حقیقتِ الف
الف ۔ الف ذاتِ احدیت کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔یہ ایک وصف ہے الف کا
الف کا دوسرا وصف یہ ہے کہ آپ جب قرآن پاک کا پڑھتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہر حرف دوسرے سے ملتا ہے مگر الف تنہا رہتا ہے الف کسی سے نہیں ملتاازخود کسی سے نہیں ملتا ہے پڑھیں (ذالک الکتاب ) ل ، ک سے مل گیا تو دو حرف جڑ گئے مگر الف تنہا رہا (انک حمید مجید) ن ، ک سے جڑ گیا مگر الف تنہا رہا اب آپ اس طریق پر دیکھتے چلے جائیں گے تو ہر حرف دوسرے سے مل جاتا ہے اس کی شراکت ہوجاتی ہے مگر الف تنہا رہتا ہے الا یہ کہ کوئی پیچھے سے آکر اس سے جڑ جائی(عالم ) ع تنہا رہ کر ع کا کچھ بن نہیں رہا تھاوہ پیچھے سے آکر الف سے جڑ گیا تو لفظ مکمل ہوگیاطاہر آپ اسی طرح الفاظ ملاتے چلے جائیں آپ دیکھیں گے کہ الف اپنی جگہ قائم تھی وہ کسی سے نہیں ملی ہاں کوئی حرف اپنی حقیقت کو کامل کرنے کے لئے اپنے نقص کو دور کرنے کے لئے خود بے معنی تھا اپنے آپ کو با معنی بنانے کے لئے الف سے جڑا ہے تو الف کی حقیقت یہ ہے کہ خود تنہا ہے مگر کوئی اس سے مل جائے تو اسے کامل کر دیتا ہے الف کا پیغام یہ ہے کہ اگر خود کا کامل کرنا چاہتے تو الف کی طرح خود کو ہر غیر سے تنہا کر لوتم اپنے من میں ہر غیر سے تنہا ہوجاؤاور غیر سے مراد یہاں علم الحروف تھااب یہاں غیر سے مراد دنیا ہے وتبتل الیہ تبتیلہ کہ اپنی تکمیل کے لئے سب سے کٹ کے الگ ہوجا کوئی اپنی تکمیل کے لئے تجھ سے ملتا پھرے تو ملتا پھرے تجھے اس کی حاجت نہ تو الف کی احدیت یہ پیغام دیتی ہے جو ہر ایک سے الگ ہو کر اس کا ہوتا ہے تو وہ بھی پھر اسی کا ہو جاتا ہے ۔
الف ۔ الف کی ایک اور حقیقت اور وصف بھی ہے اور یہ وصف اس کا علم الاعداد سے متعلق ہی۔جب آپ الف کو دیکھتے ہیں تو الف ایک سیدھی لکیر یا ڈنڈی کی طرح نظر آتا ہے یعنی الف ( 1 ) ایک کی مانند نظر آتا ہے علم الاعداد میں الف ایک کا درجہ رکھتا ہے ذات احد کااور علم الاعداد میں اس کی حقیقت یہ ہے کہ یہ خود ہمیشہ ایک (1 ) ہی رہتا ہے عدد بناتا ہے خود عدد نہیں بنتاتعدد بناتا ہے خود ایک ہی رہتا ہے عدد نہیں بنتا اس ایک (1)کے سامنے صفر لگا دیں تو دس کر دیتا ہے صفر صفر ہے اگر الف سے نہ ملے اور الف کے سامنے نہ آئے تو اسے پوچھتا ہی کوئی نہیں وہ تو صفر ہے ۔ لوگ کہتے ہیں تم تو صفر ہو وہ تو بیچاری بیکار ہے صفر ہے وہ بیکار بیچاری صفر 1 کے سامنے جب لگ جاتی ہے تو وہ دس0 ہوجاتی ہے ۔وہ نو 9 ہندسے پار کر لیتی ہے یکلخت ایک ہی چھلانگ میں پھر ایک اور صفر 0 کو شوق ہوتا ہے میں بھی بیکار پھر تی ہوں مجھے بھی کوئی نہیں لیتا وہ کہتا ہے تو بھی جڑ جا میرے ساتھ دوسری صفر لگ جاتی ہے وہ یکلخت سو00 ہوجاتا ہے اب صفروں کی قیمت بڑھ گئی تیسری صفر لگ جاتی ہے تو وہ ہزار 1000 بن جاتا ہے ۔تو آپ اندازہ کریں کہ صفر صفر تھی کتنی کامل ہوگئی اس ایک 1 یا الف ا کی وجہ سے اور اگر کسی بھی لمحے صفر کو یہ خیال آجائے خواہ وہ دس ہزار پہ تھی یا دس لاکھ پہ تھی بس کسی لمحے خیال آجائے یہ قیمت اور یہ قدرت اور یہ کمال میرا ہے بس اسی لمحے الف یا ایک اس سے اپنے کو الگ کر لیتی ہے بس الف ہٹا بھلے وہ دس لاکھ تھا الف ہٹنے کی دیر تھی وہ صفر ہی رہ گیا ۔علم الاعداد کے باب نے حقیقت الف یہ سمجھائی ہے کہ بندے تو اپنا عدم ہونا کبھی نظر انداز نہ کر تو پہلے بھی عدم تھا آج بھی عدم ہے ۔
اذا اراد شیئا ان یقول لہ کن فیکون یہ تو میرا امر کن ہے کہ حقیقت الف کے فیض سے تجھے دس بھی کردیا تجھے لاکھ بھی کردیا ۔تجھے وجود بھی دے دیا تجھے کما ل بھی دے دیا۔ بندہ صفر تھا احد کی الف نے اسے کامل کر دیا اسی الف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حق باہو رحمۃ اللہ علیہ نے چمبے دی بوٹی میں ارشاد فرمایا تھا الف ۔۔اللہ چمبے دی بوٹی ۔۔ اور با با بھلے شاہ فرماتے ہیں اسی حقیقت الف کی طرف اشار ہ کرتے ہوئی۔علمو وس کر یو یار ۔۔اک الف درکار ۔۔انسان کے لئے اس میں اشارہ ہے کہ اس الف سے جڑا رہ جس مسمیٰ کی طرف الف اشار ہ کرتا ہے وہ تجھے صفر سے لاکھ کر دے گا اور جس وقت تیری توجہ ہٹ گئی اور تجھ کو یہ خیال آگیا کہ تو الف کے بغیر بھی کچھ ہے بس اسی لمحے الف تجھ سے اپنا ناطہ توڑ لیتی ہے اور تیرے پاس ککھ نہیں بچتا۔
اس کے بعد الف کا ایک اور پہلو بھی ہے اور یہ بڑی توجہ سے سمجھنے والا نکتہ ہے اور ایمان افروز نکتہ ہے ۔
تیسرا وصف الف کا یہ ہے کہ آپ حروف تہجی کا کوئی حرف لکھیں الف کے بعد آتا ہے با ، تا ،جیم ،کاف حتی کہ آپ یا تک پہنچ جائیںآخری حرف تک پہنچ جائیں آپ ایک بات نوٹ کریں گے کہ ہر حرف جو بھی آپ بولیں گے یا لکھیں گے تو وہ حرف اسی حرف سے شروع ہوگا جس کی اس میں سے آواز بن رہی ہے مثلا جب آپ ،ب ، کو لکھیں گے تو وہ حرف ، با، سے شروع ہوگا ، ج، کو لکھیں گے تو وہ حرف جیم سے شروع ہوگا ،ش، کو لکھیں گے تو وہ اپنے ہی حرف سے شروع ہوگا علی ھذ القیاس آپ ، یا ، تک پہنچ جائیں تو ،ی، بھی ،ی، ہی سے شروع ہوگا ۔یہ ایک قاعدہ ہے ہر لفظ کی ابتدا اسی کے حرف سے ہوتی ہے ۔
اس میں ایک لفظ ایسا ہے جس کی ابتداء اس کے اپنے حرف سے نہیں ہوتی اور وہ ہے الف ۔آپ حیرت کریں گے کہ الف کی ابتداء الف ہی سے تو ہوتی ہے جی ہاں ! جب ہم بولتے ہیں (الف) تو اس لفظ الف کے شروع میں جو الف (ا) ہے وہ actually الف ہے ہی نہیں جی ہاں اگر یقین نہ آئے تو کسی اہل علم یعنی کسی قاری یا علم التجوید کے عالم سے معلوم کریں ۔ جب ہم الف کہتے ہیں تو اس لفظ الف کے شروع میں جو الف ہے وہ الف ہے ہی نہیں وہ( ہمزہ) ہے الف پر نہ پیش آتی ہے نا زبر اورنہ زیر نا جزم الف پر کوئی اعراب نہیں آتا الف ہوتا ہی وہ ہے جو کوئی حرکت کو قبول نہ کرے جب ہم کہتے ہیں الف تو اس پر زبر آتی ہے الف صر ف ساکن ہوتی ہے متحرک کو قران میں الف کے بجائے ہمزہ پڑہتے ہیں مثلا جب ہم الف کی ہجے کریں تو یوں کریں گے ، ہمزہ زبر اَ لام فا زیر لفِ اَلفِ۔
تو جب الف کو لکھتے ہیں تو الف الف سے شروع نہیں ہوتا ہمزہ سے شروع ہوتا ہے ،جب آپ الف کے اوپر پیش پڑھتے ہیں اُ تو وہ در اصل الف پیش او نہیں ہوتا ہمزہ پیش او ہوتا ہے ۔جب آپ الف زبر اَ کہتے ہیں تو وہ ہمز ہ زبر اَ ہوتا ہے اسی طرح ہمزہ زیر اِ ہوتا ہے الف زیر اِ نہیں وغیرہ وغیرہ۔
الف ایک ایسا حرف ہے جس نے اپنی حقیقت کو اپنے نام میں بھی ظاہر نہیں کیا ۔اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے ہمزہ سے یہ بات توجہ طلب ہے ہر لفظ کی ابتداء اس کے اپنے حرف سے ہوئی تاکہ وہ وہ لفظ اپنے حرف سے ظاہر ہو مگر الف کی ابتدا ء الف سے نہیں ہمزہ سے ہوئی یہ بات بڑی توجہ سے پڑھئے گا ۔ الف کا ظہور نہیں ہے اس لئے کہ ظہور ہونا تھاحرکت سے زبر ، زیر یا پیش سے ، ظہور ہونا تھاآواز سے ظہور ہونا تھا مخرج سے تو نہ اس کا کوئی مخرج ہے نہ اس کا کوئی اعراب ہے نہ اس کی کوئی حرکت ہے لہذا الف کا کوئی ظہور نہیں ہے ۔الف خود چھپا رہتا ہے اور جب اسے اپنے کو ظاہر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور خود کو ظاہر کرنا چاہتا ہے تو خود چھپا رہتا ہے اور ہمزہ کے ذریعے اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے ۔ تو الف کبھی ظاہر نہیں ہوتا جو ظاہر ہوتا ہے وہ ہمزہ ہوتا ہے ہم اسے غلطی سے الف سمجھتے ہیں ۔اس نے ظہور کے لئے اپنا نمائندہ بنا رکھا ہے وہ خود مخفی ہے نہ نظر آتا ہے نہ دکھائی دیتا ہے ۔اٹھائیس کے اٹھائیس حروف میںسب اسی کے ہیں لیکن اس نے اپنا نمائندہ نہ ،ل کو بنایا نا ن کو بنا یا نہ کسی اور حرف کو بنایا کیوں کہ جس لفظ کو بھی ملنا ہے وہ بذریعہ ہمزہ مجھ سے ملے میں براہ راست نہیں ملتا ۔یہ اٹھائیس حروف اعداد خلق ہیں یہ مخلوقات ہیں یہ بندگان خدا ہیں یہ ملائک عالم جن و انس ہیں وہ کہتا ہے جس نے میرا بننا ہے وہ ہمزہ سے ملے جس مجھ سے ملنا ہے وہ ہمزہ سے ملے کیوں کہ ہمزہ میرا نمائندہ ہے میں اپنے آپ کو ہمزہ کے ذریعے ظاہر کرتا ہوں خود کبھی ظاہر نہیں ہوتا ۔ساری حرکتیں ہمزہ کی ہیں میں حرکت دینے والا ہوں اور سارے نظام حرکت کو چلانے والا ہوں ۔
دوستوں الف کی حقیقت ذات احدیت ہے اور ہمزہ کی حقیقت ذات محمدیت ہی۔وہ فرماتا ہے کہ میری آواز نہیں لیکن جب بھی بولتا ہوں تو محمد کی آواز میں بولتا ہوں فرمادو قل ھو اللہ احد فرمادو وہ اللہ ایک ہے یا اللہ تو اپنی تو حید بتانا چاہتا ہے اور وہ بھی اپنے بندوں کو تو پھر محمد کی زبان سے کیوں کیوں کہ الف کا ظہور ہمزہ سے ہے الف اپنے آپ کو ہمزہ کے ذریعے ظاہر کرتا ہے ۔میری ہر ہر اطاعت کا ادا کا ظہو ر آپ سے ہے من یطیع الرسول فقد اطاع اللہ اس لئے تم فرمادو کہ میں ایک ہوں تمہارے کہنے سے جو مجھے ایک مانے وہ مومن ہے ۔ باری تعالی اگر لوگ میرے کہنے کو نا مانیںانکی عقل ،فلسفہ ، سائنس ،تحقیق اس نتیجے پر پہنچا دے نتیجہ وہی نکلے کہ تو ایک ہے اپنی تحقیق سے مانین میرے کہے کو نہ مانیں تو کیا پھر بھی مومن ہونگے فرمایا نہیں جو تیرے کہے کو مان کر مجھے ایک مانیں وہی مومن ہوں گے مجھے از خود لاکھ ایک مانتے پھریں میرا ایک ماننا ایمان نہیں ہے تجھ سے سن کر ایک ماننا ایمان ہے ۔تجھے مان کر مجھے ماننا ایمان ہے ۔میری ساری عطائیں تیرے وسیلے سے ہیں حقیقت الف کا سارا فیض ہمزہ سے ہے ۔اور ہمزہ کے ذریعے اس کی ہر شان اور کمال کا ظہور ہوتا ہے ۔الف نے خود کو چھپا لیا ہمزہ کے پردہ میں ،اب ہمزہ استعار ہ ہوا جس کو میں نے کہا کہ حقیقت محمدیت ہے
اب ہمزہ کیا ہے اور الف نے 28 حروف میں سے ہمزہ ہی کو کیوں اپنا سفیر بنایا تو اس کی وجہ بھی سن لیجئے ۔
شان دیکھئے پورے اٹھائیس حروف میں ہر لفظ جب لکھتے ہیں تو اسی حرف سے شروع ہوتا ہے ۔الف اپنے حرف الف سے شروع نہیں ہوتا اور دوسرا ہمزہ اپنے حرف ہمزہ سے شروع نہیں ہوتا ،دو حرف جدا ہیں باقی ساری دنیا ایک ہے ۔اللہ اللہ
نہ الف جیسا کوئی ہے نہ ہمزہ جیسا کوئی ہے سارے الفاظ اپنے ہی آواز والے حروف سے شروع ہوئے لیکن جب الف کی باری آئی تو الف شروع ہوا ہمزہ سے اور ہمزہ شروع ہوا ہ سے ہ ، م ، ز، ہ شروع میں بھی ہ آخر میں بھی ہ اب چار حروف کے لفظ میں ہمزہ کہیں نہیں ہے اللہ اکبر ۔
لوگوں الف ہمزہ میں چھپ گیا ہمزہ کس میں چھپ گیا ؟ ہائے ہائے ہائے!
الف کی حقیقت ہمزہ میں چھپ گئی حقیقت الوہیت حقیقت محمدیت میںچھپ گئی حقیقت احدیت حقیقت مصطفویت میںچھپ گئی کن کا کاف کن کے نون میں چھپ گیا لیکن حقیقت محمدیت کہاں چھپ گئی حقیقت مصطفویت کس کے پر دے میں چھپ گئی ؟
لوگو خدا محمد کے پردے میں ہی ملتا ہے اگر خدا کو ڈھونڈنا ہے تو پہلے محمد کو تلاش کرو خدا انہیں کے پاس ملتا ہے حقیقت الف نے یہ سمجھا یا ہے کہ اللہ کا الف ہمزہ کے وسیلہ سے ملتا ہے الف کو پانا ہے تو پہلے ہمزہ کوپڑھو پہلے ہمزہ کے ہو جاؤیعنی اللہ کی محبت کا دعوی محبت محمدیت کے بغیر نہ مکمل ہے ۔
دوستوں ! حقیقت الف کے اور بھی کئی پہلو ہیں لیکن وہ سرا سر عربی گرامر سے تعلق رکھتے ہیں جو خالصۃ 'صرف و نحو' کی اصطلاحات سے متعلق ہے اور ایک عام قاری کی سمجھ سے ماوراء ہے اس لئے اس کو چھوڑ رہا ہوں جس نے اس کو سمجھ لیا یہی کافی ہے اور جو اسی کو نہیں سمجھ سکا تو اس کو آگے بھی کیا سمجھ آئے گی ۔ وما علینا الا البلغ المبین ۔