فضائل قرآن
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو قَال:َ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ اِقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ کَمَا کُنْتَ تُرَتِّلُ فِی الدُّنْیَا فَإِنَّ مَنْزِلَکَ عِنْدَ آخِرِ آیَۃٍ تَقْرَؤُہَا۔
( مشکوۃالمصابیح ،کتاب فضائل القرآن ، الفصل الثانی ، الحدیث۲۱۳۴، ج۱ ، ص ۴۰۲)
ترجمہ:
روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ عليہ وآلہٖ وسلم نے کہ قرآن والے سے کہا جائے گا (۱)پڑھ اور چڑھ (۲)اور یونہی آہستگی سے تلاوت کر جیسے دنیا میں کرتا تھا آج تیرا ٹھکانہ و مقام وہاں ہے جہاں تو آخری آیت پڑھے۔ (۳)
وضاحت :
قرآن والے سے مراد وہ مسلمان ہے جو ہمیشہ تلاوت کرتا ہو اور اس پر عامل ہو، وہ شخص نہیں کہ جو قرآن پڑھتا ہواور قرآن اس پر لعنت کرتا ہو کہ یہ تلاوت توعذاب الٰہی کا باعث ہے بعض آریہ اور عیسائی بھی قرآن پاک پر اعتراضات کرنے کیلئے قرآن پاک پڑھتے بلکہ حفظ تک کرلیتے ہیں پنڈت کالی چرن چودہ پاروں کا حافظ ہوا (۲)جنت کے درجے اوپر تلے ہیں جس قدر درجے کی بلندی اسی قدر بہتر انشاء اللہ اس دن تلاوت قرآن مومن کیلئے پروں کا کام دے گی یا اس سے مراتب قرب الہٰی میں ترقی کرنا مراد ہے یعنی تلاوت کرتا جا اور مجھ سے قریب تر ہوتا جا ۔ (۳)یعنی جہاں تیرا پڑھنا ختم ،وہاں تیرا چڑھنا ختم، وہاں اسی قدر تلاوت کرسکے گا جس قدر تلاوت دنیا میں کرتا تھا اور جس طرح آہستہ یا جلدی یہاں تلاوت کرتا تھا اسی طرح وہاں کریگا اس سے چند مسائل معلوم ہوئے ایک یہ کہ جنت کے چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ درجے ہیں کیونکہ قرآن مجید کی آیات اتنی ہی ہیں اور ہر آیت پر ایک درجہ ملتا ہے اگر درجے اس سے کم ہوں تو یہ حساب کیسے درست ہواور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین وآسمان کے درمیان( مرقاۃ )دوسرے یہ کہ جنت میں کوئی عبادت نہ ہوگی سوائے تلاوت قرآن کے ۔ مگر یہ تلاوت لذت اور ترقی ئ درجات کیلئے ہوگی جیسے فرشتوں کی تسبیح تیسرے یہ کہ دنیا میں تلاوتِ قرآن کریم کا عادی بعدِموت ان شاء اللہ حافظ قرآن ہو جائے گا ورنہ یہ شخص وہاں بغیر دیکھے سارا قرآن کیسے پڑھے گاچوتھے یہ کہ بغیر ترجمہ سمجھے بھی تلاوت بہت مفید ہے کہ یہاں تلاوت کو مطلق رکھا گیا یہاں مرقات نے فرمایا کہ قرآن میں تفکر کرنا محض تلاوت سے افضل ہے اسی لیے (صدیق اکبرر ضی اللہ عنہ)حفاظ صحابہ سے افضل ہوئے جنت میں ساری امت سے اونچے درجہ میں وہ ہی ہوں گے ۔
(مراۃ المناجیح،ج۳،ص۳۳۶)