| علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | ||||||||
|
|||||||||
|
مناظر: 1177
|
|||||||||
| 3 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
متعہ ثابت کرنے کے لیے اس قدر کافی ہے کہ بعض قرأت میں “الی اجل مسمی” کے الفاظ موجود ہیں۔
کلیتہ القرآن الکریم ،جامعہ لاہور کے فضلاء میں سے تقریباً بارہ محقق اساتذہ نے محنت شاقہ فر ما کر تین سال کے عرصے میں وہ تمام غیر متداولہ قر اءات میں سولہ مصاحف تیار کر لئے ہیں اور جیسا کہ راقم نے پہلے عرض کیا ہے کہ یہ کام اپنی نو عیت اور جامعیت کے حوالے سے تاریخ اسلام کا پہلا کام ہے ‘‘ ( قاری فہد اللہ مراد، رشدح ا ،ص 678 ) ![]() تمام غیر متداولہ قر اءات میں سولہ مصاحف تیار کر لئے ہیں، ایک میں غیر متداولہ قراءت متعہ “الی اجل مسمی” بھی شامل کرلیں گے !!! اگر نہ بھی ہوئی تو کوئی بات نہیں غیر متداولہ قر اءات کا رواج تو پڑ ہی جائے گا آئندہ شامل کر لیں گے !!! لائن نمبر ۲۲ پر غور کریں :: کویت کے پیچھے کس کا ہاتھ ہو سکتا ہے ؟؟؟ نیا قرآن : امریکہ نے ایک نیا قرآن جس کا نام کتاب فرقان ہے شائع کیا ہے۔اسکی پہلی کاپی کویت میں جاری ہوئی۔
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن" Last edited by rana ammar mazhar; 27-11-11 at 07:13 PM. |
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (28-11-11) |
|
|
#3 | ||||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کمال ہے، ہر دھاگے میںتو آپ نے متعہ متعہ کا شور ڈالا ہوا تھا۔ خواتین کی طرحطعنوںکوسنوںسے ہر جگہ ہمیںنوازتے رہے۔ اب جب آپ کے من پسند موضوع پر باقاعدہ دھاگا بنا کر آپ کو دعوت دی ہے دلائل پیش کرنے کے لئے، تو کوئی بجھی ہوئی چنگاری بھی نہیں۔؟ خیر، پہلی گزارش تو یہ ہے کہ ہم یہاںاہل رشد کی بات نہیںکر رہے۔ سبعہ احرف کا اہل رشد سے کوئی تعلق نہیں ۔ لہٰذا آپ کو اہل رشد سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرنا ہے تو رشد والوںکے محدثفورم پر جا کر کر لیں، وہاںآپ کی خوب پذیرائی دلائل کے ساتھ ہو جائے گی۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم نے اوپر آپ کے ہی اقتباسات ہائی لائٹ کئے ہیں۔ جن میں آپ نے دعویٰکیا ہے کہ: اقتباس:
اگر دلیل پیش فرما سکیںتو بہتر، ورنہ جرات کا مظاہرہ کریںاور اعتراف کر لیںکہ جی دور حاضر میں کسی مصحف میںایسی کوئی آیت موجود نہیں۔ باقی جو آپ نے کمزور سے لہجے میںیہ فرمایا ہے : اقتباس:
محترم ، جب ایک حدیثضعیف ہوتی ہے یا کوئی قراءت شاذ ہوتی ہے، تو اس کو آپ ہمارے خلاف کیسے دلیل بنا سکتے ہو، جب ہم اس کو مانتے ہی نہیں؟ یہ تو ایسے ہی ہے، کہ میںدعویٰکروںکہ رانا صاحب کے گروہ کے نزدیک جہاد کی تمام آیات جو موجودہ قرآن میںپائی جاتی ہیں، وہ قرآن میںتحریف ہیں۔ رانا صاحب شور کریںکہ دلیل پیش کرو، اور میں جواب میںکہوں کہ جی امریکنز کے شائع کردہ ٹرو فرقان میں جہاد والی آیات نکال دی گئی ہیں۔ رانا صاحب حیران ہو کر سوال کریں کہ اسے تو میںقرآن ہی نہیںمانتا، تو میںکہوںکہ : اقتباس:
موضوع سے ہٹ کر برسبیل تذکرہ عرض ہے کہ جن سولہ غیر متداول قراءات کا ذکر رشد میںکیا گیا ہے، اگر ان پر اعتراض کرنا ہے تو الگ دھاگا کھول لیں، آپ کی تشفی کروانا میرا کام ہے۔ ان شإءاللہ۔ |
||||
|
|
| 4 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
قرإءت شاذ کو سمجھنا چاہیں تو علیحدہ دھاگا کھول لیں۔ یہاںتو بس اپنے اسی ایک دعویٰ کا ثبوت دے دیجئے کہ سبعہ احرف قرآن مجید میں کہاں سے متعہ ثابت ہوتا ہے۔ ادھر ادھر کی بہت باتیں ہیں، وہ بعد میںسہی۔ آپ اہل رشد کی بیس روایات کو رو رہے تھے، لیجئے درج ذیل سائٹ پر پچیس روایات میں قرآن کی تلاوت سنیں اور اس میںسے ڈھونڈیںکہ متعہ کہاںسے ثابت ہوتا ہے، یہ سب متواتر قراءات ہیں، لہٰذا ہم کسی کا بھی انکار نہیں کر سکیںگے، بے فکر رہیں۔ http://audio.islamweb.net/audio/index.php?page=rewaya#2 لیکن موضوع سے ادھر ادھر کی بات مت کیجئے گا۔ ورنہ امید ہے کہ انتظامیہ غیر متعلقہ مراسلات کو ڈیلیٹ کرنے میںضرور تعاون کرے گی۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ماہنامہ رشد کے تینوں اختلاف قراءت نمبرز کا ماخذ کتاب المصاحف ابو داود السجستانی ہے !!! امام ابو داود کے بیٹے ابی بکر سجستانی اپنی کتاب المصاحف میں نقل کرتے ہیں :: ’’ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی ‘‘ قرأتِ مصحف حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی جو آیت متعہ کے متعلق دی گئی ہے۔ اس کے اندر ان کی قرأت میں ’’ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی ‘‘ لکھا ہے۔ جو منسوخ بھی نہیں ہے !!! ۷سے ترقی کرکے ۲۵ کیسے ؟؟؟ ۲۵ قرآن مجید میں قراءتوں کے اختلاف کی لسٹ !!! اقتباس:
|
||
|
|
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماشاءاللہ، شروع ہو گیا آپ کا لمبے لمبے اقتباسات والا چکر۔ کام کے جملے صرف تین ہیں، باقی سب غیر متعلقہ کاپی پیسٹنگ ہے:
اقتباس:
خیر، آپ نے دوبارہ وہی بات پیش کی ہے تو ہم ذرا تفصیل سے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ مصحف حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے وجود کے بارے میںبھی روایات و آثار ملتے ہیں ۔ لیکن روایات سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ ان کا یہ مصحف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ضبط کر لیا تھا۔ جمع عثمانی سے قبل حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا مصحف کیسا تھا یا کن سورتوںپر مشتمل تھا یا اس کا رسم الخط کیا تھا۔ ، اس بارے ہمیںکوئی مستند روایات نہیںملتیں۔ جو روایات ان کے مصحف کے احوالے کے بارے مروی ہیں وہ باہم متضاد ہیں لہٰذا انتقاد اعلی کے اصول اور مضطرب المتن ہونے کی وجہ سے ناقابل قبول اور ضعیف ہیں۔ دوسری بات یہ کہ آپ جس کتاب المصاحف کو پیش فرما رہے ہیں اسی کی ایک روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا مصحف اپنے قبضے میںلے لیا تھا۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے پاس بھی یہ مصحف موجود نہ تھا چہ جائیکہ کوئی سینکڑوںسال بعد اپنے پاس اس مصحف کی موجودگی کا دعویٰکرے۔ ابن ابھی داؤد رحمہ اللہ کی روایت کے الفاظیہ ہیں: ’’حدثنا عبداللہ قال حدثنا ابو الربیع قال اخبرنا ابن وھب اخبرنی عمرو قال:قال بکیر حدثنی بسر بن سعید عن محمد بن ابی ان اناسا من اھل العراق قدموا الیہ فقالوا: انما تحملنا الیک من العراق ، فاخرج لنا مصحف ابی قال محمد: قد قبضہ عثمان۔ قالوا: سبحان اللہ! اخرجہ لنا ۔ قال: قد قبضہ عثمان۔‘‘ [کتاب المصاحف ، باب جمع عثمان المصاحف] تیسری بات یہ ہے کہ ابن ابی داؤد رحمہ اللہ نے مصحف ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے تحت متعہ کی آیت میں جس اختلاف قراءت کا ذکر کیا ہے اس کی سند ہی منقطع ہے۔ چوتھی بات یہ ہے کہ روایت حفص عن عاصم کی صحیح و متواتر سند حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تک بھی جاتی ہے۔ لہٰذا اس متواتر سند کی موجودگی میں ان کی ایسی قراءات کی کیسے تصدیق کی جا سکتی ہے جو ضعیف، اور اخبار آحاد کی قبیل سے ہیں۔ لہٰذا ہم تو درج بالا چار دلائل پیش کر سکتے ہیں اپنے موقف کے حق میں کہ جو قراءت آپ پیش کر کے متعہ کو ثابت کرنا چاہ رہے ہیں، اس سے متعہ ثابت نہیں ہوتا۔ کیونکہ اول تو وہ مصحف ہی کسی کے پاس موجود نہیں تھا، تو ابن ابی داؤد رحمہ اللہ کو کہاں سے ملا؟ دوئم وہ مصحف کتاب المصاحف ہی کی رو سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ضبط کر چکے تھے، اور ظاہر ہے اسی لئے ضبط کیا تھا کہ وہ درست قرآن نہیں تھا، اس میں شاذ و منسوخ قراءت لکھی ہوئی تھی، تیسری بات یہ کہ ابن ابی داؤد سینکڑوں سال بعد جس قراءت کا ذکر کر رہے ہیں، اس کی سند منقطع اور چوتھی بات کہ ہمارے پاس اس شاذ قراءت کے بالمقابل متواتر قراءت موجود ہے، اور وہ بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی سے متواتر مروی ہے۔ لہٰذا اب آپ یا تو متعہ کے اثبات کی کوئی نئی دلیل پیش فرمائیں۔ اگر اسی بات کو بار بار گھسنا ہے تو پھر ہمارے درج بالا چاروں باتوں کا جواب پیش فرمائیں اور ثابت کریں کہ یہ قراءت منسوخ نہیں ہے اور آج بھی مصاحف میں طبع ہو رہی ہے یا قرائے کرام تلاوت اس متعہ والی آیت کی تلاوت کر رہے ہیں۔ |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (27-11-11), کنعان (29-11-11), ھارون اعظم (28-11-11), نبیل خان (05-12-11), ملک اظہر (28-11-11), احمد نذیر (02-12-11), عبداللہ آدم (06-12-11), عبداللہ حیدر (28-11-11) |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
4. الفاظ کی کمی وبیشی کا اختلاف کہ ایک قراءت میں کوئی لفظ کم اور دوسری قراءت میں زیادہ ہومثلاً’وما خلق الذکر والانثی‘اور ’ماخلق‘کے بغیر صرف ’والذکر والانثی‘۔ الفاظ کی کمی وبیشی کا اختلاف :: ’’ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی ‘‘ قرآن مجید میں قراء توں کا اختلاف |
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
رانا صاحب سے تو اب ہمیںکچھ نہیںکہنا۔
یہ دھاگا خصوصی طور پر فیصل ناصر صاحب کے لئے بنایا گیا تھا۔ کہ ان سے وعدہ کیا تھا کہ رانا صاحب جو جگہ جگہ اختلاف قراءات کے حوالے سے عجیب و غریب شوشے چھوڑتے رہتے ہیں، ان کی حقیقت واضحکروںگا۔ یہ دھاگا شروع سے آخر تک مطالعہ کر لیں اور کم سے کم اس موضوع پر اپنی بے لاگ رائے سے نواز دیں۔ تاکہ ہم کسی نئے موضوع کی طرف چلیں جس پر آپ کو کوئی اشکال ہو۔ |
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | ابو ازہان اثری (28-11-11) |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
قرآن مجید میں قراء توں کا اختلاف میدان جنگ سے قبضہ میں آنے والی عورتیں اور ۔۔۔ متعہ پھر فرمایا کہ جن عورتوں سے تم فائدہ اٹھاؤ ان کے اس فائدہ کے مقابلہ میں مہر دے دیا کرو، جیسے اور آیت میں ہے و کیف تاخذونہ وقد افضی بعضکم الی بعض یعنی تم مہر کو عورتوں سے کیسے لو گے حالانکہ ایک دوسرے سے مل چکے ہو اور فرمایا و اتوا النساء صدقاتہن نحلتہ عورتوں کے مہر بخوشی دے دیا کرو اور جگہ فرمایا ولا یحل لکم ان تاخذوا مما اتیتمو ہن شیأا الخ، تم نے جو کچھ عورتوں کو دے دیا ہو اس میں سے واپس لینا تم پر حرام ہے، اس آیت سے نکاح متعہ پر استدلال کیا ہے بیشک متعہ ابتداء اسلام میں مشروع تھا لیکن پھر منسوخ ہوگیا، امام شافعی اور علمائے کرام کی ایک جماعت نے فرمایا ہے کہ دو مرتبہ متعہ مباح ہوا پھر منسوخ ہوا۔ بعض کہتے ہیں اس سے بھی زیادہ بار مباح اور منسوخ ہوا، اور بعض کا قول ہے کہ صرف ایک بار مباح ہوا پھر منسوخ ہوگیا پھر مباح نہیں ہوا۔ حضرت ابن عباس اور چند دیگر صحابہ سے ضرورت کے وقت اس کی اباحت مروی ہے، حضرت امام احمد بن حنبل سے بھی ایک روایت ایسی ہی مروی ہے ابن عباس ابی بن کعب سعید بن جیبر اور سدی سے منہن کے بعد الی اجل مسمی کی قرأت مروی ہے، مجاہد فرماتے ہیں یہ آیت نکاح متعہ کی بابت نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور اس کے برخلاف ہیں اور اس کا بہترین فیصلہ بخاری و مسلم کی حضرت علی والی روایت کردیتی ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والے دن نکاح متعہ سے اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمادیا، اس حدیث کے الفاظ کتب احکام میں مقرر ہیں، صحیح مسلم شریف میں حضرت سیرہ بن معبد جہنی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے غزوہ میں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ نے ارشاد فرمایا اے لوگو میں نے تمہیں عورتوں سے متعہ کرنے کی رخصت دی تھی یاد رکھو بیشک اب اللہ تبارک و تعالٰی نے اسے قیامت تک کے لئے حرام کردیا ہے جس کے پاس اس قسم کی کوئی عورت ہو تو اسے چاہئے کہ اسے چھوڑ دے اور تم نے جو کچھ انہیں دے رکھا ہو اس میں سے ان سے کچھ نہ لو، صحیح مسلم شریف کی ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے حجتہ الوداع میں یہ فرمایا تھا، یہ حدیث کئی الفاظ سے مروی ہے، جن کی تفصیل کی جگہ احکام کی کتابیں ہیں، پھر فرمایا کہ تقرر کے بعد بھی اگر تم بہ رضامندی کچھ طے کرلو تو کوئی حرج نہیں، اگلے جملے کو متعہ پر محمول کرنے والے تو اس کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ جب مدت مقررہ گزرجائے پھر مدت کو بڑھا لینے اور جو دیا ہو اس کے علاوہ اور کچھ دینے میں کوئی گناہ نہیں، سدی کہتے ہیں اگر چاہے تو پہلے کے مقرر مہر کے بعد جو دے چکا ہے وقت کے ختم ہونے سے پیشتر پھر کہدے کہ میں اتنی اتنی مدت کے لئے پھر متعہ کرتا ہوں پس اگر اس نے رحم کی پاکیزگی سے پہلے دن بڑھا لئے تو جب مدت پوری ہوجائے تو پھر اس کا کوئی دباؤ نہیں وہ عورت الگ ہوجائے گی اور حیض تک ٹھہر کر اپنے رحم کی صفائی کرلے گی ان دونوں میں میراث نہیں نہ یہ عورت اس مرد کی وارث نہ یہ مرد اس عورت کا، اور جن حضرات نے اس جملہ کو نکاح مسنون کے مہر کی کے مصداق کہا ہے ان کے نزدیک تو مطلب صاف ہے کہ اس مہر کی ادائیگی تاکیداً بیان ہو رہی ہے جیسے فرمایا مہر بہ آسانی اور بہ خوشی دے دیا کرو، اگر مہر کے مقرر ہوجانے کے بعد عورت اپنے پورے حق کو یا تھوڑے سے حق کو چھوڑ دے صاف کر دے اس سے دست بردار ہوجائے تو میاں بیوی میں سے کسی پر کوئی گناہ نہیں، حضرت حضرمی فرماتے ہیں کہ لوگ اقرار دیتے ہیں پھر ممکن ہے کہ تنگی ہوجائے تو اگر عورت اپنا حق چھوڑ دے تو جائز ہے، امام ابن جریر بھی اسی قول کو پسند کرتے ہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ مہر کی رقم پوری پوری اس کے حوالے کردے پھر اسے بسنے اور الگ ہونے کا پورا پورا اختیار دے، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ علیم و حکیم ہے ان کا احکام میں جو حلت و حرمت کے متعلق ہیں جو رحمتیں ہیں اور جو مصلحتیں ہیں انہیں وہی بخوبی جانتا ہے۔ __________________ كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن" |
|
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | ابو ازہان اثری (28-11-11) |
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (28-11-11), ابو ازہان اثری (28-11-11) |
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ویسے اب تک فورم میں آپکی زیادہ تر گفتگو رانا صاحب سے ہی ہوئی ہے اس لئے رانا صاحب کو اس طرح نظر انداز کرنا مناسب نہیں کم از کم دلیل کی جوابی دلیل ضرور مرحمت فرمائیں
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (28-11-11) |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ مضمون "تفسیر ابن کثیر"
۲۴ آیت : ۴ سورة النِّسَاء کا ہے !!! Last edited by rana ammar mazhar; 28-11-11 at 07:56 PM. |
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (28-11-11) |
|
|
#15 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
لیکن یہ جو آپ نے فرمایا ہے کہ دلیل کی جوابی دلیل مرحمت فرمائیں۔ تو محترم یہ بات صرف ہم پر ہی لاگو ہوتی ہے یا آپ کے ممدوحرانا صاحب پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ ان کی کون سی دلیل ہے جس کا ہم نے جواب نہیںدیا۔ اور ہماری کون سی بات ہے جس کا انہوں نے جواب دیا ہے؟؟ ان کا دعویٰتھا کہ سبعہ احرف قرآن مجید سے متعہ ثابت ہو جاتا ہے۔ ہم نے شروع دھاگے میںہی واضحکر دیا کہ متعہ کی حلت و حرمت یا نسخہمارا موضوع نہیں۔ رانا صاحب کا دعویٰ کیسے ثابت ہوگا، اس کا آسان سا رستہ بھی بتا دیا۔ کہ بھائی دنیا بھر میںاختلاف قراءات والے قرآن شائع ہو رہے ہیں، کسی بھی قراآن سے اپنے مزعومہ الفاظثابت کر دیجئے۔ ایک بھی مصحف سے بھی ثابت نہیں کر پائے۔ پھر جا کر کتاب المصاحف ابو داود السجستانی سے حوالہ اٹھا لائے کہ قراءات میںالفاظموجود ہیں۔ ہم نے چار مضبوط دلائل سے ثابت کیا کہ یہ قراءت منسوخہے اور شاذہے۔ یا تو نئی دلیل پیش کریں یا ہمارے چاروںدلائل کا جواب دیںاور ثابت کریںکہ یہ قراءت منسوخ نہیں۔ اب یہ صاحب چلے گئے ہیں احادیثاور کتب تفسیر کی طرف۔ تو محترم، عرض یہ ہے کہ یہاں ہم متعہ کی حلت و حرمت پر بات کرنے ہی نہیںاآئے تھے۔ ہمارا شروع سے یہ موضوع ہی نہیںتھا۔ ہمارا موضوع رانا صاحب کا یہ دعویٰتھا کہ سبعہ احرف قرآن مجید سے متعہ ثابت ہوتا ہے، یہ دعویٰ ہنوز ثبوت کا طلبگار ہے۔ اگر احادیث سے متعہ کا ثبوت ملتا ہے تو احادیثہی سے متعہ کا نسخ بھی ملتا ہے۔ پھر کیا بات ہے کہ ہمارے یہ مہربان، اثبات کی احادیثکو تو ہمارے خلاف پیش کرتے ہیںاور نسخ کی احادیثکو پیش ہی نہیںکرتے۔ لہٰذا ہمارا مطالبہ رانا صاحب سے یہی ہے کہ سبعہ احرف والے قرآن مجید دنیا میںموجود ہیں، قرائے کرام کی آڈیوز موجود ہیں، گوگلنگ کریں اور اگر ایسی کوئی آیت سبعہ احرف قرآن مجید میںپائی جاتی ہے تو پیش کریں، ہم سر تسلیم خم کر دیںگے۔ ورنہ رانا صاحب کی ڈھٹائی سے یہاں ہر بندہ واقف ہی ہے۔ انتظامیہ نے کھلی چھوٹ دے رکھی ہے لہٰذا ایک دھاگے کے مراسلہ جات اس موضوع سے متعلق ہر دھاگے میںیہ کاپی کرتے ہیں اور کوئی ان کو کچھ نہیں کہتا۔ بار بار ایک ہی بات دہراتے جاتے ہیں اور پچھلی باتوں میںسے کسی کا جواب نہیںدیتے اور انتظامیہ ان کو پابند نہیںکرتی کہ آپ بھی پچھلی باتوںکا جواب دے کر آگے بڑھیں۔ حیرت کی بات ہے ان کی ان حرکتوںسے اسلامی سیکشن میںہر شخصتنگ ہے۔ کسی کو بھی یہی شکایت نہ فاروق خان صاحب سے ہے اور نہ ریحان حیدر وغیرہ سے۔ حالانکہ اختلافات ان سے بھی شدید ہیں۔ ابھی کچھ موہوم سی امید ہے کہ حال ہی میںحیدر صاحب جو بلند بانگ دعویٰکر گئے ہیں، شاید اس پر عملدرآمد ہو تو رانا صاحب کی ان الٹی سیدھی حرکتوں کو کچھ لگام ملے۔ Last edited by شکاری; 28-11-11 at 08:09 PM. |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (28-11-11), کنعان (29-11-11), نبیل خان (05-12-11), ملک اظہر (28-11-11), احمد نذیر (02-12-11), عبداللہ آدم (02-12-11), عبداللہ حیدر (28-11-11) |
![]() |
| Tags |
| color, pdf, ہے۔, کوشش, کرنی, گئی, یوں, وضاحت, قرآنی, نام, مقصد, مجید, مسلمانوں, آج, اللہ, ثبوت, جواب, حضرات, خلاف, خبر, خدا, دنیا, علیحدہ, غور, غلط |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سرٹیفکیشن اور انٹرنیٹ پر تعلیم کے متعلق مشورہ درکار | یاسر عمران مرزا | Computer Certifications | 29 | 20-03-11 12:11 AM |
| سلمان تاثیر کا تعلق تعلیم یافتہ عاشق رسول گھرانے سے تھا | گلاب خان | خبریں | 16 | 08-01-11 04:53 AM |
| تعلیمی سیمینار تعلیم | Real_Light | خبریں | 0 | 21-04-08 09:20 AM |
| سرکاری اسکولوں کاتعلیمی معیار اب گرتا جا رہا ہے، وزیر تعلیم | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-01-08 10:24 AM |
| سرکاری ملازمین کی ترقی سے متعلق پالیسی یکسر تبدیل،پروموشن بورڈز بڑی حد تک غیر متعلق کردیئے گئے,,,,رپور ٹ:… انصار عباسی | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 26-10-07 10:57 AM |