|
سبق 4: حدیث کا سیاق و سباق اور موقع محل

25-02-10, 11:37 AM
حدیث کو اپنے سیاق و سباق میں سمجھنا ضروری ہے۔ بعض اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ایک حکم ایک مخصوص صورتحال میں جاری فرمایا ہوتا ہے۔ اس صورتحال سے عدم واقفیت کے باعث حدیث کو پڑھنے والا اس کا کچھ اور معنی مراد لے لیتا ہے۔ اس صورت حال کے بارے میں خطیب بغدادی لکھتے ہیں:
ان قولين ظاهرهما التعارض ونفي أحدهما لموجب الآخر أن يحمل النفي والإثبات على أنهما في زمانين أو فريقين أو على شخصين أو على صفتين مختلفتين۔۔۔۔۔۔ فيجب أن يكون المراد بهذا أو نحوه انه آمر للأمة بالصلاة في وقت وغير آمر لها بها في غيره وآمر لها بها إذا كانت متطهرة ونهيها إذا كانت محدثة وآمل لزيد بالحج إذا قدر وغير آمر إذا لم يقدر۔ فلا بد من حمل ما علم انه تكلم به من التعارض على بعض هذه الوجوه وليس يقع التعارض بين قوليه الأبان يقدر كونه آمر بالشيء وناهيا عنه لمن أمر به على وجه ما امره به وذلك احالة في وصفه۔۔۔۔۔
حضور کے دو ارشادات میں بظاہر ایسا تعارض پایا جا سکتا ہے کہ آپ نے کسی کو ایک کام سے منع فرمایا اور دوسرے کو اسی کام کا حکم دیا۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ دونوں کا زمانہ، شخصیت یا صورت حال ایک دوسرے سے مختلف ہو۔۔۔۔ اس قسم کی مثالوں میں ایسا ممکن ہے کہ آپ نے ایک شخص کو نماز کے وقت نماز کا حکم دیا ہو اور دوسرے شخص کو ممنوعہ اوقات میں نماز پڑھنے سے روکا ہو۔ یا پہلے شخص کو پاکیزگی کی حالت میں نماز پڑھنے کا حکم دیا ہو اور دوسرے کو ناپاکی کی حالت میں ایسا کرنے سے روکا ہو۔ اسی طرح آپ نے مثلاً زید کو حج کا حکم اس وجہ سے دیا ہو کہ وہ حج کرنے کی استطاعت رکھتا ہو جبکہ دوسرے شخص کو اس وجہ سے اس کا حکم نہ دیا ہو کہ وہ حج کی استطاعت نہ رکھتا ہو۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ صورت حال کی وضاحت کے بعد آپ کے دو ارشادات میں کوئی تعارض باقی رہتا ہی نہیں ہے۔ آپ نے ایک کام کا حکم ایک صورت حال میں دیا اور اسی کام سے دوسری صورتحال میں منع فرما دیا۔ (الکفایہ باب 141)
سیاق و سباق کو متعین کرنے کا طریق کار یہ ہے کہ اس موضوع سے متعلق تمام احادیث کو اکٹھا کر کے دیکھا جائے۔ ایک حدیث میں جو واقعہ اجمالی طور پر بیان ہوتا ہے، اس کی تفصیل دوسرے طرق میں مل جاتی ہے۔ اس طریقے سے حدیث کا موقع و محل اور سیاق و سباق سمجھ میں آ جاتا ہے۔
ماخوذ از ایضاً
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔
Last edited by نورالدین; 26-02-10 at 11:02 AM..
وجہ: عربی فونٹ
|
نورالدین
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|