|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 324
|
||||
| 4 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
بعض اوقات حدیث کو بغیر سیاق وسباق کے پڑھا جاتا ہے جس کی وجہ سے حدیث کو سمجھنے میں قارئ کو غلطی لگ جاتی ہے، اس غلطی کی تصحیح کے لئے شروحات احادیث سے استفادہ کرنا چاہیے۔
ھذا من عندی واللہ اعلم بالثواب۔
__________________
اپنے لیے تو ہر کوئی جیتا ہے آئیں اوروں کے لیے جینا سیکھیں |
|
|
|
| غلام مجتبی جان کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (25-02-10) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھائی نور الدین ، اللہ تعالیٰ آپ کی محنت قبول فرمائے اور خیر نشر کرنے کی مزید توفیق عطا فرمائے ، بھائی نور الدین ، محدثین نے دو مختلف روایات کے متن میں کچھ اختلاف ہونے میں سے """شاذ """ روایت کی پہچان کے لیے ایک قانون مقرر کیا ہوا ہے ، کیا ہی بھلا ہو کہ آپ اس کا بھی ذکر فرما دیجیے ، ان شاء اللہ بات مزید واضح ہو جإئے گی ، اور یہ بھی بیان فرما دیجیے کہ بسا اوقات """ شذوذ """جزوی بھی ہوتا ہے ساری کی ساری روایت دوسری روایت کے خلاف نہیں ہوتی ، والسلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | shafresha (25-02-10), فیصل ناصر (27-02-10), کنعان (25-02-10), نورالدین (26-02-10), عبداللہ حیدر (25-02-10), غلام مجتبی جان (01-03-10) |
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() |
السلام وعلیکم
شذوذ کا تذکرہ سبق1 میں ہو چکا ہے۔ سبق 1 (درایت حدیث)احادیث اور جھوٹی باتیں · اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,725
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
علامہ ناصر البانی کا زعم محدثین کے قواعد کی رو سے غیر مسموع ہے، کیونکہ محدثین کے یہاں شذوذ کی وجہ سے حدیث کا موضوع اور باطل ہونا تو درکنار اسی میں اختلاف ہے کہ شذوذ ہونا صحت کے منافی ہے یا نہیں چہ جائیکہ موضوع اور باطل ہو۔
امام ابن الصلاح نے حدیث صحیح کی تعریف بایں الفاظ کی ہے: الحَدیثُ المُسْنَدُ الّذِیْ یَتّصِلُ اسنادُہ بنقلِ العدلِ الضابطِ عنِ العدلِ الضابطِ الٰی منتہاہ ولا یکونُ شاذًا ولاَ مُعلَّلاً . (مقدمة ابن الصلاح مع التقیید والایضاح، ص:۲۱) ترجمہ: صحیح وہ حدیث مسند ہے جس کی سند متصل ہو، شروع سے آخر تک عادل و ضابط نے عادل و ضابط سے نقل کیا ہو،اور شاذ اور منکر نہ ہو۔ اس پر امام سیوطی رحمة الله عليه نے فرمایا ہے کہ ابن الصلاح رحمة الله عليه نے شاذ سے اپنی مراد کو واضح نہیں کیا جبکہ خود انھوں نے شاذ کے تین معنی ذکر کئے ہیں: (۱) مُخَالفةُ الثقة لأرجح منہ ثقہ کا اپنے سے اوثق کی مخالفت کرنا۔ (۲) تفرّد الثقة مطلقًا، ثقہ کا مطلقاً تفرد خواہ مخالفت ہو یا نہ ہو (۳) تفرّد الراوی مطلقاً، راوی کا مطلقاً تفرد۔ اور اخیر کے دو معنوں کو رد کردیا ہے لہٰذا ظاہر یہی ہے کہ ان کی مراد پہلا معنی ہی ہے۔ اس کے بعد امام سیوطی رحمة الله عليه نے حافظ ابن حجر رحمة الله عليه کا قول نقل کیا ہے کہ: صحیح کی تعریف میں عدم شذوذ کی شرط لگانا اور فقدان شرط کی صورت میں اس حدیث کو صحت کا درجہ نہ دینا یہ امر مشکل ہے، کیونکہ جب سند متصل ہے اور اس کے تمام رواة عادل وضابط ہیں تو اس حدیث سے علت ظاہرہ منتفی ہوگئی پھر جب وہ معلول نہیں رہی تو اس پر صحت کا حکم لگانے سے کون سی چیز مانع بن رہی ہے محض اس کے راویوں میں سے کسی ایک کا اپنے سے اوثق یا اکثر کی مخالفت کردینا ضعف کو مستلزم نہیں ہے بلکہ وہ صحیح اوراصح کی قبیل سے ہوگی یعنی جس حدیث میں مخالفت ہے اس کو صحیح اور اوثق یا اکثر کی روایت کو اصح کہا جائے گا، حافظ فرماتے ہیں کہ یہ صرف میرا ہی دعویٰ نہیں ہے بلکہ ائمہ محدثین میں سے کسی کو نہیں دیکھا گیا کہ وہ اس سند پر جس میں ثقہ اوثق کی مخالفت کررہا ہے عدم صحت کا حکم لگاتے ہوں، ہاں یہ بات تو موجود ہے کہ وہ صحت میں دونوں کو برابر کا درجہ نہیں دیتے بلکہ بعض کو بعض پر مقدم کرتے ہیں۔ امام ابن الصلاح نے حدیث صحیح کی تعریف بایں الفاظ کی ہے: الحَدیثُ المُسْنَدُ الّذِیْ یَتّصِلُ اسنادُہ بنقلِ العدلِ الضابطِ عنِ العدلِ الضابطِ الٰی منتہاہ ولا یکونُ شاذًا ولاَ مُعلَّلاً . (مقدمة ابن الصلاح مع التقیید والایضاح، ص:۲۱) ترجمہ: صحیح وہ حدیث مسند ہے جس کی سند متصل ہو، شروع سے آخر تک عادل و ضابط نے عادل و ضابط سے نقل کیا ہو، اور شاذ اور منکر نہ ہو۔ اس پر امام سیوطی رحمة الله عليه نے فرمایا ہے کہ ابن الصلاح رحمة الله عليه نے شاذ سے اپنی مراد کو واضح نہیں کیا جبکہ خود انھوں نے شاذ کے تین معنی ذکر کئے ہیں: (۱) مُخَالفةُ الثقة لأرجح منہ ثقہ کا اپنے سے اوثق کی مخالفت کرنا۔ (۲) تفرّد الثقة مطلقًا، ثقہ کا مطلقاً تفرد خواہ مخالفت ہو یا نہ ہو (۳) تفرّد الراوی مطلقاً، راوی کا مطلقاً تفرد۔ اور اخیر کے دو معنوں کو رد کر دیا ہے لہٰذا ظاہر یہی ہے کہ ان کی مراد پہلا معنی ہی ہے۔ اس کے بعد امام سیوطی رحمة الله عليه نے حافظ ابن حجر رحمة الله عليه کا قول نقل کیا ہے کہ: صحیح کی تعریف میں عدم شذوذ کی شرط لگانا اور فقدان شرط کی صورت میں اس حدیث کو صحت کا درجہ نہ دینا یہ امر مشکل ہے، کیونکہ جب سند متصل ہے اور اس کے تمام رواة عادل وضابط ہیں تو اس حدیث سے علت ظاہرہ منتفی ہوگئی پھر جب وہ معلول نہیں رہی تو اس پر صحت کا حکم لگانے سے کون سی چیز مانع بن رہی ہے محض اس کے راویوں میں سے کسی ایک کا اپنے سے اوثق یا اکثر کی مخالفت کردینا ضعف کو مستلزم نہیں ہے بلکہ وہ صحیح اوراصح کی قبیل سے ہوگی یعنی جس حدیث میں مخالفت ہے اس کو صحیح اور اوثق یا اکثر کی روایت کو اصح کہا جائے گا، حافظ فرماتے ہیں کہ یہ صرف میرا ہی دعویٰ نہیں ہے بلکہ ائمہ محدثین میں سے کسی کو نہیں دیکھا گیا کہ وہ اس سند پر جس میں ثقہ اوثق کی مخالفت کررہا ہے عدم صحت کا حکم لگاتے ہوں، ہاں یہ بات تو موجود ہے کہ وہ صحت میں دونوں کو برابر کا درجہ نہیں دیتے بلکہ بعض کو بعض پر مقدم کرتے ہیں۔ صحیحین میں احادیث شاذہ کی چند مثالیں اس کی مثالیں صحیحین وغیرہ میں بھی موجود ہیں۔ من جملہ ان مثالوں میں حضرت جابر رضى الله عنه کے اونٹ کا قصہ ہے کہ انھوں نے آپ صلى الله عليه وسلم کو اپنا اونٹ بیچنے میں کیا ثمن لیا تھا پس بعض روایات میں ہے ”فَاشْترا ہُ مِنّی باُوقیةٍ“ کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے مجھ سے اونٹ کو ایک اوقیہ میں خریدا، (بخاری ۱/۲۸۲) اور بعض راوی نقل کرتے ہیں تو ثمن دو سو درہم ذکر کرتے ہیں،اور بعض چار اوقیہ ذکر کرتے ہیں، اور بعض بیس دینار۔ ملاحظہ ہو بخاری شریف (۱/۳۷۵) اور بعض حدیث میں چار دینار کا تذکرہ ہے بخاری (۱/۳۰۹) اسی طرح بعض حدیث میں ہے کہ حضرت جابر رضى الله عنه نے رکوب کی شرط لگائی تھی کہ مدینہ تک اس پر سوار ہو کر جاؤں گا۔ بخاری (۱/۳۷۵) اور بعض میں ہے کہ سوار ہونے کی شرط نہیں لگائی تھی،اس اختلاف کے باوجود امام بخاری رحمة الله عليه دونوں طرح کی روایات کو اپنی کتاب صحیح بخاری کے اندر لے آئے ہیں اور ان طرق کو ترجیح دی جس میں رکوب کی شرط ہے، اسی طرح اس حدیث کو ترجیح دی جس میں ثمن ایک اوقیہ ہے۔ غرض یہ ہے کہ بخاری رحمة الله عليه کا دونوں طرح کی حدیثوں کو اختلاف کے باوجود ذکر کرنا اور اپنی کتاب صحیح بخاری کے اندر جگہ دینا اس بات کی بیّن دلیل ہے کہ محض مخالفت اور شاذ ہونا حدیث کو صحت کے درجہ سے نہیں گراسکتا ہے، ورنہ امام بخاری رحمة الله عليه دونوں طرح کی حدیثوں کو بخاری شریف میں نہ لاتے۔ نیز امام مسلم رحمة الله عليه حدیث مالک عن الزہری عن عروة عن عائشة کے طریق سے نبی صلى الله عليه وسلم کا فجر کی دو رکعت سے پہلے لیٹنے کو ذکر کیا ہے حالانکہ زہری کے تلامذہ میں سے عام اصحاب جیسے معمر، یونس، عمرو بن الحارث، اوزاعی، ابن ابی ذئب، شعیب وغیرہم فجر کی دو رکعت سنت کے بعد لیٹنے کو ذکر کیا ہے اور جمیع حفاظ نے ان حضرات کی روایات کو امام مالک کی روایت پر مقدم اور راجح قرار دیا ہے اس کے باوجود بھی اصحاب الصحاح نے امام مالک رحمة الله عليه کی حدیث کو اپنی کتابوں کے اندر ذکر کرنے سے دریغ نہیں کیا۔ ان مثالوں میں سے وہ حدیث بھی ہے جس کو امام بخاری رحمة الله عليه نے مناقب عثمان رضى الله عنه کے تحت ولید بن عقبہ کی قصہ میں ذکر کیا ہے اور اسی میں ہے (فجلدہ ثمانین) کہ ان کو اسّی کوڑہ لگایا، حافظ ابن حجر رحمة الله عليه نے فرمایا کہ یہ وہم ہے خود بخاری کے اندر ہے (فجلد الولید رضى الله عنه أربعین جلدة) کہ ولید کو چالیس کوڑہ لگایا خود امام مسلم رحمة الله عليه نے چالیس کوڑے والی حدیث کو اپنی کتاب مسلم شریف کے اندر ذکر کیا ہے۔ دیکھو فتح الباری۴۵۱۷-۴۶) اس اختلاف کے باوجود کہ اسّی کوڑے والی روایت شاذ ہے امام بخاری رحمة الله عليه نے اپنی صحیح بخاری کے اندر اس کو ذکر کیا ہے، اس کے علاوہ اور بھی مثالیں ہیں جس کو (الامام ابن ماجہ وکتابہ السنن) ۲۹۹ تا ۳۰۱ کے حاشیہ پر دیکھا جاسکتا ہے۔ عدم رفع والی حدیث کو حاکم اور بیہقی رحمة الله عليه کے موضوع اور باطل قرار دینے پر ملا محمد عابد سندھی رحمة الله عليه نے کہا تھا کہ محض دعوی کردینا حدیث کے بطلان کیلئے کافی نہیں ہے جب تک کہ وجوہ طعن ثابت نہ ہو اس پر البانی رحمة الله عليه نے جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ حاکم اور بیہقی رحمة الله عليه کا فیصلہ دلیل کے ساتھ ہے اور وہ حدیث کا شذوذ سے محفوظ نہ ہونا ہے،اور علامہ ناصر البانی کے زعم کے مطابق شذوذ وضع اور بطلان کو مستلزم ہے۔ ایک اشکال اور اس کا جواب حافظ ابن حجر رحمة الله عليه فرماتے ہیں کہ اگر اس کو اصح اور صحیح ماننے کی صورت میں یہ اشکال کیا جائے کہ اصح پر تو عمل ہورہا ہے لیکن اس کے مقابل میں جو حدیث ہے باوجودیکہ وہ صحیح ہے اس پر عمل نہیں ہو رہا ہے لہٰذا صحیح صرف نام کی رہی۔ اس کا جواب دیتے ہوئے حافظ رحمة الله عليه خود ہی فرماتے ہیں کہ ہر صحیح حدیث کا معمول بہ ہونا ضروری نہیں ہے جیساکہ ناسخ اور منسوخ کا معاملہ ہے کہ حدیث منسوخ کے صحیح ہونے کے باوجود اس پر عمل نہیں ہوتا اسی طرح یہاں بھی۔ علامہ سخاوی فرماتے ہیں کہ ہمارے شیخ یعنی ابن حجر رحمة الله عليه کا میلان اس شخص سے نزاع کا ہے جو شاذ کو صحیح کا نام نہیں دیتا، آگے فرماتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا ہے کہ ایک کو دوسرے پر ترجیح دی جائے اور مرجوح ہونے کی وجہ سے اس پر ضعف کا حکم لگانا لازم نہیں آتا ہے زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا ہے کہ اس پر عمل کرنے سے توقف کیاجائے۔ اور اس کی تائید اس شخص کے قول سے بھی ہوتی ہے جو صحیح اور شاذ کو ایک ساتھ جمع کرکے صحیحٌ شاذٌ کہتا ہے، دیکھئے (فتح المغیث ۱/۱۸) (ابن حبان اور ابن خزیمہ رحمة الله عليه نے حدیث صحیح کی تعریف میں عدم شذوذ کی شرط نہیں لگائی) ہے ابن حجر رحمة الله عليه نکت کے اندر فرماتے ہیں کہ: ابن حبان نے اتصال اور عدالت کے ساتھ ضبط اور عدم شذوذ وعلت کی شرط نہیں لگائی جیساکہ ابن الصلاح رحمة الله عليه نے صحیح کی تعریف میں لگایا ہے۔ ابن خزیمہ رحمة الله عليه نے اپنی کتاب کا نام رکھا ہے (المسند الصحیح المتصل بنقل العدل عن العدل من غیر قطع فی السند ولا جرحٍ فی النَّقَلةِ) پس اس میں جو شرائط ہیں وہ ابن حبان ہی کے شرائط کے مانند ہیں وجہ اس کی یہ ہے کہ ابن حبان ابن خزیمہ کے علوم کو اخذ کرنے والے اور انہیں کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔ اب تک جن باتوں کا تذکرہ ہوا وہ محدثین خاص طور سے اصحاب الصحاح کے مذہب کے مطابق تھیں۔ جہاں تک فقہا اور اصولیین کے مذہب کا تعلق ہے تو ان کے یہاں شاذ ہونا حدیث سے احتجاج اور اس کے مطابق عمل کرنے میں قادح نہیں ہے۔ چنانچہ امام ابن دقیق العید نے (اقتراح) ص۱۸۶ پر ذکر کیا ہے کہ حدیث صحیح کیلئے عدم شذوذ اور علت کی نفی کی شرط لگانا فقہاء کی نظر میں درست نہیں ہے کیونکہ بہت سارے عِلَلْ جس کی بنا پر محدثین حدیثوں کو معلول قرار دیتے ہیں وہ فقہاء کے اصول کے مطابق جاری نہیں ہوسکتے۔ نیز (شرح الالمام) میں ذکر کیا ہے کہ فقہاء اور محدثین ہر ایک کے اپنے الگ الگ طریقے ہیں، جو دوسرے کے یہاں نہیں ہیں کیونکہ فقہاء اور اصولیین کے قواعد کا تقاضہ یہ ہے کہ اگر راوی عادل ہے اور جزم کے ساتھ روایت کرتا ہے نیز سچائی اور عدم غلط میں اس کا شمار ہوتا ہے، ساتھ ہی ساتھ اس حدیث جس میں وہ مخالفت کرتا ہے اور جن کی مخالفت کرتا ہے دونوں میں کسی طرح جمع ہوسکتا ہو تواس کی حدیث کو چھوڑا نہیں جائیگا۔ لیکن محدثین کے یہاں باوجودیکہ ثقات وعدول روایت کرنے والے ہوں کسی علت کا وجود انہیں اس روایت پر صحت کا حکم لگانے سے مانع ہوگا۔ انتہی اس سلسلہ میں حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمة الله عليه نے بہت ہی عمدہ بحث کی ہے چنانچہ (فتح الملہم) کے مقدمہ میں امام سخاوی کے مذکورہ قول کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ صحیح کے اندر شاذ کے نہ ہونے کی شرط لگانا اور شاذ کی تفسیر (مخالفةُ الثقة لِمَنْ ہو أرجح منہ) کے ذریعہ کرنا اس طرح کہ دونوں روایتوں کے درمیان جمع کرنا دشوار ہو، تو محدثین شاذ کا حکم لگانے میں محض کثرت عدد اور قوت حفظ کی بنا پر ارجحیت کوملحوظ رکھتے ہیں، اور دیگر وجوہات ترجیح کی طرف التفات نہیں کرتے جبکہ روایتوں کے درمیان وجوہ ترجیحات سو سے بھی زائد ہیں جیساکہ سیوطی رحمة الله عليه نے (تدریب الراوی) میں ذکر کیا ہے۔ ہاں کبھی کبھی راویوں کے بعض دوسرے احوال کو بھی دیکھ لیتے ہیں لیکن حکم اور معنی کے لحاظ سے جو دیگر وجوہ ترجیح ہیں ان کا خیال نہیں کرتے۔ اور شاید یہ اصطلاح ان کے اپنے موضوع کے اعتبار سے ہے کیونکہ ان کا اصل منصب اسناد پر حکم لگانا ہے۔ گویا انھوں نے اپنے منصب سے خارج چیز کو ان فقہاء اور اصولیین کے حوالہ کردیا ہے جن کاکام متون کو پرکھنا اور اس کے معانی سے بحث کرنا اور بعض کو بعض پر حکم اور معنی کے اعتبار سے ترجیح دینا ہے، اس لئے کہ ہر فن کے رجال ہوا کرتے ہیں جن کو اس فن میں دوسروں پر مقدم کیاجاتا ہے۔ امام ترمذی رحمة الله عليه اپنی کتاب ”جامع ترمذی“ ابواب الجنائز، باب ما جاء فی غسل المیت کے اندر فرماتے ہیں: کہ فقہاء احادیث کے معانی کو زیادہ جاننے والے ہیں۔ ابن حبان رحمة الله عليه کا قول ہے کہ اگر سند کو دیکھا جائے تو شیوخ اولی ہیں اور متن کے اعتبار سے فقہاء اولی ہیں۔ انتہی۔ اور جہاں تک محدثین شاذ کا حکم لگانے میں دونوں حدیثوں کے درمیان جمع کے دشوار ہونے کی شرط لگاتے ہیں تو ایک امر ایک قوم کے یہاں دشوار ہوتا ہے لیکن دوسری قوم کے یہاں آسان ہوتا ہے اور ائمہ وفقہاء احادیث کے متون میں جمع آسانی کے ساتھ کرلیتے ہیں انھیں دشواری نہیں ہوتی، لہٰذا اس بات میں فقہاء ہی مقدم ہوں گے۔ نیز صاحب التنقیح ابن عبدالہادی نے شفعہ کے سلسلہ میں عبدالملک ابن ابی سلیمان کی حدیث پر کلام کرنے کے بعد فرمایا ہے: کہ اس حدیث کے سبب سے امام شعبہ رحمة الله عليه کا عبدالملک پر کلام کرنا اس میں قادح نہیں ہے کیونکہ عبدالملک ثقہ ہیں اور امام شعبہ رحمة الله عليه فقہ کے ماہرین میں سے نہیں ہیں کہ احادیث میں تعارض کے وقت جمع کریں، ہاں وہ حافظ ہیں اور امام شعبہ رحمة الله عليه کے علاوہ نے ان پر شعبہ کے تابع ہوکر کلام کیا ہے۔ اس حدیث کو (ترمذی شریف ۱/۱۶۴، اور کتاب العلل ۲۴۰) پر دیکھاجاسکتا ہے۔ پس انصاف یہ ہے کہ جب محدثین کے یہاں شاذ کا حکم لگانا کثرتِ عدد یا قوتِ حفظ اور ان جیسی چیزوں کی بناء پر ہے تو حدیث کا شاذ اور مردود ہونا فقہاء کے یہاں لازم نہیں آتا کہ احکام میں اس سے احتجاج درست نہ ہو۔ کیونکہ وجوہ ترجیحات غیر محصور ہیں پس بعید نہیں ہے کہ ایک حدیث راوی کے تفرد یا قصور حفظ کی بناء پر مرجوح ہوجائے، کیونکہ شاذ اگرچہ کسی خاص جہت کی وجہ سے محدثین کے یہاں مرجوح ہونے کی بنا پر مردود ہوتی ہے تو وہ احتمال رکھتی ہے کہ ان کے علاوہ کے یہاں دوسری وجوہات کی بنا پر، متن کے اعتبار سے راجح ہو، لہٰذا محدثین کا شاذ کہہ دینا اس بات کو مانع نہیں ہے کہ ان کا غیر دیگر تمام وجوہات ترجیح کو چھوڑ دے، اور ایک شئی کے دو وجہوں کے اعتبار سے مردود اور مقبول ہونے میں کوئی منافات نہیں۔ شیخ عثمانی رحمة الله عليه کا کلام اختصار کے ساتھ پورا ہوا۔ مقدمہ فتح الملہم ص۵۱ و ۵۲۔ الحاصل: ما قبل کے بیان سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ شاذ محدثین کی اصطلاح کے مطابق صحت اصطلاحی کے منافی نہیں ہے۔ چہ جائیکہ اسکی وجہ سے وضع اور بطلان لازم آئے، اور یہ اصحاب الحدیث، خاص طور سے مصنّفین صحاح وغیرہ کے نزدیک ہے جہاں تک فقہاء اور اصولیین کا مذہب ہے تو ان کے یہاں معاملہ اور وسیع ہے جیسا کہ ابن دقیق العید اورمحقق عثمانی رحمة الله عليه کے کلام میں گزرا۔ اور اسی سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ امام حاکم اورامام بیہقی رحمة الله عليه کا حدیث ابن عمر کو شاذ کی بنا پر باطل قرار دینا صحیح بنیاد پر مبنی نہیں ہے بلکہ محض شاذ ہونے کی وجہ سے باطل قرار دینا قواعد حدیث و فقہ دونوں کے مخالف ہے، اور سندھی یا نعمانی رحمة الله عليه کا امام حاکم اور بیہقی کے کلام پر تعاقب برمحل ہے۔ (مراسلہ: ملنگ009)
__________________
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھائی نور الدین ، میں نے اوپر والا پیغام ارسال کرنے سے پہلے آپ کا ارسال کردہ سبق رقم ایک پڑھا تھا ، اس کے بعد یہ پیغام ارسال کیا ، بھائی نور الدین میں نے جو عرض کیا تھا اس کا مقصد وہ قانون جاننا تھا جو محدثین نے """ شاذ """ روایت کو جاننے کے لیے مقرر کیا ہوا ہے ، اس کی پہچان کے لیے مقرر کیا ہوا ہے ، محدثین کے ہاں """ شاذ """ روایت کی ایک سے زیادہ تعریفیں میسر ہیں ، جن میں سے مندرجہ ذیل دو کو """ راجح """ قرار دیا گیا ، اور پھر ان دونوں کے بارے میں کچھ مزید تفصیلی گفتگو میسر ہوتی ہے ، (۱) اِذا اختلف الثقۃ و خالف الثقات ::: اگر ایک با اعتماد روای دیگر با اعتماد روایوں کی روایت کے خلاف روایت کرے اور وہ دیگر زیادہ تعداد میں ہوں ، (۲) اِذا اخلتف الثقہ من ھو أٔوثق منہ ُ ::: اگر ایک با اعتماد روای اُس سے زیادہ با اعتماد راوی کی روایت کے خلاف روایت کرے ، یہ معاملہ تو کسی پوری کی پوری روایت کا ہوا ، اس کے علاوہ کسی ایک ہی جیسی روایت میں ایک ثقہ کی طرف سے کچھ اضافے کے ساتھ روایت کا بھی ہوتا ہے ، جسے """ زیادۃ الثقۃ """ کہا جاتا ہے ، یہاں بھی بسا اوقات جزوی """ شذوذ """ والا معاملہ درپیش ہو جاتا ہے ، بہر حال محترم بھائی میرا مقصد یہیں """ شاذ """ حدیث کے بیان میں اس تفصیل کو شامل کروانا تھا ، نہ کہ آپ کی بیان کردہ معلومات پر کوئی اعتراض کرنا ، اگر آپ نے ایسا محسوس کیا ہو تو میں معذرت خواہ ہوں ، جزاک اللہ خیرا کہ آپ نے دینی علوم کے اہم ترین علوم میں سے ایک کے بارے میں یہ بنیادی معلومات مہیا کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے ، اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی تکمیل کا مکمل موقع عطاء فرمائے ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | کنعان (27-02-10), نورالدین (27-02-10), مباح (06-03-10), عبداللہ حیدر (26-02-10), غلام مجتبی جان (01-03-10) |
|
|
#8 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
ماشاءاللہ۔یہ کنعان بھائی تو اشھے خاصے اھل علم ھیں۔۔۔۔۔جاری رکھی بھائی،بھت اچھی معلومات شیر کر رہے ہیں آپ دونوں۔
جزاکم اللہ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جزاک اللہ کل خیر، کنعان بھائی ، فقہا اور محدیثن کے ہاں """شاذ """ روایت کی حیثیت کے فرق کے بارے میں اچھی معلومات پیش کرنے پر شکریہ بھی قبول فرمایے ، آپ کے مراسلے کے آغاز والی منقولہ بالا عبارت کی کچھ وضاحت کر دیجیے کہ یہ عبارت امام الالبانی رحمہ اللہ کی کونسی بات کے بارے میں ہے اور کہاں سے ماخوذ ہے ، پیشگی شکریہ بھی قبول فرما لیجیے ![]() ![]() ، و السلام علیکم۔
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,725
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بندہ کسی بھی قابل نہیں ھے میں یہاں عادل بھائی اور حیدر بھائی کی وجہ سے اسلامی سیکشن سے اپنی خوشی سے باہر ہو گیا ہوا ہوں کیونکہ کبھی ایسا بھی ہو جاتا ھے کہ کوئی بات دونوں طرف سے آپس میں ٹکڑا جاتی ھے اور کوئی تیسرا اندر گھس کر اس بات کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ھے اور کچھ کم عقل بھی بیچ میں آ کر خطرہ بڑھانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ اس لئے ان دونوں بھائیوں کے پاس کتابیں موجود ہیں اور پراپر دینی تعلیم بھی ھے اور اچھا ھے کہ وہی معلومات فراہم کریں تاکہ کسی تیسرے کو بیچ میں آ کر سب کے لئے مشکلات پیدا کرنے کا موقع نہ مل سکے۔ والسلام |
|
|
|
|
|
|
#11 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,725
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جزاک اللہ عادل بھائی یہ کسی دھاگہ میں نماز کے ایک مسئلہ پر بہت طویل گفتگو میں بہت سے مراسلے تھے جن سے یہ عبارت اخذ کی گئی ھے۔ اگر آپ کو لنک چاہئے تو میں پیش کر سکتا ہوں پرائیویٹ میں۔ والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ |
|
|
|
|
| کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر Rehan (06-03-10) |
![]() |
| Tags |
| color, green, ہوتا, ہے۔, کوئی, کوشش, کرے۔, کرتے, یا, وسلم, وضاحت, قرآن, نظر, موقع, ممکن, اللہ, اصول, تلاش, حدیث, دے, شخص, طور, علم, غلطی, صحیح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|