واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث



علوم حدیث علوم حدیث


رائے شماری کا نتیجہ دیکھیں: اس موضوع کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے
کارآمد 3 100.00%
مزید درکار ہے 0 0%
عام 0 0%
برا 0 0%
ووٹ دینے والے: 3. آپ شائد اس میں ووٹ نہیں ڈال سکتے

سبق 6: موضوع حدیث کی پہچان

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-02-10, 11:41 AM   #1
سبق 6: موضوع حدیث کی پہچان
نورالدین نورالدین آف لائن ہے 25-02-10, 11:41 AM

ابن القیم سے سوال کیا گیا کہ کیا موضوع حدیث کو اس کی سند کی چھان بین کے بغیر پہچانا جا سکتا ہے؟ انہوں نے اس سوال کا جواب اثبات میں دیتے ہوئے "المنار المنیف فی الصحیح و الضعیف" تصنیف کی۔ اس کتاب میں انہوں نے تفصیل سے موضوع احادیث کی خصوصیات کو بیان کیا ہے۔ یہاں ہم ان کی بیان کردہ خصوصیات کا خلاصہ پیش کر رہے ہیں۔

حدیث میں نامعقول سی بات بیان کی گئی ہو
حدیث میں ایسی نامعقول بات کہی گئی ہو جس کی مثال کسی صحیح حدیث میں نہ ملتی ہو۔ ایسی موضوع احادیث بکثرت ہیں۔ ان کی مثال یہ ہے:

جس نے لا الہ الا اللہ کہا۔ تو اللہ اس کلمے سے ایک پرندہ پیدا کرے گا جس کی ستر ہزار زبانیں ہوں گی۔ ہر زبان پر ستر ہزار بولیاں جاری ہوں گی جس میں اس کے لئے دعائے مغفرت کی جا رہی ہو گی۔ یا جس نے فلاں عمل کیا، اسے جنت میں ستر ہزار شہر دیے جائیں گے۔ ہر شہر میں ستر ہزار محل ہوں گے اور ہر محل میں ستر ہزار حوریں اس کی منتظر ہوں گی۔

اگر کسی جعلی حدیث میں ایسی بات کہی گئی ہو تو اس کے وضع کرنے والا یا تو کوئی احمق ترین شخص ہو گا یا پھر وہ اسلام دشمن ہو گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی شان میں کمی کے لئے آپ کی طرف ایسا کلام منسوب کر رہا ہو گا۔

حدیث میں حسی مشاہدے کے خلاف بات کہی گئی ہو
اس کی مثال یہ حدیث ہے، "بینگن میں ہر بیماری سے شفا ہے۔" یہ بات خلاف حقیقت ہے اور کسی احمق قسم کے حکیم (یا شاید بینگن کے کسی تاجر) نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منسوب کر دیا ہے۔ اسی طرح یہ حدیث بھی ہے کہ "جب کسی شخص کو بات کرتے وقت چھینک آ جائے تو وہ سچا ہو گا۔" اگرچہ بعض حضرات نے اس کی سند کو درست کہا ہے لیکن مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ گھڑی ہوئی حدیث ہے۔

اسی طرح ایک حدیث ہے کہ "دال کھایا کرو۔ یہ دل کو نرم کرتی ہے۔ ستر انبیاء نے اسے پاکیزہ قرار دیا ہے۔" عبداللہ بن مبارک سے اس حدیث کے بارے میں کہا گیا، "یہ حدیث آپ کی طرف سے روایت کی جاتی ہے۔" وہ فرمانے لگے، "کیا! کیا مجھ سے بھی اس حدیث کو لوگ روایت کر رہے ہیں؟"

حدیث میں بیہودہ سی بات بیان کی گئی ہو
مثال کے طور پر یہ حدیث کہ "چاول اگر انسان ہوتا تو بڑا ہی بردبار ہوتا۔ جو اسے کھاتا ہے سیر ہو جاتا ہے۔" ایسی بیہودہ باتیں تو عام معقول لوگ بھی نہیں کرتے کجا سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ایسی بات کرتے۔

اسی طرح یہ حدیث ہے کہ "بادام دوا ہے اور پنیر بیماری ہے۔ جب یہ دونوں پیٹ میں جاتے ہیں تو شفا بن جاتے ہیں۔" اللہ اس حدیث کو ایجاد کر کے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرنے والے پر لعنت فرمائے۔

اسی طرح یہ حدیث کہ "انگور کو روٹی کے ساتھ کھایا کرو۔" یا "مرغ کو برا بھلا نہ کہا کرو۔ اگر انسان کو معلوم ہوتا کہ اس کی آواز میں کیا ہے تو اس کے پر اور گوشت دونوں خریدتا۔" یا "جس نے سفید مرغ پالا، شیطان اور جادو اس کے قریب نہ پھٹکیں گے۔"

حدیث میں ظلم یا برائی کی تلقین کی گئی ہو
ایسی ہر حدیث جس میں دین سے تضاد پایا جاتا ہو، جس میں فساد، ظلم، بے کار باتوں کی دعوت دی گئی ہو یا حق کی برائی یا باطل کی تعریف کی گئی ہو، اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم بری ہیں۔

اس میں وہ احادیث شامل ہیں جن میں محمد یا احمد نام رکھنے والے کو اس کے اعمال سے قطع نظر جہنم سے نجات کی بشارت دی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے دین سے ہمیں معلوم ہے کہ نجات کا تعلق ایمان اور عمل سے ہے نہ کے نام سے۔ اسی میں وہ احادیث بھی شامل ہیں جن میں کسی چھوٹی سی نیکی پر جہنم سے نجات کی خبر دی گئی ہو۔

حدیث میں کوئی حکم دیا گیا ہو اور تمام صحابہ کرام کا عمل اس کے خلاف ہو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے کوئی ایسا حکم دیا ہو جس پر عمل کرنا تمام صحابہ کے لئے لازم ہو۔ اس کے بعد یہ ممکن نہیں ہے کہ ان سب کے سب نے اس حکم کو چھپا لیا ہو اور اس پر عمل نہ کیا ہو۔ ایسی احادیث جھوٹ کی بدترین شکل ہوا کرتی ہیں کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سب کے سب عادل تھے۔ اس کی مثال وہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے حجۃ الوداع سے واپسی پر تمام صحابہ کو اکٹھا کر کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے متعلق فرمایا، "یہ میرا بھائی ہے اور میں ان کے بارے میں وصیت کر رہا ہوں۔ میرے بعد یہی خلیفہ ہو گا۔ اس کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا۔" اسی طرح وہ حدیث کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لئے سورج کو پلٹا دیا گیا تھا۔

(ظاہر ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حق میں وصیت کرنا تھی تو اس کا بہترین موقع حجۃ الوداع تھا۔) اسی طرح سورج اگر پلٹا ہوتا تو یہ ایسا واقعہ تھا کہ جس کی خبر ہر ہر شخص کو دینا چاہیے تھی مگر سوائے سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے اور کسی کو اس واقعے کا علم نہیں ہے۔

حدیث میں کوئی باطل بات کہی گئی ہو
اس کی مثال یہ حدیث ہے کہ "آسمان پر جو کہکشاں دکھائی دیتی ہے وہ عرش کے نیچے موجود ایک سانپ کی پھنکار سے بنتی ہے۔" یا "جب اللہ تعالی ناراض ہوتا ہے تو وحی کو فارسی زبان میں نازل کر دیتا ہے اور جب خوش ہوتا ہے تو عربی میں وحی نازل کرتا ہے۔"

حدیث کلام انبیاء کے مشابہ نہ ہو
اس کی مثال یہ حدیث ہے کہ "تین چیزوں کو دیکھنے سے بینائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ سبزہ، بہتا پانی اور خوبصورت چہرہ۔" ایسی احادیث بعض اسلام دشمنوں کی ایجاد ہیں۔

کسی متعین تاریخ یا مہینے کے بارے میں کوئی عجیب و غریب بات بیان کی گئی ہو
اس کی مثال یہ ہے کہ "اگر چاند کو محرم میں گرہن لگے تو قیمتیں بڑھیں گی، جنگ ہو گی اور سلطنت پر قبضہ ہوگا۔ اگر صفر میں لگے تو ایسا ایسا ہوگا وغیرہ وغیرہ۔" اس ضمن میں بیان کی جانے والی تمام احادیث جھوٹ ہیں۔ (غالباً یہ کسی نجومی ٹائپ شخص کی ایجاد کردہ ہوں گی۔)

حدیث اطباء کے کلام سے مشابہ ہو
جیسے "ہریسہ سے کمر مضبوط ہوتی ہے۔" یا "مچھلی کھانے سے جسم کمزور ہوتا ہے۔" یا "نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے کسی شخص نے کم اولاد ہونے کی شکایت کی تو آپ نے اسے انڈے اور پیاز کھانے کا مشورہ دیا۔" یا یہ حدیث کہ "مومن میٹھا ہوتا ہے اور حلوہ پسند کرتا ہے۔"

(اس ضمن میں زیادہ تر احادیث وہ ہوتی ہیں جو لوگوں نے اپنی پراڈکٹس کی سیل بڑھانے کے لئے ایجاد کیں۔ ہمارے آج کل کے بہت سے حکیم اپنے نسخوں کو طب نبوی بتا کر ان کی مارکیٹنگ کرتے پھرتے ہیں۔)

حدیث میں عقل کی تخلیق سے متعلق عجیب و غریب بات ہو
اس کی مثال یہ حدیث ہے کہ "جب اللہ نے عقل کو پیدا کیا تو اسے آگے بڑھنے کا حکم دیا۔ وہ آگے آئی تو اسے پیچھے جانے کا حکم دیا۔ جب وہ پیچھے چلی گئی تو فرمایا، "میرے نزدیک تم سے زیادہ کوئی چیز قابل عزت نہیں ہے۔" اسی طرح "ہر چیز کی کان ہوتی ہے اور تقوی کی کان عارفین کے دل ہیں۔"

سیدنا خضر علیہ السلام سے متعلق احادیث
سیدنا خضر علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کی طویل عمر سے متعلق تمام کی تمام احادیث جعلی ہیں۔ ان میں سے ایک بھی درست نہیں ہے۔ مثال کے طور پر "رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے مسجد میں خضر علیہ السلام سے ملاقات فرمائی۔" یا "خضر اور الیاس علیہما السلام ہر سال ملاقات کرتے ہیں۔" یا "عرفہ کے دن جبریل، میکائیل اور خضر اکٹھے ہوتے ہیں۔"

(صوفیاء کے ایک طبقے کو سیدنا خضر علیہ الصلوۃ والسلام سے بہت دلچسپی رہی ہے۔ انہوں نے یہ احادیث ایجاد کر کے پہلے تو انہیں ہمیشہ کی عمر عطا کی اور اس کے بعد ان سے ملاقات کرنے کے لئے عجیب و غریب چلے اور ریاضتیں ایجاد کیں۔ ان سب ہتھکنڈوں کا مقصد لوگوں کو اپنا نفسیاتی غلام بنانا تھا۔ ان ڈرامے بازیوں کی تفصیل کے لئے میری کتاب "اسلام میں جسمانی و نفسیاتی غلامی کا سدباب" دیکھیے۔)

حدیث میں واضح شواہد کے خلاف کوئی بات ہو
اس کی مثال عوج بن عنق (قدیم دور کا ایک شخص) کے بارے میں حدیث ہے کہ وہ تین ہزار گز لمبا تھا (اور وہ ہاتھ بڑھا کر سورج کی گرمی سے گوشت بھون لیا کرتا تھا۔) اسی طرح ایک اور حدیث ہے کہ "زمین ایک چٹان پر کھڑی ہے، یہ چٹان ایک بیل کے سینگ پر قائم ہے۔ جب یہ بیل سر ہلاتا ہے تو زلزلہ آتا ہے۔"

حدیث قرآن کے صریحا خلاف ہو
اس کی مثال وہ حدیث ہے جس میں دنیا کی عمر بتائی گئی ہے، "دنیا کی عمر ستر ہزار برس ہے اور ہم آخری برس میں ہیں۔" قرآن مجید سے واضح ہے کہ قیامت کا علم کسی کو نہیں دیا گیا۔

حدیث میں مخصوص ایام کی خاص نمازوں کا ذکر ہو
بعض لوگوں نے مخصوص ایام جیسے جنگ احد کے دن، اتوار کی رات، پیر کے دن غرض ہر موقع کے لئے ایک مخصوص نماز سے متعلق حدیث وضع کر دی۔ اسی طرح رجب کے پہلے جمعے کی خاص نماز سے متعلق حدیث ہے۔ یہی معاملہ شعبان کی پندرہرویں رات (شب برات) کے خاص نوافل کا ہے۔

حدیث میں گھٹیا زبان استعمال کی گئی ہو
حدیث کے الفاظ کا گھٹیا اور بازاری پن یہ ظاہر کر دیتا ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے الفاظ نہیں ہو سکتے۔ جیسے یہ حدیث کہ "چار، چار سے سیر نہیں ہوتے: عورت مرد سے، زمین بارش سے، آنکھ دیکھنے سے اور کان سننے سے۔"

حدیث میں کسی خاص گروہ کی برائی بیان کی گئی ہو
اس کی مثال وہ احادیث ہیں جن میں اہل سوڈان کی برائی بیان کی گئی ہے۔ اسی طرح ترکوں، مخنثین اور غلاموں کی برائی سے متعلق تمام احادیث جعلی ہیں۔

حدیث میں معروف تاریخی حقائق کے خلاف بات بیان کی گئی ہو
اس کی مثال وہ معاہدہ ہے جو خیبر کے یہودیوں نے اس دعوے کے ساتھ پیش کیا کہ یہ معاہدہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے کیا تھا۔ غور کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ معاہدہ جعلی تھا کیونکہ اس پر سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے دستخط بطور گواہ موجود تھے جو جنگ خیبر سے دو سال پہلے جنگ خندق میں شہید ہو چکے تھے۔ اس معاہدے میں یہ لکھا ہوا تھا کہ اسے تحریر کرنے والے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہیں جو جنگ خیبر کے ایک سال بعد ایمان لائے۔

حدیث میں خاص سورتوں کی تلاوت کے فضائل بیان کئے گئے ہوں
خاص خاص سورتوں کے فضائل سے متعلق احادیث بھی موضوع ہوا کرتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک دور میں بعض حضرات جیسے نوح بن ابراہیم نے یہ حدیثیں لوگوں کو قرآن کی طرف راغب کرنے کے لئے گھڑی تھیں اور بعد میں اس کا اعتراف بھی کر لیا تھا۔

حدیث میں مخصوص صحابہ اور علماء کے فضائل بیان کئے گئے ہوں
اہل سنت کے بہت سے جاہل افراد نے سیدنا ابوبکر، عمر، عثمان اور معاویہ رضی اللہ عنہم کے فضائل سے متعلق احادیث گھڑ کر پھیلائی ہیں۔ انہوں نے یہ معاملہ اہل تشیع کے ان افراد کے جواب میں کیا جو سیدنا علی اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کے فضائل میں احادیث گھڑا کرتے تھے۔ اسی طرح انہوں نے سیدنا معاویہ اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی مذمت میں احادیث ایجاد کیں۔

امام ابوحنیفہ اور شافعی رحمۃ اللہ علیہما کے فضائل میں ان کے مقلدین نے احادیث وضع کیں۔ بعض لوگوں نے بنو امیہ کی مذمت اور بنو عباس کے بادشاہوں کی تعریف میں احادیث ایجاد کیں۔ بعض احادیث میں تو بنو عباس کے بچے بچے کو جہنم سے مستثنی قرار دے دیا گیا۔ اسی طرح بغداد، دجلہ، بصرہ، کوفہ، مرو، قزوین، عسقلان، اسکندریہ، نصیبن اور انطاکیہ کے رہنے والوں نے بھی اپنے اپنے شہر کی فضیلت میں حدیثیں ایجاد کیں۔ ایسی تمام احادیث جعلی ہیں۔

ماخوذ ایضاً
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔

Last edited by نورالدین; 26-02-10 at 11:17 AM.. وجہ: عربی فونٹ اور ہیڈنگز

نورالدین
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 112
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (25-02-10), عبداللہ حیدر (25-02-10)
پرانا 25-02-10, 06:02 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھائی نور الدین ، اللہ تعالیٰ آپ کی محنت قبول فرمائے اور خیر نشر کرنے کی مزید توفیق عطا فرمائے ، والسلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (25-02-10)
جواب

Tags
کمر, پہچان, پسند, وصیت, قرآن, لوگ, نظر, ممکن, مجید, مسجد, معلوم, آج, اہل بیت, ایمان, اللہ, انسان, اسلام, جھوٹ, جاہل, حدیث, زلزلہ, شعبان, عورت, عقل, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
وکی لیکس نے چھ گھنٹے بعد ہی دوباہ کام شروع کردیا جاویداسد خبریں 5 03-12-10 10:07 PM
نماز میں خشوع و خضوع صبارخ نماز 1 01-10-10 06:18 PM
موضوع بند کیا گیا محمد الیاس تجاویز اور شکایات 4 26-09-09 01:15 PM
V سے شروع ہونے والی ایجادات / دریافت ابو عمار گپ شپ 1 26-05-08 05:52 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:59 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger