واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث



علوم حدیث علوم حدیث


گمراہی سے بچانے والی احادیث جو لکھی نا جا سکیں !!!

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-10-11, 09:29 PM   #1
گمراہی سے بچانے والی احادیث جو لکھی نا جا سکیں !!!
rana ammar mazhar rana ammar mazhar آن لائن ہے 15-10-11, 09:29 PM

رسول اللہ ﷺ کے حکم کی نافرمانی کی سزا جو پوری امت کو ملی گمراہی سے بچانے والی حدیث لکھی نا جا سکی !

3 - علم کا بیان : ( 78 )
علم کی باتوں کے لکھنے کا بیان
حدثنا يحيی بن سليمان قال حدثني ابن وهب قال أخبرني يونس عن ابن شهاب عن عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس قال لما اشتد بالنبي صلی الله عليه وسلم وجعه قال ائتوني بکتاب أکتب لکم کتابا لا تضلوا بعده قال عمر إن النبي صلی الله عليه وسلم غلبه الوجع وعندنا کتاب الله حسبنا فاختلفوا وکثر اللغط قال قوموا عني ولا ينبغي عندي التنازع فخرج ابن عباس يقول إن الرزية کل الرزية ما حال بين رسول الله صلی الله عليه وسلم وبين کتابه

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 115 حدیث مرفوع مکررات 11 متفق علیہ 10 بدون مکرر
یحیی بن سلیمان، ابن وہب، یونس، ابن شہا ب، عبیداللہ بن عبداللہ ، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض میں شدت ہوگئی تو آپ نے فرمایا کہ میرے پاس لکھنے کی چیزیں لاؤ، تاکہ میں تمہارے لئے ایک نوشتہ لکھ دوں کہ اس کے بعد پھر تم گمراہ نہ ہو گے، عمر نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مرض غالب ہے اور ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، وہ ہمیں کافی ہے، پھر صحابہ نے اختلاف کیا، یہاں تک کہ شور بہت ہو گیا تو آپ نے فرمایا کہ میرے پاس سے اٹھ جاؤ اور میرے پاس تمہیں جھگڑا نہیں کرنا چاہئے، یہاں تک بیان کر کے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی جگہ سے یہ کہتے ہوئے باہر آگئے کہ بے شک مصیبت ہے اور بڑی (سخت) مصیبت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریر کے درمیان یہ چیز حائل ہو گئی۔

Narrated 'Ubaidullah bin 'Abdullah: Ibn 'Abbas said, "When the ailment of the Prophet became worse, he said, 'Bring for me (writing) paper and I will write for you a statement after which you will not go astray.' But 'Umar said, 'The Prophet is seriously ill, and we have got Allah's Book with us and that is sufficient for us.' But the companions of the Prophet differed about this and there was a hue and cry. On that the Prophet said to them, 'Go away (and leave me alone). It is not right that you should quarrel in front of me." Ibn 'Abbas came out saying, "It was most unfortunate (a great disaster) that Allah's Apostle was prevented from writing that statement for them because of their disagreement and noise


1 - مقدمہ دارمی : (647)
جس مسئلے کے بارے کتاب و سنت کا حکم موجود نہ ہو اس کے بارے میں جواب دینے سے پرہیز

أخبرنا سليمان بن حرب حدثنا حماد بن سلمة عن داود عن الشعبي أن عمر قال يا أيها الناس إنا لا ندري لعلنا نأمركم بأشيا لا تحل لكم ولعلنا نحرم عليكم أشيا هي لكم حلال إن آخر ما نزل من القرآن آية الربا وإن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يبينها لنا حتى مات فدعوا ما يريبكم إلى ما لا يريبكم

سنن دارمی:جلد اول:حدیث نمبر 129
شعبی بیان کرتے ہیں حضرت عمر نے ارشاد فرمایا ہے اے لوگو بے شک ہم نہیں جانتے ہوسکتا ہے ہم تم میں ایسی اشیاء کو حرام قرار دیں جو تمہارے لیے حلال ہوں قرآن میں سب سے آخر میں سود سے متعلق آیت نازل ہوئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اس کی وضاحت نہیں کی۔ یہاں تک کہ آپ کا وصال ہوگیا اس لیے جو چیز تمہیں شک میں مبتلا کرے اسے چھوڑا کر اسے اختیار کرو جو تمہیں شک میں مبتلا نہ کرے۔

rana ammar mazhar
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 461
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (24-10-11), طارق راحیل (31-10-11)
پرانا 15-10-11, 09:34 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے وصال مبارک سے قبل اس کی مکمل وضاحت کا موقع نہیں مل سکا

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے وصال مبارک سے قبل اس کی مکمل وضاحت کا موقع نہیں مل سکا !!!

1- ا ب ج : (26407)
حضرت عمر فاروق عنہ کی مرویات
مسند احمد:جلد اول:حدیث نمبر 238
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم میں سب سے آخری آیت سود سے متعلق نازل ہوئی ہے، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے وصال مبارک سے قبل اس کی مکمل وضاحت کا موقع نہیں مل سکا، اس لئے سود کو بھی چھوڑ دو اور جس چیز میں ذرا بھی شک ہو اسے بھی چھوڑ دو۔

1 - ا ب ج : (26407)
حضرت عمر فاروق عنہ کی مرویات
مسند احمد:جلد اول:حدیث نمبر 331
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم میں سب سے آخری آیت سود سے متعلق نازل ہوئی ہے، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے وصال مبارک سے قبل اس کی مکمل وضاحت کا موقع نہیں مل سکا، اس لئے سود کو بھی چھوڑ دو اور جس چیز میں ذرا بھی شک ہو اسے بھی چھوڑ دو۔
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
نورالدین (24-10-11)
پرانا 15-10-11, 09:41 PM   #3
Senior Member
 
ابن آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 1,100
کمائي: 22,962
شکریہ: 3,391
830 مراسلہ میں 2,404 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Unnecessary

غیر ضروری تبصرہ ۔

Last edited by حیدر; 15-10-11 at 10:54 PM. وجہ: Unnecessary
ابن آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
ابن آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (16-12-11)
پرانا 15-10-11, 09:45 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default کلالہ ربا اور خلافت کی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضاحت سے بیان فرما دیتے تو ؟؟؟

سیدنا عمر بن خطاب نے فرمایا تین باتیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضاحت سے بیان فرما دیتے تو مجھے یہ دنیا ومافیہا سے زیادہ پسند تھا کلالہ ربا اور خلافت ۔

25 - وراثت کا بیان : (34)
کلالہ کا بیان ۔
حدثنا علي بن محمد وأبو بکر بن أبی شيبة قالا حدثنا وکيع حدثنا سفيان حدثنا عمرو بن مرة عن مرة بن شراحيل قال قال عمر بن الخطاب ثلاث لأن يکون رسول الله صلی الله عليه وسلم بينهن أحب إلي من الدنيا وما فيها الکلالة والربا والخلافة

سنن ابن ماجہ:جلد دوم:حدیث نمبر 886 حدیث مرفوع مکررات 14
علی بن محمد، ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، سفیان ، عمرو بن مرہ، مرہ بن شراحبیل، عمر بن خطاب حضرت مرہ بن شرحبیل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب نے فرمایا تین باتیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضاحت سے بیان فرما دیتے تو مجھے یہ دنیا ومافیہا سے زیادہ پسند تھا کلالہ ربا اور خلافت ۔

'Umar bin Khattab said: "There are three things, if the Messenger of Allah had clarified them, that would have been dearer to me than the world and everything in it: a person who leaves behind no heir, usury, and the caliphate."
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-10-11, 09:47 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default وجہ: غیر متعلقہ چیزیں حذف کی گئیں۔پہلے ایک حدیث پر بات ختم کر لیں۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ابن آدم مراسلہ دیکھیں
یہ آپ کے گروہ کی پرانی عادت ہے کہ جب ایک تھریڈ میں‌جواب نہیں‌بن پاتا تو بھاگ کر نیا تھریڈ بنا لیتے ہیں
Last edited by عبداللہ حیدر; 15-10-11 at 08:23 PM. وجہ: غیر متعلقہ چیزیں حذف کی گئیں۔پہلے ایک حدیث پر بات ختم کر لیں۔
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-10-11, 10:04 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ‌جواب نہیں‌بن پاتا: ایک دادا کا ترکہ، دوسرا کلالہ کا بیان، تیسرے سود کے مسائل ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ابن آدم مراسلہ دیکھیں
یہ آپ کے گروہ کی پرانی عادت ہے کہ جب ایک تھریڈ میں‌جواب نہیں‌بن پاتا تو بھاگ کر نیا تھریڈ بنا لیتے ہیں
‌جواب نہیں‌بن پاتا :

"اور تین باتیں ایسی ہیں جن کے متعلق میں چاہتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے جدا نہ ہوتے جب تک کہ ان کو خوب اچھی طرح بیان نہ فرمادیتے ایک دادا کا ترکہ، دوسرا کلالہ کا بیان، تیسرے سود کے مسائل"


54 - مشروبات کا بیان : (66)
اس امر کا بیان کہ خمر وہ پینے کی چیز ہے جو کہ عقل کو مخمور کردے
حدثنا أحمد ابن أبي رجائ حدثنا يحيی عن أبي حيان التيمي عن الشعبي عن ابن عمر رضي الله عنهما قال خطب عمر علی منبر رسول الله صلی الله عليه وسلم فقال إنه قد نزل تحريم الخمر وهي من خمسة أشيائ العنب والتمر والحنطة والشعير والعسل والخمر ما خامر العقل وثلاث وددت أن رسول الله صلی الله عليه وسلم لم يفارقنا حتی يعهد إلينا عهدا الجد والکلالة وأبواب من أبواب الربا قال قلت يا أبا عمرو فشيئ يصنع بالسند من الأرز قال ذاک لم يکن علی عهد النبي صلی الله عليه وسلم أو قال علی عهد عمر وقال حجاج عن حماد عن أبي حيان مکان العنب الزبيب

صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 554 حدیث موقوف مکررات 19 متفق علیہ 10
احمد بن ابی رجاء، یحیی ، ابوحیان تیمی، شعبی، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ شراب کی حرمت نازل ہوچکی ہے اور وہ پانچ چیزوں سے بنتی ہے انگور، کھجور، گندم، جو اور شہد اور خمر وہ ہے جو عقل کو مدہوش کردے اور تین باتیں ایسی ہیں جن کے متعلق میں چاہتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے جدا نہ ہوتے جب تک کہ ان کو خوب اچھی طرح بیان نہ فرمادیتے ایک دادا کا ترکہ، دوسرا کلالہ کا بیان، تیسرے سود کے مسائل، ابوحیان کا بیان ہے کہ میں نے شعبی سے کہا کہ اے ابوعمرو! سندھ میں کچھ چاولوں سے بنایا جاتا ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں نہیں تھا یا یہ کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں نہیں تھا حجاج نے بواسطہ حماد ابوحیان کے عنب کے بجائے زبیب کا لفظ روایت کیا

Narrated Ibn 'Umar:
'Umar delivered a sermon on the pulpit of Allah's Apostle, saying, "Alcoholic drinks were prohibited by Divine Order, and these drinks used to be prepared from five things, i.e., grapes, dates, wheat, barley and honey. Alcoholic drink is that, that disturbs the mind." 'Umar added, "I wish Allah's Apostle had not left us before he had given us definite verdicts concerning three matters, i.e., how much a grandfather may inherit (of his grandson), the inheritance of Al-Kalala (the deceased person among whose heirs there is no father or son), and various types of Riba(1 ) (usury) ."
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-10-11, 10:57 PM   #7
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,182
شکریہ: 52,552
11,193 مراسلہ میں 35,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

رانا صاحب کو اس تھریڈ میں وہ تمام احادیث پیش کرنے کی اجازت ہے جن پر ان کو اعتراض ہے۔
تاہم وہ اعتراض شدہ احادیث ہر تھریڈ میں نہیں لگاتے پھریں گے، بلکہ جس حدیث پر اعتراض ہو گا وہ اسی تھریڈ میں پوسٹ کرتے جائیں گے۔

ادھر کسی بھی حدیث پر اعتراض کا جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس مقصد کے لیے انتظامی نگرانی میں علیحدہ سے یہ تھریڈز کھول لیے جائیں گے۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (15-10-11), احمد نذیر (16-10-11)
پرانا 15-10-11, 11:11 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default شکریہ کہ اس مقصد کے لیے انتظامی نگرانی میں علیحدہ سے یہ تھریڈز کھول لیے جائیں گے۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
رانا صاحب کو اس تھریڈ میں وہ تمام احادیث پیش کرنے کی اجازت ہے جن پر ان کو اعتراض ہے۔
تاہم وہ اعتراض شدہ احادیث ہر تھریڈ میں نہیں لگاتے پھریں گے، بلکہ جس حدیث پر اعتراض ہو گا وہ اسی تھریڈ میں پوسٹ کرتے جائیں گے۔
ادھر کسی بھی حدیث پر اعتراض کا جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس مقصد کے لیے انتظامی نگرانی میں علیحدہ سے یہ تھریڈز کھول لیے جائیں گے۔
شکریہ کہ اس مقصد کے لیے انتظامی نگرانی میں علیحدہ سے یہ تھریڈز کھول لیے جائیں گے۔
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-10-11, 11:48 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default لڑکا اسی کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا ؟؟؟ کیسے ؟؟؟ بچہ تو اس کا ہے جس کا نطفہ ہو زانی کا !!!

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہو ؟؟؟

کیسے ؟؟؟ بچہ تو اس کا ہے جس کا نطفہ ہو زانی کا !!!

44 - غزوات کا بیان : (473)
یث، یونس، ابن شہاب، عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر سے روایت کرتے ہیں جن کی پیشانی پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ کے سال ہاتھ پھیرا تھا۔
حدثناعبد الله بن مسلمة عن مالک عن ابن شهاب عن عروة بن الزبير عن عائشة رضي الله عنها عن النبي صلی الله عليه وسلم وقال الليث حدثني يونس عن ابن شهاب أخبرني عروة بن الزبير أن عائشة قالت کان عتبة بن أبي وقاص عهد إلی أخيه سعد أن يقبض ابن وليدة زمعة وقال عتبة إنه ابني فلما قدم رسول الله صلی الله عليه وسلم مکة في الفتح أخذ سعد بن أبي وقاص ابن وليدة زمعة فأقبل به إلی رسول الله صلی الله عليه وسلم وأقبل معه عبد بن زمعة فقال سعد بن أبي وقاص هذا ابن أخي عهد إلي أنه ابنه قال عبد بن زمعة يا رسول الله هذا أخي هذا ابن زمعة ولد علی فراشه فنظر رسول الله صلی الله عليه وسلم إلی ابن وليدة زمعة فإذا أشبه الناس بعتبة بن أبي وقاص فقال رسول الله صلی الله عليه وسلم هو لک هو أخوک يا عبد بن زمعة من أجل أنه ولد علی فراشه وقال رسول الله صلی الله عليه وسلم احتجبي منه يا سودة لما رأی من شبه عتبة بن أبي وقاص قال ابن شهاب قالت عائشة قال رسول الله صلی الله عليه وسلم الولد للفراش وللعاهر الحجر وقال ابن شهاب وکان أبو هريرة يصيح بذلک

صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1468 حدیث مرفوع مکررات 19 متفق علیہ 12
عبداللہ بن مسلمہ، مالک، ابن شہاب، عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا (دوسری سند) لیث، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا تھا کہ زمعہ کی باندی کے لڑکے کو لے لینا اور عتبہ نے کہا تھا کہ وہ میرا بیٹا ہے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایام فتح میں مکہ میں تشریف لائے تو سعد بن ابی وقاص، زمعہ کی باندی کے لڑکے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور ان کے ساتھ عبد بن زمعہ بھی آیا سعد نے کہا یہ میرا بھتیجا ہے عتبہ نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ اس کا لڑکا ہے عبد بن زمعہ نے کہا یا رسول اللہ! یہ میرا بھائی زمعہ کا بیٹا ہے اس کے فراش پر پیدا ہوا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بچہ کی طرف دیکھا تو وہ عتبہ بن ابی وقاص کے زیادہ مشابہ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے عبد بن زمعہ! اسے لے لو یہ تمہارا بھائی ہے کیونکہ یہ اسی کے بستر پر پیدا ہوا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے سودہ! اس سے پردہ کرو کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی مشابہت عتبہ بن ابی وقاص کے ساتھ دیکھی تھی ابن شہاب بواسطہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہو اور زانی کے لئے پتھر ہیں ابن شہاب کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس حدیث کو با آواز بلند بیان کرتے تھے۔

Narrated 'Aisha:
Utba bin Abi Waqqas authorized his brother Sad to take the son of the slave-girl of Zam'a into his custody. 'Utba said (to him). "He is my son." When Allah's Apostle arrived in Mecca during the Conquest (of Mecca), Sad bin Abi Waqqas took the son of the slave-girl of Zam'a and took him to the Prophet 'Abd bin Zam'a too came along with him. Sad said. "This is the son of my brother and the latter has informed me that he is his son." 'Abd bin Zam'a said, "O Allah's Apostle! This is my brother who is the son of the slave-girl of Zam'a and was born on his (i.e. Zam'as) bed.' Allah's Apostle looked at the son of the slave-girl of Zam'a and noticed that he, of all the people had the greatest resemblance to 'Utba bin Abi Waqqas. Allah's Apostle then said (to 'Abd), " He is yours; he is your brother, O 'Abd bin Zam'a, he was born on the bed (of your father)." (At the same time) Allah's Apostle said (to his wife Sauda), "Veil yourself before him (i.e. the son of the slave-girl) O Sauda," because of the resemblance he noticed between him and Utba bin Abi Waqqas. Allah's Apostle added, "The boy is for the bed (i.e. for the owner of the bed where he was born), and stone is for the adulterer." (Ibn Shihab said, "Abu Huraira used to say that (i.e. the last statement of the Prophet in the above Hadith 596, publicly.")
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
نورالدین (24-10-11)
پرانا 23-10-11, 10:37 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default عطاء نے کہا کہ حاملہ لونڈی سے فرج کے سواء دوسرے روٹ سے فائدہ حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

عطاء نے کہا کہ حاملہ لونڈی سے فرج کے سواء دوسرے روٹ سے فائدہ حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

امام بخاری نے اپنی کتاب کے کتاب البیوع کے باب نمبر 1375 میں ایک ہی حدیث لائی ہے تین آدمیوں کے نام سے، ایک حسن بصری دوسرا اصحابی رسول ابن عمر تیسرا شخص عطاء، مسئلہ ہے کہ ہل یسافر الرجل بالجاریہ قبل ان ۔۔۔۔۔ یستبرئھا، یعنی کیا لونڈی کے ساتھ استبراء سے پہلے ماہواری سے پاک ہونے سے پہلے اس سے ہمبستر ہونا) سفر کرسکتا ہے، حسن بصری نے بوسہ یا مباشرت میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا، اور ابن عمر نے کہا کہ ایسی لونڈی ہبہ کرے یا بیچی جائے یا آزاد ہو جس سے صحبت کی جاتی تھی تو ایک حیض سے استبراءکرے اور کنواری عورت کیلئے استبراء نہیں ہے، عطاء نے کہا کہ حاملہ لونڈی سے فرج کے سواء دوسرے روٹ سے فائدہ حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جناب قارئین! بتایا جائے کہ امام بخاری کی اس حدیث پر دشمن لوگ کیا کیا تو حاشیوں پر حاشیے لگا کر خاکے بنا سکتے ہیں بحوالہ امام بخاری۔


23 - خرید وفروخت کے بیان : (180)

بَاب هَلْ يُسَافِرُ بِالْجَارِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَسْتَبْرِئَهَا وَلَمْ يَرَ الْحَسَنُ بَأْسًا أَنْ يُقَبِّلَهَا أَوْ يُبَاشِرَهَا وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا وُهِبَتْ الْوَلِيدَةُ الَّتِي تُوطَأُ أَوْ بِيعَتْ أَوْ عَتَقَتْ فَلْيُسْتَبْرَأْ رَحِمُهَا بِحَيْضَةٍ وَلَا تُسْتَبْرَأُ الْعَذْرَاءُ وَقَالَ عَطَاءٌ لَا بَأْسَ أَنْ يُصِيبَ مِنْ جَارِيَتِهِ الْحَامِلِ مَا دُونَ الْفَرْجِ
وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ

Atta said: 'There is no harm in going into a slave-girl anywhere you want except the vagina'

کیا لونڈی کے ساتھ قبل اس کے کہ اس کا استبرا کرے سفر کر سکتا ہے اور حسن بصری نے بوسہ یا مباشرت میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا اور ابن عمر نے کہا کہ ایسی لانڈی ہبہ کی جائے یا بیچی جائے یا آزاد ہو جس سے صحبت کی جاتی تھی تو وہ ایک حیض تک استبراء کرے اور کنواری عورت استبرا نہ کرے ۔
عطاء نے کہا کہ حاملہ لونڈی سے فرج کے سواءدوسرے روٹ سے فائدہ حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں پر ۔

2120 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِصْنَ ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا وَكَانَتْ عَرُوسًا فَاصْطَفَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ فَخَرَجَ بِهَا حَتَّى بَلَغْنَا سَدَّ الرَّوْحَاءِ حَلَّتْ فَبَنَى بِهَا ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ صَغِيرٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آذِنْ مَنْ حَوْلَكَ فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ - ص 779 - رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَفِيَّةَ ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ قَالَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَوِّي لَهَا وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ ثُمَّ يَجْلِسُ عِنْدَ بَعِيرِهِ فَيَضَعُ رُكْبَتَهُ فَتَضَعُ صَفِيَّةُ رِجْلَهَا عَلَى رُكْبَتِهِ حَتَّى تَرْكَبَ

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2112 حدیث مرفوع مکررات 38 متفق علیہ 67 بدون مکرر

عبدالغفار بن داؤد، یعقوب بن عبدالرحمن، عمرو بن ابی عمرو، انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ نے خیبر کا قلعہ فتح کرا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صفیہ بنت حیی بن اخطب کا حسن و جمال بیان کیا گیا اس کا شوہر مارا گیا تھا اور وہ نئی دلہن تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنے لیے چن لیا اور ان کو لے کر ساتھ خلوت کی پھر ایک چھوٹے دسترخوان پر حیس تیار کر کے رکھوایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ولیمہ تھا پھر ہم مدینہ کی طرف چلے کہ حضرت صفیہ کو اپنی عبا سے گھیرے ہوئے ہیں پھر اونٹ کے پاس بیٹھتے اپنا گھٹنا رکھتے اور حضرت صفیہ اپنا پاؤں آپ کے گھٹنے پر رکھ کر سوار ہو جاتیں۔

Narrated Anas bin Malik:
The Prophet came to Khaibar and when Allah made him victorious and he conquered the town by breaking the enemy's defense, the beauty of Safiya bint Huyai bin Akhtab was mentioned to him and her husband had been killed while she was a bride. Allah's Apostle selected her for himself and he set out in her company till he reached Sadd-ar-Rawha' where her menses were over and he married her. Then Hais (a kind of meal) was prepared and served on a small leather sheet (used for serving meals). Allah's Apostle then said to me, "Inform those who are around you (about the wedding banquet)." So that was the marriage banquet given by Allah's Apostle for (his marriage with) Safiya. After that we proceeded to Medina and I saw that Allah's Apostle was covering her with a cloak while she was behind him. Then he would sit beside his camel and let Safiya put her feet on his knees to ride (the camel).
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
نورالدین (24-10-11)
پرانا 24-10-11, 01:59 AM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 215
کمائي: 4,134
شکریہ: 203
179 مراسلہ میں 518 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں
عطاء نے کہا کہ حاملہ لونڈی سے فرج کے سواء دوسرے روٹ سے فائدہ حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

امام بخاری نے اپنی کتاب کے کتاب البیوع کے باب نمبر 1375 میں ایک ہی حدیث لائی ہے تین آدمیوں کے نام سے، ایک حسن بصری دوسرا اصحابی رسول ابن عمر تیسرا شخص عطاء، مسئلہ ہے کہ ہل یسافر الرجل بالجاریہ قبل ان ۔۔۔۔۔ یستبرئھا، یعنی کیا لونڈی کے ساتھ استبراء سے پہلے ماہواری سے پاک ہونے سے پہلے اس سے ہمبستر ہونا) سفر کرسکتا ہے، حسن بصری نے بوسہ یا مباشرت میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا، اور ابن عمر نے کہا کہ ایسی لونڈی ہبہ کرے یا بیچی جائے یا آزاد ہو جس سے صحبت کی جاتی تھی تو ایک حیض سے استبراءکرے اور کنواری عورت کیلئے استبراء نہیں ہے، عطاء نے کہا کہ حاملہ لونڈی سے فرج کے سواء دوسرے روٹ سے فائدہ حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جناب قارئین! بتایا جائے کہ امام بخاری کی اس حدیث پر دشمن لوگ کیا کیا تو حاشیوں پر حاشیے لگا کر خاکے بنا سکتے ہیں بحوالہ امام بخاری۔


23 - خرید وفروخت کے بیان : (180)

بَاب هَلْ يُسَافِرُ بِالْجَارِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَسْتَبْرِئَهَا وَلَمْ يَرَ الْحَسَنُ بَأْسًا أَنْ يُقَبِّلَهَا أَوْ يُبَاشِرَهَا وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا وُهِبَتْ الْوَلِيدَةُ الَّتِي تُوطَأُ أَوْ بِيعَتْ أَوْ عَتَقَتْ فَلْيُسْتَبْرَأْ رَحِمُهَا بِحَيْضَةٍ وَلَا تُسْتَبْرَأُ الْعَذْرَاءُ وَقَالَ عَطَاءٌ لَا بَأْسَ أَنْ يُصِيبَ مِنْ جَارِيَتِهِ الْحَامِلِ مَا دُونَ الْفَرْجِ
وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ

Atta said: 'There is no harm in going into a slave-girl anywhere you want except the vagina'

کیا لونڈی کے ساتھ قبل اس کے کہ اس کا استبرا کرے سفر کر سکتا ہے اور حسن بصری نے بوسہ یا مباشرت میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا اور ابن عمر نے کہا کہ ایسی لانڈی ہبہ کی جائے یا بیچی جائے یا آزاد ہو جس سے صحبت کی جاتی تھی تو وہ ایک حیض تک استبراء کرے اور کنواری عورت استبرا نہ کرے ۔
عطاء نے کہا کہ حاملہ لونڈی سے فرج کے سواءدوسرے روٹ سے فائدہ حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں پر ۔

2120 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِصْنَ ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا وَكَانَتْ عَرُوسًا فَاصْطَفَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ فَخَرَجَ بِهَا حَتَّى بَلَغْنَا سَدَّ الرَّوْحَاءِ حَلَّتْ فَبَنَى بِهَا ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ صَغِيرٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آذِنْ مَنْ حَوْلَكَ فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ - ص 779 - رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَفِيَّةَ ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ قَالَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَوِّي لَهَا وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ ثُمَّ يَجْلِسُ عِنْدَ بَعِيرِهِ فَيَضَعُ رُكْبَتَهُ فَتَضَعُ صَفِيَّةُ رِجْلَهَا عَلَى رُكْبَتِهِ حَتَّى تَرْكَبَ

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2112 حدیث مرفوع مکررات 38 متفق علیہ 67 بدون مکرر

عبدالغفار بن داؤد، یعقوب بن عبدالرحمن، عمرو بن ابی عمرو، انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ نے خیبر کا قلعہ فتح کرا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صفیہ بنت حیی بن اخطب کا حسن و جمال بیان کیا گیا اس کا شوہر مارا گیا تھا اور وہ نئی دلہن تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنے لیے چن لیا اور ان کو لے کر ساتھ خلوت کی پھر ایک چھوٹے دسترخوان پر حیس تیار کر کے رکھوایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ولیمہ تھا پھر ہم مدینہ کی طرف چلے کہ حضرت صفیہ کو اپنی عبا سے گھیرے ہوئے ہیں پھر اونٹ کے پاس بیٹھتے اپنا گھٹنا رکھتے اور حضرت صفیہ اپنا پاؤں آپ کے گھٹنے پر رکھ کر سوار ہو جاتیں۔

Narrated Anas bin Malik:
The Prophet came to Khaibar and when Allah made him victorious and he conquered the town by breaking the enemy's defense, the beauty of Safiya bint Huyai bin Akhtab was mentioned to him and her husband had been killed while she was a bride. Allah's Apostle selected her for himself and he set out in her company till he reached Sadd-ar-Rawha' where her menses were over and he married her. Then Hais (a kind of meal) was prepared and served on a small leather sheet (used for serving meals). Allah's Apostle then said to me, "Inform those who are around you (about the wedding banquet)." So that was the marriage banquet given by Allah's Apostle for (his marriage with) Safiya. After that we proceeded to Medina and I saw that Allah's Apostle was covering her with a cloak while she was behind him. Then he would sit beside his camel and let Safiya put her feet on his knees to ride (the camel).

صاحب یہاں "دون الفرج "سےدورسے کونسے روٹ نکالے ہیں۔حآلانکہ یہاں بڑی واضح سی بات ہے کہ حاملہ عورت یا لونڈی سے دوران حمل فرج کے علاوہ جسم سے لذت حاصل کی جاسکتی ہے۔ یعنی کہ دخول نہیں ہوگا۔
یہاں باقی جسم کی طرف اشارہ ہے نہ کہ کسی اور روٹ داخلی دروازے کی طرف۔

اسی لیے کہا جاتا ہے کہ پہلے علم حاصل کریں اسکے بعد اپنے کودین کے تابع کریں پھرجہاں اشکال ہو اسکو اہل علم سے معلوم کریں ۔خود ہی مفتی قاضی بن کراپنی جہالت سے فیصلہ مت کریں۔
باقی اگر یہاں میری مداخلت مناسب ہوتو معذرت خواہ ہوں ۔مگرانتظامیہ سے گزارش ہے کہ خدارا دین کو یوں بازیچہ اطفال نہ بنائیں۔
غیاث آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے غیاث کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-12-11), کنعان (24-10-11), عبداللہ حیدر (31-10-11)
پرانا 24-10-11, 03:14 PM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default "دون الفرج " کا مطلب کس کس نے کیا لکھا ہے وہ آپ آن لائن گوگل میں لکھ کر سارا حوالہ چیک کرلیں !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : غیاث مراسلہ دیکھیں
صاحب یہاں "دون الفرج "سےدورسے کونسے روٹ نکالے ہیں۔حآلانکہ یہاں بڑی واضح سی بات ہے کہ حاملہ عورت یا لونڈی سے دوران حمل فرج کے علاوہ جسم سے لذت حاصل کی جاسکتی ہے۔ یعنی کہ دخول نہیں ہوگا۔
یہاں باقی جسم کی طرف اشارہ ہے نہ کہ کسی اور روٹ داخلی دروازے کی طرف۔
اسی لیے کہا جاتا ہے کہ پہلے علم حاصل کریں اسکے بعد اپنے کودین کے تابع کریں پھرجہاں اشکال ہو اسکو اہل علم سے معلوم کریں ۔خود ہی مفتی قاضی بن کراپنی جہالت سے فیصلہ مت کریں۔
باقی اگر یہاں میری مداخلت مناسب ہوتو معذرت خواہ ہوں ۔مگرانتظامیہ سے گزارش ہے کہ خدارا دین کو یوں بازیچہ اطفال نہ بنائیں۔
"دون الفرج " کا مطلب کس کس نے کیا لکھا ہے وہ آپ آن لائن گوگل میں لکھ کر سارا حوالہ چیک کرلیں نہیں تو تفصیل سے لکھ دوں مزید ؟؟؟

صحیح بخاری (Sahih Bukhari)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ قَالَ کَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ لَمْ يَتَکَلَّمْ حَتَّی يَفْرُغَ مِنْهُ فَأَخَذْتُ عَلَيْهِ يَوْمًا فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ حَتَّی انْتَهَی إِلَی مَکَانٍ قَالَ تَدْرِي فِيمَ أُنْزِلَتْ قُلْتُ لَا قَالَ أُنْزِلَتْ فِي کَذَا وَکَذَا ثُمَّ مَضَی وَعَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنِي أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ قَالَ يَأْتِيهَا فِي ۔۔۔
رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ

اسحق، نضر، عبد ﷲ بن عون، نافع، مولیٰ ابن عمر رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی ﷲ عنہ قرآن کی تلاوت کے درمیان کسی سے بات نہ کرتے تھے ایک دن میں ان کے پاس گیا تو وہ سورہ بقرہ پڑھ رہے تھے جب اس آیت پر پہنچے ﴿ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ﴾ تو فرمایا تم کو معلوم ہے کہ یہ آیت کس وقت اتری؟ میں نے لا علمی کا اظہار کیا، تو آپ نے وجہ نزول بیان کی اور پھر تلاوت میں مصروف ہو گئے (دوسری سند) عبدالصمد، عبدالوارث، ایوب، نافع سے، وہ حضرت ابن عمر رضی ﷲ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ﴿ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ﴾ سے مطلب یہ ہے کہ مرد عورت سے (دبر میں) جماع کرے
یہی حدیث یحیی ، قطان، عبیدﷲ، نافع، ابن عمر رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔

Whenever Ibn 'Umar recited the Qur'an, he would not speak to anyone till he had finished his recitation. Once I held the Qur'an and he recited Surat-al-Baqara from his memory and then stopped at a certain Verse and said, "Do you know in what connection this Verse was revealed? " I replied, "No." He said, "It was revealed in such-and-such connection." Ibn 'Umar then resumed his recitation. Nafi added regarding the Verse:--"So go to your tilth when or how you will" Ibn 'Umar said, "It means one should approach his wife in . ." Dash, Dash, Dash

تفسير الطبري (Tafseer Tabari)
3468 - حدثني أبو قلابة قال: ثنا عبد الصمد، قال: ثني أبي، عن أيوب، عن نافع، عن ابن عمر: {فأتوا حرثكم أني شئتم} قال: في الدبر

…..ایوب، نافع سے، وہ حضرت ابن عمر رضی ﷲ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ﴿ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ﴾ سے مطلب یہ ہے کہ مرد عورت سے دبر میں جماع کرے۔

It was narrated by Abu Kilaba, narrated by Abdel Samad, who said that it was narrated by his father who narrated from Ayub, narrated from Nafi’, narrated by Ibn Umar who said that (Sura 2:223), ‘Your wives are as a tilth unto you: so approach your tilth when or how
you will’ means in anus(الدُّبُر فِي)

حاملہ عورت یا لونڈی سے دوران حمل فرج کے علاوہ سارے جسم سے لذت حاصل کی جاسکتی ہے کیسے ؟؟؟
اگر بات صرف اتنی سی تھی جو آپ کو سمجھ آئی ہے تو شرما کر خالی جگہ چھوڑ نے کی کیا ضرورت تھی کہ امام طبری و السيوطي اور دیگر نے امام بخاری کی ادھوری ذو معنی موقوف حدیث کو مکمل لکھا ؟


ایک طرف تو امام بخاری نے بخاری میں وطی فی دبرالزوج (Anal Sex) کی اجازت کے بارے میں ادھوری ذو معنی موقوف حدیث لکھی اور بخاری میں ممانعت والی کوئی بھی مرفوع حدیث نہ لکھی اور امام ترمذی نے ترمذی میں لکھا کہ امام بخاری نے ممانعت والی مرفوع حدیث کو سند کی رو سے ضعیف قرار دیا ہے۔

وأخرج ابن أبي شيبة والدارمي والبيهقي في سننه عن ابن مسعود قال " محاشي النساء عليكم حرام
قال ابن كثير : هذا الموقوف أصح
قال الحافظ : في جميع الأحاديث المرفوعة في هذا الباب وعدتها نحو عشرين حديثا كلها ضعيفة لا يصح منها
شيء والموقوف منها هو الصحيح
وقال الحافظ ابن حجر في ذلك : منكر لا يصح من وجه كما صرح بذلك البخاري والبزار والنسائي وغير واحد "


ترجمہ خود کر لیں !!!

فتح الباري لابن حجر 8

قوله: (وقال عطاء: لا بأس أن يصيب من جاريته الحامل ما دون الفرج، قال الله تعالى (إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم) قال ابن التين: إن أراد عطاء بالحامل من حملت من سيدها فهو فاسد لأنه لا يرتاب في حله، وإن أراد من غيره ففيه خلاف.
قلت: والثاني أشبه بمراده، ولذلك قيده بما دون الفرج، ووجه استدلاله بالآية أنها دلت على جواز الاستمتاع بجميع وجوهه، فخرج الوطء بدليل فبقي الباقي على الأصل.
ثم ذكر المصنف في الباب حديث أنس في قصة صفية وسيأتي مبسوطا في المغازي، والغرض منه هنا قوله ' حتى بلغنا سد الروحاء حلت فبنى بها ' فإن المراد بقوله ' حلت ' أي طهرت من حيضها.
وقد روى البيهقي بإسناد لين أنه صلى الله عليه وسلم استبرأ صفية بحيضة، وأما ما رواه مسلم من طريق ثابت عن أنس ' أنه صلى الله عليه وسلم ترك صفية عند أم سليم حتى انقضت عدتها ' فقد شك حماد راويه عن ثابت
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 28-10-11, 03:18 PM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default کیا مالی منفعت حاصل کرنے کی حدیث کو اقوام متحدہ کا منشور بنا سکتے ہیں ؟؟؟

کیا مالی منفعت حاصل کرنے کی حدیث کو اقوام متحدہ کا منشور بنا سکتے ہیں تاکہ افعانستان وزیرستان اور عراق میں عمل کیا جاسکے ؟؟؟

"تاکہ حمل نہ قرار پائے اور مالی منفعت کا مقصد بھی فوت نہ ہو" !!!

7 - نکاح کا بیان : (130)
عزل کا بیان

حدثنا القعنبي عن مالک عن ربيعة بن أبي عبد الرحمن عن محمد بن يحيی بن حبان عن ابن محيريز قال دخلت المسجد فرأيت أبا سعيد الخدري فجلست إليه فسألته عن العزل فقال أبو سعيد خرجنا مع رسول الله صلی الله عليه وسلم في غزوة بني المصطلق فأصبنا سبيا من سبي العرب فاشتهينا النسا واشتدت علينا العزبة وأحببنا الفدا فأردنا أن نعزل ثم قلنا نعزل ورسول الله صلی الله عليه وسلم بين أظهرنا قبل أن نسأله عن ذلک فسألناه عن ذلک فقال ما عليکم أن لا تفعلوا ما من نسمة کانة إلی يوم القيامة إلا وهي کانة

سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 408 حدیث مرفوع مکررات 25

قعنبی، مالک، ربیعہ، بن ابی عبدالرحمن، محمد بن یحیی ابن حبان، حضرت ابن محیریز رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں مسجد میں گیا تو ابوسعید خدری کو دیکھا میں ان کے پاس بیٹھ گیا اور عزل کے بارے میں پوچھا تو ابوسعید نے کہا ہم عروہ بنی مصطلق میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے تو وہاں ہم نے عرب کے قیدی پائے (غلام اور باندیاں) ہم نے عورتوں کو لینا چاہا کیونکہ نکاح کے بغیر رہنا ہمارے لیے مشکل ہو رہا تھا مگر اس کے ساتھ مالی منفعت بھی مطلوب تھی پس ہم نے ان سے عزل کرنے کا ارادہ کیا (تاکہ حمل نہ قرار پائے اور مالی منفعت کا مقصد بھی فوت نہ ہو) تو ہم نے کہا کہ کیا ہم عزل کریں اس حال میں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں؟ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اجازت کے بغیر پس ہم نے اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایسا کر نے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جو جانیں قیامت تک پیدا ہونے والی ہیں وہ ضرور پیدا ہو کر رہیں گی۔
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 31-10-11, 07:44 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default نا فرمان مسلمان عورتوں کے بال دیکھنے اور ان کے ننگا کرنے کی ضرورت کا بیان

اگر کوئی نا فرمان مسلمان عورتوں کو ننگا کرکے بازاروں میں گھمائے پھرائے تو ایسا کرنے میں کیا حرج ہے ؟؟؟

41 - جہاد اور سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : (383)

ذمی عورتوں اور نا فرمان مسلمان عورتوں کے بال دیکھنے اور ان کے ننگا کرنے کی ضرورت پر مجبور ہو جانے والے شخص کا بیان

حدثنا محمد بن عبد الله بن حوشب الطائفي حدثنا هشيم أخبرنا حصين عن سعد بن عبيدة عن أبي عبد الرحمن وکان عثمانيا فقال لابن عطية وکان علويا إني لأعلم ما الذي جرأ صاحبک علی الدمائ سمعته يقول بعثني النبي صلی الله عليه وسلم والزبير فقال ائتوا روضة کذا وتجدون بها امرأة أعطاها حاطب کتابا فأتينا الروضة فقلنا الکتاب قالت لم يعطني فقلنا لتخرجن أو لأجردنک فأخرجت من حجزتها فأرسل إلی حاطب فقال لا تعجل والله ما کفرت ولا ازددت للإسلام إلا حبا ولم يکن أحد من أصحابک إلا وله بمکة من يدفع الله به عن أهله وماله ولم يکن لي أحد فأحببت أن أتخذ عندهم يدا فصدقه النبي صلی الله عليه وسلم قال عمر دعني أضرب عنقه فإنه قد نافق فقال ما يدريک لعل الله اطلع علی أهل بدر فقال اعملوا ما شئتم فهذا الذي جرأه

صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 333 حدیث مرفوع مکررات 8 متفق علیہ 5
محمد ہشیم حصین سعد ابوعبدالرحمن عثمانی سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابن عطیہ علوی سے کہا میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ جس چیز نے تمہارے پیر و مرشد کی خونریزی پر دلیر بنایا میں نے ان کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے (علی) اور زبیر کو فلاں باغ میں جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ وہاں تم کو ایک عورت ملے گی جس کو حاطب نے ایک خط دیا ہے چنانچہ ہم اس باغ میں پہنچے اور اس عورت سے وہ خط مانگا تو اس عورت نے جواب دیا حاطب نے تو مجھے کوئی خط نہیں دیا ہے تو ہم نے اس سے کہا تو وہ خط نکال ورنہ ہم تم کو ننگا کردیں گے تب اس نے وہ خط اپنے جوڑے سے نکالا (جو ہم نے دربار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پیش کیا) جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حاطب کو طلب کیا (اور حاطب نے حاضر ہو کر عرض کیا) جلدی نہ کیجئے اللہ کی قسم! میں نے کوئی کفر نہیں کیا نیز اسلام میں کسی نئی چیز کی زیادتی بھی نہیں کی اور مجھے اسلام زیادہ محبوب ہے واقعہ یہ ہے کہ آپ کے اصحاب میں کوئی شخص ایسا نہیں جس کا کوئی عزیز مکہ میں نہ ہو اور جن سے اللہ ان کے اہل و عیال اور مال و اسباب کی حفاظت نہ کرتا ہو لیکن وہاں میرا کوئی نہیں اس لیے میں نے یہ چاہا کہ میں ان پر ایک احسان کروں (تاکہ اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرا سکوں) جس کی رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تصدیق فرمائی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا حضور آپ مجھے اجازت دے دیجئے میں اس کی گردن مارے دیتا ہوں اس لیے کہ یہ منافق ہے تو سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ اہل بدر کا حال جانتا ہے اور اس نے فرمایا اے بدر والو! تم جو چاہو کرو پس اس حکم نے انہیں جری اور دلیر بنا دیا ہے۔

Narrated Sad bin 'Ubaida:
Abu Abdur-Rahman who was one of the supporters of Uthman said to Abu Talha who was one of the supporters of Ali, "I perfectly know what encouraged your leader (i.e. 'Ali) to shed blood. I heard him saying: Once the Prophet sent me and Az-Zubair saying, 'Proceed to such-and-such Ar-Roudah (place) where you will find a lady whom Hatib has given a letter. So when we arrived at Ar-Roudah, we requested the lady to hand over the letter to us. She said, 'Hatib has not given me any letter.' We said to her. 'Take out the letter or else we will strip off your clothes.' So she took it out of her braid. So the Prophet sent for Hatib, (who came) and said, 'Don't hurry in judging me, for, by Allah, I have not become a disbeliever, and my love to Islam is increasing. (The reason for writing this letter was) that there is none of your companions but has relatives in Mecca who look after their families and property, while I have nobody there, so I wanted to do them some favor (so that they might look after my family and property).' The Prophet believed him. 'Umar said, 'Allow me to chop off his (i.e. Hatib's) neck as he has done hypocrisy.' The Prophet said, (to 'Umar), 'Who knows, perhaps Allah has looked at the warriors of Badr and said (to them), 'Do whatever you like, for I have forgiven you.' " 'Abdur-Rahman added, "So this is what encouraged him (i.e. Ali)."

نیو یارک میں اہم پاکستانی افراد کی تلاشی کی تذلیل :: غیر ملکیوں کی ننگا کرکے کپڑے اتار کر تلاشی کو بین الاقوامی قانون بنایا جائے !!!

صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 265 حدیث مرفوع مکررات 8 متفق علیہ 5

علی سفیان عمرو حسن عبیداللہ بن ابی رافع سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسالت مآب نے مجھ سے اور زبیر اور مقداد سے فرمایا روانہ ہو جاؤ اور جب روضہ خاخ میں پہنچو تو وہاں تم کو ایک بڑھیا ملے گی جس کے پاس ایک خط ہے پس وہ خط تم اس سے لے لینا چنانچہ ہم چل دیئے اور ہمارے گھوڑے ہوا ہو گئے اور ہم نے روضہ خاخ میں پہنچ کر اس بڑھیا کو جا لیا اور ہم نے کہا وہ خط نکالو اس نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے تو ہم نے کہا کہ وہ خط نکال کردو ورنہ کپڑے اتار کر تلاشی دو چنانچہ وہ خط اس نے جوڑے سے نکالا جس کو لے کر ہم لوگ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لوٹے اور اس خط میں تحریر تھا من جان حاطب بن ابی بلتعہ بنام مشرکین مکہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض حالات کی حاطب نے مشرکین کو خبر دی تھیچنانچہ سرور عالم نے حاطب کو بلا کر پوچھا اے حاطب رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ کیا ہے؟ حاطب نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے سزا دینے میں آپ جلدی نہ کیجئے واقعہ یہ ہے کہ میں قریش خاندان کا فرد نہیں ہوں لیکن الحاقی طور پر میرا شمار ان میں ہوتا ہے آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں ان کے قرابت دار مکہ میں موجود ہیں جن کی وجہ سے ان کے مال و دولت اور اہل و عیال کی وہ حفاظت کرتے ہیں۔ اندریں حالات میں نے یہ سوچا کہ چونکہ میرا نسبی تعلق ان سے نہیں ہے اس لئے ان پر کوئی احسان دھروں تاکہ وہ میرے قرابتداروں کی حفاظت کریں اور میں نے یہ فعل کافرانہ تخیل کے مد نظر نہیں کیا ہے اور میں دین اسلام سے مرتد بھی نہیں ہوا ہوں اور اسلام لانے کے بعد کفر کی طرف مجھے کسی قسم کی کوئی رغبت بھی نہیں ہے جس پر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حاطب سچ کہہ رہا ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجئے میں اس منافق کی گردن اڑا دینا چاہتا ہوں تو سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ جنگ بدر میں شریک ہو چکا ہے اور تمہیں معلوم نہیں کہ اہل بدر کی حالت تو اللہ ہی جانتا ہے جیسا کہ اس نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم جو کچھ چاہو کرو۔ میں نے تمہاری مغفرت کردی ہے سفیان نے کہا یہ کیا (اچھی سند ہے) ۔
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
allah, color, front, great, ہوسکتا, کرے, کرے۔, وضاحت, with, you, اللہ, بے, تحریر, جواب, جلد, حکم, حال, حدیث, دیں, شور, علم, عباس, عبداللہ, غالب, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
نوٹ بک میں ونڈو ایکس پی انسٹال نھی ھو رھی وقاص0097 Ask Experts ماہرین کی رائے 7 25-07-11 01:26 PM
پی پی پی اب زرداری پارٹی ہے اسے بھٹو کا نام استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں فیصل ناصر خبریں 2 01-12-10 08:35 AM
جعلی ڈگری ریس میں ن لیگ اول۔ پی پی پی دوسرے۔ق لیگ تیسرے نمبر پر جاویداسد خبریں 1 18-07-10 04:59 PM
کوئی بھی ڈرائیو کسی بھی Window میں Hide کریں عبدالقدوس کمپیوٹر کی باتیں 1 01-07-08 09:16 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:01 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger