| علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | ||||||
|
|||||||
|
مناظر: 240
|
|||||||
|
|
#2 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
رانا صاحب، جس موضوع میںجو ثابت کرنے کا آپ کو چیلنج دیا جاتا ہے وہاںوہی ثابت کرنے پر توجہ مرکوز رکھیں۔ یہاںمتعہ کے موضوع پر بات ہو رہی ہے، آپ سبعہ احرف قرآن مجید سے متعہ کا ثبوت لائیں یا پھر اقرار فرما لیںکہ آپ کے عبدالکریم اثری صاحب کذاب ہیں، جنہوں نے یہ متعہ والا جھوٹ گھڑ کر آپ کو دیا ہے۔ اگر کوئی انتظامیہ نام کی چڑیا پاک نیٹ پر پائی جاتی ہے تو رانا صاحب کی غیر متعلقہ پوسٹس کو ڈیلیٹ کر دیں۔ اور انہیں موضوع پر بات کرنے کا پابند کریں۔ چاہیںتو میری یہ پوسٹبھی ڈیلیٹکر دیں۔
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65] |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (28-11-11), کنعان (02-12-11) |
|
|
#3 | |||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں 4. الفاظ کی کمی وبیشی کا اختلاف کہ ایک قراء ت میں کوئی لفظ کم اور دوسری قراء ت میں زیادہ ہومثلاً’وما خلق الذکر والانثی‘اور ’ماخلق‘کے بغیر صرف ’والذکر والانثی‘۔ دعوی غلط ہونے پر اتنا غصہ ؟؟؟ |
|||
|
|
|
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ابن عباس ؓ متعہ کو جائز رکھتے تھے اور ابن عباس ابی بن کعب سعید بن جیبر اور سدی سے منہن کے بعد الی اجل مسمی کی قرأت مروی ہے، یعنی یہ آیت نکاح متعہ کی اباحت کی بابت نازل ہوئی ہے ۔ Last edited by rana ammar mazhar; 12-12-11 at 08:33 PM. |
|
|
|
|
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
مودودی کا متعہ مختلف فیہ مسئلہ :: سُوْرَةُ الْمُؤْمِنُوْن حاشیہ نمبر :7 :: کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔ متعہ صرف اضطرار اور شدید ضرورت کی حالت میں جائز ہے۔ 4 : بعض مفسرین نے مُتعہ کی حرمت بھی اس آیت سے ثابت کی ہے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ ممتوعہ عورت نہ تو بیوی کے حکم میں داخل ہے اور نہ لونڈی کے حکم میں۔ لونڈی تو وہ ظاہر ہے کہ نہیں ہے۔ اور بیوی اس لیے نہیں ہے کہ زوجیت کے لیے جتنے قانونی احکام ہیں ان میں سے کسی کا بھی اس پر اطلاق نہیں ہوتا۔ نہ وہ مرد کی وارث ہوتی ہے نہ مرد اس کا وارث ہوتا ہے۔ نہ اس کے لیے عدت ہے۔ نہ طلاق۔ نہ نفقہ۔ نہ ایلاء اور ظہار اور لعان وغیرہ۔ بلکہ چار بیویوں کی مقررہ حد سے بھی وہ مستثنیٰ ہے۔ پس جب وہ ’’بیوی‘‘ دونوں کی تعریف میں نہیں آتی تو لا محالہ وہ ’’ ان کے علاوہ کچھ اور ‘‘ میں شمار ہو گی جس کے طالب کو قرآن ’’حد سے گزرنے والا‘‘ قرار دیتا ہے۔ یہ استدلال بہت قوی ہے مگر اس میں کمزوری کا ایک پہلو ایسا ہے جس کی بنا پر یہ کہنا مشکل ہے کہ متعہ کی حرمت کے بارے میں یہ آیت ناطق ہے۔ وہ پہلو یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے متعہ کی حرمت کا آخری اور قطعی حکم فتح مکہ کے سال دیا ہے ، اور اس سے پہلے اجازت کے ثبوت صحیح احادیث میں پائے جاتے ہیں۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ حرمت متعہ کا حکم قرآن کی اس آیت ہی میں آ چکا تھا جو بالا تفاق مکی ہے اور ہجرت سے کئی سال پہلے نازل ہوئی تھی، تو کیسے تصور کیا جا سکتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اسے فتح مکہ تک جائز رکھتے۔ لہٰذا یہ کہنا زیادہ صحیح ہے کہ متعہ کی حرمت قرآن مجید کے کسی صریح حکم پر نہیں بلکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت پر مبنی ہے۔ سنت میں اس کی صراحت نہ ہوتی تو محض اس آیت کی بنا پر تحریم کا فیصلہ کر دینا مشکل تھا۔ متعہ کا جب ذکر آگیا ہے تو مناسب معلوم ہوتا ہے کہ دو باتوں کی اور توضیح کر دی جاۓ۔ اول یہ کہ اس کی حرمت خود نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ اسے حضرت عمرؓ نے حرام کیا، درست نہیں ہے۔ حضرت عمرؓ اس حکم کے موجد نہیں تھے بلکہ صرف اسے شائع اور نافذ کرنے والے تھے۔ چونکہ یہ حکم حضورؐ نے آخر زمانے میں دیا تھا اور عام لوگوں تک نہ پہنچا تھا، اس لیے حضرت عمرؓ نے اس کی عام اشاعت کی اور بذریعہ قانون اسے نافذ کیا۔ دوم یہ کہ شیعہ حضرات نے متعہ کو مطلقاً مباح ٹھیرانے کا جو مسلک اختیار کیا ہے اس کے لیے تو بہر حال نصوص کتاب و سنت میں سے کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔ صدر اول میں صحابہ اور تابعین اور فقہاء میں سے چند بزرگ جو اس کے جواز کے قائل تھے وہ اسے صرف اضطرار اور شدید ضرورت کی حالت میں جائز رکھتے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی اسے نکاح کی طرح مباح مطلق اور عام حالات میں معمول بہ بنا لینے کا قائل نہ تھا۔ ابن عباس ، جن کا نام قائلین جواز میں سب سے زیادہ نمایاں کر کے پیش کیا جاتا ہے ، اپنے مسلک کی توضیح خود ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ : ماھی الا کالمیتۃ لا تحل الا للمضطر (یہ تو مردار کی طرح ہے کہ مضطر کے سوا کسی کے لیے حلال نہیں ) اور اس فتوے سے بھی وہ اس وقت باز آ گئے تھے جب انہوں نے دیکھا کہ لوگ اباحت کی گنجائش سے ناجائز فائدہ اٹھا کر آزادانہ متعہ کرنے لگے ہیں اور ضرورت تک اسے موقوف نہیں رکھتے۔ اس سوال کو اگر نظر انداز بھی کر دیا جائے کہ ابن عباس اور ان کے ہم خیال چند گنے چنے اصحاب نے اس مسلک سے رجوع کر لیا تھا یا نہیں ، تو ان کے مسلک کو اختیار کرنے والا زیادہ سے زیادہ جواز بحالت اضطرار کی حد تک جا سکتا ہے۔ مطلق اباحت، اور بلا ضرورت تمتع، حتیٰ کہ منکوحہ بیویوں تک کی موجودگی میں بھی ممتوعات سے استفادہ کرنا تو ایک ایسی آزادی ہے جسے ذوق سلیم بھی گورا نہیں کرتا کجا کہ اسے شریعت محمدیہ کی طرف منسوب کیا جائے اور ائمہ اہل بیت کو اس سے متہم کیا جاۓ۔ میرا خیال ہے کہ خود شیعہ حضرات میں سے بھی کوئی شریف آدمی یہ گوارا نہیں کر سکتا کہ کوئی شخص اس کی بیٹی یا بہن کے لیے نکاح کے بجائے متعہ کا پیغام دے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ جواز متعہ کے لیے معاشرے میں زنان بازاری کی طرح عورتوں کا ایک ایسا ادنیٰ طبقہ موجود رہنا چاہیے جس سے تمتع کرنے کا دروازہ کھلا رہے۔یا پھر یہ کہ متعہ صرف غریب لوگوں کی بیٹیوں اور بہنوں کے لیے ہو اور اس سے فائدہ اٹھانا خوش حال طبقے کے مردوں کا حق ہو۔ کیا خدا اور رسول کی شریعت سے اس طرح کے غیر منصفانہ قوانین کی توقع کی جا سکتی ہے ؟ اور کیا خدا اور اس کے رسول سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ کسی ایسے فعل کو مباح کر دیں گے جسے ہر شریف عورت اپنے لیے بے عزتی بھی سمجھے اور بے حیائی بھی ؟ |
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
السلام علیکم::
شکاری بھائی! میری دانست میں یہاں پر اپ کو متواتر، آحاد، شاذ اور مدرج و موضوع قراءات کی تعریف کر دینی چاہیے تاکہ عام لوگوں پر یہ واضح ہو سکے کہ ایک روایت کیوں کر قرآن میں شمار نہیں ہو سکتی یا کیوں نہیں کی گئی!!!. ضمنا اس متعہ والی روایت کا معاملہ بھی کرسٹل کلیر ہو جائے گا کہ یہ قواعد کی رو سے کس کسطرح سے مردود ہے. باقی رانا صاحب کو تو لوگ دیکھ ہی رہے ہیں، اور شاید آئندہ بھی یہیں دیکھتے رہیں گے !!1 والسلام
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد : "وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة، أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة" |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (02-12-11), احمد نذیر (03-12-11) |
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ایک روایت کیوں کر قرآن میں شمار نہیں ہو سکتی یا کیوں نہیں کی گئی، یہ کام صحابہ ؓ نے کیا یا خود رسول کریم ﷺ نے کیا ؟؟؟ اور آیت متعہ کی قرات سو فیصدی منسوخ قرات ہے جو سو سال بعد منسوخ ہوئی کیونکہ بقول مودودی دوسری صدی ہجری تک متعہ کا مسئلہ مختلف فیہ تھا !!! |
|
|
|
|
|
|
#8 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
الفاظ کی کمی و بیشی کا اختلاف :: تقدیم و تاخیر کا اختلاف :: کتابی شکوک و جھوٹ شکاری بھائی کا دعوی : الفاظ کی کمی وبیشی کا اختلاف !!! شکاری بھائی کی اپنے دعوی کی خود ہی تردید : آیت 4:24 میں الفاظ کی بیشی کا اختلاف "اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی" کے الفاظ دکھا دیں !!! پوری دنیا میں ایک ہی قرآن ہے، شکاری بھائی کو کیا شک ہے ؟؟؟ درج بالا "کتابی شکوک و جھوٹ : الفاظ کی کمی و بیشی کا اختلاف : تقدیم و تاخیر کا اختلاف" تو آپ نے پھیلائے ہیں، ثابت کیے بغیر، سکین امیج لگا کر اپنے پھیلائے "جھوٹ" کو سچ ثابت کریں !!! اس دھاگے میںکتب احادیثکی بحث آنی ہی نہیںچاہئے۔ "سبعہ احرف" کتب احادیث سے ثابت ہے کہ قرآن سے ؟؟؟ فہوالمطلوب Last edited by rana ammar mazhar; 06-12-11 at 06:30 PM. |
||
|
|
|
|
|
#9 | |||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جواب 1 : "سبعہ احرف" پر مشتمل "قرآنی مصاحف" کوئی ایک بھی نہیں ہے، یہ ایک مغالطہ ہے جو کہ "اہل رشد" نے دیا ہے۔ جو چار آپ نے بیان کیے ہیں وہ قاریوں کی روایات ہیں، نہ کہ "سبعہ احرف قرآنی مصاحف" کیونکہ ان کی کل تعداد خود آپ کے بقول ۲۵ ہے، ۷ سے زیادہ !!! کیوں ؟؟؟ 2۔ متعہ کی حلت یا حرمت کا موضوع بحثسے خارج ہے۔ متعہ کے تعلق سے جو بھی احادیث آئی ہیں یا شروحات حدیث اور کتب تفاسیر میں جو کچھ لکھا گیا ہے، یا کسی عالم کا کیا موقف ہے، وہ سب بحث میں شامل نہیں ہے۔ اس کے لئے نیا دھاگا بنا کر وہاں بات چیت کی جا سکتی ہے۔ جواب 2 : میرے پہلے جواب کو درست نہ ماننے سے درج بالا بحث شروع ہو گی !!! 3۔ اس دھاگے میںہمارا اختلاف اس بات پر ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ سبعہ احرف کی بنیاد پر جتنے قرآنی مصاحف مطبوع ہیں، اور جتنی بھی روایات میںقرآن پڑھا جا رہا ہے، اس سے کہیںبھی متعہ کا ثبوت نہیںملتا۔ جبکہ رانا صاحب کا دعویٰہے کہ سبعہ احرف کو مانتے ہی متعہ کا ثبوت گویا پکا ہو جاتا ہے (اگر رانا صاحب کا یہ دعویٰنہیں، تو ازراہ کرم ہماری تصحیح کر دیجئے ) اور متعہ حلال ہو جاتا ہے۔ یہ اصل موضوع ہے لہٰذا بحثکو ازراہ کرم اسی تک محدود رکھیں۔ جواب 3 : میرے پہلے جواب کو درست نہ ماننے سے درج بالا بحث شروع ہو گی !!! 4۔ اس موضوع کی بنیاد اس بات پر ہے کہ اگر کوئی شخص احادیثکو حجت ماننے سے انکار کرتا ہے، لیکن قرآن کی مختلف قراءات کو درست اور منزل من اللہ مان لیتا ہے، تو کیا ایسے شخص کو حجیت حدیثسے انکار کے باوجود، صرف قراءات کی حجیت تسلیم کرنے سے متعہ کا ماننا لازم آتا ہے؟ ہمارا جواب نہیں میں ہے۔ جنہیںاختلاف ہے وہ اسی ایک پوائنٹ پر دلائل پیش کریں۔ جواب 4 : میرے پہلے جواب کو درست نہ ماننے سے درج بالا بحث شروع ہو گی !!! دعوی : پورا قرآن مجید سات حروف پر نازل ہوا ہے ۔ جواب دعوی : اب اس قرآن مجید میں چھ ساڑھے چھ ہزار کے لگ بھگ آیات موجود ہیں ۔ ان میں سے کوئی چار پانچ آیات مسلسل سات حروف پر بتا دیں تاکہ ہم کوئی ٹھوس نتیجہ نکال سکیں ۔ اقتباس:
اقتباس:
الفاظ کی کمی و بیشی کا اختلاف :: تقدیم و تاخیر کا اختلاف :: کتابی شکوک و مغالطہ شکاری بھائی کا دعوی : الفاظ کی کمی وبیشی کا اختلاف !!! شکاری بھائی کی اپنے دعوی کی خود ہی تردید : آیت 4:24 میں الفاظ کی بیشی کا اختلاف "اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی" کے الفاظ دکھا دیں !!! پوری دنیا میں ایک ہی قرآن ہے، شکاری بھائی کو کیا شک ہے ؟؟؟ درج بالا "کتابی شکوک و مغالطہ : الفاظ کی کمی و بیشی کا اختلاف : تقدیم و تاخیر کا اختلاف" تو آپ نے پھیلائے ہیں، ثابت کیے بغیر، سکین امیج لگا کر اپنے پھیلائے "مغالطہ" کو سچ ثابت کریں !!! اس دھاگے میںکتب احادیثکی بحث آنی ہی نہیں چاہئے۔ "سبعہ احرف" کتب احادیث سے ثابت ہے یا کہ قرآن سے ؟؟؟ فہو المطلوب |
|||
|
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (07-12-11) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ کچھ مراسلے مندرجہ ذیل تھریڈ سے یہاں منتقل کئے گئے
اختلاف قراءات اور متعہ: حقائق |
|
|
|
| فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (07-12-11) |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
تو کیا آپ کی اس بات سے یہ سمجھ لیا جائے کہ آپ نے اختلاف قراءات والے سبعہ احرف والے قرآن مجید دیکھے بغیر ہی دعویٰکر دیا تھا کہ جی: "الفاظ کی کمی و بیشی کا اختلاف"، "تقدیم و تاخیر کا اختلاف"۔ تو برادر من کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ اگر آپ کے سامنے اختلاف قراءات والے مصاحف موجود تھے اور آپ نے درج بالا دعویٰ "الفاظ کی کمی و بیشی کا اختلاف"، "تقدیم و تاخیر کا اختلاف" کیا تھا، تو وہ مصحف ہمیںبھی مہیا کریں جس سے "الفاظ کی کمی و بیشی کا اختلاف"، "تقدیم و تاخیر کا اختلاف" ثابت ہوتا ہو۔ اگر آپ نے سبعہ احرف والے قرآن مجید دیکھے بغیر ہی فیصلہ سنا دیا تھا کہ جی : "الفاظ کی کمی و بیشی کا اختلاف"، "تقدیم و تاخیر کا اختلاف" تو بھیا یہ تو پھر بہت ناانصافی والی بات ہوئی کہ آپ نے یا آپ کے ممدوح "اہل رشد" نے قرآن کی طرف ایک ایسی بات منسوب کی جو قرآن میںموجود ہی نہیں۔ یہ تو بہت بڑا گناہ بھی ہے۔ میں آپ سے گزارش کرتا ہوںکہ اگر آپ کے نزدیک قاریوں کی روایات یا سبعہ احرف والے قرآنی متن میںکہیں سے بھی "الفاظ کی کمی و بیشی کا اختلاف"، "تقدیم و تاخیر کا اختلاف" ثابت ہوتا ہے، تو ازراہ کرم پیش فرمائیے۔ ورنہ غلطی یا غلط فہمی ہر ایک کو ہو جایا کرتی ہے، اسے تسلیم کر لینا بڑائی ہوتی ہے، نہ کہ اس پر ضد میں اصرار کرتے جانا۔ میں نے کسی بھی جگہ اس حوالے سے اثری صاحب کا نام نہیں لیا اور جہاں لیا ہے وہاں لکھ دیاہے !!! آپ نے درج بالا دعویٰکیا تھا، تو وہ مصحف ہمیںبھی مہیا کریں جس سے متعہ ثابت ہوتا ہو۔ کیا روایات اپنی صحت کے حوالے سے قابل عمل یا غیر قابل عمل ہوتی ہیں اور اختلاف قراءات اور متعہ پر رانا صاحب کے دلائل سے متعہ ثابت ہوتا ہو۔ آپ 7 اور 25 والا مسئلہ حل کروانے کے لئے ایک علیحدہ دھاگہ بنا لیجئے، یہاں جواب نہیں ہے ؟؟؟ |
|
|
|
|
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
"احمد دیدات" کا "قرآن" اور "اختلاف قرات" والا کل كا "اسپیشل قرآن"۔۔۔؟ اٹھو قرآن کا دفاع کرو !!! میرا دعوی یہ ہے کہ جب آپ اختلاف قراءات کی بنیاد پر قرآن چھاپنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے، جیسا کہ "اہل رشد" کا ارادہ ہے، تو جیسا کہ راشد الخلیفہ نے دو 2 کم آیات والا قرآن چھاپ دیا ہے، راشد الخلیفہ کا دو 2 کم آیات والا قرآن :: ![]() تو کل کو کوئی متعہ والی، اختلاف قراءات والی آیت والا، قرآن بھی چھاپ لے گا، کیونکہ دو صحابہ سے، دو روایات سے زیادہ سے، متعہ والی، اختلاف قراءات والی، آیت ثابت ہے !!! بروایت قرأتِ مصحف حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ :: جب یوں کہیں گے کہ فلاں مصحف میں یہ آیت ( 24 : 4 ) یوں آئی ہے تو یہ خدا کی طرف سے ہو گا۔ قرأتِ مصحف حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی جو آیت متعہ کے متعلق دی گئی ہے، اس کے اندر ان کی قرأت میں ’’ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی ‘‘ لکھا ہے۔ جو منسوخ بھی نہیں ہے !!! ![]() اختلاف قراءات سبعہ احرف مصحف حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ![]() ![]() یہاں ""احمد دیدات" کا "قرآن" اور "اختلاف قرات" والا کل كا "اسپیشل قرآن"۔۔۔؟ اٹھو قرآن کا دفاع کرو !!!" بھی میرا مقدمہ یہی تھا، آپ چیک کر سکتےہیں کہ : "احمد دیدات" کا "قرآن" اور "اختلاف قرات" والا کل كا "اسپیشل قرآن"۔۔۔؟ اٹھو قرآن کا دفاع کرو !!! متعلقہ صفحات کی سکیننگ نیچے لگا رہا ہوں۔ اختلاف قراءات اور متعہ: حقائق صرف تین، باقی کہاں، ۲۵ میں سے ؟؟؟ مصحف ابی بن کعب رضی اللہ عنہ میں متعہ حلال، اب قرآن سے ثابت ہو گا !!! Last edited by rana ammar mazhar; 08-12-11 at 06:26 PM. |
|
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
رانا صاحب،
اللہ تعالیٰآپ کو اور مجھے حق بات کہنے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ محترم، آپ نے یہی دلیل درج ذیل دھاگے میںپیش کی تھی، جس کا وہیں پر جواب بھی دے دیا گیا تھا۔ ملاحظہ کیجئے یہ پوسٹ: اختلاف قراءات اور متعہ: حقائق ہم نے درج ذیل چار حقائق پیش کئے تھے:: آپ نہ تو ان کا جواب دیتے ہیں، نہ جھوٹگھڑنے اور پھیلانے سے باز آتے ہیں۔ اور قرآنی فکر کے بھی علمبردار ہیں ۔ اللہ ہی رحم فرمائے بس۔ ہم اپنا جواب دوبارہ پیش کر دیتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ مصحف حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے وجود کے بارے میںبھی روایات و آثار ملتے ہیں ۔ لیکن روایات سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ ان کا یہ مصحف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ضبط کر لیا تھا۔ جمع عثمانی سے قبل حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا مصحف کیسا تھا یا کن سورتوںپر مشتمل تھا یا اس کا رسم الخط کیا تھا۔ ، اس بارے ہمیںکوئی مستند روایات نہیںملتیں۔ جو روایات ان کے مصحف کے احوالے کے بارے مروی ہیں وہ باہم متضاد ہیں لہٰذا انتقاد اعلی کے اصول اور مضطرب المتن ہونے کی وجہ سے ناقابل قبول اور ضعیف ہیں۔ دوسری بات یہ کہ آپ جس کتاب المصاحف کو پیش فرما رہے ہیں اسی کی ایک روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا مصحف اپنے قبضے میںلے لیا تھا۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے پاس بھی یہ مصحف موجود نہ تھا چہ جائیکہ کوئی سینکڑوںسال بعد اپنے پاس اس مصحف کی موجودگی کا دعویٰکرے۔ ابن ابھی داؤد رحمہ اللہ کی روایت کے الفاظیہ ہیں: ’’حدثنا عبداللہ قال حدثنا ابو الربیع قال اخبرنا ابن وھب اخبرنی عمرو قال:قال بکیر حدثنی بسر بن سعید عن محمد بن ابی ان اناسا من اھل العراق قدموا الیہ فقالوا: انما تحملنا الیک من العراق ، فاخرج لنا مصحف ابی قال محمد: قد قبضہ عثمان۔ قالوا: سبحان اللہ! اخرجہ لنا ۔ قال: قد قبضہ عثمان۔‘‘ [کتاب المصاحف ، باب جمع عثمان المصاحف] تیسری بات یہ ہے کہ ابن ابی داؤد رحمہ اللہ نے مصحف ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے تحت متعہ کی آیت میں جس اختلاف قراءت کا ذکر کیا ہے اس کی سند ہی منقطع ہے۔ چوتھی بات یہ ہے کہ روایت حفص عن عاصم کی صحیح و متواتر سند حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تک بھی جاتی ہے۔ لہٰذا اس متواتر سند کی موجودگی میں ان کی ایسی قراءات کی کیسے تصدیق کی جا سکتی ہے جو ضعیف، اور اخبار آحاد کی قبیل سے ہیں۔ لہٰذا ہم تو درج بالا چار دلائل پیش کر سکتے ہیں اپنے موقف کے حق میں کہ جو قراءت آپ پیش کر کے متعہ کو ثابت کرنا چاہ رہے ہیں، اس سے متعہ ثابت نہیں ہوتا۔ کیونکہ اول تو وہ مصحف ہی کسی کے پاس موجود نہیں تھا، تو ابن ابی داؤد رحمہ اللہ کو کہاں سے ملا؟ دوئم وہ مصحف کتاب المصاحف ہی کی رو سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ضبط کر چکے تھے، اور ظاہر ہے اسی لئے ضبط کیا تھا کہ وہ درست قرآن نہیں تھا، اس میں شاذ و منسوخ قراءت لکھی ہوئی تھی، تیسری بات یہ کہ ابن ابی داؤد سینکڑوں سال بعد جس قراءت کا ذکر کر رہے ہیں، اس کی سند منقطع اور چوتھی بات کہ ہمارے پاس اس شاذ قراءت کے بالمقابل متواتر قراءت موجود ہے، اور وہ بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی سے متواتر مروی ہے۔ لہٰذا اب آپ یا تو متعہ کے اثبات کی کوئی نئی دلیل پیش فرمائیں۔ اگر اسی بات کو بار بار گھسنا ہے تو پھر ہمارے درج بالا چاروں باتوں کا جواب پیش فرمائیں اور ثابت کریں کہ یہ قراءت منسوخ نہیں ہے اور آج بھی مصاحف میں طبع ہو رہی ہے یا قرائے کرام تلاوت اس متعہ والی آیت کی تلاوت کر رہے ہیں۔ |
|
|
|
| شکاری کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (09-12-11) |
|
|
#14 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
شکاری بھائی سے ان سوالوں کے بھی جواب چاہوں گا. حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا مصحف اپنے قبضے میںلے لیا تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ حکم دیا کہ اس نسخہ کے علاوہ ہر مصحف اور صحیفہ جلا دیا جاۓ ۔ تو کوئی بھی انصاف پسند قاری ساری کی ساری دونوں پوسٹ پڑھ کر بتائے کہ ۲۵ اختلاف قراءات والے دنیا بھر میںشائع ہونے والے قرآنی مصاحف کیسے بن گے یا یہ ایک مغالطہ ہے ؟؟؟ 1 - ا ب ج : (26407) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مرویات حدثنا يحيى بن سعيد حدثنا عوف حدثنا يزيد يعني الفارسي قال أبي أحمد بن حنبل و حدثنا محمد بن جعفر حدثنا عوف عن يزيد قال قال لنا ابن عباس رضي الله عنه قلت لعثمان بن عفان ما حملكم على أن عمدتم إلى الأنفال وهي من المثاني وإلى براة وهي من المين فقرنتم بينهما ولم تكتبوا قال ابن جعفر بينهما سطرا بسم الله الرحمن الرحيم ووضعتموها في السبع الطوال ما حملكم على ذلك قال عثمان رضي الله عنه إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان مما يأتي عليه الزمان ينزل عليه من السور ذوات العدد وكان إذا أنزل عليه الشي يدعو بعض من يكتب عنده يقول ضعوا هذا في السورة التي يذكر فيها كذا وكذا وينزل عليه الآيات فيقول ضعوا هذه الآيات في السورة التي يذكر فيها كذا وكذا وينزل عليه الآية فيقول ضعوا هذه الآية في السورة التي يذكر فيها كذا وكذا وكانت الأنفال من أوال ما أنزل بالمدينة وبراة من آخر القرآن فكانت قصتها شبيها بقصتها فقبض رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يبين لنا أنها منها وظننت أنها منها فمن ثم قرنت بينهما ولم أكتب بينهما سطرا بسم الله الرحمن الرحيم قال ابن جعفر ووضعتها ف السبع الطوال مسند احمد:جلد اول:حدیث نمبر 376 حدیث مرفوع حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ لوگوں نے سورت انفال کو جو مثانی میں سے ہے سورت برائۃ کے ساتھ جو کہ مئین میں سے ہے ملانے پر کس چیز کی وجہ سے اپنے آپ کو مجبور پایا اور آپ نے ان کے درمیان ایک سطر کی بسم اللہ تک نہیں لکھی اور ان دونوں کو سبع طوال میں شمار کرلیا آپ نے ایسا کیوں کیا؟ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی کا نزول ہو رہا تھا تو بعض اوقات کئی کئی سورتیں اکٹھی نازل ہوجاتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب کوئی وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی کاتب وحی کو بلا کر اسے لکھواتے اور فرماتے کہ اسے فلاں سورت میں فلاں جگہ رکھو، بعض اوقات کئی آیتیں نازل ہوتیں، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ بتا دیتے کہ ان آیات کو اس سورت میں رکھو، اور بعض اوقات ایک ہی آیت نازل ہوتی لیکن اس کی جگہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بتا دیا کرتے تھے۔ سورت انفال مدینہ منورہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی تھی، جبکہ سورت برائۃ نزول کے اعتبار سے قرآن کریم کا آخری حصہ ہے اور دونوں کے واقعات واحکام ایک دوسرے سے حد درجہ مشابہت رکھتے تھے، ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے اور ہم پر یہ واضح نہ فرما سکے کہ یہ اس کا حصہ ہے یا نہیں؟ میرا گمان یہ ہوا کہ سورت برائۃ، سورت انفال ہی کاجزو ہے اس لئے میں نے ان دونوں کو ملادیا، اور ان دونوں کے درمیان، بسم اللہ والی سطر بھی نہیں لکھی اور اسے سبع طوال میں شمار کر لیا ۔ یہ روایت یہ معنی یا مفہوم دینے والی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زندگی مبارک میں قران کریم ایک کتاب کیصورت میں مدون کیا جا چکا تھا !!! اگر نہیں تو قرآن کس کے عہد میں جمع ہوا، ابوبکر ؓ یا عثمان غنیؓ، کس کے عہد میں جمع ہوا ؟؟؟ ایک ہی روایت کا تضاد کہ اندازے سے جمع ہوا، "میرا گمان یہ ہوا کہ سورت برائۃ، سورت انفال ہی کاجزو ہے اس لئے میں نے ان دونوں کو ملادیا، اور ان دونوں کے درمیان، بسم اللہ والی سطر بھی نہیں لکھی اور اسے سبع طوال میں شمار کر لیا"، کیا کسی کو قرآن یاد نہیں تھا ؟؟؟ کیونکہ اول تو وہ مصحف ہی کسی کے پاس موجود نہیں تھا، تو ابن ابی داؤد رحمہ اللہ کو کہاں سے ملا؟ اسی طرح :: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب کوئی وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی کاتب وحی کو بلا کر اسے لکھواتے اور اس کی جگہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بتا دیا کرتے تھے، تو پھر ۲۵ اختلاف قراءات میں قرآن کس نے جمع کیا ؟؟؟ |
||
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, com, net, pak, php, quot, url, ہے۔, کئے, گئی, پہلے, یوں, وقت, منتقل, مجمع, مراسلے, تھریڈ, ثابت, جواب, خدا, ذیل, علم, عبداللہ, صفحات, صحابہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سرٹیفکیشن اور انٹرنیٹ پر تعلیم کے متعلق مشورہ درکار | یاسر عمران مرزا | Computer Certifications | 29 | 20-03-11 12:11 AM |
| سلمان تاثیر کا تعلق تعلیم یافتہ عاشق رسول گھرانے سے تھا | گلاب خان | خبریں | 16 | 08-01-11 04:53 AM |
| تعلیمی سیمینار تعلیم | Real_Light | خبریں | 0 | 21-04-08 09:20 AM |
| سرکاری اسکولوں کاتعلیمی معیار اب گرتا جا رہا ہے، وزیر تعلیم | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-01-08 10:24 AM |
| سرکاری ملازمین کی ترقی سے متعلق پالیسی یکسر تبدیل،پروموشن بورڈز بڑی حد تک غیر متعلق کردیئے گئے,,,,رپور ٹ:… انصار عباسی | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 26-10-07 10:57 AM |