واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث



علوم حدیث علوم حدیث


کفار و مشرکین کے حدیث‌پر اعتراضات، صنفی مسائل بیان کرنے کی وجہ وغیرہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 29-10-07, 01:54 PM   #1
کفار و مشرکین کے حدیث‌پر اعتراضات، صنفی مسائل بیان کرنے کی وجہ وغیرہ
عبداللہ حیدر عبداللہ حیدر آف لائن ہے 29-10-07, 01:54 PM

ایک دوسرے فورم پر ایک صاحب سے حجیت حدیث‌پر میری بات چیت چلی۔ اس کے چند مفید حصے پیش خدمت ہیں۔

ایک خطرناک حربہ
اس قسم کے نظریات(یعنی یہ کہ کتب احادیث میں تبدیلیاں کر دی گئیں اور ان میں‌ خلاف اسلام مواد داخل کر دیا گیا وغیرہ) اگر کوئی ناواقف مسلمان یا غیر مسلم پڑھ لے تو اس کے دل پر یہ بات نقش ہو جائے گی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات پر پچاس برس بھی نہ گزرے ہوں گے کہ مسلمانوں نے رسول اللہ اور اسلام کے خلاف عام بغاوت کر دی اور وہی لوگ اس بغاوت میں سرغنے بنے جو اسلام کی مذہبی تاریخ میں سب سے زیادہ نمایاں ہیں اور جنہیں مذہب اسلام کا ستون سمجھا جاتا ہے۔ ان لوگوں کے دل میں ایمان کا شائبہ تک نہ تھا۔ انہوں نے اپنی اغراض کے لیے حدیث، فقہ، سنت اور شریعت کے شاندار الفاظ گھڑے اور دنیا کو دھوکا دینے کے لیے وہ باتیں رسول اللہ کی طرف منسوب کیں جو ان کی اور قرآن کی تعلیمات کے بالکل برخلاف تھیں۔ یہ اثر پڑنے کے بعد ہمیں امید نہیں کہ کوئی شخص اسلام کی صداقت کا قائل ہو گا، کیونکہ جس مذہب کے ائمہ اور ممتاز ترین داعیوں کا یہ حال ہو اس کے پیروؤں میں صرف "شبیر احمد" اور ان کے ہم خیال گنتی کے چند آدمیوں کو دیکھ کو کون عقلمند یہ باور کرے گا کہ ایسا مذہب بھی کوئی سچا مذہب ہو سکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس قسم کے اعتراضات کو دیکھ کر تو ایک شخص اس امر میں بھی شک کر سکتا ہے کہ آیا اسلام اپنی اصلی شکل میں اس وقت محفوظ ہے بھی یا نہیں۔ کیونکہ جب مسلمانوں کے اسلاف میں پہلی صدی سے لے کر اب تک کوئی گروہ بھی ایسا موجود نہیں رہا جو اپنے نبی کے حالات، اقوال، اور تعلیمات کو ٹھیک ٹھیک محفوظ رکھتا اور جب اس قوم کے چھوٹے بڑے سب کے سب ایسے بددیانت تھے کہ جو کچھ جی میں آتا تھا گھڑ کر اپنے رسول کی طرف منسوب کر دیتے تھے تو اسلام کی کسی بات کا بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ یہ بھی یقین نہیں کیا جا سکتا کہ عرب میں فی الواقع کوئی رسول مبعوث ہوا تھا، کیا عجب کہ عوام پر گرفت قائم رکھنے کے لیے رسول اور رسالت کا افسانہ گھڑ لیا گیا ہو۔ اسی طرح قرآن کے متعلق بھی شک کیا جا سکتا ہے کہ وہ فی الواقع کسی رسول پر اترا تھا یا نہیں۔ اور اگر اترا تھا تو اپنی اصلی عبارت میں ہے یا نہیں۔ کیونکہ اس کے ہم تک پہنچنے کا ذریعہ وہی لوگ ہیں جو یہود و نصٰرٰی اور مجوسیوں کی باتیں لے لے کر رسول کی طرف منسوب کرتے ہوئے ذرا نہ شرماتے تھے یا پھر وہ لوگ ہیں جن کی آنکھوں کے سامنے یہ سب کچھ ہوتا تھا اور وہ دم نہ مارتے تھے۔ منکرینِ حدیث نے یہ ایسا حربہ دشمنانِ اسلام کے ہاتھ میں دے دیا ہے جو حدیث کے فراہم کیے ہوئے حربوں سے لاکھ درجہ زیادہ خطرناک ہے، اس سے تو اسلام کی جڑ بنیاد ہی کھود کر پھینک دی جا سکتی ہے۔
غیر مسلم اور کتب احادیث
اب اس اعتراض کو دیکھیے کہ غیرمسلم کتب احادیث پڑھ کا اسلام سے دور ہو جاتے ہیں۔ صحابہ اور تابعین کے دور میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیثیں ہر طرف بیان کی جا رہی تھیں تو اسلام پوری قوت کے ساتھ چہار دانگِ عالم میں پھیل رہا تھا۔ جتنے لوگ اس وقت مسلمان ہوئے تھے اتنی بڑی تعداد میں دوبارہ کبھی نہیں ہوئے۔ یہ وہی دور تھا جب لوگ حدیث سننے کے لیے سینکڑوں میل کا فاصلہ طے کر کے جاتے تھے۔ اگر حدیثیں اسلام کی اشاعت میں رکاوٹ ہوتیں تو آج مصر، شام، فلسطین، لبنان، عراق، ایران وغیرہ میں کوئی مسلمان ڈھونڈنے سے بھی نہ ملتا۔ آپ کی دلچسپی کے لیے عرض کرتا چلوں کہ 9/11 کے بعد مغربی ممالک میں مسلمان ہونے والوں کی بہت بڑی اکثریت حدیث پر عمل کرنے والوں کی ہے۔ جن مسائل کو بنیاد بنا کر حدیثوں پر بے حیائی کا فتوٰی لگایا جا رہا ہے، بہت سے غیر مسلم انہیں پڑھ کر اسلام کی جامعیت سے متاثر ہوئے اور اسلام قبول کیا۔
عہدنامہ قدیم کے حوالہ جات
دوسرے مذاہب کی کتابیں فحش اور بے مقصد واقعات سے بھری پڑی ہیں جن کا عملی زندگی میں کوئی فائدہ نہیں، ان کی خاطر ہم اپنی کتابوں کے وہ مسائل کیوں نکال باہر کریں جن کی ضرورت ہر انسان کو اپنی زندگی میں پیش آتی ہے؟ میں بدھ مت پر بات نہیں کروں گا جن کے بدھو ننگے رہتے اور انسانی فضلہ کھانے کو کمال گردانتے ہیں۔ میں ہندو مت پر بھی گفتگو نہیں کروں گا جن کا خود ساختہ معبود رام دریا میں نہاتی لڑکیوں کے کپڑے اٹھا کر بھاگ جاتا ہے اور واپسی کے لیے شرط لگاتا ہے کہ وہ برہنہ دریا سے باہر نکل آئیں۔ میں اُن لوگوں کا حال آپ کو بتانا چاہوں گا جنہوں نے چند عملی مسائل کے بارے میں وارد احادیث کو بے حیائی قرار دیا اور انہی کا پڑھایا ہوا سبق ہمارے بعض لوگوں نے بھی دہرانا شروع کر دیا ہے۔ بائبل کے دو بڑے حصے ہیں، عہدنامہ قدیم اور عہدنامہ جدید۔ عہدنامہ قدیم میں تورات اور دوسرے انبیاء سے منسوب کتابیں شامل ہیں اور اس حصے پر صلیبی اور یہودی دونوں ایمان رکھتے ہیں۔ اللہ تعالٰی کے جلیل القدر رسول نوح علیہ السلام کے بارے میں پیدائش باب9 میں لکھا ہے:
"نوح نے کاشتکاری شروع کی اور انگور کا ایک باغ لگایا۔ جب اُس نے اُس کی کچھ مَے پی تو متوالا ہو گیا اور اپنے خیمے میں ننگا ہی جا پڑا۔ کنعان کے باپ حام نے اپنے باپ کو ننگا دیکھا اور باہر آکر اپنے دونوں بھائیوں کا بتایا"۔
اللہ تعالیٰ کے ایک اور جلیل القدر نبی لوط علیہ السلام کے بارے میں جو کچھ بائبل کے مصنف نے لکھا ہے اسے لکھتے ہوئے دل کانپتا ہے، آپ بھی دل تھام کر پڑھیے گا۔ لکھتا ہے:
"لوط اور اس کی دو بیٹیوں نے ضغر کو خیر آباد کہا ۔ ۔ ۔ ایک دن بڑی بیٹی نے چھوٹی سے کہا "ہمارا باپ ضعیف ہے اور یہاں کوئی مرد نہیں ہے جو ہم سے صحبت کرے جیسا کہ ساری دنیا کا دستور ہے۔ آؤ اپنے باپ کو مے ملائیں اور اس سے صحبت کریں اپنے باپ کے ذریعہ اپنی نسل بچائے رکھیں۔ ۔ ۔ ۔ لہٰذا لوط کی دونوں بیٹیاں اپنے باپ سے حاملہ ہوئیں۔" (پیدائش باب19)
(نعوذ باللہ من ذلک۔ اللہ کے نبیوں کی توہین کرنے میں یہ لوگ کس قدر بے باک ہیں۔)
سلیمان علیہ السلام سے منسوب ایک نظم "غزل الغزلات" کے نام سے عہد نامہ قدیم میں موجود ہے۔ اس میں محبوب کے پوشیدہ اعضاء تک تعریف اتنے فحش انداز میں کی گئی ہے کہ میں اسے یہاں نہیں لکھ سکتا۔ کوئی صاحب پڑھنا چاہیں تو کیتھولک بائبل کی طرف رجوع کریں۔
اللہ کے فضل سے ہماری مستند کتابوں میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جس پر ہمیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے۔ مناسب تحقیق اور مطلوبہ قابلیت پیدا کیے بغیر اس طرح کی تبدیلیاں شروع ہوگئیں تو پھر یہ کام حدیث تک محدود نہیں رہے گا۔ کل کلاں کوئی شخص اٹھ کر دعوٰی کر دے گا کہ قرآن میں بھی "فحش" مضامین پائے جاتے ہیں، اس لیے اس میں ترمیم کر کے اس قابل بنایا جائے کہ اسے غیر مسلموں کے سامنے پیش کیا جا سکے۔اسلام "مذہب" ہی نہیں "بلکہ "دین" ہے اور زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں راہنمائی فراہم کرتا ہے چاہے وہ اجتماعی زندگی ہو، انفرادی زندگی ہو یا ازدواجی زندگی۔ اسی لیے قرآنِ کریم اور حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں حیاتِ انسانی کے ہر گوشے پر گفتگو کی گئی ہے۔ ان مضامین کی تیاری کے سلسلے میں مجھے بارہا کتب احادیث سے رجوع کرنا پڑا اور ان میں بیان کیے گئے مسائل دیکھ کر میرا دل اللہ تعالیٰ کی حمد و شکر کے جذبات سے لبریز ہوتا رہا کہ اس نے ہمارے لیے کیسا مکمل اور جامع دین اتارا ہے ۔ شاید اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا:
"میں تمہیں ایسے روشن (واضح) راستے پر چھوڑ کر جا رہا ہوں جس کی رات بھی اس کے دن کی مانند (روشن) ہے۔" او کما قال علیہ الصلٰوۃ والسلام
ضرورت کے مسائل بتانا قطعًا بے حیائی نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی نورانی آیتوں میں انہیں بیان نہ فرماتے۔چند آیات ملاحظہ کیجیے:
وَيَسْاَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ ھوَ اَذًى فَاعْتَزِلُواْ النِّسَاء فِي الْمَحِيضِ وَلاَ تَقْرَبُوھُنَّ حَتَّىَ يَطْھُرْنَ فَاِذَا تَطَھَّرْنَ فَاْتُوھُنَّ مِنْ حَيْثُ اَمَرَكُمُ اللّہُ اِنَّ اللّہَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَھِّرِينَ
نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَاْتُواْ حَرْثَكُمْ اَنَّى شِئْتُمْ وَقَدِّمُواْ لاَنفُسِكُمْ وَاتَّقُواْ اللّہَ وَاعْلَمُواْ اَنَّكُم مُّلاَقُوہُ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ (البقرۃ 221 تا223)
"(یہ لوگ) پوچھتے ہیں: حیض کا کیا حکم ہے؟ کہو وہ گندگی کی ایک حالت ہے۔ اس میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ جب تک وہ پاک صاف نہ ہو جائیں پھر جب وہ پاک ہو جائیں تو اُن کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے۔ ۔ ۔ تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ مگر اپنے مستقبل کی فکر کرو اور اللہ کی ناراضی سے بچو۔۔ ۔ ۔"
احل لکم لیلۃ الصیام الرفث الٰی نسائکم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الآیۃ ( البقرۃ 187)
"حلال کیا گیا ہے تمہارے لیے روزے کی رات میں بے حجاب ہونا اپنی بیویوں کے ساتھ۔ وہ لباس ہیں تمہارے لیے اور تم لباس ہو ان کے لیے ۔ جانتا ہے اللہ کہ بیشک تم خیانت کرتے تھے اپنے آپ سے سو عنایت فرمائی اس نے تم پر اور درگزر کیا تم سے لٰہذا اب مباشرت کرو ان سے اور طلب کرو اس کو جو مقدر کر رکھا ہے اللہ نے تمہارے لیے"
سورۃ الاعراف میں بتایا گیا ہے کہ اولاد صرف اللہ دیتا ہے لیکن پھر بھی لوگ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھیرا لیتے ہیں۔ آیت مبارکہ یہاں سے شروع ہو رہی ہے:
ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ و جعل منھا زوجھا لیسکن الیھا فلما تغشٰھا حملت حملا خفیفا فمرت بہ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ الآیۃ(سورۃ الاعراف۔189)
"وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہو گئی تو دونوں نے مل کر اللہ سے دعا کی کہ اگر تو نے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے۔ مگر جب اللہ نے ان کو ایک صحیح و سالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھیرانے لگے"
ٹیڑھی سوچ رکھنے والا کوئی آدمی ان آیات پر بے حیائی کا فتوٰی جڑ دے تو کیا قرآن کریم کو بھی اسی طرح تنقید کا نشانہ بننا پڑے گا جیسا آج حدیث کو بنایا جا رہا ہے؟
حدیث میں صنفی مسائل کیوں بیان کیے گئے ہیں
"اسلام کے مجرم" میں جن روایات پر اعتراض کیا گیا ہے ان میں بڑی تعداد ان حدیثوں کی ہے جن میں صنفی معاملات کے بارے میں راہنمائی دی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ایسے مسائل قرآن کریم میں بیان کیے جا سکتے ہیں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے قول و فعل سے ان کی وضاحت کیوں نہیں فرما سکتے تھے؟ قرآنِ کریم میں ان کا بیان ہونا بے حیائی کے زمرے میں نہیں آتا تو یہی کلیہ حدیث کے بارے میں استعمال کرنے سے کیا چیز مانع ہے؟ عقل کا تقاضا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوسرے مسائل کی طرح اس گوشے کو بھی تشنہ نہ چھوڑا ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ایسی قوم میں پیدا ہوئے تھے جو تہذیب و تمدن کے ابتدائی درجہ میں تھی۔ ان کے سپرد اللہ تعالیٰ نے صرف یہی کام نہیں کیا تھا کہ ان کے خیالات درست کریں بلکہ یہ خدمت بھی ان کے سپرد تھی کہ ان کی زندگی کو بھی درست کریں، ان کو شائستہ اخلاق، پاکیزہ معاشرت، مہذب تمدن، نیک معاملات اور عمدہ آداب (Manners) کی تعلیم دیں۔ یہ مقصد محض وعظ و تلقین اور قیل و قال سے پورا نہیں ہو سکتا تھا۔ 23 سال کی مختصر مدت میں ایک پوری قوم کو وحشت کے بہت نیچے مقام سے اٹھا کر تہذیب کے بلند ترین مرتبہ پر پہنچا دینا اس طرح ممکن نہ تھا کہ محض چند لگے بندھے اوقات میں ان کو بلا کر کچھ زبانی ہدایات دے دی جاتیں۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ خود اپنی زندگی میں ان کے سامنے انسانیت کا ایک مکمل نمونہ پیش کر دیتے اور ان کو پورا موقع دیتے کہ اس نمونہ کو دیکھیں اپنی زندگی اس کے مطابق بنائیں۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا انتہائی ایثار تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی کے ہر شعبے کو امت کے لیے پبلک کر دیا۔ اپنی کسی چیز کو بھی پرائیویٹ نہ رکھا۔ حتی کہ ان معاملات کو بھی نہ چھپایا جنہیں دنیا میں کوئی شخص پبلک کے لیے کھولنے پر آمادہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے لوگوں کو اذنِ عام دے دیا کہ آؤ اور ہر وقت ہر حال میں میری زندگی کے ایک ایک پہلو کو دیکھو اور ہرمعاملہ میں مجھ پر نظر رکھو کہ میں کس طرح عمل کرتا ہوں۔ ایک رسول کے کے سوا کوئی دوسرا شخص نہ تو اتنا بڑا ایثار کر سکتا تھا اور نہ کوئی دوسرا شخص یہ جرات ہی کر سکتا تھا کہ اپنی پوری زندگی کو یوں منظرِ عام پر لا کر رکھ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عوام کی تعلیم کے لیے اس امر کی عام اجازت دے رکھی تھی کہ ہر چیز میں لوگ آپ کے عمل کو دیکھیں۔ دیکھنے والوں سے سنیں، جاننے والوں سے پوچھیں، خود آپ سے دریافت کریں اور اپنی زندگی کو اس مثالی نمونہ پر ڈھالنے کی کوشش کریں۔ ازواجِ مطہرات کو بھی عام اجازت تھی کہ خلوت میں آپ کا جو طرزِ عمل دیکھیں اس سے عورتوں اور مردوں سب کو آگاہ کر دیں۔ تاکہ لوگوں کی صرف ظاہری زندگی ہی نہیں، باطنی اور مخفی زندگی بھی تہذیب و شائستگی اور طہارت و نفاست کے زیور سے آراستہ ہو جائے۔ اسی غرض کے لیے آپ کی بیویاں آپ کی پرائیویٹ زندگی کے ایسے معاملات بھی لوگوں کو بتانے سے دریغ نہ کرتی تھیں جن کو عام طور پر میاں بیوی کے سوا کوئی نہیں جانتا اور نہ کوئی گوارا کرتا ہے کہ لوگ اس کو جانیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس تعلیم میں آسانی پیدا کرنے کی خاطر ازواجِ مطہرات کو تمام مسلمانوں کی حقیقی ماؤں کی سی حیثیت دے دی تھی اور ان کو افرادِ امت پر حرام کر دیا تھا تاکہ مائیں اپنے بیٹوں سے کھل کر بات چیت کر سکیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر ہر چیز کو ان کے سامنے تقلید و پیروی کے لیے، حلال و حرام کی واقفیت کے لیے، پاک اور ناپاک، شائستہ اور ناشائستہ کی تمیز کے لیے بیان کرتی رہیں۔ آپ نے تعلیم کے لیے حیا کے پردے کو اٹھا دیا اور ہر قسم کے معاملات میں اپنی امت کو خود ہدایات دیں۔ ان کو اجازت دی کہ جو کچھ چاہیں پوچھیں، اور ان کو موقع دیا کہ آپ کے طرز عمل کو دیکھ کر معلوم کریں کہ ایک پاکیزہ اور مہذب اور شائستہ زندگی کیسی ہوتی ہے۔ اسی تعلیم کا ایک شعبہ طہارتِ جسم و لباس بھی تھا۔
"مہذب" قوموں کی حالت
اہل عرب تو خیر وحشی تھے، آج جن قوموں کو تہذیب و تمدن کے آسمان پر ہونے کا دعوٰی ہے، ان کا حال آپ کیا دیکھ رہے ہیں؟ کھانے کے بعد منہ کی صفائی سے ناواقف، رفعِ حاجت کے بعد جسم کی طہارت سے بابلد، کھڑے کھڑے پیشاب کیا اور پتلون کے بٹن لگا لیے۔ کموڈ سے اٹھے اور ٹب میں اتر گئے۔ پھر تعلقات مرد و زن میں تو ان کی نا شائستگی اور بے حیائی اور ناپاکی اس حد سے گزری ہوئی ہے کہ اس کا ذکر بھی کیا جا سکے۔تمام تر طبی اور نفسیاتی تحقیقات کے باوجود ایڈز جیسی مکروہ بیماری ہے کہ ان میں پھیلتی ہی چلی جا رہی ہے۔ اخلاق سے اس قدر عاری کہ برطانیہ اور کئی دوسرے ملکوں میں ہم جنس پرستی کو پارلیمنٹ نے قانونی تحفظ فراہم کر رکھا ہے۔ یہ حال جب ترقی یافتہ قوموں کا ہے تو اس قوم کا کیا حال ہو گا جو تمدن کے بالکل ابتدائی درجہ میں تھے۔ لوگ حدیث میں جب آپ کی بیویوں اور دوسرے صحابہ و صحابیات کی زبان سے اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان سے اس قسم کے مسائل پڑھتے ہیں جن میں جنابت اور حیض و نفاس اور ایسے ہی دیگر امور کی نسبت انسان کے طرزِ عمل کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں تو فورًا اعتراض جڑ دیتے ہیں کہ یہ باتیں حیا کےخلاف ہے۔ لیکن وہ غور کریں تو ان کو معلوم ہو کہ درحقیقت یہ ایک بہت بڑا ایثار تھا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے محض اپنی امت کی خاطر گوارا فرمایا۔ اور یہ اسی ایثار کا نتیجہ ہے کہ نہ صرف اہل عرب بلکہ دنیا کے کروڑہا مسلمانوں کی پرائیویٹ زندگی صفائی جسم اور طہارتِ لباس اور پاکیزگی اطوار اور صنفی معاملات میں شائستگی و نظافت کے ایک عام ضابطہ کی پابند ہو گئی ورنہ اگر ان معاملات کو شخصی ذوق پر چھوڑ دیا جاتا تو ہمارے اکثر افراد کا حال اپنی زندگی کے مخفی شعبوں میں جانوروں سے ملتا جلتا ہوتا۔ (سنت کی آئینی حیثیت)

 
عبداللہ حیدر's Avatar
عبداللہ حیدر
ذیلی ناظم

تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 408
Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
منتظمین (02-11-07)
جواب

Tags
9/11, فورم, ہندو, کنعان, کمال, کتابوں, پاک, واقعات, قرآن, لوگ, مکمل, ممکن, مسائل, معلوم, آج, ایمان, ایران, اللہ, انسان, اسلام, دیکھو, دریافت, دعا, غزل, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تحمید (ربنا لک الحمد وغیرہ) کے مسائل عبداللہ حیدر نماز 2 14-10-10 08:51 PM
دال اور لوبیا وغیرہ (Legume) Real_Light باورچی خانہ 11 16-07-08 11:43 AM
آئندہ سال بھارت، سری لنکا اور آسٹریلیا کی ٹیمیں‌پاکستان آئیں گی محمدعدنان کرکٹ 0 14-05-08 10:07 PM
ماضی کے خزانے,,,,وغیرہ وغیرہ …شوکت تھانوی خرم شہزاد خرم اپکے کالم 0 05-01-08 09:34 AM
ماضی کے خزانے,,,,وغیرہ وغیرہ …شوکت تھانوی,,,,روزنامہ جنگ کراچی…2نومبر1958ء خرم شہزاد خرم اپکے کالم 0 19-12-07 08:21 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:01 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger