| علوم حدیث علوم حدیث |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 618
|
||||
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھائی نوشاد صاحب کے اعتراضات کے جوابات کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے میں نے پہلا مراسلہ یہ ارسال کیا تھا ::: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اقتباس:
بھائی نوشاد صاحب ، میرے دستخط میں لکھے ہوئے دو شعر کسی صاحب کے فلسفے کے جواب میں لکھے گئے تھے اور ان پر بھی آپ نے جس طرح """ ایک نظر """ فرمائی ہے اس کے بارے میں بات پھر ان شاء اللہ ، میں نے آپ کو کچھ مضامین پڑھنے کا مشورہ دیا تھا ،آپ ان کو پڑھ لیجیے ، مزید بات کے لیے بے شک ایک نیا تھریڈ کھول لیجیے ، ان شاء اللہ وہاں بات کر لیں گے ، یہاں اس تھریڈ میں اسی موضوع پر بات کریں گے جس پر آپ نے """ ایک نظر """ فرما کر اسے اپنی """ نظر """ کی نذر کیا ہے ، الحمد للہ ، مجھے اب کچھ دن کے لیے اتنی فرصت میسر ہو گی کہ میں آپ کی """تحقیق """ جو اب """ ایک نظر """ ہو گٕئی ہے ، اُس کے بارے میں کچھ گذارشات پیش کروں ، گو کہ اس کی چنداں ضرورت نہیں کیونکہ بھائی شمشاد صاحب کی طرف سے مراسلہ رقم 21 میں اس """ ایک نظر """ پر کافی اچھے طور پر نظر کی جا چکی ہے ، اور بھائی نوشاد صاحب کے ذاتی فہم پر مبنی اعتراضات کے جوابات دیے جا چکے ہیں ، لیکن چونکہ بھائی نوشاد صاحب اپنے سوالات کے جوابات شاید میری زبانی بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں اس لیے ان کی اس خواہش کے احترام میں حاضری دے رہا ہوں ، باقی بات چیت ان شاء اللہ اگلے مراسلات میں ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھائی نوشاد کے اعتراضات کے جوابات میں دوسرا جواب یہ تھا ::: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ، الحمد للہ ، مجھے اب کچھ دن کے لیے اتنی فرصت میسر ہو گی کہ میں آپ کی """ تحقیق """ جسے""" اب ایک نظر """ کہا گیا ہے ، اُس کے بارے میں کچھ گذارشات پیش کروں ، گو کہ اس کی چنداں ضرورت نہیں کیونکہ بھائی شمشاد صاحب کی طرف سے مراسلہ رقم 21 میں اس """ ایک نظر """ پر کافی اچھے طور پر نظر کی جا چکی ہے ، اور بھائی نوشاد صاحب کے ذاتی فہم پر مبنی اعتراضات کے جوابات دیے جا چکے ہیں ، لیکن چونکہ بھائی نوشاد صاحب اپنے سوالات کے جوابات شاید میری زبانی بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں اس لیے ان کی اس خواہش کے احترام میں حاضری دے رہا ہوں ، بھائی نوشاد صاحب آپ نے اپنی""" تحقیق ""'، او معاف کیجیے گا اب کے نام کے مطابق """ایک نظر """ کا اعادہ فرماتے ہوئے اپنے اعتراضات کو دوبارہ مراسلہ رقم 36 میں پیش کیا ، آپ کا پہلا اور دوسرا اعتراض جو آپ کی ذاتی سوچ کے مطابق """ کسی معنوی اختلاف """ کی نشاندہی کرتے ہیں ،دو ہی نکات کی تکرار ہیں کہ """ انس رضی اللہ عنہ ُ نے مختلف جگہوں کے نام بتائے ہیں ، اور لوگوں کی تعداد بھی مخلتف بتائی ہے """، جسے آپ اپنے تئیں """ معنوی اختلاف """ قرار دے کر ایک صحیح حدیث کو غلط قرار دیے بیٹھے ہیں ، آپ نے مراسلہ رقم 36 میں لکھا ہے ::: اقتباس:
بہر حال اللہ نے جو چاہا ہوا، اور ان شاء اللہ اس میں خیر ہی ہے کہ اللہ اس کے ذریعے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی احادیث پر بلا علم اعتراض کرنے والوں کو ظاہر کرتا ہے ، اور ان کے اعتراضات کی حقیقت بھی ، و لہُ الحمد ، آپ نے اپنی سوچ کو اس مخصوص ہدف سے استعمال کیا کہ کسی طور اس صحیح حدیث پر قدغن لگا کر اسے ضعیف قرار دے دیا جائے اور ایسے سوالات پیش کیے جن کا علمی طور پر کوئی معیار نہیں ، اگر یہ سوالات سوچنے سمجھنے کے ہوتے تو عُلماء اور امام صاحبان رحمہم اللہ صدیوں پہلے یہ سوالات بھی کر چکے ہوتے ، اور ان کے جوابات بھی تلاش کر کے پیش کر چکے ہوتے ، لیکن انہوں نے ان لفظی اختلافات کی سیدھی سادھی شرح فرمائی اور حدیث شریف کی درستگی پر کسی نے کوئی کلام نہیں کیا، اور بلا شک و شبہ اُن کا """ علم """ اور ان کی """ تحقیق """ واقعتا """ علم اور تحقیق """ ہے ، ظاہر سی علمی اور عملی حقیقت ہے کہ کوئی بھی عقل سلیم والا کسی علم کے عالم کی مدلل بات چھوڑ کر کسی لا علم کی غیر مدلل ذاتی سوچوں پر مبنی بات کو قبول نہیں کرے گا ، خیر ،،، چلیے آپ کی """ تحقیق """ اور """ ایک نظر """ پر نظر کرتے ہیں ، آپ نے منقولہ بالا دو اقباسات میں دونقاط پر ہی ذور دِیا ہے کہ ::: ::: (۱) ::: وہ لوگ عُکلی تھے یا عُرینی ؟ ::: (۲) ::: یہ واقعہ انس رضی اللہ عنہ ُ کا اپنا دیکھا ہوا ہے یا انہوں نے کسی اور سے سنا ؟ اور آپ پر یہ پریشانی بھی وارد دکھائی دیتی ہے کہ جو کچھ آپ کی """ ایک نظر """ کو دِکھائی دیا وہ کچھ انس ابن مالک رضی اللہ عنہ ُ جیسے صحابی سے کیسے ممکن ہے ؟؟؟ آپ کی پریشانی ٹھیک ہے ،کیونکہ عموما ً صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے حدیث بیان کرتے ہوئے اُن میں سے کوئی کمزوری ظاہر نہیں ہوئی جو آپ کی ذاتی سوچ پر مبنی """ایک نظر """کے تخلیات میں آن بسِیں ،اور تو اور عربی میں لفظ """قوم""" اور اُردُو میں لفظ """قوم """کے مفاہیم کے اختلاف کو بھی نہ روا رکھا اور بات کو کچھ کا کچھ سمجھا ، یا کچھ کا کچھ بنا کر پیش کیا ، اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ """ ایک نظر """ کے ان نتائج کا اصل سبب کیا رہا، ایک روایت میں لفظ """قوم """ کے استعمال کی کچھ وضاحت ان شاء اللہ آگے پیش کرتاہوں ، نوشاد بھائی ، آپ کے ان اعتراضات کا جواب شمشاد بھائی مراسلہ رقم 21 میں دے چکے ہیں ، اور طلحہ بھائی نے بھی مراسلہ رقم 31میں آپ کو بڑے اچھے انداز میں ان روایات میں مذکور مختلف الفاظ کی وجہ کےبارے میں سمجھانے کی کوشش کی ، لیکن اللہ جس کے لیے جو چاہتا ہے وہی اس کی عقل میں داخل ہوتا ہے ، بھائی میرے ،میری اور آپ کی بات ، اور ہماری طرف سے کسی بات کو نشر کرنا بالکل الگ معاملہ ہیں ، اور صحابہ رضی اللہ عنہم أجمعین کی بات اور ان کی طرف سے کسی بات کو نشر کرنا بالکل الگ ، وہ لوگ ہماری طرح ادھر ادھر کی نہیں ہانکا کرتے تھے اور نہ ہی کسی کی بات اپنی بات بنا کر بتاتے تھے ، بالخصوص جب کوئی قول یا فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے منسوب ہو رہا ہو، لہذا اس علمی حقیت کی بنا پر وثوق کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ انس ابن مالک رضی اللہ عنہ ُ نے یہ واقعہ خود ہی دیکھا اور مختلف اوقات میں مختلف طور پر اس کا ذکر سناتے رہے ، الفاظ کا یہ اختلاف کسی بھی طور کسی شرعی حکم میں کوئی """ معنوی اختلاف """ پیدا کرنے والا نہیں ، اور اگر کوئی صحابی رضی اللہ عنہ ُ کوئی ایسا واقعہ بیان کرے جس کا وہ خود شاھد نہیں تو بھی کسی شک و شبہےکے بغیر اس کے بات کو مانا جاتا ہے کیونکہ ہم اہل سنت و الجماعت کے تمام تر مذاھب کا یہ متفق عقیدہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجعین سارے کے سارے ہی سچے ، بااعتماد ، اور منصف تھے ، جھوٹ، دھوکہ دہی اور بے انصافی وغیرہ جیسی کسی صفت کا ان کے ہاں وجود نہ تھا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات مُبارک سے کچھ منسوب کرتے ہوئے تو ایسی کسی صفت کا کوئی تصور بھی محال ہے کیونکہ انہیں خوب اچھی طرح علم تھا کہ جوقول و فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے منسوب ہو تا ہے وہ دِین کا حصہ ہوتا ہے ، دِین کے اصول و قواعد میں سے ہوتا ہے ، میں چونکہ یہاں عقائد ، عبادات ، یا معاملات میں سے کسی پر بات کرنے کے لیے حاضر نہیں ہوا ، آپ کی """ ایک نظر """ کے نتیجے میں جو ایک صحیح حدیث کے بارے میں شکوک ابھارے گئے ہیں ، ان شاء اللہ ان شکوک کی حقیقت پرقارئین کرام کی کچھ نظر کروانے حاضر ہوا ہوں ، تا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے لطف و کرم سے اُس کے حبیب صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ احادیث کے بارے میں شکوک پھیلانے والوں کو بھی ہدایت دے اور ان شکوک سے متاثر ہونے والوں کو بھی محفوظ کرے اور ان شکوک کو پڑھنے سننے والوں کو بھی اُن شکوک کے شر سے محفوظ رکھے ، بے شک میرا اللہ ہی یہ کر سکتا ہے ۔ اس کے بعد گذارش یہ ہے کہ """ عُکل """ یا """ عُرینہ """ کے ذکر کے بارے میں بھی فی الحال اتنا ہی کہتا ہوں کہ اگر آپ یہ """تحقیق """ پیش کرنے سے پہلے ائمہ رحمہم اللہ کی لکھی ہوئی شروح ، اور کتب البلدان پر بھی """ ایک نظر """ فرما لیتے تو ایسے سوالات نہ اٹھتے ، اُس کی بات ان شاء اللہ آگے کروں گا ، شمشاد بھائی نے مراسلہ رقم 21 میں بہت خوب لکھا تھا کہ ::: اقتباس:
ان سب نے ہی یہ لکھا ہے کہ عکلیوں اور عرینیوں والے واقعے میں وہ آٹھ لوگ تھے ، چار عرینہ قبیلے سے اور تین عکل قبیلے سے اور ایک ان دونوں قبیلوں کے علاوہ تھا لیکن ان کے ساتھ تھا، اور یہ تفصیل امام الطبرانی رحمہُ اللہ کی ""مسند الشامین /حدیث 2619""" میں میسر ہے اور اس کی نص مندرجہ ذیل ہے ::: (((((أَنَّ أَرْبَعَةً، مِنْ عُرَيْنَةَ وَثَلَاثَةً مِنْ عُكْلٍ ::: کہ عرینہ میں سے چار لوگ اور عکل میں سے تین لوگ ))))) ، چونکہ آپ نے واقعہ کی کوئی """ تحقیق """ کی ہی نہیں ، اپنے مخصوص ہدف یعنی حدیث شریف کے بارے میں ، روایات حدیث کے بارے میں شکوک پھیلانے کی دُھن میں آپ کی """ ایک نظر """میں لوگوں کی تعداد بتانے والے الفاظ کا مختلف ہونا کچھ اس طرح پھنسا کہ آپ نے اس کو """ معنوی اختلاف """ قرار دے دیا ، روایات میں اُن لوگوں کی تعداد کے بارے میں درج ذیل الفاظ کا وارد ہوئے ہیں ::: """ قوم ٌ ::: لوگوں کا ایک گروہ ، عام مفہوم میں صرف مَردوں کے لیے استعمال ہوتا ہے """ جبکہ اُردُو میں قوم ایک بہت بڑی ملت کے لیے استعمال ہوتا ہے ، کسی ایک ملک کے رہنے والوں کے لیے ، کسی ایک دِین کے ماننے والوں کے لیے ، وغیرہ وغیرہ ، اور اُردُو کا یہ مفہوم مکمل طورپر عربی کے مفہوم اور بالخصوص شرعی معاملات کے فہم میں مناسب نہیں رہتا ، """ نفرٌ ::: لوگ ، شخص """ """ رھطٌ ::: کسی قوم ، کسی قبیلے ، کسی خاندان کےلوگوں کا ایک ایسا گروہ جس کی تعداددس سے کم ہو """ """ اُناس ٌ::: کچھ لوگ """ """ ناساً ::: کچھ لوگ """ """ رِجالاٍ ً ::: کچھ مَرد """ """ ثمانیۃ ::: آٹھ """ کیا ہی بھلا ہوتا کہ آپ کی """ تحقیق """ کی """ ایک نظر """ کا دائرہ کچھ وسیع ہوتا اور آپ شرح کے ساتھ لغت اور غریب الحدیث کی کتابوں پر بھی وہ """ ایک تحقیقی نظر """ فرما لیتے ، ان سب ہی الفاظ کے معانی اور مفاہیم کچھ اختلاف نہیں رکھتے ، چہ جائیکہ اس واقعے کی درستگی اور اس واقعہ میں ملنے والے شرعی احکامات کے بارے میں کچھ شک پیدا کر سکیں ، جی تو نوشاد بھائی اُن احادیث کی شرح پر """ ایک نظر """ مت کیجیے گا ، مطالعہ فرمایے گا ، اِن شاء اللہ وہاں آپ کو وہ سب کچھ جو شمشاد بھائی نے کہا تھا کہ بہت تفصیل سے مل جائے گا ، بلکہ آپ کے کچھ دیگر اعتراضات کے جوابات میں مل جائیں گے ، اور یہ واضح ہو جائے گا کہ انس رضی اللہ عنہ ُکی بیان کردہ ساری باتیں ایک ہی ایسے واقعہ سے متعلق ہیں جو انہوں نے خود دیکھا اور ساری باتیں جب ایک واقعہ کی صورت میں جمع کر لی جائیں تو کہیں کوئی اختلاف ، یا تضاد نہیں رہتا ، جیسا کہ میں نے اپنے شروع کردہ تھریڈ میں ، بھائی عامر مرزا صاحب کے ایک سوال کےجواب میں مراسلہ رقم 45میں اس واقعے کو تمام صحیح روایات میں سے ایک تسلسل کے ساتھ ذکر کیا ہے ، آپ نے یا تو اسکا مطالعہ نہیں فرمایا،یا """ ایک نظر """ کرتے گذر گئے ہیں ، و اللہ أعلم، چلیے خیر یہاں بھی اس کو نقل کیے دیتا ہوں اِن شاء اللہ ، اور آپ کے سوالات کی روشنی میں ایک دو اضافے بھی کیے دیتا ہوں، اِن شاء اللہ ، اور یہ اضافہ جات الگ رنگسے ظاہر کر رہا ہوں ::: ایک دفعہ پڑھ لیجیے گا ، ((((( مختلف صحیح روایات کو جمع کر کے جب ایک واقعہ کی صورت میں ذکر کیا جائے تو یوں بنتا ہے کہ """"""" ایک دفعہ قبیلہ عُکل اور قبیلہ عُرینہ کے آٹھ لوگ مدینہ المنورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان لوگوں کی حالتء زار کافی خراب تھی ، انہوں نے صُفہ جو کہ مسجد نبوی سے باہر چبوترہ نُما ایک جگہ تھی ، اُس پر قیام کیا، مدینہ منورہ کی آب و ہوا اور خوراک وغیرہ ان کو راس نہ آئی لہذا کچھ دِنوں بعد ان لوگوں کو ایک بیماری لاحق ہو گئی ، اس بیماری کی وجہ سے اُن لوگوں کی رنگت پیلی ہو گئی ، اور پیٹ پھول کر بڑے ہو گئے ، ( ان علامات کا سبب کوئی بھی بیماری ہوسکتی ہے ، برسام ، مُومہ ، استسقاء وغیرہ سب ہی کی علامات ایسی ملتی جلتی ہوتی ہیں ، اس کے بارے میں کچھ بات چیت ایک اور مراسلے میں کر چکا ہوں ، اور کچھ اور بات ان شاء اللہ اگلے مراسلات میں ہو گی) ان لوگوں نے مدینہ المنورہ میں مزید رہنا پسند نہ کیا، اپنی شکایت لے کر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور اپنی بیماری اور مدینہ شریف کی آب و ہوا اور خوراک کی شکایت کی ، اور کہا کہ ہم لوگ چلتے پھرتے رہنے والے ہیں ، کھلی جگہوں میں رہنے والے اور دُودھ گھی کھانے والے ہیں، ہمیں خوراک میں دُودھ دیا جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم چونکہ مدینہ میں ہی ان کی اس خواہش کی تکمیل کے اسباب نہ پاتے تھے ، اس لیے انہوں نے اُن لوگوں کو مدینہ سے باہر صدقے کے اونٹوں کے باڑے میں جا رہنے کا مشورہ دیا ، اور فرمایا کہ ((( تُم لوگ ہمارے چرواہے کے ساتھ(اونٹوں کے باڑوں میں) کیوں نہیں چلے جاتے )))، اور اُنہیں اُن کی خواہش کےمطابق وہاں موجود وانٹنیوں کا دودھ پینے کی اجازت عطاء فرمائی ، اور ان کی بیماری کے علاج کے لیے یہ بھی تجویز فرمایا ، بتایا ،کہ وہ لوگ اونٹنیوں کا پیشاب اور دودھ بھی بطور دواء استعمال کریں ، وہ لوگ مدینہ المنورہ سے نکل کر وہاں اُونٹوں والی جگہ چلے گئے ، اونٹنیوں کے دودھ کے ساتھ نسخے کے مطابق پیشاب کا استعمال بھی کیا ، اور وہ لوگ شِفایاب ہوگئے ، ان کے جسم صحت مند اور موٹے ہوگئے ، اس کے بعد انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے مقرر کردہ چرواہے رضی اللہ عنہ ُ کو پکڑ کر ، اُن کے ہاتھ پاؤں کاٹے ، اُن کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر کر اندھا کر دیا ، اُن کی ز ُبان میں کانٹے گاڑے ، اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے وہاں رکھوائے گئے صدقے کے اونٹ اور اونٹنیاں ہانک کر لے گئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو جب اس کی خبر ملی تو انہوں نے اُن لوگوں کے تلاش میں اپنے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھیجا ، صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان لوگوں کو جا پکڑا اور جانوروں سمیت واپس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی خدمت میں لا پیش کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اُن لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیے ، یعنی دائیں ہاتھ تو بائیں پاؤں ، یا بائیں ہاتھ تو دائیں پاؤں ، اور ان لوگوں کی آنکھوں میں اسی طرح کیل گاڑے گئے جس طرح انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے مقرر کردہ چرواہے رضی اللہ عنہُ کی آنکھوں میں گاڑے تھے ، اور انہیں ایک کھلے میدان میں چھوڑ دیا گیا، جہاں وہ لوگ مر گئے))))) مذکورہ بالا عبارت تقریبا ً ساری صحیح روایات میں موجود معلومات کے مطابق اس واقعے کی خبر پر مشتمل ہے ،جس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مختلف روایات میں الفاظ کا فرق صرف واقعے کی مخلتف جزئیات بیان کرتا ہے ، واقعہ سے ماخوذ کسی شرعی حکم پر کوئی تاثیر نہیں رکھتا ، اور نہ ہی کسی تاریخی حقیقت کے غلط یا صحیح ہونے کا کوئی تنازع پیدا کرتا ہے ، بطور خلاصہ گذارش ہے کہ ، انس ابن مالک رضی اللہ عنہ ُ کے بیان کردہ اس واقعہ کی تمام تر روایات میں """ ایک قوم """ جسے سیاق سباق کے مطابق اُردُو میں """ ایک گروہ """ کہا جائے گاکیونکہ عربی لفظ """ قوم """ اور اُردُو کے لفظ """ قوم """ کے مفہوم میں واضح فرق ہے، جس کا ذِکر میں ابھی اسی مراسلے میں کر چکا ہوں ، ، اللہ ہی جانے آپ نے کس اِرادے سے عربی کے لفظ """ قوم """ کو اُردُو میں بھی """ قوم """ ہی قرار دیا ہے ،شاید یہ تاثر دینے کے لیے کہ یہ بہت بڑا اختلاف ہے کہ ایک طرف تو آٹھ لوگ کہا گیا اور دوسری طرف پوری ہی قوم کہا گیا ، بہر حال ،بھائی میرے ، """ تحقیق """ اور """ ایک علمی نظر """ یہ ثابت کرتی کہ """ ایک گروہ """ ، اس کی تفصیل """ آٹھ آدمی """ ، اور ان کی تفصیل """ چار لوگ ایک قبیلے سے اور تین لوگ ایک قبیلے سے اور ایک ان کے ساتھ """ مجموعہ ء روایات میں میسر ہے ، و للہ الحمد ، لہذا اس نکتے میں بھی کہیں کوئی """ معنوی اختلاف """ نہیں ، اور نہ ہی انس ابن مالک رضی اللہ عنہ ُ سے کسی بھول چُوک کا امکان ہے ، اور نہ ہی انہوں نے کسی اور سے سن کر یہ واقعہ اپنے طور پر سنا دیا ہے ، اور نہ اُن سے روایت کرنے والے تابعین رحمہم اللہ کی طرف سے بیان و روایت میں کوئی تصرف ہے ، کہ جس جس نے جن جن الفاظ میں سُنا اسی طرح آگے سنایا ، """لفظی فروقات یا اختلافات """ کی درستگی کی کوشش نہیں کی کیونکہ حقیقت اور شرعی احکام پر ان کی کوئی منفی تاثیر نہیں، ان شاء اللہ یہاں تک کی بات ہر عقل سلیم والے قاری کو آپ کی """ تحقیق """ کے مطابق """ ایک نظر """ کے نتیجے میں خود ساختہ اعتراضات ، اختلافات اور معنوی فروقات کی حقیقت سمجھانے کے لیے کافی ہو گی ، و الحمد للہ ۔ آپ کے باقی اعتراضات کا جواب ان شاء اللہ اگلے مراسلات میں ، اور ان شاء اللہ کروں گا کہ اگلے آٹھ دس دن میں اس تھریڈ کے ساتھ ساتھ صحیح البخاری اور امام بخاری رحمہُ اللہ پر اعتراضات والے تھریڈ میں بھی باری باری ایک ایک دن حاضری ہوتی رہے ، باذن اللہ ، تمام قارئین کرام سے گذارش ہے کہ اپنی کوئی بات پیش کرنے سے پہلے میری طرف سے بات مکمل ہونے کا انتظار فرمایے گا ، تا کہ بات کا تسلسل خراب نہ ہونے پائے ، ان شاء اللہ ، و السلام علیکم۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس تھریڈ میں بھائی نوشاد صاحب تو نظر نہیں آئے ، شاید میری گذارش قبول فرما کر میری بات مکمل ہونے کے انتظار میں ہوں ، لیکن دوسرے لوگوں نے ان کے اعتراضات کی حقیقت کھلنے کی ابتداء میں ہی اپنی عادت کے مطابق ادھر ادھر کی باتوں پر مشتمل مراسلات شامل کر کے تھریڈ کو طوالت دیتے ہوئے اس کے اصل موضوع سے دور کرنے کی کوشش شروع کر دی ، لہذا ، اب ان شاء اللہ میں بھائی نوشاد صاحب کے اعتراضات کے جوابات یہاں پیش کروں گا ، و السلام علیکم۔ |
||
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
پیشاب ناپاک ہے۔ چاہے انسان کا ہو یا کسی اور جانور کا۔ یہ کسی بھی تاویل سے پاک نہیں ہوسکتا۔ یہ ریسرچ کیجئے کہ یہ روایت ان کتب میں گھسائی کس نے؟
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ابھی تک تو یہ حدیث ہی تھی سنت مبارکہ کہاں سے آگئی ۔ مجھے تو ڈر ہے کہیں اگلا دھاگہ ایسا نہ کھل جائے جس میں مسلمانوں پر پیشاب پینا فرض ہو جائے۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
| مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (04-12-10) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 301
کمائي: 7,143
شکریہ: 256
262 مراسلہ میں 945 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ ان ماڈرن مولویوں کو ٹھیک کر دے۔
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے طلحہ کا شکریہ ادا کیا | shafresha (04-12-10), ضِرار Derar (04-12-10) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
"اللہ ہم سب کو ہدایت دے" کی دعا مناسب نہیں ہے طلحہ بھائی ؟
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میں نے گذارش کی تھی کہ تھریڈ کے موضوع کے مطابق بات کی جائے تھریڈ کو منتشر کرنے کی کوشش نہ کی جإئے ، لیکن ،،،،،،،،،، جناب ، آپ کو اگر جانوروں کے پیشاب کی پلیدگی اور نجاست کے بارے میں کچھ کہنا سننا ہے تو یا تو میرے شروع کردہ """ ::::: اونٹنیوں کے دودھ اور پیشاب سے علاج ::::: """ میں تشریف لے چلیے یا ایک نیا تھریڈ شروع کر لیتے ہیں ، یہاں صرف اونٹنیوں کے دودھ اور پیشاب سے علاج والی احادیث کی صحت کے بارے میں بات کرنا مطلوب ہے ، کس نے کس کتاب میں کیا روایات گھیسڑی ہیں ، آپ اس کی ریسیرچ فرمایے اور ہمیں بھی اپنی اس ریسرچ سے محظوظ فرمایے ، الحمد للہ ، ہمیں بہت اچھی طرح اپنی کتابوں میں موجود روایات کی درستگی اور نا درستگی کا علم ہے ، ایک دفعہ پھر گذارش ہے کہ صرف اور صرف تھریڈ کے موضوع کے مطابق کوٕئی علمی بات کرنا چاہیں تو کیجیے ، اور ہماری گفتگو کے تسسلسل کو خراب مت کیجیے ، اس طرح آپ اپنے فلسفوں کو درست ثابت نہیں کر سکتے باذن اللہ ، و السلام علی من اتبع الھدیٰ۔ Last edited by عادل سہیل; 03-12-10 at 08:50 PM. وجہ: insertion of link |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میں نے گذارش کی تھی کہ تھریڈ کے موضوع کے مطابق بات کی جائے تھریڈ کو منتشر کرنے کی کوشش نہ کی جإئے ، لیکن ،،،،،،،،،، جناب ، آپ کو اگر جانوروں کے پیشاب کی پلیدگی اور نجاست کے بارے میں کچھ کہپنا سننا ہے تو یا تو میرے شروع کردہ """ ::::: اونٹنیوں کے دودھ اور پیشاب سے علاج ::::: """ میں تشریف لے چلیے یا ایک نیا تھریڈ شروع کر لیتے ہیں ، یہاں صرف اونٹنیوں کے دودھ اور پیشاب سے علاج والی احادیث کی صحت کے بارے میں بات کرنا مطلوب ہے ، کس نے کس کتاب میں کیا روایات گھیسڑی ہیں ، آپ اس کی ریسیرچ فرمایے اور ہمیں بھی اپنی اس ریسرچ سے محظوظ فرمایے ، الحمد للہ ، ہمیں بہت اچھی طرح اپنی کتابوں میں موجود روایات کی درستگی اور نا درستگی کا علم ہے ، ایک دفعہ پھر گذارش ہے کہ صرف اور صرف تھریڈ کے موضوع کے مطابق کوٕئی علمی بات کرنا چاہیں تو کیجیے ، اور ہماری گفتگو کے تسسلسل کو خراب مت کیجیے ، اس طرح آپ اپنے فلسفوں کو درست ثابت نہیں کر سکتے باذن اللہ ، و السلام علی من اتبع الھدیٰ۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بھائی عامر مرزا صاحب ، لفظ """ سنت """ کا اطلاق رسول اللہصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اقوال ، افعال اور تقریر سب پر ہوتا ہے ، اگر صرف اس تھریڈ کے موضوع تک ہی محدود رہنا نہ ہوتا تو میں اس کی مزید وضاحت بھی کر دیتا ، جی ہاں ، عام طور پر اس لفظ کو صرف رسول اللہصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے افعال مبارکہ کا نام ہی سمجھا جاتا ہے ، اور اسی عام مفہوم کی بنا پر آپ نے تبصرہ فرما دیا ہے ، اس عام مفہوم کو بھی لیجیے تو بھی عامر بھائی اس تبصرے کی گنجإئش نہ تھی کیونکہ میں نے لکھا تھا کہ """" رسول اللہصلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سنت مبارکہ میں سے ایک حدیث """" اگر آپ اس عبارت میں سے """ میں سے """ پر غور فرماتے تو یہ تبصرہ نہ کرتے ، پھر بھی میرے بھإئی ، میں نے جس واقعے کا ذکر کیا ، اور جس کی درستگی کے بارے میں اعتراضات کے جوابات پیش کرنے کے لیے یہ تھریڈ کھولا ، اس واقعہ میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے قول مبارک بھی ہیں اور فعل مبارک بھی ، پس اگر آپ """ سنت """ کے عام مستعمل مفہوم تک بھی محدود رہنا چاہیں تو بھی آپ کا یہ تبصرہ بر محل نہیں ، آخر میں اپنی گذارش آپ سے بھی فردی طور پر کرتا ہوں کہ براہ مہربانی اس تھریڈ کے موضوع کے مطابق اس میں شراکت فرمایے ، اگر آپ واقعتا بات کو سمجھنا چاہتے ہیں تو دیگر موضوعات کو یہاں شامل فرما کر اس موضوع کو منتشر کرنے کی کوشش مت کیجیے ، ان شاء اللہ ان کوششوں سے حق چھپنے والا نہیں اور ایک صحیح حدیث شریف پر نوشاد بھإئی کے بنإئے ہوٕئے اعتراضات کی حقیقت دبنے والی نہیں، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 665
کمائي: 7,277
شکریہ: 0
371 مراسلہ میں 828 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کیا علاج کیلئے آپ دوستوں کو اونٹنیوں کا پیشاب ہی ملا ہے؟ بھائی میڈیکل سائنس بہت آگے جا چکی ہے۔ ہم 600 عیسوی میں نہیں رہ رہے جو اونٹنیوں کا پیشاپ پیتے پھریں۔
|
|
|
| arifkarim کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (04-12-10) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() |
ہینننننننننننننننننننن
یہ میں نے پہلے کیوں نہ پڑھا؟؟؟؟؟// ویسے وہ کونسی بیماری کا علاج ہے اس میں؟؟؟؟؟؟؟؟/ |
|
|
| 3 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
::::: اونٹنیوں کے دودھ اور پیشاب سے علاج ::::: |
|
|
|
| مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (04-12-10) |
|
|
#14 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ، بھائی نوشاد صاحب نے اپنی """ ایک نظر """کے نتیجے میں ان کی سوچ میں ابھرنے والے مزید اعتراضات ظاہر فرماتے ہوئے لکھا ::: اقتباس:
یہاں بھی سابقہ معمول کے مطابق صرف ایک صحیح حدیث کے بارے میں شکوک پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے ، ایسے سوالات بنا گئے ہیں جو یہ تاثر دے سکیں کہ ان کی موجودگی اس واقعہ کی درستگی کو ختم کرتی ہے ، اور اتنا بھی خیال نہیں رکھا گیا کہ صحیح مسلم کے علاوہ باقی روایات پر بھی """ ایک نظر """ کر لی جاتی تو یہ سوالات نہ ہوتے ، اور میرے شروع کردہ تھریڈ کا مطالعہ کر لیتے تو بھی شاید یہ سوالات نہ کر پاتے ، میں نے اس تھریڈ میں اس واقعہ کو ساری صحیح روایات میں سے جمع کر کے ایک مسلسل عبارت کی صورت میں لکھا تھا اور اسے یہاں بھی پچھلے مراسلے میں نقل کردیا ہے ، میرے نوشاد بھائی اس کو بھی پڑھ لیتے تو کافی افاقہ رہتا ، لیکن اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ، ستم بالائے ستم یہ کہ جن روایات پر """ ایک نظر """ فرمائی گئی ہے ان پر بھی بس اپنی مخصوص نگاہ کے زوایے سے ہی نظر کی گئی ہے ، نوشاد بھائی آپ نے اِن روایات کا عربی متن طلب فرما کر اس میں سے تضادات ظاہر فرمانے کا دعویٰ کیا تھا ، چلیے وہ تو پورا نہ ہوا اور نہ ہی ان شاء اللہ پورا ہو سکتا ہے ، میں نے وہ سارے متون مہیا کر دیے تھے ، اب ہی ان کا مطالعہ کر لیجیے تا کہ آپ کو پتہ چلے کہ آپ نے بس """ ایک نظر """ ہی کی ہے اور ایسی نظروں سے اعتراضات نہیں اٹھا جا سکتے اور نہ ہی کسی علم کے بارے میں کوئی بات کی جاسکتی ہے ، جی میرے بھائی ، آپ نے اپنے تھریڈ کا عنوان تو اس طرح کا بنایا گویا کہ آپ نے اس واقعے کی ساری ہی صحیح و ضعیف روایات کا خوب اچھی طرح مطالعہ کیا ہے اور پھر ایسے ایسے اعتراضات وارد فرمائےہیں جو اُمت کے اماموں رحمہم اللہ تک کو بھی نہ سُجھائی دے ، بھائی ،تقریبا ساری روایات میں یہ مذکور ہے کہ انہوں نے مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ ہونے کی وجہ سے بیماری پائی ، ایک دو روایات میں اس بیماری کی کوئی علامت مذکور ہے اور نام """ مُوم """ اور """ بِرسام """ مذکور ہے ، پیٹ پھولنے اور جسم دبلے ہونے کی علامات کا جو ذکر ہے""" مُوم """ اور """ بِرسام """ کے نتائج میں عین ممکن ہے کیونکہ یہ بیماری سینے اور دماغ وغیرہ میں ورم کی وجہ سے ہوتی ہے وجسم اور عقل پر مختلف انداز میں اثر انداز ہوتی ہے ، اور اس کی عمومی وجہ آب و ہوا کا موافق نہ آنا ہے ، جی جس ایک دو روایت میں یہ مذکور ہے کہ ان دنوں ایسی کوئی بیماری مدینہ المنورہ میں بصورت وباء تھی تو بھی میرے بھائی یہ بات آج تک عملی مشاھدے سے ثابت شدہ ہے کہ اگر کسی جگہ کوئی وباء پھیل جائے تو ہر کسی پر تو اس کا اثر نہیں ہوتا ، کس پر بیماری کس طرح اثر انداز ہو گی اور کس پر اضطراری کیفیت یا حالت وارد ہوگی یہ اللہ کا حکم ہے ، میرے بھائی ، اللہ کے حکم پر تو اعتراض مت کیجیے کہ ::: اللہ جس پر چاہے جس چیز کا جس طرح اور جتنا اور جیسا چاہتا ہے ویسا ہی اثر ہوتا ہے ، لہذا مسلسل عملی مشاھدے سے یہ ثابت ہے کہ ہر چیز ، ہر بیماری ، اور ہر دوا کا ہر کسی پر ایک جیسا اثر نہں ہوتا ، اس لیے طبیب ہر مریض کو اس کی ضرورت مطابق ہی علاج دیتا ہے ، اور جب طبیب ایسا ہو کہ جس کی ز ُبان مبارک وحی کے مطابق ہی بات فرماتی ہو تو خطاء کا کوئی امکان نہیں ہوتا ، (اس بات میں آپ کا میرے دستخط پر اعتراض کا بھی جواب ہے ) اقتباس:
حیر ت کی بات ہے کہ یہ صحیح مسلم کی روایات جن پر """ ایک نظر """ کر کے آپ نے واقعہ کو ہی غلط قرار دینے کی کوشش کر ڈالی ان روایات میں آپ کو عکلی اور عرینی لوگوں کے لیے کوئی """ اضطراری حالت """ نظر آئی !!! ؟؟؟ اس موضوع پر سارے تھریڈز میں میرے سارے مراسلات کا بغور مطالعہ کیجیے ، ان شاء اللہ عکلی اور عرینی لوگوں پر وارد اضطراری حالت """نظر""" آجائے گی ، آپ نے چونکہ اس واقعے کے متعلق نہ تو ساری ہی روایات کا مطالعہ کیا ہے ، اور نہ ہی اماموں رحمہم اللہ کی تحقیقات کا اس لیے خود ساختہ مفروضوں کی بنا پر سوالوں کی ایک قطار لا کھڑی کی ، بھائی میرے ، میں نے میرے شروع کردہ تھریڈ میں لکھا تھا ::: """"""" انہیں کیا بیماری لاحق ہوئی ؟؟؟ اُس بیماری کا نام ہمیں ان منقولہ بالا احادیث میں نہیں ملتا ، جی ہاں کچھ علامات کا ذکر ہے ، مثلا ً ، مذکورہ بالا روایات میں بتا یا گیا کہ ، اُن لوگوں کو آب و ہوا اور خوراک راس نہ آئی ، تو عموماً اس سبب سے معدے اور پیٹ کی تکلیف ہی ہوتی ہے ، جی ہاں ، سنن النسائی (کتاب الطہارۃ /باب ۱۹۱)کی روایت میں بڑی واضح علامات مذکور ہیں کہ """اُن لوگوں کی رنگت پیلی ہوگئی اور ان کے پیٹ بڑھ گئے """ شرح الحدیث ، طب اور فقہ کی کتابوں میں اِن عکلی اور عرینی لوگوں کو ہونے والی بیماری کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے، جس میں سب سے زیادہ درست بات یہ لگتی ہے کہ اُن لوگوں کو اِستسقاء Edema کی بیماری ہو گئی تھی ، اِستسقاء جِسم کے کسی حصے میں اضافی پانی جمع ہوجانے کو کہا جاتا ہے ،جو عام طور پر سوجن یا سوزش کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اورجس کے بہت سے معروف اور غیر معروف اسباب ہیں ، اور اُن لوگوں کے بارے میں بھی سنن النسائی کی روایت میں پیٹ بڑھ جانے کا ذکر ہے ، اور عین ممکن ہے کہ وہی ہوا جیسا کہ بھائی علامہ صاحب نے کسی حوالے کے بغیر یہ لکھا تھا کہ اُن لوگوں کے گُردوں میں پانی پڑ گیا تھا ، واللہ أعلم ، """"""" نوشاد بھائی ،یہاں آپ کو پھر ایک """ تحقیق ""' اور """ ایک نظر """ لیکن علمی نظر و تحقیق کے لیے دعوت ہے کہ ان سب علامات کو الگ الگ بیماری ثابت کیجیے ، اور ایک روایت میں مذکور """ مُوم """ اور """ بِرسام """ کی صورت میں ان علامات کا نہ ہونا ثابت کیجیے ، کسی علمی حجت اور دلیل سے یہ ثابت کیجیے کہ سارے ہی مدینہ والوں کو وہی کچھ ہوا گیا تھا ، یا زیادہ تر مدینہ والوں کو وہ کچھ ہو گیا تھا جو عکلی اور عرینی لوگوں کو ہوا تھا ، تو شاید آپ کی """ ایک نظر """ کچھ علمی حجت کا سا انداز لے سکے ، ذرا اپنی مخصوص نگاہء فِکر سے ہٹ کر """نظر """ فرمایے میرے بھائی ، اگر مدینہ المنورہ میں اس وقت کوئی ایسی بیماری تھی بھی تو مدینہ والوں کے لیے اس قدر شدید نہ تھی جس قدر ان باہر سے آنے والوں کے لیے ہو گئی ، اس کا اصل حقیقی سبب تو بلا شک و شبہ اللہ کا حکم ہے ، اور دوسرا بڑا سبب انہی روایات میں مذکور ہے جن پر آپ نے """ ایک نظر """ فرمائی ، اور میں نے اپنے شروع کردہ تھریڈ میں اس کا جواب بھی ارسال کیا تھا ، اور یہاں بھی سابقہ مراسلے میں اسے نقل کر دیا ہے ، مزید آپ کے تھریڈ میں آپ کے چیلنج کی تکمیل کے لیے میں نے آپ کی مطلوبہ روایات کے عربی متون ارسال کیے تھے ان میں سے صحیح البخاری کی روایات میں سے چوتھی روایت کے الفاظ کو پڑھیے ، بہت صاف طور پر یہ الفاظ منقول ہیں کہ ::: """"" يا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا كنا أَهْلَ ضَرْعٍ ولم نَكُنْ أَهْلَ رِيفٍ""" اور روایت رقم 8 میں ہے کہ ::: """ يا رَسُولَ اللَّهِ أَبْغِنَا رِسْلًا ::: """ یعنی انہوں نے کہا کہ اے اللہ کے نبی ہم لوگ چلتے پھرتے رہنے والے ہیں ، کھلی جگہوں میں رہنے والے اور دُودھ گھی کھانے والے ہیں، ہمیں خوراک میں دُودھ دیا جائے، اور بہت سی روایات میں حتیٰ کہ صحیح مسلم کی ہی روایات میں جن تک آپ کی ""'تحقیق """ اور """ ایک نظر """ محدود رہی ، ان روایات میں بھی یہ بتایا گیا کہ مدینہ المنورہ کے کھانے ان کے معدوں کے لیے موافق نہ ہوئے اور وہ بیمار ہوئے ، اور یہ مذکورہ بالا الفاظ کہہ کر شکایت کی ، اس کے علاوہ اگر آپ نے اس واقعے کی ساری ہی روایات کا مطالعہ کیا ہوتا ، اور اماموں رحمہ اللہ کی بیان کردہ شروح کا مطالعہ فرمایا ہوتا تو آپ کو نظر آ ہی جاتا کہ ان لوگوں کی بیماری الگ تھی اور مدینہ المنورہ میں موجود وباء جو ایک بخار کی صورت میں تھی الگ معاملہ تھا ، ان لوگوں کی بیماری کی ابتداء سے انتہاء تک کی کیفیات مذکور ہیں ، اور مدینہ المنورہ میں وبائی بخار کی معلومات بھی ، آپ اگر صرف امام ابن حجر العسقلانی رحمہُ اللہ کی """ فتح الباری """ میں کتاب الطب ، اور کتاب الوضوء کا ہی مطالعہ کر لیجیے تو یہ ساری معلومات مل جائیں گی ، دیگر محترم قارئین جو ان کتابوں تک رسائی نہیں رکھتے یا عربی سمجھ نہیں سکتے ، ان کے لیے میں یہاں ایک دو باتیں لکھ دیتا ہوں ، امام ابن حجر العسقلانی نے """ فتح الباری/جلد اول مطبوعہ دار الفیحاء/دمشق /شام """ میں """کتاب الوضوء کی پہلی حدیث """جو اسی واقعہ کی روایات میں سے ایک ہے ، اُس کی شرح میں لکھا ::: """"" ،،،،، وللمصنف من رواية سعيد عن قتادة في هذه القصة فقالوا يا نبي الله إنا كنا أهل ضرع ولم نكن أهل ريف ، وله في الطب من رواية ثابت عن أنس أن ناسا كان بهم سقم قالوا يا رسول الله آونا وأطعمنا فلما صحوا قالوا أن المدينة وخمة والظاهر أنهم قدموا سقاما فلما صحوا من السقم كرهوا الإقامة بالمدينة لوخمها فأما السقم الذي كان بهم فهو الهزال الشديد والجهد من الجوع فعند أبي عوانة من رواية غيلان عن أنس كان بهم هزال شديد وعنده من رواية أبي سعد عنه مصفرة ألوانهم ، وأما الوخم الذي شكوا منه بعد أن صحت اجسامهم فهو من حمى المدينة كما عند أحمد من رواية حميد عن أنس وسيأتي ذكر حمى المدينة من حديث عائشة في الطب ، وأن النبي صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم دعا الله أن ينقلها إلى الجحفة ، ووقع عند مسلم من رواية معاوية بن قرة عن أنس وقع بالمدينة الموم أي بضم الميم وسكون الواو قال وهو البرسام أي بكسر الموحدة سرياني معرب أطلق على اختلال العقل وعلى ورم الرأس وعلى ورم الصدر والمراد هنا الأخير ، فعند أبي عوانة من رواية همام عن قتادة عن أنس في هذه القصة فعظمت بطونهم قوله فامرهم بلقاح أي فأمرهم أن يلحقوا بها وللمصنف في رواية همام عن قتادة فأمرهم أن يلحقوا براعيه وله عن قتيبة عن حماد فأمر لهم بلقاح بزيادة اللام فيحتمل أن تكون زائدة أو للتعليل أو لشبه الملك أو للاختصاص وليست للتمليك ،،،،،""""" نوشاد بھائی اس شرح میں آپ کے اعتراضات کے تقریبا سارے ہی جوابات موجود ہیں ، میں نے عربی متن اس لیے لکھا ہے کہ آپ اس کا اردو ترجمہ فرما دیجیے ، کہاگر میرے اللہ کو منظور ہوا آپ کی """ تحقیق ""' اور """ ایک نظر """ کو کچھ درستگی نصیب ہو سکے ، اور محترم قارئین کو اس کی حقیقت معلوم ہو سکے ، اگر آپ ترجمہ کرنے سے قاصر رہے تو ان شاء اللہ میں کر دوں گا ، یہاں تک کی معلومات سے یہ تو واضح ہو گیا کہ عکلی اور عرینی لوگوں کے اسقدر زیادہ بیمار ہوجانے کا مادی سبب کیا تھا ، اور اس مراسلے کے آغاز میں آپ کے جن اعتراضات کو نقل کیا تھا ان کے جوابات بھی ہو گئے ، والحمد للہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات ، باقی ان شاء اللہ اگلے مراسلات میں ، و السلام علیکم۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عربی عبارات کو ٹھیک سے دیکھنے کے لیے """ یہ فونٹ """ اتار کر انسٹال کیجیے ۔ |
||
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
__________________
تم لوگوں کی اس دنیا میں ہر قدم پہ انساں غلط میں صحیح سمجھ کہ جوبھی کروں تم کہتے ہو غلط میں غلط ہوں تو پھر کون صحیح؟ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا |
| کمائي نے محمدخلیل کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 04-12-10 | ھارون اعظم | اسی کو ایمان کہتےہیں۔ بہت خوب | 10 |
![]() |
| Tags |
| color, green, گئی, گذارش, پہلے, نام, نظر, مطابق, اللہ, انتظامیہ, توجہ, جواب, حدیث, خصوصی, شور, شروع, علی, علمی, علاج, عادت, عجیب, عرصہ, غلطیوں, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ’اپنی غلطیوں کا اعتراف کیے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے‘ | ابرارحسین | عمومی بحث | 4 | 05-11-10 11:37 PM |
| وزیراعظم نے اجلاس میں اپنی کئی سنگین غلطیوں کا اعتراف کر لیا | گلاب خان | خبریں | 0 | 19-09-10 03:56 AM |
| غلطیوں کے اعتراف کا سلسلہ طویل ہوتا جا رہا ہے | راجہ اکرام | سیاست | 7 | 20-01-09 07:59 AM |
| شہریوں کی ہلاکتوں کا اعتراف | وجدان | خبریں | 0 | 13-10-08 10:02 AM |