| علوم حدیث علوم حدیث |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 627
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃُ اللہ و برکاتہُ
محترم بھائی عبداللہ حیدر صاحب ، ماشاء اللہ ، کافی محنت کر رہے ہیں ، اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین اجر عطاء فرمائے ، ''' ایک عام غلط فہمی کا ازالہ ''' میں ایک غلطی کا ازالہ درکار ہے ، ذرا توجہ فرمائیے ، لکھا گیا ہے ''' ایک واقعہ کو بکثرت راوی مختلف سندوں سے روایت کرتے تھے اِس طرح چند ہزار مضامین کئی لاکھ حدیثوں کی شکل اختیار کر گئے تھے ''' میرے بھائی ، '''راوی''' تو خود ''' سند ''' کا ایک حصہ ہوتا ہے ، وہ مختلف سندوں سے روایت نہیں کرتا ، بلکہ ایک محدث ایک روایت کو مختلف سندوں سے روایت کرتا ہے ، جی ہاں ، کہیں کہیں ایسا ملتا ہے کہ ایک راوی ایک ہی متن ایک سے زیادہ راویوں سے روایت کر دے ، مثلاً ''' الف نے ب سے روایت کیا ، اور پھر وہی روایت الف نے ج سے بھی روایت کی ، اور پھر کِسی اور سے بھی ''' اِس طرح ایک راوی کا ایک سے زیادہ راویوں سے ایک ہی متن روایت کرنا تو ہوا ہے ، مختلف سندوں سے نہیں ، اور ہو سکتا بھی نہیں ، کیونکہ اگر ایک راوی اپنے سے اوپر صحابی رضی اللہ عنہُ تک بھی مختلف راویوں سے روایت کرے تو بھی اُس حدیث یا خبر کی سند کا ''' مدار ''' وہ راوی ہی ہو گا ، اور ایک '''مدار''' اور ایک متن والی روایت ایک ہی ''' حدیث یا خبر ''' گنی جائے گی ، آپ نے اپنی مندرجہ بالا بات کی مثال کے طور پر حدیث ''' اِنَّمَا الاَعمالُ بالنِّیَاتِ ''' کا ذِکر فرمایا ہے ، اور لکھا ہے کہ '''اِس حدیث کا مضمون سات سو مُختلف سندوں کے ساتھ روایت کیا گیا ہے ''' محترم بھائی ، اِس حدیث کو ''' مصطلح الحدیث ''' کی کتابوں میں ''' خبر الآحاد / غریب مطلق ''' کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ، کیونکہ اِس کی ایک ہی سند ہے ''' عن یحی بن سعید الانصاری ، عن محمد بن اِبراہیم التیمی ، عن علقمہ بن وقاص اللیثی، عن عُمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہُ ، قال سمعتُ رسولَ اللہ سلی اللہ علیہ وسلم ،،،،،،،،''' یحی بن سعید الانصاری سے لے کر عُمر رضی اللہ عنہُ تک اِس حدیث کو کِسی بھی اور نے روایت نہیں کیا ، یعنی سند کے ہر طبقے میں ہر راوی منفرد رہا ہے ، اور ایسی ہی حدیث کو ''' خبر آحاد /غریب مطلق ''' کہا جاتا ہے ، اوپر کی طرف سے آخری راوی ، یحی بن سعید الانصاری ، سے اِس روایت کو بہت سے عُلماء نے روایت کیا ، جِن کی تعداد بمشکل دو سو تک پہنچتی ہے (مُلاحظہ فرمائیے ، شرح حدیث اِنما الاعمال بالنیات ، لشیخ الاِسلام ابن تیمیہ ، اور فتح الباری ، للحافظ ابن حِجر العسقلانی /اِسی حدیث کی شرح ) اگر راویوں کی اِس تقریبی تعداد سے بھی ہر راوی کی روایت کو الگ روایت مانا جائے تو بھی یہ کہا جائے گا کہ اِس ''' حدیث یا خبر ''' کو دو سو راویوں نے روایت کیا ہے ، نہ یہ کہ دو سو مختلف سندوں سے روایت ہوئی ہے ، ایک ہی '''متن '''کو ایک الگ ''' حدیث یا خبر ''' اُس وقت گِنا جاتا ہے جب صحابی رضی اللہ عنہُ مُختلف ہو، اورکم از کم پانچ مختلف صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہو ، تو وہ ''' حدیث یا خبر ''' ''' آحاد ''' سے خارج ہو کر ''' متواتر''' کے زُمرے میں داخل ہوتی ہے ، پس روایات کی گنتی کا اعتبار ''' مختلف سندوں ''' پر نہیں ہوتا بلکہ ''' مختلف صحابی رضی اللہ عنہُ ''' پر ہوتا ہے ۔ ''' مصطلح الحدیث ''' کی معلومات کے لیے مُلاحظہ فرمائیے(١) ''' نُخبۃ الفِکر فی مصطلح اہل الاثر ، للاِمام الحافظ ابن حجر العسقلانی ''' اور خود اُن کی ہی کی ہوئی شرح ''' نُزھۃ النظر فی توضیح نُخبۃ الفِکر'''بھی موجود ہے ، (٢) ''' معرفۃ عُلوم الحدیث ، للاِمام الحافظ محمد بن عبداللہ الحاکم النیساپوری (٣) ''' اِختصار عُلوم الحدیث، للاِمام الحافظ عِماد الدین ابن کثیر ''' اور اِس کی بڑی اچھی شرح بنام ''' الباعِثُ الحثیث ''' بھی موجود ہے ، اِنشاء اللہ یہ کتابیں بہت فائدہ مند رہیں گی ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے دِین کے عُلوم سے بہرور فرمائے اور اُن کے مطابق عمل کی توفیق دے اور ہمارے اچھے اعمال قُبُول فرمائے اور غلطیوں کوتاہیوں سے درگزر فرمائے۔ والسلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ طلبگارِ دُعا ، عادِل سُہیل ظفر ، Last edited by عبداللہ حیدر; 02-07-08 at 01:29 AM. |
|
|
|
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
عادل بھائی! میں نے دونوں جملے نکال دیے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو اگر آپ حدیث کی تاریخ، حجیت حدیث، اصطلاحات حدیث پر تفصیل سے لکھیں۔ اس سے بہت سے لوگوں کو فائدہ ہو۔
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,862
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ
اللہ تعالیٰ آپ کو دُنیا و آخرت میں عَزت و بلندی عطا فرمائے ، اور ہم سب کو توفیق عطا فرمائے کہ ہم حق بات کو مانیں اور اُس پر عمل کریں ، یہ سلسلہ آپ نے شروع کیا ہے اور اِنشا اللہ تعالیٰ آپ ہی مکمل کریں گے ، اِنشا اللہ میں جو مدد کر سکا کروں گا ، میرے لیے دُعا کیا کیجیے ، اب جن چیزوں کی کمی کا شدید احساس ہوتا ہے اُن میں سے ایک وقت ہے ، اللہ ہمارے احوال کی اصلاح فرمائے ، |
|
|
|