| علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 3585
|
||||
| 5 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (12-11-11), فاروق سرورخان (13-11-11), مرزا عامر (16-11-11), ابن جمال (13-11-11), حیدر Rehan (10-11-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محترم،
آپ نے جتنے بھی اعتراضات و سوالات اٹھائے ہیں، ماہنامہ رشد کی تین اشاعتوں میں پہلے ہی سے اس کے جوابات موجود ہیں۔ اور منکرین سبعہ احرف پر جو جو اعتراضات رشد میں کئے گئے ہیں، آپ نے نہیں ٹچ نہیں کیا۔ خیر، ماہنامہ رشد والوں ہی کی ایک سائٹ ہے: kitabosunnat.com اور اس سائٹ کا ایک فورم، محدث فورم کے نام سے معلوم و معروف ہے۔ ملاحظہ کیجئے یہاں: محدث فورم ممکن ہو تو یہی اعتراضات وہاں پیش کریں تاکہ آپ کے اعتراضات میں اگر کچھ جدت ہے تو وہاں علمائے کرام اس ڈھول کا پول کھول سکیں۔ |
|
|
| 6 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (09-11-11), فیصل ناصر (09-11-11), کنعان (10-11-11), ابن آدم (13-11-11), احمد نذیر (11-11-11), طارق راحیل (12-11-11) |
|
|
#3 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ان کا ممکنہ جواب : بھإئی جی ، یہ ہمارا بنایا ہوا اور شروع کردہ فورم ہے ، اور تمام تر نا پسندیدہ مراسلات حذف کرسکتے ہیں ۔ آپ ان کو وہاں اطلاع کر دیں تاکہ وہ یہاں جواب دے سکیں !!! |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (12-11-11), حیدر Rehan (10-11-11) |
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (09-11-11), skjatala (12-11-11) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اب اس قرآن مجید میں چھ ساڑھے چھ ہزار کے لگ بھگ آیات موجود ہیں ۔ ان میں سے کوئی چار پانچ آیات مسلسل سات حروف پر بتا دیں تاکہ ہم کوئی ٹھوس نتیجہ نکال سکیں ۔
ایں چُنیں ارکانِ دین ۔۔۔ ماہنامہ رشد کے مارچ 2010 ء کے شمارے (قرا ء ا ت نمبر 3 ) میں اس عاجز کی ایک تحریر پر حافظ محمد زبیر صاحب اور عمران اسلم صاحب نے مشترکہ ردِ عمل کا اظہار فرمایا ہے ۔ جس کے لیے ان کا شکریہ ہی ادا کیا جا سکتاہے ۔ تاہم ہمارے اظہار خیال کو حافظ صاحب نے تمسخر ، تحقیر اور استہزا پر محمول فرمایا ہے جبکہ عمران اسلم صاحب کا خیال ہے کہ ہم ’’کافی غصے میں دکھائی دیتے ہیں ‘‘ ہمارا اب بھی یہی خیال ہے ہم نے صرف اہلِ رشد کی خدمت میں ان ہی کا چہرہ پیش کیا تھا ۔ محترم حافظ صاحب کا ارشاد ہے کہ یہ کامیڈی ڈرامہ یا تھیٹر شو کا معاملہ ہو تا تو ہمارے تحقیر و تمسخر پر مبنی تبصرے کا جواب کسی اخباری کالم میں دے کر پطرس بخاری اور ابنِ انشا کی یاد تازہ کر دیتے (ص:۶۲۷) ۔ اس سے ہمیں اندازہ ہوا کہ موصوف ان مشہور ادیبوں کو کیا سمجھتے ہیں ۔ ہمیں معلوم نہیں کہ حافظ صاحب نے پطرس اور ابنِ انشا کا صرف نام ہی سنا ہے یا ان کو پڑھا بھی ہے ۔ اگر پڑھا ہے تو ان کی صنفِ تحریر کو تحقیر و تمسخر پر مبنی قرار دینا وقعی ایک عجوبہ ہے ۔ مزاح نگاری کو تحقیر و تمسخر سمجھنا علم کا ادھورا اور کچا استعمال ہے ۔ ہمارے درمیان علم و ادب کے درخشاں ستارے جناب مشتاق احمد یوسفی اور عطاء الحق قاسمی صاحب زندہ موجود ہیں ۔ حافظ صاحب محترم ان سے مزاح نگاری اور تحقیر و تمسخر میں فرق بھی معلوم کر سکتے تھے اور بطرس بخاری مرحوم اور ابن انشاء مرحوم کا علمی و ادبی مرتبہ بھی ۔ لیکن ادھورے علم کی وجہ سے ان میں تمیز نہ کر سکنے سے حافظ صاحب بھی کسی علمی حادثے سے دوچار ہو سکتے ہیں جس طرح مولانا روم ؒ کی بیان کردہ حکایت میں ایک خاتون جو ایک کنیز اور گدھے کی مالکن تھی کنیز کی نقالی کرتے ہوئے ادھورے علم پر عمل کر بیٹھی تھی اور اپنے منطقی انجام کو پہنچی تھی ۔ ہمارے عہد کے ’’ شرعی علوم ‘‘ کے ماہرین خصوصاً جب وہ سن رشد کو نہ پہنچے ہوں ، بھلے ان کی تحریر یں’ رشد‘ کی صفحات کی زینت بنتی ہوں ، بالعموم فارسی ادب سے شغف نہیں رکھتے ۔ صرف امراء القیس کے اشعار سے ہی زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں اور جلوت و خلوت ان کو گنگناتے اور ذہنی تلذد حاصل کرتے ہیں ۔ اس لیے عرض ہے کہ حافظ صاحب کسی فارسی دان’مولوی‘ سے پوری حکایت سن لیں ، اس میں انہی کا بھلا ہے ۔ برسبیل تذکرہ انہوں نے ہمیں ’مولوی ‘ سے ڈرایا بھی ہے کہ وہ تمسخر کا بہترین جواب دینے کے اہل ہوتے ہیں ۔ بھئی ہمیں اس بات کا علم ہے اور یقین بھی لیکن وہ ہمیں بھی اپنی برادری کا ہی فرد سمجھیں ۔ دیکھیں نا مولانا روم ؒ کی حکایت کا حوالہ کوئی مولوی ہی دے سکتا ہے ۔ مسٹر تو شاید مولانا روم کو بھی بحیرۂ روم کی طرح کا کوئی دریا یا سمندر سمجھ بیٹھے ۔ اب اص موضوع کی طرف آتے ہیں ۔ ہمارے مضمون کے جواب میں حافظ صاحب نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے صرف ’ یبڑیاں ‘ ماری ہیں ۔ ( رشد ص ۶۲۸) البتہ وہ تحقیق پیش کرتے ہیں کہ: ’’ قرآن کی قراء ا ت کا اختلاف تفسیر و بیان کا ہے اور قراء ات کے جمیع اختلافات روایات حفص میں بھی موجود ہیں ۔ہم جناب سلیم شاہ صاحب یہی سوال کرتے ہیں کہ جادوگروں نے حضرت موسی ؑ کو (قالو یا موسی اما ان تلقی و اما ان نکون اول من القیٰ) (طہ: ۲۵ ) کہا تھا یا ( قالو یموسی اما ان تلقی و اما ان نکون نحن الملقین ) (الاعراف: ۱۱۵) سلیم شاہ صاحب کے قرآن میں یہ دونوں آیات موجود ہیں ۔ کیا معاذ اللہ ! اللہ کو یاد نہ رہا کہ جادوگروں نے کیا کہا تھا یا محمد ﷺ بھول گئے کہ جبرائیل ؑ نے ان تک کیا پہنچایا تھا ۔ اسی طرح یہود نے کیاکہا تھا ؟ (وقالوا لن تمسنا النار الا ایاما معدودۃ) ( بقرۃ:۸۰) (قالوا لن تمسنا النار الا ایاماً معدودات ) ( آل عمران:۲۴) اسی طرح جب حضرت موسیؑ نے پتھرپر اپنا عصا مارا تھا تو ’ فانفجرت ‘ ہوا تھا یا ’فانبجست‘ اور یہ دونوں الفاظ آپ کے قرآن میں موجود ہیں ۔ دیکھیں آیات ( فقلنا اضرب بعصاک الحجر فانفجرت منہ اثنتا عشرۃ عیناً قد علم کل اناس مشروبھم ) ( بقرہ: ۶۰) اور ( ان اضرب بعصاک الحجر فانبجست منہ اثنتا عشرۃ عیناً قد علم کل اناس مشروبھم ) (لاعراف:۱۶۰) اسی طرح حضرت لوط ؑ نے اپنی قوم کے کہا تھا : ( ولوطا اذ قال لقومہ اتاتون الفحشۃ ما سبقکم بھا من احد من العلمین ) ( الاعراف: ۸۰) ( ولوطا اذ قال لقومہ انکم لتاتون الفحشۃما سبقکم بھا من احد من العالمین ) ( العنکبوت : ۲۸) اسی طرح حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی دعاؤں میں کہا تھا : ( واذقال ابراھیم رب اجعل ھذا بکدا ء امناً ) (بقرۃ : ۱۲۶ ) ( واذقال ابراھیم رب اجعل ھذالبلدا ء امناً ) ( ابرہیم : ۳۵) دونوں آیات میں ’ھذا بلدا ‘ ’ھذا البلد‘ کا فرق واضح ہے ۔ اس قسم کے سینکڑوں اختلافات شاہ صاحب کے قرآن میں بھی موجود ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کہ سلیم شاہ صاحب قرآن میں قراء ات کے اس اختلاف کے باوجود بھی اسے اللہ کی کتاب قرار دیتے ہیں ۔ کیوں ؟ ( ص ۶۲۹۔۶۲۸) ‘‘ ہمار ی تردید کی کوششوں میں وہ اپنی ذات کو درست ثابت کرنے کے لیے یہاں تک کہہ گئے کہ ’’ ہو سکتا ہے کہ سلیم شاہ صاحب منطق کی کسی شاخ کا سہارا لے کر قرآن کے ان مقامات کی کوئی تاویل پیش کر دیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لفظی طور پر باہم متعارض و مخالف ہیں ‘‘ (ص ۶۲۹) اس طویل اقتباس سے معلوم ہوا کہ درج ذیل آیات میں قراء ات کے اختلاف ہیں : ۱) اول من القیٰ ( طہ۔۶۵) اور نحن الملقین ( الاعراف : ۱۱۵) ۲) ایاماً معدودۃ ( البقرۃ : ۸۰) اور ایام معدودات ( آل عمران: ۲۴) ۳) فانفجرت ( بقرہ : ۶۰) اور فانبجست ( الاعراف ۱۶۰) ۴) اتاتون ( الاعراف : ۸۰) اور لتاتون ( العنکبوت : ۲۸) ۵) ھذا بلداً ( بقرہ : ۱۲۶ اور ھذا البلد ( ابراھیم: ۳۵) اور یہ اختلاف قرا ء ات شاہ صاحب کے قرآن میں بھی موجود ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لفظی طور پر ہم باہم متعارض و مخالف ہیں ‘‘ بہت بہت شکریہ جناب ہمیں اب پتہ چلا کہ یہ قرآن اللہ کا نہیں بلکہ شاہ صاحب کا قرآن ہے ۔ اور اس میں بہت سی آیات باہم متعارض و مخالف ہیں ۔ بس ’ مولوی‘ کی یہی ادا تو ہمیں مار گئی جس کا جواب دینا پڑ رہا ہے ورنہ یہ مثالیں دیکھتے ہوئے ہمیں تو صرف سورہ الفرقان کی آیت ۶۳ کی تلاوت کر دینا چاہیے تھی ۔ ’’ رشد ‘‘ کی ان تینوں جلدوں میں اور اختلاف قراء ات کی دیگر کتب میں آج تک کسی صاحب علم نے اختلاف قراء ات کی یہ مثالیں نہیں دیں ۔ اس کی گواہی رشد ہی کی تینوں جلدیں دے رہی ہیں ۔ ہم اسی تیسری جلد میں حافظ محمد مصطفی راسخ کے مضمون سے اس کی وجہ نقل کرتے ہیں : ’’ مشہور اہلِ علم کے نزدیک رسمِ عثمانی توقیفی ہے اور کتابت مصاحف میں اس کا التزام کرنا فرض و و اجب ہے اور اس کے خلاف لکھنا حرام ہے ۔ رسم عثمانی کے منجملہ فوائد اور اعجازات میں سے ایک اعجاز یہ بھی ہے کہ اس تمام قراء ات صحیحہ متواترہ نکل آتی ہیں ۔ اگر قرآن مجید کو رسم عثمانی کی بجائے رسم قیاسی کے مطابق لکھا جائے تو رسم عثمانی سے نکلنے والی تمام قراء ات صحیحہ متواترہ رسم قیاسی سے نہیں نکل سکیں گی اور متعدد قراء ات صحیحہ متواترہ ساکن ہو جائیں گی ۔ کیونکہ کسی بھی قراء ات کے صحیح ثابت ہونے کے لیے منجملہ شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ قراء ات مصاحف عثمانیہ کے رسم کے موافق ہو ۔ رسم عثمانی اپنی توقیفیت کی بنا پر متعدد اسرار و رموز اور حکمتوں کو اپنے اند سموئے ہوئے ہے۔ رسم عثمانی کے اعجازات میں سے ایک اعجاز یہ بھی ہے کہ ایک ہی رسم سے تمام قراء ات صحیحہ متواترہ پڑھی جاتی ہیں ۔ مثلاً ےَخْدَعُوْنَ ، ےُخٰدِعُوْنَ ، فَازَلَّھُمَا ، فَاَزٰلَھُمَا اَسْرٰی ، اُسٰرٰی ( ص ۸۵۳ ، ۸۵۲)اور اسی طرح کی بہت سی مثالیں دینے کے بعد لکھتے ہیں کہ ’’ مذکورہ مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ رسم عثمانی کا ایک اعجاز یہ بھی ہے کہ ایک ہی رسم سے تمام قراء ات صحیحہ متواترہ پڑھی جا رہی ہیں اور کوئی قراء ات صحیحہ ساقط نہیں ہوتی تھیں رسم عثمانی کے اعجاز من حیث القرا ء ات کی چند مثالیں ۔ ورنہ پورے قرآن مجید کا رسم ، رسم عثمانی پر مشتمل ہے ‘‘ (ص ۸۵۶ ) ان تمام مثالوں میں آپ دیکھیں گے رسم الخط ایک ہی ہے ، بس اعراب کا ادھر ادھر فرق ہے ۔ آئمہ قراء ات کے نزدیک رسم الخط عثمانی لازماً ہو گا مگر ہماری تردید کے شوق میں ’مولوی‘ حافظ زبیر صاحب نے ایک ہی رسم الخط نہیں بلکہ جدا جدا الفاظ لکھ کر دعوی کر دیا کہ ’’ قرا ء ات کے جمیع اختلافات روایت حفص میں موجود ہیں ( ص 628-629) اس رویے پر ہم حیران ہیں کہ کیا کہیں سوائے اس کے کہ اپنی طرف سے کوئی تبصرہ کرنے کے بجائے مولوی زبیر صاحب کا ہی جملہ مستعار لیں کہ ’’ ہمارے نزدیک دنیا کا مشکل ترین کام کسی ایسے جاہل کو سمجھانا ہے جسے علم و تحقیق کا شوق چڑھ گیا ہو ‘‘ ( رشد ، ص ۶۳۲) حقیت یہ ہے کہ حافظ صاحب کی دی گئی مثالیں اختلاف قراء ات کی سرے سے ہیں ہی نہیں بلکہ مفسرین کے نزدیک تصریفِ آیات کے ذیل میں آتی ہیں یا ایک ہی مفہوم مختلف اسالیب میں بیان کیا گیا ہے ۔ ان اللہ غفور الرحیم اور واللہ غفور الرحیم یا اِنَّہ‘ غَفُوْر’‘ شَکُوْر’‘ اور اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْر’‘ شَکُوْر اور اسی طرح متعدد آیات میں ایک ہی مفہوم بیان کیا گیا ہے ۔ ان میں اختلاف ہے نہ تضاد ہے نہ یہ اختلاف قراء ات کا مسئلہ ہے ۔ اس کے بعد حافظ صاحب نے خالص مولویانہ ہتھکنڈا استعمال کیا ہے اور بڑی مہارت سے کیا ہے ۔ اس طرح کے عملی نمونے ہم آئے دن دیکھتے رہتے ہیں ۔ ارشاد فرماتے ہیں ’’ ہم سلیم شاہ صاحب کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کی تحقیقات کے کچھ نمونے قارئین کے سامنے پیش کرنا چاہیں گے‘‘ ۔ لیکن جو نمونے انہوں نے اپنے قارئین کے سامنے پیش کئے ہیں ۔ وہ ہماری تحریر میں اس طرح درج نہیں لیکن جن لوگوں نے اصل تحریر نہ دیکھی ہو وہ تو لاماً غلط فہمی بلکہ ہماری ’’جہالت ‘‘ پر ایمان لے آئیں گے ۔ انہوں نے رشد کے صفحہ ۶۳۲پر ہماری تحریر اس جملے سے شروع کی ہے ۔ ’’ ہم قاری (صفدر ) صاحب اور حافظ (زبیر ) صاحب کی بات مان لیتے ہیں ‘‘ اور ’’ قراء ات کس طرح درست ہو سکتاہے ‘‘ پر ختم کی ہے ۔ بظاہر یہ پوری تحریر مسلسل نظر آتی ہے مگر ہم نے اس طرح لکھی نہیں ۔حافظ صاحب نے ہماری تحریر میں سے 6سطریں لکھ کر 5 سطریں غائب کر کے نئے جملے ’’ آپ کی مزید اطلاع کے لیے عرض ہے ‘‘ سے جوڑ دیتے ہیں اور پوری تحریر لکھ کر یہ تاثر دینا چاہتے کہ سلیم شاہ صاحب دراصل لفظ قرأت کو درست ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں چنانچہ انہوں نے ہماری ادھوری تحریر سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہوئے یوں تبصرہ فرمایا : ’’ طرفہ تماشا یہ ہے کہ جناب سلیم شاہ صاحب نے لفظ ’قرأت ‘ کو درست ثابت کرنے کے لیے اردو اور انگلش ڈکشنریوں کے حوالے دینا شروع کر دےئے۔ سلیم شاہ صاحب جیسے محقق اگر فارسی پشتو کی کسی ڈکشنری کا بھی حوالہ دے دیتے توہمیں حیرت نہ ہوتی ( ص ۶۳۳) اگر یہ صرف حافظ صاحب کے فہم کا قصور ہوتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ سخن فہمی عالم بالا معلوم شد، مگر یہ جان بوجھ کر تحریر میں تحریف کر کے غلط نتیجہ نکالنے کی کوشش ہے ۔ چیلنج : کرنا کوئی علمی وطیرہ نہیں اور آج سے قبل ہمارا یہ رویہ تھا بھی نہیں مگر اس کا کیا کیجئے کہ واسطہ آن پڑا ہے ایک ’مولوی ‘ کے ساتھ جو بدقسمتی سے ’غیر مقلد‘ بھی ہے اور یوں کسی اصول کا پابند بھی نہیں ۔ درج ذیل نکات کے جوابات ’’ رشد‘‘ میں نہیں آ سکے اس لیے ہم چیلنج کرتے ہیں کہ درج ذیل نکات کا جواب پیش کریں ۔ ۱۔ ہم نے محترم غامدی صاحب پر اہلِ رشد کا اعتراض نقل کیا تھا ۔ یہ اعتراض اور عنوان خود اہلِ رشد کا ہی قائم کردہ تھا جو یوں تھا : ’’ غامدی صاحب کی عربی دانی : غامدی صاحب قراء ات متواترہ پر تنقید کا شوق فرما رہے ہیں اور کیفیت یہ ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب میزان میں ص ۲۵۔ ۳۳ تک ’قرأ ت ‘ کا لفظ اپنی بحث میں تقریباً 34 دفعہ لے آئے اور ہر دفعہ انہوں نے اس لفظ کو ’ قرأت ‘‘ ہی لکھا ، گویا انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ لفظ قرأت نہیں بلکہ ’ قراء ت‘ ہوتا ہے جس کی جمع ’قرا ء ات ہے‘‘ ۔ ( رشد ح ا ، ص ۴۹۶) ہماری تحریر اس اقتباس سے شروع ہو تی ہے اور جو 5 سطریں حافظ صاحب نے جان بوجھ کر نکال دیں وہ ہم دوبارہ درج کئے دیتے ہیں تاکہ پورا مفہوم سامنے آ سکے ۔ حذف شدہ سطریں یہ تھیں : ’’ دیانتداری کا تقاضا تو یہ تھا کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ جو آپ لوگوں کے نزدیک منکرِ حدیث تھے ، کے مضمون کو نقل کرتے وقت یہ نشاندہی بھی کر دیتے کہ انکی عربی دانی بھی ویسے ہی ہے ( جس طرح غامدی صاحب کی ہے ) کیونکہ مذکورہ مضمون ( رسائل و مسائل حصہ سوم صفحہ 120 تا 133) میں بھی لفظ قرأ ت ( جمع قرآتین) اسی شکل میں موجود ہے ۔ اس کی تفصیل ہم بتا دیتے ہیں ۔ یہ لفظ صفحہ 126 پر 5 دفعہ ، 127 پر 3 دفعہ ، 128 پر 6 دفعہ ، 129 پر 7 دفعہ ، 130 پر 7 دفعہ ، 131 پر 8 دفعہ ، 132 پر 10 دفعہ اور صفحہ 133 پر 5 دفعہ یعنی مجموعی طور پر 51 دفعہ آیا ہے جو بہر حال جاویداحمد غامدی صاحب سے 17 مرتبہ زیادہ استعمال ہوا ہے ۔ لیکن شاید یہ ذکر کر نا آپ کے لیے مفید مطلب نہ تھا ۔ ‘‘ یہ ساری سطریں غائب کر کے انہوں نے یہ ثابت کیا کہ ہم بھی دراصل یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اصل لفظ قرأت ہی ہے ، حالانکہ اسی سے متصل اگلے جملے میں ہم نے یہ جملہ بھی تحریر کیا تھا جسے حافظ صاحب نے کسی مقصد جلیلہ کے حصول کے لیے پھر حذف کر دیا ۔ کہ ’’ ہم آپ کے بیان کردہ لفظ کو غلط نہیں قرار دے رہے بلکہ عرض مدعا یہ ہے کہ دوسرے اہل علم بھی جو لفظ استعمال کرتے رہے ہیں ، شاید یہ لفظ اتنا غلط بھی نہ ہو جو کہ دوسروں کی عربی زبان ہی مشکوک ہو کر رہ جائے ‘‘ ۔ اس کا مطلب آپ یہ سمجھے یا زبردستی یہ مفہوم کشید کیا ہے کہ ہمارے نزدیک درست لفظ قرأت ہے نہ کہ ’’قراء ت ‘‘ ۔ آپ لفظ غلط نہیں کہہ رہے مگر یہ کون سی منطق ہے کہ غامدی صاحب نے صرف ۳۴ دفعہ یہ لفظ استعمال کیا اور وہ عربی میں جاہل ٹھہریں اور مولانا مودودی ؒ نے 51 دفعہ یہی لفظ استعمال کر کے آپ کے نزدیک اتنے مستند کس طرح بن گئے ؟ عربی زبان میں جاہل ہیں تو دونوں ، سہواً غلط لکھ گئے ہیں تو کسی کی عربی دانی مشکوک نہیں ہو سکتی ۔ اس کا جواب بہر حال ان کے ذمے ہے۔ ۲) ہم نے اپنی تحریر میں کئی اور نکات اٹھائے تھے جن کے جوابات حافظ صاحب اور عمران اسلم صاحب نہیں دیتے ۔ وہ درج ذیل ہیں : ۱) ہم نے اپنے مضمون میں اداریہ نویس کی اختلافِ قراء ات کی بے شمار ’’حکمتیں گنوائی تھیں یعنی کہ سورۃ النساء ۔ ۱۲ آیت میں ’’اخ‘‘ اور ’’اخت ‘‘ میں ابہام ہے جو دوسری قراء ات میں ’’ولہ اخ او اخت من ام ‘‘ کہہ کر دور کر دیا گیا ہے ۔ اسی طرح کا ابہام سورۃ المائدہ میں بیان کیا گیا ہے کہ اس میں ’’او تحریر رقبہ‘‘ کے الفاظ آئے ہیں لیکن ’’ رقبہ‘‘ کی وضاحت موجود نہیں کہ غلام میں کوئی تمیز ہے کہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم یا کسی بھی غلام کو آزاد کیا جا سکتاہے ؟ تو قراء ات کا اختلاف ہمیں بتایا ہے کہ اس ضمن میں غلام کا مسلمان ہونا ضروری ہے ۔ بنا بریں ہم کہتے ہیں کہ کسی بھی مسئلے کی تفسیر میں ایک قراء ات سے معنی اس طرح واضح نہیں ہوتے ( رشد ج ۱ ، ص ۳) ہمارا سوال اب بھی باقی ہے کہ اگر کسی بھی مسئلے کی تفسیر میں ایک قراء ات کافی نہیں تو دو باتیں سمجھا دیں ۔ اولاً کہ ہر مسئلے میں ( بغیر کسی استثنا کے) اختلاف قراء ات کیوں نہیں تاکہ ہم غیر مبہم مفہوم اخذ کر سکیں ؟ ثانیاً اللہ میاں نے مبہم قراء ات نازل ہی کیوں فرمائیں ؟ ان کے بجائے غیر مبہم والی قراء ات ہی کیوں نہ نازل فرما دیں ؟ ۲) ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی صاحب نے نبی اکرم ﷺ نے اپنی زندگی میں مکمل قرآن جو لکھوایا تھا اس کی ایک وجہ یہ بیان کی ہے کہ ’’ مابعد ادوار میں قرآن یا اس کے لفظوں کے حوالے سے کوئی اختلاف پیدا ہو جائے تو کوئی ایسا معیار موجود ہو جو اختلافات کی صورت میں بطور معیار موجود ہو ‘‘ (رشد ح ۲، ص ۸۳۳) لیکن اگلے ہی صفحے پر حضرت عثمان کے جمع کر دہ قرآن کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ حضرت عثمان کے زمانے میں کسی مصدقہ مصحف کی عدم موجودگی کی وجہ سے تغیری کلمات کا اختلاف بھی زوروں پر تھا ۔ ‘‘ ( رشد ح ۲، ص ۳۳۴) ہمارا سوال اس وقت بھی تھا اور اب بھی ہے کہ وہ قرآن جو اختلافات کی صورت میں بطور معیار کام آنے والا تھا اور جسے خود نبی ﷺ نے لکھوایا تھا وہ حضرت عثمانؓ کے عہد تک پہنچتے پہنچتے غیر مصدقہ ہو گیا تھا یا عدم موجود ؟ اس کا سیدھا اور دوٹوک جواب دینے کے بجائے عمران اسلم صاحب نے اسے بھی ہمارا قصور گردانا ۔ چنانچہ فرماتے ہیں : سید صاحب نے یہاں دو جملوں ’’ ایسا معیار موجود ہے جو اختلاف کی صورت میں کسی مصدقہ مصحف کی عدم موجودگی ‘‘ کو نشانے پر رکھتے ہوئے اس میں کجی کی صورت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ۔ قارئین کرام اگر جمع قرآنی کے سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ اور مابعد ادوار کی تمام کیفیات پیش نظر رہیں تو اس قسم کے خیالات کا ابطال کرنے میں دیر نہیں لگے گی ‘‘ ۔ (رشد ح ۳ ، ص ۶۵۴) ہم نے اپنے مضمون میں صاف طور پر لکھ دیا تھا کہ چنداں پریشانی کی ضرورت اس لیے نہیں کہ غلط اور خلاف حقیقت موقف پر ہٹ دھرمی اور اصرار سے ایسی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے ۔ غالباً اسی لیے اس کا کوئی دو ٹوک جواب دینا مناسب نہیں سمجھا گیا ۔ ۳) ہم نے یہ بھی لکھا تھا کہ حافظ زبیر صاحب نے محمد ابراہیم میر محمد ی کے مضمون کا ترجمہ کیا ہے جس میں لکھاگیا کہ ’’ گولڈ زہیر اور نولڈ کے اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن اور قراء ات الگ الگ ہیں ‘‘ نیز یہ کہ اسی قسم کا قول متجدیددین میں سے ایک ایسے شخص کا بھی ہے جو اپنے آپ کو فکرِ اصلاحی کا نمائندہ تصور کرتا ہے ۔ پس فکر اصلاحی کے نمائندے کا یہ دعویٰ ہے کہ قرآن اور قراء ات دو علیحدہ علیحدہ چیزیں ہیں ایک ایسا دعویٰ ہے جس کی دلیل ان کے پاس موجود نہیں۔ ( رشدح ا ، ص ۴۳۳، ۴۳۴) اسی مسئلے میں حافظ حمزہ مدنی صاحب اسی جلد ( ص 24 میں فرماتے ہیں کہ ’’ قرآن ‘‘ اور قراء ات میں فرق ہے ۔ قرآن کہتے ہیں ان الفاظ کو جو منزل من اللہ ہے اور قراء ات اسی قرآن کی خبر کو کہتے ہیں ۔ ان کی تائید میں ’’ رشد ‘‘ ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب کو بھی لے آتاہے جن کا ارشاد ہے ۔ ’’قرآن اور چیز ہے اور قرا ء ا ت اور چیز ہے ۔ قرآن تو اس چیز کا نام ہے جو مصاحف کے اندار ثبت ہے اور رسول ﷺ پر نازل کیا گیا اور تواتر سے نقل ہوتا چلا آیا ہے ۔ جبکہ قراء ات زبان سے اس کی ادائیگی کا نام ہے ۔ قرآن ایک ہے اور قراء ات متعدد ہیں ‘‘ (رشد ح ا ، ص ۱۳۹)ہمارا سوال اب بھی برقرار ہے جس کا جواب ہمارے ناقدین نے نہیں دیا کہ قرآن اور قرا ء ات کو اگر جاوید غامدی صاحب علیحدہ علیحدہ چیزیں قرار دیں تو یہ دعویٰ بلا دلیل ٹھہرے اوروہ متجدد کہلائیں ۔ لیکن یہی دعویٰ حافظ حمزہ مدنی صاحب اور ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب کریں تو ہم انہیں کن الفاظ سے یاد کریں ، حافظ زبیر اور عمران اسلم صاحب یہ الجھن حل کر دیں مہربانی ہوگی ۔ تاہم ان کی خاموشی ہماری سمجھ میں آتی ہے ۔ ۴۔ عمران اسلم صاحب نے بہت سے ورق سیاہ کر دےئے ، کافی محنت کی کہ ’’ رشد‘‘ کے تضادات کو دور ہو سکیں لیکن وائے افسوس! ذرا ملاحظہ فرمائیں : ہمارا پہلا عنوان یہ تھا کہ سبعہ احرف نے سہولت کس کے لیے فراہم کی گئی ہے ؟ صرف اہلِ عرب کے لیے یا پوری امت کے لیے ؟ یہ تضاد عمران اسلم صاحب نے یوں دور کرنے کی کوشش کی ہے ’’ طوالت سے بچتے ہوئے ہم ان تمام عبارتوں کو نقل کرنے کے بجائے صرف اس قدر وضاحت کرتے چلیں کہ سبعہ احرف پر نزول قرآن کی حکمت پوری امت کے لیے آسانی اور سہولت کے طور پر تھی لیکن اس کی وجہ وہ مشقت بنی جو اہلِ عرب کو بعض الفاظ بولنے میں درپیش تھے ۔ اب اصلاً مشقت تو اہلِ عرب کی دور ہوئی لیکن سہولت قیامت تک کے تمام لو گوں کو فراہم ہو گئی ( رشد ح ۳، ص ۶۴۶) ماشاء اللہ چشم بددور مگر تضاد کس طرح دور ہو گیا ! عمران اسلم صاحب کو تو ہم کیا سمجھاپائیں گے ، قارئین کرام نوٹ کر یں کہ حافظ حمزہ مدنی صاحب کا دعویٰ کیا ہے ؟ ان کا ارشاد تھا : ’’ الغرض عربی زبان ہی کے حوالے سے لوگوں میں یہ مشکل پیدا ہوئی تھی اور یہ مشکل تا قیامت اہلِ عرب کے لیے ہی باقی ہے ۔ اب میرے اور آپ جیسے لوگوں کے لیے عربی کا کوئی بھی لہجہ ہو تو وہ ہم نے غیر فطری طور پر ہی سیکھنا ہے چنانچہ ہمارے لیے تو کوئی بھی لہجہ مشکل یا آسان نہیں ہے ، بلکہ تمام لہجے برابر ہیں ‘‘ (رشد ح ا، ص ۲۴۶) حمزہ مدنی صاحب فرما رہے ہیں کہ سبعہ احرف نے جو مشکل دور کی تھی وہ عربی ہی زبان کے حوالے سے تھی اور یہ مشکل تا قیامت اہلِ عرب کے لیے ہی باقی ہے ‘‘ ۔ ’’ تاقیامت اہلِ عرب کے لیے ہی باقی ہے ‘‘ کے جملے کو دس بارہ دفعہ دہرائیں تو شاید عمران اسلم صاحب سمجھ پائیں کہ ان کے ارشاد ’’ سہولت قیامت تک کے تمام لوگوں کو فراہم ہو گئی ‘‘ میں اور حمزہ مدنی صاحب کے ارشاد میں کوئی تضاد ہے یا نہیں ۔ ہم یہ دونوں جملے اکٹھے لکھیں گے تاکہ کوئی موٹی دماغ والا آدمی بھی ان کے فرق کو سمجھ سکے۔ ( الا ما شاء اللہ ) یہ سہولت : ۱) ’’ تا قیامت اہلِ عرب کے لیے ہی باقی ہے ‘‘ (حمزہ مدنی صاحب ) ۲) ’’ قیامت تک کے تمام لوگوں کو فراہم ہو گی‘‘ (عمران اسلم صاحب ) قارئین کرام سے گزارش ہے کہ پہلے جملے میں ’’ اہلِ عرب کے لیے ہی ‘‘ اور دوسرے جملے میں ’’ تمام لوگوں ‘‘ کے الفاظ پر خصوصی توجہ دیں ہم نے اپنی طرف سے عمران اسلم کی سہولت کے لیے ’’ اہلِ عرب ہی ‘‘ اور ’’ تمام لوگوں‘‘ کے فانٹ ذرا بڑا کر تو دئیے ہیں لیکن کسی کے دماغ کے اندر گھسانا ہمارے بس کی بات نہیں ۔ گھس بھی جائیں لیکن کوئی پھر بھی یہی رٹ لگائے کہ ان میں کوئی فرق نہیں بلکہ ایک جملہ دوسرے کی تفسیر کر رہا ہے تو ہم کیا کہہ سکتے ہیں سوائے اس کے کہ: تو خوب سمجھتا ہے نگاہوں کی زبان کو کہنے کو بہت کچھ ہے مگر کچھ نہ کہیں گے ضمناً حافظ زبیر صاحب کے طبع نازک پر اگر گراں نہ گزرے تو ان کی خدمت میں عرض کردوں کہ ابن انشاء ہی یہاں آپ سے مخاطب ہیں جن کی نگارشات کو آپ تمسخر اور تحقیر پر محمول کرتے ہیں ! ۵۔سبعہ احرف کا مفہوم : ہم نے رشد کے قلم کاروں کے چند اقتباسات سامنے لائے تو عمران اسلم صاحب کا خیال ہے کہ ہم نے ان میں قطع و برید کی ہے ورنہ یہ مفہوم تو حل ہو چکا تھا ۔ آپ فرماتے ہیں : ’’ سید سلیم شاہ صاحب کی عبارتوں میں قطع برید ملاحظہ کیجئے کہ عبدالقاری تو سبعہ احرف کے مفہوم کی شافی وضاحت کے لیے علمائے و محققین کی جانب رجوع کا درس دیں اور سید صاحب بھرپور ملمع سازی اور فریب کاری کے ذریعے ان کی پوری عبارت نقل کر نے کے بجائے ایک جملہ ذکر کر کے نعرہ بلند کر دیں کہ اس چیستاں کا کوئی مفہوم دریافت ہی نہیں ہو سکا ‘‘ ( رشد ح ۳، ص ۶۴۸) قارئین کرام خود یہ اقتباس پڑھ کر فیصلہ کر سکتے ہیں ۔ عبدالقاری صاحب کی پوری تحریر خود عمران اسلم صاحب نے لکھ دی ہے ، اس میں وہ خود دیکھ سکتے ہیں وہ کس بے بسی کا اظہار کر رہے ہیں ۔ بجا کہ انہوں نے اس سعی لاحاصل کے لیے محققین کی طرف رجوع کا مشورہ دیا ہے مگر اپنی بے بسی کا اظہار تو سامنے کی بات ہے ۔ اس مسئلے کے حل کے لیے رشد ح ۱ میں اداریہ نویس نے جو کاوشیں کی تھیں ان کا ہم نے خصوصی ذکر کیا تھا ۔ اس ضمن میں ہم نے حافظ عبدالرحمٰن مدنی صاحب کا بھی ارشا دنقل کیا تھا کہ ’ ’ یہ اختلافات دراصل لب و لہجہ کا فرق ہوتا ہے جو اردو میں بھی مثلاً ناپ تول و ماپ تول ، خسر و سسر، انگریزی کا لفظ شیڈول اور سکیجوئل ‘‘ ۔ اس پر ہمارا جو تبصرہ تھا اسے دونوں حضرات نے بالکل گول کر دیا ۔ ہم چاہیں گے اس بارے میں بھی اگر عالمانہ ممکن نہ ہو تو مولویانہ ہی جواب دے دیں ۔ چیلنج کے عنوان کے تحت ان 5 نکات پر دونوں حضرات نے یا تو خاموشی اختیار کی یاتحریف کر کے جواب دینے کی کوشش کی ہے ۔ قارئین سے گزارش ہے کہ ان مضامین کا خود تقابلی جائزہ لے کر کوئی نتیجہ نکالیں ۔ عمران اسلم صاحب نے اپنا مضمون ان جملوں پر ختم کیا ہے : ’’اخیر میں سید صاحب سے ہم یہی عرض کریں گے کہ جناب حدیث سبعہ احرف کے مفہوم سے متعلق بحث معرکتہ الاراء مسائل میں سے ہے جس کی تشریح و تعبیر میں اہل قلم کے متعدد اقوال موجود ہیں ‘‘ ( ص ۶۵۵) ہم بھی در ج بالا 5 نکات کے علاوہ ان سے چند سوالات پوچھ کر اپنی گزارشات ختم کردیں گے ۔ ۱) پہلی گزارش تو یہ ہے کہ پورا قرآن مجید سات حروف پر نازل ہوا ہے ۔ اب اس قرآن مجید میں چھ ساڑھے چھ ہزار کے لگ بھگ آیات موجود ہیں ۔ ان میں سے کوئی چار پانچ آیات مسلسل سات حروف پر بتا دیں تاکہ ہم کوئی ٹھوس نتیجہ نکال سکیں ۔ ۲) رشد کی پہلی جلد کے صفحہ ۶۷۸ پر کلیہ القرآن الکریم ، جامعہ لاہور الاسلامیہ کے عنوان کے تحت ہمیں بتایا گیا تھا کہ : ’’ کلیہ القرآن ، جامعہ لاہور الاسلامیہ نے جہاں خدمت قرآن کے بہت سے سلسلے شروع کر رکھے ، وہاں جمع کتابی کے سلسلہ میں بھی کسی سے پیچھے نہیں رہا اور اس میں وہ کام کیا ہے جو کہ تاریخ اسلام میں اپنی نوعیت اور جامعیت کے اعتبار سے یگانہ حیثیت کا حامل ہے ۔ وہ یہ کہ قراء ات قرآنیہ عشرہ متواترہ ، جوکہ کلیات اور مدارس میں صدیوں سے پڑھائی جاتی رہی ہیں اور جیسا کہ ہم نے پہلے کہا کہ قوائد و ضوابط اور پڑھنے کے انداز تو کتبِ قراء ات میں موجود ہیں ، لیکن باقاعدہ مصاحف کی شکل میں موجود نہیں ہیں ، کلیہ القرآن الکریم ، جامعہ لاہور کے فضلاء میں سے تقریباً بارہ محقق اساتذہ نے محنت شاقہ فرما کر تین سال کے عرصہ میں وہ تمام غیر متداولہ قرا ء ات میں سولہ مصاحف تیار کر لیے ہیں اور جیسا کہ راقم نے پہلے عرض کیا ہے کہ یہ کام اپنی نوعیت اور جامعیت کے حوالے سے تاریخ اسلامی کا پہلا کام ہے ۔ ‘‘ اس اقتباس سے یہ تو معلوم ہو گیا کہ غیر متداولہ قراء ات میں سولہ قرآن تیار کر لیے گئے ہیں اور یہ کام پہلا کام ہے جو تاریخ اسلامی میں ظہور پذیر ہوا۔ حضور صرف یہ سمجھا دیں کہ رشد ج ۳ ، کے صفحہ ۶۳۰ پر حافظ عبدالرحمٰن مدنی صاحب کو مولانا تقی عثمانی صاحب کے خط کے جواب میں یہ جھوٹ بولنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ کہ ’’ میں اپنے ادارہ کی طرف سے آپ کو یہ اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں مختلف قرآء توں میں قرآن شائع کرنے کا ہمارا کوئی پروگرام نہیں ہے ‘‘ ۔ ناراض ہونے کی بات نہیں۔اِدھر اُدھر مارنے کے بجائے سیدھی طرح میرے اٹھائے ہوئے سوالات کے متعین جوابات دے دیں۔رشد نہ ہوتا کوئی اور ہوتا تب بھی اس سے یہی گذارش کرتے۔ تم ناحق ناراض ہوئے ہو ، ورنہ میخانے کا پتہ ہم نے ہر اس شخص سے پوچھا جس کے نین نشیلے تھے تحریر : محمد انور عباسی |
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر Rehan (10-11-11) |
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ویسے آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ دنیا کے تقریبا چالیس ممالک میں روایت ورش اور پانچ ممالک میں روایت قالون اور بعض ممالک میں روایت دوری میں قرآن پڑھا جاتا ہے۔ جبکہ یہ بات معلوم و معروف ہے کہ قرآن امت کے اجماع اور قولی تواتر سے ثابت ہوتا ہے۔ امت تو اس وقت عملا پانچ روایات پڑھ رہی ہے کسی ایک روایت کے پڑھنے پر امت کا اتفاق تو دور کی بات ہے‘ عامۃ الناس کو تو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ قرآن کی ’روایت حفص‘ کے علاوہ بھی کو ئی روایت ہے جو کہ بعض دوسرے اسلامی ممالک میں پڑھی جاتی ہے اور اس کے پڑھنے کا انداز و اسلوب ’روایت حفص‘سے بہت مختلف ہے۔ نیز اجماع سے مراد عوام الناس کااجماع نہیں ہے بلکہ اہل علم کا اجماع ہے۔ پس اہل علم حنفی ‘ شافعی ‘ مالکی‘ حنبلی‘ اہل حدیث ‘ بریلوی اور دیوبندی اس بات پر متفق ہیں کہ مشرق و مغرب پڑھی جانے والی روایت حفص‘ قالون‘ ورش اور دوری قرآن ہیں اور اللہ کے رسولﷺ سے قطعی و یقینی سند سے ثابت ہیں۔اور اس کا ثبوت رشد میں شائع ہونے والے اکثر مسالک کے اہل علم کے مضامین ہیں۔ اب آپ جو بات ثابت کرنے نکلے ہیں رانا صاحب، اس سے اور کچھ ثابت ہو یا نہ ہو یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کی حفاظت نہیںفرما سکے(نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ)۔ بھلا یہ قرآن کی کیسی حفاظت ہوئی کہ امت مسلمہ کی ایک جمیع اکثریت غیر قرآن کو قرآن ہی سمجھ کر پڑھتی رہی اور کسی کو نہ معلوم ہوا حتیٰ کہ دور جدید میں کچھ مفکرین نے آ کر امت کو اس فتنہ کی خبر دی۔ لہٰذا یا تو یہ مانیں کہ قرآن کی حفاظت نہیں ہوئی اور اتنے ممالک میں جو قرآن کی چار مشہور قرات کی تلاوت ہو رہی ہے یہ سب غیر قرآن ہے۔ اور یا یہ مانیں کہ جو آپ قرات کے اختلاف کو قرآن ہی کا اختلاف بتانے پر تلے ہیں وہ غلط ہے۔ Last edited by شکاری; 09-11-11 at 12:40 PM. |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماہنامہ رشد کے جس قرات نمبر کو یہاں نشانہ تنقید بنایا گیا ہے۔ رانا صاحب سے تو امید نہیں کہ اپنے مضامین کے ساتھ رشد کی اصل اشاعتوں کا لنک بھی مہیا فرمائیں گے، اگرچہ وہ پہلے ہی اس بارے جانتے ہوں گے۔ بہرحال، دیگر قارئین درج ذیل لنکس سے تینوں جلدیں ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔
ماہنامہ رشد: قرات نمبر (حصہ اول) ماہنامہ رشد: قرات نمبر (حصہ دوم) ماہنامہ رشد: قرات نمبر (حصہ سوم) اس سب تنقید اور چور چور کا شور مچانے کی اصل وجہ تو یہ ہے کہ ناقدین حضرات کے انکار حدیث پر پردہ پڑا رہے۔ خیر، اس کے لئے بھی غیر متعصب قارئین ماہنامہ محدث کا انکار حدیث نمبر ملاحظہ فرمائیں۔ ماہنامہ محدث: فتنہ انکار حدیث نمبر (خصوصی اشاعت) اور جو ہمارے دور جدید کے منکرین ہیں، جن میں فراہی، اصلاحی اور غامدی گروپس نمایاں ہیں، ان کا انکار حدیث کا طرز بھی انوکھا ہے کہ صاف چھپتے بھی نہیں والی بات ہے۔ ان کے لئے علیحدہ مفصل و مدلل رد یہاں دستیاب ہے۔ انکار حدیث کا نیا روپ (جلد اول) انکار حدیث کا نیا روپ (جلددوم) چونکہ اکثر ہمارے بھائیوں کی جانب سے وہی چبائے ہوئے نوالے پیش کئے جاتے ہیں، لہٰذا درج بالا تینوں لنکس جو کہ اپنے موضوع پر انسائیکلو پیڈیاز ہیں، انہی کا مطالعہ کر لیا جائے تعصب کی عینک اتار کر، تو ان شاءاللہ افاقہ کیلئے یہی کافی ہوں گے۔ Last edited by شکاری; 09-11-11 at 01:35 PM. |
|
|
| 6 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (09-11-11), کنعان (19-11-11), ابوسعد (13-12-11), ابن آدم (13-11-11), باذوق (13-11-11), عبیداللہ عبید (09-11-11) |
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
محترم المقام ! عزت مآب ! فضیلۃ الشیخ ! مفتی عبد الحنان صاحب مد ظلہ و تعالٰی السلام و علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ! امید ہے آپ ایمان اور صحت کی بہترین حالت میں ہوں گے۔ گزارش ہے کہ میں قرآن فہمی کا شائق اور تحقیق کا طالبعلم ہوں اس حوالہ سے ایک چھوٹی سی لائبریری بھی بنائی ہوئی ہے۔ اپنی اصلاح اور تحقیق کی غرض سے مختلف تحقیقی مضامین اور کتب کا مطالعہ کرتا رہتا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے کسی دوست کی وساطت سے جامعہ العلوم الاسلامیہ کی طرف سے شائع کردہ " ماہنامہ رشد" کے دو حصے پڑھنے کا موقع ملا۔ میری رائے میں ان دو حصوں میں محض علمی رعب اور دبدبہ جمانے کی غرض سے 1656 صفحات اور 99 مضامین لکھے گئے ہیں۔ جس میں صحیح البخاری کی سبعہ احرف والی حدیث کو غلط معانی پہنا کر پورے قرآن کے متن کو تبدیل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔ بنظر غائر مطالعہ کے بعد یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ کلیتہ القرآن الکریم جامعہ لاہور کے فضلاء میں سے بارہ محقق اساتذہ نے " محنت شاقہ" فرما کر تین سال کے عرصے میں قرآن مجید کی غیر متداولہ قرات کے 16 مصاحف تیار کرلئے ہیں اور صرف حواشی میں نہیں بلکہ قرآنی متن کی حیثیت سے 16 الگ مصاحف شائع کروانے کا ارداہ رکھتے ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ ان کا تعلق اہل حدیث مسلک سے ہے یہ مسئلہ اپنی جگہ ایک انتہائی پریشان کن مسئلہ ہے۔کیونکہ ایسا کرنے سے: ) بائبل کی طرح قرآن بھی غیر محفوظ تصور کیا جانے لگے گا۔ ) امت مسلمہ کے اندر شدید انتشار پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ ) دشمنان اسلام و قرآن کے ہاتھ مضبوط ہونگے۔ اس سلسلہ میں بندہ عاجز نے بذریعہ تحریر و ٹیلی فون تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء ، مفتیان عظام اور اہل علم حضرات سے رابطہ کیا ہے اور انہیں اس سلسلہ میں اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے۔ الحمد للہ ! اس پر بہت سے حضرات جن میں اہل حدیث حضرات بھی شامل ہیں اس پر کا م کر رہے ہیں۔خاص طور پر میری مولانا ارشاد الحق اثری صاحب سے بھی اس سلسلہ میں تفصیلی بات ہوئی ہے انہوں نے ہی مجھے آپ کو خط لکھنے کا کہا جس پر آپ کو یہ خط لکھ کر عرض گزار ہوں کہ آپ بھی اس سلسلہ میں اپنا کردار ادا کریں اس مسئلہ پر کچھ مفتیان نے مجھے تحریری فتوے بھی ارسال کئے ہیں جن کی فوٹو کاپی ارسال خدمت ہے۔ آپ کو خط لکھنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ آپ انصاف کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس سلسلہ میں فتویٰ تحریرکریں اور اپنے احباب میں تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی ایک کاپی مجھے بھی ارسال کریں ۔ امید واثق ہے کہ آپ میری عرضداشت پر ہمدردانہ غور فرماتے ہوئے عملی قدم اٹھائیں گے۔ والسلام کاشف علی ملتان روڈ بھائی پھیرو پھول نگر تحصیل پتو کی ضلع قصور پوسٹ کوڈ 55260 |
|
|
|
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کیا اب قران کے بیس مختلف نسخے پڑھنا ہوں گے ؟ Quran e Kareem & Saba'tu Ahruf by Abdul Kareem Asri Recite Quran Alone or Read Ahadith Based Twenty Qurans by kitabosunnat.com Muta Mutah in Salafi Sunni Islam Will Be Allowed By Monthly Rushad Qiraat No. Based Twenty Qurans Wake Up! Defend the Quran by Syed Ali Sharfuddin Moosavi قرآن سات حرفوں (قرائتوں) پر نازل ہوا ؟ دشمنان خدا جھوٹ بولتے ہیں |
|
|
|
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محترم، جن سولہ نسخوں کی آپ بات کر رہے ہیں وہ ریسرچ ورک ہے۔ اور پہلے ہی سے کتب احادیثمیںموجود ہیں۔ صرف ان کو یکجا کرنا مقصود ہے تاکہ علم القرات کے طلبا اس سے مستفیض ہو سکیں۔آپ کے مضمون میںجو یہ اعتراض کیا گیا ہے:
اقتباس:
آپ نے میری بات کا جواب نہیںدیا کہ جو امت میںچار قرات رائج ہو چکی ہیںاور صدیوںسے قراآن کے یہ نسخے حکومتوں، مدارس، یونیورسٹیوں کی زیر نگرانی شائع ہو رہے ہیں اور دیگر ممالک میںانہی کو قرآن سمجھا جاتا ہے تو کیا وہ غلط ہے؟ کیا معاذ اللہ خدا قرآن کی حفاظت نہیں کر سکا؟ یا آپ ہی کا لگایا ہوا الزام غلط ہے؟ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (09-11-11), skjatala (12-11-11), ابوسعد (13-12-11), ابن آدم (13-11-11), حیدر Rehan (10-11-11) |
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
(ARABIC) سنی سلفی اسلام میں متعہ حلال! شکریہ سبعہ احراف! قرا ئت ابن عباس |
|
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر Rehan (10-11-11) |
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرا ٹھوس سوال اب بھی وہیںقائم ہے، باقی ضمنی مباحثہیںاور ان پر بے شک علیحدہ بات چیت کے ذریعے مزید تحقیق کی گنجائش ہے: لیکن آپ جو سبعہ احرف قرات ہی سے انکار پر تلے ہیں، اس بنیادی بات کا تو جواب دیںتو بات آگے بھی بڑھے۔
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ان 16 یا 4 میں عثمان ؓ والا قرآن کون سا ہے ؟؟؟ |
|
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر Rehan (10-11-11) |
|
|
#15 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میرا ٹھوس سوال اب بھی وہیںقائم ہے، زبان کو توڑ موڑ کر کتنے اختلاف قرات بنائے ہیں ؟؟؟ وَاِنَّ مِنْھُمْ لَفَرِيْقًا يَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَھُمْ بِالْكِتٰبِ لِتَحْسَبُوْهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَمَا ھُوَ مِنَ الْكِتٰبِ ۚ وَيَقُوْلُوْنَ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَمَا ھُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۚ وَيَـقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ ( 3:78 ) ان ہی یہودیوں میں سے بعض وہ ہیں جو کتاب پڑھنے میں زبان کو توڑ موڑ دیتے ہیں تاکہ تم لوگ اس تحریف کو بھی اصل کتاب سمجھنے لگو حالانکہ وہ اصل کتاب نہیں ہے اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہے حالانکہ اللہ کی طرف سے ہرگز نہیں ہے یہ خدا کے خلاف جھوٹ بولتے ہیں حالانکہ سب جانتے ہیں ( 3:78 ) And there is a group, a party, of them, the People of the Scripture, like Ka‘b b. al-Ashraf, who twist their tongues with the Book, altering it by reciting it not according to the way in which it was revealed, but according to the way in which they have distorted it, as in the case of the descriptions of the Prophet (s) and other similar matters; so that you may suppose it, such distortion, as part of the Book, that God revealed; yet it is not part of the Book; and they say, ‘It is from God’, yet it is not from God, and they speak falsehood against God, while they know, that they are liars. __________________ كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن" |
|
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر Rehan (10-11-11) |
![]() |
| Tags |
| کتابوں, گمان, پاکستان, ڈکشنری, قواعد, قرآن, قرآن حکیم, نماز, نظر, موجودہ, ماں, مجید, مسائل, آج, انگریزی زبان, اردو, اردو لغت, تلاوت قرآن, حدیث, خدا, دریافت, دعا, غامدی, صحت, صدمہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ََِِ"" اپنا وزن کم کریں "" | مژگان | فیشن اور بیوٹی ٹپس | 29 | 01-01-12 02:34 AM |
| انٹرنیٹ میں انقلابی سہولتوں کا اضافہ: "بنگ" اور "ویوز" | Hashims | Search Engines | 8 | 02-09-11 03:24 PM |
| اسلامی سکرین سیور """ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ؟ """" | عادل سہیل | اسلام اور معاشرہ | 17 | 23-02-11 07:37 PM |
| "کوئی" "کسی" سفارت خانے سے وزیر اعظم ہاوس کی جاسوسی کر رہا تھا | حیدر | خبریں | 6 | 11-10-10 04:49 PM |
| کراچی میں پولیس کا "ناکے پہ ناکہ "اور ڈاکو ں کا "ڈاکے پہ ڈاکہ"جاری | جاویداسد | خبریں | 0 | 01-10-10 06:38 PM |