واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم



علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم


اختلاف قراءات اور متعہ: حقائق

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-11-11, 01:56 PM   #1
اختلاف قراءات اور متعہ: حقائق
شکاری شکاری آن لائن ہے 27-11-11, 01:56 PM

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،
گزشتہ کچھ عرصے سے اختلاف قراءات کے مباحث میں‌ہمارے کچھ احباب بار بار یہ راگ الاپتے رہے ہیں‌کہ اختلاف قراءات کو ماننے سے متعہ حلال ہو جاتا ہے۔ اس دھاگے کا مقصد ان کی پھیلائی ہوئی غلط فہمی کو رفع کرنا ہے۔ یاد رہے کہ ہم یہاں‌صرف اختلاف قراءات کے ذیل میں‌متعہ پر گفتگو کر کے اس نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کریں‌گے کہ آیا اختلاف قراءات کا اقرار کرنا متعہ کے حلال ہونے کو مستلزم ہے یا نہیں۔

اس دھاگے کے مقاصد میں نہ تو متعہ کی حجیت پر بحث ہے، نہ متعہ کے حلت، حرمت یا نسخ کے دلائل سے ہمیں‌کوئی بحث کرنی ہے۔ لہٰذا جو صاحبان متعہ کا نام دیکھ کر اس کی حلت حرمت کے تعلق سے بات کرنا چاہیں، ازراہ کرم اپنا دھاگہ علیحدہ بنا کر شوق پورا کر لیں۔

انتظامیہ سے گزارش ہے کہ موضوع کے تعلق سے کسی نتیجہ پر پہنچنے کے لئے ایسے تمام غیر متعلقہ اعتراضات، دلائل یا پوسٹس کو ڈیلیٹ‌کر دیا جائے جن کا براہ راست تعلق اختلاف قراءات کے تعلق سے متعہ کے مسئلے پر نہ ہو۔

اب معترضین پہلے ہمارا دعویٰ‌سنیں:
قرآن مجید فرقان حمید ہم تک معتبر و متواتر اسناد سے پہنچا ہے۔ آج بھی ہمارے قراء حضرات کے پاس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک قرآن کی متواتر اسناد موجود ہیں۔ جہاں‌بات سند و خبر کی ہو تو وہاں‌صحت اسناد کے ساتھ اگر کوئی چیز ثابت ہوتی ہے تو ضعف اسناد کے ساتھ کسی چیز کا رد بھی ہوتا ہے۔ جس طرح‌سے احادیث‌میں‌صحیح‌و ضعیف احادیث‌ہوتی ہیں۔ بالکل اسی طرح‌قرآن میں‌بھی متواتر اور شاذ قراءات موجود ہیں۔ متواتر قراءات دنیا بھر کے قرآنی مصاحف میں‌موجود ہوتی ہیں۔ اور شاذ قراءات ثبوت نہ ہونے کی بنا پر قرآن مجید میں‌شامل نہیں‌کی جاتیں۔

اس تمہید کے بعد ہمارا مختصر سا دعویٰ ہے کہ دور حاضر میں‌اختلاف قراءات کو حجت تسلیم کرنے والی پوری امت مسلمہ میں‌جتنے بھی قرآنی مصاحف مختلف روایات میں‌طبع ہو رہے ہیں، ان میں‌سے کسی ایک سے بھی متعہ کے حلال ہونے کا ثبوت نہیں‌ملتا۔ جنہیں‌اس دعویٰ‌پر اعتراض ہے وہ صرف اتنا کریں‌کہ آج شائع ہونے والے قرآنی مصاحف میں‌ہمیں‌وہ آیت ڈھونڈ کر لادیں جو متعہ کو ثابت کرتی ہو۔ اور بس۔ ان کا دعویٰ‌ثابت، ہمارا دعویٰ‌غلط۔

یہاں ہم معترضین کے اعتراضات کا بھی کچھ احوال پیش کرتے چلیں۔ درج ذیل اقتباسات اختلاف قراءات کے تناظر میں‌پوسٹ کئے گئے ہیں۔ اور ہمارے دھاگے کا موضوع بھی یہی ہے۔

لنک
اقتباس:
اللہ کی بڑی مہربانی ہے کہ ہم "سبعۃ احرف قرآن مصحف ابی بن کعبؓ " جو متعہ کی آیت بیان کرتا ہے پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں !!!
اقتباس:
سورة النِّسَاء (4:24) کو اس قرآن میں غور سے پڑھیں، متعہ سبعۃ احرف قرآن سے جائز ہے !!!

وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۖ كِتَابَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ ۚ وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ ۚ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُمْ بِهِ مِنْ بَعْدِ الْفَرِيضَةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا (4:24)

kitab_masahif.pdf سبعۃ احرف قرآن کا Encyclopedia ہے !!!
اقتباس:
قرآن میں تو متعہ نہیں ہے، ہاں "سبعۃ احرف قرآن مجید" میں ہے، "قرآت سبعۃ احرف" کے نام پر تحریف قرآن
لنک
اقتباس:
تحریف قرآن کے انسائیکلو پیڈیاز ماہنامہ رشد کے تینوں اختلاف قراءت نمبرز

کا ماخذ

کتاب المصاحف (احادیث خلاف قرآن) ابو داود السجستانی ہے !!!

امام ابو داود کے بیٹے ابی بکر سجستانی اپنی کتاب المصاحف میں نقل کرتے ہیں :: ’’ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی ‘‘

شیعہ سنی میں آپ کے ہاں متعہ کے متعلق اتنا بڑا اختلاف ہے۔ یوں دیکھیے کہ سُنی ان کے پیچھے یوں لٹھ لے کے پھرتے ہیں۔ کہ اس کا جواب ہی نہیں۔ اس کے برعکس جب یوں کہیں گے کہ فلاں مصحف میں یہ آیت ( 24 : 4 ) یوں آئی ہے تو یہ خدا کی طرف سے ہو گا ۔ قرأتِ مصحف حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی جو آیت متعہ کے متعلق دی گئی ہے۔ اس کے اندر ان کی قرأت میں ’’ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی ‘‘ لکھا ہے۔ جو منسوخ بھی نہیں ہے !!!
گویا اعتراض یہ ہے کہ قراءت مصحف حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ میں‌آیت 4:24 میں‌ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی کے الفاظ آئے ہیں۔ اور ظاہر ہے یہ الفاظ‌اگر آیت میں‌ثابت ہو جائیں‌تو متعہ کا مسئلہ ثابت ہو جاتا ہے۔ اور دوسرا اعتراض یہ ہے کہ یہ قراءت منسوخ بھی نہیں ہے۔

ہمارا جواب یہ ہے کہ یہ قراءت شاذ ہے نہ کہ متواتر۔ اور سو فیصدی منسوخ قرات ہے۔ جو دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ منسوخ نہیں ہے، دعویٰ کی دلیل پیش کریں۔

بالکل ویسے ہی جیسے ضعیف احادیث‌، حدیث‌کو حجت ماننے والے کسی گروہ پر کوئی حجت قائم نہیں‌کرتی، کیونکہ وہ گروہ خود ان ضعیف احادیث‌ کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کا انکار کر رہا ہوتا ہے، بعینہ ویسے ہی ہم شاذ قراءت کو نہ تو قرآن مانتے ہیں‌ اور نہ ایسی قراءت مصاحف میں‌ثبت ہوتی ہے۔

ابھی تو حدیث کے تعلق سے جو جو اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، ان کے تعلق سے جوابی اعتراضات اہل قرآن گروہ پر ہم نے اٹھائے نہیں ہیں کہ ایک مرتبہ کماحقہ قراءات کے مسئلے کی وضاحت ہو جائے تو دیکھیں گے کہ کتب احادیث پر اعتراض کرنے والے قرآن پر انہی اعتراضات کو قائم ہونے سے کیسے روکیں گے۔ فی الحال، ہم اپنی درج بالا بات کا ثبوت پیش کرتے ہیں کہ دنیا بھر میں‌شائع ہونے والے کسی بھی قرآن میں‌ آیت 4:24 میں الی اجل مسمی کے الفاظ موجود نہیں‌ہیں۔ جن لوگوں کا دعویٰ‌ہے کہ :

اقتباس:
قرآن میں تو متعہ نہیں ہے، ہاں "سبعۃ احرف قرآن مجید" میں ہے،
وہ ازراہ کرم دور حاضر میں‌شائع ہونے والے کسی ایک قرآن میں‌ ان الفاظ کا موجود ہونا دکھا دیں، اور ہمارے دعویٰ‌کو غلط ثابت کر دیں۔

چونکہ معترض نے جگہ جگہ یہی کہا ہے کہ سبعہ احرف قرآن مجید میں متعہ حلال ہے۔ تو ہمیں سبعہ احرف کے تعلق ہی سے اس کا حلال ہونا ثابت کریں۔ ہمیں‌مسئلے کا آج کے مسلمانوں کے لئے حل نکالنا ہے، لہٰذا ہمیں‌چودہ صدیاں پیچھے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ مختلف روایات والے قرآن دنیا بھر میں‌موجود ہیں، ہمت کریں‌اور اپنا دعویٰ‌ ثابت کریں کہ سبعہ احرف مانتے ہی متعہ حلال ہو جاتا ہے۔
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65]

شکاری
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1177
3 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (27-11-11), نبیل خان (05-12-11), ملک اظہر (28-11-11)
پرانا 27-11-11, 07:00 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default تمام غیر متداولہ قراءات میں سولہ مصاحف تیار کر لئے ہیں، ایک میں غیر متداولہ قر اءت متعہ شامل !

متعہ ثابت کرنے کے لیے اس قدر کافی‬ ‫ہے کہ بعض قرأت میں “الی اجل مسمی” کے الفاظ موجود ہیں۔‬

کلیتہ القرآن الکریم ،جامعہ لاہور کے فضلاء میں سے تقریباً بارہ محقق اساتذہ نے محنت شاقہ فر ما کر تین سال کے عرصے میں وہ تمام غیر متداولہ قر اءات میں سولہ مصاحف تیار کر لئے ہیں اور جیسا کہ راقم نے پہلے عرض کیا ہے کہ یہ کام اپنی نو عیت اور جامعیت کے حوالے سے تاریخ اسلام کا پہلا کام ہے ‘‘ ( قاری فہد اللہ مراد، رشدح ا ،ص 678 )




تمام غیر متداولہ قر اءات میں سولہ مصاحف تیار کر لئے ہیں، ایک میں غیر متداولہ قراءت متعہ “الی اجل مسمی” بھی شامل کرلیں گے !!!

اگر نہ بھی ہوئی تو کوئی بات نہیں غیر متداولہ قر اءات کا رواج تو پڑ ہی جائے گا آئندہ شامل کر لیں گے !!!


لائن نمبر ۲۲ پر غور کریں :: کویت کے پیچھے کس کا ہاتھ ہو سکتا ہے ؟؟؟

نیا قرآن : امریکہ نے ایک نیا قرآن جس کا نام کتاب فرقان ہے شائع کیا ہے۔اسکی پہلی کاپی کویت میں جاری ہوئی۔
Attached Thumbnails
16-quran.jpg  
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"

Last edited by rana ammar mazhar; 27-11-11 at 07:13 PM.
rana ammar mazhar آن لائن ہے  
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (28-11-11)
پرانا 27-11-11, 07:23 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں
متعہ ثابت کرنے کے لیے اس قدر کافی‬ ‫ہے کہ بعض قرأت میں “الی اجل مسمی” کے الفاظ موجود ہیں۔‬

کلیتہ القرآن الکریم ،جامعہ لاہور کے فضلاء میں سے تقریباً بارہ محقق اساتذہ نے محنت شاقہ فر ما کر تین سال کے عرصے میں وہ تمام غیر متداولہ قر اءات میں سولہ مصاحف تیار کر لئے ہیں اور جیسا کہ راقم نے پہلے عرض کیا ہے کہ یہ کام اپنی نو عیت اور جامعیت کے حوالے سے تاریخ اسلام کا پہلا کام ہے ‘‘ ( قاری فہد اللہ مراد، رشدح ا ،ص 678 )


تمام غیر متداولہ قر اءات میں سولہ مصاحف تیار کر لئے ہیں، ایک میں غیر متداولہ قراءت متعہ “الی اجل مسمی” بھی شامل کرلیں گے !!!

اگر نہ بھی ہوئی تو کوئی بات نہیں غیر متداولہ قر اءات کا رواج تو پڑ ہی جائے گا آئندہ شامل کر لیں گے !!!
محترم رانا صاحب،
کمال ہے، ہر دھاگے میں‌تو آپ نے متعہ متعہ کا شور ڈالا ہوا تھا۔ خواتین کی طرح‌طعنوں‌کوسنوں‌سے ہر جگہ ہمیں‌نوازتے رہے۔ اب جب آپ کے من پسند موضوع پر باقاعدہ دھاگا بنا کر آپ کو دعوت دی ہے دلائل پیش کرنے کے لئے، تو کوئی بجھی ہوئی چنگاری بھی نہیں۔؟

خیر، پہلی گزارش تو یہ ہے کہ ہم یہاں‌اہل رشد کی بات نہیں‌کر رہے۔ سبعہ احرف کا اہل رشد سے کوئی تعلق نہیں ۔ لہٰذا آپ کو اہل رشد سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرنا ہے تو رشد والوں‌کے محدث‌فورم پر جا کر کر لیں، وہاں‌آپ کی خوب پذیرائی دلائل کے ساتھ ہو جائے گی۔

دوسری بات یہ ہے کہ ہم نے اوپر آپ کے ہی اقتباسات ہائی لائٹ کئے ہیں۔ جن میں آپ نے دعویٰ‌کیا ہے کہ:

اقتباس:
قرآن میں تو متعہ نہیں ہے، ہاں "سبعۃ احرف قرآن مجید" میں ہے،
یہاں کوئی اہل رشد پر ایمان نہیں لایا ہے۔ البتہ سب قرآن پر ایمان ضرور لائے ہیں۔ لہٰذا جو بحث‌ مطلق ہے اسے مطلق ہی رکھیں‌، اسے اہل رشد کی پلاننگ سے متعین کر کے موضوع کا رخ نہ پھیریں۔ اور دلائل کے ساتھ بس اتنا ثبوت پیش کر دیجئے کہ سبعہ احرف کو جو پوری امت مانتی ہے، ان کے کس مصحف میں‌ یہ آیت موجود ہے، کہ جس سے متعہ کا جواز ثابت ہوتا ہے؟

اگر دلیل پیش فرما سکیں‌تو بہتر، ورنہ جرات کا مظاہرہ کریں‌اور اعتراف کر لیں‌کہ جی دور حاضر میں‌ کسی مصحف میں‌ایسی کوئی آیت موجود نہیں۔

باقی جو آپ نے کمزور سے لہجے میں‌یہ فرمایا ہے :

اقتباس:
متعہ ثابت کرنے کے لیے اس قدر کافی‬ ‫ہے کہ بعض قرأت میں “الی اجل مسمی” کے الفاظ موجود ہیں۔‬
چہ خوب۔ آپ کے ذوق کی داد نہ دینا نا انصافی ہوگی۔ گویا مدعی لاکھ ثبوت پیش کر دے کہ یہ شاذ قراءت ہے، منسوخ ہے، ہم اس کو مانتے ہی نہیں، ہمارے مصاحف میں‌اس قراءت کو آج تک کوئی جگہ نہیں‌دی گئی ہے، لیکن آپ سب کو حرف غلط قرار دیں، جب آپ سے دلیل کا مطالبہ ہو تو آپ کو بہرحال دلیل کی ضرورت نہیں، آپ چاہتے ہیں کہ باقی سب آپ کے کہے پر ہی ایمان لے آیا کریں۔

محترم ، جب ایک حدیث‌ضعیف ہوتی ہے یا کوئی قراءت شاذ ہوتی ہے، تو اس کو آپ ہمارے خلاف کیسے دلیل بنا سکتے ہو، جب ہم اس کو مانتے ہی نہیں؟

یہ تو ایسے ہی ہے، کہ میں‌دعویٰ‌کروں‌کہ رانا صاحب کے گروہ کے نزدیک جہاد کی تمام آیات جو موجودہ قرآن میں‌پائی جاتی ہیں، وہ قرآن میں‌تحریف ہیں۔ رانا صاحب شور کریں‌کہ دلیل پیش کرو، اور میں جواب میں‌کہوں‌ کہ جی امریکنز کے شائع کردہ ٹرو فرقان میں‌ جہاد والی آیات نکال دی گئی ہیں۔ رانا صاحب حیران ہو کر سوال کریں کہ اسے تو میں‌قرآن ہی نہیں‌مانتا، تو میں‌کہوں‌کہ :
اقتباس:
ہمارے دعویٰ کے ثبوت کے لئے اتنا کافی ہے کہ بعض‌قرآنی مصاحف میں‌جہاد والی آیات نکال دی گئی ہیں۔
فما کان جوابکم فھو جوابنا۔

موضوع سے ہٹ کر برسبیل تذکرہ عرض ہے کہ جن سولہ غیر متداول قراءات کا ذکر رشد میں‌کیا گیا ہے، اگر ان پر اعتراض کرنا ہے تو الگ دھاگا کھول لیں، آپ کی تشفی کروانا میرا کام ہے۔ ان شإءاللہ۔
شکاری آن لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (27-11-11), کنعان (27-11-11), نبیل خان (05-12-11), ملک اظہر (28-11-11)
پرانا 27-11-11, 07:47 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default قراءت شاذ کا ماخذ کیا ہوتا ہے، "حدیث‌ضعیف" سنی کی ہوتی ہے یا شیعہ کی ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
محترم ، جب ایک حدیث‌ضعیف ہوتی ہے یا کوئی قراءت شاذ ہوتی ہے، تو اس کو آپ ہمارے خلاف کیسے دلیل بنا سکتے ہو، جب ہم اس کو مانتے ہی نہیں؟
قراءت شاذ کا ماخذ کیا ہوتا ہے، "حدیث‌ضعیف" سنی کی ہوتی ہے یا شیعہ کی ؟؟؟
rana ammar mazhar آن لائن ہے  
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (28-11-11)
پرانا 27-11-11, 07:54 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں
قراءت شاذ کا ماخذ کیا ہوتا ہے، "حدیث‌ضعیف" سنی کی ہوتی ہے یا شیعہ کی ؟؟؟
میں آپ کی ذہنی کیفیت کا اندازہ لگا سکتا ہوں۔ محترم، اب قرآن پر بات چل رہی ہے تو شیعہ سنی کی حدیث‌پر نہ جائیں، اب تو آپ قالون و ورش و حفص و دوری قراءات کا بتایا کریں۔
قرإءت شاذ کو سمجھنا چاہیں تو علیحدہ دھاگا کھول لیں۔ یہاں‌تو بس اپنے اسی ایک دعویٰ‌ کا ثبوت دے دیجئے کہ سبعہ احرف قرآن مجید میں کہاں سے متعہ ثابت ہوتا ہے۔ ادھر ادھر کی بہت باتیں ہیں، وہ بعد میں‌سہی۔
آپ اہل رشد کی بیس روایات کو رو رہے تھے، لیجئے درج ذیل سائٹ پر پچیس روایات میں قرآن کی تلاوت سنیں اور اس میں‌سے ڈھونڈیں‌کہ متعہ کہاں‌سے ثابت ہوتا ہے، یہ سب متواتر قراءات ہیں، لہٰذا ہم کسی کا بھی انکار نہیں کر سکیں‌گے، بے فکر رہیں۔

http://audio.islamweb.net/audio/index.php?page=rewaya#2

لیکن موضوع سے ادھر ادھر کی بات مت کیجئے گا۔ ورنہ امید ہے کہ انتظامیہ غیر متعلقہ مراسلات کو ڈیلیٹ کرنے میں‌ضرور تعاون کرے گی۔
شکاری آن لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (27-11-11), کنعان (27-11-11), نبیل خان (05-12-11), ملک اظہر (28-11-11)
پرانا 27-11-11, 08:51 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default امام ابو داود کے بیٹے ابی بکر سجستانی اپنی کتاب المصاحف میں نقل کرتے ہیں :: اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
قرإءت شاذ کو سمجھنا چاہیں تو علیحدہ دھاگا کھول لیں۔ یہاں‌تو بس اپنے اسی ایک دعویٰ‌ کا ثبوت دے دیجئے کہ سبعہ احرف قرآن مجید میں کہاں سے متعہ ثابت ہوتا ہے۔ ادھر ادھر کی بہت باتیں ہیں، وہ بعد میں‌سہی۔
آپ اہل رشد کی بیس روایات کو رو رہے تھے، لیجئے درج ذیل سائٹ پر پچیس روایات میں قرآن کی تلاوت سنیں اور اس میں‌سے ڈھونڈیں‌کہ متعہ کہاں‌سے ثابت ہوتا ہے، یہ سب متواتر قراءات ہیں، لہٰذا ہم کسی کا بھی انکار نہیں کر سکیں‌گے، بے فکر رہیں۔
http://audio.islamweb.net/audio/index.php?page=rewaya#2

ماہنامہ رشد کے تینوں اختلاف قراءت نمبرز کا ماخذ کتاب المصاحف ابو داود السجستانی ہے !!!

امام ابو داود کے بیٹے ابی بکر سجستانی اپنی کتاب المصاحف میں نقل کرتے ہیں :: ’’ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی ‘‘

قرأتِ مصحف حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی جو آیت متعہ کے متعلق دی گئی ہے۔ اس کے اندر ان کی قرأت میں ’’ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی ‘‘ لکھا ہے۔ جو منسوخ بھی نہیں ہے !!!




۷سے ترقی کرکے ۲۵ کیسے ؟؟؟

۲۵ قرآن مجید میں قراءتوں کے اختلاف کی لسٹ !!!


اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
محترم، ٹینشن نہ لیں۔ آپ کا میرا ٹاکرا اس سے قبل فورمز کی حد تک ایک ہی مرتبہ ہوا ہے وہ بھی ایک آدھ پوسٹ کی حد تک ۔ ہاں البتہ، یہ ہے کہ ہم دونوں‌ایک ہی یونیورسٹی کی ایک ہی‌ٹیکنالوجی میں طالب علم رہ چکے ہیں!!!!اس لئے احتیاط سے کام لیں۔ خیر، پرانی چھوڑیں نئی پر آتے ہیں۔
نہیں‌بھائی، ہمارا دعویٰ‌ہمارے الفاظ‌میں، آپ کا دعویٰ‌آپ کے الفاظ‌میں۔
اور ہمارا دعویٰ‌یہ ہے کہ قرآنی مصاحف جو دنیا بھر میں کروڑوں کی تعداد میں‌ پھیلے ہوئے ہیں اور اربوں‌مسلمان بشمول ائمہ حرمین شریفین انہیں‌نمازوں میں‌تلاوت کر رہے ہیں، وہ متن صد فیصد وہی وہی نہیں ہیں‌جو اوپن برہان پر آپ نے پیش کر رکھا ہے۔ ہمارا دعویٰ‌ہے کہ قرآن کریم کی چار متداول قراءات جو دنیا بھر میں‌تلاوت کی جا رہی ہیں۔ ان میں‌درج ذیل نوعیت کے اختلافات موجود ہیں:
1. اسماء کاا ختلاف جس میں افراد، تثنیہ وجمع اور تذکیر وتانیث دونوں کا اختلاف داخل ہے جیسے’تمت کلمۃ ربک اور’تمت کلمات ربک‘۔
2. افعال کا اختلاف کہ کسی قراء ت میں صیغہ ماضی ہو کسی قراء ت میں مضارع اور کسی میں امرمثلاً ’ربنا باعد بین أسفارنا‘ اور’ربنا بعد بین أسفارنا‘۔
3. وجو ہ اعراب کا اختلاف یعنی حرکتیں مختلف ہوںمثلاً’لایضار کاتب‘اور’ذوالعرش المجیدُ ‘ اور ’ذوالعرش المجیدِ‘۔
4. الفاظ کی کمی وبیشی کا اختلاف کہ ایک قراء ت میں کوئی لفظ کم اور دوسری قراء ت میں زیادہ ہومثلاً’وما خلق الذکر والانثی‘اور ’ماخلق‘کے بغیر صرف ’والذکر والانثی‘۔
5. تقدیم وتاخیر کا اختلاف کہ ایک قراء ت میں ہے ’وجاء ت سکرۃ الموت بالحق‘ اور دوسری قراء ت میں حق کا لفظ مقدم ہے ’وجاء ت سکرۃ الحق بالموت‘۔
6. بدلیت کا اختلاف کہ ایک قراء ت میں ایک لفظ ہے اور دوسری قرا ء ت میں اس کی جگہ دوسر ا لفظ ہے مثلاً ’ننشرھا‘اور ’ننشزھا‘ اور ’طلح‘اور’طلع‘۔
7. لہجے کااختلاف جس میں تفخیم،ترقیق،امالہ،قصر،اخف ائ،اظہاراور ادغام وغیرہ کے اختلاف شامل ہیں مثلاً ’موسی‘امالہ کے ساتھ اور امالہ کے بغیر۔
درج بالا وجوہ اختلافات کے ہوتے ہوئے کیسے ممکن ہے کہ قراءات کے منزل من اللہ ہونے کا بھی انکار کیا جائے اور قرآن کی حفاظت کا دعویٰ‌بھی ہو۔ ۔
اب آپ کا دعویٰ ملاحظہ ہو۔ آپ ہی کے الفاظ میں:
لال رنگ میں ہائی لائٹ‌کردہ دعویٰ کا ثبوت آپ کے ذمہ ہے۔ نیز آپ ہی کے الفاظ میں‌کچھ سوالات دہرانے کی اجازت چاہوں گا:
اگر تعداد اور ترتیب (بلکہ متن ) کا اتنا فرق موجود ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ یہ مانا جائے کہ اللہ تعالی ان کتب کی حفاظت فرمارہے ہیں ؟؟؟؟
محترم، بات اتنی سی ہے کہ آج آپ کے وہ تمام دعاوی جو حفاظت قرآن کے سلسلے میں ایک عامی کی سوچ کی طرح تھے، وہ اب ویلڈ نہیں رہے۔ آپ کا میرا اختلاف اپنی جگہ، لیکن بات یہی ہے کہ میں آپ کو قرآن کی حد تک مخلص سمجھتا ہوں۔ اور اس کا اندازہ آپ کی اوپن برہان کے لئے کی گئی محنت سے ہو جاتا ہے۔
بحیثیت قرآن کے ایک طالب علم ہونے کے، مجھے باقیوں کی نسبت آپ سے سنجیدگی مطلوب ہے۔ اصولی بحث بہت مختصر سی ہے۔ قرآن دنیا بھر میں مختلف روایات میں شائع ہو رہا ہے، پڑھا پڑھایا جا رہا ہے۔ اور ان قرآنی مصاحف میں بہرحال وہ اختلافات موجود ہیں، جن کا ذکر اوپر ہوا۔ ایک قراءت میں کوئی لفظ ہے اور دوسری میں کچھ اور۔ کبھی اس سے معنی بدل جاتا ہے اور کبھی نہیں بدلتا۔ یہ گراؤنڈ ریلیٹی ہے جو آپ کو میرے مہیا کردہ لنکس کے علاوہ بھی ذرا سی گوگلنگ سے معلوم ہو سکتی ہے۔ اس سے انکار تو اب کیا نہیں جا سکتا۔
دوسری طرف قرآن کے محفوظ ہونے اور رہنے کے وعدہ الٰہی کو جھٹلانا بھی ناممکن ہے۔
درج بالا دونوں حقائق کو سامنے رکھیں۔ اور پھر سکون سے سوچیں کہ کیا درج ذیل دو اختیارات میں سے ایک کو منتخب کرنے کے علاوہ کوئی اور اختیار کسی بھی گروہ کے پاس رہ جاتا ہے؟
پہلا آپشن: امت مسلمہ کے اجماعی عقیدہ کو مان لیں کہ قراءات کے یہ تمام اختلافات اللہ کے رسول ﷺ نے بعینہ تعلیم دئے ہیں۔ بلکہ احادیث بھری پڑی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے قرآن میں آسانی کی خاطر دعائیں مانگ مانگ کر اجازت طلب کی تھی کہ ایک سے زائد حروف پر پڑھنے کی اجازت دی جائے۔ اس آپشن کو ماننے سے دو فائدے ہیں۔ ایک تو اجماع امت کا ساتھ نہیں چھوٹتا جو بذات خود شرعی حجت ہے۔ اور دوسرے اللہ تعالیٰ کے قرآن کی حفاظت کے وعدہ پر کوئی آنچ نہیں آتی۔ کیونکہ اس سے ان ساری قراءات کا منزل من اللہ ہونا ثابت ہو جاتا ہے۔
دوسرا آپشن: دوسرا آپشن یہ ہے کہ دنیا بھر میں رائج ان قراءات کا انکار کر دیا جائے۔ کہ اصلی قرآن تو بس وہی ہے جو ہمارے پاس یعنی روایت حفص میں موجود ہے (جس کے اپنے اندر چار مقام پر اختلاف ہے) باقی سب تحریف شدہ قرآنی مصاحف ہیں۔ جنہیں قراء یا راویان نے گھڑ لیا ہےا ور امت میں پھیلا دیا ہے۔ اس آپشن کو قبول کرنے سے دو سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ پہلا تو یہ کہ اگر باقی تحریف شدہ مصاحف ہیں تو پھر قرآن کی حفاظت کا وعدہ خداوندی کیا ہوا؟ اور دوسرا سوال یہ کہ ہمیں کیسے معلوم ہوگا کہ فلاں قرآن تو تحریف شدہ ہے اور فلاں والا اصلی ہے۔
پچھلی پوسٹس میں کہیں رانا صاحب کو ایک مثال دی تھی، وہی آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ تھوڑی دیر کو فرض کر لیں آپ سینٹرل افریقہ میں پیدا ہوتے جہاں عوام الناس روایت قالون والے مصاحف ہی نمازوں میں تلاوت کرتے ہیں، انہی کی بنیاد پر درس و تدریس ہوتی ہے، حفظ ہوتا ہے، اسی کی بنیاد پر تفاسیر لکھی جاتی ہیں، وغیرہم۔ تو ظاہر ہے کہ آپ روایت قالون والی قراءت کو درست یا اصلی قرآن مانتے اور روایت حفص کا انکار کرتے ہوئے اسے تحریف شدہ قرآن قرار دیتے۔ لہٰذا بات گھوم پھر کر پھر اسی بنیادی سوال پر آ کر رک جاتی ہے کہ آپ مروجہ قراءات کا انکار کر کے موجودہ دور میں وہ کیا معیار قائم کرتے ہیں جس سے معلوم ہو جائے کہ روایت حفص والا قرآن ہی اصلی ہے اور باقی تحریف شدہ ہیں؟ وہ معیار ایسا ہو کہ سینٹرل افریقہ میں روایت قالون پڑھنے پڑھانے والا شخص بھی اس معیار کو پرکھ کر قرآن کی کسی آیت میں زیر ، زبر ، پیش کے بارے بھی درست نتیجہ تک پہنچ سکے۔
اختلاف قراءات والے مسئلے کی نسبت ہماری یا اہل رشد کی جانب کرنے کا فائدہ نہیں۔ شاید ہمارے الفاظ آپ کو پسند نہ آئیں۔ لہٰذا آپ ہی کے الفاظ پیش خدمت ہیں۔
لنک
بہرحال، جو صاحب علم اس یقین کے باوجود کہ بلاد اسلامیہ میں کروڑوں ایسے مسلمان آباد ہیں جو برصغیر پاک و ہند میں مروجہ روایت حفص کے برعکس روایت ورش، روایت دوری اور روایت قالون میں صدیوں سے قرآن پڑھتے پڑھاتے چلے آ رہے ہیں اور امت مسلمہ کے جمیع مکاتب فکر اہلحدیث، حنفیہ (بریلوی و دیوبندی) ، مالکیہ، شافعیہ، حنابلہ، ظاہریہ ، اہل تشیع کے بعض گروہ اس پر متفق ہیں کہ مروجہ قراءات ، اللہ کے رسول ﷺ سے ثابت ہیں اور صدیوں سے عالم اسلام کے معروف فقہی مدارس اور یونیورسٹیوں میں پڑھی پڑھائی جا رہی ہیں ، پھر یہ کہنے کی جرات کرے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت شھید کے باوجود ہزاروں مدارس، لاکھوں طلبا اور کروڑوں عوام قرآن کی بجائے فتنہ عجم کی درس و تدریس اور تلاوت میں مصروف ہیں اور بیسیوں اسلامی ممالک کی وزارت اوقاف ریاستی سطح پر ’فتنہ عجم‘ کو قرآن کے نام سے شائع کر رہی ہیں، تو ایسا شخص کیونکر اہلسنت میں شمار ہو سکتا ہے؟ یا اس کی ضلالت میں اب کیا مانع باقی رہ جاتا ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان گزارشات پر سنجیدگی سے سوچنے کی توفیق دے۔ اگر آپ راہ ہدایت پر نہیں، تو آپ کو ہدایت نصیب ہو، اور اگر میں گمراہ ہوں تو اللہ مجھے ہدایت دے۔ اور ہم سب اس دنیا سے رخصت ہوں تو اللہ کے مومن بندے بن کر رخصت ہوں۔آمین۔
rana ammar mazhar آن لائن ہے  
پرانا 27-11-11, 09:36 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ماشاءاللہ، شروع ہو گیا آپ کا لمبے لمبے اقتباسات والا چکر۔ کام کے جملے صرف تین ہیں، باقی سب غیر متعلقہ کاپی پیسٹنگ ہے:
اقتباس:
ماہنامہ رشد کے تینوں اختلاف قراءت نمبرز کا ماخذ کتاب المصاحف ابو داود السجستانی ہے !!!
امام ابو داود کے بیٹے ابی بکر سجستانی اپنی کتاب المصاحف میں نقل کرتے ہیں :: ’’ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی ‘‘
قرأتِ مصحف حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی جو آیت متعہ کے متعلق دی گئی ہے۔ اس کے اندر ان کی قرأت میں ’’ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی ‘‘ لکھا ہے۔ جو منسوخ بھی نہیں ہے !!!
محترم، آپ سے اس بات کا ثبوت نہیں مانگا تھا کہ کسی کتاب میں الیٰ‌اجل مسمًی لکھا ہوا دکھا دیں۔ ہم نے تو مصحف میں‌ لکھا ہونے کا ثبوت مانگا تھا۔ اور اآپ کے درج بالا اعتراض کو تو ہم پہلی پوسٹ ہی میں‌ نقل کر کے جواب دے کر فارغ ہو چکے۔ کوئی نئی بات ہو تو لائیں۔ اور آپ سے دلیل مانگی تھی کہ منسوخ نہ ہونے کی دلیل پیش فرما دیں۔ ہمارے نزدیک تو یہ قرات شاذ ہے اور منسوخ ہے۔ اگر یہ شاذ اور منسوخ نہ ہوتی تو دنیا میں‌کہیں نہ کہیں‌طبع ہو رہی ہوتی۔ اسی لئے آپ کو پچیس قراءات والی آڈیوز کے لنکس دئے تھے کہ ڈھونڈ دیں ان میں‌سے۔ وہ بھی آپ نہ کر پائے۔

خیر، آپ نے دوبارہ وہی بات پیش کی ہے تو ہم ذرا تفصیل سے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔

پہلی بات تو یہ کہ مصحف حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے وجود کے بارے میں‌بھی روایات و آثار ملتے ہیں ۔ لیکن روایات سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ ان کا یہ مصحف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ضبط کر لیا تھا۔ جمع عثمانی سے قبل حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا مصحف کیسا تھا یا کن سورتوں‌پر مشتمل تھا یا اس کا رسم الخط کیا تھا۔ ، اس بارے ہمیں‌کوئی مستند روایات نہیں‌ملتیں۔ جو روایات ان کے مصحف کے احوالے کے بارے مروی ہیں وہ باہم متضاد ہیں لہٰذا انتقاد اعلی کے اصول اور مضطرب المتن ہونے کی وجہ سے ناقابل قبول اور ضعیف ہیں۔

دوسری بات یہ کہ آپ جس کتاب المصاحف کو پیش فرما رہے ہیں اسی کی ایک روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا مصحف اپنے قبضے میں‌لے لیا تھا۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے پاس بھی یہ مصحف موجود نہ تھا چہ جائیکہ کوئی سینکڑوں‌سال بعد اپنے پاس اس مصحف کی موجودگی کا دعویٰ‌کرے۔ ابن ابھی داؤد رحمہ اللہ کی روایت کے الفاظ‌یہ ہیں:
’’حدثنا عبداللہ قال حدثنا ابو الربیع قال اخبرنا ابن وھب اخبرنی عمرو قال:‌قال بکیر حدثنی بسر بن سعید عن محمد بن ابی ان اناسا من اھل العراق قدموا الیہ فقالوا: انما تحملنا الیک من العراق ، فاخرج لنا مصحف ابی قال محمد: قد قبضہ عثمان۔ قالوا: سبحان اللہ! اخرجہ لنا ۔ قال: قد قبضہ عثمان۔‘‘
[کتاب المصاحف ، باب جمع عثمان المصاحف]

تیسری بات یہ ہے کہ ابن ابی داؤد رحمہ اللہ نے مصحف ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے تحت متعہ کی آیت میں جس اختلاف قراءت کا ذکر کیا ہے اس کی سند ہی منقطع ہے۔

چوتھی بات یہ ہے کہ روایت حفص عن عاصم کی صحیح و متواتر سند حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تک بھی جاتی ہے۔ لہٰذا اس متواتر سند کی موجودگی میں ان کی ایسی قراءات کی کیسے تصدیق کی جا سکتی ہے جو ضعیف، اور اخبار آحاد کی قبیل سے ہیں۔

لہٰذا ہم تو درج بالا چار دلائل پیش کر سکتے ہیں اپنے موقف کے حق میں کہ جو قراءت آپ پیش کر کے متعہ کو ثابت کرنا چاہ رہے ہیں، اس سے متعہ ثابت نہیں ہوتا۔ کیونکہ اول تو وہ مصحف ہی کسی کے پاس موجود نہیں تھا، تو ابن ابی داؤد رحمہ اللہ کو کہاں سے ملا؟ دوئم وہ مصحف کتاب المصاحف ہی کی رو سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ضبط کر چکے تھے، اور ظاہر ہے اسی لئے ضبط کیا تھا کہ وہ درست قرآن نہیں تھا، اس میں شاذ و منسوخ قراءت لکھی ہوئی تھی، تیسری بات یہ کہ ابن ابی داؤد سینکڑوں سال بعد جس قراءت کا ذکر کر رہے ہیں، اس کی سند منقطع اور چوتھی بات کہ ہمارے پاس اس شاذ قراءت کے بالمقابل متواتر قراءت موجود ہے، اور وہ بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی سے متواتر مروی ہے۔ لہٰذا اب آپ یا تو متعہ کے اثبات کی کوئی نئی دلیل پیش فرمائیں۔ اگر اسی بات کو بار بار گھسنا ہے تو پھر ہمارے درج بالا چاروں باتوں کا جواب پیش فرمائیں اور ثابت کریں کہ یہ قراءت منسوخ نہیں ہے اور آج بھی مصاحف میں طبع ہو رہی ہے یا قرائے کرام تلاوت اس متعہ والی آیت کی تلاوت کر رہے ہیں۔
شکاری آن لائن ہے  
8 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (27-11-11), کنعان (29-11-11), ھارون اعظم (28-11-11), نبیل خان (05-12-11), ملک اظہر (28-11-11), احمد نذیر (02-12-11), عبداللہ آدم (06-12-11), عبداللہ حیدر (28-11-11)
پرانا 28-11-11, 06:11 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default قرآن مجید میں ۲۵ قراءتوں کے اختلاف کی لسٹ، آیت ۲۴:۴ کے لیے کیا کیا اختلافات ہیں !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
اور چوتھی بات کہ ہمارے پاس اس شاذ قراءت کے بالمقابل متواتر قراءت موجود ہے،
قرآن مجید میں ۲۵ قراءتوں کے اختلاف کی لسٹ، آیت ۲۴:۴ کے لیے کیا کیا اختلافات ہیں !!!

4. الفاظ کی کمی وبیشی کا اختلاف کہ ایک قراءت میں کوئی لفظ کم اور دوسری قراءت میں زیادہ ہومثلاً’وما خلق الذکر والانثی‘اور ’ماخلق‘کے بغیر صرف ’والذکر والانثی‘۔

الفاظ کی کمی وبیشی کا اختلاف :: ’’ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی ‘‘

قرآن مجید میں قراء توں کا اختلاف
rana ammar mazhar آن لائن ہے  
پرانا 28-11-11, 06:14 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

رانا صاحب سے تو اب ہمیں‌کچھ نہیں‌کہنا۔
یہ دھاگا خصوصی طور پر فیصل ناصر صاحب کے لئے بنایا گیا تھا۔ کہ ان سے وعدہ کیا تھا کہ رانا صاحب جو جگہ جگہ اختلاف قراءات کے حوالے سے عجیب و غریب شوشے چھوڑتے رہتے ہیں، ان کی حقیقت واضح‌کروں‌گا۔
یہ دھاگا شروع سے آخر تک مطالعہ کر لیں اور کم سے کم اس موضوع پر اپنی بے لاگ رائے سے نواز دیں۔ تاکہ ہم کسی نئے موضوع کی طرف چلیں جس پر آپ کو کوئی اشکال ہو۔
شکاری آن لائن ہے  
6 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (28-11-11), فیصل ناصر (28-11-11), کنعان (29-11-11), نبیل خان (05-12-11), ملک اظہر (28-11-11), احمد نذیر (02-12-11)
پرانا 28-11-11, 06:41 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Let’s move

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
رانا صاحب سے تو اب ہمیں‌کچھ نہیں‌کہنا۔
تاکہ ہم کسی نئے موضوع کی طرف چلیں جس پر آپ کو کوئی اشکال ہو۔
Let’s move
rana ammar mazhar آن لائن ہے  
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 28-11-11, 07:10 PM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ان کا یہ مصحف عثمان ر نے ضبط کر لیا تھا لیکن اہل رشد دوبارہ اجراء چاہتے ہیں "قرآن" 25 کی شکل میں ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
محترم، آپ سے اس بات کا ثبوت نہیں مانگا تھا کہ کسی کتاب میں الیٰ‌اجل مسمًی لکھا ہوا دکھا دیں۔ ہم نے تو مصحف میں‌ لکھا ہونے کا ثبوت مانگا تھا۔ اور اآپ کے درج بالا اعتراض کو تو ہم پہلی پوسٹ ہی میں‌ نقل کر کے جواب دے کر فارغ ہو چکے۔ کوئی نئی بات ہو تو لائیں۔ اور آپ سے دلیل مانگی تھی کہ منسوخ نہ ہونے کی دلیل پیش فرما دیں۔ ہمارے نزدیک تو یہ قرات شاذ ہے اور منسوخ ہے۔ اگر یہ شاذ اور منسوخ نہ ہوتی تو دنیا میں‌کہیں نہ کہیں‌طبع ہو رہی ہوتی۔ اسی لئے آپ کو پچیس قراءات والی آڈیوز کے لنکس دئے تھے کہ ڈھونڈ دیں ان میں‌سے۔ وہ بھی آپ نہ کر پائے۔
پہلی بات تو یہ کہ مصحف حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے وجود کے بارے میں‌بھی روایات و آثار ملتے ہیں ۔ لیکن روایات سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ ان کا یہ مصحف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ضبط کر لیا تھا۔ جمع عثمانی سے قبل حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا مصحف کیسا تھا یا کن سورتوں‌پر مشتمل تھا یا اس کا رسم الخط کیا تھا۔ ، اس بارے ہمیں‌کوئی مستند روایات نہیں‌ملتیں۔ جو روایات ان کے مصحف کے احوالے کے بارے مروی ہیں وہ باہم متضاد ہیں لہٰذا انتقاد اعلی کے اصول اور مضطرب المتن ہونے کی وجہ سے ناقابل قبول اور ضعیف ہیں۔
دوسری بات یہ کہ آپ جس کتاب المصاحف کو پیش فرما رہے ہیں اسی کی ایک روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا مصحف اپنے قبضے میں‌لے لیا تھا۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے پاس بھی یہ مصحف موجود نہ تھا چہ جائیکہ کوئی سینکڑوں‌سال بعد اپنے پاس اس مصحف کی موجودگی کا دعویٰ‌کرے۔ ابن ابھی داؤد رحمہ اللہ کی روایت کے الفاظ‌یہ ہیں:
’’حدثنا عبداللہ قال حدثنا ابو الربیع قال اخبرنا ابن وھب اخبرنی عمرو قال:‌قال بکیر حدثنی بسر بن سعید عن محمد بن ابی ان اناسا من اھل العراق قدموا الیہ فقالوا: انما تحملنا الیک من العراق ، فاخرج لنا مصحف ابی قال محمد: قد قبضہ عثمان۔ قالوا: سبحان اللہ! اخرجہ لنا ۔ قال: قد قبضہ عثمان۔‘‘
[کتاب المصاحف ، باب جمع عثمان المصاحف]
لیکن روایات سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ ان کا یہ مصحف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ضبط کر لیا تھا لیکن اہل رشد دوبارہ اجراء چاہتے ہیں "قرآن مجید میں قراء توں کا اختلاف" کی شکل میں ؟؟؟

قرآن مجید میں قراء توں کا اختلاف

میدان جنگ سے قبضہ میں آنے والی عورتیں اور ۔۔۔ متعہ

پھر فرمایا کہ جن عورتوں سے تم فائدہ اٹھاؤ ان کے اس فائدہ کے مقابلہ میں مہر دے دیا کرو، جیسے اور آیت میں ہے و کیف تاخذونہ وقد افضی بعضکم الی بعض یعنی تم مہر کو عورتوں سے کیسے لو گے حالانکہ ایک دوسرے سے مل چکے ہو اور فرمایا و اتوا النساء صدقاتہن نحلتہ عورتوں کے مہر بخوشی دے دیا کرو اور جگہ فرمایا ولا یحل لکم ان تاخذوا مما اتیتمو ہن شیأا الخ، تم نے جو کچھ عورتوں کو دے دیا ہو اس میں سے واپس لینا تم پر حرام ہے، اس آیت سے نکاح متعہ پر استدلال کیا ہے بیشک متعہ ابتداء اسلام میں مشروع تھا لیکن پھر منسوخ ہوگیا، امام شافعی اور علمائے کرام کی ایک جماعت نے فرمایا ہے کہ دو مرتبہ متعہ مباح ہوا پھر منسوخ ہوا۔ بعض کہتے ہیں اس سے بھی زیادہ بار مباح اور منسوخ ہوا، اور بعض کا قول ہے کہ صرف ایک بار مباح ہوا پھر منسوخ ہوگیا پھر مباح نہیں ہوا۔ حضرت ابن عباس اور چند دیگر صحابہ سے ضرورت کے وقت اس کی اباحت مروی ہے، حضرت امام احمد بن حنبل سے بھی ایک روایت ایسی ہی مروی ہے ابن عباس ابی بن کعب سعید بن جیبر اور سدی سے منہن کے بعد الی اجل مسمی کی قرأت مروی ہے، مجاہد فرماتے ہیں یہ آیت نکاح متعہ کی بابت نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور اس کے برخلاف ہیں اور اس کا بہترین فیصلہ بخاری و مسلم کی حضرت علی والی روایت کردیتی ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والے دن نکاح متعہ سے اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمادیا، اس حدیث کے الفاظ کتب احکام میں مقرر ہیں، صحیح مسلم شریف میں حضرت سیرہ بن معبد جہنی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے غزوہ میں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ نے ارشاد فرمایا اے لوگو میں نے تمہیں عورتوں سے متعہ کرنے کی رخصت دی تھی یاد رکھو بیشک اب اللہ تبارک و تعالٰی نے اسے قیامت تک کے لئے حرام کردیا ہے جس کے پاس اس قسم کی کوئی عورت ہو تو اسے چاہئے کہ اسے چھوڑ دے اور تم نے جو کچھ انہیں دے رکھا ہو اس میں سے ان سے کچھ نہ لو، صحیح مسلم شریف کی ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے حجتہ الوداع میں یہ فرمایا تھا، یہ حدیث کئی الفاظ سے مروی ہے، جن کی تفصیل کی جگہ احکام کی کتابیں ہیں، پھر فرمایا کہ تقرر کے بعد بھی اگر تم بہ رضامندی کچھ طے کرلو تو کوئی حرج نہیں، اگلے جملے کو متعہ پر محمول کرنے والے تو اس کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ جب مدت مقررہ گزرجائے پھر مدت کو بڑھا لینے اور جو دیا ہو اس کے علاوہ اور کچھ دینے میں کوئی گناہ نہیں، سدی کہتے ہیں اگر چاہے تو پہلے کے مقرر مہر کے بعد جو دے چکا ہے وقت کے ختم ہونے سے پیشتر پھر کہدے کہ میں اتنی اتنی مدت کے لئے پھر متعہ کرتا ہوں پس اگر اس نے رحم کی پاکیزگی سے پہلے دن بڑھا لئے تو جب مدت پوری ہوجائے تو پھر اس کا کوئی دباؤ نہیں وہ عورت الگ ہوجائے گی اور حیض تک ٹھہر کر اپنے رحم کی صفائی کرلے گی ان دونوں میں میراث نہیں نہ یہ عورت اس مرد کی وارث نہ یہ مرد اس عورت کا، اور جن حضرات نے اس جملہ کو نکاح مسنون کے مہر کی کے مصداق کہا ہے ان کے نزدیک تو مطلب صاف ہے کہ اس مہر کی ادائیگی تاکیداً بیان ہو رہی ہے جیسے فرمایا مہر بہ آسانی اور بہ خوشی دے دیا کرو، اگر مہر کے مقرر ہوجانے کے بعد عورت اپنے پورے حق کو یا تھوڑے سے حق کو چھوڑ دے صاف کر دے اس سے دست بردار ہوجائے تو میاں بیوی میں سے کسی پر کوئی گناہ نہیں، حضرت حضرمی فرماتے ہیں کہ لوگ اقرار دیتے ہیں پھر ممکن ہے کہ تنگی ہوجائے تو اگر عورت اپنا حق چھوڑ دے تو جائز ہے، امام ابن جریر بھی اسی قول کو پسند کرتے ہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ مہر کی رقم پوری پوری اس کے حوالے کردے پھر اسے بسنے اور الگ ہونے کا پورا پورا اختیار دے، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ علیم و حکیم ہے ان کا احکام میں جو حلت و حرمت کے متعلق ہیں جو رحمتیں ہیں اور جو مصلحتیں ہیں انہیں وہی بخوبی جانتا ہے۔

__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"
rana ammar mazhar آن لائن ہے  
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 28-11-11, 07:29 PM   #12
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
میدان جنگ سے قبضہ میں آنے والی عورتیں اور ۔۔۔ متعہ

پھر فرمایا کہ جن عورتوں سے تم فائدہ اٹھاؤ ان کے اس فائدہ کے مقابلہ میں مہر دے دیا کرو، جیسے اور آیت میں ہے و کیف تاخذونہ وقد افضی بعضکم الی بعض یعنی تم مہر کو عورتوں سے کیسے لو گے حالانکہ ایک دوسرے سے مل چکے ہو اور فرمایا و اتوا النساء صدقاتہن نحلتہ عورتوں کے مہر بخوشی دے دیا کرو اور جگہ فرمایا ولا یحل لکم ان تاخذوا مما اتیتمو ہن شیأا الخ، تم نے جو کچھ عورتوں کو دے دیا ہو اس میں سے واپس لینا تم پر حرام ہے، اس آیت سے نکاح متعہ پر استدلال کیا ہے بیشک متعہ ابتداء اسلام میں مشروع تھا لیکن پھر منسوخ ہوگیا، امام شافعی اور علمائے کرام کی ایک جماعت نے فرمایا ہے کہ دو مرتبہ متعہ مباح ہوا پھر منسوخ ہوا۔ بعض کہتے ہیں اس سے بھی زیادہ بار مباح اور منسوخ ہوا، اور بعض کا قول ہے کہ صرف ایک بار مباح ہوا پھر منسوخ ہوگیا پھر مباح نہیں ہوا۔ حضرت ابن عباس اور چند دیگر صحابہ سے ضرورت کے وقت اس کی اباحت مروی ہے، حضرت امام احمد بن حنبل سے بھی ایک روایت ایسی ہی مروی ہے ابن عباس ابی بن کعب سعید بن جیبر اور سدی سے منہن کے بعد الی اجل مسمی کی قرأت مروی ہے، مجاہد فرماتے ہیں یہ آیت نکاح متعہ کی بابت نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور اس کے برخلاف ہیں اور اس کا بہترین فیصلہ بخاری و مسلم کی حضرت علی والی روایت کردیتی ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والے دن نکاح متعہ سے اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمادیا، اس حدیث کے الفاظ کتب احکام میں مقرر ہیں، صحیح مسلم شریف میں حضرت سیرہ بن معبد جہنی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے غزوہ میں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ نے ارشاد فرمایا اے لوگو میں نے تمہیں عورتوں سے متعہ کرنے کی رخصت دی تھی یاد رکھو بیشک اب اللہ تبارک و تعالٰی نے اسے قیامت تک کے لئے حرام کردیا ہے جس کے پاس اس قسم کی کوئی عورت ہو تو اسے چاہئے کہ اسے چھوڑ دے اور تم نے جو کچھ انہیں دے رکھا ہو اس میں سے ان سے کچھ نہ لو، صحیح مسلم شریف کی ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے حجتہ الوداع میں یہ فرمایا تھا، یہ حدیث کئی الفاظ سے مروی ہے، جن کی تفصیل کی جگہ احکام کی کتابیں ہیں، پھر فرمایا کہ تقرر کے بعد بھی اگر تم بہ رضامندی کچھ طے کرلو تو کوئی حرج نہیں، اگلے جملے کو متعہ پر محمول کرنے والے تو اس کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ جب مدت مقررہ گزرجائے پھر مدت کو بڑھا لینے اور جو دیا ہو اس کے علاوہ اور کچھ دینے میں کوئی گناہ نہیں، سدی کہتے ہیں اگر چاہے تو پہلے کے مقرر مہر کے بعد جو دے چکا ہے وقت کے ختم ہونے سے پیشتر پھر کہدے کہ میں اتنی اتنی مدت کے لئے پھر متعہ کرتا ہوں پس اگر اس نے رحم کی پاکیزگی سے پہلے دن بڑھا لئے تو جب مدت پوری ہوجائے تو پھر اس کا کوئی دباؤ نہیں وہ عورت الگ ہوجائے گی اور حیض تک ٹھہر کر اپنے رحم کی صفائی کرلے گی ان دونوں میں میراث نہیں نہ یہ عورت اس مرد کی وارث نہ یہ مرد اس عورت کا، اور جن حضرات نے اس جملہ کو نکاح مسنون کے مہر کی کے مصداق کہا ہے ان کے نزدیک تو مطلب صاف ہے کہ اس مہر کی ادائیگی تاکیداً بیان ہو رہی ہے جیسے فرمایا مہر بہ آسانی اور بہ خوشی دے دیا کرو، اگر مہر کے مقرر ہوجانے کے بعد عورت اپنے پورے حق کو یا تھوڑے سے حق کو چھوڑ دے صاف کر دے اس سے دست بردار ہوجائے تو میاں بیوی میں سے کسی پر کوئی گناہ نہیں، حضرت حضرمی فرماتے ہیں کہ لوگ اقرار دیتے ہیں پھر ممکن ہے کہ تنگی ہوجائے تو اگر عورت اپنا حق چھوڑ دے تو جائز ہے، امام ابن جریر بھی اسی قول کو پسند کرتے ہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ مہر کی رقم پوری پوری اس کے حوالے کردے پھر اسے بسنے اور الگ ہونے کا پورا پورا اختیار دے، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ علیم و حکیم ہے ان کا احکام میں جو حلت و حرمت کے متعلق ہیں جو رحمتیں ہیں اور جو مصلحتیں ہیں انہیں وہی بخوبی جانتا ہے۔
یہ مضمون کہاں سے لیا گیا ہے رانا صاحب ؟؟
فیصل ناصر آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
پرانا 28-11-11, 07:39 PM   #13
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
رانا صاحب سے تو اب ہمیں‌کچھ نہیں‌کہنا۔
یہ دھاگا خصوصی طور پر فیصل ناصر صاحب کے لئے بنایا گیا تھا۔ کہ ان سے وعدہ کیا تھا کہ رانا صاحب جو جگہ جگہ اختلاف قراءات کے حوالے سے عجیب و غریب شوشے چھوڑتے رہتے ہیں، ان کی حقیقت واضح‌کروں‌گا۔
یہ دھاگا شروع سے آخر تک مطالعہ کر لیں اور کم سے کم اس موضوع پر اپنی بے لاگ رائے سے نواز دیں۔ تاکہ ہم کسی نئے موضوع کی طرف چلیں جس پر آپ کو کوئی اشکال ہو۔
معافی چاہتا ہوں شکاری صاحب اس موضوع پر میں فورم سے ہٹ کر کچھ معلومات لے رہا ہوں اس لئے فلحال کسی تبصرے سے قاصر ہوں‌

ویسے اب تک فورم میں آپکی زیادہ تر گفتگو رانا صاحب سے ہی ہوئی ہے اس لئے رانا صاحب کو اس طرح نظر انداز کرنا مناسب نہیں

کم از کم دلیل کی جوابی دلیل ضرور مرحمت فرمائیں
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے  
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (28-11-11)
پرانا 28-11-11, 07:48 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default یہ مضمون "تفسیر ابن کثیر" ۲۴ آیت : ۴ سورة النِّسَاء کا ہے !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
یہ مضمون کہاں سے لیا گیا ہے رانا صاحب ؟؟
یہ مضمون "تفسیر ابن کثیر"
۲۴ آیت : ۴ سورة النِّسَاء کا ہے !!!

Last edited by rana ammar mazhar; 28-11-11 at 07:56 PM.
rana ammar mazhar آن لائن ہے  
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (28-11-11)
پرانا 28-11-11, 08:06 PM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
معافی چاہتا ہوں شکاری صاحب اس موضوع پر میں فورم سے ہٹ کر کچھ معلومات لے رہا ہوں اس لئے فلحال کسی تبصرے سے قاصر ہوں‌

ویسے اب تک فورم میں آپکی زیادہ تر گفتگو رانا صاحب سے ہی ہوئی ہے اس لئے رانا صاحب کو اس طرح نظر انداز کرنا مناسب نہیں

کم از کم دلیل کی جوابی دلیل ضرور مرحمت فرمائیں
جی ضرور فیصل صاحب۔ اپنا سویٹ ٹائم لیجئے موضوع پر معلومات کے حصول کے لئے۔
لیکن یہ جو آپ نے فرمایا ہے کہ دلیل کی جوابی دلیل مرحمت فرمائیں۔ تو محترم یہ بات صرف ہم پر ہی لاگو ہوتی ہے یا آپ کے ممدوح‌رانا صاحب پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ ان کی کون سی دلیل ہے جس کا ہم نے جواب نہیں‌دیا۔ اور ہماری کون سی بات ہے جس کا انہوں نے جواب دیا ہے؟؟

ان کا دعویٰ‌تھا کہ سبعہ احرف قرآن مجید سے متعہ ثابت ہو جاتا ہے۔ ہم نے شروع دھاگے میں‌ہی واضح‌کر دیا کہ متعہ کی حلت و حرمت یا نسخ‌ہمارا موضوع نہیں۔ رانا صاحب کا دعویٰ‌ کیسے ثابت ہوگا، اس کا آسان سا رستہ بھی بتا دیا۔ کہ بھائی دنیا بھر میں‌اختلاف قراءات والے قرآن شائع ہو رہے ہیں، کسی بھی قراآن سے اپنے مزعومہ الفاظ‌ثابت کر دیجئے۔ ایک بھی مصحف سے بھی ثابت نہیں کر پائے۔

پھر جا کر کتاب المصاحف ابو داود السجستانی سے حوالہ اٹھا لائے کہ قراءات میں‌الفاظ‌موجود ہیں۔ ہم نے چار مضبوط دلائل سے ثابت کیا کہ یہ قراءت منسوخ‌ہے اور شاذ‌ہے۔ یا تو نئی دلیل پیش کریں یا ہمارے چاروں‌دلائل کا جواب دیں‌اور ثابت کریں‌کہ یہ قراءت منسوخ نہیں۔

اب یہ صاحب چلے گئے ہیں احادیث‌اور کتب تفسیر کی طرف۔ تو محترم، عرض یہ ہے کہ یہاں ہم متعہ کی حلت و حرمت پر بات کرنے ہی نہیں‌اآئے تھے۔ ہمارا شروع سے یہ موضوع ہی نہیں‌تھا۔ ہمارا موضوع رانا صاحب کا یہ دعویٰ‌تھا کہ سبعہ احرف قرآن مجید سے متعہ ثابت ہوتا ہے، یہ دعویٰ ہنوز ثبوت کا طلبگار ہے۔
اگر احادیث‌ سے متعہ کا ثبوت ملتا ہے تو احادیث‌ہی سے متعہ کا نسخ بھی ملتا ہے۔ پھر کیا بات ہے کہ ہمارے یہ مہربان، اثبات کی احادیث‌کو تو ہمارے خلاف پیش کرتے ہیں‌اور نسخ کی احادیث‌کو پیش ہی نہیں‌کرتے۔

لہٰذا ہمارا مطالبہ رانا صاحب سے یہی ہے کہ سبعہ احرف والے قرآن مجید دنیا میں‌موجود ہیں، قرائے کرام کی آڈیوز موجود ہیں، گوگلنگ کریں‌ اور اگر ایسی کوئی آیت سبعہ احرف قرآن مجید میں‌پائی جاتی ہے تو پیش کریں، ہم سر تسلیم خم کر دیں‌گے۔ ورنہ رانا صاحب کی ڈھٹائی سے یہاں‌ ہر بندہ واقف ہی ہے۔ انتظامیہ نے کھلی چھوٹ دے رکھی ہے لہٰذا ایک دھاگے کے مراسلہ جات اس موضوع سے متعلق ہر دھاگے میں‌یہ کاپی کرتے ہیں اور کوئی ان کو کچھ نہیں کہتا۔ بار بار ایک ہی بات دہراتے جاتے ہیں اور پچھلی باتوں‌ میں‌سے کسی کا جواب نہیں‌دیتے اور انتظامیہ ان کو پابند نہیں‌کرتی کہ آپ بھی پچھلی باتوں‌کا جواب دے کر آگے بڑھیں۔ حیرت کی بات ہے ان کی ان حرکتوں‌سے اسلامی سیکشن میں‌ہر شخص‌تنگ ہے۔ کسی کو بھی یہی شکایت نہ فاروق خان صاحب سے ہے اور نہ ریحان حیدر وغیرہ سے۔ حالانکہ اختلافات ان سے بھی شدید ہیں۔
ابھی کچھ موہوم سی امید ہے کہ حال ہی میں‌حیدر صاحب جو بلند بانگ دعویٰ‌کر گئے ہیں، شاید اس پر عملدرآمد ہو تو رانا صاحب کی ان الٹی سیدھی حرکتوں‌ کو کچھ لگام ملے۔

Last edited by شکاری; 28-11-11 at 08:09 PM.
شکاری آن لائن ہے  
7 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (28-11-11), کنعان (29-11-11), نبیل خان (05-12-11), ملک اظہر (28-11-11), احمد نذیر (02-12-11), عبداللہ آدم (02-12-11), عبداللہ حیدر (28-11-11)
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
color, pdf, ہے۔, کوشش, کرنی, گئی, یوں, وضاحت, قرآنی, نام, مقصد, مجید, مسلمانوں, آج, اللہ, ثبوت, جواب, حضرات, خلاف, خبر, خدا, دنیا, علیحدہ, غور, غلط


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سرٹیفکیشن اور انٹرنیٹ پر تعلیم کے متعلق مشورہ درکار یاسر عمران مرزا Computer Certifications 29 20-03-11 12:11 AM
سلمان تاثیر کا تعلق تعلیم یافتہ عاشق رسول گھرانے سے تھا گلاب خان خبریں 16 08-01-11 04:53 AM
تعلیمی سیمینار تعلیم Real_Light خبریں 0 21-04-08 09:20 AM
سرکاری اسکولوں کاتعلیمی معیار اب گرتا جا رہا ہے، وزیر تعلیم خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-01-08 10:24 AM
سرکاری ملازمین کی ترقی سے متعلق پالیسی یکسر تبدیل،پروموشن بورڈز بڑی حد تک غیر متعلق کردیئے گئے,,,,رپور ٹ:… انصار عباسی خرم شہزاد خرم خبریں 0 26-10-07 10:57 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:03 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger