واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم



علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم


"احمد دیدات" کا "قرآن" اور "اختلاف قرات" والا کل كا "اسپیشل قرآن"۔۔۔؟ اٹھو قرآن کا دفاع کرو !!!

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-11-11, 09:51 AM   #1
"احمد دیدات" کا "قرآن" اور "اختلاف قرات" والا کل كا "اسپیشل قرآن"۔۔۔؟ اٹھو قرآن کا دفاع کرو !!!
rana ammar mazhar rana ammar mazhar آن لائن ہے 09-11-11, 09:51 AM

"احمد دیدات" کا "قرآن" اور "اختلاف قرات" والا کل كا "اسپیشل قرآن"۔۔۔؟ اٹھو قرآن کا دفاع کرو !!!

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

’’ اہل رشد کی خدمت میں ‘‘

کوئی پچیس ، تیس برس ہوتے ہیں جب سعودی عرب میں احمددیدات مرحوم کی ایک ویڈیو دیکھنے کا موقع ملا جو ان دنوں کافی مشہور تھی ۔ ایک عیسائی پادری صاحب سے ان کا مناظرہ تھا ۔ ہال ناظرین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ۔ موضوع تھا ’’ کیا بائیبل خدا کا کلام ہے ؟‘‘۔

افتتاحی کلمات میں احمد دیدات مرحوم نے میز پر رکھی ہوئی تین چار کتابوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ: ’’ یہ بائبل فلاں سن میں شائع ہوئی اور یہ دوسری اور تیسری فلاں فلاں سن میں شائع ہوئی ہیں ۔ ان سب میں واضح فرق ہے جس کو ہر کوئی ملاحظہ کر سکتا ہے ۔ کیا آپ قرآن کا کوئی ایسا نسخہ دکھا سکتے ہیں جو دوسرے سے مختلف ہو؟ ‘‘ اس سوال کا پادری سمیت ہال میں کسی کے پاس کوئی جواب نہ تھا ۔

لیکن یہ بیسویں صدی کی بات تھی ۔ آج اکیسویں صدی کا پہلا عشرہ قریب الاختتام ہے ۔ لاہور سے شائع ہونے والے ایک ماہنامے ’’ رشد‘‘ کی قراء ات نمبر کے دو حصے میرے سامنے ہیں ۔میرا گمان ہے کہ ’’رشد‘‘ کے یہ دو حصے اگر تین دہائی قبل احمددیدات مرحوم کے سامنے ہوتے تووہ پادری صاحب سے اس قسم کا سوال پوچھنے کی جسارت نہ کر سکتے ۔ ’’رشد ‘‘ کی قراء ات نمبر کا تیسرا حصہ غالباً ایک دو ماہ بعد آنے والا ہے ۔ تاہم ، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ دو نمونے دیکھ کر آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ تیسرا حصہ بھی ان ہی مضامین کی تکرار ہو گا۔ موجودہ دو حصے 1656صفحات پر محیط ہیں جن میں 99 مضامین شامل کیے گئے ہیں ۔

مقصد اگر ’’علمی رعب‘‘ و دبدبہ جمانے کا نہ ہوتا تو شاید سو ڈیڑھ سو صفحات پر مشتمل کوئی سے بھی آٹھ دس مضامین ہی کافی ہوتے جو تمام مذکورہ نکات سمیٹ لیتے ۔ ہم کوشش کریں گے کہ یہ اہم نکات قارئین کے سامنے آجائیں ۔

ا) سبعہ احرف :

بخاری شریف کی اس حدیث کا مفہوم ماضی بعید میں تو معلوم نہ ہو سکا تھا ، تاہم ماہنامہ ’’ رشد‘‘ نے جو ہماری رہنمائی فرمائی ہے وہ درج ذیل ہے:

یہ سہولت کس کے لیے :

۱) ’’الغرض عربی زبان ہی کے حوالے سے لوگوں کو یہ مشکل پیدا ہوئی تھی اور یہ مشکل تاقیامت اہلِ عرب کے لیے ہی باقی ہے ۔ اب میرے اور آپ جیسے لوگوں کے لیے تو عربی کا کوئی بھی لہجہ ہو تو وہ ہم نے غیر فطری طور پر ہی سیکھنا ہے ۔۔۔ چنانچہ ہمارے لیے تو کوئی بھی لہجہ مشکل یا آسان نہیں ہے ، بلکہ تمام لہجے برابر ہیں ‘‘ ۔ ( حافظ حمزہ مدنی ۔ رشد حصہ اول ، ص 246 )

۲) ’’یہ بات ٹھیک ہے کہ اس مشقت کے حوالے سے آسانی کی وجہ صحابہؓ بنے لیکن اب وہ آسانی صرف صحابہؓ کے لیے نہیں ہے ۔ بلکہ قیامت تک کے تمام لوگوں کے لیے ہے ‘‘ ۔ ( حافظ حمزہ مدنی ۔ رشد حصہ اول ، ص 251)

۳) ’’ قرآن چونکہ عربی زبان میں نازل ہوا ہے ، اس لیے قرآن مجید میں عربی زبان کے حوالے سے کوئی مشکل کا احساس پایا جائے اور اس مشکل کے اعتبار سے کچھ سہولت دے دی جائے ، تو اس حوالے سے خاص اہلِ عرب کے لیے ہی اس مشقت کا ازالہ کیا جائے گا‘‘ ( حافظ حمزہ مدنی ۔ رشد حصہ اول ، ص 354)

۴) ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب کا ارشاد ہے کہ یہ سہولت ساری امت کے لیے لیے تھی، وہ فرماتے ہیں ۔ ’’ دوسری قسم کی احادیث میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی درخواست و مطالبہ پر فرمایا گیا کہ آپ کی امت سات طریقوں سے پڑھے‘‘ ( رشد حصہ اول ، ص 130) واضح رہے کہ احادیث میں ’’ امت ‘‘ ہی کے الفاظ آئے ہیں ۔

۵) ابو مجاہد عبدالعزیز القاری لکھتے ہیں : ’’ ابن جریر کے ہاں عبیداللہ بن عمر کی روایت سے یہ الفاظ ہیں : میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپﷺ کو ایک حرف پر قرآن پڑھنے کا حکم دیتے ہیں ۔ میں نے کہا کہ یا اللہ ! میری امت پر تخفیف کیجئے ۔ پھر وہ دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایک حرف پر ہی قرآن کی تلاوت کا حکم دیتے ہیں ۔ میں نے دعا کی کہ یا اللہ ! میری امت پر تحفیف فرمائیے ۔ ( رشد حصہ اول ، ص 109)مزید لکھتے ہیں ’’ ابن جریر ہی کے ہاں ابن فیصل کی روایت میں یہ الفاظ منقول ہیں : اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک حرف پر قرآن کی تلاوت کا حکم دیا ۔ میں نے رب سے دعا کی کہ میری امت کے لیے آسانی کی جائے ۔۔۔‘‘ ( رشد حصہ اول ، ص 110)

ہم اپنی اس حیرانی و پریشانی کو سردست چھوڑ دیتے ہیں کہ یہی علماء کرام ہمیں تو سمجھاتے آئے تھے کہ نبی اللہ کے ہر حکم پر بحث کرنے کے بجائے سب سے پہلے عمل کرنے والا ہوتا ہے ( انا اول المسلمین۔القرآن ) لیکن اس مسئلے کو تو جانے دیجئے کیونکہ روایات کی روشنی میں قرآن کے حکم کو تبدیل کرنا ان حضرات کے لیے بائیں ہاتھ کا کام ہے ۔ اب یہ حضرات یہ کہتے ہیں تو یہی درست ہو گا تاہم نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ عبدالعزیز القاری صاحب سعبہ احرف والی سہولت عربوں کے لیے نہیں بلکہ پوری امت کے لیے تسلیم کرتے ہیں ۔ نہ صرف یہ بلکہ موصوف آسانی کی مزید تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ’’ بہیقی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ غفور رحیم کو علیم کلیم ، سمیع علیم یا عزیز حکیم وغیرہ سے (تبدیل کرکے) کہہ سکتے ہیں ‘‘۔ ( رشد حصہ اول ، ص 110)

چلیے سہولت کس کے لیے تھی ؟ پوری امت کے لیے یا صرف اہلِ عرب کے لیے ، یہ مسئلہ تو حل ہوا ۔ اب دیکھیں کہ ’’رشد‘‘ سبعہ احرف کا مفہوم کیا بتاتاہے ؟

ب۔ سبعہ احرف کا مفہوم :

بھئی مان لیتے ہیں کہ متقدمین یہ مسئلہ حل نہ کر سکے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ’’رشد‘‘ بھی ہار مان لے ؟ نہیں صاحب ۔ سبعہ احرف کا مفہوم تو بالکل واضح ہے یہ آج کل کے چند مخالفین بلکہ منکرین حدیث ، بلکہ منکرین قرآن ہیں جو اس حدیث شریف کا مطلب گڑبڑ کر ڈالتے ہیں ۔ دیکھئے جناب !

* یہ تو محض لہجے کااختلاف تھا ۔ حافظ حمزہ مدنی صاحب لکھتے ہیں :

’’ ہماری رائے میں سبعہ احرف سے بنیادی طور پر لہجات مراد ہیں ، البتہ ان کے ضمن میں لغات کے قبیل سے بلاغت کے متعدد اسالیب کا اختلاف بھی شامل ہے ۔ ‘‘ ( رشد حصہ اول ، ص 273)

* ’’اختلاف قراء ت کے سلسلہ میں کسی اجنبیت کا شکار ہونے کے بجائے اس کے سلسلہ میں سادہ بصیرت کا استعمال بھی شافی اطمینان دے سکتا ہے ۔ دیکھیے کہ ایک زبان جب مختلف علاقوں اور قبائل میں پھیلی ہوئی ہو تو بسا اوقات اس کے بعض الفاظ کے استعمالات اور لہجوں میں اتنا فرق ہو جاتا ہے ۔ ۔۔۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے سات حروف ( لغات اور لہجات ) میں اتارنے کی ایک اہم حکمت یہ بھی تھی کہ اس کے پہلے مخاطبین ایک ہی لہجے کے تکلف کا شکار نہ ہو ں ‘‘۔ ( رشد ج ا اداریہ ، ص 5-6) 235

235 مولوی صاحب غالباً لغت اور لہجہ کو ایک ہی سمجھتے ہیں ۔ ان کی سادگی پر قربان مگر دنیا کے اہل علم لغت اور لہجہ میں فرق کرتے ہیں ، لہجہ (Accent ) تلفظ یا طرز ادائیگی اور آواز کے اتار چڑھاؤ کو کہتے ہیں جبکہ لغت ایک مختلف بولی ( زبان) (Dialect) ہوتی ہے ۔ انسائکلو پیڈیا میں یہ تعریف مل جائے گی ۔

Accent is the way you pronounce a word. Dialect is a diffrent language or different word.

لہجہ کسی لفظ کی ادائیگی کے طریقے کو کہتے ہیں جبکہ بولی ایک مختلف زبان یا مختلف لفظ ہوتی ہے ۔

مولوی صاحبان ایک ہی سانس میں دو مختلف باتیں کہہ جاتے ہیں جس سے وہ تو شاید نہیں دیگراہلِ علم یقیناًحیرت و تذبذب سے دوچار ہو جاتے ہوں گے ۔ انہیں تو غالباً اس کا احساس ہی نہ ہوتا ہو گا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔

* جو قرآن مجید آسمانوں سے اترا ہے وہ صرف سات لہجات میں اترا ہے ۔ ( حافظ حمزہ مدنی ،رشد ،ح ا ، ص 248 )

اگرچہ حافظ صاحب نے یا کوئی بھی دوسرا فرد کوئی عقلی دلیل نہیں دے سکا کہ سات ہی لہجات کیوں ؟ لہجے درجنوں نہیں ، سینکڑوں نہیں ، ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں ہو سکتے ہیں ۔ خود عربوں میں ، اس وقت بھی جب قرآن نازل ہو رہا تھا اور آج بھی عرب ممالک میں ہی نہیں بلکہ سعودی عرب میں کئی لہجات عام ہیں ۔ بات کتنی ہی غیر عقلی کیوں نہ ہو تاہم حافظ صاحب سبعہ احرف سے مراد لہجات ہی لیتے ہیں ۔

* حافظ عبدالرحمن مدنی صاحب بھی ارشاد فرماتے ہیں : ’’ اصل میں جس طرح مختلف زبانوں اور لہجوں کا فرق ہوتا ہے اس طرح عربی زبان میں بھی لب و لہجہ کا فرق موجود ہے ‘‘ ( رشد ح ا، ص 41) مزید فرماتے ہیں : ’’ یہ مختلف لب و لہجے دیکھ کر بعض لوگ اشکال کا شکار ہو جاتے ہیں کہ قرآن مجید میں بھی اختلا ف ہے حالانکہ یہ قرآن مجید کا اختلاف نہیں ۔ آسان انداز میں بات یوں سمجھئے کہ دنیا کی ہر زبان کے اندر لب و لہجے کا اختلاف ہے ۔ مثال کے طور پر آپ اردو زبان کو ہی لے لیں ، اس میں ایک لفظ ہے ’ ناپ تول ‘ بعض لوگ اسے ’ماپ تول ‘ کہتے ہیں ، اس کے علاوہ ایک لفظ ’سسر‘ ہے بعض لوگ اسے ’سسر‘ بعض ’خُسر‘ کہتے ہیں ۔ انگریزی زبان کا ایک لفظ ہے ’شیڈول‘ بعض انگلش بولنے والے اسے شیڈول اور بعض ’ سیکیجوئل‘ کہتے ہیں ۔ کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ ایک غلط ہے اور دوسرا صحیح ۔۔۔ عرب کے مشہور قبائل جن کی لغتیں یا لہجے چلتے تھے وہ سات ہیں : قریش کے علاوہ مشہور قبیلہ ، تمیم ، ہذیل ، غز، ربیعہ ، ہوازن ، اور ثقیف وغیرہ ‘‘۔ ( بحوالہ سنن ترمذی : 2944 ، رشد ،ح ا، ص 41)

بڑے حافظ صاحب محترم نے سبعہ احرف سے مراد لہجات لیے ہیں اور وہ بھی سات ۔ لیکن مثالیں بڑی دلچسپ دی ہیں ۔ Schedule کو شیڈول اور سکیجوئل پڑھنا تو بلا شبہ لہجے ( Accent) کی مثال ہے۔ لیکن حضور ’ خسر ‘اور’ سسر ‘ کو کون ہوشمند لہجے کا اختلاف کہے گا۔ یہ تو الفاظ کا اختلاف ہے ۔ ہم اوپر واضح کر آئے ہیں کہ لہجے کے اختلاف میں ایک ہی لفظ کو مختلف آواز یا تلفظ سے پڑھا جاتا ہے ۔ مگر لغت یا زبان کے اختلاف میں الفاظ ہی مختلف ہوتے ہیں ۔ رہی بات لہجات سات ہی کیوں ؟ تو خود حافظ صاحب نے سات قبائل کی گنتی کے بعد لفظ ’’وغیرہ ‘‘ کا استعمال غالباً غیر شعوری طور پر کر دیا ہے کہ مشہور قبائل صرف سات ہی نہیں ہو سکتے تھے ۔

مولانا تقی عثمانی صاحب نے بجا طور پر اس نقطہ نظر پر تنقید کی ہے کہ: ’’ بہت سے محقیقین مثلاً حافظ ابن عبدالبرؒ ، علامہ سیوطی ؒ اور علامہ ابن الجزریؒ وغیرہ نے اس قول کی تردید کی ہے ۔ اول تو اس لیے کہ عرب کے قبائل بہت تھے ۔ ان میں صرف سات کے انتخاب کی کیا وجہ ہو سکتی ہے ؟‘‘۔ ( رشد حصہ اول ، ص 143)

۲۔ اعتراضات اپنی جگہ مگر مسئلہ کچھ کچھ حل ہوتا ہوا دکھائی دے رہا تھا لیکن اس کا کیا کیجئے کہ اسی رشد میں کئی علماء کرام نے اس حل کو مسترد کر دیااور فرمایا کہ سبعہ احرف کا مطلب سات لہجے تو ہو ہی نہیں سکتے ۔

* چنانچہ محمد فیروز الدین شاہ صاحب نے ڈاکٹر طہٰ حسین صاحب کی تردید کر تے ہوئے لکھا ہے کہ: ’’ غرض وہ قراء ت سبعہ کو غیر منقولی اور محض لغات و لہجات قرار دیتا ہے ۔۔۔وہ حدیث سبعہ احرف کو محض ایک روایت کہہ کر رد کر تا ہے ۔۔۔ اس شبہ کے ردکے لیے حرف مفردات قراء ات پر نظر کرنا ہی کا فی ہے ۔ فرش اطروف کے مشاہدہ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ یہ تمام قراء ات لغات و لہجات نہیں تھے ‘‘ ( رشد ،ح ا ، ص 413)
* ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب نے ا بن جریر ؒ کے حولاے سے لکھا ہے کہ: ’’ ابن جریر ؒ نے سبعہ احرف سے قبائل عرب کی سات لغات مراد لی ہیں ‘‘ ( رشد ، ح ا ص ۱۳۱)
* مولانا تقی عثمانی صاحب کتاب کا حوالہ’’ رشد ‘‘نے خود دے دیا جو سبعہ احرف کو لہجات نہیں مانتے ۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اس موضوع پر مزید لکھنا محض تکرار ہو گا ، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر’ سبعہ احرف ‘ کے مفہوم میں متقدمین میں اختلاف تھا تو ’’ رشد ‘‘ نے آکر کیا خاص کارنامہ سر انجام دیا ؟ اگر اس مسئلے کو حل کیا ہوتا تو کوئی بات بھی تھی ’’ رشد ‘‘ کے مطالعہ سے ہمیں تو یہ معلوم ہوا کہ :

’’ ان تمام حقائق کے باوجود جب اس سلسلے میں وارد ہونے والی جملہ احادیث کا بغور مطالعہ کیا جائے تو ایسی کوئی عبارت ہمیں دستیاب نہیں ہوئی جو ’سبعہ احرف‘ کی ایسی کامل اور شافی تفسیر کر دے جس سے نزاع ختم اور اختلاف کے دروازے بند ہو جائیں ‘‘۔ ( ابو مجاہد عبدالعزیز القاری، رشد ، ح ا ، ، ص ۱۲۳)

’’ سبعہ احرف ‘‘ والی حدیث کے بارے میں پینتیس اقوال ہو ں یا چالیس ان سب پر ’’رشد‘‘ کا ایک یہی قول بھاری ہے ۔ اب جبکہ اس چیستاں کا کوئی ایسا معقول مفہوم دریافت ہی نہیں ہو سکا تو ’’ اہلِ رشد‘‘ کی مرضی ہے کہ اس پر تمام عمر آپس میں یا کسی پر منکرِ حدیث کا لیبل لگا کر سرپھٹول کرتے پھریں ، میرا تو نہیں خیال کہ کوئی اہلِ علم ان سے اس میدان میں آ کر پنجہ آزمائی کر سکتا ہے ۔ کیونکہ بعض لوگوں کی ذہنی ساخت ہی ایسی ہوتی ہے کہ وہ کسی کی بات سنتے ہی نہیں بس اپنی سنانے پر مصر ہوتے ہیں ۔

’’سبعہ احرف کے سلسلے میں ’’ رشد ‘‘ کی ’’ عالمانہ‘‘ اور ’’ تسلی بخش ‘‘ گفتگو کے بعد یہ دیکھتے ہی کہ اس کا تعلق سبعہ قراء ت سے کیا ہے ؟ آئیں ’ رشد‘ سے رہنمائی حاصل کریں ۔
2۔ سبعہ احرف قراء ات سبعہ ہی ہیں ۔

* الشیخ علامہ عبدالفتاح القاضی نے اپنے مضمون بعنوان ’’ احادیث رسول کی روشنی میں ثبوت قراء ت ‘‘کے تحت سبعہ احرف والی حادیث کا ذکر فرما کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس حدیث کا اطلاق قراء ت سبعہ ہی پر ہے ۔ ( رشد ،ح ا ، ص۴۵ )

* قاری صہیب احمد صاحب فرماتے ہیں کہ ’’ یہ بات تو بدیہی طور پر واضح ہے کہ دین اسلام ’حروف‘ ( قراء ا ت) میں طعن سے مکمل طور پر کنارہ کش ہے کیونکہ قراء ات دین میں اصل حقیقت ہیں ، جیسا کہ ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا اس میں جھگڑنا کفر ہے ‘‘ ۔ (رشد ،ح ا، ص ۶۵)

حافظ انس نضر مدنی صاحب کا بھی اصرار ہے کہ: ’’ قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے اور صحابہ کرامؓ نے بالمشافہ آپ ﷺ سے قرآن سیکھا ۔ صحابہؓ سے تابعین ، تابعین سے تبع تابعین نے یہ حروف سیکھے اور اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ معاملہ ان معروف و مشہور قراء سبعہ تک پہنچ گیا ۔ ( رشد ح ا ۔ ص ۲۸۹)

اسی طرح حافظ حمزہ مدنی صاحب ( رشد ، ح ا ، ص ۲۷۲) اور قاری فہد اللہ مراد صاحب ( رشد ح ا ، ص ۶۷۱) بھی اصرار کرتے ہیں کہ سبعہ احرف کا مصداق موجودہ قراء ات سبعہ ( بلکہ قراء ت عشرہ ) ہیں ۔ اس سلسلے میں میاں چنوں کے کوئی شیخ الحدیث ہیں جن کا نام گرامی حافظ عبدالستار حماد ہے ۔ (رشد حصہ اول ، ص۱۳) میں ان کا درسِ حدیث سامنے ہے جن کے تعارفی نوٹ میں فرمایا گیا ہے کہ: ’’ ان کو اللہ تعالیٰ نے اس امتیاز سے نوازا ہے کہ آپ حدیث و علومِ حدیث پر گہری نظر رکھتے ہیں اور قرآن و علوم قرآ ن کے بھی مخصص ہے کیونکہ آن جناب جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے کلیہ القرّآن الکریم سے سند فضیلت رکھتے ہیں ‘‘۔ (لفظ ’’کیونکہ ‘‘ ہمارا نہیں بلکہ ادارہ رشد نے اسی طرح لکھا ہے ) یہ صاحب اس وقت میاں چنوں کے کسی الدراسات الاسلامیہ کے رئیس ہیں ۔ اتنے بڑے تعارفی نوٹ کے بعد ان کی اس موضوع پر اچھوتی اور دلنشین تحقیق ملاحظہ ہو۔ ’’ بہر حال قراء ت متواترہ جنہیں احادیث میں ’’ احرف سبعہ‘‘ سے تعبیر کیا گیاہے وہ آج بھی موجود ہیں اور اس کے انکار کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے ‘‘ (ص ۱۶) اب جس چیز کی کوئی معقول وجہ نہ ہو اس کو’’ بہر حال ‘‘ ظرافت طبع کی وجہ سے ہی بیان کیا جا سکتا ہے ۔ چنانچہ یہی موصوف یہ بھی ارشاد فرما دیتے ہیں کہ: ’’ سبعہ احرف ‘‘ سے مراد ان سات آئمہ کی قرا ء ات ہر گز نہیں ہیں جو اس سلسہ میں مشہور ہوئے ہیں ، کیونکہ پہلا شخص جس نے ان سات قرا ء ت کو جمع کرنے کا اہتمام کیا وہ ابن مجاہد ہے جس کا تعلق چوتھی صدی سے ہے ‘‘۔

ہم یقیناً اس پوزیشن میں نہیں کہ کسی شیخ الحدیث صاحب کے کسی بھی قول کو غلط قرار دیں ۔ ان کا یہ قول یقیناًدرست ہوگا کہ ’’سبعہ احرف ‘‘ سے مراد ان سات آئمہ کی قراء ات نہیں ۔ اور یہ بھی بلا شک و شبہ درست ہو گا کہ سبعہ احرف سے مراد ہی قراء ات متواترہ ہیں جو آج کل موجود ہیں ۔ البتہ جو ان کے اقوال میں شک کرے وہ منکرِ حدیث اور متجدد ہے ۔ اب اگر اپنے آپ کو کسی اہل حدیث یا شیخ الحدیث کے نزدیک معتبر تسلیم کروانا یا اپنی پگڑی بچانا ہے تو لازماً ان کے اقوال مبارکہ کو ’’معقول‘‘ ہی تسلیم کرنا ہو گاورنہ گئے دونوں جہان سے ۔

اسی موضوع پر ماہنامہ ’’ طلوع اسلام ‘‘ میں جناب جمیل احمد عدیل کے شائع شدہ مضمون پر تنقید کرتے ہوئے محترم قاری محمد صفدر صاحب ایک جگہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’ ہم اس ضمن میں صرف اتنا عرض کریں گے کہ جو حدیث آپ نے عمر و ہشام والی نقل فرمائی ہے اگر آپ اس پر ہی غور کرتے ( جو شاید بغض حدیث کی وجہ سے نصیب نہ ہو ا) تو معلوم ہو جاتا کہ احرف سبعہ اور قراء ات سبعہ کوئی الگ الگ چیز نہیں ہیں ‘‘ ۔

ہم محترم قاری صاحب سے صرف اتنی گزارش کریں گے کہ وہ ہمت کر کے دیوبندی عالم محترم ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب پر بھی بغض حدیث کا فتویٰ جڑ دیں کیونکہ انہوں نے بھی یہ رائے ظاہر کی ہے کہ ’’ عام طور پر علما وقراء حضرات ان سب ( سبعہ احرف والی) حدیثوں کا ایک ہی مضمون مانتے ہیں ، اس لیے ان کو ایک دوسرے پر محمول کرتے ہیں ، لیکن اس صورت میں حروف سبعہ کی جو بھی تفسیر کی جائے وہ ایسی نہیں کہ اس پر کوئی اعتراض و اشکال نہ رہتا ہو‘‘ ( رشد ، ح ا ، ص ۱۳۱)

اس سے بڑھ کر ایک دوسرے دیوبندی ممتاز عالم مولانا محمد تقی عثمانی صاحب کی رائے سے تو معلوم ہوتا ہے کہ قاری محمد صفدر صاحب و دیگر اہل حدیث کی رائے تو بالکل ہی غلط اور باطل ہے چنانچہ ان کا ارشاد غور سے پڑھیں : ’’ بعض حضرات ( مثلاً مدنی حضرات و قاری محمد صفدر وغیرہ ) یہ سمجھتے ہیں کہ اس (یعنی سبعہ احرف) سے مراد سات مشہور قاریوں کی قراء تیں ہیں ، لیکن یہ خیال تو بالکل ہی غلط اور باطل ہے ‘‘ ( رشد ، ح ا ، ص ۱۴۲)
یہ خیال مبارک، کئی لکھاریوں نے حصہ دوم میں بھی ظاہر کیا ہے کہ سبعہ احرف دراصل سبعہ قراء ات ہی ہیں ۔ مثلاً مولانا بشیر احمد عثمانی ( ص۵۳) ، صہیب احمد میر محمدی ( ص ۷۴) ،ڈاکٹر حافظ عبدالرشید اظہر ( ص ۱۵۲) ،قاری محمد عزیز ( ص ۱۶۵) ، قاری محمد ادریس العاصم ( ص ۲۶۳) وغیرہ جبکہ اس کی تردید کرنے والے بھی بے شمار حضرات موجود ہیں ۔ جن کی کئی مثالیں حافظ محمد مصطفی راسخ کے عربی اور مولانا محمد اصغر صاحب کے اردو میں جمع شدہ فتاویٰ میں مل جاتی ہیں ۔

جمیل احمد عدیل صاحب پر تو بغض حدیث رکھنے کا فتویٰ لگا دیا گیا کیونکہ ان کا مضمون طلوع اسلام میں شائع ہوا تھا مگر محترم مفتی عبدالواحد صاحب ، بالخصوص مولانا محمد تقی عثمانی صاحب پر یہ فتویٰ اس لیے لگانا ممکن نہیں کیونکہ ان کے مضامین ’’ رشد ‘‘ میں شائع ہوئے ہیں ۔ البتہ ان کے مطابق قاری صفدر صاحب کا موقف تو بالکل غلط اور باطل ہے چاہے انہوں نے بغض حدیث میں یہ کہا ہو یا حبِ حدیث میں، ویسے ہمیں یہ بخوبی علم ہے کہ احناف اور دیوبندیوں کو یہ حضرات کن کن ناموں سے یاد کرتے رہتے ہیں ۔

۳۔ اس سلسلے میں رشد کے چند اور خیالات سے مستفید ہوتے چلیں تو چنداں مضائقہ نہیں :

(ا) ’ بالعموم تمام لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ سبعہ احرف سے مراد سات لغات ہیں ۔ ہماری رائے میں بھی یہ توجیہ و رائے ہی قوی ہے ‘‘
( حافظ حمزہ مدنی ، رشد ح ا ، ص ۲۶۸)

(ب) ’’ حروف سبعہ کی تعین میں بہت اختلاف ہے بعض لوگوں نے اس سے سات لغات مراد لی ہیں لیکن یہ صحیح نہیں کینوکہ سید نا عمرؓ اور ہشامؓ دونوں قریشی تھے ، ان کی لغت ایک تھی اس کے باوجود ان کا اختلاف ہوا۔ یہ کوئی معقول بات نہیں کہ رسول ﷺ ایک ہی آدمی کو قرآن مجید ایسی لغت میں سکھائیں جو اس کی لغت نہ ہو‘‘ ( ابو محمد حافظ عبدالستار حماد ، رشد ح ا ، ص ۱۴)

محترم حافظ حمزہ مدنی صاحب یہ ضرور بتائیں کہ آپ ایسی ’’نامعقول ‘‘ بات اپنے نبی ﷺسے کیوں منسوب کرتے ہیں ؟

(ج) قاری صہیب احمد صاحب رشد ،ح ا، ص ۶۰ پر تو ابن ساعانی ؒ کے حوالے سے ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’ قراء ات سبعہ متواترہ ہیں ، ہاں قرآن کا بعض حصہ غیر متواتر ہے جیسا کہ مالک اور ملک وغیرہ ، لیکن صفحہ ۶۱ پر امیر بادشاہ کے حوالے سے لکھتے ہیں :

’’ قرآن سارے کا سارا متواتر ہے ‘‘

(د) حافظ انس نضر مدنی صاحب ایک جگہ ( رشد ، ح ا ، ص ۲۹۴) میں فرماتے ہیں : ’’ وہ قراء ا ت جن کی سند متواتر یا مشہور نہ ہو انہیں قراء ات شاذہ کہا جاتا ہے ، بطور قرآن ان کی تلاوت جائز نہیں لیکن فوراً ہی اگلے صفحہ ( ۶۱) میں یہ تحقیق بھی قارئین کی نظر کرتے ہیں کہ’’ تیسری قسم یعنی احاد قراء ات جو اگرچہ قراء ات شاذہ میں شامل ہے لیکن بعض علماء اسے نماز میں پڑھنے کے جواز کے قائل ہیں ‘‘ ۔

(ر) انکار قراء ات کے حکم کے تحت ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب صریحاً لکھتے ہیں کہ انکار قراء ات کے باعث کوئی کافر نہیں ہوگا ( رشد ، ح ا ، ص ۱۴۰) جبکہ قاری صہیب احمد صاحب کا ارشاد ہے کہ منکرِ قراء ات کافر ہے ( ایضاً ص ۶۶) نیز حافظ محمد مصطفی راسخ ( رشد ح ا، ص ۲۴۳) ، محمد ابراہیم میر محمد ی ( رشد ح ا ، ص ۴۲۹، ۴۳۱) ، قاری محمد یحیٰ رسو لنگری ، ( رشد ، ح ا ، ص ۶۱۳) کا بھی یہی ارشاد گرامی ہے ۔

(س) قرآن اور قراء ات مختلف ہیں یا ایک : ’’ رشد‘‘ ہمیں بتاتا ہے کہ یہ ایک ہی ہیں اور یہ بھی بتاتا ہے کہ ان میں فرق ہے ۔ ملاحظہ کیجئے ’’ آپ یوں نہیں کہہ سکتے کہ یہ قراء ات ہے اور یہ قرآن ہے ( یہاں لفظ قراء ت (واحد) آنا چاہیے، مگر ’’ رشد ‘‘ کی مرضی ۔۔۔ ) اگر آپ قرآن اور قراء ات کو الگ کریں گے تو اس میں قرآن کس کو کہیں گے ؟ ‘‘

(دیوبندی عالم ڈاکٹر قاری احمد میاں تھانوی صاحب ، رشد ح ا، ص ۶۱۲) اس کا جواب ’’رشد ہی ہمیں اہلِ حدیث حافظ حمزہ مدنی سے یہ دلواتا ہے کہ ’’ قرآن اور قراء ات میں فرق ہے ۔ قرآن کہتے ہیں ان الفاظ کو جو منزل من اللہ ہے اور قراء ات اسی قرآن کی خبر کو کہتے ہیں ‘‘ ( رشد ح ا، ص ۲۴۸) ۔ ان کی تائید میں ’’ رشد‘‘ ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب کو لے آتا ہے جن کا ارشاد ہے : ’’ قرآن اور چیز ہے اور قراء ات اور چیز ہیں۔ قرآن تو اس چیز کا نام ہے جو مصاحف کے اندر ثبت ہے اور رسول اللہ ﷺ پر نازل کیاگیا ہے اور تواتر سے نقل ہوتا چلا آ یا ہے ۔ جبکہ قراء ات زبان سے اس کی ادائیگی کا نام ہے، قرآن ایک ہے اور قراء ات متعدد ہیں ‘‘ ( رشد ح ا ، ص ۱۳۹)

رشد حصہ دوم ، صفحہ ۷۹۱ پر مولانا حافظ عبدالرحمٰن مدنی صاحب کا ارشاد ہے کہ قرآن اور قراء ات ایک ہی چیزہیں ، حیرت اس پر ہے کہ ان ہی کے صاحبزادے حافظ حمزہ مدنی صاحب ’رشد ‘ حصہ اول ص ۲۷۸ میں اپنے والد صاحب محترم کی تردید کر چکے ہیں ۔
ہو سکتا ہے یہاں’’ اہل رشد‘‘ کہہ دیں کہ محققین میں اختلاف کوئی نئی چیز نہیں ہے ۔ لیکن اختلافات کو مخالفت اور گمراہی تک پہنچادینا اہل تحقیق کا شیوہ ہر گز نہیں ہے۔ اس کا ثبوت محمد ابراہیم میر محمدی نے اسی مسئلے پر دیا ہے ۔ اس کا ترجمہ حافظ زبیر نے کیا ہے ۔ وہ مستشر قین کا جائزہ لیتے ہوئے محترم جاویداحمد غامدی صاحب کو بھی متجدّ د کا لقب دیکر گولڈ زہیر اور نو لڈ میں شمار کر تے ہیں ۔ ان کا ارشاد ہے ’’گولڈ زہیر اور نولڈ کے اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن اور قرا ء ت دونوں الگ الگ شعبے ہیں ‘‘ نیز فر ماتے ہیں ’’اسی قسم کا قول متجددین میں سے ایک ایسے شخص کا بھی ہے ، جو اپنے آپ کو فکر اسلامی ( غالباً فکر اصلاحی مراد ہے کیونکہ آگے ایسا ہی ارشاد فر مایا گیا ہے )، کا نمائندہ تصور کر تا ہے۔ پس فکر اصلاحی کے نمائندے کا یہ دعوی ہے کہ قرآن اور قراء ات دو علیحدہ علیحدہ چیزیں ہیں ۔ایک ایسا دعوہ ہے جس کی دلیل ان کے پاس مو جود نہیں ہے ‘‘ (رشد ح ا،ص 434-433 )
آگے اس کی تصریح کر تے ہیں تاکہ کسی کو کوئی غلط فہمی نہ ہو جائے کہ فکر اصلاحی کا نمائندہ کون ہے۔ ان کا ارشاد ہے کہ ’’فکر اصلاحی کے علمبر دار جاوید احمد غامدی مراد ہیں ، اللہ ان کو ہدایت دے ‘‘۔ (ایضا،ص 435 ) ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب کو تو خیر جانے دیں کہ یہ ’’ فکر دیو بند‘‘ کے علمبرادار ہیں ،مگر میر محمدی صاحب کی محترم جاوید غامدی صاحب کے حق میں دعا کو دیکھتے ہیں اور پھر حافظ حمزہ مدنی صاحب کا یہی گولڈ زہیر اور نو لڈ والا ’گمراہ کن‘ نظریہ دیکھتے ہیں کہ قرآن اور قراء ا ت میں فرق ہے تو حیرت میں ڈوب جا تے ہیں کہ یہ ’’دعائے خیر‘‘ حمزہ مدنی صاحب کے حق میں کیوں نہیں کی جاتی ؟

ہمیں یہ تو معلوم نہیں کہ جاوید احمد غامدی صاحب پر تنقید میر محمدی صاحب نے کی ہے یا یہ غصہ جناب مترجم نے خود اتارا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حافظ زبیر صاحب کی زندگی کا اہم مشن جاوید احمد غامدی صاحب کی مخالفت ہے جس کے مظاہر آئے دن سامنے آتے رہتے ہیں ۔

(ص) مصحف عثمانی اور مصحف محمدی

یہ عنوان تو ہمارا ہے لیکن سارا مواد اہلِ رشد ہی کا مہیا کردہ ہے ۔ سب سے زیادہ افسوس ناک اور پریشان کن مسئلہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ ’’اہل رشد ‘‘ نے شعوری یا لا شعوری طور پر دشمنان اسلام کے ہاتھ ہی مضبوط کئے ہیں ۔ ڈاکٹر محمد اکرم چودھری صاحب مستشرقین کی ان نا مسعود کاوشوں کا ذکر کر تے ہوئے لکھتے ہیں کہ : ’’ اختلاف قراء ات پر مبنی روایات کا جو ذخیرہ اس (آرتھر جیفری) نے پیش کیا ہے ان روایات کی اسناد خود جیفری کے اعتراف کے مطابق مکمل ہیں اور نہ مستند‘‘ (رشدح ا ،ص 393 )

’’اہل رشد‘‘ ان تمام روایا ت کو سند کے ساتھ مستندبناکر جیفری کی روح کو تو شاید سکون نہ پہنچا سکیں ،لیکن آنے والے مستشرقین کے ہاتھ ضرور مضبوط کئے ہیں ۔ آرتھری جیفری جس منصوبے پرکام کر نا چاہتا تھا وہ تو ڈاکٹر صاحب کے ارشاد کے مطابق اتحاد ی فوجوں کی بمباری سے تباہ ہو گیا ۔ معلوم ہو نا چاہئے کہ وہ منصوبہ تھا کیا۔ ڈاکٹر صاحب کے بقول’’ دراصل حیفری قرآن کے تنقیدی نسخے کو اس طرح مر تب کر نا چاہتا تھا کہ ایک صفحے پر کوفی خط میں متن قرآن ہو اس کے سامنے دوسرے صفحے پر تصحیح و تنقیح شدہ حفص روایات اور حواشی footnotes) )میں قرآن حکیم کی تمام معلوم قر اء اتوں کو بیان کر دیا جائے ‘‘(رشد ح ا، ص 394 )

جیفری جس نسخے کے حواشی میں روایتوں میں مذکور قراء توں کو بیان کر نے کی کوشش کر تا رہا اب ما شاء اللہ ’’ اہل رشد‘‘ اس سے چند قدم آگے بڑھ کر محض حواشی میں نہیں بلکہ قرآنی متن کی حیثیت سے الگ قرآن بلکہ کئی اقسام کی قرا ء تیں شائع کر وانے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ اس سے قبل ان کاذکر محض روایا ت میں ملتا تھا ، البتہ چند مدارس میں یہ قراء ا ت پڑھائی جا تی رہی ہیں ۔ ان کی بنیاد پر کوئی مصحف مو جود نہ تھا ۔ ’’رشد ‘‘ ہی کا ارشاد ہے کہ :’’جیسا کہ ہم نے پہلے کہا کہ قواعد و ضوابط اور پڑھنے کا انداز تو کتب قراء ات میں مو جود ہیں لیکن باقاعدہ مصاحف کی شکل میں مو جو د نہیں ہیں ۔ کلیتہ القرآن الکریم ،جامعہ لاہور کے فضلاء میں سے تقریباً بارہ محقق اساتذہ نے محنت شاقہ فر ما کر تین سال کے عرصے میں وہ تمام غیر متداولہ قر اء ات میں سولہ مصاحف تیار کر لئے ہیں اور جیسا کہ راقم نے پہلے عرض کیا ہے کہ یہ کام اپنی نو عیت اور جامعیت کے حوالے سے تاریخ اسلام کا پہلا کام ہے ‘‘ ( قاری فہد اللہ مراد، رشدح ا ،ص 678 )

ظاہر ہے تاریخ اسلام کا یہ پہلا کام جوغیر متداولہ قر اء ات پر مشتمل ہو گا جب سامنے آئے گا تو کو ئی بھلا یا بھولا آدمی احمد دیدات کی طرح یہ نعرہ مستانہ لگا کر میدان میں نہیں آسکتا کہ ہمارا قرآن مشرق سے مغرب تک ایک ہی ہے اور اس میں کسی زیر ، زبر یا شوشے کا فرق نہیں ۔ وہ کا جو سر انجام دیتے ہوئے جیفری صاحب ’’شہید‘‘ ہو ئے تھے اب ما شاء اللہ ایک قدم آگئے بڑھ کر ’’اہل رشد‘‘ سر انجام دیں گے ۔ اب اہل حدیثوں کا قرآن اور ہو گا اور اہل فقہ کا کو ئی اور۔ تاہم ابھی تک معلوم نہ ہو سکا کہ یہ سب’’ غیر متداولہ قرآن ‘ ‘ مصحف محمدی کہلائیں گے یا محصف عثمانی، کیونکہ ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی صاحب ان دونوں مصاحف کے جمع کئے جا نے کی ’’حکمت‘‘ مختلف بیان کر تے ہیں ۔ لیکن حکمت بیان کر تے ہوئے سب کچھ بھول جا تے ہیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔نبی اکرم ٖؐنے اپنی زندگی میں مکمل قرآن جو لکھوایا تھا اس کی ’حکمت ‘بیان کر تے ہوئے دو وجہیں بیان کی ہیں :
’’ 1 ۔ قرآن مجید میں چونکہ وحی با للفظ ہے اور روایت با للفظ میں الفاظ کی تبدیلی کا چونکہ اندیشہ ہے اس لئے قرآن کریم کا رسم خط لکھوایا تا کہ قرآن کے الفاظ محفوظ رہ سکیں۔
2 ۔ ما بعد ادوار میں قرآن یا اس کے لفظوں کے حوالے سے کوئی اختلاف پیدا ہو جائے تو کوئی ایسا معیار موجود ہو جو اختلافات کی صورت میں بطور معیار مو جود ہو‘‘ (’’رشد‘‘ ح ۲ ، ص 333 )

اگلے ہی صفحے پر حضرت عثمان کے جمع کر دہ قرآن کی’’ حکمت ‘‘ بیان کر تے ہیں:

’’ اس ضمن میں در پیش مشکل یہ تھی کہ لوگ قرآن کی تبیین کے ضمن میں رسول اللہ ؐ کے ارشادات کو بھی قرآن کے ہمراہ لکھ دیتے تھے ، جنہیں بعد ازاں قرآن سے الگ نہ لکھنے کی وجہ سے غلطی سے تلاوت قرآن میں بطور قرا ء ا ت داخل کر لیا جاتا ۔ جضرت عثمانؓ کے زمانے میں کسی مصدقہ مصحف کی عدم مو جودگی کی وجہ سے اس قسم کے تغیری کلمات کا اختلاف بھی زوروں پر پہنچا ہوا تھا ۔ لوگوں میں ان تفسیری تو ضیحات کے ضمن میں شدید اختلاف چل رہا تھا کہ بعض لوگ انہیں قرا ء ت کا درجہ دیکر با قاعدہ تلاوت کر تے ‘‘ (رشد‘‘ ح۲ ، ص 334 )

ڈاکٹر مو صوف جذباتی تقریر کر تے وقت بھول گئے کہ وہ پہلے نبی اکرم ؐ کے جمع کر دہ قرآن کی وجہ خود یہ بیان کر چکے تھے کہ وہ ’’ ما بعد ادوار میں قرآن یا اس کے لفظوں کے حوالے سے کوئی اختلاف پیدا ہو جائے تو وہ بطو ر معیار کام دے ‘‘ اگر یہ بات واقعی درست ہو تو حضرت عثمانؓ کے زمانے میں مصدقہ مصحف کی عدم موجودگی ‘‘ چہ معنی دارد ؟ چنداں پریشانی کی ضرورت اس لیے نہیں کہ غلط اور خلاف حقیقت مو قف پر ہٹ دھرمی اور اصرار سے ایسی ہی صورت حال پیدا ہو تی ہے ۔

تاہم اہل رشد کی تکنیک یہ معلوم ہوتی ہے کہ عوام کو فوری طور پر صحیح صورت حال معلوم نہ ہو سکے ۔کیونکہ پاکستان میں اگر غیر متداولہ ، یعنی قرآن مجید کے ایسے نسخے جو پہلے رائج نہ رہے ہوں ، عوام تک پہنچ جائیں تو ان کاحشر معلوم ۔ چنانچہ ان کی رائے یہ ہے کہ : ’’(ایسے غیرمتداولہ ) جمع روایات میں قرآن شائع کر نے کے بعد ان کو پوری دنیا کی لائیبریریوں میں پہنچایا جائے ۔ عوامی سطح پر لانے سے پر ہیز کیا جائے ۔ البتہ رائے عامہ ہموار کر نے کے بعد عوامی سطح پر بھی لایا جا سکتا ہے۔‘‘ (رشد ح ا ، ص 681 )

اسی طرح بہت سے مضامین میں اختلافِ قراء ات کی بے شمار’’ حکمتیں ‘‘ بیان کی گئی ہیں اور ان کو ’’رحمت ‘‘ قرار دیا گیا ہے ۔ ہم صرف اداریے میں ہی مذکور چند مثالوں پر نظر ڈالتے ہیں ۔ اداریہ نویس کا ارشاد ہے: ’’ علم قراء ات اور تفسیر قرآن : تفسیر کا معنی ہے الفاظ قرآنیہ کا مفہوم اس طرح پوری وضاحت سے بیان کر دیا جائے کہ ان کاکوئی ابہام یا اجمال باقی نہ رہے ۔ علم قراء ات بھی مجمل الفاظ کی تفصیل اور ابہام کی توضیح کرتا نظر آتاہے‘ مثلا ارشاد باری تعالیٰ ہے : وان کان رجل یورث کلا لۃ اوامراۃ ولۃ اخ او اخت لکل واحد منھا السدس ( النساء ۱۲) آیت مذکورہ میں ’’اخ‘‘ او ر ’’ اخت‘‘ میں ابہام ہے کہ وراثت کی تقسیم میں ذکر کیا گیا حصہ کس بھائی اور بہن کا ہے ؟ حقیقی ( سگے ) بھائی اور بہن مراد ہیں ، علاقی ( جو باپ کی طرف سے ہوں ) یا اخیافی ( جو ماں کی طرف سے ہوں ) تو دوسری قراء ات میں اس کی وضاحت یوں موجود ہ’’ولہ اخ اواخت من ام ‘‘

اسی طرح دوسری مثال سورۃ المائدہ سے دیتے ہیں کہ اصل قرآن میں تو ’’او تحریر رقبۃ ‘‘ کے الفاظ آئے ہیں لیکن ’’ آیت بالا میں لفظ ’’ رقبۃ ‘‘ کی وضاحت موجود نہیں کہ قسم کا کفارہ دیتے ہوئے اگر غلام آزاد کرنا مقصود ہو تو کیا غلام میں کوئی تمیز موجود ہے کہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم ؟ یا کسی بھی غلام کو آزاد کیا جا سکتاہے ؟ تو قراء ا ت کا اختلاف ہمیں بتاتا ہے کہ اس ضمن میں غلام کا مسلمان ہونا ضروری ہے ، کیونکہ دوسری قراء ات میں لفظ ’ رقبہ ‘ کی صفت ’’ مومنۃ‘‘ سے بیان ہوئی ہے ۔ بنا بریں ہم کہتے ہیں کہ کسی بھی مسئلے کی تفسیر میں ایک قراء ت سے معنی اس طرح واضح نہیں ہوتے جیسے متنوع قراء ات مسئلہ کو کھول کر بیان کرتی ہے ‘‘ ( رشد ح ، ص ۳)

اداریہ نویس نے اس طرح دیگر ’ حکمتیں ‘ ’’نصوص کا ظاہری تعارض اور علم قراء ات ‘‘ اور ’’ مختلف فقہی احکام کا استنباط اور علم قراء ات‘‘ کے عنوانات کے تحت بیان فرمائی ہیں ۔ ہم حیران صرف اس بات پر ہیں کہ ہم انا للّٰہ پڑھیں یا کوئی تبصرہ کریں ۔

قرآن کے الفاظ کو مبہم قرار دینے والے محترم اداریہ نویس ذرا دیر سے دنیا میں تشریف لائے ورنہ نزول قرآن کے وقت یہ تشریف لائے ہوتے تو اللہ میاں کو نہ سہی کم از کم نبی اکرم ﷺ کو ضرو رہی مشورہ دیتے کہ:

’’ دیکھیں اصل قرآن میں یہ لفظ رکھنے سے ابہام پیدا ہو رہاہے ۔ یہ درست ہے کہ قراء ات میں سہولت کی خاطر آپ نے ہمیں ’’سات حروف ‘‘ ( اس کا جوبھی مطلب ہو ) پڑھنے کی اجازت فرمائی ہے کہ یہ لفظ کی ادائیگی کا مسئلہ ہے ۔ اس لیے اگرچہ ’’ من ام‘‘ اور ’’ مومنۃ‘‘ کے الفاظ لانے یا نہ لانے سے ہمیں کوئی سہولت ہے نہ دشواری تاہم ہمیں اللہ اور رسول ﷺ اور قرآن کی ساکھ عزیز ہے اس لیے عرض ہے کہ قرآن کے اس ابہام کو دور کیجئے اور اصل قرآن ہی میں ’’ صحیح‘‘ لفظ رکھ دیں اور براہ کرم ابہام پیدا ہی نہ کریں ۔‘‘
ہمیںیقین ہے کہ اس ’’ معقول‘‘ تجویز پر نبی اکرم ﷺ عمل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے فوری طور پر درخواست کرتے کہ ’’ مبہم‘‘ الفاظ کو تبدیل کر کے ’’واضح‘‘ الفاظ اصل قرآن میں ڈال دیتے یوں یہ قراء ات متواترہ یا شاذہ کامسئلہ ہی سرے سے نہ اٹھتا۔ آخر اللہ میاں’’مبہم ‘‘الفاظ قرآن میں ڈال کر نعوذ باللہ امت کو پریشان کیوں کرتے !۔ جبکہ اس کا بہت ہی آسان متبادل حل موجود تھا ، اور جو بقول اداریہ نویس یہ متبادل حل دوسری شاذ قراء ات کے ذریعے ظاہر کیا گیا ہے ۔ سبحان اللہ عما یصفون۔

ہمیں دوران مطالعہ جا بجا ’’رشد‘‘ کا انداز بحث کچھ ایسا لگا جیسے وہ اصلاح فکر سے زیادہ تکینکی طور پرمخالفین کو ناک آؤٹ کر نا چاہتا ہو۔ انگریزی مقولے کے مطابق ’’ کسی کو برا نام دو اور اسے مار دو‘‘ کے مصداق اپنے سے جدا نقطہ نظر رکھنے والے کو منکر حدیث ، منکر قرآن ، متجدّد وغیرہ کہہ کر اس کی بات کو رد کر نا محض جذباتی انداز بیان ہی کے تحت آ سکتا ہے۔ حالانکہ بعض اوقات ان کی بات خود ان کی پارٹی کے لوگ بھی کہہ رہے ہو تے ہیں اور ان کی بات کو تحقیق و تحسین کے نقطہ نظر سے سامنے لایا گیا ہے ،تا ہم ہمیں مو لانا سید ابو الاعلی مو دودی ؒ کے مضمون کی اشاعت پر حیرت انگیز مسرت ہو ئی ہے ۔

ہمارا حسن ظن ہے کہ ان پر ’’منکرحدیث ‘‘ ہونے کا فتوی اہل حدیث حضرات نے واپس لے لیا ہو گا ۔ ایک زمانے میں وہ ان کے نزدیک مانے ہوئے ’منکر حدیث‘ تھے۔بلکہ اہل حدیث کے ایک مشہور عالم محمد اسماعیل سلفی صاحب مر حوم نے اپنی کتاب میں ۔۔۔حجیت حدیث میں مو لانا مو دودی ؒ اور ان کی حدیث کے متعلق نظریات کے خلاف اعلان جہاد کر رکھا تھا ۔ لیکن کوئی حرج نہیں اگر ایک ’’منکر حدیث ‘‘ کو اپنے مقصد کے لئے مفید سمجھتے ہو ئے (غلط یا صحیح ) استعمال کر لیا جائے تو یہ اہل حدیث کے مصالح المرسلہ کی تعریف یا نظریہ ضرورت کے عین مطابق ہو گا۔ لیکن ہم حسن ظن بہر حال یہی رکھیں گے کہ ان پر سے منکر حدیث ہونے کا فتوی واپس لے لیا گیا ہو گا۔ آگے جا کر شاید کوئی موقع ایسا نکل آئے کہ مو لانا امین احسن اصلاحیؒ ، محترم جاوید احمد غامدی صاحب حتی کہ محترم غلام احمد پرویز مر حوم بھی قابل قبول ہو جائیں۔ایسا برا وقت آتے کچھ دیر نہیں لگتی۔

’’رشد‘‘ میں مولانا امین اصلاحیؒ ، محترم جاوید احمد غامدی صاحب اور طلوع اسلام کے خلاف ایک مضمون میں ’’عالمانہ‘‘ انداز تحریر دیکھنے کو ملا۔حافظ محمد زبیر صاحب اور محمد رفیق چودھری صاحب کے انداز تحریر کا ہمیں کچھ کچھ اندازہ تھا ۔ ہمیں افسوس ہے کہ اس سے قبل قاری محمد صفدر صاحب سے ہم کبھی مستفید نہ ہو سکے تھے ۔ اسے ہم اپنی بد قسمتی اور کم علمی پر ہی محمول کریں گے۔

محمد رفیق چودھری صاحب کے مضمون سے معلوم ہوا کہ مو لانا امین اصلاحیؒ صاحب تدبر القرآن میں ’’ احمقانہ ‘‘ دعوی کر تے رہے اور علمیت کے نہیں ’جہالت ‘ کے دلائل فراہم کر تے رہے(رشد ح ا ، ص 518 ) ہمیں اس کا صدمہ ہے کہ مو لانا ؒ کی زندگی میں چودھری صاحب اپنا ’’فہم دین ‘‘ ان تک نہ پہنچا سکے ۔ مو لانا محترم یقیناًچودھری صاحب کی شاگردی اختیار کر نے پر فخر محسوس کر تے۔ جمیل احمد صاحب نے طلوع اسلام کے ایک مضمون میں دعوی کیا تھا کہ احرف سبعہ کی تعریف متعین نہیں ہے ۔ اس پر قاری محمد صفدر صاحب نے اصل موضوع پر بات کرنے سے پہلے بطور مقدمہ یہ لکھا کہ : ’’ قر ا ء ات پر تنقید کر نے کا شوق ہے لیکن مو صوف کو اتنا علم نہیں کہ لفظ قراء ت کا رسم کیا ہے ۔ اپنے پہلے مضمون میں جتنی دفعہ انہوں نے اس لفظ کو استعمال فر مایا وہ قرأت لکھا حالانکہ اس کا رسم ’قراء ت‘ ہے، (رشد ح ا، ص 450 )

قاری محمد صفدر صاحب سے زیادہ اور تفصیل سے یہی اعتراض حافظ محمد زبیر صاحب نے دہرایا ۔ انہوں نے محترم جاوید احمد غامدی صاحب کے بارے میں ارشاد فرمایا :
’’غامدی صاحب کی عربی دانی : غامدی صاحب قراء ات متواترہ پر تنقید کا شوق فر ما رہے ہیں اور کیفیت یہ ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب میزان میں ص 33-25 تک قرأ ت کے اختلاف‘ کے عنوا ن سے سے قر اء ات متواترہ پر بحث کی ہے اور ’ قرأت کا لفظ اپنی اس بحث میں تقریباً 34 دفعہ لے آئے ہیں اور ہر دفعہ انہوں نے اس لفظ کو ’قرأت ہی لکھا ہے ، گویا انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ لفظ قرأت نہیں بلکہ ’ قراء ت ہو تا ہے جس کی جمع ’ قراء ات ‘ ہے ۔( رشد ح ا، ص496)

ہم قاری صاحب اور حافظ صاحب کی بات مان لیتے ہیں ۔ لیکن کیا وہ اس کی وضاحت کریں گے کہ اصل لفظ اگر بڑی تاء سے قراء ت ہے تو چھوٹی تاء سے ’ قراء ۃ کیونکر درست ہو گا؟ اگر نہیں ہو گا (جس طرح کہ کلمہ التابوت اور ء التابوۃ دونوں طرح درست نہیں ہے) پھر رشد حصہ دوم میں مو لانا مبشر احمد ربانی صاحب نے (ص 54 )، قاری صہیب احمد میر محمدی صاحب نے (ص 75-60 )‘ قاری صہیب احمد صاحب نے (ص 394 تا 397 ) اور بڑے حافظ صاحب یعنی حافظ عبدالرحمن مدنی صاحب نے (ص 677 ) یہ لفظ چھوٹی تا سے ’ قرا ء ۃ‘ کیوں لکھا؟

شاید آپ منطق کی کسی شاخ کو کھینچ تان کر اسے بھی درست قرار دیں ، حالانکہ آپ کے نزدیک درست لفظ ایک ہی ہے ۔ دیانتداری کا تقاضا تو یہ تھا کہ مو لانا سید ابو الاعلی مو دودیؒ جو آپ لوگوں کے نزدیک منکر حدیث تھے ، کے مضمون کو نقل کر تے وقت یہ نشاندہی بھی کر دیتے کہ ان کی عربی دانی بھی ویسے ہی ہے کیونکہ مذکورہ مضمون (رسائل و مسائل حصہ سوم صفحہ 120 تا 133 ) میں بھی لفظ قرأت (جمع قرأتین) اسی شکل میں مو جود ہے ۔ اس کی تفصیل ہم بتا دیتے ہیں۔ یہ لفظ صفحہ 126 پر 5 دفعہ، 127 پر 3 دفعہ،128 پر 6 دفعہ،129 پر 7دفعہ، 130 پر 7 دفعہ، 131 پر 8 دفعہ، 132 پر 10 دفعہ اور صفحہ 133 پر 5 دفعہ، یعنی مجموعی طور پر 51 دفعہ آیا ہے جو بہر حال جاوید احمد غامدی صاحب سے 18 مر تبہ زیادہ استعمال ہوا ہے۔ لیکن شاید یہ ذکر کر نا آپ کے لئے مفید مطلب نہ تھا۔

آپ کی مزید اطلاع کے لئے عرض ہے کہ علمی اردو لغت (وارث سر ہندی ) میں تین جگہوں پر‘ شان الحق حقی صاحب کی آکسفورڈانگلش ڈکشنری میں لفظ Recitation کے تحت اور فیروز سنز کی اردو انگلش ڈکشنری میں یہ لفظ قرأت ہی لکھا ہے نہ کہ قراء ت ۔ان سب کو بھی جانے دیں لیکن اس کی کیا تو جہیہ ہو گی کہ آپ کے لئے مکمل سند رکھنے والے شیخ المشائخ امام القراء ابو محمد محی الاسلام عثمانی پانی پتی نور اللہ مر قدہ کی کتاب شرح قرا آت ص ا حصہ اول کے صفحہ 29 پر تین جگہوں پر لفظ قراء ت کو ’ قرائت ‘ لکھتے ہیں جو بالکل مختلف ہے ۔ اور باقی جگہوں پر چھوٹی تا ’ۃ‘ سے غالباً یہاں آپ کتابت کی غلطی قرار دے دیں۔چونکہ بقول عطا ء الحق قاسمی کج بحثی کا اپنا ہی مزہ ہے ۔ اگر ایسا ہوا تو ہم خاموش ہو جائیں گے۔ (کتاب کا ٹائیٹل ہی آپ لوگوں کے نزدیک غلط ہو گا ۔ کیونکہ آپ تو قرا ء ت جمع ’’قراء ات ‘‘ ہی کو درست مانتے ہیں۔قراآت کس طرح درست ہو سکتا ہے )
ہم آپ کے بیان کر دہ لفظ کو غلط نہیں قرار دیتے ، بلکہ عرض مدعا یہ ہے دوسرے اہل علم بھی جو لفظ استعمال کر تے رہے ہیں ، شاید یہ اتنا غلط بھی نہ ہو کہ دوسروں کی عربی زبان ہی مشکوک ہو کر رہ جائے۔

’’رشد‘‘ کے دونوں حصوں میں دو تین مضامین قابل قدر بھی ہیں۔ مثلاً حصہ اول میں ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب کا مضمون جو ایک مختلف اور اجتہادی شان رکھتا ہے اور مسلک اہل حدیث اور جملہ ائمہ کرام سے یکسر مختلف ہے۔ ان کا ارشاد ہے کہ: ’’ عام طور پر علماء و قراء حضرا ت ان سب حدیثوں کا ایک ہی مضمون مانتے ہیں اس لئے ان کو ایک دوسرے پر محمول کر تے ہیں ، لیکن اس صورت میں حروف سبعہ کی جو بھی تفسیر کی جائے وہ ایسی نہیں کہ اس پر کوئی اعتراض و اشکال باقی نہ رہتا ہو ‘‘ (رشد ح ا، ص 131 ) ہمارا خیال ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے مضمون کے شروع میں اسی لیے ادارتی نوٹ میں وضاحت کر دی گئی ہے کہ آخر میں اہل رشد کے نقطہ نظرکے مطابق ’’ راجح موقف‘‘ پیش کیا جائے گا،جو اس کی تردید کے لئے کافی ہو گا۔ دوسرا مضمون ’’ رشد‘‘ حصہ دوم میں قاری حبیب الرحمان صاحب کا ہے لیکن یہ کافی معقول ہے اس لئے ادارتی نوٹ میں فر مایا گیا ہے کہ ’’فاضل مضمون نگار نے ردعمل کی نفسیات کے تحت جرح کر ڈالی ہے ، حصہ سوم میں ان شا ء اللہ اس اچھے مضمون کی’’ خامیوں‘‘ کو بھی دور کر دیا جا ئے گا۔

تیسرا مضمون حصہ دوم میں ڈاکٹر عبدالعزیز القاری صاحب کا ہے ، انہوں نے ’’حدیث سبعہ احراف‘‘ کا مفہوم متعین کر نے کی کوشش کی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام ابن جریر طبری ؒ سے لے کر انور شاہ کشمیر یؒ تک سب ہی ناکام رہے ہیں ۔ پینتیس یاچالیس اقوال میں سے مشہور چھ اقوال نقل کر کے ایک ایک پر اپنی تنقید پیش کر تے ہیں ۔ امام ابن الجزری ؒ ، امام رازی اور ان قتیبہ ؒ پر زبر دست تنقید کر نے کے بعد فرماتے ہیں کہ :

’’اس تجزیہ سے ہمارا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ ہم ان انواع تغیر کا انکار کر نے پر مصرہیں ، بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ ان اصحاب علم سے ہر ایک کی عبارت دوسرے سے بے حد درجہ مختلف اور متغایر ہے۔ حالانکہ یہ سب علماء بڑی بحث و تمحیص ‘ قرآن کے متعدد بار مطالعہ اور حد درجہ محنت و مشقت کے بعد اس مقام پر پہنچے ہیں کہ ان انواع اختلاف کو اخذ کر سکیں اور بعد میں ان کا تعین کر سکیں۔ باوجود اس کے اس مسئلہ پر تینوں کے رائے مختلف ہے ، (رشدح ، ص 228 ) اگر چہ ڈاکٹر صاحب نے بھی مقدور بھر کوشش کی کہ اس چیستاں کا کوئی با معنی مفہوم متعین کر سکیں لیکن ان کی یہ رائے حقیقت پر مبنی ہے کہ :

’’ آپ ملاحظہ کر چکے ہیں اس (حدیث سبعہ احرف)کے جملہ طرق اور سندو متن میں الفاظ و صحت کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی ہے لیکن اس سب کچھ کے باو جود ہمیں ان تمام سے کوئی بھی ایسی صریح عبارت دستیاب نہیں ہو سکی جو سبعہ احرف کے مراد اور مفہوم کو متعین کرے۔ چنانچہ سبعہ احرف کا مفہوم اور مراد کیا ہے یہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا‘‘ (رشد ،ح ۲،ص 230 ) تقریباً یہی کچھ انہوں نے پہلی قسط (رشد ح ا، ص 123 ) میں بھی کہہ دیا تھا جس کا حوالہ اوپر کہیں گزر چکاہے۔ جب صورت حال یہ ہو تو دوسرے نقطہ نظروالے حضرات کو ڈرا دھمکا کر یا منکر حدیث ہونے کی پھبتی کس کر کون کسی کو قائل کر سکتا ہے۔
دیگر اہم مسائل میں بھی اسی طرح ’’رشد‘‘ نے ہمیں رہنمائی سے مستفید فرمایا ہے کہ قراء ات منزل من اللہ ہیں اور نہیں بھی ۔ سبعہ قراء ات متواترہ ہے بھی اور نہیں بھی ۔ مصحف عثمانی میں ساتوں حروف اب بھی ہیں اور ایک ہی حرف باقی رہ گیا ہے ، ساتوں نہیں ۔ غرض یہ کہ ’’رشد‘‘ کی رہنمائی میں ہر وہ اہتمام کیا گیا ہے جس سے ذہن چکرا کے رہ جائے ۔ رشد کے دونوں حصوں نے کسی بھی مسئلے پر یکسو کرنے کے بجائے ذہنوں کو مزید انتشار میں میں مبتلا کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے ۔ اُمید واثق ہے کہ تیسرا حصہ اسی سلسلے کی کڑی ہوگا۔ اس سے زیادہ انتشار تو اس وقت سامنے آئے گا جب ’’ اہل رشد ‘‘ کا نیا غیر متداولہ قرآن سامنے آئے گا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اس انتشار سے بچائے ۔ آمین

محمد انور عباسی
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"

Last edited by rana ammar mazhar; 09-11-11 at 02:52 PM..

rana ammar mazhar
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 3585
5 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (12-11-11), فاروق سرورخان (13-11-11), مرزا عامر (16-11-11), ابن جمال (13-11-11), حیدر Rehan (10-11-11)
پرانا 09-11-11, 10:56 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

محترم،
آپ نے جتنے بھی اعتراضات و سوالات اٹھائے ہیں، ماہنامہ رشد کی تین اشاعتوں میں پہلے ہی سے اس کے جوابات موجود ہیں۔ اور منکرین سبعہ احرف پر جو جو اعتراضات رشد میں کئے گئے ہیں، آپ نے نہیں ٹچ نہیں کیا۔ خیر،
ماہنامہ رشد والوں ہی کی ایک سائٹ ہے:
kitabosunnat.com
اور اس سائٹ کا ایک فورم، محدث فورم کے نام سے معلوم و معروف ہے۔ ملاحظہ کیجئے یہاں:
محدث فورم

ممکن ہو تو یہی اعتراضات وہاں پیش کریں تاکہ آپ کے اعتراضات میں اگر کچھ جدت ہے تو وہاں علمائے کرام اس ڈھول کا پول کھول سکیں۔
شکاری آن لائن ہے  
6 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (09-11-11), فیصل ناصر (09-11-11), کنعان (10-11-11), ابن آدم (13-11-11), احمد نذیر (11-11-11), طارق راحیل (12-11-11)
پرانا 09-11-11, 11:20 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default آپ ان کو وہاں اطلاع کر دیں تاکہ وہ یہاں جواب دے سکیں !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
محترم،
آپ نے جتنے بھی اعتراضات و سوالات اٹھائے ہیں، ماہنامہ رشد کی تین اشاعتوں میں پہلے ہی سے اس کے جوابات موجود ہیں۔ اور منکرین سبعہ احرف پر جو جو اعتراضات رشد میں کئے گئے ہیں، آپ نے نہیں ٹچ نہیں کیا۔ خیر،
ماہنامہ رشد والوں ہی کی ایک سائٹ ہے:
kitabosunnat.com
اور اس سائٹ کا ایک فورم، محدث فورم کے نام سے معلوم و معروف ہے۔ ملاحظہ کیجئے یہاں:
محدث فورم

ممکن ہو تو یہی اعتراضات وہاں پیش کریں تاکہ آپ کے اعتراضات میں اگر کچھ جدت ہے تو وہاں علمائے کرام اس ڈھول کا پول کھول سکیں۔
یہاں جواب نہیں دے سکتے وہاں اپنی مرضی چلاتے ہیں !!!

ان کا ممکنہ جواب : بھإئی جی ، یہ ہمارا بنایا ہوا اور شروع کردہ فورم ہے ، اور تمام تر نا پسندیدہ مراسلات حذف کرسکتے ہیں ۔

آپ ان کو وہاں اطلاع کر دیں تاکہ وہ یہاں جواب دے سکیں !!!
rana ammar mazhar آن لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (12-11-11), حیدر Rehan (10-11-11)
پرانا 09-11-11, 11:38 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
’’رشد‘‘ میں مولانا امین اصلاحیؒ ، محترم جاوید احمد غامدی صاحب اور طلوع اسلام کے خلاف ایک مضمون میں ’’عالمانہ‘‘ انداز تحریر دیکھنے کو ملا۔حافظ محمد زبیر صاحب اور محمد رفیق چودھری صاحب کے انداز تحریر کا ہمیں کچھ کچھ اندازہ تھا ۔ ہمیں افسوس ہے کہ اس سے قبل قاری محمد صفدر صاحب سے ہم کبھی مستفید نہ ہو سکے تھے ۔ اسے ہم اپنی بد قسمتی اور کم علمی پر ہی محمول کریں گے۔
مضمون میں‌یہاں جن حافظ‌زبیر صاحب کا تذکرہ ہے، یہی صاحب محدث فورم پر موجود ہیں۔ اور اپنی مصروفیات کی بنا پر دیگر فورمز کے لئے وقت نہیں‌نکال پاتے۔ و نیز محدث کی پالیسی کے تحت جب تک آپ اخلاقی گراوٹ کا شکار نہ ہوں، آپ کا مراسلہ ڈیلیٹ‌ نہیں کیا جاتا۔ اندازے قائم نہ کریں، حسن ظن رکھیں۔
شکاری آن لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (09-11-11), skjatala (12-11-11)
پرانا 09-11-11, 11:39 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ان میں سے کوئی چار پانچ آیات مسلسل سات حروف پر بتا دیں تاکہ ہم کوئی ٹھوس نتیجہ نکال سکیں ۔

اب اس قرآن مجید میں چھ ساڑھے چھ ہزار کے لگ بھگ آیات موجود ہیں ۔ ان میں سے کوئی چار پانچ آیات مسلسل سات حروف پر بتا دیں تاکہ ہم کوئی ٹھوس نتیجہ نکال سکیں ۔

ایں چُنیں ارکانِ دین ۔۔۔

ماہنامہ رشد کے مارچ 2010 ؁ء کے شمارے (قرا ء ا ت نمبر 3 ) میں اس عاجز کی ایک تحریر پر حافظ محمد زبیر صاحب اور عمران اسلم صاحب نے مشترکہ ردِ عمل کا اظہار فرمایا ہے ۔

جس کے لیے ان کا شکریہ ہی ادا کیا جا سکتاہے ۔ تاہم ہمارے اظہار خیال کو حافظ صاحب نے تمسخر ، تحقیر اور استہزا پر محمول فرمایا ہے جبکہ عمران اسلم صاحب کا خیال ہے کہ ہم ’’کافی غصے میں دکھائی دیتے ہیں ‘‘ ہمارا اب بھی یہی خیال ہے ہم نے صرف اہلِ رشد کی خدمت میں ان ہی کا چہرہ پیش کیا تھا ۔

محترم حافظ صاحب کا ارشاد ہے کہ یہ کامیڈی ڈرامہ یا تھیٹر شو کا معاملہ ہو تا تو ہمارے تحقیر و تمسخر پر مبنی تبصرے کا جواب کسی اخباری کالم میں دے کر پطرس بخاری اور ابنِ انشا کی یاد تازہ کر دیتے (ص:۶۲۷) ۔ اس سے ہمیں اندازہ ہوا کہ موصوف ان مشہور ادیبوں کو کیا سمجھتے ہیں ۔ ہمیں معلوم نہیں کہ حافظ صاحب نے پطرس اور ابنِ انشا کا صرف نام ہی سنا ہے یا ان کو پڑھا بھی ہے ۔ اگر پڑھا ہے تو ان کی صنفِ تحریر کو تحقیر و تمسخر پر مبنی قرار دینا وقعی ایک عجوبہ ہے ۔ مزاح نگاری کو تحقیر و تمسخر سمجھنا علم کا ادھورا اور کچا استعمال ہے ۔ ہمارے درمیان علم و ادب کے درخشاں ستارے جناب مشتاق احمد یوسفی اور عطاء الحق قاسمی صاحب زندہ موجود ہیں ۔ حافظ صاحب محترم ان سے مزاح نگاری اور تحقیر و تمسخر میں فرق بھی معلوم کر سکتے تھے اور بطرس بخاری مرحوم اور ابن انشاء مرحوم کا علمی و ادبی مرتبہ بھی ۔ لیکن ادھورے علم کی وجہ سے ان میں تمیز نہ کر سکنے سے حافظ صاحب بھی کسی علمی حادثے سے دوچار ہو سکتے ہیں جس طرح مولانا روم ؒ کی بیان کردہ حکایت میں ایک خاتون جو ایک کنیز اور گدھے کی مالکن تھی کنیز کی نقالی کرتے ہوئے ادھورے علم پر عمل کر بیٹھی تھی اور اپنے منطقی انجام کو پہنچی تھی ۔ ہمارے عہد کے ’’ شرعی علوم ‘‘ کے ماہرین خصوصاً جب وہ سن رشد کو نہ پہنچے ہوں ، بھلے ان کی تحریر یں’ رشد‘ کی صفحات کی زینت بنتی ہوں ، بالعموم فارسی ادب سے شغف نہیں رکھتے ۔ صرف امراء القیس کے اشعار سے ہی زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں اور جلوت و خلوت ان کو گنگناتے اور ذہنی تلذد حاصل کرتے ہیں ۔ اس لیے عرض ہے کہ حافظ صاحب کسی فارسی دان’مولوی‘ سے پوری حکایت سن لیں ، اس میں انہی کا بھلا ہے ۔ برسبیل تذکرہ انہوں نے ہمیں ’مولوی ‘ سے ڈرایا بھی ہے کہ وہ تمسخر کا بہترین جواب دینے کے اہل ہوتے ہیں ۔ بھئی ہمیں اس بات کا علم ہے اور یقین بھی لیکن وہ ہمیں بھی اپنی برادری کا ہی فرد سمجھیں ۔ دیکھیں نا مولانا روم ؒ کی حکایت کا حوالہ کوئی مولوی ہی دے سکتا ہے ۔ مسٹر تو شاید مولانا روم کو بھی بحیرۂ روم کی طرح کا کوئی دریا یا سمندر سمجھ بیٹھے ۔

اب اص موضوع کی طرف آتے ہیں ۔ ہمارے مضمون کے جواب میں حافظ صاحب نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے صرف ’ یبڑیاں ‘ ماری ہیں ۔ ( رشد ص ۶۲۸) البتہ وہ تحقیق پیش کرتے ہیں کہ:

’’ قرآن کی قراء ا ت کا اختلاف تفسیر و بیان کا ہے اور قراء ات کے جمیع اختلافات روایات حفص میں بھی موجود ہیں ۔ہم جناب سلیم شاہ صاحب یہی سوال کرتے ہیں کہ جادوگروں نے حضرت موسی ؑ کو (قالو یا موسی اما ان تلقی و اما ان نکون اول من القیٰ) (طہ: ۲۵ ) کہا تھا یا ( قالو یموسی اما ان تلقی و اما ان نکون نحن الملقین ) (الاعراف: ۱۱۵) سلیم شاہ صاحب کے قرآن میں یہ دونوں آیات موجود ہیں ۔ کیا معاذ اللہ ! اللہ کو یاد نہ رہا کہ جادوگروں نے کیا کہا تھا یا محمد ﷺ بھول گئے کہ جبرائیل ؑ نے ان تک کیا پہنچایا تھا ۔ اسی طرح یہود نے کیاکہا تھا ؟ (وقالوا لن تمسنا النار الا ایاما معدودۃ) ( بقرۃ:۸۰) (قالوا لن تمسنا النار الا ایاماً معدودات ) ( آل عمران:۲۴) اسی طرح جب حضرت موسیؑ نے پتھرپر اپنا عصا مارا تھا تو ’ فانفجرت ‘ ہوا تھا یا ’فانبجست‘ اور یہ دونوں الفاظ آپ کے قرآن میں موجود ہیں ۔ دیکھیں آیات ( فقلنا اضرب بعصاک الحجر فانفجرت منہ اثنتا عشرۃ عیناً قد علم کل اناس مشروبھم ) ( بقرہ: ۶۰) اور ( ان اضرب بعصاک الحجر فانبجست منہ اثنتا عشرۃ عیناً قد علم کل اناس مشروبھم ) (لاعراف:۱۶۰) اسی طرح حضرت لوط ؑ نے اپنی قوم کے کہا تھا : ( ولوطا اذ قال لقومہ اتاتون الفحشۃ ما سبقکم بھا من احد من العلمین ) ( الاعراف: ۸۰) ( ولوطا اذ قال لقومہ انکم لتاتون الفحشۃما سبقکم بھا من احد من العالمین ) ( العنکبوت : ۲۸) اسی طرح حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی دعاؤں میں کہا تھا : ( واذقال ابراھیم رب اجعل ھذا بکدا ء امناً ) (بقرۃ : ۱۲۶ ) ( واذقال ابراھیم رب اجعل ھذالبلدا ء امناً ) ( ابرہیم : ۳۵) دونوں آیات میں ’ھذا بلدا ‘ ’ھذا البلد‘ کا فرق واضح ہے ۔ اس قسم کے سینکڑوں اختلافات شاہ صاحب کے قرآن میں بھی موجود ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کہ سلیم شاہ صاحب قرآن میں قراء ات کے اس اختلاف کے باوجود بھی اسے اللہ کی کتاب قرار دیتے ہیں ۔ کیوں ؟ ( ص ۶۲۹۔۶۲۸) ‘‘

ہمار ی تردید کی کوششوں میں وہ اپنی ذات کو درست ثابت کرنے کے لیے یہاں تک کہہ گئے کہ ’’ ہو سکتا ہے کہ سلیم شاہ صاحب منطق کی کسی شاخ کا سہارا لے کر قرآن کے ان مقامات کی کوئی تاویل پیش کر دیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لفظی طور پر باہم متعارض و مخالف ہیں ‘‘ (ص ۶۲۹)

اس طویل اقتباس سے معلوم ہوا کہ درج ذیل آیات میں قراء ات کے اختلاف ہیں :

۱) اول من القیٰ ( طہ۔۶۵) اور نحن الملقین ( الاعراف : ۱۱۵)
۲) ایاماً معدودۃ ( البقرۃ : ۸۰) اور ایام معدودات ( آل عمران: ۲۴)
۳) فانفجرت ( بقرہ : ۶۰) اور فانبجست ( الاعراف ۱۶۰)
۴) اتاتون ( الاعراف : ۸۰) اور لتاتون ( العنکبوت : ۲۸)
۵) ھذا بلداً ( بقرہ : ۱۲۶ اور ھذا البلد ( ابراھیم: ۳۵)

اور یہ اختلاف قرا ء ات شاہ صاحب کے قرآن میں بھی موجود ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لفظی طور پر ہم باہم متعارض و مخالف ہیں ‘‘

بہت بہت شکریہ جناب ہمیں اب پتہ چلا کہ یہ قرآن اللہ کا نہیں بلکہ شاہ صاحب کا قرآن ہے ۔ اور اس میں بہت سی آیات باہم متعارض و مخالف ہیں ۔ بس ’ مولوی‘ کی یہی ادا تو ہمیں مار گئی جس کا جواب دینا پڑ رہا ہے ورنہ یہ مثالیں دیکھتے ہوئے ہمیں تو صرف سورہ الفرقان کی آیت ۶۳ کی تلاوت کر دینا چاہیے تھی ۔ ’’ رشد ‘‘ کی ان تینوں جلدوں میں اور اختلاف قراء ات کی دیگر کتب میں آج تک کسی صاحب علم نے اختلاف قراء ات کی یہ مثالیں نہیں دیں ۔ اس کی گواہی رشد ہی کی تینوں جلدیں دے رہی ہیں ۔ ہم اسی تیسری جلد میں حافظ محمد مصطفی راسخ کے مضمون سے اس کی وجہ نقل کرتے ہیں :

’’ مشہور اہلِ علم کے نزدیک رسمِ عثمانی توقیفی ہے اور کتابت مصاحف میں اس کا التزام کرنا فرض و و اجب ہے اور اس کے خلاف لکھنا حرام ہے ۔ رسم عثمانی کے منجملہ فوائد اور اعجازات میں سے ایک اعجاز یہ بھی ہے کہ اس تمام قراء ات صحیحہ متواترہ نکل آتی ہیں ۔ اگر قرآن مجید کو رسم عثمانی کی بجائے رسم قیاسی کے مطابق لکھا جائے تو رسم عثمانی سے نکلنے والی تمام قراء ات صحیحہ متواترہ رسم قیاسی سے نہیں نکل سکیں گی اور متعدد قراء ات صحیحہ متواترہ ساکن ہو جائیں گی ۔ کیونکہ کسی بھی قراء ات کے صحیح ثابت ہونے کے لیے منجملہ شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ قراء ات مصاحف عثمانیہ کے رسم کے موافق ہو ۔ رسم عثمانی اپنی توقیفیت کی بنا پر متعدد اسرار و رموز اور حکمتوں کو اپنے اند سموئے ہوئے ہے۔

رسم عثمانی کے اعجازات میں سے ایک اعجاز یہ بھی ہے کہ ایک ہی رسم سے تمام قراء ات صحیحہ متواترہ پڑھی جاتی ہیں ۔ مثلاً ےَخْدَعُوْنَ ، ےُخٰدِعُوْنَ ، فَازَلَّھُمَا ، فَاَزٰلَھُمَا اَسْرٰی ، اُسٰرٰی ( ص ۸۵۳ ، ۸۵۲)اور اسی طرح کی بہت سی مثالیں دینے کے بعد لکھتے ہیں کہ ’’ مذکورہ مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ رسم عثمانی کا ایک اعجاز یہ بھی ہے کہ ایک ہی رسم سے تمام قراء ات صحیحہ متواترہ پڑھی جا رہی ہیں اور کوئی قراء ات صحیحہ ساقط نہیں ہوتی تھیں رسم عثمانی کے اعجاز من حیث القرا ء ات کی چند مثالیں ۔ ورنہ پورے قرآن مجید کا رسم ، رسم عثمانی پر مشتمل ہے ‘‘ (ص ۸۵۶ )

ان تمام مثالوں میں آپ دیکھیں گے رسم الخط ایک ہی ہے ، بس اعراب کا ادھر ادھر فرق ہے ۔ آئمہ قراء ات کے نزدیک رسم الخط عثمانی لازماً ہو گا مگر ہماری تردید کے شوق میں ’مولوی‘ حافظ زبیر صاحب نے ایک ہی رسم الخط نہیں بلکہ جدا جدا الفاظ لکھ کر دعوی کر دیا کہ ’’ قرا ء ات کے جمیع اختلافات روایت حفص میں موجود ہیں ( ص 628-629)

اس رویے پر ہم حیران ہیں کہ کیا کہیں سوائے اس کے کہ اپنی طرف سے کوئی تبصرہ کرنے کے بجائے مولوی زبیر صاحب کا ہی جملہ مستعار لیں کہ ’’ ہمارے نزدیک دنیا کا مشکل ترین کام کسی ایسے جاہل کو سمجھانا ہے جسے علم و تحقیق کا شوق چڑھ گیا ہو ‘‘ ( رشد ، ص ۶۳۲)
حقیت یہ ہے کہ حافظ صاحب کی دی گئی مثالیں اختلاف قراء ات کی سرے سے ہیں ہی نہیں بلکہ مفسرین کے نزدیک تصریفِ آیات کے ذیل میں آتی ہیں یا ایک ہی مفہوم مختلف اسالیب میں بیان کیا گیا ہے ۔

ان اللہ غفور الرحیم اور واللہ غفور الرحیم یا اِنَّہ‘ غَفُوْر’‘ شَکُوْر’‘ اور اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْر’‘ شَکُوْر اور اسی طرح متعدد آیات میں ایک ہی مفہوم بیان کیا گیا ہے ۔ ان میں اختلاف ہے نہ تضاد ہے نہ یہ اختلاف قراء ات کا مسئلہ ہے ۔ اس کے بعد حافظ صاحب نے خالص مولویانہ ہتھکنڈا استعمال کیا ہے اور بڑی مہارت سے کیا ہے ۔ اس طرح کے عملی نمونے ہم آئے دن دیکھتے رہتے ہیں ۔ ارشاد فرماتے ہیں ’’ ہم سلیم شاہ صاحب کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کی تحقیقات کے کچھ نمونے قارئین کے سامنے پیش کرنا چاہیں گے‘‘ ۔ لیکن جو نمونے انہوں نے اپنے قارئین کے سامنے پیش کئے ہیں ۔ وہ ہماری تحریر میں اس طرح درج نہیں لیکن جن لوگوں نے اصل تحریر نہ دیکھی ہو وہ تو لاماً غلط فہمی بلکہ ہماری ’’جہالت ‘‘ پر ایمان لے آئیں گے ۔ انہوں نے رشد کے صفحہ ۶۳۲پر ہماری تحریر اس جملے سے شروع کی ہے ۔ ’’ ہم قاری (صفدر ) صاحب اور حافظ (زبیر ) صاحب کی بات مان لیتے ہیں ‘‘ اور ’’ قراء ات کس طرح درست ہو سکتاہے ‘‘ پر ختم کی ہے ۔ بظاہر یہ پوری تحریر مسلسل نظر آتی ہے مگر ہم نے اس طرح لکھی نہیں ۔حافظ صاحب نے ہماری تحریر میں سے 6سطریں لکھ کر 5 سطریں غائب کر کے نئے جملے ’’ آپ کی مزید اطلاع کے لیے عرض ہے ‘‘ سے جوڑ دیتے ہیں اور پوری تحریر لکھ کر یہ تاثر دینا چاہتے کہ سلیم شاہ صاحب دراصل لفظ قرأت کو درست ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں چنانچہ انہوں نے ہماری ادھوری تحریر سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہوئے یوں تبصرہ فرمایا : ’’ طرفہ تماشا یہ ہے کہ جناب سلیم شاہ صاحب نے لفظ ’قرأت ‘ کو درست ثابت کرنے کے لیے اردو اور انگلش ڈکشنریوں کے حوالے دینا شروع کر دےئے۔ سلیم شاہ صاحب جیسے محقق اگر فارسی پشتو کی کسی ڈکشنری کا بھی حوالہ دے دیتے توہمیں حیرت نہ ہوتی ( ص ۶۳۳)

اگر یہ صرف حافظ صاحب کے فہم کا قصور ہوتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ سخن فہمی عالم بالا معلوم شد، مگر یہ جان بوجھ کر تحریر میں تحریف کر کے غلط نتیجہ نکالنے کی کوشش ہے ۔
چیلنج : کرنا کوئی علمی وطیرہ نہیں اور آج سے قبل ہمارا یہ رویہ تھا بھی نہیں مگر اس کا کیا کیجئے کہ واسطہ آن پڑا ہے ایک ’مولوی ‘ کے ساتھ جو بدقسمتی سے ’غیر مقلد‘ بھی ہے اور یوں کسی اصول کا پابند بھی نہیں ۔ درج ذیل نکات کے جوابات ’’ رشد‘‘ میں نہیں آ سکے اس لیے ہم چیلنج کرتے ہیں کہ درج ذیل نکات کا جواب پیش کریں ۔

۱۔ ہم نے محترم غامدی صاحب پر اہلِ رشد کا اعتراض نقل کیا تھا ۔ یہ اعتراض اور عنوان خود اہلِ رشد کا ہی قائم کردہ تھا جو یوں تھا :

’’ غامدی صاحب کی عربی دانی : غامدی صاحب قراء ات متواترہ پر تنقید کا شوق فرما رہے ہیں اور کیفیت یہ ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب میزان میں ص ۲۵۔ ۳۳ تک ’قرأ ت ‘ کا لفظ اپنی بحث میں تقریباً 34 دفعہ لے آئے اور ہر دفعہ انہوں نے اس لفظ کو ’ قرأت ‘‘ ہی لکھا ، گویا انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ لفظ قرأت نہیں بلکہ ’ قراء ت‘ ہوتا ہے جس کی جمع ’قرا ء ات ہے‘‘ ۔ ( رشد ح ا ، ص ۴۹۶)

ہماری تحریر اس اقتباس سے شروع ہو تی ہے اور جو 5 سطریں حافظ صاحب نے جان بوجھ کر نکال دیں وہ ہم دوبارہ درج کئے دیتے ہیں تاکہ پورا مفہوم سامنے آ سکے ۔ حذف شدہ سطریں یہ تھیں : ’’ دیانتداری کا تقاضا تو یہ تھا کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ جو آپ لوگوں کے نزدیک منکرِ حدیث تھے ، کے مضمون کو نقل کرتے وقت یہ نشاندہی بھی کر دیتے کہ انکی عربی دانی بھی ویسے ہی ہے ( جس طرح غامدی صاحب کی ہے ) کیونکہ مذکورہ مضمون ( رسائل و مسائل حصہ سوم صفحہ 120 تا 133) میں بھی لفظ قرأ ت ( جمع قرآتین) اسی شکل میں موجود ہے ۔ اس کی تفصیل ہم بتا دیتے ہیں ۔ یہ لفظ صفحہ 126 پر 5 دفعہ ، 127 پر 3 دفعہ ، 128 پر 6 دفعہ ، 129 پر 7 دفعہ ، 130 پر 7 دفعہ ، 131 پر 8 دفعہ ، 132 پر 10 دفعہ اور صفحہ 133 پر 5 دفعہ یعنی مجموعی طور پر 51 دفعہ آیا ہے جو بہر حال جاویداحمد غامدی صاحب سے 17 مرتبہ زیادہ استعمال ہوا ہے ۔ لیکن شاید یہ ذکر کر نا آپ کے لیے مفید مطلب نہ تھا ۔ ‘‘

یہ ساری سطریں غائب کر کے انہوں نے یہ ثابت کیا کہ ہم بھی دراصل یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اصل لفظ قرأت ہی ہے ، حالانکہ اسی سے متصل اگلے جملے میں ہم نے یہ جملہ بھی تحریر کیا تھا جسے حافظ صاحب نے کسی مقصد جلیلہ کے حصول کے لیے پھر حذف کر دیا ۔ کہ ’’ ہم آپ کے بیان کردہ لفظ کو غلط نہیں قرار دے رہے بلکہ عرض مدعا یہ ہے کہ دوسرے اہل علم بھی جو لفظ استعمال کرتے رہے ہیں ، شاید یہ لفظ اتنا غلط بھی نہ ہو جو کہ دوسروں کی عربی زبان ہی مشکوک ہو کر رہ جائے ‘‘ ۔

اس کا مطلب آپ یہ سمجھے یا زبردستی یہ مفہوم کشید کیا ہے کہ ہمارے نزدیک درست لفظ قرأت ہے نہ کہ ’’قراء ت ‘‘ ۔ آپ لفظ غلط نہیں کہہ رہے مگر یہ کون سی منطق ہے کہ غامدی صاحب نے صرف ۳۴ دفعہ یہ لفظ استعمال کیا اور وہ عربی میں جاہل ٹھہریں اور مولانا مودودی ؒ نے 51 دفعہ یہی لفظ استعمال کر کے آپ کے نزدیک اتنے مستند کس طرح بن گئے ؟ عربی زبان میں جاہل ہیں تو دونوں ، سہواً غلط لکھ گئے ہیں تو کسی کی عربی دانی مشکوک نہیں ہو سکتی ۔ اس کا جواب بہر حال ان کے ذمے ہے۔

۲) ہم نے اپنی تحریر میں کئی اور نکات اٹھائے تھے جن کے جوابات حافظ صاحب اور عمران اسلم صاحب نہیں دیتے ۔ وہ درج ذیل ہیں :

۱) ہم نے اپنے مضمون میں اداریہ نویس کی اختلافِ قراء ات کی بے شمار ’’حکمتیں گنوائی تھیں یعنی کہ سورۃ النساء ۔ ۱۲ آیت میں ’’اخ‘‘ اور ’’اخت ‘‘ میں ابہام ہے جو دوسری قراء ات میں ’’ولہ اخ او اخت من ام ‘‘ کہہ کر دور کر دیا گیا ہے ۔ اسی طرح کا ابہام سورۃ المائدہ میں بیان کیا گیا ہے کہ اس میں ’’او تحریر رقبہ‘‘ کے الفاظ آئے ہیں لیکن ’’ رقبہ‘‘ کی وضاحت موجود نہیں کہ غلام میں کوئی تمیز ہے کہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم یا کسی بھی غلام کو آزاد کیا جا سکتاہے ؟ تو قراء ات کا اختلاف ہمیں بتایا ہے کہ اس ضمن میں غلام کا مسلمان ہونا ضروری ہے ۔ بنا بریں ہم کہتے ہیں کہ کسی بھی مسئلے کی تفسیر میں ایک قراء ات سے معنی اس طرح واضح نہیں ہوتے ( رشد ج ۱ ، ص ۳)

ہمارا سوال اب بھی باقی ہے کہ اگر کسی بھی مسئلے کی تفسیر میں ایک قراء ات کافی نہیں تو دو باتیں سمجھا دیں ۔ اولاً کہ ہر مسئلے میں ( بغیر کسی استثنا کے) اختلاف قراء ات کیوں نہیں تاکہ ہم غیر مبہم مفہوم اخذ کر سکیں ؟ ثانیاً اللہ میاں نے مبہم قراء ات نازل ہی کیوں فرمائیں ؟ ان کے بجائے غیر مبہم والی قراء ات ہی کیوں نہ نازل فرما دیں ؟

۲) ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی صاحب نے نبی اکرم ﷺ نے اپنی زندگی میں مکمل قرآن جو لکھوایا تھا اس کی ایک وجہ یہ بیان کی ہے کہ ’’ مابعد ادوار میں قرآن یا اس کے لفظوں کے حوالے سے کوئی اختلاف پیدا ہو جائے تو کوئی ایسا معیار موجود ہو جو اختلافات کی صورت میں بطور معیار موجود ہو ‘‘ (رشد ح ۲، ص ۸۳۳) لیکن اگلے ہی صفحے پر حضرت عثمان کے جمع کر دہ قرآن کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ حضرت عثمان کے زمانے میں کسی مصدقہ مصحف کی عدم موجودگی کی وجہ سے تغیری کلمات کا اختلاف بھی زوروں پر تھا ۔ ‘‘ ( رشد ح ۲، ص ۳۳۴)
ہمارا سوال اس وقت بھی تھا اور اب بھی ہے کہ وہ قرآن جو اختلافات کی صورت میں بطور معیار کام آنے والا تھا اور جسے خود نبی ﷺ نے لکھوایا تھا وہ حضرت عثمانؓ کے عہد تک پہنچتے پہنچتے غیر مصدقہ ہو گیا تھا یا عدم موجود ؟ اس کا سیدھا اور دوٹوک جواب دینے کے بجائے عمران اسلم صاحب نے اسے بھی ہمارا قصور گردانا ۔ چنانچہ فرماتے ہیں : سید صاحب نے یہاں دو جملوں ’’ ایسا معیار موجود ہے جو اختلاف کی صورت میں کسی مصدقہ مصحف کی عدم موجودگی ‘‘ کو نشانے پر رکھتے ہوئے اس میں کجی کی صورت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ۔ قارئین کرام اگر جمع قرآنی کے سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ اور مابعد ادوار کی تمام کیفیات پیش نظر رہیں تو اس قسم کے خیالات کا ابطال کرنے میں دیر نہیں لگے گی ‘‘ ۔ (رشد ح ۳ ، ص ۶۵۴)

ہم نے اپنے مضمون میں صاف طور پر لکھ دیا تھا کہ چنداں پریشانی کی ضرورت اس لیے نہیں کہ غلط اور خلاف حقیقت موقف پر ہٹ دھرمی اور اصرار سے ایسی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے ۔ غالباً اسی لیے اس کا کوئی دو ٹوک جواب دینا مناسب نہیں سمجھا گیا ۔

۳) ہم نے یہ بھی لکھا تھا کہ حافظ زبیر صاحب نے محمد ابراہیم میر محمد ی کے مضمون کا ترجمہ کیا ہے جس میں لکھاگیا کہ ’’ گولڈ زہیر اور نولڈ کے اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن اور قراء ات الگ الگ ہیں ‘‘ نیز یہ کہ اسی قسم کا قول متجدیددین میں سے ایک ایسے شخص کا بھی ہے جو اپنے آپ کو فکرِ اصلاحی کا نمائندہ تصور کرتا ہے ۔ پس فکر اصلاحی کے نمائندے کا یہ دعویٰ ہے کہ قرآن اور قراء ات دو علیحدہ علیحدہ چیزیں ہیں ایک ایسا دعویٰ ہے جس کی دلیل ان کے پاس موجود نہیں۔ ( رشدح ا ، ص ۴۳۳، ۴۳۴)

اسی مسئلے میں حافظ حمزہ مدنی صاحب اسی جلد ( ص 24 میں فرماتے ہیں کہ ’’ قرآن ‘‘ اور قراء ات میں فرق ہے ۔ قرآن کہتے ہیں ان الفاظ کو جو منزل من اللہ ہے اور قراء ات اسی قرآن کی خبر کو کہتے ہیں ۔ ان کی تائید میں ’’ رشد ‘‘ ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب کو بھی لے آتاہے جن کا ارشاد ہے ۔ ’’قرآن اور چیز ہے اور قرا ء ا ت اور چیز ہے ۔ قرآن تو اس چیز کا نام ہے جو مصاحف کے اندار ثبت ہے اور رسول ﷺ پر نازل کیا گیا اور تواتر سے نقل ہوتا چلا آیا ہے ۔ جبکہ قراء ات زبان سے اس کی ادائیگی کا نام ہے ۔ قرآن ایک ہے اور قراء ات متعدد ہیں ‘‘ (رشد ح ا ، ص ۱۳۹)

ہمارا سوال اب بھی برقرار ہے جس کا جواب ہمارے ناقدین نے نہیں دیا کہ قرآن اور قرا ء ات کو اگر جاوید غامدی صاحب علیحدہ علیحدہ چیزیں قرار دیں تو یہ دعویٰ بلا دلیل ٹھہرے اوروہ متجدد کہلائیں ۔ لیکن یہی دعویٰ حافظ حمزہ مدنی صاحب اور ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب کریں تو ہم انہیں کن الفاظ سے یاد کریں ، حافظ زبیر اور عمران اسلم صاحب یہ الجھن حل کر دیں مہربانی ہوگی ۔ تاہم ان کی خاموشی ہماری سمجھ میں آتی ہے ۔

۴۔ عمران اسلم صاحب نے بہت سے ورق سیاہ کر دےئے ، کافی محنت کی کہ ’’ رشد‘‘ کے تضادات کو دور ہو سکیں لیکن وائے افسوس! ذرا ملاحظہ فرمائیں :

ہمارا پہلا عنوان یہ تھا کہ سبعہ احرف نے سہولت کس کے لیے فراہم کی گئی ہے ؟

صرف اہلِ عرب کے لیے یا پوری امت کے لیے ؟ یہ تضاد عمران اسلم صاحب نے یوں دور کرنے کی کوشش کی ہے ’’ طوالت سے بچتے ہوئے ہم ان تمام عبارتوں کو نقل کرنے کے بجائے صرف اس قدر وضاحت کرتے چلیں کہ سبعہ احرف پر نزول قرآن کی حکمت پوری امت کے لیے آسانی اور سہولت کے طور پر تھی لیکن اس کی وجہ وہ مشقت بنی جو اہلِ عرب کو بعض الفاظ بولنے میں درپیش تھے ۔ اب اصلاً مشقت تو اہلِ عرب کی دور ہوئی لیکن سہولت قیامت تک کے تمام لو گوں کو فراہم ہو گئی ( رشد ح ۳، ص ۶۴۶) ماشاء اللہ چشم بددور مگر تضاد کس طرح دور ہو گیا !

عمران اسلم صاحب کو تو ہم کیا سمجھاپائیں گے ، قارئین کرام نوٹ کر یں کہ حافظ حمزہ مدنی صاحب کا دعویٰ کیا ہے ؟ ان کا ارشاد تھا : ’’ الغرض عربی زبان ہی کے حوالے سے لوگوں میں یہ مشکل پیدا ہوئی تھی اور یہ مشکل تا قیامت اہلِ عرب کے لیے ہی باقی ہے ۔ اب میرے اور آپ جیسے لوگوں کے لیے عربی کا کوئی بھی لہجہ ہو تو وہ ہم نے غیر فطری طور پر ہی سیکھنا ہے چنانچہ ہمارے لیے تو کوئی بھی لہجہ مشکل یا آسان نہیں ہے ، بلکہ تمام لہجے برابر ہیں ‘‘ (رشد ح ا، ص ۲۴۶)

حمزہ مدنی صاحب فرما رہے ہیں کہ سبعہ احرف نے جو مشکل دور کی تھی وہ عربی ہی زبان کے حوالے سے تھی اور یہ مشکل تا قیامت اہلِ عرب کے لیے ہی باقی ہے ‘‘ ۔ ’’ تاقیامت اہلِ عرب کے لیے ہی باقی ہے ‘‘ کے جملے کو دس بارہ دفعہ دہرائیں تو شاید عمران اسلم صاحب سمجھ پائیں کہ ان کے ارشاد ’’ سہولت قیامت تک کے تمام لوگوں کو فراہم ہو گئی ‘‘ میں اور حمزہ مدنی صاحب کے ارشاد میں کوئی تضاد ہے یا نہیں ۔

ہم یہ دونوں جملے اکٹھے لکھیں گے تاکہ کوئی موٹی دماغ والا آدمی بھی ان کے فرق کو سمجھ سکے۔ ( الا ما شاء اللہ )

یہ سہولت :

۱) ’’ تا قیامت اہلِ عرب کے لیے ہی باقی ہے ‘‘ (حمزہ مدنی صاحب )

۲) ’’ قیامت تک کے تمام لوگوں کو فراہم ہو گی‘‘ (عمران اسلم صاحب )

قارئین کرام سے گزارش ہے کہ پہلے جملے میں ’’ اہلِ عرب کے لیے ہی ‘‘ اور دوسرے جملے میں ’’ تمام لوگوں ‘‘ کے الفاظ پر خصوصی توجہ دیں ہم نے اپنی طرف سے عمران اسلم کی سہولت کے لیے ’’ اہلِ عرب ہی ‘‘ اور ’’ تمام لوگوں‘‘ کے فانٹ ذرا بڑا کر تو دئیے ہیں لیکن کسی کے دماغ کے اندر گھسانا ہمارے بس کی بات نہیں ۔ گھس بھی جائیں لیکن کوئی پھر بھی یہی رٹ لگائے کہ ان میں کوئی فرق نہیں بلکہ ایک جملہ دوسرے کی تفسیر کر رہا ہے تو ہم کیا کہہ سکتے ہیں سوائے اس کے کہ:

تو خوب سمجھتا ہے نگاہوں کی زبان کو
کہنے کو بہت کچھ ہے مگر کچھ نہ کہیں گے

ضمناً حافظ زبیر صاحب کے طبع نازک پر اگر گراں نہ گزرے تو ان کی خدمت میں عرض کردوں کہ ابن انشاء ہی یہاں آپ سے مخاطب ہیں جن کی نگارشات کو آپ تمسخر اور تحقیر پر محمول کرتے ہیں !

۵۔سبعہ احرف کا مفہوم : ہم نے رشد کے قلم کاروں کے چند اقتباسات سامنے لائے تو عمران اسلم صاحب کا خیال ہے کہ ہم نے ان میں قطع و برید کی ہے ورنہ یہ مفہوم تو حل ہو چکا تھا ۔ آپ فرماتے ہیں : ’’ سید سلیم شاہ صاحب کی عبارتوں میں قطع برید ملاحظہ کیجئے کہ عبدالقاری تو سبعہ احرف کے مفہوم کی شافی وضاحت کے لیے علمائے و محققین کی جانب رجوع کا درس دیں اور سید صاحب بھرپور ملمع سازی اور فریب کاری کے ذریعے ان کی پوری عبارت نقل کر نے کے بجائے ایک جملہ ذکر کر کے نعرہ بلند کر دیں کہ اس چیستاں کا کوئی مفہوم دریافت ہی نہیں ہو سکا ‘‘ ( رشد ح ۳، ص ۶۴۸)

قارئین کرام خود یہ اقتباس پڑھ کر فیصلہ کر سکتے ہیں ۔ عبدالقاری صاحب کی پوری تحریر خود عمران اسلم صاحب نے لکھ دی ہے ، اس میں وہ خود دیکھ سکتے ہیں وہ کس بے بسی کا اظہار کر رہے ہیں ۔ بجا کہ انہوں نے اس سعی لاحاصل کے لیے محققین کی طرف رجوع کا مشورہ دیا ہے مگر اپنی بے بسی کا اظہار تو سامنے کی بات ہے ۔

اس مسئلے کے حل کے لیے رشد ح ۱ میں اداریہ نویس نے جو کاوشیں کی تھیں ان کا ہم نے خصوصی ذکر کیا تھا ۔ اس ضمن میں ہم نے حافظ عبدالرحمٰن مدنی صاحب کا بھی ارشا دنقل کیا تھا کہ ’ ’ یہ اختلافات دراصل لب و لہجہ کا فرق ہوتا ہے جو اردو میں بھی مثلاً ناپ تول و ماپ تول ، خسر و سسر، انگریزی کا لفظ شیڈول اور سکیجوئل ‘‘ ۔ اس پر ہمارا جو تبصرہ تھا اسے دونوں حضرات نے بالکل گول کر دیا ۔ ہم چاہیں گے اس بارے میں بھی اگر عالمانہ ممکن نہ ہو تو مولویانہ ہی جواب دے دیں ۔

چیلنج کے عنوان کے تحت ان 5 نکات پر دونوں حضرات نے یا تو خاموشی اختیار کی یاتحریف کر کے جواب دینے کی کوشش کی ہے ۔ قارئین سے گزارش ہے کہ ان مضامین کا خود تقابلی جائزہ لے کر کوئی نتیجہ نکالیں ۔

عمران اسلم صاحب نے اپنا مضمون ان جملوں پر ختم کیا ہے :

’’اخیر میں سید صاحب سے ہم یہی عرض کریں گے کہ جناب حدیث سبعہ احرف کے مفہوم سے متعلق بحث معرکتہ الاراء مسائل میں سے ہے جس کی تشریح و تعبیر میں اہل قلم کے متعدد اقوال موجود ہیں ‘‘ ( ص ۶۵۵)

ہم بھی در ج بالا 5 نکات کے علاوہ ان سے چند سوالات پوچھ کر اپنی گزارشات ختم کردیں گے ۔

۱) پہلی گزارش تو یہ ہے کہ پورا قرآن مجید سات حروف پر نازل ہوا ہے ۔

اب اس قرآن مجید میں چھ ساڑھے چھ ہزار کے لگ بھگ آیات موجود ہیں ۔ ان میں سے کوئی چار پانچ آیات مسلسل سات حروف پر بتا دیں تاکہ ہم کوئی ٹھوس نتیجہ نکال سکیں ۔

۲) رشد کی پہلی جلد کے صفحہ ۶۷۸ پر کلیہ القرآن الکریم ، جامعہ لاہور الاسلامیہ کے عنوان کے تحت ہمیں بتایا گیا تھا کہ :

’’ کلیہ القرآن ، جامعہ لاہور الاسلامیہ نے جہاں خدمت قرآن کے بہت سے سلسلے شروع کر رکھے ، وہاں جمع کتابی کے سلسلہ میں بھی کسی سے پیچھے نہیں رہا اور اس میں وہ کام کیا ہے جو کہ تاریخ اسلام میں اپنی نوعیت اور جامعیت کے اعتبار سے یگانہ حیثیت کا حامل ہے ۔ وہ یہ کہ قراء ات قرآنیہ عشرہ متواترہ ، جوکہ کلیات اور مدارس میں صدیوں سے پڑھائی جاتی رہی ہیں اور جیسا کہ ہم نے پہلے کہا کہ قوائد و ضوابط اور پڑھنے کے انداز تو کتبِ قراء ات میں موجود ہیں ، لیکن باقاعدہ مصاحف کی شکل میں موجود نہیں ہیں ، کلیہ القرآن الکریم ، جامعہ لاہور کے فضلاء میں سے تقریباً بارہ محقق اساتذہ نے محنت شاقہ فرما کر تین سال کے عرصہ میں وہ تمام غیر متداولہ قرا ء ات میں سولہ مصاحف تیار کر لیے ہیں اور جیسا کہ راقم نے پہلے عرض کیا ہے کہ یہ کام اپنی نوعیت اور جامعیت کے حوالے سے تاریخ اسلامی کا پہلا کام ہے ۔ ‘‘

اس اقتباس سے یہ تو معلوم ہو گیا کہ غیر متداولہ قراء ات میں سولہ قرآن تیار کر لیے گئے ہیں اور یہ کام پہلا کام ہے جو تاریخ اسلامی میں ظہور پذیر ہوا۔

حضور صرف یہ سمجھا دیں کہ رشد ج ۳ ، کے صفحہ ۶۳۰ پر حافظ عبدالرحمٰن مدنی صاحب کو مولانا تقی عثمانی صاحب کے خط کے جواب میں یہ جھوٹ بولنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ کہ ’’ میں اپنے ادارہ کی طرف سے آپ کو یہ اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں مختلف قرآء توں میں قرآن شائع کرنے کا ہمارا کوئی پروگرام نہیں ہے ‘‘ ۔

ناراض ہونے کی بات نہیں۔اِدھر اُدھر مارنے کے بجائے سیدھی طرح میرے اٹھائے ہوئے سوالات کے متعین جوابات دے دیں۔رشد نہ ہوتا کوئی اور ہوتا تب بھی اس سے یہی گذارش کرتے۔

تم ناحق ناراض ہوئے ہو ، ورنہ میخانے کا پتہ
ہم نے ہر اس شخص سے پوچھا جس کے نین نشیلے تھے

تحریر : محمد انور عباسی
rana ammar mazhar آن لائن ہے  
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (10-11-11)
پرانا 09-11-11, 11:53 AM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default یہ تجربہ میں کر چکا ہوں مراسلہ ڈیلیٹ‌ کر دیا تھا ۔ ان ۳ کتابوں پر تبصرہ کیا تھا !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
مضمون میں‌یہاں جن حافظ‌زبیر صاحب کا تذکرہ ہے، یہی صاحب محدث فورم پر موجود ہیں۔ اور اپنی مصروفیات کی بنا پر دیگر فورمز کے لئے وقت نہیں‌نکال پاتے۔ و نیز محدث کی پالیسی کے تحت جب تک آپ اخلاقی گراوٹ کا شکار نہ ہوں، آپ کا مراسلہ ڈیلیٹ‌ نہیں کیا جاتا۔ اندازے قائم نہ کریں، حسن ظن رکھیں۔
یہ تجربہ میں کر چکا ہوں مراسلہ ڈیلیٹ‌ کر دیا تھا ۔ ان ۳ کتابوں پر تبصرہ کیا تھا !!!
rana ammar mazhar آن لائن ہے  
پرانا 09-11-11, 12:36 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں
یہ تجربہ میں کر چکا ہوں مراسلہ ڈیلیٹ‌ کر دیا تھا ۔ ان ۳ کتابوں پر تبصرہ کیا تھا !!!
ٹھیک ہے۔ جزاک اللہ۔ خوش رہیں‌اور لگے رہیں۔ یہ تو امید تھی کہ آپ کوئی بہانہ ہی کریں گے، پر چلیں‌خیر۔ ہم حسن ظن ہی رکھتے ہیں۔

ویسے آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ دنیا کے تقریبا چالیس ممالک میں روایت ورش اور پانچ ممالک میں روایت قالون اور بعض ممالک میں روایت دوری میں قرآن پڑھا جاتا ہے۔ جبکہ یہ بات معلوم و معروف ہے کہ قرآن امت کے اجماع اور قولی تواتر سے ثابت ہوتا ہے۔ امت تو اس وقت عملا پانچ روایات پڑھ رہی ہے کسی ایک روایت کے پڑھنے پر امت کا اتفاق تو دور کی بات ہے‘ عامۃ الناس کو تو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ قرآن کی ’روایت حفص‘ کے علاوہ بھی کو ئی روایت ہے جو کہ بعض دوسرے اسلامی ممالک میں پڑھی جاتی ہے اور اس کے پڑھنے کا انداز و اسلوب ’روایت حفص‘سے بہت مختلف ہے۔

نیز اجماع سے مراد عوام الناس کااجماع نہیں ہے بلکہ اہل علم کا اجماع ہے۔ پس اہل علم حنفی ‘ شافعی ‘ مالکی‘ حنبلی‘ اہل حدیث ‘ بریلوی اور دیوبندی اس بات پر متفق ہیں کہ مشرق و مغرب پڑھی جانے والی روایت حفص‘ قالون‘ ورش اور دوری قرآن ہیں اور اللہ کے رسولﷺ سے قطعی و یقینی سند سے ثابت ہیں۔اور اس کا ثبوت رشد میں شائع ہونے والے اکثر مسالک کے اہل علم کے مضامین ہیں۔

اب آپ جو بات ثابت کرنے نکلے ہیں رانا صاحب، اس سے اور کچھ ثابت ہو یا نہ ہو یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ‌ قرآن کی حفاظت نہیں‌فرما سکے(نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ)۔ بھلا یہ قرآن کی کیسی حفاظت ہوئی کہ امت مسلمہ کی ایک جمیع اکثریت غیر قرآن کو قرآن ہی سمجھ کر پڑھتی رہی اور کسی کو نہ معلوم ہوا حتیٰ کہ دور جدید میں کچھ مفکرین نے آ کر امت کو اس فتنہ کی خبر دی۔

لہٰذا یا تو یہ مانیں کہ قرآن کی حفاظت نہیں ہوئی اور اتنے ممالک میں جو قرآن کی چار مشہور قرات کی تلاوت ہو رہی ہے یہ سب غیر قرآن ہے۔ اور یا یہ مانیں کہ جو آپ قرات کے اختلاف کو قرآن ہی کا اختلاف بتانے پر تلے ہیں وہ غلط ہے۔

Last edited by شکاری; 09-11-11 at 12:40 PM.
شکاری آن لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
bashirahmed98 (13-11-11), rana ammar mazhar (22-11-11), ابوسعد (13-12-11), ابن آدم (13-11-11)
پرانا 09-11-11, 12:54 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ماہنامہ رشد کے جس قرات نمبر کو یہاں‌ نشانہ تنقید بنایا گیا ہے۔ رانا صاحب سے تو امید نہیں کہ اپنے مضامین کے ساتھ رشد کی اصل اشاعتوں کا لنک بھی مہیا فرمائیں گے، اگرچہ وہ پہلے ہی اس بارے جانتے ہوں گے۔ بہرحال، دیگر قارئین درج ذیل لنکس سے تینوں جلدیں ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔

ماہنامہ رشد: قرات نمبر (حصہ اول)
ماہنامہ رشد: قرات نمبر (حصہ دوم)
ماہنامہ رشد: قرات نمبر (حصہ سوم)

اس سب تنقید اور چور چور کا شور مچانے کی اصل وجہ تو یہ ہے کہ ناقدین حضرات کے انکار حدیث پر پردہ پڑا رہے۔ خیر، اس کے لئے بھی غیر متعصب قارئین ماہنامہ محدث کا انکار حدیث نمبر ملاحظہ فرمائیں۔

ماہنامہ محدث: فتنہ انکار حدیث نمبر (خصوصی اشاعت)

اور جو ہمارے دور جدید کے منکرین ہیں، جن میں فراہی، اصلاحی اور غامدی گروپس نمایاں ہیں، ان کا انکار حدیث کا طرز بھی انوکھا ہے کہ صاف چھپتے بھی نہیں والی بات ہے۔ ان کے لئے علیحدہ مفصل و مدلل رد یہاں دستیاب ہے۔
انکار حدیث کا نیا روپ (جلد اول)
انکار حدیث کا نیا روپ (جلددوم)

چونکہ اکثر ہمارے بھائیوں کی جانب سے وہی چبائے ہوئے نوالے پیش کئے جاتے ہیں، لہٰذا درج بالا تینوں لنکس جو کہ اپنے موضوع پر انسائیکلو پیڈیاز ہیں، انہی کا مطالعہ کر لیا جائے تعصب کی عینک اتار کر، تو ان شاءاللہ افاقہ کیلئے یہی کافی ہوں گے۔

Last edited by شکاری; 09-11-11 at 01:35 PM.
شکاری آن لائن ہے  
6 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (09-11-11), کنعان (19-11-11), ابوسعد (13-12-11), ابن آدم (13-11-11), باذوق (13-11-11), عبیداللہ عبید (09-11-11)
پرانا 09-11-11, 01:00 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default بائبل کی طرح قرآن مجید کی غیر متداولہ قرات کے 16 مصاحف تیار کرلئے ہیں ۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
ٹھیک ہے۔ جزاک اللہ۔ خوش رہیں ‌اور لگے رہیں۔ یہ تو امید تھی کہ آپ کوئی بہانہ ہی کریں گے، پر چلیں‌ خیر۔ ہم حسن ظن ہی رکھتے ہیں۔
بائبل کی طرح قرآن مجید کی غیر متداولہ قرات کے 16 مصاحف تیار کرلئے ہیں ۔

محترم المقام ! عزت مآب ! فضیلۃ الشیخ ! مفتی عبد الحنان صاحب مد ظلہ و تعالٰی

السلام و علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ !

امید ہے آپ ایمان اور صحت کی بہترین حالت میں ہوں گے۔ گزارش ہے کہ میں قرآن فہمی کا شائق اور تحقیق کا طالبعلم ہوں اس حوالہ سے ایک چھوٹی سی لائبریری بھی بنائی ہوئی ہے۔

اپنی اصلاح اور تحقیق کی غرض سے مختلف تحقیقی مضامین اور کتب کا مطالعہ کرتا رہتا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے کسی دوست کی وساطت سے جامعہ العلوم الاسلامیہ کی طرف سے شائع کردہ " ماہنامہ رشد" کے دو حصے پڑھنے کا موقع ملا۔ میری رائے میں ان دو حصوں میں محض علمی رعب اور دبدبہ جمانے کی غرض سے 1656 صفحات اور 99 مضامین لکھے گئے ہیں۔

جس میں صحیح البخاری کی سبعہ احرف والی حدیث کو غلط معانی پہنا کر پورے قرآن کے متن کو تبدیل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔

بنظر غائر مطالعہ کے بعد یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ کلیتہ القرآن الکریم جامعہ لاہور کے فضلاء میں سے بارہ محقق اساتذہ نے " محنت شاقہ" فرما کر تین سال کے عرصے میں قرآن مجید کی غیر متداولہ قرات کے 16 مصاحف تیار کرلئے ہیں اور صرف حواشی میں نہیں بلکہ قرآنی متن کی حیثیت سے 16 الگ مصاحف شائع کروانے کا ارداہ رکھتے ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ ان کا تعلق اہل حدیث مسلک سے ہے یہ مسئلہ اپنی جگہ ایک انتہائی پریشان کن مسئلہ ہے۔کیونکہ ایسا کرنے سے:

) بائبل کی طرح قرآن بھی غیر محفوظ تصور کیا جانے لگے گا۔

) امت مسلمہ کے اندر شدید انتشار پھیلنے کا اندیشہ ہے۔

) دشمنان اسلام و قرآن کے ہاتھ مضبوط ہونگے۔

اس سلسلہ میں بندہ عاجز نے بذریعہ تحریر و ٹیلی فون تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء ، مفتیان عظام اور اہل علم حضرات سے رابطہ کیا ہے اور انہیں اس سلسلہ میں اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے۔ الحمد للہ ! اس پر بہت سے حضرات جن میں اہل حدیث حضرات بھی شامل ہیں اس پر کا م کر رہے ہیں۔خاص طور پر میری مولانا ارشاد الحق اثری صاحب سے بھی اس سلسلہ میں تفصیلی بات ہوئی ہے انہوں نے ہی مجھے آپ کو خط لکھنے کا کہا جس پر آپ کو یہ خط لکھ کر عرض گزار ہوں کہ آپ بھی اس سلسلہ میں اپنا کردار ادا کریں
اس مسئلہ پر کچھ مفتیان نے مجھے تحریری فتوے بھی ارسال کئے ہیں جن کی فوٹو کاپی ارسال خدمت ہے۔

آپ کو خط لکھنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ آپ انصاف کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس سلسلہ میں فتویٰ تحریرکریں اور اپنے احباب میں تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی ایک کاپی مجھے بھی ارسال کریں ۔ امید واثق ہے کہ آپ میری عرضداشت پر ہمدردانہ غور فرماتے ہوئے عملی قدم اٹھائیں گے۔

والسلام
کاشف علی
ملتان روڈ بھائی پھیرو پھول نگر تحصیل پتو کی ضلع قصور پوسٹ کوڈ 55260
rana ammar mazhar آن لائن ہے  
پرانا 09-11-11, 01:27 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default کیا اب قران کے بیس مختلف نسخے پڑھنا ہوں گے ؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
ماہنامہ رشد کے تینوں‌قرات نمبرز آن لائن موجود ہیں۔ رانا صاحب نے جانے کیوں ‌ان کے لنکس نہیں‌دئے۔
کیا اب قران کے بیس مختلف نسخے پڑھنا ہوں گے ؟

کیا اب قران کے بیس مختلف نسخے پڑھنا ہوں گے ؟

Quran e Kareem & Saba'tu Ahruf by Abdul Kareem Asri

Recite Quran Alone or Read Ahadith Based Twenty Qurans by kitabosunnat.com

Muta Mutah in Salafi Sunni Islam Will Be Allowed By Monthly Rushad Qiraat No. Based Twenty Qurans

Wake Up! Defend the Quran by Syed Ali Sharfuddin Moosavi

قرآن سات حرفوں (قرائتوں) پر نازل ہوا ؟ دشمنان خدا جھوٹ بولتے ہیں
rana ammar mazhar آن لائن ہے  
پرانا 09-11-11, 01:42 PM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

محترم، جن سولہ نسخوں کی آپ بات کر رہے ہیں وہ ریسرچ ورک ہے۔ اور پہلے ہی سے کتب احادیث‌میں‌موجود ہیں۔ صرف ان کو یکجا کرنا مقصود ہے تاکہ علم القرات کے طلبا اس سے مستفیض ہو سکیں۔آپ کے مضمون میں‌جو یہ اعتراض کیا گیا ہے:

اقتباس:
حضور صرف یہ سمجھا دیں کہ رشد ج ۳ ، کے صفحہ ۶۳۰ پر حافظ عبدالرحمٰن مدنی صاحب کو مولانا تقی عثمانی صاحب کے خط کے جواب میں یہ جھوٹ بولنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ کہ ’’ میں اپنے ادارہ کی طرف سے آپ کو یہ اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں مختلف قرآء توں میں قرآن شائع کرنے کا ہمارا کوئی پروگرام نہیں ہے ‘‘ ۔
تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان نسخوں پر کام صرف مدارس کے طلبا کے لئے اور وہ بھی علم القرات کے طلبا کے لئے کیا جا رہا ہے، اس کو پاکستان میں‌شائع کرنے کا واقعی کوئی پروگرام نہیں‌ہے۔ اور نہ ہی یہ عوام الناس کے لئے شائع کئے جا رہے ہیں‌کہ اس سے کوئی فتنہ پھیلنے کا امکان ہو۔ دینی مدارس کے علمإ و عوام سب ہی قرات سبعہ سے واقف ہیں، صدیوں‌سے پڑھتے پڑھاتے رہے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ہاں‌ان نسخوں کی عوامی سطح‌پر اشاعت ایک نئی بات ہوگی جو کہ کبھی منصوبہ میں‌ شامل ہی نہیں‌رہی۔ لہٰذا درج بالا مضمون کی عمارت جس بنیاد پر قائم ہے جب وہی اتنی کمزور ہے تو بقیہ عمارت کو سہارا دینے کا فائدہ نہیں۔

آپ نے میری بات کا جواب نہیں‌دیا کہ جو امت میں‌چار قرات رائج ہو چکی ہیں‌اور صدیوں‌سے قراآن کے یہ نسخے حکومتوں، مدارس، یونیورسٹیوں کی زیر نگرانی شائع ہو رہے ہیں اور دیگر ممالک میں‌انہی کو قرآن سمجھا جاتا ہے تو کیا وہ غلط ہے؟ کیا معاذ اللہ خدا قرآن کی حفاظت نہیں کر سکا؟ یا آپ ہی کا لگایا ہوا الزام غلط ہے؟
شکاری آن لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (09-11-11), skjatala (12-11-11), ابوسعد (13-12-11), ابن آدم (13-11-11), حیدر Rehan (10-11-11)
پرانا 09-11-11, 01:50 PM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default (ARABIC) سنی سلفی اسلام میں متعہ حلال! شکریہ سبعہ احراف! قرا ئت ابن عباس

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
ٹھیک ہے۔ جزاک اللہ۔ خوش رہیں‌اور لگے رہیں۔ یہ تو امید تھی کہ آپ کوئی بہانہ ہی کریں گے، پر چلیں‌خیر۔ ہم حسن ظن ہی رکھتے ہیں۔
ویسے آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ دنیا کے تقریبا چالیس ممالک میں روایت ورش اور پانچ ممالک میں روایت قالون اور بعض ممالک میں روایت دوری میں قرآن پڑھا جاتا ہے۔ جبکہ یہ بات معلوم و معروف ہے کہ قرآن امت کے اجماع اور قولی تواتر سے ثابت ہوتا ہے۔ امت تو اس وقت عملا پانچ روایات پڑھ رہی ہے کسی ایک روایت کے پڑھنے پر امت کا اتفاق تو دور کی بات ہے‘ عامۃ الناس کو تو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ قرآن کی ’روایت حفص‘ کے علاوہ بھی کو ئی روایت ہے جو کہ بعض دوسرے اسلامی ممالک میں پڑھی جاتی ہے اور اس کے پڑھنے کا انداز و اسلوب ’روایت حفص‘سے بہت مختلف ہے۔
نیز اجماع سے مراد عوام الناس کااجماع نہیں ہے بلکہ اہل علم کا اجماع ہے۔ پس اہل علم حنفی ‘ شافعی ‘ مالکی‘ حنبلی‘ اہل حدیث ‘ بریلوی اور دیوبندی اس بات پر متفق ہیں کہ مشرق و مغرب پڑھی جانے والی روایت حفص‘ قالون‘ ورش اور دوری قرآن ہیں اور اللہ کے رسولﷺ سے قطعی و یقینی سند سے ثابت ہیں۔اور اس کا ثبوت رشد میں شائع ہونے والے اکثر مسالک کے اہل علم کے مضامین ہیں۔
اب آپ جو بات ثابت کرنے نکلے ہیں رانا صاحب، اس سے اور کچھ ثابت ہو یا نہ ہو یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ‌ قرآن کی حفاظت نہیں‌فرما سکے(نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ)۔ بھلا یہ قرآن کی کیسی حفاظت ہوئی کہ امت مسلمہ کی ایک جمیع اکثریت غیر قرآن کو قرآن ہی سمجھ کر پڑھتی رہی اور کسی کو نہ معلوم ہوا حتیٰ کہ دور جدید میں کچھ مفکرین نے آ کر امت کو اس فتنہ کی خبر دی۔
لہٰذا یا تو یہ مانیں کہ قرآن کی حفاظت نہیں ہوئی اور اتنے ممالک میں جو قرآن کی چار مشہور قرات کی تلاوت ہو رہی ہے یہ سب غیر قرآن ہے۔ اور یا یہ مانیں کہ جو آپ قرات کے اختلاف کو قرآن ہی کا اختلاف بتانے پر تلے ہیں وہ غلط ہے۔
ان روایات "روایت قرآن کی چار مشہور قرات" سے ایک تو "متعہ حلال" ہوتا ہے باقی آپ بتا دیں کہ حلال و حرام میں کیا کیا فرق ہے ؟؟؟

(ARABIC) سنی سلفی اسلام میں متعہ حلال! شکریہ سبعہ احراف! قرا ئت ابن عباس
rana ammar mazhar آن لائن ہے  
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (10-11-11)
پرانا 09-11-11, 02:01 PM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرا ٹھوس سوال اب بھی وہیں‌قائم ہے، باقی ضمنی مباحث‌ہیں‌اور ان پر بے شک علیحدہ بات چیت کے ذریعے مزید تحقیق کی گنجائش ہے: لیکن آپ جو سبعہ احرف قرات ہی سے انکار پر تلے ہیں، اس بنیادی بات کا تو جواب دیں‌تو بات آگے بھی بڑھے۔

اقتباس:
دنیا کے تقریبا چالیس ممالک میں روایت ورش اور پانچ ممالک میں روایت قالون اور بعض ممالک میں روایت دوری میں قرآن پڑھا جاتا ہے۔ جبکہ یہ بات معلوم و معروف ہے کہ قرآن امت کے اجماع اور قولی تواتر سے ثابت ہوتا ہے۔ امت تو اس وقت عملا پانچ روایات پڑھ رہی ہے کسی ایک روایت کے پڑھنے پر امت کا اتفاق تو دور کی بات ہے‘ عامۃ الناس کو تو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ قرآن کی ’روایت حفص‘ کے علاوہ بھی کو ئی روایت ہے جو کہ بعض دوسرے اسلامی ممالک میں پڑھی جاتی ہے اور اس کے پڑھنے کا انداز و اسلوب ’روایت حفص‘سے بہت مختلف ہے۔

نیز اجماع سے مراد عوام الناس کااجماع نہیں ہے بلکہ اہل علم کا اجماع ہے۔ پس اہل علم حنفی ‘ شافعی ‘ مالکی‘ حنبلی‘ اہل حدیث ‘ بریلوی اور دیوبندی اس بات پر متفق ہیں کہ مشرق و مغرب پڑھی جانے والی روایت حفص‘ قالون‘ ورش اور دوری قرآن ہیں اور اللہ کے رسولﷺ سے قطعی و یقینی سند سے ثابت ہیں۔اور اس کا ثبوت رشد میں شائع ہونے والے اکثر مسالک کے اہل علم کے مضامین ہیں۔

اب آپ جو بات ثابت کرنے نکلے ہیں رانا صاحب، اس سے اور کچھ ثابت ہو یا نہ ہو یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ‌ قرآن کی حفاظت نہیں‌فرما سکے(نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ)۔ بھلا یہ قرآن کی کیسی حفاظت ہوئی کہ امت مسلمہ کی ایک جمیع اکثریت غیر قرآن کو قرآن ہی سمجھ کر پڑھتی رہی اور کسی کو نہ معلوم ہوا حتیٰ کہ دور جدید میں کچھ مفکرین نے آ کر امت کو اس فتنہ کی خبر دی۔

لہٰذا یا تو یہ مانیں کہ قرآن کی حفاظت نہیں ہوئی اور اتنے ممالک میں جو قرآن کی چار مشہور قرات کی تلاوت ہو رہی ہے یہ سب غیر قرآن ہے۔ اور یا یہ مانیں کہ جو آپ قرات کے اختلاف کو قرآن ہی کا اختلاف بتانے پر تلے ہیں وہ غلط ہے۔
شکاری آن لائن ہے  
پرانا 09-11-11, 02:02 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ان 16 یا 4 میں عثمان ؓ والا قرآن کون سا ہے ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
محترم، جن سولہ نسخوں کی آپ بات کر رہے ہیں وہ ریسرچ ورک ہے۔ اور پہلے ہی سے کتب احادیث‌میں‌موجود ہیں۔ صرف ان کو یکجا کرنا مقصود ہے تاکہ علم القرات کے طلبا اس سے مستفیض ہو سکیں۔آپ کے مضمون میں‌جو یہ اعتراض کیا گیا ہے:
تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان نسخوں پر کام صرف مدارس کے طلبا کے لئے اور وہ بھی علم القرات کے طلبا کے لئے کیا جا رہا ہے، اس کو پاکستان میں‌شائع کرنے کا واقعی کوئی پروگرام نہیں‌ہے۔ اور نہ ہی یہ عوام الناس کے لئے شائع کئے جا رہے ہیں‌کہ اس سے کوئی فتنہ پھیلنے کا امکان ہو۔ دینی مدارس کے علمإ و عوام سب ہی قرات سبعہ سے واقف ہیں، صدیوں‌سے پڑھتے پڑھاتے رہے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ہاں‌ان نسخوں کی عوامی سطح‌پر اشاعت ایک نئی بات ہوگی جو کہ کبھی منصوبہ میں‌ شامل ہی نہیں‌رہی۔ لہٰذا درج بالا مضمون کی عمارت جس بنیاد پر قائم ہے جب وہی اتنی کمزور ہے تو بقیہ عمارت کو سہارا دینے کا فائدہ نہیں۔
آپ نے میری بات کا جواب نہیں‌دیا کہ جو امت میں‌چار قرات رائج ہو چکی ہیں‌اور صدیوں‌سے قراآن کے یہ نسخے حکومتوں، مدارس، یونیورسٹیوں کی زیر نگرانی شائع ہو رہے ہیں اور دیگر ممالک میں‌انہی کو قرآن سمجھا جاتا ہے تو کیا وہ غلط ہے؟ کیا معاذ اللہ خدا قرآن کی حفاظت نہیں کر سکا؟ یا آپ ہی کا لگایا ہوا الزام غلط ہے؟
آپ نے میری بات کا جواب نہیں ‌دیا کہ جو امت میں ‌چار قرات رائج ہو چکی ہیں ‌اور صدیوں‌سے قرآن کے یہ نسخے حکومتوں، مدارس، یونیورسٹیوں کی زیر نگرانی شائع ہو رہے ہیں اور دیگر ممالک میں‌انہی کو قرآن سمجھا جاتا ہے تو کیا وہ غلط ہے؟

ان 16 یا 4 میں عثمان ؓ والا قرآن کون سا ہے ؟؟؟
rana ammar mazhar آن لائن ہے  
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (10-11-11)
پرانا 09-11-11, 02:13 PM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default زبان کو توڑ موڑ کر کتنے اختلاف قرات بنائے ہیں ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
میرا ٹھوس سوال اب بھی وہیں‌قائم ہے، باقی ضمنی مباحث‌ہیں‌اور ان پر بے شک علیحدہ بات چیت کے ذریعے مزید تحقیق کی گنجائش ہے: لیکن آپ جو سبعہ احرف قرات ہی سے انکار پر تلے ہیں، اس بنیادی بات کا تو جواب دیں ‌تو بات آگے بھی بڑھے۔
آپ جو سبعہ احرف قرات ہی سے انکار پر تلے ہیں، اس بنیادی بات کا تو جواب دیں ‌تو بات آگے بھی بڑھے۔

میرا ٹھوس سوال اب بھی وہیں‌قائم ہے،

زبان کو توڑ موڑ کر کتنے اختلاف قرات بنائے ہیں ؟؟؟

وَاِنَّ مِنْھُمْ لَفَرِيْقًا يَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَھُمْ بِالْكِتٰبِ لِتَحْسَبُوْهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَمَا ھُوَ مِنَ الْكِتٰبِ ۚ وَيَقُوْلُوْنَ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَمَا ھُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۚ وَيَـقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ
( 3:78 )

ان ہی یہودیوں میں سے بعض وہ ہیں جو کتاب پڑھنے میں زبان کو توڑ موڑ دیتے ہیں تاکہ تم لوگ اس تحریف کو بھی اصل کتاب سمجھنے لگو حالانکہ وہ اصل کتاب نہیں ہے اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہے حالانکہ اللہ کی طرف سے ہرگز نہیں ہے یہ خدا کے خلاف جھوٹ بولتے ہیں حالانکہ سب جانتے ہیں ( 3:78 )

And there is a group, a party, of them, the People of the Scripture, like Ka‘b b. al-Ashraf, who twist their tongues with the Book, altering it by reciting it not according to the way in which it was revealed, but according to the way in which they have distorted it, as in the case of the descriptions of the Prophet (s) and other similar matters; so that you may suppose it, such distortion, as part of the Book, that God revealed; yet it is not part of the Book; and they say, ‘It is from God’, yet it is not from God, and they speak falsehood against God, while they know, that they are liars.
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"
rana ammar mazhar آن لائن ہے  
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (10-11-11)
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
کتابوں, گمان, پاکستان, ڈکشنری, قواعد, قرآن, قرآن حکیم, نماز, نظر, موجودہ, ماں, مجید, مسائل, آج, انگریزی زبان, اردو, اردو لغت, تلاوت قرآن, حدیث, خدا, دریافت, دعا, غامدی, صحت, صدمہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ََِِ"" اپنا وزن کم کریں "" مژگان فیشن اور بیوٹی ٹپس 29 01-01-12 02:34 AM
انٹرنیٹ میں انقلابی سہولتوں کا اضافہ: "بنگ" اور "ویوز" Hashims Search Engines 8 02-09-11 03:24 PM
اسلامی سکرین سیور """ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ؟ """" عادل سہیل اسلام اور معاشرہ 17 23-02-11 07:37 PM
"کوئی" "کسی" سفارت خانے سے وزیر اعظم ہاوس کی جاسوسی کر رہا تھا حیدر خبریں 6 11-10-10 04:49 PM
کراچی میں پولیس کا "ناکے پہ ناکہ "اور ڈاکو ں کا "ڈاکے پہ ڈاکہ"جاری جاویداسد خبریں 0 01-10-10 06:38 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:02 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger