واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم



علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم


اقامت ’’صلوٰۃ ‘‘ یا ’’نظام ربوبیت‘‘

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 16-12-11, 07:07 PM   #1
اقامت ’’صلوٰۃ ‘‘ یا ’’نظام ربوبیت‘‘
rana ammar mazhar rana ammar mazhar آن لائن ہے 16-12-11, 07:07 PM


صلوٰۃ کے اذکار کو سمجھ کر پڑھنے کا اجر

قُلْ لَّا اَتَّبِعُ اَھْوَآکُمْ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَo
( ۶ : ۵۶ )
’’تم کہو کہ میں کبھی تمہاری نفسانی خواہشوں پر چلنے والا نہیں اگر میں ایسا کرو تو میں گمراہ ہو چکا اور اُن میں نہ رہا جو راہ پانے والے ہیں۔‘‘

مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَتَوَضَّأُ فَیَسْبِغُ الْوُضُوْءَ ثُمَّ یَقُوْمُ فِیْ صَلٰوتِہٖ فَیَعْلَمُ مَا یَقُوْلُ اِلَّا اِنْفَتَلَ وَھُوَ کَیَوْمٍ وَلَدْتُّہٗ اُمُّہٗ۔
(ترغیب و ترہیب ج۱ ص۴۷ بحوالہ صحیح مسلم و ابوداؤد والنسائی وابن ماجہ وابن خزیمۃ والہاکم عن عقبۃ بن عامرؓ)

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ:ﷺ نے ’’جو مسلمان بندہ میری سنت کے مطابق سنوار کر وضو کرتا ہے پھر وہ صلوٰۃ ادا کرنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ اپنی صلوٰۃ میں کہہ رہا ہے (یعنی جو پڑھتا ہے اس کو سمجھتا بھی ہے) جب وہ صلوٰۃ ادا کر چکتا ہے تو وہ ایسا ہوتا ہے جیسا کہ آج ہی اس کی ماں نے اس کو جنم دیا ہے۔‘‘

براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ: صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’جو شخص وضو بنا کر فوراً صلوٰۃ ادا کرنے کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے اور دو رکعت صلوٰۃ ادا کرتا ہے اور ان دو رکعتوں میں جو اس نے پڑھا ہے اس کو سمجھتا بھی ہے تو جب وہ دو رکعت ادا کر لیتا ہے تو وہ ایسا ہوتاہے جیسا کہ اس کو آج ہی اس کی ماں نے جنم دیا ہے۔‘‘
(کنز العمال ج۵ ص۷۲ بحوالہ المستغفری فی الدعوات)

زیر نظر حدیث میں رسول اللہ: صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ سنوار کر وضو کرنے کے بعد جب صلوٰۃ کے لئے آدمی کھڑا ہوتا ہے۔ صلوٰۃ ادا کرتا ہے تو وہ جانتا بھی ہو کہ صلوٰۃ میں اس نے کیا کہا ہے جس سے یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ صلوٰۃ ادا کرنے والا جو اوراد و اذکار صلوٰۃ کے اندر پڑھتا ہے اس کے لئے ان کا مطلب و مفہوم جاننا نہایت ضروری ہے جس سے یہ بات لازم آتی ہے کہ اگرچہ ہم اہل زبان نہیں ہیں تاہم ضروری ہے کہ ان اذکار کو زبانی یاد کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا مطلب و مفہوم بھی سمجھیں۔ یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے جس کا کرنا اتنا مشکل ہو کہ ہر آدمی اس کو کر ہی نہ سکے۔ صرف توجہ کی ضرورت ہے۔ اگر ایک رکن کے لئے دو دو یا تین تین دعائیں زبانی یاد کر لیں اور ان کا ترجمہ و مفہوم سیکھ لیں یہ کوئی مشکل کام نہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ جب تک سیکھنے کی کوشش نہ کی جائے معمولی سے معمولی بات بھی ہو تو آدمی سیکھ نہیں سکتا۔

آج بدقسمتی سے ہماری اکثریت تو صلوٰۃ ادا ہی نہیں کرتی اور جو ادا کرتے ہیں وہ بھی صرف ایک ایک ذکر ہر رکن کا یاد کرتے ہیں اسی کو پڑھتے رہتے ہیں۔ الا ما شاء اللہ کوئی صاحب یہ بھی جانتے ہوں کہ یہ میں نے کیا پڑھا ہے اللہ تعالیٰ سے کیا وعدہ کیا ہے ؟ کیا مانگا ہے ؟کیا پیش کیا ہے ؟ کچھ خبر نہیں۔

ان بھائیوں کے سامنے جو کم ازکم صلوٰۃ ادا کرتے ہیں میری اپیل ہے کہ صلوٰۃ کے اذکار کا مطلب سمجھنے کی ضرور کوشش کریں۔ کم از کم ایک ایک دعا کا مفہوم سمجھ لیں تاکہ زبان سے دعائیں اور اذکار کرتے وقت یہ معلوم بھی ہو کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں۔ کیا مانگ رہے ہیں۔ اپنے مولیٰ سے کیا وعدہ کر رہے ہیں مزید یہ بھی جان لینا چاہیئے صلوٰۃ صرف آخرت ہی میں نجات کا ذریعہ نہیں بلکہ دنیوی زندگی کی راہوں کو درست کرنے کے لئے بھی صلوٰۃ ایک اشد ضروری چیز ہے۔ یہ صلوٰۃ ہی ہے جو صحیح آداب معاشرت سکھاتی ہے۔ انفرادی زندگی اور اجتماعی تعلقات اور انسان کو فرائض و حقوق کی تعلیم و تربیت دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا بندہ ہونے کا شعور ہر وقت تازہ اور زندہ رکھتی ہے۔ یہ انفرادی کردار کو سدھارنے اور سنوارنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ افراد کو اصلاح و فلاح کی طرف رغبت کرنے کی تربیت دیتی ہے۔ جس وقت مؤذن کی آواز صلوٰۃ و فلاح کانوں میں پہنچتی ہے تو سب کے قدم مسجد کی طرف اٹھ جاتے ہیں اور اس سے یکجہتی کا سبق ملتا ہے۔ صلوٰۃ ادا کرنے کے لئے مسواک و وضو جسمانی طور پر پاک و صاف رہنے کا ایک ذریعہ ہے۔پاکی اور صفائی، صحت و تندرستی کی ضامن ہے۔

صلوٰۃ کو با جماعت ادا کرنا ہماری اجتماعی زندگی کی اساس و بنیاد ہے۔ جب سب مل کر صلوٰۃ ادا کرتے ہیں تو اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہم سب ایک ہیں۔ ہمارا غریب و امیر، سرمایہ دار اور مزدور، حاکم اور محکوم ایک ہی صف میں کندھے سے کندھا اور قدم سے قدم ملائے کھڑے ہو جاتا ہے۔ اس طرح سب مل کر ایک سیسہ پلائی دیوار ہو کر دوسری قوموں کو سبق سکھا رہے ہیں کہ ہم سب ایک ہیں۔ ہمارے غریب و امیر کو آپس میں ملنے میں کوئی عار نہیں ہے۔ ہمارے محمود و ایاز ایک ہی صف میں شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم میں کوئی غرور اور تکبر نام کی چیز نہیں ہے۔ ہم سب کا اللہ ایک‘ رسول:ﷺ ایک‘ قرآن ایک ہے اس لئے ہم سب مل کر ایک ہی ہیں۔

ہمارے اندر اتفاق ہے۔ اتحاد ہے اور ہم سب ایک دوسرے کے بالکل قریب ہیں بلکہ ہم سب ایک برادری کے افراد ہیں۔ با جماعت صلوٰۃ ادا کر کے ہم درس دیتے ہیں کہ ہم ایک امام کے پیرو کار ہیں اور وہ لوگ ہیں جو ایک امام کی نقل و حرکت کے پیچھے چل پڑتے ہیں اور یہ کہ جب ہمارے امام سے کوئی غلطی سر زد ہو جاتی ہے چونکہ وہ انسان ہے تو ہم اس کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے صرف سبحان اللہ کہہ کر اس کی توجہ مبذول کراتے ہیں کہ غلطی سے صرف اللہ تعالیٰ ہی پاک ہے۔ آپ غور کریں کچھ غلطی ہو رہی ہے۔ اس طرح ہم اپنے بزرگ کی اصلاح کے لئے کتنے اچھے اور کتنے خوبصورت اور با ادب طریقہ سے اس کو آگاہ کرتے ہیں۔

اگر ہمارا امام پھر بھی متوجہ نہ ہو تو ہم اپنی نقل و حرکت اس کے مطابق کرتے ہیں اور صلوٰۃ ادا کرنے کے بعد شریعت کے حکم کے مطابق اس پر فیصلہ کرتے ہیں۔ امام پر کوئی طعن و تشنیع نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ صلوٰۃ ہمیں عملی مساوات کا درس دیتی ہے۔ محبت و ہمدردی‘ یکجہتی‘ تعاون و ایثار‘ فرض شناسی جیسی صفات ہم میں پیدا کرتی ہے۔ ضبط نفس کی مشق کراتی ہے مستعدی اور باقاعدگی پیدا کرتی ہے۔ سمع وطاعت کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔ انفرادی اور اجتماعی فرائض کی ادائیگی کی تعلیم دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صلوٰۃ ادا کرنے والے کا ذہن و فکر اور اس کا نفس سب کے سب ایسے نظم و ضبط کے ساتھ تربیت پا جاتے ہیں کہ دنیا اس پر رشک کرتی ہے۔

لیکن افسوس کہ آج کل مسلمان کہلانے والوں میں سے کچھ لوگ صلوٰۃ ادا کرنے کا مذاق اڑاتے ہیں اور بر ملا یہ کہتے ہیں کہ جو مسلمان آج صلوٰۃ ادا کر رہے ہیں یہ سرے سے کوئی چیز ہی نہیں جس کا قرآن مجید میں حکم دیا گیا ہے۔ ان کا فرمان ہے کہ قرآن تو اقامت صلوٰۃ کا حکم دیتا ہے اور اس سے مراد صلوٰۃ پڑھنا نہیں ہے بلکہ ’’نظام ربوبیت‘‘ قائم کرنا مراد ہے۔ کوئی ان سے پوچھے کہ وہ کون سا نرالا نظام ربوبیت ہے جسے یا تو طلوع آفتاب سے پہلے قائم کیا جا سکتا ہے یا پھر بعد از زوالِ آفتاب سے کچھ رات گذرنے تک؟ اور وہ کون سا ’’نظام ربوبیت‘‘ ہے جو خصوصاً جمعہ ہی کو قائم کیا جانا ہے؟

جب کہ قرآن مجید میں واضح ہے کہ

اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مَنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ۔
(۶۲:۹)

’’نظام ربوبیت‘‘ کی آخر وہ کون سی خاص قسم ہے کہ اسے قائم کرنے کے لئے جب آدمی کھڑا ہو تو پہلے منہ اور کہنیوں تک ہاتھ اور ٹخنوں تک پاؤں دھو لے اور سر پر مسح کرے ورنہ وہ اس ’’نظامِ ربوبیت‘‘ کو قائم ہی نہیں کر سکتا؟


جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔

اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوَھَکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ۔
(۵:۶)

اور اس ’’نظامِ ربوبیت‘‘ کے اندر کون سی خصوصیت ہے کہ اگر آدمی حالتِ جنابت میں ہو تو جب تک وہ غسل نہ کرے اور اچھی طرح کلی کر کے غرارے نہ کر لے اسے قائم ہی نہیں کر سکتا؟


جیسا کہ ارشاد الہٰی ہے۔

وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتّٰی تَغْتَسِلُوْا۔
()

اور یہ کیا بات ہے کہ آدمی بیوی کو چھوء بیٹھے اور پانی نہ ملے تو عجیب و غریب ’’نظامِ ربوبیت‘‘ کو قائم کرنے کے لئے اسے پاک مٹی پر ہاتھ مار کر اپنے چہرے اور منہ پر ملنا ہو گا؟ ورنہ وہ ’’نظام ربوبیت‘‘ قائم نہیں کر سکتا۔


جیسا کہ حکم الہٰی ہے۔

اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْھِکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ مِنْہُ۔
(۵:۶)

اور یہ کیسا ’’نظام ربوبیت‘‘ ہے کہ اگر سفر پیش آجائے تو آدمی اسے پورا قائم کرنے کی بجائے آدھا ہی کر لے؟


وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تُقْصِرُوْا مِنَ الصَّلٰوۃِ۔
(النساء۴: ۱۰۱)

پھر یہ کیا لطیفہ ہے کہ اگر جنگ کی حالت ہو تو فوج کے آدھے سپاہی ہتھیار لئے ہوئے امام کے پیچھے ’’نظام ربوبیت‘‘ قائم کرتے رہیں اور آدھے دشمن کے مقابلہ میں ڈٹے رہیں اور اس کے بعد جب پہلا گروہ امام کے پیچھے ’’نظام ربوبیت‘‘ قائم کرتے ہوئے ایک سجدہ کر لے تو وہ اٹھ کر دشمن کے مقابلہ میں چلا جائے اور دوسرا گروہ اس کی جگہ امام کے پیچھے اس ’’نظام ربوبیت‘‘ کو قائم کرنا شروع کر دے۔

وَاِذَا کُنْتَ فِیْھِمْ فَاَقَمْتَ لَھُمُ الصَّلٰوۃَ فَلْتَقُمْ طَآءِفَۃٌ مِّنْھُمْ مَعَکَ وَلْیَاْخُذُوْا اَسْلِحَتَھُمْ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَکُوْنُوْا مِنْ وَّرَآءِکُمْ وَلْتَاْتِ طَآءِفَۃٌ اُخْرٰی لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَکَ
(النساء۴:۲:۱)

قرآن مجید کی یہ آیات صاف صاف بتا رہی ہیں کہ اقامت صلوٰۃ سے مراد وہی صلوٰۃ ادا کرنا ہے جو مسلمان دینا بھر میں پڑھ رہے ہیں لیکن جو لوگ یہ مفہوم چھوڑ کر کوئی دوسرا مفہوم جیسے ’’نظام ربوبیت‘‘ مراد لیتے ہیں وہ در اصل خود بدلنے کی بجائے قرآن مجید کو بدلنے پر اصرار کئے چلے جا رہے ہیں حقیقت یہ ہے کہ جب تک کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں بالکل ہی بے باک نہیں ہو جاتا وہ اس کے کلام کے ساتھ یہ مذاق نہیں کر سکتا جو یہ سب حضرات کر رہے ہیں یا پھر قرآن مجید کے ساتھ یہ کھیل وہ شخص ہی کھیل سکتا ہے جو اپنے دل میں اس کو اللہ تعالیٰ کا کلام نہ سمجھتا ہو اور محض دھوکہ دینے کے لئے قرآن قرآن پکار کر مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتا ہو۔

** مؤلف عبدالکریم اثری
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"

Last edited by کنعان; 17-12-11 at 02:23 AM.. وجہ: Re-organized

rana ammar mazhar
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 666
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
shafresha (16-12-11), فیصل ناصر (17-12-11), نورالدین (17-12-11), مرزا عامر (16-12-11), حیدر Rehan (17-12-11), شکاری (16-12-11)
پرانا 16-12-11, 07:52 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب مضمون ہے۔
بس ایک بات کی کمی محسوس ہوئی ہے کہ یہ کہیں‌نہیں‌ بتایا گیا ہے کہ اقامت صلوٰۃ سے نظام ربوبیت مراد لینے والا گروہ بھی وہی ہے جو صرف قرآن کا نعرہ بلند کرتا ہے، احادیث‌کا استخفاف و استہزاء کرتا ہے۔ اور قرآن فہمی میں‌احادیث‌کی ضرورت کو نظر انداز کرتے ہوئے عقلی موشگافیوں‌کی مداخلت جائز بلکہ ضروری سمجھتا ہے۔

جان بوجھ کر نماز چھوڑنا کفر ہے۔ نماز مومن اور کافر کے درمیان حد فاصل ہے۔ اور دوسری طرف یہ گروہ ہے جو نماز کا مفوم ہی بدلنے پر تلا ہوا ہے اور فیصل ناصر صاحب پوچھتے ہیں کہ یہ لوگ کافر کیوں‌ہیں۔
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65]
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (16-12-11), shafresha (16-12-11)
پرانا 16-12-11, 08:11 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اس لئے کہ حدیث قابل تحقیق ہوتی ہے، علامہ البانی نے بھی ۱۲۰۰ سو سال بعد کتب احادیث کے دو دو ٹوٹے کیے

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
بہت خوب مضمون ہے۔
بس ایک بات کی کمی محسوس ہوئی ہے کہ یہ کہیں‌نہیں‌ بتایا گیا ہے کہ اقامت صلوٰۃ سے نظام ربوبیت مراد لینے والا گروہ بھی وہی ہے جو صرف قرآن کا نعرہ بلند کرتا ہے، احادیث ‌کا استخفاف و استہزاء کرتا ہے۔ اور قرآن فہمی میں ‌احادیث ‌کی ضرورت کو نظر انداز کرتے ہوئے عقلی موشگافیوں ‌کی مداخلت جائز بلکہ ضروری سمجھتا ہے۔
جان بوجھ کر نماز چھوڑنا کفر ہے۔ نماز مومن اور کافر کے درمیان حد فاصل ہے۔ اور دوسری طرف یہ گروہ ہے جو نماز کا مفوم ہی بدلنے پر تلا ہوا ہے اور فیصل ناصر صاحب پوچھتے ہیں کہ یہ لوگ کافر کیوں‌ہیں۔
اس لئے کہ حدیث قابل تحقیق ہوتی ہے کیونکہ علامہ البانی نے بھی ۱۲۰۰ سو سال بعد کتب احادیث کے دو دو ٹوٹے کیے !!!
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
shafresha (16-12-11), مرزا عامر (17-12-11)
پرانا 17-12-11, 02:01 AM   #4
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عجیب بات ہے شکاری صاحب
عبدالکریم اثری یا رانا صاحب جس کے خلاف لکھ رہے ہیں
آپ عبدالکریم اثری اور رانا صاحب کو انہی میں شامل کررہے ہیں

میرا خیال ہے رانا صاحب کے مضمون کو پڑھنے میں آپ سے کوئی غلطی ہوگئی ہے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (17-12-11), نورالدین (17-12-11), مرزا عامر (17-12-11), حیدر Rehan (17-12-11)
پرانا 17-12-11, 08:20 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
عجیب بات ہے شکاری صاحب
عبدالکریم اثری یا رانا صاحب جس کے خلاف لکھ رہے ہیں
آپ عبدالکریم اثری اور رانا صاحب کو انہی میں شامل کررہے ہیں

میرا خیال ہے رانا صاحب کے مضمون کو پڑھنے میں آپ سے کوئی غلطی ہوگئی ہے
جی دراصل آپ سمجھے نہیں یا میں‌درست سمجھا نہیں‌سکا۔ جنہوں نے یہ مضمون لکھا ہے وہ بھی صرف قرآن کا نعرہ لگاتے ہیں، اور جن کے خلاف لکھا گیا ہے وہ بھی اختلاف کی بنیاد حدیث‌کو سمجھتے ہوئے صرف قرآن سے مسائل اخذ کرتے ہیں۔

اب یہ دیکھئے کہ یہ حضرات کس قدر شد و مد سے الزام تراشی کرتے ہیں‌کہ حدیث‌ سے نماز کا کوئی متفقہ طریقہ ثابت ہی نہیں۔ اور جو حدیث‌ماننے والے مختلف گروہوں کی نماز میں‌ جو اختلافات ہیں انہیں‌کس قدر ہائی لائٹ کیا جاتا ہے۔ جبکہ وہ اختلافات نہایت معمولی ہیں۔ بار بار ان پر بات چیت کی وجہ سے ایسا لگتا ہے کہ فرق بہت زیادہ ہے۔ ورنہ اذان سے لے کر، وضو و اقامت، اور تکبیر تحریمہ سے لے کر سلام تک کے سینکڑوں‌مسائل ایسے ہیں‌جو متفق علیہ ہیں۔ صرف چند ایک میں‌ ہی اختلاف ہے اور وہ بھی معمولی نوعیت کا۔
لیکن وہ لوگ جو احادیث‌کو نہیں‌مانتے یا اپنی مرضی کی احادیث کو مانتے ہیں، ان میں‌اختلاف کی نوعیت کا اندازہ کیجئے کہ ایک گروہ قرآن ہی سے صلوٰۃ قائم کرنے کا مطلب نظام ربوبیت کا قیام اخذ کرتا ہے، اور دوسرا قرآن ہی کی بنیاد پر اس کی مخالفت کرتا ہے اور عام مسلمانوں کی اتباع میں‌ قیام صلوٰۃ سے مرادروایتی نماز کا طریقہ ہی مراد لیتا ہے۔ پھر اس دوسرے ٹائپ کے گروہوں‌میں‌بھی اس قدرشدید اختلافات ہیں‌کہ کسی کو قرآن سے صرف تین وقت کی نماز کا حکم ملتا ہے اور کوئی اسی قرآن سے پانچ وقت کی نماز کا ثبوت نکال لاتا ہے۔

ان سب شدید اختلافات کو مدنظر رکھئے اور پھر بتائیں‌کہ کیا قرآن میں‌اختلاف ہے یا ان حضرات کی عقل و فہم ہی کا مسئلہ ہے۔ اب یہ دیکھیں کہ ایک منکر حدیث‌جس کے نزدیک قیام صلوٰۃ سے مراد ہی یہ ہوگی کہ نظام ربوبیت قائم کیا جائے۔ وہ نماز کے متعلق آنے والی ہزاروں‌احادیث‌ کو یہ کہہ کر رد کرتا جائے گا کہ یہ سب خلاف قرآن ہیں ، کیونکہ قرآن سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ صلوٰۃ کا مطلب ہی نظام ربوبیت کا قیام ہے!! ایسا ہوگا یا نہیں‌ہوگا؟
دوسری طرف وہ گروہ جسے قرآن سے تین نمازوں کا ثبوت نظر آ رہا ہے، ایک رکعت میں‌ایک سجدہ کا ثبوت وہ قرآن سے دے رہا ہے، تو ایسے گروہ کے نزدیک وہ تمام احادیث‌خلاف قرآن کہہ کر رد کر دی جاتی ہیں، جن میں‌پانچ نمازوں‌یا ایک رکعت میں دو سجدوں کا ذکر ملتا ہے۔

ہمارے فاروق خاں صاحب اور رانا صاحب سمیت ان حضرات کا رویہ یہ ہے کہ وہ اپنی عقل کو معیار قرار دے کر قرآن کی کسی آیت کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور امت کے اجماع سے قطع نظر ایک من چاہا مفہوم اخذ کرتے ہیں، اور پھر اپنی عقل میں‌سمائے اس مفہوم قرآن کو عین قرآن ہی قرار دے کر اس موضوع سے متعلقہ روایات کو خلاف قرآن کہہ کر رد کرتے جاتے ہیں۔ اور خود کو یا دوسروں‌کو دھوکا اس بات سے دیتے ہیں کہ جی حدیث‌تو قابل تحقیق ہوتی ہے۔ جی بالکل حدیث‌قابل تحقیق ہوتی ہے لیکن ان کے لئے جو اس فن کے محققین ہوں اور یہ تحقیق معین اصولوں‌کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ نا کہ ہر ایرا غیرا اپنی عقل کی بنیاد پر حدیث‌کو رد کرتا پھرے۔

یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے کوالیفائیڈ ڈاکٹرز کا پورا بورڈ بیٹھ کر کسی بیماری کی تشخیص کرے اور دوا تجویز کرے اور میڈیکل اسٹور پر بیٹھ کر دوائیاں بیچنے والے ہمارے یہ جوان اٹھ کر انہیں‌چیلنج کرتے پھریں۔ جسے میڈیکل کی الف بے نہیں‌آتی ہوگی تو ڈاکٹر بے چارے مریض کو کیا سمجھائیں‌گے کہ ہم ہی ٹھیک کہہ رہے ہیں اور اس خود پرستی کے مرض میں مبتلا شخص کو کیا سمجھائیں‌گے۔
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
شکاری کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (17-12-11)
پرانا 17-12-11, 09:53 AM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Question

نماز کیا تبدیلی لاتی ہے ۔
ایماندار ایماندار ہی رہتا ہے ۔ نماز پڑھنے کے باوجود
اور بے ایمان بے ایمان ہی رہتا ہے ۔نماز پڑھنے کے باوجود

میں کیا کافر ہوں
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
نورالدین کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (17-12-11)
پرانا 17-12-11, 10:35 AM   #7
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عمار بھائی ۔۔۔
مراسلہ کے شروع میں اگر ایک آیت وہ بھی ہوتی جس سے نظام ربوبیت کا قیام ظاہر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تو مراسلہ بھرپور ہوجاتا ۔ ۔ ۔
اور دوسری طرف اسی طرح ایک ایک کرکے تمام ’’آیاتِ صلواۃ‘‘ بھی زیر بحث آجاتی ۔۔

وجہ
اگر میرے زہن میں اُن لوگوں کی ایک بھی ایت اور اس سے مراد نظام ربوبیت بیٹھ جائے تو پھر اس مراسلے سے تو نکلنے والی نہی ہے ۔سوائے اس کے کہ میں ڈھیٹ بن جاوں اور کہتا رہوں ’’میں نہ مانوں ۔ ۔ میں نہ مانوں‘‘

چونکہ مجھے کچھ کچھ معلوم ہے کہ صلواۃ سے متعلق تقریبا 80 فیصد سے زیادہ آیات نماز کے بجائے کسی اور جگہ فٹ ہوسکتی ہیں ۔باقی 10 یا 20 فیصد پر ضد اختیار کرکے وہاں پر بھی ’’میں نہ مانوں‘‘ والی بات بھی کہی جاسکتی ہے ۔۔

دلیل :-
اور اللہ نے قران میں خود اشارہ دیا ہے کہ
’’اسی قران سے لوگ ھدایت پاتے ہیں‘‘ اور ’’اسی قران سے لوگ گمراہ بھی ہوتے ہیں‘‘
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (17-12-11)
پرانا 17-12-11, 11:56 AM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Imam: Jamia Masjid Al-Anaiya Ahle Hadith Jinnah Street,

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
جی دراصل آپ سمجھے نہیں یا میں‌درست سمجھا نہیں‌سکا۔ جنہوں نے یہ مضمون لکھا ہے وہ بھی صرف قرآن کا نعرہ لگاتے ہیں، اور جن کے خلاف لکھا گیا ہے وہ بھی اختلاف کی بنیاد حدیث‌کو سمجھتے ہوئے صرف قرآن سے مسائل اخذ کرتے ہیں۔

Abdul Karim Asri,
Imam: Jamia Masjid Al-Anaiya Ahle Hadith Jinnah Street,
Gujrat (Punjab) Pakistan.
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (17-12-11), مرزا عامر (17-12-11), حیدر Rehan (17-12-11)
پرانا 17-12-11, 06:40 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default کوالیفائیڈ علماء کے پورے بورڈ نے کہا نمازیں پانچ ہیں، اوقات نماز قرآنی تین ہیں۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے کوالیفائیڈ ڈاکٹرز کا پورا بورڈ بیٹھ کر کسی بیماری کی تشخیص کرے اور دوا تجویز کرے اور میڈیکل اسٹور پر بیٹھ کر دوائیاں بیچنے والے ہمارے یہ جوان اٹھ کر انہیں‌چیلنج کرتے پھریں۔ جسے میڈیکل کی الف بے نہیں‌آتی ہوگی تو ڈاکٹر بے چارے مریض کو کیا سمجھائیں‌گے کہ ہم ہی ٹھیک کہہ رہے ہیں اور اس خود پرستی کے مرض میں مبتلا شخص کو کیا سمجھائیں‌گے۔

کوالیفائیڈ علماء کے پورے بورڈ نے کہا نمازیں پانچ ہیں، اوقات نماز قرآنی تین ہیں۔

تین وقت کی نماز :: تین اوقات نماز کا قرآنی نظریہ تو شاہ ولی اللہ نے حجتہ اللہ البالغہ میں بیان کیا ہے !!!

شاہ ولی اللہ : اس واسطے فی الحقیقت نماز کے اوقات تین ہیں، صبح اور شام اور شب کی تاریکی، چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے، قائم کر نماز کو سورج کے ڈھلنے سے رات کی تاریکی تک اور قرآن پڑھنا فجر کا، بے شک فجر کے وقت قرآن پڑھنا روبرو ہے۔

أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ ۖ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا ( 17:78 )
(اے محمدﷺ) سورج کے ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک (ظہر، عصر، مغرب، عشا کی) نمازیں اور صبح کو قرآن پڑھا کرو۔ کیوں صبح کے وقت قرآن کا پڑھنا موجب حضور (ملائکہ) ہے
Establish regular prayers - at the sun's decline till the darkness of the night, and the morning prayer and reading: for the prayer and reading in the morning carry their testimony.‎

اس واسطے فرمایا ہے کہ شام کی نماز حکما شب کی تاریکی سے مل جاتی ہے کیونکہ ان میں کوئی فصل پایا ہی نہیں جاتا ۔
اس واسطے عند الضرورت ظہر اور عصر مغرب اور عشاء کو ساتھ پڑھ لینا درست ہے۔

Turkey: Fatwa allows Muslims to pray just three times a day

Ankara, 10 Oct. (AKI) - Turkish Muslims will be allowed to pray only three times a day from Wednesday instead of the usual five - without fear of committing a sin.

A member of the scientific council of Istanbul University, Muhammad Nour Dughan, has issued a controversial fatwa or religious edict cutting Islamic prayer requirements from five to three times a day.

The move has provoked widespread debate as well as opposition from orthodox imams or Muslim clerics.

Sharia law allows for the possibility of praying three times a day in case of sickness or travel.

The fatwa extends this option allowing Muslims to pray three times a day, especially when they are heavily committed with work or personal issues.

The Turkish debate echoes a similar one that has already taken place in Egypt where the fatwa has also drawn support.

Jamal al-Banna, brother of the founder of the Muslim Brotherhood, Hasan al-Banna, endorsed the Turkish move.

"Merging prayers has become a modern necessity," he told the al-Arabiya website. "In most cases, people do not always perform the five prayers on time due to the pressures of modern life."

Al-Banna is often criticised for his modern interpretation of Islamic rules. He said the Prophet Mohammad himself had given followers this option that could be applied when prayers cannot be carried out in a given time.

A member of Egypt's Supreme Council for Islamic Affairs, Sheikh Youssef al-Badri, rejected the argument saying it was unacceptable to merge prayers unless it was due to travel, illness, rain or pilgrimage.

Turkey: Fatwa allows Muslims to pray just three times a day - Adnkronos Religion
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (17-12-11)
پرانا 17-12-11, 07:07 PM   #10
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
Abdul Karim Asri,
Imam: Jamia Masjid Al-Anaiya Ahle Hadith Jinnah Street,
Gujrat (Punjab) Pakistan.
لو جی شکاری صاحب یہ تو آپ والے نکل آئے
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (17-12-11), کنعان (18-12-11), مرزا عامر (17-12-11)
پرانا 17-12-11, 07:17 PM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
لو جی شکاری صاحب یہ تو آپ والے نکل آئے
جی بھائی، مزے کی بات یہ ہے کہ میں‌نے آج تک نہیں‌ پڑھا یا سنا کہ کوئی صاحب خود کو منکر حدیث‌برملا کہتے ہوں۔ اس سے فرق نہیں‌پڑتا کہ کوئی خود کو کیا کہلاتا ہے اس کے عقائد و نظریات خود اس کے بارے میں بتاتے ہیں۔ میں‌تو فقط یہی کہہ سکتا ہوں‌کہ اہلحدیث‌حضرات ایسے عقائد سے بری الذمہ ہیں جنہیں‌یہ عبدالکریم اثری صاحب جانے کس کے اثر کے تحت پیش کر رہے ہیں۔
ویسے رانا صاحب، اگر آپ عبدالکریم اثری صاحب سے واضح پوچھ لیں‌کہ کیا آپ اہلحدیث‌ہیں؟ اور ان کا جواب یہاں‌شیئر کر سکیں‌تو مشکور رہوں گا۔
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
شکاری کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (17-12-11)
پرانا 17-12-11, 08:13 PM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default کیا آپ اہلحدیث‌ہیں؟ ہاں جی

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
ویسے رانا صاحب، اگر آپ عبدالکریم اثری صاحب سے واضح پوچھ لیں‌کہ کیا آپ اہلحدیث‌ہیں؟ اور ان کا جواب یہاں‌شیئر کر سکیں‌تو مشکور رہوں گا۔
کیا آپ اہلحدیث‌ہیں؟ ہاں جی، میں نے آدھی زندگی جمعہ کی نماز معہ فاتحہ خلف امام، رفع الیدین، آمین بل جہر، اہلحدیث عبد الکریم اثری صاحب امام جامعہ مسجد اہل حدیت جناح سٹریٹ مین بازار گجرات میں پڑھی ہے، شک کی کیا بات ہے !!!

rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (17-12-11)
پرانا 17-12-11, 08:30 PM   #13
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
جی بھائی، مزے کی بات یہ ہے کہ میں‌نے آج تک نہیں‌ پڑھا یا سنا کہ کوئی صاحب خود کو منکر حدیث‌برملا کہتے ہوں۔ اس سے فرق نہیں‌پڑتا کہ کوئی خود کو کیا کہلاتا ہے اس کے عقائد و نظریات خود اس کے بارے میں بتاتے ہیں۔ میں‌تو فقط یہی کہہ سکتا ہوں‌کہ اہلحدیث‌حضرات ایسے عقائد سے بری الذمہ ہیں جنہیں‌یہ عبدالکریم اثری صاحب جانے کس کے اثر کے تحت پیش کر رہے ہیں۔
ویسے رانا صاحب، اگر آپ عبدالکریم اثری صاحب سے واضح پوچھ لیں‌کہ کیا آپ اہلحدیث‌ہیں؟ اور ان کا جواب یہاں‌شیئر کر سکیں‌تو مشکور رہوں گا۔
شکاری صاحب اقطاب و ابدال والے تھریڈ میں آپ بھی حدیث کا کسی نہ کسی طرح انکار کر رہے ہیں اور اس کے با وجود آپ اہل حدیث ہیں ۔ اہل حدیث سے میری مراد حدیث کو ماننے والے ۔ باوجود حدیث کا نکار کرنے کے۔
آپ نے صحیح کہا منکر حدیث کبھی بھی اپنے آپ کو منکر حدیث نہیں کہے گا۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (18-12-11)
پرانا 17-12-11, 08:37 PM   #14
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
جی بھائی، مزے کی بات یہ ہے کہ میں‌نے آج تک نہیں‌ پڑھا یا سنا کہ کوئی صاحب خود کو منکر حدیث‌برملا کہتے ہوں۔ اس سے فرق نہیں‌پڑتا کہ کوئی خود کو کیا کہلاتا ہے اس کے عقائد و نظریات خود اس کے بارے میں بتاتے ہیں۔ میں‌تو فقط یہی کہہ سکتا ہوں‌کہ اہلحدیث‌حضرات ایسے عقائد سے بری الذمہ ہیں جنہیں‌یہ عبدالکریم اثری صاحب جانے کس کے اثر کے تحت پیش کر رہے ہیں۔
ویسے رانا صاحب، اگر آپ عبدالکریم اثری صاحب سے واضح پوچھ لیں‌کہ کیا آپ اہلحدیث‌ہیں؟ اور ان کا جواب یہاں‌شیئر کر سکیں‌تو مشکور رہوں گا۔
شکاری صاحب اقطاب و ابدال والے تھریڈ میں آپ بھی حدیث کا کسی نہ کسی طرح انکار کر رہے ہیں اور اس کے با وجود آپ اہل حدیث ہیں ۔ اہل حدیث سے میری مراد حدیث کو ماننے والے ۔ باوجود حدیث کا نکار کرنے کے۔
آپ نے صحیح کہا منکر حدیث کبھی بھی اپنے آپ کو منکر حدیث نہیں کہے گا۔
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (18-12-11)
پرانا 17-12-11, 10:30 PM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
شکاری صاحب اقطاب و ابدال والے تھریڈ میں آپ بھی حدیث کا کسی نہ کسی طرح انکار کر رہے ہیں اور اس کے با وجود آپ اہل حدیث ہیں ۔ اہل حدیث سے میری مراد حدیث کو ماننے والے ۔ باوجود حدیث کا نکار کرنے کے۔
آپ نے صحیح کہا منکر حدیث کبھی بھی اپنے آپ کو منکر حدیث نہیں کہے گا۔
عامر صاحب،
یہ ایک سنگین غلط فہمی ہے۔ دیکھئے، ایک چیز ہے اس بات کا ثبوت کہ آیا واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں‌بات ارشاد فرمائی تھی یا نہیں۔ اگر یہ ثبوت ہی پکا نہ ہو تو اس بات کو جھٹلانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا انکار کرنا نہیں ہوتا۔
دوسری چیز یہ ہے کہ یہ بات ثابت ہو جائے کہ جی ہاں‌واقعی یہ بات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہے اور پھر اس کا عقل کی بنیاد پر انکار کر دیا جائے، یہ براہ راست اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی ہے۔

یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے قرآن کی بھی شاذ قراءات موجود ہیں۔ لیکن امت اسے قرآن کے طور پر قبول نہیں‌کرتی۔ کیونکہ ان الفاظ کا ثبوت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں‌ملتا۔ لہٰذا ایسی شاذ‌قراءت کا انکار قرآن کا انکار نہیں‌کہلایا جا سکتا۔
دوسری جانب ایک قراءت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ ہے اور بالکل صحیح‌و متواتر اسناد سے ثابت ہے، اب اس کا انکار دراصل قرآن کا انکار قرار پائے گا۔

لہٰذا جیسے شاذ قراءت کے انکار سے قرآن کا انکار لازم نہیں‌آتا ، بالکل ایسے ہی ضعیف حدیث کے انکار سے انکار حدیث‌لازم نہیں‌آتا۔ واللہ اعلم۔!
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
شکاری کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (18-12-11)
جواب

Tags
فرض, پاک, قدم, قرآن, لوگ, لطیفہ, نظر, مقابلہ, ماں, مجید, محبت, مسجد, معلوم, آج, آدمی, اللہ, انسان, تعلیم, حکم, حدیث, خبر, زندگی, سفر, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
’لباس بشریت‘ میں امام معصوم حیدر Rehan متفرقات 2 23-05-11 02:26 PM
برزخ : ’’ قرآن و اھل بیت‘‘ ع کی نظر میں حیدر Rehan آخرت 4 11-04-11 10:14 PM
زندہ گرفتار کیا جائے‘ ملزم کی ساتھیوں کو ہدایت‘ چند ساتھی منصوبے سے آگاہ تھے‘ تفتیش میں انکشاف گلاب خان خبریں 16 06-01-11 02:36 AM
’نوعمر لڑکوں کی مسلح تربیت‘ وجدان خبریں 0 07-02-08 06:43 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:03 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger