واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم



علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم


انسانیت ہدایت کی تلاش میں :تغیر احوال و تغیر احکام اور سنت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 12-12-11, 07:28 PM   #1
انسانیت ہدایت کی تلاش میں :تغیر احوال و تغیر احکام اور سنت
rana ammar mazhar rana ammar mazhar آن لائن ہے 12-12-11, 07:28 PM

انتساب

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم


ان حروف کے نام !
جو انسان کو دائروں کی قید سے رہائی دلاتے ہیں
قید تنہائی سے تڑپتی روح کو
بحرِ بیکراں سے ہمکنار کرتے ہیں
وہ دائرے !
جو انسان کے خود ساختہ ہوتے ہیں
پر داختہ ہوتے ہیں
پر مضبوط و توانا ہوتے ہیں
اتنے مضبوط !
کہ ان سے ٹکرا کر ضمیر نڈھال اور
دل فگار ہوتے ہیں

نتیجۂ بحث: تغیر احوال و تغیر احکام

یہ تو طے ہے کہ وحی میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے وحی پر مبنی صرف وہ اصول و جزئیات مقرر کیے گئے ہیں جن پر زمان و مکان اور ظروف و احوال کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان ہی اصول و جزئیات کو قرآن میں درج کیا گیا اور اس کے بعد صرف قرآن کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تاکہ اس میں کسی قسم کی تحریف ممکن نہ ہو سکے اور وہ تمام جزئیات قرآن سے باہر رکھی گئیں جو وحی پر مبنی نہیں تھیں۔ یہ اس لیے ہوا کہ زمان و مکان کے بدل جانے سے ان جزئیات کو حسبِ ضرورت تبدیل کیا جا سکے۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو ممکن تھا کہ زندگی میں جمود طاری ہوجاتا۔ ظروف و احوال کا تقاضا کچھ اور ہوتا لیکن ہم ماضی میں سانس لے رہے ہوتے۔ چونکہ ایسا ناممکن ہے اس لیے یہ تضاد ہمیں زیادہ عرصہ جینے نہ دیتا اور سچ پوچھیے تو جمود موت ہی کا دوسرا نام ہے اور زندگی حرکت کا۔ اس کی وضاحت ایک مثال سے ہو سکے گی۔ قرآن مجید میں بیسیوں مرتبہ زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے مگر ایک دفعہ بھی نصابِ زکوٰۃ کا تعین کیا گیا نہ شرح زکوٰۃ مقرر کی گئی۔ آخر کیوں؟ کیا نعوذ باللہ خالقِ کائنات سے کوئی بھول ہوگئی تھی یا اس میں کوئی مصلحت پوشیدہ تھی؟ آخر اس میں کیا امر مانع تھا کہ صرف ایک آیت میں نصابِ زکوٰۃ اور شرحِ زکوٰۃ کا ذکر کر دیا جاتا۔ اس سے قرآن کی ضخامت پر کوئی بھی اثر نہ پڑتا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ یقیناً خداوندعالم سے سہو و نسیان نہیں ہوا۔ اس میں حکمت و مصلحت ہے۔
اس مسئلے پر علمائے کرام کا اتفاق ہے (یا کم از کم ان کا عدمِ اتفاق ہمارے علم میں نہیں) کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نصابِ زکوٰۃ مقرر کرتے وقت اشیاء میں مساوات (parity) کو مدنظر رکھا تھا۔ مثلاً حضوؐر کے زمانے میں ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت ساڑھے سات تولے سونے کے برابر تھی۔ اس لیے آپؐ نے انھیں نصابِ زکوٰۃ قرار دیا۔ اور مسئلہ یہ ٹھہرا کہ ایک شخص کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی یا ساڑھے سات تولے سونا ہو تو وہ صاحبِ نصاب ہوگا۔ اب آج صورت حال ملاحظہ ہو۔ ایک شخص کے پاس سات تولے سونا‘ جس کی قیمت تقریباً ساٹھ‘ ستر ہزار روپے ہے‘ ہو تو یہ شخص زکوٰۃ نہیں ادا کرے گا کیونکہ وہ صاحبِ نصب نہیں۔ اس کے برعکس دوسرا شخص جس کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی‘ جس کی قیمت دس ہزار روپے سے بھی کم ہے‘ ہو تو وہ زکوٰۃ ادا کرنے کا پابند ہے کیونکہ ڈیڑھ ہزار سال قبل نصاب یہی تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ قیامت تک غریب تو زکوٰۃ ادا کرتا رہے مگر اس سے زیادہ امیر اس فرض کی ادایگی سے ’’محفوظ‘‘ قرار پائے۔
یہ صورت حال اس لیے پیدا ہوئی کہ زمانے کے تغیر و تبدل نے سونے اور چاندی کی شرح مبادلہ (rate of exchange) میں تبدیلی پیدا کر دی۔ اب اگر یہ نصاب قرآن میں مذکور ہوتا‘ یعنی نصاب کا تعین وحی کے ذریعے سے کر دیا گیا ہوتا‘ تو اس میں تبدیلی ممکن نہ تھی اور حکومتِ وقت قیامت تک غریب سے زکوٰۃ لیتی رہتی اور امیر کو نہ چھیڑتی۔* یہی وجہ ہے کہ یہ جزئیہ قرآن مجید میں درج نہیں ہوا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عملی انسان کی حیثیت سے اپنے زمانے کے حالات کے تحت‘ اپنے ہی زمانے کی شرح مبادلہ کے مطابق نصابِ زکوٰۃ اور شرحِ زکوٰۃ مقرر کر دیا۔ اسی سے یہ ثابت ہوا کہ حضوؐر کے احکام ظروف و احوال کی قیود اور زمان و مکان کی حدود سے ماورا نہیں ہو سکتے۔ فلہٰذا وحی نہیں قرار دیے جا سکتے۔ تغیر احوال کا لازمی نتیجہ تغیر احکام ہے۔ اس سے انکار ممکن ہی نہیں۔ آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ حضوؐر کے عہدمبارک میں تو تغیر احوال کی وجہ سے تغیر احکام‘ جسے نسخ بھی کہا جاتا ہے‘ ہوتا رہے مگر اس کے بعد صدیوں تک بلکہ قیامت تک تغیر احوال کا تصور ہی نہ ہو! یا اگر تغیر احوال کو تو مانا جائے مگر اس کے لازمی نتیجے یعنی تغیر احکام کا انکار کر دیا جائے!! اس ضمن میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے تغیر احوال کی وجہ سے اور تو اور تعبُّدی امور میں بھی عہدِصحابہؓ میں ردّ و بدل اور کمی و بیشی کی کئی مثالیں پیش کی ہیں۔ ہم صرف ایک کا ذکر کریں گے۔(پوری بحث کے لیے دیکھیے رسائل و مسائل‘ حصہ پنجم‘ص ۲۱۴ تا ۲۳۷۔ از سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ )
مولانا محترم لکھتے ہیں:
بخاری‘ نسائی‘ ابوداؤد‘ ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت سائبؓ بن یزید کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات ابوبکرؓ و عمرؓ کے عہد میں جمعے کی پہلی اذان اسی وقت دی جاتی تھی جب امام منبر پر بیٹھ جاتا تھا۔ پھر جب حضرت عثمانؓ کا زمانہ آیا اور آبادی بڑھ گئی تو انھوں نے تیسری اذان (پہلی دو۔ اذان اور تکبیر اقامت کہلاتی تھیں) یعنی وہ اذان جو امام کے منبر پر آنے سے پہلے دی جاتی ہے‘ کا حکم دیا جو زَوْراء کے مقام پر دی جاتی تھی۔
بخاری کی ایک اور روایت میں الفاظ یہ ہیں کہ جمعہ کے روز تیسری اذان کا اضافہ کرنے والے حضرت عثمانؓ تھے‘ جبکہ اہلِ مدینہ کی تعداد بڑھ گئی تھی۔ طبرانی کی روایت ہے کہ حضرت عثمانؓ نے حکم دیا کہ پہلی اذان اس مقام پر دی جائے جس کا نام زَوْراء تھا۔ پھر جب وہ منبر پر بیٹھ جاتے تھے تو اُن کا موذن اذان دیتا تھا اور جب وہ منبر سے اُترتے تھے تو مؤذن تکبیر اقامت کہتا تھا۔ یہ تعبُّدی امور کے دائرے میں ماثور و مسنون عمل پر ایک صریح اضافہ تھا جو خلیفۂ برحق نے ایسے زمانے میں کیا تھا جبکہ صحابہؓ و تابعینؒ سے دنیائے اسلام بھری پڑی تھی مگر اس کی مخالفت تو کیا ہوتی‘ اسلامی دنیا کے بلاد و امصار میں وہ مقبول ہوگئی۔۱۴۹؂
اس اقتباس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیکی زمانے میں بھی حالات میں تبدیلی آگئی تھی اور اتنی تبدیلی بہرحال آگئی تھی کہ خلیفۂ برحق کو حضور اکرمؐ کے حکم‘ وہ بھی تعبُّدی حکم‘ میں اپنے زمانے کے حالات کے مطابق تبدیلی کرنی پڑی۔ اب کیا یہ ذہن میں آنے والی بات ہے کہ عہدرسالتؐ میں اور عہدصحابہؓ میں، یعنی تقریباً تین دہائیوں تک تو حالات میں تبدیلیاں آتی رہیں‘ لیکن اس کے بعد پندرہ سو سال کا عرصہ گزر چکا لیکن زمانہ اور حالات وہیں کے وہیں رہیں اور ہم زبانِ حال اور زبانِ قال سے یہ اعلان کرتے رہیں کہ اب تغیرات نہیں آتے!!
بہرحال اس واقعے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمانؓ نے اپنے حالات کے تحت حضور اکرمؐ کے جس حکم کو تبدیل کیا تھا وہ وحی پر مبنی نہیں ہو سکتا تھا۔ اسی سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ جزئیات میں تبدیلی صرف اسی صورت میں جائز ہے جب حالات میں تبدیلی آچکی ہو ورنہ وہی جزئیہ نافذ العمل رہے گا۔ اسی سے تغیر و ثبات کا حسین امتزاج قائم رہ سکتا ہے۔ قرآنی احکام و اوامر زمانے کے ہر دور کے لیے ہیں کیونکہ وحی پر مبنی ہیں (ملاحظہ ہو‘ حوالہ نمبر ۱۳۷)۔ قرآن سے باہر جزئیات وحی پر مبنی نہیں ہیں اس لیے اگر حالات میں تبدیلی آجائے تواِن میں تبدیلی ناگزیر ہوجاتی ہے۔ چنانچہ حضرت عثمانؓ نے یہی کیا۔ حضرت عمرؓ کے عہدِمبارک میں تو درجنوں معاملات میں ایسی جزئیات میں تبدیلیاں لائی گئی تھیں جو اوّلیات عمرؓ کے نام سے مشہور ہیں۔ ان میں سے صرف چند کا ذکر کرنا کافی ہوگا۔
مولانا خلیل احمد حامدیؒ ،جو پاکستان کی تحریکِ اسلامی کے قائد اور عربی زبان کے نامور عالم تھے‘ اپنے ایک اہم مضمون ’’اسلام کا نظامِ قضا‘‘ میں لکھتے ہیں:
اسی طرح طلاق ثلاثہ کا حکم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے چلا آ رہا تھا۔ آپؓ (حضرت عمرؓ) نے اس کے برعکس ایک ہی وقت میں تین طلاق دینے کو ایک ہی طلاق کے بجائے اسے تین طلاق ہی شمار کیا۔۱۵۰؂
مولانا نجیب اللہ ندوی لکھتے ہیں:
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شرابی لایا گیا تو آپؐ نے اس کو کھجور کی چھال یا ریشے کی بنی ہوئی چھڑی یا کوڑے سے تقریباً چالیس ضرب ماری۔ یہی طرزعمل حضرت ابوبکر صدیقؓ نے بھی اختیار کیا مگر حضرت عمرؓ نے اسّی کر دیا۔ ۱۵۱؂
اسی طرح عہدنبویؐ میں امہات اولاد کی فروختگی پر پابندی‘ اور صبح کی اذان میں ’’الصلوٰۃ خیر من النوم‘‘ کے جملے کا اضافہ‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن شرائط پر باشندگان نجران سے معاہدہ کیا تھا کہ وہ وہاں رہ سکتے ہیں‘ بعد میں حضرت عمرؓ کے حکم سے ان کی جلاوطنی‘ ان چند اولیاتِ عمرؓ میں شامل ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ ان احکامات میں تبدیلی صرف اس لیے ہی ممکن ہو سکی تھی کہ حالات کا تقاضا تھا‘ اور یہ احکامات وحی پر مبنی نہیں تھے۔ اس کی وجہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ لکھتے ہیں کہ:
تمام زمانی و مکانی قیود سے آزاد اگر کوئی ہے تو وہ صرف خداوند عالم ہے جس کے پاس حقیقی علم ہے اور جس علم میں زمانہ کے تغیرات سے ذرہ برابر کوئی تغیر واقع نہیں ہوتا۔۱۵۲؂
مولانا مرحوم اپنے ایک مضمون ’’تدوین جدید اور اس کے تقاضے‘‘ جو ’’چراغِ راہ‘‘ کے اسلامی قانون نمبر میں شائع ہوا تھا‘ لکھتے ہیں:
اسلامی قانون کوئی ساکن اور منجمد (static) قانون نہیں ہے کہ ایک خاص زمانہ اور خاص حالات کے لیے اس کو جس صورت پر مدون کیا گیا ہو اس صورت پر وہ ہمیشہ قائم رہے اور زمانہ اور حالات اور مقامات کے بدل جانے پر بھی اس صورت میں کوئی تغیر نہ کیا جا سکے۔ جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں وہ غلطی پر ہیں بلکہ ہم کہیں گے کہ وہ اسلامی قانون کی روح ہی کو نہیں سمجھے ہیں۔۱۵۳؂
مولانا محترم کا یہ اقتباس ہم نے محض اس بات کی تائید کے لیے پیش کیا ہے کہ زمانہ‘ حالات اور مقامات کے بدل جانے سے کوئی قانون ہمیشہ کے لیے باقی نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ ’’تمام زمانی و مکانی قیود سے آزاد صرف خداوندعالم ہے‘‘۔ ہم نے یہ اقتباس اس لیے نہیں پیش کیا کہ مولانا محترم بھی اس بات کے قائل تھے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی متعین کردہ جزئیات میں تبدیلی جائز ہے۔ سنت کی آئینی حیثیت میں مولانا محترم نے بڑا واضح اسٹینڈ لیا ہے۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کہنے کے بعد کہ تمام زمانی و مکانی قیود سے آزاد صرف خداوند عالم ہے اور نیز یہ کہ کسی خاص زمانہ کے لیے کسی قانون کا مدون کیا جانا اور ہر دور کے لیے اسے اسی صورت پر قائم رکھنے پر اصرار کرنا جبکہ زمانہ‘ حالات اور مقامات بدل چکے ہوں‘ اسلامی قانون کی روح سے ناواقفیت کی دلیل ہے‘ مولانا محترم کا وہ اسٹینڈ جو انھوں نے سنت کی آئینی حیثیت میں لیا ہے‘ خاصا کمزور ہوجاتا ہے۔ بہرحال ہم سمجھتے ہیں کہ مولانا محترم کے مندرجہ بالا دونوں اقتباسات ہر لحاظ سے درست اور قرآنی تعلیمات کے عین مطابق ہیں۔ لیکن اس کا نتیجہ یہی نکل سکتا ہے کہ حضوؐر کی متعین کردہ جزئیات میں بھی تبدیلی جائز اور ممکن ہے کیونکہ آپؐ تو بہرحال زمانی و مکانی قیود سے آزاد نہیں ہو سکتے تھے۔
اسلام کی اسی خصوصیت کی وجہ سے یہ آفاقی دین قرار دیا جا سکتا ہے‘ جس کا کسی خاص علاقے‘ زبان‘ نسل یا زمانے سے تعلق نہ ہو اور ہر دور کے لوگ اپنے اپنے معروضی حالات کے مطابق قرآنی اصولوں کی روشنی میں تفصیلی قانون سازی کر سکتے ہوں۔
یہ ایک حقیقت ہے جس سے منہ موڑنا تقریباً ناممکن ہے کہ قرآن کی اسپرٹ اور اصول غیرمتبدل ہیں۔ لیکن عملی زندگی کے احوال تغیر پذیر ہیں لہٰذا ان اصولوں کا انطباق ہمیشہ احوال کے تغیر کے ساتھ بالکل اسی طرح بدلنا ضروری ہے جس طرح عہدنبویؐ میں اور دورِصحابہؐ میں ان اصولوں کو منطبق کرتے ہوئے گذشتہ عہد کی جزئیات حسبِ حال تبدیل کی جاتی رہیں ورنہ وہ جمود جو ہمارے علوم اور قوانینِ حیات پر طاری ہے مزید مستحکم ہوتا چلا جائے گا۔ ماضی کو یاد تو کیا جا سکتا ہے‘ اس کی تحسین بھی کی جاسکتی ہے مگر ماضی میں رہا نہیں جاسکتا۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اس حقیقت کو ۱۹۳۷ء میں ہی سمجھ لیا تھا۔ وہ چودھری نیاز علی خاں صاحب کو ایک مکتوب* میں لکھتے ہیں:
ہم خالص قرآن کی بنیاد پر اسلام کی (renaissance) نشاۃِ جدیدہ چاہتے ہیں۔ قرآن کی اسپرٹ اور اسلام کے اصول ہمارے نزدیک غیرمتبدل ہیں۔ مگر افکار اور معلومات کی ترتیب اور عملی زندگی کے احوال پر اس روح اور ان اصولوں کا انطباق ہمیشہ احوال کے تغیر اور علم کی ترقی کے ساتھ ساتھ بدلنا ضروری ہے۔ متقدمین اسلام اس چیز کو سمجھتے تھے۔ انھوں نے اپنے زمانہ میں عملاً اس کو برتا مگر متاخرین یہ سمجھے کہ اصول اور اسپرٹ کی طرح ان کا انطباق بھی غیرمتبدل ہے۔ اس چیز نے وہ جمود پیدا کیا جو سات سو برس سے ہمارے علوم اور ہمارے قوانینِ حیات پر طاری ہے۔۱۵۴؂
مولانا محترم نے یہ خط ۱۲ محرم ۵۶ھ بمطابق ۲۶ مارچ ۱۹۳۷ء کو لکھا تھا۔ اس وقت اُن کے نزدیک یہ بالکل واضح تھا مگر اس کے ساتھ ہی وہ اس کو کوئی آسان کام بھی نہیں سمجھتے تھے۔ چنانچہ اسی خط میں آپ نے یہ بھی لکھا کہ:
یہ کام بالکل نیا ہے اور ماضی و حال دونوں میں اس کے لیے پہلے سے کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔ اس لیے اِس نتیجہ کو اکثر لوگ مشکوک ہی پائیں گے اور خود آپ کو بھی اس کے لیے صحیح راستہ متعین کرنے میں دقتیں پیش آئیں گی مگر چونکہ مقصود بالکل واضح طور پر ہمارے سامنے متعین ہوچکا ہے اس لیے تمام مشکلات کے باوجود سیدھا راستہ ہم کو ضرور مل جائے گا۔۱۵۵؂
اگر یہ بات درست ہے (اور ہمارے نزدیک تو یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے) کہ احادیث نبوی یا۔۔۔ اسوۂ رسول۔۔۔ وحئ خداوندی نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ذاتی بصیرت کا نتیجہ ہیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو حالات عہدِرسالتؐ میں دنیائے اسلام کے تھے اگر ان میں تبدیلی آگئی ہو تو ان تبدیل شدہ حالات کے مطابق احکام میں تبدیلی ضروری ہے اور یہ عین اسوۂ رسولؐ ہے۔ اس موضوع کو ہم مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ہی کے اقتباس پر ختم کرتے ہیں:
یہ حقیقت یقیناًناقابلِ انکار ہے کہ شارع نے غایت درجہ کی حکمت اور کمال درجے کے علم سے کام لے کر اپنے احکام کی بجاآوری کے لیے زیادہ تر ایسی ہی صورتیں تجویز کی ہیں جو تمام زمانوں اور تمام مقامات اور تمام حالات میں اس کے مقاصد کو پورا کرتی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بکثرت جزئیات ایسے بھی ہیں جن میں تغیر حالات کے لحاظ سے احکام میں تغیر ہونا ضروری ہے۔ جو حالات عہدِرسالتؐ اور عہدِصحابہؓ میں عرب اور دنیائے اسلام کے تھے‘ لازم نہیں کہ بعینہٖ وہی حالات ہر زمانے اور ہر ملک کے ہوں۔ لہٰذا احکامِ اسلام پر عمل کرنے کی جو صورتیں اُن حالات میں اختیار کی گئیں تھیں‘ ان کو ہوبہو تمام زمانوں اور تمام حالات میں قائم رکھنا اور مصالح و حکم کے لحاظ سے ان کے جزئیات میں کسی قسم کا ردّ و بدل نہ کرنا ایک طرح کی رسم پرستی ہے جسے روحِ اسلامی سے کوئی علاقہ نہیں۔ ایک موٹی سی مثال لے لیجیے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے سورج کی حرکت کے لحاظ سے اوقات مقرر فرمائے ہیں۔ اس لیے کہ عرب اور ربع مسکوں کے بیشتر حصوں کے لیے تعین اوقات کی یہی صورت مناسب ہے لیکن اگر کوئی شخص قطب شمالی کے قریب رہنے والوں کے لیے بھی نمازوں کے اوقات معین کرنے میں وہی سورج کے طلوع و غرب اور سایہ کے اُتار چڑھاؤ کا لحاظ کرے تو بظاہر یہ شارع کے منصوص احکام کی حرف بحرف پیروی ہوگی‘ مگر درحقیقت اس سے شارع کا اصل مقصد فوت ہوجائے گا اور اس کا شمار خلاف ورزی احکام میں ہوگا کیونکہ اس کا لازمی نتیجہ ترک صلوٰۃ اور اسقاطِ فرض ہے۔ پس معلوم ہوا کہ جزئیات میں دلالۃ النص اور اشارۃ النص تو درکنار‘ صراحتہ النص کی پیروی بھی تفقہ کے بغیر درست نہیں ہوتی۔ اور تفقہ کا اقتضا یہ ہے کہ انسان ہر مسئلہ میں شارع کے مقاصد اور مصالح پر نظر رکھے اور انھی کے لحاظ سے جزئیات میں تغیر احوال کے ساتھ ایسا تغیر کرتا رہے جو شارع کے اصولِ تشریح پر مبنی اور اس کے طرزِ عمل سے اقرب ہو۔۱۵۶؂؂

حاصل بحث

۱۔ انسانی علم محض اندازوں پر قائم ہے۔ پوری انسانی تاریخ اس پر شاہد ہے کہ قطعی حقیقت کا ادراک ممکن ہی نہیں جب تک کہ تمام محسوس کائنات کا علم نہ حاصل ہوجائے۔ انسانی علم کے پاس صداقت کی کوئی کسوٹی ہے نہ معروضی پیمانہ جس کے مطابق کسی کے بارے میں بھی کوئی حتمی رائے قائم کی جاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے انسانیت کے لیے کوئی ضابطۂ حیات دینے سے بالکل معذوری کا اظہار کر دیا ہے۔ مجبوراً مغربی مفکرین تک کو یہ کہنا پڑا کہ ہمیں یہ بات اب قبول کرلینی چاہیے کہ جس طرح مثالی حکمرانوں کا کوئی وجود نہیں اسی طرح علم کے مثالی ذرائع بھی موجود نہیں لہٰذا انسانی مسائل کے لیے ایسے علم کی ضرورت ہے جو ماورائے بشر ہو۔
۲۔ انسانوں ہی کے طبقہ میں ایک گروہ ایسے متحد الخیال افراد کا گزرا ہے جو اگرچہ مختلف زمانوں اور مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے تھے مگر اس کے باوجود بنیادی امور میں متفق تھے۔ اُن کا دعویٰ یہی تھا کہ اُن کے پاس جو علم آیا ہے اس کا انسانی حواس سے کوئی تعلق نہیں‘ وہ ماورائے بشر ہے۔ اس علم کو وحی کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
ہر دور اور ہر قوم میں ایسے افراد آتے رہے جو انسانوں کو رشد و ہدایت کی تعلیم دیتے رہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل جو وحی انبیاء علیہم السلام پر نازل ہوتی تھی وہ محدود طبقے اور محدود زمانے کے لیے تھی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا وعدہ نہیں فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی زمانے میں ایک سے زیادہ انبیائے کرام مبعوث ہوتے رہے کیونکہ ذرائع رسل و رسائل کی عدم موجودگی میں یہ ممکن ہی نہ تھا کہ کوئی ایک عالمگیر وحی نازل کرکے اس کی حفاظت کی جاتی۔ ممکن ان معنوں میں کہ بہرحال اللہ اس دنیا میں اسباب کے ذریعے ہی کاروبارِ حیات کا انتظام کرتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ زبور‘ تورات اور انجیل میں تحریف ممکن ہوسکی۔
۳۔ آخری نبی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو وحی نازل ہوئی‘ اس کو چونکہ قیامت تک کے لیے ہدایت عامہ کا ذریعہ بننا تھا اس لیے اس کی حفاظت کا براہِ راست اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا۔ اس کی حفاظت کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ ایک طرف تو ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے اس وحی کو اپنے سینوں میں محفوظ کرلیا تو دوسری طرف اللہ کے نبیؐ نے اس وحی کو لکھوا کر محفوظ کروایا۔ اللہ کی وحی پر مبنی یہ وہ واحد کتاب ہے جو حضوؐر کے عہدِمبارک سے لے کر آج تک ہر دور میں ہر قسم کے تغیرات سے پاک رہی ہے۔ انسانی تاریخ میں کوئی دوسری کتاب ایسی نہیں پائی جاتی جو اس قدر قطعی الثبوت ہو۔
۴۔ چونکہ اس کتاب کو قیامت تک کے لیے واجب الاطاعت اور رشد و ہدایت کا ذریعہ بننا تھا‘ مگر ارتقائے زمانے کے ساتھ ساتھ اس کے اقتضاء ات و مصالح میں گوناگوں تغیرات و اختلافات ناگزیر ہیں‘ اس لیے یہ ضروری تھا کہ دائرہ کے نقطہ کی طرح قرآنی احکام و اوامر اپنی جگہ ثابت رہتے‘ لیکن اس قیام و ثبات کے باوجود ان میں جمود و تعطل نہ ہوتا بلکہ زمانے کے اقتضاء ات و تغیرات کے ساتھ وہ حرکت پذیر رہتے اور یہ اسی صورت میں ممکن تھا جب قرآن میں صرف ان ہی اصول و کلیات پر اکتفا کیا جاتا جن کے دامن میں قیامت تک کی جزئیات سمٹی ہوئی ہیں‘ مگر ان جزئیات کو قرآن میں درج نہ کیا جاتا اور یہی قرآن نے کیا ہے۔
۵۔ قرآن چونکہ وحی الٰہی پر مشتمل ہے‘ اس لیے اس کے اصول و جزئیات غیرمتبدل ہیں۔ مگر افکار اور معلومات کی ترتیب اور عملی زندگی کے احوال پر قرآنی روح اور ان اصولوں کا انطباق ہمیشہ احوال کے تغیر اور علم کی ترقی کے ساتھ ساتھ بدلنا ضروری ہے۔ چنانچہ وہ جزئیات جن پر زمان و مکان اور تغیر احوال کے اثرات پڑسکتے تھے‘ قرآن میں نہیں رکھی گئیں۔ ایسا کرنا کسی بھول چوک یا سہو کا نتیجہ نہیں تھا‘ بلکہ مبنی برمصلحت تھا اور وہ مصلحت یہی ہو سکتی ہے کہ وحی میں تو چونکہ تبدیلی ممکن نہیں‘ اس لیے ان جزئیات کو وحی نہیں قرار دیا گیا۔ لہٰذا اب ایسی جزئیات جو قرآن میں نہیں تغیر احوال کے مطابق ان میں تغیر ممکن اور لازمی ہے۔
۶۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ طیبہ میں ایک عملی انسان ہونے کے ناطے یہی کیا۔ آپؐ نے قرآنی اصولوں کو اپنے ملک اور عہد کے خصوصی حالات کے مطابق منطبق کیا اور صرف وہ جزئیات مقرر فرمائیں جن کی ضرورت تھی۔ آپؐ آنے والے زمانے اور حالات کے متعلق جزئیات متعین نہیں فرما سکتے تھے کیونکہ تمام زمانی و مکانی قیود سے آزاد اگر کوئی ہے تو وہ صرف خداوندِعالم ہے جس کے پاس حقیقی علم ہے اور جس کے علم میں زمانہ کے تغیرات سے ذرہ برابر کوئی تغیر نہیں ہوتا‘‘۔لیکن چونکہ ’’اسلامی قانون کوئی ساکن اور منجمد(static) قانون نہیں ہے کہ ایک خاص زمانہ اور خاص حالات کے لیے اس کو جس صورت پر مدون کیا گیا ہو اس صورت پر وہ ہمیشہ قائم رہے اور زمانہ اور حالات اور مقامات کے بدل جانے پر بھی اس صورت میں کوئی تغیر نہ کیا جا سکے‘‘، اس لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مقرر کردہ جزئیات کو‘ وحی نہ ہونے کی وجہ سے قرآن میں تو خیر درج کروا ہی نہیں سکتے تھے‘ الگ ایک مجموعے کی صورت میں بھی لکھوا کر اُمت کو سپرد کیے بغیر اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
۷۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ تغیر احوال کے مطابق تغیر احکام ہو۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عہدرسالت اور عہدصحابہ میں عرب اور دنیائے اسلام کے جو حالات تھے وہ بعینہٖ ہر دور اور ہر ملک کے نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا احکام اسلام پر عمل کرنے یا قرآنی اصولوں کو اُس دور پر منطبق کرنے کی جو صورتیں اُن حالات میں اختیار کی گئی تھیں اُن کو ہوبہو تمام زمانوں اور تمام حالات میں قائم رکھنا اور مصالح و حکم کے لحاظ سے ان جزئیات میں کسی قسم کا ردّ و بدل نہ کرنا اسوہ رسول کی پیروی نہیں بلکہ محض ایک طرح کی رسم پرستی ہے اور یہی چیز اس دور میں اسلامی نظام کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
۸۔ لہٰذا انسانیت کی فلاح اور بقا کا راز اسی میں پوشیدہ ہے کہ بنی نوع انسان لپک کر وحی خداوندی کو سینوں سے لگا لیں۔ یہ وحی اپنی اصل حالت میں اب صرف قرآن مجید میں محفوظ ہے جو ہدایت عامہ کے لیے خداوندعالم کا عظیم تحفہ ہے۔
ہٰذا ما عندی والعلم عند اللّٰہ ، علیہ توکلت والیہ انیب

ضروری بات

اس کرہ ارض پر انسانی علم و ترقی کی داستان طویل بھی ہے اور حیرت انگیز بھی۔ کہاں لوگ جنگل میں رہ کر جانوروں کی کھالوں سے اپنی پوشاک اور گوشت سے اپنی خوراک حاصل کر کے مطمئن تھے اور کہاں اب ذائقے اور ذوق کے معاملے میں نت نئی اختراعات بھی انھیں چین سے بیٹھنے نہیں دیتیں۔ تجسّس وتحقیق کی خصوصیت انسان کو جنگل سے نکال کر بستیوں اور شہروں میں کھینچ لائی۔ زمین کی تسخیر سے جی نہ بھرا تو انسان نے خلا پر ہاتھ صاف کرنا شروع کر دیا۔ انسانی علم اور اس کی کارگزاریوں کی تاریخ سبق آموز بھی ہے اور المناک بھی۔ یہ تاریخ نتائج کے اعتبار سے کہیں انسان کے دامن کو خوشیوں سے بھرتی نظر آتی ہے اور کہیں تہی دامانی کے الزامات سے داغدار۔ خوب سے خوب تر کی جستجو اپنی جگہ مگر حضرت انسان اور اس کا نقد علم ابھی تک حقیقی اور پائیدار خوشی کے تعین میں بھی ناکام رہے ہیں۔
انسانی علوم کا ہر شعبہ بظاہر انسانی فلاح اور کامیابی کا علم لے کر اٹھا مگر ان مقاصد کے حصول میں کہیں تو جزوی طور پر کامیاب ہوا اور کہیں اسے کلی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ انسان نے جس چیز کی تعمیروترقی اور تزئین و آرائش میں صدیاں لگادیں اسی کی تخریب میں اسے چند گھنٹے درکار تھے۔ ان علوم کی محدودیت (limitations) کا ہی شاخسانہ تھا کہ ہر تعمیر میں خرابی کی کوئی نہ کوئی صورت موجود رہی۔ انسان کو مستقل شادمانیوں اور کامرانیوں سے ہم کنار کرنے کا دعویٰ کرنے والا علم ہی اس کی ناکامیوں اور نامرادیوں کا سبب بن کر رہ گیا۔ توازن و اعتدال کی باگ انسان کے یک رخے پن اور انتہا پسندی کے ہاتھ میں تھمانے کا قصوروار بھی انسانی علم کا ادھورا پن ہے۔
حقیقت کی تلاش میں انسان نے ٹھوکریں بھی کھائیں‘ پریشانیاں بھی اٹھائیں اور اس کے نام پر زہر کا پیالہ بھی منہ سے لگالیا۔ پھر بھی اضطراب میں ہی رہا کہ حقیقت کیا ہے؟ کہاں ہے؟ اس کو کیسے تلاش کیا جا سکتا ہے؟ کیا وہ ذرائع موجود ہیں جو انسان کو حقیقت تک پہنچا دیں؟ ان سب سوالات کے جواب میں بس اس قدر معلوم ہوسکا کہ انسانی علم کی بنیاد بہرحال انسان کے حواس ہی ہوسکتے ہیں۔ انھی سے بدیہی علم حاصل ہوسکتا ہے۔ عقل بھی دراصل ان حواس ہی کی مدد سے کوئی نتیجہ نکالتی اور حکم لگاتی ہے۔ لیکن دوسری جانب اہلِ علم کا تقریباً اتفاق ہے کہ حواس ناقص ہوتے ہیں اور غلطی بھی کرجاتے ہیں۔ ان سے حاصل ہونے والی معلومات (data) کی بنیاد پر عقل سو فی صد درست فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتی۔ ویسے بھی ع عقل عیار ہے سو بھیس بنا لیتی ہے۔۔۔ دیکھا جائے تو انسان کا علم اپنے محدود دائرے میں بھی پورے طور پر حاوی اور کامل نہیں اور محسوسات کو بھی ایک وقت میں محیط نہیں۔ عالمِ مادّیات کے کتنے مسائل ہیں جو ہنوز حل طلب ہیں اور مختلف آراء کا تو کوئی شمار ہی ممکن نہیں۔ پھر انسان کے علم میں تدریج اور اس کی معلومات میں ترقی ایک معروف حقیقت ہے۔ اس ترقی کی حد کبھی بھی متعین نہیں کی جا سکتی۔ حد کا تعین اس کے نقصان علم کا اعلان اور حد کا عدم تعین اس کے علم کے مشتبہ اور غیرمکمل ہونے پر دلالت کرتا ہے اور دونوں نقص اور شبہ سے خالی نہیں۔
یہ تو ذکر تھا محسوسات اور عالمِ مادّیات کا کہ جن کے تھوڑے بہت ذرائع انسان کو میسر ہیں۔ اس سے آگے بڑھیں تو مابعد الطبیعیات (metaphysics)کی ایک پوری دنیا ہے جو مادّیات سے کہیں زیادہ وسیع اور نامعلوم ہے۔ یہ پوری دنیا انسانی علم کی حدود سے ماورا ہے۔ انسان تو فی الحال اپنی حقیقت کا ہی شناسا نہیں۔ اپنی ابتدا اور انتہا سمیت یہ پوری کائنات ہی اس کے لیے ایک سربستہ راز ہے۔ ان وجوہ کی بنا پر اخلاقی نظام کی تشکیل کا سوال ہو یا قانون سازی اور سیاسی نظام کی تشکیل کا‘ کسی ایک معیار اور ماخذ کی عدم موجودگی میں مختلف نظاموں اور قوانین میں مطابقت ممکن ہی نہیں۔ خواہشات اور مصلحتوں کے اختلاف نے ہمیشہ تصادم کو جنم دیا ہے اور آیندہ بھی اس سے مختلف نتیجہ ظاہر ہونے کی کوئی توقع نہیں۔
انسانی حواس ہمیشہ معروضی انداز میں کام نہیں کرتے اس لیے درست نتیجہ فکر تک پہنچنا آسان نہیں رہتا۔ حواس دراصل خود ہی حقیقت کی تلاش میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسان اپنی تمام تگ و تاز اور دشوارگزار گھاٹیوں سے گزرنے کے باوجو د منزل تک پہنچنے میں ناکام رہتا ہے۔
اس کتاب کے پہلے حصے میں انسانی علم کے اسی المناک پہلو کی داستان کا ذکر ہے۔
کتاب کے دوسرے حصے میں انسانی علم کے برعکس ایک دوسری قسم کے علم کا ذکر ہے جو انسانی حواس سے ماورا ہے۔ یہ علم ہمیں وحی ربانی سے متعارف کرواتا ہے۔ اس علم کی تلاش کرتے ہوئے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وحی پر مبنی علم میں انسانی علوم کی آمیزش اسے کیا بنادیتی ہے۔ تحقیق و تجسّس کی اس جستجو کے نتیجے میں یہ بھی پتا چلتا ہے کہ گذشتہ انبیائے کرام ؑ پر نازل ہونے والی کتابوں کو خود ان کے ماننے والوں نے کس قدر مسخ کرڈالا۔ ان کتابوں میں ہونے والی ترامیم اور اضافے کہیں تو شعوری کوشش اور مخصوص مقاصد کے حصول کی خاطر وقوع پذیر ہوئے اور کہیں ہر زمانے کے خصوصی حالات نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔
تحقیق کے بعد یہ پوری طرح ثابت ہوجاتا ہے کہ اس کرہ ارض پر صرف قرآن مجید ہی شروع سے مکمل طور پر اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔ ہم نے اس بدیہی حقیقت کو اپنے خیال کے ماتحت کرنے یا محض مسلمان مفکرین کی تحقیقات کو بنیاد بنانے کی بجائے غیرمسلم مفکرین کی قرآن کے بارے میں آرا سے یہ ثابت کیا ہے کہ واقعی قرآن مجید ہی واحد‘ محفوظ اور غیرمتبدل کتابِ وحی کی صورت میں موجود ہے۔
دوسرے حصے کی فصل سوم اور چہارم میں ہم نے شعوری طور پر اس بات کی کوشش کی ہے کہ علمائے متاخرین سے زیادہ استفادہ کیا جائے اور ناگزیر صورت میں ہی علمائے متقدمین سے رجوع کیا جائے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ بیسویں صدی کی آخری چھ سات دہائیوں میں علمائے کرام نے اسلامی موضوعات پر جدید اسلوب و لغت میں بہت زیادہ کام کیا ہے۔ اس سے قبل شاید کوئی یہ کہہ سکتا تھا کہ اسلام پر نئے اسلوب اور محاورے میں تصنیف کردہ لٹریچر بہت کم دستیاب ہے اور اگر مختلف موضوعات پر کوئی جدید تعلیم یافتہ مسلم یا غیرمسلم کام کرنا چاہے یا سمجھنا چاہے تو قدیم لٹریچر سمجھنا اس کے لیے آسان نہیں اور نیا مواد اسے میسر نہیں۔ اس وقت یہ صورت حال نہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ قدیم لٹریچر نسبتاً مشکل ہے اس لیے اس کی تفہیم میں کئی آرا پیدا ہو سکتی ہیں اور ہم اپنے آپ کو اس بحث میں الجھنے سے بچانا چاہتے ہیں کہ متقدمین کی کتابوں کی عبارات کا صحیح مفہوم ہی اخذ نہیں کیا گیا۔ اس طرح اصل موضوع سے ہٹ کر توجہ دوسرے غیراہم اور غیرمتعلق موضوع کی طرف مبذول ہوجاتی ہے۔ ماضی میں اس طرح کے کئی واقعات ہمارے پیشِ نظر ہیں۔ ان مباحث میں آپ کو مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ اور مولانا تقی عثمانی صاحب کے اقتباسات نسبتاً زیادہ ملیں گے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان مفکرین نے موضوعاتِ زیربحث پر زیادہ تفصیل سے کام کیا ہے۔
اس کتاب کی تالیف میں جن علمائے کرام اور اہل دانش نے رہنمائی فرمائی ہے ان کا شکریہ ادا کرنا فی الحقیقت ایک ہلکی سی بات ہوگی۔ پہلے حصے تک ماخذ کی رسائی کے سلسلے میں بیشتر رہنمائی پروفیسر نذیراحمد شال صاحب نے فرمائی ہے۔ دوسرے حصے کی فصل سوم میں قرآن مجید کے اہم مباحث پر محترم جاوید احمد غامدی صاحب‘ معزامجد صاحب اور شہزاد سلیم صاحب نے میری بے حد مدد کی۔ کتاب کے مسودے پر نظرثانی اور عبارت کی نوک پلک درست کرنے سے لے کر پوری کتاب کو مربوط بنانے اور ہمت و حوصلہ افزائی کرنے میں میرے نہایت ہی عزیز دوست فیاض شاہد صاحب نے میری بھرپور مدد اور رہنمائی کی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی حوصلہ افزائی شامل نہ ہوتی تو میں شاید یہ کام کرہی نہ سکتا۔ ان سب کا رسمی شکریہ بہت ہی معمولی بات ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر سے نوازے۔ سب سے بڑھ کر میں اپنے خالق کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اسی کی توفیق سے ہی یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچ سکا۔

محمد انور عباسی‘ اسلام آباد


پیش لفظ

انسان نے سمندروں اور آسمانوں کو مسخر کر ڈالا ہے اور فطرت کی طاقتوں کو اپنی خدمت میں لگالیا ہے۔ اس نے اپنے معاملات کے لیے وسیع اور پیچیدہ ادارے اور تنظیمیں قائم کرلی ہیں۔ بہ ظاہر وہ مادّی ترقی کے اوجِ کمال پر جا پہنچا ہے۔
انسان کا یہ دعویٰ ہے کہ اس نے کائنات میں اپنی حیثیت پر خوب اچھی طرح غور کرلیا ہے۔ اس نے اپنے حواس اور تجربات سے حاصل کیے ہوئے علم اور عقل کی روشنی میں حقیقت کی تعبیر کرنا شروع کر دی ہے۔ اپنی قوت استدلال اور سائنس و ٹکنالوجی کی قوتوں میں نو دریافت شدہ اعتماد نے اس کا رشتہ روایت سے‘ وحی کی صداقت سے‘ تجربے سے بالاتر معاملات سے غرض یہ کہ اپنے بارے میں ہدایت کی کسی بھی صورت سے توڑ دیا ہے۔
وہ اس اعلیٰ مقام سے دنیا کو اپنے نظریات‘ اپنے رجحانات اور پسند کے مطابق ڈھالنا چاہتا ہے۔ لیکن یہ ’’عالم نو‘‘جو اس نے پیدا کر لیا ہے زیادہ سے زیادہ انسانوں کو ایک انتہائی خطرناک فریب خوردگی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ٹکنالوجی کی بے مثال ترقی اور مجموعی مادّی ترقی کے باوجود انسان کی حالت انتہائی غیرتسلی بخش ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ طاقت ور کمزور کو دبا رہاہے اور امیر غریب پر مسلط ہے اور دولت کی ریل پیل کے باوجود غربت میں اضافہ ہو رہا ہے اور ستم یہ ہے کہ غریب ممالک غریب تر ہو رہے ہیں اور امیرملکوں میں بھی غریبوں کی تعداد برابر بڑھ رہی ہے۔ نتیجتاً بے زر‘ زردار کے خلاف صف آرا ہیں۔ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ناانصافی اور استحصال کا بازار گرم پاتا ہے۔ وہ خاندان کی ٹوٹ پھوٹ‘ افراد کی معاشرے سے اجنبیت اور اس کے اداروں سے دُوری سے دوچار ہے۔ یہاں تک کہ انسان آج خود کو خود سے دُور دیکھ رہا ہے۔ وہ تمام انسانی دائروں اور سرگرمیوں میں اعتماد اور اختیار کے غلط استعمال کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ اگرچہ اس نے ہوا میں اڑنے اور سمندر میں مچھلیوں کی طرح تیرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ تو کر دیا ہے‘ تاہم وہ زمین پر ایک اچھے انسان کی طرح رہنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس کی یہ ناکامی اس امر کو مشکوک بنا دیتی ہے کہ وہ اپنے اجتماعی معاملات کو واضح رہنما خطوط کے بغیر چلا سکتا ہے۔
انسان اپنے آپ کو دونوں طرح سے مشکل میں پاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ تہذیب و تمدن کی معراج کو پہنچ چکا ہے لیکن بامِ عروج پر پہنچتے ہی وہ اپنے آپ کو ایک نئے اور بڑے خلا میں موجود پاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو اور اپنی تراشیدہ تہذیب کو اپنی ہی دریافت شدہ قوتوں سے خطرے میں پاتا ہے۔ وہ پریشان ہوکر ایسے آسروں اور سہاروں کی تلاش میں لگ جاتا ہے جو اس کی زندگی کو تباہی سے بچاسکیں اور وہ اپنے محبوب خوابوں کی تعبیر سے محروم نہ ہو۔ اسے احساس ہے کہ اس کا تصورِ جہاں ان واضح معیارات سے خالی ہے جو صحیح اور غلط کی تمیز کرنے میں اس کے ممدومعاون ثابت ہوں۔ وہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کا علم اور مہارت‘ اس کو وہ عالم گیر معیار یا میزان عطا کرنے میں ناکام ہیں جو اسے اچھے اور بُرے کا فرق بتا سکیں۔ وہ دیکھتا ہے کہ تبدیلی اور تبدیلی کی رفتار نے اس کے قدم اکھاڑ دیے ہیں۔ اس کو اضافیت اور ثبات نے محرومی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ اب انفرادی یا اجتماعی اخلاقیات کی بنیاد کے طور پر کوئی ایسی چیز باقی نہیں رہی جو ٹھوس اور دائمی ہو۔ وقت کے بہتے دھارے کے ساتھ‘ انسان جس سمت کی طرف بہے جا رہا ہے‘ وہ خود اس کے بارے میں مشکوک ہوتا رہا ہے۔ اسی مخمصے سے نجات حاصل کرنے میں ناکامی بلکہ احساس نااہلیت اسے مایوسی اور افسردگی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ انسان روز بروز خود غرض اور اپنے اہل و عیال اور انسانیت کی اجتماعی ضروریات سے لاپروا ہوتا جا رہا ہے۔ انسان کو ایک راستے کا انتخاب کرنا ہے: وہ اپنے کو حیوان کے علاوہ کچھ اور نہ سمجھے اور افسردگی کے عالم میں اپنے کو ایک ’’بے لباس بندر‘‘ قرار دے‘ یا پھر وہ سنجیدگی اور وقار کو ملحوظ رکھتے ہوئے انسان اور معاشرے کے لیے ایک نئے نمونے یا تصور (paradigm) کی تلاش میں لگ جائے۔

تہذیب کا بحران

اکیسویں صدی کے اس پہلے عشرے میں انسان اسی تکلیف دہ صورت حال سے دوچار ہے۔ بیسویں صدی کے بڑے بڑے فلسفی تاریخ دانوں‘ اوسوالڈ سپنگلر (مغرب کا زوال)‘ آرنلڈ ٹائن بی (تاریخ کا مطالعہ) اور پٹرم سوروکن (معاشرتی و ثقافتی علومِ حرکیات اور ہمارے عہد کے بحران) کا خیال ہے کہ مغرب کی غالب لادینی تہذیب‘ انسان دوستی کے خوش نما سُر اور تال کے باوجود اور مادّی خوشحالی یا فوجی طاقت کی بے کراں وسعتوں کے باوجود ایک کرب ناک بحران میں مبتلا ہے۔ وہ طاقتیں جنھوں نے اس تہذیب کے عروج اور غلبے کے لیے راہ ہموار کی تھی‘ اپنی توانائی کھو چکی ہیں۔ اب انتشار اور تنزل کی طاقتیں قوت و استحکام کی طاقتوں پر حاوی ہوتی جارہی ہیں۔ وہ لنگر گاہیں جو جہازوں کو تحفظ فراہم کرتی تھیں اب بے وزن ہو رہی ہیں۔ وہ اقدار جو لوگوں کو جوڑتی تھیں اب ابتری کی حالت میں ہیں۔ یہ روگ ایک یا چند علاقوں تک محدود نہیں ہے‘ بلکہ زندگی کا سارا دریا اسی آلودگی کا شکار ہوگیا ہے۔
جدید تاریخ کے ایک باشعور تجزیہ نگار جوزف اے کمیلیری (Joseph A. Camilleri) نے ہمارے وقتوں کے اس بحران کا منظرنامہ نہایت خوبی سے یوں بیان کیا ہے:
موجودہ انسانی بحران اتنا شدید اور ہمہ گیر ہے کہ اس کے تجربے کی کوشش بھی ایک مشکل عمل ہے چہ جائے کہ اس کا حل جو بظاہر ناممکن نظر آرہا ہے۔ اس بحران کے سامنے انسانی عقل و فہم اور فکر کی قوتیں شکست کھاتی دکھائی دیتی ہیں۔ ان دنوں وہ لاکھوں انسان اپنی بقا کی جنگ لڑرہے ہیں جن کی غیرمحفوظ ہستی غربت‘ پسماندگی اور بھوک جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ انسانی زندگی کی یہ ناخوش گوار صورت حال ان اقوام کے مستقبل کے لیے خطرہ ہے جو بیرونی حملے یا اندرونی انتشار کے خطرے کی زد میں ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات کا وسیع دائرہ دہشت گردی اور خوف کے خطرناک اورغیر مستحکم ’’توازن‘‘ پر انتہائی نزاکت کے ساتھ استوار ہے۔
وقت‘ خلا اور حرکت کے روایتی تصورات کو ٹکنالوجی کے انقلاب اور طاقت پسند استحصالی ثقافت نے اُلٹ پلٹ کر رکھ دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایک ایسا معاشرتی فساد‘ نفسیاتی عدمِ تسلسل اور اخلاقی خلا پیدا ہوا ہے‘ جس نے ضمیر کا ایک شدید بحران ہی نہیں پیدا کیا بلکہ حقیقت سے بڑے پیمانے پر فرار اختیار کرنے کی راہ بھی سجھائی ہے۔
جو بحران اکیسویں صدی کے انسان کے سامنے ہے وہ واقعی عالم گیر حیثیت کا حامل ہے۔ نہ صرف اس وجہ سے کہ یہ لاتعداد مردوں اور عورتوں کو متاثر کرتا ہے بلکہ دُور رس معنی میں یہ تمام انسانی تعلقات اور اداروں کے تانے بانے میں بگاڑ پیدا کرتا ہے۔ امرواقعہ یہ ہے کہ اس نے انسان کے فطرت کے ساتھ رشتے کو مسخ کردیا ہے۔ کوئی انسانی معاشرہ‘ کوئی فرد‘ کرۂ ارض کا کوئی گوشہ خواہ وہ کتنا ہی دُور افتادہ یا الگ تھلگ ہو‘ کتنا ہی طاقت ور یا خوش بخت ہو‘ اس بدنظمی کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا جو سارے کرۂ ارض پر پھیلی ہوئی ہے۔ ہم اس عالم گیر بحران کو بنیادی عدمِ توازن کا نام دے سکتے ہیں‘ جو انسان کی اس کے ماحول کے ساتھ حیاتیاتی و ثقافتی مطابقت اور ربط کی صلاحیت کو محدود کرکے اسے تباہ کر دیتا ہے۔
جدید صنعتی معاشرے میں یہ مریضانہ رویے عام ہیں: کچھ ہونے یا کچھ بن جانے کے بجائے سب کچھ رکھنے اور حاصل کرنے کا رویّہ‘ طاقت کا جنون‘ دوسروں کو آزاد کرنے کے بجائے ان پر غلبہ حاصل کرنے کا جنون‘ شراکت کی ایک وسیع تر معاشرتی حقیقت میں شرکت کے بجائے احساسِ اجنبیت کی طرف لپکنے کا رجحان‘ فراغت کو تخلیقی اور منفعت بخش مصروفیات میں صرف کرنے کے بجائے محض وقت گزارنے اور اسے ضائع کرنے کا رجحان‘ اندرون کی طرف توجہ کے بجائے بیرون میں مداخلت کا نفسیاتی مزاج جو جنس‘ نسل‘ مذہب یا قومیت کی بنیاد پر تفریق کو بڑھائے۔ تنازعات کو طاقت کے استعمال یا دھونس سے حل کرنے کا رجحان‘ ان سماجی امراض کو جدید صنعتی معاشرے میں دولت‘ طاقت اور علم کی تہ در تہ شکلوں میں اداراتی شکل دی گئی ہے۔ انسانی ضروریات پورا کرنے کو فوقیت دینے کے بجائے صنعتی پیداوار کی اجارہ داری قائم رکھنے سے مریضانہ رویوں کی اداراتی شکل اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ اب نہ صرف انسانی زندگی کا اعلیٰ معیار محفوظ نہیں‘ بلکہ اس کی بقا خطرے میں ہے۔۔۔ اگر آج انسانی تہذیب کی زوال پذیر حالت کی صحیح تشخیص یہ ہے تو پھر کوئی جستہ جستہ‘ یا عارضی یا محدود طریقہ علاج اسے دُور کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ نوعِ انسانی کے نامیاتی (Organic) ارتقا کو قائم رکھنے کے لیے ایسی فضا فراہم کرنا اور ایسے جوابات تلاش کرنا ہوں گے جو اپنی اصل میں انقلابی اور عالمی ہوں۔
کونسل آف کلب روم کی تازہ ترین رپورٹ پہلے عالم گیر انقلاب (۱۹۹۱ء) جو اس سے پہلے والی ’’رپورٹ ترقی کی حدود‘‘ (۱۹۷۲ء) کے بعد منظرعام پرآئی ہے نہ صرف اس بحران کا تازہ ترین اشاریہ ہے بلکہ ایک کھلی اپیل بھی ہے کہ اس بحران سے نکلنے کا کوئی راستہ‘ انسانی فطرت کی بنیادی مبادیات کی طرف لوٹ کر تلاش کیا جائے۔
رپورٹ کا آغاز اس نکتے سے ہوتا ہے: نئی صدی کے آغاز پر نوعِ انسانی بے یقینی کی گرفت میں محسوس ہوتی ہے‘ بلکہ ہزاریے کا اختتام اپنے وسیع تر سرعت پذیر تبدیلی کے ساتھ بے یقینی کی زیادہ گہری کیفیت لا رہا ہے۔
یہ رپورٹ تسلیم کرتی ہے کہ باوجود بے مثال معاشی ترقی کے تقریباً ایک اعشاریہ تین ارب لوگ جو عالمی آبادی کے ۲۰ فی صد سے زیادہ ہیں‘ شدید بیماری یا بھوک کا شکار ہیں۔ یہ رپورٹ معاشی ناہمواریوں‘ کھلی عدمِ مساوات‘ حددرجہ عام اور شدید غربت بہ مقابلہ دولت کی فراوانی‘ ہر قسم کے ذہنی و نفسیاتی دباؤ اور چپقلشوں کو جو مختلف جغرافیائی علاقوں میں سراٹھا رہی ہیں‘ غیرمتنازعہ حقائق کے طور پر ریکارڈ پر لاتی ہے۔ یہ رپورٹ آج کی صورت حال کو اس حقیقت کی بڑھتی ہوئی آگہی کے طور پر پیش کرتی ہے کہ ’’نسلِ انسانی جس طرح مادّی فوائد کے لیے فطرت کا استحصال کر رہی ہے‘ اس سے دراصل وہ اس سیارے کو تباہی کی طرف لے جارہی ہے‘‘۔ انسانی بے اطمینانی کے حوالے سے رپورٹ بتاتی ہے:
پہلے عالم گیر انقلاب کی غیرمعمولی تبدیلیوں کی پیدا کردہ صدماتی لہروں کی زد سے کوئی علاقہ یا معاشرہ نہیں بچ سکا ہے۔ اس اُکھاڑ پچھاڑ نے ماضی سے ورثے میں ملے ہوئے سماجی تعلقات‘ عقائد اور انسانی رشتوں کو توڑ دیا ہے اور مستقبل کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل بھی نہیں دیا۔ شکوک اور مایوسی کی بہت سی وجوہ ہیں۔ اقدار اور حوالوں کا غائب ہوجانا‘ دنیا کی روزافزوں پیچیدہ اور غیریقینی صورت حال‘ نئے عالم گیر معاشرے کے استدراک میں حائل مشکلات‘ نئے غیرحل شدہ مسائل مثلاً ماحولیاتی ابتری کا سلسلہ اور جنوبی ممالک کی انتہائی غربت اور پس ماندگی‘ نیز ذرائع ابلاغ کے اثرات جو کسی سنگین حقیقت اور کسی ناگہانی مصیبت کے المیے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔
اس چیلنج کی ماہیت اور وسعت کا نقشہ پیش کرتے ہوئے رپورٹ کہتی ہے:
اس سے پیش تر تاریخ میں انسان کبھی بھی اتنے خدشات و خطرات سے دوچار نہیں ہوا۔ اس کو بغیر کسی تیاری کے ایک پتھر یا گولے کی طرح دنیا میں پھینک دیا گیا جہاں وقت اور فاصلے کا احساس ختم ہوچکا ہے۔ انسان کو ایک سمندری طوفان کے اندر کھینچ لیا گیا ہے جہاں اسباب و نتائج ایک ایسا جالا بنتے ہیں جس سے باہر نکلنا محال ہے۔ صدی کے اس آنے والے موڑ پر ہر جہت سے آنے والی مظاہر قدرت کی فراوانی نوعِ انسانی پر چھا گئی ہے۔ حقیقت ان الفاظ سے زیادہ ہے کیونکہ روایتی ڈھانچے اور ادارے مسائل کی موجودہ پیچ در پیچ تہوں کا مقابلہ نہیں کر پا رہے۔ مزید خرابی یہ ہے کہ دقیانوسی اور غیر موزوں ڈھانچے حقیقی اخلاقی بحران میں رائج کیے جا رہے ہیں۔ آج معاشرے کو جس خلا کا سامنا ہے اس کی تصدیق نظامِ اقدار کی ٹوٹ پھوٹ‘ روایات پر شکوک و شبہات‘ نظریات کے انہدام‘ عالم گیر وژن کے فقدان اور جمہوریت کے رائج طریقوں کی محدودیت وغیرہ سے ہوتی ہے۔ افراد خود کو بے یارومددگار پاتے ہیں۔ کیوں کہ ایک طرف ان خطرات کا سامنا ہے اور دوسری طرف پیچیدہ مسائل کا بروقت جواب دینے اور برائی کی شاخوں کی جڑ پر وار کرنے کی اہلیت وہ اپنے اندر نہیں پاتے۔
بڑی دلچسپ اور معلومات افزا بات یہ ہے کہ رپورٹ ان مسائل کے حوالے سے بنی نوع انسان کو دعوت دیتی ہے کہ وہ قرآن پاک کی سورۃ العصر پر غور کرے:
والعصر o ان الانسان لَفِیْ خسر o الا الذین اٰمنوا وعملواالصلحٰت وتواصوا بالحق وتواصوا بالصبر o (العصر ۱۰۳:۱۔۳)
زمانے کی قسم! انسان درحقیقت بڑے خسارے میں ہے سوائے ان لوگوں کے‘ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔

اسلامی متبادل

تہذیب کے بحران کا معروضی تجزیہ یہ ضرور بتائے گا کہ نوع انسانی ایک نازک مقام پر کھڑی ہے۔ موجودہ صورت کے جاری رہنے میں تباہی لازمی ہے۔ اس کی بقا کا انحصار اس پر ہے کہ نوع انسانی کی اخلاقی بنیادوں کی بازیافت سے نیا آغاز کیا جائے‘ اور انسانوں اور معاشرے کے ایسے تصور کو تسلیم کیا جائے جو دنیا‘ نوعِ انسانی اور اس کی تقدیر کا ادراک اخلاقی بنیادوں پر کرے۔
اس مقام پر انسانوں کی ضرورت ہے کہ وہ اللہ کے کلام اور اس کی دی ہوئی ہدایت سے رشتہ استوار کریں۔ یہ انھیں ان کے اخلاق سے آگاہ کرتا ہے اور انھیں ان کی تخلیق کا مقصد بتاتا ہے۔ اشرف المخلوقات کی حیثیت سے انسان کو اس کے مقام سے آگاہ کرتا ہے اور ایک بھرپور اور ثمرآور زندگی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ان کو آخرت کے بارے میں بتاتا ہے۔ ان کو دوسرے انسانوں کی قدروقیمت سے آگاہ کرتا ہے اور ہر چیز کو حق اور انصاف کے تابع کر دیتا ہے۔ یہ ان کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ اپنے ساتھ‘ تمام مخلوق کے ساتھ اور اپنے خالق کے ساتھ سکون سے رہیں۔
اس حقیقی چیلنج کے پیش نظر جو آج بنی نوع انسان کو درپیش ہے یہ کہنا چاہیے کہ اصل مسئلہ محض کسی نئے اقتصادی نظام یا نئی عالم گیر سیاسی تنظیم کا نہیں ہے‘ بلکہ اس نئے عالمی نظم کا ہے جو انسان کے نئے تصور اور معاشرے اور انسان کی تقدیر کے متعلق ایک مختلف وژن پر مبنی ہو۔ اصلاح کے لیے جو کوشش عالمی مذاہب کے زیراثر عموماً‘ اور اسلام کے زیراثر خصوصاً کی جائے‘ اس کا آغاز یہ ہے کہ انسان کا اصل مسئلہ سمجھنے اور اس کے حل تک پہنچنے کے لیے اس تصور کو درست کرنے کی طرف پیش قدمی کی جائے۔
اصل ضرورت یہ نہیں ہے کہ بڑی ساختوں (superstructures) میں بعض تبدیلیاں لانے کے بارے میں کچھ رعایتیں تلاش کی جائیں بلکہ ضرورت یہ ہے کہ ان بنیادوں کو پرکھا جائے جن پر سارا معاشرتی ڈھانچہ اور معیشت کی عمارت تعمیر کی گئی ہے۔ ان مقاصد کا جائزہ لیا جائے جو ثقافت حاصل کرنا چاہتی ہے۔ معاشی‘ سیاسی اور معاشرتی تعلقات میں پایا جانے والا بحران‘ ان تصورات اور ان اداروں کا جو ان کے حصول کے لیے بنے‘ قدرتی نتیجہ ہے۔ اس لیے اسلام کا پیغام یہ ہے کہ نوعِ انسانی کے لیے افراد اور معاشرے کا درست وژن ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس سے حالات درست ہوسکتے ہیں۔ اس کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی سوچ میں بنیادی تبدیلی لائیں۔
تبدیلی کا طریقہ کار اور حکمتِ عملی جیسی کہ یہ معاصر مغرب میں نشوونما پارہی ہے اور روبہ عمل ہے‘ اس سے یہ قیاس کر لیا گیا ہے کہ انسانوں میں انقلابی تبدیلی صرف اس صورت میں لائی جاسکتی ہے‘ جب ماحول اور اداروں کو تبدیل کر دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بیرونی طور پر ازِسرنو تعمیر پر زور دیا جاتا ہے۔ اس طریقے کی ناکامی کی وجہ انسانوں کو‘ ان کے عقائد‘ ان کے محرکات‘ ان کی اقدار اور ان کی ذمہ داریوں کو مرکز توجہ نہ بنانا ہے۔ اس طریقے نے انسان کے دل و دماغ میں تبدیلی کو نظرانداز کیا ہے اور اصل توجہ باہر کی دنیا میں تبدیلی پر مرکوز کی ہے۔ جو شے ضروری ہے وہ انسانوں کے اپنے اندر اور ان کی معاشرتی و معاشی کیفیت میں مکمل تبدیلی ہے۔ مسئلہ محض بناوٹ یا ساخت کا نہیں ہے لیکن ساختی انتظامات کو بھی نئی شکل دینا ہوگی۔ نقطۂ آغاز انسانوں کے دل اور روح اور حقیقت (reality) کے تصور اور زندگی میں ان کے مقام اور مقصدِزندگی کو ہونا چاہیے۔
معاشرتی تبدیلی کے اسلامی نقطۂ نظر میں ان تمام عناصر کو ملحوظ رکھا گیا ہے:
۱۔ معاشرتی تبدیلی مکمل طور پر پہلے سے طے شدہ تاریخی قوتوں کا نتیجہ نہیں ہے۔ اگرچہ بہت سی رکاوٹوں اور مشکلات کا وجود زندگی اور تاریخ کی ایک حقیقت ہے‘ مگر تاریخ میں کوئی جبر نہیں ہے۔ تبدیلی کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور پھر اسے بروئے کار لایا جاتا ہے۔ یہ تبدیلی بامقصد ہونی چاہیے اور منزلِ مقصود کی جانب رواں رکھنے والی ہونی چاہیے۔
۲۔ انسان ہی تبدیلی کا سرگرم اور اصل عامل ہے۔ زمین پر اللہ کے نائب یعنی خلیفہ فی الارض (vicegerent) کی حیثیت سے تمام دوسری قوتیں اس کے تابع کر دی گئی ہیں۔ اس کائنات کے الوہی انتظام کے اندر اور اس کے قوانین کے تحت اپنی قسمت بنانے یا بگاڑنے کا ذمہ دار خود انسان ہی ہے۔
۳۔ ضرورت ہے کہ تبدیلی صرف ماحول اور بیرونی نظام کی نہ ہو بلکہ مردوزن تمام انسانوں‘ سب کے دل اور روح کے اندر بھی تبدیلی لائی جائے۔ یعنی ان کے رویوں میں‘ ان کے محرکات میں‘ ان کی وابستگیوں میں اور ان کے ارادوں میں کہ وہ اپنے اندر اور اپنے آس پاس سب کو اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے متحرک کر دیں۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی تبدیلی وہی ہو سکتی ہے جس کی بنیاد ایمان اور اعتقاد پر ہو۔
۴۔ زندگی باہمی تعلقات کا ایک تانا بانا ہے۔ تبدیلی کا مطلب ہے کہ بعض تعلقات بعض جگہوں پر منقطع ہوں۔ اس میں یہ خطرہ ہے کہ تبدیلی معاشرے میں افراد کے درمیان عدمِ توازن کا ایک آلۂ کار بن جائے۔ ایک حالت توازن سے بہتر ارتقائی حالت کی طرف‘ یا ایک عدم توازن سے حالت توازن کی طرف لے جانے والی منظم اور مربوط‘ اسلامی معاشرتی تبدیلی کم سے کم انتشار اور عدمِ توازن کی کیفیت پیدا کرے گی۔ لہٰذا تبدیلی کو متوازن‘ بتدریج اور ارتقائی ہونا چاہیے۔ اختراع (innovation) کو انجذاب (assimilation) کے ساتھ ملانا ہے۔ یہ منفرد اسلامی طرز ہی ہے جو ارتقائی مدار پر انقلابی تبدیلیوں کی طرف لے جاتا ہے۔ اگر یہ بنیادی تبدیلیاں عمل میں لائی جائیں تو یہ نئے عالمی نظام کے مسائل سے نبٹنے کی ہماری حکمت عملی کو تبدیل کر دیں گی۔
اسلام اللہ کی آخری اور مکمل ترین ہدایت کا حامل ہے۔ یہ مجموعہ قوانین‘ زندگی کا عملی نمونہ ہے جو اللہ پاک نے‘ جو خالق و مالک کائنات ہے‘ نسلِ انسانی کی رہنمائی کے لیے بذریعہ وحی نازل کیا ہے۔ اسلام انسانوں کا اللہ سے اور اس کی تخلیقات سے ایسا تعلق قائم کرتا ہے کہ وہ تمام موجودات سے تعاون کرتے ہوئے کام کرتے ہیں۔ اس جہت (dimension) سے غفلت نے انسانی زندگی کو درماندہ کر دیا ہے اور نوع انسانی کی مادّی فتوحات اور کامیابیوں کو بے معنی بنا دیا ہے۔ لادینیت کی گرفت نے انسانی زندگی کو اس کی روحانی اہمیت سے محروم کر دیا ہے‘ تاہم روحانی عظمت‘ پنڈولم کو دوسری انتہا کی طرف جھولا دینے سے حاصل نہیں کی جاسکتی۔ مادّیت اور روحانیت کی یک جائی ہی سے مطابقت اور توازن پیدا کیا جا سکتاہے۔ زندگی نام ہی جسم اور روح میں یک جائی کا ہے اور موت اس رشتے کے ٹوٹ جانے کا نام ہے۔ یہی معاملہ تہذیب کی زندگی اور بالیدگی کا ہے۔ نہ محض روحانیت پر مبنی نظام‘ زندگی کے مسائل کا حل ہے اور نہ صرف مادّی اور طبعی عوامل پر مبنی۔ دونوں کا امتزاج اور یک جائی ہی انسانی زندگی میں توازن اور ہم آہنگی کے ضامن ہوسکتے ہیں۔
یہی راستہ ہے جس کی اسلام وکالت کرتا ہے۔ یہ انسانی وجود کی ساری وسعت کو روحانی اور مذہبی بناتا ہے۔ اس طرح یہ انسانی مرضی کو اللہ کی مرضی سے ہم آہنگ کرنے کی علامت بن جاتا ہے۔ کیونکہ اسی طریقے سے انسانی زندگی کو امن و سکون میسر آسکتا ہے۔ اللہ کے ساتھ تعلق کے رشتے کو دریافت کر کے ہی لوگ اپنی زندگی میں سکون پاتے ہیں۔ نیز فطرت کے ساتھ بھی بیرونی و اندرونی ہر طرح سے سکون اسی طرح حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انسان اور فطرت ایک دوسرے کے ساتھ حالتِ جنگ میں نہیں ہیں۔ وہ ایک مشترکہ جدوجہد میں ایک دوسرے کے شراکت دار ہیں تاکہ تخلیقِ آدم کے مشن کی تکمیل کریں۔ اس مربوط نقطۂ نظر میں ماحول کی کارفرمائی سے غفلت کی کوئی گنجایش نہیں۔ اسلام اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہم آج نئے عالمی نظام کی تلاش میں زندگی کے کسی ایسے نئے ڈھب کی جستجو کریں جو انسانی مسائل کو کچھ مختلف طریقوں سے سلجھائے۔ یہ حل جو محض محدود قومی یا علاقائی مفادات کے تناظر میں نہ ہو‘ بلکہ اس کے پیشِ نظر یہ بھی ہو کہ کیا درست اور کیا نادرست ہے؟ کیا احسن طریقے سے ہم انفرادی ‘ قومی اور عالمی سطحوں پر ایک منصفانہ انسان دوست عالمی نظام کی نشوونما کے لیے کوشش کر سکتے ہیں؟
برادر عزیز محمد انور عباسی نے عالمِ انسانیت کے انھی حالات کا گہری نظر سے مطالعہ کیا ہے اور جدید علوم‘ خصوصیت سے سائنسی فکر اور عمرانی علوم کا معروضی جائزہ لے کر وحی کی حقانیت کو مضبوط دلائل سے ثابت کیا ہے اور قرآن و حدیث کی دکھائی ہوئی راہ کی طرف آج کے انسان کو دعوت دی ہے۔ مجھے توقع ہے کہ جدید تعلیم یافتہ افراد ہی نہیں دینی مدارس سے فارغ ہونے والوں کے لیے بھی یہ کتاب بڑی مفید رہے گی۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس سعی کو شرفِ قبولیت بخشے اور لوگوں کے دلوں کو اس پیغام کے لیے کھول دے۔ وما توفیق الا باللّٰہ۔

پروفیسر خورشید احمد
۱۷ ستمبر ۲۰۰۲ء
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"

Last edited by rana ammar mazhar; 12-12-11 at 07:37 PM..

rana ammar mazhar
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 143
Reply With Quote
جواب

Tags
فرض, کمال, کتابوں, پاکستان, واقعات, قید, قرآن, چین, نماز, موت, مجید, معراج, آلودگی, ایمان, اسوہ رسول, تلاش, حدیث, دوست, دریافت, راستہ, سیارے, سائنس, طلاق, عقل, غامدی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ماحولیاتی تغیر پر معاہدہ طے پا گیا محمدعدنان عمومی سائنس 1 13-12-10 01:00 PM
آئین میں اٹھارہویں ترمیم۔۔۔۔۔۔ جمہوریت کے چہرے پر آمریت کا ایک اور بد نماداغ Zullu230 سیاست 6 29-06-10 12:18 AM
’موسمی تغیر سورج سے جڑا نہیں‘ وجدان دلچسپ اور عجیب 3 05-11-08 01:49 AM
’موسمی تغیر سورج سے جڑا نہیں محمدعدنان خبریں 0 04-04-08 05:56 AM
اے تغیر زمانہ یہ عجیب دل لگی ہے۔ خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 1 29-09-07 11:27 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:04 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger