واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم



علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم


اختلاف قراءات، قرآنی مصاحف اور احادیث کا تصادم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-12-11, 03:58 PM   #1
اختلاف قراءات، قرآنی مصاحف اور احادیث کا تصادم
rana ammar mazhar rana ammar mazhar آن لائن ہے 10-12-11, 03:58 PM

عروة بن زبیر، سورہ احزاب کے متعلق عائشہ سے اس طرح نقل کرتے ہیں :

جب سورة احزاب کی پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کے زمانے میں تلاوت ہوتی تھی تو اس وقت اس سورة میں دو سو آیتیں تھیں، لیکن جس وقت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس قرآن کو جمع کیا تو اس میں فقط اتنی ہی آیات ہیں جو اس وقت قرآن کریم میں موجود ہیں (۱) ۔

۱۔ کتاب مسند احمد بن حنبل جلد ۵ ص ۱۸۰ تفسیر سورہ احزاب ۔

1 - ا ب ج : (26407)
وہ روایات جوزربن حبیش رضی اللہ عنہ نے ان سے نقل کی ہیں ۔
حدثنا عبد الله حدثني وهب بن بقية أخبرنا خالد بن عبد الله الطحان عن يزيد بن أبي زياد عن زر بن حبيش عن أبي بن كعب قال كم تقرون سورة الأحزاب قال بضعا وسبعين آية قال لقد قرأتها مع رسول الله صلى الله عليه وسلم مثل البقرة أو أكثر منها وإن فيها آية الرجم
مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 1334 حدیث مرفوع
زر سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا تم لوگ سورت احزاب کی کتنی آیتیں پڑھتے ہو؟ زر نے جواب دیا کہ ستر سے کچھ زائد آیتیں انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سورت جب پڑھی تھی تو یہ سورت بقرہ کے برابر یا اس سے بھی زیادہ تھی اور اس میں آیت رجم بھی تھی (کہ اگر کوئی شادی شدہ مرد و عورت بدکاری کا ارتکاب کریں تو انہیں لازماً رجم کردو یہ سزا ہے جو اللہ کی طرف سے مقرر ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے)

1 - ا ب ج : (26407)
وہ روایات جوزربن حبیش رضی اللہ عنہ نے ان سے نقل کی ہیں ۔
حدثنا عبد الله حدثنا خلف بن هشام حدثنا حماد بن زيد عن عاصم بن بهدلة عن زر قال قال لي أبي بن كعب كأين تقرأ سورة الأحزاب أو كأين تعدها قال قلت له ثلاثا وسبعين آية فقال قط لقد رأيتها وإنها لتعادل سورة البقرة ولقد قرأنا فيها الشيخ والشيخة إذا زنيا فارجموهما البتة نكالا من الله والله عليم حكيم
مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 1335 حدیث موقوف
زر سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا تم لوگ سورت احزاب کی کتنی آیتیں پڑھتے ہو؟ زر نے جواب دیا کہ ستر سے کچھ زائد آیتیں انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سورت جب پڑھی تھی تو یہ سورت بقرہ کے برابر یا اس سے بھی زیادہ تھی اور اس میں آیت رجم بھی تھی (کہ اگر کوئی شادی شدہ مرد و عورت بدکاری کا ارتکاب کریں تو انہیں لازماً رجم کردو یہ سزا ہے جو اللہ کی طرف سے مقرر ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے)

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
محترم رانا صاحب،
میں آپ کو ہجے کر کے سمجھاتا ہوں ::
1۔ اس دھاگے کا موضوع یہ نہیں‌ہے کہ ان مختلف روایات میں‌طبع ہونے والے قرآنی مصاحف میں‌کیا اختلافات ہیں۔ بلکہ اختلافات ہیں‌بھی یا نہیں۔ ہمیں‌اس دھاگے کی حد تک اس پر بات ہی نہیں‌کرنی۔ ان روایات میں‌اختلافات کی نوعیت پر ہم ان شاءاللہ علیحدہ دھاگے میں‌بات کریں‌گے اور وہاں پھر صرف اختلافات پر ہی بات ہوگی۔
2۔ ہم نے اس دھاگے میں‌ صرف اتنی بات ثابت کی ہے کہ دنیا بھر میں قرآن مختلف روایات میں‌طبع ہو رہا ہے اور ان روایات کے نام قالون، ورش، سوسی، دوری، وغیرہ ہمارے مضمون میں‌ شامل اسکین صفحات میں‌ دیکھے جا سکتے ہیں۔ ہم نے آڈیو، ویڈیو اور تحریری ثبوت ، اسکین بمعہ آن لائن دے کر صرف یہی بات ثابت کی ہے کہ دنیا بھر میں ‌روایت حفص (جو کہ برصغیر میں‌ تلاوت ہوتی ہے) کے علاوہ دیگر روایات میں بھی قرآن شائع ہو رہا ہے۔ اور تلاوت کیا جا رہا ہے۔ بس۔
اختلاف قراءات اور دنیا بھر میں‌شائع ہونے والے قرآنی مصاحف

محترم شکاری صاحب، میں آپ سے ہجے کر کے سوال کرتا ہوں :: مکمل سورت احزاب کس روایت میں ہے، قالون، ورش، سوسی، دوری ؟؟؟


1 - ا ب ج : (26407)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات
حدثنا روح حدثنا ابن جريج أخبرني أبو الزبير أنه سمع عبد الرحمن بن أيمن يسأل ابن عمر وأبو الزبير يسمع فقال كيف ترى في رجل طلق امرأته حاضا فقال إن ابن عمر طلق امرأته على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال عمر يا رسول الله إن عبد الله طلق امرأته وهي حاض فقال النبي صلى الله عليه وسلم ليراجعها علي ولم يرها شيا وقال فردها إذا طهرت فليطلق أو يمسك قال ابن عمر وقرأ النبي صلى الله عليه وسلم يا أيها النبي إذا طلقتم النسا فطلقوهن في قبل عدتهن قال ابن جريج وسمعت مجاهدا يقرؤها كذلك
مسند احمد:جلد سوم:حدیث نمبر 1051 حدیث مرفوع
عبدالرحمن بن ایمن رحمتہ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سےایام کی حالت میں طلاق کا مسئلہ پوچھا ابوالزبیریہ باتیں سن رہے تھے حضرت ابن عمرنے فرمایا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کہو کہ وہ اس سے رجوع کرلے پھر اگر وہ اسے طلاق دینا ہی چاہے تو طہر کے دوران دے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت احزاب کی یہ آیت اس طرح بھی پڑھی ہے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب آپ لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت کے آغاز میں طلاق دو (ایام طہر میں طلاق دینا مراد ہے نہ کہ ایام حیض میں )

1 - ا ب ج : (26407)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات
حدثنا حجاج عن ابن جريج وعبد الرزاق أخبرنا ابن جريج أخبرني أبو الزبير أنه سمع ابن عمر يقول قرأ رسول الله صلى الله عليه وسلم يا أيها النبي إذا طلقتم النسا فطلقوهن في قبل عدتهن
مسند احمد:جلد سوم:حدیث نمبر 1751 حدیث مرفوع
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت احزاب کی یہ آیت اس طرح بھی پڑھی ہے اے نبی! صلی اللہ علیہ وسلم جب آپ لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت کے آغاز میں طلاق دو (ایام طہر میں طلاق دینا مراد ہے نہ کہ ایام حیض میں )

محترم شکاری صاحب، میں آپ سے ہجے کر کے سوال کرتا ہوں :: "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت احزاب کی یہ آیت اس طرح بھی پڑھی ہے"، سورت احزاب "اس طرح" کس روایت میں ہے، قالون، ورش، سوسی، دوری ؟؟؟

1 - ا ب ج : (26407)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدثنا عبد الله قال وجدت هذا الحديث في كتاب أبي بخط يده حدثنا الحكم بن نافع أنا شعيب عن الزهري أخبرني خارجة بن زيد أن زيد بن ثابت قال لما نسخنا المصاحف فقدت آية من سورة الأحزاب قد كنت أسمع النبي صلى الله عليه وسلم يقرأ بها فالتمستها فلم أجدها مع أحد إلا مع خزيمة بن ثابت الأنصاري الذي جعل رسول الله صلى الله عليه وسلم شهادته شهادة رجلين قول الله عز وجل من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه
مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 1727 حدیث مرفوع
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ مصاحف کے نسخے تیار کر رہے تھے تو مجھے ان میں سورت احزاب کی ایک آیت نظر نہ آئی جو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے ہوئے سنتا تھا میں نے اسے تلاش کیا تو وہ مجھے صرف حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملی جن کی شہادت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کی شہادت کے برابر قرار دیا تھا اور وہ آیت یہ تھی من المؤمنین رجال صدقواماعاھدو اللہ علیہ ۔

1 - ا ب ج : (26407)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدثنا أبو كامل حدثنا إبراهيم حدثنا ابن شهاب أخبرني خارجة بن زيد أنه سمع زيد بن ثابت يقول فقدت آية من سورة الأحزاب حين نسخنا المصاحف قد كنت أسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرأ بها رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فالتمستها فوجدتها مع خزيمة بن ثابت فألحقتها في سورتها في المصحف
مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 1730 حدیث مرفوع
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ مصاحف کے نسخے تیار کر رہے تھے تو مجھے ان میں سورت احزاب کی ایک آیت نظر نہ آئی جو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے ہوئے سنتا تھا میں نے اسے تلاش کیا تو وہ مجھے صرف حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملی جن کی شہادت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کی شہادت کے برابر قرار دیا تھا اور وہ آیت یہ تھی " من المؤمنین رجال صدقوا ماعاھدوا اللہ علیہ " ۔ پھر میں نے اس کی سورت میں مصحف کا حصہ بنا دیا۔

1 - ا ب ج : (26407)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدثنا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري عن خارجة بن زيد أو غيره أن زيد بن ثابت قال لما كتبت المصاحف فقدت آية كنت أسمعها من رسول الله صلى الله عليه وسلم فوجدتها عند خزيمة الأنصاري من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه إلى تبديلا قال فكان خزيمة يدعى ذا الشهادتين أجاز رسول الله صلى الله عليه وسلم شهادته بشهادة رجلين قال الزهري وقتل يوم صفين مع علي رضي الله عنهما
مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 1739 حدیث مرفوع
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ مصاحف کے نسخے تیار کر رہے تھے تو مجھے ان میں سورت احزاب کی ایک آیت نظر نہ آئی جو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے ہوئے سنتا تھا میں نے اسے تلاش کیا تو وہ مجھے صرف حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملی جن کی شہادت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کی شہادت کے برابر قرار دیا تھا اور وہ آیت یہ تھی " من المؤمنین رجال صدقوا ماعاھدوا اللہ علیہ " ۔

محترم شکاری صاحب، میں آپ سے ہجے کر کے سوال کرتا ہوں :: جمع قرآن کا یہ واقعہ کس دور میں ہوا ؟؟؟
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"

rana ammar mazhar
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 250
Reply With Quote
پرانا 10-12-11, 04:46 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

رانا صاحب،
غصہ کرنے کی کیا بات ہے۔ ۔ آپ کے قرآنی نظریات پر اعتراضات شروع ہوئے ہیں‌تو اب احادیث‌کی پناہ لینا چاہ رہے ہیں۔ اگر حدیث‌کو اپنے دعوے میں‌پیش کریں‌گے تو پھر ساری احادیث‌ہی کو ماننا پڑے گا۔ اپنی مرضی کی حدیث کا اقرار اور مخالف حدیث‌کا انکار یہ تو کوئی اچھی روش نہیں۔

فکر مت کیجئے گا اور اتنی جلدی جلدی دھاگے لگا کر اپنی توانائیاں ضائع نہ کریں۔ میں‌بہت ٹھنڈا ہو کر ان شإاللہ اس موضوع سے متعلق ہر اہم گوشہ کو الگ الگ دھاگے میں‌ڈسکس کروں‌گا۔ آپ وہیں‌اعتراض کیجئے گا۔ اور آپ کی گرمی دیکھ کر مجھے اور بھی ٹھنڈ لگ رہی ہے۔۔!
آپ کے گرو جی فاروق سرور خاں صاحب تو منظر عام سے غائب ہو گئے ہیں۔ بے چارے ، اتنی اخلاقی جرات تو ہے نہیں‌کہ اپنی غلطیوں اور غلط فہمیوں‌کا اعتراف کریں۔ اور اتنی سکت بھی نہیں‌کہ ہر وقت حدیث‌کو خلاف قرآن کہہ کر رد کرتے رہنے کے بعد اب قرآن کی سند ہی لے آئیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک۔ تیسرا رستہ وہی تھا کہ چپکے جا بیٹھے ہیں کسی کونے میں۔
البتہ آپ کی شخصیت کچھ مختلف ہے۔ آپ کو یہی معلوم نہیں ہوتا کہ کون سی بات آپ کے حق میں‌جاتی ہے اور کون سی خلاف۔ لہٰذا آپ خوب چہکتے ہیں۔انجانے میں‌آپ بہت جگہ میری مدد کر چکے، جس کے لئے شکریہ قبول فرمائیے۔ ویسے چہکتے رہیں، پاک نیٹ‌کا گلشن آپ ہی کے دم سے پر رونق بنا ہوا ہے۔
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65]
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
شکاری کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (10-12-11)
پرانا 10-12-11, 06:00 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default شکاری صاحب، بات اتنی سی ہے جسے آپ اختلاف قراءات کہتے ہیں میرے مطابق وہ صرف رسم الخط کا ارتقاء ہے

Due to fear of deletion.

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
تعلق سمجھانے کا بہت شکریہ رانا صاحب۔
اگر آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ پاکستان میں‌بھی قرآن مختلف روایات میں‌طبع ہو رہا ہے تو بہت خوب۔ آپ بھی وہی بات کہہ رہے ہیں کہ جو ہم کہہ رہے ہیں۔ یعنی یہی کہ دنیا بھر میں ‌قرآن کی صرف وہی قراءات نہیں‌ہے جو اوپن برہان پر ہے یا جو آپ کے گھر میں‌ہے۔ بات ختم۔ یہاں‌آپ ہم سے ہاتھ ملا رہے ہیں تو ہمارا ہاتھ بھی حاضر ہے۔
محترم، چونکہ قرآن پاکستانی و غیر پاکستانی نہیں ہوا کرتا۔ بلکہ قرآن ایک عالمگیر کتاب ہدایت ہے۔ لہٰذا ہمیں‌ تو اس سے فرق نہیں ‌پڑتا کہ مختلف روایات کی طباعت تو ہمارے نزدیک درست ہے۔ اصل فرق آپ کو پڑتا ہے کہ آپ تو منکر قراءات ہیں۔
امید ہے کہ اب آپ کو بھی ہمارے موضوع سے آپ کی پوسٹ کا تعلق سمجھ آ گیا ہوگا۔ ویسے آپ کی آسانی کے لئے آپ کو بتا رہا ہوں‌کہ محترم، آپ نے یہ ثابت کرنا ہے کہ دنیا میں‌صرف ایک ہی قراءت رائج ہے اور وہی طبع ہوتی ہے۔ آپ خود اپنے ہی خلاف ہتھیار مہیا کرتے ہوئے ہمیں بتا رہے ہیں کہ پاکستان میں‌بھی ایک سے زائد قراءات میں ‌قرآن طبع ہو رہا ہے۔ جس میں‌ بقول آپ کے کافی سنگین اختلافات ہیں (نعوذباللہ) ۔ تو اس دھاگے کی حد تک تو آپ ہماری تائید ہی کر رہے ہیں، جس کے لئے شکریہ قبول فرمائیے۔
شکاری صاحب، بات اتنی سی ہے جسے آپ اختلاف قراءات کہتے ہیں میرے مطابق وہ صرف رسم الخط کا ارتقاء ہے جیسا کہ Color اور Colour کا فرق اور بول چال کا انداز !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں
"احمد دیدات" کا "قرآن" اور "اختلاف قرات" والا کل كا "اسپیشل قرآن"۔۔۔؟ اٹھو قرآن کا دفاع کرو !!!

* حافظ عبدالرحمن مدنی صاحب بھی ارشاد فرماتے ہیں : ’’ اصل میں جس طرح مختلف زبانوں اور لہجوں کا فرق ہوتا ہے اس طرح عربی زبان میں بھی لب و لہجہ کا فرق موجود ہے ‘‘ ( رشد ح ا، ص 41) مزید فرماتے ہیں : ’’ یہ مختلف لب و لہجے دیکھ کر بعض لوگ اشکال کا شکار ہو جاتے ہیں کہ قرآن مجید میں بھی اختلا ف ہے حالانکہ یہ قرآن مجید کا اختلاف نہیں ۔ آسان انداز میں بات یوں سمجھئے کہ دنیا کی ہر زبان کے اندر لب و لہجے کا اختلاف ہے ۔ مثال کے طور پر آپ اردو زبان کو ہی لے لیں ، اس میں ایک لفظ ہے ’ ناپ تول ‘ بعض لوگ اسے ’ماپ تول ‘ کہتے ہیں ، اس کے علاوہ ایک لفظ ’سسر‘ ہے بعض لوگ اسے ’سسر‘ بعض ’خُسر‘ کہتے ہیں ۔ انگریزی زبان کا ایک لفظ ہے ’شیڈول‘ بعض انگلش بولنے والے اسے شیڈول اور بعض ’ سیکیجوئل‘ کہتے ہیں ۔ کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ ایک غلط ہے اور دوسرا صحیح ۔۔۔ عرب کے مشہور قبائل جن کی لغتیں یا لہجے چلتے تھے وہ سات ہیں : قریش کے علاوہ مشہور قبیلہ ، تمیم ، ہذیل ، غز، ربیعہ ، ہوازن ، اور ثقیف وغیرہ ‘‘۔ ( بحوالہ سنن ترمذی : 2944 ، رشد ،ح ا، ص 41)

بڑے حافظ صاحب محترم نے سبعہ احرف سے مراد لہجات لیے ہیں اور وہ بھی سات ۔ لیکن مثالیں بڑی دلچسپ دی ہیں ۔ Schedule کو شیڈول اور سکیجوئل پڑھنا تو بلا شبہ لہجے ( Accent) کی مثال ہے۔ لیکن حضور ’ خسر ‘اور’ سسر ‘ کو کون ہوشمند لہجے کا اختلاف کہے گا۔ یہ تو الفاظ کا اختلاف ہے ۔ ہم اوپر واضح کر آئے ہیں کہ لہجے کے اختلاف میں ایک ہی لفظ کو مختلف آواز یا تلفظ سے پڑھا جاتا ہے ۔ مگر لغت یا زبان کے اختلاف میں الفاظ ہی مختلف ہوتے ہیں ۔ رہی بات لہجات سات ہی کیوں ؟ تو خود حافظ صاحب نے سات قبائل کی گنتی کے بعد لفظ ’’وغیرہ ‘‘ کا استعمال غالباً غیر شعوری طور پر کر دیا ہے کہ مشہور قبائل صرف سات ہی نہیں ہو سکتے تھے ۔
محمد انور عباسی

Last edited by rana ammar mazhar; 10-12-11 at 06:16 PM.
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 10-12-11, 06:13 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default چاچا جی، "چ" کی ایجاد کے بغیر "چاچا جی" لکھ کر دیکھائیں !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
اللہ تعالیٰ‌آپ کو عقل سلیم اور بصیرت سے نوازے۔ جناب، نکتے ، حروف، شوشے، زیر، زبر لکھے بے شک بعد میں‌گئے تھے۔ لیکن تلاوت میں ‌تو پہلے ہی سے موجود تھے نا؟ قرآن کتابی شکل میں ‌تو نازل ہوا نہیں‌ہے ۔ قرآن تو تلاوت کی شکل میں ‌نازل ہوا اور تلاوت و حفظ‌ ہی کی رو سے پھیلا۔ کتابت تو اس تلاوت کے محفوظ کرنے کا ایک ذریعہ تھا۔
آپ قرآن کا کوئی بھی لفظ پڑھیں‌گے تو اس میں‌نقطے بھی ہوں‌گے، حروف بھی، زیر بھی ہوگی، زبر اور پیش بھی، مد بھی آئے گی وغیرہ۔

اللہ تعالیٰ ‌آپ کو عقل سلیم اور بصیرت سے نوازے، جناب جب ایجاد ہی بعد میں ہوئے تو بولے تو جا سکتے ہیں، لکھے نہیں جاسکتے، چاچا جی، "چ" کی ایجاد کے بغیر "چاچا جی" لکھ کر دیکھائیں !!!


آپ قرآن کا کوئی بھی لفظ پڑھیں‌گے تو اس میں‌نقطے بھی ہوں‌گے، حروف بھی، زیر بھی ہوگی، زبر اور پیش بھی، مد بھی آئے گی وغیرہ۔


جب پورے حروف تہجی ہی موجود نہیں، تو پھر کاتبان وحی نے کتابت کیسے کی ؟؟؟

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب کوئی وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی کاتب وحی کو بلا کر اسے لکھواتے اور فرماتے کہ اسے فلاں سورت میں فلاں جگہ رکھو، بعض اوقات کئی آیتیں نازل ہوتیں، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ بتا دیتے کہ ان آیات کو اس سورت میں رکھو، اور بعض اوقات ایک ہی آیت نازل ہوتی لیکن اس کی جگہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بتا دیا کرتے تھے۔

Due to fear of deletion
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 10-12-11, 06:20 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اتنا خوف اللہ کا رکھ لیتے تو کتنا بہتر ہوتا۔
چاچا جی میں‌چ کی ایجاد سے پہلے بے شک چاچا جی لکھا نہیں جا سکتا ۔ لیکن پڑھا چاچا ہی جائے گا۔ جو جہلإء لکھ پڑھ نہیں‌سکتے وہ بھی چاچا جی کہہ لیں‌گے۔ لہٰذا قراءات وغیرہ پر نکتہ شوشہ کی مد میں‌ ایسا گرا پڑا اعتراض کوئی آپ جیسی الٹی کھوپڑی والا ہی اٹھا سکتا ہے۔
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
شکاری کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (10-12-11)
پرانا 10-12-11, 06:44 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اتنا خوف اللہ کا رکھ لیتے تو کتنا بہتر ہوتا، ایسا گرا پڑا اعتراض کوئی آپ جیسی الٹی کھوپڑی والا ہی ؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
اتنا خوف اللہ کا رکھ لیتے تو کتنا بہتر ہوتا۔
چاچا جی میں ‌چ کی ایجاد سے پہلے بے شک چاچا جی لکھا نہیں جا سکتا ۔ لیکن پڑھا چاچا ہی جائے گا۔ جو جہلإء لکھ پڑھ نہیں‌سکتے وہ بھی چاچا جی کہہ لیں‌گے۔ لہٰذا قراءات وغیرہ پر نکتہ شوشہ کی مد میں‌ ایسا گرا پڑا اعتراض کوئی آپ جیسی الٹی کھوپڑی والا ہی اٹھا سکتا ہے۔

اتنا خوف اللہ کا رکھ لیتے تو کتنا بہتر ہوتا۔ ایسا گرا پڑا اعتراض کوئی آپ جیسی الٹی کھوپڑی والا ہی اٹھا سکتا ہے۔


چاچا جی میں ‌چ کی ایجاد سے پہلے بے شک چاچا جی لکھا نہیں جا سکتا ، یعنی کہ بوقت نزول قرآن لکھا نہیں گیا ؟؟؟
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 11-12-11, 01:44 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں

اتنا خوف اللہ کا رکھ لیتے تو کتنا بہتر ہوتا۔ ایسا گرا پڑا اعتراض کوئی آپ جیسی الٹی کھوپڑی والا ہی اٹھا سکتا ہے۔


چاچا جی میں ‌چ کی ایجاد سے پہلے بے شک چاچا جی لکھا نہیں جا سکتا ، یعنی کہ بوقت نزول قرآن لکھا نہیں گیا ؟؟؟
اللہ کے بندے۔۔!
دور نزول قرآن میں‌حروف اور ان کی پہچان موجود تھی، جو چیز موجود نہیں‌تھی وہ تھے نقاط اور اعراب۔ لہٰذا نہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بلکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں‌بھی قرآن بغیر نقاط و اعراب کے لکھا گیا تھا جس کے تفصیلی دلائل الگ دھاگے میں بیان ہو چکے۔
اب جواب میں نقاط اور اعراب کا لفظ‌دیکھ کر اس کی بحث نہ شروع کرنے لگ جانا، اس پر پہلے ہی آپ کی میری طویل گفتگو ہو چکی ہے مصاحف عثمانیہ کے حوالے سے۔
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
شکاری کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (11-12-11)
پرانا 11-12-11, 02:44 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default چاچا جی، دور نزول قرآن میں‌ حروف اور ان کی پہچان کیسے موجود تھی، جب کہ نقاط موجود نہیں‌تھے ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
اللہ کے بندے۔۔!
دور نزول قرآن میں‌حروف اور ان کی پہچان موجود تھی، جو چیز موجود نہیں‌تھی وہ تھے نقاط اور اعراب۔ لہٰذا نہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بلکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں‌بھی قرآن بغیر نقاط و اعراب کے لکھا گیا تھا جس کے تفصیلی دلائل الگ دھاگے میں بیان ہو چکے۔
اب جواب میں نقاط اور اعراب کا لفظ‌ دیکھ کر اس کی بحث نہ شروع کرنے لگ جانا، اس پر پہلے ہی آپ کی میری طویل گفتگو ہو چکی ہے مصاحف عثمانیہ کے حوالے سے۔
چاچا جی، دور نزول قرآن میں‌ حروف اور ان کی پہچان کیسے موجود تھی، جب کہ نقاط موجود نہیں ‌تھے ؟؟؟

تاریخی شہادت کو نہ ماننے کا کیا طریقہ ہے ؟؟؟
Attached Thumbnails
dot-h-e-784.jpg   dot-h-e-788.jpg  
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 11-12-11, 06:23 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ کا یہی مسئلہ ہے۔ ہم نے دعویٰ‌کیا تھا کہ قرآن میں ایک نقطہ شوشہ، زیر زبر بھی بدلی نہیں ہوا۔ اور وہ بات وہیں کی وہیں‌رہ گئی اور آپ کہاں‌سے کہاں پہنچ گئے۔ اللہ کے بندے، تلاوت کرتے وقت تو نقطہ موجود ہی ہوتا ہے، لکھنے کو چاہے آپ جیسے بھی لکھو۔
باقی نقاط کے بغیر اگر اردو میں‌بھی عبارت لکھی ہو تو ہم اٹکل سے پڑھ سکتے ہیں، اہل عرب اہل زبان بھی ایسے ہی پڑھا کرتے تھے۔ زبانوں کا ارتقاء ہوا ہے تو بعد میں‌نقطے اور اعراب لگائے گئے ہیں۔
باقی جو شخص‌اپنی ہی دھن میں گاتا جائے اور دوسروں کی بات پر کان ہی نہ دھرے، ایسے شخص‌سے کوئی کیسے بات کرے۔
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
شکاری کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (11-12-11)
پرانا 11-12-11, 07:16 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default کیا قرآن کو لوگ "اٹکل" سے پڑھ سکتے ہیں ؟؟؟ تاریخی شہادت کو نہ ماننے کا طریقہ کیا ہے ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
آپ کا یہی مسئلہ ہے۔ ہم نے دعویٰ‌کیا تھا کہ قرآن میں ایک نقطہ شوشہ، زیر زبر بھی بدلی نہیں ہوا۔ اور وہ بات وہیں کی وہیں‌رہ گئی اور آپ کہاں‌سے کہاں پہنچ گئے۔ اللہ کے بندے، تلاوت کرتے وقت تو نقطہ موجود ہی ہوتا ہے، لکھنے کو چاہے آپ جیسے بھی لکھو۔
باقی نقاط کے بغیر اگر اردو میں‌بھی عبارت لکھی ہو تو ہم اٹکل سے پڑھ سکتے ہیں، اہل عرب اہل زبان بھی ایسے ہی پڑھا کرتے تھے۔ زبانوں کا ارتقاء ہوا ہے تو بعد میں‌نقطے اور اعراب لگائے گئے ہیں۔
باقی جو شخص‌اپنی ہی دھن میں گاتا جائے اور دوسروں کی بات پر کان ہی نہ دھرے، ایسے شخص‌سے کوئی کیسے بات کرے۔
باقی نقاط کے بغیر اگر اردو میں‌بھی عبارت لکھی ہو تو ہم اٹکل سے پڑھ سکتے ہیں،

کیا قرآن کو لوگ "اٹکل" سے پڑھ سکتے ہیں ؟؟؟

تلاوت کرتے وقت تو نقطہ موجود ہی ہوتا ہے، لکھنے کو چاہے آپ جیسے بھی لکھو۔

قرآن کو چاہے آپ جیسے بھی لکھو "اٹکل" سے ؟؟؟



Figure: (a) Schematic representation of the Protocol, (b) picture of the entagion and (c) its content.

[] encloses letters supplied to fill a lacuna

Date

54 AH / 674 CE.

Size

32.2 cm. x 18.1 cm. It has Arabic and Greek text.

Light brown, fine papyrus, written in brown ink. The papyrus was folded up. In the center of the fold an oval - Nile mud seal measures 1.2:0.9 cm This document was found in ‘Auja' al-Hafir (Nestana or Nessana), South Palestine.

Accession No.

P. Colt. No. 60.

Contents

The translation of the document is:

1. [Arabic] [In the name of] God, the Compassionate and Merciful.

2. From al-Hārith b. ‘Abd to the people of Nassana

3. province of Gaza, in the region of al-Halus

4. Pay quickly to ‘Udayy Ibn Khalid of the Bani

5. Sa‘d Ibn Malik the due for Dhūl-Qa‘dah and

6. al-Muharram and Safar and the two months of Rabi‘

7. seventy measures of wheat and its equal in oil.

8. written by Abū Sa‘īd in Dhūl-Qa‘dah

9. in the year 54. [Greek] In the name of God.

10. Al-Hārith b. ‘Abd to the people of Nestana in the region of Elusa, province of Gaza.

11. Pay quickly to Adiu b. Khalid of the Bani Sa‘d b. Malik for the 5 months Dhūl-Qa‘dah

12. and al-Muharram and Safar and the two Rabi‘ seventy modii of wheat, seventy sextarii of oil.

13. Written in the month of November of the 3rd indication, year 54 according to the Arabs,

14. by the hand of Alexander son of Ammonius. Total: 70 modii of wheat, 70 sextrii of oil.

[Seal]

Repetition of line 14.

Comment

A protocol is a protective cover at the beginning of a papyrus roll, bearing caliph/governor's name and formulae. An entagion is an announcement of taxes owed by the local community. This entagion was found during excavations at Nessana, 59 kms south of Beer-Sheba. The Roman fortress, surviving throughout the Christian period, was occupied by Muslims in 12 AH / 634 CE and deserted at the end of the Umayyad period. Numerous papyri document the transition from late Byzantine to early Islamic administration. The protocol suggests that this entagion comes from the time of Umayyad caliph Mu‘āwiya (40–60 AH / 661–80 CE).

Diacritics appear on ب، ث، ز and ق.

P. Colt. No. 60 - A Bilingual Entagion From The Year 54 AH / 674 CE


باقی جو شخص ‌اپنی ہی دھن میں گاتا جائے اور دوسروں کی بات پر کان ہی نہ دھرے، ایسے شخص‌سے کوئی کیسے بات کرے۔


تاریخی شہادت کو نہ ماننے کا طریقہ کیا ہے ؟؟؟
Attached Thumbnails
p.-colt.-no.-60-bilingual-entagion-year-54-ah-674-ce-.jpg  
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, green, قرآنی, لوگ, نظر, مکمل, اللہ, اسلام, بیوی, تلاش, تحریری, جواب, جلد, حدیث, طلاق, عورت, علیحدہ, عائشہ, عاصم, عبداللہ, عبدالرحمن, عثمان, غالب, صفحات, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
شب برات، رحمت و مغفرت کی رات گلاب خان متفرقات 0 17-07-11 07:05 PM
خیبرپختونخوا، شمالی بلوچستان میں بارش زیارت، گلیات، چترال اور مختلف علاقوں میں برفباری کا امکان گلاب خان خبریں 0 19-02-11 03:44 AM
کرپشن اور فرائض سے غفلت، جاپانی فضائیہ کے سربراہ برطرف گلاب خان خبریں 5 19-12-10 02:20 AM
مختصر مختصر---یورب سے مسٹر گرزلی خبریں 0 22-06-08 03:17 PM
محبت، محبت، محبت، کیا ہے یہ محبت؟؟؟ ابو کاشان گپ شپ 13 04-04-08 09:51 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:03 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger