|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1000
|
||||
| 8 قاری/قارئین نے shafirajput کا شکریہ ادا کیا | shafresha (24-04-11), نورالدین (26-04-11), موجو (23-04-11), محمد عاصم (24-04-11), محمدمبشرعلی (24-04-11), مرزا عامر (23-04-11), ارشد کمبوہ (24-04-11), عبداللہ آدم (07-04-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,356
کمائي: 52,352
شکریہ: 4,409
1,841 مراسلہ میں 6,859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام علیکم ! حوالہ تو خود آپکی پوسٹ کہ ابتدائی لفظ " طبرانی " سے عیاں ہے بس اب تصدیق کی ضرورت ہے کہ یہ روایت طبرانی کے کونسے معجم کی کس کتاب کہ کونسے باب کی ہے جہان تک مجھے علم ہے طبرانی کہ تین معجم معروف ہیں کبیر، صغیر اور اولاسط کے نام سے والسلام
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیکرِ دلرُبا بن کے آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | sahj (07-04-11), shafirajput (07-04-11), shafresha (24-04-11), موجو (23-04-11), مرزا عامر (24-04-11), احمد نذیر (08-04-11), ارشد کمبوہ (24-04-11), عبداللہ آدم (07-04-11) |
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم،
المعجم الصغیر للطبرانی میں یہ روایت باب الفاء من اسمہ الفضل کے ذیل میں بیان کی گئی ہے۔ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ أَبُو اللَّيْثِ (اللَّيْثُ أَبُو الْقَاسِمِ) النَّحْوِيُّ الْعَسْكَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، سَمِعْتُ الْوَضِينَ بْنَ عَطَاءٍ، يُحَدِّثُ عَنْيَزِيدَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خُذُوا الْعَطَاءَ مَا دَامَ عَطَاءً , فَإِذَا صَارَ رِشْوَةً عَلَى الدِّينِ فَلَا تَأْخُذُوهُ وَلَسْتُمْ بِتَارِكِيهِ , يَمْنَعُكُمُ الْفَقْرُ وَالْحَاجَةُ , أَلَا إِنَّ رَحَى بَنِي مَرَحٍ قَدْ دَارَتْ , وَقَدْ قُتِلَ بَنُو مَرَحٍ , أَلَا إِنَّ رَحَى الْإِسْلَامِ دَائِرَةٌ , فَدُورُوا مَعَ الْكِتَابِ حَيْثُ دَارَ , أَلَا إِنَّ الْكِتَابَ وَالسُّلْطَانَ سَيَفْتَرِقَانِ فَلَا تُفَارِقُوا الْكِتَابَ , أَلَا إِنَّهُ سَيَكُونُ أُمَرَاءُ يَقْضُونَ لَكُمْ، فَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ أَضَلُّوكُمْ وَإِنْ عَصَيْتُمُوهُمْ قَتَلُوكُمْ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَكَيْفَ نَصْنَعُ؟ قَالَ: «كَمَا صَنَعَ أَصْحَابُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ , نُشِرُوا بِالْمَنَاشِيرِ وَحُمِلُوا عَلَى الْخَشَبِ مَوْتٌ فِي طَاعَةٍ خَيْرٌ مِنْ حَيَاةٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» [المعجم الصغير للطبراني 2/ 42] تھوڑے بہت فرق کےساتھ اسے امام بیہقی، ابن حبان اور ابو یعلی نے بھی بیان کیا ہے۔یہ روایت ضعیف ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے:سلسلۃ الاحادیثالضعیفہ للامام الالبانی حدیث نمبر 1496 اور تخریج مشکۃ الفقر ص5 افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایک دینی جماعت کے ماہنامے ترجمان القرآن میں یہ ضعیف روایت تواتر کے ساتھ شائع کی جا رہی ہے۔ والسلام علیکم Last edited by عبداللہ حیدر; 24-04-11 at 02:36 AM. |
|
|
|
| 12 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | sahj (07-04-11), shafirajput (07-04-11), shafresha (24-04-11), نورالدین (08-04-11), موجو (23-04-11), محمد عاصم (24-04-11), مرزا عامر (23-04-11), آبی ٹوکول (08-04-11), ابو عبداللہ (24-04-11), احمد نذیر (08-04-11), ارشد کمبوہ (24-04-11), عبداللہ آدم (07-04-11) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 398
کمائي: 9,506
شکریہ: 1,248
330 مراسلہ میں 1,005 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ خیراً
جی میں نے اسی میں پڑہی۔۔۔اور حوالہ نہ دینے کی وجہ سے مجھے دریافت کرنا پڑا۔۔۔ اللہ ھمیں دین کی صحیح سمجھ عطا کرے آمین۔۔۔ |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے shafirajput کا شکریہ ادا کیا | shafresha (24-04-11), skjatala (27-04-11), نورالدین (08-04-11), ارشد کمبوہ (24-04-11), شمشاد احمد (23-04-11), عبداللہ آدم (08-04-11), عبداللہ حیدر (08-04-11) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کیا یہ حدیث آج کے دور پر لاگو نہیں ہوتی؟؟؟
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
Last edited by عبداللہ آدم; 24-04-11 at 12:28 PM. |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | shafresha (24-04-11), ابو عبداللہ (24-04-11), ارشد کمبوہ (24-04-11), شمشاد احمد (23-04-11), عبداللہ حیدر (24-04-11) |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 165
کمائي: 5,060
شکریہ: 266
149 مراسلہ میں 489 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس دور حاضر میں جہاں بہت سارے فتنے اٹھے ہیں وہیں ایک بڑافتنہ یہ بھی برپاہواہے کہ کچھ لوگوں نے حدیث کی صحت وضعف کو بازیچہ اطفال بنادیاہے ۔کسی حدیث کے بارے میں یہ بتانے کیلئے کہ وہ حدیث ضعیف ہے یاصحیح ہے یاموضوع ہے ۔محدثین کرام نے بڑے تامل احتیاط اورغوروفکر سے کام لیاہے اوراس میں بھی یہ نکتہ نکالاہے کہیں وہ کہتے ہیں
ہذا حدیث ضعیف بھذاالاسناد اورکہیں مطلقاکہتے ہیں ہذا حدیث ضعیف مطلب یہ ہوتاہے کہ یہ حدیث اس سند سے ضعیف ہے لیکن دوسری سندوں سے وہ صحیح ،صحیح لغیرہ،حسن حسن لغیرہ ہوسکتی ہے۔جب کوئی عظیم محدث مثلاامام بخاری امام یحیی بن معین ،امام ابن مدینی اوردیگر جلیل القدر محدث یہ کہیں کہ ہذاحدیث ضعیف اورموضوع تب یہ جان لینااورمان لیناچاہئے کہ وہ واقعتا وہ حدیث ضعیف اورموضوع ہے۔ خاص طورپر عربی ممالک سے شائع ہونے والی کتابیں دیکھیں ہرکتاب کا محقق بزعم خود اوربخیال خود امام بخاری اورامام احمد بن حنبل سے کمتر خود کو نہیں سمجھتا اورخود کو ان کاہم پلہ سمجھتاہے اوراحادیث کے صحت وضعف پر بے دھڑک اپنی رائے پیش کرتاہے۔اوربھذا الاسناد کی احتیاط ملحوظ نہیں رکھتا۔ فیض الباری میں علامہ انورشاہ کاشمیری سے منقول ہے کہ علم اصول حدیث کا مقصد یہ ہے کہ جو بات حدیث نہیں ہے وہ حدیث نہ بنے یہ مقصد نہیں ہے کہ جوارشاد رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے اس کو ہی حدیث کے دائرہ سے ہی نکال دیاجائے۔ اس تحریر کے مخاطب کوئی ایک فرد نہیں بلکہ یہ عمومی بات کہی گئی ہے ۔کوئی صاحب اس کو خصوصی طورپر اپنے دل پر نہ لیں۔ اب ذرا زیر بحث حدیث کا تجزیہ کیاجائے۔ عبداللہ حیدرصاحب فرماتے ہیں۔ اقتباس:
دوسری بات یہ فرمائی کہ یزید بن مرثد کو ابن حبان اورامام ہیثمی وغیرہ نےکذاب قراردیاہے۔ہم اس دوسری بات کا جائزہ لیتے ہیں۔ امام ہیثمی فرماتے ہیں قال الهيثمي في " المجمع " : رواه الطبراني . ويزيد بن مرثد لم يسمع من معاذ ، والوضين بن عطاء وثقه ابن حبان وغيره وضعفه جماعة ، وبقية رجاله ثقات . ہیثمی نے مجمع الزوائد میں کہاہے کہ اس حدیث کو طبرانی نے روایت کیاہے اوریزید بن مرثد کاسماع حضرت معاذ بن جبل سے ثابت نہیں ہے اوروضین بن عظا کی توثیق میں اختلاف ہے ابن حبان اوردیگر محدثین نے اس کو ثقہ قراردیاہے اورمحدثین کی ایک دوسری جماعت نے اس کو ضعیف قراردیاہے ۔اس حدیث کے دیگر روات ثقہ ہیں۔ اب بتایاجائے کہ حافظ ہیثمی کے کس لفظ سے ثابت ہوتاہے کہ حافظ ہیثمی نے یزید بن مرثد کو کذاب قراردیاہے۔ اب ذرا یزید بن مرثد کے بارے میں دوسرے محدثین کی آراء بھی ملاحظہ کرلی جائے۔ ابوحاتم بن حبان البستی جو مشہور محدث ہیں اورجن کی کتاب الثقات مشہور ہے انہوں نے ان کا ذکر ثقات میں کیاہے ۔اوروہ لکھتے ہیں کہ خوف خدا سے ہمیشہ گریہ وزاری میں لگتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان کاکھاناپینابھی ترک ہوگیاتھا۔ابن حجر نے بھی تقریب میں ان کا ذکر ثقہ روات میں کیاہے أبو حاتم بن حبان البستي ذكره في الثقات وقال: كان ممن لا يجف عينيه عامة دهره من البكاء حتى منعه ذلك من الطعام والشراب 2 ابن حجر العسقلاني ثقة وله مراسيل 3 مصنفوا تحرير تقريب التهذيب مقبول في المتابعات والشواهد، فقد روى عنه ثلاثة فقط، وذكره ابن حبان في الثقات۔ اورجہاں تک بات دوسرے راوی وضین بن عطا کی ہے علماء جرح وتعدیل نے ان کے بارے میں جوکچھ کہاہے اس کو بھی ہم آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔ أبو أحمد بن عدي الجرجاني ما أرى بأحاديثه بأسا 2 أبو جعفر الطحاوي أهل رواية 3 أبو حاتم الرازي تعرف وتنكر 4 أبو حاتم بن حبان البستي ذكره في االثقات 5 أبو حفص عمر بن شاهين ذكره في الثقات 6 أبو دواد السجستاني صالح الحديث 7 أحمد بن حنبل ثقة، ومرة: ليس به بأس كان يري القدر 8 إبراهيم بن إسحاق الحربي غيره أوثق منه 9 إبراهيم بن يعقوب الجوزجاني واهي الحديث 10 ابن حجر العسقلاني صدوق سيء الحفظ ورمي بالقدر 11 الذهبي ثقة وبعضهم ضعفه 12 الوليد بن مسلم لم يكن في الحديث بذاك 13 دحيم الدمشقي ثقة 14 زكريا بن يحيى الساجي عنده حديث واحد منكر غير محفوظ 15 سعيد بن بشير الأزدي كان صاحب منطق 16 عبد الباقي بن قانع البغدادي ضعيف 17 محمد بن سعد كاتب الواقدي ضعيف في الحديث 18 مصنفوا تحرير تقريب التهذيب صدوق، وقوله: سيء الحفظ لم نجد له فيه سلفا، وأكثر من ضعفه بسبب القدر 19 يحيى بن معين ثقة، ومرة: لا بأس به ابن عدی کہتے ہیں ان کی حدیث میں کوئی مضائقہ نہیں سمھتا۔ابوجعفر الطحاوی کہتے ہیں وہ اہل روایت میں سے ہیں۔ ابوحاتم الرازی کہتے ہیں کبھی معروف اورکبھی منکر روایتیں بیان کرتاہے۔ ابن حبان نے ان کا ذکر ثقات میں کیاہے ۔ابن شاہین نے بھی ان کا ذکر ثقات میں کیاہے۔امام ابوداؤد بھی کہتے ہیں کہ و ہ صالح الحدیث ہیں یعنی ان کی حدیث اعتبار اورشواہد کیلئے قبول کی جاسکتی ہیں۔احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ وہ ثقہ ہیں اورایک مرتبہ فرمایاکہ کوئی حرج نہیں عقیدۃ قدریہ فرقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ابراہیم بن اسحاق الحربی کہتے ہیں دوسرے اس سے زیادہ ثقہ ہیں۔جوزنی کہتے ہیں کہ کمزور راوی ہیں۔ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں سچے ہیں ،حافظ براہے اورقدریہ ہونے کا الزام لگایاہے۔حافظ ذہبی کہتے ہیں کہ ثقہ ہیں بعض نے ان کو ضعیف قراردیاہے۔ولید بن مسلم کہتے ہیں کہ حدیث میں عمدہ نہیں تھے۔دحیم الدمشقی کہتے ہیں ثقہ ہیں۔ زکریابن ساجی کہتےہیں ان سے ایک روایت مروی ہے اور وہ بھی منکر اورغیرمحفوظ ہے۔سعید بن بشیرالازدی کہتے یہں کہ ومنطق والے تھے۔ عبدالباقی بن قانع بغدادی کہتے ہیں کہ ضعیف ہیں۔محمد بن سعد واقدی کے کاتب کہتے ہیں کہ حدیث میں ضعیف ہیں۔ تقریب التھذیب کے محررین کہتے ہیں کہ صدوق ہیں حافظ ابن حجر کی یہ بات کہ کہ حافظ براہے یہ کسی بھی ماقبل کے محدث سے مروی نہیں ہےاوراکثر محدثین نے ان کو قدریہ ہونے کے سبب ضعیف قراردیاہے۔یحیی بن معین کہتے ہیں کہ ثقہ ہیں اورایک مرتبہ کہاکوئی حرج نہیں ہے ان کی روایت میں ۔ میں نے تمام محدثین کی یہ روایتیں ذراتفصیل سے اس لئے پیش کردیں تاکہ ہم غوروفکر کرسکیں کہ احادیث پر حکم لگانا بازیچہ اطفال یاکوئی عمدہ مضمون لکھنے جیساکام نہیں ہے ۔ اب یہاں سے ہم ذرا نفس حدیث پر غورکریں گے کہ کیا بات وہی ہے جو عبداللہ حیدر صاحب کہہ رہے ہیں یاااس کے خلاف ہے۔ عبداللہ حیدرکی پیش کردہ روایت یہ ہے رقم الحديث: 751 (حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اللَّيْثِ أَبُو الْقَاسِمِ النَّحْوِيُّ الْعَسْكَرِيُّ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، سَمِعْتُ الْوَضِينَ بْنَ عَطَاءٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خُذُوا الْعَطَاءَ مَا دَامَ عَطَاءً ، فَإِذَا صَارَ رِشْوَةً عَلَى الدِّينِ فَلا تَأْخُذُوهُ وَلَسْتُمْ بِتَارِكِيهِ يَمْنَعُكُمُ الْفَقْرُ وَالْحَاجَةُ ، أَلا إِنَّ رَحَى بَنِي مَرَحٍ قَدْ دَارَتْ ، وَقَدْ قُتِلَ بَنُو مَرَحٍ ، أَلا إِنَّ رَحَى الإِسْلامِ دَائِرَةٌ ، فَدُورُوا مَعَ الْكِتَابِ حَيْثُ دَارَ ، أَلا إِنَّ الْكِتَابَ وَالسُّلْطَانَ سَيَفْتَرِقَانِ فَلا تُفَارِقُوا الْكِتَابَ ، أَلا إِنَّهُ سَيَكُونُ أُمَرَاءُ يَقْضُونَ لَكُمْ ، فَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ أَضَلُّوكُمْ وَإِنْ عَصَيْتُمُوهُمْ قَتَلُوكُمْ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَكَيْفَ نَصْنَعُ ؟ ، قَالَ : كَمَا صَنَعَ أَصْحَابُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ، نُشِرُوا بِالْمَنَاشِيرِ وَحُمِلُوا عَلَى الْخَشَبِ مَوْتٌ فِي طَاعَةٍ خَيْرٌ مِنْ حَيَاةٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " یہ روایت صرف ضعیف ہے اورضعیف بھی شدید درجہ کی نہیں کیونکہ جیساکہ آپ نے دیکھاکہ تمام روات میں صرف وضین بن عطا اوریزید بن مرثد کے بارے میں ہی کلام ہے اور اس میں بھی یہ بات قابل تحقیق ہے کہ دونوں راوی حسن درجہ کے ہیں اورصدوق وصالح ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ عبداللہ حیدرصاحب نے کس دلیل کی بناء پر ایک روایت کو جوصرف ضعیف تھی اورایسی ضعیف روایت جودوسرے طرق سے آنے پر اس کا ضعف ختم ہوسکتاہو اوروہ حدیث حسن لغیرہ کے درجہ میں اسکتی ہو اسے سیدھا موضوع اورجھوٹی حدیث قراردے دیا۔ یہ روایت ضعیف صرف اس لئے ہے کہ یزید بن مرثد کاسماع حضرت معاذ بن جبل سے ثابت نہیں ہے لہذا یہ روایت منقطع ہوئی ۔ نہ یہ کہ کوئی راوی اس میں کذاب اورضعیف ہے ۔ منقطع بھی ایک درجہ میں ارسال ہی ہوتاہے لہذا جولوگ مرسل حدیث کو درست مانتے ہیں ان کے نزدیک یہ حدیث انقطاع کے باوجود درست ہوگی ۔ اب آپ اپنی پیش کردہ روایت کے راویوں کا جائزہ ائمہ جرح وتعدیل کی روشنی میں لیجئے۔ الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اللَّيْثِ أَبُو الْقَاسِمِ النَّحْوِيُّ الْعَسْكَرِيُّ۔مجھول الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ۔ 1 أبو القاسم البغوي رأيته وما كتبت عنه 2 أبو حاتم الرازي صدوق 3 أبو حاتم بن حبان البستي ذكره في الثقات 4 أبو يعلى الخليلي ثقة متفق عليه 5 أحمد بن حنبل سئل عنه فقال اكتب عنه فقد كتبت عنه كان يثني عليه 6 أحمد بن شعيب النسائي ليس به بأس 7 ابن حجر العسقلاني صدوق 8 الذهبي الحافظ وكان يسمى شعبة الصغير 9 صالح بن أحمد الهمذاني كان أحمد بن حنبل يثنى عليه وكان يتزهد وكان سيء الخلق مع أصحاب الحديث 10 عبد الباقي بن قانع البغدادي ثقة 11 عبد الله بن أحمد بن حنبل كان أبي إذا رضى عن إنسان وكان عنده ثقة حدث عنه وهو حي فحدثنا عن الحكم بن موسى وهو حيي وعن هيثم بن خارجة وأبي الأحوص وخلف وشجاع وهم أحياء 12 مصنفوا تحرير تقريب التهذيب ثقة، فقد روى عنه جمع غفير من الثقات، منهم البخاري في الصحيح، وذكره ابن حبان في الثقات، ولا نعلم فيه جرحا 13 هشام بن عمار الدمشقي كنا نسميه شعبة الصغير 14 يحيى بن معين ثقة۔ [COLOR="Red"]عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ۔[/COLOR] 1 أحمد بن شعيب النسائي لا بأس به 2 ابن أبي حاتم الرازي صالح الحديث 3 ابن حجر العسقلاني ثقة 4 الذهبي قال: أبو حاتم صالح الحديث 5 مصنفوا تحرير تقريب التهذيب صدوق، إذ لم يوثقه كبير أحد 6 يحيى بن معين لا بأس به۔ اس کے علاوہ وضین بن عطا اوریزید بن مرثد کا ذکر قبل ازیں ہوچکاہے۔آپ نے دیکھ لیاکہ پہلے راوی کے علاوہ دوسرے تمام روات ثقہ یاقابل احتجاج اورصدوق کے مرتبہ کے ہیں۔ یہ تواس روایت کا حال ہوا۔یہی روایت کئی دوسرے طرق سے بھی مروی ہے۔اس روایت میں اس مجہول راوی کی ضرورت نہیں پڑی اس روایت میں حسن بن احمد المقری ثقہ اورمضبوط راوی ہیں اوراس کے علاوہ بھی جتنے روات ہیں سب کے سب ثقہ اورصدوق ہیں ۔ یہاں بھی مسئلہ وہی ہے کہ سند کا مدار یزید بن مرثد پر ہے جس کا سماع حضرت معاذ بن جبل سے ثابت نہیں ہے۔ اب دوسری روایت لیجئے جس میں اس مجہول راوی کا واسطہ نہیںہے۔ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ , أنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , أَنْبَا الْقَاضِي أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْعَسَّالُ , ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ النَّسَائِيُّ , ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ , عَنِ الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ مَرْثَدٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذُوا الْعَطَاءَ مَا دَامَ عَطَاءً ، فَإِذَا كَانَ رِشْوَةً عَلَى الدِّينِ فَلا تَأْخُذُوهُ وَلَسْتُمْ بِتَارِكِيهِ , يَمْنَعُكُمْ مِنْ ذَلِكَ الْفَقْرُ وَالْمَخَافَةُ , أَلا إِنَّ رَحَى بَنِي مَرْجٍ قَدْ دَارَتْ , أَلا وَإِنَّ رَحَى الإِيمَانِ دَائِرَةٌ , فَدُورُوا مَعَ الْكِتَابِ حَيْثُ مَا دَارَ , أَلا وَإِنَّ الْكِتَابَ وَالسُّلْطَانَ سَيَفْتَرِقَانِ , فَلا تُفَارِقُوا الْكِتَابَ , أَلا إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يَقْضُونَ لأَنْفُسِهِمْ مَالا يَقْضُونَ لَكُمْ , إِنْ عَصَيْتُمُوهُمْ قَتَلُوكُمْ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ أَضَلُّوكُمْ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نَصْنَعُ ؟ قَالَ : " كَمَا صَنَعَ أَصْحَابُ عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ نُشِرُوا بِالْمَنَاشِيرِ وَحُمِلُوا عَلَى الْخَشَبِ , مَوْتٌ فِي طَاعَةِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ حَيَاةٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ " . یہ حدیث بھی ضعیف ہوگی لیکن صرف اس لئے کہ اس روایت کی سند میں انقطاع ہے۔ ایسی احادیث کے بارے میں یہی کہاجاتاہے کہ جب اس کی متابعت ہو تو پھر وہ قابل احتجاج ہوتی ہیں اس حدیث کی متابعت ان روایات سے ہورہی ہیں۔ رقم الحديث: 2573 (حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ مُطَيْرٍ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ وَادِي الْقُرَى ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِى مُطَيْرٌ ، أَنَّهُ خَرَجَ حَاجًّا حَتَّى إِذَا كَانَ بِالسُّوَيْدَاءِ إِذَا بِرَجُلٍ ، قَدْ جَاءَ كَأَنَّهُ يَطْلُبُ دَوَاءً وَحُضُضًا ، فَقَالَ : أَخْبَرَنِي مَن سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ يَعِظُ النَّاسَ وَيَأْمُرُهُمْ وَيَنْهَاهُمْ ؟ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ خُذُوا الْعَطَاءَ ، مَا كَانَ عَطَاءً فَإِذَا تَجَاحَفَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْمُلْكِ وَكَانَ عَنْ دِينِ أَحَدِكُمْ فَدَعُوهُ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد ، وَرَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ مُطَيْرٍ . الحكم المبدئي: إسناده ضعيف ويحسن إذا توبع. رقم الحديث: 440 (حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقُرَشِيُّ ، قال : أَنْبَأَنَا أَسْعَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ رَوْحٍ الصَّالَحَانِيُّ فِي جَمَاعَةٍ ، قَالُوا : أَخْبَرَتْنَا فَاطِمَةُ بِنْتُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَتْ : أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ رَيْذَةَ ، قال : أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النَّحَوِيُّ الصُّورِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قال : حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ مُطَيْرٍ مِنْ أَهْلِ ، وادِي الْقُرَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : سَمِعْتُ ذَا الزَّوَائِدِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَمَرَ النَّاسَ ونَهَاهُمْ ، ثُمَّ قال : " هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، قال : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ " ، ثُمَّ قال : " خُذُوُا الْعَطَاءَ مَا دَامَ غَضًّا ، فَإِذَا تَجَاحَفَتْ قُرَيْشٌ بَيْنَهَا ، وصَارَ الْعَطَاءُ رِشَاءً عَنْ دِينِكُمْ فَدَعُوهُ " . رواه عَنْ هشام بْن عمار ، فوافقناه فيه بعلو . وعنده : ما دام عطاء . ورواه أيضا عَنْ أَحْمَد بْن أبي الحواري ، عَنْ سليم بْن مطير ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رجل ، قال : أَخْبَرَنِي من سمع النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ ، ولم يسمه ، ورواه الْحَسَن بْن سفيان ، عَنْ هشام بْن عمار ، عَنْ سليم بْن مطير ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رجل ، عَنْ ذي الزوائد ، وهو الصواب ، وكذلك وقع فِي بعض النسخ من سنن أبي دَاوُد . رقم الحديث: 2412 34 (حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ مَطِيرٍ ، مِنْ أَهْلِ وَادِي الْقُرَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ ، وَأَمَرَ النَّاسَ وَنَهَاهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : هَلْ بَلَّغْتُكُمْ ؟ قَالُوا : اللَّهم َنَعَمْ ، قَالَ : اللَّهمَّ اشْهَدْ ، ثُمَّ قَالَ : خُذُوا الْعَطَاءَ مَا دَامَ عَطَاءٌ ، ثُمَّ قَالَ : " إِذَا تَجَاحَفَتْ قُرَيْشٌ الْمُلْكَ فِيمَا بَيْنَهُمْ ، وَعَادَ الْعَطَاءُ ، وَكَانَ رِشًا عَنْ دِينِكُمْ ، فَدَعُوهُ " ، فَقِيلَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : هَذَا ذُو الزَّوَائِدِ ، صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَنْ أَمَةِ الرَّحْمَنِ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ مَطِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ وَعَمِّهِ سُلَيْمٍ ، نَحْوَهُ ، وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، قَالَ : " أَوَّلُ مَنْ صَلَّى الضُّحَى رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنَ الأَنْصَارِ ، يُقَالُ لَهُ : ذُو الزَّوَائِدِ " . الحكم المبدئي: إسناده ضعيف ويحسن إذا توبع. یہ سب روایتیں جب ایک ساتھ ملیں گے توکم ازکم یہ روایت حسن لغیرہ ضرور ہوجائے گی۔اوراس پر میراصرار نہیں ہے کہ آپ اسے حسن لغیرہ ہی مانئے ضعیف ہی مانئے لیکن ضعیف اورموضوع کے درمیان جو لمبی اوگہری خلیج حائل ہے بناکسی دلیل کے اسے پار کرنے کی کوشش تومت کیجئے۔ والسلام Last edited by ابن جمال; 24-04-11 at 09:05 AM. |
|
|
|
|
| 12 قاری/قارئین نے ابن جمال کا شکریہ ادا کیا | shafresha (24-04-11), کنعان (24-04-11), منتظمین (26-04-11), محمد عاصم (24-04-11), مرزا عامر (24-04-11), آبی ٹوکول (24-04-11), احمد بلال (24-04-11), ارشد کمبوہ (24-04-11), سحر (24-04-11), شمشاد احمد (24-04-11), عبداللہ آدم (24-04-11), عبداللہ حیدر (24-04-11) |
|
|
#9 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم،
بھائی ابن جمال! اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھے اور دنیا و آخرت میںاپنی رضا سے سرفراز کرے۔ آپ نشاندہی نہ کرتے تو عبداللہ ہلاک ہو گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے۔ یزید بن مرثد ثقہ تابعی تھے، مجھے ابھی تک سمجھ نہیںآئی کہ ایسی فاش غلطی مجھ سے کیسے سرزد ہو گئی۔ آپ کی باقی باتیںبھی درست ہیں، یہ حدیثموضوع نہیںضعیف ہے۔ مراسلے میںتبدیلی کر دی ہے۔ بھائی جان!کسی حدیث کی صحت یا ضعف کا حکم لگانا بہت اونچا مقام ہے جس کی طرف دیکھنا بھی مجھ جیسوں کو زیب نہیںدیتا چنانچہ میں ہمیشہ کسی محدث کے حکم پر بھروسہ کرتا ہوں اور دوسروںکو بھی یہی ترغیب دیتا ہوں کہ حدیثکو اپنے فہم سے پرکھنے کی بجائے یہ کام انہی کو کرنے دیں جنہوں نے اس علم کی خدمت میں زندگیاں گزار دیں۔ انجانی غلطی پر فتنہ قرار دینا شاید زیادتی ہوگی۔ ایک دفعہ پھر شکریہ اور دعائیں۔ والسلام علیکم Last edited by عبداللہ حیدر; 24-04-11 at 02:46 AM. |
|
|
|
| 15 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (24-04-11), skjatala (27-04-11), فیصل ناصر (24-04-11), کنعان (24-04-11), محمد عاصم (24-04-11), محمدمبشرعلی (24-04-11), مرزا عامر (24-04-11), مسٹر شیف (12-05-11), آبی ٹوکول (24-04-11), ابو عبداللہ (24-04-11), ابن جمال (26-04-11), احمد بلال (24-04-11), سحر (24-04-11), شمشاد احمد (24-04-11), عبداللہ آدم (24-04-11) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 165
کمائي: 5,060
شکریہ: 266
149 مراسلہ میں 489 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عبداللہ حیدربھائی روئے سخن کسی ایک اورآپ کی جانب قطعا نہیں ہے میں نے پہلے ہی عرض کیاہے کہ عرب سے شائع ہونے والی کتابوں مین عموماتضعیف اورتوثیق کے حوالہ سے ائمہ متقدمین کی احتیاط کاخیال نہیں رکھاجاتا۔
ہاں نیچے میں کچھ باتیں ایسی ہیں جس کا روئے سخن کسی حد تک آپ کی جانب ہوسکتاہے میں اسے ڈیلیٹ کردیتاہوں۔ |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے ابن جمال کا شکریہ ادا کیا | skjatala (27-04-11), کنعان (24-04-11), مرزا عامر (24-04-11), آبی ٹوکول (24-04-11), ارشد کمبوہ (24-04-11), عبداللہ آدم (24-04-11) |
|
|
#12 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
جزاک اللہ خیرا ابن جمال بھائی....................
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایک میری بھی گذارش ہے وہ یہ کہ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ آمد کی احادیث صحیح ہیں یا ان میں بھی خلاء وغیرہ ہے ۔
اس سوال سے میرا مقصد کسی قسم کی نئی بحث کا آغاز کرنا نہیں ہے ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 165
کمائي: 5,060
شکریہ: 266
149 مراسلہ میں 489 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حضرت عیسیٰ رضی اللہ عنہ کی دوبارہ آمد کاجہاںتک مسئلہ ہے یہ امت کے اعتقادی اوراجماعی مسائل میں سے ایک ہے۔حافظ طحاوی مشہور محدث ہیں اورانہوںنے مسلمانوںکے عقائد پر جوکتاب لکھی ہے اس میں بھی اس کا ذکر ہے۔جہاں تک حدیث کی بات ہے تو اس بارے میں احادیث اتنی زیادہ ہیں کہ وہ تواتر کی حد تک پہنچتی ہیں یہ اور بات ہے کہ وہ تواتر لفظی نہیں تواتر قدر مشترک ہے یعنی تمام حدیثوںمیں حضرت عیسی کے آمد ثانی کا ذکر موجود ہے اگرچہ الفاظ مختلف ہوں۔والسلام
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ابن جمال کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آج کل کے جس طرح حالات ہیں ۔ تو پھر لگتا یہ ہی ہے کہ ان کی آمد جلد ہی ہوگی
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ہیں؟, کوئی, کتاب, گے, وسلم, لوگ, لے, نظام, موجود, مسلمانوں, آگے, اللہ, السلام, اسے, اسلامی, جائیں, جائے, حال, حدیث, حضرت, زندگی, زمانے, عیسیٰ, علم, غلط |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|