٹ پڑیں اس بات سے ،اور ٹکڑے ہو زمین،اور گر پڑیں پہاڑ ڈھے کہ ۔سورہ مریم آیت نمبر ۹۰ )

عرض نوشاد
۱:۔ سب سے پہلے مولف نے سورہ الفتح کی آیت نمبر دو کا صرف ایک حصہ ذکر کیا ہے ۔اس سورت سورہ الفتح میں اللہ تعالی نے رسول اکرم کو مخاطب کیا ہے اوریہ سورت صلح حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی۔اس سورت کی پہلی آیت ہے ۔
آیت نمبر ۱:۔بلا شبہ ہم نے آپ کو صریح فتح دی۔

آیت نمبر ۲:۔اللہ آپ کی اگلی اور پچھلی لغزشوں کو معاف فرما چکا ہے۔اور آپ پر اپنے انعام کی تکمیل فرمائےاور آپ کو سیدھے راستے پر لے چلے۔

آیت نمبر ۳:۔اور اللہ آپ کی ایسی مدد فرمائے کہ اس میں غلبہ اور عزت ہو۔

2:۔ اس کے بعد مولف نے سورہ التوبۃ کی آیت نمبرتینتالیس کا ایک حصہ ذکر کیا ہے ۔اس سورت کے اس حصے میں مدینہ کے منافقین کا تذکرہ ہے جو رسول اللہ سے جنگ میں شرکت نہ کرنے کے بہانے کر رہے تھے اور رسول اکرم سے جنگ میںنہ جانے کی اجازت مانگ رہے تھے ۔یہاں تک کہ رسول اللہ نے انھیں جنگ میں شرکت نہ کرنے کی اجازت دے دی۔یہ بات اس سورت کی ۴۲ ویں آیت سے شروع ہوئی ہے اور آیت نمبر ۵۲ تک چلی گئی ہے ۔ذیل میں ہم ان تمام آیات کا ترجمہ نقل کرتے ہیں تاکہ بات واضح ہو جائے کہ رسول اکرم سے کیا کہا جارہا ہے

آیت نمبر ۴۲:۔اگر مال نزدیک اور سفر معمولی ہوتا تو وہ لوگ (یعنی منافقین)ضرور آپ کے ساتھ ہو لیتے ۔لیکن ان کو مسافت طویل نظر آئی اور اب یہ اللہ کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم سےہوسکتا تو ضرور آپ کے ساتھ چلتے ،یہ لوگ اپنی جانوں کو وبال میں ڈال رہے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔

۴۳:۔اللہ نے آپ کو معاف کیا آپ نے ان کو اجازت کیوں دے دی۔یہاں تک کہ آپ پر ظاہر ہو جاتا کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون

۴۴:۔وہ لوگ جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے آپ سے رخصت نہ طلب کریں گے اس بات سے کہ اپنے مال و جان سے جہاد کریں اور اللہ انہیں خوب جانتا ہے جو خوف خدا رکھتے ہیں ۔

۴۵:۔اجازت تو وہ طلب کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور جن کے دل شک میں پڑے ہوتے ہیں ۔پس وہ اپنے شک میں سر گرداں ہیں۔

۴۶:۔اور اگر وہ واقعی نکلنا چاہتے تو اس کے لیئے کچھ ساز و سامان ضرور تیار کر لیتے لیکن اللہ نے ان کا جنگ پر جانا پسند ہی نہیں فرمایا ۔سو ان کو وہیں روک دیا اور حکم ہوا کہ تم بیٹھنے (جنگ پر نہ جانے والے)والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔

۴۷:۔اگر (منافقین)تمہارے ساتھ نکلتے تو تمہارے درمیان فتنہ ہی بڑھاتے اور بگاڑ کی تلاش میں تمہارے درمیان دوڑتے پھرتے۔اور تم میں ان کے جاسوس ہیں اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے

۴۸:۔وہ بگاڑ پہلے بھی تلاش کرتے رہے ہیں اور آپ کے کام پلٹنے میں لگے رہے ہیں یہاں تک کہ حق آپہنچا اور اللہ کا حکم غالب ہو کر رہا ہر چند کہ وہ ان کو ناگوار گزرتا رہا۔

۴۹:۔اور بعض کہتے ہیں کہ مجھے تو اجازت دیجےاور مجھے آفت میں نہ ڈالیئے ۔خوب سن لو وہ گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں ۔اور بے شک دوزخ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔

۵۰:۔اور اگر آپ کو (رسول کو)کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو وہ ان کو بری لگتی ہےاور اگر آپ کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم نے اپنا کام پہلے ہی درست کر لیا تھا اور خوشیاںمناتے واپس جاتے ہیں۔

۵۱:۔آپ فرمادیجے کہ ہم کو ہر گز کچھ نہ پہنچے گا مگر وہی جو اللہ نے ہمارے لیئے لکھ دیا ہے ،اور وہی ہمارا کار سازہے۔اور مومنوں کو چاہیئے کہ اللہ ہی پر بھروسہ کریں

۵۲:۔آپ فرما دیجے کہ تم تو ہمارے حق میں دو بھلائیوں میں سے ایک کے منتظر ہو(کہ ہم شہید ہوتے ہیں یا غازی)اور ہم منتظر ہیں کہ اللہ اپنے پاس سے تم پر عذاب کرے گا یا ہمارے ہاتھوں۔سو تم بھی منتظر رہو اور ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں۔

( نوٹ آیات کے یہ ترجمے ہم نے ڈاکٹر سید حامد حسن بلگرامی کے مرتب کردہ فیوض القران ترجمہ قران سے لیئے ہیں ۔اسے ایچ ۔ایم سعید کمپنی ادب منزل پاکستان چوک کراچی نے طبع کیا ہے۔نوشاد )

مولف نے اپنی عبارت میں امام بخاری کی عظمت بیان کرتے ہوئے اور ان پر اعتراض کرنے والوں کی زبان بند کرتے ہوئے جو کچھ لکھا ہے اسے ہم نکات کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔

۱۔اگر کوئی یہ اعتراض کرتا ہے کہ امام بخاری معصوم نہ تھے اور ان سے غلطی ہونا ممکن ہے تو ایسی سوچ رکھنے والا بے عقل ہے۔

۲۔کیوں کہ پہلے اور بعد میں ہونے والی غلطیاں تو معصومین یعنی انبیائے کرام سے بھی ہوئی ہیں اس لیئے ان غلطیوں سے غیر نبی کیسے بچ سکتا ہے

۳۔امام بخاری نے صرف مختلف احادیث کی تدوین کی ہے۔

۴۔فن حدیث میں غلطی ممکن نہیں ہے ۔تدوین میں البتہ (لغزش کے۔نوشاد)امکان کو دخل ہے۔

۵۔لیکن اس میں بھی خطا نہیں بلکہ تقدیمی و تاخیری(پہلے اور بعد کی۔نوشاد)لغزش ضرور ہو سکتی ہے ۔

۶۔ایسی لغزشیں تو انبیائے کرام سے بھی ثابت ہیں۔اور مختلف قرانی آیات میں وہ بیان بھی ہوئی ہیں۔مثلا سورہ الفتح ۔۲ اور التوبۃ ۴۳

۷۔اگر انبیائے کرام کی یہ غلطیاں قابل مواخذہ نہیں اور معاف ہیں تو۔

۸۔امام بخاری کی بھی ایسی (پہلے اور بعد کی۔نوشاد)غلطیاں قابل اعتراض نہیں اور (غالبا حدیث کی۔نوشاد )صحت کے لیئے نقصان دہ نہیں ہیں۔

ثانیا
۱۔امام بخاری نے جس اہتمام سے جامع صحیح کی تالیف کی ہے اس سے یہ ممکن نہیں کہ کوئی جرم اورغلطی امام بخاری کی کتاب کے پاس پھٹک بھی سکے کیوں کہ۔

۲۔امام بخاری نے اس کتاب میں کوئی حدیث بغیر نہائے اور دو رکعت نماز پڑھے بغیر نہیں لکھی

۳۔امام بخاری نے تب تک اس کتاب میں کوئی حدیث داخل نہیں کی جب تک خدا سے اس حدیث کے بارے میں استخارہ نہ کر لیا ہو(عربی عبارت کے الفاظ ہیں۔حتی استخرت اللہ۔نوشاد) اور اس حدیث سے متعلق یہ یقین نہ حاصل کر لیا ہو کہ یہ حدیث صحیح ہے۔(ظاہر ہے امام بخاری نے استخارہ اللہ سے کیا تھا توحدیث کے صحیح ہونے کے بارے میں یقین بھی اللہ ہی سے حاصل کیا ہوگا۔)

۴۔اس کتاب میں چھ لاکھ حدیثوں سے انتخاب کر کے احادیث لکھی گئیں ۔سولہ برس اس کتاب کو لکھنے میں لگے۔

اس سے ہمیں تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ جناب بنارسی صاحب اصل میں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ کیوں کہ امام بخاری نے ہر حدیث کے لیئے اللہ سے استخارہ کیا اور جب انھیں یہ یقین ہو گیاکہ یہ حدیث صحیح ہے تب کہیں جاکر انھوں نے اس کتاب میں وہ حدیث لکھی۔
اس کے باوجود بھی اگر امام بخاری سے احادیث جمع کرنے اور لکھنے کے دوران کوئی غلطی ہوئی تو ایسی غلطی تو حضرات انبیائے کرام(مولف نے لکھا تو معصومین سے غلطیاں ہونا ہے لیکن مثال میں آیات وہ دیں ہیں جن سے ان کے خیال میں رسول اللہ سے غلطیوں کا ہونا معلوم ہوتا ہے)سے بھی ہوئی ہیں ۔ان غلطیوں میں انبیا اور امام بخاری ایک جیسے ہیں۔

اور جب ان غلطیوں کی کوئی سزا انبیا کرام کو نہیں دی جائے گی بلکہ معاف کردیا گیا۔تو امام بخاری پر بھی ان غلطیوں کے سلسلے میں اعتراض درست نہیں ہے۔
اور اگر اس کے باوجود بھی کوئی امام بخاری پر غلطی کا الزام لگائے تو قران کے الفاظ میں ایسا کیوں نہ ہو کہ
(ابھی آسمان پھٹ پڑیں اس بات سے ،اور ٹکڑے ہو زمین،اور گر پڑیں پہاڑ ڈھے کہ ۔سورہ مریم آیت نمبر ۹۰ )

فی الحال مولف کی اس عبارت پر ہم تبصرہ نہیں کرتے ۔ہاں جب ’’ اہل علم ‘‘اس عبارت کی تشریح و وضاحت میں اپنے خیالات قلم بند کریں گے تو ضرور ہم بھی اپنا طالب علمانہ نقطہ نظر پیش کریں گے۔فی الحال آپ یہ عبارت پڑھیئے اور سر دھنیے۔
نوٹ:۔ جس کتاب سے میں نے یہ سب کچھ لکھا ہے یہ کتاب الحمد اللہ میرے پاس موجود ہے کوئی یہ نہ سمجھے کہ جناب عبد اللہ حیدر کے الفاظ میں میں نے کسی جاہل و معتصب شخص کے کہنے میں آکر اور ادھر ادھر سے سن کر یہ سب لکھا ہے۔

نوشاد احمد
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 413 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 637
7 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (27-11-10), فاروق سرورخان (05-12-10), نورالدین (29-11-10), مرزا عامر (27-11-10), آصف احمد (06-12-10), ابن جمال (20-12-10), غیاث (05-12-10)
پرانا 27-11-10, 02:38 PM   #2
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مجھے اس مراسلے میں ہر حدیث پر نہا کر ستخارہ کرنے والی بات سمجھ نہیں آئی ۔ کیا استخارہ کرتے ہی حدیث کے صحیح ہونے پر الہام ہو جاتا تھا کہ آیا حدیث صحیح ہے یا نہیں ۔ اور اس مراسلے میں یہ بات بھی کی گئی ہے کہ ایک حدیث کو لکھنے میں پورا ایک سے ڈیڑھ دن لگتا تھا ۔ تو چھ لاکھ احادیث کوجمع کر کے اس میں سے چند ہزار احادیث کو لکھنے اور باقی احادیث کے انکار کا کام 16 برس میں کیسے ممکن ہوا؟؟
اگر انسان کی عمر اوسطاً 70 برس ہے اور وہ روز غسل کرتا ہے تو اس نے اپنی زندگی میں 25،000 تقریباً مرتبہ غسل کیا ۔
چھ لاکھ مرتبہ غسل کرنے کے لیئے 1،640 سال سے زیادہ کی عمر درکار ہے ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا

Last edited by مرزا عامر; 27-11-10 at 02:43 PM.
مرزا عامر آف لائن ہے  
6 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (29-11-10), فاروق سرورخان (05-12-10), یاسر عمران مرزا (27-11-10), نورالدین (29-11-10), محمدمبشرعلی (27-11-10), غیاث (05-12-10)
پرانا 27-11-10, 02:59 PM   #3
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نوشاد بھائی
آپکا مراسلہ بالکل سمجھ میں نہیں آرہا ہے
کون کیا کہہ رہا ہے کچھ علم ہی نہیں ہورہا
اپنی رائے اور اقتباس جو جا بجا تحریر کے درمیاں میں موجود ہیں ان کو الگ رنگ سے نمایاں کریں

بہتر یہی ہوتا کے آپ متعلقہ مضمون اصل حالت میں علیحدہ سے پوسٹ کریں
او اپنی رائے علیحدہ سے دیں
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے  
7 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (29-11-10), فاروق سرورخان (05-12-10), نورالدین (29-11-10), مرزا عامر (27-11-10), ابرارحسین (27-11-10), عبدالقدوس (27-11-10), عبداللہ آدم (27-11-10)
پرانا 27-11-10, 04:58 PM   #4
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,361
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

فل وقت تو یہ دمادم مست قلندر کا منظر پیش کررہاہے
عبدالقدوس آف لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا
shafresha (29-11-10), فیصل ناصر (27-11-10), مرزا عامر (29-11-10), عبداللہ آدم (27-11-10)
پرانا 27-11-10, 06:30 PM   #5
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,725
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
نوشاد بھائی یہ آپکی اپنی تحقیق ہے یا یہ مضمون کہیں سے مستعار لیا گیا ہے ؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نوشاد احمد مراسلہ دیکھیں
یہ نظریات مختلف کتابوں میں جا بجا بکھرے ہوئے ہیں۔ میں نے صرف انھیں ایک مربوط صورت میں جمع کر کے یہاں پیش کر دیا ہے۔ اور اسی لئے ساتھ ہی کتب کے حوالے بھی لکھ دئے ہیں۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم!

بھائی نوشاد احمد! میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ نے ان کتابوں کے متعلقہ مقامات کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد اپنا مراسلہ لکھا ہے یا محض صحیح البخاری میں غلطیاں نکالنے کے شوقین حضرات کی “تحقیق” سے استفادہ کرنے پر اکتفا کیا ہے؟

والسلام علیکم

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم و رحمۃ‌اللہ و برکاتہ،

اکابر علماء کی کتابوں‌ کے بارے میں‌ ایک سوال میں‌ نے اوپر پوچھا تھا کہ آپ نے یہ حوالے ان علماء کی کتابوں‌کے متعلقہ مقامات کے بغور مطالعہ کے بعد اکٹھے کیے ہیں‌ یا ادھر ادھر سے سن دیکھ کر ایک مراسلہ لکھ دیا ہے؟

والسلام علیکم

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!

میں براہ راست نوشاد بھائی کے مراسلات کی طرف آتا ہوں جن سے میں بارہا پوچھ چکا ہوں کہ جن کتابوں کا حوالہ وہ دے رہے ہیں ان کا خود بھی بغور مطالعہ کیا ہے یا ۔ نہیں؟ اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس سیدھے سادھے سوال کا جواب دینے میں انہیں کیا چیز مانع ہے۔



السلام علیکم محترم نوشاد

آپ کے جس دھاگہ میں یہ بات آپ سے پوچھی گئی تھی وہاں پر تو آپ نے آخر تک جواب پیش کرنے میں خاموشی برقرار رکھی اور اپنے ہی اگلے نئے دھاگہ میں بنا پوچھے خود ہی یہ کیا لکھ دیا۔ خیر آپ خود ذرا سوچیں کہ کون سر دھن رہا ھے

والسلام


اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نوشاد احمد مراسلہ دیکھیں
فی الحال آپ یہ عبارت پڑھیئے اور سر دھنیے۔

نوٹ:۔ جس کتاب سے میں نے یہ سب کچھ لکھا ہے یہ کتاب الحمد اللہ میرے پاس موجود ہے کوئی یہ نہ سمجھے کہ جناب عبد اللہ حیدر کے الفاظ میں میں نے کسی جاہل و معتصب شخص کے کہنے میں آکر اور ادھر ادھر سے سن کر یہ سب لکھا ہے۔
کیا عبداللہ حیدر کے اس مکالمہ کی نشاندہی کروا سکتے ہیں کہ کہاں ایسا لکھا ھے آپکے لئے۔

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (29-11-10), ھارون اعظم (27-11-10), مرزا عامر (29-11-10), ارشد کمبوہ (03-12-10), عبداللہ حیدر (27-11-10)
پرانا 29-11-10, 10:09 AM   #6
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,706
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 413 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جناب کنعان صاحب اسلام علیکم
امام بخاری کی کتاب میں موجود تسامحات کے بارے میں جو میرا مکالمہ ہے وہ اور اس پر عبد اللہ حیدر صاحب صاحب نے جو کچھ کہا ہے وہ دوبارہ پڑھ لیجے معلوم ہو جائے گا کہ میں نے یہ حوالہ کیوں دیا ہے۔
نوشاد احمد آف لائن ہے  
نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (29-11-10)
پرانا 29-11-10, 10:12 AM   #7
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,706
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 413 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اصل مضمون جناب بنارسی صاحب
امام بخاری کی معصومیت اور انبیائے کرام کی لغزشیں
امام بخاری کی معصومیت اور انبیائے کرام کی لغزشیں

امام بخاری کی معصومیت اور انبیائے کرام کی لغزشیں
کتاب کا نام ہے ’’ دفاع صحیح بخاری ‘‘ لکھنے والے ہیں اہل حدیث کے مشہور عالم ’’ شیخ الا سلام مولانا محمد ابوالقاسم سیف بنارسی صاحب ‘‘ کتاب پر تقدیم لکھی ہے ’’فضیلۃ الشیخ مولانا ارشاد الحق اثری صاحب نے‘‘اور ’’جناب فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عزیر شمس صاحب نے‘‘۔تحقیق و تعلیق ہے جناب ’’حافظ شاہد محمود صاحب کی ‘‘جوفاضل مدینہ یو نیورسٹی ہیں۔
ناشر ہیں ام القری پبلی کیشنز سیالکوٹ روڈ فتو منڈ ، گوجرانوالہ
کتاب کا صفحہ نمبر ہے 72.73
اس صفحہ پر جناب مولف نے ایک ذیلی عنوان باندھا ہے جس کا نام ہے ’’ امام بخاری کا معصوم نہ ہونا ‘‘ اس ذیل میں جو حضرت علامہ نے لکھا ہے وہ ہم من و عن نقل کرتے ہیں۔

’’امام پر یہ اعتراض کہ’’ وہ معصوم نہ تھے ،لہذا ان سے وقو ع خطا ممکن ہے‘‘۔معترض کی انتہا درجی کی بے عقلی پر دال ہے۔اس لئے کہ لغزش ( تقدیمی و تاخیری )کا صدور تو معصومین سے بھی ہوا ہے،پھر غیر معصوم کیوں کر بچ سکتا ہے؟لیکن قابل غور امر یہ ہے کہ امام بخاری نے کونسا کام کیا اور ان سے کس امر میں خطا ہوئی؟امام بخاری نے صرف احادیث شتے [ مختلف]( ت پر کھڑا زبر ہے۔نوشاد )کی تدوین کی ،فن حدیث میں غلطی ممکن نہیں کیوں کہ وہ قول نبی ہےجو محلی بعصمت از خطا ہے،یا قول صحابہ جو اہل زبان ہیں۔سند حدیث میں بھی خطا ممکن نہیں ،کیوں کہ با اتفاق امت اس کے رواۃ نہایت ثقہ اور حجت ہیں،پس رہ گئی تدوین اس میں البتہ امکان کو دخل ہے،لہذا اس میں خطا نہیں بلکہ تقدیمی و تاخیری لغزش کو ضرور دخل ہوگا،اور ایسی لغزشیں انبیائے معصومین سے ثابت ہیں۔

’’ لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر‘‘سورۃ الفتح سورۃ نمبر ۴۸ آیت نمبر ۲
’’ عفا اللہ عنک لم اذنت لھم‘‘ سورہ التوبۃ سورۃ نمبر ۹ آیت نمبر ۴۳

وغیرہ آیات قرانیہ میں اسی کی طرف اشارہ ہے،پس انبیا کی ایسی لغزشیں چونکہ معاف اور ناقابل مواخذہ ہیں،اسی طرح امام بخاری کی یہ
لغزش بھی قابل اعتراض اور صحت کے لیئے مضر نہیں۔‘‘

( مولف نےصرف آیات کے ایک ایک حصے بیان کیئے ہیں پوری آیت درج نہیں کی ہےاور ان کا ترجمہ بھی درج نہیں کیا ذیل میں ہم صرف آیات کے ان حصوں کا ترجمہ نقل کرتے ہیں۔مضمون کے آخر میں ان شا اللہ تعالی پوری پوری آیت اور اس کا ترجمہ درج کریں گے۔نوشاد)

( اللہ آپ کی اگلی اور پچھلی لغزشوں کو معاف فرما چکا ہے الفتح ۔آیت نمبر دو )

( اللہ نے آپ کو معاف کیا آپ نے ان کو اجازت کیوں دے دی التوبۃ آیت نمبر تینتالیس )
( اب کتاب کے مولف جناب بنارسی صاحب کی تحریر ہے ۔نوشاد )

ثانیا:۔امام بخاری کا جامع صحیح کی تالیف کے وقت ایسا انتظام و التزام اور اہتمام دیکھ کر عقل باور نہیں کر سکتی کہ اس قدر محافظ و گارڈ کے ہوتے ہوئے جرم و خطا وہاں پھٹک بھی سکے،چنانچہ امام بخاری خود فرماتے ہیںجس کو ہم ایک معتبر حنفی کی کتاب سے نقل کرتے ہیں۔
( مولف نے عربی عبارت بھی دی ہے مگر ہم انہی کا کیا ہوا صرف ترجمہ درج کرتے ہیں۔نوشاد)
ترجمہ:۔امام بخاری نے فرمایا میں نے اس کتاب(جامع صحیح ) میںکو ئی حدیث بغیر نہائےاور دو رکعت نماز پڑھے بغیر نہیں رکھی ،اور میں نے تقریبا چھ لاکھ حدیثوں سے انتخاب کر کے اس میں رکھی۔اور سولہ برس میں اس کو تصنیف کیا۔اور میں نے کوئی حدیث اس میں داخل نہیں کی ،جب تک کہ خدا سے استخارہ نہ کیا اور دو رکعت نماز نہ پڑھ لی اور جب تک مجھے اس کا صحیح ہونا متیقن نہیں ہوا ۔
( مرقاۃ ملا علی قاری حنفی ۱۔۱۳ )
اللہ اکبر ایک ایک حدیث کی جانچ پڑتال میں ڈیڑھ ڈیڑھ یوم کامل صرف ہوئے۔اور وہ بھی صرف تدوینی امر میں اور پھر اس پر الزام خطا۔

تکاد السموت یتفطر ن منہ وتنشق الارض وتخرالجبال ھدا سورۃ مریم انیسویں سورہ آیت نمبر ۹۰
( مولف نے اس آیت کا ترجمہ بھی نہیں دیا ذیل میں ہم شاہ عبد القادر کے ترجمے سے اس آیت کا ترجمہ لکھتے ہیں۔نوشاد )
( ابھی آسمان پھٹ پڑیں اس بات سے ،اور ٹکڑے ہو زمین،اور گر پڑیں پہاڑ ڈھے کہ ۔سورہ مریم آیت نمبر ۹۰ )
نوشاد احمد آف لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (29-11-10), نورالدین (29-11-10), مرزا عامر (29-11-10)
پرانا 29-11-10, 11:49 AM   #8
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,706
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 413 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جناب کنعان صاحب کے لیئے
جو عبد اللہ حیدر صاحب نے میرے’’ نوشاد کے ‘‘ بارے میں ارشاد فرمایا اس سے ایک اقتباس
’’بہرحال ، میں دعا کرتا ہوں کہ مراسلہ نمبر ایک میں لکھی ہوئی باتیں انہوں نے کسی متعصب یا جاہل شخص کے پراپیگنڈے کے زیر اثر لکھ دی ہوں“

Last edited by نوشاد احمد; 29-11-10 at 11:50 AM. وجہ: peragraf
نوشاد احمد آف لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-12-10), فاروق سرورخان (04-12-10), مرزا عامر (29-11-10)
پرانا 04-12-10, 07:40 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,645
کمائي: 28,550
شکریہ: 7,151
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جس کو یہ ملا خود مانتے ہیں۔،۔۔۔ ایسی غلطیوں سے بھرپور صحیح بخاری کس نے ترتیب دی؟؟؟ اور اس کا کیا ثبوت آج موجود ہے؟

کیا صحیح‌بخاری ، جناب بخاری صاحب کے اپنے خیالات ہیں؟ ان کے اپنے اقوال ہیں؟

بابر، ہمایوں ، شاہجہاں نے کیا کہا، کیا تاریخ فرشتہ تاریخ کی کتاب نہیں؟

کیا وجہ ہے کہ بخاری صاحب سے منسوب شدہ کتب روایت و تاریخ کو مذہبی کتاب جیسے کہ قرآں حکیم ہے ، ایسا درجہ دیا جائے؟؟؟؟


کیا یہی کچھ باقی تاریخی کتب کے لئے درست نہیں؟
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (04-07-11), shafresha (05-12-10), مرزا عامر (04-12-10)
پرانا 04-12-10, 07:56 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,645
کمائي: 28,550
شکریہ: 7,151
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نوشاد احمد مراسلہ دیکھیں
اصل مضمون جناب بنارسی صاحب
امام بخاری کی معصومیت اور انبیائے کرام کی لغزشیں

ثانیا:۔امام بخاری کا جامع صحیح کی تالیف کے وقت ایسا انتظام و التزام اور اہتمام دیکھ کر عقل باور نہیں کر سکتی کہ اس قدر محافظ و گارڈ کے ہوتے ہوئے جرم و خطا وہاں پھٹک بھی سکے،چنانچہ امام بخاری خود فرماتے ہیںجس کو ہم ایک معتبر حنفی کی کتاب سے نقل کرتے ہیں۔
( مولف نے عربی عبارت بھی دی ہے مگر ہم انہی کا کیا ہوا صرف ترجمہ درج کرتے ہیں۔نوشاد)
ترجمہ:۔امام بخاری نے فرمایا میں نے اس کتاب(جامع صحیح ) میںکو ئی حدیث بغیر نہائےاور دو رکعت نماز پڑھے بغیر نہیں رکھی ،اور میں نے تقریبا چھ لاکھ حدیثوں سے انتخاب کر کے اس میں رکھی۔اور سولہ برس میں اس کو تصنیف کیا۔اور میں نے کوئی حدیث اس میں داخل نہیں کی ،جب تک کہ خدا سے استخارہ نہ کیا اور دو رکعت نماز نہ پڑھ لی اور جب تک مجھے اس کا صحیح ہونا متیقن نہیں ہوا ۔
( مرقاۃ ملا علی قاری حنفی ۱۔۱۳ )
اللہ اکبر ایک ایک حدیث کی جانچ پڑتال میں ڈیڑھ ڈیڑھ یوم کامل صرف ہوئے۔اور وہ بھی صرف تدوینی امر میں اور پھر اس پر الزام خطا۔
حساب دیکھئے
چھ لاکھ روایات۔
ہر روایت کی 2 د رکعت
ہر روایت پر دیڑھ دن
آج کی صحیح‌بخاری کی روایات کی تعداد -- لگ بھگ چھ ہزار۔

چھ لاکھ دن تقسیم 365 براب 1643 اعشاریہ 83 سال
اگر ایک دن میں 10 روایات بھی کیں تو 164 سال
اگر بارا لاکھ رکعتیں بھی پڑھیں تو دو رکعت پڑھنے کے پانچ منٹ‌بھی لگائی تو
ایک گھنٹے کی صرف بارا رکعت
دن کی 144 رکعت
12 لاکھ تقسیم 144 ہوئے تراسی ہزار تین سو 34 دن
جس کے بنتے ہیں 228 سال
اگر کھایا پیا کچھ نہیں ، سوئے نہیں صرف نماز ہی پڑھتے رہے ۔ کوئی روایت نہیں دیکھی تو بھی 114 سال لگیں گے بارا لاکھ رکعات کو بغیرا نہا دھو کر صرف نماز پڑھنے میں۔

چھ لاکھ روایات۔ اس میں سے چھ ہزار رکھیں اور باقی 5 لاکھ 94 ہزار روایات اٹھا کر پھینک دیں کہ کوئی دوسرا ریسرچ بھی نا کرسکے ؛)
ہم یہاں‌ایک روایت پر اعتراض کرتے ہیں تو منکر الھدیث بن جاتے ہیں اور ان صاحب نے 5 لاکھ 94 ہزار یعنی 99 فی صد روایات کا تیا پانچہ کردیا اور کوئی ان کو منکر الحدیث نہیں کہتا ؟؟؟؟؟

کوئی نا کوئی جھوٹ بول رہا ہے ، جس کا حساب بھی کمزور ہے

اس جیسی تاریخی اور کہانیوں کی کتب کے لکھنے ک مقصد کیا ہے۔
1۔ عوام کی دولت پر قرآن کے احکامات کے خلاف قبضہ
2۔ عورتوں پر قرآن کے احکامات کے خلاف کنٹرول
3۔ فرد واحد کی حکومت جو ملا کے کنترول میں ہو۔
4۔ غلامی کا فروغ ،۔ غلامی جو قران حکیم کے احکامات کے خلاف ہے

اس کے بعد، ہتک رسول ، ہتک قران اور اللہ تعالی پر بہتا تراشی۔ تمام کتب روایات ایسی بے ہنگم کہانیوں سے بھر پور ہیں جو قرآن کے خلاف، رسول کی شان مین گستاخیوں اور اللہ تعالی کے قوانین کی مخالفت سے بھرپور ہیں۔

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-12-10), مرزا عامر (04-12-10), آصف احمد (06-12-10)
پرانا 04-12-10, 08:19 PM   #11
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حضور قبلہ فاروق صاحب

آپ دوڑ كے ڈھول پيٹتے رہيں۔ جمع تفريق كرتے ہيں۔ بس اتنا خيال ركھيں كہ اگر آپ كي تحقيق درست ہوتي تو بخاري كي جگہ لوگ آج كي علمي تحقيقات كو قدر كي نظر سےديكھتے۔۔۔۔ ليكن۔۔۔۔ خير۔ ہاں تو عرض يہ كرنا تھا كہ يہ تو بتائيں كہ آپ نے ميرے ايك سوال كاجواب دينے كا وعدہ فرمايا تھا اور اس پر تحقيق كے لئے وقت مانگا تھا۔۔۔ تحقيق مكمل ہو گئي يا جاري ہے۔۔۔ اگر مكمل ہو گئي ہے تو متعلقہ موضوع پر مجھ سميت بہت سے حضرات آپ‌كے منتظر ہيں۔۔۔۔

شكريہ۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-12-10), فاروق سرورخان (04-12-10), ضِرار Derar (05-12-10)
پرانا 04-12-10, 08:29 PM   #12
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اعداد و شمار اور جمع تفریق سے گھبرانے کے بجائے زرا غور کر کے دیکھ تو لیں ۔ امام بخاری کو بھی مریدوں نے ہوا میں ایسے ہی اڑایا ہے جیسے مرید اپنے پیر کو اڑایا کرتے ہیں۔
میں نہیں سمجھتا کہ امام بخاری نے احادیث چھ لاھ کی تعداد میں اکھٹی کیں ہوں گی ۔
یہ بعد میں آنے والے مریدوں کا رچایا ہوا ڈرامہ ہے ۔
چھ لاکھ احادیث کو اکھٹا کرنا اور ہر حدیث پر استخارہ کر کے ایک دن صرف کرنا۔ اس طرح کل وقت چاہیئے 1640 سال سے زیادہ اور اس طرح امام بخاری کے انتقال میں ابھی مزید چار سو سال باقی ہیں
مرزا عامر آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-12-10), فاروق سرورخان (04-12-10)
پرانا 04-12-10, 08:34 PM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,645
کمائي: 28,550
شکریہ: 7,151
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شمشاد آپ کے سوال کا جواب دے چکا ہوں۔

جو لوگ رسول اللہ صلعم کو نعوذ‌باللہ ساقی پیش آب بنانے پر تلے ہیں ان کو شاتم رسول کیوں نا کہا جائے۔۔

مکمل جواب نوشاد صاحب کے دھاگے میں موجود ہے۔ جہاں نوشاد صاحب نے بہترین جواب دیا ہے ۔ میں نے آخر تک صبر سے پڑھا اور آخر میں جواب دیا ہے۔

والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 04-12-10 at 08:39 PM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (05-07-11), shafresha (05-12-10)
پرانا 04-12-10, 08:37 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 301
کمائي: 7,143
شکریہ: 256
262 مراسلہ میں 945 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تم سب بس ایک احتیاط کرو کہ حدیث کے علم کی کوئی خوشبو کسی صورت بھی تم تک نہ پہنچ سکے۔ پھر دیکھنا اس سے زیادہ فضول اعتراض بھی تمہارے منوؤں سے جھڑیں گے۔
طلحہ آف لائن ہے  
طلحہ کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (05-12-10)
پرانا 04-12-10, 09:12 PM   #15
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,695
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
شمشاد آپ کے سوال کا جواب دے چکا ہوں۔

جو لوگ رسول اللہ صلعم کو نعوذ‌باللہ ساقی پیش آب بنانے پر تلے ہیں ان کو شاتم رسول کیوں نا کہا جائے۔۔

مکمل جواب نوشاد صاحب کے دھاگے میں موجود ہے۔ جہاں نوشاد صاحب نے بہترین جواب دیا ہے ۔ میں نے آخر تک صبر سے پڑھا اور آخر میں جواب دیا ہے۔

والسلام
براہ كرم نشاندہي كيجئے كس دھاگے كے كون سے مراسلے ميں۔۔۔ ميں بعض مصروفيات كي وجہ سے سب كو نہيں ديكھ سكا اور نہ ہي في الحال ديكھ سكتا ہوں۔۔۔ اور اگر ہو سكے تو آنجناب كو متعلقہ ہمارے والے دھاگے ميں‌پيسٹ كر ديں تاكہ اگر تشفي نہ ہوئي تو آپ سے پوچھ لوں‌گا۔۔۔۔ شكريہ


اور يہاں۔۔۔۔ شاتم رسول كيا آپ ت و كافر و مشرك تك كہہ كر پھر معذرت كر ليتے ہيں اس لئے نہ كہيں تو اچھا ہے تا كہ آپ كو معذرت نہ كرني پڑے۔۔۔ اور اسي درس اخلاقيات كے مطابق بات كيجئے جس كي آپ دوسروں كو تلقين كرتے نہيں تھكتے يا۔۔۔۔ ااپنے الفاظ ميں كہوں تو وہي كہيں جو برداشت كر سكيں۔۔۔۔دوبارہ شكريہ۔
شمشاد احمد آف لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-12-10), کنعان (05-12-10), عادل سہیل (04-12-10), عبداللہ آدم (02-01-11), غیاث (05-12-10)
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
کراچی, پاکستان, پسند, لوگ, نماز, نظر, مواخذہ, منافقین, ممکن, معلوم, اکبر, ایمان, اللہ, الزام, تلاش, جاہل, جرم, حکم, حدیث, حسن, خدا, دل, صحابہ, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
مثالِ معصومیت سائرہ علی تعارف 76 12-07-11 05:29 PM
اُبالنے سے دودہ کی غزائیت % 36 کم ہو جاتی ہے naeemuddin خبریں 2 16-01-10 01:36 PM
معصومیت وسیم قہقہے ہی قہقے 0 12-03-09 02:24 PM
معصومیت وسیم قہقہے ہی قہقے 0 13-10-08 07:00 PM
ادائے حسن کی معصومیت محمدعدنان شاعری اور مصوری 4 01-05-08 11:56 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:58 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger