واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم



علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم


ولادت عیسیٰ کس طرح ؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-01-12, 08:50 PM  
ولادت عیسیٰ کس طرح ؟
rana ammar mazhar rana ammar mazhar آن لائن ہے 09-01-12, 08:50 PM

اس مسئلہ ولادت عیسیٰ میں یعنی انکے نعوذ باللہ بن باپ کے پئدا ہونے کے ڈھکو سلہ کی ایجاد ان لوگوں نے کی ہے جنکے بارے میں رب پاک نے فرمایا کہ یہ لوگ

يُحَرِّفُون َ الْكَلِمَ مِن بَعْدِ مَوَاضِعِهِ يَقُولُونَ إِنْ أُوتِيتُمْ هَـذَا فَخُذُوهُ
(41-5)
یعنی یہ لوگ علم وحی میں لفظی تحریفیں ور معنوی ہیر پھیر کرنے والے ہیں۔ اور یہ کیوں کرتے ہیں؟

وہ بھی عرض کیا کہ یہ اسلئے کہ بندوں کو اللہ کے ساتھ ملاکر اور انہیں اللہ کے اختیارات دیکر پھر انکے ناموں سے ایسی باتیں، روایات، حدیثیں منسوب کی جائیں جن سے علم وحی کا رد ثابت ہوتا ہو اور اسکی تنسیخ ثابت ہوتی ہو، اسی وجہ سے تو اللہ عز وجل یوم حساب کے وقت جناب عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھے گا کہ

أَأَنتَ قُلتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَـهَيْنِ مِن دُونِ اللّهِ
(116-5)
یعنی کیا آپ نے لوگوں کو کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سواء دوسرا اور تیسرا اللہ قرار دیکر مانو؟

مطلب کہ یہ سب ہیرا پھیرییں اسلئے ہیں کہ علم وحی کے قوانین سے جان چھڑائی جائے‘‘ اب آئیں اصل مسئلہ کی طرف جو یہ ہے کہ

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ‘‘
(13-49)
یعنی اے انسانو! اے لوگو: ہم نے آپکو مرد اور عورت سے پئدا کیا ہے۔ ہمنے آپکو مذکر اور مؤنث کے (میلاپ سے) تخلیق کیا ہے۔۔۔۔۔۔

اب اس جملہ میں تخلیق آدم کا قانون بیان کیا گیاہے۔ انسان کی پئدائش کا محکم اصول بیان کیا گیا ہے‘‘ یہ قانون اور اصول قائدہ کلیہ ہے اسمیں سب انسان شامل ہیں کسی کی بھی استثنی نہیں ہے اور نہ ہی اسمیں کوئی معنوی اشتباہ ہے جو اس قانون کو علمی شبہات سے شمارکیا جاسکے کوئی ماں کا لال کوئی پھنے خان، کوئی خود کو اٹھارہ بیس علموں کا دستار بند عباؤں قباؤں کے یونیفارم والا، جناب عیسیٰ علیہ السلام کے انسان ہونے کی نفی نہیں کرسکتا، عیسیٰ علیہ السلام کے لئے یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ انسان نہیں ہے، سو جب جناب عیسیٰ علیہ السلام کو انسان مانا جائیگا تو اسکی تخلیق اور پئدائش پر اللہ کے قانون تخلیق،

إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى
(13-49)
نراور مادہ سے پئدا ہونے کو ماننا پڑے گا

،، اک نقطے وچ گل مکدی اے‘‘ اور اللہ کے اس دائمی ابدی ازلی جامع قانون میں کبھی بھی کسی کے لئے بھی تبدیلی نہیں آسکتی، اسکے لئے بھی اللہ کا اعلان ہے کہ

فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
(30-30)
یعنی غلط سلط قوانین سے مونہ موڑتے ہوئے ہمارے دین حنیف یعنی قانون فطرت جو صدیوں سے یکسانیت کے ساتھ آرہا ہے جس قانون پئدا ئش کبھی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی پھر چاہے اللہ کا نظام زندگی والا قانون ہو یا یہ تخلیق اور پیدائش والا قانون ہو)

ذالک الدین القیم
یہی قانون ہمیشہ رہنے والا مضبوط اور سیدھا قانون ہے

لاتبدیل لخلق اللہ
اس قانون تخلیق میں کبھی کوئی تبدیل نہیں آنی۔


ماں کے نام سے ابن مریم کیوں؟ باپ کے نام سے کیوں نہیں؟
اب اس مئلہ میں بات رہتی ہے قرآن دشمن عالمی سامراج کی تربیت یافتہ امامی علوم کے فاضل لوگوں کے التباسات اور علمی تھڈوں کی کہ جو ان آیات کریمہ سے وہ مغالطے پیدا کرتے ہیں کہ

إِذْ قَالَتِ الْمَلآئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ
(45-3)
یعنی جب ملائکہ نے کہا کہ اے مریم اللہ تجھکو خوشخبری دیتا ہے اپنے ایک کلمہ کی (فیصلہ کی) اس بشارت والے کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہے جو دنیا اور آخرت میں وجاہت والا اور مقربین میں سے ہوگا۔

اس آیت میں جو عیسیٰ کے پئدا ہونے سے پہلے ہی اسے ابن مریم کہا گیا ہے، اس کو دلیل بناکر امامی علوم کے فاضل صاحبان عیسیٰ کو بن باپ والا ٹھراتے ہیں (نعوذ باللہ)

محترم قارئین!
قرآن حکیم جیسے کہ ولادت جناب عیسیٰ علیہ السلام سے انداز اچھہ سؤ سال بعد میں نازل ہوا ہے اسلئے لوگوں نے بعد ولادت مسیح علیہ السلام سے اپنے اسلوب رواج اور محاوروں میں لقب مسیح اور نام عیسیٰ اور کنیت ابن مریم سے پکارا اور مشہور کیا وہ بھی اس نیپت سے نہیں کہ ابن مریم کہنے سے کوئی یہ ہستی بن باپ اور بے پدر ہے بلکہ اس وجہ سے کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام کی ماں اسکے والد سے مرتبہ میں بہت ہی برتر ہوگی اور تھی جسے اللہ نے اعزاز دیا کہ ان اللہ اصطفاک علی نساءالعالمین ویسے تو قارئین کو یاد ہوگا کہ جناب مریم علیھا السلام کی والدہ نے جب منت مانی تھی کہ اے اللہ مجھے جو پیٹ میں حمل ہے یہ بیٹا جب تولد پذیر ہوگا تو میں اسے خدمت دین کیلئے وقف کرونگی اور اسے ہیکل (درگاھ اور عبادتگاہ) والوں کے حوالے کرونگی،، پھر جب اسے اس حمل سے لڑکی پیدا ہوئی تو

قَالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنثَى وَاللّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالأُنثَى
(36-3)
یعنی امراٗۃ عمران نے کہا کہ اے میرے رب میں نے تو لڑکی کو جنا ہے

(آگے فرمان ہے کہ) اللہ زیادہ جانتا ہے اس حقیقت کو جو اسنے بیٹی کو جنم دیا اور اگر جو یہ بیٹا جنتی تو وہ اس بیٹی کے برابر ہر گز نہ ہوسکتا،،

پھر آگے چلکر جو مریم علیھا السلام نے ہیکل کے پادریوں کی جو اسکی جوانی کو پہنچنے کے وقت نظریں خراب دیکھیں، چونکہ تاریخ نے جناب مریم کی زندگی اور مریم کے ساتھ بڑی نا انصافی کی ہے اس حد تک جو خود من گھڑت انجیل میں بھی جناب عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی والدہ سے بے ادبی اور گستاخانہ لہجہ میں بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے

ملاحظہ فرمائیں، انجیل متی (12-48-50)
(میں لکھا ہے کہ) کسی نے اس سے کہا دیکھ تیری ماں اور تیرے بھائی باہر کھڑے ہیں اور تجھ سے باتیں کرنی چاہتے ہیں اس نے خبر دینے والے کے جواب میں کہا کون ہے میری ماں اور کون ہیں میرے بھائی اور اپنے شاگردوں کی طرف ہاتھ بڑھا کر کہا دیکھو میری ماں اور میرے بھائی یہ ہیں۔ کیونکہ جو کوئی میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلے وہی میرا بھائی اور بہن اور ماں ہے۔

ایک جگہ بی بی مریم نے اپنے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام سے کچھ کہنا چاہا تو آپنے اسے جواب میں کہا کہ اے عورت! مجھے تجھ سے کیا کام ہے،،
(یوحنا 4:2)

یاد رہے کہ اللہ کے ہاں جناب بیبی مریم اپنے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کو جننے سے پہلے ہی بڑے مرتبہ پر فائز ہے جو اسے علم وحی سے یہ سرٹیفکیٹ ملا ہوا ہے کہ

وَإِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاء الْعَالَمِينَ
(42-3)
یعنی جب ملائکہ نے کہا اے مریم تحقیق اللہ نے تجھ کو امتیاز بخشا ہے اور تجھے جہانوں کی عورتیں میں سے منتخب فرمایا ہے۔

انا جیل اور عیسائیوں کی تاریخ نے جناب عیسیٰ کو اپنی والدہ سے انداز ادبی والے دکھائے ہیں جواللہ نے عیسیٰ السلام کی زبانی ان من گھڑت اناجیل کے الزامات کی تردید کرائی کہ

وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا
(32-19)
یعنی میں اپنی والدہ سے نیک سلوک کرنے والا ہوں اور اللہ نے مجھے اسکے ساتھ سخت گیری والے طریقہ سے چلنے والا بدبخت نہیں بنایا۔

جناب قارئین!
دیکھو کہ اللہ عزوجل کی کتاب قرآن حکیم کہ وہ جناب عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت پر سے من گھڑت انا جیل اور کھوٹی تاریخ کے الزامات کس طرح تو کھرچ کھرچ کر صاف کر رہا ہے، میں نے بات شروع کی تھی ہیکل کے بدچلن پادریوں کی جنہوں نے جنابہ مریم کو بری نظروں سے دیکھنا شروع کیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ

ذَلِكَ مِنْ أَنبَاء الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيكَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُون أَقْلاَمَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ
(44-3)
یعنی یہ تاریخ اور غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپکی طرف وحی کر رہے ہیں اور آپ کوئی انکے ہاں موجود نہیں تھے جب وہ اپنے قلم پھینک کر فال نکال رہے تھے)

کہ کون کفالت کرے مریم کی اور اے نبی! نہ ہی انکے اس جھگڑے کے وقت آپ انکے پاس موجودتھے،

ایسے ماحول میں رہ کر بی بی مریم نے جس عفت و پاکدامنی کے ساتھ حالات اور ماحول سے ٹکر کھائی ہے اسی کے پیش نظر تو قرآن نے اسے تمغہ طہارت اور نساء عالمین پر اصطفاءاور انتخاب کا اعزاز بخشا ہے، مریم کے یہی اعزازات ہیں جن کی بناپر اللہ نے مریم کی ماں سے کہا کہ لیس الذکر کالانثی یعنی جو تو اگر بیٹا جنتی تو وہ لڑکا اس لڑکی جیسا مخالف حالات سے ٹکر کھانے والا نہ ہوتا،، تو یہ مریم کا مقام و مرتبہ اسے شادی سے پہلے حاصل ہوچکا تھا اسیوجہ سے اسکے رشتہ دار شوہر یوسف درکھاں کا اتنا مقام اور ناموس شہرت کو نہیں پہنچ پایا تھا جو انکے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت ماں کے مقابلہ میں ایک غیر مشہور باپ کی طرف ہوتی،

دنیا میں کئی ایسی عورتیں ہیں جنکی شہرت اپنے شوہروں سے اتنی تو زیادہ ہےجو کئی سارے دنیا والے ایسی عورتوں کے شوہر وں کی پہچان بھی نہیں رکھتے اور نہ ہی انکے اولاد کو بن باپ کے کہتے ہیں، مثال کے طور پر ہندستان کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی بیٹی اندرا گاندھی نے بڑی شہرت پائی اور وہ بھی ملک کی نامور وزیر اعظم ہوئی اور اسکو جو اپنے شوہر سے بیٹا راجیو گاندھی پئدا ہوا تھا وہ بھی ملک کا وزیر اعظم بنا تھا، اور راجیو کی ماں کی شہرت راجیو کے باپ فیروز گاندھی سے بدر جہا زیادہ تھی اتنی حد تک جو راجیو بیٹا اندرا تو مشہور ہے راجیو بیٹا فیروز کئی سارے لوگ نہیں جانتے اور نہ ہی راجیوکو کوئی بن باپ کے پکارتا ہے

اسیلئے اللہ پاک نے فرمایا کہ

فَوَرَبِّ السَّمَاء وَالْأَرْضِ إِنَّهُ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَا أَنَّكُمْ تَنطِقُونَ
(23-51)
یعنی پھر آسمان اور زمین کے رب کی قسم کہ یہ قرآنی محاورات واستعارات ایسے تو سچ اور برحق ہیں جسطرح تم لوگ اپنی بولیوں میں محاوروں سے کنایوں سے آپس میں باتیں کرتے ہو،،

دنیا والو تم نے مریم کی عظمت پر بڑے ظلم ڈھائے ہیں کچھ شرم کرو! مریم تو اپنے نامور بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کو جننے سے پہلے ایسے مقام و مرتبہ کو پہنچ چکی ہے جو اسکی دہلیز پر اللہ کے ملائک آکر سلوٹ کرتے ہیں

وَإِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاء الْعَالَمِينَ
(42-3)
(ترجمۃ ابھی گذرچکا ہے) کہ عیسیٰ کی نانی کی دعا دنیا بھر کے پادریو! پنڈتو! مولویو! مریم کو بغیر شوہر کے بیٹا جننے والی کہتے وقت کچھ تو حیا کرو!

مریم جب اپنی ماں امراٗۃ عمران کی گود میں جنم لیتی ہے تو اسکی ماں اس وقت اسکیلئے کہتی ہے کہ

وَإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وِإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
(36-3)
یعنی میں اپنی بچی کا نام مریم رکھتی ہوں اور اے میرے رب! میں اپنی بچی کو تیری پناہ میں دیتی ہوں (نیز جب یہ میری بیٹی جوان ہوکر شادی کریگی اور بچے جنے گی تو ) اسکے بچوں کو بھی میں تیری پناہ میں دیتی ہوں شیطان راندہ رجیم کے شر سے۔

بہرحال ماں کے نام سے پکارے جانے پر کسی کو بن باپ کے پئدا ہونے والا کہنا یہ صرف عیسیٰ اور مریم کے ساتھ ظلم ہے قرآن میں جناب ہارون علیہ السلام بھی اپنے بھائی جناب موسیٰ علیہ السلام کو کہتے ہیں کہ

يَا ابْنَ أُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِي وَلَا بِرَأْسِي
(94-20)
یعنی اے اماں کے بیٹے میری داڑھی اور سر کو نہ پکڑ ۔۔۔۔

یہاں کسی نے موسیٰ وہارون علیھما السلام کو کبھی بھی بن باپ والا نہیں پکارا۔


عیسیٰ علیہ السلام کے باپ کا ذکر علی الانفراد قرآن نے اسلئے نہیں کیا جو ضرورت نہ پڑی


قرآن حکیم کافنی ادبی بلاغت کا اصول ہے کہ وہ کسی چیز لفظ یا مسئلہ کو بغیر ضرورت کے ذکر نہیں کرتا پورے قرآن میں کہیں بھی کوئی جملہ اور لفظ تو کیا ایک حرف بھی زائد اور فضول نہیں ہے ہر حرف اپنی اپنی جگہ پر مقصدیت والا ہے اپنا اپنا مفہوم دینے والا ہے۔

قرآن حکیم میں کئی جگہوں پر صرف ماؤں کے ذکر کی ضرورت پڑی ہے تو وہاں وہاں اللہ نے صرف ماؤں کا ہی ذکر کیا ہے جیسے کہ

يَخْلُقُكُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ
(6-39)
وَإِذْ أَنتُمْ أَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ
(32-53)
مَّا هُنَّ أُمَّهَاتِهِمْ
( 2-58 )
ایسے مثال قرآن میں کئی سارے ہیں۔ تو اب ان موقعوں پر یہ نہیں کہا جائیگا کہ ان مثالوں میں صرف ماؤں کا ذکرہے تو ایسی سب مائیں شوہر کے بغیر مائیں بنی ہونگی اسلئے کہ قرآن نے شوہروں کا ذکر نہیں کیا،،

دنیا والو! یہ کتاب فتو نتھو کی نہیں ہے

وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَہے
(192-26)
یہ کتاب رب العالمین کی نازل کردہ ہے۔

عیسیٰ علیہ السلام کے باپ کا ذکر قرآن میں

وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَى وَعِيسَى وَإِلْيَاسَ كُلٌّ مِّنَ الصَّالِحِينَ ۝ وَإِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطًا وَكُلاًّ فضَّلْنَا عَلَى الْعَالَمِينَ ۝ وَمِنْ آبَائِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ وَإِخْوَانِهِمْ وَاجْتَبَيْنَاهُمْ وَهَدَيْنَاهُمْ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(85 تا 87-6)
خلاصہ اوپر ذکریا اور یحیٰ اور عیسیٰ اور الیاس (علیھم السلام) یہ سب صلحاء میں سے تھے اور اسماعیل اور الیسع اور یونس او رلوط (علیھم السلام) اور ان سب کو ہمنے اقوام عالم پر فضیلت دی اور انکے باپ دادوں میں سے اور انکی نسلوں سے اور انکے بھائیوں سے اور ہم نے ان سب کو منتخب کیا اور ہمنے انکو ہدایت عطا کی سیدھی راہ کی طرف (ترجمہ ختم)

جناب قارئین!
اس کلام ربی پر غور فرمائیں اس میں جملہ انبیاء علیھم السلام کیلئے چار عدد تعارفی اعزازات کا ذکر ہے ایک یہ ہے کہ یہ سارے رسول صالحین تھے رفارمر تھے۔ دوسرا اعزاز کہ ان سب کو اقوام عالم پر فضیلت دی۔ تیسرا اعزاز یہ کہ انکے آباءواجداد اور اولاد اور بھائیوں کو منتخب کیا، چوتھا یہ کہ ان سبکو صراط مستقیم کی طرف ہدایت دی آپ نے غور کیا ہوگا کہ انبیاء علیھم السلام کی اس فہرست میں جناب عیسیٰ علیہ السلام کا بھی ذکر ہے پھر ان جملہ انبیاءکے آباء و اجداد اولاد اور بھائیوں کا بھی ذکر ہے، سواگر امامی روایات والے علوم کے کہے مطابق نعوذ باللہ اگر عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے قانون تخلیق (13-49) کے خلاف پئدا ہوئے ہوتے اور اسکا کوئی باپ دادا نہ ہوتا تو قرآن حکیم ضرور اس اعزازات والی تعارفی فہرست میں آباء کے ذکر کے ساتھ اسکی الا عیسیٰ کے ساتھ استثنی کرتے،،

قرآن حکیم مفصل کتاب ہے، قرآن نے اپنے بیان مسائل اور حقائق میں کبھی کہیں کوئی ابھام نہیں چھوڑا، غور اور تدبر کرنے والے لوگ سوچیں کہ جب لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب لانے کا قرآن حکیم نے ذکر کیا پھر اس عذاب سے جناب لوط علیہ السلام اور اسکے اہل خانہ کی نجات کا ذکر کیا کہ

فَنَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ أَجْمَعِينَ ۝ إِلَّا عَجُوزًا فِي الْغَابِرِينَ
(177-017-26)
یعنی ہم نے لوط علیہ السلام اور اسکے جملہ اہل خانہ کو نجات دی، سواء اس پیچھے رہ جانے والی بڑھیا کے،،

قرآن کے اوپر اپنی بنائی ہوئی حدیثوں کو امامی علم روایات کو غالب حاکم اور قاضی بنانے والو! آنکھیں پھاڑ کے اس کتاب کو پڑھو تنخواہیں دینے والوں کی عینکوں کو اتار کر غور و فکر کرو اور دیکھو کہ اس کتاب میں کتنی تو باریکیں ہیں۔

عیسیٰ اور اسکی والدہ کے ساتھ ظلم
جناب موسیٰ علیہ السلام بچپنے میں دریاء سے ملا پھر بھی وہ بن باب والا نہ کہلایا ، جبکہ اسکی ولدیت اس وقت معلوم بھی نہیں تھی موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام بڑے ہوکر دونوں کی کنیت انکی ماں کے نام سے مشہور ہوئی تھی چہ جائیکہ انکا والد بھی عمران نامی اپنے قبیلہ کا بہت نامور سردار تھا جسکا قرآن حکیم نے بھی ذکر کیا ہے۔

ان اللہ اصطفی اٰدم و نوحا واٰل ابراھیم واٰل عمران علی العالمین
(133-3)
اگرچہ قرآن میں عمران کیلئے موسیٰ علیہ السلام کے باپ ہونے کا ذکر نہیں ہے لیکن یہ حقیقت تو مسلمات میں سے ہے موسیٰ اور ھارون علیہا السلام اٰل عمران میں سے تھے جسطرح کہ مریم بھی اٰل عمران میں سے ہے۔

عیسیٰ یا کسی کی بھی پئدائش بن باپ کے نہیں ہوسکتی


قرآن حکیم کی طرف سے تخلیق انسان کیلئے ایک قائدہ اور قانون کی وضاحت

فَلْيَنظُرِ الْإِنسَانُ مِمَّ خُلِقَ ۝ خُلِقَ مِن مَّاء دَافِقٍ۝ يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ
(5تا 7-86)
یعنی لازم ہے کہ انسان غور کرے کہ وہ کن اجزاء سے پیدا کیا گیا ہے، پیدا کیا گیا ہے ایسے پانی سے جو جمپ کی طرح ٹپکا ہے اور وہ نکلتا ہے باپ کی پیٹھ سے اور (ماں کی) سینہ والی ہڈیوں سے۔

محترمہ قارئین!
اس موضوع کیلئے بائلاجی کے علماءسے رجوع کیا جائے وہ نہایت ہی مدلل طریقہ سے آپکو فلسفہ تخلیق سمجھا سکتے ہیں کہ بغیر مرد انسان کے اکیلی عورت بچہ پیدا نہیں کر سکتی، آجکل جو ٹیوب کے ذریعے بچے پئدا کرنے کی سائنس مشہور ہوئی ہے اسمیں بھی مرد اور عورت دونوں کی منی کا ملانا لازم ہے مطلب کہ تخلیق کے عمل میں انسانی جوڑا لازم ہے اسکیلئے فرمایا کہ

وَاللَّهُ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ أَزْوَاجًا
(11-35)

امامی علوم کی روایات نے جو مشہور کیا ہے جسکا ایک اقتباس تفسیر بیضاوی سے ہے کہ

اتا ھا جبریل متمثلا بصور شاب امرد سوی الخلق لستانس بکلامہ ولعلہ لیھیج شھوتھا فتحدر نطفتھا الی رحمھا ۔

پھر تفسیر مدارک میں ہے کہ تمثل لھافی صورۃ اٰدمی شاب امرد وطیئی الوجہ، جعد الشعر یعنی فرشتہ جبریل
ایک خوبصورت بے ریش لڑکے کی شکل میں گنگھریالے بالوں والے نوجوان کی شکل میں مریم کے سامنے آیا اسلئے کہ اسکی شہوت کو جنبش آئے جس سے اسکا نطفہ اسکی رحم میں پہنچے جس سے حمل ہو (اللہ کی پناہ ایسی تبرائی روایات سے) جناب یہاں سوال ہے کہ کیا بیبی صاحبہ اسے فرشتہ سمجھتی تھی؟ اگر ہاں تو پھر مریم تو جانتی تھی کہ ملائک ملائک ہوتے ہیں انکی ساتھ شہوت کے ہیجان کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا: اور اگر اسے ملائک سمجھنے کے بجائے انسان سمجھتی تھی تو یہ سراسر جھوٹ ہے جو مریم کسی نوجوان کو دیکھ کر شہوانی جذبات میں آجائے وہ اس دلیل سے کہ مریم کو اللہ نے طہرک علی نساء العالمین کے خطاب اور اعزاز سے نوازا ہے یعنی مریم اتنی پار ساتھی جو اسنے ایک بار خواب میں بھی اللہ کے ایک ملائک کو کامل الاعضاء انسانی شکل مین دیکھا تو دیکھتے ہی خواب کی حالت میں اسے وارننگ دی کہ خبردار اگر تجھے کوئی خوف خداہے تو مجھ سے ہٹ کر رہو میں آپ کے قرب سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں

فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا ۝ قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَن مِنكَ إِن كُنتَ تَقِيًّا
(17-18-19)

جناب قارئین!
امامی علوم نے جتنے بھی قصے لکھے ہیں کہ مریم کو اسکے بیٹے عیسیٰ کا حمل جبریل کی پھونک مارنے سے ہوا ہے وہ ٹوٹل امامی جھوٹ اور امامی زٹلیات ہیں ایسی خرافات کا پوسٹ مارٹم حاضر ہے۔

نفخ روح
محترم قارئین!

پیدائش کے وقت انسان کے اندر روح کے پھونکنے کی بات قرآن حکیم نے کل پانچ عدد بار ذکر کی ہے، تین عدد عام جملہ انسانوں یعنی مردوں اور عورتوں کیلئے یکساں ذکر کی ہے اسکا احاطہ یوں سمجھا جائے کہ دنیا کے پہلے انسان پہلی عورت اور پہلے مرد سے لیکر دنیا کے فنا ہونے تک جو آخری مرد یا عورت پئدا ہونگے ان سب کیلئے اس بات کا ذکر تین بار ہوا ہے، چوتھی بار اور پانچویں بار کا ذکر تو جناب جناب عیسیٰ علیہ السلام کے حوالہ سے ہوا ہے ان دو بار میں سے پہلی بار

وَالَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا
(91-21)
یعنی ہمنے مریم کے اندر جب اسنے شادی کی پھونکا اپنے روح میں سے، دوسری بار

وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا
(12-66)
اس آیت کریمہ میں فیھا یعنی ضمیر واحد مؤنث کے بجاء فیہ واحد مذکر لایا گیا ہے اس سے دونوں بار مراد جناب عیسیٰ علیہ السلام ہیں وہ اسطرح کہ جب فیھا والا ضمیر واحد مونث بظاہر بی بی مریم کی طرف مناسب لگتا ہے لیکن بیبی صاحبہ کا اپنا روح تو اسے اسوقت مل چکا تھا جب وہ خود اپنی ماں کے پیٹ میں جنم لے چکی تھیں، اسکو یہ روح جسکا ذکر آیات (91-21) اور (12-66) میں دو مقام پر آیا ہے اسکا تعلق اسکے حمل والے بچہ کے ساتھ ہے پھر سوال ہوسکتا ہے کہ دونوں دفعہ ضمیر واحد مذکر والا لانا چاہیے تھا، اسکا جواب یہ ہے کہ پیٹ کے اندر جو بچہ مذکر ہے اسکیلئے جب روح ڈالنے کی بات واحد مؤنث کے ساتھ کی گئی تو وہ بھی درست ہے کہ روح بچہ عیسی مذکر میں اور وہ اپنی ماں کے پیٹ کے اندر، تو بچہ کے ماں کے پیٹ کے اندر ہونے کی وجہ سے ضمیر واحد مؤنث کا بھی درست استعمال کہا جائیگا اسوقت تک یہ درست ہوگا جب تک وہ اپنی ماں کے پیٹ سے باہر نہیں نکلا،، یہ ایسا استعمال باہر متولد ہونے کے بعد درست نہیں ہوگا۔

تو نفخ روح سے مراد وہ نرینہ نوع کا نطفہ نہیں ہے جس سے مؤنث کو حمل ہوتا ہے اسلئے کہ وہ حمل والا نطفہ تو مؤنث کے اندر اسکے زوج کی طرف سے آتا ہے جبکہ روح اللہ کی طرف سے ملتا ہے جو مونہ کی طرف سے داخل کیا جاتا ہے نیچے کی طرف سے نہیں ۔ اس گذارش کے بعد آیت

والتی احصنت فرجھا فتفجنا فیھا من روحنا
سے مراد یہ ہے کہ جب مریم نے بذریعہ نکاح اور شادی کے اپنے فرج کو محفوظ و مصئون بنایا اور شوہر والی بنگئی پھر زن و شوہر کے نطفہ کے امتزاج کے بعد یہ مرحلہ آیا کہ اسکو حمل اور

فنفخنا فیہ من روحنا
(12-66)
ہم نے مریم کے پیٹ کے اندر جو کچھ تھا اسمیں اپنا روح پھونکا یہاں روح کی معنیٰ یہ نہ سمجھی جائے کہ زن و شوہر کے نطفے جن کے لئے قرآن حکیم نے فرمایا ہے

فَلْيَنظُرِ الْإِنسَانُ مِمَّ خُلِقَ ۝ خُلِقَ مِن مَّاء دَافِقٍ ۝ يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ
(5 تا 7 -86)
یعنی لازم ہے کہ انسان غور کرے کہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے، وہ پیدا کیا گیا ہے اس پانی سے جو اچھل کر آنیوالا ہے مرد کی پیٹھ کی ہڈیوں کی جانب سے اور مؤنث کی سینہ کی ہڈیوں کی جانب سے۔

تخلیق کی اس سائنس کے انکشاف سے یہ فیصلہ قرآن نے ثابت کردیا کہ مؤنث کے پیٹ کا حمل نطفہ سے ہوتا ہے روح سے نہیں ہوتا، روح تو وہ مخصوص عطیہ ہے جو خاص انسان کی خصوصی میرٹ سے تعلق رکھتا ہے جس سے وہ ولقد کرمنا بنی آدم کے مرتبہ کو پہنچا ہے انسانی روح تو ہر مؤمن و کافر کو حاصل ہوتا ہے۔ اور قرآن حکیم میں روح القدس، روح الامین، روحامن امرنا کے جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں تو روح القدس اور روحا من امرنا کی معنی علم وحی ہےاور روح الامین کی معنیٰ جبریل سے،

امامی علوم کے مفسرین جو لوگ قرآن کی تفسیر امامی روایات کے تابع کرتے ہیں اور وہ جو کہتے ہیں کہ مریم کے اندر جبریل نے روح کو پھونکا، انکی یہ بات عقل نقل دونوں کے خلاف ہے قرآن حکیم میں تخلیق آدم کے حوالہ سے تین بار مؤمن اور کافر جملہ انسانوں کے لئے اللہ پاک نے فرمایا کہ

فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي ( 72-38 ) (9-32) 29-15)
یعنی ہربار فرمایا کہ انسان میں جب میں نے اپنے روح میں سے پھونکا۔

تو ان آیات کریمہ سےجبریل کیلئے کوئی ایک بھی آدمی نہیں بچتا جسکو وہ آکر روح ڈالے، اور نفخ کا لفظ قرآن حکیم میں کئی بار آیا ہے لیکن کہیں ایک بار بھی جبریل کے ساتھ اسکا استعمال نہیں ہوا،، اور یہ بات بھی سوچنے کی ہے اور امامی علوم کے دستار بند مذہب کے ٹھیکیداروں سے سوال ہے کہ قرآن میں ابھی جو حوالہ جات آپنے ملاحظہ فرمائے کہ جمیع انسانوں میں اللہ پاک اپنے روح میں سے روح پھونکنے کی بات فرما رہا ہے جن جمیع انسانوں میں سارے کافر اور اللہ کے دشمن انبیاء علیھم السلام کے دشمن سب لوگ آجاتے ہیں ان سب میں رب فرماتا ہے میں نے ان میں اپنے روح میں سے روح پھونکا ہے تو مولوی صاحبو! آپ لوگ جناب عیسیٰ علیہ السلام کے کو نسے خیر خواہ ہوئے جو اسیکیلئے آپ اللہ کی طرف سے اسمیں روح پھونکنے کا انکار کرکے اسے جبریل کے حوالے کر رہے ہو؟۔

انسان کے اندر اللہ کے روح سے کیا مراد ہے؟

روح کی مکمل تشریح اور تعریف مستقل طور پر بہت طویل ہوگی اور یہ موضوع بہت لمبا ہوگا اس مضمون میں جو کہ مختصرا مکمل کرنا ہے وہ نہیں سما سکیگا میں اسکا نہایت مختصر خلاصہ پیش کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ روح کی معنی کا حاصل مطلب عقل اور اختیار ہے۔ اسے الوہیاتی توانائی بھی تعبیر کیا گیا اس معنی کے بھی بہت سارے حواشی اور بین السطور ہیں یہ معنی جب سمجھ میں آئے گی جب سجدہ کی معنیٰ جو قرآن نے سکھائی ہے (50-16) اسے سمجھا جائیگا جو یہ ہوئی کہ او امر اور نواہی کی تعمیل اور امپلیمنٹ۔

احصان- الحصون- محصنات

احصان، کسی چیز کی حفاظت کرنا، یہ مصدری صیغہ کا وزن ہے۔

الحصن حفاظتی کوٹ قلعہ جسکا جمع حصون آیا ہے
(2-59)

اور

لَا يُقَاتِلُونَكُمْ جَمِيعًا إِلَّا فِي قُرًى مُّحَصَّنَةٍ
(14-59)
یہ بھی قلعہ بند شہروں کی معنی میں آیا ہے۔

وَعَلَّمْنَاهُ صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُم مِّن بَأْسِكُمْ
(80-21)
یہاں بھی حفاظت کی معنی میں یہ صیغہ استعمال ہوا ہے۔ سورت النور میں جو آیا ہے کہ

وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاء إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا
(33-24)
خلاصہ اور اپنی ماتحت لونڈیوں نوکرانیوں، خاندانی یتیم لڑکیوں کو جو تمہاری زیرسرپرستی میں ہیں اگر وہ ارادہ کریں اپنی حفاظت کیلئے شادی کا تو آپ انپر جبر نہ کریں شادی سے روکنے کیلئے، اس لالچ پر کہ وہ ہمیشہ تمھاری نوکرانی رہ کر تمھارے دنیاوی مفادوں کا مشینی پرزہ بنی رہیں۔

اس مقام پر تحصن کا صیغہ نکاح اور شادی کی معنوں میں آیا ہے سورت النساء میں جو آیا ہے کہ

وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاء إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَابَ اللّهِ عَلَيْكُمْ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاء ذَلِكُمْ أَن تَبْتَغُواْ بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً وَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُم بِهِ مِن بَعْدِ الْفَرِيضَةِ إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا
(24-4)
خلاصہ (اگلی آیت کریم سےمحرمات عورتوں کی فہرست بتائی جا رہی ہے حرمت علیکم کے حکم سے سو اس آیت میں)

المحصنات سے مراد وہ عورتیں ہیں جو کسی کے نکاح میں شادی شدہ ہیں انکے ساتھ بھی بغیر طلاق کے اور عدۃ گذرنے کے شادی کرنا حرام ہے سواء ان لونڈیوں کے جو آپ کے معاشرہ میں پہلے رواج کے مطابق موجود ہیں یہ ہے اللہ کا قانون جو آپکے اوپر لاگو ہے۔ ان عورتوں کے علاوہ بقیہ اقسام سب حلال ہیں لیکن ان کے لئے شرط ہے کہ انہیں نکاح کرتے وقت انکا حق مہر ادا کرینگے لیکن یہ نکاح محصنین ہو مسافحین نہ ہو

محصنین کی یہاں معنی ازد واجیت کا وہ رشتہ جسمیں طلب اولاد۔ دائمی رفاقت اور طبائع کی ناموافقت سے اگر کشیدگی پئدا ہو تو جدائی کی صورت میں طلاق اور طلاق کے بعد عدت اور اگر دوران ازدواجیت وفات ہوجائے تو ورثہ کے قوانین کی روشنی میں مقرر کردہ حصہ ملکیت دینا یہ سب محصنین کی معنی میں آتا ہے

ویسے بھی نکاح و شادی بیاہ کا مقصد صرف منی کا ضائع کرنا نہیں ہوتا،

اسیلئے محصنین کے بعد فرمایا غیر مسافحین یعنی نکاح اور شادی کے مقاصد جو اوپر بیان کئے گئے انکے علاوہ عورتوں سے جو میلاپ ہوگا وہ سفح کی معنی میں ہوگا جسکی معنی ہے پانی بہانا، تو یہ زنا کے مفہوم میں بات آئیگی۔

اسکے بعد قرآن نے سفح کو ممنوع قرار دینے کے بعد پھر سے عورتوں کو نکاح میں مہر دینے کی بات کو دوبارہ لایا نئے الفاظ سے کہ

فااستمتعتم بہ منھن فاٰتوھن اجورھن
یعنی آپ جو اپنی بیویوں سے نفع حاصل کرتے ہو (جو وہ آپکا گھریلو کا کاج اور حفاظت کا کام دیتی ہیں) تو انکو انکی اجرت اللہ کی طرف سے فرض سمجھتے ہوئے ادا کرو یہاں بھی قرآن حکیم نے مہر ہی کو اجرت سے تعبیر فرمایا ہے یہ اسلئے نزول قرآن کے زمانہ میں عربی زبان کا اس دور کا یہ انکا محاورہ تھا ورنہ بیوی کوئی نوکرانی نہیں ہوتی جو خاوند کے گھر میں اجرت پر کام کرتی ہو‘‘

اسلئے آگے یہ بھی فرمایا کہ میاں بیوی شادی کے بعد اگر آپس میں خوش اسلوبی سے رہیں اور بیوی اپنے مقرر کردہ مہر میں سے رقم میں کچھ رعایت کرے تو اسمیں بھی کوئی حرج نہیں ہے اسلئے کہ قوانین خداوندی بڑی علمیت اور حکمت پر مشتمل ہیں۔

جناب قارئین!
اسکے بعد والی آیت میں

وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلاً أَن يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ
(25-4)
میں محصنات سے مراد وہ کنواری عورتیں مراد ہیں جو اپنی عصمت عفت و پاکدامنی کی حفاظت کئے ہوئے ہیں۔

اس ساری تگ و دود سے مقصد محصنات کو جو امامی علوم والوں نے بی بی مریم کو خواہ مخوا ہ کنواراپن کی معنی میں بند کیا ہوا ہے اسکی تردید ہے، قارئین کو اسکا پس منظر سمجھانا مقصود ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ بی بی مریم کے حوالہ سے آپ ابھی ابھی پڑھکر آئے کہ دوبار قرآن نے بتایا کہ احصنت فرجھا فنفخنافیہ من روحنا، یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ شادی اور نکاح کے بغیر نفخ روح ہو نہیں سکتا، اور احصنت فرجھا کی معنی بھی شادی ہے اوپر جو ذکر ہوا کہ جمیع انسانوں عورتوں مردوں میں انکے پئدائش کے وقت ہمنے اپنا روح پھونکا ہے (9-32) (29-15) یہ تو ہوا سب کا اپنا روح یہ روح تو بی بی مریم میں اپنا والا پہلے ہی موجود ہے جب ہی تو وہ انسانی پیکر میں زندہ ہے، اب جو بحث ہے وہ ہے حمل والے بچہ کے دوسرے روح کی ہے، جو سواء زوج کے اس کی کوئی صورت ممکن نہیں ہے، یہ ثبوت ہے اس ماجرا کا کہ ہر نوع مخلوق کی مؤنث کو اسی کے نوع مذکر سے ہی ولد پئدا ہو سکتا ہے غیر نوع کے مذکر سے مؤنث کو ولد پیدا نہیں ہو سکتا،، جیسے کہ امامی علوم والوں نے غیر نوع والے فرشتہ جبریل کی پھونک سے عیسی علیہ السلام کا متولد ہونا بنایا ہے۔

رہی یہ بات کہ ان امامی علوم کے دستاربند لوگوں کا یہ کہنا کہ اللہ کو تو طاقت ہے وہ ہر شی پر قادر ہے اگر وہ چاہے تو بن باپ کے کسی کو بیٹا دے سکتا ہے، تو انکی خدمت میں مؤدبانہ عرض ہے کہ فیصلے بدلنے والے آپ جیسے لوگ ہیں ۔

ہماری معلومات میں کئی مثالیں ہیں جن میں کوئی ایک مثال بھی میں یہاں ذکر نہیں کرتا کہ کہ آپکی علمی مراکزسے کئی ایسی فتوائیں جاری ہوئی ہیں جو خود آپکی اپنی پہلی فتوائوں کا رد ہیں ایسے کیوں ہوا؟ کن اسباب سے ہوا؟، اگر دفتر کھلا تو پھر سنبھل کر قدم رکھنا۔ لیکن اللہ عزوجل اپنے بارے میں اعلان فرماتے ہیں کہ

مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ
(29-50)
یعنی میں اللہ اپنے فیصلوں کو، قول کو بدلا نہیں کرتا

مولوی لوگوں کا یہ کہنا کہ عیسی علیہ السلام کی ولادت بغیر باپ کے یہ کرامت اور معجزہ سے شمار کی جائے گی یہ تو ان کا قول اللہ کیلئے گالی ہوجائیگا، وہ اسلئے کہ آیت میں رب پاک نے فرمایا کہ میں اگر اپنے قوانین بدلوں گا تو یہ بندوں پر ثلم ہوجائیگا اور میں ظالم نہیں ہوں اسکے باوجود مولوی لوگ بضد ہیں کہ ولادت عیسیٰ غیر فطری ہوئی ہے،،

مزید یہ کہ قانون تخلیق کے متعلق مستقل طور پر خصوصیت کے ساتھ فرمایا کہ

فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
(30-30)
یعنی اللہ کا قانون پیدائش وہی ہے جسپر لوگ پیدا ہوتے ہوئے آرہے ہیں، لاتبدیل لخلق اللہ، اللہ کے قانون تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں آنی۔

إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللّهِ كَمَثَلِ آدَمَ
قرآن حکیم کی اس علمی تمثیل کہ اللہ کے ہاں عیسیٰ کی تخلیق ایسے ہے جسطرح آدم کی پیدائش ہے۔

اس قرآنی رہنمائی کو بھی قرآن دشمن روایت پرست گروہ نے آدم و عیسیٰ دونوں کی پئدائش کو غیر فطری اور اللہ قانون تخلیق کے مطابق نہیں مانا جو

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى
(13-49)
ہے یعنی ہم نے جمیع انسانوں کو نر و مادہ کے امتزاج سے بنایا،

اس قانون کو امامی علوم کے فرقوں والے باء پاس کرکے جاتے ہیں، میری یہ بات سمجھنے کیلئے امامی علوم کے ایک مغالطے کو سمجھنے اور اور اپنی معلومات کو درست کرنے کی ضرورت ہے، جو مغالطہ یہ ہے کہ علم روایات کے ذریعے یہ ڈھکو سلہ مشہور کیا گیا ہے کہ اٰدم صرف پہلے پیدا ہونے والے شخص کا نام ہے۔ اور ملائکہ کو جو حکم دیا گیا کہ اٰدم کو سجدہ کرو اور وہ آدم جو مسجود ملائک تھا ۔ صرف وہ پہلا والا اکیلا آدمی مسجود ملائک آدم نامی تھااور بس،،

جبکہ قرآنی حقیقت یہ ہے کہ کائنات کے پہلے آدمی سے لیکر قیامت تک آخری پیدا ہونے والے انسان تک سارے کے سارے جملہ لوگ جملہ انسان آدم ہیں، اور یہ سارے آدم مسجود ملائکہ ہیں، اٰدم صرف پہلے اکیلے آدمی کا نام نہیں ہے، آدم جملہ انسانوں کا نوعی نام ہے، اگر کوئی شخص اپنے بیٹے کا نام آدم رکھے یا رکھتے بھی ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ثبوت یہ ہے کہ اللہ عز وجل نے خود اپنی کتاب قرآن میں جملہ انسانوں کا اجتماعی اور نوعی نام آدم رکھا ہے،، ملاحظہ فرمائین!

وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلآئِكَةِ اسْجُدُواْ لآدَمَ
(11-7)
یعنی ہمنے پہلے آپکو تخلیق کیا، (تخلیقی مراحل کی تکمیل کے بعد) پھر ہمنے آپکی تصویر بنائی پھر روح پھونکی، پھر ہمنے ملائکہ کو کہا کہ اب اٰدم کا حکم مانو، آدم کے حکم کی تعمیل کرو۔

اب ذرا تخلیقی مراحل پر نظر کریں جنکے لئے فرمایا گیا کہ

ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ
(14-23)
یعنی اور ہمنے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا پھر ہمنے اسکو مضبوط ٹھیرنے کی جگہ میں نطفہ بناکر رکھا، پھر ہم نے نطفہ کو لوتھڑا بنایا، پھر اس لوتھڑے سے گوشت کا ٹکڑا بنایا پھر اس گوشت کے ٹکڑے میں ہڈیاں بنائیں، پھر ان ہڈیوں کو پہنایا گوشت، (یہاں تک بات ہوئی آیت (11-7) کے جملہ ولقد خلقنا کم کے تفصیل کی،

پھر آگے جو فرمایا کہ ثم صورنا کم اسکی بالفاظ دیگر اس (14-23) کے مقام پر تعبیر فرمائی کہ ثم انشاٗناہ خلقا آخر، میں نے جو آیت (11-7) کے حوالہ سے سجدہ کی معنی کی کہ اٰدم کا حکم مانو،، آدم کے حکم تعمیل کرو،، اس معنی کا حوالہ قرآن سے ملاحظہ فرمائیں!

وَلِلّهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ مِن دَآبَّةٍ وَالْمَلآئِكَةُ وَهُمْ لاَ يَسْتَكْبِرُونَ ۝ يَخَافُونَ رَبَّهُم مِّن فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ،
(49-50-16)
یعنی آسمانوں اور زمین کی جملہ مخلوق جانوروں اور ملائکوں سمیت اللہ کو سجدہ کرتی ہیں اور وہ سجدہ کرنے سے تکبر نہیں کرتیں، اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں جو حاکم ہے اور اسکے جملہ احکام کی تعمیل کرتے ہیں تو سجدہ معنی ثابت ہوئی ’’حکم کو ماننا اور اسپر عمل کرنا ۔

اٰدم فرد واحد کا نام نہیں یہ جمیع انسانوں کا نوعی نام ہے


اب پھر سے آیت کریمہ

وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلآئِكَةِ اسْجُدُواْ لآدَمَ
(11-7)
پر غور فرمائیں کہ اللہ عز وجل نے اس مقام پر دوبارہ جمع کے صیغہ سےجمیع انسانوں سے خطاب فرماتے ہوئے بتایا کہ تمہاری تخلیق اور تصویر سازی کے بعد ہمنے ملائکہ کو کہا کہ اب آدم کو سجدہ کرو!

غور کرنے کی بات یہ ہے کہ آدم کو سجدہ کرنے کے حکم سے پہلے جو خطاب ہے کہ ہمنے آپ جملہ انسانوں کو علی الانفراد پہلے تخلیقی مراحل سے گذارا پھر تم میں سے ہر ایک کی تصویر بنائی پھر نفخ روح بھی ہوا ( 72-38 ) جس سے آپ میں کا ہر ایک شخص ایک مکمل آدم بن گیا اسکے بعد ہمنے ملائکہ کو کہا کہ آدم کو سجدہ کرو! اس سے یہ بات کھل کر ثابت ہوئی کہ آدم کوئی ایک پہلے پیدا ہونے والا فرد واحد نہیں ہے۔

آدم کو ملائکہ کے سجدہ کی تفہیم
جب یہ حقیقت ثابت ہوئی کہ ہر دور میں جب جب کوئی آدمی پیدا ہوتا رہتا ہے اس اس آدمی کو علی الانفراد ملائکہ سجدہ کرتے ہیں اور قیامت تک یہ سجدہ کرنے کا سلسلہ جاری رہیگا،،

اور اس سجدہ کی جب یہ معنی نہیں ہےکہ یہ سجدہ مروج نماز والا سجدہ ہے، سجدہ کی اصل معنی ہے کائنات کو مسخر کرنا، تسخیر کائنات ایک ایسا عمل ہے جسے صرف اور صرف پہلے تو عقلمند ہنر مند ماہرین سائنس دان لوگ عمل میں لاتے ہیں، انکے ایسے اعمال کو ایجادوں سے تعبیر کیا جائےگا پہلے موجد نے اپنی ایجاد کا فارمولا پاس کیا تو اب اس فارمولے کی روشنی میں بعد والے انجنیئر جب جب اسکی نقل بنائینگے تو اس ایجاد شدہ چیزمیں جو مٹیریل کام آئیگا

اگر لوہا ہے تو اسے آگ میں پگھلانے سے اسکی جو آپ شکل بنائینگے تو اسکو آپکے لئے لوہے کا سجدہ کرنا کہا جائیگا،

اگر آگ کے بجاءخراد مشنیوں سے لوہے کے پرزہ جات بنائینگے تو بھی اسے سجدہ سے تعبیر کیا جائے گا،

اسطرح لکڑی، پلاسٹک ہوا، زراعتی پیداوار کی جملہ اشیاء پھر وہ بیج ہوں، اناج ہو، فروٹ ہو کپاس ہو، ایسی سب چیزین ایگری کلچر سائنس میں اگر ہم زمین اور آسمان کے بیچ کو خلا کہیں (جبکہ اس طرح کہنا بھی غلط ہے، کیونکہ سائنس نے بتایا کہ کوئی چیز خالی نہیں ہوتی،نظر میں آنیوالا خلا یہ خالی نہیں ہےیہ مادی، مائع اور گیسز کے اقسام سے بھرا ہوا ہے، ہر اسپیس مختلف الفوائد گیسوں سے بھرا ہوا ہے، ان جملہ بھری ہوئی چیزوں کو ملائکہ کی تشریح کا حصہ بھی کہنا چاہئے،

سجدہ آدم کی اس مختصر تشریح سے یہ ثابت ہوا کہ ملائکہ کا آدم کو سجدہ اسکی ہنری کاریگری عمل اور ایجادوں سے منسلک ہے اگر کوئی انسان، کوئی آدم کوئی آدمی اپنی زندگی کو صرف کھانے پینے، سونے عیاشی کرنے جاگنے، گھومنے اور فضولیات تک محدود بناتا ہے اور ایجادات کے جہان سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتا، انسانی تمدن اور اسکے مفادات اور ضروریات کی کفالت کیلئے کچھ نہیں کرتا اور سوچتا، تو وہ حیوان ہے ایسے انسان نما آدمی کو حیوان سمجھنا چاہیے، کیونکہ انسانی مفادات اور ضروریات کیلئے جو کوئی آدمی عمل نہیں کریگا، تو ایسے نکمے بے ہنر آدمی کو کائناتی اشیاء جو کہ ملائکہ کی بڑی مفصل تشریح کے زمرہ میں آتی ہیں وہ سجدہ کیسے کرینگی۔

اسی سجدہ آدم کی تفہیم میں یہ بات لازمی طور پر آگئی کہ قیامت تک پئدا ہونے والے جملہ انسانوں کو مسجود ملائکہ آدم کہاجائیگا، اس کلیہ کے بعد دوسرا، کلیہ کہ اے لوگو ہمنے آپکو کونر اور مادہ کے امتزاج سے پیدا کیا۔ (13-49) اب ان حقائق کے ذیل میں آیۃ کریمہ

إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللّهِ كَمَثَلِ آدَمَ
(59-3)
یعنی عیسیٰ کے پیدا ہونے کی مثال اللہ کے نزدیک ایسے ہے جیسے سارے آدم سب لوگ، سارے انسان،ٹوٹل آدمی ۔

اس آیت کریمہ (59-3) کی تفہیم کے بعد موضوع سے ہٹ کر بھی ایک گذارش کرتا چلوں کہ امامی علوم کی ایجاد کردہ روایات جنکو یہ لوگ احادیث رسول کے نام سے لوگوں کو منواتے ہیں جبکہ جناب رسول خاتم الانبیا علیہ السلام

وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى ۝ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى
(3-4-53)
قانون قرآن کے خلاف کوئی بھی بات نہیں فرماتے تھے،

سو ان امامی علوم کے دستار بند فاضلوں نے یہ حدیث مشہور کی ہوئی ہے کہ پہلا پہلا آدم (مذکر نر) پیدا ہوا تھا اسکے بعد پھر اسکی پسلی سے اسکی بیوی حوا نامی پیدا ہوئی تھی۔

جناب قارئین
ان کی یہ حدیث کئی ساری حدیثون کی طرح بگڑے ہوئے تو رات یعنی عہدنامہ عتیق سے نقل کرکے گھڑی ہوئی ہے،، جبکہ قرآن حکیم میں اللہ پاک فرماتا ہے کہ

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيرًا وَنِسَاء
(1-4)
یعنی اے انسانو! ڈرو اپنے پالنھار کے (قانون تخلیق میں تحریف کرنے سے) جس پالنھار اور رب نے آپ لوگوں کو (پہلے پہل) تو پیدا فرمایا نفس مؤنث (بقول انکے حوا سے) اسکے بعد اس مؤنث سے پیدا کیا اسکے زوج (شوہر بقول ان روایات پرستوں کے آدم کو) اور دونوں سے پھیلائے کئی مرد اور عورتیں۔

قارئین! لوگ تخلیق آدم سے متعلق اسرائیلی گھڑاوت کے تابع اس قرآن مخالف حدیث سے قیاس کریں بقیہ جملہ احادیث کو بھی۔

یہاں اخیر میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر قرآن حکیم کے بقول اگر پہلے پہل عورت ہی پیدا ہوئی ہے اور ہم قرآن کو اگر مانیں بھی سہی تو وہ قرآن حکیم کا اعلان کہ ہمنے آپکو نر و مادہ سے پیدا کیا۔ تو اس پہلی پیدا ہونے والی عورت پر یہ قانون تو لاگو نہیں ہوا، سو میں نے خود یہ مسئلہ سمجھنے کیلئے ایک بائلاجی اور زولاجی کے ماہر پروفیسر سے رجوع کیا تو اسنے اپنے سبجیکٹ کے علمی دلائل اور حوالہ جات سے مکمل طرح سے مطمئن کیا اور سمجھایا کہ آج بھی اللہ کا تخلیقی عمل

وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا
( 8-78 )
ہمنے آپکو جوڑا جوڑا کرکے بنایا،

جاری ہے، یعنی کل یوم ھو فی شان
( )
یزید فی الخلق مایشاء
( )
اور اس کلیہ کی روشنی میں حیاتیات کے جرثوموں کے جو انواع ہیں انکی شروعاتی پہلی پراڈکشن مؤنث جرثومہ کی ہوتی ہے جسمیں تخلیق کے دوران ہی ایسی ڈبل پئداواری صلاحیت ہوتی ہے جو اسکی اپنی پیدائش کے ساتھ ساتھ اسکے اندر تولیدی مادہ کا ایسا جرثومہ ہوتا ہے جو وہ بیک وقت مؤنث کے ساتھ اسمیں مذکر کا بیج بھی ہوتا ہے لیکن ان دونوں جرثوموں کےمعرض وجود میں آنے کا ابتدائی ظہور مؤنث کا ہوتا ہے اسکے بعد اسی کی طرح اسمیں پہلے سے قانون تخلیق ربی کے مطابق ودیعت کردہ مذکر جرثومہ والا بیج اپنے پراسس کے مطابق اس مؤنث کے پیٹ سے نکل آتا ہے

اس بات کو اس طرح بھی سمجھا جائے کہ پیدا ہونے کی ترتیب میں تو تقدم و تاخر ہوا لیکن ابتدائی آفر ینش اصل میں عورت کی ہےاور یہ عمل دائمی نہیں ہوتا یہ صرف کسی نوع مخلوق دابۃ الارض اور حشرات الارض کے جرثوموں کی شروعاتی پئدائش کے وقت ہوتا ہے جو انکے جوڑے نر و مادہ کے آجانے کے بعد و خلقنا کم ازواجا کا ظاہری اور مروج سٹم شروع ہوجاتا ہے،

مؤنث کے نطفہ میں کبھی کبھار مذکر طبیعت کے آثار آج بھی غالب آجاتے ہیں جو کئی ساری عورتوں کے جنس تبدیل کرانے کے مثال ڈاکٹری تاریخ میں موجود ہیں جسکو تیسری جنس کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے

لیکن یہ تیسری جنس والے افراد بھی قانون تخلیق یعنی باپ سے پیدا ہونے والے ہوتے ہیں

سو غور کیا جائے کہ جب پولٹری فارم کا چوزہ بھی بغیر نر کے پیدا نہیں ہوتا۔ یہاں میں اپنی کوتاہی کا بھی اقرار کرتا چلوں کہ میں اپنے اس ماہر حیاتیات پروفیسر کی تفہیم اور لیکچر کو اسکے سمجھانے کے مطابق باقائدہ پیش نہیں کر سکا، جسے یہ مسئلہ سمجھنا ہو تو اسے لازم ہے کہ ایسے سائنسی مسائل میرے جیسے اناڑی فاضل درس نظامی مولویوں کے بجاءکسی کنسلٹ ماہر سے جاکر سمجھے۔

قصہ پیدائش عیسیٰ میں چند اہم قرآنی الفاظ کی تفہیم


فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا،
(17-19)
یعنی ہمنے مریم کی طرف اپنے روح کو بھیجا جسنے تمثیل اختیار کی مکمل انسانی شکل کی

اس آیت کریمہ کے دو لفظوں کے مفہوم پر متنازعہ قسم کے بحث ہوتے ہیں ایک روح دوسرا، تمثل، سو روح کی معنی تو اگلی آیت نمبر 19 نے صاف کردی کہ

قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيًّا
(19-19)
یعنی مریم کو خواب میں دکھائی دینے والے ربانی روح نے کہا کہ انا رسول ربک یعنی میں آپکے رب کا فرستادہ ہوں پیغام پہنچانے والا ہوں،

اور سورت آل عمران کی آیت کریمہ

إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ
(45-3)
یعنی جب کہا ملائکہ نے کہ اے مریم تحقیق اللہ آپکو بشارت دیتا ہے اپنے ایک کلمہ (فیصلہ) کی جسکا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا،

تو یہ ملائکہ بھی سورت مریم کی آیت (17-19) میں فارسلنا الیھا روحنا،، کے روح کی معنوی تفہیم ہے،

باقی رہا اسی آیت میں کئی مفسرین، ملائکہ اور مریم کی یہ گفتگو بیداری کی صورت میں قرار دیتے ہیں جبکہ لفظ تمثل جو ہے وہ اپنے مصدری خاصیت کے حوالہ سے خواب میں جو صورتحال بنتی ہے یعنی ایک چیز پہلے دندھلی غیر واضح پھر آہستہ آہستہ مکمل انسانی کامل شکل اختیار کرنا یہ خواب میں کسی چیز کو دیکھنے کی مرحلوں والی کیفیت ہے،

عالم بیداری میں ایسے نہیں ہوتا وہاں یکبارگی میں ہر چیز اصل شکل میں سمجھ میں آجاتی ہے،

آگے آیت نمبر (20-19) میں بشارت ملنے کے بعد ملائکہ کو بی بی مریم کے جواب کہ

أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ وَلَمْ أَكُ بَغِيًّا
(20-19)
پر بھی لوگ غور کرنے کا حق ادا نہیں کرتے جبکہ اس جواب میں بی بی صاحبہ نے صاف صاف بیٹے پیدا ہونے کی دوہی سورتیں بتائی ہیں، ایک مس بشر نکاح سے دوسرا مس بشر (بغیا) بغیر نکاح کے اور ان دونوں صورتوں سے وہ اس وقت تک دور تھی تو ملائک کے جواب میں بچہ جننے کا حل اور پراسیس بتایا گیا، ایک حل جو بتایا کہ کذالک،، یعنی آپکو بیٹا ایسے ہوگا جسطرح جگ جہان کی عورتوں کو ماؤن کو ہوتا ہے رہا مسئلہ شادی اور مس بشر کے ذریعہ سے بیٹا پیدا ہونے کا، سو آپکے رب کا فرمان ہے کہ

هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ
(21-19)
یہ مسئلہ میرے لئے آسان ہے اسلئے نکاح اور شادی کرنے میں آپ جو ہیکل کی رسومات اور قوانین کو رکاوٹ سمجھ رہی ہیں۔ آپ تو ان بوگس قوانین سے ٹکر کھانے والی نڈر اور مقابلہ کرنے والی خاتون ہیں، آپکا حوصلہ بہت بلند ہے، جو ہم شاہدی دیتے ہیں کہ

وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ
(12-66)
مریم عمران کی بیٹی وہ ہمت والی) ہیں جو اسنے (نکاح کے ذریعہ) حفاظت کی اپنی شرمگاہ کی، (پھر جب اسکو حمل ہو ا بیٹے کا) تو اس کے حمل والے بیٹے میں ہم نے اپنا روح داخل کیا (پھونکا) اور مریم کوئی ایسی ویسی نن اور راسبہ نہیں تھی، وہ تو ڈنکے کی چوٹ قوانین (ربوبیت کی تصدیق کیا کرتی تھی، اور قوانین کے کتابوں کی تصدیق کیا کرتی تھی اور وہ ہمارے فرمانبرداروں کی فہرست میں سے تھی۔

محترم قارئین!
بی بی مریم کو اولاد میں سے عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کو اللہ عزوجل نے جناب زکریا علیہ السلام کے بیٹے یحیٰ علیہ السلام کی پئدائش کے ساتھ سورہ آل عمران اور سورہ مریم میں ملاکر بیان کیا ہے۔

اسمیں ایک بہت ہی اہم تعلیم ہے جس تعلیم سے پیدائش عیسیٰ سے متعلق یہودی ملاؤں اور مسلم لٹریچر کے امامی ملاؤں کے مغالطوں کے جوابات ملتے ہیں ان خرافات کے خلاف جو یہودی دشمنوں نے بی بی مریم کو معاذاللہ زنا سے ناجائز طریقہ سے بن باپ کے بیٹا عیسیٰ پیدا ہونے کی گالییں دیں

پھر وہ یہودی دشمنان علم وحی بھیس بدل کر کبھی عیسائی بنکر انجیل کی تعلیمات کو بگاڑا، تو کبھی مسلم امت کے امام بنکر قرآن حکیم کے قوانین کو توڑنے کیلئے جناب رسول خاتمی المرتبت کے نام سے رد قرآن والی حدیثیں انکی طرف منسوب کیں یہ حق سچ کے علم پر ظلم کا سلسلہ عالمی استحصالی عفریتوں کی سرپرستی میں ابھی تک جاری ہے۔

قانون تخلیق کے مطابق عیسیٰ کی پیدائش کا ذکر قرآن میں
جناب زکریا علیہ السلام نے اپنے لئے بیٹے پیدا ہونے کی اللہ سے دعا کی اور بی بی مریم کو بن مانگے اللہ نے بیٹا دینے کی اس کےساتھ بات کی ۔زکریا علیہ السلام کی دعا قبول ہوئی اور جب بیٹے کے پیدا ہونے کی اسے خوشخبری سنائی گئی تو اسنے تسلی کیلئے جواب میں اپنے بڑھاپے اور بیوی کے بانجھپن کا ذکر کیا کہ ایسے حال میں بیٹا کیسے پئدا ہوگا تو اسکو اسکی اہلیہ کے بانجھپن دور کرنے کے علاج کی طرف رہنمائی کرکے فرمایا کہ

وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ
(90-21)
اللہ کے اس جواب سے یہ رہنمائی ملی کہ زکریا کی بانجھ بیوی ہو یا مریم جس کا ابھی نکاح نہیں ہوا تھا ان دونوں کو بیٹا تو ملے گا لیکن وہ اسباب کے دائمی ابدی اصولوں کے ماتحت ملیگا ذکریاکی بیوی کا علاج ہوگا تو مریم کو قانون تخلیق نر و مادہ کے امتزاج والے (13-49) سسٹم کی روشنی میں شادی کرنی پڑیگی، پھر اس سسٹم کی طرف زکریا اور مریم دونوں کو رہنمائی دینا وہ بھی ایک ہی لفظ سے زکریا نے اپنے ہاں بیٹا ہونے کو مشکل سمجھ کر بیماریوں کے عذر پیش کئے تو جواب ملا کہ کذالک یعنی جس طرح جگ جہان کے لوگ اپنی بیماریوں کا علاج کرواکر تندرست ہوتے ہیں اسطرح آپ بھی اسباب کی طرف توجہ دیں، پھر جب بی بی مریم کو جب بیٹا دینے کی خوشخبری سنائی گئی تو اس نے بھی کہا کہ مجھے بیٹا کیسے ہوگا میں تو غیر شادی شدہ ہوں، تو اسے بھی جواب میں فرمایا گیا کہ کذالک، یعنی آپکو بھی بیٹا اسطرح پیدا ہوگا جسطرح جگ جہان کی عورتیں نکاح کرتی ہیں پھر انکو شوہروں سے انہیں اولاد ہوتی ہے۔

اب امامی علوم کے دستاربند لوگوں نے کذالک والے جواب سے اگر بی بی مریم کے قصہ میں معنی چھومنتر یعنی بغیر شوہر کے جبریل کی پھونک سے بیٹا ہونے کی معنی کی ہے تو کذالک کا لفظ جو زکریا علیہ السلام کے سوال کے جواب میں آیا ہے تو وہان اسکی معنی کیا ہوگی؟

اگر کسی امامی عالم کی آنکھوںمیں پانی نہ ہو اور وہ یہ فرمائے کہ جناب زکریا علیہ السلام کی بیوی کو بھی بغیر اسباب کے صرف دعا سے بیٹا یحی علیہ السلام ملا ہے تو اسکی خدمت میں مؤدبانہ عرض ہے کہ پھر سورت انبیاءمیں اللہ نے جناب زکریا علیہ السلام کی بیوی کیلئے یہ کیوں فرمایا کہ

وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ
(90-21)
یعنی ہمنے زکریا علیہ السلام کی بیوی کے بانجھ پن کا (بذریعہ علاج) اصلاح کر دیا۔

سورۃ اٰل عمران کی آیت 47 میں بی بی مریم کو جب بیٹے کی خوشخبری سنائی گئی اسنے اسے محال سمجھتے ہوئے کہا کہ مجھے جب کسی بنی بشر نے چھوا تک بھی نہیں تو بیٹا کیسے ہوگا جواب میں اللہ نے فرمایا کہ کذالک اللہ یخلق ما یشاء جواب میں اس جملہ کا اضافہ کرکے اللہ نے قانون تخلیق کی طرف اشارہ کیا کہ آپکو بیٹا اس قانون کی تعمیل سے ملیگا، اور وہ قانون تو آپ نے پڑھا کہ مذکر و مؤنث کے جوڑے کے امتزاج سے اولاد پیدا ہوتی ہے (13-49) اس موقعہ پر لفظ کذ الک کے بعد قانون تخلیق کے حوالہ کو ملاکر جواب دینے سےکذالک کی معنی کا بھی تعین ہوگیا، کذالک کی معنی ہوئی قانون تخلیق کے مطابق، یعنی جس طرح اوروں کو اولاد ملتی ہے آپکو بھی اسیطرح ملے گی،

یہی سوال سورت مریم میں جب جناب زکریا علیہ السلام نے کیا کہ میری بیوی بانجھ میں بوڑھا ہمیں کسطرح بیٹا ہوگا؟ تو اسے بھی جن الفاظ میں قانون تخلیق کی طرف متوجہ کیا گیا تو وہ الفاظ یہ تھے یہاں بھی پہلے لفظ کذالک فرمایا گیا اسکے بعد فرمایا کہ

وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِن قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا
(9-19)
یعنی میں نے آپکو جب پیدا کیا تو آپ اس سے پہلے کچھ بھی نہیں تھے تو آپکی پیدائش جس زن وشوہر والے سسٹم سے ہوئی ہے آپکے بیٹے کی پیدا ئش بھی اس طرح ہوگی۔

محترم قارئین
کئی امامی علوم والے مفسرین قرآن میں جناب یحیٰ علیہ اسلام کی پیدائش کا قصہ جناب عیسیٰ علیہ السلام کی پئدائش کے تفاصیل کے ساتھ ملاکر قدر مشترک والی رہنمائی پر بہت کم ہی لکھتے ہیں، اسلئے اب اس مقام پر بھی جناب زکریا علیہ السلام کو جو جواب دیا گیا ہے کہ آپکو جو بیٹا ہم عطا کر رہے ہیں آپ اسپر کیوں تشویش کرتے ہیں کہ وہ کس طرح ملے گا، کیا آپ اپنی خود کی پیدائش کی طرف توجہ نہیں کرتے؟

جو ہم نے آپکو عدم سے وجود میں لایا ہے اپنے قانون تخلیق سے، یعنی آپکو بیٹا دینے کیلئے بھی وہی قانون لاگو ہوگا، رہا بانجھ پن کا عارضہ اور آپکا بڑھاپا تو واصلحنا لہ زوجہ سے اللہ جل جلالہ نے علاج معالجہ کی بات کردی، جس سے معاملہ کو کراماتی اور معجزاتی بنانے کا دروازہ بند ہوگیا۔

مزید اس جڑوان قصہ میں ایک ہی سورت مریم کی آیت (9-19) میں جب زکریا علیہ السلام اپنے اور اپنی بیوی کے طبعی عارضوں کی وجہ سے کہتے ہیں کہ

أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ
(8-19)
اے میرے رب ہمارے ان حالات میں مجھے لڑکا کیسے ملے گا تو اللہ پاک نے جواب میں فرمایا کہ ھو علی ھین، یہ کام تو میرے لئے آسان ہے پھر اس آسانی کا بھی مفہوم اور طور طریقہ ایک تو اگلے جملہ ھو علی ھین کے بعد قانون تخلیق کا ذکر کیا کہ جس طرح میں نے خود آپکو پئدا کیا (یاد رکھا جائے کہ زکریا علیہ السلام بن باپ کے پئدا نہیں ہوئے تھے) یعنی بشمول زکریا علیہ السلام کے جملہ انسانی کائناتی کھیتی نسلوں کی پئدائش کو قانون تخلیق کے جملہ سے پہلے ھو علی ھین سے یہ اشکال سمجھانا کہ بچہ دینا یہ کونسا مشکل مسئلہ ہے یہ تو میں اپنے قانون سے ہر روز ہر گھڑی سلسلہ توالد کو چلا رہا ہوں رہا معاملہ طبعی عارضوں کا تو اسکیلئے بھی اصلاح کی ہسپتالوں کا سلسلہ قائم ہے

(90-21) میں اس جملہ ھو علی ھین کو بار بار اسلئے دہرارہا ہوں جو یہی جملہ جب بی بی مریم کے بعینیہ اسی سوال کہ انی یکون لی غلام۔ سوال کے الفاظ زکریا علیہ السلام کی جانب بھی یہی ہیں جواب میں پھر جب بی بی مریم کو بھی بعینہ وہی الفاظ بتائے گے جو زکریا کو جواب دیا گیا کہ ھو علی ھین

(21-19) اس جوابی جملہ کی معنی امامی علوم کی مافیا والے لکھتے ہیں کہ اے مریم آپکو بغیر شوہر کے بیٹا دینا میرے لئے آسان ہے یہ کام میرے لئے مشکل نہیں ہے، دنیا کے علم و عقل والوں کو استدعا کرتا ہوں کہ اسی جملہ ھو علی ھین کو قصہ زکریا میں لایا گیا ہے تو وہاں جواب میں قانون تخلیق اور طبعی عارضوں سے علاج کا ذکر کیا گیا ہے اور جب بی بی مریم کے اس جیسے ہی سوال کہ انی یکون لی غلام کا جواب بھی دونوں کو دیتے جانے والے جملہ ھو علی ھین سے دیا جاتا ہے تو بی بی مریم کے جواب میں اسکی معنی کراماتی معجزاتی بغیر شوہر سے نکاح کرنے کے چھو منتر والی کی جاتی ہےاور جبریل کی پھونک کا افسانہ گھڑا جاتا ہے!!

قرآن حکیم کی علمی عدالت امامی علوم کی مافیائی تعبیرات کے سارے ڈھکوسلوں کا رد کرتی ہے، ویسے اگر دنیا والے ہمت کریں اور اپنی علمی درسگاہوں اور فکری اداروں کو

قُلْ هَـذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَاْ وَمَنِ اتَّبَعَنِي وَسُبْحَانَ اللّهِ وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(108-12)
جناب رسول علیہ السلام کے اس اعلان کہ میں اور میرے پیروکار بصیرت والے علم و عقل کی باتوں کی دعوت دیا کرینگے اس اعلان کے مطابق مدارس اور یونیورسٹیوں کے نصاب تعلیم کو علم و عقل کے تابع کرکے کراماتی خانقاہی امامی علوم کا صفایا کرکے و ما انا من المشرکین کی تقاضا پر عمل کریں تو ہماری نسلوں کو ذہنی غلامی سے نجات مل سکتی ہے ورنہ دنیا والے لوگ انتظار کریں اس گھڑی کا جب یہ دولتمند مافیا والے اپنے کرائے کے عبا و قبا پوش دانشوروں سے جو ہمیں جاہل بنا رہے ہیں ان سب کیلئے جب انقلاب قیامت کے وقت حکم دیا جائے گا کہ

خُذُوهُ فَغُلُّوهُ ۝ ثُمَّ الْجَحِيمَ صَلُّوهُ
(31-69)
یعنی انکوپکٹر کر دوزخ میں ڈالو (میں یہاں لفظ صلوہ کی امامی علوم والوں کی صلوۃ بمعنی نماز نہیں کر رہا کہ انکو دوزخ میں نمازین پڑھاؤ)

بہرحال یہ حکم عالمی استحصالی سرمایہ داروں اور انکے دانشوروں کیلئے ہے جو وہ وہاں اپنے لئے جب دوزخ میں ڈالے جانے کا حکم سنیں گے تو کہیں گے کہ افسوس جو

مَا أَغْنَى عَنِّي مَالِيهْ
(28-69)
میری دولت تو مجھے کسی کام نہ آئی۔ اور جو دنیا میں اقتدار والے تھے یا کرایہ کے اہل علم دانشورون کے وہ جھوٹے کراماتی علمی فلسفے جنکے بل بوتے پر وہ علمی دنیا پر چھائے ہوئے تھے میں کہینگے کہ

هَلَكَ عَنِّي سُلْطَانِيهْ
(29-69)
میرے اقتدار کا دبدبہ یا میری علمی دلائل کا غلبہ اور دھاک آج تو خس و خاشاک ہوگئی بربادی ہوگئی۔

جناب یحیٰ علیہ السلام کے قرآنی تعارف کا ایک جملہ: وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا (12-19)
یعنی ہم نے یحیٰ کو بچنے کی عمر میں ایسی ذہانت عطا کی جو وہ لوگوں کے الجھے ہوئے معاملات کے فیصلے کرنے کی صلاحیت والا بن گیا جناب عیسیٰ علیہ السلام کا قرآن سے تعارف( ولادت سے پہلے

إِذْ قَالَتِ الْمَلآئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ ۝ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلاً وَمِنَ الصَّالِحِينَ
(45-3)
تعارفی کلمات یہ ہیں، دنیا میں عیسیٰ کی نبوت و آمد اللہ کے فیصلوں میں سے ایک فیصلہ ہے۔ اسکا نام مسیح عیسیٰ ہوگا، کنیت ابن مریم ہوگی،

تحریف شدہ انجیل اور عیسائی لٹریچر نے جناب عیسیٰ علیہ السلام کی دنیاوی زندگی ایک دربدر اور سوائیوں والی زندگی لکھی ہے۔

انکی تردید میں قرآن نے فرمایا کہ وہ دنیا اور آخرت میں وجیہ اور مقربین میں سے ہوگا اور لوگوں کے ساتھ مہد (جھولے) یعنی بچپنے اور جوانی کی عمر میں مسائل حیات سے متعلق کھری کھری باتیں کریگا، اور صالحین میں سے ہوگا، اس آیت کریمہ میں عیسیٰ علیہ السلام کے تعارف میں جھولے کی عمر میں لوگوں کے مسائل پر بولنا، اور جناب یحیٰ السلام کی تعارفی خصوصیت کہ وہ بھی صبی یعنی بچپنے میں فیصلوں کو سمجھنےاور کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا یہ مماثلت اسلئے کی گئی کہ مافیائی علموں والے اگر عیسیٰ کے بارے میں مہد جھولے کی عمر کو محاورہ والی عمر کا نوخیز جوان سمجھنے کے بجاءسال چھہ ماہ کا بچہ سمجھتے ہیں تو ہم نے جب یحی کی عمر کیلئے صبی کا لفظ استعمال کیا ہے تو پھر یحیٰ کو عیسیٰ کی طرح کیوں سال ڈیڑھ سال کی عمر والا نبی نہیں کہتے؟

جبکہ جیسا صبی یحیٰ ایسا عیسیٰ ۔ اصل میں صبی تو بجاءلغوی معنی کے محاورے، کے طور پر نوخیز جوانی کیلئے استعمال کیا گیا ہے، اسکی کوئی کراماتی معنی نہیں ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کے تعارف میں مہد جھولے کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور وہ یحیٰ کے تعارف میں نہیں ہے وہ بھی اسلئے کہ اللہ کے علم میں تھا کہ آئندہ چلکر عیسیٰ کے مخالف مذہبی ٹھیکیدار عیسیٰ کے بارے میں کہینگے کہ ہمارے مقابلہ میں یہ تو کل کا جھولے میں جھولنے والا بچہ ہے اس کے ساتھ ہم کیوں بات کریں،، اس لئے اللہ نے بھی آپکے محاوروں کی بات کو نقل کیا ہے (63-51) ورنہ عیسیٰ اور یحیٰ کا لفظ صبی سے تعارف تو یکسان ہے، عیسیٰ کا صبی کی عمر میں بولنا معجزہ ٹہرے اور یحیٰ کا نہیں تو یہ ان کا کیسا انصاف ہوا،، اسکے باوجود امامی علوم کے علماء لوگ اٰیت

قَالُوا كَيْفَ نُكَلِّمُ مَن كَانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا
(29-19)
میں لفظ کان کی معنی زمانہ حال کی کرتے ہیں جبکہ یہودیوں کے پنڈت پادری لوگ عیسیٰ کے بارے میں یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ یہ موجودہ وقت میں جھولے میں ہے یہ لوگ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم عیسیٰ کے ساتھ کیوں بات کریں جبکہ یہ ہمارے مقابلہ میں کل ہی کی تو بات ہے جو ہمارے سامنے یہ جھولے میں جھولتا تھا ، مطلب کہ اس آیت میں جھولے اور مہد کی بات زمانہ ماضی سے تعلق رکھتی ہے حال سے نہیں سو کان صیغہ پر غور کیا جائے، رہی بات لفظ صبی (بچہ) کی تو اسمین جیسا یحیٰ ویسا عیسیٰ۔

وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ وَلَمْ أَكُ بَغِيًّا (20-19)
بی بی مریم کا ملائکہ سے بیٹے کے ملنے کی خوشخبری کے بعد یہ استفسار اور سوال کہ مجھے کسی بشر نے بھی نکاح کے ذریعے نہیں چھوا اور نہ ہی میں بدکار ہوں، اس جواب سے معجزہ پسند لوگ لم یمسنی کی معنی ماضی اور مستقبل دونوں زمانوں کی لیتے ہیں جو کہ غلط ہے، یہاں صرف ماضی میں مس بشر کا رد اور انکار ہے، پھر جناب مریم کا یہ کہنا کہ میں کوئی بغیا، آوارہ بدکار عورت نہیں ہوں، اس جواب سے مریم کی طبعی رضا، مقابل پہلو کیلئے یعنی مستقبل میں مس بشر کے لئے جائز فطری نکاح اور شادی والے طریقہ اور سسٹم کو تسلیم کرنے اور قبول کرنے کاعندیہ مل جاتا ہے،، انکار نہیں ملتا۔
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"

Last edited by rana ammar mazhar; 20-01-12 at 10:31 PM..

rana ammar mazhar
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 2402
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
shafresha (09-01-12), فاروق سرورخان (10-01-12), حیدر Rehan (10-01-12)
پرانا 29-01-12, 08:09 PM   #151
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default کیا آپ نا جائز حمل پیدائش کے قائل ہیں، یا بلا حمل معجزانہ پیدائش کے قائل ہیں ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
حضرت آدم و حوا علیہم السلام کھاتے پیتے ہیں۔
بیٹا اپنے باپ کے مشابہ ہوتا ہے۔
جبکہ
آدم و حوا علیہم السلام میں اللہ تعالیٰ کی مشابہت نہیں، بلکہ اپنے باپ سے مشابہت ہے!!!
اگر اس دلیل سے آدم و حوا کا باپ ثابت نہیں ہوتا تو عیسیٰ‌علیہ السلام کا باپ بدرجہ اولیٰ ‌ثابت نہیں ہوگا۔
فہو المطلوب۔
یہ بات آپ کس کو بتا رہے ہیں، یہ تو فرمان نبی ﷺ ہے کہ بیٹا اپنے باپ کے مشابہ ہوتا ہے۔!!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں

مسجد نبوی میں عیسائیوں سے رسول اللہ:ﷺ کا جو مناظرہ ہوا وہ در منثور میں ابن جریر ، ابن ابی حاتم میں منقول ہو کر مفصل بیان ہوا ہے۔ اس میں آپ نے اس پر بحث کرتے ہوئے فرمایا :
لا یکون ولد الا وھو یشبہ اباہ۔
کیا تم یہ جانتے نہیں ہو کہ بیٹا ہمیشہ اپنی شکل و صورت میں اپنے باپ سے مشابہت رکھتا ہے۔
یعنی کیا تمہیں علم نہیں کہ ہر بیٹا اپنے باپ کے مشابہ ہوتا ہے۔
اگر عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شکل و صورت خدا کی سی ہے تو وہ اس کا باپ ہے اور اگر اس کی شکل و صورت انسان کی سی ہے تو اس کا باپ انسان ہے۔ اس جوابی تقریر میں رسول اللہ ﷺ نے عیسیٰ علیہ السلام کا باپ تسلیم فرمایا ہے۔
بلکہ عیسائیت کے خلاف اسے بطور ثبوت پیش فرمایا ہے۔






آپ صرف ریسرچ کر کے اتنا بتا دیجئے کہ جائز حمل میں ‌لفظ ‌جائز کس عربی لفظ کا ترجمہ ہے؟

آپ صرف ریسرچ کر کے اتنا بتا دیجئے کہ کیا آپ نا جائز حمل پیدائش کے قائل ہیں، یا بلا حمل معجزانہ پیدائش کے قائل ہیں ؟؟؟

قال: الامین والصادق نبی رحمت ﷺ پھر ارشاد فرماتے ہیں:
الستم تعلمون ان عیسی حملتہ امہ کما تحمل المرأۃ ثم وضعتہ کما تضع المرأۃ لولدھا ثم غذی کما یغذی الصبی ثم کان یعطعم الطعام و یشرب الشراب ویحدث الحدث؟
کیا تم جانتے نہیں ہو کہ عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو ایسے ہی عیسیٰ علیہ السلام کا جائز حمل ہوا جیسا کہ دوسری عورتوں کو جائز حمل ہوا کرتا ہے۔ پھر ایسے ہی عیسیٰ علیہ السلام ماں کے پیٹ سے وضع ہوئے جیسے دوسری ماؤں کے پیٹ سے بچے وضع ہوتے ہیں۔ پھر ایسے ہی عیسیٰ علیہ السلام نے غذا کھائی جیسے دوسرے بچے غذا کھاتے ہیں پھر کھانے کی اشیاء حلال و طیب کھاتے رہے ہیں۔ پینے کی چیز حلا ل و طیب چیزیں پیتے رہے ہیں اور قضائے حاجت بھی ہوتی رہی ہے۔


اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
محترم، جب ہم کوئی الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب منسوب کرتے ہیں، تو پھر اس کا ثبوت دینا ضروری ہوتا ہے۔ ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کا ٹھکانا جہنم ہے۔ ہم نے آپ سے عرض کی تھی کہ ہمیں‌مفہوم سے مطلب نہیں‌ہے بلکہ اس بات کا ثبوت درکار ہے کہ یہ الفاظ‌عیسائیوں‌کے سامنے مناظرہ میں‌کہے گئے تھے۔ اگر عیسائیوں کے سامنے مناظرہ میں‌ان الفاظ‌کا کہا جانا ثابت ہو جائے تو آپ کا موقف عیسیٰ علیہ السلام کی عمومی قوانین کے تحت ولادت کا ثابت ہو جاتا ہے۔ اور اگر ان الفاظ‌کا عیسائیوں‌کے سامنے مناظرہ میں‌کہا جانا ثابت نہ ہو تو آپ کا اور اثری صاحب کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کا الزام ثابت ہو جاتا ہے۔ جس کے بعد اگر کوئی ایماندارانہ رویہ ہو سکتا ہے تو وہ یہ کہ جس طرح‌سر عام آپ نے یہ الفاظ‌رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کر کے درمنثور کے حوالہ کے ساتھ لکھے ہیں، اسی طرح‌سر عام فورم پر توبہ کا اعلان کیجئے کہ آپ سے غلطی ہو گئی۔ لیکن اب حجت تمام ہو جانے کے بعد صرف انا پرستی کی خاطر اتنی سنگین بات کو آئیں‌بائیں‌شائیں‌میں‌ٹا لنا، درست طرز عمل نہیں ۔
آیت 6:87 کی درست وضاحت پچھلی پوسٹس میں ‌کی جا چکی ہے۔ جس کا آنجناب نے کوئی جواب دینا گوارا نہیں‌فرمایا۔ لہٰذا اس سے بھی کچھ ثابت نہیں ‌ہوتا۔
اور دیگر جو طویل کاپی پیسٹنگ آپ کر رہے ہیں، اس کا مکمل جواب عقل پرستی اور انکار معجزات، کتاب میں‌بخوبی دیا جا چکا ہے۔ جس میں ‌مزید تحریفات ہی کی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک بات کی جانب اشارہ کر دیتا ہوں۔ آپ نے اثری صاحب کے مضمون میں ‌یہ الفاظ‌ لکھے:
دیکھئے، یہاں‌بھی اثری صاحب نے ترجمہ میں ‌آپ کو اور آپ جیسے دیگر اندھے مقلدین کو دھوکہ ہی دیا ہے۔ آپ صرف ریسرچ کر کے اتنا بتا دیجئے کہ جائز حمل میں ‌لفظ‌جائز کس عربی لفظ کا ترجمہ ہے؟ اگر عربی میں‌ لفظ ’جائز‘ کا کوئی متبادل لفظ ‌نہ دکھا سکیں‌ تو مان لیجئے کہ آپ ایسے لوگوں‌کے چنگل میں ‌ہیں، جن کا اوڑھنا بچھونا ہی کذب بیانی کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس طرح سے ترجمہ میں‌تحریف کر کے تو دنیا کا کون سا باطل عقیدہ ہے جو ثابت نہیں‌کیا جا سکتا؟
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-01-12, 08:34 PM   #152
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default تو ہم اپنے الفاظ واپس لے کر اللہ کے حضور توبہ کریں کہ آپ پر اور اثری صاحب پر جھوٹ کا الزام لگا دیا۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"اذا لم تستحی فاصنع ما شئت "
کہ جب حیاء انسان سے نکل جائے پھر اسکی مرضی ہے جو چاہے کرے۔
اور یہ کہاوت بھی مشہور ہے کہ ایک جھوٹ چھپانے کے لئے انسان کو سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ یہی معاملہ رانا صاحب اور اثری صاحب کا ہے (جن کا جواب اوپر رانا صاحب نے پیش کیا ہے)۔ سب سے پہلے اس سیاہ جھوٹ پر مشتمل عربی الفاظ ملاحظہ کیجئے، جو پوسٹ نمبر ۱۱۹ میں رانا صاحب نے غالباً عنایت اللہ اثری صاحب کی کتاب عیون زمزم سے پیش کیا تھا:
ہم نے درج بالا حدیث کے بارے میں درج ذیل الزام عائد کیا تھا:
رانا صاحب اگر سمجھتے ہیں کہ عنایت اللہ اثری صاحب نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہیں باندھا، تو ہمیں فقط اس بات کا حوالہ دے دیں کہ عیسائیوں کے سامنے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ کہے تھے؟
باقی ہم نے اس بات کا انکار کبھی نہیں کیا کہ بچہ باپ کے مشابہ نہیں ہوتا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سے ملتے جلتے الفاظ بھی منقول نہیں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ عنایت اللہ اثری صاحب نے تو صاف لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ دوران مناظرہ عیسائیوں کے سامنے کہے تھے۔ اور حوالہ بھی دیا ہے کہ یہ الفاظ درمنثور میں ابن ابی حاتم سے منقول ہیں۔ بس اس بات کا ثبوت دے دیجئے کہ یہ الفاظ عیسائیوں کے سامنے کہے گئے تھے، تو ہم اپنے الفاظ واپس لے کر اللہ کے حضور توبہ کریں کہ آپ پر اور اثری صاحب پر جھوٹ کا الزام لگا دیا۔
ورنہ آپ توبہ کیجئے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ نے بہتان باندھا ہے۔
یہ تو ہوئی پہلی بات۔ اب دوسری بات یہ ہے کہ اثری صاحب نے واضح الفاظ میں حدیث رسول کے الفاظ لکھے ہیں یعنی:
لا یکون ولد الا وھو یشبہ اباہ۔
ہمیں یہ الفاظ بتا دیجئے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہاں ثابت ہیں؟ مفہوم کی بات مت کیجئے، یہی الفاظ حدیث کی کسی کتاب سے دکھا دیں! آپ کی درج بالا پوسٹ میں جو چند احادیث پیش کی گئی ہیں، ان میں یہ الفاظ کہیں بھی موجود نہیں۔ ملتا جلتا مفہوم احادیث سے ثابت ہے، لیکن بعینہ یہی الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہاں منقول ہیں؟
سورس انٹرنیٹ: بہت خوب۔۔میں بتاتا ہوں کہ سورس ہے ایک قادیانی، اور اتفاق کیا خوب ہے کہ اس قادیانی کا نام بھی رانا ہی ہے۔ اور عقائد بھی ہمارے رانا عمار صاحب جیسے ہی ہیں۔ درج بالا پورا اقتباس دراصل محفل فورم کے اس صفحے سے چھاپا گیا ہے۔ گویا خود اپنے مفید مطلب کوئی چیز کسی قادیانی سے بھی مل جائے تو قرآن ہی کی مانند قابل قبول ہے۔ لیکن ہم صحیح اسناد سے ثابت شدہ حدیث کو اپنے حق میں ثبوت کے طور پر پیش کریں تو پھر منکر قرآن ہی ٹھہریں۔
پھر اس اقتباس کی بھی حقیقت یہ ہے کہ اسباب النزول نامی کتاب، نا تو کوئی حدیث کی کتاب ہے۔ نہ کوئی حدیث کی ریفرنس بک ہے۔ نہ یہ قرآن کی تفسیر ہے۔ نہ یہ کوئی مستند دینی ماخذ ہے۔ بلکہ خود یہ کتاب اسباب النزول پہلی مرتبہ ۱۹۵۹ میں طبع ہوئی۔ ہمیں الزام دیتے ہیں کہ جی حدیثیں تو دوسری تیسری صدی ہجری میں لکھی گئیں، ان کا کیا اعتبار، اور خود جس حدیث سے ثبوت پیش کر رہے ہیں، وہ حدیث انیسویں صدی ہجری کی طبع زاد ہو تو بھی قابل قبول۔ ردو قبول کے کیا پیمانے ہیں جناب۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے ثبوت کے لئے ہمیں کتب حدیث سے الفاظ دکھائیے نا کہ صدیوں بعد کے کسی عالم کی کسی عام سی کتاب کے الفاظ اٹھا کر پیش کر دیں۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ الفاظ اسباب النزول نامی کتاب میں کبھی موجود ہی نہ رہے ہوں، کیونکہ آج کے دور میں تو یہ الفاظ اس کتاب میں موجود نہیں، ہم ایک قادیانی کے کہنے پر کیسے مان لیں کہ یہ الفاظ واقعی اس کتاب میں کبھی موجود ہوا کرتے تھے؟ اور بفرض محال اس کتاب میں یہ الفاظ موجود بھی تھے، تب اس سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوگا کہ اس مصنف نے بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولا تھا۔ جیسے اثری صاحب اور رانا عمار صاحب نے جھوٹ بولا ہے۔
ورنہ ہمیں سیدھے سیدھے یہی الفاظ درمنثور میں دکھائے جائیں ۔ اور اثری صاحب نے حدیث کے الفاظ لکھتے وقت اس کتاب کا بھی حوالہ دیا اور ابن ابی حاتم کا بھی حوالہ دیا۔ اس صریح کذب بیانی کو سچ ثابت کرنا ہو تو یا تو ہمیں یہ الفاظ درمنثور سے دکھا دیجئے، ورنہ حدیث کی کسی بھی کتاب سے دکھا دیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ عیسائیوں کے سامنے دوران مناظرہ کہے ہوں۔
کیونکہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ یہ الفاظ عیسائیوں کے سامنے دوران مناظرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہے ہیں تو یہ ثبوت ہو جائے گا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے والد یقینا موجود تھے۔ اور اگر یہ الفاظ ویسے کبھی عمومی طور پر کسی اور واقعہ کے تحت ثابت ہو جائیں (جیسے حدیث رکانہ سے اس کا مفہوم ثابت ہوتا ہے) اور دوران مناظرہ ثابت نہ ہوں، تو اس سے عیسیٰ علیہ السلام کے والد کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہوتا۔ لہٰذا اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ان الفاظ کو دوران مناظرہ عیسائیوں کے خلاف بطور ثبوت پیش کیا جانا ، بزبان محمد صلی اللہ علیہ وسلم ثابت کیا جائے۔ ورنہ یہ اثری صاحب اور عمار صاحب کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صریح جھوٹ ہوگا۔

تو ہم اپنے الفاظ واپس لے کر اللہ کے حضور توبہ کریں کہ آپ پر اور اثری صاحب پر جھوٹ کا الزام لگا دیا۔

سورة آل عمران
مدنية وآياتها مائتان نزلت بعد الأنفال
آية 1 - 6
أخرج ابن الأنباري في المصاحف عن أبي بن كعب أنه قرأ الحي القيوم
وأخرج عبد بن حميد عن مجاهد قال القيوم القائم على كل شيء
وأخرج أبو عبيد وسعيد بن منصور والطبراني عن ابن مسعود أنه كان يقرؤها الحي القيام
وأخرج أبو عبيد وسعيد بن منصور وعبد بن حميد وابن أبي داود وابن الأنباري معا في المصاحف وابن المنذر والحاكم وصححه عن عمر أنه صلى العشاء الآخرة فاستفتح سورة آل عمران فقرأ الم الله لا إله إلا هو الحي القيام
وأخرج ابن أبي داود عن الأعمش قال في قراءة عبد الله الحي القيام
وأخرج ابن جرير وابن الأنباري عن علقمة أنه كان يقرأ الحي القيام
وأخرج ابن جرير وابن الأنباري عن أبي معمر قال : سمعت علقمة يقرأ الحي القيم وكان أصحاب عبد الله يقرؤون الحي القيام
وأخرج ابن أبي شيبة في المصنف عن عاصم بن كليب عن أبيه قال : كان عمر يعجبه أن يقرأ سورة آل عمران في الجمعة إذا خطب
وأخرج ابن اسحق وابن جرير وابن المنذر عن محمد بن جعفر بن الزبير قال : " قدم على النبي صلى الله عليه و سلم
وفد نجران ستون راكبا فيهم أربعة عشر رجلا من أشرافهم فكلم رسول الله صلى الله عليه و سلم
منهم أبو حارثة بن علقمة والعاقب وعبد المسيح والأيهم السيد وهو من النصرانية على دين الملك مع اختلاف من أمرهم
يقولون هو الله ويقولون هو ولد الله ويقولون هو ثالث ثلاثة كذلك قول النصرانية فهم يحتجون
في قولهم يقولون هو الله بأنه كان يحيي الموتى ويبرىء الأسقام ويخبر بالغيوب ويخلق من الطين كهيئة الطير ثم ينفخ فيه فيكون طيرا وذلك كله بإذن الله ليجعله آية للناس
ويحتجون في قولهم بأنه ولد بأنهم يقولون : لم يكن له أب يعلم وقد تكلم في المهد شيئا لم يصنعه أحد من ولد آدم قبله
ويحتجون في قولهم أنه ثالث ثلاثة بقول الله : فعلنا وأمرنا وخلقنا وقضينا فيقولون : لو كان واحدا ما قال إلا فعلت وأمرت وقضيت وخلقت ولكنه هو وعيسى ومريم
ففي كل ذلك من قولهم نزل القرآن وذكر الله لنبيه فيه قولهم فلما كلمه الحبران قال لهما رسول الله صلى الله عليه و سلم : أسلما قالا : قد أسلمنا قبلك
قال : كذبتما منعكما من الإسلام دعاؤكما لله ولدا وعبادتكما الصليب وأكلكما الخنزير قالا : فمن أبوه يا محمد ؟ فصمت فلم يجبهما شيئا فأنزل الله في ذلك من قولهم واختلاف أمرهم كله صدر سورة آل عمران إلى بضع وثمانين آية منها فافتتح السورة بتنزيه نفسه مما قالوه وتوحيده إياهم بالخلق والأمر لا شريك له فيه ورد عليهم ما ابتدعوا من الكفر وجعلوا معه من الأنداد واحتجاجا عليهم بقولهم في صاحبهم ليعرفهم بذلك ضلالته فقال الم الله لا إله إلا هو الحي القيوم أي ليس معه غيره شريك في أمره الحي الذي لا يموت وقد مات عيسى في قولهم القيوم القائم على سلطانه لا يزول وقد زال عيسى
وقال ابن اسحق : حدثني محمد بن سهل بن أبي أمامة قال : لما قدم أهل نجران على رسول الله صلى الله عليه و سلم
يسألونه عن عيسى بن مريم
نزلت فيهم فاتحة آل عمران إلى رأس الثمانين منها وأخرجه البيهقي في الدلائل "
وأخرج ابن جرير وابن أبي حاتم عن الربيع قال : " إن النصارى أتوا رسول الله صلى الله عليه و سلم فخاصموه في عيسى بن مريم وقالوا له : من أبوه ؟ وقالوا على الله الكذب والبهتان
فقال لهم النبي صلى الله عليه و سلم : ألستم تعلمون أنه لا يكون ولد إلا وهو يشبه أباه ؟ قالوا : بلى
قال : ألستم تعلمون أن ربنا حي لا يموت وأن عيسى يأتي عليه الفناء ؟ قالوا : بلى
قال : ألستم تعلمون أن ربنا قيم على كل شيء يكلؤه ويحفظه ويرزقه ؟ قالوا : بلى
قال : فهل يملك عيسى من ذلك شيئا ؟ قالوا : لا
قال : أفلستم تعلمون أن الله لا يخفى عليه شيء في الأرض ولا في السماء ؟ قالوا : بلى
قال : فهل يعلم عيسى من ذلك شيئا إلا ما علم ؟ قالوا : لا
قال : فان ربنا صور عيسى في الرحم كيف شاء ألستم تعلمون أن ربنا لا يأكل الطعام ولا يشرب الشراب ولا يحدث الحدث ؟ قالوا : بلى
قال : ألستم تعلمون أن عيسى حملته أمه كما تحمل المرأة ثم وضعته كما تضع المرأة ولدها ثم غذي كما تغذي المرأة الصبي ثم كان يأكل الطعام ويشرب الشراب ويحدث الحدث ؟ قالوا : بلى
قال : فكيف يكون هذا كما زعمتم ؟ فعرفوا ثم أبوا إلا جحودا
فأنزل الله الم الله لا إله إلا هو الحي القيوم "
وأخرج سعيد بن منصور والطبراني عن ابن مسعود أنه كان يقرؤها القيام
وأخرج ابن جرير عن علقمة أنه قرأ الحي القيوم
وأخرج الفرياني وعبد بن حميد وابن جرير عن مجاهد في قوله نزل عليك الكتاب بالحق مصدقا لما بين يديه قال : لما قبله من كتاب أو رسول
وأخرج ابن أبي حاتم عن الحسن مصدقا لما بين يديه يقول : من البينات التي أنزلت على نوح وإبراهيم وهود والأنبياء
وأخرج عبد بن حميد وابن جرير عن قتادة في قوله نزل عليك الكتاب قال : القرآن مصدقا لما بين يديه من الكتب التي قد خلت قبله وأنزل التوراة والإنجيل من قبل هدى للناس هما كتابان أنزلهما الله فيهما بيان من الله وعصمة لمن أخذ به وصدق به وعمل بما فيه وأنزل الفرقان هو القرآن فرق به بين الحق والباطل
فأحل فيه حلاله وحرم فيه حرامه وشرع فيه شرائعه وحد فيه حدوده وفرض فيه فرائضه وبين فيه بيانه وأمر بطاعته ونهى عن معصيته
وأخرج ابن جرير عن محمد بن جعفر بن الزبير وأنزل الفرقان أي الفصل بين الحق والباطل فيما اختلف فيه الأحزاب من أمر عيسى وغيره
وفي قوله إن الذين كفروا بآيات الله لهم عذاب شديد والله عزيز ذو انتقام أي أن الله منتقم ممن كفر بآياته بعد علمه بها ومعرفته بما جاء منه فيها
وفي قوله إن الله لا يخفى عليه شيء في الأرض ولا في السماء أي قد علم ما يريدون وما يكيدون وما يضاهون بقولهم في عيسى
إذ جعلوه ربا والها وعندهم من علمه غير ذلك غرة بالله وكفرا به هو الذي يصوركم في الأرحام كيف يشاء قد كان عيسى ممن صور في الأرحام لا يدفعون ذلك ولا ينكرونه كما صور غيره من بني آدم فكيف يكون إلها وقد كان بذلك المنزل ؟
وأخرج ابن المنذر عن ابن مسعود في قوله يصوركم في الأرحام كيف يشاء قال : ذكورا واناثا
وأخرج ابن جرير من طريق السدي عن أبي مالك وعن أبي صالح عن ابن عباس عن مرة عن ابن مسعود وناس من الصحابة
في قوله هو الذي يصوركم في الأرحام كيف يشاء قال : إذا وقعت النطفة في الأرحام طارت في الجسد أربعين يوما ثم تكون علقة أربعين يوما ثم تكون مضغة أربعين يوما فإذا بلغ أن يخلق بعث الله ملكا يصورها فيأتي الملك بتراب بين أصبعيه فيخلط فيه المضغة ثم يعجنه بها ثم يصوره كما يؤمر ثم يقول : أذكر أم أنثى أشقي أم سعيد و ما رزقه وما عمره وما أثره وما مصائبه ؟ فيقول الله ويكتب الملك
فإذا مات ذلك الجسد دفن حيث أخذ ذلك التراب
وأخرج عبد بن حميد وابن جرير عن قتادة هو الذي يصوركم في الأرحام كيف يشاء قال : من ذكر وأنثى وأحمر وأبيض وأسود وتام وغير تام الخلق
وأخرج ابن أبي حاتم عن أبي العالية في قوله العزيز الحكيم قال : العزيز في نقمته إذا انتقم الحكيم في أمره

ف ۱ نجران کے ساٹھ عیسائیوں کا ایک موقرو معزز وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس میں تین شخص عبدالمسیح عاقب بحیثیت امارت وسیادت کے، ایہم السید بلحاظ رائے و تدبیر کے، اور ابو حارثہ بن علقمہ باعتبار سب سے بڑے مذہبی عالم اور لاٹ پادری ہونے کے عام شہرت اور امتیاز رکھتے تھے۔ یہ تیسرا شخص اصل میں عرب کے مشہور قبیلہ "بنی بکر بن وائل" سے تعلق رکھتا تھا۔ پھر پکا نصرانی بن گیا۔ سلاطین روم نے اسکی مذہبی صلابت اور مجد و شرف کو دیکھتے ہوئے بڑی تعظیم و تکریم کی۔ علاوہ بیش قرار مالی امداد کے اسکے لئے گرجے تعمیر کئے اور امور مذہبی کے اعلیٰ منصب پر مامور کیا۔ یہ وفد بارگاہ رسالت میں بڑی آن بان سے حاضر ہوا اور متنازع فیہ مسائل میں حضور سے گفتگو کی جس کی پوری تفصیل محمد بن اسحاق کی سیرۃ میں منقول ہے۔

(ف2) شان نزول: مفسرین نے فرمایا :کہ یہ آیت وفد نجران کے حق میں نازل ہوئی جو ساٹھ سواروں پر مشتمل تھا اس میں چودہ سردار تھے اور تین اس قوم کے بڑے اکابر و مقتدا ایک عاقب جس کا نام عبدالمسیح تھا یہ شخص امیر قوم تھا اور بغیر اس کی رائے کے نصارٰی کوئی کام نہیں کرتے تھے دوسرا سید جس کا نام ایہم تھا یہ شخص اپنی قوم کا معتمد اعظم اور مالیات کا افسرِ اعلیٰ تھا خوردو نوش اور رسدوں کے تمام انتظامات اسی کے حکم سے ہوتے تھے تیسرا ابو حارثہ ابن علقمہ تھا یہ شخص نصارٰی کے تمام علماء اور پادریوں کا پیشوا ئے اعظم تھا سلاطین روم اس کے علم اور اس کے دینی عظمت کے لحاظ سے اس کا اکرام و ادب کرتے تھے یہ تمام لوگ عمدہ اور قیمتیں پوشاکیں پہن کر بڑی شان و شکوہ سے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مناظرہ کرنے کے قصد سے آئے اور مسجد اقدس میں داخل ہوئے حضورِ اقدس علیہ الصلٰوۃ والتسلیمات اس وقت نماز عصر ادا فرمارہے تھے ان لوگوں کی نماز کا وقت بھی آگیا اور انہوں نے بھی مسجد شریف ہی میں جانب شرق متوجہ ہو کر نماز شروع کردی فراغ کے بعد حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گفتگو شروع کی حضور علیہ الصلوۃ والتسلیمات نے فرمایا :تم اسلام لاؤ کہنے لگے ہم آپ سے پہلے اسلام لاچکے حضور علیہ الصلوۃ والتسلیمات نے فرمایا یہ غلط ہے یہ دعوٰی جھوٹا ہے تمہیں اسلام سے تمہارا یہ دعوٰی روکتا ہے کہ اللہ کے اولاد ہے اور تمہاری صلیب پرستی روکتی ہے اور تمہارا خنزیر کھانا روکتا ہے انہوں نے کہا کہ اگر عیسےٰ خدا کے بیٹے نہ ہوں تو بتائیے ان کا باپ کون ہے اور سب کے سب بولنے لگے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ بیٹا باپ سے ضرور مشابہ ہوتا ہے انہوں نے اقرار کیا

اگر عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شکل و صورت خدا کی سی ہے تو وہ اس کا باپ ہے اور اگر اس کی شکل و صورت انسان کی سی ہے تو اس کا باپ انسان ہے۔ اس جوابی تقریر میں رسول اللہ ﷺ نے عیسیٰ علیہ السلام کا باپ تسلیم فرمایا ہے۔
بلکہ عیسائیت کے خلاف اسے بطور ثبوت پیش فرمایا ہے۔

پھر فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب حی لایموت ہے اس کے لئے موت محال ہے اور عیسےٰ علیہ الصلوٰۃ و التسلیمات پر موت آنے والی ہے انہوں نے اس کا بھی اقرار کیا پھر فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ ہمار ارب بندوں کا کار ساز اور انکا حافظ حقیقی اور روزی دینے والا ہے انہوں نے کہا ہاں حضور نے فرمایا کیا حضرت عیسیٰ بھی ایسے ہی ہیں کہنے لگے نہیں فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالٰے پر آسمان و زمین کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں انہوں نے اقرار کیا حضور نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ بغیر تعلیم الٰہی اس میں سے کچھ جانتے ہیں انہوں نے کہا نہیں حضور نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ حضرت عیسیٰ حمل میں رہے پیدا ہونے والوں کی طرح پیدا ہوئے بچوں کی طرح غذا دیئے گئے کھاتے پیتے تھے عوارضِ بشری رکھتے تھے انہوں نے اس کا اقرار کیا حضور نے فرمایا پھر وہ کیسے اِلٰہ ہوسکتے ہیں جیسا کہ تمہارا گمان ہے اس پر وہ سب ساکت رہ گئے اور ان سے کوئی جواب بن نہ آیا اس پر سور ہ آل عمران کی اوّل سے کچھ اوپراسی ۸۰ آیتیں نازل ہوئیں
فائدہ صفات الٰہیہ میں حی بمعنی دائم باقی کے ہے یعنی ایسا ہمیشگی رکھنے والا جس کی موت ممکن نہ ہو
قیوم وہ ہے جو قائم بالذات ہو اور خلق اپنی دُنیوی اور اُخروی زندگی میں جوحاجتیں رکھتی ہے اس کی تدبیر فرمائے۔





rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-01-12, 08:39 PM   #153
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
انہوں نے کہا کہ اگر عیسےٰ خدا کے بیٹے نہ ہوں تو بتائیے ان کا باپ کون ہے اور سب کے سب بولنے لگے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ بیٹا باپ سے ضرور مشابہ ہوتا ہے انہوں نے اقرار کیا

اگر عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شکل و صورت خدا کی سی ہے تو وہ اس کا باپ ہے اور اگر اس کی شکل و صورت انسان کی سی ہے تو اس کا باپ انسان ہے۔ اس جوابی تقریر میں رسول اللہ ﷺ نے عیسیٰ علیہ السلام کا باپ تسلیم فرمایا ہے۔
بلکہ عیسائیت کے خلاف اسے بطور ثبوت پیش فرمایا ہے۔
محترم، یہ اوپر لال رنگ میں‌ملون الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کن الفاظ کا ترجمہ ہے ذرا اصل عربی عبارت پیش کر دیجئے۔ ابھی معلوم ہو جائے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتہام باندھا گیا ہے یا نہیں۔
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65]
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (30-01-12), کنعان (30-01-12), عبداللہ حیدر (30-01-12)
پرانا 30-01-12, 09:08 PM   #154
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اور جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا وہ ضد میں (آکر نیکی سے) دور (ہوگئے) ہیں

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
محترم، یہ اوپر لال رنگ میں‌ملون الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کن الفاظ کا ترجمہ ہے ذرا اصل عربی عبارت پیش کر دیجئے۔ ابھی معلوم ہو جائے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتہام باندھا گیا ہے یا نہیں۔

دخلوا مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم حين صلى العصر، عليهم ثياب الحِبَرات جبب وأردية في [جمال] رجال بلحارث بن كعب، يقول من رآهم : ما رأينا وفدا مثلهم، وقد حانت صلاتهم فقاموا للصلاة في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "دعوهم" فصلوا إلى المشرق، [فسلم] السيد والعاقب فقال لهما رسول الله صلى الله عليه وسلم "أسلِما" قالا أسلمنا قبلك قال "كذبتما يمنعكما من الإسلام ادعاؤكما لله ولدا وعبادتكما الصليب وأكلكما الخنـزير" قالا إن لم يكن عيسى ولدا لله فمن يكن أبوه؟ وخاصموه جميعا في عيسى، فقال لهم النبي صلى الله عليه وسلم "ألستم تعلمون أنه لا يكون ولد إلا وهو يشبه أباه"؟ قالوا بلى قال: "ألستم تعلمون أن ربنا قيم على كل شيء يحفظه ويرزقه" قالوا: بلى، قال : "فهل يملك عيسى من ذلك شيئا؟" قالوا: لا قال: "ألستم تعلمون أن الله لا يخفى عليه شيء في الأرض ولا في السماء؟" قالوا: بلى، قال: "فهل يعلم عيسى عن ذلك شيئا إلا ما عُلِّم؟ " قالوا: لا قال: "فإن ربنا صور عيسى في الرحم كيف شاء [وربنا ليس بذي صورة وليس له مثل] وربنا لا يأكل ولا يشرب" قالوا: بلى، قال: "ألستم تعلمون أن عيسى حملته أمه كما تحمل المرأة ثم وضعته كما تضع المرأة ولدها، ثم غذي كما يغذى الصبي ثم كان يطعم ويشرب ويحدث؟"، قالوا: بلى قال: "فكيف يكون هذا كما زعمتم؟" فسكتوا، فأنـزل الله تعالى صدر سورة آل عمران إلى بضع وثمانين آية منها . "< 2-6 > "فقال عز من قائل ( الم اللَّهُ ) مفتوح الميم، موصول عند العامة، وإنما فتح الميم لالتقاء الساكنين حرك إلى أخف الحركات وقرأ أبو يوسف ويعقوب بن خليفة الأعشى عن أبي بكر ( الم الله ) مقطوعا سكن الميم على نية الوقف ثم قطع الهمزة للابتداء وأجراه على لغة من يقطع ألف الوصل .

http://www.qurancomplex.org/quran/ta...nAya=1&print=1

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
یہ تو ہوئی پہلی بات۔ اب دوسری بات یہ ہے کہ اثری صاحب نے واضح الفاظ میں حدیث رسول کے الفاظ لکھے ہیں یعنی:
لا یکون ولد الا وھو یشبہ اباہ۔
ہمیں یہ الفاظ بتا دیجئے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہاں ثابت ہیں؟ مفہوم کی بات مت کیجئے، یہی الفاظ حدیث کی کسی کتاب سے دکھا دیں! آپ کی درج بالا پوسٹ میں جو چند احادیث پیش کی گئی ہیں، ان میں یہ الفاظ کہیں بھی موجود نہیں۔ ملتا جلتا مفہوم احادیث سے ثابت ہے، لیکن بعینہ یہی الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہاں منقول ہیں؟

ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ نَزَّلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ ۗ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِي الْكِتَابِ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ (2:176)
یہ اس لئے کہ خدا نے کتاب سچائی کے ساتھ نازل فرمائی۔ اور جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا وہ ضد میں (آکر نیکی سے) دور (ہوگئے) ہیں
(Their doom is) because Allah sent down the Book in truth but those who seek causes of dispute in the Book are in a schism Far (from the purpose).‎


حضرت عیسیٰؑ کی باپدر پیدائش کا ٹھوس قرآنی ثبوت

سورہ انعام میں ۱۸ اٹھارہ نبیوں کے نام با انداز ذیل لئے گے ہیں:

وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَى قَوْمِهِ ۚ نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَنْ نَشَاءُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ (6:83)

وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ ۚ كُلًّا هَدَيْنَا ۚ وَنُوحًا هَدَيْنَا مِنْ قَبْلُ ۖ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَى وَهَارُونَ ۚ وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ (6:84)

وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَى وَعِيسَى وَإِلْيَاسَ ۖ كُلٌّ مِنَ الصَّالِحِينَ (6:85)

وَإِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطًا ۚ وَكُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعَالَمِينَ (6:86)

وَمِنْ آبَائِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ وَإِخْوَانِهِمْ ۖ وَاجْتَبَيْنَاهُمْ وَهَدَيْنَاهُمْ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (6:87)

دیکھئے! یہاں حضرت عیسیٰؑ سمیت اٹھارہ نبیوں کے نام کے نام بیان کرکے ان سب کے لئے آبَائِهِمْ کی ضمیر لائی گئی ہے جس کا مرجع حضرت عیسیٰؑ سمیت اٹھارہ نبی ہیں پس اس ضمیر آبَائِهِمْ سے روز روش کی طرح عیاں ہے کہ جس طرح ان میں سے باقی اٹھارہ نبی بے باپ نہیں تھے، اسی طرح حضرت عیسیٰؑ بھی ہرگز ہرگز بلا باپ پیدا نہیں ہوئے تھے۔

"الا" یعنی "بعض" کا لفظ آیت میں نہیں ہے۔ یہ ایک واضح پیغام ہے کہ سب کے باپ exception) (Without any بغیر کسی استثنی کے تھے !!!

آیت میں exception کے لئے "الا" کا کوئی لفظ نہیں ہے، ورنہ "وَمِنْ" "ان میں سے"، "بعض"،"الا" کس کس کے باپ نہیں تھے !!!
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-01-12, 09:15 PM   #155
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

معاف کیجئے گا رانا صاحب۔ مجھے اس پوری تقریر میں‌کہیں‌ وہ عربی الفاظ‌نظر نہیں‌آسکے جس کا ترجمہ درج ذیل جملہ کی صورت میں‌کیا جا سکے:

[COLOR="Red"]اگر عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شکل و صورت خدا کی سی ہے تو وہ اس کا باپ ہے اور اگر اس کی شکل و صورت انسان کی سی ہے تو اس کا باپ انسان ہے۔

آیت 6:87 سے حضرت عیسیٰ‌علیہ السلام کی ولدیت کا ثبوت نہیں ملتا، تفصیل گزشتہ پوسٹس میں‌بدلائل بیان کر دی گئی ہے۔ کوشش کر کے اس کا جواب عنایت کیجئے۔
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (30-01-12), کنعان (30-01-12)
پرانا 30-01-12, 10:13 PM   #156
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default فبم یشبھھا ولدھا۔ مگر رسول اللہؐ نے اس مناظرہ میں باپ کا ذکر فرمایا ہے کہ ضرورت اس کی تھی۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
معاف کیجئے گا رانا صاحب۔ مجھے اس پوری تقریر میں‌کہیں‌ وہ عربی الفاظ‌نظر نہیں‌آسکے جس کا ترجمہ درج ذیل جملہ کی صورت میں‌کیا جا سکے:
اگر عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شکل و صورت خدا کی سی ہے تو وہ اس کا باپ ہے اور اگر اس کی شکل و صورت انسان کی سی ہے تو اس کا باپ انسان ہے۔
آیت 6:87 سے حضرت عیسیٰ‌ علیہ السلام کی ولدیت کا ثبوت نہیں ملتا، تفصیل گزشتہ پوسٹس میں‌ بدلائل بیان کر دی گئی ہے۔ کوشش کر کے اس کا جواب عنایت کیجئے۔
ضد کا کوئی علاج نہیں ہے، آیات سے ثبوت ملتا ہے، آپ کو نظر نہیں آتا تو کوئی بات نہیں، اوپر والی عبارت دوبادہ پڑھ لیں، درمیان میں ایک لائن خالی ہے، پھر اثری صاحب کا جملہ ہے، آپ پہلے بھی پڑھ چکے ہیں، جو کہ اوپر والی عبارت کی تفصیل ہے، پھر دوبادہ ایک لائن خالی ہے۔ جو آپ کا اصل مطالبہ تھا کہ عربی عبارت کو ثابت کروں، وہ ثابت ہو چکا، جس سے نظریں چرانا ہی آپ کے لیے بہترہے !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں

تو ہم اپنے الفاظ واپس لے کر اللہ کے حضور توبہ کریں کہ آپ پر اور اثری صاحب پر جھوٹ کا الزام لگا دیا۔
ف ۱ نجران کے ساٹھ عیسائیوں کا ایک موقرو معزز وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس میں تین شخص عبدالمسیح عاقب بحیثیت امارت وسیادت کے، ایہم السید بلحاظ رائے و تدبیر کے، اور ابو حارثہ بن علقمہ باعتبار سب سے بڑے مذہبی عالم اور لاٹ پادری ہونے کے عام شہرت اور امتیاز رکھتے تھے۔ یہ تیسرا شخص اصل میں عرب کے مشہور قبیلہ "بنی بکر بن وائل" سے تعلق رکھتا تھا۔ پھر پکا نصرانی بن گیا۔ سلاطین روم نے اسکی مذہبی صلابت اور مجد و شرف کو دیکھتے ہوئے بڑی تعظیم و تکریم کی۔ علاوہ بیش قرار مالی امداد کے اسکے لئے گرجے تعمیر کئے اور امور مذہبی کے اعلیٰ منصب پر مامور کیا۔ یہ وفد بارگاہ رسالت میں بڑی آن بان سے حاضر ہوا اور متنازع فیہ مسائل میں حضور سے گفتگو کی جس کی پوری تفصیل محمد بن اسحاق کی سیرۃ میں منقول ہے۔

(ف2) شان نزول: مفسرین نے فرمایا :کہ یہ آیت وفد نجران کے حق میں نازل ہوئی جو ساٹھ سواروں پر مشتمل تھا اس میں چودہ سردار تھے اور تین اس قوم کے بڑے اکابر و مقتدا ایک عاقب جس کا نام عبدالمسیح تھا یہ شخص امیر قوم تھا اور بغیر اس کی رائے کے نصارٰی کوئی کام نہیں کرتے تھے دوسرا سید جس کا نام ایہم تھا یہ شخص اپنی قوم کا معتمد اعظم اور مالیات کا افسرِ اعلیٰ تھا خوردو نوش اور رسدوں کے تمام انتظامات اسی کے حکم سے ہوتے تھے تیسرا ابو حارثہ ابن علقمہ تھا یہ شخص نصارٰی کے تمام علماء اور پادریوں کا پیشوا ئے اعظم تھا سلاطین روم اس کے علم اور اس کے دینی عظمت کے لحاظ سے اس کا اکرام و ادب کرتے تھے یہ تمام لوگ عمدہ اور قیمتیں پوشاکیں پہن کر بڑی شان و شکوہ سے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مناظرہ کرنے کے قصد سے آئے اور مسجد اقدس میں داخل ہوئے حضورِ اقدس علیہ الصلٰوۃ والتسلیمات اس وقت نماز عصر ادا فرمارہے تھے ان لوگوں کی نماز کا وقت بھی آگیا اور انہوں نے بھی مسجد شریف ہی میں جانب شرق متوجہ ہو کر نماز شروع کردی فراغ کے بعد حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گفتگو شروع کی حضور علیہ الصلوۃ والتسلیمات نے فرمایا :تم اسلام لاؤ کہنے لگے ہم آپ سے پہلے اسلام لاچکے حضور علیہ الصلوۃ والتسلیمات نے فرمایا یہ غلط ہے یہ دعوٰی جھوٹا ہے تمہیں اسلام سے تمہارا یہ دعوٰی روکتا ہے کہ اللہ کے اولاد ہے اور تمہاری صلیب پرستی روکتی ہے اور تمہارا خنزیر کھانا روکتا ہے انہوں نے کہا کہ اگر عیسےٰ خدا کے بیٹے نہ ہوں تو بتائیے ان کا باپ کون ہے اور سب کے سب بولنے لگے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ بیٹا باپ سے ضرور مشابہ ہوتا ہے انہوں نے اقرار کیا

اگر عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شکل و صورت خدا کی سی ہے تو وہ اس کا باپ ہے اور اگر اس کی شکل و صورت انسان کی سی ہے تو اس کا باپ انسان ہے۔ اس جوابی تقریر میں رسول اللہ ﷺ نے عیسیٰ علیہ السلام کا باپ تسلیم فرمایا ہے۔
بلکہ عیسائیت کے خلاف اسے بطور ثبوت پیش فرمایا ہے۔

پھر فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب حی لایموت ہے اس کے لئے موت محال ہے اور عیسےٰ علیہ الصلوٰۃ و التسلیمات پر موت آنے والی ہے انہوں نے اس کا بھی اقرار کیا پھر فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ ہمار ارب بندوں کا کار ساز اور انکا حافظ حقیقی اور روزی دینے والا ہے انہوں نے کہا ہاں حضور نے فرمایا کیا حضرت عیسیٰ بھی ایسے ہی ہیں کہنے لگے نہیں فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالٰے پر آسمان و زمین کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں انہوں نے اقرار کیا حضور نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ بغیر تعلیم الٰہی اس میں سے کچھ جانتے ہیں انہوں نے کہا نہیں حضور نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ حضرت عیسیٰ حمل میں رہے پیدا ہونے والوں کی طرح پیدا ہوئے بچوں کی طرح غذا دیئے گئے کھاتے پیتے تھے عوارضِ بشری رکھتے تھے انہوں نے اس کا اقرار کیا حضور نے فرمایا پھر وہ کیسے اِلٰہ ہوسکتے ہیں جیسا کہ تمہارا گمان ہے اس پر وہ سب ساکت رہ گئے اور ان سے کوئی جواب بن نہ آیا اس پر سور ہ آل عمران کی اوّل سے کچھ اوپراسی ۸۰ آیتیں نازل ہوئیں
فائدہ صفات الٰہیہ میں حی بمعنی دائم باقی کے ہے یعنی ایسا ہمیشگی رکھنے والا جس کی موت ممکن نہ ہو
قیوم وہ ہے جو قائم بالذات ہو اور خلق اپنی دُنیوی اور اُخروی زندگی میں جوحاجتیں رکھتی ہے اس کی تدبیر فرمائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر عیسےٰ خدا کے بیٹے نہ ہوں تو بتائیے ان کا باپ کون ہے اور سب کے سب بولنے لگے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ بیٹا باپ سے ضرور مشابہ ہوتا ہے انہوں نے اقرار کیا

فقال لهم النبي صلى الله عليه وسلم "ألستم تعلمون أنه لا يكون ولد إلا وهو يشبه أباه"؟ قالوا بلى

جواب۲: مسجد نبوی میں عیسائیوں سے رسول اللہ ﷺ کا جو مناظرہ ہوا وہ در منثور میں ابن جریر، ابن ابی حاتم میں منقول ہو کر مفصل بیان ہوا ہے۔ اس میں آپ نے اس پر بحث کرتے ہوئے فرمایا :

لا یکون ولد الا وھو یشبہ اباہ۔۱؂
ہر بچہ اپنی شکل و صورت کے و دیگر کاموں میں اپنے باپ کے مشابہ ہوتا ہے۔

یعنی اگر عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شکل و صورت خدا کی سی ہے تو وہ اس کا باپ ہے اور اگر اس کی شکل و صورت انسان کی سی ہے تو اس کا باپ انسان ہے۔ اس جوابی تقریر میں رسول اللہ ﷺ نے عیسیٰ علیہ السلام کا باپ تسلیم فرمایا ہے۔ بلکہ عیسائیت کے خلاف اسے بطور ثبوت پیش فرمایا ہے۔

نظیر: ابو رکانہ عبد بن یزیدؓ نے اپنی بیوی اُمِّ رکانہؓ : کو طلاق دے کر دوسری شادی کی تو اس نے اس پر اتہام تراشا کہ وہ میری ضرورت کو پورا نہیں کر سکتا تو رسول اللہ:ﷺ نے اس کے خلاف یہ ثبوت پیش فرمایا کہ :
اترون فلانا یشبہ منہ کذا و کذا من عبد یزید و فلانا یشبہ منہ کذا و کذا قالوا نعم۔
(الحدیث رواہ ابو داؤد)
ابو رکانہؓ کی مطلقہ بیوی سے اولاد ہے جو اس کے مشابہ ہے۔لہٰذا عورت کا یہ اتہام ہے جو قابل سماعت نہیں۔ اسی طرح ماریہ قبطیہ پر الزام عائد ہوا۔ تو جیسے کہ حیاۃ الحیوان ص۴۶۱ جلد ۲ میں بحوالہ طبرانی عبد اللہ بن عمر وؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ :
مجھے الہاماً معلوم ہوا ہے کہ ان فی بطنھا غلاما منی وانہ اشبہ الخلق بی۔
اس کے جو بچہ ہے وہ میرا ہے کیونکہ شکل و صورت میں وہ میرے مشابہ ہے۔ یہ وہی دلیل ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے عیسائیوں کے بالمقابل پیش فرمایا کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے باپ سے مشابہ تھا لہذا وہ اس کا بیٹا ہے۔ خدا کا بیٹا نہیں کہ اس کے مجانس اور مشابہ نہیں۔

۱؂ ولد کی شکل و صورت جیسے باپ پر ہوتی ہے ماں پر بھی ہوتی ہے چنانچہ ام سلیمؓ کی حدیث جو آئندہ آ رہی ہے اس میں یہ لفظ ہے کہ:

فبم یشبھھا ولدھا۔
مگر رسول اللہؐ نے اس مناظرہ میں باپ کا ذکر فرمایا ہے کہ ضرورت اس کی تھی۔ (اثری)


اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
اپنے مطلب کی بات آ جائے تو حدیث‌بھی قابل قبول ہے۔ ورنہ قرآنی آیت بھی اناجیل کی رو سے قابل رد ہے۔ بہت خوب۔ ۔۔۔!!!
محترم، آپ حضرات جب قرآن میں‌کھلے عام تحریف کرنے میں‌اتنے دیدہ دلیر ہیں تو احادیث‌میں‌یہ دلیری تو یقیناً کئی سو گنا بڑھی ہوئی ہوگی۔ میں نے آپ کو دعوت دی تھی کہ دوبارہ تحقیق کر لیں، لیکن آپ نہیں‌مانے۔ لیکن ہم آپ کو اور آپ کے توسط سے دیگر لوگوں کو سمجھانا جاری رکھیں‌گے، ان شإاللہ۔
اب آپ نے جو کسی منکر حدیث‌عالم کا اقتباس کاپی پیسٹ مارا ہے، پہلے تو وہ ملاحظہ کر لیں، تاکہ بعد میں‌ آپ ترمیم کرتے پھریں، تو ہماری پوسٹ‌میں‌تو ثبوت محفوظ ہو جائے:
اس اقتباس میں‌ جھوٹ ہی جھوٹ ہے اور وہ بھی کالا سیاہ۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ صحیح‌ترین احادیث‌کو مانیں تو مجرم ٹھہریں۔ اور آپ اپنی طرف سے گھڑ گھڑ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتان باندھتے پھریں‌تو جائز۔
پہلا اتہام: اس اقتباس میں درمنثور میں‌سے منقول عبارت لا یکون ولد الا ھو یشبہ اباہ کا حوالہ جلد نمبر یا صفحہ نمبر نہیں‌دیا۔ اس مناظرہ کا ذکر قرآن کریم میں صرف سورہ آل عمران کی آیات 59 تا 61 میں مذکور ہے۔ درمنثور کی جلد 2 صفحہ 37 سے لے کر صفحہ 40 تک اس سے متعلقہ روایات درج ہیں (مطبوعہ دارلمعرفۃ۔ بیروت)۔
ان سب روایات کو بنظر غائر دیکھ لیجئے ، آپ کو کہیں یہ الفاظ نہیں مل سکیں گے جو اس اقتباس میں درج کئے گئے ہیں۔ لہٰذا یہ آپ کا (اور جن صاحب کا مضمون نقل کیا گیا ہے، ان کا بھی) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک بہت بڑا اتہام ہے کہ آپ نے یہ بات عیسائیوں کے سامنے کہی تھی۔
دوسرا اتہام: پھر اس غلط بنیاد پر آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی عیسیٰ علیہ السلام کا باپ تسلیم ہی نہیں کروایا بلکہ اسے بطور حجت عیسائیوں کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی پیش بھی کروایا ہے۔ یہ دوسرا اتہام ہوا۔
اور یاد رکھئے کہ قرآن میں اپنی رائے سے کچھ کہنا یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنا، دونوں جہنم میں لے جانے والے اعمال ہیں۔ پتہ نہیں آپ کو ڈرلگتا ہے یا نہیں، لیکن اپنا محاسبہ ضرور کیجئے، موت کا تو ویسے بھی بھروسہ نہیں، لیکن آپ ادھیڑ عمری کے جس دور سے گزر رہے ہیں، ابھی وقت ہے آپ کے پاس۔ سوچ لیجئے کہ جو لوگ اتنی دیدہ دلیری سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جھوٹ بول سکتے ہیں، وہ آپ جیسے جامد مقلدین کو تو انگلیوں پر نچاتے ہوں گے۔
وہ آپ جیسے جامد مقلدین کو تو انگلیوں پر نچاتے ہوں گے۔:: علامہ عبدالرحمن کیلانی رحمہ اللہ
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں

اعلانِ عام
وَادْعُوْا شُہْدَآ ءَ کُمْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔ (البقرہ۲: ۲۳)
علماء کرام سے گذارش ہے کہ درج ذیل پندرہ سوالات کے جوابات کتاب و سنت سے استدلالاً نہیں بلکہ صراحتاً حدیث ہونے کی صورت میں بصحت سند دے کر اس کتاب کی اشاعت کو روکنے کا ہم سے اقرار نامہ تحریر کرا لیں تاکر روز روز کی خر خش ختم ہو جائے۔
اور اگر جواب نہ دیں یا ثابت ہو جائے۔ کہ ان کے جوابات درست نہیں ہیں تو صرف اتنی اپیل ہے۔ کہ ایسے نظریات جو یہود اور نصاریٰ کی طرح قوم مسلم میں نسلاً بعد نسلٍ مشہور ہو کر تسلیم کئے گئے ہیں۔ جن کی کوئی اصل اسلام میں موجود نہیں ہے۔ ان پر خواہ مخواہ کفر کے فتوے صادر کر کے حلقہ اسلام کی وسعتوں کو اپنی خواہشات کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔
۱۔ کیا سیدہ مریم علیہا السلام صاحب حال نے یہ بیان فرمایا ہے۔ کہ میں نے اس فرزند کو
بغیر نکاح (زوج) کے جنا ہے؟
۲۔ کیا سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے کبھی بیان فرمایا ہے۔ کہ میری والدہ نے مجھے بغیر نکاح
(زوج) کے جنا ہے؟
۳۔ کیا قرآن مجید نے کہیں بیان فرمایا ہے۔ کہ مریم صدیقہ نے اپنے فرزند عیسیٰ ؑ کو بغیر نکاح
(زوج) کے جنا ہے؟
۴۔ کیا حضور اکرم ﷺ نے کبھی بیان فرمایا ہے۔ کہ مریم صدیقہؑ نے عیسیٰ ؑ کو نکاح (زوج)
کے بغیر جناہے؟
۵۔ کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے کبھی رسول اکرم ﷺ کے سامنے ذکر کرتے ہوئے
عیسیٰ ؑ کو (بے پدر ۔ بلا باپ) فرمایا ہے۔ جس کو سن کر آپ نے تصدیق فرمائی ہے۔
پسند فرمایا ہے۔ یا کم از کم خاموشی اختیار فرمائی ہے؟
۶۔ ضابطہ پیدائش انسانی کا ذکر قرآن مجید میں بیسیوں جگہ موجود ہے۔ کہیں کسی جگہ بھی سیّدنا
عیسیٰ علیہ السلام کو اِس سے مستثنیٰ کیا گیا ہے؟
۷۔ کیا عیسیٰ ؑ سے قبل انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی ؑ نے بھی عیسیٰ علیہ السلام کا نام لے
کر یا بغیر نام لئے کسی نبی علیہ السلام کی ولادت بلا باپ کی پیش گوئی بطور وحی بتائی ہے؟
۸۔ کیا اب بھی کسی بے نکاحی (بلا خاوند) عورت کا حمل قرآن و حدیث کی دلیل سے
قدرتِ الٰہی پر محمول کیا جا سکتا ہے؟ اگر نہیں تو کیوں؟ کیا اب اللہ تعالیٰ قادر نہیں ہے؟
۹۔ کیا ہر ایک مولود نبی علیہ السلام کا نکاح سے پیدا ہونا شرعاً لازم نہ تھا؟ آپ ﷺ کا
ارشاد جو طبرانی میں ہے جس کا معنی ہے کہ ’’میرے سلسلہ نسب میں کوئی بھی ولادت
بغیر نکاح کے نہیں ہوئی۔‘‘ کا کیا مطلب ہے؟
۱۰۔ اگر بغیر باپ عیسوی ولادت کا خیال بنیادی اور اعتقادی ہے۔ یا ایمانیات میں داخل
ہے تو اس کا ثبوت واضح ارشاد باری یا احادیث صحیحہ سے ضروری نہیں ہے؟ کیا عقائد
اسلامی کی بنیاد استدلالات پر قائم ہو سکتی ہے؟
۱۱۔ کیا آپ ﷺ کے زمانہ اقدس میں عقائد اسلامی متعین ہوئے تھے یا نہیں؟ اگر ہو چکے
تھے تو آپ ﷺ نے عیسیٰ علیہ السلام کی بے پدری ولادت کو عقائد اسلامی میں شامل
فرمایا ہے؟ کہاں اور کیسے؟
۱۲۔ کتب تفاسیر میں عیسیٰ علیہ السلام کی بے پدری ولادت کا ذکر موجود ہے۔ (صحیح ہے)
آپ کسی ایک تفسیر کا نام لے سکتے ہیں۔ کہ جو کچھ اس میں صاحب تفسیر نے بیان کیا
ہے وہ سب کا سب صحیح اور درست ہے؟
۱۳۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت معجزہ تھی تو آپ بتائیں کہ یہ معجزہ کس کا تھا؟ سیدہ مریم کا؟
ذکریا علیہ السلام کا؟ یا کسی اور نبی کا؟ نیز معجزہ کی تعریف کیا ہے؟ جو آپ کے ہاں مسلّم ہے؟
۱۴۔ ولد والد اور والدہ میں سے ہر ایک دوسرے دو کا ثبوت کامل ہے۔ قرآن مجید میں کہیں ولد کا
ذکر ہے۔ والد اور والدہ دونوں کا نہیں ۔ کہیں والد کا ذکر ہے ۔ اور ولد اور والدہ دونوں کا
نہیں۔ کہیں ولد اور والد کا ذکر ہے والدہ کا نہیں ہے پھر کہیں والدہ بغیر ولد یا ولد بغیر والدہ
کے تسلیم کیا گیا ہے؟ تاکہ اس کا عکس بھی تسلیم کر لیا جائے؟
۱۵۔ اصول و فروع دونوں مسلم۔ کیا ولادت مسیح کا مسئلہ اصولی ہے یا فرعی؟ کتاب و سنت سے وضاحت کریں؟ نیز اصول و فروع کی تشریح بھی جو آپ کے ہاں مسلم ہے؟
(فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا۔) (۲:۲۴)
’’پھر اگر تم ایسا نہ کر سکو اور حقیقت بھی یہی ہے کہ تم کبھی ایسا نہیں کر سکو گے۔‘‘
تو پھر اثری صاحبؒ مرحوم کے ’’بے کار دلائل ‘‘ کا جواب ’’کار آمد دلائل‘‘ سے دے کر مشکور فرمائیں۔

علامہ عبدالرحمن کیلانی رحمہ اللہ


اور آخر میں دوبارہ لکھا ہے کہ یہ سب کے سب ’’قائلین معجزات‘‘ کے لئے کار آمد نہیں اور تعجب کی بات یہ ہے کہ اپنے ’’کار آمد دلائل‘‘ کا ذکر تک نہیں فرمایا:
میرے محترم بزرگ جناب عبدالرحمن کیلانی صاحب نے اپنی کتاب ’’عقل پرستی‘‘ میں حافظ صاحب کی پیش کردہ ایک حدیث کے حصہ کو بھی بحثِ موضوع بنایا اور بڑے وثوق سے تحریر کر دیا کہ ’’یہ حدیث کا ٹکڑا حافظ صاحب نے کہاں سے لیا جس پر خواہ مخواہ ابن جریر کا حوالہ دے دیا ہم نے پوری کتاب چھان ماری لیکن اِس میں یہ حوالہ مطلق نہیں ملا۔ یہ ہے اُن کی ذہانت و امانت کا حال۔‘‘
یہ تحریر پڑھنے کے بعد میں نے ابن جریر کے اِس صفحہ کی فوٹو آپ کو رو در رو دی اور عرض کیا کہ آپ نے اِس کو کہاں سے تلاش کیا اور کس طرح تحدّی کے ساتھ حافظ صاحب کو مذاق کا نشانہ بنانے کی کوشش کی تو حوالہ دیکھ کر فرمانے لگے ’’ میں معذرت خواہ ہوں‘‘ یہی وہ باتیں ہیں جن کی بنا پر بندہ موصوف کو ’’اللہ کا ایک نیک بندہ تصور کرتا ہے۔‘‘ اور نظریات کے اِس فرق کو کوئی اہمیت نہیں دیتا بلکہ عدم تفہیم پر دال کرتا ہے اور ابن جریر کی محولہ عبارت آگے آ رہی ہے آپ بھی ملاحظہ فرما لیں۔
بعد ازیں ناچیز بندہ نے عیونِ زمزم کا تیسرا ایڈیشن شائع کیا تو اُس میں صاف صاف تحریر کیا کہ ’’علامہ کیلانی‘‘ صاحب سے ہماری گذارش ہے کہ وہ اپنے ’’کار آمد دلائل‘‘ کا بھی ذکر فرمائیں اور یاد دہانی بھی کرائی لیکن بعد ازیں اُنہوں نے اپنی وفات تک اِس سلسلہ میں قلم کو حرکت نہ دی۔
اب جب کہ ’’کیلانی صاحب‘‘ کو بھی اِس دارِ فانی سے دارا لآخرت کو منتقل ہوئے ایک عرصہ گذر چکا ہے ’’عیونِ زمزم‘‘ کا یہ چوتھا ایڈیشن طبع ہو کر آپ کے ہاتھوں میں ہے ہم مرکزی جمعیت اہل حدیث کے اُن رفقاء سے مخاطب ہیں جو کیلانی صاحب سے یہ کتاب لکھوا کر اپنا اور جماعت کا نام روشن کرنا چاہتے تھے وہ اُن ’’کار آمد دلائل‘‘ کو نوک قلم پر لائیں تاکہ اُن کے ’’کار آمد دلائل‘‘ کو وہ لوگ بھی پڑھ سکیں جو اب تک ’’بے کار دلائل‘‘ پڑھتے ہیں اور محض اِس لئے منہ چڑھا دیتے ہیں کہ علامہ کیلانی نے فرمایا ہے کہ یہ ’’دلائل بے کار‘‘ ہیں اِس لئے ہم ان کو ماننے کے لئے تیار نہیں اور صاحبِ علم اُن کی یہ بات سنتے ہیں تو ہنس کر رہ جاتے ہیں کہ اگر کتاب و سنت سے دئیے گئے دلائل بے کار ہیں تو پھر ’’کار آمد دلائل‘‘ کہاں سے آئیں گے اور اِس طرح یہ بھی کہ جب وہ کتاب و سنت میں نہیں بلکہ علاوہ از کتاب و سنت ہیں تو وہ ’’کار آمد دلائل‘‘ کیسے ہوں گے؟
اثری
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 31-01-12, 09:59 AM   #157
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

رانا صاحب،
میں‌نے ابن جریر والی عبارت پر اعتراض کیلا نی صاحب کی کتاب ’عقل پرستی اور انکار معجزات‘ ہی سے نقل کیا تھا۔ اور اب آپ کے حوالہ دینے کے بعد میں‌نے خود بھی ڈبل چیک کر لیا ہے تو اس اعتراض کو غلط ہی پایا ہے اور اپنے وعدے کے مطابق میں‌اللہ کے حضور بھی توبہ کرتا ہوں‌ اور آپ سے ذاتی حیثیت میں‌بھی معذرت خواہ ہوں‌کہ غلط فہمی میں‌آپ پر اور عنایت اللہ اثری صاحب پر اتہام کا الزام عائد کیا۔اور مجھے امید ہے کہ آپ اس غلطی کو درگزر کر دیں‌گے۔

لیکن محترم، بات یہ ہے کہ لفظی تحریف نہ سہی، معنوی تحریف تو بہرحال ثابت ہے۔ بیٹا باپ کے مشابہ ہوتا ہے، سے یہ مراد لینا کہ:

اگر عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شکل و صورت خدا کی سی ہے تو وہ اس کا باپ ہے اور اگر اس کی شکل و صورت انسان کی سی ہے تو اس کا باپ انسان ہے۔

اور اس کے بعد کا یہ جملہ کہ:
اس جوابی تقریر میں رسول اللہ ﷺ نے عیسیٰ علیہ السلام کا باپ تسلیم فرمایا ہے۔
بلکہ عیسائیت کے خلاف اسے بطور ثبوت پیش فرمایا ہے۔


صریح‌معنوی تحریف کے زمرہ میں‌آتا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عمومی مشابہت کا ذکر کیا، نہ کہ شکل و صورت کا، کہ شکل انسانوں‌والی ہے تو باپ انسان ہے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ تو یہ الفاظ‌ثابت ہیں، نا ان کا مفہوم ہی ثابت ہے۔ اور اپنا تحریفی بیان داغ کر پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتہام عائد کیا گیا ہے کہ اس جوابی تقریر میں‌رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسیٰ‌علیہ السلام کا باپ تسلیم فرمایا ہے بلکہ عیسائیت کے خلاف اسے بطور ثبوت پیش فرمایا ہے۔

حالانکہ اگر شکل و صورت انسانوں والی ہونے سے باپ کا ہونا لازم آتا ہے تو پھر آدم و حوا علیہم السلام کے بارے میں‌بھی تسلیم کیجئے کہ ان کا بھی باپ تھا، اور یا یہ کہیں‌کہ ان کی شکل و صورت انسانوں والی نہیں‌تھی؟ یا پھر اپنے منطقی دلائل کی رو سے اللہ کو ان کا باپ تسلیم کیجئے، (نعوذباللہ )۔

قرآن کی یہ آیت کہ عیسیٰ علیہ السلام کی مثال تخلیق میں آدم علیہ السلام جیسی ہے ، منکرین قرآن کے گلے کی ہڈی ہے۔ کہ نہ تو اس کا انکار کر سکتے ہیں اور نہ تخلیق میں آدم و عیسیٰ علیہم السلام میں ایسی مشابہت ثابت کر سکتے ہیں جو دیگر انسانوں میں مفقود ہو۔ اور مزے کی بات ہے کہ یہ آیت بھی اسی مناظرہ کے پس منظر میں نازل ہوئی تھی۔ جو اُس دور کے منکرین قرآن کے لئے بھی چیلنج تھی کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام کا باپ نہ ہونے سے اللہ کا بیٹا ہونا لازم قرار پاتا ہے، تو پھر آدم علیہ السلام تو بدرجہ اولیٰ اللہ کے بیٹے قرار پائیں گے (نعوذباللہ) کیونکہ ان کے تو ماں باپ دونوں ہی نہیں تھے۔ اور یہی آیت آج کے دور کے منکرین قرآن کے لئے بھی چیلنج ہے کہ عیسیٰ کی بن باپ معجزانہ ولادت کو اگر صرف قرآن کی سند پر ماننا اس لئے ممکن نہیں کیونکہ اہل مغرب ہنسیں گے اور دقیانوسیت کا طعنہ دیں گے، اور معجزات کو ماننا بھی لازم آئے گا تو یہ باتیں تو حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے ساتھ بھی منسلک ہیں۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام کی بن باپ معجزانہ ولادت اس لئے ممکن نہیں کہ علت و معلول cause and effect کے قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو یہی مسئلہ تخلیق آدم علیہ السلام کے ساتھ بھی تو ہے۔۔!!! تو کیا وجہ ہے کہ قرآن کی بنیاد پر آدم علیہ السلام کی معجزانہ ولادت کو تو تسلیم کیا جائے اور عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ ولادت کا انکار کر دیا جائے۔
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
شکاری کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (31-01-12)
پرانا 31-01-12, 06:32 PM   #158
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اللہ مجھے اور آپ کو قرآن کے معاملے میں ہدایت دے، آمین !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
رانا صاحب،
میں‌نے ابن جریر والی عبارت پر اعتراض کیلا نی صاحب کی کتاب ’عقل پرستی اور انکار معجزات‘ ہی سے نقل کیا تھا۔ اور اب آپ کے حوالہ دینے کے بعد میں‌نے خود بھی ڈبل چیک کر لیا ہے تو اس اعتراض کو غلط ہی پایا ہے اور اپنے وعدے کے مطابق میں‌اللہ کے حضور بھی توبہ کرتا ہوں‌ اور آپ سے ذاتی حیثیت میں‌بھی معذرت خواہ ہوں‌کہ غلط فہمی میں‌آپ پر اور عنایت اللہ اثری صاحب پر اتہام کا الزام عائد کیا۔اور مجھے امید ہے کہ آپ اس غلطی کو درگزر کر دیں‌گے۔
لیکن محترم، بات یہ ہے کہ لفظی تحریف نہ سہی، معنوی تحریف تو بہرحال ثابت ہے۔ بیٹا باپ کے مشابہ ہوتا ہے، سے یہ مراد لینا کہ:
اگر عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شکل و صورت خدا کی سی ہے تو وہ اس کا باپ ہے اور اگر اس کی شکل و صورت انسان کی سی ہے تو اس کا باپ انسان ہے۔
اور اس کے بعد کا یہ جملہ کہ:
اس جوابی تقریر میں رسول اللہ ﷺ نے عیسیٰ علیہ السلام کا باپ تسلیم فرمایا ہے۔
بلکہ عیسائیت کے خلاف اسے بطور ثبوت پیش فرمایا ہے۔

صریح‌معنوی تحریف کے زمرہ میں‌آتا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عمومی مشابہت کا ذکر کیا، نہ کہ شکل و صورت کا، کہ شکل انسانوں‌والی ہے تو باپ انسان ہے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ تو یہ الفاظ‌ثابت ہیں، نا ان کا مفہوم ہی ثابت ہے۔ اور اپنا تحریفی بیان داغ کر پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتہام عائد کیا گیا ہے کہ اس جوابی تقریر میں‌رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسیٰ‌علیہ السلام کا باپ تسلیم فرمایا ہے بلکہ عیسائیت کے خلاف اسے بطور ثبوت پیش فرمایا ہے۔
حالانکہ اگر شکل و صورت انسانوں والی ہونے سے باپ کا ہونا لازم آتا ہے تو پھر آدم و حوا علیہم السلام کے بارے میں‌بھی تسلیم کیجئے کہ ان کا بھی باپ تھا، اور یا یہ کہیں‌کہ ان کی شکل و صورت انسانوں والی نہیں‌تھی؟ یا پھر اپنے منطقی دلائل کی رو سے اللہ کو ان کا باپ تسلیم کیجئے، (نعوذباللہ )۔
قرآن کی یہ آیت کہ عیسیٰ علیہ السلام کی مثال تخلیق میں آدم علیہ السلام جیسی ہے ، منکرین قرآن کے گلے کی ہڈی ہے۔ کہ نہ تو اس کا انکار کر سکتے ہیں اور نہ تخلیق میں آدم و عیسیٰ علیہم السلام میں ایسی مشابہت ثابت کر سکتے ہیں جو دیگر انسانوں میں مفقود ہو۔ اور مزے کی بات ہے کہ یہ آیت بھی اسی مناظرہ کے پس منظر میں نازل ہوئی تھی۔ جو اُس دور کے منکرین قرآن کے لئے بھی چیلنج تھی کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام کا باپ نہ ہونے سے اللہ کا بیٹا ہونا لازم قرار پاتا ہے، تو پھر آدم علیہ السلام تو بدرجہ اولیٰ اللہ کے بیٹے قرار پائیں گے (نعوذباللہ) کیونکہ ان کے تو ماں باپ دونوں ہی نہیں تھے۔ اور یہی آیت آج کے دور کے منکرین قرآن کے لئے بھی چیلنج ہے کہ عیسیٰ کی بن باپ معجزانہ ولادت کو اگر صرف قرآن کی سند پر ماننا اس لئے ممکن نہیں کیونکہ اہل مغرب ہنسیں گے اور دقیانوسیت کا طعنہ دیں گے، اور معجزات کو ماننا بھی لازم آئے گا تو یہ باتیں تو حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے ساتھ بھی منسلک ہیں۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام کی بن باپ معجزانہ ولادت اس لئے ممکن نہیں کہ علت و معلول cause and effect کے قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو یہی مسئلہ تخلیق آدم علیہ السلام کے ساتھ بھی تو ہے۔۔!!! تو کیا وجہ ہے کہ قرآن کی بنیاد پر آدم علیہ السلام کی معجزانہ ولادت کو تو تسلیم کیا جائے اور عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ ولادت کا انکار کر دیا جائے۔
اللہ مجھے اور آپ کو قرآن کے معاملے میں ہدایت دے، آمین !!!
آپ نے اب تک دیکھا ہو گا کہ میں نے ہر مراسلہ میں آپ کا شکریہ ادا کیا ہے، جواب دینے کی وجہ سے اور اب بھی شکریہ ادا کرتا ہوں، ورنہ ایک ارب مسلمانوں میں سے کس کے پاس قرآن کے معاملے میں غور کا وقت ہے کہ کئی رات تک نیند نہ آئے، اور میں نے یہ معاملہ ایسے ہی سمجھا ہے جیسے کہ آپ نے اختلاف قرآءت !!!


سوال: انڈہ کے ذکر پر یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ بعض مرغیاں اسے بغیر مرغ کے بھی وضع کرتی ہیں تو اگر مریم رضی اللہ عنہا نے بغیر شوہر کے بچہ پیدا کر لیا تو کیا حرج ہے؟

جواب: کوئی مرغی ایسی بھی ہوتی ہے جو مرغ کی اذان سن کر یا اسے دور سے دیکھ کر تخیل پیدا کرتی ہے تو اس کے غلبہ سے یہ صورت پیدا ہو جاتی ہے تو کیا مریم رضی اللہ عنہا نے اپنی عفت کے خلاف ایسا کیا تھا؟ بعض کا خیال ہے کہ ہاں ایسا کیا تھا چنانچہ تفسیر بیضاوی میں ہے کہ:
اتاھا جبریل متمثلا بصورۃ شاب امرد سوی الخلق لتستأنس بکلامہ و لعلہ لیھیج شھوتھا فتہدر نطفتھا الی رحمھا۔
اور تفسیر مدارک میں ہے کہ:
تمثل لھا فی صورہ ادمی شاب امرد و ضیء الوجہ جعد الشعر۔
جبرائیل علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک بے ریش گنگریالے بال خوبصورت نوجوان لڑکے کی شکل میں مریم رضی اللہ عنہا کے پاس آیا تھا تاکہ وہ جنسی خیال سے اس کی طرف خوب نظر دوڑا کر دیکھے اور ہیجان سے اس کا نطفہ اس کے رحم میں پہنچ کر حمل ٹھہر جائے، کیا خوب ہے؟

فرشتہ نے بھیس بدلا اور وہ بھی عورت کا نہیں، مرد کا، بوڑھے کا نہیں بلکہ جوان کا اور معمولی شکل کا نہیں بلکہ خوبصورت اور بال گنگریالے تاکہ عفیفہ کے دل میں اس کی امنگ پیدا ہو کر مذکورہ صورت پیدا ۱؂ ہو جائے۔

۱؂ یہ سب کچھ کر لیا تو باقی کام کی روک کیا تھی۔ ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرشتوں کو انسانی شکل میں دیکھ کر ان کی خدمت میں کھانا رکھا مگر انہوں نے نہیں کھایا کہ حقیقت بشری نہیں پھر لوط علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی خائف ہوئے کہ یہ مہمان ہیں اور قوم بدکار ہے مگر وہ فرشتے تھے تو آگاہ فرمایا۔ انا رسول ربک لن یصلوا الیک۔ (ہود) ہم بظاہر انسان ہیں حقیقت بشری نہیں۔ یہ سب علماء کو مسلم ہے کہ فرشتہ انسانی شکل میں بدل کر حقیقت بشری میں نہیں آ جاتا۔ مگر معلوم نہیں کہ یہاں پر انہوں نے فرشتہ کو بد ارادہ پر کیوں مشتعل کرایا اور معصومہ اگر اسے فرشتہ جانتی تھی تو وہ کیسے مشتعل ہوئی اور اگر سچ مُچ اسے غیر شوہر انسان سمجھا تھا تو وہ پاک کیسے رہی؟ (اثری)

ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ شریعت طاہرہ کے خلاف ہے جیسے بیان کیا گیا ہے۔ اگرچہ ابوالسعود نے اس کی تردید کر دی ہے۔ مگر تعجب ہے کہ یہ سب کچھ تسلیم کر لیا ہے مگر شادی تسلیم نہیں کی۔ کیا خوب ہے؟

جواب۲: حیاۃ الحیوان ص۴۹۰ جلد۱ میں ہے کہ: و ھذا النوع من البیض لا یتولد منہ حیوان۔
ایسے انڈوں سے جو مرغ کے بغیر پیدا ہوں کوئی زندہ بچہ پیدا نہیں ہوتا۔ا ور عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام تو اس کے خلاف زندہ پیدا ہوئے۔ جوان ہوئے اور صاحبِ نبوت ہوئے۔ کہ باپ ہے۔

حکایت عجیبہ۱: شیخ محی الدین ابن عربی کی ’’فصوص الحکم‘‘ کے ترجمہ میں مناقب غوثیہ سے منقول ہے کہ ’’جب آپ کے والد کا سن بچاس برس کا ہوا اور کوئی اولاد نہیں ہوئی تو آپ نے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر دعاء کے واسطے عرض کیا۔ حضرت نے دعا فرمائی الہام ہوا کہ ان کے اولاد نہیں ہو سکتی ہاں اگر کوئی دوسرا شخص اپنی اولاد ان کو ہبہ کر دے تو ممکن ہے حضرت غوث الاعظمؒ نے حضرت علی بن محمد سے فرمایا کہ میرے صلب میں ایک لڑکا ہے میں نے تم کو دے دیا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ وہ امت محمدیہ میں جلیل القدر ولی ہو گا اور جب وہ پیدا ہو تو اس کا نام محمد رکھنا۔ حضرت علی بن محمد اپنے گھر واپس آئے تو اس شب کو آپ کی زوجہ حاملہ ہوئی ایام حمل گزرنے کے بعد حضرت محی الدین ابن عربی پیدا ہوئے ۲؂ ۔

۲؂ یہ واقعہ تذکرہ غوثیہ ص۳۹۲ پر ملاحظہ کریں۔ (نظر ثانی)

آپ کے والد حضرت غوث الاعظمؒ کے پاس آپ کو لے گئے۔ حضرت غوث الاعظمؒ نے فرمایا کہ یہ میرا لڑکا ہے اور ان شاء اللہ ولی ہو گا اور ایسا ہی ظہور میں آیا۔‘‘

کسی غیر شوہر کی پشت سے اس کے بچہ کا مواد خارج ہو کر کسی دوسرے کی بیوی کے رحم میں چلا جانا اگرچہ کرامت کے طور پر بیان کیا گیا مگر ہمارے خیال میں یہ دونوں کے لئے اچھا کام نہیں۔

ایسے مواقع پر یاس کن خیالات یا کہ حالات پیدا ہوں تو دعاء اور دوا سے کام لیا جائے تو اللہ تعالیٰ یاس کو امید سے بدل سکتا ہے اور دوائے طبیب اور دعائے بزرگ کے کامیاب ثابت ہونے پر ان کا شکریہ ہے۔ اور بچہ اپنے باپ کا ہے ورنہ بصورت دیگر پیراندتہ یا کہ گُراں دتہ ہو گا۔

حکایت عجیبہ۲: دعوت دہلی بابت ۲۲؍ دسمبر ۱۹۶۲ ؁ء اور ایشاء لاہور بابت ۹؍ ۱۲؍ جنوری ۱۹۶۳ ؁ء طلوع اسلام لاہور بابت مارچ ۱۹۶۳ ؁ء اور تجلی دبوبند بابت مارچ اپریل ۱۹۶۳ ؁ء اور فاران کراچی و دیگر اخبارات میں مولانا محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند (سہارنپور) کا بیان موصوف کی شائع کردہ کتاب ’’السلام اور مغربی تہذیب‘‘ سے منقول ہو کر مفصل طور پر شائع ہوا ہے جس کا نہایت اختصار کے ساتھ خلاصہ یہ ہے کہ جبرائیل علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جس بشراً سویاً کی صورت میں ہو کر مریم رضی اللہ عنہا کے فرج میں پھونک ماری تھی وہ محمد رسول اللہ ﷺ کی شبیہ تھی۱؂۔

۱؂ تفصیل کے لئے مصوف کی کتاب ’’اسلام اور مغربی تہذیب‘‘ ملاحظہ ہو ۔ (اثری)

یہ سب کچھ ہوا، کوئی حرج نہیں (معاذاللہ) مگر شرعی نکاح نہیں ہونے دیا۔ جو کہ بحسب ارشاد الٰہی وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِکَ وَجَعَلْنَا لَھُمْ اَزْوَاجًا وَّذُرِّیَّۃً۔ (رعد) تمام انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی سنت مطہر ہے، کیا خوب ہے!

لبن الفحل: ایک شرعی مسئلہ ہے جو کہ کتب حدیث میں منصوص ہے۔جمع الفوائد ص۱۲۱جلد ۱میں بحوالہ مؤطا امام مالکؒ او ر ترمذی، مروی ہے کہ ایک شخص کی دو عورتیں ہیں ایک نے کسی کے بچہ کو اور دوسری نے کسی کی بچی کو دودھ پلایا تو کیا اس بچی، بچہ کا باہم نکاح ہو سکتا ہے تو عبد اللہ بن عباسؓ نے فرمایا کہ نہیں کیونکہ اللقاح ۲؂ واحد مرکز دودھ (شوہر) ایک ہے۔ جس کے جماع اور امناء کی وجہ سے دودھ پیدا ہوتا ہے۔
اسی طر ح پر دیگر کتب حدیث میں اس کی پوری تفصیل موجود ہے کہ جماع کی وجہ سے دودھ پیدا ہوتا ہے۔

اور جیسے کہ نبوی مناظرہ میں ہے کہ مریم رضی اللہ عنہا نے عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دودھ پلایا ہے تو پھر اس کا شوہر ثابت ہوا۔

۲؂ نر (۱) اور مادہ (۲) کا باہم ملاپ اور اور (۱) کی پشت سے پانی خارج ہو کر (۲) کے رحم میں ٹپکنا مراد ہے۔ (اثری)

صحیح بخاری باب لبن الفحل میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ افلح کی بھاوج نے مجھے دودھ پلایا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے میرا رضاعی چچا ٹھہرایا، میں نے اعتراض بھی کیا کہ افلح کا اس سے کیا واسطہ، فرمایا کہ نہیں، یہ تیرا رضاعی چچا ہے۔

اس پر فتح الباری ص۵۱ پارہ ۲۱ میں حافظ صاحب نے فرمایاہے کہ:
والی ھذا اشار ابن عباس رضی اللہ عنہ بقولہ فی ھذا المسئلۃ اللقاح واحد اخرجہ ابن ابی شیبۃ و ایضا فان الوطاء یدر اللبن فللفحل فیہ نصیب و ذھب الجمہور من الصحابۃ والتابعین و فقہاء الامصار کالاوزاعی فی اھل الشام والثوری و ابی حنیفۃ فی اھل الکوفۃ وابن جریج فی اھل مکۃ وما لک فی اھل المدینۃ والشافعی و احمد واسحق وابی ثور واتباعھم الی ان لبن الفحل یحرم حجتھم وھذا الحدیث الصحیح۔
عبداللہ بن عباسؓ نے اللقاح واحد فرما کر اس مسئلہ پر خوب روشنی ڈالی ہے (جسے میں پہلے بیان کر آیا ہوں) نیز فرمایا کہ مرد کے جماع کی وجہ سے ہی تو عورت کو دودھ پیدا ہوتا ہے۔ جس سے جماع نہیں ہوا اس سے نہ بچہ پیدا ہوتا ہے اور نہ دودھ اترتا ہے۔
تمام صحابہ کرام او تابعین عظام اور دیگر شہروں کے فقہاء کا بھی مسلک ہے چنانچہ شامیوں میں امام اورزاعیؒ اور کوفیوں میں امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ اور امام محمد ؒ اور امام ثوریؒ اور مکہ مکرمہ میں امام عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج ؒ اور مدینہ طیبہ میں امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمدؒ اور امام اسحاقؒ اور امام ابو ثورؒ و نیز دیگر آئمہ کرام لبن الفحل کا اس حدیث کی بناء پر اعتراف کرتے ہیں اور یہ حدیث صحیح مسلم و دیگر کتب حدیث میں بھی موجود ہے۔

اور نہایہ ابن الاثیر میں ہے کہ:
ان لبن الفحل یحرم یرید بالفحل الرجل تکون لہ امرأۃ ولدت منہ ولد ا ولھا لبن فکل من ارضعتہ من الاطفال بھذا اللبن فھو محرم علی الزوج و اخوتہ و اولادہ منھا و من غیرھا لان اللبن للزوج حیث ھو سببہ و ھذا مذہب الجماعۃ۔
لبن الفحل کا مطلب یہ ہے کہ کسی کی عورت نے بچہ جنا اور اسے دودھ اترا تو وہ کسی دوسرے کے بچہ کو دودھ پلائے تو وہ اس کی نسب کی طرح ماں اور اس کا شوہر نسب کی طرح اس کا باپ اور اس کے بھائیوں اور اس کی اولاد کا رشتہ بھی اس سے نسب کی طرح ہو جاتا ہے کیونکہ عورت کا (بچہ جیسے کہ شوہر کے جماع کی وجہ سے پیدا ہوا ہے ویسے ہی) دودھ (بھی) شوہر کے جماع کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔

اور امام شافعیؒ نے کتاب الام ص۲۵ جلد۵ میں فرمایا ہے کہ:
فاللبن الرجل والمرأۃ کما یکون الولد للرجل والمرأۃ۔
جیسے کہ بچہ زوجین کے ملاپ سے پیدا ہوتا ہے اس کے بغیر نہیں ایسے ہی دودھ بھی دونوں کے ملاپ سے پیدا ہوتا ہے اس کے بغیر نہیں۔

اور قریب قریب سب آئمہ کرام کا بھی مسلک یہی ہے اور کتب حدیث اور شروح میں بھی اسی طرح پر بیان کیا گیا ہے۔ لہذا جب عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی والدہ ماجدہ کا دودھ پیا ہے تو ان کا باپ اور اس کا شوہر ثابت ہوا۔

مؤلف** حضرت العلام۔ استاذی حافظ عنایت اللہ اثری مرحوم مغفور

شائع کردہ
انجمن اشاعتِ اسلام ٹھٹھہ عالیہ (رجسٹرڈ) منڈی بہاؤالدین
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 31-01-12, 08:21 PM   #159
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اس سے صاف ظاہر ہے کہ بے پدری کاخیال مسلمانوں میں صدیوں بعد پھیلا ہے۔

سوال: سورہ آل عمران اور سورہ مریم میں اللہ پاک نے عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا حال مفصل طور پر بیان فرمایا ہے جس سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ بے پدر پیدا ہوئے ہیں ان کے باپ کا تو کہیں ذکر موجود نہیں ہے۔

جواب: اتنی تفصیل کے با وجود یہ تو پھر بھی کہیں نہیں فرمایا کہ وہ بے پدر پیدا ہوا ہے خط کشیدہ لفظ جب باتوں میں بولا جاتا ہے تو عربی میں اس کا ترجمہ ولد من غیر والد او ولد من غیر ابٍ او لیس لہ والد او لیس لہ اب او لم یکن لہ والد یا کہ ولدتہ امہ من غیر زوج او ولدتہ من غیر بعل او ولدتہ من غیر فحل یا کہ ولدتہ امہ من غیر ان تنکح زوجا او بعلاً اور فحلاً۔ ہوتا ہے اللہ پاک نے ایک طویل بیان دیا ہے اور ایک لفظ اختیار نہیں فرمایا جو ہماری بات چیت میں عام ہے پھر اس کے بعد رسول اللہ:ﷺ نے بھی کبھی یہ لفظ ارشاد نہیں فرمایا اور نہ صحابہ ۱؂ کرامؓ نے کبھی یہ لفظ بولا پھر خواہ مخواہ ایسے لفظوں کے استعمال کی کیا ضرورت ہے جو قرآن و حدیث سے ثابت نہ ہوں۔
اصل بات یہ ہے کہ یہ طول کلامی بے پدری پر نہیں بلکہ ایک وقتی رسم و رواج پر ہے جیسے کہ میرے بیان سے ظاہر ہے۔

۱؂ ابن جریر میں عبد اللہ بن عباسؓ سے ایک روایت مرفوعاً مروی ہے جس میں بغیر فحلٍ او بعلٍ کا لفظ آیا ہے مگر وہ سنداً صحیح نہیں پھر وہ اسرائیلیات سے ماخوذ ہے۔ (اثری)

سوال: مستدرک حاکم ص۶۰ میں و نیز در منثور ص۳۰۵ جلد۲ میں بحوالہ دلائل بیہقی سلمانؓ فارسی کا بیان ہے کہ : وذکر مولود عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام و انہ ولد بغیر ذکر الروایۃ بطولھا۔ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ولادت میں باپ کا کوئی تعلق نہیں۔

جواب۱: امام ذہبیؒ نے اس روایت کی بابت فرمایا ہے کہ:مجمع علی ضعفہ۔ اس کے ضعف پر سب کا اجماع ہے لہٰذا قابل احتجاج نہیں۔

جواب۲: ذکر سلمانؓ کا مقولہ ہے۔ اگرچہ اسلام سے پہلے وہ خود بھی عیسائی رہا ہے مگر اس کا فاعل کوئی دوسرا عیسائی ہے جس کی طرف سے وہ یہ بیان کر رہا ہے۔ خود فاعل نہیں۔ نجاشی کے پاس جعفر طیارؓ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم پہنچے اور سورہ مریم پڑھ کر اسے سنائی جسے سن کر وہ خوش ہوا مگر عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بے پدر نہیں بتایا۔

سوال: سید علی حائری شیعہ نے اپنی تفسیر لوامع التنزیل میں ابو بصیر سے نقل کیا ہے کہ میں نے ابو عبد اللہ جعفر صادقؓ سے دریافت کیا کہ اللہ پاک اپنی سنت کے مطابق سب کو ماں باپ سے پیدا فرما رہا ہے عیسیٰ (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کو بے پدر کیوں پیدا کیا تو آپ نے فرمایا کہ اسے اپنی قدرت کا اظہار مقصود تھا۔

جواب: یہ موصوف پر اتہام ہے۔ زوجین سے پیدائش میں اللہ پاک کی بہت بڑی شاندار قدرت کا اظہار ہے بے پدر پیدائش میں عورت اور بچہ کے لئے بڑی خفت ہے۔

مکالمہ۲: کامل مبرد ص۹۲ جلد۲ میں خلیفہ عمر بن عبد العزیزؒ سے مروی ہے کہ انہوں نے عبد اللہ بن عبدالاعلیٰ کو ایک عنسی کے ہمراہ الیون کی طرف روانہ فرمایا اور عنسی کو خفیہ ہدایت فرمائی کہ اس سے ذرا ہوشیار رہے اس کا بیان ہے کہ جب ہم شام میں انطاکیہ کے قریب شہر مرعش میں پہنچے اور الیون سے کہا کہ ہمیں امیر المؤمنین نے آپ کی طرف دعوتِ اسلام کے لئے روانہ فرمایا ہے لہذا آپ اسے قبول فرمائیں تو آپ کے لئے دونوں جہاں میں بہتری ہو گی۔ اس نے دریافت کیا کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بابت آپ کا کیا خیال ہے ۔عبد اللہ نے کہا کہ ہم اسے روح اور کلمہ مانتے ہیں اس نے دریافت کیا کہ ایکون ولد من غیر فحل۔ کبھی کوئی بے پدر بھی پیدا ہوا ہے تو عبداللہ نے کہا کہ یہ بات قابلِ غور ہے۔ اس نے کہا قابل غور کیا صاف کہئے کہ ہاں یا کہ نہیں! عبداللہ نے کہا کہ آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی تو صرف مٹی سے ہی پیدا ہوا تھا۔ اس نے کہا کہ اس کی بابت سوال نہیں جو عورت کے رحم میں پیدا ہوا ہے اس کی بابت سوال ہے۔ عبداللہ نے کہا کہ اس لئے تو میں نے کہا تھا کہ یہ بات قابل غور ہے۔
روح اور کلمہ تو قرآن مجید میں صاف صریح ہے جس کا اعتراف کیا گیا ہے اگر بے پدری پیدائش بھی قرآن مجید میں واضح تھی تو اسے کیوں نہیں ظاہر کیا گیا۔
اس سے صاف ظاہر ہے کہ بے پدری کاخیال مسلمانوں میں صدیوں بعد پھیلا ہے۔

مکالمہ۳: در منثور ص۲۸ جلد۳ میں نیز اکلیل فی استنباط التنزیل میں بحوالہ ابن ابی حاتم ابو حرب سے اوربحوالہ ابو الشیخ مستدرک حاکم ص۱۶۴ جلد۳ اور بیہقی عبد الملک بن عمیرؒ سے اور حیوٰۃ الحیوان ص۱۹۲ جلد۱ میں بحوالہ الروض الزاہر شعبیؒ سے مروی ہے کہ حجاج کو یحییٰ بن یعمر کی بابت معلوم ہوا کہ وہ خراسان میں حسنؓ اور حسینؓ کو رسول اللہ:ﷺ کی اولاد ٹھہرا رہا ہے تو اس نے وہاں کے قاضی قتیبہ بن مسلم کو خط لکھا کہ اسے یہاں روانہ کر دو جب وہ آیا تو حجاج نے کہا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تم نے وہاں پر یہ مضمون شروع کر رکھا ہے کہا کہ ہاں ضرور کہا کہ مباہلہ کی آیت کریمہ میں تو اس کا کوئی ثبوت نہیں اور آیت ہے تو اسے پیش کرو یحییٰ نے سورہ انعام کی آیت کریمہ ومن ذریتہ داؤد پڑھ کر استدلال کیا کہ اس میں جس طرح عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو والدہ ماجدہ کی طرف سے ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذریت میں شامل کیا گیا ہے۔ اسی طرح حسنؓ و حسینؓ اپنی والدہ ماجدہ فاطمہؓ کی طرف سے رسول اللہ:ﷺ کی ذریت میں شمار ہیں۔

مدارک جلالین جامع البیان میں بھی یہ استدلال بیان ہوا ہے چونکہ یہ ایک استدلال ہے اس لئے امام سیوطیؒ نے اسے اکلیل میں بھی بیان فرمایا ہے جو کہ اس فن کی کتاب ہے اور جیسے کہ مکالمہ میں تصریح ہے ۔ حجاج نے بھی اس استدلال کو صحیح تسلیم کیا ہے۔

مکالمہ۴: نواب صدیق حسن خاں صاحب مرحوم نے تشریف البشر بذکر الائمۃ الاثنی عشر ص۷۸ میں موسیٰ کاظم بن جعفر صادق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ:
ایک دن رشید نے ان سے کہا کہ تم اپنے آپ کو ذریت رسولِ خدا کیوں کہتے ہو؟ تم تو بنی علی ہو۔ اور آدمی کا نسب دادا سے ہوتا ہے نہ کہ نانا سے۔ کاظم نے کہا اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمَ۔ وَمِنْ ذُرِّیَّتِہٖ دَاوٗدَ وَسُلَیْمَانَ وَاَیُّوْبَ وَیُوْسُفَ وَ مُوْسٰی وَھَارُوْنَ وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ وَذَکَرِیَّا وَیَحْیٰی وَعِیْسٰی۔ (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کا باپ نہ تھا۔ ان کو ملحق بذریت انبیاء کی طرف سے ان کی ماں کے کیا اسی طرح ہم بھی ملحق بذریت نبی ﷺ طرف سے ماں کے ہیں یعنی فاطمہ علیہا السلام۔ اور ایک اور زیادت ہے اے امیر المؤمنین اللہ پاک نے فرمایا کہ فَمَنْ حَآجَّکَ فِیْہِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالُوْا نَدْعُ اَبْنَآءَ نَا وَاَبْنَآءَ کُمْ وَنِسَآءَ نَا وَنِسَآءَ کُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَھِلْ۔ اور حضرت نے وقت مباہلہ نصاریٰ کے بجز علیؓ و فاطمہؓ و حسنؓ و حسینؓ کے کسی اور کو نہیں بلایا۔ وھم الابناء۔‘‘

مکالمہ۳ میں ابو حرب کی روایت میں عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بابت جو یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں کہ الیس عیسی من ذریۃ ابراہیم و لیس لہ ابٌ۔ ان کا مطلب یہ ہے کہ آپ باپ کی طرف سے ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسل میں سے نہیں ثابت ہو سکتے کہ آپ کا باپ کوئی غیر اسرائیلی ہے اور اللہ پاک نے آپ کو ان کی طرف منسوب فرمایا ہے لہٰذا وہ ماں کی طرف سے نسبت ہے جو کہ یقینی ہے اور امام عبدا لملکؒ کی روایت میں جو یوں ہے کہ ان عیسی من ذریۃ ابراھیم بامہ۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی ماں کی طرف سے اسرائیلی ہیں باپ کی طرف سے کوئی اور نسب ہو گا یہ نہیں۔ جیسے کہ مستدرک میں تصریح ہے کہ حسینؓ ماں کی طرف سے رسول اللہ (ﷺ) کی طرف منسوب ہیں۔ اور امام شعبیؒ کی روایت میں جو یوں ہے کہ فمن کان ابا عیسی و قد الحقہ اللہ بذریۃ ابراہیم و ما بین عیسی و ابراہیم اکثر مما بین الحسن والحسین و محمد صلوٰۃ و سلامہ۔ کون ثابت کر سکتا ہے کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا باپ ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسل میں سے ہے مگر قرآن مجید میں اسے ان کی طرف منسوب فرمایا ہے اور یہ نسبت ماں کی طرف سے ہی ہو سکتی ہے جو کہ یقیناً ثابت ہے۔

اس مکالمہ کا موضوع عیسیٰ علیہ الصلو ٰۃ والسلام اور امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہھا کی بے پدری نہیں تھا کہ ان ہر سہ کا اپنا اپنا باپ ہے کوئی بھی بے پدر پیدا نہیں ہوا۔ بلکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جیسے حسنین رضی اللہ عنہا کا باپ ہے ویسے ہی حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا باپ ہے ہاں ان ہر سہ کی نسبت ماں کی طرف صرف بلند شان کے لئے ہے۔

مکالمہ ۴ صرف اس بات پر ہوا تھا کہ والدہ کی طرف سے نسبت درست ہے یا کہ نہیں۔

مکالمہ کی دونوں طرف عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے باپ کی نسبت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف صرف نسلاً صراحۃً ثابت نہیں اس لئے کہ انہوں نے ماں ۱؂ کی طرف سے ثابت شدہ نسب پر اتفاق اور فیصلہ فرمایا لیکن جسے اس کے باپ کا نسب نامہ ٹھیک طور پر معلوم ہے اور اسے اس پر اعتماد ہے تو وہ قرآن مجید کے ظاہر الفاظ کی بنا پر اسے باپ کی طرف سے ہی ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف منسوب کرے گا جیسے کہ وہ ماں کی طرف سے منسوب کرتا ہے۔ چنانچہ مولانا عبد الحق صاحب دہلوی اپنی تفسیر حقانی میں تواریخ سے نقل فرماتے ہیں کہ ’’یوسفؓ، مریمؓ کا چچا زاد بھائی تھا اور باب۱ اور لوقا باب۳ میں عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا باپ کی طرف سے نسب ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام تک پہنچایا ہے۔ چونکہ ان دونوں کے بیان میں کچھ اختلاف بھی ہے جو نسب بعید کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اس لئے اس مکالمہ میں ناقابل اعتماد ٹھہرا کر ماں کا نسب قابل وثوق ٹھہرایا گیا ہے کہ بحسبِ ارشادِ الٰہی اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی اٰدَمَ وَنُوْحًا وَاٰلَ اِبْرَاہِیْمَ وَاٰلَ عِمْرَانَ عَلَی الْعَالَمِیْنَ ذُرِّیَّۃً بَعْضُھَا مِنْ بَعْضٍ وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ اِذْ قَالَتِ امْرَاٰتُ عِمْرَانَ الایات (ال عمران)
اور کہ صحیح بخاری وغیرہ میں نبوی ارشاد ہے کہ ابن اخت القوم منھم عورت کی طرف سے بھی نسب جاری ہو سکتا ہے یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ابن اخت القوم کا باپ کوئی نہیں ہوتا ۔ باپ ضرور ہے مگر معلوم نہیں یا کہ عورت کی مزید شرافت کا خیال ہے تو ادھر سے بھی نسب ٹھیک ہے۔

۱؂ مولانا مودودی صاحب عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دوسروں کی طرح بے پدر ہی مانتے ہیں اس لئے ان کے خیال میں باپ کی طرف سے تو موصوف کا کوئی نسب نہیں اب رہا ماں کی طرف سے سلسلہ نسب تو اس کی بابت مولانا نے تفہیم القرآن ص۲۴۷ جلد۱ میں فرمایا ہے کہ تاریخ میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ حضرت مریم کے والد کون تھے اور ان کی والدہ کس قبیلہ کی تھی۔‘‘ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
(گذشتہ حاشیہ) گویا اللہ پاک کا بیان مریم ابنۃ عمران (تحریم) کافی بیان نہیں ہے۔ سر سید مرحوم نے بھی ماں کی بابت ایسا ہی بیان کیا ہے مگر انہوں نے باپ مان کر سلسلۂ نسب چلایا ہے۔ اور آپ (مودودی صاحب) کو باپ تسلیم نہیں اور ماں کا پتہ نہیں تو پھر سلسلہ نسب ابراہیمی ثابت نہ ہوا اور نبوت عیسوی نسب کے اعتبار سے اندھیرے میں رہی کیونکہ وجعلنا فی ذریتہ النبوۃ والکتاب۔(عنکبوت) جیسے ارشادات الٰہی آئندہ آ رہے ہیں کہ ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد ہر آنے والے نبی کے لئے لازم ہے کہ وہ آپ کی نسل سے ہو تو نبی ہو سکتا ہے ورنہ نہیں۔ کہ جار مجرور کو کو مقدم کیا گیا ہے جو حصر کا فائدہ دیتا ہے اور مولوی صاحب کے نزدیک عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی ماں کی طرف سے بھی ابراہیمی نہیں تو گویا وہ معاذ اللہ نبی نہ ٹھہرے۔
اللہ پاک نے آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اصطفاء کا ذکر فرمایا اور نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام اور ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام اور عمرانؓ ہر سہ کو اس پر معطوف فرمایا اور پھر ذریۃ بعضھا من بعض۔ فرمایا کہ یہ تمام سلسلہ ایک دوسرے کی ذریت ہوتے ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام تک پہنچا ہے۔
اب خواہ تو عمران رضی اللہ عنہ، موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے والد ماجد ہوں اور یہ عورت ان کے خاندان میں شمار ہے اور خواہ یہ کوئی دوسرا عمرانؓ ہے جو کہ آل ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام میں شمار ہے۔ دونوں صورتوں میں عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام ابراہیمی ٹھہرتے ہیں۔
پھر اللہ پاک نے سورہ انعام میں لوط، ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب ،یوسف، موسیٰ، ہارون، الیسع، الیاس، یونس، ایوب، داؤد، سلیمان، ذکریا، یحییٰ، عیسیٰ کو نام بنام ذکر فرما کر ابراہیم کی ذریت میں شمار فرمایا ہے (علیہم الصلوٰۃ والسلام) اور سورہ مریم میں آدم، نوح ، ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، ادریس، موسیٰ، ہارون، زکریا، یحییٰ، عیسیٰ کا نام بنام ذکر فرما کر فرمایا کہ یہ سب آدم کی پھر نوح اور پھر ابراہیم پھر اسرائیل کی ذریت میں شمار ہیں (علیہم الصلوٰۃ والسلام ) جیسے کہ آئندہ ان آیات کریمات کی تفسیر میں تفصیل آ رہی ہے۔
مولانامودودی صاحب کو اگر معلوم نہیں تھا تو بحسب ارشاد الٰہی فَاسْءَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ اور بحسب ارشاد نبوی انما الشفا العی السوال الحدیث راوہ ابو داوٗد ابن ماجۃ۔ کسی ذی علم سے دریافت فرما سکتے تھے۔ مزید تعجب ہے کہ آپ نے تفہیم ص۴۵۹ جلد۱ میں ابراہیم۱، اسحاق۲، یعقوب۳، یوسف۴، چاروں کو بنی اسرائیل میں شمار فرمایا ہے ۴۔اسرائیلی ہے اور ۳۔خود اسرائیل ہے اور ۲۔اس کا باپ ہے اور ۱۔اس کا دادا ہے ان ہر سہ کو اسرائیلی بنا دیا اور عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اسرائیلی نہیں ہونے دیا کیا خوب ہے۔ (اثری)

ضابطہ نبوت: اللہ پاک نے آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نبی بنا کر نبوت ان کی نسل میں رکھ دی اور دوسروں کا نبوت میں کوئی حصہ نہیں رکھا۔ یٰٓا بَنِیْ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِنْکُمْ الایہ (اعراف) اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِنِّیْ ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ(بقرہ) اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِنِّیْ ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ (طہ)۔ یہ ضابطہ نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام تک جاری رہا پھر اسے نبی بنا کر نبوت اس کی نسل میں رکھ دی اور دوسروں سے اسے روک لیا اور یہ ضابطہ ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام تک جاری و ساری رہا پھر اسے نبی بنا کر نبوت اس کی نسل سے مخصوص کر دی دوسروں سے اسے روک لیا جیسے کہ اللہ پاک کا ارشاد ہے۔ وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرَاہِیْمَ وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِھِمُ النُّبُوَّۃَ وَالْکِتٰبِ (حدید) وَوَھَبْنَا لَہٗ اِسْحَاقَ وَیَعْقُوْبَ وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِہِ النُّبُوَّۃَ وَالْکِتَابِ (عنکبوت) ان دونوں آیتوں میں جار اور مجرور کو مقدم فرمایا ہے۔ جو کہ حصر کا فائدہ دیتا ہے اور یہ ضابطہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام تک جاری رہا۔ پھر اسے نبی بنا کر اسرائیلیوں کی نبوت کا خاتمہ کر دیا۔ مشکوٰۃ ص۱۷ میں بحوالہ ابو داؤد، ترمذی، نسائی صفوان بن عسالؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے رو برو یہودیوں نے بیان کیا کہ ان داوٗد علیہ السلام دعا ربہ الا یزال من ذریتہ نبی۔ داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نام انہوں نے تعصب سے لیا ہے یا اس لئے کہ کثرت سے اسرائیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خاندان میں انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام ہوئے تو انہوں نے ایسا سمجھا ورنہ اصل ابراہیمی خاندان ہے جیسے کہ میری پیش کردہ آیات کریمات میں تصریح ہے۔

میرے علم میں وہ (حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام ) ماں باپ دونوں کی طرف سے اور دوسروں کے خیال میں وہ صرف ماں کی طرف سے اسرائیلی ۱؂ ہیں پھر اس کے بالمقابل دوسرے (اسماعیلی ؑ ) سلسلہ میں ایک بہت بڑا شاندار نبی محمد:ﷺ مبعوث فرما کر سلسلہ نبوت کو بالکل ختم کر دیا۔ مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنِ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۔ (احزاب)

صحیح بخاری صحیح مسلم و دیگر کتب حدیث میں عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ ہرقل عیسائی قیصر روم نے ( ۶ ھ ؁ میں) ابو سفیان سے رسول اللہ:ﷺ کے متعلق دریافت کیا کہ ’’کیف نسبہ فیکم‘‘ وہ نسب کے لحاظ سے کیسا ہے؟ تو ابو سفیان نے جواباً کہا ’’ھو فینا ذو نسب‘‘ وہ بہت بڑا شریف النسب ہے؟ تو ہرقل نے کہا کہ: ’’وکذلک الرسل تبعث فی نسب قومھا‘‘ معلوم ہوتا ہے کہ وہ دعویٰ نبوت میں سچا ہے کیونکہ جو انساب آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام تک جاتے ہیں ان میں بہت اچھے نسب میں انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام مبعوث ہوتے رہے ہیں۔

فتح الباری ص۱۴۱ پارہ ۱۸ میں ہے کہ: نسب کبیر وحسب رفیع اور کہ انسب الوجہ الذی یحصل لہ الا ولاد من جھۃ الاباء۔ نسب باپوں کی طرف سے چلا کرتا ہے جس طرح سلسلہ نبوت کے ذکر پر مسلمان رسول اکرم:ﷺ کا مقام بلند قرار دیتے ہیں اسی طرح پر عیسائی ہونے کی حیثیت سے وہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مقام بلند قرار دیتا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ آپ کے پدر کو مانتا ہے اور نسب اس کی طرف سے چلاتا ہے۔

سیرت ابن ہشام ص۱۸۱ جلد۱ میں اور دلائل النبوہ ص۸۲ ابو نعیم میں ہے کہ:
بعث اللہ الینا رسولا منا نعرف نسبہ وصدقہ وامانتہ وعفافہ۔ اور خصائص الکبریٰ ص۲۹ جلد۱ میں بحوالہ بیہقی اور ہدایہ و نہایہ میں بحوالہ ابن اسحاق یوں مروی ہے کہ: قد عرفنا وجھہ و نسبہ قد بعثہ اللہ الینا کما بعث الرسل الی من قبلنا۔

شاہ حبش کے رو برو صحابہ کرامؓ نے بیان دیا کہ اللہ پاک نے ہماری طرف ایک ایسا رسول
۱؂ دسمبر ۱۹۲۱ ؁ کے مناظرہ دہلی میں جو میرے اور مولوی محمد صاحب جونا گڑھی ایڈیٹر اخبار محمدی کے درمیان صبح آٹھ بجے سے رات کے سات بجے تک ہوتا رہا اس میں سبقت لسانی سے میں نے آدھا اسرائیلی کا لفظ بولا تھا اس کی میں نے اسی وقت اصلاح کر دی تھی اسی طرح فاطمہؓ کی بابت بھی جو سبقت لسانی ہوئی اس کی بھی اصلاح کر دی تھی جیسے کہ روئیداد میں شائع ہے۔ (اثری)

(ﷺ) مبعوث فرمایا جس کی حسب و نسب سے ہم خوب واقف ہیں۔ جیسے کہ سابق زمانہ میں اللہ پاک کے رسول (علیہم الصلوٰۃ والسلام) مبعوث ہوتے رہے ہیں۔ اور قومیں ان کے حسب و نسب سے خو ب واقف ہوا کرتی تھیں۔

متی باب۱۲ مرقس باب ۶ میں ہے کہ ’’کیا یہ بڑھئی کا بیٹا نہیں اور اس کی ماں کا نام مریم‘‘
یوحنا باب۶ میں ہے کہ ’’تب یہودی اس پر بڑ بڑائے اِس لئے کہ اس نے کہا وہ روٹی جو آسمان سے اُتری میں ہوں اور انہوں نے کہا کیا یہ یسوع یوسف کا بیٹا نہیں جس کے ماں باپ کو ہم جانتے ہیں پھر وہ کیوں کہتا ہے کہ میںآسمان سے اترا ہوں۔‘‘

اور قرآن مجید میں بھی جن انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے واسطہ سے نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام تک پھر وہاں سے آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام تک پہنچایا ہے ان کو باپوں کی طرف سے پہنچایا ہے اور عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی ان میں شمار فرمایا ہے۔
متی نے باب ۱ میں آپ کے والد بزرگوار کا نام یوسف بتا کر اس کا نسب داؤد علیہ السلام کے واسطہ سے ابراہیم تک پہنچایا ہے۔

اور لوقا نے باب۳ میں آپ کے والد کا نام یوسف بتا کر اس کا نسب داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام تک پھر وہاں سے ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام تک پھر وہاں سے نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام تک اور پھر وہاں سے آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام تک پہنچایا ہے۔

لوقا باب۲ میں یوسف ۱؂ نجار کی بابت بیان ہے کہ : وہ داؤد ۲؂ کے گھرانے اور اولاد سے تھا۔‘‘

اور یوحنا باب۱ میں ہے کہ ’’وہ یوسف کا بیٹا یسوع ناصری ہے۔‘‘

اور مرقس باب۱۰ میں ہے کہ ’’یہ سن کر کہ یسوع ناصری ہے چلا چلا کر کہنے لگا کہ اے ابن داؤد اے یسوع مجھ پر رحم کر۔‘‘

۱؂ یوسف نجار تھے تو عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی نجاری کا کام کرتے ہوں گے اور زکریا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بابت صحیح مسلم وغیرہ میں مرفوعاً مروی ہے کہ وہ نجار تھے تو یحییٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی نجاری کا کام کرتے ہوں گے کہ یہ کسب اکل حلال کے لئے کسب ہے اور خاندان سب کا ایک ہے جو کہ داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام کے واسطہ سے ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام تک پہنچتا ہے۔ (اثری)

۲؂ لُعِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ بَنِیْ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ۔(مائدہ) سے اشارۃً معلوم ہوتا ہے کہ (۳)،(۲) کے توسط سے (۱) کی نسل میں ہے پھر ہر سہ ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسل میں شمار ہیں۔ (اثری)

حافظ ابن قیمؒ نے اعلام الموقعین ص۱۶۶ جلد۱ میں فرمایا ہے کہ: قد اتفق المسلمون علی ان النسب للاب۔
سب مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ نسب باپ سے چلتا ہے۔ ماں سے نہیں۔

پھر فرمایا کہ فان الاب ھو المولود لہ والام وعاء وان تکون فیھا واللہ سبحان جعلہ الولد خلیفۃ ابیہ و شجنتہ والقائم مقامہ و وضع الانساب بین عبادہٗ فیقال فلان ابن فلان و لا تتم مصالحتھم و تعارفھم و معاملا تھم الا بذالک کما قال اللہ تعالٰی یا ایھا الناس انا خلقنکم من ذکر و انثی و جعلنکم شعوبا و قبائل لتعارفوا فلو لا ثبوت الانساب من قبل الاباء لما جعل التعارف و لفسد نظام العباد فان النسآء محتجبات مستورات عن العیون فلا یکمن فی الغالب ان یعرف عن الام فنشھد علی نسب الولد منھا فلو جعلت الانساب للامھات لضاعت و فسدت و کان ذلک مناقضا للحکمۃ والرحمۃ والمصلحۃ ولھذا انما یدعی الناس یوم القیامۃ باباء ھم لا بامھاتھم قال البخاری فی صحیحہ باب یدعی الناس بابآءھم یوم القیامۃ ثم ذکر حدیث مالک غادر لواء یوم القیامۃ عند استہ بقدر غدرتہ یقال ھذہ غدرۃ فلان ابن فلانٍ۔

اللہ پاک ہے باپ کو مولودلہ کے نام سے موسوم فرمایا ہے کہ بچہ اس کا قائم مقام اور خلیفہ اور لختِ جگر ہے اور ماں تو صرف ایک برتن کی طرح ، جس میں کوئی چیز رکھ کر اٹھا لی جاتی ہے۔

اور شعوب و قبائل بھی اللہ پاک نے محض تعارف کے لئے ہی بنائے ہیں جو کہ باپوں کی طرف سے ہوتا ہے امہات کی طرف سے نہیں کہ وہ مستور اور محجوب ہوتی ہیں اور ان سے قیام نسب ممکن نہیں۔

قیامت کے دن بھی لوگ اپنے اپنے باپوں کے نام سے بلائے جائیں گے امہات کے ناموں سے نہیں جیسے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے تبویب فرما کر نبوی حدیث بیان فرمائی ہے کہ قیامت کے دن فلاں بن فلاں کہہ کر پکارا جائے گا۔

مولانا ابو الحسنات عبدالحئ صاحب لکھنوی ؒ نے اپنے فتاویٰ ص۳۷۲ جلد۲ میں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ نسب ماں کی طرف سے چلتا ہے یا کہ باپ کی طرف سے چلتا ہے؟ فرمایا ہے کہ ’’باپ نسب میں ا صل ہے کہ انتساب باپ کی طرف سے ہوتا ہے نہ ماں کی طرف سے۔

پھر کتب فقہ حنفیہ کے حوالوں سے اسے خوب اچھی طرح پر بیان فرمایا ہے۔

طبرانی میں عمر فاروق ؓ اور فاطمۃ الزہراءؓ سے مستدرک حاکم میں جابرؓ سے مرفوعاً مروی ہے کہ : عورت زادے اپنے اپنے باپ کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔ مگر ہاں! فاطمہؓ کی اولاد جب میری طرف منسوب ہے جس کی اصل وجہ مزید شرف و جلال ہے۔

سوال: جب یہ بات ہے تو پھر ابن مریم کی بجائے ابن یوسف کیوں کنیت نہیں ہوئی؟

جواب: مکررّ عرض ہے کہ مریم رضی اللہ عنہا کی جگہ اگر لڑکا پیدا ہوتا جیسے کہ اس کی والدہ کا خیال تھا تو دریں صورت اس کا نسب وہی ہوتا جو مریمؓ کا ہے مگر قرآن مجید نے ولیس الذکر کالانثی۔ فرما کر اسے مریمؓ سے کمتر ہی رکھا تو پھر دوسرا کوئی اس سے کیسے بالا ہو سکتا ہے۔

علیؓ : کیا کم ہے مگر فاطمہؓ اس سے بہر حال بالا تر ہے اس لئے اس کی اولاد بنی فاطمہؓ کہلائی لہٰذا عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی مزید شرف و اعزاز کی وجہ سے ابن مریمؓ مشہور ہوئے۔

در منثور میں بحوالہ مؤطا امام مالکؒ مسند احمدؒ تاریخ بخاری ابو داؤد، ترمذی، نسائی، صحیح ابن حبان ، مستدرک حاکم، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، بیہقی عمر فاروقؓ سے آیت کریمہ وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ۔ (الایہ اعراف) کی تفسیر میں مرفوعاً مروی ہے کہ آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پشت سے اللہ پاک نے تمام نیکوں، بدوں کو پیدا فرمایا مگر اس میں عورت کا کوئی ذکر نہیں تو کیا سچ مچ عورت کے بغیر ہی پیدا ہوئے ہر گز نہیں۔ صرف آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا شرف و اعزاز پیش نظر ہے۔

مؤلف** حضرت العلام۔ استاذی حافظ عنایت اللہ اثری مرحوم مغفور
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 01-02-12, 02:47 AM   #160
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,725
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں



سوال: انڈہ کے ذکر پر یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ بعض مرغیاں اسے بغیر مرغ کے بھی وضع کرتی ہیں
انڈہ دینے والے پرندے نر کے بغیر انڈے دے دیتے ہیں کیونکہ ان کے لئے سپیشل فیڈز ہیں مگر ان انڈوں سے بچے نہیں نکل سکتے،

بچہ نکلوانے کے لئے جو انڈے استعمال ہوتے ہیں انہیں یہاں سپیشل انڈے کہتے ہیں اور انہیں حاصل کرنے کے لئے نر کی ضرورت ہوتی ھے۔
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (01-02-12), فیصل ناصر (01-02-12), حیدر Rehan (07-02-12)
پرانا 06-02-12, 08:27 PM   #161
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اوہام پرستی پر اصرارِ معجزات ’’عقل پرستی اور انکار معجزات‘‘ حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب کیلانی

پیش لفظ

دنیا میں جتنے اور جیسے کچھ مظلوم رہے ہیں۔ اُن میں سب سے زیادہ مظلوم صحف سماوی اور انبیاء علیہم السلام کی سیرت طیّبہ کے وہ نقوشِ حیات ہیں جو اُن کی اُمتوں کے ہاتھوں میں پہنچتے رہے ہیں۔ اِن صحفِ سماوی یا نقوشِ حیات پر جو ستم ڈھائے گئے بالعموم اُن کو تین مراکز میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

۱۔ سیاسی ہتھکنڈے ۲۔ واہمی مفروضے ۳۔ تقلیدی مجبوریاں

پھر اِن ظالموں نے اپنے اپنے مفروضات کے لئے جو سہارے تلاش کئے بالجملہ اُن کی تفصیل یوں رہی ہے:

۱۔ وہ قصے کہانیاں جن کی حیثیت افواہوں سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی۔

۲۔ وہ مفروضات جو علم و عقل کے سفر میں اُن کے سامنے آتے ہیں اور اُن کی حیثیت مفروضہ خیال یا فریب مطالعہ کی ہوتی ہے۔ جو بالآخر اثنائے سفر میں ہی دَم توڑ دیتے ہیں۔

۳۔ یا پھر وہ حسنِ ظن ہوتا ہے جس کے ترکشِ حیات میں دلائل کے تیروں کی کمی ہوتی ہے اور تقلیدی مجبوریوں کے سوا طائر مقصود کا شکار ممکن نہیں ہوتا۔

اَب اِن تینوں مراکز کا طریق کار الگ الگ اِس طرح بیان کیا جا سکتا ہے۔

۱۔ سیاسی ہتھکنڈے:۔

اہل سیاست میں سے سیاسین سُوء ہمیشہ اپنے اپنے دَور میں کتاب و سنت کو اپنا حریف تصور کرتے رہے۔ اِس لئے وہ ہمیشہ اِس کوشش میں رہے کہ کسی طرح اِس سے پیچھا چھڑایا جائے جس کا حل اُنہوں نے یہ تلاش کیا کہ علماء سُوء پیدا کر کے عوام کو رام کرنے کے لئے دجل، لالچ، دھونس،دھاندلی اور دَھن کے جال پھیلائے اور اِس طرح وہ اپنے مقصد میں کافی حد تک کامیاب رہے۔

۲۔ وہمی مفروضے:۔

جو اِن سیاسین سُوء کے جال سے بچ نکلے وہ ان وہم پرستوں کے دامِ فریب کی نظر ہو گئے اور اُن کو مزید مدد پہنچانے کے لئے علماء سوء نے بھی اُن کا کھل کر ساتھ دیا یہی وجہ ہے کہ وہ دورِ اوّل کے علاوہ ہمیشہ کثرت سے رہے اور اُن کی کثرت ہی کے پیش نظر ہر دور کے حکمرانوں نے بھی اُن کا ساتھ دیا۔ اور علماء سُوء نے شکوک و شبہات کو جنم دے کر ملت اسلامیہ میں بے اطمینانی اور بے چینی پیدا کر کے فکری اور عقلی فضاؤں کو متزلزل کئے رکھا اِس اوہام و خواہشات کی وادی میں زیادہ تر جذباتی قسم کے لوگوں نے قدم رکھا۔ یا پھر ایسے حضرات اُن کی طرف بڑھے ہیں جو غیر شعوری طور پر اِس وہم میں مبتلا رہے ہیں کہ خدا اپنی سنت اور کلمہ کاپابند نہیں ہے۔ لہٰذا پہلے اُنہوں نے ایسے مفروضے تیار کئے جن کا دین اسلام کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔ اور جب ان مفروضو ں کے خلاف کسی نے آواز اُٹھائی تواُ نہوں نے اپنی وہم پرستی کی بنا پر فوراً اُس پر حکم صادر کر دیا کہ یہ معجزہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت اور کلمہ کا خلاف کر کے لوگوں کو بتایا ہے۔ کہ وہی ذات قادرِ مطلق ہے جو اپنے کسی کلمہ و ضابطہ کا پابند نہیں اِس طرح اِن مفروضوں کے خلاف آواز اُٹھانے والوں پر یہ فتویٰ چست کر دیا کہ یہ معجزات کے منکر ہیں۔

۳۔ تقلیدی مجبوریاں:۔

تقلید آباء اور تقلید علماء نے ان کے مقلدین کو مجبور کیا کہ وہ کتاب و سنت کامطالعہ اپنے اپنے پیش روؤں کی عینکیں لگا کر کیا کریں پھر جہاں کہیں دھندلکے دکھائی دینے لگیں وہاں اپنی عینک کو بدلنے کی بجائے کتاب و سنت کے فطری مضامین کو تقلیدی مجبوریوں کی بنا پر بدل دیں۔

ع خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں

یہی وجہ ہے کہ آج وہ لوگ جو اپنے آپ کو غیر مقلد کے نام سے تعارف کراتے ہیں۔ یا اہل حدیث مسلک کا داعی قرار دیتے ہیں جب اُن سے اِن مفروضوں کے ثبوت میں قرآن و سنت سے وضاحت طلب کی جاتی ہے تو شور مچا دیتے ہیں کہ جب اسلاف نے آج تک ایسا ہی سمجھا ہے تو اِس سے زیادہ ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے۔ پھر اگر کوئی دبی زبان سے یہ کہہ دے کہ اچھا اسلاف میں سے کسی سلف کا نام آپ لے سکتے ہیں جو اس نے سمجھا ہے وہ سب صحیح ہے؟ تو اِس پر یوں فتویٰ ارشاد ہوتا ہے کہ یہ دہریہ ہو گیا ہے معجزات کا منکر ہے۔ کافر ہے۔ ؂

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا


یہ تقلیدی مرکز چونکہ باقی دو مراکز سے بڑا مرکز ہے۔ بلکہ دوسرے دونوں مرکزوں کا تانا بانا بھی اِسی مرکز سے ملتا ہے۔ لہٰذا تقلید سے بیزاری کا اظہار کرنے والے بھی ہمیشہ زبانی کلامی بیزاری کا اقرار کرتے ہیں عملی طور پر جب وقت آتا ہے تو سوا چند فرعی افعال کے جن سے اُن کی امتیازی حیثیت قائم رہ سکے باقی سب نظریات میں اِس تقلیدی مرکز سے وابستہ رہتے ہیں۔ کیونکہ یہ راہ نہایت آسان ہے۔

ع چلو تم اُدھر کو جدھر کی ہوا ہو

مذکورہ تینوں مراکز کی قدر مشترک:۔


۱۔ اِن کے وہمی اور تراشیدہ مفروضے جو اُنہو ں نے یا اُن کے پہلوں نے فرض کر لئے جن کا تعلق کتاب و سنت سے ہر گز نہیں ہے۔ ہاں کہیں کوئی لغوی سہارا لے لے یہ دوسری بات ہے۔

۲۔ وہ تاریخی حوالے جو عموماً افواہوں نے تخلیق کئے ہیں۔ اور وہ اسرائیلیات کی صورت سے اسلامی لٹریچر میں جگہ پا گئے ہیں۔

قابل غور:۔

اگر آپ نظر عمیق سے دیکھیں گے تو معلوم ہو گا کہ دورِ حاضر کے متجددین اور مفکرین بھی تقریباً انہیں ہتھیاروں سے کام لے کر اسلام کا مذاق اُڑا رہے ہیں۔ اِن دوستوں سے اگر یہ سہارے چھین لئے جائیں تو ان کی بے بسی دیدنی ہو گی۔ لغوی معانی کی اہمیت اپنی جگہ مسلّم لیکن قرآنی اصطلاحات کے سامنے یہ بے بس ہو کر رہ جاتے ہیں۔ کیونکہ اصطلاح اور محاورہ یا ضرب المثل لفظی اور لغوی معانی کی بجائے خود اپنا ایک مفہوم متعین کرتے ہیں۔ اسی طرح تاریخ بھی اگرچہ فی الواقع قابل توجہ شئے ہے لیکن اِس کے ذریعے کتاب و سنت کی صداقتوں اور حقائق کا انکار کرنا عقلاً اور شرعاً دونوں لحاظ سے صرف نامناسب ہی نہیں بلکہ ظلمِ عظیم ہے۔

فرقہ بندی کیوں؟

اِس لئے کہ ہم نے ’’دین‘‘ اور ’’تاریخ‘‘ کو آپس میں گڈ مڈ کر دیا ہے جس دین کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ’’اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰہِ الْاِسْلَامِ‘‘ کی سند جاری کی گئی تھی اُس کی تکمیل کا سر ٹیفکیٹ بھی ’’اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ‘‘ کی صورت میں حضور اکرم ا کو میدان عرفات کے آخری خطبہ کے ساتھ ہی جاری کر دیا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ کا رسول ا لاکھوں افراد سے تین بار یہ گواہی لے کر اِس دنیا سے رخصت ہوا تھا کہ اُس نے اپنے رب کی طرف سے نازل ہونے والا دین پورے کا پورا اُنہیں پہنچا دیا۔ گویا جن چیزوں کے ماننے اور نہ ماننے پر مسلمان ہونے کا انحصار تھا اور جن کے بارے میں آخرت میں باز پرس ہونی ہے اُن سب کی تکمیل نبی اعظم و آخر کی زندگی میں ہو گئی اور اُس کی تکمیل ہی کی وجہ سے آپ ا کے بعد سلسلہ نبوت ختم کر دیا گیا۔ اُس کے بعد جو کچھ ہے وہ ہماری تاریخ ہے۔

عقائد کا معاملہ حضورِ اکرم ا کی ذات گرامی پر ختم ہوا۔ اب ثقیفہ بنی ساعدہ سے میدان کربلا تک واقعات کا جو طویل سلسلہ پھیلا ہوا ہے اُن میں کوئی ایک رائے قائم کی جائے اور اُسے عقیدہ کا درجہ دے دیا جائے تو یہ اللہ اور اُسے کے بھیجے ہوئے رسول ا کے لائے ہوئے دین میں اضافہ ہے یہ مقام صرف نبی اعظم و آخر ا ہی کو حاصل ہے کہ آپ ا کے فیصلوں پر دل میں ذرا سی تنگی آدمی کو ایمان سے خارج کر دیتی ہے آپؐ کے بعد مسلمانوں کے کوئی دو گروہ اگر تلوار سونت کر آمنے سامنے آتے ہیں تو اُن دونوں میں سے یا اُن کا ساتھ دینے والوں میں سے کسی کا ایمان ساقط نہیں ہوتا اور اُن دونوں میں سے کسی ایک کو حق پر اور دوسرے کو غلطی پر سمجھنے والا بھی دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا بلکہ تیسرے گر وہ پر لازم ہے کہ وہ زیادتی کرنے والوں کی زیادتی کو روکے یہاں تک کہ ناحق پر قائم ہونے والا حق کی طرف آ جائے۔ مخلصانہ اختلاف سے آگے بڑھ کر اگر کوئی کسی سے بغض و عناد رکھتا ہے تو اُس کا معاملہ اُس کے اور اللہ کے درمیان ہے۔ ہاں! جب وہ بغض و عناد کا کھلا اظہار کرتا ہے تو دوسروں کی دِل آزاری اور فساد انگیزی کا سبب بنتا ہے اور اِس سے تصادم کی راہ ہموار ہوتی ہے اِس لئے اِس طرح کا یکطرفہ اظہار نہیں ہونا چاہئے کہ قابل مؤاخذہ جرم ہے جس مؤاخذہ کے لئے حکومت قائم کی جاتی ہے۔

دین اور تاریخ کا فرق مزید واضح کرنے کے لئے عرض کروں گا کہ اگر آج کوئی یہ کہہ دے کہ امام ابوحنیفہؒ نام کا کوئی شخص تاریخ میں نہیں گذرا امام احمد بن حنبل محض ایک افسانہ ہے یا امام شافعی اور امام مالک کا تاریخ میں کوئی سراغ نہیں ہے تو اِس سے زیادہ سے زیادہ تاریخ سے اُس شخص کا جہل ثابت ہو گا۔ تاریخ کے اِس امر واقعہ سے انکار اُسے اسلام سے ہر گز خارج نہ کرے گا۔ اِس دنیا میں لاکھوں مسلمان ہیں جنہوں نے دیوبند کا نام نہیں سنا، نہ بریلی، لکھنو اور اجمیر کا۔ اُن کی بڑی اکثریت قم اور نجف سے ناواقف ہے مگر وہ اِس لا علمی کے باوجود مسلمان ہیں۔ وہ علامہ قاسم نانوتوی اور علامہ احمد رضا خاں یا طبا طبائی اور کاشانی کے عقائد اور اُن کی تعبیرات و تشریحات کے وجود ہی سے انکار کر دیں تب بھی مسلمان رہیں گے۔ مشہور انصاری صحابی سعد بن عبادہؓ نے حضرت ابوبکر سے بیعت کی نہ حضرت عمرؓ سے لیکن اُن کے ایمان پر کسی نے حرف گیری نہ کی اور وہ کسی بھی خلیفہ سے بیعت کے بغیر انتقال کر گئے۔ اُن سے کسی نے تعرض نہ کیا۔

خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کے درمیان اختلاف آراء کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں لیکن اُنہوں نے اُسے دین ایمان کا مسئلہ نہیں بنایا بدر کے قیدیوں کے سلسلہ میں حضرت عمرؓ کی رائے کو وحی کی تائید کی سند حاصل ہو گئی اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کی رائے مسترد ہوئی مگر حضرت عمرؓ کو ایک لمحہ کے لئے بھی یہ خیال نہ آیا کہ اُنہیں حضرت ابوبکرؓ پر کوئی فضیلت حاصل ہو گئی ہے یا اُن کا ایمان اُن سے بڑھ گیا ہے۔ حضرت عمرؓ بیک وقت تین طلاقوں کے نافذ ہونے کے حق میں فتویٰ دیتے ہیں جب کہ حضرت علیؓ اُس کے برعکس ہے مگر اِس اِختلاف کے باوجود اُن میں سے کسی نے اُسے ایمان کا مسئلہ نہیں بتایا، محض ایک فقہی غلطی قرار دیا۔ حضرت علیؓ نے اپنے خون کے پیاسے خوارج تک کو گمراہ قرار دیا لیکن کافر یا مشرک نہیں کہا۔ لیکن آج کوئی تمیز نہیں رہ گئی جس کا جی چاہتا ہے کسی بات کو عقیدہ کا نام دے لیتا ہے اور پھر جو اُس کی بات کو تسلیم نہیں کرتا اُسے کافر کہنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ وبا ایسی پھیل گئی ہے کہ اِس کی روک ممکن نہیں رہی۔

ہم آئمہ ، حکماء اور بزرگوں کی رائے پر لڑے مرے جا رہے ہیں اور ایک رائے کو ایمان اور دوسری رائے کو کفر قرار دے رہے ہیں۔ حالانکہ دین کے حوالے سے اِس کی کوئی اہمیت نہیں۔ میں آج اہل حدیث مسلک ترک کر کے حنفی، شافعی، حنبلی یا مالکی مسلک اختیار کر لیتا ہوں یا یہ کہ اِن سب کو چھوڑنے کا اعلان کر دیتا ہوں، تب بھی میرے ایمان میں کچھ خلل نہیں آئے گا۔ جن چیزوں کے ماننے یا نہ ماننے سے ایمان برقرار رہنے یا ساقط ہو جانے کا تعلق ہے وہ سب کی سب نبی اعظم و آخر ا کی حیات طیبہ میں طے پا چکے ہیں۔ دین اور تاریخ کا یہ فرق ملحوظ رکھا جائے اور تاریخ کو خواہ مخواہ دین بنانے پر اصرار نہ کیا جائے تو کشیدگی میں خاصی کمی واقع ہو سکتی ہے اور کشیدگی نہ ہو تو فی نفسہٖ اختلاف کوئی مہلک چیز نہیں ہے بلکہ اِس کو برداشت کیا جا سکتا ہے اور یہی راہ زیادہ صحیح ہے۔

اِنَّمَا اَشْکُوْ بَثِّیْ وَحُزْنِیْ اِلَی اللّٰہِ۔

دنیا میں ہمیشہ یہ خیال رہا ہے اور آج بھی من حیث الاغلب پایا جاتا ہے کہ انبیاء اور اولیاء میں ضرور کوئی امر ما فوق العادت ہوتا ہے۔ اِس خیال کا زور یہاں تک پہنچا ہے کہ انبیاء علیہم السلام میں شانِ ایزدی تسلیم کی گئی۔ ہندوؤں نے رام کرشن اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا پیکر جسمانی مانا۔ زمانہ کی امتداد اور عقل کی ترقی نے اِس رتبہ کو گھٹا کر کم کیا تو خرق عادت کے درجہ پر آ کر ٹھہرا۔ اسلام نے جو اِس لئے آیا تھا کہ مذہبی اُصولوں کے متعلق جو آج تک غلط خوش اعتقادیاں چلی آ رہی تھیں اور جو مسامحۃً اپنے حال پر رہنے دی گئی تھیں اُن کو قطعاً رفع کر دیا، اِس کا یہ کام تھا کہ جس طرح اُس نے توحید کو مکمل کیا تھا، نبوت کی اصل حقیقت بھی کھول کر رکھ دے۔اِس لئے سب سے پہلے اُس نے نہایت صفائی، نہایت آزادی، نہایت وضاحت سے اِس بات کا اعلان کیا کہ جو چیزیں بشریت سے بالاتر ہیں وہ پیغمبر میں نہیں ہوتیں۔ لیکن بد قسمتی سے آج اِس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لئے وہی لوگ تیار نہیں جو اُمت وسطیٰ کے مبارک نام سے متعارف کرائے جاتے ہیں۔

حافظ عنایت اللہ اثری رحمہ اللہ اور راقم الحروف

حضرت العلام حافظ عنایت اللہ اثری وزیر آبادی رحمہ اللہ ۱۲ / اگست ۱۸۹۸ ء مطابق ۱۴/ ربیع الاول ۱۳۱۶ھ بروز منگل بوقت صبح صادق وزیر آباد میں پیدا ہوئے۔ آپؒ کے والد ماجد کا نام امام الدین اور دادا کا نام محمد عظیم تھا جو چغتہ مغل برادری میں شمار ہوتے تھے اور آپ کے والد ماجد درزی کا کام کرتے تھے۔

حافظ صاحب رحمہ اللہ نے قرآنِ کریم ناظرہ اور ابتدائی کتب وزیر آباد اپنے محلہ کی مسجد میں پڑھیں اور ترجمہ قرآنِ کریم علامہ فضل الٰہی وزیر آبادی سے پڑھا۔ اِس کے بعد قرآنِ کریم کے حفظ کا شوق پیدا ہوا تو آپ نے اپنے محلہ ہی کی مسجد میں گیارہ ماہ ۲۳ دن میں حفظ کیا اور حافظ عبدالمنان صاحب وزیر آبادی رحمہ اللہ سے مشکوٰۃ پڑھ رہے تھے کہ امرتسر آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس دیکھنے کے لئے گئے۔ وہاں موصوف کی ملاقات علامہ عبدالرحیم مراد آبادی رحمہ اللہ سے ہوئی اور تعارف کے بعد اُن کے دل میں جگہ حاصل کر لی۔ یہ کانفرنس ۱۹۱۳ء میں منعقد ہوئی تھی۔

وہاں دلجمعی کے ساتھ آگے پڑھنے کا وعدہ جناب مراد آبادی سے کر لیا تاہم کانفرنس سے فارغ ہو کر اپنے گھر واپس آئے تو جیسے کیسے گھر سے اجازت حاصل کی اور واپس امرتسر سے ہوتے ہوئے موصوف مراد آبادی کے پاس دِلّی چلے گئے اور مختلف مدارس سے ہوتے ہوئے ۱۹۱۶ء میں علامہ عبدالوہاب دہلوی امام غرباء اہلحدیث سے رابطہ ہو گیا اور موصوف سے درس نظامی کی سند حاصل کی اور وہیں سکونت اختیار کر لی۔

چند سال بعد کلکتہ اور بہوانی میں بھی خطیب رہے لیکن زیادہ عرصہ نہیں گذرا تھا کہ مجاہدین کی جماعت سے رابطہ ہو گیا چونکہ آپ کے استاد علامہ فضل الٰہی وزیر آبادی رحمہ اللہ اُس وقت جماعت مجاہدین کے قائد بن چکے تھے لہٰذا اُن کے ایماء پر مجاہدین کی کمک پہنچانے کا کام سر انجام دینے لگے اِس سلسلہ میں کئی بار آپ کو دلّی سے پشاور تک سفر کرنا پڑا یہ سلسلہ ابھی جاری تھا کہ ۱۹۱۹ء میں آپ کی شادی ہو گئی اور شادی کے ایک سال بعد ۱۹۲۰ء میں آپ کے ہاں فرزند پیدا ہوا جس کا نام عمران رکھا اور آپ گویا ابو عمران ہو گئے۔

شادی کے بعد اور بیٹے کی پیدائش سے پہلے ہی حکومت برطانیہ کی زیادتیوں کا شکار ہو گئے کیونکہ مجاہدین کی کمک کا الزام تھا اِس لئے اِس سلسلہ میں آپ کو خاصی پریشانی اُٹھانا پڑی۔ تاہم دِلّی ہی میں خطابت اور درس و تدریس کا کام جاری رکھا وزیر آبادی ہونے کی وجہ سے وزیر آباد آنا جانابدستور رہا کیونکہ گھر بار سب وزیر آباد ہی میں تھا۔

بہرحال وزیر آباد آئے تو یہاں شیخ عبدالعزیز گجراتی سے ملاقات ہوئی اور ۱۹۲۳ء کا رمضان شیخ کی دعوت پر گجرات میں جناح اسٹریٹ کی مسجد میں سنایا یہ مسجد تو چھوٹی تھی لیکن بازار کے قریب ہونے کے باعث حاضری خاصی تھی قرآنِ کریم کی منزل مکمل ہونے پر جب واپس وزیر آباد اپنے گھر گئے تو معاً دوسرے روز گجرات کے کچھ لوگ شیخ عبدالعزیز کے ہمراہ چلے گئے اور اُن کے تقاضا پر خطبہ جمعہ کے لئے گجرات اِس مسجد میں تقرری طے پا گئی۔

اُس وقت یہ مسجد تقریباً غیر آباد تھی کیونکہ یہاں حافظ محمد رمضان صاحب جماعت وغیرہ کراتے تھے اور وہی جمعہ کا خطبہ دیتے تھے۔ جو ۱۹۲۲ء میں وفات پا گئے تھے اور اُن کی وفات کے بعد کوئی مستقل آدمی نہ رہا جو جماعت و خطبہ کا کام سر انجام دے۔ حافظ صاحب نے جب اِس جگہ بیٹھنے کا وعدہ کر لیا تو ۱۹۲۴ء میں آپ نے ایک مدرسہ قائم کر لیا جس کا نام دار الحدیث رکھا اور ایک انجمن قائم کی جو ’’ینگ اہل حدیث‘‘ کے نام سے رجسٹرڈ ہو کر معروف ہوئی۔ لیکن اِس سارے نظام کے کرتا دھرتا آپ ہی تھے۔ آپؒ نے مسجد کی نئی تعمیر کی تحریک کی اور کام شروع کرا دیا جماعت فعال نہیں تھی اور شیخ عبدالعزیز جو اصل محرک تھے اُن کی وفات ہو گئی آپ نے ہمت نہ ہاری اور اپنا اثاثہ جو وراثتاً ملا تھا وہ صرف کر دیا پھر بھی تعمیر کا سلسلہ مکمل نہ ہو سکا تو آپ خاموشی کے ساتھ جماعت کے مشورہ سے کلکتہ چلے گئے وہاں دوبارہ ملازمت کر لی اور جو کچھ وہاں سے وصول کیا اُس میں سے گھر کا خرچ جو گجرات کی انجمن سے معاہدۃً طے پایا تھا وہ رکھ کر باقی رقم جمع رکھی اور اُس سے مسجد کی تعمیر کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیا اور واپس گجرات تشریف لے آئے۔

گجرات میں شیخ برادری کا تعاون حاصل رہا اور انجمن کا پہلا ناظم حافظ صاحب موصوف نے عبداللہ نامی ایک بزرگ کو مقرر کیا جو محلہ شاہ حسین کے رہائشی تھے۔ مسجد میں باقاعدہ درس و تدریس کا سلسلہ جاری رہا۔ اِس محلہ کٹرہ سے صرف طلباء کی روٹی کا تعاون جاری ہوا جس میں زیادہ تر حصہ امام الدین بٹ اور امام الدین لون کے گھروں سے ہوا اور اِس کے بعد میر صاحب کے نام کی فیملی کا تعاون رہا۔ کچھ عرصہ کے بعد محمد عبداللہ صاحب نے اپنی مصروفیات کی وجہ سے نظامت سے معذرت کر لی تو دوسرا ناظم حافظ صاحب موصوف نے مولوی عبدالرحمن صاحب کو مقرر کیا جو رسول کالج کے پرنسپل تھے اور کالری دروازہ میں رہائش پذیر تھے۔

شیخ برادری کے بزرگ شیخ عبدالقدیر شیخ محمد عبداللہ وغیرہ راولپنڈی منتقل ہو گئے تاہم اُن کا تعاون مسجد سے جاری رہا اور کچھ عرصہ بعد امام الدین لون صاحب بھی روالپنڈی منتقل ہو گئے لیکن سب کی آمد و رفت جاری رہی حافظ صاحب کے اُن گھروں کے ساتھ اپنی برادری کے گھروں کی طرح مراسم جاری رہے اور دُکھ سکھ میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہوتے رہے۔

مولوی عبدالرحمن صاحب نے اپنے بڑھاپے کا عذر پیش کیا جو فی الحقیقت صحیح تھا تو حافظ صاحب موصوف نے ۱۹۵۹ء میں بابو محمد یوسف صاحب کو جو اِس محلہ کٹرہ سے تعلق رکھتے تھے ناظم مقرر کر دیا جو اپنی وفات تک ناظم رہے۔ اُنہوں نے مرض الموت میں حافظ صاحب سے کہا کہ اب میرا وقت قریب نظر آ رہا ہے۔ آپ کوئی بندوبست کر لیں حافظ صاحب موصوف نے محمد شفیع ڈار کو ناظم مقرر کر کے تین آدمیوں کی موجودگی میں بابو محمد یوسف صاحب سے حساب لے کر ڈار صاحب کو دے دیا۔

ناچیز بندہ اُس وقت طالب علم کی حیثیت سے اِس مسجد میں موجود تھا اور دورہ حدیث تقریباً ختم کے قریب تھا کہ حافظ صاحب نے ’’عیونِ زمزم‘‘ شائع کی جس میں عیسوی پیدائش کا ذکر کیا گیا یہ ۱۹۶۳ء کی بات ہے کہ مسجد کے حالات دگر گوں ہو گئے لوگ جماعت اور جمعہ سے چھٹی کر گئے چند معدودے آدمی مسجد میں رہ گئے تاہم حافظ صاحب نے اپنا سلسلہ تصنیف جاری رکھا کسی کی کوئی پروا نہ کی کہ کوئی کیا کہتا ہے اور کیا کرتا ہے۔

اِس مخالفت میں مرکزی انجمن اہل حدیث پاکستان نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ فتویٰ بازی کی حافظ صاحب کو واجب القتل قرار دیا یہاں سے نکل جانے کی دھمکیاں دیں لیکن یہ گیدڑ بھبھکیاں آخر دم توڑ گئیں لوگ جس طرح گئے تھے واپس آنا شروع ہو گئے ۱۹۷۰ء تک بحمد اللہ حاضری مکمل ہو گئی۔

تاہم مخالفین کی ایک خفیہ تحریک چلتی رہی جس نے طے کیا کہ کسی طرح حافظ صاحب اور راقم الحروف میں ایسے اختلافات پیدا ہو جائیں جو رفع نہ ہو سکیں۔ اُن سے جو کچھ ہو سکا کیا لیکن راقم الحروف بالکل خاموش ہو کر اپنے گاؤں واپس آ گیا۔ حافظ صاحب کو مختلف مشورے دئیے گئے آپ اپنا قائم مقام فلاں کو مقرر کر یں اور کبھی فلاں کو مقرر کریں۔

حافظ صاحب سے کہہ کہلا کر سنہ ۱۹۷۱ء سے ۱۹۷۵ء تک مختلف لوگ لائے گئے جن کا تعلق جہلم۔ لالہ موسیٰ۔ ہیل۔ راولپنڈی اور گجرات شہر سے تھا تاہم حافظ صاحب مطمئن نہ ہوئے اور انجام کار بندہ ناچیز کو پیغام بھیج کر منگوایا اور اِن سالوں کی پوری روئیداد سنا دی اور کس کس نے کیا کیا‘ کِیا اور کیا کیا کہا سب کچھ بتانے کے بعد میرا سر پکڑا اور گود میں رکھ لیا اور طرفین کی چیخیں نکل گئیں اور یہ منظر دیکھ کر کئی دوسرے لوگ بھی پُر نم ہو گئے۔

آپ کے حسب الحکم ۱۹۷۵ء کے آخر میں جمعہ کا خطبہ راقم الحروف نے شروع کیا جو بغیر کسی ناغہ کے جاری رہا۔ آپ اس وقت کے ناظم سے میری عدم موجودگی میں کہتے رہے کہ خطیب کو کچھ پیش کرو اور اپنا مشاہرہ جو وہ وصول کرتے تھے بالکل چھوڑ دیا۔ ناظم صاحب مجھے کہتے کہ یہ رقم وصول کریں لیکن بندہ نے کبھی کوئی چیز ناظم سے وصول نہ کی یہاں تک کہ ناظم صاحب نے خود ہی میرے نام کا اکاؤنٹ کھول کر بطور مشاہرہ جمع کرانا شروع کر دیا۔

اِس دوران حافظ صاحب نے مجھے بار بار مجبور کیا کہ آپ مستقل گجرات آ جائیں۔ ایک روز مجھے فرمانے لگے چونکہ میرے مکان کی چھت خراب ہے اور بجلی کا انتظام بھی نہیں ہے میں نے ناظم کو کہا ہے کہ اُس کی چھت بدلیں اور بجلی کا بندوبست کریں اور اِس کا خرچہ میں ادا کروں گا لیکن بندہ نے کوئی جواب نہ دیا تاہم آپ نے اپنا کام شروع کرا دیا مکان کی چھتوں کی تکمیل ہو گئی فروری ۱۹۸۰ء میں آپ نے مجھے فرمایا کہ میں تب راضی ہوں آپ مستقل رہائش لے آئیں میں نے اپنی مجبوری بتائی لیکن آپ نہ مانے آخر میں نے بچوں کے امتحان سے فراغت کا وعدہ کر لیا۔

بچے مارچ میں امتحان سے فارغ ہوئے بندہ اپریل ۱۹۸۰ء میں حافظ صاحب کے اِس مکان میں منتقل ہوا۔ وائرنگ مکمل ہو چکی تھی لیکن ابھی کنکشن نہیں ملا تھا ۳/ مئی ۱۹۸۰ء کو مکان پر گئے اور زور زور سے پکارنے لگے رابعہ ‘ رابعہ میں نے دیکھا کہ مکان کی ہمسائی ہنستی ہنستی آ گئیں دیکھتے ہی کہنے لگے کہ جب تک یہ (راقم الحروف) موجود ہے حافظ عنایت اللہ زندہ ہے اور یہ میرے اِس مکان میں ہے ایک دوسرے کا خیال رکھنا۔ اپنے گزرے ہوئے دنوں کی باتیں کرتے رہے اور اچانک مجھے مخاطب ہو کر کہنے لگے آپ کو معلوم ہے کہ میری بیوی کی قبر کہاں ہے میں نے بتایا کہ میں خود کفن دفن میں شامل تھا تو مجھے کیوں معلوم نہیں؟

کچھ دیر رکنے کے بعد واپس مسجد تشریف لے جانے لگے بندہ ساتھ تھا واپس مسجد میں تشریف لانے کے بعد بھی اپنی تلقین کا سلسلہ جاری رکھا اور بار بار ایک بات دہراتے رہے کہ میرے کام کو جاری رکھنا۔ دیکھو تصنیف کا سلسلہ ایسا ہوتا ہے جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے ذریعہ مدت تک زندہ رہتا ہے اور انسان کو اپنا مافی الضمیر دیانت و امانت کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کرتے رہنا چاہئے اور بھروسہ اللہ پر رکھنا چاہئے غیر اللہ پر نہیں خواہ وہ کون ہو۔ میں بھی وعدہ کی توثیق کرتا رہا۔

۱۱،۱۲/ مئی کی درمیانی رات نماز عشاء کے بعد بندہ مسجد کے اوپر درمیانی چھت پر سلانے کے بعد گھر گیا گھنٹہ سوا گھنٹہ گذرا ہو گا کہ اچانک آندھی آئی میرے پاس گھر میں صرف دو بچے تھے باقی والد صاحب واپس گاؤں لے گئے تھے میں باہر آنے لگا تاکہ مسجد جا کر پتہ کروں اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ حافظ عبدالغفور صاحب لال ٹین ہاتھ میں لئے آ رہے ہیں اور کہتے ہیں میں اوپر چھت پر گیا ہوں کہ حافظ صاحب کی چار پائی بار آمدہ میں کر دوں لیکن اُن کو میں نے ہلایا ہے تو وہ نہیں ہلے اور میں خوفزدہ ہو گیا ہوں۔ ہم دونوں واپس آئے دیکھا تو زبان پر اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ جاری ہو گیا۔

سوموار کی ظہر کے بعد آپ کا جنازہ رونٹی والی مسجد میں راقم الحروف نے پڑھایا مسجد کا دامن تنگ ہو گیا اور چند صفیں راستہ پر بنائیں اور گھر کے ساتھ ہی شیخوں کے قبرستان میں اُن کی اہلیہ کی قبر کے بالکل ساتھ دفن کر دیا۔

۱۲/مئی کے بعد جو پہلا جمعہ آیا راقم الحروف نے اُس جمعہ میں اُستاذی حافظ صاحب موصوف کی زندگی پر بیان کیا خود بھی رویا اور دوسروں کو بھی رُلایا اور آخر میں واضح کر دیا کہ آنے والے جمعہ کا آپ کو بندوبست کرنا ہے بندہ کا تعلق حافظ صاحب مرحوم سے تھا جو اُن کی خاموشی کے باعث ختم ہو گیا میرا انجمن سے کوئی تعلق نہیں اور میں کسی طرح کا تعلق قائم کرنے کے لئے تیار بھی نہیں۔

جمعہ کی نماز ادا کرنے کے بعد بندہ اُس مکان پر جو حافظ صاحب کا مکان تھا آ گیا چند منٹ کے بعد کچھ لوگ گھر آئے اُنہوں نے مسجد میں آنے کا تقاضا کیا لیکن بندہ مسجد میں واپس جانے کے لئے تیار نہ ہوا تو لوگوں کا تانتا بندھ گیا جب حافظ عبدالغفور صاحب جو اِس وقت ناظم مسجد تھے وہ بھی آ گئے تو مجھے مجبوراً مسجد جانا پڑا۔ مسجد میں بیٹھ کر لوگوں نے خود ہی فیصلہ کیا کہ جس طرح حافظ صاحب کام چلا رہے تھے آپ کو چلانا ہے اور جو تعاون آپ مانگیں گے ہم دیں گے۔

انجام کار مجھے ہاں کہنا پڑا شرط یہ طے پائی کہ جو کچھ آپ میرے اکاؤنٹ میں جمع کر رہے ہیں واپس لے لیں اور آئندہ بھی بندہ بطور تنخواہ آپ سے کچھ وصول نہیں کرے گا اور صرف جمعہ کی خدمت سر انجام دے گا۔ اگر جماعت کا فیصلہ ہے تو جماعت کے رجسٹر کارروائی میں یہ سب کچھ تحریر کر دیں لیکن حافظ صاحب کے ارشاد کے مطابق تصانیف کا کام بندہ کو جاری رکھنا ہے اِس میں جو تعاون میں مسجد کے نمازیوں سے مانگوں گا وہ کریں گے سب نے ہاں کی تو بات ختم کر دی گئی۔ اور مسجد کے رجسٹر کار روائی میں یہ سب کچھ تحریر کیا گیا۔

۱۹۸۳ء میں بندہ نے تحریک چلائی کہ جمعہ کی نماز میں مسجد نمازیوں کے لئے کافی نہیں لہٰذا ساتھ کا نذیر بٹ والا مکان خرید لیا جائے جو فروخت ہو رہا ہے نمازیوں نے تصدیق کی لیکن ناظم صاحب متفق نہ ہوئے۔ وقت کے ناظم اور امیر صاحب نے بندہ کے متعلق بہت کچھ کہا لیکن نمازیوں کا تعاون جاری رہا انجام کار مکان خرید لیا گیا اور میں نے تعمیر مسجد کی کمیٹی الگ بنا دی۔ کمیٹی کے تین افراد تھے ثناء اللہ بٹ صاحب خالد بٹ صاحب اور سیٹھ کرامت اللہ اُنہوں نے نہایت محنت سے کام کیا اور لوگوں نے دل کھول کر تعاون کیا اور دو سال کے اندر تین منزلہ مسجد کا شاندار ڈھانچا کھڑا ہو گیا۔

مسجد کی زیبائش کا کام ابھی شروع نہیں ہوا تھا کہ ایک جمعہ کی نماز ادا کرنے کے بعد معمول کے مطابق ہم تین چار آدمی اوپر بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے وہاں کھانا کھا رہے تھے کہ ایک صاحب آئے کہ امیر صاحب کے دولت کدہ پر ناظم صاحب اور دو تین لوگ اور ہیں جو آپ (راقم الحروف) کو طلب کر رہے ہیں۔ کھانا کھانے کے بعد بندہ وہاں گیا تو علیک سلیک کے بعد ناظم صاحب نے مجھے کہا کہ مولانا صاحب میں نے روکا کہ میرا نام عبدالکریم ہے میرے اِس نام سے جو بات کرنی ہے کریں تو ناظم صاحب نے فرمایا کہ عبدالکریم صاحب جماعت کا یہ فیصلہ ہے کہ خطیب کا کوئی دوسرا بندوبست کیا جائے اور آپ رخصت ہو جائیں۔ میں نے کہا جماعت کا فیصلہ سر آنکھوں پر لائیبریری کا ایک بہت بڑا کام ہے جو پایہ تکمیل کو نہیں پہنچا تمام کتابیں مسجد سے حافظ صاحب مرحوم کے گھر منتقل کی گئی ہیں جو بغیر کسی ترتیب کے ایک ڈھیر کی صورت میں پڑی ہیں اُن کے متعلق تحریر کر دیں کہ ہم اُن کو خود ترتیب دے کر سنبھال لیں گے تو میں آنے والے جمعہ سے فارغ ہوں۔

امیر صاحب نے فرمایا کہ آپ اِس کام کے لئے وقت لے لیں بہرحال آنے والی عید قربان کا وقت طے ہو گیا۔ جب وہاں سے میں اُٹھنے لگا تو امیر صاحب نے فرمایا کہ مولانا صاحب میں نے پھر روکا کہ میرا نام عبدالکریم ہے اِس نام سے فرمائیں جو کچھ فرمانا ہے تو اُنہوں نے کہا عبدالکریم صاحب جو بات ہماری اِس جگہ ہوئی ہے اِس کا کسی کو پتہ نہیں لگنا چاہئے صرف ہم تین چار آدمیوں تک محدود رہے۔

میں نے عرض کیا کہ جب فیصلہ جماعت کا ہے تو اِس کو خفیہ رکھنے کی کیا ضرورت ہے تاہم اُن کا اصرار جاری رہا اور میں نے ذمہ داری نہ لی کہ بات آپ کی طرف سے نکل گئی تو بھی میرے ذمہ لگے گی میں کسی سے کچھ نہیں کہوں گا لیکن ذمہ داری قبول نہیں۔ نہایت خوشگوار موڈ میں چائے پی اور بندہ اُٹھ کر چلا آیا۔ ساتھیوں نے پوچھا کیا بات تھی؟ میں نے کہا اُن کی کوئی خفیہ بات تھی جو فی الحال بتائی نہیں جا سکتی۔

بہرحال بندہ آج بھی مطمئن ہے کہ میں نے کسی سے اِس سلسلہ میں کچھ نہیں کہا اور نہایت تیزی کے ساتھ کتب خانہ کو مسجد میں منتقل کرنا شروع کر دیا تاہم میرے بچے تو اِس مکان میں تھے لیکن بندہ مستقل یہاں نہیں رہ رہا تھا واپس گھر چلا آیا اور آئندہ جمعہ کو جو گیا تو تمام ساتھیوں کے تیور بدلے ہوئے تھے اور ناراض تھے کہ آپ نے ہمیں حقیقت سے آگاہ کیوں نہ کیا گویا وہ حقیقت سے آگاہ ہو چکے تھے۔

نمازِ جمعہ کے بعد میاں ثناء اللہ نے جو بات شروع کی خطیب کے متعلق فیصلہ کس نے کیا؟ اور لوگوں پر بات واضح کر دی تو ایک شور بپا ہو گیا ناظم صاحب اور امیر صاحب گھروں کو تشریف لے ٗگئے پیغام بھجوایا گیا لیکن ۔۔۔۔۔۔ بہرحال حکمت عملی سے شور پر قابو پایا گیا۔ ناظم صاحب نے استعفیٰ بھیج دیا اور یہی طریقہ امیر صاحب نے بھی پسند فرمایا۔ آنے والے جمعہ کو نمازیوں کی اکثریت نے میر الطاف الرحمن صاحب کو ناظم بنانے پر اتفاق کیا اور امیر کا معاملہ میرے سپرد کیا گیا جس کا نام چاہیں دے لیں‘ میں نے سابقہ امیر صاحب کا نام پیش کیا جنہوں نے استعفیٰ پیش کیا تھا اور جن کے گھر میٹنگ ہوئی تھی جس کا پس منظر یہ ہوا۔ بہرحال لوگوں نے میرے انتخاب کو قبول کر لیا اور سلسلہ بدستور چلتا رہا۔ راقم الحروف خود دو تین آدمیوں کے ہمراہ سابقہ ناظم صاحب کے گھر گیا اور اُن سے درخواست کی آپ مسجد میں تشریف لائیں کیونکہ آپ کا مکان بالکل ملحق ہے اور آپ مطمئن رہیں آپ کا ادب و احترام ہمارے دِل میں ہے اور ان شاء اللہ وہ بدستور رہے گا۔

کچھ عرصہ بعد جب مسجد کی زیب و زینت کا کام بھی مکمل ہو گیا تو روازنہ درس کی بات ہوئی بندہ نے قبول کر لیا اور ایک سال تک بدستور سلسلہ درس چلتا رہا لیکن تقاضا کرنے والے روزانہ پہنچنے سے معذرت کرنے لگے اور محلہ میں پہلے ہی مسجد میں رواج کے کام جو لوگوں نے اپنی طرف سے شروع کر لئے ہیں نہ ہونے کی وجہ سے آمد و رفت کم ہے میں نے تحریک کی کہ یہاں مدرسہ قائم ہو اور مدرسین کا انتظام اُن کی تنخواہوں اور مدرسہ کی دوسری ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کوئی قدم اُٹھایا جائے لیکن جب پیش رفت نہ ہوئی تو درس بھی منقطع کر دیا گیا۔

در اصل یہ مسجد اہل حدیث ہونے کے باوجود مرکزی جمعیت کے تعاون میں نہیں اور نہ ہی کسی دوسرے اہل حدیث گروپ کا اِس سے کوئی تعلق ہے کیونکہ اُن کے اختراعی مسائل جو زمانہ میں رواج پا گئے ہیں اُن کی پذیرائی اِس مسجد میں نہیں ہوتی اور یہ بھی حقیقت ہے کہ حافظ صاحب مرحوم کے کچھ منفرد نظریات ہیں جن کو کوئی جماعت برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ لاریب ہمارا مطالبہ قبول کرانے کا نہیں بلکہ تفہیم کرنے کا ہے اگر تفہیم ممکن نہ ہو تو برداشت کرنے کا ہے جو بطور ضد جمعیت اہل حدیث کو تسلیم نہیں۔

مختصر یہ کہ بعض دوستوں نے مشورے سے قرآنِ کریم کی تفسیر لکھنے کی ذمہ داری مجھ پر ڈالی جو میں نے قبول کر لی یہ واقعہ دسمبر ۱۹۹۳ء کا ہے تاکہ یہ نظریات محفوظ رہیں بحمداللہ میں نے اِس ذمہ داری کو پورا کیا اور مکمل تفسیر 9 ضخیم جلدوں میں جولائی ۱۹۹۸ء تک طبع ہو کر لوگوں تک پہنچ گئی۔

بعد ازیں تجوید الحروف کے ساتھ قرآنِ کریم طبع کیا اور پھر بامحاورہ ترجمہ طبع کیا گیا اور اِس کے ساتھ لفظی ترجمہ طبع کیا گیا اور اِسی طرح بعض چھوٹی چھوٹی کتب بھی طبع ہوتی رہیں اِن ساری چیزوں کو اہل حدیث کی کسی جماعت نے من حیث الجماعت تو قبول نہ کیا لیکن اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک وہ پڑھی جانے لگیں اور اِس ملک عزیز کے دوسرے شہروں میں پہنچنے لگیں اور یہ سلسلہ روز بروز بڑھتا گیا۔ اگرچہ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن کی نظروں میں کھٹکتا تھا وہ اِس تاڑ میں تھے کہ کوئی بات بنائی جائے۔

میر الطاف الرحمن صاحب کی نظامت کے دوران یہ طباعت کے کام پایہ تکمیل کو پہنچے وہ حج کی سعادت حاصل کرنے کے ارادہ سے جانا چاہتے تھے جو لوگ کسی موقعہ کی نزاکت کے متلاشی تھے اُنہوں نے کہا کہ آپ مستعفی ہو کر جائیں اُنہوں نے بسر و چشم قبول کر لیا۔ مجھ سے کہا گیا کہ ہم اِس سارے سٹاک کو باقاعدہ حساب کتاب میں لانا چاہتے ہیں میں نے چابیاں سپرد کر دیں اُنہوں نے وقت لگایا سب چیزوں کی گنتی کی اور باقاعدہ حساب کتاب رکھ کر پورے سٹاک کو دوسرے کمروں میں منتقل کر دیا اور ساتھ ہی کہہ دیا کہ ہم کسی نئی چیز کی طباعت نہیں کریں گے کیونکہ جماعت کے کرنے کے کام اور بھی ہیں لوگوں نے مجھے کہا کہ آپ اِن کو کہیں تاکہ اشاعت کا کام جاری رہے لیکن میں نے لوگوں کے مجمع میں کہنا صحیح نہ سمجھا اور علیحدگی میں کہا جو اُس وقت اُنہوں نے قبول نہ کیا۔

کچھ عرصہ خاموش رہنے کے بعد لوگوں کے بار بار تقاضا پر میں نے کام نئے سرے سے شروع کر لیا سب سے پہلے بامحاورہ ترجمہ قرآن ’’انجمن اشاعتِ اسلام ٹھٹھہ عالیہ (رجسٹرڈ) منڈی بہاؤالدین‘‘ کے نام سے طبع کرایا اور اِس کے بعد دوسری چھوٹی چھوٹی کتب شروع کر دیں اور بحمد اللہ اِس وقت کافی کام زیر طباعت ہے تقریبا ۱۲، ۱۳ چیزیں طبع ہو کر آ گئی ہیں ایک دو قرآنِ کریم دوبارہ زیر طباعت ہیں تقریبا ۱۱،۱۲ رسائل حافظ صاحب مرحوم کی کمپوزنگ ہو چکی ہے۔

زیر نظر کتابچہ اُسی پروگرام کے تحت طبع کرایا جا رہاہے جس کا نام ’’اوہام پرستی پر معجزات کا اصرار‘‘ تجویذ ہوا اور در اصل اِس میں زیادہ حصہ اُن دو خطوط کا ہے جو عیونِ زمزم پر کئے گئے اعتراض کے جواب میں قبل ازیں طبع ہو چکے ہیں لیکن کتاب عیون زمزم چونکہ ضخیم ہے اور اِس کی ضخامت میں یہ مزید اضافہ کرتے ہیں اور کتاب دوبارہ طباعت میں ہے اِس لئے ہم نے اِس مضمون کو لوگوں کی سہولت کے لئے اصل کتاب سے الگ بھی شائع کر دیا ہے اور عیون زمزم کے ساتھ بھی ہے جو ان شاء اللہ عنقریب طبع ہو گی۔

مجھے بحمداللہ یقین ہے کہ میں نے جو کام کئے محض رضائے الٰہی کے لئے کئے ہیں کسی انسان سے میں کوئی سر ٹیفکیٹ نہیں لینا چاہتا ہاں! اتنی بات ضرور ہے کہ میں نے بار بار اعلان کئے ہیں کہ اگر میں غلطی پر ہوں تو میری غلطی تفہیم سے درست ہو سکتی ہے فتویٰ بازی سے نہیں دوستوں نے فتوے لگائے ہیں لیکن تفہیم کی کوشش نہیں کی جن لوگوں نے قلم اُٹھایا اُنہوں نے بھی ہمارے دلائل کو تو ’’بے کار دلائل‘ ‘ قرار دیا کیونکہ وہ کتاب و سنت سے دیئے گئے ہیں اور بقول اُن کے کتاب و سنت کے دلائل معجزات کو ماننے والوں کے لئے بے کار ہیں جب ہم نے ’’کار آمد دلائل‘‘ طلب کئے تو خاموشی کے سوا کوئی جواب نہ ملا بلکہ اِس کے عوض روٹھ بیٹھنے کو ترجیح دی۔ گویا زمانہ میں مَیں ہی وہ بدقسمت ہوں جس کو تحریراً جواب دینا حرام ہے۔

حافظ عنایت اللہ مرحوم کی مسجد میں تازندگی طباعت کا کام جاری رکھنے کا جو عہد میں نے حافظ صاحب موصوف سے کیا تھا اُس کو حتی المقدور جاری رکھنا میرے فرائض ذمہ داری میں داخل ہے اِس لئے میں اپنا فرض ادا کر رہا ہوں اور بحمداللہ بے نیاز ہوں کہ کون اسے چاہتا ہے اور کون نہیں چاہتا۔ جامع العنائیہ کے تمام جمعہ کے نمازیوں کا میں تہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے دامے درمے سخنے میرے ساتھ تعاون کیا اور اِس طرح اپنے آبائی گاؤں میں جو ’’جامعہ‘‘ کا کام کیا اُس میں بھی انجمن اور جمعہ کے نمازیوں نے جو تعاون کیا ہے اُس کا بھی دِل و جان سے معترف ہوں۔

جامع العنائیہ اہل حدیث میں باقاعدگی کے ساتھ جمعہ ادا کرنے والوں سے میری درخواست ہے کہ اگر یہ نظریات درست ہیں جن کی ترجمانی اِس مقام پر ہو رہی ہے تو کم از کم اِس جگہ یعنی ’’جامع العنائیہ‘‘ میں اِس ترجمانی کو جاری رکھنے کے لئے پوری ذمہ داری آپ لوگوں پر ہے اگر آپ نے اِس ذمہ داری کو پورا نہ کیا تو کل اللہ کے ہاں آپ بھی جواب دہ ہوں گے خصوصاً وہ حضرات جن کے نام میں اِس جگہ درج کر رہا ہوں۔

جناب میر الطاف الرحمن صاحب۔ جناب ثناء اللہ بٹ صاحب۔ جناب اقبال ظفر بٹ صاحب۔ جناب حاجی سردار خاں صاحب۔ جناب محبوب احمد و منصورا احمد پسران منظور احمد صاحب۔ جناب قیوم خاں صاحب۔ جناب ظفر احمد ڈار صاحب۔ جناب راجہ طارق محمود صاحب (روزنامہ جذبہ)۔ جناب قدیر احمد ایڈووکیٹ صاحب۔ جناب امجد محمود صاحب ایڈووکیٹ۔ جناب ندیم احمد ‘ وسیم احمد پسران محمد اکرم صاحب۔ جناب عبدالخالق صاحب۔ جناب نصر احمد بٹ صاحب۔ جناب کرامت اللہ سیٹھ صاحب۔ جناب مرزا نصر بیگ صاحب۔ جناب عبدالشکور و عبدالودود پسران حافظ عبدالغفور صاحب۔جناب آفتاب احمد صاحب فروٹ منڈی۔ جناب خالد محمود بن عبدالرزاق صاحب۔ جناب خالد صاحب میڈیکل سٹور۔ جناب میر اعجاز الرحمن صاحب و میر حفیظ الرحمن صاحب۔ جناب محمد صادق صاحب مچھلی والے۔جناب محمد اصغر صاحب عرف بِلّا۔

نیز جامعہ العنائیہ کے ہر اُس آدمی پر ذمہ داری ہے جو نماز جمعہ کو باقاعدگی کے ساتھ اِس جگہ ادا کرنے کو ترجیح دیتا ہے نام صرف اُن لوگوں کے تحریر کئے گئے ہیں جو ایک عرصہ بعید سے اِ س جگہ آ رہے ہیں بلکہ اِن میں اکثر وہ ہیں جن کے آباؤ اجداد کو بھی اِس جگہ جمعہ کی نماز ادا کرنے کا شرف حاصل ہے۔ اور اُن کا خون پسینہ محض رضائے الٰہی کے لئے اِس مسجد پر خرچ ہوا ہے اور وہ اِس بے نام تحریک کے ساتھ تہہ دل سے وابستہ ہیں۔

میری موت کے بعد ’’مکتبہ الاثریہ‘‘ کے نام سے طبع شدہ تمام لٹریچر جو پہلے ہی انجمن کی تحویل میں ہے اور اُس کو باقی رکھنا آنے والی ہر انجمن کے ذمہ لازم ہے اور ’’انجمن اشاعتِ اسلام‘‘ کے نام سے طبع ہونے والا لٹریچر میرے بچوں خصوصاً حکیم عبدالعظیم کی تحویل میں دیا جائے گا اور اِس کام کو باقی رکھنا اُن کی ذمہ داری ہو گی۔ تاہم ’’مکتبہ الاثریہ‘‘ اور ’’انجمن اشاعتِ اسلام‘‘ دونوں نام میرے تجویذ کردہ ہیں اور اِن دونوں ناموں سے میں نے لٹریچر طبع کیا ہے اِس لئے یہ دونوں ادارے آپس میں ایک دوسرے کی کوئی چیز طبع کرانا چاہیں تو عام اجازت ہو گی۔

آج وہ ذمہ داری جو میں نے ۱۹۸۰ء میں اُٹھائی تھی اور جس کے بوجھ کے نیچے دَبْ کر رہ گیا تھا اِن ناموں کو پیش کر کے اِس بوجھ سے سبکدوش ہو رہا ہوں اور امید کرتا ہوں یہ تمام حضرات اپنی اپنی ذمہ داری کو ان شاء اللہ پورا کریں گے۔ اور جب تک بندہ اِس قابل ہے اِن شاء اللہ اِس کام کو جاری رکھے گا۔

Last edited by rana ammar mazhar; 06-02-12 at 08:43 PM.
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
پرستی, ولادت, معجزات, اوہام, اصرارِ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے رسیوں کی سانپ بننے کی حقیقت اور حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ ! شریف گپ شپ 163 14-01-12 09:53 PM
بھارت میں حضرت عیسیٰؑ پر فلم بنے گی جاویداسد خبریں 1 02-09-10 10:46 PM
حضرت عیسیٰ دنیا میں آئے تو مسلمان ہوں گے: قذافی جاویداسد خبریں 5 02-09-10 12:18 AM
دجال، یاجوج ماجوج، عیسیٰ (علیہ السلام) اور قیامت باذوق مطالعہ حدیث 2 15-06-09 04:03 PM
قرآن اور ولادت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام Real_Light علوم قرآن کریم 4 24-12-08 10:13 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:01 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger