واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث



علوم حدیث علوم حدیث


:::::::ایک ہی حدیث میں ۹ مسائل کا بیان :::::::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-08-09, 05:21 AM   #1
:::::::ایک ہی حدیث میں ۹ مسائل کا بیان :::::::
عادل سہیل عادل سہیل آف لائن ہے 22-08-09, 05:21 AM

:::::::ایک ہی حدیث میں ۹ مسائل کا بیان :::::::
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
یہاں جو حدیث بیان کی جائے گی ، اسے عام طور پر حدیث الجاریۃ کہا جاتا ہے ، اور یہ ایک حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اعلیٰ ترین اخلاق کے بہترین نمونوں میں سے ایک ہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے سکھائے گئے نماز کے احکام میں سے ایک حُکم لیے ہوئے ہے ، اور اسلامی عقائد میں سے کئی أہم عقائد اور متعلقہ احکام لیے ہوئے ہے ،
اِن شاء اللہ آج اس حدیث کو ہم مکمل طور پر پڑھتے ہیں ،
معاویہ بن الحکم السلمی رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ """ بَیْنَا أنا أُصَلِّی مع رسول اللَّہِ صلی اللَّہ علیہ وعلی آلہ وسلم إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ من الْقَوْمِ فقلت یَرْحَمُکَ اللہ فَرَمَانِی الْقَوْمُ بِأَبْصَارِہِمْ فقلت واثکل أُمِّیَاہْ ما شَأْنُکُمْ تَنْظُرُونَ إلی فَجَعَلُوا یَضْرِبُونَ بِأَیْدِیہِمْ علی أَفْخَاذِہِمْ فلما رَأَیْتُہُمْ یُصَمِّتُونَنِی لَکِنِّی سَکَتُّ فلما صلی رسول اللَّہِ صلی اللَّہ علیہ وعلی آلہ وسلم فَبِأَبِی ہو وَأُمِّی ما رأیت مُعَلِّمًا قَبْلَہُ ولا بَعْدَہُ أَحْسَنَ تَعْلِیمًا منہ فَوَاللَّہِ ما کَہَرَنِی ولا ضَرَبَنِی ولا شَتَمَنِی ::: ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی امامت میں نماز پڑھ تھا کہ نمازیوں میں سے کسی کو چھینک آئی تو میں نے کہا ''' اللہ تُم پر رحم کرے''' تو لوگوں نے مجھے کن انکھیوں سے دیکھا ، تو میں نے کہا ''' میری ماں مجھے کھو دے تُم لوگ مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو ''' تو ان سب نے اپنے ہاتھ اپنی رانوں پرمارے ، تو میں جان گیا کہ یہ لوگ مجھے خاموش کروا رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اپنی نماز سے فاغ ہوئے ، تو میرے ماں باپ اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر قربان ہوں میں نے اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے پہلے اور نہ ہی بعد میں اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرح بہترین تعلیم دینے والا اچھا استاد کوئی نہیں دیکھا ، انہوں نے نہ تو مجھے ڈانٹا نہ ہی مجھے مارا نہ مجھے برا کہا ، بلکہ صرف اتنا فرمایا کہ ((((( إِنَّ ہذہِ الصَّلَاۃَ لَا یَصْلُحُ فیہا شَیْء ٌ من کَلَامِ الناس إنما ہو التَّسْبِیحُ وَالتَّکْبِیرُ وَقِرَاء َۃُ الْقُرْآنِ أو کما قال رسول اللَّہِ صلی اللَّہ علیہ وعلی آلہ وسلم ::: یہ نماز ہے اس میں انسانوں کی باتیں جائز نہیں ہیں یہ (نماز ) تو تسبیح ہے تکبیر ہے اور قران پڑھنا ہے ))))) یا جیسے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نےفرمایا ، میں نے عرض کیا ''' یا رَسُولَ اللَّہِ إنی حَدِیثُ عَہْدٍ بِجَاہِلِیَّۃٍ وقد جاء اللہ بِالْإِسْلَامِ وَإِنَّ مِنَّا رِجَالًا یَأْتُونَ الْکُہَّانَ ::: یا رسول اللہ میں ابھی ابھی جاہلیت میں تھا ، اور اللہ ہمارے پاس اسلام لے کر آیا اور ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں ''' تو ارشاد فرمایا ((((( فلا تَأْتِہِمْ ::: تُم اُن (کاہنوں )کے پاس مت جانا ))))) میں نے پھر عرض کیا ""'' وَمِنَّا رِجَالٌ یَتَطَیَّرُونَ ::: ہم میں سے کچھ لوگ پرندوں کے ذریعے شگون لیتے ہیں""" تو اِرشاد فرمایا ((((( قال ذَاکَ شَیْء ٌ یَجِدُونَہُ فی صُدُورِہِمْ فلا یَصُدَّنَّہُمْ ::: یہ ایسی چیز ہے جو وہ لوگ اپنے سینو ں میں پاتے ہیں لیکن یہ کام انہیں (اپنے کاموں ) سے روکے نہیں ))))) (یعنی شگون وغیرہ مت لیا کریں ورنہ وہ لوگ اپنے کاموں سے رک جاتے ہیں اور انہیں اپنے کاموں سے رکنا نہیں چاہیے ) ،
قال بن الصَّبَّاحِ فلا یَصُدَّنَّکُمْ
ابن الصباح (اِمام مسلم رحمہُ اللہ کی طرف سے سند میں سب سے پہلے راوی رحمہ اللہ) کا کہنا ہے کہ""" یہ شگون بازی تمہیں (اپنے کاموں) سے مت روکے """
( آگے پھر معاویہ بن الحکم رضی اللہ کا کہنا ہے ) پھر میں نے عرض کیا """ وَمِنَّا رِجَالٌ یَخُطُّونَ ::: ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں بناتے ہیں """ (یعنی زائچہ بازی کرتے ہیں جو کاہنوں کے کاموں میں سے ہے) تو اِرشاد فرمایا ((((( کان نَبِیٌّ من الْأَنْبِیَاء ِ یَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّہُ فَذَاکَ ::: نبیوں ( علیھم السلام )میں سے ایک نبی خط کَشی کیا کرتے تھے پس اگر کسی کا خط اس نبی (علیہ السلام)کے خط کے موافق ہو جائے توٹھیک ہے))))) (یہ ایک ناممکن کام ہے ، تفصیل ان شاء اللہ آگے بیان کرتا ہوں)، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک اور واقعہ کا ذکر کرتے ہیں کہ """ وَکَانَتْ لی جَارِیَۃٌ تَرْعَی غَنَمًا لی قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِیَّۃِ فَاطَّلَعْتُ ذَاتَ یَوْمٍ فإذا الذِّئبُ قد ذَہَبَ بِشَاۃٍ مِن غَنَمِہَا وأنا رَجُلٌ مِن بنی آدَمَ آسَفُ کما یَأْسَفُونَ لَکِنِّی صَکَکْتُہَا صَکَّۃً فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ صلی اللَّہ عَلیہ وعَلی آلہ وسلم فَعَظَّمَ ذلک عَلَیَّ قلت یا رَسُولَ اللَّہِ أَفَلَا أُعْتِقُہَا ::: میرے ایک باندی ہے جو اُحد (پہاڑ) کے سامنے اور اِرد گِرد میری بکریاں چَرایا کرتی تھی ایک دِن میں نے دیکھا کہ اس کی (نگرانی میں میری )جو بکریاں تھیں اُن میں سے ایک کو بھیڑیا لے گیا ، میں آدم کی اولاد میں سے ایک آدمی ہوں جس طرح باقی سب آدمی غمگین ہوتے ہیں میں بھی اسی طرح غمگین ہوتا ہوں ، لیکن میں نے ( اس غم میں ) اسے ایک تھپڑ مار دِیا ، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے پاس آیا کیونکہ اسے تھپڑ مارنا میرے لیے (دِل پر ) بڑا (بوجھ) بن گیا تھا ، میں نے عرض کیا ''' اے اللہ کے رسول کیا میں اسے آزاد نہ کرو دوں ؟ ''' تو اِرشاد فرمایا ((((( ائْتِنِی بہا ::: اس باندی کو میرے پاس لاؤ )))))
فَأَتَیْتُہُ بہا ::: تو میں اس باندی کو لے کر (پھر دوبارہ )حاضر ہوا،
فقال لہا ((((( أَیْنَ اللہ ))))) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا ((((( اللہ کہاں ہے ؟ )))))
قالت فی السَّمَاء ِ ::: اس باندی نے جواباً عرض کیا ''' آسمان پر ''' ،
قال ((((( مَن أنا ))))) پھر دریافت فرمایا ((((( میں کون ہوں ؟ ))))) ،
قالت أنت رسول اللَّہِ ::: اس نے جواباً عرض کیا ''' آپ اللہ کے رسول ہیں ''' ،
قال ((((( أَعْتِقْہَا فَإِنَّہَا مُؤْمِنَۃٌ ))))) ::: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے (مجھے حُکم ) فرمایا ((((( اس کو آزاد کرو دو یہ اِیمان والی ہے )))))
صحیح مسلم /حدیث ۵۳۷ /کتاب المساجد و مواضح الصلاۃ / باب 7 بَاب تَحْرِیمِ الْکَلَامِ فی الصَّلَاۃِ وَنَسْخِ ما کان من إباحۃ ۔
::::::: فقہ الحدیث :::::::

::::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے بڑھ کر شفیق اور بہترین تعلیم دینے والا کوئی نہیں ،
::::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم انتہائی کامیاب انداز میں ایک ہی بات میں ایک سے زیادہ باتوں کی تعلیم دیتے اوراسطرح کہ سننے والا خود اپنی عقل کو استعمال کر کے اپنی قوت فیصلہ کو استعمال کر کے اسی نتیجہ پر پہنچے جس کی تعلیم دی جا رہی ہے ، آج تعلیم دینے کے جدید اطوار میں یہ طریقہ بھی استعمال کیا جاتاہے ، اور افسوس کی اسے کفار کی عقلمندی اور ذہانت کا نتیجہ جانا جاتا ہے جبکہ یہ طریقہ انسان کو ہمارے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے سکھایا ، لیکن ہم ان کے امتی ان کی تعلیم اور سُنّت سے علمی اور عملی طور پر اس قدر دور اور نا واقف ہیں کہ ان کے طریقوں کو غیروں کے پاس دیکھ کر غیروں کاسمجھ کر ان غیروں سے مرعوب ہو جاتے ہیں ، و اِنا للہ و اِنا الیہ راجعون ،
اسی طرح ایک اور طریقہ بھی ہے جس کا ذکر ابھی کچھ دیر بعد آئے گا اِن شاء اللہ ،
::::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم عِبادت تک میں واقع ہونے والی غلطی پر بھی سختی والا معاملہ نہ فرماتے تھے اور ہم بات بے بات ، حتیٰ کہ اپنے خود ساختہ افکار اور اپنی ذاتی آراء کے خلاف بات پر بھی بدزبانی ، طعن و تشنیع کرنے لگتے ہیں ، حتیٰ کہ کفر و شرک کے فتوے تک صادر فرمانے لگتے ہیں ، و اللہ المستعان ،
:::::کسی شاعر نے خوب کہا اور بہت ہی خوب کہا :::::
تیرے حُسنءِ خُلق کی اِک رَمق میری زندگی میں نہ مل سکی
میں اِسی میں خوش ہوں کہ شہر کے دَر و بام کو تو سَجا دِیا
::::::: نماز میں اللہ کی تسبیح ، تکبیر ( تحمید، تہلیل، اللہ کا ذکر وغیرہ) اور قران کی قرأت ہی کی جاسکتی ہے ، ایسی کوئی بات کرنا جائز نہیں جو عبادت کے زُمرے میں نہ آتی ہو ،
::::::: کاہنوں ، یعنی نجومیوں، دست شناسوں ،ستارہ شناسوں کے پاس جانا ممنوع ہے ، لیکن اس مطلب یہ نہیں کہ ان لوگوں کے پاس تو نہ جایا جائے لیکن ان کی باتوں تک رسائی حاصل کی جائے ، یہ سب کام ممنوع ہیں اور کبھی تو کفر تک لے جاتے ہیں ، اس موضوع کو کافی تفصیل سے ''''' ستارے سیارے اور ان کی چال ''''' میں بیان کر چکا ہوں ،تفصیل کے لیے اُسکا مطالعہ کیا جا سکتا ہے ، اور اسی طرح ''' جادُو ''' سے متعلقہ مضامین کامطالعہ بھی ان شاء اللہ فائدہ مند ہو گا ،
::::::: شگون لینا نا جائز ہے ، شگون بازی کی بنا پر کسی کام سے رُک جانابھی ممنوع ہے ، کیونکہ یہ اللہ پر توکل اور اللہ کے قادر مطلق ہونے کے عقیدے کے خِلاف ہے ،
::::::: لکیریں وغیرہ بنا کر، جسے ہمارے ہاں عام طور پر زائچہ بنانا کہا جاتا ہے اور جس کے ذریعے مستقبل یا غائب ماضی کی خبر دینے کے دھوکے میں ایمان لوٹا جاتا ہے ، یہ زائچہ بازی بھی ناجائز ہے ، کرنا بھی اور کروانا بھی ،
یہ عِلم صرف ایک نبی علیہ السلام کو دیا گیا تھا اور کسی دوسرے کا اُس نبی کے اِس عِلم کے موافق ہونا نا ممکن ہے ، کیونکہ انبیاء علہھم السلام کو اللہ کی طرف سے وحی ہوتی تھی اور ان کو دیے جانے والے خصوصی علوم میں سے یہ ایک علم ایک نبی علیہ السلام کو دیا گیا تھا ، اور یہ کسی غیر نبی کے لیے نا مکمن ہے ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے عقیدے کا یہ سبق دیتے ہوئے ایک انتہائی منطقی انداز میں ، سوال کرنے والے اور سب سننے والوں کو اس زائچہ بازی کے جھوٹ ہونے کی تعلیم فرمائی ، یہ انداز تعلیم بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی خصوصیات میں سے تھا ، اب ہم اپنے ہی رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت سے اس قدر لا عِلم ہیں کہ کسی اور سے اس طرح تعلیم دینے کی بات سنتے ہیں تو اسے دُنیا کا سب سے بڑا ذہین اور تجربہ کار معلم سمجھنے میں ذرا دیر نہیں لگاتے ، ایسے امتیوں کی بدولت کسی رسول کی شان میں گستاخی کرنے والے دندناتے پھرتے ہیں ، و لا حول و لا قوۃ الا باللہ ،
::::::: صحابہ رضی اللہ عنہم کا اِیمان اور اللہ سے خوف اس قدر تھا کہ ذرا سی غلطی بھی ان کو پچھتاوا لگا دیتی اور فوراً اس کا کفارہ ادا کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ،
::::::: اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات اور صفات کے بارے میں ایک انتہائی أہم اور بنیادی عقیدے کی تعلیم ، جسے رسول اللہ صلی علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِیمان ہونے یا نہ ہونے کی ایک کسوٹی کے طور پر ظاہر فرمایا ، اور وہ عقیدہ ہے کہ''''' اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود نہیں بلکہ آسمان کے اوپر ہے ؟ ''''' ، اس أہم موضوع پر میری ایک کتاب ''' اللہ کہاں ہے ؟ ''' تقریبا مکمل ہے ، ان شاء اللہ اس کا مطالعہ عقیدے کے اس بنیادی موضوع کو درست کرنے میں کافی مددگار ہو سکتی ہے ۔ و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب

عادل سہیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 443
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sjk (24-08-09), ابرارحسین (22-08-09), تفسیر حیدر (26-08-09), سحر (22-08-09), عبداللہ حیدر (22-08-09)
پرانا 23-08-09, 12:30 AM   #2
Senior Member
 
muhammad asif virani's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: srilanka
عمر: 38
مراسلات: 654
کمائي: 8,549
شکریہ: 1,314
418 مراسلہ میں 960 بارشکریہ ادا کیا گیا
muhammad asif virani کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں muhammad asif virani کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اگر اللہ ہرجگہ موجودنہیں توھم زمین پرہیں ھمارےاعمال سےکیسےواقف یہ تواللہ پرجہالت کایانہ جاننےکاالزام ہوااوراس حدیث کاکیاہوگاکہ اللہ تمھاری شہہ رگ سےبھی زیادہ قریب ہے
__________________
شائد کہ تِرےدل میں اترجائےمِری بات!
muhammad asif virani آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 23-08-09, 03:03 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : muhammad asif virani مراسلہ دیکھیں
اگر اللہ ہرجگہ موجودنہیں توھم زمین پرہیں ھمارےاعمال سےکیسےواقف یہ تواللہ پرجہالت کایانہ جاننےکاالزام ہوااوراس حدیث کاکیاہوگاکہ اللہ تمھاری شہہ رگ سےبھی زیادہ قریب ہے
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
ویرانی بھائی آپ کی بات دلیل ہے کہ آپ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی صفات کو اس طرح نہیں سمجھتے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے بیان فرمائی ہیں ،
بھائی اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنی مخلوق کے اعمال کا علم رکھنے کے لیے اس کا مخلوق کے پاس موجود ہونا ضروری نہیں ، ایسا سمجھنا اللہ کی قوت و قدرت کو مخلوق کی محدود قدرت کے مطابق ہے ،
بھائی مضمون میں‌ ذکر کی گئی حدیث پاک کا غور سے مطالعہ فرمایے ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے صرف اللہ کے آسمان پر ہونے کے سوال اور ان کے رسول اللہ ہونے کی تصدیق پر اس باندی کو """" ایمان والی """' قرار فرمایا ہے ،
کیا آپ کو اس پر اعتراض ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
محترم ، میں نے اپنی جس کتاب کا حوالہ دیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کے گیارہ فرمان ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ پندرہ احادیث ، اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے چھ فرمان ، اور چاروں اماموں کے ان کے مذاھب کے علما کے اقوال اور امت کے بڑے بڑے اماموں کے اکتیس اقوال ، اور ان کے بعد کچھ منطقی شکوک و شبہات کے ویسے ہی جوابات ہیں ،
کچھ وقت نکال کر اس کتاب کا مطالعہ فرمایے ، اور اس کے بعد سوچیے میرے بھائی کہ کیا درست ہے ،
میں بھائی انجم شاہ صاحب کی ایک بہت اچھی نصیحت کی بنا پر اس موضوع کو رمضان میں شروع نہیں کرنا چاہتا ،
آپ رمضان میں اس کتاب کا مطالعہ کر لیجیے ، اس کے بعد بھی اگر آپ ان سارے فرامین کو جھٹلا کر کوئی اور عقلی دلیل لانا چاہیں ، تو ان شا اللہ بات کریں گے ،
اور ویرانی بھائی یہ کونسی حدیث ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ اللہ تمہاری شہ رگ سے بھی قریب ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ؟؟
بھائی میرے ، یہ تو قران کی آیت ہے ، اور اس کا کیا مفہوم ہے سوال کرنے سے پہلے تفسیر کی معتبر کتابوں میں اس آیت کی تفیسر ملاحظہ فرما لیجیے ،
اور اسی طرح اللہ کی معیت کے بارے میں بھی معتبر تفاسیر دیکھ لیجیے گا ، ان شا اللہ خیر ہو گی ، و السلام علیکم۔

""""" اللہ کہاں ہے ؟ """""
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
پرانا 23-08-09, 12:41 PM   #4
Senior Member
 
muhammad asif virani's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: srilanka
عمر: 38
مراسلات: 654
کمائي: 8,549
شکریہ: 1,314
418 مراسلہ میں 960 بارشکریہ ادا کیا گیا
muhammad asif virani کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں muhammad asif virani کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جب شہہ رگ سےبھی قریب ہےکاحکم آگیاتواب بھی کچھ باقی رہتاہےکہنےیاسننےکیلیئے؟
muhammad asif virani آف لائن ہے   Reply With Quote
muhammad asif virani کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 24-08-09, 02:36 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : muhammad asif virani مراسلہ دیکھیں
جب شہہ رگ سےبھی قریب ہےکاحکم آگیاتواب بھی کچھ باقی رہتاہےکہنےیاسننےکیلیئے؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
ویرانی بھائی ،کتاب ڈاوان لوڈ کجیے اور اس کا مطالعہ فرمایے ،
اور اس حدیث کا ریفرنس دیجیے جس میں """ اللہ شہ رگ سے بھی قریب ہے """ کہا گیا ہے ؟؟؟
اور آیت مبارکہ میں اس فرمان کا مفہوم جاننے کے لیے معتبر تفاسیر کا مطالعہ فرمایے ،
اور میرے بھائی ، ہر جگہ کود پڑنے کی میں جو وقت لگاتے ہیں وہ اللہ کی صفات کی توحید سیکھنے میں ‌لگایے ، اللہ تعالی نے اپنی جو صفات جس طرح خود بتائی ہیں ، اور جس طرح اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ذریعے سکھائی ہیں وہ سیکھیے ، ان شا اللہ بہت خیر ہو گی ،
اور اگر کو بحث ہی کرنا ہے تو ، میرے بھائی اپنے سارے دلائل جمع کر رکھیے ، ان شا اللہ رمضان کے بعد بات کر لیں گے ، اور اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہے گمراہ کرتا ہے ، اللہ ہم سب کو ہر شر سے محفوظ رکھے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
تفسیر حیدر (26-08-09)
پرانا 24-08-09, 01:46 PM   #6
Senior Member
 
muhammad asif virani's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: srilanka
عمر: 38
مراسلات: 654
کمائي: 8,549
شکریہ: 1,314
418 مراسلہ میں 960 بارشکریہ ادا کیا گیا
muhammad asif virani کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں muhammad asif virani کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Cool

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
ویرانی بھائی،
اور آیت مبارکہ میں اس فرمان کا مفہوم جاننے کے لیے معتبر تفاسیر کا مطالعہ فرمایے ،
اور میرے بھائی ، ہر جگہ کود پڑنے کی میں جو وقت لگاتے ہیں وہ اللہ کی صفات کی توحید سیکھنے میں ‌لگایے ، اللہ تعالی نے اپنی جو صفات جس طرح خود بتائی ہیں ، اور جس طرح اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ذریعے سکھائی ہیں وہ سیکھیے ، ان شا اللہ بہت خیر ہو گی ،
اور اگر کو بحث ہی کرنا ہے تو ، میرے بھائی اپنے سارے دلائل جمع کر رکھیے ، ان شا اللہ رمضان کے بعد بات کر لیں گے ، اور اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہے گمراہ کرتا ہے ، اللہ ہم سب کو ہر شر سے محفوظ رکھے ، و السلام علیکم۔
کودپڑنے کارٹالگانابندکریں اورآپ بھی توکودتےہیں جناب عبداللہ کی کشتی ٹھکانےلگانےکیلیئےبحرحال واقعی علم تھوڑاہےمیرےپاس صرف ایک سوال نازل ہواہےذہن میں کہ اگرخداکوآسمان میں ہی تصورکرلیاجائےتوپھرخدا کی ذات پرمحدودہونےکاالزام لگتاہےیاخداکی ذات جولامحدودہےصرف آسمان تک مقیدٹھرے گی حلانکہ اللہ ہرجگہ موجودہےیہ کیاکہ موجودتوصرف آسمان میں ہےاوربندوں کےدل کےشبہات سےبھی واقف؟یہ کیوں کراسکےبارےمیں ذراروشنی ڈالیں توعین نوازش ہوگی۔
muhammad asif virani آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 26-08-09, 01:07 AM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : muhammad asif virani مراسلہ دیکھیں
کودپڑنے کارٹالگانابندکریں اورآپ بھی توکودتےہیں جناب عبداللہ کی کشتی ٹھکانےلگانےکیلیئےبحرحال واقعی علم تھوڑاہےمیرےپاس صرف ایک سوال نازل ہواہےذہن میں کہ اگرخداکوآسمان میں ہی تصورکرلیاجائےتوپھرخدا کی ذات پرمحدودہونےکاالزام لگتاہےیاخداکی ذات جولامحدودہےصرف آسمان تک مقیدٹھرے گی حلانکہ اللہ ہرجگہ موجودہےیہ کیاکہ موجودتوصرف آسمان میں ہےاوربندوں کےدل کےشبہات سےبھی واقف؟یہ کیوں کراسکےبارےمیں ذراروشنی ڈالیں توعین نوازش ہوگی۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
ویرانی بھائی اتنی ناراضگی بھی کیا ؟ اللہ کے بندے اگر آپ خود سے سلام نہیں کرتے تو کم از کم میرے سلام کا جواب تو دے دیا کیجیے ،
بھائی میرے کود پڑنے ، اور ذلیل کر کے رکھ دینے کی منصوبہ بندی آپ کی ہی ہے ،
ہم جہاں کہیں بات کرتے ہیں ، الحمد للہ ، کتاب اللہ صحیح ثابت شدہ سنت ،اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے اقوال و افعال اور فہم کے مطابق بات کرتے ہیں ،
بلا علم و حجت کود نہیں پڑتے ،
کشتی کی بات خوب کہی آپ نے ، بھائی میں‌ نے ایک دفعہ پہلے بھی کہا تھا کہ یہاں اب ماحول کسی پہلوان کے اکھاڑے کی طرح کا ہوتا جا رہا ہے ،
الحمد للہ پہلوان خود ہی ظاہر ہو گیا ، لیکن ان شا اللہ ہم یہاں کشتی نہیں کریں گے ، بلکہ علمی دلائل سے بات کریں گے جیسا کہ اللہ کی عطا کردہ توفیق سے ہمیشہ کرتے چلے آئے ہیں ،
آپ پر نازل ہونے والے سوال کے جواب میں ایک دفعہ پھر کہتا ہوں ، کتاب ڈاون لوڈ کیجیے اور اس کا مطالعہ کیجیے ، آپ کے اس فسلفیانہ شک کو جواب اس میں موجود ہے ،
اور پھر کہتا ہوں ، اللہ تبارک و تعالیٰ کی قدرت اور صفات کو مخلوق کی صفات کی طرح سمجھنے کی کوشش مت کیجیے ، بلکہ اس طرح سمجھیے جس طرح اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے خود اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زبان مبارک سے سمجھایا ہے ،
اب تو اللہ نے مخلوق کو بھی ایسے وسائل عطا فرما دیے ہیں کہ ہذاروں میل دور سے بھی وہ کسی دوسرے کے احوال سے واقف ہو سکتے ہیں ،
اور اللہ کی صفات کا تو کوئی ہم پلہ تو کیا ، مثال بھی نہیں ،
دھیمے دھیمے غور فرمایے ،
اور اگر آپ یہاں مجھ سے ہی سننا چاہتے ہیں تو پھر رمضان کے ختم ہونے کا انتظار فرمایے ، ان شا اللہ اس کے بعد اس موضوع پر یہاں فورمز میں ہی جوابات ارسال کردوں گا ، باذن اللہ ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (26-08-09), تفسیر حیدر (26-08-09), عبداللہ حیدر (26-08-09)
پرانا 26-08-09, 01:18 AM   #8
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
عبداللہ کی کشتی ٹھکانے لگانے کیلیئے بحرحال واقعی علم تھوڑا ہے میرے پاس صرف ایک سوال نازل ہوا ہے ذہن میں
شکریہ !
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
تفسیر حیدر (26-08-09), عادل سہیل (26-08-09), عبداللہ حیدر (26-08-09)
پرانا 26-08-09, 01:40 AM   #9
Senior Member
 
تفسیر حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Gujrat
مراسلات: 1,716
کمائي: 24,793
شکریہ: 1,293
980 مراسلہ میں 1,851 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
جزاک اللہ خیرا چچا
والسلام علیکم
تفسیر حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
تفسیر حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 26-08-09, 04:00 AM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : تفسیر حیدر مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم
جزاک اللہ خیرا چچا
والسلام علیکم
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
و ایاک بھتیجے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
جواب

Tags
قران, نماز, مکمل, ماں, مسائل, آج, آدمی, ایمان, اللہ, اسلامی, استاد, اعلیٰ, بہترین, تعلیم, جھوٹ, حدیث, خوش, خبر, دریافت, سیارے, ستارے, عقل, عبادت, صحابہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:58 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger