واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم



علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم


قران کے نسخے کن ہاتھوں سے ہمارے ہاتھوں تک پہنچے؟ ابتدائی قرآن کی کتابت کی تاریخ

Like Tree5Likes

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-10-09, 09:32 AM  
قران کے نسخے کن ہاتھوں سے ہمارے ہاتھوں تک پہنچے؟ ابتدائی قرآن کی کتابت کی تاریخ
فاروق سرورخان فاروق سرورخان آف لائن ہے 22-10-09, 09:32 AM

السلام علیکم۔

یہ سوال آپ کو بہت سے حلقوں سے ملے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں‌ مکمل لکھا ہوا قرآن موجود نہیں تھا۔ اس مراسلہ میں کوشش کی گئی ہے کہ ‌آپ کو وہ روایات مل جائیں جو قرآن کے پہلے دو نسخوں‌کی تدوین کے بارے میں‌ہیں۔ اگر کوئی دوست ان روایات کا اردو اور عربی ترجمہ بھی فراہم کرسکیں‌تو لنک اور متن دونوں‌ذیل میں‌کٹ پیسٹ کردیں اور شکریہ قبول کیجئے۔


قران حکیم ، فرمان رب عظیم اللہ تعالی کسی کی سنی سنائی اسناد سے آج ہم تک نہیں پہنچا۔ یہ رسول اللہ صلعم پر نازل ہوا، خود ان کے فرمان کے مطابق‌ لکھایا گیا۔ ہر آیت -- لکھی ہوئی -- کم از کم دو اصحابہ کے پاس ملی، جس سے مصحف عثمانی ترتیب دیا گیا۔ ہوں۔ اس ریسرچ کے بغیر بھی ایک مسلمان ‌اس پر یقین رکھتا ہے اور یہ ہمارا ایمان ہے۔ کہ قرآن کی حفاظت اللہ تعالی خود فرماتے ہیں۔

"قرآن اپنے نزول کے ساتھ ساتھ لکھا جاتا رہا۔ حفاظ‌ نے اس کو ذاتی طور پر یاد بھی رکھا لیکن لکھا ہوا ہمیشہ موجود تھا اور وہ مصحف عثمانی جس کی ہر آٰیت کم از کم دو اصحابہ کو یاد تھی اور ساتھ ساتھ لکھی ہوئی بھی تھی، اس مصحف ّعثمانی کی کم از کم 3 کاپیاں میری ریسرچ کے مطابق موجود ہیں اور ایک سے زائید آزاد تحقیق کے مطابق اس کا عربی مواد لفظ بہ لفظ موجودہ قرآن سے ملتا ہے۔ "‌ میری استدعا ہے کہ آپ اس موضوع پر ذاتی ریسرچ کیجئے۔ اس کو پڑھنے میں وقت لگے گا، اور حوالہ جات کو پڑھنے میں‌بھی وقت لگے گا۔

گواہیوں کے لنک نیچے فراہمکررہا ہوں۔ یہ گواہیاں‌تاریخی امور سے ہیں ۔

1۔ اصحابہ کرام سے منسوب روایتوں‌ میں درج ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کا ترتیب دیا ہوا قران، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس رہا اور اس کے بعد حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس رہا۔ اس قرآن سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے ترتیب کرائے ہوئے قرآن کا موازنہ کیا گیا۔
CRCC: Center For Muslim-Jewish Engagement: Resources: Religious Texts

قرآن کی ان کاپیوں‌کا لنک جو آج بھی موجود ہیں :
‌وہ قرآن جو حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ شہادت کے وقت پڑھ رہے تھے۔ توپ کاپی میں
Care2 - Photo Sharing

مصحف عثمانی کی ایک اور کاپی ازبکستان - تاشقند میں
IslamiCity.com - The oldest Quran in the world
BBC NEWS | Asia-Pacific | Tashkent's hidden Islamic relic

کویتی کاپی مصحف عثمانی کی
Kuwait displays copy of Othman Quran

قاہرہ مصر کی کاپی مصحف عثمانی کی
The "Qur'an Of Uthman" At The Al-Hussein Mosque, Cairo, Egypt, From 1st / 2nd Century Hijra


ابتدائی قرآن کی کتابت کی تاریخ:
قرآن کا اولیں نسخہ:
1۔ حضرت محمد صلی اللہ و علیہ وسلم ، قرآن اپنی نگرانی میں‌لکھواتے تھے اور حفاظ اس کو یاد بھی کرلیتے تھے۔ رسول اکرم صلعم کی موجودگی میں ان لکھوائے ہوئے اوراق کی مدد سے اور حفاظ کرام کی مدد سے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے پہلا نسخہ زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کی نگرانی میں ترتیب دلوایا، کہ زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کو رسول اکرم خود لکھوایا کرتے تھے (‌حوالہ نیچے)۔ اور ایک مزید نسخہ بعد میں‌ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے انہی شرائط پر دوبارہ ترتیب دلوایا۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے اس نسخہ کا حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے نسخے کو حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس سے منگوا کر موازنہ کروایا ( گواہی کا حوالہ نیچے دیکھئے)

2۔ حضرت حفصہ بنت عمر الخطاب رضی اللہ تعالی عنہا ، رسول اکرم کی ازواج مطہرات میں سے ہیں۔ قرآن کا ایک نسخہ ان کے پاس موجود تھا۔ (حوالہ نیچے دیکھیں) یہ نسخہ جناب ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے کاغذ پر لکھے ہوئے کی مدد سے اور حفاظ کرام کی مدد سے سے لکھوایا تھا، یہ کام زید بن ثابت نے کیا ۔ یہ نسخہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس پہنچا اور پھر حضرت حفصہ بنت عمر کے پاس پہنچا۔

حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے قرآن کا ایک دوسرا نسخہ ترتیب دلوایا ۔ یہ نسخہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ تعالی عنہ ، سعید بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ اور عبدالرحمان بن حارث بن ہاشم کی مدد سے ترتیب دیا گیا۔

اس ترتیب دینے کی شرائط یہ تھیں۔
1۔ ہر وہ شخص‌جسے قرآن کی ایک بھی آٰیت یاد تھی ، وہ زید بن ثابت کے پاس آیا اور وہ آٰیت دہرائی۔
2۔ جس کسی نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کوئی آیت لکھی تھی وہ زید بن ثابت کے پاس لے کر آیا
3۔ زید بن ثابت نے کوئی بھی ایسی آیت قبول نہیں‌کی جو رسول اکرم کی موجودگی میں‌ نہیں لکھی گئی تھی۔
4۔ صرف یاد کئے ہوئے یا صرف لکھے ہوئے پر بھروسہ نہیں‌کیا گیا بلکہ لکھے ہوئے کا موازنہ یاد کئے ہوئے سے کیا گیا۔
5۔ جناب زید بن ثابت نے کوئی آیسی آیت قبول نہیں‌کی جس کے گواہ دو حفاظ نہیں‌تھے۔ زیدبن ثابت خود ایک گواہ تھے، اس طرح ہر آیت پر تین گواہیاں بن گئیں
6۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے جنابہ حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس سے جناب ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کا ترتیب دیا ہوا قرآن منگوایا اور ان دونوں‌ مصحف‌ کا آپس میں‌ موازنہ کیا گیا۔

اس قرآن کی متعدد کاپیاں‌بنوائی گئیں ، جن میں‌کم از کم 3 عدد مستند مقامات پر موجود ہیں۔

جب پم میں سے کسی ‌ کو یہ قرآن پڑھوایا جاتا ہے تو مندرجہ بالاء میں سے کچھ بھی نہیں‌بتایا جاتا۔ ہم سب ‌ اس قرآن پر اپنی مرضی اور اپنے والدین کی ہدایت پر ایمان لایے۔ اگر ہم میں‌سے کسی نے یہ سب کچھ نہ بھی پڑھا ہوتا تو بھی ہمارا ایمان ایسے ہی پختہ ہوتا۔ کہ اس کو اللہ تعالی نے نازل کیا ہے اور وہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔


حوالہ جات:
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کی گواہی کہ قرآن کو رسول اکرم کے سامنے لکھے ہوئے سے لکھا گیا، صرف زبانی حفظ سے کام نہیں چلایا گیا
CRCC: Center For Muslim-Jewish Engagement: Resources: Religious Texts

قرآن کا املا کرایا جارہا ہے ، ایک اور گواہی:
CRCC: Center For Muslim-Jewish Engagement: Resources: Religious Texts

مزید صحابہ کی گواہی کہ اس وقت تک کا مکمل لکھا ہو قرآن رسول اکرم کی زندگی میں موجود تھا:
CRCC: Center For Muslim-Jewish Engagement: Resources: Religious Texts

املا لکھانے کی ایک اور مثال:
CRCC: Center For Muslim-Jewish Engagement: Resources: Religious Texts

جو قرآن ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کی مدد سے ترتیب دلوایا وہ کاپی عثمان رضی اللہ تعالی عنہ تک پہنچی، یہ تمام کا تمام قرآن لکھے ہوئے قرآن سے اور حفاظ‌ کی گواہی سے ترتیب دیا گیا۔ اس کی گواہی
CRCC: Center For Muslim-Jewish Engagement: Resources: Religious Texts

لکھے ہوئے سے جمع کرنے کی ایک اور گواہی:
CRCC: Center For Muslim-Jewish Engagement: Resources: Religious Texts

میں نے سوچا کہ ان معلومات پر مشتمل کچھ مزید لنک بھی ہونے چاہئیے۔

ملتی جلتی معلومات پر مشتمل ایک اور لنک،
-
یہ لنک میں نے بعد میں ڈھونڈھا۔ کوئی بھی مماثلت اتفاقیہ ہے۔
تھوڑی سے مختلف معلومات پر مشتمل ایک اور لنک

اللہ تعالی قرآن حکیم میں بھی بیان فرماتے ہیں‌کہ یہ لکھا ہوا قران ہے۔

بحیثیت ایک مسلمان ہمارا یہ فرض‌ہے کہ ہم مذہبی کتب کو قرآن حکیم یعنی اللہ کے فرمان کی روشنی میں دیکھیں۔ قرآن نئی اور تمام کتب کے لئےکسوٹی ہے۔


آپ فیصلہ کرلیجئے کہ آپ نئی اور پرانی مذہبی کتب کو قرآن کی مدد سے پرکھیں گے

یا کہ
فرمان الہی قرآن حکیم جو رسول اللہ صلعم کی زبان مبارک سے ادا ہوا، کیا اس کتاب کو کسی بھی انسانوں کی لکھی ہوئی نئی پرانی کتب کی مدد سے پرکھا جانا چاہئیے کہ قران حکیم میں‌ درست کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ یقیناً ‌نہیں۔


نوٹ: اگر کسی بھائی کو اس مراسلہ میں کوئی غلطی نظر آئے تو سب کے فائیدہ کے لئے مجھے مطلع فرمائیے تاکہ اس غلطی کو فوراً درست کیا جاسکے۔

والسلام
__________________
فاروق سرور خان طالب علم قرآن
بلاگ: http://whatquransays.blogspot.com

فاروق سرورخان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 4,055
شکریہ: 7,701
3,333 مراسلہ میں 9,656 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 2811
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (03-12-11), shafresha (22-10-09), مرزا عامر (22-07-10), ابرارحسین (22-07-10), طارق راحیل (11-10-10)
پرانا 18-11-09, 09:49 PM   #31
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 4,055
کمائي: 32,689
شکریہ: 7,701
3,333 مراسلہ میں 9,656 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
فاروق بھائی سورت القیامہ کی مندرجہ ذیل آیات مبارکہ کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے ؟؟؟
((((( لاَ تُحَركْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ o إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ o فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَٱتَّبِعْ قُرْآنَهُ o ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ o)))))
ان شاء اللہ تعالیٰ تین چار دن بعد آپ سے مزید گفتگو کے لیے حاضر ہوں گا ، و السلام علیکم۔
سلام علیکم،
پہلے تو آپ کی فراہم کردہ آیات مع ترجمہ کے دوبارہ لکھ رہا ہوں۔

75:16 لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ
نہ حرکت دو اس (قرآن کو یاد کرنے) کے لیے اپنی زبان کو تاکہ جلدی یاد کر لو تم اسے۔
75:17 إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ
یقینا ہمارے ذمہ ہےاس کو جمع کرنا اور پڑھوانا۔
75:18 فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ
تو جب ہم اسے پڑھ چکیں تو اس پڑھے ہوئے کی اتباع کرو



اگر آپ ان کے معانی سمجھنا چاہتے ہیں تو اس کو ایسا سمجھیں کہ
1۔ ان آیات میں رسول اللہ کو مخاطب کیا جارہا ہے۔ اور
2۔ جس طرح لوگ یاد رکھنے کے لئے دہراتے ہیں،
3۔ اللہ تعالی نے رسول صلعم کو حکم دیا کہ آپ کو وحی دہرانے کی ضرورت نہیں‌ہے ، اس کو رسول اللہ کے حافظہ میں‌جمع کرنا اور رسول اللہ کو پڑھوانا اللہ تعالی کا ذمہ ہے۔ یعنی یہ اللہ تعالی کی مدد سے رسول اللہ کو یاد ہوجائے گی، جب رسول اللہ وحی کو سن چکیں تو پھر اس کا اتباع کریں۔

مجھے نہیں معلوم کہ آپ کا مقصد ان آیات کے فراہم کرنے سے کیا ہے۔ اگر آپ ان آیات سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وحی نازل ہوجانے کے بعد رسول اللہ کو یاد ہوجاتی تھی لہذا ان کو یہ وحی بقیہ مسلمانوں کے لئے لکھوانے کی ایک کتاب کی شکل میں ضرورت نہیں تھی تو بھائی آپ اس کوشش میں بہت ہی بری طرح ناکام رہے ہیں۔

وہ اس لئے کہ وحی کے نزول کے بعد رسول اکرم کے قلب و ذہن پر وحی نقش ہوجائے یہ مشیت الہی ہے لیکن اگر رسول اکرم یہی وحی دیگر انسانوں تک نہیں پہنچائیں تو مقصد پیغمبری فوت ہوجاتا ہے۔

سب جانتے ہیں کہ بلاشبہ، وحی رسول اکرم پر نازل ہوتی رہی، وہ اس کو دیگر صحابہ کرام کو سناتے رہے ، رسول اللہ کے ذہن پر اللہ کی طرف سے نقش ہوتی رہی اور بقیہ مسلمان اسی وحی کو رسول اکرم سے سن کر یاد کرتے رہے۔ ساتھ ساتھ اسی وحی کو ایک کتاب کی شکل میں بھی لکھا جاتا رہا۔ جس کو اللہ تعالی نے قرآن کا نام دیا ۔ ان صفحات کو جن پر یہ قرآن مسطور تھا یعنی سطر بہ سطر لکھا ہوا تھا، ( شرط یہ تھی کہ رسول اللہ نے اپنی موجودگی میں لکھوایا ہو اور اس کے دو عدد گواہ موجود ہوں اور دو عدد گواہوں کو یہ آیات یاد بھی ہوں) حضرت ابوبکر (ر) نے پہلی بار مرتب کروایا، (‌حوالہ پہلے دے چکا ہوں) اور پھر دوسری بار یہی طریقہ حضرت عثمان (ر) نے استعمال کرتے ہوئے مزید جلدیں بنائیں جن کو مختلف جگہ بھجوایا۔ رسول اللہ کا قرآن لکھوا رکھنا یا لکھوا لینا، قرآن سے بھی ثابت ہے اور روایات سے بھی۔ اسی طرح اس اصل کتاب کی مزید با احتیاط نقول پہلے دو خلفائے راشدین کے ہاتھوں قرار پانا، روایات سے ثابت ہے۔

ان سب کے حوالہ فراہم کرچکا ہوں۔ آپ صرف مخالفت برائے مخالفت کررہے ہیں اس لئے کہ آُ نہیں چاہتے کہ قرآن حکیم کے حوالہ فراہم کئے جائیں کہ اللہ تعالی قرآن میں خود گواہی دیتے ہیں کہ قرآن حکیم ایک مسطور اور دیکھ کر پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ (حوالہ عرض‌کرچکا ہوں)
جب ایک شخص بناء کسی دلیل کے کسی بات کو مانتا ہے تو وہ ہوتا ہے اس کا ایمان۔

آپ کا مسئلہ بہت ہی سیدھا سادا ہے۔ وہ یہ کہ بناء کسی دلیل کے آپ کا ایمان قرآن کے علاوہ بعد کی کتب پرہے۔ اس کی تاویل آپ یہ لاتے ہیں کہ ان کتب میں وحی خفی موجود ہے۔ اس طرح آپ ان کتب کو اپنے ایمان کا حصہ بناتے ہیں۔ ایسی صورت میں بھلا آپ اپنی ان کتب پر جن پر آپ کا ایمان ہے کیونکر شک کریں گے۔ آپ تو یقیناً قرآن کو جھٹلاءین گے اور اپنی کتب پر ایمان رکھیں‌گے۔

اس کی بھی بہت واجح وجہ ہے جب ایران فتح ہوا تو ایرانی منہہ سے تو ایمان لے آئے لیکن سارا وقت ان کی کوشش یہ ہی رہی کہ اپنی کتب کو درست ثابت کریں اور قرآن کو غلط۔ یہی مواد آج بھی لوگ پڑھ پڑھ کر گمراہ ہیں۔ حتی کے ان کے پاس اصل کتب بھی موجود نہیں کہ ان میں کیا لکھا تھا لیکن آج کچھ لوگوں کا ایمان انہی کتب پر ہے جو فارسی ایمان کا حصہ تھیں۔

ہمسایہ جبریلِ امیں بندہء مومن
ہے اس کا نشیمن نا بضارا نہ بدخشان


آپ جانتے ہیں کہ وحی خفی کا کوئی وجود نہیں کہ اللہ تعالی قرآن میں اس کی گواہی دیتا ہے کہ کسی نبی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ نازل ہوئی وحی کو چھپائے یعنی خفی رکھے۔ جوبھی وحی رسول اکرم پر نازل ہوئی وہ قرآن حکیم میں مکمل طور پر موجود ہے۔

کیا اللہ کی کتاب کے بعد کتب کو ایمان کا حصہ بنانا شرک نہیں ؟ طے کرلیجئے کہ کس کتاب پر ایمان رکھنا ہے؟ وقت ہے کہ ہم رسول العربی کے لائے ہوئے قرآن پر ایمان لے آئیں۔ نہ کہ بخارا و بدخشاں کے نبیوں کی کتب پر ایمان لائیں۔

میں بہت ہی نرم دلی اور انتہائی احترام سے عرض کرتا ہوں‌کہ ہم کو چاہئیے کہ صرف اور صرف اللہ پر، اس کو کتب پر ، قرآن حکیم پر اس کے نبیوں پر، رسول اکرم پر اس کے فرشتوں پر اور یوم آخرت پر ایمان لائیں۔ اور ان کتب پر ایمان نہ رکھیں جن کا حکم نہ اللہ تعالی نے قرآن میں‌دیا اور نہ ہی اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا۔

والسلام
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-10-10), مرزا عامر (22-07-10)
پرانا 18-11-09, 11:34 PM   #32
Senior Member
 
عادل سہیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 50
مراسلات: 4,650
کمائي: 96,423
شکریہ: 2,160
3,781 مراسلہ میں 13,447 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
جناب محترم عادل سہیل صاحب، سلام علیکم،

آپ اگر ترتیل والا مراسلہ بغور پڑھتے تو آپ پر واضح ہوتا کہ "ترتیل" کی مثال اس لئے دی گئی تھی کہ اس سے پیشتر آیت میں ترتیل کے ساتھ پڑھنے کے بارے میں یعنی زبان سے پڑھنے کے بارے میں نہیں بتایا جارہا۔ بلکہ آنکھ سے دیکھ کر پڑھنے کے بارے میں بتایا جارہا ہے۔ آپ نے میرے اس نکتے کو مزید واضح کیا، شکریہ۔
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
فاروق بھائی ، ترتیل کا ذکر آپ نے اس طرح تو نہیں کیا ، یہ آپ کے سیاق و سباق سے صاف ظاہر ہے ، اور اگر آپ کی اپنے سابقہ بیان کے بارے میں آپ کی یہ تازہ تاویل بھی مان لی جائے تو بھی بات وہیں کی وہیں ہے ،
آنکھ سے دیکھ کر پڑہنے کی بات کر کے آپ نے اپنے سابقہ موقف کو واضح کیا ہے جناب ،
کہ پہلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم آنکھ سے دیکھ کر پڑہتے تھے ، یعنی آپ اپنے اُسی غلط فلسفے کو ایک دوسرے انداز میں پرموٹ کر رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے پاس قران کا لکھا ہوا ایک ایسا نسخہ تھا جسے دیکھ کر وہ پڑہتے تھے ،
اصل بات یہ دکھائی دے رہی ہے فاروق بھائی کہ جب آپ کو یہ اندازہ ہوا کہ آپ نے آیات مبارکہ کی جس طرح غلط تاویلات کی ہیں ان کا پول کھل رہا ہے تو """ ترتیل """ کو """ زبانی پڑھنا """ کہہ دیا ،
یقینا آپ کو اندازہ نہیں ہوا بھائی جی کہ اس بیان کے بعد آپ کے مخالف قران فلسفوں کی گنتی میں اضافہ ہو گیا ہے ،
شاید آپ یہ بھول رہے ہیں کہ رسول اللہ‌ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پڑھنا اور لکھنا نہیں جانتے تھے ، اور یہ ان کی خصوصیات میں سے ایک تھی ،
اور اس پر اللہ کی گواہی بھی موجود ہے ،

پھر آپ """ آنکھ سے دیکھ کر """ پڑہنے کی بات کیسے کرتے ہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
آپ نے اپنے مراسلہ رقم 11 میں تین آیات ذکر کر کے ان کی غلط تاویل کرتے ہوئے انہیں اپنے خلاف قران فلسفے کے لیے استعمال کیا ،
پہلی آیت سورت النحل کی ہے ، دوسری سورت الاعراف کی اور تیسری سورت المزمل کی ،
اور اب جب آپ کی قران کی آیات کی آڑ میں کی گئی غلط بیانی کا پول کھل رہا تو """ پہلے آنکھ سے دیکھ کر پڑھنے """ اور پھر """ زبانی پڑھنے """ کا فلسفہ لے آئے جو کہ الحمد للہ آپ کے کام نہیں آیا بلکہ آپ کی غلط بیانی کو مزید نکھار دیا ہے اور آپ کی لاعلمی کو مزید آشکار کر دیا ہے اور آپ کی قران فہمی کا بھید اور کھل گیا ہے و للہ الحمد ،
جناب کیا آپ کی قران فہمی میں یہ نہیں آتا کہ سورت المزمل اور سورت النحل کے نزول کی ترتیب کیا ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
اور اسی طرح سورت المزمل اور سورت الاعراف کے نزول کی ترتیب کیا ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
کو نسی صورت پہلے نازل ہوئی اور کون سی بعد میں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
اپنی ہی مرضی سے کسی حکم کو پہلے والا قرار دے رہے ہیں اور کسی کو بعد والا ، لا حول ولا قوۃ الا باللہ ،
آپ صرف اپنے خلاف قران فلسفوں کو کسی طرح قران کی آیات مبارکہ کی آڑ میں داخل کرنا چاہتے ہیں خواہ اللہ کے کلام کے ساتھ آپ کوئی بھی رویہ کرتے رہیں ،
بھائی جی آپ کی اپنی باتوں میں اکثریت مخالفت قران کی حامل ہیں اور خوش فہمی کی انتہا یہ ہے کہ اپنے خود ساختہ خلاف قران فلسفوں کی بنا پر صحیح ثابت شدہ سنت کو رد کرتے ہیں اور اٹل حقائق کو رد کرتے ہیں ، انا اللہ و انا الیہ راجعون ،
فاروق بھائی ، ابھی میری ترتیل کے موضوع پر بات مکمل نہیں ہوئی ، اور ابھی ہڈیوں پتھروں پر قران کی آیات کی کتابت کی بات بھی باقی ہے ،
ابھی تک آپ کی بات وہی کی وہی ہے جس سے میں نے اختلاف کیا اور یہ سب کچھ لکھ رہا ہوں ، جس کی آپ کو سمجھ نہیں آئی جبکہ میں دو دفعہ بتا چکا ہوں کہ :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
::::::: آپ نے یہاں اپنے اس تھریڈ کے بنیادی مراسلہ رقم ایک میں یہ تو درست لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اپنی زندگی مبارک میں اپنے کاتبین وحی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو قران لکھواتے تھے ، اور یہ بھی درست لکھا کہ سب سے پہلے ایک مجموعہ کی صورت میں ترتیب پانے والا قران زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے امیر المومنین ابو بکر الصدیق کے حکم پر مرتب کیا ، جو یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی وفات کے بعد کا واقعہ ہے ،
ان دو باتوں میں ہمارا اور آپ کا تو کیا سوائے ایک مخصوص فرقے کے کسی بھی مسلمان کا کوئی اختلاف نہیں ،
میری اورآپ کی گفتگو میں اختلاف ، ان دو حقائق کے بارے میں نہیں ،
بلکہ اختلاف ، آپ کا ان مذکورہ بالا دو حقائق کو خود ہی بیان کرنے کے بعد خود ہی ان کا انکار کرنے ، اور اُس انکار کے لیے خلاف حقیقت فلسفے بیان کرنے اور اُن فلسفوں کو درست ثابت کرنے کے لیے قران پاک کی آیات مبارکہ کی غلط تاویلات کرنے پر ہے ،
:::::::
الحمد للہ جس نے آپ سے خود اپ کی ہی مخالفت کا مزید اظہار کروایا ، اب میں اپنی کل والی """ ترتیل ""' سے متعلقہ بات کی طرف پلٹتا ہوں ،،،،،
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-10-10), کنعان (21-11-09), مرزا عامر (22-07-10), ضِرار Derar (09-10-10)
پرانا 19-11-09, 12:12 AM   #33
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 4,055
کمائي: 32,689
شکریہ: 7,701
3,333 مراسلہ میں 9,656 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

مجھے اندازہ ہورہاہے کہ آپ اپنے آُ کو دستثابت کرنے کے لئے بات کو کہی سے کیں لے جارہے ہیں۔ الحمد للہ میرا لکھا ہوا یہاں موجود ہے۔ آپ میرے مرسلات سے وہ حوالہ دیجئے جس میں یہ لکھا ہے کہ رسول اللہ قرآن کو کتاب سے دیکھ کر پڑھا کرتے تھے ؟ لکھا ہوا قرآن مسلمانوں کے لئے ہے۔ سول اللہ صلعم کے قلب مبارک اور ذہن مبارک پر قرآن کا نزول ہوا یہ تو دوسری جماعت کا بچہ بھی جانتا ہے ۔ ایسا تو کوئی فاتر العقل اور مکمل طور پر لاعلم شخص ہی سمجھ سکتا ہے۔

اقتباس:
کہ پہلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم آنکھ سے دیکھ کر پڑہتے تھے ، یعنی آپ اپنے اُسی غلط فلسفے کو ایک دوسرے انداز میں پرموٹ کر رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے پاس قران کا لکھا ہوا ایک ایسا نسخہ تھا جسے دیکھ کر وہ پڑہتے تھے ،
یہ آُ کی اپنی سمجھ کا پھیر ہے۔ آپ بغور پڑھئیے صاحب، میں نے ایسا کہیں بھی نہیں لکھا ہے کہ "رسول اکرم ایک لکھوایا ہوا قرآن دیکھ دیکھ کر پڑھتے تھے" ۔ آنکھ سے دیکھ کر پڑھنے والے قرآن کی کتابی شکل عام مسلمانوں کے لئے ہے۔

میں نے عرض کیا کہ " قرآن جیسے جیسے نازل ہوتا گیا رسول اکرم ویسے ویسے لکھاتے جاتے رہے" ------ آپ بلاوجہ کے مغالطہ کا شکار ہیں۔ دوبارہ سے میرا مراسلہ پڑھئیے۔ اس میں تو ایسا شبہ بھی پیدا نہیں ہوتا۔

ترتیل والے نکتہ کو بھی دوبارہ پڑھئیے۔ وہاں میں لکھتا کچھ ہوں اور آپ پڑھتے کچھ اور ہیں۔

ہڈیوں اور پتھروں والے قرآن کا دیدار کروائیے ، بہت عنایت ہوگی۔

والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 19-11-09 at 12:43 AM.
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-10-10), مرزا عامر (22-07-10)
پرانا 19-11-09, 12:26 AM   #34
Senior Member
 
عادل سہیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 50
مراسلات: 4,650
کمائي: 96,423
شکریہ: 2,160
3,781 مراسلہ میں 13,447 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
فاروق بھائی کل میں """ ترتیل """ سے """ پڑہنے """ کے بارے میں بات کر رہا تھا ، کسی سبب سے مجھے اچانک رکنا پڑا ،
آج اس موضوع کو مکمل کرنے کے لیے حاضر ہوا تو آپ کی طرف سے کچھ نئے ارشاد پڑھنے کو ملے جو الحمد للہ آپ پر ہی حجت ہیں ، ان کے بارے میں مختصراً کچھ عرض کر چکا ہوں اور اب اپنے کل والے موضوع کو جاری رکھتے ہوئے اللہ تبارک و تعالیٰ کی نازل کردہ وہ ساری آیات لکھتا ہوں جن میں سے ایک آیت کے ایک حصہ لکھ کر آپ نے اُسے اپنے غلط فلسفے کی دلیل بنانے کی غلطی کی ،
اللہ تبارک و تعالیٰ کافرمان یہ ہے ((((( ياأَيُّهَا المُزَّمِّلُ o قُمِ الَّيلَ إِلاَّ قَلِيلاً oنِّصفَهُ أَوِ انقُص مِنهُ قَلِيلاً oأَو زِد عَلَيهِ وَرَتِّلِ القُرءَانَ تَرتِيلاً o إِنَّا سَنُلقِى عَلَيكَ قَولاً ثَقِيلاً ::: اے کپڑے میں لِپٹنے والے o رات میں (نماز کے لیے) کھڑے ہوا کرو سوائے تھوڑے وقت کے o آدھی رات کے برابر یا اُس سے کچھ کم کر لو o یا اُس سے زیادہ کر لو اور قُران پڑھو آہستگی اور درستگی کے ساتھ o بے شک ہم جلد ہی تُم پر وزنی بات نازل کریں گے )))))) سور المزمل / آیت 1 تا 5
فاروق بھائی ، غور فرمایے ، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم کو پوری رات میں سے آدھی رات کے لگ بھگ وقت کے برابر کھڑے ہونے یعنی نماز پڑہنے کا حکم دیا گیا ، اور پھر اس نماز میں جو قران پڑھا جانا ہے اُس کو ""' ترتیل """ کے ساتھ پڑہنے کا حکم فرمایا ،
بھائی جی کیا آپ یہ فرما سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اس قیام اللیل میں آپ کے سابقہ فلسفے یعنی مراسلات رقم 3 ، 10 ، اور 11 میں بیان کیے ہوئے خلاف قران فلسفے کے مطابق اُن کے پاس پائے جانے والے مکمل قران کے نسخے کو تھامے رکھتے اور اس کو دیکھ کر ((((( وَ رَتِّلِ القُرءَانَ تَرتِيلاً ))))) پر عمل فرماتے !!!!!!!!!!! ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
یا آج مراسلہ رقم 30 میں بیان کردہ اس سابقہ فلسفے کے بچاو میں ایک نئی تاویل کے مطابق اس فرمان کے بعد زبانی پڑہنے لگے اور اس سے پہلے دیکھ کر پڑھتے تھے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ؟؟؟؟
مزید غور فرمایے ((((( إِنَّا سَنُلقِى عَلَيكَ قَولاً ثَقِيلاً ))))) میں اللہ تعالیٰ کسی چیز کے نازل کرنے کا ذکر فرما رہا ہے ،،،،، ثقیل قول کا ،،،،،، یعنی ،،،،، وزنی بات کا ،،،،، اگر آپ کے ذاتی افکار پر مبنی غلط قران فہمی کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے پاس قران لکھا ہوا موجود تھا تو پھر یہ وزنی بات کون سی تھی جس کا اللہ کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر نزول ہوتا تھا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
مزید غور فرمایے ،،، میں نے ابھی ابھی آپ سے اُن تین سورتوں کے نزول کی ترتیب کے بارے میں پوچھا تھا جن کی آیات کو آپ نے اپنے خلاف قران فلسفوں کی دلیل بنانے کے لیے غلط تاویلات کیں اور پھر مراسلہ 30 میں یہ فرمایا کہ ((((( و رِتل القران ترتیلاً ))))) والا حکم بعد کا ہے اور اس سے مراد زبانی پڑھنا ہے ، لاحول ولا قوۃ الا باللہ ،
جناب یہ سورت المزمل نزولی ترتیب کے لحاظ سے تیسری سورت ہے ، اور سورت النحل اور سورت الاعراف اس کے بہت بعد کی ہیں ، آپ کے فلسفے کے مطابق تو قران اس سورت المزمل سے پہلے ہی مکمل طور پر ایک کتاب کی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے پاس ہونا لازم قرار پاتا ہے ، تو پھر اللہ تبارک و تعالی نے ((((( إِنَّا سَنُلقِى عَلَيكَ قَولاً ثَقِيلاً ))))) میں کس وزنی ""' بات """ کے نازل کرنے کی بات فرمائی ہے !!!!!!!!!!!!! ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
اگر آپ کے گمراہ شدہ اور گمراہ کن فلسفوں کے مطابق جب کچھ پڑھا جاتا ہے تو لکھے ہوئے کو دیکھ کر ہی پڑھا جاتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ فرمان ملاحظہ فرمایے ((((( وَكَذَلِكَ جَعَلنَا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوّاً مِّنَ المُجرِمِينَ وَكَفَى بِرَبِّكَ هَادِياً وَنَصِيراً وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَولاَ نُزِّلَ عَلَيهِ القُرءَانُ جُملَةً وَاحِدَةً كَذَلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلنَاهُ تَرتِيلاً وَلاَ يَأتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلاَّ جِئنَاكَ بِالحَقِّ وَأَحسَنَ تَفسِيراً ::: اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے مجرموں میں سے دُشمن بنائے اور (اے محمد ) آپ کے لیے آپ کا رب ہدایت دینے والا اور مدد کرنے والا بہت کافی ہے ، اور جنہوں نے کفر کیا وہ کہتے ہیں محمد پر قران ایک ہی دفعہ میں نازل کیوں نہیں ہوتا ،( قران کو ایک دفعہ نازل نہ کرنا ) اس لیے کہ ہم قران کے ذریعے آپ کے دِل کو مضبوط کریں اور اُسے ترتیل کے ساتھ ،،،،،،، اور وہ لوگ آپ کے پاس (اس کی کوئی ) مثال لے کر نہیں آسکتے سوائے اس کے کہ ہم آپ کے پاس حق لے ساتھ آئے ہیں اور بہترین تفیسر کے ساتھ ))))) سورت الفُرقان / آیت 32
جی فاروق بھائی ، یہاں اللہ کے اس مذکورہ بالا فرمان میں """ رتلناہُ """ میں ""' ترتیل """ کیا ہے ؟؟؟؟؟؟؟ اور کیوں ہے ؟؟؟؟؟؟؟
ترجمہ میں ، میں نے """" اُسے ترتیل کے ساتھ ،،،،،،،"""" آپ کے جواب کے لیے جگہ رکھ کر لکھا ہے ،
اس کے ساتھ ساتھ میں آپ سے یہ بھی سننا چاہوں گا کہ """ ترتیل """ کا معنی یا مفہوم کس طرح کون سے قانون، قاعدے ،کلیے، دلیل سے """ زبانی پڑھنا """ بنتا ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
اور جب کوئی قاری قران دیکھ کر اسے پڑھتا ہے تو کیا اس کے پڑھنے کو کسی طور """ ترتیل """ سے پڑھنا کہا جا سکتا ہے یا نہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
قران کو دیکھ کر """ قرأت """ کرنے والی کی اس قرأت کو کسی طور '"" مُرتل قرأت """ کہا جا سکتا ہے کہ نہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
قران کو دیکھ کر """ تلاوت """ کرنے والی کی اس تلاوت کو کسی طور '"" مُرتل تلاوت """ کہا جا سکتا ہے کہ نہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟
مجھے یقین ہے کہ ان شاء اللہ آپ جواب نہیں دیں گے ،
اور آپ کے دستور کے مطابق رٹا رٹایا فقرہ کھیں گے کہ """ آپ کے سوالات بیانیہ ہوتے ہیں اور بہت بکھرے ہوئے ہوتے ہیں ""' ،
یا بات کو کسی اور طرف لے جانے کی کوشش فرمائیں گے ،
خیر گھبرایے نہیں بڑے بھائی ، حقیقتاً مجھے آپ سے جواب چاہیے بھی نہیں ، یہ سوالات خود آپ کے اندر ایک آواز پیدا کرنے کے لیے ہیں ان شاء اللہ اور تمام قارئین پرآپ کے خلاف قران فلسفوں کی حقیقت واضح کرنے اور آپ کی لاعلمی اور خود ساختہ سوچوں پر مبنی قران فہمی کی حقیقت واضح کرنے کے لیے ہیں ،
سورت الفرقان کی اس مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں آپ کے ایک اور غلط عقیدے کا اللہ کی طرف سے انکار ہے ،
یاد کیجیے ، اور غور فرمایے اللہ کا یہ فرمان آپ کے ایک اور فلسفے کو خلاف قران ثابت کرتا ہے کہ قران ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے قلب مبارک پر نازل ہوا ، غور فرمایے ، بھائی جی ، اور اللہ کے واسطے اللہ کلام کو اپنی أھواء کے مطابق سمجھنے اور سمجھانے کی روش ترک کر دیجیے ، ((((( ذَلِکَ خیرٌ وأحسنُ تأویلاً )))))
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باقی ان شاء اللہ تعالیٰ کل ،،،،،،،،،،
میری بات مکمل ہونے کا انتظار فرمایے گا بڑے بھائی ، اس کے بعد آپ اگر میرے سوالات کے کوئی مناسب جواب ہوں تو عنایت فرمایے گا ،
میں ان شا اللہ آپ کی ساری باتوں کا جواب ارسال کروں گا ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-10-10), کنعان (21-11-09), مرزا عامر (22-07-10), ضِرار Derar (09-10-10), عبداللہ حیدر (19-11-09)
پرانا 19-11-09, 03:18 AM   #35
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 4,055
کمائي: 32,689
شکریہ: 7,701
3,333 مراسلہ میں 9,656 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سلام علیکم،

بھائی عادل سہیل لکھتے ہیں:
اقتباس:
بھائی جی کیا آپ یہ فرما سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اس قیام اللیل میں آپ کے سابقہ فلسفے یعنی مراسلات رقم 3 ، 10 ، اور 11 میں بیان کیے ہوئے خلاف قران فلسفے کے مطابق اُن کے پاس پائے جانے والے مکمل قران کے نسخے کو تھامے رکھتے اور اس کو دیکھ کر ((((( وَ رَتِّلِ القُرءَانَ تَرتِيلاً ))))) پر عمل فرماتے !!!!!!!!!!! ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
بھائی یہ آپ کی حد سے بڑھی ہوئی عداوت اور نفرت کا نتیجہ ہے۔ میں نے جو لکھا ہے اسے پڑھئیے اور یہ مانئیے کہ جناب کا "فہم" مجھ جیسے عام آدمی کی بات سمجھنے میں کچھ کمزور واقع ہوا ہے تو اور کس کی بات آپ کے "فہم"‌ میں آئے گی؟

صاحب آپ جس پر اپنی گردان جاری رکھ رہے ہیں وہ کہا ہی نہیں گیا۔ پھر سے پڑھ لیجئے۔ اور مان لیجئے کہ آپ سے پڑھنے اور سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے اور آپ یہ سب کچھ ارادی طور پر کررہے ہیں تو ایک بار پھر پڑھ لیجئے آپ کو اپنا جھوٹ نطر آجائے گا۔

دوبارہ لکھ رہا ہوں تاکہ ذہن پر زیادہ بار نہ ہو:۔



اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
16:98 فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
سو جب آپ قرآن پڑھنے لگیں تو شیطان مردود (کی وسوسہ اندازیوں) سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کریں


7:204 وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُواْ لَهُ وَأَنصِتُواْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے

بغیر لکھے کو کیسے پڑھیں گے؟ اگر لکھی ہوئی کتاب نہیں تھی تو اللہ تعالی پڑھنے پر توجہ دینے پر کیا اپنے الفاظ ضائع کررہے ہیں؟ پھر اس کتاب کا نام دیکھئے "قرآن" ۔ پڑھا جانے والا۔ تو صاحب ، لکھا ہی نہیں تھا تو پڑھا کیسے جاتا۔

آپ کہیں‌گے کہ یہ وہ پڑھنا نہیں بلکہ یہ کوئی اور پڑھنا ہے۔

تو اس دوسرے والے پڑھنے کی بھی آیت ملاحظہ فرمائیے تاکہ آپ کو یقین ہوجائے کہ یہ کتاب پڑھنے والا پڑھنا ہی ہے۔


73:4 أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا
یا اس پر کچھ زیادہ کر دیں اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کریں

والسلام
آپ (عادل صاحب) کے دل میں شیطان نے وسوسہ ڈال دیا ہے جو کہ آیات کے دو سیٹ سمجھ میں‌نہیں‌آرہے ہیں۔ میں نے دونوں سیٹ الگ الگ کلر سے کردئے ہیں تاکہ سمجھ میں آئے۔ پہلے سیٹ میں اس قرآن کے بارے میں بتایا جارہا ہے جو دیکھ کر پڑھنے والا قرآن ہے جس قرآن کے لئے قراءت یعنی پڑھنے کا لفظ استعمال کیا گیا ہے کے لئے ، جو رسول اللہ صلعم لکھواتے رہے تاکہ دیگر مسلمان بھی اسے سیکھ سکیں۔

مزید آپ کو بتایا گیا ہے کہ :

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
اللہ تعالی کی قرآن میں گواہی کہ قران حکیم رسول اللہ صلعم کی زندگی میں ہی لکھایا جاتا رہا۔ اگر یہ ایک ایسی کتاب کی شکل نہیں رکھتا جو کہ دیکھی اور پڑھی جاسکے تو پھر کفار کیوں کر ایسا کہتے کہ "اس شخص نے لکھوا رکھا ہے "؟

25:5 وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا
اور کہتے ہیں: (یہ قرآن) اگلوں کے افسانے ہیں جن کو اس شخص نے لکھوا رکھا ہے پھر وہ (افسانے) اسے صبح و شام پڑھ کر سنائے جاتے ہیں (تاکہ انہیں یاد کر کے آگے سنا سکے)

اللہ تعالی قسم کھاتے ہیں لکھے ہوئے قرآن کی۔
52:2 وَكِتَابٍ مَّسْطُورٍ
اور ----- سطر بہ سطر --- لکھی ہوئی کتاب کی قَسم

احادیث کے حوالوں، اکابرین اسلام کی گواہیوں اور قرآن حکیم فرمان الہی کی آیات سے یہ بات ثابت ہے کہ قرآن حکیم رسول اللہ کی زندگی میں ہی لکھایا جاتا رہا اور اولین خلفاء نے اسی لکھے ہوئے قرآن حکیم کی مدد سے قران حکیم کے اولیں نسخہ ---- لکھے ہوئے اور یاد کئے ہوئے ---- دونوں قسم کے قرآن حکیم کی مدد سے تیار کئے اور اپنے ہر صوبے میں‌ بھجوائے۔

ایسا کہنا کہ قرآن حکیم، ہڈیوں پر لکھا ہوا تھا یا پتوں پر لکھا ہوا تھا یا کوئلہ سے لکھا ہوا تھا درست نہیں۔ کہ رسول اکرم کی زندگی میں‌ اولین مصحف شریف کے مکمل ثبوت دستیاب ہیں اور اس کا تواتر حفاط اور تحریری نسخوں سے رسول اکرم سے آج تک ثابت ہے۔

والسلام

جناب عادل سہیل صاحب کیا آپ یقینی طور پر اس بات کے قائیل ہیں اور آپ کا ایمان ہے کہ ؟؟؟؟؟
1۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن لکھواتے ہی نہیں تھے۔
2۔ کچھ صحابہ تھے جو بس سن سنا کر یاد کرلیا کرتے تھے ۔
3۔ ان صحابہ کے یاد رکھنے کی وجہ سے قرآن بچ گیا۔

بھائی مجھ پر توجہ کرنے کے بجائے، اگر آپ کے پاس ان قسم کی جہالت بھری کہانیوں‌کی کوئی دلیل ہے تو لائیے۔ اگر آپ کا ایمان ہے تو فرمائیے۔ مجھے اس غیر اسلامی ایمان پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

والسلام
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-10-10), مرزا عامر (22-07-10)
پرانا 19-11-09, 03:19 AM   #36
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 4,055
کمائي: 32,689
شکریہ: 7,701
3,333 مراسلہ میں 9,656 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سلام علیکم،

بھائی عادل سہیل لکھتے ہیں:
اقتباس:
بھائی جی کیا آپ یہ فرما سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اس قیام اللیل میں آپ کے سابقہ فلسفے یعنی مراسلات رقم 3 ، 10 ، اور 11 میں بیان کیے ہوئے خلاف قران فلسفے کے مطابق اُن کے پاس پائے جانے والے مکمل قران کے نسخے کو تھامے رکھتے اور اس کو دیکھ کر ((((( وَ رَتِّلِ القُرءَانَ تَرتِيلاً ))))) پر عمل فرماتے !!!!!!!!!!! ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
بھائی یہ آپ کی حد سے بڑھی ہوئی عداوت اور نفرت کا نتیجہ ہے۔ میں نے جو لکھا ہے اسے پڑھئیے اور یہ مانئیے کہ جناب کا "فہم" مجھ جیسے عام آدمی کی بات سمجھنے میں کچھ کمزور واقع ہوا ہے تو اور کس کی بات آپ کے "فہم"‌ میں آئے گی؟

صاحب آپ جس پر اپنی گردان جاری رکھ رہے ہیں وہ کہا ہی نہیں گیا۔ پھر سے پڑھ لیجئے۔ اور مان لیجئے کہ آپ سے پڑھنے اور سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے اور آپ یہ سب کچھ ارادی طور پر کررہے ہیں تو ایک بار پھر پڑھ لیجئے آپ کو اپنا جھوٹ نطر آجائے گا۔

دوبارہ لکھ رہا ہوں تاکہ ذہن پر زیادہ بار نہ ہو:۔



اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
16:98 فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
سو جب آپ قرآن پڑھنے لگیں تو شیطان مردود (کی وسوسہ اندازیوں) سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کریں


7:204 وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُواْ لَهُ وَأَنصِتُواْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے

بغیر لکھے کو کیسے پڑھیں گے؟ اگر لکھی ہوئی کتاب نہیں تھی تو اللہ تعالی پڑھنے پر توجہ دینے پر کیا اپنے الفاظ ضائع کررہے ہیں؟ پھر اس کتاب کا نام دیکھئے "قرآن" ۔ پڑھا جانے والا۔ تو صاحب ، لکھا ہی نہیں تھا تو پڑھا کیسے جاتا۔

آپ کہیں‌گے کہ یہ وہ پڑھنا نہیں بلکہ یہ کوئی اور پڑھنا ہے۔

تو اس دوسرے والے پڑھنے کی بھی آیت ملاحظہ فرمائیے تاکہ آپ کو یقین ہوجائے کہ یہ کتاب پڑھنے والا پڑھنا ہی ہے۔


73:4 أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا
یا اس پر کچھ زیادہ کر دیں اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کریں

والسلام
آپ (عادل صاحب) کے دل میں شیطان نے وسوسہ ڈال دیا ہے جو کہ آیات کے دو سیٹ سمجھ میں‌نہیں‌آرہے ہیں۔ میں نے دونوں سیٹ الگ الگ کلر سے کردئے ہیں تاکہ سمجھ میں آئے۔ پہلے سیٹ میں اس قرآن کے بارے میں بتایا جارہا ہے جو دیکھ کر پڑھنے والا قرآن ہے جس قرآن کے لئے قراءت یعنی پڑھنے کا لفظ استعمال کیا گیا ہے کے لئے ، جو رسول اللہ صلعم لکھواتے رہے تاکہ دیگر مسلمان بھی اسے سیکھ سکیں۔

مزید آپ کو بتایا گیا ہے کہ :

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
اللہ تعالی کی قرآن میں گواہی کہ قران حکیم رسول اللہ صلعم کی زندگی میں ہی لکھایا جاتا رہا۔ اگر یہ ایک ایسی کتاب کی شکل نہیں رکھتا جو کہ دیکھی اور پڑھی جاسکے تو پھر کفار کیوں کر ایسا کہتے کہ "اس شخص نے لکھوا رکھا ہے "؟

25:5 وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا
اور کہتے ہیں: (یہ قرآن) اگلوں کے افسانے ہیں جن کو اس شخص نے لکھوا رکھا ہے پھر وہ (افسانے) اسے صبح و شام پڑھ کر سنائے جاتے ہیں (تاکہ انہیں یاد کر کے آگے سنا سکے)

اللہ تعالی قسم کھاتے ہیں لکھے ہوئے قرآن کی۔
52:2 وَكِتَابٍ مَّسْطُورٍ
اور ----- سطر بہ سطر --- لکھی ہوئی کتاب کی قَسم

احادیث کے حوالوں، اکابرین اسلام کی گواہیوں اور قرآن حکیم فرمان الہی کی آیات سے یہ بات ثابت ہے کہ قرآن حکیم رسول اللہ کی زندگی میں ہی لکھایا جاتا رہا اور اولین خلفاء نے اسی لکھے ہوئے قرآن حکیم کی مدد سے قران حکیم کے اولیں نسخہ ---- لکھے ہوئے اور یاد کئے ہوئے ---- دونوں قسم کے قرآن حکیم کی مدد سے تیار کئے اور اپنے ہر صوبے میں‌ بھجوائے۔

ایسا کہنا کہ قرآن حکیم، ہڈیوں پر لکھا ہوا تھا یا پتوں پر لکھا ہوا تھا یا کوئلہ سے لکھا ہوا تھا درست نہیں۔ کہ رسول اکرم کی زندگی میں‌ اولین مصحف شریف کے مکمل ثبوت دستیاب ہیں اور اس کا تواتر حفاط اور تحریری نسخوں سے رسول اکرم سے آج تک ثابت ہے۔

والسلام

جناب عادل سہیل صاحب کیا آپ یقینی طور پر اس بات کے قائیل ہیں اور آپ کا ایمان ہے کہ ؟؟؟؟؟
1۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن لکھواتے ہی نہیں تھے۔
2۔ کچھ صحابہ تھے جو بس سن سنا کر یاد کرلیا کرتے تھے ۔
3۔ ان صحابہ کے یاد رکھنے کی وجہ سے قرآن بچ گیا۔

بھائی مجھ پر توجہ کرنے کے بجائے، اگر آپ کے پاس ان قسم کی جہالت بھری کہانیوں‌کی کوئی دلیل ہے تو لائیے۔ اگر آپ کا ایمان ہے تو فرمائیے۔ مجھے اس غیر اسلامی ایمان پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

والسلام
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-10-10), مرزا عامر (22-07-10)
پرانا 20-11-09, 09:02 PM   #37
Senior Member
 
عادل سہیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 50
مراسلات: 4,650
کمائي: 96,423
شکریہ: 2,160
3,781 مراسلہ میں 13,447 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
فاروق بھائی آپ کا مراسلہ رقم 35 جسے آپ نے دو دفعہ ارسال کر دیا ہے ، اس میں مذکور باتوں کا جواب میرے سابقہ مراسلات میں موجود ہے ، ایک دو باتیں آپ نے کچھ نئے اندز میں لکھی ہیں ، ان کا جواب الگ سے دے دوں گا ان شا اللہ ، لیکن اس سے پہلے میں آپ کے سابقہ فرمودات کا جواب مکمل کرنا چاہتا ہوں ، ان شا اللہ ،
بھائی جی ، اگر مجھے سمجھ نہیں آئی تو صرف اتنا بتا دیجیے کہ کیا آپ یہ مانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر قران لکھا ہوا نازل نہیں کیا گیا تھا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
اور نہ ہی ان کے دُنیا سے رحلت فرمانے تک اُن کے پاس قران کا کوئی لکھا ہوا نسخہ تھا جسے دیکھ دیکھ کر وہ پڑھتے تھے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
اگر آپ ان دو باتوں سے اتفاق کرتے ہیں تو ہماری بحث ختم ہو جاتی ہے ، کیونکہ ہمار اختلاف صرف انہیں باتوں پر ہو رہا ہے جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
::::::: آپ نے یہاں اپنے اس تھریڈ کے بنیادی مراسلہ رقم ایک میں یہ تو درست لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اپنی زندگی مبارک میں اپنے کاتبین وحی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو قران لکھواتے تھے ، اور یہ بھی درست لکھا کہ سب سے پہلے ایک مجموعہ کی صورت میں ترتیب پانے والا قران زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے امیر المومنین ابو بکر الصدیق کے حکم پر مرتب کیا ، جو یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی وفات کے بعد کا واقعہ ہے ،
ان دو باتوں میں ہمارا اور آپ کا تو کیا سوائے ایک مخصوص فرقے کے کسی بھی مسلمان کا کوئی اختلاف نہیں ،
میری اورآپ کی گفتگو میں اختلاف ، ان دو حقائق کے بارے میں نہیں ،
بلکہ اختلاف ، آپ کا ان مذکورہ بالا دو حقائق کو خود ہی بیان کرنے کے بعد خود ہی ان کا انکار کرنے ، اور اُس انکار کے لیے خلاف حقیقت فلسفے بیان کرنے اور اُن فلسفوں کو درست ثابت کرنے کے لیے قران پاک کی آیات مبارکہ کی غلط تاویلات کرنے پر ہے ،
:::::::
اب یہ بات چوتھی دفعہ آپ کے گوش گذار کی ہے ، لیکن چونکہ آپ """ ہمہ تن گوش """ ہیں شاید اس لیے سمجھ نہیں پا رہے ،
بھائی جی ، """ ہمہ تن """ کو مشقت میں مت ڈالیے صرف """ گوشءِ دِل """ وا فرما لیجیے ، ان شا اللہ سمجھ آجائے گی ،
بڑے بھائی ، خود ساختہ سوچوں پر مبنی جھوٹی باتیں ، قرانی آیات کی من گھڑت خیالات کی تابع جھوٹی تاویلات ، اپنی غلطیوں سے صرف ءِ نظر کرنا اور کروانے کے لیے واویلا کرنا بہت اچھی طرح سمجھاتے ہیں کہ کس کے دَل و دماغ وسوسوں کے شکار ہیں ،
اور اللہ ہی جانتا ہے کہ کس کے دل میں کیا ، اور اس کے علاوہ کوئی کسی کے دل کے اندرونی معاملات کو نہیں جانتا ، آپ اللہ کی ہم سری کے دعوے مت کیا کیجیے ،
اللہ کے لیے فاروق بھائی لوگوں کے ایمان پر حکم لگانے سے باز آجایے اور لوگوں کے دلوں کی حالت جاننے کی غلط فہمی سے نکل آیے اور ایسے دعوے کرنے سے رک جایے ، اللہ کو حساب دینا بہت ہی بھاری پڑے گا ، آپ اپنا حساب شدید سے شدید سے شدید تر کرتے جا رہے ہیں ،
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر شر سے محفوظ رکھے ،
میرے مذکورہ بالا دو سوالات کے جوابات عنایت فرمایے ۔ و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-10-10), کنعان (21-11-09), مرزا عامر (22-07-10), ضِرار Derar (09-10-10)
پرانا 20-11-09, 10:18 PM   #38
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 4,055
کمائي: 32,689
شکریہ: 7,701
3,333 مراسلہ میں 9,656 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
بھائی جی ، اگر مجھے سمجھ نہیں آئی تو صرف اتنا بتا دیجیے کہ کیا آپ یہ مانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر قران لکھا ہوا نازل نہیں کیا گیا تھا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
اور نہ ہی ان کے دُنیا سے رحلت فرمانے تک اُن کے پاس قران کا کوئی لکھا ہوا نسخہ تھا جسے دیکھ دیکھ کر وہ پڑھتے تھے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

آپ کی بات سو فی صد درست ہے۔ میں نے ایسا تاثر تک پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لکھا ہوا قرآن نازل نہیں ہوا تھا۔ اور نہ ہی رسول اکرم دیکھ دیکھ کر پڑھتے تھے، یہ بحث یہاں ختم۔

البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کی ہر آیت نزول کے ساتھ ساتھ لکھوائی جاتی رہی۔ یہی آیات اصحابہ کرام نے یاد بھی کیں ۔ بحث کا نکتہ یہ ہے کہ یہ آیات باقاعدہ لکھوائی ہوئی موجود تھیں، مناسب قسم کے کپڑے ، کاغذ یا پپائرس پر یا پھر ان آیات کو ہڈی ، لکڑی اور پتھر پر لکھوایا گیا تھا۔ اس نکتہ کو اس طرح سمجھئے کہ رسول اکرم نے ایک سے زائید خطوط مختلف بادشاہوں کو لکھوا کر بھجوائے۔ کیا یہ لکڑی ، پتھر اور ہڈیوں پر بجوائے گئے تھے؟ یقیناً نہیں ۔ تو اس کا مطلب ہے کہ کاغذ پر لکھے جانے کی ٹکنالوجی اس دور میں موجود تھی۔ قلم موجود تھا، قلم کی قسم اللہ تعالی نے اسی کتاب میں اٹھائی۔ اس کو ایک مسطور کتاب کا نام دیا۔

قرآن کی آیات سے بھی اور روایات سے بھی یہ ثابت ہے کہ قرآن ایک لکھی ہوئی کتاب کی شکل میں‌بھی محفوظ‌کیا جاتا رہا۔ یہی اصل نکتہ ہے اس اصل مراسلہ کا۔ ایسی روایات میں نے نقل کی ہیں جو یہ بتاتی ہے کہ جناب حضرت ابوبکر نے جس قرآن کی ترتیب دی، وہ لکھے ہوئے قرآن کا موازنہ ، دو عدد صحابہ کی گواہی کے ساتھ مشروط تھا۔ اس روایت میں واضح‌طور پر درج ہے کہ صرف دو آیات اور کچھ روایات میں ایک آیت اور کچھ روایتوں مین تین عدد آیات صرف ایک صحابی کے پاس ملیں ، قرآن حکیم صرف اور صرف اصحابہ کے قلبی قرآن تک محدود نہیں تھا، لکھی ہوئی آیات سے موازنہ بھی مقصود تھا۔ آپ اس سلسلے کی روایات کا دوبارہ بغور مطالعہ فرمائیے۔ لکڑی، ہڈیوں ، پتھروں پر کوئلہ سے لکھا ہوا قرآن ان روایات میں کچھ اضافی لگتا ہے ،

فرض‌کیجئے کہ بعد میں لکھے ہوئے قرآن کی ایک بھی دلیل موجود نہ ہو۔ تو بھی قرآن حکیم ایک مسطور قرآن کی گواہی دیتا ہے اور آخری خطبہ بھی ایک کتاب کی موجودگی کی گواہی دیتا ہے۔ تو صاحب اگر یہ سب دلائل بھی موجود نہ ہوں تو بھی ہمارا ایمان ایک کتاب پر تو ہر حال میں برقرار رہے گا جس کو مین اور آپ دونوں‌قرآن حکیم کہتے ہیں۔

آُ دیکھئے کہ اللہ نے اس کی حفاظت کے لئے کیا کیا طریقہ اختیار کئے ہیں کہ آج کے جدید دور میں‌بھی اوپن برہان کا قرآن حکیم ہر سطر کے ساتھ ایک مصدقہ حافظ کی قرآت سے منسلک ہے ۔ اوپن برہان کی اشاعت سے پہلے میں نے وہ ہر ممکن طریقہ ڈھونڈھا اور سوچا جس کی مدد سے قرآن حکیم کو تبدیل کرکے اس کے معانی بدلے جاسکتے ہیں اور اس کا سادے سے سادہ حل پیش کیا۔ آج اوپن برہان کا متن، تنزیل القرآن کے تحریری متن کے عین مطابق ہے اور یہی متن ، ایک مصدقہ حافظ جو سعودی حکومت کی ایک سائیت پر ہے کی تلاوت سے آیت بہ آیت چیک کیا جاسکتا ہے۔

والسلام۔
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-10-10), مرزا عامر (22-07-10)
پرانا 17-12-09, 08:27 AM   #39
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 4,055
کمائي: 32,689
شکریہ: 7,701
3,333 مراسلہ میں 9,656 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس مراسلہ کا مقصد یہ بتانا تھا کہ قرآن حکیم نبی اکرم کی زندگی میں ہی لکھا جاتا رہا اور یہ کام رسول اکرم نے خود انجام دیا۔ ان کے بعد خلفاء راشدین نے یہ ذمہ داری پوری کی۔

کسی صورت بھی یہ سمجھنا کہ قرآن حکیم ایک پہلے سے لکھی ہوئی کاغذ کی کتاب کی شکل میں نازل ہواتھا درست نہیں ، اور یہ کہ اس زمانے میں کاغذ‌موجود تھا ، لوگ اس سے واقف تھے۔ اس کے ثبوت میں‌درض ذیل آیت دیکھئے۔

6:7 وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتَابًا فِي قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوهُ بِأَيْدِيهِمْ لَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِنْ هَـذَا إِلاَّ سِحْرٌ مُّبِينٌ
اور ہم اگر آپ پر کاغذ پہ لکھی ہوئی کتاب نازل فرما دیتے پھر یہ لوگ اسے اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیتے تب (بھی) کافر لوگ (یہی) کہتے کہ یہ صریح جادو کے سوا (کچھ) نہیں
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-10-10), مرزا عامر (22-07-10)
پرانا 23-01-10, 11:16 PM   #40
Senior Member
 
عادل سہیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 50
مراسلات: 4,650
کمائي: 96,423
شکریہ: 2,160
3,781 مراسلہ میں 13,447 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
آپ کی بات سو فی صد درست ہے۔ میں نے ایسا تاثر تک پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لکھا ہوا قرآن نازل نہیں ہوا تھا۔ اور نہ ہی رسول اکرم دیکھ دیکھ کر پڑھتے تھے، یہ بحث یہاں ختم۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیراً فاروق سرور صاحب ،
جب آپ نے میری اس بات سے اتفاق فرما لیا تو اس موضوع پر بحث ختم ہو گئی ،
و للہ الحمد و المنۃ ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کی ہر آیت نزول کے ساتھ ساتھ لکھوائی جاتی رہی۔
جی فاروق صاحب ، ایک اٹل حقیقیت ہے اور اس نکتے پر میرا اور آپ کا اتفاق آغاز کلام سے ہی چلا آرہا ہے ، جیسا کہ میں نے ابتداء میں ہی لکھ دیا تھا ،
ہم سب کو معلوم ہے کہ مدنی زندگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نزول وحی کے قریبی ترین وقت میں اس کو لکھوایا دیا کرتے تھے ، لیکن مکی زندگی میں ایسا ہوتا تھا کیا آپ اس کا کوئی ثبوت پیش کر سکتے ہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ،
مجھے خوشی ہو رہی تھی کہ آپ بحث ختم کر رہے ہیں لیکن آپ کے مراسلے کے اگلے حصے کو پڑھ کر میری خوشی کافور ہو گئی ،
چلیے پھر بھی الحمد للہ کم از کم ایک بات تو آپ نے مان لی ، اللہ نے جس موضوع ، جس نکتے کے بارے میں چاہا تو آگے کہیں اُس پر بھی اتفاق رائے کروا دے گا ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-10-10), مرزا عامر (22-07-10), ضِرار Derar (09-10-10)
پرانا 23-01-10, 11:27 PM   #41
Senior Member
 
عادل سہیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 50
مراسلات: 4,650
کمائي: 96,423
شکریہ: 2,160
3,781 مراسلہ میں 13,447 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم،
میں نے ابھی ابھی اپنے پچھلے مراسلے میں لکھا کہ :::
""" مجھے خوشی ہو رہی تھی کہ آپ بحث ختم کر رہے ہیں لیکن آپ کے مراسلے کے اگلے حصے کو پڑھ کر میری خوشی کافور ہو گئی """
اپنی اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے فاروق سرور صاحب سے کہتا ہوں کہ ،
فاروق صاحب جب آپ یہ حقیقت تسلیم کر چکے کہ :::
""" کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر قران لکھا ہوا نازل نہیں کیا گیا تھا ،
اور نہ ہی ان کے دُنیا سے رحلت فرمانے تک اُن کے پاس قران کا کوئی لکھا ہوا نسخہ تھا جسے دیکھ دیکھ کر وہ پڑھتے تھے """
تو اس کے بعد پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زندگی مبارک میں قران پاک کونسی """ کتاب """ کی صورت میں محفوظ ہوتا رہا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
فاروق سرور صاحب یہاں سے آگے چلنے سے پہلے میں گذارش کروں گا کہ آپ جو بار بار أمیر المؤمنین ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہُ کے دور خلافت میں اُن کے حکم پر زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اجمعین کے جمع کردہ قران کے نسخے سے پہلے کسی مکمل نسخے کے وجود کا ذکر کر رہے ہیں اور اسے ایک """ کتاب ""' کہہ رہے ہیں ، اس سے آپ کی کیا مراد ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
کیا ایک ایسی چیز جسے ہم اردو میں کتاب کہتے ہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ یا کسی بھی قسم کی کتابت شدہ چیزوں کا ایک مجموعہ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
کیا آپ علوم الحدیث اور روایاتءِ حدیث پر اتنا ملکہ رکھتے ہیں کہ کسی روایت کے کسی حصہ پر""" مُدرج""" ہونے کا حکم لگا سکیں ؟؟؟؟؟؟؟؟
براہ مہربانی ان سوالات کا مختصر سا جواب دیجیے تا کہ اب جو نکات رہ گئے ہیں ان پر بات کی جاسکے ،
اور ایک گذارش یہ ہے کہ آپ نے جن روایات کا حوالہ اپنے پہلے بنیادی مراسلے میں دیا ہے ان کا بغور مطالعہ فرمایے اور ان کے ساتھ ہی اسی درجہ صحت والی دوسری روایات کا بھی مطالعہ فرما لیجیے ، باقی باتیں ان شاء اللہ اگلی فرصت میں ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-10-10), مرزا عامر (22-07-10), احمد نذیر (04-12-11), ضِرار Derar (09-10-10), عبداللہ آدم (22-07-10)
پرانا 22-07-10, 04:26 PM   #42
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 5,139
کمائي: 94,431
شکریہ: 29,450
4,502 مراسلہ میں 14,181 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام و علیکم: اس تھریڈ کو میں نے آج پہلی مرتبہ دیکھا بہت کچھ سیکھنے کو ملا لیکن نہ جانے کیوں اچانک سب اس سے غائب ھو گئے

1- سورۃ علق
1 اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ٢ خَلَقَ الْإِنسَنَ مِنْ عَلَقٍ ٣ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ٤ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ٥ عَلَّمَ الْإِنسَنَ مَا لَمْ يَعْلَمْ

2- سورۃ قلم
ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ-

3- سورۃ فرقان
وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا
اور کہتے ہیں: (یہ قرآن) اگلوں کے افسانے ہیں جن کو یہ شخص نے لکھوا رکھا ہے پھر وہ اسے صبح و شام پڑھ کر سنائے جاتے ہیں

4- سورۃ بقرۃ
يَأيُّهَا الَّذِينَ امَنُوا إذَا تَدَايَنتُمْ بِدَيْنٍ إلَى أجَلٍ مُسَمًّى فَاكْتُبُوهُ ۔۔۔۔۔۔۔
اے ایمان والو! جب لین دین کرو تم اُدھار کا کسی میعادِ معین کے لیے تو اسے لکھ لیا کرو۔

1- قران کی پہلی وحی میں قلم کا ذکر اس سے لکھنے کی اہمیت واضع ہے 2- سورۃ ن میں قلم کی قسم کھائی جا رہی ھے 3-سورۃ فرقان میں قران کے ساتھ کے ساتھ لکھے جانے کا ذکر ھے 4-سورۃ بقرۃ میں ایک معاہدہ کے لیئے لکھنے کی تلقین کی جا رہی ھے تو پھر وہ قران جسے رہتی دنیا تک قائم رہنا ھے-اسے یاد داشت کے لئیے کیسے چھوڑا جا سکتا تھا؟
قرانی حقائق سے بات واضح ھو جاتی ھے کہ جوں جوں قران آپ کے قلب پر اترتا گیا(25:5) ویسے ویسے اسے لکا جاتا رہا۔
__________________
سوچنے والوں کی دنیا، دنیا والوں کی سوچ سے مختلف ہوتی ہے۔
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-10-10), فاروق سرورخان (22-07-10)
پرانا 08-10-10, 01:20 AM   #43
Senior Member
 
عادل سہیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 50
مراسلات: 4,650
کمائي: 96,423
شکریہ: 2,160
3,781 مراسلہ میں 13,447 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھائی مرزا عامر صاحب ،
بات میرے چند سوالات پر آکر رک چکی ہے جن کے جوابات فاروق خان صاحب سے سابقہ ساری گفتگو کی روشنی میں اور مدلل طور پر مطلوب ہیں ،
اگر آپ یہاں بھی ان کی خلافت و نیابت کے لیے تشریف لائے ہیں تو آپ ہی سابقہ ساری گفتگو کی روشنی میں میرے سوالات کے شرعاً اور تاریخی طور پر مقبول دلائل کے ساتھ جوابات عنایت فرما کر بات آگے بڑھایے ، خوش آمدید،
اس بارے میں دو رائے نہیں ہیں کہ قران کریم کی آیات مبارکہ کے نزول کے وقت ہی اُن کی کتابت یعنی لکھائی کا کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ہدایت کے مطابق ہوتا رہا ،
عامر بھائی ، قران کریم بال شک و شبہہ اپنے نزول سے لے کر آج تک سب سے زیادہ محفوظ و مامون مسلمانوں کے سینوں میں رہا ہے ، اور قیامت تک ایسا ہی ہونا ہے ، ان شاء اللہ ،
اس تاریخی حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دُنیا سے رخصتی کے وقت قران کریم کا کوئی نسخہ ایک کتاب ایک مصحف کی صورت میں نہ تھا ،
لیکن پورے قران کے سیکنڑوں حفاظ موجود تھے ، اور صدیوں تک ساری ہی امت میں دُنیا کے ہر گوشے میں مصاحف کم حفاظ زیادہ رہے ،
بھائی میرے ، خود ساختہ قران فہمی کو کچھ تو سنبھالیے ، چند الفاظ جان کر ان کا استعمال اور سیاق و سباق جانے بغیر قران کریم کی آیات کے مفاہیم اخذ نہ کیجیے ، آپ سورج کی طرح عیاں حقائق کے انکار کا شکار ہو رہے ہیں ،
اللہ تعالیٰ آپ کے حال پر رحم کرے اور ہم سب کو ہی ہر شر سے محفوظ رکھے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-10-10), کنعان (08-10-10), مرزا عامر (08-10-10), ضِرار Derar (09-10-10)
پرانا 08-10-10, 05:56 PM   #44
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 4,055
کمائي: 32,689
شکریہ: 7,701
3,333 مراسلہ میں 9,656 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عادل سہیل صاحب،
آپ کے سوالات معذرت کے ساتھ ۔۔۔ صرف اور صرف لفاظی او ر قران حکیم سے واقفیت کی کمی کی بناء پر ہیں۔ آپ کو شدید ضرورت ہے، قرآن حکیم کو بار بار پڑھنے کی۔ استدعا ہے اس وقت تک لوگوں کو بہکانے سے دور رہئیے جب تک آپ قرآن حکیم بار بار نا پڑھ لیں۔ یہ کتابوں سے نقل کرنا، اور قرآں سے دور رہنا، انسان کو ایک عدیم المثال فاتر القل بنا دیتا ہے۔ جو صرف اور صرف معصیت کی دعوت عام دے سکتا ہے۔

جو میں لکھتا ہوں ۔۔ آپ وہی دہرا کر فرماتے ہیں کہ ۔۔۔ فاروق نے غلط لکھا ہے۔ کبھی آپ نے خود بی پڑھنے کو کوشش کی ہے جو جناب لکھتے ہیں؟

تو بہ کیجئے اور قرآن حکیم کے سے بہتر معانی اخذ‌کرنے کی کوشش کیجئے۔ الفظ سے نا کھیلئے اس کا کوئی فائیدہ نہیں ۔ خاص طور پر سمجھ دار لوگوں کی محفل میں۔

والسلام
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (08-10-10)
پرانا 08-10-10, 06:06 PM   #45
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 4,055
کمائي: 32,689
شکریہ: 7,701
3,333 مراسلہ میں 9,656 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اقتباس:
اس تاریخی حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دُنیا سے رخصتی کے وقت قران کریم کا کوئی نسخہ ایک کتاب ایک مصحف کی صورت میں نہ تھا ،
قرآن حکیم اللہ تعالی نے نازل کی اور وہی اس کی حفاظت فرمانے والے ہیں۔ اس بات کا ثبوت فراہم کیا جاچکا ہے کہ قرآن حکیم نا صرف لکھا جاتا رہا بلکہ رسول اکرم کی رخصتی کے وقت ایک باقاعدہ کتاب کی شکل میں موجود تھا ۔ اس کتاب کی قسم اللہ تعالی نے خود اس کتاب میں‌ کھائی۔ رسول اکرم نے اس کتاب کی آیات کی ترتیب، سورتوں کی ترتیب ۔۔ خود سے کروائی۔ ایک کتاب کی غیر موجودگی میں ۔ آیات کی ترتیب اور سورتوں کی ترتیب ہونی ناممکن ہے۔ اس سوال کا جواب کوئی بھی عالم دین یہی دے گا کہ قرآن حکیم کی سورتوں‌کے نمبر شمار ، اور سورتوں کی ترتیب نبی اکرم نے خود فرمائی۔

لہذا یہ کہنا کہ یہ کتاب رسول اکرم کی وفات کے وقت موجود نہیں تھی۔ ایک بڑا سوال پیدا کرتی ہے کہ پھر اس کتاب کی آیات اور سورتوں کی ترتیب کس نے کی؟ کیا وجہ تھی کہ ہر لکھی ہوئی آیت پر دو گواہوں کی شرط رکھی گئی؟

ایسے نظریات کا پرچار صرف وہ لوگ کرتے رہے ہیں جو قرآن حکیم کو مشکوک قرار دینا چاہتے ہیں۔


کچھ لوگ ۔۔۔ مسلمانوں کے ذہن میں شک و شبہ پیدا کرنے کے لئے ۔ ایسا کہتے ہیں کہ نا قرآن لکھا ہوا موجود تھا اور نا ہی حدیث۔ یہ دونوں‌ ہی صرف لوگوں کے سینے میں موجود تھے ۔۔

قرآن لکھا ہوا اور سینوں میں دونوں‌ موجود تھا اور ۔۔۔ اسی قرآن کی سات کاپیاں حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے اس قرآن سے کرکے بھجوائیں جو رسول اللہ کی زندگی میں موجود تھا۔

جب کہ کوئی بھی روایت لکھی ہوئی موجود نہیں تھی اور نہ ہی اس کا کوئی گواہ کسی بھی خلیفہ نے طلب کیا۔ احادیث اور ان کے ساتھ ملائی جانی والی کہانیاں‌ ۔۔۔ سینکڑو سال بعد مرتب کی گئیں۔ یہ کتب دشمنان اسلام کی حرکتوں کا شکار رہیں۔

قرآن حکیم رسول اکرم کی زندگی میں لکھا جاتا رہا۔ اس لکھے ہوئے قرآں حکیم کو حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں مرتب کرتے وقت، اس کی ہر آیت پر خلفاء راشدین نے کم از کم دو عدد گواہ کی شرط رکھی۔ اس طرح اللہ تعالی نے اس مقدس کتاب کی حفاظت کی۔ قرآن حکیم سینوں اور کاغذ‌دونوں‌پر محفوظ رہا۔

اس کے برعکس۔ کتب روایات یعنی حدیث کی کتب ، رسول اکرم کے زمانے میں نہیں لکھی گئیں، رسول اکرم نے ان اقوال کو لکھنے سے منع فرمایا۔ خلفاء راشدین نے ان کو مرتب کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ حضرت عمر نے اپنے پاس محفوظ کی ہوئی روایات کی نوٹ بک خود سے جلائی۔ کوئی روایت بھی دو گواہوں کی موجودگی میں نہیں لکھی گئی۔ روایات مرتب کرنے والوں نے تقریباً دو سو سال بعد یہ کام کیا۔ یہ کتب روایات ، آج بھی کاغذ‌پر محفوظ نہیں ہیں۔ یہ سینوں میں بھی محفوظ نہیں‌ہیں۔ ان کتب کی ہر جلد میں تعداد، متن، ترتیب اور رویوں کا فرق ہوتا ہے۔ خود رسول اکرم کے فرمان کے مطابق، صرف وہ روایات ممکنہ طور پر اقوال و اعمال رسول اکرم سمجھی جانی چاہئیں جو موافق القرآن ہیں۔ خلاف قرآن روایات ، حدیث رسول اکرم نہیں‌ہوسکتیں۔

لوگوں نے ان کتب میں‌اپنی من پسند روایات شامل کرکے قرآن حکیم میں پیوند لگانے کی کوشش کی۔ لیکن قرآں حکیم اللہ تعالی نے اتارا ہے اور وہی اس کی حفاظت فرما رہے ہیں۔ کتب روایات میں رسول اکرم کی احادیث کے ساتھ ساتھ --- عقل سے خارج اور خلاف قرآن روایات --- بھی موجود ہیں۔ صرف اور صرف موافق القرآن روایات قبول کیجئے۔

والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 08-10-10 at 06:24 PM.
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (08-10-10)
جواب

Tags
asia, color, com, hidden, hit, php, کوشش, قرآن, قرآن حکیم, قران, نظر, مکمل, موجودہ, world, آج, ایمان, اللہ, اردو, بھائی, دوست, زندگی, غلط, غلطی, صدیق, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد بیوی کے ہاتھوں میاں کی پٹائی کا منظر گوہر عمومی بحث 2 15-10-10 08:33 AM
میرے ہاتھوں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سیپ سیدہ ثوبیہ ناز 7 12-03-09 10:14 AM
تمہارے ہاتھوں کے لئے ایک دعا محمدعدنان وصی شاہ 3 04-01-09 05:09 PM
وقت ہاتھوں سے نکلا جا رہا ہے محمدعدنان کرکٹ 0 17-12-08 06:21 AM
حیات بٹنے لگی ہے فنا کے ہاتھوں سے خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 0 01-07-08 05:27 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:31 PM

cpanel hosting 

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2014, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2014,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger