واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم



علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم


امت مسلمہ کو در پیش مسائل و مشکلات

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-12-11, 11:23 AM   #1
امت مسلمہ کو در پیش مسائل و مشکلات
rana ammar mazhar rana ammar mazhar آن لائن ہے 11-12-11, 11:23 AM

Part A: Address to Council of Islamic Ideology (Islami Nazriyati) by Abdul Kareem Asri

حصہ اول :’’امت مسلمہ کو در پیش مسائل و مشکلات ‘‘ از عبدالکریم اثری

جناب چیئرمین صاحب مدظلہ العالی و اراکین و حاضرین اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان
السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ

جناب عالی!

اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے جو خط بندہ کو 29اپریل 2011ء کو موصول ہوا اُس میں عنوان ’’امت مسلمہ کو درپیش مسائل و مشکلات ‘‘ پر بات کرنے کا ارشاد فرمایا گیا ہے۔
بندہ اپنی علمی بے بضاعتی کے باعث اس عنوان پر تفصیل سے گفتگو نہیں کر سکتا کہ میں اس سلسلہ میں اس قدر کمزور نظر ہوں کہ مجھے کہیں ’’امت مسلمہ‘‘ کے دیکھنے کا موقعہ میسر نہیں آیا۔ میرے یہاں حاضر ہونے کا مقصد اسلامی نظریاتی کونسل کے ارکان و مندبین اور جناب چیئرمین صاحب اسلامی نظریاتی کونسل کے ارشادات سننے کا شوق ہے تاکہ میں اپنی کمزور بصری دور کر سکوں۔ ہاں! اس سلسلہ میں چند ایک کلمات جو میں کہہ سکتا ہوں عرض پرداز ہیں۔
جنابِ عالی!
میرا مطالعہ ایسے مضامین کے لیے چونکہ صرف قرآنِ کریم تک محدود ہے اور قرآنِ کریم میں ’’امت مسلمہ‘‘ کے جو الفاظ آئے ہیں ان کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے میرے خیال میں ان پیغامات کو جو قرآنِ کریم میں مسلمانوں کو مخاطب کر کے دیئے گئے ہیں ان کو سمجھنا ضروری ہے وہ بھی قرآنِ کریم کے ان پیغامات کی اپنی روشنی میں۔
چونکہ قرآنِ کریم میں مسلمانوں کو ’’یٰا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا‘‘کے الفاظ سے تقریباً 88بار مخاطب کیا گیا ہے اور ہر خطاب میں ایک سے زیادہ احکام دیئے گئے ہیں جن کی تفصیلات بہت طویل ہیں۔ ان پیغامات سے صرف ایک پیغام جو یقیناًپہلی بار مسلمانوں کو مخاطب کر کے دیا گیا ہے اُس کی روشنی میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں جو ان شاء اللہ طے شدہ نشستوں میں سے کسی ایک نشست میں تحریراً پیش کر دوں گا۔
اس وقت اس نشست میں عرصہ ہوا کہ میں نے ایک مختصر کتاب ’’تقابل‘‘ کے نام سے پیش کی تھی اس کا موضوع تقریباً اس عنوان سے ملتا جلتا ہے اس لیے جناب چیئرمین صاحب اور دوسرے اراکین و حاضرین میں سے بعض کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کروں گا۔
معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ:
اس خطاب کو میں نے مسلمانوں سے پہلا خطاب اس لیے قرار دیا ہے کہ سورہ البقرہ مدنی سورتوں میں پہلا نمبر رکھتی ہے اور مدنی سورتوں ہی میں مسلمانوں کو مخاطب کر کے قرآنِ کریم نے بات کی ہے اور سورہ البقرہ میں یہ پہلا خطاب ہے اندریں وجہ بندہ نے اس پیغام کو پہلے خطاب کا نام دیا ہے۔ جب کہ سورہ البقرہ میں گیارہ بار مسلمانوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔
جنابِ عالی!
بندہ ایک بار پھر اس کانفرنس کے مندوبین کی توجہ قرآنِ کریم میں مسلمانوں کو ان 88بار مخاطب کر کے بات کرنے کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہے کہ ان پیغامات میں سے ایک ایک پیغام کو گہری نظر سے دیکھ کر ان کی روشنی میں اپنی اور قوم مسلم کی اصلاح کی طرف توجہ دی جائے تو قوم کی تمام مشکلات کا حل قرآنِ کریم کے ان پیغامات میں موجود ہے۔ جب تک قوم مسلم کے راہنما اور پوری قوم ان کی روشنی سے استفادہ نہیں کرے گی اُس وقت تک ان مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا۔
بندہ اسی التجا پر اپنی بات کو ختم کرتا ہے۔
والسلام
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"

rana ammar mazhar
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 198
Reply With Quote
پرانا 11-12-11, 11:41 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default حصہ دوم : اول

Part B : Khitab-e-Quran with Muslims 88 Times

حصہ دوم: قرآنِ کریم میں اللہ رب کریم نے مسلمانوں کو 88 بار مخاطب کیا ہے
قرآنِ کریم کا ایمان والوں سے پہلا خطاب


قرآنِ کریم میں اللہ رب کریم نے مسلمانوں کو 88 بار مخاطب کیا ہے۔ اس جگہ صرف ایک خطاب کا جو سب سے پہلا خطاب ہے قدرے تفصیلی بیان کیا جا رہا ہے تاکہ اس مضمون کو اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین جناب محمد خاں شیرانی مدظلہ العالی اور اراکین کی خدمت میں موجودہ اجلاس کے دوران پیش کیا جا سکے جو اجلاس 10 مئی سے 12تک 2011ء کو اسلام آباد میں منعقد ہو رہا ہے۔ ان شاء اللہ اس سے معلوم ہو گا کہ مسلمانوں کی موجودہ زبوں حالی میں ان کی اپنی غلطیوں کا کتنا عمل دخل ہے میرے خیال میں جب تک مسلمان اپنی غلطیوں کی اصلاح نہیں کریں گے اغیار کی موجودہ یلغار کبھی ختم نہیں ہو گی۔
1۔ ایمان والوں کو مخاطب کر کے سورہ البقرہ کی آیت 104 میں جو پہلا حکم دیا گیا ہے کہ ’’اے ایمان والو! ’راعنا‘ کا لفظ استعمال نہ کرو بلکہ ’انظرنا‘ کا لفظ بولو‘‘ صرف اس ایک حکم کی صحیح تفہیم ہو جائے اور اس پر اہل اسلام عمل کرنے لگیں تو موجودہ حالات بدل سکتے ہیں جن حالات نے اہل اسلام کو پریشان کر رکھا ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ ’’راعنا‘‘ کے معنی ’’ہمارا لحاظ اور خیال کیجئے‘‘ کے بیان کیے جاتے ہیں۔ عربوں میں رواج تھا کہ مقرر کی بات اگر اچھی طرح سمجھ میں نہ آتی تو وہ ’’راعنا‘‘ کا لفظ بول کر مقرر کو متوجہ کرتے کہ بات کو دوبارہ بیان کر دیں تاکہ اس کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے لیکن جن لوگوں کے دلوں میں منافقت و مخالفت کا روگ موجود تھا وہ آپ ﷺ کو اس لفظ سے مخاطب کر کے اپنے دل کی خباثت کا اظہار کرتے وہ اس طرح کہ اس لفظ کو ’’راعینا‘‘ کے تلفظ سے ادا کرتے جس کے معنی ’’ہمارے چرواہے‘‘ کے ہیں۔ گویا اس لفظ کو اس تلفظ کے ساتھ ادا کرنے سے استہزاء و تحقیر کا پہلو نمایاں ہوتا تھا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس لفظ کو ادا کرنے سے منع فرما دیا اور اس کی جگہ ’’انظرنا‘‘ کا لفظ بولنے کی ہدایت فرمائی تاکہ آئندہ اگر کوئی شخص آپﷺ کو متوجہ کرنے کے لیے ’’راعنا‘‘ کا لفظ استعمال کرے، تو اُس کا بغض خود بخود واضح ہو جائے۔

سورہ البقرہ مدینہ طیبہ میں نازل ہونے والی سورتوں میں پہلی سورت

سورہ البقرہ مدنی سورت ہے اور یہ حکم اُس وقت نازل ہوا ہے جب اسلامی حکومت مدینہ منورہ میں قائم ہو چکی ہے، یا کم از کم مدینہ منورہ میں مسلمانوں کو اقتدار حاصل ہو چکا ہے۔ اور یہ نرمی جس کی مذکورہ آیت کریمہ تعلیم دے رہی ہے اُس وقت اختیار کی جا رہی ہے جب مسلمان بے زور نہیں رہے بلکہ ان کی طاقت و قوت عروج حاصل کر چکی ہے اور کرتی جا رہی ہے۔
معلوم ہوا کہ اسلام ضد اور ہٹ دھرمی کی کسی حالت میں بھی اجازت نہیں دیتا بلکہ ضد اور ہٹ دھرمی کو ختم کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں ہماری زندگی کے لیے بے شمار اسباق موجود ہیں بشرطیکہ ہم ان کو حاصل کرنا چاہیں اور علمائے اسلام آیاتِ کریمہ پر توجہ دے کر عوام کو اس طرف متوجہ کریں۔ مثلاً:
’’یا‘‘ ندائیہ حرف ہے یعنی کسی کو پکارنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ جب بھی کسی کو بلایا جاتا ہے تو اُس کو مخاطب کر کے بات کی جاتی ہے اگر کسی کو فقط پکارا جائے خواہ کتنے ہی ادب و احترام کے ساتھ پکارا جائے لیکن اس سے کوئی بات نہ کی جائے تو یہ ایک طرح کا سوء ادب ہو گا۔ اور اس طرح جس کو بار بار بلایا جائے اور آگے کوئی بات نہ کی جائے تو جس کو بلایا گیا ہو وہ بھی محسوس کرتا ہے اور دوسرے سننے والے بھی ایسا کرنے والے کو اچھا نہیں کہہ سکتے۔ نبی کریم ﷺ کا اسم ذات ’’محمد‘‘ یا ’’احمد‘‘ ہے آپ ﷺ کومخاطب کرنے کے لیے ’’یامحمد‘‘ یا ’’یا احمد‘‘ (ﷺ) کہا جا سکتا ہے، لیکن:
قرآنِ کریم ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ آپؐ کی ذات گرامی اس قدر تعظیم کے لائق ہے کہ آپؐ کو آپؐ کے ذاتی نام سے مخاطب نہیں کرنا چاہیے جس طرح تمام لوگ آپس میں ایک دوسرے کو ذاتی نام سے موسوم کرتے ہیں چنانچہ قرآنِ کریم میں فرمایا گیا ہے کہ : ’’اے پیغمبر! ﷺ جو لوگ تمہیں مکان کے باہر سے آپؐ کا نام لے لے کر پکارتے ہیں ان میں سے اکثر ایسے ہیں جن کو مطلق عقل اور تمیز نہیں، بہتر تھا کہ وہ صبر کرتے اور جب تم باہر نکلتے تو آپؐ سے بات کر لیتے۔‘‘

نبی اعظم و آخر ﷺ کو اسم ذات مخاطب کرنے کا حکم

بات کس قدر واضح ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کو آپؐ کی موجودگی میں بھی آپؐ کا اسم گرامی ’’محمد‘‘ یا ’’احمد‘‘ لے کر پکارنے سے منع کیا گیا ہے چہ جائے کہ آپؐ کی عدم موجودگی میں آپؐ کے ذاتی اسماء گرامی کو زور دار آواز سے بار بار مخاطب کیا جائے لیکن ذرا غور کریں کہ آج ہماری حالت کیا ہے؟ ایسا کیوں ہے؟
اللہ رب کریم کو اتنا بھی گوارا نہیں کہ آپؐ کی جناب میں کوئی اونچی آواز سے گفتگو کرے چہ جائے کہ تعظیم و تکریم کے بغیر آپؐ کا نام لیا جائے اور پھر اس کو بار بار دہرایا جائے۔ قرآنِ کریم کا مطالعہ کیجئے تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ اللہ رب کریم نے سب سے پہلے خود آپؐ کے اس امتیازِ تعظیمی کی شان کا نمونہ قرآنِ کریم میں بھی ہر جگہ قائم رکھا۔ قرآنِ کریم میں آپؐ کے علاوہ تمام انبیاء کرام کو ان کے ذاتی ناموں سے مخاطب کیا ’’یا اٰدم‘‘ ، ’’یا موسیٰ‘‘ ، ’’یا ذکریا‘‘ ، ’’یا داؤد‘‘ ، ’’یا یحییٰ‘‘ ، ’’یا عیسیٰ‘‘ کہہ کر ان کو مخاطب کیا اور پھر ان سے بات کی، ان کو کوئی حکم دیا۔ کسی بات سے روکا لیکن آپؐ کو جب بھی مخاطب کر کے کوئی حکم سنایا ، کوئی بات کی تو ’’یا ایھا الرسول‘‘ یا ایھا النبی‘‘ یا ایھا المدثر‘‘ یا ایھا المزمل‘‘ وغیرہ سے خطاب کیا اور خطاب کرنے کے بعد کوئی حکم دیا، یا کسی بات سے منع کیا۔ جس پیارے نام کی عزت و احترام خود ربِ کریم بھی کرے اُس کے احترام کا یہی طریقہ ہے جو اس وقت مسلمانوں کی اکثریت زوردار الفاظ میں کر رہی ہے؟ اور پھر اس کو محبت اور پیار قرار دے رہی ہے۔ ایمانداری سے بتائیں کہ کیا اس چیز کا نام محبت اور پیار ہے؟ اگر نہیں اور یقیناًنہیں تو اس کو ضد اور ہٹ دھرمی نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے؟

دلی اعتقاد محبت کے درخت کا بیج ہے

حقیقت یہ ہے کہ دلی اعتقاد ایک بیج ہے جو بغیر محبت کے بار آور نہیں ہوتا اور محبت کے لیے احترام و تعظیم ناگزیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم میں آپؐ کی تعظیم و تکریم پر زور دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ’’تعزروہ و توقروہ‘‘(۴۸:۹) یعنی آپ ﷺ کا احترام بجا لاؤ، ہمارے ہاں اس پر بہت بحث کی گئی ہے کہ ’’مومن کے لیے اللہ کی اور آپؐ کی محبت بھی اتباع احکام کی طرح اجباری ہے یا اختیاری؟ کیونکہ محبت اختیاری شئے نہیں اور اصل مقصود احکامِ اسلام کی پیروی ہے لیکن ذرا غور کیجئے تو اس طرح کے سوال کی یہاں گنجائش ہی نہیں۔ محبت اختیاری و اجباری ہونے کا سوال تو جب ہو، جب محبت اور ایمان دو چیزیں ہوں، حالانکہ ایمان تو از سرتا پا محبت ہے اور وہ ایمان کب ایمان ہے جو محبت سے خالی ہو۔ قرآنِ کریم میں ہے کہ:
والذین امنوا اشد حبا للہ۔ (۲:۱۶۵) ’’جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کی محبت اللہ سے نہایت شدید ہے۔‘‘
اس جگہ اربابِ ایمان کی یہ علامت بتائی اور دوسری جگہ یہودیوں کے اس دعویٰ پر کہ ’’نحن ابناء اللہ واحباء ہ ‘‘ کا جواب اس طرح ارشاد فرمایا کہ:
ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ۔ (۳:۳۱) ’’اگر تم واقعی محبت الٰہی کے مدعی ہو تو اس کی صورت یہ ہے کہ میری یعنی رسول اللہ ﷺ کی اتباع کرو۔‘‘

محبت کے اظہار کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

معلوم ہوا کہ جہاں محبت ایمان کا لازمہ ہے وہاں یہ بات بھی روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ محبت کا طریقہ بھی وہی صحیح ہے جو خود اللہ رب کریم نے اپنے پیارے رسول ﷺ کے ذریعہ بتایا اور سمجھایا ہے۔ لفظ محبت تو ایک ہی ہے لیکن اُس کا مقام بدلنے سے اُس کا طریقہ بھی یقیناًبدل جاتا ہے۔ محبت ماں باپ سے بھی ہوتی ہے، اہل و عیال سے بھی ہوتی ہے اور مال و منال سے بھی ہوتی ہے لیکن طریقہ سب کا الگ الگ ہے ایک جیسا نہیں، بحث لفظ محبت کی نہیں طریقہ کار کی ہے۔
اس وقت دنیائے اسلام میں عموماً اور پاکستان میں خصوصاً جو طریقے نبی اعظم و آخر ﷺ کی محبت کے نام سے اختیار کیے گئے ہیں اسلام میں ان کا نام و نشان بھی موجود نہیں اس کا نتیجہ یہ ہے کہ نام آپؐ کی محبت کا لیا جاتا ہے اور انتقام ذاتی اور قومی لیے جا رہے ہیں اور پوری دنیا میں ’’اسلام‘‘ نام کی وہ سبکی کی جا رہی ہے کہ الامان والحفیظ۔

اسلام کے دوستوں کا حال

اسلام کے دشمن تو پہلے ہی دشمن ہیں لیکن اسلام نام کے دوست اس قدر نادان ہیں خواہ وہ جنرل کے نام سے تخت نشین ہوں، خواہ صدر اور وزیر اعظم کے نام سے، خواہ وکلاء کے سرخیل ہوں، عدالتوں میں بیٹھے نام کے جسٹس ہوں یا دین کے رہنما ہوں ان میں سے اکثر پر یہ جملہ صادق آتا ہے کہ ’’نادان دوست سے دانا دشمن ہی بہتر ہوتا ہے۔‘‘
لاریب نبی اعظم و آخر ﷺ کی اتباع محبت و محبوبیت الٰہی کے لیے شرطِ اول ہے تو بلاشبہ آپؐ کی محبت بدرجہ اولیٰ شرط ہے کیونکہ جس کی محبت ہمارے دل میں نہیں اس کا اتباع ہم کیا کریں گے اور کیسے کریں گے؟

معروف روایت میں آپؐ کا ارشاد ہے کہ:

لا یومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین۔ (متفق علیہ) ’’تم میں کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں (نبی کریم ﷺ) اس کے نزدیک محبوب تر نہ ہوں، اس کے ماں باپ سے، اس کی اولاد سے اور اتنا ہی نہیں بلکہ اس دنیا کے تمام انسانوں سے۔‘‘
ایک دوسری روایت میں ہے، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپؐ سے کہا کہ:
’’لانت احب الی من کل شیء الا نفسی‘‘ اے نبی کریم ﷺ! آپ مجھ کو محبوب تر ہیں اس دنیا کی تمام چیزوں سے سوائے میری جان کے۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ:
خدا کی قسم تم مومن نہیں ہو سکتے جب تک مجھ کو اپنے نفس سے بھی زیادہ محبوب نہ رکھو، آپؐ کا یہ جملہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سنا تو کہا ’’انت احب الی من کل شیء حتی نفسی‘‘ اب دیکھتا ہوں تو اے رسول اللہ ﷺ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ جواب سن کر نبی اعظم و آخر ﷺ نے فرمایا کہ ’’الان یا عمر‘‘اے عمرؓ! تیرا ایمان مکمل ہو گیا۔

سیدنا عمرؓ نے اظہارِ محبت کیسے کیا؟

روایت میں جو کچھ بیان ہوا ہے یہ بات منہ کی ہے لیکن جب ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا عمل دیکھتے ہیں تو اس کی وہ سو فی صد تصدیق کرتا ہے اور یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ جب عمل اور قول دونوں منطبق ہو جائیں تو ایمان کی تکمیل ہو جاتی ہے اور یہی بات اس جگہ تحریر کی جا رہی ہے کہ آج باتیں تو بہت کی جاتی ہیں لیکن عمل انحطاط پذیر ہے کہ سوائے اشتعال کے کچھ بھی نہیں۔ نیز اس پر طرہ یہ ہے کہ قول جس کا تعلق محض زبان سے ہے کسی کا ہے اور اشتعال کسی دوسرے کا جب کہ حقیقت حال سے مشتعل کرنے والا اور مشتعل ہونے والا دونوں بے خبر ہیں۔
بات چلی تھی اللہ تعالیٰ کے اس حکم سے کہ ’’اے ایمان والو! آپؐ کو متوجہ کرنے کے لیے ’’راعنا‘‘ کا لفظ استعمال نہ کرو بلکہ ’’انظرنا‘‘ کا لفظ بولا کرو تاکہ تمہارا مقصود بھی حل ہو جائے اور میرے محبوب ﷺ کو مخاطب کرنے کے لیے کسی دشمن سے دشمن کو بھی اپنی زبان کو پیچ دے کر لفظ نکالنے کی زحمت نہ ہو کہ میرے محبوب محمد رسول اللہ ﷺ کو اپنے اور میرے دشمنوں کی اتنی تکلیف بھی ناگوار گذرتی ہے۔ جو مجھے کسی حال میں بھی پسند نہیں۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔

لفظ کس نے بولا اور ہدایت کن لوگوں کو کی گئی، بہت قابل غور ہے

ایک بار مزید غور کریں کہ ’’راعنا‘‘ کا لفظ زبان کو پیچ دے کر بولا منافقین اور اہل کتاب نے لیکن مخاطب کیے گئے نبی کریم ﷺ براہِ راست اس لیے کہ اُس وقت آپؐ بنفس نفیس موجود تھے اس طرح گویا آپ کو تضحیک و استہزاء کا نشانہ بنایا گیا اور آپؐ کا مذاق اُڑایا گیا جس سے اہل ایمان کو تکلیف پہنچی جو ایک فطری چیز تھی کہ آپؐ مسلمانوں کے نبی و رسول اور راہنما تھے۔ اگر یہ سلسلہ اس طرح جاری رہتا تو ایک طرح کا ’’فساد فی الارض‘‘ شروع ہو جاتا اللہ رب کریم نے اس ’’فساد فی الارض‘‘ کی جڑ کاٹ دینے کا حکم دیا کہ اے مسلمانو! تم ایسا لفظ جو ذو معنی یا اس سلسلہ میں ابہام پیدا کرنے والا ہے اس کو بدل دو تاکہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔

کیا اللہ تعالیٰ تمام طاقتوروں سے زیادہ طاقت والا نہیں؟

اللہ رب کریم تمام طاقتوروں سے زیادہ طاقتور ہے اگر وہ چاہتا تو ایسے تمام لوگوں کو چن چن کر مروا دینے کا حکم دیتا اور مسلمانوں کو مخاطب کر کے حکم دیتا کہ میرے محبوب کی اس طرح بے حرمتی کرنے والوں کو مکمل طور پر صفحہ ہستی سے ختم کر دو کہ میں نے تم کو اتنی طاقت عطا کر دی ہے اور اب یہ کام آپ کے لیے یعنی مسلمانوں کے لیے کوئی مشکل نہیں رہا۔ لیکن اُس نے تمام طاقتوروں سے زیادہ طاقتور ہونے کے باوجود حکم یہ دیا کہ اے مسلمانو! تم ایسے لفظ کو بدل دو اس کی بجائے تمہیں آپؐ کو مخاطب کرنے کی ضرورت پیش آئے تو ’’انظرنا‘‘ کا لفظ استعمال کر لیا کرو کہ یہ اصلاح کی ایسی صورت ہے کہ اس سے سانپ بھی مر جائے گا اور لٹھ بھی بچ جائے گی جو پھر کام آ سکے گی۔

اہل کتاب اور تورات و انجیل

اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کے بنیادی لٹریچر یعنی تورات و انجیل کی جب زبان بدلی تو اُنہوں نے یعنی اُن کے مترجمین نے انبیاء کرام کے واقعات اور دوسری دینی باتوں پر اس طرح حاشیے چڑھا دیئے کہ اب اصل کتاب اور اس کی تفسیر و تشریح کو الگ الگ کرنا ممکن ہی نہیں رہا گویا اُنہوں نے دودھ میں جس قدر بھی پانی ملا دیا ہے اب اُس کو الگ الگ کرنا ممکن ہی نہیں رہا۔ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کو معصوم عن الخطا بھی مانتے ہیں اور ان کے ذمہ ایسی ایسی خطائیں بھی لگا دی ہیں کہ اس وقت وہ خود مبہوت ہو کر رہ گئے ہیں۔ بہت بڑا عرصہ وہ آپس میں اس معاملہ میں لڑتے رہے اور ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگا کر ان فتووں کی پاداش میں لوگوں کو قتل بھی کرتے رہے۔ ایک بہت بڑا لمبا عرصہ گذرنے کے بعد اُنہوں نے فیصلہ کر لیا کہ اس بحث کو ختم کر دو اور سمجھ لو جو ہمارے مذہبی راہنما تھے وہ جو کچھ کرتے رہے وہ اچھا تھا یا برا اس بحث کو ختم کرتے ہوئے ان کو اپنے مذہبی پیشوا مانتے رہو اور مادر پدر آزاد ہو کر جو تمہارے جی میں آئے وہ کہتے رہو اور کرتے رہو صرف اس بات کا خیال رکھو جو کرو فریقین کی رضا مندی اس کے لیے ضروری ہے۔ اُنہوں نے اپنے مذہبی لٹریچر کی اصلاح اس لیے نہ کی کہ وہ ایسا کر ہی نہیں سکتے تھے۔

کتاب التفسیر میں بعض باتیں اہل کتاب سے در آئیں

بدقسمتی سے مسلمانوں نے کتاب اللہ کی تفسیر کے نام سے وہ سب کی سب باتیں نہ سہی لیکن بہت سی باتیں اسلامی لٹریچر میں بھر دیں اور روایات کے نام پر بے شمار چیزیں کتب اسلامی میں در آئیں۔ اللہ تعالیٰ کا بہت احسان ہوا کہ قرآنِ کریم کی اللہ رب کریم نے خود حفاظت فرمائی اور اس کے الفاظ کو تحریر اور حفظ دونوں میں محفوظ رکھا لوگوں کو اس پر اثر انداز نہ ہونے دیا۔
زیر نظر آیت کی روشنی میں چاہیے تو یہ تھا کہ مسلمان اپنے لٹریچر کی اس طرح اصلاح کر دیتے کہ قرآنِ کریم واضح طور پر ہمارے پاس موجود ہے اس کی تشریح کرتے ہوئے جو ایسی باتیں در کر آئیں جن کو روایات کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اگر کہیں قرآنِ کریم کی ہدایت سے ٹکراتی نظر آئیں تو اُن کو بغیر کسی بحث کے نظر انداز کر دیں لیکن افسوس کہ فی زماننا مسلمانوں کی اکثریت نے ان روایات کو بحث موضوع بنا کر قرآنِ کریم کو ان کے تابع کر دیا اور اصل دین وہ روایات قرار پا گئیں اور قرآنِ کریم کا صرف نام لیا جانے لگا۔

قرآنِ کریم روایات کا تابع نہیں

قرآنِ کریم کو روایات کا تابع کرنا فی نفسہٖ ایک غلط فعل تھا ، ہے اور رہے گا لیکن اس پر طرہ یہ کہ روایات کو مختلف فکروں اور نظریوں میں تقسیم کر دیا گیا اور ہر ایک فکر و گروہ کی روایات دوسرے فکر و گروہ کے نظریات سے ٹکرا گئیں پھر اس ٹکراؤ میں ہر فرقہ اور گروہ نے دوسرے فرقہ اور گروہ کو اپنی اپنی روایات کے سہارے کافر کہنا شروع کر دیا۔ استغفراللہ، استغفراللہ، رب اغفر وارحم وانت خیر الراحمین۔
لاریب کچھ ایسے بھی ہیں چاہے وہ کتنے ہی تعداد میں کم ہوں جو یا تو روایات کو سرے سے مانتے ہی نہیں خواہ ماننے والوں کی چڑ ہی کے باعث نہ مانتے ہوں اور جو مانتے ہیں لیکن وہ قرآنِ کریم کو ان روایات پر حاکم تسلیم کرتے بلکہ جو روایات قرآنِ کریم کے کھلا خلاف اُن کو نظر آتی ہیں اُن کو نہیں مانتے یا اُن کی کسی نہ کسی طریقہ سے تاویل کرتے ہیں ایسوں کو جو روایات کو مانتے ہیں خواہ وہ کسی گروہ یا فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں سب کے سب مل کر ان کو کافر قرار دے دیتے ہیں۔ اس لیے اس سارے معاملہ کو اس طرح بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ کوئی مسلمان ایسا نہیں جو کسی نہ کسی دوسرے مسلمان کی نظر میں کافر نہ ہو گویا سارے مسلمان، مسلمان بھی ہیں اور کافر بھی۔

کافر کون کون اور کیسے کیسے؟

نتیجہ اس ساری بحث کا یہ ہے کہ تمام کافر جو مسلمان نہیں وہ تو پہلے ہی کافر ہیں جیسے ہنود، عیسائی، یہودی، صائبی، پارسی اور مرزائی وغیرہ لیکن جو ان تمام لوگوں میں سے کسی کے ساتھ بھی معروف نہیں بلکہ ان کا عرف صرف مسلمان ہے وہ بھی آپس میں ایک دوسرے کو کافر کہنے کے باعث کافر ہیں اس طرح دنیا میں کوئی بھی مسلمان نہیں رہتا لیکن قرآنِ کریم پر جب غور کرتے ہیں تو ان تمام گروہوں میں خواہ ہنود ، عیسائی، یہودی، صائبی، پارسی یا علاوہ ازیں جو کچھ بھی وہ کہلاتے ہیں سب کے سب میں مسلمان موجود ہیں اور کافر بھی بالکل اسی طرح مسلمانوں کے تمام معروف گروہوں میں مسلمان بھی موجود ہیں اور کافر بھی کیونکہ کفر اور اسلام اعمال و کردار سے واضح ہوتا ہے گروہی تقسیم سے نہیں۔
اگر بات واضح نہیں ہوئی تو اس کو مزید واضح کر دیتے ہیں تاکہ بات اچھی طرح سمجھ میں آ جائے بشرطیکہ کوئی سمجھنے کے لیے تیار بھی ہو، اگر کوئی سمجھنا ہی نہ چاہتا ہو تو اس کو تو دنیا کی کوئی طاقت بھی سمجھا نہیں سکتی۔ یہ بات تو روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ کوئی بھی مسلمان اگر وہ مسلمان ہے تو گستاخِ رسول نہیں ہو سکتا؟ اور اگر کوئی گستاخِ رسول ہے تو وہ مسلمان نہیں ہو سکتا؟

مسلمان اور گستاخِ رسول کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟

لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ مسلمان کہلانے والے دوسرے مسلمان کہلانے والوں کے خلاف گستاخِ رسول ہونے کے پرچے درج کرا رہے ہیں اور حکومت ایسے پرچے کاٹ رہی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسے پرچے کٹوانے والوں اور اس طرح کے پرچے کاٹنے والوں کو کیسے مسلمان کہا جا سکتا ہے؟ جن مسلمانوں کے خلاف پرچے کاٹے جا رہے ہیں ان کی بحث تو بعد میں آئے گی پہلے تو معاملہ پرچے کٹوانے والوں اور کاٹنے والوں کا ہے، کیا اس پر کبھی کسی نے غور کیا ہے؟ نہیں تو آخر کیوں؟
بندہ نے خود اپنی آنکھوں سے مذہبی رسائل میں یہ سوال پڑھا ہے کہ ’’کیا توہین رسالت کی سزا غیر مسلم کو بھی دی جا سکتی ہے؟ پھر اس سوال کے بیسیوں جواب دیئے گئے ہیں جو بندہ کی نظر میں ہیں لیکن میں اس طرح کی کوئی بات نہیں کر رہا بلکہ صاف اور واضح الفاظ میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ ’’کیا کسی مسلمان کو مسلمان ماننے اور تسلیم کرنے کے باوجود عہد نبوی یا عہد صحابہ میں ’’توہین رسالت‘‘ کے الزام میں سزا دی گئی ہے؟ ہاتوا برہانکم ان کنتم صادقین۔
میں وثوق سے جو کچھ کہہ سکتا ہوں
بندہ پورے وثوق اور نہایت عزم و جزم کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہے اور کہہ رہا ہے کہ پوری تاریخ کی ورق گردانی کر جائیں پورے ذخیرہ روایات کو چھان لیجئے قرآن و سنت تو دور کی بات ہے اس سارے کے سارے ذخیرہ میں سے ایک بھی ایسی مثال آپ پیش نہیں کر سکیں گے اور قطعاً نہیں کر سکیں گے۔

ماہنامہ محدث کیا کہتا ہے؟

لیکن اس وقت صورتِ حال کیا ہے؟ تحریر ہے کہ: ’’۲۹۵۔سی کا غلط استعمال کیا گیا لیکن یہ غلط استعمال صرف مسیحوں کے خلاف نہیں کیا گیا بلکہ مسلمانوں کے خلاف بھی ہوا۔ بالکل اسی طرح جیسے کئی مرتبہ دفعہ ۳۰۲میں بے گناہ افراد پر قتل کا الزام عائد کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح ۲۹۵۔ سی میں بھی بے گناہ افراد پر ’’توہین رسالت‘‘ کا غلط الزام عائد کرنے کی مثالیں موجود ہیں۔ (یہ تحریر 2011ء کی ہے) پچھلے بیس سالوں کے دوران توہین رسالت اور توہین قرآن کے الزام میں سات سو سے زائد مقدمات درج ہو چکے ہیں (بعض رسائل میں اس سے زیادہ تعداد بھی مذکور ہے) جن میں سے نصف سے زیادہ مقدمات مسلمانوں کے خلاف درج کرائے گئے ہیں، لہٰذا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے کہ ۲۹۵سی کا نشانہ صرف غیر مسلم بنتے ہیں۔‘‘ (محدث جنوری 2011)

ہفت روزہ اہل حدیث کا بیان

بالکل اس سے ملتا جلتا مضمون ’’ہفت روزہ اہل حدیث جنوری 2011ء‘‘ میں بھی تحریر کیا گیا ہے اور علاوہ ازیں بھی رسائل و اخبار کی زینت بنایا گیا ہے اور ببانگ دہل اس بات کا کھلے لفظوں میں اقرار کیا گیا ہے کہ ’’توہین رسالت‘‘ کے مقدمات مسلمانوں کے خلاف بھی درج ہوئے ہیں۔ ’’توہین رسالت‘‘ کے یہ مقدمات کن لوگوں نے درج کروائے ہیں؟ نیز یہ بھی کہ کن لوگوں نے درج کیے ہیں؟ جواب ایک اور صرف ایک ہی ہے کہ مسلمانوں نے درج کروائے ہیں اور مسلمانوں ہی نے درج کیے ہیں اگر ایسا ہے تو اس کی وضاحت پیچھے گذر چکی ہے۔

قوانین اسلامی کا تحقیقی ادارہ

پاکستان کے قانون کے مطابق اسلامی قوانین کی تحقیق کا ادارہ موجود ہے جس کو ’’اسلامی نظریاتی کونسل‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے میرا نظریاتی کونسل سے سوال ہے کہ اس کی کوئی دلیل کتاب اللہ میں واضح طور پر اور علاوہ ازیں نبی اعظم و آخر ﷺ کے دور مبارک یعنی اسلام کے دورِ اول یا صحابہ کرام کے دوریعنی دورِ ثانی میں اس کی کوئی مثال موجود ہے کہ کہیں کسی مسلمان کو مسلمان تسلیم کرتے ہوئے اُس کو ’’توہین رسالت‘‘ کا مرتکب قرار دے کر، کوئی سزا دی گئی ہو اگر اس کی کوئی وضاحت یا مثال موجود ہے تو اس کی نشاندہی فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔ بندہ پورے وثوق سے یہ تحریر کر رہا ہے کہ اس کی کوئی مثال نہیں مل سکتی۔
ہاں! کوئی مسلمان اگر مرتد ہو جائے اور ارتداد کے بعد اس نے نبی اعظم و آخر ﷺ کی توہین کا ارتکاب بھی کیا ہو اور سزا پائی ہو تو یہ دوسری بات ہے کیونکہ ارتداد کا قانون اپنی جگہ الگ موجود ہے چاہے اس میں اختلاف بھی پایا جائے کہ آیا مرتد قابل قتل ہے یا نہیں؟ لیکن کوئی بھی مسلمان مرتد کو مرتد تسلیم کرنے کے بعد مسلمان نہیں کہہ سکتا اور نہ وہ مسلمان ہوتا ہے۔ مرتد ہونا دین اسلام میں داخل ہونے کے بعد دین اسلام سے پھر جانے کا نام ہے اس لیے اس میں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کوئی بھی انسان اگر خود اس کا اقرار کرے کہ وہ دین اسلام کو اپنا دین نہیں مانتا تو اس کو مرتد کہا جاتا ہے کسی مسلمان کو کفر کے ارتکاب کے باعث مرتد نہیں کہا جا سکتا بلکہ ایسا شخص از روئے اسلام منافق قرار پاتا ہے اور کسی بھی منافق کو مرتد یا کسی بھی مرتد کو منافق کہنے سے اصل حقیقت نہیں بدل جاتی کیونکہ دونوں کے احکام الگ الگ ہیں۔ دوسرے لفظوں میں آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ مرتد انسان خود ہوتا ہے اُس کو مرتد کیا نہیں جا سکتا جیسا کہ فی زماننا ہمارے ہاں خصوصاً پاکستان میں قانوناً اور حکماً ہو رہا ہے۔ فافہم فتدبر

اسلام، مقدمہ اور بددیانتی، یا للعجب

میں دعوت دیتا ہوں علمائے اسلام کو، پولیس افسران کو، وکلاء کرام کو اور ججز حضرات کو کہ وہ ان تمام مقدمات میں سے کسی ایک مقدمہ کو جو کسی بھی مسلمان گروہ نے کسی دوسرے مسلمان گروہ کے کسی فرد پر ’’توہین رسالت‘‘کے نام سے درج کرایا ہے اس کو منتخب کر لیں اور دیانتداری کے ساتھ اس کا تجزیہ کریں تو آپ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ یہ مقدمہ بددیانتی کے باعث ، ذاتی دشمنی کے باعث یا کسی بدبخت مسلمان کے کفر کے مرتکب ہونے کے باعث قائم ہوا ہے۔
لہٰذا جو بات بھی ہوئی ہے اور جس انداز سے بھی ہوئی ہے اس سے وقتی طور پر مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں لہٰذا ایسے کسی بھی مقدمہ کا نام ’’فساد فی الارض‘‘ تو ہو سکتا ہے ’’توہین رسالت‘‘ ، ’’توہین اسلام‘‘یا ’’توہین قرآن‘‘ نہیں ہو سکتے بلکہ اس کو اس طرح کے کسی بھی نام سے موسوم کرنا خود ان ناموں کی توہین کا مرتکب ہونا ہے جو کسی بھی مسلمان کو زیب نہیں دیتا اور ’’فساد فی الارض‘‘ کے متعلق کسی مسلمان، کافر، مشرک، یہودی، عیسائی اور کسی بھی دوسرے انسان کی کوئی تخصیص نہیں بلکہ یہ تمام انسانوں پر یکساں ایک جیسا لاگو ہوتا ہے کیونکہ یہ پوری انسانیت کا مسئلہ ہے کسی ایک گروہ کا نہیں۔

فساد پر مبنی مقدمات کو ’’فساد فی الارض‘‘ کا نام کیوں نہیں دیا جاتا

اندریں وجہ اس طرح کے تمام مقدمات کو ’’فساد فی الارض‘‘ کے نام سے موسوم کرنا چاہیے اس لیے کہ ایسے تمام مقدمات کو قرآنِ کریم نے ’’فساد فی الارض‘‘ کا نام دیا ہے اور ’’فساد فی الارض‘‘ کی مختلف صورتیں کتاب و سنت میں موجود ہیں اور ان کی سزاؤں کی وضاحت بھی موجود ہے اس کی مثالیں آپؐ کے مبارک دور یعنی اسلام کے دورِ اول اور صحابہ کرام کے دور اسلام کے دورِ ثانی میں بھی موجود ہیں اور آج بھی اس طرح کے مقدمات کی سخت سے سخت سزائیں دی جا سکتی ہیں اور دینی چاہئیں۔
ہاں! ایسے مقدمات کے فیصلہ ہونے کے بعد واضح ہو جائے کہ یہ مقدمہ بددیانتی یا کسی ذاتی دشمنی کے بنا پر قائم کیا گیا تھا تو عدالت پر لازم آتا ہے کہ وہ از خود نوٹس لے کر ایسا مقدمہ درج کرانے یا کرنے والوں کو سخت سے سخت سزائیں دے بالکل وہی جو اس طرح کا ارتکاب کرنے والوں کو دی جا سکتی ہیں اور کسی بھی ایسے مقدمہ کا فیصلہ کر کے اس کو چھوڑ نہ دے جیسا کہ دوسرے عام مقدمات کو فیصلہ کر کر چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ ملک میں اس طرح کی انارکی ختم ہو سکے۔

’’فساد فی الارض‘‘ کے قرآنی نام سے گریز کیوں؟

رہا کسی بدبخت مسلمان کے کفر کے مرتکب ہونے کا معاملہ تو اس کے متعلق ضروری ہے کہ اس کی تحقیق کر لی جائے اگر اس سے دو سرے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں تو یہ بھی ’’فساد فی الارض‘‘ میں آئے گا تو ظاہر ہے کہ اس کی سزا بھی وہی ہو گی جو ’’فساد فی الارض‘‘ کی نوعیت کے مطابق قرار پائے گی اور اگر اس کی نوعیت اس کی ذات تک محدود ہے تو اسلامی حکومت اس معاملہ میں مناسب اقدام کر سکتی ہے اور اس کو ایسا کرنا چاہیے تاکہ اس طرح کے واقعات کا سد باب کیا جا سکے۔ وقت اور نوعیت کے پیش نظر ایسے مقدمات میں مختلف قسم کی سزائیں تجویز کی جا سکتی ہیں۔ اس طرح کے وہ مسلمان ہیں جن کو اسلام کی زبان میں منافق قرار دیا گیا ہے۔
یہ تو مسلمانوں کا معاملہ تھا جن کے خلاف دوسرے مسلمان ’’توہین رسالت‘‘ وغیرہ کے نام سے مقدمات درج کرتے اور کراتے ہیں کیونکہ قرآنِ کریم کی آیت جو زیر بحث چلی آ رہی ہے جس میں مسلمانوں کو ’’راعنا‘‘ کے لفظ سے آپؐ کو مخاطب کرنے سے منع کیا گیا ہے اور ’’راعنا‘‘ کی جگہ ’’انظرنا‘‘ کا لفظ بولنے کی تاکید کی گئی ہے کیونکہ ’’راعنا‘‘ کا لفظ اتنا حساس ہے کہ وہ مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرتا ہے جس سے اشتعال پیدا ہوتا ہے اسی طرح ’’توہین رسالت‘‘ وغیرہ کے نام سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اور ان کے جذبات مشتعل ہوتے ہیں لہٰذا اس کا نام ’’فساد فی الارض‘‘ ہونا صحیح ہے جو قرآنِ کریم کا اپنا قائم کردہ نام ہے اور اس کی نوعیت کے مطابق اس کی سزا قتل تک دی جا سکتی ہے۔

غیر مسلموں کا معاملہ اسلام میں؟

رہا غیر مسلموں کا معاملہ کہ اگر وہ ’’توہین رسالت‘‘ ، ’’توہین قرآن‘‘ یا ’’توہین اسلام‘‘ وغیرہ کے مرتکب ہوں تو ایسوں کے متعلق اسلام کا حکم کیا ہے؟ اور اس کے متعلق پیچھے ہم نے واضح کر دیا ہے کہ ایسے تمام مقدمات بھی ’’فساد فی الارض‘‘ کے ضمن میں آتے ہیں کیونکہ یہ پوری انسانیت کے لیے یکساں ایک جیسا معاملہ ہے لہٰذا اس کو بھی یہی نام دیا جا سکتا ہے اور یہی دیا جانا چاہیے۔ کیونکہ غیر مسلم بھی بہرحال انسان ہیں چاہے وہ اپنا نام کچھ بھی رکھتے ہوں۔ ہاں!اس میں کچھ نوعیت کا فرق ہے وہ یہ کہ اس طرح غیر مسلموں سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں جس کی اہمیت وقت ، حالات اور تعداد وغیرہ کی قلت و کثرت کے باعث مختلف ہونا ایک فطری چیز ہے تاہم ایسے معاملات میں ہمارے خیال کے مطابق اسلام مزید احتیاط کی تلقین کرتا ہے۔

قرآنِ کریم نے مذکورہ حکم مسلمانوں کو کیوں دیا؟

قرآنِ کریم میں جو مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ ’’راعنا‘‘ کا لفظ مت استعمال کرو تو اس کی وجہ ہی یہ تھی کہ غیر مسلم یا منافق ہی آپؐ کو ’’راعینا‘‘ اپنی زبانوں کو پیچ دے کر پکارنے کے مرتکب ہوتے تھے کوئی حقیقی اور سچا اور پکا مسلمان تو ایسا نہیں کر سکتا اور نہ ہی کسی سچے مسلمان نے ایسا کیا۔ مسلمانوں کو اس لفظ سے جو منع کیا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ جب مسلمان ایسا لفظ استعمال نہیں کریں گے تو غیر مسلم اور منافق بھی اس سے باز آ جائیں گے اور اس طرح کی حرکت نہیں کر سکیں گے جس سے سچے اور پکے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ اس طرح کے حالات میں اللہ رب کریم نے بہت زیادہ احتیاط سے کام لینے کی تلقین کی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو وہ راستہ بند کرنے کی کوشش اور تدبیر کی جائے جس راستہ سے ایسے حالات کا رونما ہونا معلوم ہو۔

مسلمانوں پر بھی احتیاط لازم آتی ہے

ہم دیکھتے ہیں کہ اگر ان واقعات کا احصا کر کے تجزیہ کیا جائے جو رونما ہوئے ہیں تو معلوم ہو گا کہ ہم مسلمانوں نے اس احتیاط سے کام نہیں لیا جس احتیاط سے کام لینے کا اللہ رب کریم نے ہم کو ہمارے نبی و رسول محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ حکم دیا ہے۔ اس جگہ ہم بالکل تازہ واقعہ کا مختصر ذکر کرنا چاہتے ہیں جو بالکل ماضی قریب میں رونما ہوا جس کی داستانیں ہر کہ ومہ کی زبانوں پر آج تک موجود ہیں، جس کو ’’آسیہ مسیح‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے چنانچہ تحریر ہے کہ:

آسیہ مسیح اور ہفت روزہ اہل حدیث

’’اس سلسلہ کی ایک کڑی ضلع ننکانہ کی آسیہ مسیح کی گستاخی ہے۔ یہ 8،10 خواتین فالسہ چن رہی تھیں اور دوپہر کا کھانا ایک جگہ پر کھانے بیٹھیں، پانی پینے کے لیے تین گلاس تھے، ایک گلاس کو آسیہ نے استعمال کیا تو دوسرے دو گلاسوں سے مسلمان خواتین نے پانی پیا۔ آسیہ نے اس بات کو نوٹ کیا اور اپنی بے عزتی محسوس کی جس پر اس نے مسلمانوں کو تلخ ترش باتیں کیں اور پھر نبی اکرم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کی۔‘‘ ( ہفت روزہ اہل حدیث صفر ۱۴۳۲ھ)

آسیہ مسیح اور ماہنامہ محدث

’’آسیہ بی بی نے مسیحی برادری کے اہم افراد کی موجودگی میں اعتراف جرم کیا اور کہا کہ اس سے غلطی ہو گئی ہے، لہٰذا اُسے معاف کر دیا جائے۔ آسیہ بی بی کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال کچھ مسلمان خواتین نے اس کے سامنے کہا کہ قربانی کا گوشت مسیحیوں کے لیے حرام ہوتا ہے جس پر غصے میں آ کر اس نے کچھ گستاخانہ کلمات کہہ ڈالے۔ جس پر وہ معافی مانگتی ہے۔ آسیہ بی بی نے اپنے خلاف مقدمے کے مدعی قاری سالم سے بھی معافی مانگی، لیکن اس کا موقف تھا کہ توہین رسالت کے ملزم کو معافی نہیں مل سکتی۔‘‘ (محدث جنوری 2011ء ص76)
علاوہ ازیں بھی اخبارات اور جرائد اسلام میں اس طرح کا مضمون دیکھنے میں آتا رہا تقریباً سب کے بیانات ملتے جلتے ہی تھی بعض میں زیادہ تفصیلات سے ذکر کیا گیا اور بعض میں مختصر اسی طرح جھگڑے کا باعث بھی ایک سے زیادہ باتیں بتائی گئیں تاہم یہ بات سب میں یکساں بیان کی گئی کہ مسلمان عورتوں نے اُس کے عیسائی ہونے کے باعث اُس سے کسی نہ کسی طرح سے نفرت کا اظہار کیا اور عیسائیوں کے ساتھ اشیائے خوردونوش میں شرکت کو برا سمجھا۔

ایسے جھگڑوں کا اصل باعث نفرت

جہاں تک میں تحقیق کر سکا یہ بات مجھ پر واضح رہی کہ اس جھگڑے کا اصل باعث نفرت تھی لیکن کسی جگہ بھی دیکھنے، سننے اور پڑھنے میں یہ بات نہیں آئی کہ کسی نے مسلمان عورتوں کی اس نفرت کو بھی صحیح نہ سمجھتے ہوئے کوئی بات کی ہو، بات گلاس میں پانی پینے کی ہو یا قربانی کے گوشت کی دونوں ہی باتوں کو جس طرح بیان کیا گیا اُس کا کوئی جواز اسلام میں مطلق نہیں ہے۔ جو بات وجہ جواز بنائی گئی جب وہی صحیح نہ تھی تسلیم کرنا چاہیے تھا کہ غلطی طرفین سے ہوئی ہے یک طرفہ غلطی نہیں۔ آسیہ نے جو بھی الفاظ کہے ہیں در اصل اُس کا باعث وہ مسلمان عورتیں ہیں۔ مسلمان پنچایت کو قاری سالم صاحب کو، ایس پی انویسٹی گیشن شیخوپورہ جناب محمد امین شاہ بخاری کو اور ایڈیشنل سیشن جج صاحب ننکانہ نوید اقبال صاحب کو چاہیے تھا ان تمام باتوں کا اپنے اپنے مقام پر درجہ کے مطابق خیال کرتے لیکن خوف و خطرہ نے ان کو درست سمت سوچنے ہی نہ دیا جس کے باعث وہ اسلام کے نادان دوست ثابت ہوئے۔ یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اگر وہ اسلام کے دانا دوست ہوتے تو کسی نہ کسی مقام پر پہنچ کر اس واقعہ کو اس طرف جانے سے روکا جا سکتا تھا جس طرح جانے کی وجہ دین اسلام کی دنیا میں سبکی ہوئی۔

اہل کتاب کا کھانا اور اس کا حکم قرآنِ کریم میں

اہل کتاب کو کھانا کھلانے اور اہل کتاب سے کھانا کھانے کا حکم قرآنِ کریم میں واضح الفاظ میں موجود ہے جس کے مطابق نبی اعظم و آخر ﷺ نے اپنی زندگی میں عمل فرما کر قوم مسلم کو دکھایا ہے کہ آپؐ نے اہل کتاب کی دعوتیں کی ہیں اور اُن کی دعوت کو شرفِ قبولیت بخشا ہے جس کا ذکر آج بھی صحیح روایات میں کثرت سے مل جاتا ہے، عوام نہ سہی لیکن ہر مکتب فکر کے علمائے گرامی قدر تو اس حقیقت کو جانتے اور سمجھتے ہیں پھر وہ ان حقائق کو عوام کے سامنے بیان کیوں نہیں کرتے؟

غور کیجئے کہ قرآنِ کریم میں اللہ رب کریم کا ارشاد ہے کہ:

اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتِ وَطَعَامُ الَّذِیْنَ اُوتُوا الْکِتٰبَ حِلُّ لَّکُمْ وَطَعَامُکُمْ حِلُّ لَّھُمْ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُوْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ ۔ (۵:۵) ’’آج تمام اچھی چیزیں تم پر حلال کر دی گئی ہیں، ان لوگوں کا کھانا جنہیں کتاب دی گئی ہے تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا اُن کے لیے حلال ہے، نیز تمہارے لیے مسلمان بیبیاں اور ان لوگوں کی بیبیاں جنہیں کتاب دی گئی ہے حلال ہیں یعنی تم ان سے نکاح کر سکتے ہو۔‘‘ (۵:۵)
اور اس کا عکس بھی جائز و درست ہے کیونکہ تمام احکام میں مرد اور عورتیں برابر کے شریک ہیں۔

قرآنِ کریم کے ابدی احکامات

کس قدر واضح اور صاف بات ہے اللہ رب کریم ہر زمانہ کے حالات و واقعات کا علم رکھتا ہے اُس نے یہ بات کسی ایک زمانہ یا وقت کے لیے ارشاد نہیں فرمائی اس جگہ کوئی مخصوص گروہ اور کسی طرح کے مخصوص حالات کے پیش نظر یہ بات نہیں ارشاد فرمائی گئی اگر مسلمانوں کے عوام الناس کو ان کا علم نہیں تو کیا علمائے گرامی قدر ، پنچایت میں بیٹھ کر فیصلے کرنے والے پینچ، پولیس کے بڑے بڑے عہدوں پر تشریف فرما آفیسرز، جدید علوم کے ماہر وکلاء اور عدالتوں پر بیٹھ کر فیصلے دینے والے ججز بھی قرآنِ کریم کی اس تعلیم سے واقف نہیں یا قرآنِ کریم کی تعلیمات علمائے کرام کے بیانات اور پاکستان کی انتظامیہ اور عدلیہ کے قانون سے منسوخ ہو چکی ہیں؟

کیا قرآنِ کریم کے حکم پس پشت ڈالا جا سکتا ہے

چلتے چلتے علمائے کرام اور راہنمایانِ اسلام سے میرا یہ بھی سوال ہے کہ کیا قرآنِ کریم کے واضح احکامات کو پس پشت ڈال دینا قرآنِ کریم اور صاحب قرآن ﷺ کی اہانت کے مترادف نہیں؟ کیا مسلمان کی یہی شان ہے کہ وہ قرآنِ کریم کے واضح احکامات کی عملاً اور فعلاً مخالفت کرے اور صرف قولاً اس کا اقرار کرتا رہے؟ اگر بات ایسی ہو تو کیا اس کو منافقت نہیں قرار دیا جا تا؟
سورہ المائدہ کی اس آیت کے ضمن میں بطور تائید بیسیوں آیاتِ کریمات پیش کی جا سکتی ہیں لیکن اتنی واضح اور کھلی آیت کی پروا نہ کرتے ہوئے مسلمان غیر مسلم اور خصوصاً اہل کتاب سے ایک طرف تو اتنی نفرت کریں کہ اپنے ملک میں ان کو اقلیت سمجھ کر یہ حق بھی دینے کے لیے تیار نہ ہوں کہ وہ ہمارے برتن کو استعمال کر سکیں یا ہم ان کے برتن کو استعمال کر سکیں اور دوسری طرف لاکھوں روپے خرچ کر کے یورپ کو ان لوگوں کی خدمت بجا لانے کو اپنے لیے دونوں جہاں کی سعادت سمجھیں اور پھولے نہ سمائیں کہ ہم یورپ میں رہ رہے ہیں تو ایسی صورت حال کو دیکھ کر آخر وہ ہم کو کیا کہتے ہوں گے؟ اور ان کو کیا کہنا چاہیے؟

غیر مسلم ممالک اور مسلمان وڈیرے

مسلمان ممالک کے تمام وڈیرے بغیر کسی استثناء اپنے ممالک میں بد اعمالیاں کر کے اہل یورپ یہود و نصاریٰ کی کاسہ لیسی کرتے ہیں وہاں پناہ گزیں ہوتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ اب ہم امن میں ہیں ان میں کسی ادنیٰ سے اقتدار میں آنے والے سے صرف ہاتھ مل جائے تو اس کو سعادت سمجھتے ہیں اور جو اپنے اپنے دیس میں رہ رہے ہیں وہ ان کی ایجادات سے مستفید ہونے پر فخر کرتے ہیں کیا کوئی ایجاد ایسی بھی ممکن ہے جو بغیر کسی کا ہاتھ استعمال ہوئے خود بخود تیار ہو جاتی ہے پاکستان کا کونسا عالم ہے جو ایک متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے کے باوجود ان کے اُتارے ہوئے لباس استعمال نہیں کرتا اور وہ کونسا گھر ہے جس میں ان کی استعمال شدہ چیزیں موجود نہیں ہیں۔

اپنے ماں باپ کو گالیاں دینے والے کون؟

کیا نبی اعظم و آخر ﷺ کا ارشاد مسلمانوں کو یاد نہیں آتا جب آپؐ صحابہ کرام کو مخاطب کر کے فرما رہے تھے کہ لوگو! بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنے ماں باپ کو گالیاں دیتے ہیں؟ صحابہ کرام نے تعجب سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا ایسا بھی کوئی بدبخت ہو سکتا ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا کہ جو شخص بھی کسی دوسرے کے ماں باپ کو گالی دیتا ہے وہ گویا اپنے ہی ماں باپ کو گالی دیتا ہے۔ کیونکہ دوسرا شخص جب اس کو اس کی دی گئی گالی کے عوض گالی دے گا تو وہ ایسا ہی ہے جیسا کہ اُس نے خود اپنے ماں باپ کو گالی دی، کیوں؟ اس لیے کہ وہ پہل نہ کرتا تو دوسرا بھی اُس کو اس طرح کا جواب نہ دیتا۔ اسی طرح قرآنِ کریم میں یہ بھی ارشاد فرمایا گیا ہے کہ:
وَلَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہَ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍط (۶:۱۰۹)
’’اور جو لوگ اللہ کے سوا دوسری ہستیوں کو پکارتے ہیں تم ان کے معبودوں کو گالیاں نہ دو کہ پھر وہ بھی حق سے متجاوز ہو کر بے سمجھے بوجھے اللہ کو برا بھلا کہنے لگیں گے۔‘‘ (۶:۱۰۹)

اسلامی رواداری ، سبحان اللہ

اندازہ کریں کہ اسلام کتنا رواداری پسند اور صلح و آشتی چانے والا دین ہے کہ سدّ ذریعہ کے اس اصول کو بھی تسلیم کرتا ہے کہ اگر ایک مباح کام کسی بڑی خرابی کا سبب بنتا ہو تو وہاں اس جائز اور مباح کام کو بھی ترک کر دینے کی ہدایت دیتا ہے جیسا کہ ماں باپ کو گالی دینے والے کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے جو روایت مسلم شریف میں ص ۱۴۶ میں بیان کی گئی ہے۔
معبودانِ باطل کو گالیاں دینا کیا ہے؟ فرمایا ایسا ہے کہ گویا تم اپنے معبودِ حقیقی کو گالیاں دے رہے ہو، کیوں؟ فرمایا کہ تمہاری گالی کے عوض وہ معبود حقیقی یعنی اللہ رب کریم کو گالیاں دینے لگیں گے جس کا باعث تم ہو گے۔
مخالفین اسلام کے سامنے جب اسلام کی ایسی تصویر پیش کی جائے گی جس سے ثابت ہو گا کہ اسلام غیر مسلموں کے ساتھ مل جل کر اُٹھنے بیٹھنے سے منع کرتا ہے یہاں تک کہ اپنے خاص تہواروں میں استعمال ہونے والی چیزیں بھی اُن کو پیش کرنے سے روکتا ہے کہ وہ ناپاک ہو جاتی ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول نہیں ہوتیں تو ایسی باتیں سن کر آخر ان پر کیا اثر ہو گا؟

اسلام کو بگاڑ کر پیش کرنے کا نتیجہ

دین اسلام کو بگاڑ کر پیش کرنے کا نتیجہ یہ ہے کہ غیر مسلم جن کو اسلام قریب لانے کی ہرممکن کوشش کرتا ہے وہ دور سے دور تر ہو رہے ہیں بلکہ دین اسلام سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ وہ اسلام جو لوگوں کے درمیان نفرتیں تھیں اُن کو دور کرنے کے لیے آیا ہے۔ وہ واضح الفاظ میں تعلیم دیتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ تمام کائنات کا رب اور اِلٰہ ہے بالکل اسی طرح محمد رسول اللہ ﷺ پوری کائنات کے لیے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اور آپؐ پر نازل ہونے والی کتاب قرآنِ کریم پوری کائنات کے لیے کتابِ ہدایت ہے اسی طرح اس کائنات میں انسان نام سے جو بھی مخلوق موجود ہے خواہ وہ کہاں ہے اور کیسی ہے سب کی سب ایک جنس سے تعلق رکھتی ہے۔ اس دنیا میں جتنی گروہ بندیاں ہیں سب کی سب لوگوں کی اپنی بنائی ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں صرف اور صرف اعمال دیکھے جاتے ہیں چنانچہ قرآنِ کریم میں وضاحت سے کہا گیا ہے کہ:
ان الذین اٰمنوا والذین ھادوا والنصریٰ والصبئین من اٰمن باللہ والیوم الاخر وعمل صالحا فلھم اجرھم عند ربھم ولا خوف علیھم ولا ھم یحزنونo (۲:۶۲)
’’جو لوگ ایمان لائے وہ ہوں یا یہود و نصاریٰ اور صابی ہوں، جو کوئی بھی اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اس کے اعمال اچھے ہوئے تو وہ اپنے ایمان و عمل کا اجر اپنے پروردگار سے ضرور پائے گا، اس کے لیے نہ تو کوئی کھٹکا ہو گا، نہ کسی طرح کی غمگینی ہو گی۔‘‘
بات سورج سے بھی زیادہ روشن ہے جو اس آیت اور اس جیسی دوسری آیات میں کہا گیا ہے اس میں کسی طرح کا کوئی ابہام موجود نہیں۔ افسوس کہ جس طرح یہود و نصاری اپنی اپنی جگہ یہ بات کہتے رہے یہود نے کہا ہدایت یافتہ ہونے کے لیے نام کا یہودی ہونا ضروری ہے اور نصاریٰ نے کہا کہ ایسا نہیں ہے بلکہ نجات حاصل کرنے کے لیے نصاریٰ ہونا ضروری ہے اگر کوئی نام نصاریٰ میں داخل نہیں ہوتا تو وہ ہر گز نجات نہیں پا سکتا۔ بعد ازیں مسلمان آئے تو اُنہوں نے بھی وہی بات کہنا شروع کر دی جو گذشتہ قوموں کے لوگ کہتے چلے آ رہے تھے۔ زیر نظر آیت نے بتا دیا کہ یہ نام رکھنے سے نہیں نجات کا دارومدار اعمال پر ہے جن لوگوں کے اعمال اچھے ہوں گے وہ خواہ کسی بھی نام سے موسوم ہوں گے آخرت میں نجات اُن کے حصہ میں ضرور آئے گی نجات پر کسی بھی گروہ کی اجارہ داری نہیں ہے۔ نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جس طرح گذشتہ گروہ آج بھی اس بات پر بدستور قائم ہیں بالکل اسی طرح مسلمان بھی اس آیت اور اس جیسی بہت سی دوسری آیات کی تاویل روایات کی روشنی میں اس طرح کرتے ہیں کہ دوسرے تمام گروہ جب تک اس تقسیم میں داخل ہو کر مسلمانوں کے گروہ میں شامل نہیں ہوتے نجات اُن کے لیے ممکن نہیں حالانکہ ایمان کسی گروہ کی میراث نہیں۔

انبیاء کرام اور اہل کتاب

لاریب انبیاء کرام پر ایمان لانا بھی ضروریاتِ دین میں سے ہے لیکن جس طرح تمام مسلمان گذشتہ انبیاء کرام پر ایمان رکھتے ہیں بالکل اسی طرح دوسرے تمام گروہ بھی انبیاء کرام پر ایمان لاتے ہیں اور تمام انبیاء کرام کی تعلیم یکساں ایک جیسی تھی، ہے اور رہے گی جب تمام انبیاء کرام کی تعلیم ایک ہے تو پھر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ فلاں نبی و رسول کا انکار کیا جا رہا ہے اور کوئی کہتا بھی ہے تو اس کی بات کی کوئی قیمت نہیں خواہ وہ کون ہو، کہاں ہو اور کیسا ہو؟ اس طرح کی بات محض بے جا تعصب سے کہی جا سکتی ہے کسی بھی نبی علیہ السلام کی تعلیم کے باعث نہیں اور جو بھی ایسا کہتا ہے در اصل وہ اپنے نبی علیہ السلام کی تعلیم کے خلاف کہتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس کا ایسا کہنا سراسر جہالت ہے۔

پاکستان اور قوانین اسلام

مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد جو قانون بھی اسلام کے نام سے معروف کرایا گیا اور بے شمار قربانیاں پیش کرنے کے باوجود کسی جہت سے بھی وہ واضح نہ ہو سکا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اُس کا نام تو اسلامی رکھا گیا لیکن اُس نے اسلام کی ساکھ کو زبردست نقصان پہنچایا، کیوں؟ اس لیے کہ وہ نیک نیتی سے نہیں بلکہ بدنیتی سے کسی خاص مقصد کے لیے بنایا گیا گویا بظاہر نام تو اسلام کا استعمال کیا گیا اندر مقصد کچھ اور رہا، ایسا قانون بنانے اور بنوانے والے تمام صاحب علم اس حقیقت سے واقف ہیں لیکن کیوں خاموش ہیں اور اس کا نام نہیں لیتے، اس معاملہ میں وہی بتا سکتے ہیں جنہوں نے اس کے بنانے اور بنوانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائی اور اس معاملہ میں سخت جدوجہد کی اور پوری قوم کو مشتعل کر کے اپنا مقصد اس سے حاصل کیا۔ چونکہ قانون اسلام کے نام سے معروف کرایا گیا اس لیے اب اس کی حقیقت کو جو بھی افشاں کرے گا گردن زدنی قرار پائے گا اور نتیجتاً اُس کی گردن کاٹی جائے گی، وہ کون ایسا بدبخت اور لعنتی ہو جو اسلام کے اس قلعہ پاکستان میں رہتے ہوئے ایسی سوچ بھی سوچ سکے چاہے اس کا تعلق عوام سے ہو یا خواص سے کیونکہ اسلام تو سب کا یکساں ایک جیسا ہے بلکہ خواص سے زیادہ عوام کا ہے کیونکہ عوام کروڑوں میں ہیں اور خواص سینکڑوں میں بھی نہیں پھر جو مشتعل کرنے والے ہیں ان کا تعلق خواص سے ہے عوام بچارے تو مکمل طور پر مشتعل ہو کر اسلام کے نام پر جانیں قربان کر سکتے ہیں اور وہ کر رہے ہیں۔

میرا تعلق عوام سے اور عوام سے استفسار

قارئین سے التماس ہے کہ چاہے ان کا تعلق عوام ہی سے ہو کیونکہ میرا تعلق بھی عوام ہی سے ہے واللہ العظیم میں ایک عامی آدمی ہوں، میرا تعلق نہ کسی سیاسی پارٹی سے ہے اور نہ کسی مذہبی گروہ بندی سے اس لیے میں ہاتھ باندھ کر گذارش کرتا ہوں کہ میری عرض ذرا غور سے سنیں میں اللہ رب کریم کو اپنا رب اور اِلٰہ مانتا ہوں، نبی اعظم و آخر ﷺ کو اللہ کا آخری نبی تسلیم کرتا ہوں اور آپؐ کے بعد جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ اپنے آپ کو ظلی کہے یا بروزی میں اس کو لعنتی گردانتا ہوں یا وہ کوئی پاگل اور عقل و فکر سے عاری ہو کر مرفوع القلم ہو گا۔ میں اس حساس مسئلہ کی طرف اشارہ کر رہا ہوں جس میں نام تو اسلام کا استعمال کیا گیا لیکن حقیقت ایسی ہر گز نہیں تھی اندریں وجہ اسلام کو اس کا نقصان پہنچا اور اس کو کمزور سے کمزور تر کیا گیا اور غیر مسلموں نے اُس سے بے شمار فوائد حاصل کیے اور ان کی قوت بھی بڑھ گئی اس لیے کہ اسلام جتنا کمزور ہو گا غیر مسلم اتنا طاقت ور ہو سکے گا۔

مرزا جی کا کفر اور اسلام کا اعلان

مرزا غلام احمد قادیانی نے جب سے نبوت کا دعویٰ کیا خواہ وہ جیسی کیسی بھی تھی اور اس کو جتنے بھی لباس اُس نے یا اُس کے بیٹے مرزا بشیر الدین نے پہنائے وہ چُھپ نہ سکی اور روزِ اول ہی سے تمام علمائے اکرام خواہ وہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتے تھے اُنہوں نے واضح الفاظ میں اُس کو کافر قرار دیا اور دیتے ہی چلے آ رہے تھے کہ حکومت کو بھی اس کی ضرورت محسوس ہوئی اور پوری اسلامی دنیا سے حکومت پر اس کا دباؤ پڑا جس کے نتیجہ میں حکومت کو بھی اُس کو اور اُس کی پوری جماعت کو کافر قرار دینا پڑا۔ اس سلسلہ میں جو کچھ ہوا سب سوچی سمجھی اسکیم کے تحت ہوا جس کا نتیجہ اُس وقت سے ہمارے سامنے ہے کہ مرزائی گروہ کو ’’احمدی‘‘ نام سے غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔ علمائے اکرام جو پھولے نہیں سماتے کہ ہم نے یہ کمال کر دکھایا اُن کو اُس وقت اس بات کا خیال نہ آیا کہ ہم کیا کر رہے ہیں اُن کو کہنا تو یہ چاہیے تھا کہ مرزائیوں یا قادیانیوں کو اس بات کا حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے آپ کو ’’احمدی‘‘ کہلوائیں۔ یہ لوگ اپنے آپ کو چاہے جو کچھ بھی کہلوانا چاہتے ہیں اس کو خود واضح کریں لیکن ’’احمدی‘‘ نہیں کہلوا سکتے اس لیے کہ ہر محمدی، احمدی ہے اور ہر احمدی، محمدی ہے۔ اس لیے قرآنِ کریم نے بتایا ہے کہ نبی اعظم و آخر محمد رسول اللہ ﷺ کی پیدائش سے سینکڑوں سال پہلے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے آپؐ کا نام ’’احمد‘‘ بطور پیش گوئی بتا دیا تھا۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں فرمایا گیا ہے کہ:
وَاِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰۃِ وَمُبَشِّرًا م بِرَسُوْلٍ یَّاتِیْ مِنْ م بَعْدِی اسْمُہٗ اَحْمَدُ ط (۶۱:۶)
’’اور وہ واقعہ یاد کرو جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل! میں اللہ کا رسول ہوں، تمہاری طرف بھیجا گیا ہوں، میں تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں، جو مجھ سے پہلے آئی ہے اور خوشخبری سنانے والا ہوں، ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا اُس کا نام احمد (ﷺ) ہو گا۔‘‘ (۶۱:۶)

قادیانیوں یا مرزائیوں کو ’’احمدی‘‘ کہلوانے کا ہرگز حق نہیں

کس قدر واضح اور کھلی بات ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا ایک ذاتی نام احمد رسول اللہ ﷺ بھی ہے جو رب العزت کا اپنا بتایا ہوا ہے جس کو بطورِ پیش گوئی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے اعلان کروایا گیا ہے گویا اہل کتاب بھی آپؐ کا یہ نام بغیر کسی ابہام کے جانتے، مانتے اور پہنچانتے ہیں اور اس نسبت سے ہر محمدی، احمدی ہے اور ہر احمدی، محمدی ہے۔ کیا علمائے گرامی قدر کو اس قدر واضح اور روشن بات بھی سمجھ میں نہ آئی اور اُنہوں نے حکومت سے باقاعدہ قانوناً ’’احمدی‘‘ غیر مسلم تحریر کروا دیا۔ یہ بات عقلمندی کی ہے یا احمقانہ ہے کیا اس پر غیر مسلم بغلیں نہ بجائیں تو اور کیا کریں؟ کیا علمائے گرامی قدر نے یہ بات تسلیم کر لی ہے جس کے متعلق سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے بطورِ پیش گوئی ’’اسمہ احمد‘‘ کہا ہے اُس سے مراد غلام احمد قادیانی ہے؟ اگر نہیں اور یقیناًنہیں بلکہ تمام مکاتب فکر کے علماء ایسی بات کو کفر تسلیم کریں گے تو پھر اُنہوں نے ’’احمدی‘‘ نام کو کس نسبت سے غیر مسلم کہا ہے وضاحت کریں۔ وہ کیوں خاموش ہیں وہ اب بھی کیوں قانون میں ترمیم کروا کر اس کو حذف نہیں کرواتے اور اپنی اس غلطی پر کیوں مصر ہیں اور باز آنے کے لیے تیار نہیں؟ کیوں اس بات کو چھپاتے ہیں، کیا آپؐ کے مبارک نام احمد رسول اللہ ﷺ کی توہین نہیں؟ اس غلط بات پر کیوں اَڑ گئے ہیں، اعتراف حقیقت کیوں نہیں کرتے۔ میری عوام سے درخواست ہے کہ وہ اپنے اپنے مکتبہ فکر کے علمائے گرامی قدر سے دریافت کریں اور اُن سے یہ حقیقت تسلیم کروائیں کہ انہوں نے ایسا کر کے اسلام کی سبکی کی ہے اور غیر مسلموں کی نظروں میں اسلام کو وہ گزند پہنچائی ہے کہ اتنی گزند خود غیر مسلم مل کر بھی نہیں پہنچا سکے۔ کہ پوری غیر اسلامی دنیا میں مرزائیت و قادیانیت کو جو عزت فراہم کی ہے اتنی عزت وہ خود ایک سو سال تک اپنی نہیں کروا سکے تھے۔ کیا نادان کی دوستی والا معاملہ نہیں؟

میری کوئی حیثیت نہ سہی لیکن میری بات کی

جو بات میں نے تحریر کی ہے یہ نقش بہ آب ہے کیوں؟ اس لیے کہ میری کوئی حیثیت نہیں، میں کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں اور نہ ہی میرا کسی مکاتب فکر سے کوئی خاص تعلق ہے اور عوام کو اشتعال دلوا کر ان سے کسی طرح کا کام لینا میں صحیح نہیں سمجھتا۔ بلاشبہ میں نے قرآنِ کریم کی تفسیر 9 ضخیم جلدوں میں لکھی جو ایک سے زیادہ بار طبع ہو چکی۔ قرآنِ کریم کا لفظی اور بامحاورہ ترجمہ کیا اور طبع کروایا۔ قرآنِ کریم کو ناخواندہ لوگوں کے لیے اردو حروف میں تجوید القرآن کی صورت میں صوتِ قرآنی کو تحریر کیا جو ملک اور بیرونِ ملک طبع ہو رہا ہے۔ علاوہ ازیں تیس عدد سے متجاوز اسلامی تعلیمات کی ترویج کے لیے کتب تحریر کیں جو اپنی اپنی جگہ ایک منفرد حیثیت رکھتی ہیں۔ میرا کثیر لٹریچر دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق میری ویب سائٹ بنام:
Urwa-tul-Wusqa Translation and Tafseer of Quran by Abdul Karim Asari
یا
Write in google: Abdul Kareem Asri
پر دیکھا اور پڑھا جا سکتا ہے۔ اور یہ سب کچھ نہایت خاموشی کے ساتھ چل رہا ہے۔ مذکورہ سلسلہ میں بطور نمونہ ایک مختصر تحریر پیش کر رہا ہوں جو ’’ناموسِ رسالت ﷺ اور قانون توہین رسالت‘‘ نامی کتاب میں جناب محمد اسمٰعیل قریشی صاحب سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے درج کی ہے تاکہ عوام و خواص اس حقیقت کو سمجھ لیں کہ ہمارے نبی کریم محمد رسول اللہ ﷺ کا دوسرا اسم گرامی احمد ﷺ بھی اسی اہمیت کا حامل ہے جس اہمیت کا حامل آپؐ کا اسم گرامی محمد ﷺ ہے۔ چنانچہ تحریر ہے کہ:

اسم احمد (ﷺ) و محمد (ﷺ)

اسم احمد (ﷺ) کے حسن معنوی کا اظہار لفظ و بیان میں ممکن نہیں۔ صرف اس کے صوتی اثرات میں سے قلب و دماغ پر جو کیفیت طاری ہوتی ہے وہ بھی ناقابل بیان ہے۔ اس میں ایک ایسی لذت، شیرنی اور مٹھاس ہے کہ ہونٹوں کا آپس میں مکرر اتصاد ہوتا ہے اور نطق آگے بڑھ کر خود زبان کے بوسے لینے لگتی ہے۔ اس کی ادائیگی کے ساتھ ملکوتی آواز فرد رس گوش بن کر سامعہ نواز ہوتی ہے۔ اس لیے یہ نام ذہن کائنات پر نقش دوام بن کر مرتسم ہو گیا ہے۔
قرآنِ کریم کا آغاز سورہ فاتحہ ’’الحمد‘‘ یعنی حمد و ثنائے رب سے ہوتا ہے اس لیے رب العالمین نے جو اپنی حمد و ثنا کے واسطے ایسی ہستی کو، جو اس کے لائق اور سزاوار تھی ۔ کائنات خلقت میں رحمت اللعالمین بنا کر احمد (ﷺ) اور محمد (ﷺ) کے نام نامی سے مبعوث فرمایا۔
احمد (ﷺ) اسم تفضیل ہے جس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ’’سب سے بڑھ کر حمد و توصیف کرنے والا‘‘۔ اس نام سے آپؐ کی صفت توصیف الٰہی کے کمال کا اظہار مقصود تھا اور آپؐ کے سوا وہ اور کون ہے، جس نے آ کر کائنات ہستی کو ’’حمد الٰہی‘‘ کے لازوال نغموں سے معمور کر دیا اس کے ایک اور معنی بھی ہیں یعنی ’’جو سب سے زیادہ لائق تعریف ہو‘‘۔ اس معنی میں آپؐ کا دوسرا اسم مبارک محمد (ﷺ) بھی اور ان دونوں ناموں سے نہ صرف آپؐ کو قرآنِ کریم میں یاد کیا گیا ہے بلکہ انجیل اور تورات میں بھی اسی نام نامی کے ساتھ آپؐ کا ذکر پاک موجود ہے۔ جس کے بارے میں قرآنِ کریم کی یہ صاف اور صریح شہادت موجود ہے۔
یجدونہ مکتوبا عندھم فی التوراۃ والانجیل) ۷:۱۵۷)
جس کے بارے میں اپنے یہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔‘‘
فرانس کے ممتاز اسکالر مورس بوکائیے اپنی تحقیقی کتاب ’’بائبل، قرآن اور سائنس‘‘ میں ’’پیرا کلیت‘‘ کے بارے میں لکھتے ہیں، انجیل یوحنا کے مطابق جب یسوع مسیح کہتے ہیں ’’اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا‘‘۔
جو کچھ یسوع اس موقع پر کہہ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ بنی نوع کے پاس ایک دوسرا شفاعت کرنے والا بھیجا جائے گا جیسا کہ وہ خود اپنی دنیوی زندگی کے دوران انسانوں کے لیے بارگاہِ خداوندی میں شفاعت کرتے رہے ہیں۔
اس لیے منطق کے اصولوں کے مطابق یوحنا کے پیراکلیت (فارقلیط یا مددگار) میں یسوع کی مانند ایک انسان نظر آتا ہے جو سماعت اور نطق کی وہ صلاحیتیں رکھتا ہے جن کا اظہار یوحنا کے یونانی متن سے ہوتا ہے کہ خداوند بعد میں ایک فرد بشر اس کرۂ ارض پر بھیجے گا جو وہی کردار ادا کرے گا جو یوحنا کے ذریعے ہمیں معلوم ہوا ہے یعنی وہ ایک پیغمبر ہو گا جو خدا کا کلام سنتا ہے اور اس کا پیغام بنی نوع انسان تک پہنچاتا ہے۔

بشارت مسیح علیہ السلام

کائنات ہستی میں جناب مسیح کا نزول احمد مجتبیٰ ﷺ کی د نیا میں آمد کی بشارت تھی جس کا اعلان خود زبان مسیح نے کیا ’’واذ قال عیسی بن مریم یا بنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقا لما بین یدی من التوراۃ ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد۔ (۶۱:۶)
’’اور اس وقت کو یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے کہا ’’اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں اور تصدیق کرتا ہو اس تورات کی جو مجھ سے پہلے آئی ہوئی موجود ہے اور بشارت دیتا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہے۔‘‘
انجیل یوحنا میں اپنے شاگردوں سے خطاب کرتے ہوئے یسوع مسیح نے اہل دنیا سے فرمایا ’’میں نے یہ باتیں تمہارے ساتھ رہ کر تم سے کیں لیکن ’’مددگار‘‘ یعنی روح القدس جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا وہی تمہیں سب باتیں سکھائے گا اور جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے اور وہ سب تمہیں یاد دلائے گا۔‘‘ (یوحنا۱۴:۲۵)
’’مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہیں مگر تم اب ان کو برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ سچائی کی روح آئے گی تو تم کو تمہاری سچائی کی راہ (صراطِ مستقیم) دکھائے گا، اس لیے کہ وہ اپنی طرف سے کچھ نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا۔ وہ میرا جلال ظاہر کرے گا۔‘‘ (یوحنا۱۶:۱۲)
دنیائے اسلام کے تمام محدثین، مفکرین ، علمائے کرام، صوفیائے عظام، مشائخ و عوام سب اس حقیقت کو جانتے، مانتے اور تسلیم کرتے ہیں کہ خود نبی کریم ﷺ نے اپنا نام بہت سے دوسرے ناموں کے ساتھ ’’احمد‘‘ بھی بیان فرمایا اور ’’انا احمد وانا محمد‘‘ ارشاد فرما کر ’’احمد‘‘ کو ’’محمد‘‘ پر اولیت دی ہے۔ اسی نسبت سے آپؐ کی امت کو ’’محمدی‘‘ کہا جاتا ہے اور جس طرح ’’محمدی‘‘ کہا جاتا ہے اسی طرح ’’احمدی‘‘ بھی کہا، پڑھا اور لکھا جاتا آیا ہے لیکن اس وقت صورتِ حال یہ ہو چکی ہے کہ ’’احمدی‘‘ کا لفظ ایک کلمہ کفر سمجھا جاتا ہے، کیوں؟ محض اس لیے کہ مرزائیوں، قادیانیوں کو ’’احمدی‘‘ کے نام سے قانوناً کافر قرار دیا گیا ہے، حالانکہ یہ ایک احمقانہ حرکت ہے جس کا کوئی قانونی جواز نہیں بلکہ ایسا کہنا اور تسلیم کرنا قرآنِ کریم کی سورہ الصف کی آیت نمبر ۶ کا کھلا انکار نظر آتا ہے جسے کوئی مسلمان بھی تسلیم نہیں کر سکتا۔

حرمت رسول ﷺ کا اصل مسئلہ

میں زور دے کر یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ میرے نزدیک فی الحقیقت یہ مسئلہ حرمت رسول (ﷺ) کا مسئلہ ہے اور آپؐ کے پیارے نام ’’احمد‘‘ (ﷺ) کا تقاضا ہے کہ میں اس معاملہ میں اپنی جان بھی قربان کرنا پڑے تو اس سے دریغ نہ کروں۔ میں مانتا ہوں کہ دنیا میں بے شمار ایسے لوگ گزرے ہیں اور موجود بھی ہیں جن کے نام محمد تھے اور ہیں لیکن ’’محمد رسول اللہ‘‘ (ﷺ) دنیا میں ایک اور صرف ایک ہیں اور بالکل اسی طرح دنیا میں بہت سے لوگ ایسے گزرے ہیں جن کے نام احمد تھے اور ہیں لیکن اس کائنات میں احمد رسول اللہ (ﷺ) صرف اور صرف ایک ہیں جس طرح کسی بھی محمد نام کی طرف نسبت دے کر کسی کو ’’محمدی‘‘ نہیں کہا جا سکتا سوائے محمد رسول اللہ (ﷺ) کے بالکل اسی طرح احمد نام کے لوگ دنیا میں بہت تھے اور ہیں لیکن احمد نام کی طرف نسبت دے کر کسی کو ’’احمدی‘‘ نہیں کہا جا سکتا سوائے احمد رسول اللہ (ﷺ) اور نہ اس پاک نام کی طرف نسبت دے کر سوائے مسلمانوں کے کسی اور کو ’’احمدی‘‘ نام سے موسوم کیا جانا چاہیے۔ یہ بات پہلے بیان کی جا چکی ہے کہ ’’احمد‘‘ رسول اللہ (ﷺ) اور ’’محمد‘‘ رسول اللہ (ﷺ) ایک ہی شخصیت دنیا میں آئی ہے جو اور بھی بہت سے دوسرے صفاتی ناموں کے ساتھ ساتھ مذکورہ دونوں ذاتی نام کے ساتھ معروف ہے جس پر قرآنِ کریم کی مذکورہ آیت دلالت کرتی ہے۔

غیر اصلاح شدہ معاشرہ پر قانون اسلام کا نفاذ ممکن نہیں

آج سے نہیں، بندہ ایک مدت سے یہ کہتا اور لکھتا چلا آ رہا ہے کہ جب سے یہ ملک پاکستان معرضِ وجود میں آیا ہے اُس وقت سے لے کر آج تک جتنے قوانین اسلام کے نام سے نافذ کیے گئے ہیں سب کے سب ہنگامی حالت میں بغیر سوچے سمجھے محض جذبات کے اشتعال سے نافذ کیے اور کرائے گئے۔ ملک عزیز میں کوئی ایک بھی قانون اسلامی ماہر قانون اسلامی نے اسلامی جذبہ کے تحت مل بیٹھ کر نہیں بنایا۔ آج تک اس سلسلہ میں جو کچھ ہوا سب اینٹ پھٹکا سے ہوا اور کسی نہ کسی مجبوری کے تحت ہوا۔

پاکستان میں جنگل کا قانون مدنی زندگی کا نہیں

مجھے تسلیم ہے کہ صرف قانون اسلامی ہی کی یہ صورت نہیں علاوہ ازیں بھی اس ملک عزیز میں جنگل ہی کا قانون چل رہا ہے لیکن اس طرح جو کچھ ہوتا آیا ہے؟ ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا اس سے کم از کم اسلام کا نام تو محفوظ ہے یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے ’’جیسا راجہ ویسی پرجا‘‘ کے تحت ہو رہا ہے۔ لیکن وہ قوانین جو اسلام کے نام سے نافذ کیے گئے ہیں جب ان کے نتائج سامنے آتے ہیں تو براہ راست اسلام کے نام پر زد پڑتی ہے جس سے جگ ہنسائی ہوتی ہے کہ یہ اچھا اسلام کا قانون ہے جس سے ہر طرف بدامنی ہی بدامنی پھیلتی چلی جا رہی ہے اور جدھر دیکھو جھوٹ موٹ کے مقدمات قائم کیے جا رہا ہیں اور قتل و فساد کا دور دورہ ہے۔ اسلام جن چیزوں کو روکنے کے لیے آیا ہے وہ تمام چیزیں اسلام کے نام سے کی جا رہی ہیں۔ مسلمان جو کچھ کر رہے ہیں دنیا کے تمام کافروں کے انہوں نے کان کاٹ کر رکھ دیئے ہیں کہ عموماً تمام اسلامی ممالک میں اور خصوصاً پاکستان میں امن و امان نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ خصوصاً جنرل ضیاء الحق کے دور سے لے کر جس کو پاکستان کی اکثریت امیر المومنین کا خطاب دیتی ہے حالات روز بروز بد سے بدتر اور بد ترین ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اور ہر دن کا نیا سورج ایک نئی قسم کی بداعتدالی پر طلوع ہو رہا ہے۔
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 11-12-11, 12:18 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default حصہ دوم : دوم

آپؐ نے کبھی بھی اپنا ذاتی انتقام ہر گز نہیں لیا

تمام باتوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے صرف ایک بات کی طرف دھیان دیں کہ نبی اعظم و آخر ﷺ جو تمام دنیا کے لوگوں کے لیے رحمت و شفقت کا پیغام لے کر دنیا میں تشریف لائے اور اپنی پوری زندگی میں کسی بھی غالی سے غالی دشمن سے بھی اپنا ذاتی انتقام نہیں لیا جس پر آپؐ کی پوری زندگی روزِ روشن کی طرح دلالت کر رہی ہے اور قرآن و سنت جس پر زندہ و جاوید شہادت دے رہے ہیں اور تاریخ بھی گواہ ہے۔

آپؐ کی زندگی کے تمام واقعات شاہد ہیں کہ نبی اعظم و آخر ﷺ نے کبھی بھی کسی سے انتقام نہیں لیا بجز اس کے کہ کسی نے احکامِ الٰہی کی تفضیح کی ہو۔ قریش نے آپؐ کو گالیاں دیں، مارنے کی دھمکیاں دیں۔ شعب بنوہاشم میں بند کیا، راستوں میں کانٹے بچھائے، جسم اطہر پر نجاستیں ڈالیں، گلے میں پھندا ڈال کر کھینچا، آپؐ کی شان میں گستاخیاں کیں۔ نعوذ باللہ کبھی جادوگر، کبھی پاگل، کبھی شاعر کہا، لیکن آپؐ نے کبھی ان باتوں پر برہمی تک ظاہر نہیں فرمائی۔
ہم جانتے ہیں کہ غریب سے غریب آدمی بھی جب کسی مجمع میں جھٹلایا جاتا ہے تو وہ غصہ سے کانپ اُٹھتا ہے۔ ایک صاحب جنہوں نے نبی اعظم و آخر ﷺ کو ذی الحجہ کے بازار میں اسلام کی دعوت دیتے ہوئے دیکھا تھا، بیان کرتے ہیں کہ آپؐ فرما رہے تھے کہ ’’لوگو! لا الہ الا اللہ کہو تو نجات پاؤ گے‘‘ پیچھے پیچھے ابوجہل تھا، وہ آپؐ پر خاک اُڑا رہا تھا اور کہہ رہا تھا ’’لوگو! اس شخص کی باتیں تم کو اپنے مذہب سے برگشتہ نہ کر دیں۔ یہ تو چاہتا ہے کہ تم کو تمہارے لات و مناۃ اور عزیٰ سب چھوڑوا دے‘‘ بیان کرنے والے کہتے ہیں کہ ’’آپؐ اس حالت میں اس کی طرف مڑ کر دیکھتے بھی نہ تھے۔‘‘

مکی اور مدنی زندگی کا اثر قانون اسلام پر

اس طرح کی باتیں سن، پڑھ اور دیکھ کر بہت لوگ کہہ دیتے ہیں کہ یہ واقعات اُس وقت کے ہیں جب مکہ میں آپؐ کے پاس یعنی اسلام کے پاس طاقت نہ تھی لیکن کوئی نہیں سمجھتا کہ اُس وقت طاقت نہ سہی کیا بعد میں بھی آپؐ کو طاقت حاصل نہ ہوئی، کیا جب اسلام طاقتور ہوا تو اُس وقت یہ سب لوگ مر چکے تھے، جب ایسا نہیں تو پھر آپؐ نے اُن سے کیا انتقام لیا۔ اچھا اس کو بھی چھوڑ دیں جب آپؐ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے اور وہاں اسلام کو بہت حد تک طاقت بھی مل گئی تو اُس وقت بھی مدینہ کے منافقوں نے آپؐ کی مخالفت میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی اور خصوصاً منافقوں کے سردار نے جو کچھ کیا اور کہا، اُس کو آپؐ نے کیا سزا دی؟ جس یہودن نے آپؐ کو کھانے میں زہر دیا اُس کو آپؐ نے کیا سزا دی، جن یہودیوں نے آپؐ کو بٹھا کر آپؐ پر پتھر لڑھکانے کی کوشش کی اُن کے ساتھ آپؐ کس طرح پیش آئے؟ جنہوں نے آپؐ کے متعلق کھلے الفاظ میں کہا لا تنفقوا علی من عند رسول اللہ حتی ینفضوا۔ (۶۳:۶) ’’جو رسول اللہ (ﷺ) کے پاس رہتے ہیں ان پر مت خرچ کرو یہاں تک کہ وہ پریشان حال ہو کر منتشر ہو جائیں۔‘‘ اُن کو آپؐ نے کیا کہا۔ جن لوگوں نے آپؐ کو اور آپؐ کے ساتھیوں کے متعلق کہا کہ یہ لوگ ذلت کے مستحق ہیں۔ عزت ان کے حصہ کی چیز نہیں ہے، اُن کو آپؐ نے کیا سزا دی۔ کیا اُس وقت بھی آپؐ کے پاس یعنی اسلام کے پاس طاقت نہیں تھی؟ جب عبداللہ بن ابی کے حقیقی بیٹے نے آپؐ سے اپنے باپ کی جو منافقوں کا سردار تھا گردن مارنے کی اجازت مانگی تو کیا اُس کو آپؐ نے اجازت دے دی؟ جب عمر فاروق نے ایک سے زیادہ کسی نہ کسی منافق کی گردن مارنے کا کہا تو آپؐ نے کیا ارشاد فرمایا۔ اس طرح کے سینکڑوں سے بھی متجاوز واقعات ہیں جن کے متعلق آپؐ نے کبھی ارشارہ تک بھی نہ فرمایا یہاں تک کہ اللہ رب کریم کی طرف سے اُن کو جواب دیا گیا لیکن آپؐ نے اپنی طرف سے اُن کو معمولی گزند پہنچانے سے بھی منع فرمایا۔ ایک کافر نے کسی ایک غزوہ سے واپسی کے وقت موقع پا کر آپؐ پر تلوار تان لی اور جب آپؐ نے اُس کی طرف نظر بھر کر دیکھا تو وہ کانپ گیا اور اُس کے ہاتھ سے تلوار آپؐ نے کھینچ کر قبضہ میں کر لی تو اُس کے ساتھ آپؐ نے کس طرح پیش آنے کا حکم صادر فرمایا اور زور دار الفاظ سے صحابہ کرام کو ہدایت دی کہ اس پر کوئی شخص ہاتھ نہ اُٹھائے۔

آپؐ نے ذاتی انتقام کا کبھی اشارہ تک نہیں کیا

پوری تاریخ کی ورق گردانی کر لو اور کتب روایات میں سے ایک ایک روایت کی چھان بین کرو تم کو ایک بھی ایسا واقعہ نہیں ملے گا جس میں اس بات کا اشارہ تک بھی موجود ہو کہ آپؐ نے اپنی ذات کے لیے انتقام کا کبھی کسی کو اشارہ تک بھی دیا ہو۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ کہتے ہوئے کیوں شرم محسوس نہ ہوئی کہ مکہ کی زندگی میں جو کچھ برداشت کیا گیا محض طاقت نہ ہونے کے باعث برداشت ہوا۔ حالانکہ طاقت نہ ہونے کے باعث اگر ظلم و ستم برداشت کیا جائے تو اس کو برداشت نہیں بلکہ کمزوری ہی کا نام دیا جاتا ہے کسی نے اس بات پر غور نہیں کیا آپؐ اللہ رب کریم کے فرستادہ ہیں اگر یہ سب کچھ کمزوری کی وجہ سے ہوا تو تسلیم کرنا ہو گا آپؐ کو بھیجنے والا اللہ رب کریم بھی اس طرح کمزور ٹھہرتا ہے کیونکہ جس کے فرستادہ کے ساتھ ظلم و زیادتی کی جائے در اصل وہ براہِ راست بھیجنے والے کے ساتھ ہوتی ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ بھی کمزور ہے؟ ایسی بات کہنا کسی مسلمان کو کیسے زیب دیتا ہے۔ حالانکہ ایسا کہنا اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول ﷺ اور قرآنِ کریم تینوں کی اہانت کا پہلو نکلتا ہے۔ اس لیے کسی بھی مسلمان کو اس طرح کی بات کہنا اور تحریر کرنا زیب نہیں دیتا۔

طاقتور ہونے کے باوجود طاقت کا استعمال نہ کرنا خوبی ہے

ہاں! طاقت آنے کے بعد کسی بھی مقام پر آپؐ نے کوئی بھی اس طرح کا کام کیا ہوتا یا کسی کو اشارہ ہی کیا ہوتا تو اس طرح کہنے کا کوئی جواز ہوتا جب کہ اس طرح کا کوئی اشارہ تک بھی نہیں پایا جاتا اور ہم پورے وثوق اور عزم و جزم سے کہہ سکتے ہیں فی الواقع نہیں پایا جاتا اس لیے ہم اس طرح کی باتوں کو آپؐ کے نام پر زیادتی ہی کہہ سکتے ہیں علاوہ ازیں کچھ نہیں کہہ سکتے۔

جن دوستوں، بزرگوں اور مقتدر شخصیتوں نے بعض واقعات کو آپؐ کی طرف منسوب کر کے لکھا ہے کہ فلاں، فلاں اور فلاں کا قتل محض آپ کی توہین کے باعث کیا گیا اس لیے کہ آپؐ نے ان لوگوں کے قتل کرنے کا حکم دیا ہے ہرگز ہرگز صحیح نہیں ہے۔ ہاں! کسی مسلمان نے اپنی طرف سے اس طرح کا کوئی اقدام کیا تو یہ دوسری بات ہے۔ کیونکہ آپؐ کے متعلق غلط بات سن کر کوئی مسلمان بھی برداشت نہیں کر سکتا یہ ایک فطری بات ہے۔

آپؐ کے متعلق ہرزہ سرائی کوئی بھی مسلمان برداشت نہیں کر سکتا

دیکھیں دین کے معاملہ میں کوئی آدمی مجھے برا بھلا کہے یا گالیاں دے تو میں برداشت کر سکتا ہوں بلکہ مجھے برداشت کرنا چاہیے لیکن اگر وہ میرے ماں، باپ سے بدتمیزی کرے گا تو میں برداشت کروں یہ میرے اختیار میں نہیں اور نہ ہی میں ایسا کر سکتا ہوں پھر آپؐ کا مقام تو میری جان اور میرے ماں باپ سے بہت بلند ہے لہٰذا آپؐ کے متعلق کوئی ہرزہ سرائی کرے گا تو میں جان لڑا دوں گا اور مجھے جان لڑا دینا چاہیے۔ ہاں! اگر میری کسی غلطی کے باعث اُس نے ایسا کیا ہے تو مجھے اپنی غلطی کا ازالہ کرنا ضروری ہو گا، تاکہ آئندہ کوئی شخص اس طرح کا اقدام نہ کر سکے۔

ہمارا دعویٰ ہے کہ جن ایسے واقعات کی نشاندہی کی گئی اُن میں سے ایک واقعہ بھی ایسا نہیں جیسا کہ ان کو ثابت کرنے کی کوشش کی گئی بلکہ ان تمام واقعات کی یا ان میں سے کسی ایک ہی واقعہ کی نسبت آپؐ کی طرف کرنا سراسر زیادتی ہے حالانکہ ان تمام لوگوں نے خود قتل و غارت کرنے، ڈاکہ ڈالنے اور ایک سے زیادہ ظلم و ستم کے واقعات رونما کرنے کی سعی و کوشش کی تھی اور ان ہی کاموں کی پاداش میں ان کو قتل کیا گیا۔ اگر کوئی حکمران کسی فساد فی الارض کے مرتکب کو قتل کی سزا سنائے اور اُسے قتل کر دیا جائے تو کیا یہ اُس حکمران کی خاطر قتل ہو گا یا کسی حکمران کے ذمہ لگانا کہ یہ قتل محض اُس کی ذات کی اہانت میں کیا گیا ہے، ایسا کہنا صحیح ہو گا؟ ہر گز نہیں آپؐ کے متعلق اس طرح کی بات کہنا یا تحریر کرنا آپؐ کے سفید لباس پر داغ لگانے کے مترادف ہے۔ آپؐ صبر و تحمل کے وہ پہاڑ تھے جس کی کوئی اتھاہ نہیں اور نہ کوئی اس کی چوٹی تک پہنچ سکتا ہے۔

مسلمان آپؐ کے مناقب کو مثالب نہ بنائیں

مذکورہ قسم کے واقعات کو برداشت کرتے ہوئے کسی طرح کا اقدام نہ کرنا آپؐ کے مناقبات و کمالات سے ہے مثالبات سے نہیں۔ بلاشبہ ہم ایسے واقعات کو سن کر بھی برداشت کی ہمت نہیں رکھتے لیکن ہم میں سے آخر کون ہے، جو آپؐ کی مثل ہو سکتا ہے؟ مخلوق زمین بھی ہے اور آسمان بھی لیکن ان دونوں مخلوق میں کوئی نسبت؟ ہم کو کھانے سے اتنی طاقت میسر نہیں آتی جتنی آپؐ کو کھلا کر میسر آتی ہے؟ پھر ہم اپنے اوپر آپؐ کا خیال کیسے کر سکتے ہیں۔

مسلمانوں کا عمل اسلام کی تضحیک کا باعث بن رہا ہے


بات ہو رہی تھی اسلامی قوانین کی کہ ہم مسلمان ان کی کیسے تضحیک کر رہے ہیں جس کے باعث اسلام بدنام ہو رہا ہے اور مجھے معلوم ہے کہ اس طرح کی بات کہنا اس وقت کتنا مشکل ہے، کتنا ہی مشکل ہو کیا ہم صحیح بات کہنے کی بھی ہمت نہ رکھیں، مسلمان ہونا تو دور کی بات ہے کیا ہم انسان کہلانے کے بھی حقدار ہو سکتے ہیں؟ حق بات یہ ہے کہ جن باتوں کو ہم ’’توہین رسالت‘‘ کے نام سے منسوب کرتے ہیں وہ تمام کی تمام باتیں قرآنِ کریم کی زبان میں ’’فساد فی الارض‘‘ میں آتی ہیں اور ان سب کو اسی عنوان کے ضمن میں بیان کرنا چاہیے تاکہ ہم حساسیت سے نکل کر اصل حقائق کی طرف آئیں اور اس قانون اسلامی کے سخت سخت سزائیں جو اسلام میں دی گئی ہیں ان کا انعقاد ہو سکے اور ان کے نفاذ سے تمام انسانیت برابری کے طور پر مستفید ہو سکے۔

کیا ’’فساد فی الارض‘‘ اسلام کا نام نہیں؟

میں پوچھتا ہوں کہ کیا ’’فساد فی الارض‘‘ کے نام سے قرآنِ کریم میں واضح الفاظ میں قانون موجود نہیں؟ اس عنوان کے تحت ہماری اسلامی کتب میں کوئی وضاحت نہیں پائی جاتی؟ کیا اس کی سزا کا اعلان قرآنِ کریم نے نہیں کیا؟ اس نام کو ترک کر کے جو نام ہم نے اس کے تجویذ کیے ہیں اور ان کو نافذ کرنے پر سارا زور صرف کر دیا ہے تاکہ عوام کے جذبات مشتعل کر کے ان سے اپنی مرضی کے اقدام کرائے جا سکیں۔ اس کی جگہ وہی نام اختیار کیا جاتا تو خو خود قرآن کریم نے اختیار کیا ہے تو ایسا کرنا بہتر نہیں تھا؟ اگر تھا، ہے اور رہے گا تو اس کو اختیار کرنا چاہیے جو قرآنِ کریم میں ان الفاظ میں موجود ہے:

انما جزاء الذین یحاربون اللہ ورسولہ ویسعون فی الارض فسادا ان یقتلوا او یصلبوا او تقطع ایدیھم وارجلھم من خلاف او ینفوا من الارض ذلک لھم خزء فی الدنیا ولھم فی الاخرۃ عذاب عظیم) ۵:۳۳)
’’بلاشبہ ان لوگوں کی جو اللہ اور اُس کے رسول (ﷺ) سے جنگ کرتے ہیں اور ملک میں خرابی پھیلانے کے لیے دوڑتے پھرتے ہیں، یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی پر چڑھائے جائیں یا ان کے ہاتھ پاؤں مخالف جہتوں سے کاٹ ڈالے جائیں یا انہیں جلا وطن کر دیا جائے یہ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔‘‘ (۵:۳۳)

قرآنِ کریم نے غریبوں کا خون چوسنے، (۲:۲۷۹) مذہبی لوگوں کو برا بھلا کہنے، (۶:۱۰۹) مذہبی اختلاف رکھنے والوں کو گزند پہنچانے (۵:۲۷) اور زیر نظر آیت میں دیئے گئے کاموں میں سے کسی ایک کام کا مرتکب ہونے کو اللہ اور رسول سے جنگ قرار دے کر ان تمام کاموں کو ’’فساد فی الارض‘‘ کا نام دیا ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس وقت پوری دنیا میں سب سے بڑا فساد مذہبی منافرت کا ہے جس نے پوری دنیا کے لوگوں کو عموماً اور مسلم ممالک کو خصوصاً اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے کہ نہ اندرون ملک کسی کو چین نصیب ہے اور نہ بیرونِ مل اور یہی فساد دنیا کے تمام فسادات کی اصل وجہ نظر آ رہی ہے کیونکہ اس وقت پوری دنیا ایک گھر کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ میرے گھر میں ایک واقعہ رونما ہوتا ہے جس گھر میں میں رہ رہا ہوں، صرف میرا کمرہ الگ ہے لیکن میرے اس گھر کی خبر مجھے کراچی سے دی جا رہی ہے یا کسی بھی بیرون ملک سے دی جا رہی ہے۔ مذہبی منافرت کا کوئی ایک واقعہ امریکہ یا کسی بھی دیارِ غیر میں رونما ہوا ہے اور اس کے معاً دس منٹ بعد پاکستان میں بھگدر مچ گیا ہے، بازاروں میں آگ لگ گئی ہے، گاڑیاں جلائی جا رہی ہیں، مار دھاڑ اور قتل و غارت کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ عبادت گاہوں میں دھماکے شروع ہو گئے ہیں اور پورے ملک کا نہیں بلکہ کئی ایک ممالک کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے اور کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے اور جب سب کچھ تباہ و برباد ہو جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ کسی ’’پوپ‘‘ نے یہ بیان دیا ہے کسی نے فلاں ’’مذہبی پیشوا‘‘ کے نام کی بے حرمتی کی ہے۔ ان تمام واقعات میں سے جو کچھ بھی ہوا ہے اس کو ’’فساد فی الارض‘‘ کا نام نہ دیا جائے تو اور کیا کہا جائے؟ جب کہ ایسے واقعات کو خود قرآنِ کریم نے یہ نام دیا ہے۔ زیر نظر آیت کو ہماری تفسیر القرآن العروۃ الوثقیٰ سے دیکھیں وہاں مکمل وضاحت مل جائے گی۔

قرآنِ کریم نے فتنہ و فساد کا نام ’’فساد فی الارض‘‘ رکھا ہے


قرآنِ کریم میں جہاں بھی فتنہ اور فساد کے الفاظ آئے ہیں ان مقامات کو بغور دیکھیں تو وہاں ہر جگہ اسی طرح کا جھگڑا اور مناقشہ آپ پائیں گے جس کا تعلق انسان کو دکھ، مصیبت اور پریشانی کے سامنا سے ہو گا جس کے باعث اس کی دنیوی زندگی خستہ حال اور خراب ہو گی جیساکہ فی الوقت پاکستانی لوگوں کی اکثریت کا حال ہے خواہ وہ دیکھنے میں کتنے ہی خوشحال نظر آئیں۔ حقیقت میں پریشان ہیں، یہاں تک اس ملک عزیز کے حکمرانوں کو چین نصیب نہیں بلکہ اُن کا اوڑھنا، بچھونا سب کچھ خطرہ کی زد میں ہے۔ ہاں! یہ تسلیم ہے کہ وہ تو چین میں رہنا پسند ہی نہیں کرتے اور یہ بات بھی ظاہر ہے کہ جو خود بے چین ہو وہ دوسروں کو چین میں کیسے رہنے دے گا؟ اس وقت پاکستان اور آرام و سکون دو متضاد چیزیں نظر آ رہی ہیں جو سب کی آنکھوں کے سامنے ہیں۔

ہمیں قرآنِ کریم کی ہدایت اول کا احساس کب ہو گا؟

اس جگہ بات ہو رہی ہے ایمان والوں کے پہلے خطاب کی کہ اس خطاب کے اندر کیا حکمت ہے، ایمان والوں کو مخاطب فرما کر اللہ رب کریم نے پہلی ہدایت یہ دی ہے کہ کوئی ایسا کلمہ بھی زبان سے مت بولو جو دوسروں کے لیے ابہام کا باعث بنے، تم اپنی طرف سے پہل کرتے ہوئے ایسی بات کرنا بھی ترک کر دو جس کو کوئی غلط معنی پہنا کر انبیاء کرام کو عموماً اور نبی اعظم و آخر ﷺ کو خصوصاً کسی طرح کا معمولی گزند بھی پہنچا سکے۔ گویا اس طرح کی ہدایت اور احتیاط سکھائی جیسے کہا جاتا ہے کہ ؂

مگس کو باغ میں جانے نہ دیجیو
کہ ناحق خون پروانے کا ہو گا

افسوس! کہ ہم نے اس پہلی ہدایت اور احتیاط کا ذرا برابر بھی احساس نہ کیا اور انبیائے کرام کے واقعات کو عموماً اور نبی اعظم و آخر ﷺ کی زندگی کے واقعات کو خصوصاً لوگوں کے سامنے اس انداز سے پیش کیا کہ غیر تو غیر اپنوں کو بھی سن، پڑھ اور دیکھ کر شرم محسوس ہونے لگتی ہے کہ ہمارے ہاں یہ کیا کچھ تحریر ہو گیا ہے، کیوں ہو گیا ہے اور کیسے تحریر ہو گیا ہے؟ تفصیلات کا یہ مقام نہیں کہ تمام انبیاء کرام کے واقعات کا تفحص پیش کیا جائے یا صرف اور صرف نبی کریم، خاتم النبیین ﷺ کی سوانح کے متعلق جو کچھ ہماری کتب میں بیان کیا گیا ہے سب کی وضاحت تو نہ سہی کم از کم نشاندہی کی جائے، اس جگہ چند ایک باتیں وہ بھی نہایت اختصار کے ساتھ عرض کی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے کہ جذبات کی شدت سے نکل کر ہم عقل و فکر سے کام لے کر اپنی اصلاح کے لیے کوئی قدم اُٹھا سکیں تاکہ غیروں کا منہ بھی بند ہو جائے۔

خاکم بدہن کہ ہم ایسی بات کہیں کہ آپؐ کو شروع الہام میں شک ہوا


ہماری روایات و قصص کی کتابوں میں آپؐ کے واقعات نہایت اختصار کے ساتھ بیان کرنے کے باعث ایسے فقرات و جملے آ گئے ہیں کہ جن کو اصل عبارات سے اُٹھا کر بیان کیا جاتا ہے تو اُن کا مطلب و مفہوم واضح نہیں ہوتا پھر شارحین نے ان کی تشریح کرتے وقت اپنی طرف سے ایسی ایسی وضاحت کی ہے جس نے بہت سے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ ایسی باتیں چونکہ امہات الکتب میں تحریر ہو چکی ہیں اس لیے اپنوں نے شارحین کے احترام کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ایسے بیانات سے چشم پوشی اختیار کی اور غیروں نے ان کی چشم پوشی سے غلط فائدہ اُٹھاتے ہوئے ان کو ایسا لغو اور حساس لباس پہنانے کی کوشش کی جسے دیکھ، سن اورپڑھ کر یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ غیروں کی شرارت کا نتیجہ ہے ہم برداشت نہیں کر سکتے اور جذبات میں آ کر اپنا سب کچھ برباد کر لیتے ہیں جس سے ہماری جگ ہنسائی ہوتی ہے۔ مثلاً:

ہم کو لوگوں کی باتوں میں نہیں آنا چاہیے

’’جب آپ پر فرشتہ جبریل ؑ ظاہر ہوا تو آپؐ نے فی الفور یقین نہ کیا کہ یہ خدا کی طرف سے ہے۔‘‘ ایسی بات کتاب اللہ اور قول رسول اللہ میں کہیں موجود نہیں، ہم اصل الفاظ اور ترجمہ کی بحث میں الجھنا نہیں چاہتے بلکہ صاف لفظوں میں عرض کرتے ہیں کہ آپؐ ایسی کسی بھی حالت سے دوچار نہیں ہوئے جس سے یہ تصور قائم ہو کہ آپؐ کو کسی طرح کا ذرا بھی شک و شبہ گزرا ہو، ہرگز نہیں بلکہ آپؐ اپنے فطری شوق کے باعث ایک عرصہ تک غور و فکر کرتے رہے اور اس غور و فکر کے لیے چونکہ تنہائی ضروری تھی اس لیے آپؐ نے ایک جگہ کا انتخاب فرمایا جہاں کسی دوسرے کا گزر آسان نہ ہو اور وہ مقام وہی ہے جس کو ’’غارِ حرا‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جو شخص ایک عرصہ تک جو دِنوں میں نہیں بلکہ مہینوں میں شمار کیا جائے دنیا جہاں سے الگ تھلگ ہو کر اپنی مرضی اور اپنی خوشی سے جائے اُس پر ایک عرصہ گزرنے کے بعد جب مطلوب حاصل ہو جائے تو خوف زدہ ہو جائے کہ میں نے یہ کیا دیکھا ہے؟ کوئی صاحب عقل اس بات کو قبول کر سکتا ہے؟ اگر نہیں اور یقیناًنہیں آپؐ صاحب حال ہیں آپؐ کے متعلق اس طرح کی بات کہنا کہاں تک صحیح ہو سکتا ہے؟

آپؐ کے اس شوق کا ذکر قرآنِ کریم میں


آپؐ کے جس شوق کے متعلق قرآنِ کریم پکار پکار کر کہتا ہے کہ وَوَجَدَکَ ضَالًّا فَھَدٰیo ’’ہم نے آپؐ کو متلاشی پایا تو جس چیز کی آپؐ کو تلاش تھی ہم نے آپؐ کو عطا کر دی‘‘۔ کیا آپؐ اس علحدگی میں خوف و حزن کی تلاش میں جاتے تھے؟ ہرگز نہیں، تو ہم اس کا تصور کیسے کر سکتے ہیں کہ آپؐ نے جب اپنی تلاش کو حاصل کر لیا تو آپؐ خوفزدہ ہو گئے اور شک و شبہ میں مبتلا ہو گئے۔

’’آپؐ کانپ گئے‘‘ ہاں! کانپ گئے کسی ڈر اور خوف کے باعث نہیں بلکہ خوشی اور مسرت کے باعث، اپنی تلاش کردہ چیز کو مل جانے کے باعث، اُس گراں قدر بہادرانہ اُٹھائے جانے والے بوجھ کے باعث جس کی طاقت پہاڑوں، آسمانوں اور زمین کو بھی نہ تھی۔ اُس انعام کے باعث جو صرف اور صرف آپؐ ہی کے حصہ کے لیے رکھا گیا تھا اور اُس کا کوئی دوسرا مستحق نہ ہو سکا۔

یہ منظر کیسا منظر تھا۔ سبحان اللہ!


یہ اچانک یکبارگی دکھائی دینے والی چیز جس کو جی چاہتا تھا کہ وہ سامنے ہی رہے اور جو منظر دیکھا ہے وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو لیکن وہ آپؐ کے شوق کو بڑھانے کے لیے اوجھل ہو گیا کچھ عرصہ اس فکری شوق کو تیز سے تیز تر اور تیز ترین کرنے کے لیے جب ظاہری نظروں سے غائب ہوا تو آپؐ اس شوق میں بار بار اس مقام کی طرف اور اُس مقام کے اطراف و جوانب میں اُترنے چڑھنے لگے جو ایک فطری چیز تھی تاکہ آپؐ کے اس شوق کو اس کی آخری منزل تک پہنچایا جا سکے اور وہ تمام پردے سامنے سے ہٹا دیئے جائیں اور صورت حال مکمل طور پر دل و دماغ میں ایسی جگہ بنا لے کہ دوبارہ جدائی کا احساس ختم ہو جائے اور یقیناًایسا ہی ہوا کہ اس بات کا اعلان کر دیا گیا : وَمَارَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی۔ (۸:۱۷)

یہاں خطیب بھی منفرد ہے اور خطاب بھی


یہ واقعات جن سے آپؐ کا گذر ہوا ایسے واقعات نہیں جن سے دنیا کے دوسرے لوگ گزرتے ہیں بلکہ یہ واقعات وہ واقعات ہیں جو صرف اور صرف آپؐ کے لیے مخصوص تھے۔
بلاشبہ انبیاء و رسل آپؐ کے سوا بھی بہت گزرے ہیں لیکن کون ہے جو پوری کائنات کے لیے نبی و رسول اور رحمۃ اللعالمین بنا کربھیجا گیا ہو۔ جتنا مقام آپؐ کا بلند ہے اتنے ہی حالات بھی منفرد ہیں جن کی وضاحت الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں اور کوئی ایسا صاحب حال بھی نہیں جو ان کی حقیقت و کہنہ بتا سکے اور آپؐ نے جو کچھ بتایا ظاہر ہے کہ وہ وہی ہے جو ہمارے ذہن و دماغ میں بھی آ سکے کیونکہ آپؐ وہ بیان کرنے والے نہیں جو سامع کی سمجھ سے بالا تر بولیں جیسا کہ ہم اکثر بولتے ہیں اور جو محض ہماری سمجھ کے مطابق ہوتا ہے اور سامع کا خیال ہم کو مستحضر ہی نہیں رہتا اور تمام لوگوں کی سمجھ کا معیار یکساں نہیں ہو سکتا۔

ہم اور ہمارا حساس عنوان

اس ایک ہی عنوان کے تحت اتنا لکھا جا چکا ہے کہ اس کا احصاء ممکن نہیں پھر جو آیا ہے اُس نے اپنے خیالات میں ندرت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور ان نادرات نے اغیار کے دلوں میں ایسے ایسے خیالات پیدا کر دیئے ہیں کہ اس پر ’’پرَ، پرکوا اور کوے پر ڈار‘‘ کا محاورہ صادق آتا ہے۔ ہم اور ہمارے سادہ دل عوام جب اس ’’ڈار‘‘ کو دیکھتے اور سنتے ہیں تو فطرتاً قابو سے باہر ہو جاتے ہیں اور یہ ’’ڈار‘‘ بنانے والے ان کی اپنی اپنی ضروریات اور اپنے اپنے مقاصد کے پیش نظر مزید بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ امن غارت ہو اور اس شور و غوغا میں اُن کا مقصد حل ہو جائے۔ وہ اپنے ’’پَر‘‘ کو محو کرنے کی کبھی کوشش نہیں کرتے جس نے اس ’’ڈار‘‘ کو جنم دیا ہے۔ اس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ قرآنِ کریم کی مذکورہ آیت کی روشنی میں ہمیں اپنے ’’پَر‘‘ ختم کرنا چاہیے تاکہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔

ہم نے اپنی تفسیر بنام عروۃ الوثقیٰ میں ایک سے زیادہ مقامات پر ایسے عنوانات کی وضاحت کر دی ہے کسی صاحب کو مزید وضاحت کی ضرورت ہو تو قرآنِ کریم کی اس تفسیر کی طرف مراجعت کر سکتا ہے اور اس جگہ پر بھی بندہ نے اشارات کر دیئے ہیں جن سے قارئین کرام اپنی اپنی سمجھ کے مطابق فائدہ حاصل کر سکتے ہیں اور ہمارے خواص کو اتنی فرصت ہی نہیں کہ وہ ایسی باتوں کی طرف دھیان دے سکیں ان کے کرنے کا کام صرف ایک ہے جس کو اشتعال کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور وہ پوری دلجمعی کے ساتھ وہ اپنا یہ کام سر انجام دے رہے ہیں۔

ناموس اکبر کی دوبارہ ملاقات کا شوق

اس ناموس اکبر کے دیکھنے اور اس کے بھینچنے سے جو انشراح قلب آپؐ کو پیدا ہوا اُس کا نقشہ کھینچنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ جب اس ایک ہی ملاقات میں ’’علم الانسان ما لم یعلم‘‘ کے تحت جو کچھ آپؐ نہیں جانتے تھے جان گئے، گویا یوں کہیں کہ پڑھنا نہیں جانتے تھے، جان گئے، لکھنا نہیں جانتے تھے، جان گئے، جو جو باتیں محض سیکھنے ہی سے سیکھی جاتی ہیں وہ سب سیکھ گئے اور یہ جو کچھ ہوا اٰناً فاناً ہوا اور اس ہونے کے بعد جس کے باعث ہوا وہ غائب ہو گیا پھر اُس کے غائب ہونے کے بعد اُس کی تلاش میں فطرتاً آپؐ وہیں پہنچے جہاں اُس سے ملاقات ہوئی تھی، اس شوق میں بار بار آتے جاتے رہے لیکن اس آنے جانے کے ذکر سے بعض حقیقت حال سے ناواقفوں نے آپؐ کی وارفتگی کا ذکر اس انداز میں کر دیا کہ گویا ’’بار بار آپؐ پہاڑ سے گر کر مرنے کا اقدام کرتے رہے‘‘ حالانکہ اس طرح تلاشِ شوق کا بیان کسی حال میں بھی مناسب نہ تھا اور نہ ہی کوئی صاحب عقل و فکر ایسی بات کہہ سکتا ہے لیکن جب کہا گیا اور تحریر میں آ گیا تو اب یہ کہہ دینے میں کہ اس طرح کی کوئی بات آپؐ نے نہیں فرمائی اور نہ ہی آپؐ سے کسی ایسی بات کا صدور ممکن تھا جس نے بھی کہا اور جہاں بھی کہا اور جیسے بھی کہا محض انسانی چوک سے کہا جو اکثر انسانی عواراضات کے باعث ہو جاتی ہے یعنی ایسا بیان کرنے والا جب آپؐ کی وارفتگی کو بیان کرنے لگا تو خود وارفتہ ہو گیا جب ان دونوں وارفتگیوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

حاشیہ نشین اور ہم عوام اہل اسلام

ازیں بعد حاشیہ نشینوں کا دور آیا جن کے اندر مخالفت کی آگ بھی جلتی تھی کیونکہ ان کا تعلق قوم غیر سے تھا چاہے وہ تحقیق کے ورطہ پر مشہور و معروف ہوئے انہوں نے آپؐ کے مذکورہ ’’پہاڑ سے گرنے کو‘‘ ’’خود کشی کرنے سے‘‘ تعبیر کیا اور اس طرح آپؐ کی منقبت کو مثالبت میں بدل دیا گیا دوسرے لفظوں میں ’’پَر‘‘ کو ’’ڈار‘‘ میں تبدیل کر دیا جو ایک ڈرا دینے والی چیز ہوتی ہے جو عوام کو مشتعل کر دیتی ہے اور پھر یہ اشتعال بھی ان ہی لوگوں نے دلایا جنہوں نے ’’پَر‘‘ کا ذکر کیا تھا بعض علمائے کرام نے۔ اگر وہ اپنے ’’پَر‘‘ پر نظر ثانی کرتے تو سارا معاملہ سلجھ جاتا لیکن یہ ’’پَر‘‘ ہمارے علمائے کرام کا ہے اور ’’ڈار‘‘ مستشرقین کا اور عوام نہ ’’پَر‘‘ سے واقف ہیں نہ ’’ڈار‘‘ سے۔ ہم یعنی عوام اس اشتعال کو اشتعال کے نام سے نہیں بلکہ ’’اسلام‘‘ کے نام سے جانتے ہیں اور ’’اسلام‘‘ پر جان قربان کرنا ہمارا فرض منصبی ہے جو ہم سر انجام دے رہے ہیں اور جب تک ہم مسلمان ہیں دیتے رہیں گے۔ ہاں! یہ بات بھی اپنی جگہ صحیح ہے کہ جان قربان کرنے سے پہلے ہم دوسروں کی جان لینے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں جس میں اکثر ہم بحمداللہ کامیاب بھی ہوتے ہیں کیونکہ جان قربان کرنے کا مطلب جان دینا ہی نہیں ہوتا بلکہ جان لینا بھی ہوتا ہے۔ ہمارے ’’پَر‘‘ کو جو ’’ڈار‘‘ بناتا ہے اُس کا انجام یہی ہوتا ہے اور یہی ہونا چاہیے خواہ جان لینے سے ہو یا دینے سے۔ ہمیں صرف اپنے علمائے کرام کے اشارہ کی ضرورت ہوتی ہے کہ صرف اشارہ کر دیں کہ اس نے ’’ڈار‘‘ بنایا ہے۔

جذبات کو جس طرف کوئی موڑنا چاہتا ہے وہ مڑ جاتے ہیں

جذبات کا ایک اپنا مقام ہے لیکن اگر کسی بھی مسلمان سے یہ بات کہی جائے کہ وہ اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کو اپنے الہام میں کسی طرح کا شک ہوایا آپؐ خوف زدہ ہو کر کانپنے لگے، اس کا اثر آپؐ پر اس قدر زیادہ ہوا کہ اپنی جان کو ہلاک کرنے کا سوچنے لگے تو وہ یقیناًاس بات کی نفی کرے گا اور سنتے ہی برملا بول اُٹھے گا کہ اس طرح کی بات کہنا اور کرنا سخت غلط ہے جس کا کوئی جواز نہیں اور نہ ہی ایسی بات کہی یا سوچی جا سکتی ہے۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر وہ یہاں تک بھی کہہ دے گا کہ جس نے ایسی بات کہی ہے وہ مسلمان نہیں ہو سکتا۔ میں نے جو کچھ کہا ہے وہ ایک محتاط انداز سے کہا ہے اگر اس احتیاط سے کام نہ لیا جائے تو وہ اس سے بڑھ کر اور بھی بہت کچھ کہہ سکتا ہے۔

بالکل یہی بات جب وہ کسی حضرت العلام سے عربی عبارت کے ساتھ ساتھ ترجمہ کی چاشنی لگا کر زملونی، زملونی کے الفاظ کو ایک خاص لب و لہجہ کے ساتھ پیش کرے گا اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی تسلی اور ورقہ بن نوفل کی یقین دہانی کے ساتھ جھوم جھوم کر ہاتھوں اور سر کے بل بوتے کہے گا تو تمام سامعین تصدیق کرتے ہوئے ’’سبحان اللہ‘‘ کے کلمہ کو زور دار آواز سے اُس کی تصدیق کریں گے۔ اس سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ عوام کے مذہبی جذبات مکمل طور پر مذہبی راہنماؤں کے قبضہ میں ہیں اور وہ جس طرح کا کام اُن سے لینا چاہتے ہیں لے لیتے ہیں لہٰذا قوم کی اصلاح کا سارا دارومدار اس ایک ہی طبقہ پر ہے اگر ان کی اصلاح ہو جائے تو قوم کی اصلاح ممکن ہے ورنہ یہی کچھ ہوتا رہے گا جو اس سرزمین پاکستان میں ہو رہا ہے۔

لوگوں کی طبقاتی تقسیم جو میں نے سمجھی ہے

بلاشبہ یہ الفاظ کہ اصلاح ممکن نظر نہیں آتی۔ مایوس کن ہیں اور مایوسی بذاتہٖ گناہ ہے کیونکہ مایوسی امید کا متضاد ہے اور امید تو انسان کے ساتھ آخری سانس تک رہتی ہے اور رہنی چاہیے۔ میں نے یہ مایوس کن بات اس لیے کہی ہے کہ میرے خیال میں کتاب و سنت کے مطابق تمام لوگوں کو چار طبقات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے جن کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ:

ایک طبقہ انسانوں کا وہ ہے جو نماز، روزہ اور دوسرے تمام مذہبی امور کی پابندی کرنے کے ساتھ صلح پسند بھی ہوتا ہے۔

دوسرا طبقہ انسانوں کا وہ ہے جو نماز، روزہ اور دوسرے تمام مذہبی امور کی پابندی کے ساتھ ساتھ فسادی بھی ہوتا ہے۔ وہ ان ہی مسائل میں الجھا رہتا ہے۔

تیسرا طبقہ انسانوں کا وہ ہے جو نماز، روزہ اور دوسرے تمام مذہبی امور میں کوتاہی کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ وہ صلح پسند ہوتا ہے۔

چوتھا طبقہ انسانوں کا وہ ہے جو نماز، روزہ اور دوسرے تمام مذہبی امور میں کوتاہی کرتا ہے اور فساد میں بھی پیش پیش ہوتاہے۔

لوگوں کی طبقاتی تقسیم کا تجزیہ میری نظر میں


جو میں سمجھا ہوں اُس کے مطابق پہلا طبقہ اللہ کے نیک بندوں کا ہے جو آٹے میں نمک کے برابر ہیں جن کے وجود سے انکار تو نہیں کیا جا سکتا لیکن اس ملک عزیز میں وہ کہیں نظر نہیں آتے معلوم نہیں وہ کن پردوں میں مستور ہیں۔

دوسرا طبقہ وہ ہے جو ہمارے ہاں ’’مُلّا‘‘ کے نام سے معروف ہے کہ نماز و روزہ پر تو وہ زور دیتا ہے لیکن لا یعنی مسائل میں پھنسا ہوا ہے اور لوگوں کو بھی اس میں پھنسا رکھا ہے جس کے باعث لوگ مختلف گروہوں میں تقسیم ہو چکے ہیں اور ہر گروہ دوسرے گروہ کو کافر، فاسق اور اسی طرح کے دوسرے برے ناموں سے یاد کرتا ہے گویا یہ طبقہ فی سبیل اللہ فساد ہے۔

تیسرا طبقہ فطرتاً نیک مزاج لوگوں کا ہے وہ مذہب سے اتنا گہرا لگاؤ نہیں رکھتا لیکن جہاں تک ہو سکے فساد سے بچتا ہے اور دوسروں کو بھی فساد سے بچاتا ہے چاہے تعداد کے لحاظ سے یہ لوگ بھی کم ہیں لیکن ہر بستی میں نہیں تو علاقہ میں موجود ہیں۔

چوتھا طبقہ سیاسی لیڈروں کا ہے وہ حکومت کے اندر ہوں یا باہر اسلام کے ساتھ ان کو حقیقی لگاؤ قطعاً نہیں لیکن اسلام کا نام ضرور استعمال کرتے ہیں ان کی ساری قوتیں انتشار پھیلانے میں صرف ہوتی ہیں تعمیر کے نام پر تخریب کرتے ہیں اور بالکل نہیں مانتے تعداد میں کم ہونے کے باوجود طاقت و قوت میں باقی تینوں طبقوں پر فوقیت رکھتے ہیں۔

مذکورہ چاروں طبقات اور پاکستان

پاکستان کی موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ دوسرے طبقہ کے لوگ اپنی ضرورت کے مطابق چوتھے طبقہ کے لوگوں سے مل گئے ہیں اور اس ملاپ سے چوتھے طبقہ کی طاقت میں مزید اضافہ ہوا ہے اس ملک عزیز میں دوسرے طبقہ کے لوگوں کو چوتھے طبقہ کے لوگوں کی ضرورت ہے اور چوتھے طبقہ کو دوسرے طبقہ کے لوگوں کی، اس ضرورت نے اُن کو باوجود ایک دوسرے سے بعد کے آپس میں ملا رکھا ہے اور جہاں ان دونوں طبقوں کا اجتماع ہو وہاں مایوسی کے سوا کہیں امید کا دور دور بھی گذر نظر نہیں آتا کیونکہ عقل اس سے انکاری ہے۔
تیسرا طبقہ اور پہلا طبقہ کے لوگ اجتماعی طور پر بالکل خاموش ہیں اور انفرادی طور پر بھی انہوں نے محض اپنا وجود موجود رکھا ہوا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ فی الوقت یہی کہا جا سکتا ہے کہ محض اپنی کمزوری کے باعث۔

ہاں! اللہ تعالیٰ کی بے آواز لاٹھی میں یہ طاقت تسلیم ہے کہ وہ چاہے تو اپنی خاص طاقت کے باعث اس مایوسی کو امید میں بدل دے۔ اللہ تعالیٰ سے آپ بھی دُعا کریں میں بھی دُعا کرتا ہوں اور ہم سب مل کر دُعا کرتے ہیں کہ ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔ ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوہاب۔
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 11-12-11, 12:31 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Part C: Tarjama Quran of 88 Verses

Part C: Tarjama Quran of 88 Verses

حصہ سوم: قرآنِ کریم میں مسلمانوں کو ’’ یٰا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ‘‘ کے الفاظ سے تقریباً 88 بار مخاطب کیا گیا ہے

سورہ بقرہ کی آیات جس کا نزول نمبر 87 ہے:

1
’’اے ایمان والو! ’’راعنا‘‘ کا لفظ استعمال نہ کرو بلکہ ’’انظرنا‘‘ کا لفظ بولا کرو، جی لگا کر آپؐ کی بات سنو (یاد رکھو) منکرین حق کو دردناک عذاب ملنے والا ہے۔‘‘
(۲:۱۰۴)

2
’’اے ایمان والو! صبر اور صلوٰۃ کی قوتوں سے سہارا پکڑو، یقین کرو کہ اللہ صبرکرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘
(۲:۱۵۳)

3
’’اے ایمان والو! اگر تم صرف اللہ ہی کی عبادت کرنے والے ہو تو وہ تمام پاکیزہ چیزیں بے کھٹکے کھاؤ جو اللہ نے تمہاری غذا کے لیے مہیا کر دی ہیں اور اس کی نعمتیں کام میں لا کر اُس کی بخششوں کے شکرگزار ہو جاؤ اور اللہ نے جو چیزیں تم پر حرام کر دی ہیں وہ یہ ہیں مردار جانور، حیوانات کا خون، سور کا گوشت اور ایسی سب چیزیں جو اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی کے نام پر (بطورِ تبرک) پکاری جائیں، ہاں! اگر وہ بحالت مجبوری کھا لے تو مجبور آدمی کے لیے گناہ نہیں ہو گا، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بخش دینے والا اور رحمت رکھنے والا ہے۔‘‘
(۲:۱۷۲،۱۷۳)

4
’’اے ایمان والو! جو لوگ قتل کر دیئے جائیں ان کے لیے تمہیں قصاص لینے کا حکم دیا جاتا ہے، اگر آزاد نے قتل کیا ہے تو اُس کے بدلہ میں آزاد قتل کیا جائے گا، اگر غلام قاتل ہے تو وہی غلام قتل کیا جائے گا، عورت نے قتل کیا ہے تو وہی عورت قتل کی جائے گی۔ ہاں! اگر کسی قتل کو مقتول کے بھائی (جائز وارث) سے معافی مل جائے تو مقتول کے وارث کے لیے دوستور کے مطابق مطالبہ ہے اور قاتل کے لیے خوش معاملگی کے ساتھ ادا کر دینا ہے۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لیے اس کی رحمت ہے۔ اب اس کے بعد جو کوئی زیادتی کرے تو وہ اپنے رب کے ہاں دردناک عذاب کا سزاوار ہے۔ اے اربابِ عقل و دانش! اس قصاص کے حکم میں تمہارے لیے زندگی ہے تاکہ تم (مزید) پریشانیوں (برائیوں) سے بچو۔‘‘
(۲:۱۷۸،۱۷۹)

5
’’اے ایمان والو! جس طرح ان لوگوں پر جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں، روزہ فرض کر دیا گیا تھا۔ اسی طرح تم پر بھی روزہ فرض کر دیا گیا ہے۔ تاکہ تم میں پرہیزگاری پیدا ہو۔ یہ روزے چند گنے ہوئے دن ہیں، پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا کوئی سفر درپیش ہو تو اُس کے لیے اجازت ہے کہ دوسرے دنوں میں روزہ رکھ کر گنتی پوری کر لے اور جو لوگ ایسے ہوں کہ ان کیلئے روزہ رکھنا ناقابل برداشت ہو تو ان کے لیے روزہ کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دینا ہے پھر ہاں! اگر کوئی اپنی خوشی سے زیادہ کرے تو وہ اُس کے لیے مزید اجر کا موجب ہو گا، لیکن اگر تم (روزہ کی حقیقت کی) سمجھ بوجھ رکھتے ہو تو اچھی طرح سمجھ لو کہ روزہ رکھنا ہی تمہارے لیے بہتر ہے۔‘‘
(۲:۱۸۳،۱۸۴)

6
’’اے ایمان والو! (اعتقاد و عمل کی) ساری باتوں میں پوری طرح مسلم ہو جاؤ اور (کسی بات میں بھی اسلام کی ہدایت کے خلاف نہ کرو) دیکھو، شیطانی وسوسوں کی پیروی نہ کرو، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔‘‘
(۲:۲۰۸)

7
’’اے ایمان والو! ہم نے جو کچھ تمہیں دے رکھا ہے، اسے راہ حق میں خرچ کرو اس سے پہلے کہ آنے والا دن تمہارے سامنے آ جائے کیونکہ اُس دن نہ تو خرید و فروخت ہو گی اور نہ ہی کسی کی دوستی کام آئے گی اور نہ کسی کی سعی و سفارش سے کام لیا جا سکے گا۔ (یاد رکھو) جو لوگ (اس کے) منکر ہیں وہی در اصل ظالم (مشرک) ہیں۔ ‘‘
(۲:۲۵۴)

8
’’اے ایمان والو! اپنی خیرات کو احسان جتا کر اور لوگوں کو اذیت پہنچا کر برباد نہ کرو جس طرح وہ شخص جو محض لوگوں کو دکھانے کے لیے مال خرچ کرتا ہے اور اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا، ایسے لوگوں کی مثال ایسی ہے جیسے پتھر کی چٹان کہ اس پر مٹی کی تہہ جم گئی ہو اور اُس پر اُس نے بیج بو دیا، جب زور سے بارش برسے تو ساری مٹی معہ بیج بہہ جائے اور ایک صاف چٹان کے سوا کچھ باقی نہ رہے، جو کچھ بھی کمایا تھا وہ رائیگاں کر دیا، اللہ ان لوگوں پر سعادت کی راہ نہیں کھولتاجو کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ ہاں! جو لوگ اپنا مال صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں اور اس بات پر ان کے دل جم چکے ہیں اُن کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اونچی زمین پر اُگایا ہوا باغ ہو کہ اس پر پانی برسے تو پھل پھول پیدا ہو جائیں اور اگر زور سے پانی نہ برسے تو ہلکی بوندیں بھی اُسے شاداب کر دینے کے لیے کافی ہوں اور یاد رکھو کہ تم جو کچھ بھی کرتے ہو وہ اللہ تعالیٰ کی نظر سے پوشیدہ نہیں ہے۔‘‘
(۲:۲۶۴،۲۶۵)

9
’’اے ایمان والو! جو کچھ تم نے کمائی کی ہو اُس سے خرچ کرو، جو کچھ ہم تمہارے لیے زمین میں پیدا کر دیتے ہیں، لیکن چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خیرات کرو تو اچھی، صاف ستھری چیز خیرات کرو، فصل کی پیداوار میں سے کسی چیز کو ردی اور خرب دیکھ کر خیرات نہ کرو، حالانکہ اگر ایسی ہی چیز تمہیں دی جائے تو تم کبھی اُسے خوش دلی سے لینے والے نہیں ہو، مگر ہاں! تم آنکھیں بند کر لو تو یہ دوسری بات ہے، یاد رکھو اللہ رب کریم کی ذات بے نیاز اور ساری ستائشوں کے لائق ہے۔‘‘
(۲:۲۶۷)

10
’’اے ایمان والو! اگر تم اللہ پر سچے دل سے ایمان رکھتے ہو تو اللہ سے ڈرتے رہو اور جس قدر اصل زر سے زائد مال (الربوا) نادار لوگوں کے ذمہ لگا رکھا ہے اُسے چھوڑ دو۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو پھر اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے جنگ کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ اگر تم اپنی روش سے توبہ کرتے ہو تو اپنا اصل زر لے لو (اگر اُن کے پاس موجود ہے) اور زائد مال (الربوا) چھوڑ دو اس طرح نہ تم کسی پر ظلم کرو گے تو تم پر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا، اگر کوئی مقروض تنگ دست ہے تو چاہیے کہ اُسے فراخی حاصل ہونے تک مہلت دے دو، اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو تمہارے لیے سب سے بہتر عمل یہ ہے کہ تم ایسے تنگ دست بھائی کو اپنا ادھار دیا ہوا مال بالکل ہی معاف کر دو یعنی بطور صدقہ و خیرات بخش دو۔ ‘‘
(۲:۲۷۹،۲۸۰)

11
’’اے ایمان والو! جب کبھی ایسا ہو کہ تم خاص میعاد کے لیے اُدھار کے لیے اُدھار لینے دینے لگو تو اُس کو ضرور لکھ لیا کرو اور ضروری ہے کہ تمہارے درمیان ایک لکھنے والا ہو جو پوری دیانتداری کے ساتھ لکھے اور لکھنے والے کو اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ اور ضروری ہے کہ وہ حقیقت حال پوری دیانتداری کے ساتھ لکھے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اُس کو سکھایا ہے۔ جس کے ذمہ دینا ہے وہ مطلب بولتا جائے اور کاتب لکھتا جائے اور ایسا کرتے ہوئے وہ اپنے رب کا خوف دل میں رکھے اور اس میں کسی طرح کی کمی بیشی نہ کرے پھر اگر اُدھار لینے والا ایسا شخص ہو کہ وہ اتنی عقل نہ رکھتا ہو یا ناتواں اور مکمل سمجھ نہ رکھتا ہو یا بول کر لکھانے کی صلاحیت اُس میں موجود نہ ہو تو چاہیے کہ جو اُس کا سرپرست ہے وہ نہایت دیانتداری کے ساتھ مطلب بولتا جائے اور کاتب لکھتا جائے اور اس طرح چاہیے کہ اپنے لوگوں میں سے اس پر دو آدمیوں کو گواہ کر لو، ہاں! اگر دو مرد موجود نہ ہوں تو پھر ایک مرد اور دو عورتیں جنہیں تم گواہ بنانا پسند کرو گواہ بنا لو، اس لیے کہ اگر وقت پر ایک بات کو واضح نہ کر سکی تو دوسری کر دے گی اور ضروری ہے کہ جب گواہ طلب کیے جائیں تو وہ گواہی کے لیے حاضر ہوں اور اسی طرح یہ بھی کہ معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا اس کے لکھنے میں کوتاہی نہ کرو، اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس میں تمہارے لیے انصاف کی بات یہی ہے اور شہادت اچھی طرح قائم رکھنا ہے اور اس بات کا حتی الامکان بندوبست کر دیا ہے کہ اس تحریر میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے، ہاں! اگر نقد لین دین کا کاروبار ہو جس کو تم ہاتھوں ہاتھ لیتے دیتے ہو تو ایسی صورت میں اگر تم لکھا پڑھی نہ کرو تو کوئی مضائقہ نہیں تاہم سودا کرتے ہوئے گواہ ضرور کر لیا کرو اور اس طرح یہ بھی کہ کاتب اور گواہ کو کسی طرح کا نقصان نہ پہنچاؤ، اگر تم نے ایسا کیا تو یہ تمہارے لیے گناہ کی بات ہو گی۔‘‘
(۲:۲۸۲)


سورہ انفال کی آیات جس کا نزول نمبر 88 ہے:

12
’’اے ایمان والو! جب کافروں کے لشکر سے (میدانِ جنگ میں) تمہارا آمنا سامنا ہو جائے تو تم انہیں پیٹھ مت دکھاؤ یعنی وہاں سے بھاگو مت، اور جو کوئی ایسے موقع پر پیٹھ دکھلائے گا تو سمجھ لو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے غضب میں آ گیا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور اس کے پہنچنے کی جگہ کیا ہی بری جگہ ہے، مگر ہاں! جو کوئی لڑائی کی مصلحت سے ہٹ جائے یا اپنے گروہ کے پاس جگہ حاصل کرنی چاہے تو یہ دوسری بات ہے (یعنی یہ بھاگنے کے ضمن میں نہیں آتا)۔ ‘‘
(۸:۱۵)

13
’’اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کرو، اُس سے روگردانی نہ کرو اور تم سن رہے ہو، اور دیکھو ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور واقع یہ تھا کہ وہ سنتے نہ تھے۔ یقیناًاللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین حیوان وہ (انسان) ہیں جو بہرے، گونگے ہو گئے جو کچھ بھی سمجھتے نہیں۔ ‘‘
(۸:۲۱،۲۲)

14
’’اے ایمان والو! اللہ اور اُس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی پکار سنو اور اُس کا جواب دو تاکہ وہ تم کو (روحانی موت سے نکال کر) زندہ کر دے اور اچھی طرح جان لو کہ (بسا اوقات) اللہ (کا قانون) انسان اور اُس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور سمجھ لو کہ تم اُس کے حضور جمع کیے جاؤ گے۔‘‘
(۸:۲۴)

15
’’اے ایمان والو! ایسا نہ کرو کہ اللہ اور اُس کے رسول کے ساتھ خیانت کرو اور نہ یہ کہ آپس کی امانتوں میں خیانت کرو اور تم اس بات سے ناواقف نہیں ہو، اور یاد رکھو تمہارا مال اور تمہاری اولاد ایک آزمائش ہے اور یہ نہ بھولو کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے پاس بڑا اجر ہے۔‘‘
(۸:۲۷،۲۸)

16
’’اے ایمان والو! اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو تو وہ تمہارے لیے امتیاز کرنے والی ایک قوت پیدا کر دے گا اور تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے گا اور بخش دے گا اللہ تو بہت بڑا فضل کرنے والا ہے۔‘‘
(۸:۲۹)

17
’’اے ایمان والو! جب کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو جائے تو لڑائی میں ثابت قدم رہو اور زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کا کہا مانو اور آپس میں جھگڑا مت کرو، ایسا کرو گے تو تمہاری طاقت سست پڑ جائے گی اور ہوا اُکھڑ جائے گی اور تم صبر کرو اللہ تعالیٰ اُن کا ساتھی ہے جو صبر کرنے والے ہیں۔‘‘
(۸:۴۵،۴۶)


سورہ آلِ عمران کی آیات جس کا نزول نمبر 89 ہے:

18
’’اے ایمان والو! اگر تم اہل کتاب میں سے ایک گروہ کی باتوں پر کاربند ہو گئے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ تمہیں راہ حق سے پھیر دیں گے اور تم ایمان کے بعد کفر میں مبتلا ہو جاؤ گے۔ اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم کفر کی راہ اختیار کرو جب کہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں تمہیں سنائی جاتی ہیں اور اس کا رسول تم میں موجود ہے اور یاد رکھو جو شخص مضبوطی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے دین کے ساتھ منسلک ہو جائے تو بلاشبہ اس پر سیدھی راہ کھل گئی۔‘‘
(۳:۱۰۱)

19
’’اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو ایسا ڈرنا جو واقعی ڈرنا ہے اور دیکھو دنیا سے نہ جاؤ مگر اس حالت میں کہ اسلام پر ثابت قدم ہو۔ اور یاد رکھو کہ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو اور گروہ گروہ نہ ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ نے جو تم کو نعمت عطا کی ہے اُس کی یاد سے غافل نہ ہو (وہ وقت یاد کرو) جب تم ایک دوسرے کے دشمن ہو رہے تھے لیکن اُس کے خاص فضل و کرم سے تم سب بھائی بھائی بن گئے، تمہارا حال تو یہ تھا کہ گویا آگ سے بھری ہوئی خندق ہے اور تم اس کے کنارے کھڑے ہو لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس حالت سے نکال لیا۔ اللہ تعالیٰ اس طرح اپنی کارفرمائیوں کی نشانیاں واضح کر دیتا ہے تاکہ تم راہ پا لو۔‘‘
(۳:۱۰۲،۱۰۳)

20
’’اے ایمان والو! ایسا نہ کرو کہ اپنے آدمیوں کے سوا کسی دوسرے کو اپنا (قومی) ہم راز بناؤ، ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ تمہارے خلاف فتنہ انگیزی میں کمی کرنے والے نہیں، جس بات سے تمہیں نقصان پہنچے وہی انہیں اچھی لگتی ہے، ان کی دشمنی تو ان کی باتوں ہی سے ظاہر ہے لیکن جو کچھ ان کے دلوں میں چھپا ہے وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے اگر تم سمجھ بوجھ رکھتے ہو تو ہم نے فہم و بصیرت کی نشانیاں تم پر واضح کر دی ہیں۔ تم ان سے دوستی رکھتے ہو لیکن وہ تمہیں دوست نہیں رکھتے، تم کتاب اللہ پر ایمان رکھنے والے ہو جتنی کتابیں بھی اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہیں اُن کا احترام کرتے ہو، وہ جب کبھی تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم بھی ایمان والے ہیں لیکن جب اکیلے (آپس میں) ہوتے ہیں تو تمہارے خلاف جوش غضب میں انگلیاں کاٹتے ہیں، تم کہہ دو اتنا ہی نہیں بلکہ جوش غضب میں اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالو اور یاد رکھو، اللہ وہ سب کچھ جانتا ہے جو انسان کے سینوں میں پوشیدہ ہے۔‘‘
(۳:۱۱۸،۱۱۹)

21
’’اے ایمان والو! حرام کی کمائی (الربوا) سے اپنے پیٹ مت بھرو جو دگنی، چوگنی ہو جایا کرتی ہے۔ اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ ۔‘‘
(۳:۱۳۰)

22
’’اے ایمان والو! اگر تم ان لوگوں کے کہنے میں آ گئے جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے تو وہ تمہیں راہِ حق سے اُلٹے پاؤں پھیر دیں گے جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تم تباہی و بربادی اور نامرادی میں جا گرو گے۔‘‘
(۳:۱۴۹)

23
’’اے ایمان والو! ان لوگوں کی طرح مت ہو جاؤ جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے اور جن کا شیوہ یہ ہے کہ اُن کے بھائی بند سفر میں گئے ہوں یا لڑائی میں مشغول ہوں اور انہیں موت پیش آ جائے تو کہنے لگتے ہیں، اگر یہ لوگ گھر سے نہ نکلتے اور ہمارے پاس ٹھہرے رہتے تو کاہے کو مرتے یا مارے جاتے؟ تاکہ اللہ اس بات کو ان کے دلوں کے لیے داغِ حسرت بنا دے، حالانکہ زندگی اور موت کا معاملہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اس کی نگاہ سے چھپا نہیں۔‘‘
(۳:۱۵۸)

24
’’اے ایمان والو! صبر کرو، ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرو اور ایک دوسرے کے ساتھ بندھ جاؤ اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، تاکہ تم کامیاب ہو۔‘‘
(۳:۲۰۰)


سورہ احزاب کی آیات جس کا نزول نمبر 09 ہے:

25
’’اے ایمان والو! اپنے اوپر اللہ کا وہ احسان یاد کرو جب تم پر فوجیں چڑھ آئی تھیں پھر ہم نے ان فوجوں پر ایک ہوا بھیجی اور ایسے لشکر جن کو تم نے نہیں دیکھا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس کو دیکھ رہا ہے۔‘‘
(۳۳:۹)

26
’’اے ایمان والو! اللہ کو بہت یاد کرو (یہی ذریعہ نجات ہے) اور صبح و شام اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرتے رہو (غفلت کو قریب نہ آنے دو)۔‘‘
(۳۳:۴۱،۴۲)

27
’’اے ایمان والو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو اور اس سے پہلے کہ تم نے ان سے ازدواجی تعلق پیدا کیا ہو (کسی وجہ سے طلاق کی نوبت آ جائے) ان کو طلاق دے دو تو تمہاری اُن پر کوئی عدت نہیں کہ تم اس کو شمار کرنے لگو، ان کو کچھ دے دلا کر حسن و خوبی سے رخصت کر دو۔‘‘
(۳۳:۴۹)

28
’’اے ایمان والو! تم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو بجز اس کے کہ تم کو کھانے کے لیے مدعو کیا جائے اور نہ ہی کھانا پکنے کے انتظار میں (وہاں) جا کر بیٹھ رہا کرو، لیکن جب تم کو بلایا جائے تو داخل ہو، پھر جب تم کھانا کھا چکو تو اُٹھ کر چلے جایا کرو اور باتوں میں دل لگائے وہاں نہ بیٹھ رہا کرو بلاشبہ اس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو تکلیف پہنچتی ہے، وہ تمہارا لحاظ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو صاف اور سیدھی بات کہنے میں کچھ حجاب نہیں اور جب تم ان سے (آپؐ کے اہل بیت سے) کوئی چیز مانگو تو اُن سے پردہ میں رہ کر مانگو یہ تمہارے لیے اور ان کے لیے پاکیزگی کا طریقہ ہے اور تمہارے لیے یہ جائز نہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے رسول کو کسی طرح کی تکلیف دو اور آپؐ کی وفات کے بعد آپؐ کی بیویوں سے ہر گز نکاح بھی نہ کرو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بہت بڑی (گناہ کی) بات ہے۔‘‘
(۳۳:۵۳)

29
’’اے ایمان والو! تم اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو ستایا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو اُن کی ستائی جانے والی باتوں سے بری کر دیا، اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ بہت بڑا باوقار انسان تھا۔‘‘
(۳۳:۶۹)


سورہ الممتحنہ کی آیات جس کا نزول نمبر 91 ہے:

30
’’اے ایمان والو! میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ، تم ان کو دوستی کا پیغام بھیجتے ہو اور وہ اس دین ہی سے منکر ہیں جو تمہارے پاس آیا ہے (یعنی دین اسلام کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں) وہ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اور تم (مسلمانوں) کو نکالنے کا باعث ہوئے ہیں محض اس بات پر کہ تم اللہ پر جو تمہارا رب ہے ایمان لائے ہو، اگر تم میری راہ میں نکلے ہو (پھر) تم ان کی طرف چپکے چپکے دوستی کے پیغام بھیجتے ہو اور مجھے خوب معلوم ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور تم میں سے جو بھی ایسا کرتا ہے وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا ہے۔‘‘
(۶۰:۱)

31
’’اے ایمان والو! جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو اُن کو جانچ لیا کرو، اللہ تعالیٰ تو اُن کے ایمان کو خوب جانتا ہے پھر اگر تم کو ان کے ایمان کا یقینی ہو جائے تو انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو کہ یہ عورتیں اُن کفار کے لیے حلال نہیں ہیں۔ اور نہ وہ (کفار) ان (مسلمان) عورتوں کے لیے حلال ہیں اور ان (کافروں) کو جو کچھ ان کا (ان عورتوں پر) خرچ ہوا ہے دے دو اور جو کافر عورتیں ہیں تم ان سے تعلقات باقی نہ رکھو، جو تم نے اُن پر خرچ کیا ہے وہ ان (کفار) سے لے لو اور (اس طرح) وہ کافر بھی مانگ لیں جو انہوں نے ان عورتوں پر خرچ کیا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیصلہ ہے وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور اللہ بڑا علم والا، حکمت والا ہے۔‘‘
(۶۰:۱۰)

32
’’اے ایمان والو! ان لوگوں سے دوستی مت کرو، جبن پر اللہ تعالیٰ نے غضب نازل کیا ہے، وہ تو آخرت سے مایوس ہو چکے ہیں ویسے ہی جیسے کافر قبروں والوں سے مایوس و ناامید ہیں۔‘‘
(۶۰:۱۳)

سورہ النساء کی آیات جس کا نزول نمبر ۹۲ہے:

33
’’اے ایمان والو! تمہارے لیے یہ بات جائز نہیں کہ عورتوں کو میراث سمجھ کر ان پر زبردستی قبضہ کر لو اور ایسا بھی نہ کرنا چاہیے کہ جو کچھ انہیں دے چکے ہو اس میں سے کچھ لے نکلنے کے لیے ان پر سختی کرو اور انہیں روک رکھو اِلّا یہ کہ وہ اعلانیہ بدچلنی کی مرتکب ہوں اور دیکھو عورتوں کے ساتھ معاشرت کرنے میں نیکی اور انصاف ملحوظ رکھو پھر اگر ایسا ہو کہ تمہیں وہ ناپسند ہوں، عجب نہیں کہ ایک بات تم ناپسند کرتے ہو اور اس میں اللہ نے تمہارے لیے بہت کچھ بہتری رکھ دی ہو۔‘‘
(۴:۱۹)

34
’’اے ایمان والو! ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق و نادارا نہ کھاؤ ہاں! اس صورت میں کھا سکتے ہو کہ آپس کی رضا مندی سے ملا جلا کاروبار ہو اور دیکھو اپنی جانوں کو (ناجائز طریقہ سے مال کھا کر) ہلاک نہ کرو، اللہ تمہارے لیے رحمت رکھنے والا ہے۔‘‘
(۴:۲۹)

35
’’اے ایمان والو! ایسا نہ کرو کہ تم نشہ میں ہو اور نماز کا ارادہ کرو، نماز کے لیے ضروری ہے کہ تم ایسی حالت میں ہو کہ جو کچھ زبان سے کہو، اسے سمجھو اور جس کسی کو نہانے کی حاجت ہو تو وہ بھی جب تک نہا نہ لے نماز کا قصد نہ کرے، ہاں! راہ چلتا مسافر ہو تو (دوسری بات ہے) اور اگر تم بیمار ہو یا تم میں سے کوئی آدمی قضائے حاجت سے فارغ ہو کر آئے یا ایسا ہو کہ تم نے بیوی کو چھوا ہو اور پانی نہ ملے تو اس صورت میں (ایسے تمام حاجتمندوں کو) چاہیے کہ پاک زمین سے کام لو، یعنی چہرہ اور ہاتھوں کا مسہ کر لو، بلاشبہ اللہ درگزر کرنے والا، بخش دینے والا ہے۔‘‘
(۴:۴۳)

36
’’اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور اللہ تعالیٰ کے رسول (ﷺ) کی اور اُن لوگوں کی بھی اطاعت کرو جو تم میں حکم اور اختیار رکھتے ہوں، پھر اگر ایسا ہو کہ کسی معاملہ میں باہم جھگڑ پڑو تو چاہیے کہ اللہ اور اُس کے رسول کی طرف رجوع کرو اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو، اس میں تمہارے لیے بہتری ہے اور اسی میں انجام کار کی خوبی ہے۔‘‘
(۴:۵۹)

37
’’اے ایمان والو‘ اپنی حفاظت اور تیاری میں لگے رہو پھر مقابلے میں نکلو الگ الگ گروہوں میں ہو کر یا اکٹھے ہو کر اور تم میں کوئی آدمی ایسا بھی ہے کہ وہ ضرور ہی قدم پیچھے ہٹائے، اگر تم میں کوئی مصیبت آ پڑے تو کہہ دے کہ اللہ نے مجھ پر بڑا احسان کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ نہ تھا۔ اور اگر تم پر اللہ کا فضل و کرم ہو (یعنی فتح ہو اور مال بھی مل جائے) تو وہ بے اختیار بول اُٹھے کہ کاش! میں بھی ان لوگوں کے ساتھ ہوتا (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) تم میں اور اس میں کوئی (ایمانی) محبت کا رشتہ تھا ہی نہیں ( اس لیے وہ کہتا ہے کہ ایسا ہوتا تو وہ بھی) بہت کچھ کامیابی حاصل کر لیتا۔‘‘
(۴:۷۱،۷۲)

38
’’اے ایمان والو! جب ایسا ہو کہ تم اللہ کی راہ میں نکلو تو چاہیے کہ اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو اور جو کوئی تمہیں سلام کرے تو یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو، کیا تم دنیا کے سروسامان زندگی کے طلب گار ہو، اگر یہی بات ہے تو بھی اللہ تعالیٰ کے پاس تمہارے لیے بہت سی غنیمتیں موجود ہیں، تمہاری حالت بھی تو قبل ازیں ایسی ہی تھی، پھر اللہ نے تم پر احسان کیا پس ضروری ہے کہ لوگوں کا حال تحقیق کر لیا کرو، تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کی خبر رکھنے والا ہے۔‘‘
(۴:۹۴)

39
’’اے ایمان والو! ایسے ہو جاؤ کہ انصاف پر پوری طرح مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے والے اور اللہ کے لیے سچی گواہی دینے والے ہو، اگر خود تمہیں اپنے خلاف یا اپنے ماں، باپ اور قرابتداروں کے خلاف بھی گواہی دینی پڑے جب بھی نہ جھجکو، خواہ کوئی مال دار ہے یا محتاج ہے تو اللہ تعالیٰ زیادہ اُن پر مہربانی رکھنے والا ہے پس ایسا نہ ہو کہ ہوائے نفس تمہیں انصاف سے باز رکھے اور اگر تم بات کو گھما پھرا کر کہو گے یا گواہی دینے سے پہلوتہی کرو گے تو تم جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اُس کی خبر رکھنے والا ہے۔‘‘
(۴:۱۳۵)

40
’’اے ایمان والو! اللہ پر ایمان لاؤ، اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لاؤ اس کتاب پر ایمان لاؤ جو اُس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر نازل کی ہے۔ نیز ان کتابوں پر جو اس سے پہلے نازل کی گئی تھیں اور دیکھو جس کسی نے اللہ تعالیٰ سے انکار کیا اور اس کے فرشتوں اور اُس کی کتابوں، اور اس کے رسولوں اور آخرت کے دن پر ایمان نہ رکھا تو وہ بھٹک کر سیدھے راستے سے بہت دور جا بڑا۔‘‘
(۴:۱۳۹)

41
’’اے ایمان والو! ایسا نہ کرو کہ مسلمانوں کے سوا کافروں کو اپنا رفیق و مددگار (اور رازداں) بناؤ، کیا تم چاہتے ہو کہ (ایسا کر کے) اللہ کا صریح الزام اپنے اوپر لے لو؟۔ بلاشبہ منافقوں کے لیے یہی ہونا ہے کہ دوزخ کے سب سے نچلے درجہ میں ڈالے جائیں گے۔ اور کسی کو بھی ان کا رفیق و مددگار نہ پاؤ گے۔ ہاں! جن لوگوں نے سچے دل سے توبہ کر لی اور اپنی عملی حالت سنوار لی، اللہ کے دین پر مضبوطی کے ساتھ جم گئے اور اپنے دین میں صرف اور صرف اللہ کے لیے ہو گئے تو وہ ایسے لوگ مومنوں کی صف میں ہوں گے اور قریب ہے کہ اللہ مومنوں کو اجر عطا فرمائے، جو بہت بڑا اجر ہو گا۔‘‘
(۴:۱۴۴ تا۱۴۶)


سورہ الحدید کی آیت جس کا نزول نمبر 94 ہے:

42
’’اے ایمان والو! تم اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، وہ تم کو اپنی خاص رحمت سے دوگنا عطا فرمائے گا اور تمہارے لیے ایک نور پیدا کرے گا تم اس کی روشنی میں چلو گے اور وہ تم کو بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے والا، بہت ہی پیار کرنے والا ہے۔‘‘
(۵۷:۲۸)


سورہ محمد کی آیات جس کا نزول نمبر 95 ہے

43
’’اے ایمان والو! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا۔ اور جو لوگ کافر ہوئے ان کے لیے ٹھوکر کھا کر گرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ اُن کے اعمال برباد کر دے گا۔‘‘
(۴۷:۷،۸)

44
’’اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور اُس کے رسول کی اطاعت کرو اور (اپنی بے وقوفی سے) اپنے اعمال ضائع نہ کرو۔ جن لوگوں نے کفر کیا اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا پھر وہ حالت کفر ہی میں مر گئے تو اللہ ان کو ہر گز نہیں بخشے گا۔ پس تم ہمت نہ ہارو اور صلح کی دعوت نہ دینے لگو، تم ہی غالب رہو گے، اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ ہرگز تمہارے اعمال کو کم نہ کرے گا۔‘‘
(۲۷:۳۳ تا۳۶)


سورہ الحشر کی آیت جس کا نزول نمبر 101 ہے:

45
’’اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص کو چاہیے کہ اچھی طرح دیکھ لے، اُس نے کل (قیامت) کے لیے کیا بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو، بلاشبہ اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ اور ان لوگوں کی طرح مت ہو جاؤ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو بھلا دیا پھر اللہ تعالیٰ نے اُن کو اپنی جانوں سے بے خبر کر دیا ایسے ہی لوگ نافرمان ہوتے ہیں۔‘‘
(۵۹:۱۸،۱۹)


سورہ النور کی آیات جس کا نزول نمبر 102 ہے

46
’’اے ایمان والو! تم شیطان کے قدم بہ قدم نہ چلنے لگو (محتاط رہو اور بے پر کی نہ اُڑایا کرو) اور جو شخص شیطان کی پیروی کرے گا تو وہ اس کو بے حیائی اور بیہودگی ہی کا حکم دے گا اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم میں سے ایک شخص بھی کبھی پاکباز نہ ہو سکتا، لیکن اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے (اپنے خاص فضل سے) پاکباز بنا دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہت ہی سننے والا جاننے والا ہے۔‘‘
(۲۴:۲۱)

47
’’اے ایمان والو! اپنے گھر کے علاوہ دوسرے گھروں میں مت داخل ہو جب تک اجازت نہ لے لو اور گھر والوں کو السلام علیکم نہ کہہ لو، یہ تمہارے حق میں بہتر ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔ پھر جب تم اس گھر میں کسی کو موجود نہ پاؤ تب اس میں بالکل داخل نہ ہو جب تک تم کو اجازت نہ ملے اور اگر تم کو جواب ملے کہ واپس چلے جاؤ تو واپس ہو جاؤ یہی تمہارے لیے بہتر ہے اور بہت پاکیزہ بات ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اُس سے واقف ہے۔‘‘
(۲۴:۲۷،۲۸)

48
’’اے ایمان والو! تمہارے باندی، غلام اور وہ بچے جو سن بلوغ کو نہیں پہنچے اُنہیں تین وقتوں میں تم سے اجازت ضرور لینی چاہیے (تب تمہاری آرام گاہ میں داخل ہوں) فجر کی نماز سے قبل اور دوپہر کو جب تم عادتاً بعض کپڑے اُتار دیتے ہو (قیلولہ کے لیے) اور نمازِ عشاء کے بعد (سونے کے لیے) یہ تین اوقات تمہارے پردے کے ہیں، ان اوقات کے علاوہ تم پر کچھ مضائقہ نہیں کہ وہ تمہارے پاس اور تم ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے رہو، اس طرح اللہ تعالیٰ اپنے احکام کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے اور بڑی حکمت والا ہے۔‘‘
(۲۴:۵۸)


سورہ الحج کی آیت جس کا نزول نمبر 103ہے:

49
’’اے ایمان والو! رکوع میں جھکو اور سجدے میں گرو، اپنے پروردگار کی عبادت کرو اور جو کچھ بھی کرو نیکی کی بات کرو، عجب نہیں کہ تم اس طرح کامیاب و بامراد ہو جاؤ۔‘‘
(۲۲:۷۷)


سورہ المنافقون کی آیات جس کا نزول نمبر 104 ہے

50
’’اے ایمان والو! تم کو تمہارا مال اور تمہاری اولاد اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دے اور جو کوئی ایسا کرے گا تو وہی لوگ خود اپنا آپ نقصان کرنے والے ہیں۔ اور جو کچھ ہم نے تم کو دیا ہے اُس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرو اس سے پہلے پہلے کہ تم کو موت آ پہنچے اور پھر وہ (مرتے وقت) کہنے لگے کہ اے میرے رب! تو مجھے تھوڑی سی مہلت اور دے دے کہ میں کچھ صدقہ و خیرات کر لوں اور نیک لوگوں میں ہو جاؤں۔ اور قانون الٰہی یہ ہے کہ جب کسی کا مقررہ وقت آ جاتا ہے تو اللہ کسی کو قطعاً مہلت نہیں دیتا اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔‘‘
(۶۳:۹ تا۱۱)


سورہ المجادلہ کی آیات جس کا نزول نمبر 105 ہے:

51
’’اے ایمان والو! جب تم ایک دوسرے کے کان میں بات کرو (یعنی سرگوشی کرو) تو گناہ، ظلم اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی نافرمانی کے متعلق بات نہ کرو بلکہ نیکی اور ادب کی بات کان میں کہو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو جس کے پاس تم سب کو جمع ہونا ہے۔ (یاد رکھو) اس طرح کی سرگوشیاں (ایک دوسرے کے کان میں بات کرنا) اکثر شیطان کا کام ہے تاکہ وہ مسلمانوں کو غمگین کرے حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور ایمان والوں کو تو بس اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔‘‘
(۵۸:۹،۱۰)

52
’’اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں کھل کر بیٹھا کرو، اللہ تعالیٰ تم کو کشادگی عطا فرمائے گا اور جب کہا جائے کہ اُٹھ کھڑے ہو تو کھڑے ہو جایا کرو اور اللہ تعالیٰ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان لوگوں کے جن کو علم عطا کیا گیا ہے درجات بلند کرے گا اور اللہ تعالیٰ کو خوب خبر ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔‘‘
(۵۸:۱۱)

53
’’اے ایمان والو! جب تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے کان میں کوئی بات (یعنی سرگوشی) کرو تو اپنی اس سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ و خیرات (کسی مستحق کو) دے لیا کرو۔ یہ کام تمہارے لیے بہت بہتر اور پاکیزہ ہے، ہاں اگر تم اس کا مقدر نہ رکھتے ہو تو (مضائقہ نہیں) اللہ تعالٌٰ بہت بخشنے والا، پیار کرنے والا ہے۔‘‘
(۵۸:۱۲)


سورہ الحجرات کی آیات جن کا نزول نمبر 106ہے:

54
’’اے ایمان والو! تم اللہ اور اُس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے سبقت نہ کیا کرو (یعنی اپنی بات کو بڑا نہ سمجھو) اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوب سننے والا اور جاننے والا ہے۔‘‘
(۴۹:۱)

55
’’اے ایمان والو! اپنی آوازوں کو پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) کی آواز سے بلند نہ کرو (اہمیت نہ دو) اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے اس طرح مخاطب نہ ہوا کرو جیسے آپس میں ایک دوسرے کو مخاطب کرتے ہو (ذاتی نام سے) کہیں تمہارے اعمال ضائع نہ ہو جائیں اور تم کو معلوم بھی نہ ہو۔‘‘
(۴۹:۲)

56
’’اے ایمان والو! اگر کوئی جلد باز (فاسق) تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو (اُس کی خبر کی) تحقیق کر لیا کرو (ایسا نہ ہو کہ) تم کسی قوم (یا فرد) کو ناسمجھی میں نقصان پہنچا دو اور پھر تم کو اپنے کیے پر پچھتانا پڑے۔‘‘
(۴۹:۶)

57
’’اے ایمان والو! تم میں سے کوئی ایک جماعت کسی دوسری جماعت کا مذاق نہ اُڑایا کرے ممکن ہے کہ وہ اس سے بہتر ہو اور نہ کوئی عورت کسی دوسری عورت کا مذاق اُڑایا کرے ممکن ہے کہ وہ عورت اس سے بہتر ہو اور اس طرح یہ بھی کہ اپنے لوگوں پر عیب نہ لگایا کرو اور نہ ہی برے القاب دے کر ایک دوسرے کو بدنام کرو، ایمان لانے کے بعد (ایک دوسرے کے) برے نام رکھنا سخت گناہ کی بات ہے اور جو کوئی (ایسی حرکتوں سے) توبہ نہ کرے (باز نہ آئے) تو یہی لوگ ظالم ہیں۔‘‘
(۴۹:۱۱)

58
’’اے ایمان والو! بدگمانیوں سے بچتے رہو بلاشبہ بعض بدگمانیاں گناہ ہوتی ہیں (اور اسی طرح) ایک دوسرے کے کھوج میں نہ لگے رہا کرو اور نہ ہی ایک دوسرے کی غیبت کرو، کیا تم میں سے کسی کو یہ اچھا معلوم ہوتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ (حالانکہ غیبت کرنا ایسا ہی ہے) جب کہ ایسا کرنا تم بھی ناگوار سمجھتے ہو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، بخشنے والا ہے۔‘‘
(۴۹:۱۲)


سورہ التحریم کی آیات جس کا نزول نمبر 107 ہے:

59
’’اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے، اس پر بڑے سخت مزاج اور زبردست فرشتے (محافظ بنائے گئے) ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور اُن کو جو حکم دیا جائے اُسے بجا لاتے ہیں۔‘‘
(۶۶:۶)

60
’’اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کے آگے سچے دل سے توبہ کر لو امید ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناہ تم سے دور کر دے گا اور تم کو جنتیوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جس دن اللہ تعالیٰ اپنے نبی (کریم ﷺ) کو اور ان لوگوں کو جو آپؐ کے ساتھ ایمان لائے رسوا نہیں کرے گا، ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کی داہنی طرف دوڑتا چلا جاتا ہو گا، وہ دعا کرتے ہوں گے کہ اے ہمارے رب! ہمارا نور ہمارے لیے مکمل فرما دے اور ہم کو بخش دے بلاشبہ تو ہر بات پر قادر ہے۔‘‘
(۶۶:۸)


سورہ التغابن کی آیت جس کا نزول نمبر 108ہے:

61
’’اے ایمان والو! تمہاری بیویوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں پس ان سے احتیاط برتو اور اگر ان کو معاف کر دو اور (ان سے) درگزر کرو اور بخش دو اللہ تعالیٰ بخشنے والا، پیار کرنے والا ہے۔‘‘
(۶۴:۱۴)

سورہ الصف کی آیات جس کا نزول نمبر 109ہے:

62
’’اے ایمان والو! تم ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں ہو؟ اللہ تعالیٰ کو یہ بات بہت ناگوار لگتی ہے کہ تم وہ باتیں کہو جو تم خود کرتے نہیں ہو (کیونکہ یہ بہت بد اخلاقی کی بات ہے)۔‘‘
(۶۱:۲،۳)

63
’’اے ایمان والو! کیا میں تم کو ایسی تجارت بتاؤں جو تم کو دردناک عذاب سے بچا لے۔ (وہ یہ ہے کہ) تم اللہ تعالیٰ پر اور اُس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر سچے دل سے ایمان لاؤ اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرو، اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہ تمہارے لیے بہت ہی بہتر ہے۔‘‘
(۶۱:۱۰،۱۱)

64
’’اے ایمان والو! تم اللہ کے دین کے مددگار ہو جاؤ جیسے عیسیٰ ابن مریم نے اپنے حواریوں سے کہا تھا کہ کون اللہ تعالیٰ کی راہ میں میرا مددگار بنتا ہے؟ (تعاون کرتا ہے) حواریوں نے جواب دیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے دین کے معاون و مددگار ہیں پھر بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لایا اور ایک گروہ نے انکار کیا پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد کی (جس کے باعث) وہ غالب آ گئے۔‘‘
(۶۱:۱۴)


سورہ الجمعہ کی آیت جس کا نزول نمبر 110 ہے:

65
’’اے ایمان والو! جب جمعہ کے روز جمعہ کی نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ تعالیٰ کی یاد کی طرف مستعدی کے ساتھ چلے آؤ اور خرید و فروخت ترک کر دو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔ پھر جب نماز (جمعہ) ادا کر چکو تو زمین پر پھیل جاؤ (اپنے کاموں میں مصروف ہو جاؤ) اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرو اور اللہ تعالیٰ کو بکثرت یاد کرتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘
(۶۲:۹،۱۰)


سورہ المائدہ کی آیات جس کا نزول نمبر 112 ہے:

66
’’اے ایمان والو! اپنے معاہدے پورے کرو، تمہارے لیے مویشی جانور حلال کر دیئے گئے ہیں مگر ہاں! وہ جن کی نسبت تم کو حکم سنایا جاتا ہے لیکن جب تم حالت احرام میں ہو تو تمہارے لیے شکار کرنا حلال نہیں ہے۔ بلاشبہ اللہ جیسا کچھ چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔‘‘
(۵:۱)

67
’’اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کے شعائر کی بے حرمتی نہ کرو اور نہ ان مہینوں کی بے حرمتی کرو جو حرمت کے مہینے ہیں اور نہ قربانی کی اور نہ اُن جانوروں کی جن کی گردنوں میں پٹے ڈال دیئے گئے ہوں (نشانی کے لیے) اور اس طرح ان لوگوں کی بھی بے حرمتی نہ کرو جو بیت اللہ کا قصد کرتے ہیں اور اپنے رب کے فضل اور اُس کی خوشنودی کی تلاش میں ہیں اور جب تم حالت احرام سے باہر آ جاؤ تو پھر شکار کر سکتے ہواور (یاد رکھو) ایسا نہ ہو کہ ایک گروہ کی دشمنی تم کو اس بات پر اُبھار دے کہ تم بھی زیادتی کرنے لگو کیونکہ اُنہوں نے تم کو مسجد حرام (بیت اللہ) سے نکال دیا تھا۔ نیکی اور پرہیزگاری کی ہر بات میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو، گناہ اور ظلم کی باتوں میں (ایسا) مت کرو اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتے رہو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘
(۵:۲)

68
’’اے ایمان والو! تم پر حرام کر دیئے گئے ہیں مردار جانور، خون، سور کا گوشت اور وہ جانور جو غیر اللہ کے نام سے پکارا جائے، گلاگھونٹ کر مارا ہوا، چوٹ لگا کر مارا ہوا، وہ جو بلندی سے گر کر مر جائے، وہ جانور کسی کے سینگ مارنے سے مر جائے، وہ جسے درندہ پھاڑ جائے مگر ہاں! وہ جسے تم ذبح کر لو، وہ جانور جو کسی تھان پر چڑھا کر ذبح کیا جائے اور یہ بات بھی کہ تیروں اور پانسوں سے آپس میں تقسیم کرو تو یہ گناہ کی بات ہے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی تھی وہ آج تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہو گئے ہیں پس ان سے نہ ڈرو بلکہ صرف مجھ ہی سے ڈرو، آج کے دن میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمہارے لیے پسند کر لیا کہ دین (الاسلام) ہوپس دیکھو جو کوئی بھوک سے بے تاب ہوجائے، یہ بات نہ ہو کہ دانستہ گناہ کرنا چاہیے تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا رحمت والا ہے۔‘‘
(۵:۳)

69 ’’اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے آمادہ ہو تو چاہیے کہ اپنا منہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھولیا کرو اور سر کا مسح کر لو نیز اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھو لو (اور سنت کے مطابق ہی وضو کرو) اگر نہانے کی حاجت ہو تو چاہیے کہ نہا کر پاک و صاف ہو جاؤ اگر تم بیمار ہو یا ایسا ہو کہ تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے فارغ ہو کر آیا ہو یا تم نے ازدواجی تعلق قائم کیا ہو اور پانی میسر نہ ہو تو ایسی حالت میں چاہیے کہ پاک مٹی سے کام لو اور اپنے مونہوں اور ہاتھوں پر اس سے مسح کر لو، اللہ نہیں چاہتا کہ تم کو کسی طرح کی مشقت و تنگی میں ڈالے بلکہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک و صاف رکھے نیز یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ اپنی نعمت پوری کر دے تاکہ تم شکرگزار ہو۔‘‘
(۵:۶)

70
’’اے ایمان والو! ایسے ہو جاؤ کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے مضبوطی سے قائم رہنے والے اور انصاف کے لیے گواہی دینے والے ہو اور ایسا کبھی نہ کرو کہ کسی گروہ کی دشمنی تمہیں اس بات کے لیے ابھار دے کہ انصاف نہ کر سکو۔ انصاف کرو کہ یہی تقویٰ سے لگتی ہوئی بات ہے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو، تم جو کچھ کرتے ہو وہ اس کی خبر رکھتا ہے۔‘‘
(۵:۸)

71
’’اے ایمان والو! اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کا وہ احسان یاد کرو کہ جب ایک گروہ نے پورا ارادہ کر لیا تھا کہ تم پر ہاتھ بڑھائے تو اللہ تعالیٰ نے ایسا کیا کہ اس کے ہاتھ تمہارے خلاف بڑھنے سے روک دیئے اور اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ تعالیٰ ہی ہے جس پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہیے۔‘‘
(۵:۱۱)

72
’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور اُس تک پہنچنے کا ذریعہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جد وجہد جاری رکھو تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو۔‘‘
(۵:۳۵)

73
’’اے ایمان والو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق و مددگار نہ بناؤ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور تم میں سے جو کوئی (من حیث القوم) ان کو اپنا رفیق اور مددگار بنائے گا تو وہ ان ہی میں سے سمجھا جائے گا، اللہ تعالیٰ اُس گروہ پر راہ نہیں کھولتا جو ظلم کرنے والا گروہ ہے۔ پھر تم دیکھو گے کہ جن لوگوں کے دلوں میں روگ ہے وہ ان (یہود و نصاریٰ) کی طرف دوڑے جا رہے ہیں وہ کہتے ہیں ہم ڈرتے ہیں کہ کسی مصیبت کے پھیر میں نہ آجائیں (یاد رکھو) وہ وقت دور نہیں جب اللہ تم کو فتح دے گا یا اُس کی طرف سے کوئی اور بات ظاہر ہو جائے گی اور اس وقت یہ لوگ اس بات پر شرمندہ ہوں گے جو اُنہوں نے اپنے دلوں میں چھپا رکھی ہے۔‘‘
(۵:۵۱،۵۲)

74
’’اے ایمان والو! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے گا تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسا گروہ پیدا کر دے جنہیں اللہ دوست رکھتا ہو اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کو دوست رکھتے ہوں وہ مومنوں کے مقابلہ میں نہایت نرم اور جھکے ہوئے لیکن دشمنوں کے مقابلہ میں نہایت سخت، اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان لڑا دیں گے اور کسی بھی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ جس گروہ کو چاہے (اپنے قانون کے مطابق) عطا فرما دے اور وہ بڑی ہی وسعت رکھنے والا اور جاننے والا ہے۔‘‘
(۵:۵۴)

75
’’اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ اور کفار میں سے جن لوگوں نے تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنا رکھا ہے (اور اس کی تحقیر و تذلیل کی ہے) تم ان کو اپنا مددگار اور رفیق نہ بناؤ اور اللہ (کی نافرمانی) سے ڈرو اگر فی الحقیقت تم ایمان رکھنے والے ہو۔‘‘
(۵:۵۷)

76
’’اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تم پر حلال کر دی ہیں اُن کو اپنے اوپر حرام مت کرو اور (اس طرح کی روک ٹوک میں) سے مت گزرو، اللہ تعالیٰ حد سے گزرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تم کو رزق دے رکھا ہے اس میں سے اچھی اور حلال چیزیں کھاؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو۔‘‘
(۵:۶۷،۶۸)

77
’’اے ایمان والو! بلاشبہ شراب، جوا، معبودانِ باطل کے نشان اور پانسے شیطانی کاموں کی گندگی ہے تم ان سے اجتناب کرو (اور اس گندگی کے قریب مت جاؤ) تاکہ تم کامیاب ہو۔‘‘
(۵:۹۰)

78
’’اے ایمان والو! شکار کے معاملہ میں جس تک تمہارے ہاتھ اور نیزے پہنچیں وہ ضرور تمہاری ایک حد تک آزمائش کرے گا تاکہ معلوم ہو جائے کہ کون اللہ تعالیٰ سے غائبانہ ڈرتا ہے۔ پھر اس کے بعد جو کوئی حد سے گزر جائے تو اس کے لیے عذاب دردناک تیار کیا گیا ہے۔‘‘
(۵:۹۴)

79
’’اے ایمان والو! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار کے جانور مت مارو، اور جو کوئی تم میں سے جان بوجھ کر اس کو مار ڈالے تو چاہیے کہ اُس کا بدلہ دے جیسے جانور کو مارا ہے اس کی مانند مویشی میں سے ایک جانور کعبہ پہنچا کر قربان کیا جائے اور مویشی کو تم میں سے دو منصف ٹھہرا دیں یا کفارہ دے (مویشی کی قیمت کا) مسکینوں کو کھانا کھلائے یا پھر مسکینوں کی گنتی کے برابر روزے رکھے تاکہ اپنے کیے کی جزا چکھ لے اس سے پہلے جو ہو چکا اللہ نے اس سے درگزر کیا لیکن جو کوئی دوبارہ کرے گا تو اللہ اس سے بدلہ لے گا اور اللہ تعالیٰ غالب آنے والا اور بدلہ لینے والا ہے۔‘‘
(۵:۹۵)

80
’’اے ایمان والو! ان چیزوں کی نسبت سوالات مت کرو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری لگیں اگر تم ان چیزوں کی نسبت سوال کرو گے ایسے وقت جب کہ قرآنِ کریم ابھی نازل ہو رہا ہے تو تم پر ظاہر کر دی جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات معاف کر دی اور اللہ بخشنے والا بہت ہی بردبار ہے۔‘‘
(۵:۱۰۱)

81
’’اے ایمان والو! تم پر فقط تمہاری جانوں کی ذمہ داری ہے اگر تم سیدھے راستے پر قائم ہو تو کسی کا گمراہ ہونا تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا تم سب کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے، وہ بتا دے گا کہ تمہارے کام کیسے کچھ رہے ہیں۔‘‘
(۵:۱۰۵)

82
’’اے ایمان والو! جب تم میں سے کسی کے سامنے موت آ کھڑی ہو تو وہ وصیت کے وقت گواہی کے لیے تم میں سے دو معتبر آدمی گواہ ہونے چاہئیں اگر ایسا ہو کہ تم سفر میں ہو اور موت کی مصیبت پیش آ جائے اور اپنے گواہ نہ مل سکیں تو اپنے گواہوں کی جگہ غیر لوگ بھی گواہ ہو سکتے ہیں پھر اگر تم کو ان کی سچائی میں کسی طرح کا شبہ پڑ جائے تو انہیں نماز کے بعد روک لو وہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ ہم نے اپنی قسم کسی معاوضہ کے بدلے فروخت نہیں کی ہے ہمارا قریب و عزیز کیوں نہ ہو ہم اللہ کے لیے سچی گواہی کبھی نہیں چھپائیں گے اگر ایسا کریں تو ہم گناہگاروں میں سے ہوں۔‘‘
(۵:۱۰۴)


سورہ التوبہ کی آیات جس کا نزول نمبر 113 ہے:

83
’’اے ایمان والو! اگر تمہارے باپ، تمہارے بھائی ایمان کے مقابلہ میں کفر کو عزیز رکھیں (وہ اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان نہ لائیں) تو اُن کو اپنا رفیق و مددگار نہ بناؤ اور جو کوئی (ان کو) رفیق بنائے گا تو ایسے ہی لوگ ہیں جو اپنے آپ پر خود ظلم کرنے والے ہیں۔ کہہ دیجئے اگر ایسا ہے کہ تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، تمہاری برادری، تمہارا مال جو تم نے کمایا ہے، تمہاری تجارت جس کے مندا پڑ جانے سے ڈرتے ہو، تمہارے رہنے کے مکانات جو تمہیں اس قدر پسند ہیں کہ (یہ ساری چیزیں) تمہیں اللہ سے، اُس کے رسول سے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے تم کو زیادہ پیاری ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ جو کچھ اللہ کو کرنا ہے وہ تمہارے سامنے لے آئے اور اللہ فاسقوں پر راہ نہیں کھولتا۔‘‘
(۹:۲۳،۲۴)

84
’’اے ایمان والو! حقیقت حال اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ یہ مشرک نجس ہیں (گویا شرک نے ان کے دلوں کی پاکیزگی سلب کر لی ہے) پس چاہیے کہ اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے نزدیک نہ آئیں اور اگر تم کو فکر و فاقہ کا اندیشہ ہو تو گھبراؤ نہیں اللہ چاہے گا تو عنقریب تمہیں اپنے فضل سے تونگر کر دے گا۔ اللہ سب کچھ جاننے والا، حکمت رکھنے والا ہے۔‘‘
(۹:۲۸)

85
’’اے ایمان والو! یاد رکھو کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے علماء اور مشائخ میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو لوگوں کا مال ناحق و ناروا کھاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے انہیں روکتے ہیں اور جو لوگ چاندی، سونا اپنے ذخیروں میں ڈھیر کرتے رہتے ہیں اور اللہ کی راہ میں اسے خرچ نہیں کرتے تو ایسے لوگوں کو عذاب دردناک کی خوشخبری سنا دو۔‘‘
(۹:۳۴)

86
’’اے ایمان والو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں قدم اُٹھاؤ تو تمہارے پاؤں بوجھل ہو کر زمین پکڑ لیتے ہیں۔ کیا آخرت چھوڑ کر صرف اور صرف دنیا کی زندگی پر ریجھ گئے ہو، دنیا کی زندگی کی متاع تو آخرت کے مقابلہ میں کچھ نہیں ہے مگر بہت تھوڑی، اگر قدم نہ اُٹھاؤ گے تو یاد رکھو وہ تمہیں ایک ایسے عذاب میں ڈالے گا جو دردناک ہو گا اور تمہاری جگہ کسی دوسرے گروہ کو لا کھڑا کرے گا اور تم اللہ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکو گے اور اللہ تعالیٰ ہر بات پر قادر ہے۔‘‘
(۹:۳۸،۳۹)

87
’’اے ایمان والو! اللہ کے خوف سے بے پروا نہ ہو جاؤ اور چاہئے کہ سچوں کے ساتھی بنو (کہ یہ سچائی ہی تھی جو اُن لوگوں کی بخشش کا وسیلہ ہو گئی)۔‘‘
(۹:۱۱۹)

88
’’اے ایمان والو! ان کافروں سے جنگ کرو جو تمہارے آس پاس ہیں اور چاہئے کہ وہ تمہاری سختی محسوس کریں (کہ بغیر اس کے جنگ، جنگ نہیں) اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ ان کا ساتھی ہے جو متقی ہیں۔‘‘
(۹:۱۲۳)


Last edited by کنعان; 11-12-11 at 01:59 PM. وجہ: Re- Organized
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, green, islamic, کلمات, پہلے, وقت, نام, مقصد, مسلمانوں, مسائل, اللہ, اسلامی, بے, توجہ, جلتا, حل, حصہ, خدمت, درپیش, علمی, عنوان, عبدالکریم, عرض, عرصہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
لڑکیو ں‌ کے لئے اسلامی پیارے پیارے نام بتائیں پلیز جان جی گپ شپ 30 08-03-12 10:46 AM
پیار ایک پاکیزہ جذبہ :::آیئےپیار سے جیئیں khanamjan میری ڈائری 5 28-10-11 09:16 PM
مغربی ممالک خیراتی کاموں میں پیش پیش۔ ابن جمال متفرقات 0 07-02-11 01:42 PM
لڑکیو ں‌ کے لئے اسلامی پیارے پیارے نام بتائیں پلیز جان جی گپ شپ 1 20-08-08 08:56 PM
ہند و پاک میں بھائی چارے اور امن کا ایک بڑا قدم رفیع پیر تھیٹر کی پیش کش عبدالقدوس فلمی دنیا 0 27-10-07 10:53 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:04 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger