واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم



علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم


اَلْمُرْجِفُوْنَ فِی الصَّلٰوۃ (یعنی) (مروجہ) نماز اسلام کے متعلق افواہیں اُڑانے والے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 29-11-11, 10:10 PM   #1
اَلْمُرْجِفُوْنَ فِی الصَّلٰوۃ (یعنی) (مروجہ) نماز اسلام کے متعلق افواہیں اُڑانے والے
rana ammar mazhar rana ammar mazhar آن لائن ہے 29-11-11, 10:10 PM

اَلْمُرْجِفُوْنَ فِی الصَّلٰوۃ (یعنی) (مروجہ) نماز اسلام کے متعلق افواہیں اُڑانے والے

پیش لفظ

المرجفون فی الصلوٰۃ کی خدمت میں


اچھے بھلے پڑھے لکھے اور سمجھدار لوگوں میں بھی یہ غلطی عام طور پر پھیلی ہوئی ہے کہ منافقوں کا گروہ کافروں کا کوئی خاص سازشی گروہ ہوتا ہے جو جاسوسوں کی طرح بھیس بدل کر مسلمانوں میں رہنے لگتا ہے۔ باہر نکلتا ہے تو مسلمان بن جاتا ہے جب اکیلے میں ہوتا ہے تو اپنے اصل بھیس میں لوٹ آتا ہے۔ حالانکہ ایسا سمجھنا کتاب و سنت کی صاف صاف تصریحات کو جھٹلاناہے۔ یہ لوگ اسلام بطور اپنے دین و اعتقاد کے اُس طرح اختیار کرتے ہیں جس طرح دوسرے مسلمان جیسا کہ سورہ التوبہ کی آیت ۷۴ میں ارشادِ الٰہی ہے کہ:
وَکَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِھِم (۹:۷۴)
’’اور وہ اسلام لانے کے بعد پھر کفر کی باتیں کرتے ہیں‘‘
وہ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں، ان کی بیویاں انہیں مسلمان سمجھتی ہیں، ان کی اولاد اُن کو مسلمان سمجھتی ہے۔ ان کے گھر کا ہر فرد، ان کا جاننے والا ہر آدمی یقین کرتا ہے کہ وہ مسلمان ہیں وہ اسلام کے بعض ارکان باقاعدگی کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور بعض میں سستی کا شکار ہیں، کیوں؟ اس لیے کہ اب ان کو کوئی اس انداز سے پوچھنے والا نہیں، مسلمانوں کی اکثریت محض ارکانِ اسلام کا اقرار کرتی ہے لیکن عملی طور پر ان کے متعلق سستی کا شکار ہے۔ اندریں وجہ قبل ازیں اُن کے حوصلے پست تھے لیکن اس وقت ان کے حوصلے بلند ہیں۔
مختصر یہ کہ جہاں تک کسی دین کو بطور ایک دین کے اختیار کر لینے کا تعلق ہے، کوئی بات ایسی نہیں جو بظاہر ان کے مسلمان ہونے کے خلاف ہو لیکن اس کے باوجود کتاب اللہ نے فیصلہ سنا دیا ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہیں کیونکہ اسلام کا گھونٹ تو انہوں نے پی لیا ہے لیکن ان کے حلق کے نیچے یہ نہیں اترا اور نہ اُنہوں نے اترنے دیا ہے۔ کسی تعلیم کو اختیار کر لینے کے بعد یقین و عمل کی جو روح پیدا ہوتی ہے اس سے وہ یک قلم محروم ہیں۔ اخلاص اور صداقت کے لیے ان کے دلوں میں کوئی جگہ نہیں، وہ اللہ کا کلام سنتے ہیں مگر اس لیے نہیں کہ اس کے مطابق عمل کریں بلکہ اس لیے کہ محض سنتے رہیں۔ ان کے دلوں میں دین سے زیادہ دنیا کا عشق ہے اسلام کے جو احکام ان کی شخصی اغراض کے خلاف ہوتے ہیں ان کو بالکل قبول نہیں کرتے بلکہ ان کے لیے طرح طرح کی تاویلات کرتے ہیں لیکن جو احکام ان کی شخصی اغراض کے خلاف نہ ہوں ان پر خوشی خوشی عمل کرتے ہیں۔ دین اسلام کی طرف سے جو خوشحالیاں آئیں تو وہ سب سے بڑھ کر مسلمان ہیں لیکن اگر دین اسلام کے لیے کوئی قربانی دینا پڑے خواہ وہ قربانی مالی ہو، جسمانی ہو یا قولی تو ان کے قدم رک جاتے ہیں اور زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔ انفاق فی سبیل اللہ کا حکم ان کے لیے موت کا پیغام ہوتا ہے۔ نماز کا ذکر آئے تو طرح طرح سے تاویلیں کرتے ہیں اور ایسے ایسے شگوفے چھوڑتے ہیں کہ ان کے حواری سن کر سر دھنتے ہیں۔ اسلام کے دشمنوں کے ساتھ وہ اپنے تعلقات درست رکھنا چاہتے ہیں اور دونوں اطراف یعنی کفر اور اسلام میں مل جل کر رہنے کو مصلحت قرار دیتے ہیں۔
زیر نظر کتابچہ میں ایسے لوگوں کی مروجہ موقت صلوٰۃ اسلام کے خلاف سازش کا ذکر کیا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ وہ محض قرآنِ کریم کا نام استعمال کر کے اپنی خواہشاتِ نفس کی تکمیل چاہتے ہیں اور عملی طور پر کمزور مسلمانوں کو سازش کے تحت ارکانِ اسلام سے مکمل طور پر دور کر دینا چاہتے ہیں۔ خصوصاً نماز جو دین اسلام کا ایک اہم ستون ہے اُس کو منہدم کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہے ہیں اور یہ بات وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مسلمان اس وقت عملی طور پر اس کمزوری میں مبتلا ہیں اس لیے وہ اس کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن یہ ان کی بھول ہے اور اپنے آپ کو دھوکا دینے کے مترادف ہے لیکن اس حقیقت کو وہ سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ہم نے دوا کے طور پر یہ چھوٹی سی کتاب ان کے سامنے پیش کی ہے اور دُعا کے لیے اللہ رب کریم سے ملتجی ہیں کہ وہ ایسے تمام ایمان کے کچے لوگوں کو پختہ ایمان کی توفیق بخشے اور کمزور عمل مسلمانوں کی اس کمزوری کو دور فرما کر نماز جیسے دین کے اہم رکن کو قائم کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔ اللھم آمین، ثم آمین۔

عبدالکریم اثری
/23نومبر 2011ء


لفظ ’’صلوٰۃ‘‘ اور اہل زبان

دنیا میں جنتی زبانیں بولی جاتی ہیں ان تمام زبانوں میں صرف اور صرف عربی زبان کو یہ فوقیت حاصل ہے کہ اس میں جتنے الفاظ بولے جاتے ہیں اُن کی کوئی نہ کوئی اصل اور حقیقت موجود ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا ایک ایک لفظ بیسیوں بلکہ اس سے بھی زیادہ معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور اسی طرح دنیا کی ہر ایک چیز کے لیے بیسوں الفاظ ، یعنی نام بھی بولے جاتے ہیں اور ہر ایک کی کوئی وجہ تسمیہ بھی ضرور ہوتی ہے جو سب میں مشترک ہوتی ہے۔

رسول اور قوم کا تعلق

قرآن کریم اللہ رب کریم کا اپنے بندوں کے نام آخری پیغام ہے۔ اس کی زبان عربی ہے ، کیوں؟ اس لیے کہ جس نبی و رسول یعنی محمد رسول اللہ ﷺ پر یہ نازل ہوا اُس کی مادری زبان عربی تھی اور اس کے مخاطبین اول بھی عربی زبان بولنے والے تھے۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہی جاری رہی کہ جس نبی و رسول کو اللہ تعالیٰ نے مخاطب کیا اُس کی مادری زبان ہی میں اُس کو مخاطب کیا تاکہ جو پیغام اس کو دیا گیا وہ اپنی امت کے لوگوں تک آسانی سے پہنچا سکے اور لوگ اُس کے پیغام کو سن کر سمجھ سکیں چنانچہ قرآنِ کریم ہی میں ارشاد فرمایا گیا کہ:
وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَھُمْ (۱۴:۴)
’’اور ہم نے کوئی نبی و رسول دنیا میں نہیں بھیجا مگر اس طرح کہ وہ اپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام حق پہنچانے والا تھا تاکہ لوگوں پر مطلب واضح کر دے۔‘‘

مثال سے اس کی وضاحت

مثلاً انسانی جسم میں ایک عضو ہے جس کو ہم اپنی اردو زبان میں ’’آنکھ‘‘ کہتے ہیں اور پنجابی زبان میں ’’اکھ‘‘ استعمال کرتے ہیں انگریزی میں اس عضو کا نام (Eye) ہے اور فارسی زبان بولنے والے اس کو ’’چشم‘‘ کے نام سے ادا کرتے ہیں اور عربی زبان میں اس عضو کو ’’عین‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کوئی نہیں بتا سکتا کہ ’’آنکھ‘‘ بولنے والے ’’اکھ‘‘ کہنے والے اور (Eye) کے نام سے موسوم کرنے والے اس کو ایسا کیوں کہتے ہیں کسی کو کچھ علم نہیں لیکن عربی زبان واضح کرتی ہے کہ در اصل ’’عین‘‘ اُس چشمہ کو کہتے ہیں جہاں سے خود بخود پانی نکل آتا ہے اور چونکہ انسان کے اس عضو یعنی آنکھ سے بھی کبھی کبھی خود بخود پانی نکل آتا ہے لہٰذا اندریں وجہ انہوں نے اس کو ’’عین‘‘ کہا ہے۔ اب ’’عین‘‘ یعنی اس مادہ ’’ع ی ن‘‘ سے چاہے بیسیوں الفاظ بنائے گئے ہوں اور چاہے ’’عین‘‘ کا لفظ بھی بیسیوں معنوں میں استعمال ہوتا ہو ان میں سے ایک لفظ سے مراد انسان کا یہ عضو خاص بھی شامل ہے جس کو ہماری زبان میں ’’آنکھ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ چنانچہ جب لفظ ’’عین‘‘ کا استعمال ہو گا تو وہ جملہ خود اس کی وضاحت کر دے گا کہ اس جگہ اس ’’عین‘‘ سے مراد انسان کا وہ عضو ہے جس کو ’’آنکھ‘‘ کہتے ہیں یا کچھ اور مراد ہے۔ اس مثال سے آپ تمام الفاظ کی حقیقت کو سمجھ لیں کہ عربی زبان میں جو لفظ بھی استعمال ہوتا ہے اُس ’’لفظ‘‘ کو اس ’’لفظ‘‘ سے کیوں تعبیر کیا جاتا ہے یا بولا جاتا ہے۔ اس لیے کہ اس لفظ کے ’’مادہ‘‘ یعنی اصل میں اس کا ایسا مفہوم پایا جاتا ہے۔

عربی زبان اور صلوٰۃ

عربی زبان میں ایک لفظ ’’صلوٰۃ‘‘ بھی بولا جاتا ہے جس کا استعمال بھی بہت زیادہ ہے اور اس کا اصل مادہ ’’ص ل و‘‘ یا ’’ص ل ی‘‘ ہے۔ اس مادہ کے بیسیوں الفاظ عربی زبان میں بولے جاتے ہیں جن میں سے ’’صلوٰۃ‘‘ کے ایک معنی اُس عبادت کے بھی ہیں جو مسلمان پانچ وقت ایک خاص طرز و طریقہ سے ادا کرتے ہیں۔ یہ ’’صلوٰۃ‘‘ عبادت خاص کے مفہوم میں نبی اعظم و آخر ﷺ کی بعثت سے بھی پہلے لوگ ادا کرتے چلے آ رہے تھے چاہے اُن کے ادا کرنے کے طور طریقوں میں فرق پایا جاتا تھا تاہم لوگ اللہ کی عبادت کے طور پر اس کا استعمال کرتے تھے۔
اس مادہ کے اصل معنی ’’کسی کے ساتھ چمٹے رہنے‘‘ کے ہیں یا ’’کسی کے پیچھے آنے‘‘ کے ہیں چنانچہ اس کے بنیادی معنی ہر جگہ کسی نہ کسی صورت میں موجود رہتے ہیں اس لیے چاہے یہ لفظ بیسیوں سے بھی متجاوز معنوں میں استعمال ہوتا ہو اس کے ایک معنی ’’عبادت کے خاص طریقہ‘‘ کے بھی موجود رہیں گے اور موجود ہیں۔ قرآنِ کریم نے زیادہ تر یہ لفظ ان ہی معنوں میں استعمال کیا ہے۔ چاہے وہ انسانوں کی مخصوص عبادت کے لیے ہو یا تمام مخلوقات کی عبادت اُس سے مراد لی جائے خصوصاً تمام ذی روح مخلوق کی جو زندگی اور موت سے تعبیر کی جا سکتی ہو۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ:
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُسَبِّحُ لَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍط کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَہٗ وَتَسْبِیْحَہٗط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ م بِمَا یَفْعَلُوْنo (۲۴:۴۱)
’’کیا تو نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین کی تمام مخلوق اللہ کی تسبیح میں مصروف ہے اور پرندے بھی پر پھیلائے ہوئے ہیں۔ ہر ایک کو اپنی صلوٰۃ اور اپنی تسبیح معلوم ہے اور اللہ کو علم ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں‘‘۔
جس طرح تمام مخلوق کی صلوٰۃ و تسبیح اللہ رب کریم نے ان کو سمجھا دی ہے کیونکہ وہ مکلف نہیں ہیں اندریں وجہ وہ اپنی اپنی فطری صلوٰۃ و تسبیح ادا کر رہے ہیں اور ان کی اس صلوٰۃ تسبیح سے ہمیں کوئی بحث نہیں کیونکہ ہم انسان ہیں اور پھر انسانوں میں خصوصاً یہ کہ مسلمان ہیں لہٰذا ان تمام مخلوقات سے ہمیں کوئی واسطہ نہیں ہمیں اپنی مخصوص صلوٰۃ تسبیح کی ضرورت ہے جس صلوٰۃ کو ادا کرنے کے لیے وضو، قبلہ، طہارت لباس ،جگہ اور مخصوص اوقات کی ضرورت ہے جس صلوٰۃ کے ارکان قیام، رکوع اور سجدہ وغیرہ قرآنِ کریم نے لازم قرار دیئے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ تمام مخلوقات کے لیے یہ چیزیں لازم اور ضروری نہیں بتائی گئیں۔

اسلام میں مروجہ صلوٰۃ کا مفہوم بگاڑنے والے

ہاں اگر جناب غلام احمد پرویز صاحب، محمد علی رسولنگری صاحب، حشمت علی صاحب، مولوی عبداللہ صاحب اور عزیز اللہ بوہیو صاحب اور ان کے ہم زبان گھوڑوں، گدھوں، بلوں، پلوں، چیلوں، گدھوں اور چوہوں چمگادڑوں والی صلوٰۃ ادا کرنا چاہتے ہوں تو وہ اس کی تحقیق کرتے رہیں ہم اس بات کا اقرار کرنے کے باوجود کہ یہ تمام چیزیں اپنی اپنی صلوٰۃ و تسبیح ادا کرتی ہیں ان کی صلوٰۃ و تسبیح کے کھوج کی قطعاً ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ ہم اس کو لغت سے تلاش کر کر اس بے کار بحث میں اپنا وقت ضائع کرتے رہیں اور جب تک ان تمام چیزوں جیسی صلوٰۃ کی کہنہ معلوم نہ کر سکیں اُس وقت تک ’’صلوٰۃ‘‘ جیسے فریضہ کے قریب ہی نہ جائیں۔
ہم پورے وثوق اور ایمان و ایقان کے ساتھ یہ عرض کریں گے کہ جو لوگ بھی ان چیزوں کی صلوٰۃ و تسبیح میں مصروف رہے ہیں یا اس وقت مصروف ہیں وہ محض اپنے آپ کو اور دوسرے تمام لوگوں کو اور خصوصااللہ تعالیٰ کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ دراصل وہ اپنے آپ کو دھوکا میں مبتلا کئے ہوئے ہیں جیسا کہ اللہ رب کریم نے اپنے کلام لاریب کے شروع میں فرما دیا کہ:
یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَمَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَہُمْ وَمَا یَشْعُرُوْنo (۲:۹)
’’کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ اور ایمان والوں کو دھوکا دیتے ہیں، حالانکہ وہ خود ہی دھوکے میں ہیں، اگرچہ اس کا شعور نہیں رکھتے۔‘‘

کیا خاص حیوان انسان اور عام حیوان میں کوئی فرق نہیں؟

اگر انسان اور دوسری تمام جاندار چیزوں میں جن کا ذکر اوپر کیا گیا گیا ہے کوئی فرق نہیں تو ظاہر ہے کہ ان کی صلوٰۃ و تسبیح میں بھی کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے یا زیادہ سے زیادہ جیسے ان تمام چیزوں کی صلوٰۃ و تسبیح میں کوئی فرق پایا جاتا ہے اتنا ہی انسان کی صلوٰۃ و تسبیح میں فرق ہونا چاہیے۔ جس طرح وہ تمام جاندار مکلف نہیں اسی طرح انسان بھی مکلف نہیں تو بلاشبہ انسان کی صلوٰۃ و تسبیح میں اتنا ہی فرق ہونا چاہیے جتنا ان کے درمیان ہے جس طرح یہ تمام جاندار نطق سے عاری ہیں اسی طرح انسان بھی نطق سے عاری ہے پھر بھی ان ہی کی صلوٰۃ و تسبیح پر قیاس کرنا چاہیے لیکن ہم دیکھتے ہیں انسان مکلف بھی ہے اور اللہ رب کریم نے اس کو نطق جیسی شاندار چیز سے بھی نوازا ہے تو ظاہر ہے کہ اس کی صلوٰۃ و تسبیح میں بھی ان دونوں چیزوں کو داخل ہونا لازم و ضروری ہے۔

کیا جانور بھی کسی دین کے مکلف ہیں؟

کبھی آپ نے دیکھا ہے کہ ان جانداروں میں بھی آپس میں بحث و تمحیص ہوئی ہے اور دلائل کے لیے انہوں نے ایک دوسرے کے رد کے لیے کتابیں طبع کرائی ہیں اور کتاب و سنت کو پیش نظر رکھ کر اپنے اپنے دلائل پیش کئے ہیں اگر نہیں اور یقیناًنہیں تو پھر سمجھ لینا چاہیے کہ ان کی صلوٰۃ و تسبیح اور انسانوں کی صلوٰۃ و تسبیح میں یقیناًفرق پایا جاتا ہے اور اسی فرق کے پیش نظر مذکور شخصیات نے اس طرح کی بحثوں کو چھیڑا ہے اور وہ لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ یہ صلوٰۃ جو مساجد میں پانچ وقت باقاعدگی کے ساتھ مخصوص اوقات میں ادا کی جاتی ہے یہ انسانوں کی خود ساختہ ہے اللہ تعالیٰ نے اس کا کہیں حکم نہیں دیا۔ دیکھو قرآنِ کریم جو اللہ نے مفصل اور مکمل ضابطہ حیات ہم کو دیا ہے اس میں نہ تو ان اوقات کا واضح طور پر ذکر ہے نہ ان کی تعداد کا اور نہ اس باقاعدہ ترتیب کا اور ارکان کا نہ ان تذکار کا جو صلوٰۃ میں پڑھے جاتے ہیں اس صلوٰۃ کی کوئی حقیقت نہیں اس طرح اس کا باقاعدہ ادا کرنا مجوسیوں اور فلاں اور فلاں کی اتباع کرنا ہے۔ ان باتوں پر ہم ’’اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ‘‘ ہی پڑھ سکتے ہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ قرآنِ کریم اگر اس طرح سے ضابطہ حیات اور مفصل و مکمل کتاب ہے تو اس میں صرف لباس استعمال کرنے کا ذکر تو موجود ہے لیکن لباس کیسے بنایا جائے، کس چیز سے بنایا جائے اور کس طرح اس کی سلائی کی جائے کیسے اس کو دھویا جائے اور کیسے اس کو صاف و شفاف کیا جائے ان باتوں کا کوئی ذکر نہیں۔ جانوروں کو کھانے کا ذکر تو ہے لیکن ان سے کھال اتارنے اور ان کے گوشت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور ان کو پکانے کا تو کوئی ذکر نہیں علی ہذا القیاس اس طرح کی کوئی وضاحت بھی موجود نہیں کہ مکان کیسے بنائے جائیں، دکانیں کیسے سجائی جائیں اور ان میں خرید و فروخت کا سامان کیسے تیار کیا جائے اور پھر ان دکانوں پر لا کر فروخت کیا جائے۔

کیا شکاری جانوروں کے سکھانے کا طریقہ قرآنِ کریم میں موجود ہے؟

قرآنِ کریم میں واضح طور پر موجود ہے کہ پالتو کتوں اور شکاری جانوروں کو اس طرح سکھاؤ جس طرح میں نے یعنی اللہ نے تم کو سکھایا ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا گیاکہ:
يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ ۖ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ ۙ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللَّهُ ۖ فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ (5:4)
’’لوگ آپؐ سے پوچھتے ہیں کہ کیا کیا چیزیں ان کے لیے حلال ہیں؟ آپؐ کہہ دیجئے جتنی اچھی چیزیں ہیں سب حلال کر دی گئی ہیں اور شکاری جانور جو تم نے شکار کے لیے سدھار رکھے ہیں اور وہ طریقہ جیسا کچھ اللہ نے تمہیں سکھا دیا ہے انہیں سکھا دو، تو جو کچھ وہ شکار کر کے تمہارے لیے بچا رکھیں تم اسے بھی بے کھٹکے کھا سکتے ہو، مگر چاہئے کہ اللہ کا نام لے لیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو، یاد رکھو کہ اللہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔‘‘
قرآنِ کریم کو ’’الحمدللہ‘‘ سے لے کر ’’والناس‘‘ تک پڑھ جائیے کسی مقام پر آپ نہ تو ان جانوروں کی تفصیل دکھا سکتے ہیں جن کو شکار کے لیے سدھایا جاتا ہے اور نہ ہی اس طریقہ کی کوئی صورت آپ دکھا سکتے ہیں کہ ان کو کیسے سدھایا جائے اور نہ شکار کیے جانے والے جانوروں کا کوئی ذکر موجود ہے کہ کن جانداروں کو وہ شکار کریں تو تم ان کو کھا سکتے ہو اور کن جانوروں کو نہیں کھا سکتے۔ کسی ایک چیز کی بھی قرآنِ کریم میں تفصیل و وضاحت نہ ہونے کے باوجود یہ کہا جا رہا ہے کہ ’’جس طرح اللہ نے تم کو سکھایا ہے تم ان جانوروں کو سکھا دو۔‘‘

منکرین صلوٰۃ سے پوچھنے کی بات

مذکورہ بزرگوں اور ان کے ہم خیال دوستوں سے پوچھیں کہ کیا قرآنِ کریم نے یہ غلط اعلان کیا ہے کہ اعلان تو کر دیا ہے لیکن کوئی طریقہ اس کا نہیں بتایا۔ حالانکہ ان میں سے بہت سی چیزیں وہ ہیں جو اللہ رب کریم نے انسان کے اندر تخلیقاً ودیعت کر دی ہیں اور بہت سی چیزوں کی تفہیم کے لیے رہنما بنا کر انسانوں کی تعلیم کے لیے رسول بھیجے ہیں اور ان کی طرف ’’وحی‘‘ کر کے ان کو بتایا اور سمجھایا گیا اور انہوں نے اپنی اپنی قوم کی ان تمام چیزوں میں رہنمائی کی اور قرآنِ کریم ان راہنماؤں کے ذکر سے بھرا پڑا ہے جبکہ تمام کا نہیں تو بعض کا نام بنام ذکر بھی کر دیا ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا کہ:

إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَى نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِنْ بَعْدِهِ ۚ وَأَوْحَيْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَعِيسَى وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَارُونَ وَسُلَيْمَانَ ۚ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا
(4:163)
(اے محمدﷺ) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور ان سے پچھلے پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی۔ اور ابراہیم اور اسمعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولاد یعقوب اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف بھی ہم نے وحی بھیجی تھی اور داؤد کو ہم نے زبور بھی عنایت کی تھی
We have sent thee inspiration, as We sent it to Noah and the Messengers after him: we sent inspiration to Abraham, Isma'il, Isaac, Jacob and the Tribes, to Jesus, Job, Jonah, Aaron, and solomon, and to David We gave the Psalms.‎

وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلًا لَمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ ۚ وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا
(4:164)
اور بہت سے پیغمبر ہیں جن کے حالات ہم تم سے پیشتر بیان کرچکے ہیں اور بہت سے پیغمبر ہیں جن کے حالات تم سے بیان نہیں کئے۔ اور موسیٰ سے تو خدا نے باتیں بھی کیں
Of some messengers We have already told thee the story; of others We have not;- and to Moses Allah spoke direct;-‎

رُسُلًا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا
(4:165)
(سب) پیغمبروں کو (خدا نے) خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے (بنا کر بھیجا تھا) تاکہ پیغمبروں کے آنے کے بعد لوگوں کو خدا پر الزام کا موقع نہ رہے اور خدا غالب حکمت والا ہے
Messengers who gave good news as well as warning, that mankind, after (the coming) of the messengers, should have no plea against Allah: For Allah is Exalted in Power, Wise.‎

’’اے پیغمبر اسلام ﷺ! ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی جس طرح نوح علیہ السلام اور ان نبیوں پر جو نوحؑ کے بعد آئے وحی بھیجی تھی اور جس طرح ابراہیم ؑ ، اسماعیل ؑ ، اسحق ؑ ، یعقوبؑ ، اولاد یعقوبؑ ، عیسیٰ ؑ ، ایوبؑ ، یونس ؑ ، ہارون ؑ اور سلیمانؑ پر بھی وحی بھیجی اور داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ اور اللہ کے وہ رسول جن کا حال ہم نے تمہیں سنایا اور وہ جن کا حال ہم نے تمہیں نہیں سنایا اور اللہ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا جیسا کہ واقعہ میں کلام کرنا ہوتا ہے، یہ تمام رسول، خوشخبری دینے والے اور متنبہ کرنے والے تھے کہ ان کے آنے کے بعد لوگوں کے پاس کوئی حجت باقی نہ رہے، جو وہ اللہ کے حضور پیش کر سکیں اور اللہ سب پر غالب اور حکمت رکھنے والا ہے۔‘‘

محمد رسول اللہ ﷺ کا طریقہ رہتی دنیا تک جاری رہے گا

ان تمام رسولوں کے بعد جب اللہ رب کریم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا اور آپؐ پر نبوت و رسالت کا سلسلہ ختم کر دیا تو خود بخود یہ بات واضح ہو گئی کہ آپؐ نے جو طریقہ یعنی ’’پریکٹیکل‘‘ اپنے اسوہ حسنہ کے ذریعہ لوگوں تک پہنچایا وہ قیامت تک ممتد ہو گیا۔ چونکہ آپؐ کا طریقہ وحی کے تابع تھا اگر اس میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی ہوتی تو آپؐ کو بذریعہ وحی اس کی وضاحت کر دی جاتی اور جس چیز کی وحی کے ذریعہ اطلاع نہ دی گئی وہ وہی طریقہ اسلام کا طریقہ قرار پا گیا جو آپؐ نے اپنے عمل سے کر کے لوگوں تک پہنچا دیا جس کو ’’امت‘‘ سنت کے نام سے یاد کرتی ہے اور کتاب کے ساتھ اس کو اس لیے جوڑ دیا گیا ہے کہ کتاب یعنی کتاب اللہ میں اگر ایک چیز کی مکمل وضاحت نہیں تو محض اس لیے کہ اس کی وضاحت عملاً ہوجائے پھر جہاں عملاً وضاحت کی ضرورت تھی ایسا نہیں کہ وہ آپؐ نے کر کے دکھا نہ دی ہو گویا قرآنِ کریم نے اصول مقرر کر دیئے اور ان اصولوں کی وضاحت اور تشریح کے لیے محمد رسول اللہ ﷺ موجود ہیں جو وضاحت عملاً آپؐ نے فرما دی اُس سے زیادہ بہتر کوئی دوسرا وضاحت نہیں کر سکتا لہٰذا ہم کو وہیں سے حاصل کرنا ہے جو کچھ ان اصولوں کی وضاحت کے لیے حاصل کرنا ہے۔ نیز جو ضمنی چیزیں ہیں وہ زمانہ کے ساتھ ساتھ انسان فطرتاً سمجھتے اور کرتے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے۔

صلوٰۃ سے قبل کی لازمی شرائط کا ذکر قرآنِ کریم میں

مثلاً صلوٰۃ کا معاملہ جو زیر بحث ہے اس کے لیے قرآنِ کریم نے جو اصول اور اشارات دیئے ہیں وہ اس طرح ارشاد فرمائے ہیں کہ:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ۚ وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا ۚ وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ مِنْهُ ۚ مَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ حَرَجٍ وَلَكِنْ يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
(5:6)
مومنو! جب تم نماز پڑھنے کا قصد کیا کرو تم منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لیا کرو اور سر کا مسح کر لیا کرو اور ٹخنوں تک پاؤں (دھو لیا کرو) اور اگر نہانے کی حاجت ہو تو (نہا کر) پاک ہو جایا کرو اور اگر بیمار ہو یا سفر میں ہو یا کوئی تم میں سے بیت الخلا سے ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں سے ہم بستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہ مل سکے تو پاک مٹی لو اور اس سے منہ اور ہاتھوں کا مسح (یعنی تیمم) کر لو۔ خدا تم پر کسی طرح کی تنگی نہیں کرنا چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کرے تاکہ تم شکر کرو
O ye who believe! when ye prepare for prayer, wash your faces, and your hands (and arms) to the elbows; Rub your heads (with water); and (wash) your feet to the ankles. If ye are in a state of ceremonial impurity, bathe your whole body. But if ye are ill, or on a journey, or one of you cometh from offices of nature, or ye have been in contact with women, and ye find no water, then take for yourselves clean sand or earth, and rub therewith your faces and hands, Allah doth not wish to place you in a difficulty, but to make you clean, and to complete his favour to you, that ye may be grateful.‎

’’اے ایمان والو! جب تم صلوٰۃ کے لیے آمادہ ہو تو چاہئے کہ اپنا منہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھو لایا کرو اور سر کا مسح بھی کر لیا کرو نیز اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھو لیا کرو، اگر نہانے کی حاجت ہو تو چاہئے کہ نہا دھو کر پاک و صاف ہو جاؤ‘‘

صلوٰۃ ایک معروف و معلوم چیز ہے

بات واضح ہو گئی کہ ’’صلوٰۃ‘‘ کوئی معروف چیز ہے جو ’’متعین اوقات‘‘ میں ادا کی جاتی ہے اور جب اس کے ادا کرنے کا وقت آ جائے تو اس کے ادا کرنے والوں کو یہ تمام کام جن کا ذکر اوپر قرآن کریم کی اس آیت میں کر دیا گیا ہے ان کو ان کے حدود کے اندر رہ کر ضرور کر لینا چاہیے اگر کوئی بات ان اصولوں میں سے رہ گئی تو وہ ’’متعارف صلوٰۃ‘‘ ادا نہ ہو گی رہا ان چیزوں کے کرنے کا انداز تو رسول اللہ ﷺ نے عملاً کر کے دکھا دیا جو مسلسل ہوتا چلا آ رہا ہے اور ہوتا چلا جاتا رہے گا۔

ارکانِ اسلام گزشتہ اقوام بھی بعینہٖ موجود تھے

یہ صلوٰۃ ہو یا اسلام کے دوسرے ارکان گزشتہ قوموں میں موجود تھے لیکن دنیا کی تمام قوموں نے ان کی شکل و صورت بدل دی تھی جب ان کو قرآنِ کریم نے یاد دلایا تو انہوں نے قرآنِ کریم کو اللہ کی کتاب اور نبی اعظم و آخر ﷺ کو رسول ماننے سے انکار کر دیا تاکہ رہے بانس نہ بجے بانسری لیکن جن لوگوں نے قرآنِ کریم کو اللہ کی کتاب اور آپؐ کو اللہ کا رسول مان لیا ان کی نسل در نسل گزرنے کے بعد اس بات کا خیال آیا کہ یہ تمام احکام تو گزشتہ اقوام کو بھی دیئے گئے تھے اس کے باوجود کہ وہ گزشتہ کتابوں اور نبیوں کا اقرار کرتے ہیں اور اس کے باوجود ان ارکان کو ادا نہیں کرتے اور ان کے ادا نہ کرنے کے باوجود وہ اپنی اپنی قوموں میں ان ہی ناموں سے موسوم ہوتے ہیں لہٰذا ہم بھی ان کا انکار کر دیں تو ہم بھی اپنی قوم میں اسی طرح معروف رہیں گے لہٰذا انہوں نے ان تمام ارکان کی ظاہری شکل و صورت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور ان الفاظ کو وہ معنی پہنانے کی بے کار کوشش کی اور اب بھی کرتے چلے آ رہے ہیں چونکہ وہ مسلمانوں میں من الحیث الاسم شامل ہو چکے ہیں اس لیے یہ نام استعمال کرنا ان کی مجبوری ہے اگر وہ اس کو چھوڑ بھی دیں تو دوسری اقوامِ عالم ان کو اسی نام سے موسوم کریں گی اور ان کے ساتھ وہی سلوک کریں گی جو وہ مسلمانوں سے کر رہی ہیں۔

ارکانِ اسلام کی روح کو زندہ کرنے کی ضرورت

یہ بات تسلیم ہے کہ ارکان اسلام کی جو اصل روح تھی وہ ان ارکان سے نکال لی گئی ہے اور بلاشبہ یہ تمام ارکان اب مردہ ہو گئے ہیں لیکن یہ زندگی اور موت وہ نہیں جس کے بعد دوبارہ زندگی اس دنیا میں قائم نہیں ہو سکتی بلکہ یہ وہ زندگی و موت ہے جس سے قومیں بار بار دوچار ہوتی رہتی ہیں، ہوتی آئی ہیں اور ہوتی رہیں گی۔ ارکانِ اسلام ’’مردہ‘‘ ہو گئے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مسلمان قوم اربوں کی تعداد میں ہونے کے باوجود مر گئی ہے اور قومی زندگی اس کو حاصل نہیں رہی جب کہ اس سے پہلے قوم مسلم زندہ تھی اور دوسری تمام اقوامِ عالم مردہ ہو گئی تھیں لیکن آج اس کا عکس ہم سب دیکھ رہے ہیں اس وقت ہمارا فرض یہ نہیں کہ ہم ارکان اسلام ہی کا انکار کر دیں اور ان کی مردہ حالت کو بھی تسلیم نہ کریں تاکہ ہم کو دوبارہ ان کی زندگی کی طرف سوچنے کی ضرورت ہی باقی نہ رہے بلکہ ہمارا فرض یہ ہے کہ ان ارکانِ اسلام کو صحیح معنوں میں زندہ کریں تاکہ ہم زندہ قوم بن جائیں۔

مردہ ارکانِ اسلام میں روح پیدا کرنا ہے یا مردہ کو دفن کرنا ہے

ارکانِ اسلام کی جو ہیئت مقرر کی گئی ہے اس ہیئت کا انکار کرنا اسلام کو زندہ کرنا نہیں بلکہُ مردہ کو دفن کرنے کے مترادف ہے تاکہ یہ کہیں دوبارہ زندہ نہ ہو جائے۔ اس وقت مسلمانوں کی اکثریت ارکانِ اسلام کی طرف سے عموماً اور صلوٰۃ کی طرف سے خصوصاً غفلت میں مبتلا ہے اور جو صلوٰۃ ادا کرتے ہیں وہ بھی محض اسلام کی ایک رسم سمجھ کر ادا کر رہے ہیں اسلام کا اہم رکن سمجھ کر نہیں اس لیے میں نے اس کو ’’مردہ‘‘ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ قرآنِ کریم نے صلوٰۃ جیسی عبادت کا ماحصل بے حیائیوں اور برائیوں سے باز آنا بتایا ہے گویا صلوٰۃ، صلوٰۃ ادا کرنے والوں کو تمام برے کاموں سے روکنے کا باعث ہوتی ہے اگر ایک شخص صلوٰۃ کو باقاعدہ ادا کرنے کا اہتمام بھی کرتا ہے اور برے کاموں سے بھی نہیں بچتا تو ظاہر ہے کہ اُس کے متعلق یہی کہا جائے گا کہ یہ حقیقی طور پر صلوٰۃ کو ادا نہیں کرتا جس طرح صلوٰۃ ادا کرنے کا حق ہے اُس کا حق ادا نہیں کرتا چنانچہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے کہ:

اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ ۖ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ۗ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ
(29:45)
(اے محمدﷺ! یہ) کتاب جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے اس کو پڑھا کرو اور نماز کے پابند رہو۔ کچھ شک نہیں کہ نماز بےحیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے۔ اور خدا کا ذکر بڑا (اچھا کام) ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اُسے جانتا ہے
Recite what is sent of the Book by inspiration to thee, and establish regular Prayer: for Prayer restrains from shameful and unjust deeds; and remembrance of Allah is the greatest (thing in life) without doubt. And Allah knows the (deeds) that ye do.‎

’’اے پیغمبر اسلام! جو کتاب آپؐ پر نازل ہوئی ہے اسے پڑھا کرو اور صلوٰۃ ادا کرو بلاشبہ صلوٰۃ بے حیائی اور برائی کی باتوں سے روکتی ہے اور سب سے بڑی چیز یادِ الٰہی ہے اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔‘‘

صلوٰۃ برائیوں سے کیسے روکتی ہے؟

صلوٰۃ کا برائی سے روکنا کیا ہے؟ ظاہر ہے کہ بزور بازو نہیں بلکہ صلوٰۃ کا ماحصل یہ ہے کہ صلوٰۃ ادا کرنے والا برے کاموں سے رک جائے۔ یعنی جھوٹ برائی ہے چھوڑ دے، کم تولنا برائی ہے چھوڑ دے، دھوکا و فریب دینا برا کام ہے ترک کر دے، کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی کرنا برا ہے اس کے قریب بھی نہ جائے، گویا صلوٰۃ ، صلوٰۃ ادا کرنے والے کی پوری زندگی کی اصلاح کی ذمہ دار ہے اور وہ اس ذمہ داری کو پورا کرتی نظر آئے تو صلوٰۃ ادا کرنے والوں اور ادا نہ کرنے والوں میں اس طرح کا واضح فرق نظر آئے کہ وہ ایسے تمام کاموں سے مکمل طور پر اجتناب کریں جن کو اسلامی معاشرہ میں برائی تصور کیا جاتا ہے۔

کیا صلوٰۃ کے ادا کرنے کے لیے وضو لازم نہیں؟

اس صلوٰۃ کے ادا کرنے کے لیے قرآنِ کریم نے وضو لازم قرار دیا ہے اور وضو کے لیے جو لازم و ضروری چیزیں ہیں ان کی وضاحت بھی کر دی ہے تاکہ انسان کا بدن، کپڑے یعنی لباس اور جگہ جہاں صلوٰۃ ادا کرنا ہے پاک و صاف ہوں اور اسی طرح صلوٰۃ ادا کرنے والے قبلہ رو کھڑے ہوں اور مکمل یک جہتی کے ساتھ سب کے سب کا منہ قبلہ کی طرف ہو گویا صلوٰۃ ادا کرنے کے لیے وہ شرائط ہیں جو لاز م و ضروری ہیں اگر ان میں سے کوئی ایک شرط بھی رہ گئی تو وہ صلوٰۃ نہیں کہلائے گی چاہے اس کا جو نام بھی رکھیں۔

قرآنِ کریم کی صدا اور قرآنِ سے انکار

حقیقت یہ ہے کہ بعض لوگ قرآن، قرآن کا نام لیتے ہیں لیکن محض اس لیے کہ اگر قرآنِ کریم سے انکار کریں تو وہ اسلامی معاشرہ کے لوگ نہیں کہلا سکتے لہٰذا انہوں نے قرآنِ کریم سے کھلے الفاظ میں تو انکار نہ کیا لیکن قرآنِ کریم کے نام کی آڑ میں احکامِ اسلام سے انکار کرنا چاہتے ہیں بلکہ انکار کرتے ہیں لیکن اپنی بات کو واضح نہیں کرتے، اس پر ستم ظریفی یہ ہوئی کہ دوسرے تمام لوگوں نے اور خصوصاً ’’اہل حدیث‘‘ نے ان لوگوں کو ’’اہل قرآن‘‘ سمجھنا شروع کر دیا اور وہ اس نام سے معروف ہو گئے اور یہ بالکل ایسی بات ہے جیسے مرزائیوں نے اپنے آپ کو ’’احمدی‘‘ کہنا شروع کر دیا اور ہمارے علمائے کرام نے پاکستان کے قانون میں ان کو ’’احمدی‘‘ غیر مسلم قرار دلوا دیا اور اب ہر زبان پر ’’احمدی‘‘ غیر مسلم کے الفاظ عام بول چال میں بھی بولے جاتے ہیں حالانکہ قرآنِ کریم کی زبان میں تمام اہل اسلام کو احمدی کہا گیا ہے اور وہ احمدی ہیں دوسرے لفظوں میں جتنے محمدی کہلانے والے ہیں حقیقت میں قرآنِ کریم کی زبان میں وہ سب احمدی ہیں اور کسی بھی غیر مسلم کو احمدی نہیں کہا جا سکتا۔

صلوٰۃ ادا کرنے کے لیے قبلہ رو ہونے کی شرط

صلوٰۃ ادا کرنے کے لیے قرآنِ کریم کی زبان میں قبلہ رو ہونا ضروری ہے اور اہل اسلام کا قبلہ ’’مسجد حرام‘‘ یعنی بیت اللہ کو قرآنِ کریم نے قرار دیا ہے یہی وجہ ہے کہ ’’اہل اسلام‘‘ کو ’’اہل قبلہ‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے چنانچہ ارشاد الٰہی ہے کہ:

وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۖ وَإِنَّهُ لَلْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
(2:149)
اور تم جہاں سے نکلو، (نماز میں) اپنا منہ مسجد محترم کی طرف کر لیا کرو بےشک وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ اور تم لوگ جو کچھ کرتے ہو۔ خدا اس سے بے خبر نہیں
From whencesoever Thou startest forth, turn Thy face in the direction of the sacred Mosque; that is indeed the truth from the Lord. And Allah is not unmindful of what ye do.‎

’’اور آپؐ جہاں کہیں بھی ہو رُخ انور اس طرف پھیر لو جس طرف مسجد حرام ہے اور یقین کرو یہ آپؐ کے رب کی طرف سے ایک امر حق ہے اور جانتے رہو کہ اللہ تمہارے اعمال کی طرف سے غافل نہیں۔‘‘
نیز فرمایا کہ:

وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ
(2:150)
اور تم جہاں سے نکلو، مسجدِ محترم کی طرف منہ (کرکے نماز پڑھا) کرو۔ اور مسلمانو، تم جہاں ہوا کرو، اسی (مسجد) کی طرف رخ کیا کرو۔ (یہ تاکید) اس لیے (کی گئی ہے) کہ لوگ تم کو کسی طرح کا الزام نہ دے سکیں۔ مگر ان میں سے جو ظالم ہیں، (وہ الزام دیں تو دیں) سو ان سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا۔ اور یہ بھی مقصود ہے کہ تم کو اپنی تمام نعمتیں بخشوں اور یہ بھی کہ تم راہِ راست پر چلو
So from whencesoever Thou startest forth, turn Thy face in the direction of the sacred Mosque; and wheresoever ye are, Turn your face thither: that there be no ground of dispute against you among the people, except those of them that are bent on wickedness; so fear them not, but fear Me; and that I may complete My favours on you, and ye May (consent to) be guided;‎

’’اور جہاں کہیں بھی تم ہو چاہئے کہ اپنا رخ مسجد حرام ہی کی طرف کیا کرو تاکہ تمہارے خلاف لوگوں کے پاس کوئی دلیل باقی نہ رہے۔‘‘

’’اہل اہوا‘‘ اہل قرآن نہیں؟

اگر ’’مصلی‘‘ کے معنی پیچھے چلنے کے ہیں جیسا کہ ’’اہل اہواء‘‘ بھی اس کو مانتے اور تسلیم کرتے ہیں بلکہ اس پر زور دے کر ثابت کرتے ہیں کہ ’’مصلی‘‘ موقت صلوٰۃ ادا کرنے والے کو نہیں کہتے بلکہ پیچھے چلنے والے کو کہتے ہیں، اگر یہ صحیح ہے تو تمام ’’مصلین‘‘ مل کر امام کے پیچھے پیچھے ہی تو چلتے ہیں اور وہ ایسا کر کے ثابت کرتے ہیں کہ ہم عملاً بھی پیچھے پیچھے چلتے ہیں اور ویسے بھی تمام مسلمان آپس میں مل کر چلنے کے پابند ہیں اور اس حکم نے ان کومل کر چلنے کی تلقین کی ہے چنانچہ قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب اہل دوزخ سے پوچھا جائے گا کہ تم کو ادھر کون لے آیا یعنی تم ادھر کیوں آ گئے تو وہ اس طرح جواب دیں گے کہ:

كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ
( 74:38 )
ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے گرو ہے
Every soul will be (held) in pledge for its deeds.‎

إِلَّا أَصْحَابَ الْيَمِينِ
(74:39)
مگر داہنی طرف والے (نیک لوگ)
Except the Companions of the Right Hand.‎

فِي جَنَّاتٍ يَتَسَاءَلُونَ
(74:40)
(کہ) وہ باغہائے بہشت میں (ہوں گے اور) پوچھتے ہوں گے
(They will be) in Gardens (of Delight): they will question each other,‎

عَنِ الْمُجْرِمِينَ
(74:41)
(یعنی آگ میں جلنے والے) گنہگاروں سے
And (ask) of the Sinners:‎

مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ
(74:42)
کہ تم دوزخ میں کیوں پڑے؟
What led you into Hell Fire?‎

قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ
(74:43)
وہ جواب دیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے
They will say: "We were not of those who prayed;‎

وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ
(74:44)
اور نہ فقیروں کو کھانا کھلاتے تھے
"Nor were we of those who fed the indigent;‎

وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ
(74:45)
اور اہل باطل کے ساتھ مل کر (حق سے) انکار کرتے تھے
"But we used to talk vanities with vain talkers;‎

وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ
(74:46)
اور روز جزا کو جھٹلاتے تھے
"And we used to deny the Day of Judgment,‎

حَتَّى أَتَانَا الْيَقِينُ
(74:47)
یہاں تک کہ ہمیں موت آگئی
"Until there came to us (the Hour) that is certain."‎

’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے رہن ہے، سوائے اصحابِ یمین کے۔ وہ باغوں میں ہوں گے اور پوچھتے ہوں گے مجرموں سے کہ تمکو کس بات نے دوزخ میں پہنچا دیا؟ وہ جواباً کہیں گے کہ ہم صلوٰۃ ادا نہیں کرتے تھے اور ہم محتاجوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے اور حق کے ساتھ باتیں بنانے والوں کے ساتھ ہم بھی باتیں بنایا کرتے تھے اور ہم جزا و سزا کے دن کو جھٹلایا کرتے تھے، یہاں تک کہ ہم کو اس یقینی بات سے سابقہ پیش آ گیا۔‘‘

مجرم کون ؟ اور جرم کیا؟

اگر ایمان اور دیانت کسی چیز کا نام ہے تو ذرا غور و فکر کریں کہ ان آیات میں ’’مجرم‘‘ کن لوگوں کو کہا گیا ہے اور اُن کا ’’جرم‘‘ کیا تھا جس کا انہوں نے اقرار کیا ہے۔ اس ’’جرم‘‘ کی ’’سزا‘‘ ان کو کیا ملی تو بات تم پر روزِ روشن کی طرح واضح ہو جائے گی کہ ’’صلوٰۃ‘‘ کیا ہے اور اس کو ادا نہ کرنے سے کیا ہوتا ہے۔
مختلف حوالے دے کر بتایا جاتا ہے کہ ’’صلوٰۃ‘‘ کے معنی ہیں ’’احکامِ الٰہی سے وابستگی‘‘ ’’حدود اللہ کے اندر رہنا‘‘ ’’کتاب اللہ سے چمٹے رہنا‘‘ ’’ایک دوسرے کے پیچھے اس طرح چلنا کہ کسی طرح کا فاصلہ نہ رہے‘‘۔ ہم نہایت ادب و احترام سے کہتے ہیں کہ جناب ’’صلوٰۃ‘‘ کا وجود جو اسلام نے متعین کیا ہے جس میں وہ تمام شرطیں پائی جاتی ہیں جن کا ذکر پیچھے کیا جا چکا ہے تسلیم کر لو اور اُس کو اُس کے اوقات پر ادا کرو اور اس کی ادائیگی سے یہ روح اُس صلوٰۃ کے جسم میں داخل کر دو جس کا تذکرہ آپ نے فرمایا ہے کیونکہ جس طرح جسم بغیر روح کے بے کار ہے بالکل اسی طرح روح بھی بغیر جسم کے بیکار ہے۔ اگر آپ نے اس جسم کومردہ سمجھ کر دفن کر دیا تو پھر روح کا تصور خود بخود ختم ہو جائے گا۔ اگر آپ دیکھتے ہیں کہ دوسروں کی صلوٰۃ بے روح ہے تو آپ اس صلوٰۃ کا انکار نہ کریں بلکہ اس میں اس کی روح کو داخل کریں تاکہ تمہاری صلوٰۃ زندہ و تابندہ ہو کر خود اپنا آپ دوسرے لوگوں سے منوا لے معروف ہے کہ ’’جادو وہ جو سر چڑھ بولے۔‘‘
جو پہلے صلوٰۃ ادا کرنے کے قریب نہیں جاتے آپ ان کے ہم نوا نہ بنیں اور ان کے ساتھ عملاً اور ’’روحاً‘‘ مل کر اسلام کے اس اہم رکن کو ملیامیٹ کرنے کا باعث نہ بنیں اگر آپ نے یہی روش رکھی تو تم بھی ’’حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ شامل ہو جاؤ گے‘‘ اور ڈوبنے والوں کے ساتھ تم بھی ڈوب جاؤ گے۔ اللہ رب کریم سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔

حضرات علمائے کرام اور عوام سے ایک جیسی اپیل

ہم عام لوگوں سے عموماً اور حضرات علمائے کرام سے خصوصاً عرض کریں گے کہ صلوٰۃ کو ادا نہ کرنے والوں اور سرے سے موقت صلوٰۃ کا انکار کرنے والوں اور اس طرح کی بحثیں پیدا کرنے والوں کو ’’اہل قرآن‘‘ کے نام سے موسوم مت کریں بلکہ ان کا صحیح اور صفاتی نام ’’اہل اہواء‘‘ رکھیں اور اس نام سے ان کو موسوم کیا کریں اور یہی طریقہ مرزائیوں کے لیے اپنائیں ورنہ آپ بھی یک نہ شد دو شد کا مصداق ہو جائیں گے۔
قبل ازیں ہم عرض کر چکے ہیں کہ عربی زبان میں ایک لفظ کے ایک سے زیادہ معنی پائے جاتے ہیں اور یہی صورتِ حال ’’صلوٰۃ‘‘ کی ہم کو تسلیم ہے اس کے معنی دُعا، التجاء، تسبیح و تحمید اور صفت و ثنا بیان کرنے کے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ صرف اسلام میں جس چیز کو ’’صلوٰۃ‘‘ اور ’’اقامت صلوٰۃ‘‘ کہا جاتا ہے جو موقت اوقات میں ایک مخصوص طریقہ کے ساتھ اجتماعی اور انفرادی طور پر ادا کی جاتی ہے اُس کے وجود سے انکار کر دیا جائے اور گدھے کو شیر کی کھال پہناکر شیر بنا دیا جائے اور حقیقی شیر کے وجود ہی سے انکار کر دیا جائے۔

کیا اکیلا فرد صلوٰۃ ادا نہیں کر سکتا؟

ہم نے ایسے دوستوں سے اکثر سنا ہے وہ برملا کہتے ہیں کہ ’’اقامت صلوٰۃ‘‘ افرادی طور پر ممکن نہیں کیونکہ اوقات صلوٰۃ ایک نظام کا نام ہے اور اکیلا آدمی کیا نظام بنائے گا اور اس پر کیسے عمل کرے گا۔ شاید ان کے حافظہ میں نہیں کہ قرآن کریم نے صرف اور صرف اکیلے آدمی کا ذکر کر کے بھی صلوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور خود نبی اعظم و آخر ﷺ سے اس بات کا اعلان کروایا ہے کہ:

قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
(6:162)
(یہ بھی) کہہ دو کہ میری نماز اور میری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا سب خدائے رب العالمین ہی کے لیے ہے
Say: "Truly, my prayer and my service of sacrifice, my life and my death, are (all) for Allah, the Cherisher of the Worlds:‎

’’کہہ دو( اے پیغمبر اسلام) میری میری صلوٰۃ، میرا حج، میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔‘‘
زکریا علیہ السلام ایک مدت مدید تک اللہ رب کریم سے فریاد کرتے رہے کہ ’’اے اللہ! مجھے ایک وارث (بیٹا) عطا فرما دے جو میرا بھی اور یعقوب کے تمام خاندانوں کا وارث ٹھہرے‘‘ گویا ایسا بیٹا عطا فرما دے جو نبی و رسول بھی بنایا جائے پھر جب اللہ نے چاہا اپنی مشیّت کے مطابق خوشخبری کے لیے زکریا علیہ السلام کی طرف فرشتہ بھیج دیا جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے کہ:

فَنَادَتْهُ الْمَلَائِكَةُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمِحْرَابِ أَنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَى مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَسَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ
(3:39)
وہ ابھی عبادت گاہ میں کھڑے نماز ہی پڑھ رہے تھے کہ فرشتوں نے آواز دی کہ (زکریا) خدا تمہیں یحییٰ کی بشارت دیتا ہے جو خدا کے فیض یعنی (عیسیٰ) کی تصدیق کریں گے اور سردار ہوں گے اور عورتوں سے رغبت نہ رکھنے والے اور (خدا کے) پیغمبر (یعنی) نیکو کاروں میں ہوں گے
While he was standing in prayer in the chamber, the angels called unto him: "Allah doth give thee glad tidings of Yahya, witnessing the truth of a Word from Allah, and (be besides) noble, chaste, and a prophet,- of the (goodly) company of the righteous."‎

’’پھر ایسا ہوا کہ فرشتوں نے زکریا علیہ السلام کو پکار کرکہا جب وہ محراب میں کھڑا صلوٰۃ ادا کر رہا تھا کہ (اے زکریا) اللہ تجھے یحییٰ کی بشارت دیتا ہے وہ حکم الٰہی سے تصدیق کرنے والا، جماعت کا سردار، پارسا اور اللہ کے بندوں اور نبیوں میں سے ایک نبی ہو گا۔‘‘

کیا کوئی فردِ واحد بھی ایک نظام چلا سکتا ہے؟

کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ زکریا علیہ السلام اکیلے اُس وقت ایک ایسا نظام چلا رہے تھے جو بعد میں ساری قوم بنی اسرائیل میں قائم ہونے والا تھا۔ معلوم ہوا کہ صلوٰۃ اسلام کا ایک ایسا فرض ہے جس کو ادا کرنا ہر حال میں لازم ہے چاہے انسان اکیلا ہو اور چاہے جماعت کے ساتھ ہو ظاہر ہے کہ جماعت میسر آئے گی توباقاعدہ جماعت کے ساتھ صلوٰۃ ادا کی جائے گی اور اگر ایسی جماعت میسر نہیں آئی تو انسان اکیلا بھی اُس کو ادا کرے گا جیسا کہ تمام نبی و رسول بھی کرتے رہے جب تک جماعت میسر نہ تھی اکیلے ہی اور جب جماعت میسر آ گئی تو پور ی جماعت کے ساتھ اور یہی صورتِ حال اب تک جاری و ساری ہے۔
جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ بھی اکیلے صلوٰۃ ادا کرتے رہے اور جب اللہ تعالیٰ نے جماعت میسر کر دی اور ہجرت کے بعد مدینہ پہنچے تو اس جماعت کا شیرازہ جوڑنے کے لیے آتے ہی پہلا کام مسجد کی تشکیل و تعمیر کا سرانجام دیا جو محض صلوٰۃ ادا کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔

صلوٰۃ کے معنوں کی وسعت سے انکار نہیں

جس چیز کو قرآنِ کریم میں ’’صلوٰۃ‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اس کے معنوں میں بہت وسعت ہے اس سے انکار نہیں یہی وجہ ہے کہ ہماری اردو زبان میں اس مخصوص طرز ’’صلوٰۃ‘‘ کو نماز سے موسوم کیا جاتا ہے جس کے معنی عبادت کی ایک خاص قسم اور عبادت کا ایک طریقہ مراد لیا جاتا ہے جس کو انگریزی میں ( Pray) کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ جس طرح تمام زبانوں میں مختلف چیزوں کے نام مختلف ہوتے ہیں جیسے پانی کہ عربی میں ’’ماء‘‘ کہتے ہیں اور اب عرب اس کو ’’موا‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں فارسی میں اس کا نام ’’آب‘‘ ہے اور انگریزی میں اس کو (Water) کہتے ہیں، پشتو میں اس کا نام لفظ ’’ابو‘‘ سے لیا جاتا ہے۔ ’’پانی‘‘ کا لفظ بھی ایک سے زیادہ معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس طرح ’’ماء‘‘ ’’آب‘‘ اور (Water) بھی لیکن ایک سے زیادہ معنوں میں بولا جانے سے یہ کوئی نہیں کہتا کہ ’’پانی‘‘ کو پانی نہ کہو اور ’’آب‘‘ کو ’’آب‘‘ اور (Water) مت بولو اور اسی طرح دوسرے الفاظ کو بولنا بند نہیں کیا جا سکتا اور اہل زبان اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ یہ لفظ اس جملہ میں جو استعمال ہوا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں مثلاً ’’پانی‘‘ ایک پینے کی چیز ہے لیکن کوئی بولتا ہے ’’پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات‘‘ تو اس پانی پانی سے کوئی بھی اہل زبان جو اردو بولتا اور سمجھتا ہے کبھی اس ’’پانی پانی‘‘ سے وہ پینے والا پانی نہیں سمجھے گا اور یہی حال ’’ماء‘‘ ’’آب‘‘ اور Water کا بھی ہے۔

کیا ’’صلوٰۃ‘‘ کو ’’نماز‘‘ کہنا غلط ہے؟

لفظ ’’صلوٰۃ‘‘ کو جب کوئی اردو بولنے والا ’’نماز‘‘ کہتا ہے تو ’’اہل اہواء‘‘ فوراً اُس پر تنقید شروع کر دیتے ہیں کہ نماز تو پوجا پاٹ کو کہتے ہیں اور یہ پارسی اور ہندو کرتے ہیں مسلمانوں کے ہاں تو صلوٰۃ ہے اور ان مولویوں نے اس کو ’’نماز‘‘ کہہ کر پوجا پاٹ بنا دیا ہے اس طرح کی باتیں محض شرارت ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں جس طرح ہر زبان میں ایک چیز کے مختلف نام ہوتے ہیں جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے اور اہل زبان اس سے وہی کچھ مراد لیتے ہیں جو ان کی زبان یعنی بولی کہتی ہیں ہے لہٰذا اس طرح کے اعتراض سطحی ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے جیسا کہا جاتا ہے کہ ’’اللہ‘‘ کو خدا اور (God ) ، ’’صلوٰۃ‘‘ کو نماز اور (Pray) اور ’’رسول‘‘ کو انسان نہیں کہنا چاہیے یہ زبردست گستاخی ہے، حالانکہ ان کے اس بیان کی کوئی حقیقت نہیں جب ایک آدمی ’’اللہ‘‘ کی جگہ ’’خدا‘‘ کا لفظ بولتا ہے تو اس کے ذہن و دماغ میں وہ ذات اقدس ہوتی ہے جو احد و صمد ہے جس کا کوئی شریک اور ہمسر و سہیم نہیں۔ علاوہ ازیں اس کے ذہن میں کوئی اور ذات ہرگز نہیں ہوتی اور اللہ رب کریم کی طرف سے کبھی یہ نہیں کہا جائے گا کہ اے انسان! تو نے ’’اللہ‘‘ کو خدا کہہ کر اللہ کی توہین کی ہے یا (God) کہہ کر تُو گستاخی کا مرتکب ہوا ہے۔

’’اہل اہواء‘‘ کا طریقہ کار قرآنِ کریم کے ساتھ

’’اہل اہواء‘‘ کی تحریرات دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جگہ جگہ قرآنِ کریم کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ اور چلتے چلتے اپنے مطلب کا ایک جملہ قرآنِ کریم کا بول دیتے ہیں یا تحریر کر دیتے ہیں جس سے قاری یہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ انہوں نے بیان کیا ہے یا تحریر کیا ہے وہ قرآنِ کریم ہے لہٰذا وہ جو کچھ فرما رہے ہیں وہ بالکل حق ہے۔ حالانکہ ان کی یہ بات ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کسی غیر نمازی کو کہا جائے کہ نماز ادا کیا کرو تو وہ کہنے والے پر یہ اعتراض جڑ دے کہ دیکھو یہ نماز تو پوجا پاٹ ہے اور پوجا پاٹ تو پارسی یعنی آگ پرست کرتے ہیں لہٰذا جو دعوت تم مجھے دے رہے ہو اسلام میں اس کا نام و نشان نہیں اور اگر ان سے کہا جائے کہ چلو معاف کرو ’’صلوٰۃ‘‘ ادا کیا کرو تو وہ کہہ دے کہ قرآنِ کریم میں صاف لکھا ہے کہ ’’لَا تَقْرَبُوا الصَّلوٰۃَ‘‘ کہ صلوٰۃ کے قریب مت جاؤ۔ کیا یہ قرآن کریم میں نہیں ہے؟
آپ ’’اہل اہوا‘‘ کی کسی کتاب کو اُٹھا کر دیکھ لیں جگہ جگہ آپ کو قرآنِ کریم کی آیات کے ٹکڑوں کا استعمال دیکھنے میں آئے گا کسی مقام پر بھی وہ قرآنِ کریم کی ایک مکمل آیت یا چند آیات کو تحریر کریں گے نہ بیان میں اس طرح کا ذکر کریں گے بلکہ جب بولیں گے قرآنِ کریم کی عبارت کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا حالانکہ خود قرآنِ کریم نے اس حرکت سے منع فرمایا ہے کیونکہ اس سے معنی اور مفہوم بالکل بدل جاتا ہے جیسا کہ اوپر ذکر کئے گئے قرآن کی اس عبارت کا کہ ’’لَا تَقْرَبُوا الصَّلوٰۃَ‘‘ نماز کے قریب مت جاؤ۔

موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کا تعلق

چنانچہ قرآنِ کریم میں ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام کی قوم پر بے شمار احسانات کیے، جب وہ میدانوں پر رہنے پر مجبور ہو گئے تو ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا۔ کھانے پینے کی چیزیں ان کے پاس نہ رہیں تو ہم نے ’’من و سلویٰ‘‘ جیسی چیزیں ان کے لیے اتار دیں، جب انہوں نے ساگ ،پالک، ادرک جیسی چیزیں طلب کیں تو ہم نے ان سے کہا کہ فلاں بستی میں داخل ہو جاؤ جو تمہاری طلب ہے وہ تم کو مل جائے گی صرف اس بات کا خیال رکھنا کہ سجدہ فقط اللہ کو کرنا اور بخشش اُس سے طلب کرنا لیکن اُنہوں نے کیا کیا کہ جو کچھ اُن سے کہا گیا تھا اُنہوں نے اس بات کو اُلٹ پلٹ دیا اور نتیجۃً ہماری طرف سے عذاب کے مستحق ٹھہرے جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے کہ:

وَإِذْ قُلْنَا ادْخُلُوا هَذِهِ الْقَرْيَةَ فَكُلُوا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ نَغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ ۚ وَسَنَزِيدُ الْمُحْسِنِينَ
( 2:58 )
اور جب ہم نے (ان سے) کہا کہ اس گاؤں میں داخل ہو جاؤ اور اس میں جہاں سے چاہو، خوب کھاؤ (پیو) اور (دیکھنا) دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا اور حطة کہنا، ہم تمہارے گناہ معاف کر دیں گے اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے
And remember We said: "Enter this town, and eat of the plenty therein as ye wish; but enter the gate with humility, in posture and in words, and We shall forgive you your faults and increase (the portion of) those who do good."‎

فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ فَأَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ
(2:59)
تو جو ظالم تھے، انہوں نے اس لفظ کو، جس کا ان کو حکم دیا تھا، بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا، پس ہم نے (ان) ظالموں پر آسمان سے عذاب نازل کیا، کیونکہ نافرمانیاں کئے جاتے تھے
But the transgressors changed the word from that which had been given them; so We sent on the transgressors a plague from heaven, for that they infringed (Our command) repeatedly.‎

’’اور پھر ہم نے حکم دیا تھا کہ اس آبادی میں داخل ہو جاؤ اورکھاؤ پیؤ اور آرام و چین کی زندگی بسر کرو، لیکن جب شہر کے دروازے میں قدم رکھو تو تمہارے سر اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہوں اور تمہاری زبانوں پر توبہ کا کلمہ جاری ہو، اور تم نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ تمہاری خطائیں معاف کر دے گا اور نیک کردار انسانوں کے اعمال میں برکت دے گا۔ لیکن ان لوگوں نے جن کی راہ ظلم و شرارت کی تھی اس بتلائی ہوئی بات کو بدل دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ظلم و شرارت کرنے والوں پر ہم نے آسمان سے عذاب نازل کیا اور در اصل یہ ان کی نافرمانی کی سزا تھی۔‘‘

بات کو بدلنا کیسا ہوتا ہے، سب پر عیاں ہے

بات کو بدلنا کیا ہوتا ہے؟ یہی کہ جو کچھ کہا گیا ہو اس کا مفہوم بدل دیا جائے الفاظ چاہے وہی رہیں لیکن ان کا مفہوم کچھ اور لے لیا جائے جیسا کہ ’’اہل اہواء‘‘ کر رہے ہیں کہ الفاظ تو قرآنِ کریم کے بہت استعمال کرتے ہیں لیکن ان کا مفہو م بالکل بدل دیتے ہیں اور اس بات سے گذشتہ قوموں کو روکا گیا تھا جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے اور یہی بات وہ کر رہے ہیں۔
اللہ رب کریم عالم الغیب ہے اُس نے قرآنِ کریم میں ایسا عمل کرنے والوں کی بے شمار مثالیں بیان کی ہیں جو زبان سے ایک چیز کا اقرار کرتے ہیں اور عملاً اُس کا انکار کرتے ہیں اور بالکل نہیں مانتے۔ قرآنِ کریم نے خود ان کا کام ذکر کیا ہے کہ وہ کیا کرتے ہیں یہی کہ قرآنِ کریم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے ہیں تاکہ وہ اپنی مرضی کا مفہوم اخذ کر سکیں۔ یہ مرض بہت پرانا ہے چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ:

وَقُلْ إِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْمُبِينُ
(15:89)
اور کہہ دو کہ میں تو علانیہ ڈر سنانے والا ہوں
And say: "I am indeed he that warneth openly and without ambiguity,"-‎

كَمَا أَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِينَ
(15:90)
(اور ہم ان کفار پر اسی طرح عذاب نازل کریں گے) جس طرح ان لوگوں پر نازل کیا جنہوں نے تقسیم کردیا
(Of just such wrath) as We sent down on those who divided (Scripture into arbitrary parts),-‎

الَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِينَ
(15:91)
یعنی قرآن کو (کچھ ماننے اور کچھ نہ ماننے سے) ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا
(So also on such) as have made Qur'an into shreds (as they please).‎

فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ
(15:92)
تمہارے پروردگار کی قسم ہم ان سے ضرور پرسش کریں گے
Therefore, by the Lord, We will, of a surety, call them to account,‎

’’اعلان کر دو (اے پیغمبر اسلام!) کہ میں خبردار کرنے والا ہوں، آشکارا جس طرح ان لوگوں پرنازل کیا تھا اور انہوں نے نازل ہونے والی چیز کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا۔ ان لوگوں نے بھی قرآنِ کریم کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔ پس تیرے رب کی قسم ہم ضرور ان سے پوچھیں گے، ان کے اعمال کے متعلق جو کیا کرتے تھے۔‘‘
قرآنِ کریم نے جہاں یہ مضمون شروع کیا ہے اس کو پیچھے سے دیکھیں گے تو معلوم ہو گا کہ اس کی اصل حقیقت کیا ہے؟ اس جگہ ان آیات کی تفسیر نہیں کی جا رہی اگر تفسیر دیکھنا ہو تو ہماری تفسیر عروۃ الوثقیٰ کی محولہ آیات کو دیکھا جا سکتا ہے۔ گزشتہ قوموں اور خصوصاً یہود نے کتاب اللہ کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا اور قرآنِ کریم نے پیش گوئی کے طور پر واضح کر دیا کہ آنے والے وقت میں قرآنِ کریم کے ساتھ بھی یہی کچھ کیا جائے گا اور اگر ایسا ہوا تو ان لوگوں کا انجام بھی وہی ہو گا جو گزشتہ قوموں کا ہو چکا۔

اپنی خرابیوں کو خوبیاں سمجھنے والے کیا کرتے ہیں؟

یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی گمراہیوں اور اخلاقی خرابیوں کو اپنی خوبیاں سمجھے بیٹھے ہیں۔ خود اُس راستے پر جا رہے ہیں اور اپنی قوم کو اس راستے پر گامزن کرنا چاہتے ہیں جس کا یقینی انجام ہلاکت ہے اور جو شخص ان کو سلامتی کی راہ دکھا رہا ہے اُس کی سعی اصلاح کو ناکام بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کازور صرف کر رہے ہیں۔ انہوں نے خود مختلف فرقے بنا لیے ہیں اور جس طرح یہود نے ’’کتاب اللہ‘‘ کو تقسیم کر دیا یہ بھی کتاب اللہ یعنی قرآنِ کریم کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہے ہیں اور جس ٹکڑے کو چاہتے ہیں اصل جگہ سے اُٹھا کر جہاں چاہتے ہیں فٹ کر لیتے ہیں۔ یہ وہ گمراہی ہے جس نے گزشتہ قوموں کو اپنی لپیٹ میں لیا اور ظاہر ہے کہ حالات یہی رہے تو یہی حال ایسے لوگوں کا بھی ہو گا جو قرآنِ کریم کے ٹکڑے کرنے کا ارتکاب کر رہے ہیں دراصل گروہ بندی شرک کی اصل جڑ ہے جس قوم میں گروہ بندی رہے گی وہ قوم شرک کی زد سے بچ نہیں سکتی خواہ اُس کے رہنے والے ’’اہل توحید‘‘ کے راگ الاپ رہے ہوں بدقسمتی سے یہی حال آج قوم مسلم کا ہے اور خصوصاً اس ’’قلعہ اسلام‘‘ یعنی پاکستان کا، فرقہ بندی روز بروز بڑھ رہی ہے اور ہر ایک جماعت مزید جماعتوں میں تقسیم ہوتی چلی جا رہی ہے اور حکومت نے بھی اس شرک کی قانونی طور پر اجازت دے رکھی ہے۔

وہ صلوٰۃ جو اکیلا انسان بھی ادا کر سکتا ہے جب جماعت میسر نہ ہو

اس جگہ اصل بات ہو رہی ہے کہ اکیلے آدمی کی صلوٰۃ یعنی نماز کوئی نماز نہیں اور عرض یہ کیا جا رہا ہے کہ بلاشبہ صلوٰۃ یعنی نماز ادا کرنے کے لیے جماعت کا ہونا ضروری ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ جماعت میسر نہ آئے یا دل کسی جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کو نہ مانے تو نماز ہی کا انکار کر دیا جائے ہرگز نہیں جب تک انسان اکیلا ہے اور دوسرا اُس کے ساتھ جڑنے کے لیے تیار نہیں تو اُس وقت بھی انسان کو اس فریضہ سے غافل نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس کی ادائیگی میں اسی طرح سرگرم رہنا چاہیے اور کسی منچلے کے روکنے سے ہرگز نہیں رکنا چاہیے کہ یہ دین کا اہم رکن ہے۔ قرآنِ کریم میں بھی ارشاد فرمایا گیا ہے کہ:

كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى
( 96:6 )
مگر انسان سرکش ہو جاتا ہے
Nay, but man doth transgress all bounds,‎

أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى
( 96:7 )
جب کہ اپنے تیئں غنی دیکھتا ہے
In that he looketh upon himself as self-sufficient.‎

إِنَّ إِلَى رَبِّكَ الرُّجْعَى
( 96:8 )
کچھ شک نہیں کہ (اس کو) تمہارے پروردگار ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
Verily, to thy Lord is the return (of all).‎

أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى
( 96:9 )
بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے
Seest thou one who forbids-‎

عَبْدًا إِذَا صَلَّى
( 96:10 )
(یعنی) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے
A votary when he (turns) to pray?‎

’’ہر گز نہیں، حقیقت یہ ہے کہ انسان اکثر حد سے تجاوز کر جاتا ہے۔ اس طرح کہ وہ اپنے آپ کو مستغنی سمجھتا ہے۔ اے انسان! بلاشبہ تجھ کو ایک دن اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ کیا اس شخص کو تو نے دیکھا جو منع کرتا ہے۔ ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے۔‘‘

کیا اس نماز سے میٹنگ مراد لی جا سکتی ہے

کیا اس صلوٰۃ یعنی نماز سے وہ میٹنگ میں حاضر ہونے والی نماز ہی مراد ہے جیسے ہمارے یہ دوست کہتے ہیں اور کیا یہ اکیلے کی نماز نہیں جس سے روکا جا رہا ہے اور عین ممکن ہے کہ ان کے روکنے کا انداز بھی وہی ہو جو انداز ہمارے ان دوستوں نے اپنایا ہے کہ نہ تو خود نماز کے قریب جاؤ کیونکہ اس نماز کے لیے وضو، طہارت، لباس کی پاکیزگی۔ جگہ کی پاکیزگی ، قبلہ رخ ہونے کی سعی و کوشش اور سردیوں کے موسم میں بھی بستروں کی گرمی ترک کرنی پڑتی ہے اور گھر سے اُٹھ کر مسجد کی طرف چلنا پڑتا ہے لہٰذا بہتر ہے کہ نماز کے مفہوم ہی کو بدل دیا جائے تاکہ ان تمام کاموں کی ضرورت ہی پیش نہ آئے گھر بیٹھ کر فون یا انٹرنیٹ پر ہی اس کو ادا کر لیا جائے کیونکہ اس سہولت سے اگر یہ فائدہ بھی حاصل نہ کیا جائے گا تو ان کے ’’بل‘‘ ہم آخر کیوں ادا کریں گے۔ جب ہر کام گھر بیٹھے بٹھائے ہو سکتا ہے تو آخر یہ صلوٰۃ گھر بیٹھ کر بغیر ان ابتدائی تکلّفات کے کیوں ادا نہیں کی جا سکتی۔ اس ترقی یافتہ دور میں آخر اس فرسودہ نماز کی ضرورت کیا ہے؟ اللہ آخر ہم کو ان تمام تکلّفات میں کیوں مبتلا کرنا چاہتا ہے؟ نہیں نہیں یہ نماز اللہ کی نماز نہیں یہ تو ملاؤں کی ایجاد ہے۔
اس وقت ایک مضمون میری نظر سے گذرا جو جناب عزیز اللہ بوہیو کے نام سے موسوم ہے انہوں نے گزشتہ کرم فرماؤں سے چند قدم آگے بڑھ کر ارشاد فرمایا ہے کہ یہ مسجدیں اس مروجہ نماز کے لیے جو استعمال کی جا رہی ہیں یہ سراسر مسجدوں کے ساتھ زیادتی ہے مسجدیں تو اسلام کی میٹنگ گاہیں اور عدالتیں ہیں اور اس سے بھی آگے بڑھ کر اجتماعی تقریبات کے لیے ہیں جو ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ان کو یہ سجدہ نہ معلوم کیوں راس نہیں آیا جس میں ’’آگا نیچے کرنا پڑتا ہے اور پیچھا اونچا کرنا پڑتا ہے‘‘۔ اس سے ان کو اتنی نفرت ہے کہ اس سجدہ کو وہ سجدہ نہیں سمجھتے۔

عبدالکریم اثری
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"

Last edited by rana ammar mazhar; 02-12-11 at 06:51 PM..

rana ammar mazhar
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 756
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (30-11-11), مرزا عامر (30-11-11), احمد نذیر (01-12-11), حیدر Rehan (30-11-11)
پرانا 30-11-11, 12:43 AM   #2
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
ہاں اگر جناب غلام احمد پرویز صاحب، محمد علی رسولنگری صاحب، حشمت علی صاحب، مولوی عبداللہ صاحب اور عزیز اللہ بوہیو صاحب اور ان کے ہم زبان گھوڑوں، گدھوں، بلوں، پلوں، چیلوں، گدھوں اور چوہوں چمگادڑوں والی صلوٰۃ ادا کرنا چاہتے ہوں
مرزا غلام پرویز تو قادیانی تھے یہ باقی شخصیات بھی کیا قادیانی ہیں یا یہ کوئی نیا مذہب ہے
خاص طور پر عزیز اللہ بوہیو صاحب جن کے ایک مضمون کا حوالہ آخر میں بھی دیا گیا ہے ؟
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (30-11-11), مرزا عامر (30-11-11), حیدر Rehan (30-11-11)
پرانا 30-11-11, 01:42 PM   #3
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مرزا غلام احمد قادیانی نہیں تھا ۔ بلکہ اس نے تو قادیانیت کے خلاف ایک کتاب بھی لکھی ہے ۔
رانا صاحب یہ اہل ابواء کیا شے ہے ۔ کچھ مطلب سے آگاہ کیجیئے ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (30-11-11), نورالدین (01-12-11), حیدر Rehan (30-11-11)
پرانا 30-11-11, 02:29 PM   #4
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,889
کمائي: 51,318
شکریہ: 7,994
2,146 مراسلہ میں 4,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

خرد عقل نے۔۔۔ دن یہ دکھلائے
گھٹ گئے انسان، بڑھ گئے سائے

اپ نے لکھا ہے کہ اہل حدیث ان کو اہل قران کہتے ہیں جو کہ اہل حدیث کو نہی کہنا چاہیے کیونکہ یہ بلکل اسی طرح جس طرح قادیانیوں کو احمدی نہی کہنا چاہیے۔

کیا اہل اہوا کا نام اور کتابوں اور مرسلوں میں لکھا جاچکا ہے یا صرف اپ کا تجویز کردہ ہے ؟
کیونکہ ہوتا یہی ہے کہ جو پہلے قبول ہوجائے وہی مشہور ہوجاتا ہے۔
اس فورم پر ہم لوگ اہل اہوا کہیں اور باہر جاکر پتا چلے کہ وہ تو اہل قرآن کے نام سے مشہور ہوچکے ہیں ۔ ۔
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (30-11-11)
پرانا 30-11-11, 05:49 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default بوہیو صاحب خوف زدہ کیوں ہیں؟

بوہیو صاحب خوف زدہ کیوں ہیں؟

جو لوگ مسجدوں میں جاتے ہیں وہ ماتھا زمین پر لگا دیتے ہیں اور پیچھا اوپر کو اُٹھا دیتے ہیں لہٰذا وہ اس سجدہ کی ہیئت کو بدلنا چاہتے ہیں پھر انہوں نے سمجھا ہے کہ صرف سجدہ کی ہیئت کو بدلنے سے نہیں بلکہ سجدہ گاہ یعنی مسجد کے مفہوم ہی کو بدل دیا جائے تو وہ سجدہ کی ’’شرم والی بات‘‘ خود بخود بدل جائے گی۔ انہوں نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ قرآنِ کریم میں ’’مسجد کا لفظ 28 بار لایا گیا ہے اور کسی ایک جگہ بھی یہ نہیں فرمایا گیا کہ اس میں ’’یہ‘‘ والی موجودہ مروجہ نماز پڑھی جائے۔‘‘ اور وہ ’’یہ والی‘‘ موجودہ مروجہ نماز کی جگہ ’’وہ‘‘ والا سجدہ تحریر فرما دیتے تو زیادہ بہتر تھا کیونکہ ان کو در اصل مسجد سے یہ نفرت تو محض ’’وہ والے سجدہ‘‘ سے ہوئی ہے نہ کہ ’’یہ والی مروجہ نماز سے‘‘ جیسا کہ ان کی تحریر سے واضح ہو رہا ہے۔

بوھیو صاحب کا ’’مسجد‘‘ سے اقرار اور پھر فرار

کاش کہ جس بات کا انہوں نے اپنے مضمون میں اعتراف کیا ہے کہ مسجد کا ذکر قرآنِ کریم میں 28 بار آیا ہے ان تمام آیات کو ایک جگہ جمع کر دیتے اور اس سے ثابت کر دیتے کہ مسجدوں میں اس طرح کا سجدہ نہیں بلکہ فلاں طرح کا سجدہ ادا کیا جاتا ہے کیونکہ ’’مسجد‘‘ سے مراد وہ خاص جگہ ہی لی جاتی ہے جہاں پہنچ کر لوگ سجدہ ریز ہو جاتے ہیں اور سجدہ دراصل تذلل کی ایک آخری صورت و ہیئت ہے جو انسان صرف اور صرف اللہ رب کریم کے سامنے اختیار کرتا ہے کسی انسان یا کسی دوسری ہستی کے سامنے نہیں اور اس سجدہ کے لیے وہ تمام ابتدائی مراحل جو پاکیزگی و طہارت کے ہوتے ہیں ان سے گزرنا پڑتا ہے ان مراحل سے گزرنے کے سوا ایسا کرنا ہرگز ہرگز اسلام کا یانماز کے اندر کا سجدہ نہیں کہلاتا۔

بوھیو صاحب کی آئیں ، بائیں شائیں اور مسجد کے تصور کی وضاحت

محترم عزیز اللہ بوھیو صاحب تو صرف 28 بار کا ذکر کر کے دوسری باتوں میں مصروف ہو گئے اور ’’اہل اہواء‘‘ کی طرح آئیں بائیں، شائیں کرتے ہوئے پھر کبھی مسجد والی آیت کی طرف آئے تو قرآنِ کریم کے تین چار الفاظ جس میں مسجد کا لفظ بھی آئے ظاہر کرنے کے بعد پھر اُسی طرح اِدھر اُدھر کی باتوں میں لگ گئے تاکہ قاری کا ذہن ہٹا دیں کہ وہ یک جہتی کے ساتھ کسی بات کو سمجھ نہ سکے بہرحال یہ ان کا معاملہ ہے جو ان کے ساتھ ہے جس کے وہ خود ہی ذمہ دار ہیں ہم اس جگہ مسجد کا ذکر ذراتفصیل سے کریں گے تاکہ ’’مسجد‘‘ کا تصور واضح ہو جائے اور جس سجدہ کی وجہ سے اس کو مسجد کہا جاتا ہے اُس کی حقیقت بھی مبہم نہ رہے چنانچہ سمجھ لینا چاہیے کہ قرآنِ کریم میں ’’مسجد‘‘ کا لفظ تین بار ’’المسجد‘‘ سترہ بار ’’مسجداً‘ ‘دو بار ’’مساجد‘‘ چار بار اور ’’المساجد‘‘ کا لفظ دوبار آیا ہے اور ان الفاظ کی تعداد فی الحقیقت ۲۸ہوتی ہے جن کے مقامات کی تفصیل اس طرح ہے۔

لفظ ’’مسجد‘‘ اور قرآنِ کریم

قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِقف وَاَقِیْمُوْا وُجُوْہَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَّادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ۵ط کَمَا بَدَاَکُمْ تَعُوْدُوْنَ o فَرِیْقًا ہَدٰی وَفَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْہِمُ الضَّلٰلَۃُط اِنَّہُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَیَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ مُّہْتَدُوْنَ o یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَّکُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلاَ تُسْرِفُوْاجط اِنَّہٗ لاَ یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ o قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِط قُلْ ہِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا خَالِصَۃً یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِط کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ o (۷:۲۹ تا۳۲)
’’(اے پیغمبر اسلام!) تم کہو میرے پروردگار نے جو کچھ حکم دیا ہے وہ تو یہ ہے کہ اعتدال کی راہ اختیار کرو اور ہر عبادت گاہ میں عبادت کے لیے جاؤ تو اپنی عبادت میں صرف اور صرف اللہ کی طرف توجہ رکھو اور دین کو اُس کے لیے خالص کر کے اُسے پکارو، اس نے جس طرح تمہاری ہستی شروع کی اسی طرح لوٹائے جاؤ گے۔ ایک گروہ کو کامیابی و کامرانی کی راہ دکھائی، دوسرے پر گمراہی ثابت ہو گئی، ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا رفیق بنا لیا بایں ہمہ سمجھے کہ وہ راہ راست پر ہیں۔ اے اولادِ آدم! عبادت کے ہر موقع پر جب عبادت گاہ میں جاؤ تو اپنے جسم کی زیب و زینت سے آراستہ رہا کرو نیز کھاؤ، پیو مگر حد سے گزر نہ جاؤ، اللہ انہیں پسند نہیں کرتا جو حد سے گزر جانے والے ہیں۔ ان لوگوں سے کہو اللہ کی زینتیں جو اس نے اپنے بندوں کے استعمال کے لیے پیدا کی ہیں اور کھانے پینے کی اچھی چیزیں کس نے حرام کی ہیں؟ تم کہو وہ تو اس لیے ہیں کہ ایمان والوں کے کام آئیں، دنیا کی زندگی میں بھی، قیامت کے دن بھی خالص ان کے لیے ہیں، اس طرح ہم ان لوگوں کے لئے کھول کھول کر نشانیاں بیان کرتے ہیں جو جاننے والے ہیں۔‘‘

مسجد کی حاضری عبادت کے لیے اور زیب و زینت

مذکورہ آیات میں جو قرآنِ کریم کی سورہ الاعراف سے مسلسل ذکر کی گئیں ہیں دوبار ’’مسجد‘‘ کا ذکر آیا ہے جس سے مراد عبادت گاہ ہے اور وہاں کیوں جائیں گے؟ عبادت کے لیے، اس سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ اللہ رب کریم کی عبادت کے لیے حاضری دی جائے تو انسان کو اپنی زیب و زینت کا مکمل اہتمام کرنا چاہیے اور ’’زیب و زینت‘‘ میں جو کچھ آتا ہے سب کا سب اس میں شامل ہے یعنی اچھا اور صاف ستھرا لباس ہو اور عبادت کے لیے حاضر ہونے والا مرد ہے یا عورت اس کو بھی صاف ستھرا اور پاک و صاف ہونا چاہئے ظاہری طہارت و پاکیزگی بھی ہو اور باطنی طہارت و پاکیزگی بھی۔
ایک بات غور طلب یہ بھی ہے کہ جس ’’زیب و زینت‘‘ کا ذکر کیا گیا ہے کیا یہ ’’زیب و زینت‘‘ اسی طرح بنی بنائی آسمان سے اتری ہے یا اس جگہ بنائی گئی ہے؟ سب تسلیم کریں گے کہ یہ زیب و زینت اسی جگہ بنائی گئی ہے آسمان سے نہیں اتری۔ یہ زیب و زینت ایسی ایسی چیزوں کو قرار دیتے ہیں کہ ان کا نام سن کر ہی آدمی حیران رہ جاتا ہے پھر ان تمام چیزوں کے فیصلے خود انسان ہی کرتے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ میری نظر میں ایک چیز تہذیب اسلامی کے خلاف ہو اور آپ اس کو عین تہذیب اسلامی سمجھتے ہوں۔ دلائل میں بھی پیش کروں گا اور آپ بھی پھر آخر اس کا حل کیا ہے؟ میری نظر میں یہی کہ میں بھی برداشت سے کام لوں اور آپ بھی۔ آپ مجھے برا بھلا کہنا بند کر دیں اور میں آپ کو، میں یہی کہوں گا کہ ’’مسجد‘‘ کو ساری دنیا کے لوگ عبادت گاہ، عبادت کی جگہ، سجدہ گاہ، سجدہ ادا کرنے کی جگہ مزید آگے بڑھ کر یہ کہ مسجد کو ’’عبادت‘‘ سمجھتے ہیں کیونکہ اس کی تعمیر کو عبادت تصور کرتے ہیں لیکن ہمارے جو بھائی اور دوست ایسا نہیں سمجھتے ان کو چاہیے کہ وہ عدالتوں کو، جماعت گاہیں، عام مجلسوں کی جگہوں کو ’’مسجد‘‘ سمجھتے رہیں اور جو کچھ وہاں ہوتا ہے اُس کو عبادت سمجھیں لیکن دوسروں کی تضحیک و تسفیق نہ کریں کیونکہ اس طرح سمجھنے والے پہلے بھی گزر چکے ہیں جیسا کہ قرآنِ کریم نے ارشاد فرمایا ہے کہ:

مشرکین مکہ کی صلوٰۃ بیت اللہ کے قریب

وَمَا کَانَ صَلاَ تُہُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلاَّ مُکَآءً وَّتَصْدِیَۃًط فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ o (۸:۳۵)
’’اور بیت اللہ میں ان کی نماز اس کے سوا کیا تھی کہ سیٹیاں بجائیں اور تالیاں پیٹیں، تو دیکھو تم جیسے کچھ کفر کرتے رہے ہو اب اس کی پاداش میں عذاب کا مزہ چکھو۔‘‘
زیر نظر آیت میں جس جگہ کو ’’البیت‘‘ کہا گیا ہے اس کو قرآنِ کریم نے متعدد جگہوں پر ’’مسجد حرام‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے مختلف ادوار میں اس جگہ کیا کچھ ہوتا رہا قرآنِ کریم کی اس آیت سے واضح ہے اب بھی یہ کام مسجد میں نہیں تو خانقاہوں پر ہوتا ہے اور زور و شور سے ہو رہا ہے اور خانقاہوں کو بھی متبرک مقام سمجھا جاتا ہے اگر بوھیو صاحب اور ان کے ہم نوا دوبارہ ایسے ہی کام مسجدوں میں کرنا چاہتے ہیں اور وہ اس سجدہ سے ایسے ڈرے ہیں کہ اس سجدہ کو متعارف سجدہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور خوف کے باعث وہ مسجدوں میں بھی دوسرے کام کرنے کی سعی و کوشش میں ہیں تو ہم سوائے اس کے کچھ نہیں کہہ سکتے قرآنِ کریم نے ایسے لوگوں کو جو کچھ کہا ہے وہ اوپر ہم نے سورہ الانفال کی آیت کے حوالہ سے عرض کر دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں ہے کہ:
لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْہِط فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَہَّرُوْاط وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِیْن o (۹:۱۰۸)
’’البتہ وہ مسجد آپؐ کے کھڑے ہونے کی زیادہ مستحق ہے جس کی بنیاد روزِ اول ہی سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پسند کرتے ہیں کہ وہ صاف و ستھرے رہیں اور اللہ تعالیٰ صاف و پاک رہنے والوں کو زیادہ پسند کرتا ہے۔‘‘

قرآنِ کریم اور ’’المسجد‘‘ کا بیان شروع ہوتا ہے

مساجد کا لفظ جو تین بار قرآنِ کریم میں مذکور ہوا اس کو بیان کرنے کے بعد ’’المسجد‘‘ کے لفظ کو جہاں جہاں مختلف مقامات پر ذکر کیا ہے ان کی واضح طور پر نشاندہی کی جاتی ہے اور قارئین کرام سے التماس ہے کہ وہ خود ان حوالہ جات سے قرآنِ کریم کے سیاق و سباق کے لیے آگے اور پیچھے کی آیات پر بھی نگاہ رکھیں ان شاء اللہ بات مزید واضح ہو جائے گی، اس جگہ ہم صرف آیات اور ان کے ترجمہ پر اکتفا کریں گے تفسیر کے لیے ہماری تفسیر عروۃ الوثقیٰ کی محولہ آیات کو دیکھیں چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے کہ:

صلوٰۃ ادا کرنے کے لیے قبلہ رو ہونا لازم ہے

قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَآءِج فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰہَاصفَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِط وَحَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْہَکُمْ شَطْرَہٗط وَاِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّہِمْط وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْن o (۲:۱۴۴)
’’ہم دیکھ رہے ہیں کہ تمہارا چہرہ آسمان کی طرف بار بار اُٹھتا ہے یقین کرو ہم عنقریب تمہارا رُخ اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس سے تم خوشنود ہو جاؤ گے۔ تم اپنا رخ مسجد حرام کی طرف پھیر لو اور جہاں کہیں بھی تم نکلو ضروری ہے کہ کہ اپنا رخ اسی طرف پھیرا کرو، جن لوگوں کو آپؐ سے پہلے کتاب دی گئی ہے وہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ ’’قبلہ‘‘ ان کے رب کی طرف سے ایک امر حق ہے اور جیسے کچھ ان کے اعمال ہیں اللہ ان سے غافل نہیں۔‘‘
وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِطوَ اِنَّہٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَط وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ o وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِط وَحَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْہَکُمْ شَطْرَہٗلا لِءَلاَّ یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّۃٌقلا اِلاَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ فَلاَ تَخْشَوْہُمْ وَاخْشَوْنِیْ وَلِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَہْتَدُوْن o (۲:۱۴۹، ۱۵۰)
’’آپؐ کہیں سے بھی نکلیں اور جہاں کہیں بھی ہیں رُخ انور اس طرح پھیر لو جس طرح مسجد حرام ہے اور یقین کرو یہ آپؐ کے رب کی طرف سے امر حق ہے اور تم جانتے ہو کہ اللہ تمہارے اعمال کی طرف سے غافل نہیں۔ اور تم کہیں سے بھی نکلو اور جہاں کہیں بھی ہو چاہئے کہ اپنا رُخ مسجد حرام ہی کی طرف کیا کرو تاکہ تمہارے خلاف لوگوں کے پاس کوئی دلیل باقی نہ رہے، وہ لوگ جو حق سے تجاوز کر گئے ہیں ان کی مخالفت تو ہر حال میں جاری رہے گی، ان سے مت خوف کھاؤ، ڈرو تو صرف مجھ ہی سے ڈرو تاکہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کر دوں، جس کے نتیجہ میں تم سیدھی راہ پر لگ جاؤ۔‘‘

مسجد الحرام کے احترام کا طریقہ اسلام میں

وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُوْاطاِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ o وَاقْتُلُوْہُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْہُمْ وَاَخْرِجُوْہُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْکُمْ وَالْفِتْنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِج وَلاَ تُقٰتِلُوْہُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰی یُقٰتِلُوْکُمْ فِیْہِج فَاِنْ قٰتَلُوْکُمْ فَاقْتُلُوْہُمْطکَذٰلِکَ جَزَآءُ الْکٰفِرِیْنَ o فَاِنِ انْتَہَوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ o (۲:۱۹۰تا ۱۹۲)
’’اور جو لوگ تم سے اللہ کی راہ میں لڑائی لڑتے ہیں، تم بھی ان کے ساتھ لڑو ہاں کسی طرح کی زیادتی نہیں کرنی چاہیے، اللہ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو زیادتی کرنے والے ہوں۔ انہیں جہاں کہیں پاؤ قتل کرو اور جس جگہ سے انہوں نے تم کو نکالا ہے تم انہیں نکال باہر کرو کیونکہ فتنہ کا قائم رہنا قتل و خون ریزی سے بڑھ کر ہے جب تک وہ خود مسجد حرام کی حدود میں تم سے لڑائی نہ کریں، تم بھی ان سے لڑائی نہ کرو، ہاں! اگر انہوں نے اس مقام پر لڑائی شروع کر دی تو تمہارے لیے اس مقام پر لڑنا ضروری ہو جائے گا، منکرین حق کا یہی بدلہ ہے۔ جب وہ لڑائی سے باز آ گئے تو پھر اللہ کی بخشش کا دروازہ کھلا ہے بلاشبہ وہ رحمت سے بخش دینے والا ہے۔‘‘

تمتع حج اور قربانی یعنی جانور کا ذبیحہ

فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِج فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَسَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْط تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌط ذٰلِکَ لِمَنْ لَّمْ یَکُنْ اَہْلُہٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِط وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابo (۲:۱۹۶)
’’جو شخص تمتع حج کرے تو اس کے لیے بھی قربانی ہے جیسی کچھ اُس کو میسر آئے۔ البتہ جس شخص کو قربانی میسر نہ آئے تو تین روزے حج کے دنوں میں رکھے، سات روزے واپسی پر، یہ دس کی پوری گنتی ہو جائے گی، ہاں! یاد رہے کہ یہ حکم اس کے لیے ہے جس کا گھر بار مکہ مکرمہ میں نہ ہو اور دیکھو ہر حال میں اللہ کی نافرمانی سے بچو اور یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔‘‘

قربانی نہ کرنے والے دس روزے رکھ لیں لیکن کون؟

مذکورہ آیت تو محض ’’مسجد‘‘ کے ذکر کے باعث تحریر کی گئی ہے لیکن چونکہ اس میں تمتع حج کا ذکر ہے اور یہ بات بھی اس میں فرمائی گئی ہے کہ صرف تمتع حج ہی ایسا حج ہے جس میں قربانی لازم ہے بشرطیکہ میسر آئے اگر آسانی سے میسر نہ آئے تو مکہ مکرمہ کے علاوہ جو لوگ حج تمتع کے لیے جائیں ان کے لیے اس قربانی کا بدل دس روزے ہیں جن میں سے تین تو حج کے دونوں میں پورے کیے جائیں گے یعنی ۸/ ذی الحجہ سے تیرہ ذی الحجہ تک وقفہ کے ساتھ اور سات روزے حاجی جب گھر واپس آئے تو اُس وقت رکھ لے۔ آج جو وہاں قربانیوں کا حال ہے وہ سب کو معلوم ہے لیکن کوئی عالم یہ نہیں بتاتا کہ حج قران اور حج افراد میں تو قربانی لازم نہیں لہٰذا ان کو وہاں قربانی نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہاں گوشت کی ضرورت نہیں جس کے باعث جانوروں کی اضاعت ہوتی ہے اور تمتع حج کرنے والے بھی ضرورت محسوس نہ کریں تو ان کو روزے رکھ لینا چاہیے تاکہ اضاعت مال نہ ہو اور یہ مال ضرورت مند لوگوں کے کام آئے، کاش کہ اس معاملہ میں سوچا جاتا۔
یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِط قُلْ قِتَالٌ فِیْہِ کَبِیْرٌط وَصَدٌّعَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَکُفْرٌمبِہٖ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِق وَاِخْرَاجُ اَہْلِہٖ مِنْہُ اَکْبَرُ عِنْدَ اللّٰہِج وَالْفِتْنَۃُ اَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِط (۲:۲۱۷)
’’لوگ آپؐ سے پوچھتے ہیں جو مہینہ حرمت کا ہے اس میں لڑائی کرنا کیسا ہے؟ ان سے کہہ دو، اس میں لڑائی لڑنا بہت ہی بری بات ہے مگر کسی انسان کو اللہ کی راہ سے روکنا اور اس کا انکار کرنا اور مسجد حرام میں کسی کو نہ جانے دینا، یہاں تک کہ وہاں کے بسنے والوں کو نکال دینا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ برائی ہے اور فتنہ قتل سے بھی بڑھ کر برائی ہے۔‘‘

کسی قوم کی دشمنی مسجد حرام سے روکنے کا باعث نہ ہو

وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی وَلاَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللّٰہَط اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ o (۵:۲)
’’اور ایسا نہ ہو کہ ایک گروہ کی دشمنی تمہیں اس بات پر ابھار دے کہ زیادتی کرنے لگو کیونکہ انہوں نے مسجد حرام سے تمہیں روک دیا تھا، نیکی اور پرہیزگاری کی ہر بات میں ایک دوسرے کی مدد کرو ، گناہ اور ظلم کی بات میں نہ کرو اور دیکھو اللہ کی نافرمانی سے بچو، یقیناًوہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘

عذابِ الٰہی کے مستحق کون؟

کَیْفَ یَکُوْنُ لِلْمُشْرِکِیْنَ عَہْدٌ عِنْدَ اللّٰہِ وَعِنْدَ رَسُوْلِہٖٓ اِلاَّ الَّذِیْنَ عَاہَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِج فَمَا اسْتَقَامُوْا لَکُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَہُمْط اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْن o (۹:۷)
’’یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ان مشرکوں کا عہد اللہ اور اُس کے رسول کے نزدیک عہد ہو؟ جن لوگوں کے ساتھ تم نے مسجد حرام کے قریب عہد و پیمان باندھا تھا تو جب تک وہ تمہارے ساتھ قائم رہیں تو تم بھی قائم رہو، اللہ انہیں دوست رکھتا ہے جو متقی ہوتے ہیں۔‘‘
اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَآجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَجَاہَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِط لاَ یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰہِط وَاللّٰہُ لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ o (۹:۱۹)
’’کیا تم لوگوں نے یوں ٹھہرا رکھا ہے کہ حاجیوں کے لیے سبیل لگا دینا اور مسجد حرام کو آباد رکھنا اس درجہ کا کام ہے جیسا اس شخص کا کام جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا؟ اللہ کے نزدیک تو یہ دونوں برابر نہیں اور اللہ ظلم کرنے والوں پر راہ نہیں کھولتا۔‘‘

شرک ناپاکی ہے اور مشرکین ناپاک ہیں

یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلاَ یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہٰذَاج وَاِنْ خِفْتُمْ عَیْلَۃً فَسَوْفَ یُغْنِیْکُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖٓ اِنْ شَآءَط اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ o (۹:۲۸)
’’اے مسلمانو! حقیقت حال اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ یہ مشرک نجس ہیں، بس چاہئے کہ اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے نزدیک نہ آئیں اور اگر تم کو فقر و فاقہ کا اندیشہ ہو تو گھبراؤ نہیں، اللہ چاہے گا تو عنقریب تمہیں اپنے فضل سے تونگر کر دے گا، اللہ سب کچھ جاننے والا، حکمت والا ہے۔‘‘
سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَاط اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ o (۱۷:۱)
’’پاکیزگی ہے اُس ذات کے لیے جس نے اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کہ اس کے اطراف کو ہم نے بڑی برکت دی ہے، سیر کرائی اور اس لیے سیر کرائی کہ اپنی نشانیاں اسے دکھا دیں، بلاشبہ وہی ذات ہے جو سننے والی اور دیکھنے والی ہے۔‘‘
یہ آیت مسلمانوں کے لیے اپنے اندر بہت سی نشانیاں اور نہایت واضح اسباق رکھتی ہے لیکن افسوس کہ مسلمانوں نے جس نہج پر سوچنا چاہئے تھا بالکل نہیں سوچا اور اغیار بہت کچھ سوچ رہے ہیں اور انہوں نے بہت حساس اور پیچیدہ پروگرام تشکیل دیئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی بھی آنکھیں کھول دے اور وہ حقیقت کو سمجھ جائیں۔ آگے جو آیت سورہ حج کی ’’مسجد‘‘ کی نسبت سے درج کی جا رہی ہے اُس کا مضمون بھی اس ’’حساسیت‘‘ کو تقویت دے رہا ہے غور کریں :
اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰہُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ نِالْعَاکِفُ فِیْہِ وَالْبَادِط وَمَنْ یُّرِدْ فِیْہِ بِاِلْحَادٍمبِظُلْمٍ نُّذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ o (۲۲:۲۵)
’’جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی اور جو اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں نیز مسجد حرام سے جسے ہم نے بلا امتیاز تمام انسانوں کے لیے ٹھہرایا ہے خواہ وہاں کے رہنے والے ہوں یا باہر سے آنے والے اور ہر اس آدمی کو جو اس میں از راہِ ظلم حق سے منحرف ہونا چاہے گا عذاب دردناک کا مزہ چکھائیں گے۔‘‘
ہُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْہَدْیَ مَعْکُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّہٗط وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَنِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْہُمْ اَنْ تَطَءُوْہُمْ فَتُصِیْبَکُمْ مِّنْہُمْ مَّعَرَّۃٌمبِغَیْرِ عِلْمٍج (۴۸:۲۵)
’’یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانور بھی اپنی جگہ سے رکے رہے اور اگر مومن مرد اور مومن عورتیں مکہ میں نہ ہوتیں جن کو تم نہیں جانتے تھے تو یہ احتمال تھا کہ تم ان کو پیس ڈالتے پھر تم کو ان کے باعث اس کی وجہ سے نقصان پہنچتا جو اگرچہ تم بے خبری میں کرتے۔ پھر بھی یہ نقصان تو تھا۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کی صداقت

لَقَدْ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوْلَہُ الرُّءْ یَا بِالْحَقِّج لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰہُ اٰمِنِیْنَ مُحَلِّقِیْنَ رُءُ وْسَکُمْ وَمُقَصِّرِیْنَلا لَا تَخَافُوْنَط فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِکَ فَتْحًا قَرِیْبًاo (۴۹:۲۷)
’’بے شک اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو حقیقت کے مطابق سچا خواب دکھایا کہ ان شاء اللہ تم مسجد حرام میں امن و امان سے داخل ہو گے سروں کو منڈاتے ہوئے اور بال کتراتے ہوئے تم کوکسی بات کا خوف نہ ہو گا پھر وہ جانتا ہے جو تم نہیں جانتے پھر اس نے فتح مکہ سے قبل ہی ایک فوری فتح دے دی۔‘‘ (یہ فتح خیبر تھی)۔
اوپر سترہ بار جو ’’المسجد‘‘ کا ذکر کیا تھا وہ تعداد بھی مکمل ہو گئی۔ ان آیات کو اچھی طرح غور و فکر کے ساتھ پڑھیں اور خود ہی دیانتداری کے ساتھ فیصلہ کر لیں کہ ’’مسجدیں‘‘ کس مقصد کے لیے تعمیر کی جاتی ہیں اور خصوصاً اسلام نے جس کو ’’مسجد حرام‘‘ اور ’’مسجد اقصیٰ‘‘ کے ناموں سے تعبیر کیا ہے اُس وقت وہاں کیا ہوتا تھا جب قرآنِ کریم نازل ہو رہا تھا اور آپؐ خود بنفس نفیس مدینہ طیبہ میں موجود تھے نیز وہ مسجد جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی تھی وہاں کیا کچھ ہوتا تھا۔ اب ان آیات کا ذکر کیا جاتا ہے جن میں ’’مسجداً‘‘ کا لفظ آیا ہے جو دو مقامات پر ہے چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے کہ:

مسجد ’’ضرار‘‘ کس کو کہا گیا اور کیوں؟ نیز ’’مسجداً‘‘ کا لفظ قرآن کریم میں


وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّکُفْرًا وَّتَفْرِیْقًا مبَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَاِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ مِنْ قَبْلُط وَلَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَآ اِلاَّ الْحُسْنٰیط وَاللّٰہُ یَشْہَدُ اِنَّہُمْ لَکٰذِبُوْن o (۹:۱۰۷)
’’اور جنہوں نے اس غرض سے ایک مسجد کھڑی کی کہ نقصان پہنچائیں، کفر کریں، مومنوں میں تفرقہ ڈالیں اور ان لوگوں کے لیے کمین گاہ پیدا کریں جو اب سے پہلے اللہ اور اُس کے رسول سے لڑ چکے ہیں، وہ ضرور قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہمارا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ بھلائی ہو لیکن اللہ کی گواہی یہ ہے کہ وہ اپنی قسموں میں قطعاً جھوٹے ہیں۔‘‘

آپؐ کی ہجرت سے قبل مدینہ کی حالت

جب آپؐ ہجرت کر کے مدینہ پہنچے اُس وقت مسلمانوں کی ایک جماعت تشکیل پا چکی تھی۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی تعلیم و تبلیغ سے مدینہ کے اکثر خاندانوں سے لوگ اس جماعت میں داخل ہو چکے تھے آپؐ نے تشریف لاتے ہی پہلا کام ’’مسجد النبی‘‘ کی تعمیر کا سر انجام دیا کہ مسلمان وہاں باجماعت نماز اد کر سکیں اور وحی الٰہی کی تعلیم کو سیکھ سکیں۔ وہ وحی الٰہی جو مدینہ کی ہجرت سے پہلے نازل ہو چکی تھی وہ آپؐ کے اور صحابہ کرامؓ کے سینہ میں محفوظ ہونے کے ساتھ تحریری طور پر بھی موجود تھی جو مختلف اشیاء پر تحریر ہو چکی تھی اور ایک خاص صندوق میں محفوظ رکھی ہوتی تھی۔ یہ صندوق بھی ہجرت کے وقت آپؐ کے ساتھ آیا اور اس کو ایک خاص جگہ اس مسجد نبوی میں ایک ستون کے ساتھ مقفل رکھا گیا جس سے یہ بات تو روزِ روشن کی طرح واضح ہو گئی کہ مسجد کی تعمیر کیوں ہوئی اور وہ کتنی ضروری تھی کہ اپنی رہائش سے بھی پہلے آپؐ نے اس کی تعمیر کا بندوبست کیا۔ بلاشبہ قومی اور جماعتی مشاورت بھی اس جگہ ہوتی تھی۔ مثل ہے کہ ’’جہاں پھول وہاں کانٹا‘‘ جہاں سچے دل سے ایمان لانے والے لوگ موجود تھے وہاں اس دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنے والی جماعت میں کچے ایمان کے لوگ جن کو اسلام کی زبان میں منافق کہا جاتا ہے وہ بھی داخل ہو گئے چونکہ وہ اپنے دعویٰ ایمان کے باعث ان سچے مسلمانوں میں گھس گئے، مسلمانوں کو اور اسلام کو نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ آپؐ نے نہایت حکمت عملی کے ذریعہ اُن کا ایسا دفاع کیا کہ وہ اپنی سازشوں میں کامیاب نہ ہو سکے، ان کے رابطے بدستور مدینہ سے باہر مشرکین اور اہل کتاب کی ان جماعتوں سے رہے جو مدینہ کے مضافات میں رہتے تھے بلکہ دور دراز دوسرے ملکوں تک ان کے روابط قائم رہے جن کا ذکر تاریخ میں واضح طور پر موجود ہے۔ انہوں نے جب دیکھا کہ ہم باوجود ساری کوششوں کے ناکام و نامراد ہیں اور کھلے بندوں آپس میں بھی بیٹھ کر کسی طرح کی گفتگو نہیں کر سکتے کیونکہ اس کے ظاہر ہونے کا خطرہ ہر وقت موجود رہتا ہے اور اب اسلام کا لیبل بھی اُتارا نہیں جا سکتا تو اُنہوں نے آپس میں مشورہ کر کے ایک مسجد کی تعمیر شروع کر دی یہ وہ زمانہ تھا کہ آپؐ تبوک کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ اس مسجد کے تعمیر کرنے والے کسی سے پوشیدہ نہیں تھے لیکن اس کے باوجود چونکہ وہ مسلمانوں میں شمار ہوتے تھے لہٰذا ایک دن وہ آیا کہ انہوں نے آپؐ کے سامنے یہ درخواست پیش کر دی کہ آپؐ ہماری اس مسجد میں تشریف لائیں تاکہ اس کا افتتاح ہو جائے آپؐ نے فرمایا کہ اس وقت تو نہیں البتہ تبوک کے بعد اس سلسلہ میں کچھ کہہ سکوں گا۔ آپؐ تبوک چلے گئے، بہت سے لوگوں کو جو مضافات مدینہ میں رہتے تھے اور مدینہ کے منافقین کو ایک طرح سے مکمل یقین تھا کہ تبوک سے واپسی خیریت سے نہیں ہو گی کیونکہ رومی ایک نہایت سخت قوم ہے اور وہ اس معرکہ کے لیے مکمل تیار بھی ہو چکے ہیں لیکن اُس وقت ان تمام لوگوں کی اسکیموں پر پانی پھر گیا جب آپؐ اور آپؐ کے ساتھی بخیر و خوبی اس طویل سفر سے واپس آ گئے اور رومیوں نے مزاحمت کرنے کی بجائے پسپائی اختیار کر لی۔

مسجد ضرار کے انہدام کا حکم اور اس پر عمل


آپؐ ابھی راستہ ہی میں تھے کہ یہ آیات نازل ہوئیں اور آپؐ نے ایک دستہ مدینہ پہنچنے سے پہلے ہی تیار کر دیا کہ وہ مدینہ جا کر اس ’’مسجد ضرار‘‘ کو منہدم کر دیں چنانچہ یہ ’’مسجد‘‘ منہدم کر دی گئی اور قرآنِ کریم نے اس مسجد کا نام ’’مسجد ضرار‘‘ بیان کیا اللہ تعالیٰ کی عبادت کی غرض سے نہیں بلکہ پکے اور سچے مسلمانوں کے خلاف بطور سازش تعمیر کی گئی تاکہ مسلمانوں کے خلاف بطور کمین گاہ کام دے اور آج بھی جو لوگ مسجدوں کو اللہ کی عبادت کے لیے نہیں بلکہ محض صلاح مشورہ اور جماعتی فیصلوں کے لیے تصور کرتے ہیں در اصل یہ تمام لوگ ان ہی منافقین مدینہ کے پیروکار ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسلام کی ان شناختوں کو بھی ختم کر دیا جائے جو اس وقت تک بطورِ رسم موجود چلی آ رہی ہیں۔

تعمیر مساجد کی موجودہ حالت پر افسوس آخر کیوں؟

ہم نہایت افسوس سے یہ بات بھی عرض کریں گے کہ مسجدوں پر مسجدیں بناتے چلے جانا اور مسلمانوں کی اس تفریق میں اضافہ کرنے کا باعث بننا بھی کوئی نیکی اور ثواب کا کام نہیں بلکہ مسجدوں کی رونق بحال کرنا، اللہ کے ذکر میں شامل رہنا، اللہ کی رضامندی کو تلاش کرنا اور آپس میں گھل مل کر رہنا اور ایک دوسرے کی خبرگیری کرنا، ایک دوسرے کے کام آنا، اپنے محلے، شہر گاؤں، قصبہ اورملک تک کے ساتھ مخلص رہتے ہوئے زندگی گزارنا اور ان کاموں کو تقویت دینے کے لیے مسجدوں میں حاضری ضروری ہے گویا مسجدیں اللہ تعالیٰ کی یاد کو تازہ کرنے کے لیے بنائی جاتی ہیں اور ان کے ذریعہ اپنے تعلقات کو استوار کرنے کا سبق یہاں سیکھا جاتا ہے اور اللہ کی توفیق ہی سے یہ کام سر انجام دیا جا سکتا ہے اللہ سے دُعا ہے کہ وہ ہم سب مسلمانوں کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ ’’مسجداً‘‘ کا دوسرا لفظ سورہ کہف میں اس طرح آیا ہے کہ:

خانقاہوں پر مسجدیں بنانے کا رواج

وَکَذٰلِکَ اَعْثَرْنَا عَلَیْہِمْ لِیَعْلَمُوْٓا اَنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّاَنَّ السَّاعَۃَ لَا رَیْبَ فِیْہَاج اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَہُمْ اَمْرَہُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْہِمْ بُنْیَانًاط رَبُّہُمْ اَعْلَمُ بِہِمْط قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلآی اَمْرِہِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْہِمْ مَّسْجِدًا o (۱۸:۲۱)
’’اور اسی طرح یہ بات بھی ہوئی کہ ہم نے لوگوں کو ان کے حال سے واقف کر دیا اور اس لیے واقف کر دیا کہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شبہ نہیں، اس وقت کی بات ہے کہ لوگ آپس میں بحث کرنے لگے، ان لوگوں کے معاملے میں کیا کیا جائے لوگوں نے کہا اس غار پر ایک عمارت بنا دو، ان پر جو کچھ گزری، ان کا پروردگار ہی اسے بہتر جانتا ہے، تب ان لوگوں نے کہا کہ معاملات میں غالب آ گئے تھے ، ٹھیک ہے ہم ضرور ان کے مرقد پر ایک عبادت گاہ (مسجد) بنائیں گے۔‘‘ انہوں نے وہاں مسجد بنا دی۔
اصحابِ کہف کے واقعہ کی تفصیلات بڑی عجیب ہیں اور یہ دیکھنے پڑھنے اور سمجھنے کے لائق ہے لیکن اس جگہ اس کے بیان کی گنجائش نہیں، ویسے بھی ہم نے اس کی پوری تفصیلات قرآنِ کریم کی تفسیر عروۃ الوثقیٰ میں دے دی ہیں۔ مختصر یہ کہ اصحابِ کہف کا معاملہ ایسا ہے کہ ابتداء میں قوم کے ظلم و ستم نے انہیں مجبور کیا تھا کہ وہ کسی غار میں جا کر پناہ لیں۔ لیکن ایک عرصہ گزرنے کے بعد قوم پر ان کے زہد و عبادت کا استغراق کچھ اس طرح چھا گیا کہ انہوں نے ان کے مرقد پر ایک عبادت گاہ (مسجد) تعمیر کر دی، اور عیسائیت سے یہ کام مسلمانوں میں بھی در آیا کہ ہر خانقاہ کے ساتھ ضرور ایک عبادت گاہ (مسجد) تعمیر کی جاتی ہے اور جو کچھ ان خانقاہوں اور ان مساجد میں ہوتا ہے اُس کا حال کسی سے پوشیدہ نہیں۔

’’مساجد‘‘ کا لفظ قرآنِ کریم میں چار بار موجود ہے

’’مساجد‘‘ کا لفظ قرآنِ کریم میں چار بار آیا ہے اور ظاہر ہے کہ ’’مساجد‘‘ مسجد ہی کی جمع ہے، اب اس کا ذکر دیکھیں کہ قرآنِ کریم میں کس طرح کیا گیا ہے ۔

چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے کہ:

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰہِ اَنْ یُّذْکَرَ فِیْہَا اسْمُہٗ وَسَعٰی فِیْ خَرَابِہَاط اُولٰٓءِکَ مَا کَانَ لَہُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْہَآ اِلاَّ خَآءِفِیْنَ۵طلَہُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّلَہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ o (۲:۱۱۴)
’’اس سے بڑھ کر ظلم کرنے والا کون ہے جو اللہ کی عبادت گاہوں میں اس کے نام کی یاد کو روکے اور ان کی ویرانی میں کوشاں ہو؟ جن لوگوں کے ظلم کا یہ حال ہے تو وہ اس قابل ہی نہیں کہ اللہ کی عبادت گاہوں میں وہ قدم رکھیں بجز اس حالت کے کہ وہ ڈرے، سہمے ہوئے ہوں، ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے سخت عذاب تیار کیا گیا ہے۔‘‘

مسجدیں آباد کرنے کا حق کن لوگوں کو ہے؟

مَا کَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰہِ شٰہِدِیْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ بِالْکُفْرِط اُوْلٰٓءِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْج وَفِی النَّارِ ہُمْ خٰلِدُوْنَ o اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَی الزَّکٰوۃَ وَلَمْ یَخْشَ اِلاَّ اللّٰہَقف فَعَسٰٓی اُولٰٓءِکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُہْتَدِیْن o (۹:۱۷،۱۸)
’’(اے پیغمبر اسلام! ان) مشرکوں کو اس بات کا حق نہیں پہنچتا کہ اللہ کی مسجدیں آباد کریں ایسی حالت میں کہ خود اپنے کفر کا اعتراف کر رہے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے سارے عمل اکارت گئے اور وہ عذابِ آتش میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ مسجدوں کو آباد کرنے والے تو وہ لوگ ہیں جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے، نماز قائم کی، زکوٰۃ ادا کی اور اللہ کے سوا اور کسی کا ڈر نہ مانا، جو لوگ ایسے ہیں ان ہی سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ سعادت و کامیابی کی راہ پانے والے ثابت ہوں گے۔‘‘

اللہ تعالیٰ کن لوگوں کی مدد و نصرت فرماتا ہے

اَلَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّآ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰہُط وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لَّہُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیْہَا اسْمُ اللّٰہِ کَثِیْرًاط وَلَیَنْصُرَنَّ اللّٰہُ مَنْ یَّنْصُرُہٗط اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْز o (۲۲:۴۰)
’’یہ وہ مظلوم ہیں جو بغیر کسی حق کے اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے ان کا کوئی جرم نہ تھا، وہ کہتے تھے ہمارا پروردگار اللہ ہے اور اگر اللہ بعض آدمیوں کے ہاتھوں بعض آدمیوں کی مدافعت نہ کراتا رہتا تو کسی قوم کی عبادت گاہ زمین پر محفوظ نہ رہتی، خانقاہیں، گرجے، عبادت گاہیں اور مسجدیں جن میں اس کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے سب کے سب کبھی کے ڈھائے جا چکے ہوتے۔ جو کوئی اللہ کے دین کی حمایت کرے گا ضروری ہے کہ اللہ بھی اُس کی مدد فرمائے، کچھ شبہ نہیں وہ یقیناًقوت رکھنے والا، غالب ہے۔‘‘

’’المساجد‘‘ کے الفاظ قرآنِ کریم میں صرف دو بار

قرآنِ کریم میں ’’مساجد‘‘ کے الفاظ مکمل ہو گئے اب ’’المساجد‘‘ کے الفاظ کا ذکر کیا جاتا ہے اور یہ لفظ قرآنِ کریم میں دو بار مذکور ہے جس کی وضاحت اس طرح پیش کی جا سکتی ہے کہ قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے:
اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآءِکُمْط ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّہُنَّط عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَا عَنْکُمْط فَالْءٰنَ بَاشِرُوْہُنَّ وَابْتَغُوْا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْر ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیْلِج وَلاَ تُبَاشِرُوْہُنَّ وَاَنْتُمْ عَاکِفُوْنَ فِی الْمَسٰجِدِط تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلاَ تَقْرَبُوْہَاط کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَّقُوْنَ o (۲:۱۸۷)
’’روزہ کے دنوں میں رات کے وقت اپنی ازدواجی زندگی کی خواہش کی تکمیل چاہیں تو بلا جھجک کریں کیونکہ تم عورتوں کے رازداں ہو اور وہ تمہاری رازداں ہیں، اللہ سے یہ بات پوشیدہ نہیں کہ تم اپنے اندر ایک بات کا خیال رکھ کر پھر اس میں خیانت کرتے ہو، پس اس نے تمہاری ندامت و شرمندگی قبول کر لی اور جو تم کو غلطی محسوس ہوئی وہ معاف فرما دی، اور اب تم اپنی عورتوں سے ازدواجی زندگی کی خواہش پوری کرنی چاہتے ہو تو بے روک ٹوک کرو اور جو کچھ اللہ نے تمہارے لیے مقرر کر دیا ہے اس کے خواہش مند ہو اور حلال و طیب چیزیں کھاؤ، پیو یہاں تک کہ صبح کی سپیدی کالی دھاری سے نمایاں ہو جائے پھر اس وقت سے لے کر رات آنے تک روزے کو پورا کرو، ہاں اگر تم مسجدوں میں اعتکاف کر رہے ہو تو اس حالت میں ازدواجی زندگی کی خواہش پوری کرنے کی ممانعت ہے، یاد رکھو یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں پس ان سے دور رہنا چاہیے، اللہ اس طرح اپنے احکام واضح کر دیتا ہے تاکہ لوگ پرہیزگاری اختیار کریں۔‘‘

مساجد کیوں تعمیر کی جاتی ہیں؟ محض اللہ کے ذکر کے لیے

وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰہِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًاo وَّاَنَّہٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰہِ یَدْعُوْہُ کَادُوْا یَکُوْنُوْنَ عَلَیْہِ لِبَدًا o (۷۲:۱۸،۱۹)
’’اور یہ کہ مسجدیں اللہ ہی کے لیے ہیں (پس اے لوگو!) تم ان میں اللہ کے سوا کسی کو مت پکارو، اور جب اللہ کا بندہ اللہ کو پکارنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو لوگ اس پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔‘‘
قارئین کرام! مسجد کے متعلق تمام الفاظ جو قرآنِ کریم میں آئے ہیں اوپر گزر چکے ہیں ان میں تین سورتیں مکی ہیں اور باقی تمام مدنی سورتیں ہیں مکی سورتوں میں الاعراف ، بنی اسرائیل، الکہف اور جن ہیں ’’مسجد‘‘ کا نام لیا گیا ہے جس سے واضح ہے کہ ’’مسجد‘‘ کا تصور ہمیشہ ’’عبادت گاہ‘‘ کے لیے قائم ہوا تھا، قائم ہے اور ان شاء اللہ قائم رہے گا۔

’’صلوٰۃ‘‘ کا تعلق ’’مسجد‘‘ کے ساتھ، کیوں؟

’’صلوٰۃ‘‘ کے بیسیوں سے بھی متجاوز معنی ہوں تو بھی جس ’’صلوٰۃ‘‘ کا تعلق مسجد کے ساتھ ہے جس کو نماز سے موسوم کرتے ہیں اُس سے مراد ’’عبادت‘‘ ہی لی جا سکتی ہے علاوہ ازیں دوسرا کوئی مطلب بھی اس ’’صلوٰۃ‘‘ کے ساتھ نہیں جوڑا جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت زبان کے ساتھ بھی کی جاتی ہے، عمل کے ساتھ بھی کی جاتی ہے، عمل کے ساتھ ساتھ مال کے ساتھ بھی اور اس سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ انسان کی زبان بہت کچھ کہہ سکتی ہے اور کہتی ہے لیکن ہر کہی گئی بات عبادت نہیں ہوتی لیکن انسان کی جس کہی ہوئی بات پر ’’عبادت‘‘ کا لفظ اطلاق کرے گا وہ غیر اللہ کیلئے نہیں ہو سکتی۔ یہی بات مالی عبادت کے لیے لازم ہے کہ مال انسان اپنی زندگی میں بے شمار جگہوں پر استعمال کرتا ہے لیکن ہر جگہ استعمال ہونے والا مال ’’عبادت‘‘ نہیں کہلا سکتا اور اللہ کے حکم کے مطابق اور اللہ تعالیٰ ہی کی راہ میں اللہ کی رضا کے لیے خرچ کیا گیا مال ’’عبادت‘‘ کہلاتا ہے اور یہی حال بدنی عبادت کا بھی ہے۔ ’’صلوٰۃ‘‘ کا تعلق ’’عبادت‘‘ کے اس مجموعہ سے ہے اور یہ خالصۃً اللہ تعالیٰ کی رضا ہی کے لیے اُس کا حکم سمجھ کر ادا کی جاتی ہے اور ادا کی جانی چاہیے۔

صلوٰۃ کے بنیادی ارکان

اس میں بنیادی طور پر قیام، رکوع اور سجدہ جیسے اہم رکن ہیں جن کا ذکر قرآنِ کریم کی مذکورہ آیات میں اور علاوہ ازیں بہت سے مقامات پر موجود ہے اس کی ترتیب جو اسلام میں مقرر و متعین ہے وہ صدرِ اول سے لے کر آج تک بدستور اُسی طرح چلی آ رہی ہے جو ایک دوسرے سے بدستور منتقل ہوتی آ رہی ہے جس میں کسی طرح کا کوئی شک و شبہ نہیں اور بلاشبہ یہ چیزیں انسانی زندگی کے ساتھ اور خصوصاً ایک مسلمان کی زندگی کے ساتھ گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ قیام کے وقت قیام، رکوع کے وقت رکوع اور سجدہ کے وقت سجدہ ضروری قرار دیا گیا ہے جن کا تعلق انسانی زندگی کے ساتھ اس طرح قائم ہے جیسے جسم کے لیے جان۔
یہ وہی ’’صلوٰۃ‘‘ یعنی نماز ہے جس کے لیے وقت کی پابندی لازم قرار دی گئی جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ:
فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوۃَ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ قِیَامًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِکُمْج فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَج اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتٰبًا مَّوْقُوْتًا o (۴: ۱۰۳)
’’پھر جب تم نماز پوری کر چکو تو چاہئے کہ کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے رہو پھر جب ایسا ہو کہ دشمن سے تم مطمئن ہو جاؤ (اور سفر سے گھر واپس لوٹ آؤ) تو نماز قائم رکھو (قصر کرنا ترک کر دو) بلاشبہ نماز مسلمانوں پر وقت کی قید کے ساتھ فرض کر دی گئی ہے۔‘‘

’’صلوٰۃ‘‘ معلوم ہو گی تو قصر کا پتہ چلے گا

خیال رہے کہ اس سے قبل سورہ النساء کی آیت ۱۰۱، ۱۰۲ میں فرمایا گیا تھا کہ ’’اگر تم سفر میں نکلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں ہے کہ اگر تم نمازیں قصر کر لو خصوصاً اُس وقت جب تم کو اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں کسی بڑی مصیبت میں نہ ڈال دیں کیونکہ بلاشبہ کافر تمہارے کھلے کھلے دشمن ہیں (اور ہر وقت موقع کی تلاش میں رہتے ہیں) اور اے پیغمبر اسلام! جب آپؐ مسلمانوں میں موجود ہوں اور آپؐ ان کے لیے نماز قائم کریں تو چاہئے کہ لوگوں (مجاہدین) کا ایک حصہ تمہارے ساتھ کھڑا ہو جائے اور اپنے ہتھیار لیے رہے پھر جب وہ سجدہ کر چکے تو پیچھے ہٹ جائے اور دوسرا حصہ جو نماز میں شریک نہ تھا آپؐ کے ساتھ شریک ہو جائے اور چاہئے کہ پوری ہوشیاری رکھے اور اپنے ہتھیار لیے رہے، جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے ان کی دلی تمنا ہے کہ تم اپنے ہتھیار اور سامان جنگ سے ذرا بھی غفلت کرو تو وہ یک بارگی تم پر ٹوٹ پڑیں اور اگر تمہیں برسات کی وجہ سے کچھ تکلیف ہو یا تم مجبور ہو تو پھر تم پر کچھ گناہ نہیں اگر ہتھیار اتار کر رکھ دو، لیکن اپنے بچاؤ سے غافل نہ ہونا چاہئے، اللہ نے منکرین حق کے لیے رسوا کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘

نماز کتنی ضروری ہے اور اس کی اہمیت کیا ہے؟

اندازہ کریں کہ یہ موقت صلوٰۃ یعنی نماز کتنی ضروری ہے اگر عین میدانِ کارزار میں اس کا وقت آ جائے تو اُس وقت بھی چاہے وہ قصر ہو جائے یعنی آدھی ادا کی جائے اس کو باجماعت ادا کرنا ضروری ہے۔ جب تک آپؐ جماعت میں موجود رہے آپؐ خود اس کا اہتمام کرتے رہے اور جب آپؐ دنیا سے تشریف لے گئے یا کسی میدان میں موجود نہ تھے تو قائد جماعت اس کی پابندی کرتے رہے اور آج بھی بدستور اسی طرح اس کی پابندی کا حکم موجود ہے۔

خواہ تو کون ہے، صلوٰۃ یعنی نماز کے انکار سے باز آ

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اتنی سخت پابندی کے ساتھ ادا کی جانے والی نماز کے متعلق اس طرح کی بات کی جائے جس طرح کی بات ہمارے بھائی یعنی ’’اہل اہواء‘‘ کہتے ہیں اور جس صلوٰۃ یعنی نماز کے لیے وضو کا ہونا، جگہ، جسم اور لباس کا پاک و صاف ہونا وقت کا تعین لازم قرار دیا جانا سب باتیں قرآنِ کریم میں حکماً موجود ہیں پھر یہ بات بغیر کسی روک ٹوک کے کہی جائے کہ ’’پیشانی زمین پر ٹیک کر پیچھا اونچا کر دینے والی نماز کا اسلام میں کوئی تصور نہیں‘‘ کتنی لغو اور واہیات بات ہے جس کو خرافات کہا جاتا ہے اس پر ہم اپنے ’’اہل اہواء‘‘ دوستوں سے یہی عرض کر سکتے ہیں اور وہ نہایت عاجزانہ طور پر عرض کرتے ہیں کہ ؂

باز آ باز آ، ہر آنچہ ہستی باز آ
ایں در گہ مادر گہ نومیدی نیست

گر کافر و گبر و بت پرستی باز آ
صد بار اگر توبہ شکستی باز آ


عرفِ عام میں نماز کیا ہے اور کیوں ہے؟

برادرِ من! نماز اتنی معروف اور واضح چیز ہے کہ اس وقت مسلمانوں کی اکثریت نماز ادا نہ کرنے کے باوجود اُس سے مکمل طور پر واقف ہے اور کوئی مسلمان شاید ہی ایساہو گا جو نماز نہ دادا کر کے خوش ہو کہ میں نے وقت ضائع نہیں کیا اور اس وقت میں نے اتنا وقت بچا کر جو نماز میں خرچ ہونا فلاں کام کی تکمیل کر لی ہے۔ ہر مسلمان خواہ وہ کتنا ہی بریاں دل گناہوں میں لت پت کیوں نہ ہو وہ نماز ادا نہ کر کے سمجھتا ہے کہ میں نے غلط کیا ہے کہ نماز ادا نہیں کی۔ چاہے نماز ادا کرنے والے کردار کے لحاظ سے نماز ادا نہ کرنے والوں سے بھی گئے گزرے ہوں حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہئے پھر بھی غیر نمازی ان کے بارے میں یہی کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ اچھا کام کیا ہے اور ایک حد تک ان کا احترام کرتے ہیں۔

نماز ادا کرنے کے اوقات کا ذکر قرآنِ کریم میں

صدر اول میں جب ابھی قرآنِ کریم نازل ہو رہا تھا اور آپؐ قوم میں بنفس نفیس موجود تھے تو اس نماز کا عرف قائم تھا اور بڑے تو بڑے بچے بھی اس سے واقف تھے چنانچہ قرآنِ کریم نے جن اوقات میں ایک دوسرے کے ہاں آنا، جانا ممنوع قرار دیا ہے اُس کاذکر ان الفاظ میں فرمایا ہے کہ:
یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْکُمُ الَّذِیْنَ مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ وَالَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْکُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍط مِنْ قَبْلِ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ وَحِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَکُمْ مِّنَ الظَّہِیْرَۃِ وَمِنْمبَعْدِ صَلٰوۃِ الْعِشَآءِط ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّکُمْط لَیْسَ عَلَیْکُمْ وَلَا عَلَیْہِمْ جُنَاحٌ مبَعْدَہُنَّط طَوَّافُوْنَ عَلَیْکُمْ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍط کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ o وَاِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْکُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا کَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْط کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اٰیٰتِہٖط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمo (۲۴: ۵۸،۵۹)
’’اے ایمان والو! تمہارے باندی غلام اور وہ بچے جو سن بلوغ کو نہیں پہنچے انہیں تین وقتوں میں تم سے اجازت لینی چاہئے فجر کی نماز سے قبل اور دوپہر میں (ظہر کے وقت) اور عشاء کی نماز کے بعد جب تم اپنے (بعض) کپڑے اُتار دیا کرتے ہو، یہ تین اوقات تمہارے پردے کے ہیں۔ ان اوقات کے علاوہ تم پر کوئی مضائقہ نہیں کہ وہ تمہارے پاس اور تم ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے رہو، اس طرح اللہ اپنے احکام کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جانتا اور بڑی حکمت والا ہے۔ اور جب تمہارے اپنے بچے بلوغت کو پہنچ جائیں تو وہ بھی اسی طرح اجازت لیں جس طرح ان سے پہلے دوسرے لوگ اجازت لیتے ہیں، اس طرح اللہ اپنے احکام صاف اور واضح طور پر بیان کرتا ہے اور اللہ بڑا علم والا حکمت والا ہے۔‘‘

صلوٰۃ کا تعلق انسان کی روز مرہ زندگی سے

کیا اب بھی کوئی شک و شبہ باقی رہ گیا ہے کہ ’’صلوٰۃ موقت‘‘ ایک معروف چیز ہے جو روز مرہ زندگی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے جس طرح ہر آدمی روزانہ کھاتا پیتا اور سوتا جاگتا ہے اور یہ اس کی زندگی کا معمول ہے اور یہ سب کچھ اس کو خود بخود ہی فطری طور پر رہنے سہنے کے طریقوں سے معلوم ہو جاتا ہے بالکل اسی طرح وہ صلوٰۃ کے اوقات کے ادا کرنے کے طریقے سیکھ لیتا ہے زبان یعنی بولی جیسی مشکل ترین چیز سے وہ مکمل طور پر واقف ہو جاتا ہے اور مکمل طور پر اپنی زبان کی لغت کو وہ استعمال کرتا ہے چاہے اس کو اسم نکرہ اور معرفہ، اسم آلہ، اسم صوت، اسم تصغیریا مصغر، اسم مکبر، اسم ظرف، ظرف زماں اور ظرف مکاں کا معلوم نہ ہو لیکن اپنی زبان میں وہ ان سب کا استعمال کرتا ہے چاہے وہ ماضی، حال اور مستقبل کے ناموں سے واقف نہ ہو لیکن وہ ان سب کو استعمال کرتا ہے۔ اس میں کسی صاحب علم و فکر کو کوئی اختلاف نہیں۔ وہ نہیں جانتا کہ بلا، کتا، گیدڑ اوربھیڑیا کیوں حرام ہیں لیکن وہ ان کے قریب بھی نہیں جاتا۔ زندگی کی بیسیوں نہیں سینکڑوں باتیں ہیں جن کو وہ باقاعدہ کسی استاد سے نہیں سیکھتا لیکن وہ اس کو معلوم ہو جاتی ہیں۔ اتنی باتیں انسان پڑھ کر نہیں سیکھتا جتنی بغیر پڑھے سیکھ لیتا ہے۔ صلوٰۃ کے جن اوقات کا ذکر اس جگہ کیا جا رہا ہے اور قرآنِ کریم کی آیات پیش کی جا رہی ہیں اکثریت اس ساری گفتگو سے ناواقف ہے لیکن ان پانچ اوقات سے کوئی ناواقف نہیں۔ یہی دوران لوگوں کو کھائے جا رہا ہے کہ تمام مسلمان مرد، عورتیں، چھوٹے بڑے اور جوان، بوڑھے اس نماز کا ذکر کیوں کرتے ہیں جب کہ باقی قوموں میں بھی یہ سب کچھ موجود تھا لیکن آج ان میں سے ایک چیز بھی یاد نہیں وہ کلہم ان سے ناواقف ہیں اسی طرح مسلمان ابھی تک باوجود نماز ادا نہ کرنے کے، روزہ ترک کرنے کے، زکوٰۃ ادا نہ کرنے کے دولت کے ہوتے ہوئے بھی فریضہ حج ادا نہ کرنے کے ان ساری چیزوں کا نام آخر کیوں لیتے ہیں؟ دوسری قوموں میں یہ سب کچھ نہ ہونے کے باوجود بھی وہ زندگی گزار رہی ہیں تو آخر مسلمانوں نے اس تصور سے کیوں گلو خلاصی نہیں کرائی وہ ایک مدت سے کراہ رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسلام میں یہ تصور ختم ہو جائے۔

کاش کہ وہ حقیقت صلوٰۃ کو سمجھیں

کاش کہ! وہ اس حقیقت کو تسلیم کر لیں اور جتنا زور ان باتوں پر وہ صرف کر رہے ہیں اس بات پر صرف کریں کہ مسلمانوں کے ہاں صلوٰۃ محض تصور کے طور پر ہی موجود نہ رہے بلکہ حقیقت میں صلوٰۃ ادا کی جانے لگے اور اس سے وہ کمی و کوتاہی کو دور کرنے کی کوشش کریں جو مسلمانوں میں در کر آئی ہیں تاکہ آخرت میں نہ اُن کو پچتاوا ہو اور نہ دوسرے نماز نہ ادا کرنے والوں کو جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے کہ قیامت کے روز بعض لوگوں کو اس طرح کا پچتاوا ہو گا جب ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کو دوزخ میں کیا چیز لے آئی تو وہ برملا کہیں گے کہ:
قَالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَo وَلَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَ o وَکُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآءِضِیْنَ o وَکُنَّا نُکَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِ o حَتّٰیٓ اَتٰنَا الْیَقِیْن o (۷۴:۴۳ تا ۴۷)
’’وہ کہیں گے کہ ہم نمازیں ادا نہیں کیا کرتے تھے اور محتاجوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے اور حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ ہم بھی باتیں بنایا کرتے تھے اور ہم جزا سزا کے دن کو جھٹلایا کرتے تھے، یہاں تک کہ ہم کو اس یقینی بات سے سابقہ پیش آ گیا۔‘‘

آخرت کا یقین کسی کے دل میں نہیں رہا

خیال رہے کہ اس وقت آخرت کا یقین دلوں سے اُٹھ گیا ہے محض رسماً لوگ آخرت کا نام لیتے ہیں اور جن جاہل لوگوں کے دلوں میں کچھ اس کا تصور موجود ہے ان کو علمائے سوء نے ایسی طرف لگا دیا ہے کہ وہ اپنی آخرت کے متعلق اپنے ذہن میں یہ تصور رکھتے ہیں کہ ہم اپنے پہلوں کی بخشش کا سامان کریں گے تاکہ ہمارے مرنے کے بعد ہمارے پچھلے ہماری بخشش کے لیے کچھ کریں اس لیے ان کو ایسے اعمال کی فکر بالکل نہیں رہی کہ نمازیں انسان کی اس دنیوی زندگی کو درست کرنے اور سنوارنے کے لیے ادا کی جاتی ہیں، غریبوں اور مسکینوں کو کھانا کھلانے سے ہماری دنیوی زندگی پر کچھ اثر پڑتا ہے گویا انہوں نے ہر نیک کام کا تعلق محض آخرت سے جوڑ دیا ہے او سمجھتے ہیں کہ آخرت کا معاملہ تو مرنے کے بعد شروع ہو گا اور وہ جو آخرت میں چلے گئے ہیں ان کے لیے ہم ایسے کام کریں جو اُن کی آخرت کو درست کر دیں گے اور ہمارے مرنے کے بعد ہماری اولاد ،در اولاد ہماری آخرت کے لیے ختم درود کرائے گی اور ہماری آخرت درست ہو جائے گی۔

دین اسلام کے ساتھ استہزاء کتنی بری بات ہے

مختصر یہ کہ اس وقت دین کی ہر بات کو ایک طرح کا مذاق اور ٹھٹھا بنا دیا ہے جس کا جی چاہتا ہے وہ دین اسلام کی بنیادوں کو اُکھاڑنا شروع کر دیتا ہے حالانکہ ایمان والوں کو اس طرح کی تعبیرات سے قرآنِ کریم نے واضح طور پر منع کیا ہے اور زور دے کر رَد کیا ہے چنانچہ ارشادِ الٰہی ہوتا ہے کہ:
یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَکُمْ ہُزُوًا وَّلَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَالْکُفَّارَ اَوْلِیَآءَج وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ o وَاِذَا نَادَیْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ اتَّخَذُوْہَا ہُزُوًا وَّلَعِبًاط ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لاَّیَعْقِلُوْن o (۵:۵۷،۵۸)
’’اے مسلمانو! جن لوگوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنا رکھا ہے (اور اس کی تحقیر و تذلیل کرتے ہیں) تم انہیں اپنا دوست و مددگار نہ بناؤ اور اللہ کی نافرمانی سے ڈرو اگر فی الحقیقت تم ایمان رکھتے ہو، اور جب تم نماز کے لیے پکارتے ہو تو یہ اسے کھیل و تماشا بناتے ہیں اور اس کی ہنسی اُڑاتے ہیں یہ ایک ایسا گروہ ہے جو (دین کی) سمجھ بوجھ سے یک قلم بے بہرہ ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ کی لعنت کے مستحق کون ہیں؟

قرآنِ کریم نے آگے چل کر واضح الفاظ میں ان کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی لعنت کے مستحق ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ایسا غضب ہے اُن پر کہ یہ انسانی صفات سے عاری ہو چکے ہیں اندریں وجہ یہ انسان نہیں بلکہ بندر اور سور ہیں کیونکہ یہ اُن کی صفات کو اپنا رہے ہیں اور شریر قوتوں کے پوجنے میں لگے ہوئے ہیں اور بعض جگہ فرمایا ہے کہ انہوں نے در اصل اپنی خواہشات کو اپنا معبود و اِلٰہ بنا لیا ہے لہٰذا ان سے جتنے دور رہ سکتے ہو رہو اس لیے کہ بری صحبت میں بیٹھنے سے انسان برا ہو جاتا ہے۔ ایک جگہ مسلمانوں کو ہدایت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:
’’اے مسلمانو! تم پر فقط تمہاری اپنی جانوں کی ذمہ داری ہے، اگر تم سیدھے راستے پر قائم ہو تو کسی کا گمراہ ہونا تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا، تم سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے، وہ بتا دے گا کہ تمہارے کام کیسے کچھ رہے ہیں۔‘‘ (۵:۱۰۵)
برادرِ من! دین اسلام کے ساتھ طرح طرح کا مذاق کیا جا رہا ہے اور اسلام کی بنیادوں کو خود مسلمان کہلانے والوں نے اس قدر کھوکھلا کر دیا ہے کہ اب ان کا اکھاڑ پھینکنا کچھ مشکل نہیں رہا۔ اللہ تعالیٰ اپنے خاص ہاتھ سے سچے اور حقیقی مسلمانوں کی مدد فرمائے اور ان کو اسلام پر مضبوط بنا دے، قرآنِ کریم نے بطورِ پیش گوئی اپنے نزول کے وقت ہی یہ نصیحت فرما دی تھی کہ:

دین کے ساتھ مذا ق کیا جا رہا ہو تو کیا کرنا چاہئے؟

’’(اے مسلمانو!) دیکھو، اللہ اپنی کتاب میں تمہارے لیے یہ حکم نازل کر چکا ہے کہ جب تم دیکھو اور سنو کہ اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر کیا جا رہا ہے اور ان کی ہنسی اُڑائی جا رہی ہے تو جب تک ایسے لوگ کسی دوسری بات میں نہ لگ جائیں ان کے پاس نہ بیٹھو، اگر تم ان کے ساتھ ایسے حالات میں بھی بیٹھو گے تو تم بھی انہیں جیسے ہو جاؤ گے، بلاشبہ اللہ منافقوں اور منکرین حق سب کو جہنم میں اکٹھا کر دینے والا ہے۔‘‘ (۴:۱۴۰) ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ اس طرح کے منافق لوگ کرتے کیا ہیں اور ہوتا کیا ہے؟ فرمایا:

منافقین کی نماز محض دکھاوا ہے

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَہُوَ خَادِعُہُمْج وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَی الصَّلٰوۃِ قَامُوْا کُسَالٰیلا یُرَآءُ وْنَ النَّاسَ وَلاَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ اِلاَّ قَلِیْلاً o مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِکَ لآَ اِلٰی ہٰٓؤُلَآءِ وَلآَ اِلٰی ہٰٓؤُلَآءِط وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَلَنْ تَجِدَ لَہٗ سَبِیْلاً o (۴:۱۴۲،۱۴۳)
’’منافق، اللہ کو دھوکا دے رہے ہیں اور (ان کو معلوم نہیں) اللہ نے اُن کے دھوکا کو ضائع کر دیا ہے اور جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو کاہلی اور نہ چاہتے ہوئے کھڑے ہو جاتے ہیں، محض لوگوں کو دکھانے کے لیے (نماز جنازہ میں) شریک ہوتے ہیں اور اللہ کا ذکر نہیں کرتے مگر برائے نام۔ یہ لوگ کفر اور ایمان کے درمیان متردد ہیں کہ اِدھر رہیں یا اُدھر رہیں۔ نہ تو اِن کی طرف ہیں اور نہ اُن کی طرف اور جس پر اللہ اپنے قانون کے مطابق راہ گم کر دے تو پھر ممکن نہیں کہ تم ان کے لیے کوئی راہ نکال سکو۔‘‘

مروجہ نماز کے ساتھ مسلمانوں نے کیا کیا؟

برادرِ من! اس نماز کے ساتھ مسلمان کہلانے والوں کے مختلف گروہوں نے مختلف طریقوں سے منہدم کرنے کی سعی و کوشش کی ان کا طریقہ واردات چاہے مختلف ہے مدعا سب کا ایک ہی ہے کہ یہ ارکانِ اسلام جو آج مسلمانوں میں تسلیم کیے جاتے ہیں تمام گزشتہ قوموں میں بھی تسلیم رہ چکے ہیں جس طرح گزشتہ قوموں نے ان سے دوری اختیار کی ہے اور آہستہ آہستہ وہ اس قدر دور ہو گئے ہیں کہ ان کے ناموں کی بھی ان کے ہاں شناخت نہیں رہی محض قرآنِ کریم ان کے متعلق بھی ان کے نام لیتا ہے لہٰذا قرآنِ کریم کے ان ناموں کا اگر مفہوم بدل دیا جائے تو مسلمانوں کی اکثریت جو پہلے ہی محض ان کے ناموں تک واقف ہے اور یہ نام تو ان کے ذہنوں سے قرآنِ کریم نکلنے بھی نہیں دے گا کیونکہ قرآنِ کریم سے ان کو نکالا نہیں جا سکتا لہٰذا انکا مفہوم بدل دیا جائے تو شاید ہم بھی دوسری اقوام عالم کی طرح ان سے گلو خلاصی کر سکیں اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ان میں سے بعض وہ ہیں جو صلوٰۃ کے اوقات میں اختلاف کر کے ثابت کرنے کی کوشش میں ہیں کہ نمازیں صرف دو وقت کی ہیں ایک صبح اور ایک شام، بعض ان کی تعداد کو مان کر کہتے ہیں کہ یہ تذکار اور وظائف جو صلوٰۃ میں پڑھے جاتے ہیں یہ غیر قرآنی ہیں لہٰذا ان کو قرآنی آیات سے بدل دیا جائے تو وہ اس کام میں مصروف ہیں اور بعض وہ ہیں جو نماز کی اس ہیئت کو تسلیم نہیں کرتے اور وہ اس طرح جھکنے اور گرنے سے بیزار ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’صلوٰۃ‘‘ کا یہ مفہوم مطلب ہی نہیں ہے بلکہ وہ تو حکومت کی میٹنگوں اور مشوروں کا نام ہے اور علاوہ ازیں بھی بہت کچھ وہ کہتے رہتے ہیں اور اس نماز کا مذاق اُڑاتے رہتے ہیں۔ جو کچھ آج یہ کر رہے ہیں کل ان سے پہلے دوسرے کرتے رہے ہیں، چنانچہ قرآنِ کریم بار بار کہتا ہے کہ ایسے لوگوں کے پاس جب بھی کوئی حکم اللہ کی طرف سے آیا تو اُنہوں نے ٹالنے کی کوشش کی، اُن کو پہلے لوگوں کا مذاق یاد کروا دو کہ جو کچھ ان کے ساتھ ہوا وہی کچھ اِن کے ساتھ بھی ہو جائے گا چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے کہ:
وَمَا تَاْتِیْہِمْ مِّنْ اٰیَۃٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّہِمْ اِلاَّ کَانُوْا عَنْہَا مُعْرِضِیْنَ o فَقَدْ کَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَ ہُمْط فَسَوْفَ یَاْتِیْہِمْ اَنْبآؤُا مَا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِءُ وْنَ o (۶:۴،۵)
’’اور ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی نہیں جو ان کے سامنے آتی ہو اور انہوں نے اس سے گردن نہ موڑی ہو۔ جب بھی کوئی سچائی ان کے پاس آئی تو انہوں نے اُسے جھٹلا دیا اور جس بات کی وہ ہنستی اڑاتے رہے عنقریب اس کی حقیقت ان کو معلوم ہو جائے گی۔‘‘
قرآنِ کریم میں بہت سے مقامات پر گزشتہ انبیاء کرام اور ان کی امتوں کے واقعات بیان کیے گئے ہیں اور جگہ جگہ ان کے مذاق اور استہزاء کا ذکر فرمایا ہے اور اس بات کا ذکر کیا ہے کہ ان نبیوں کے دنیا سے اُٹھ جانے کے بعد ان کے ماننے والوں میں جو جو کمزوریاں پائی گئی ہیں ان میں سے ایک کمزوری ’’صلوٰۃ‘‘ سے انکار بھی تھا چنانچہ سورہ مریم میں بھی اس کا ذکر فرمایا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے کہ:

صلوٰۃ موقت کو ضائع کرنے والے کون ہیں؟

فَخَلَفَ مِنْمبَعْدِہِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ وَاتَّبَعُوا الشَّہَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا o (۱۹:۵۹)
’’پھر ان کے بعد ان کے ناخلف ان کے جانشین ہوئے جنہوں نے نماز جیسی ضروری چیز کھو دی اور اپنی نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے سو قریب ہے کہ ان کی سرکشی ان کے آگے آئے۔‘‘
جیسا کہ اوپر بھی ذکر کیا گیا ہے کہ احکامات الٰہی کا مذاق اڑانے والے اور ان کو ٹھٹھہ سے اُڑانے والے اور ان کا کھلا انکار کرنے والے جب اس طرح کے خرافات میں مصروف ہوں تو ان سے دور ہو جانا اور ان کی مجلس سے اُٹھ جانا بھی اس بات کا علاج ہے کہ وہ شرم کھائیں اور کم از کم آپ کی موجودگی میں وہ ایسی حرکات سے باز آ جائیں آپؐ اپنا کام کرتے رہیں یعنی ان کو قرآن سناتے رہیں اور ان کی باتوں پر دھیان نہ دیں بلکہ اعراض کر جائیں۔ قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ:

نماز موقت سے انکار شرک ہے

فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَo اِنَّا کَفَیْنٰکَ الْمُسْتَہْزِءِ یْنَo (۱۵:۹۵)
’’(اے پیغمبر اسلام!) جو کچھ آپؐ کو حکم دیا گیا ہے لوگوں پر آشکارا کرو اور مشرکوں کی کچھ پروا نہ کرو، ان ہنسی اُڑانے والوں کے لیے ہم تمہاری طرف سے بس کرتے ہیں۔‘‘
قارئین کرام! کہہ سکتے ہیں کہ اوپر آیت میں ’’المشرکین‘‘ شرک کرنے والوں کا ذکر کیا گیا ہے اور بات ’’صلوٰۃ‘‘ یعنی نماز کی ہو رہی ہے پھر ’’صلوٰۃ‘‘ کا شرک کے ساتھ کیا جوڑ ہے، کیا یہ کھلی تحریف نہیں تو اور کیا ہے؟

قرآن صلوٰۃ کے انکار کو شرک سے تعبیر کرتا ہے

التماس ہے کہ آپ قرآنِ کریم کا مطالعہ کریں، قرآن کریم نے ’’صلوٰۃ‘‘ یعنی نماز کو ادا نہ کرنے والوں اور دین میں تفریق پیدا کرنے والوں کو بھی ’’مشرک‘‘ قرار دیا ہے، کیونکہ یہ لوگ بھی اپنی خواہش کو اپنا معبود بناتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم اکثر جگہ ان کا ذکر ’’اہل اہواء‘‘ کے نام سے کرتے آ رہے ہیں۔ جو لوگ تقویٰ اختیار نہیں کرتے اور اللہ رب کریم کی طرف رجوع نہیں کرتے وہ وہی ہیں جو نمازوں کو ادا نہیں کرتے اور دین میں تفریق کے مرتکب ہوتے ہیں اور اس طرح دوہرے شرک میں مبتلا ہیں، چنانچہ قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ:
مُنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ وَاتَّقُوْہُ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَلَا تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ o مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَہُمْ وَکَانُوْا شِیَعًاط کُلُّ حِزْبٍمبِمَا لَدَیْہِمْ فَرِحُوْن o (۳۰:۳۱،۳۲)
’’لوگو! اللہ کی طرف رجوع کرو اور اس سے ڈرتے رہو اور نماز قائم کرو اور شرک کرنے والوں سے مت ہو جاؤ، جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور گروہ گروہ ہو گئے اور ہر فرقہ اور گروہ اس پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے۔‘‘
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (01-12-11), مرزا عامر (30-11-11), حیدر Rehan (02-12-11)
پرانا 30-11-11, 06:13 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default نماز میں کون سے ارکان ہیں، کسی سے مخفی نہیں

نماز میں کون سے ارکان ہیں، کسی سے مخفی نہیں

اسلام کی اس مروجہ نماز میں اصولی طور پر جو کچھ ہوتا ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے پوری دنیا کے انسان جو مسلمان کہلاتے ہیں اور جب بھی نماز کا ارادہ کرتے ہیں تو سب سے پہلے اس کے لیے کھڑے ہوتے ہیں اور اس خاص ایک جہت کو منہ کر کے کھڑے ہونے کو جب نماز کی پہلی شرائط وہ پوری کر چکے ہوں یعنی طہارت کی تو کھڑے ہوتے ہیں اور اس کو ’’قیام‘‘ کہا جاتا ہے اور قیام میں جو کچھ ہوتا ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اس کے بعد جھک جاتے ہیں اور جھکنے کو ’’رکوع‘‘ کا نام دیا جاتا ہے اور رکوع کی ادعیہ کے بعد جب کھڑے ہوتے ہیں یعنی ’’قیام‘‘ دوبارہ شروع ہو جاتا ہے اور اس ’’قیام‘‘ کے بعد سجدہ ریز ہو جاتے ہیں اور اس حالت کو ’’سجدہ‘‘ ہی سے موسوم کیا جاتا ہے۔ قرآنِ کریم میں ان مخصوص حالتوں کا ذکر موجود ہے اور نہایت تفصیل کے ساتھ ہے۔

ارکانِ نماز کا ذکر قرآنِ کریم میں

فردِ واحد کے ’’قیام‘‘ کا بھی ذکر ہے اور پوری جماعت کے ’’قیام‘‘ کا بھی اور یہی بات دوسرے ارکانِ صلوٰۃ کے لیے متعلق بھی ہے ’’اہل اہواء‘‘ کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے تھا لیکن خواہش انسان کو اندھا کر دیتی ہے اور ظاہر ہے کہ اندھے کو کچھ نظر نہیں آتا ظاہری آنکھوں کے اندھوں کو لوگ دیکھتے ہیں اس لیے وہ تو اپنے اندھے پن کو مان جاتے ہیں لیکن دل کے اندھے چونکہ ظاہری آنکھیں رکھتے ہیں اور ان سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے بھی ہیں لیکن دل اندھے ہونے کے باعث جس طرح دیکھنا چاہئے وہ نہیں دیکھ سکتے اور اس کے باوجود وہ اپنے اندھے پن کو تسلیم بھی نہیں کرتے چنانچہ قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ:
اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَکُوْنَ لَہُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِہَآ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِہَاج فَاِنَّہَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ o (۲۲:۴۶)
’’کیا یہ لوگ زمین (ملکوں) میں چلے پھرے نہیں کہ عبرت حاصل کرتے؟ ان کے پاس دل ہوتے تو سمجھتے بوجھتے، کان ہوتے تو سنتے اور پاتے، حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی اندھے پن میں پڑتا ہے تو آنکھیں اندھی نہیں ہو جایا کرتیں بلکہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں کے اندر پوشیدہ ہیں۔‘‘

فرد واحد کی نماز کی طرف اشارات

بات ہو رہی تھی ارکانِ نماز کی کہ قرآنِ کریم میں ان ارکان کے وہ اشارات نہایت واضح صورت میں موجود ہیں جیسے باقی تمام چیزوں کے اصول و ارکان قرآنِ کریم میں موجود ہیں جیسے کھانا، پینا، اوڑھنا، بچھونا، سونا، جاگنا، چلنا پھرنا اور آنا جانا اور زندگی کے تمام دوسرے معمولات اور اُن کے حسن و قبائح اور احکامات و منیہات چنانچہ انفرادی ’’قیام‘‘ کا ذکر اس طرح ہے کہ:
وَّاَنَّہٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰہِ یَدْعُوْہُ کَادُوْا یَکُوْنُوْنَ عَلَیْہِ لِبَدًاo قُلْ اِنَّمَآ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَلَآ اُشْرِکُ بِہٖٓ اَحَدًا o (۷۲:۱۹،۲۰)
’’اور جب اللہ کا بندہ اُسے یعنی اللہ کو پکارنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو لوگ اُس پر ٹوت پڑنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ (اے پیغمبر اسلام!) آپ کہہ دیجئے کہ میں تو اپنے پروردگار کی عبادت کرتا ہوں اور کسی کو اس کا شریک نہیں بناتا۔‘‘

جماعت سے مل کر نماز ادا کرنے کے آداب و احکام

اجتماعی طور پر یعنی جماعت سے صلوٰۃ کے ادا کرنے کا ذکر جمع کے صیغہ سے بھی فرمایا گیا مثلاً ارشاد ہے کہ: اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ (۵:۶)
’’جب تم سب نماز کے لیے کھڑے ہونا چاہو‘‘
تو وضو کر لیا کرو اور پھر وضو کے ارکان کا ذکر بھی فرمایا کہ وہ کیا کیا ہیں؟ معروف وضو سے پہلے اگر فرض غسل کی ضرورت ہو تو اُس کو بھی مکمل کرنے کی ہدایت فرما دی اور قبلہ کی سمت کا ذکر اور لباس کا بیان بھی واضح الفاظ میں کر دیا جیسا کہ پیچھے بھی اس کا ذکر کر دیا گیا ہے۔ قیام کے بعد اسلام کی مروجہ صلوٰۃ میں ’’رکوع‘‘ کیا جاتا ہے اور اس کا ذکر بھی قرآنِ کریم میں موجود ہے آنکھوں والے دیکھتے ہیں اور جن کے دن اندھے نہیں وہ اس کو اچھی سمجھتے بھی ہیں جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ:
وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَارْکَعُوْا مَعَ الرَّاکِعِیْنَ o (۲:۴۳)
’’نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور جب اللہ کے حضور جھکنے والے جھکیں تو ان کے ساتھ تم بھی سر نیاز جھکا دو۔‘‘
آیت میں صلوٰۃ، زکوٰۃ اور رکوع کا ذکر ہے اس لیے ’’اہل اہوا‘‘ نے اس رکوع کو صلوٰۃ کا رکن تسلیم کرنے کی بجائے کوئی اور چیز سمجھ لیا اور جھکنے سے مراد وہ ’’متعارف رکوع‘‘ کے علاوہ اپنی خواہش کا رکوع مراد لے لیا، اس طرح ارجاف سے کام لیتے ہوئے لوگوں کو اصل نماز کی پٹری سے اتارنے کی ناکام کوشش کی اور اس بات کا خیال نہ کیا کہ جہاں رکوع کے ساتھ معاً سجدہ کا ذکر ہے وہاں کیا مراد ہے چنانچہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے کہ:
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِط وَالَّذِیْنَ مَعَہٓٗ اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَہُمْ تَرٰہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًاقف یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوْہِہِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِط ذٰلِکَ مَثَلُہُمْ فِی التَّوْرٰۃِ وَمَثَلُہُمْ فِی الْاِنْجِیْلِقف (۴۸:۲۹)
’’محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپؐ کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے مقابلہ میں بہت سخت ہیں آپس میں بہت رحم دل ہیں تُو دیکھے گا کہ وہ کبھی رکوع میں ہوتے ہیں اور کبھی سجدہ میں وہ اللہ سے اس کے فضل اور رضامندی کے طلب گار ہیں ان کی یہ علامت ان کے چہروں پر نمایاں ہے جو سجدہ کا اثر ہے۔ ان کی اس تعریف کی مثال تورات میں موجود ہے اور انجیل میں بھی۔‘‘

ارکان نماز میں قیام کے بعد رکوع اور سجود کا ذکر

علاوہ ازیں بھی قرآنِ کریم میں اسلام کی اس مروجہ نماز کے رکوع کا ذکر موجود ہے اور جیسا کہ رکوع کے بعد سجدہ کا ذکر اوپر کی آیت میں یکساں ایک جگہ ایک ساتھ موجود ہے دوسرے مقامات پر بھی ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ:
وَمِنْ اٰیٰتِہِ الَّیْلُ وَالنَّہَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُط لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَہُنَّ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ o (۴۱:۳۷)
’’اور اس کی نشانیوں میں سے رات، دن، چاند اور سورج ہیں پس تم نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو بلکہ اللہ کو سجدہ کرو اور خاص اُس کی عبادت کرو جس نے ان کو پیدا کیا ہے اگر تم واقعی اللہ کے عبادت گذار ہو۔‘‘
واضح ہو گیا کہ ’’سجدہ‘‘ عبادت کا ایک اہم رکن ہے لہٰذا سجدہ صرف اور صرف اللہ رب کریم کی ذات کے لیے خاص ہے اور سجدہ کیا ہے؟ اللہ رب کریم کے سامنے زمین پر پیشانی کا رکھ دینا اور اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کا اقرار کرنا اور معافی طلب کرنا۔

سجدہ بھی عربی زبان کا لفظ ہے جس کے ایک سے زیادہ معنی ہیں

’’سجدہ‘‘ بھی چونکہ عربی زبان کا لفظ ہے اور جس طرح عربی میں ایک لفظ کے بہت سے معانی کیے جاتے ہیں ’’سجدہ‘‘ کے بھی کیے جاتے ہیں اور ان ہی معنوں میں ایک معنی اس ’’متعاف سجدہ‘‘ کے بھی ہیں جو عملاً نماز کے اندر رہ کر کیا جاتا ہے اور صلوٰۃ یعنی نماز کا ایک اہم رکن ہے جو متعارف ہے کیونکہ تمام اقوامِ عالم میں ادا کیا جاتا آیا ہے اور مسلمانوں میں بھی اس کو متعارف نماز کا اہم رکن سمجھا جاتا ہے جس میں کسی کو بھی کسی طرح کا کوئی اختلاف نہیں۔

’’اہل اہواء‘‘ اپنی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں

’’اہل اہواء‘‘ چونکہ اس متعارف نماز کی ہیئت سے انکاری ہیں لہٰذا نماز کے ارکان کو وہ کیونکر تسلیم کریں گے لیکن خیال رکھنا چاہئے کہ اگر اس طرف مطلب و مفہوم بگاڑا گیا تو کوئی شخص بھی ’’ام‘‘ سے ماں ، ’’ولد‘‘ سے اولاد اور ’’والد‘‘ سے باپ اور ’’انسان‘‘ سے شخص یعنی انسان ثابت نہیں کر سکے گا اور ’’اہل اہواء‘‘ کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اس طرح وہ ان تمام رشتوں اور انسانیت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور ان کو تسلیم کرنا پڑے گا وہ ان تمام رشتہ داریوں کے علاوہ نہ معلوم کس جنس سے تعلق رکھنے والے ہیں جو انسانوں میں محض شکل و صورت کے لحاظ سے مل گئے ہیں جو ان کی ظاہری طور پر دیکھی جاتی ہے اور یہ لا یعنی مخلوق نسل آدم سے تعلق نہیں رکھتی، کیوں؟ اس لیے کہ یہ ’’عرفِ عام‘‘ کو تسلیم نہیں کرتے اور دلائل کے طور پر اپنی شخصیت کو ثابت نہیں کر سکتے اور یقیناًنہیں کر سکتے۔

معروف نماز کے ادا کرنے کا طریقہ قرآنِ کریم میں

اب رہا ’’متعاف صلوٰۃ‘‘ کے ادا کرنے کا طریقہ تو اُس کے متعلق بھی قرآنِ کریم خاموش نہیں بلکہ جس طرح کے اصول قرآنِ کریم دوسری باتوں کے لیے پیش کرتا ہے صلوٰۃ ادا کرنے کے متعلق بھی وہ ہدایت دیتا ہے اور رہنمائی کرتا ہے جیسا کہ ارشاد ہے کہ:
قُلْ اٰمِنُوْا بِہٖٓ اَوْلاَ تُؤْمِنُوْاط اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِہٖٓ اِذَا یُتْلٰی عَلَیْہِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا o وَّیَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلاً o وَیَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْکُوْنَ وَیَزِیْدُہُمْ خُشُوْعًا o قُلِ ادْعُوا اللّٰہَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَط اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَہُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰیط وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا وَابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلاً o (۱۷:۱۰۷ تا ۱۱۰)
’’ان لوگوں سے کہہ دو تم قرآن کو مانو یا نہ مانو لیکن جن لوگوں کو پچھلی کتابوں کا علم دیا گیا ہے انہیں جب یہ کلام سنایا جاتا ہے تو وہ بے اختیار ٹھوڑیوں کے بل سجدہ ریز ہو جاتے ہیں اور پکار اُٹھتے ہیں کہ ہمارے پروردگار کے لیے پاکیزگی ہو، بلاشبہ ہمارے پروردگار کا وعدہ اس لیے تھا کہ پورا ہو کر رہے۔ وہ ٹھوڑیوں کے بل گر پڑتے ہیں اور ان کی آنکھیں آشکبار ہو جاتی ہیں اور کلام حق کی سماعت ان کی عاجزی اور زیادہ کر دیتی ہے۔ (اے پیغمبر اسلام!) کہہ دیجئے تم اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر پکارو، جس نام سے پکارو اس کے سارے نام حسن و خوبی کے نام ہیں اور تو جب نماز میں مشغول ہو تو نہ تو چلا چلا کر (زور سے) پڑھو نہ بالکل چپکے چپکے چاہیے کہ درمیان کی راہ اختیار کی جائے۔‘‘
اِس کا مفہوم یہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ تو نماز ادا کرنے کے لیے علیحدہ ہونے اور چھپنے کا ارادہ بھی مت کر کہ کوئی دیکھ نہ لے اور ایسا خیال بھی نہ کر کہ مجھے نماز ادا کرتے ہوئے ضرور لوگ دیکھیں اور لوگوں پر میری یہ حالت ظاہر ہو۔ پہلی صورت سے معلوم ہو گا کہ تو لوگوں سے خوف کھاتا اور ڈرتا ہے اور دوسری صورت سے ریاکاری ظاہر ہوتی ہے۔ اس لیے دونوں باتوں کا خیال رکھنا اور ان سے بچنا ضروری ہوا۔

صاحب علم وہی ہو سکتے ہیں جو علم و فکر کی بات کریں

مذکورہ آیت سے واضح ہو گیا کہ صاحب علم جو پہلی کتابوں کا علم بھی دیئے گئے ہیں ان کے سامنے جب قرآنِ کریم کی تلاوت ہوتی ہے اور وہ اس تلاوت کو سنتے ہیں تو بے اختیار ہو کر سجدہ میں گر جاتے ہیں اور ان کی پکار اپنے رب کی تحمید و تعریف اور پاکیزگی بیان کرنے کے سوا کچھ نہیں ہوتی اور ان کے دل اس بات کا یقین کر لیتے ہیں کہ یہ وہی کلام ہے جس کا وعدہ گزشتہ کتابوں میں یعنی تورات اور انجیل وغیرہ میں دیا گیا ہے اور جب کلام وہ ہے تو ظاہر ہے کہ جس پر یہ کلام نازل ہوا ہے وہ بھی گزشتہ کتابوں کی تعلیم کے مطابق وہی آخری نبی و رسول ہے، ان کی اس تصدیق کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ کبھی سجدوں میں گرتے ہیں اور کبھی اتنے بے اختیار ہو جاتے ہیں کہ آخرت کے خوف سے اُن کی آہیں نکلتی ہیں وُہ صرف ڈبڈبا ہی نہیں جاتے بلکہ اُن کی آہیں چیخوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں اور ان کا ڈر اور خوف دوبالا ہو جاتا ہے اور ان کی آنکھیں صرف نم نہیں ہوتیں بلکہ چھم چھم برسنے لگتی ہیں۔

اعتراض کرنے والوں کی اصل حقیقت اور وہم

پھر آپؐ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ ان لوگوں کو جو ’’اللہ‘‘ کے متعارف نام کے سوا کسی اور نام سے تعارف نہیں رکھتے اور طرح طرح کے اعتراض شروع کر دیتے ہیں کہ ’’اللہ‘‘ کا صرف ایک ہی نام یعنی ’’اللہ‘‘ نہیں بلکہ علاوہ ازیں بھی وہ بہت سے دوسرے صفاتی ناموں سے پکارا اور جانا جاتا ہے جس نام سے بھی آپ ’’اللہ‘‘ کو پکاریں گے وہ تمام صفاتی ناموں سے بھی پکارے جانے کے لائق ہے اُس کے تمام نام ہی اچھے ہیں جو بے سمجھ ، اس طرح کے اعتراض کرے آپ ان کی باتوں پر دھیان نہ دیں۔
رہا تیری صلوٰۃ ادا کرنے کا معاملہ تو اس سلسلہ میں یہ ہدایت یاد رکھیں کہ اس کا کچھ حصہ جہر کر لیں اور کچھ خفی تاکہ آپ درمیانی راہ پر گامزن نظر آئیں اس لیے کہ جس کے سامنے آپ حاضر ہیں وہ جہر اور خفی دونوں طریقوں سے یکساں ایک جیسا واقف ہے البتہ جہر سے تیرے ساتھ مل کر نماز ادا کرنے والے بھی آپ کی طرف متوجہ رہیں گے اور ان کی توجہ کبھی اس کتاب اللہ پر ہو گی جس کی آپ تلاوت کرتے ہیں اور کبھی اپنی ادعیہ اور اپنی طلب پر جس کو وہ اپنے رب اپنے اللہ، اپنے رحمن سے طلب کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ ساری ستائشیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو نہ تو اولاد رکھتا ہے اور نہ اس کی فرمانروائی میں کوئی شریک ہے اور نہ کوئی ایسا ہے کہ اس کی درماندگی کی وجہ سے اس کا مددگار ہو، اس کی بڑائی اور بزرگی کی پکار بلند کرنی چاہیے کیونکہ وہ ہی اس بڑائی کا بلا شریک غیرے مستحق ہے۔

قرآنِ کریم لفظوں کی طرف نہیں بلکہ معنوں کی طرف اشارہ دیتا ہے

مروجہ صلوٰۃ یعنی نماز کے ادا کرنے کا طریقہ روزِ روشن کی طرح واضح ہو گیا اور دنیا میں جو اختلاف رونما ہوتے ہیں ان کا بھی ساتھ ساتھ قلع قمع کر دیا گیا بشرطیکہ کوئی سمجھنے کے لیے تیار ہو۔ افسوس کہ قرآنِ کریم جس طرح کے اشارات دیتا ہے لوگوں کی نظر اُس طرف نہیں جاتی بلکہ ایسی بحث و تمحیص کی طرف جاتی ہے جس کو بے لذت گناہ ہی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
دنیا میں انسان کے اکثر اختلافات محض لفظ ، صورت کے اختلافات ہیں۔ وہ معنی پر نہیں لڑتا بلکہ اکثر لفظ پر لڑتا ہے۔ بسا اوقات ایک ہی حقیقت سب کے سامنے ہوتی ہے لیکن چونکہ نام مختلف ہوتے ہیں، صورتیں مختلف ہوتی ہیں، اسلوب اور ڈھنگ مختلف ہوتے ہیں، اس لیے ہر انسان دوسرے انسان سے لڑنے لگتا ہے اور نہیں سمجھتا کہ یہ ساری لڑائی محض لفظ کی لڑائی ہے، معنی کی لڑائی نہیں ہے مولانا رومی نے چار دوستوں کی نزاع کا قصہ سنایا ہے جن میں ہر شخص انگور کا خواہش مند تھا، لیکن چونکہ ایک آدمی ’’عنب‘‘ کہتا تھا دوسرا ’’تاک‘‘ تیسرا ’’انگور‘‘ اور چوتھا (Grape) اور اس لیے تلواریں نیام سے نکل آئی تھیں۔
اگرانسان صرف اتنی بات پا لے تو نوع انسانی کے دو تہائی اختلافات جنہوں نے دائمی نزاعوں اور جنگوں کی صورت اختیار کر لی ہے، ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں، کاشکہ ایسا ہو۔

اوپر مثال سے بہت کچھ سمجھا جا سکتا ہے اگر کوئی سمجھنا چاہے

اس آیت اور اس جیسی بہت سی دوسری آیات میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مشرکین عرب ’’اللہ‘‘ کے لفظ سے آشنا تھے۔ کیونکہ یہ لفظ پروردگارِ عالم کے لیے بطور اسم ذات کے قدیم سے مستعمل رہا ہے لیکن وہ دوسرے ناموں سے آشنا نہ تھے جن کا قرآنِ کریم نے اس کی صفتوں کے لیے اعلان کیا ہے مثلاً ’’الرحمن‘‘ کا لفظ بولا جاتا تھا، لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ اسے ’’اللہ‘‘ کے لیے بولنا چاہیے پس جب ایسے اسماء وہ سنتے تو متعجب ہوتے اور طرح طرح کے اعتراض کرتے۔ قرآنِ کریم کہتا ہے تم اُسے ’’اللہ‘‘ کہہ کر پکار دیا ’’الرحمن‘‘ کہہ کر پکارو جس نام سے بھی پکارو، پکار اُس کے لیے ہے اور ناموں کے تعدد سے حقیقت متعدد نہیں ہو جاتی۔ اُس کا نام ایک ہی نہیں، اُس کے بہت سے نام ہیں لیکن جتنے نام ہیں، حسن و خوبی کے نام ہیں کیونکہ وہ سرتاسر حسن و کمال اور کبریائی و جلال ہے۔ تم ان ناموں میں سے کوئی نام بھی لو، تمہارا مقصود و مطلوب وہی ہونا چاہیے۔

عبادتنا شتیّٰ و حسنک واحد
وکل الٰی ذاک الجمال یشیر


یہ بات تسلیم ہے کہ ’’صلوٰۃ‘‘ ذکر ہے، ’’صلوٰۃ‘‘ دُعا ہے اور علاوہ ازیں بھی بہت کچھ ہے لیکن اس کے باوجود یہ بات بھی تسلیم ہے کہ ’’صلوٰۃ‘‘ ایک مخصوص طریقہ عبادت ہے جس کو اردو زبان میں نماز کے لفظ سے یاد کیا جاتا ہے جس میں قیام ہے رکوع ہے اور سجدہ جیسے وہ ارکان ہیں جو ایک خاص اور متعارف ہیئت کے ساتھ ادا کیے جاتے ہیں۔ جن کی وضاحت ہم نبی اعظم و آخر ﷺ کے دورِ اقدس سے لے کر آج تک بدستور پشت در پشت سنتے اور دیکھتے چلے آ رہے ہیں جس طرح زندگی کے دوسرے شعبوں کے متعلق بہت سی باتیں سنتے اور دیکھتے چلے آ رہے ہیں اور ان میں سے کسی سے بھی انکار نہیں کرتے اور نہ کر سکتے ہیں۔

قارئین سے التماس کہ وہ بات کو سمجھیں

قارئین محسوس نہ کریں کہ ہم اس جگہ کسی مقام پر ’’حدیث‘‘ یا ’’روایت‘‘ سے کوئی ثبوت یا ذکر نہیں کر رہے کیونکہ ’’اہل اہواء‘‘ ان ناموں سے الرجک ( Alergic) ہیں اور ان کا نام سننا بھی وہ گوارا نہیں کرتے لہٰذا ہم ان کو یہ نام پیش کر کے جزبز نہیں کرنا چاہتے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ جب وہ قرآن، قرآن کا نام لیتے ہیں تو اُن کے سامنے صرف قرآن ہی کے نام سے پیش کریں جو کچھ پیش کریں تاکہ تمام قارئین پر واضح ہو جائے کہ وہ قرآن کا جو نام لیتے ہیں محض مسلمانوں کو فریب دینے کے لیے لیتے ہیں ان کے دل میں قرآن کی پیروی کرنا مقصود نہیں بلکہ خواہش نفس کو پورا کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ان کو ’’اہل اہواء‘‘‘ کے نام سے موسوم کر رہے ہیں اور مدت سے کرتے آ رہے ہیں، معلوم نہیں ہمارے دوستوں اور بزرگوں نے ان کو ’’اہل قرآن‘‘ کا نام کیوں دیا ہے؟

قرآنِ کریم نے اس صلوٰۃ کا ذکر کیا ہے جو متعارف ہے

اگر قرآنِ کریم کو وہ فی الحقیقت تسلیم کرتے تو مسلمانوں کی اس موقت اور مروجہ صلوٰۃ سے انکار نہ کرتے بلکہ وہ خود اس ’’صلوٰۃ‘‘ کو قرآنِ کریم کے حکم کے مطابق ادا کر کے وہ نتائج لوگوں کے سامنے پیش کرتے جو نتائج اس صلوٰۃ کو صحیح طریقہ کے ساتھ ادا کرنے کا اشارہ قرآنِ کریم نے دیا ہے تاکہ دوسرے لوگوں کو معلوم ہوتا کہ ہماری ’’صلوٰۃ‘‘ میں کیا کیا کوتاہیاں ہیں جس کے باعث ہماری ’’صلوٰۃ‘‘ وہ نتیجہ پیش نہیں کر رہی جو اُس کو پیش کرنا چاہیے۔ اگر اس طرح کی کوئی کوشش کرتے اور لوگ دیکھتے کہ واقعی ’’صلوٰۃ‘‘ کو اس طرح نہیں ادا کرنا چاہیے بلکہ اس طرح ادا کرنا چاہیے جیسے ’’اہل قرآن‘‘ کہہ رہے ہیں تو ان کو ’’اہل اہواء‘‘ نہ کہا جاتا۔

صلوٰۃ کی حقیقی روح پہلے ہی ختم ہو چکی ہے

کیا ’’صلوٰۃ‘‘ صرف باتیں کرنے اور آزادی کے ساتھ قرآنِ کریم کی بتائی اور سمجھائی ہوئی ’’صلوٰۃ‘‘ کو غلط کہہ دینے کا نام ہے؟ کیا ’’صلوٰۃ‘‘ عملی چیز نہیں؟ اگر عملی چیز ہے تو اس کی تصدیق یا تردید عملاً چاہئے تھی تاکہ اس عمل کو دیکھ کر سب حقیقت کو سمجھ جاتے۔ اس وقت مسلمانوں نے صرف ’’صلوٰۃ‘‘ کے ظاہری طریقہ یعنی اس کی ہیئت اور نام کو باقی رکھا ہوا ہے اور بوہیو صاحب اور ان کے اہل زبان نے ارادہ کیا ہے کہ اس کو بھی ختم کر دیا جائے تاکہ کسی وقت دوبارہ اس کی حقیقت کو زندہ نہ کر دیا جائے۔ کیونکہ اس کارگاہِ ہستی میں ایسا ہوتا آیا ہے کہ کبھی کوئی قوم اپنی بیماری کے باعث اُٹھ کر کھڑی ہونے کے قابل نہیں رہتی لیکن پھر اللہ تعالیٰ اس کو صحت مند کر دیتا ہے اور وہ اُٹھ کھڑی ہوتی ہے مسلمان قوم اس وقت عملاً یقیناًبیمار ہے اور ایسی بیمار ہے کہ شاید ایسی بیماری اس کو پہلے کبھی لاحق نہیں ہوئی ہو گی اس لیے بعض لوگوں نے یہ تہیہ کر لیا ہے کہ کوئی ایسی صورت پیدا ہو جائے کہ اس کے دوبارہ صحت مند ہونے کا خدشہ مکمل طور پر ختم ہو جائے۔

مروجہ موقت صلوٰۃ اسلام کی معاشرتی زندگی کا حسن ہے

جب مسجدوں میں ’’صلوٰۃ‘‘ صحیح معنوں میں ادا ہوتی تھی تو لاریب قومِ مسلم زندہ تھی اور اس زندگی کو سب تسلیم کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ خود نبی اعظم و آخر کے دور کے منافقین نے تجویز کیا کہ ’’مسجد قبا‘‘ کے مقابلہ میں ایک نئی مسجد تعمیر کی جائے چنانچہ انہوں نے یہ کام ’’مسجد‘‘ ہی کے نام سے کر دکھایا اور قرآنِ کریم نے بھی اس کو ’’مسجد‘‘ ہی کے نام سے ذکر کیا چاہے اُس کا ’’مسجد ضرار‘‘ نام رکھا۔ کیونکہ وہ سچے اہل ایمان کو نقصان پہنچانے کے لیے تعمیر کی گئی تھی اور انجام کار اس کو اللہ رب کریم کے حکم سے منہدم کر دیا گیا جیسا کہ اس کا ذکر پیچھے اس مضمون میں بھی گزر چکا ہے۔ صلوٰۃ اگر اسلام کی معاشرتی زندگی کا حسن نہ ہوتا تو منافقین مدینہ کبھی نئی مسجد کا نہ سوچتے اور اگر اس صلوٰۃ کا اصل تعلق ’’مسجد‘‘ سے نہ ہوتا تو وہ ’’مسجد‘‘ کے نام سے اتنی بڑی عمارت کیوں بناتے؟

حالاتِ زمانہ کا تغیر و تبدل ایک فطری عمل ہے

جس طرح زمانہ اپنے رنگ بدلتا رہتا ہے اور رنگ بدلنے سے مراد حالات کی تبدیلی ہوتی ہے لہٰذا حالات کے ساتھ ساتھ لوگوں کا طریق کار بھی بدل جاتا ہے آپؐ کے دورِ اقدس میں صلوٰۃ وقت ظاہری علامت تھی اسلام کی، کوئی مسلمان تب ہی مسلمان تصور ہوتا تھا جب وہ صلوٰۃ جیسی عبادت میں مسلمانوں کے ساتھ شریک ہو جاتا تھا لہٰذا اُس وقت کے منافقین کو بھی اسلام کی اس ظاہری علامت میں شریک ہونا پڑتا تھا چاہے ان کا دِل اس کو عبادت تسلیم کرتا تھا یا نہیں کرتا تھا لہٰذا وہ مسلمانوں کے ساتھ مسجدوں میں حاضری دیتے تھے۔ اس وقت زمانہ کے حالات بدل چکے ہیں اور ’’نماز‘‘ باقاعدہ ادا نہیں کی جاتی صرف اس کا نام لیا جاتا ہے اندریں وجہ اس سے انکار کر دینا اور اس کے نام کو بگاڑنا اس کی ہیئت پر اعتراض اُٹھانا آسان ہو گیا ہے اور یہ لوگ اس طرح کی حرکتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں خصوصاً برصغیر کے ان ملکوں میں جہاں ہم رہ رہے ہیں کیونکہ ان ملکوں میں نظامِ مساجد کسی بھی حکومت کے زیر اثر نہیں رہا اور نماز دین کا جزو نہیں بلکہ ایک رسم کے طور پر ادا کی جاتی ہے اور ’’مسجدیں‘‘ صرف نماز ادا کرنے کے لیے نہیں بلکہ ان رسوم کی ادائیگی کے لیے متصور ہوتی ہیں جن رسوم کو اسلام کی رسمیں تصور کر لیا گیا ہے چاہے اُن رسوم کا تعلق اسلام سے نہیں۔ چونکہ مسجدوں کا انتظام لوگوں کے ہاتھ میں ہے حکومت ان سے بے نیاز ہو چکی ہے اور جو لوگ مساجد کا نظام چلا رہے ہیں اُن کی آمدنی کا کوئی معقول انتظام نہیں اس لیے انہوں نے ان رسومات کو مساجد کے ساتھ جوڑ دیا ہے تاکہ ان کی معیشت کا انتظام چلتا رہے، گویا مساجد اللہ کی عبادت کے لیے نہیں بلکہ ان کا انتظام چلانے والوں کی معیشت کو بحال رکھنے کا کام دیتی ہیں اور یہ ایک طرح کا کاروبار بن کر رہ گئی ہیں پھر ظاہر ہے کہ جو انسان بھی کوئی کاروبار کرتا ہے اس میں اضافہ کے متعلق سوچتا ہے اس کو بند کر دینے کی سوچ وہ کیسے سوچ سکتا ہے؟ ان حالات کے پیش نظر منکرین صلوٰۃ یعنی ’’اہل اہواء‘‘ نے یہ کچھ کہنا اور کرنا شروع کر دیا ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں گویا زمانہ کے حالات کے ساتھ انہوں نے بھی اپنا طریقہ کار بدل دیا ہے۔

لاریب کفر بری چیز ہے لیکن اتنی بری نہیں جتنی منافقت

قرآنِ کریم نے ’’کفر‘‘ کی طرح ’’نفاق‘‘ کا بھی جا بجا ذکر کیا ہے اور منافقوں کے اعمال و خصائل کی زیادہ تفصیل سورہ التوبہ میں ملتی ہے اگر تفصیل دیکھنا چاہیں تو ہماری تفسیر القرآن ’’عروۃ الوثقیٰ‘‘ سے سورہ التوبہ کی تفسیر کو ملاحظہ کریں اور علاوہ ازیں سورہ آل عمران، النساء، الانفال، الاحزاب، محمد، فتح، الحدید، المجادلہ اور الحشر کا مطالعہ بھی مفید ہو گا نیز اس سلسلہ میں ہمارا کتابچہ ’’نفاق کیا ہے؟‘‘ بھی ان شاء اللہ عنقریب طبع ہو گا۔ اس وقت صرف اتنی بات ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ منافقوں کی جماعت کس طرح کی جماعت ہوتی تھی اور ہوتی ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں فکر و عمل کا کوئی گوشہ ہو تین طرح کے لوگ ضرور ہوتے ہیں۔
تمام انسانوں کو تین گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے یا کیا جا سکتا ہے؟
مستعد اور صالح لوگ جو ہر اچھی بات کو پہچان لیتے ہیں اور قبول کر لیتے ہیں اور پھر سرگرم عمل ہو جاتے ہیں۔
مفسد لوگ جن کو ہر اچھی بات سے انکار ہوتا ہے کوئی سیدھی بات ان کے اندر نہیں اترتی۔
درمیانی گروہ کے لوگ جو ہر بات کو سن لینے اور مان لینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں لیکن فی الحقیقت ان کے اندر تیاری نہیں ہوتی وہ قدم اُٹھاتے ہیں لیکن چلنا نہیں چاہتے اور اگر چلتے بھی ہیں تو وہ قدم اُٹھاتے ہی لڑکھڑا جاتے ہیں کیونکہ ان میں پہلے گروہ جیسی مستعدی نہیں ہوتی اور نہ دوسرے گروہ کے لوگوں جیسی بے باکی اور جرأت ہوتی ہے بلکہ وہ دوغلی پالیسی اختیار کرتے ہیں جن کے متعلق قرآن کریم نے اس طرح اشارہ دیا ہے کہ:
مُذَبْذَبِیَِْن بَیْنَ ذٰلِکَ لَا اِلٰی ھٰٓؤُلَآءِ وَلَا اِلٰی ھٰٓؤُلَآءِ (۴:۱۴۳)
’’یہ وہ لوگ ہیں جو کفر اور ایمان کے درمیان متردد کھڑے ہیں کہ اِدھر رہیں یا اُدھر نہ تو اِن کی طرف ہیں اور نہ اُن کی طرف۔‘‘
ان کے متعلق قرآنِ کریم کا فیصلہ نہایت صاف اور واضح ہے ’’اہل اہواء‘‘ تسلیم کریں یا نہ کریں، حق اس بات کا محتاج نہیں کہ کون اُس کو قبول کرتا ہے اور کون رد کر دیتا ہے، قرآنِ کریم اپنے فیصلہ کا اعلان اس طرح کرتا ہے کہ:
اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِج وَلَنْ تَجِدَ لَہُمْ نَصِیْرًاo (۴:۱۴۵) ’’بلاشبہ منافقوں کے لیے یہی ہونا ہے کہ دوزخ کے سب سے نچلے درجہ میں ڈالے جائیں اور کوئی نہیں جو ان کا رفیق و مددگار ہو۔‘‘

انسانوں کے ان تینوں گروہوں کا مختصر تجزیہ

قرآنِ کریم کہتا ہے کہ جزم و عزم اور یقین و ایمان پہلے گروہ کا خاصا ہے۔ انکار و جحود دوسرے کا اور شک و تذبذب اور بے عملی و تعطل تیسرے کا آپ سمجھ لیں کہ بعینہٖ یہی حال ایمان و عمل کے دائرے کا بھی ہے یہاں بھی طبیعت انسانی کی یہ تینوں حالتیں ظہور میں آتی ہیں۔ مستعد طبیعتیں قبول کر لیتی ہیں اور چل کھڑی ہوتی ہیں، یہ مومن ہیں، مفسد انکار کرتے اور مخالفت میں سرگرم ہو جاتے ہیں، یہ کافر ہیں، کچھ لوگ قبول کر لیتے ہیں لیکن فی الحقیقت قبولیت کی روح ان کے اندر نہیں ہوتی، یہ منافق ہیں۔
یہود و نصاریٰ کی طرح دین اسلام کے ماننے والوں نے بھی ’’غلو‘‘ سے کام لیا ہے اور ’’غلو‘‘ کی بھی بہت سی اقسام ہیں جن کا ذکر قرآنِ کریم نے بہت تفصیل سے کیا ہے۔ منافقت اور غلو کا چولی دامن کا ساتھ ہے جہاں دیکھو کہ لوگ اللہ کے دین کا نام تو بہت لیتے ہیں لیکن دین کے ہر کام پر دل کھول کر تنقید کرتے ہیں اور ایک ایک چیز پر ایسی بحث پیدا کرتے ہیں کہ لوگ اس سے بدظن ہو کر اس کے قریب نہ جائیں اور جو بدعملی ان میں پھیل چکی ہے اُس کو مزید تقویت حاصل ہو تو ان کے اس طرزِ عمل سے جہاں تک ممکن ہو دور رہیں اور جہاں تک ہو سکے اللہ کے حضور کھڑے ہوں اور اپنے گناہوں کو یاد کر کے اُس سے معافی طلب کریں۔

دوستوں کے لیے انتباہ اوربارگاہِ رب کریم میں آخری مناجات

میرے دوستو! اگر فی الحقیقت مسلمان بن کر رہنا چاہتے ہو تو تم میں ایک روح بھی ایسی نہ ہو جس سے آنسوؤں کے چشمے نہ بہ رہے ہوں۔ یاد رکھیں دل کی آہوں اور آنکھوں کے آنسوؤں سے بڑھ کر اللہ رب کریم کی درگاہ میں کوئی شفیع نہیں ہو سکتا۔ پس جس طرح بھی ہو سکے اپنے اللہ کو راضی کرو، کھڑے ہو کر، جھک کر اور سجدہ میں گر کر اپنے اللہ کو منا لو، کیونکہ تم نے اپنی بد اعمالیوں سے اُسے غصہ دلایا ہے اور اُس کے پاک حکموں کی پروا نہیں کی۔ ہاں! ہاں! اس بات کا اقرار کرو اپنے رب کے سامنے اور اس کے سامنے پکار پکار کہو کہ اے رسول امی صلی اللہ علیہ وسلم کے رب! ہم نے تیرے عہد کی پروا نہ کی اور اپنی بدعملیوں سے تیری مقدس زمین کو ملوث اور گھناؤنا کر دیا، لیکن اب ہم اپنی سزاؤں کو پہنچ چکے اور ہم نے بڑے سے بڑا دُکھ اُٹھا لیا، ہم مثل یتیم بچوں کے ہو گئے ہیں جن کے والدین کو ان سے جدا کر دیا گیا ہو، کیونکہ اے اللہ! تو ہم سے راضی نہ رہا اور ہم غم گینی اور رسوائی کے لیے چھوڑ دیئے گئے پر اے حیّ و قیّوم رب! تو ہمارا رب ہے ہم پر رحم فرما، ہمارے قصوروں سے درگزر فرمااور ہم سے منہ نہ موڑ، گو ہماری خطائیں بے شمار ہیں لیکن ہم اے اللہ تیرے ہی نام کے پکارنے والے ہیں اور ہم تیرے دروازے کو چھوڑ کر کہیں جانے والے نہیں ہیں ؂

اگر نہ بہر من، از بہر خود عزیزم دار
کہ بندۂ خوبی او خوبی خداوند است


رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَo اَللّٰھُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ تِوْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ بِیَدِکَ الْخَیْرِ ط اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ o رَبَّنَا اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ oرَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُo اللھم آمین

عبدالکریم اثری


لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا ( 33:60 )
اگر منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے اور جو مدینے (کے شہر میں) بری بری خبریں اُڑایا کرتے ہیں (اپنے کردار) سے باز نہ آئیں گے تو ہم تم کو ان کے پیچھے لگا دیں گے پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہ رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن
Truly, if the Hypocrites, and those in whose hearts is a disease, and those who stir up sedition in the City, desist not, We shall certainly stir thee up against them: Then will they not be able to stay in it as thy neighbours for any length of time:‎
’’اگر منافق اور جن لوگوں کے دلوں میں مرض موجود ہے اور مدینہ میں جھوٹی افواہیں اُڑانے والے باز نہ آئے تو ضرور ہم تم کو ان کے پیچھے لگا دیں گے پھر وہ آپ کے پاس اس شہر میں تھوڑے ہی دن رہ سکیں گے۔‘‘

27نومبر 2011ء
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (01-12-11), مرزا عامر (30-11-11)
پرانا 30-11-11, 07:27 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default باقی شخصیات میں کوئی بھی قادیانی نہیں ہے !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
مرزا غلام پرویز تو قادیانی تھے یہ باقی شخصیات بھی کیا قادیانی ہیں یا یہ کوئی نیا مذہب ہے
خاص طور پر عزیز اللہ بوہیو صاحب جن کے ایک مضمون کا حوالہ آخر میں بھی دیا گیا ہے ؟
مرزا غلام احمد قادیانی قادیانی تھا !!!

باقی شخصیات میں کوئی بھی قادیانی نہیں ہے !!!

غلام احمد پرویز طلوع اسلام والے اقبال اور قائد اعظم کے دوست تھے، بلکہ آپ نے تو قادیانیت کے خلاف ایک کتاب بھی لکھی ہے ۔!!!


عزیز اللہ بوہیو صاحب :: غیرت ایمانی کے اظہار کا وہ طریقہ جو قرآن حکیم نے سکھایا
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
نورالدین (01-12-11)
پرانا 30-11-11, 08:01 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default امت اماموں والے اسلام میں کس بری طرح اسیر ہے اور قرآن والے اسلام کا کیمپ حد نظر تک خالی پڑا ہے۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
خاص طور پر عزیز اللہ بوہیو صاحب جن کے ایک مضمون کا حوالہ آخر میں بھی دیا گیا ہے ؟
انتساب "حُجّت صرف قرآن ہے" مولانا عزیز اﷲ بوہیو

دہلی کے اُس بوڑھے سکالر کے نام اپنی یہ کتاب منسوب کرتا ہوں جس سے میں اس کا نام پوچھنے کی جسارت نہ کر سکا۔

اکتوبر 1997 ء کی با ت ہے جب و نو بھا وے کی تنظیم اچا ریہ کل کے سمینار میں شرکت کے لئے مجھے بھارت کے شہر وار دھا (سیوا گرا م) مد عو کیا گیا تھا۔ وا پسی پر دہلی میں چند دن کا لج پت بھون میں ہند و پاک دو ستی کے تنظیم کے سر براہ ستیہ پال کے کے سا تھ میرا قیا م رہا۔ میری اور حکو مت پا کستان کی دو ستی کچھ چو ہے بلی کی دو ستی رہی ہے اس لئے اند یشہ تھا کہ ہو سکتا ہے لا ہور ایر پورٹ پر اتر تے ہی گر فتار کر لیا جا ئے گا اور میرے اہل خا نہ یہ سمجھیں گے میں ابھی تک ہندو ستان میں ہوں۔ تو سو چا کیوں نہ کسی دوست کو خط کے ذر یعے مطلع کر دوں۔ یہاں بھارت میں دو ہی زبا نیں مرو ج ہیں دیو نا گری اور انگر یزی پتہ لکھنے کے لئے میں ستیہ پال کے آ فس میں کلرک کے پاس گیا کہ اس پر ذرا انگر یزی میں پتہ ٹائپ کر دیں۔ خط تھا پیش امام کے نا م کلر ک نے پو چھا یہ امام کیا ہو تا ہے؟ میں سوچ میں پڑ گیا کہ کیا مقصد ہے اس کا کیا یہ سپیلنگ پو چھنا چا ہتا ہے؟ یا تشریح چاہتا ہے۔ وہیں ایک بو ڑھا شخص بیٹھا تھا اس نے تشر یح کر دی کہ اسلام کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو ان کی کتاب قر آن میں ہے دو سری وہ جو ایران سے در آمد کیا ہوا ہے جس میں امام لقب عام ہے یہ شخص مسجد کے اسی قسم کے امام مسجد کا پتہ آپ سے لکھوا رہا ہے۔ یہ لوگ ایرا نی لقب والے اسلام کے پیرو کا ر ہیں اور صر ف یہی نہیں بر صغیر ہند و پاک کے تمام مسلمان ایرانی اماموں والے اسلام کے پیرو کار ہیں۔ میری نظر میں اماموں کی یہ نئی اور انو کھی تشر یح تھی۔ میں نے سو چا اس شخص کو جوا ب دوں کہ میں اور میرا پیش امام دوست قرآن وا لے مسلم ہیں ، لیکن مجھے خد شہ ہوا کہ کہیں یہ پو چھ نہ بیٹھے کہ میں کس فقہ والی نماز پڑھتا ہوں (جو کہ میں ان دنوں پڑھا کر تا تھا) تو نماز کے معا ملے میں امام کا حوالہ دینا ضروری تھا۔ میں نے اپنا بھر م رکھنے کے لئے چپ رہنے میں عافیت سمجھی ، مگر آج تک یہ سو چتا رہا ہوں کہ امت مسلمہ اماموں والے اسلام میں کس بری طرح اسیر ہے اور قرآن والے اسلام کا کیمپ حد نظر تک خالی پڑا ہے۔

۔۔۔۔عزیز اﷲ بو ہیو۔۔۔۔
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
نورالدین (01-12-11)
پرانا 01-12-11, 09:45 AM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,050
کمائي: 55,313
شکریہ: 11,812
1,569 مراسلہ میں 4,869 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Question

مذکورہ دھاگے میں ایک طرف کا موقف بیان کیے بغیر مخالفت کی گئی ہے۔ کیا پہلے فریق کے موقف کے متعلق کوئی مضمون ہے آپ کے پاس ؟
اقتباس:

اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَط اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِط وَلَذِکْرُ اللّٰہِ اَکْبَرُط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْن o (۲۹:۴۵)
’’اے پیغمبر اسلام! جو کتاب آپؐ پر نازل ہوئی ہے اسے پڑھا کرو اور صلوٰۃ ادا کرو بلاشبہ صلوٰۃ بے حیائی اور برائی کی باتوں سے روکتی ہے اور سب سے بڑی چیز یادِ الٰہی ہے اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔‘‘

صلوٰۃ برائیوں سے کیسے روکتی ہے؟

صلوٰۃ کا برائی سے روکنا کیا ہے؟ ظاہر ہے کہ بزور بازو نہیں بلکہ صلوٰۃ کا ماحصل یہ ہے کہ صلوٰۃ ادا کرنے والا برے کاموں سے رک جائے۔ یعنی جھوٹ برائی ہے چھوڑ دے، کم تولنا برائی ہے چھوڑ دے، دھوکا و فریب دینا برا کام ہے ترک کر دے، کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی کرنا برا ہے اس کے قریب بھی نہ جائے، گویا صلوٰۃ ، صلوٰۃ ادا کرنے والے کی پوری زندگی کی اصلاح کی ذمہ دار ہے اور وہ اس ذمہ داری کو پورا کرتی نظر آئے تو صلوٰۃ ادا کرنے والوں اور ادا نہ کرنے والوں میں اس طرح کا واضح فرق نظر آئے کہ وہ ایسے تمام کاموں سے مکمل طور پر اجتناب کریں جن کو اسلامی معاشرہ میں برائی تصور کیا جاتا ہے۔
یہ سوال تو میرے ذہن میں بھی چبھتا ہے ۔ کیوں کہ جس طرح کے معاشرے میں ہم رہتے ہيں ۔ وہاں ہم یہ بات ہر جگہ دیکھتے ہيں ۔ کہ لوگ نماز بھی پڑھ رہے ہيں ۔ اور دیگر برائیوں میں ملوث ہیں ۔ اس پر سے مزید یہ کہ منافقانہ رویہ بھی ہوتا ہے۔ کوئی کوئي منہ پھاڑ کر کہہ دیتا ہے کہ تمہیں اس سے کیا اپنے کام سے کام رکھو ۔
آپ نے مذکورہ اقتباس میں سوال کا کافی و شافی جواب نہيں دیا ۔ کہ نماز کس طرح روکتی ہے۔
خاص کر میں نے میڈیا کی دنیا میں رہتے ہوئے بے حیائی کا جو منہ زور طوفان دیکھا ہے ا س نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔

وہ لوگ ایک طرف تو نماز بھی ( بہ ظاہر پابندی سے ) پڑھتے ہوئے نظر آتے ہيں اوروں کو لیکچر دے کر پارسا بنتے ہیں ۔ اور دوسری طرف مزے مزے لے لے کر اپنی زنا کاری کی کہانیاں بھی بتاتے ہيں گویا کہ جیسے یہ معاشرتی حیوان ہونے کی دلیل ہے ۔ اور جب خلاف توقع اس تضاد کے بارے میں پوچھا جائے تو کہتے ہیں کہ نماز اپنی جگہ موج مستی اپنی جگہ اللہ معاف کرنے والا ہے ۔

ہمارا مشاہدہ ہے کہ لوگ اگر بے حیائی سے رکتے ہيں تو اس میں بڑا ہاتھ سماجی احتساب اور قانونی گرفت کے خوف کا ہوتا ہے۔ سب سے بڑا ہاتھ تو ماحول کا ہوتا ہے۔ والدین کی تربیت ، ماحول کا اثر انسان کو بے حیائي سے دور بھی کر سکتا ہے۔ اور ملوث بھی کر سکتا ہے۔ مگر نماز سے آج تک کسی کو تبدیل ہوتے نہيں دیکھا ۔اور اگر کوئی تبدیل ہوتا بھی ہے تو وقتی طور پر کچھ عرصے بعد پھر پرانی روش پر آجاتا ہے۔
تو یہ کون سی صلوۃ ہے یا یہ کون سی نماز ہے ؟
اس کا مطلب مذکورہ آیت میں جس صلوۃ کا ذکر ہے اس سے مراد سسٹم ہی ہے ۔ جیسا کہ سزا و جزا ، معاشرے کی طرف سے لعن طعن ، فتنہ و فساد کا اندیشہ۔

نیز پرویزي و اہل قرآن وغیرہ کی طرف سے جو صلوۃ کی تشریح و معنی سازي کی جاتی ہے۔ ازراہ کرم وہ بھی بیان کر دیں کہ وہ لوگ کیا معنی لیتے ہیں ۔
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
نورالدین کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (01-12-11)
پرانا 01-12-11, 09:56 AM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت شکریہ رانا صاحب۔
آپ نے ماشاءاللہ بہت اچھا ثبوت پیش کر دیا ہے فورم ممبران کے لئے کہ مسلمانوں میں‌اختلاف حدیث‌یا روایت کی وجہ سے نہیں‌ہوا۔ بلکہ ضد اور تعصب کی وجہ سے ہوا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ کے پیش کردہ تمام صاحبان، غلام احمد پرویز، چکڑالوی، اسلم جیراجپوری، بوہیو، اثری صاحب وغیرہم، یہ سب تو بے چارے صرف قرآن کو ہی حجت ماننے والے مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ پھر بھی اتنے سنگین اختلافات کہ آج تک قرآن سے یہی طے نہ کر پائے کہ صلوٰۃ کا مطلب نظام کا قیام ہے یا عبادت کی ایک قسم؟

اثری صاحب صرف قرآن ہی کی بنیاد پر صلوٰۃ‌کو عبادت کی ایک قسم قرار دیتے ہیں‌تو دیگر صاحبان جن کا اس مضمون میں‌رد کیا گیا ہے، وہ صلوٰۃ کو نماز کہنا بھی غلط سمجھتے ہیں‌اور اس سے مروجہ طریقہ عبادت مراد لینا بھی غلط سمجھتے ہیں۔ اور ماشاءاللہ ہر ایک دلیل میں‌قرآن ہی کو پیش کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر بندہ اپنی عقل سے اور وہ بھی مادہ پرستانہ قسم کی عقل سے اور مغربی تہذیب کی فکری اسیری کا شکار ہو کر قرآن کی تشریح کرنے بیٹھے گا تو ہر ایک کی تشریح الگ ہی ہونی ہے۔

استہزائیہ انداز میں‌"حدیثی اسلام" میں نماز کے متفقہ طریقہ کا ثبوت دینے کو ہم سے مطالبہ کیا جاتا ہے۔ ٹھیک ہے دنیا بھر میں‌مسلمانوں‌کے فرقوں‌میں‌ضمنی سے اختلافات موجود ہیں۔ ہاتھ باندھنے پر، امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنے پر، رفع الیدین پر، وغیرہ۔ لیکن ان معمولی اختلافات سے قطع نظر، آج تک پانچ نمازوں پر اختلاف نہیں‌ہوا، کبھی ایک رکعت میں‌رکوع و سجود کی تعداد پر اختلاف نہیں ہوا، خود فرائض و سنن میں رکعتوں کی تعداد پر اختلاف نہیں‌ہوا۔ تشہد، رکوع ، سجود، قیام ، قیام بعد الرکوع، ان کی ترتیب پر آج تک کوئی اختلاف نہیں ہوا۔ اذان، وضو، نماز کے چھوٹے بڑے تمام مسائل گنے جائیں‌تو سینکڑوں‌مسائل ہیں، جن میں‌ سے صرف چند مسائل پر اختلاف ہے۔ اور اس پر ہمارے اہل قرآن حضرات یا اثری صاحب کی زبان میں‌اہل اہواء حضرات ہم پر حدیثی اسلام کے اختلافات کی پھبتیاں کستے رہتے ہیں۔

اور خود ان اہل اہواء و اہل قرآن میں اتنا اختلاف ہے کہ ان کے ایک فرقے کے نزدیک صلوٰۃ کا مطلب ہی بس نظام ربوبیت کا قیام ہے اور دوسرے کے نزدیک صلوٰۃ کا مطلب وہی ہے جو ’حدیثی اسلام‘ بتاتا ہے۔ اور اس کے لئے بھی یہ فرقہ احادیث کا سہارا لینے پر مجبور ہے۔ یا تو حرمین شریفین میں پناہ لیتے ہیں کہ وہاں نماز کا جو طریقہ رائج ہے وہی درست ہے، کیونکہ وہ ہدایت کا مرکز ہے اور سنت متواترہ سے نماز وہاں طریقہ رسول ﷺ کے مطابق پڑھی جاتی ہے۔ اور وہی ائمہ حرمین جب ان منکرین حدیث کے خلاف کفر کے فتاویٰ دیتے ہیں، تو انہیں یہ ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ اسی حرمین شریفین میں احادیث کی حجیت بھی سنت متواترہ سے ثابت ہوتی ہے لیکن اس کا انکار کیا جاتا ہے۔ کیا اس کی یہی وجہ نہیں کہ ان احباب کی عقل میں قرآن کی جو تشریح سماتی ہے، اسے وہ قرآن ہی کا درجہ دے کر عوام الناس پر امپوز کرتے ہیں۔ اور عوام بے چاری پہلے تو اس عالم کی عقل میں سمانے والی تشریح کو قرآن مان لیتی ہے اور پھر اس کے مخالف آنے والی ہر روایت کو خلاف قرآن قرار دے کر رد کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ روایت یا حدیث خلاف قرآن نہیں ہوتی بلکہ اس فہم کے خلاف ہوتی ہے جو اس عالم نے پیش کیا ہوتا ہے۔ فتدبر۔


اور منکرین حدیث میں سے جن گروہوں نے نے صلوٰۃ سے عبادت کی ایک قسم مراد لی ہے، تو ان میں بھی اس قدر سنگین اختلافات ہیں کہ ایک صاحب قرآن ہی سے تین نمازوں کا ثبوت لاتے ہیں، دوسرے صاحب قرآن ہی سے پانچ نمازوں کا ثبوت لے آتے ہیں۔ خود غلام احمد پرویز صاحب (مشہور منکر حدیث اسکالر) کا بیان تفسیر مطالب الفرقان جلد اول صفحہ ۱۳۵، پر موجود ہے، جس میں اہل قرآن کے مختلف فرقوں کا نمازوں کی تعداد میں اختلاف بیان کیا گیا ہے:

مولانا چکڑالوی
۱۔ پانچ وقت کی نماز
۲۔ نماز میں دو تین چار رکعتیں
۳۔ ہر رکعت میں صرف دو سجدے
لاہوری فرقہ
۱۔ تین وقت کی نماز
۲۔نماز کی صرف دو رکعتیں
۳۔ ہر رکعت میں صرف ایک سجدہ

لہٰذا ایک منکر حدیث اسکالر کی گواہی کافی ہے کہ حدیث کو اختلاف کی جڑ کہنے والے، قرآن کو روشن کتاب، اور ہر شے کا واضح مفصل بیان کرنے والی کتاب کے بلند بانگ دعاوی کرنے والے خود کتنے بڑے بڑے اختلافات میں گرفتار ہیں کہ قرآن سے صلوٰۃ کا متفقہ مفہوم بھی بیان نہیں کر سکتے اور اس کا ذکر تک نہیں کرتے۔ فورم پر ہمارے اسکالر فاروق خاں صاحب، بھی اثری صاحب والے گروپ میں شامل ہیں، کہ صلوٰۃ کو مروجہ عبادت کا طریقہ ہی مانتے ہیں، لیکن جب تفصیلات طے کرنے کی باری آتی ہے تو حدیثی اسلام کی پناہ میں چلے جاتے ہیں۔

اور وہ بات بالکل درست ہے کہ منکرین حدیث کے ان سب گروہوں میں صرف ایک چیز پر اتفاق ہے کہ حدیث کا انکار اور خوب استہزاء کیا جائے۔ اور قرآن کی جو تشریح جس کے دماغ میں سمائے اسے قرآن ہی بنا کر پیش کیا جائے اور اگر اس عالم کے قرآنی فہم کا کوئی انکار کر دے تو وہ گویا قرآن ہی کا انکار ٹھہرے۔ لیکن جن بنیادوں پر یہ حدیث کا مذاق اڑاتے ہیں، اس سے کہیں سنگین تر مسائل میں خود گرفتار ہیں۔ جب خود کسی دعویٰ کے ثبوت کی بات آتی ہے جو قرآن سے کھرچ کھرچ کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا، تو پھر روایات کو موافق قرآن کہہ کر قبول کرتے ہیں اور اپنے دعویٰ کے ثبوت میں پیش کر دیتے ہیں، اور جہاں کوئی روایت ان کے قرآنی فہم کے خلاف پڑتی ہے، بجائے اس روایت کی بنیاد پر اپنے فہم قرآن کی تصحیح کرنے کے، اس روایت ہی کو خلاف قرآن کہہ کر رد کر دیتے ہیں۔

ایک صاحب نے بہت ویلڈ قسم کا سوال اٹھایا تھا کہ:
آج اگر رسول اللہ ﷺ ہمارے دور میں آ حاضر ہوں، یا ہمارے یہ اہل القرآن و اہل ہواء حضرات رسول اللہ ﷺ کے دور میں موجود ہوتے، اور کسی قرآنی حکم کی تشریح خود رسول اللہ ﷺ سے سن لیتے جو ان کے فہم کے مطابق خلاف قرآن ہوتی، تو کیا یہ حضرات تب بھی رسول اللہ ﷺ کے سامنے یہی فرماتے کہ جناب آپ کی رسالت پر تو ہمارا ایمان ہے، لیکن معذرت کے ساتھ کہ آپ کی یہ تشریح (ہمارے فہم کے مطابق) قرآن کے خلاف پڑتی ہے، لہٰذا قابل قبول نہیں؟؟؟

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم میں سے جو بھی راہ ہدایت پر نہیں، اسے سیدھی سچی راہ دکھا۔ اور جو بھی ضلالت و گمراہی کے اندھیروں میں گھرا ہوا ہے، ہمیں اس کی اصلاح کرنے والا بنا۔ آمین یا رب العالمین۔
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65]
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (01-12-11), skjatala (18-02-12), کنعان (01-12-11), ملک اظہر (01-12-11), مرزا عامر (01-12-11), احمد نذیر (01-12-11)
پرانا 01-12-11, 04:40 PM   #11
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نورالدین مراسلہ دیکھیں
یہ سوال تو میرے ذہن میں بھی چبھتا ہے ۔ کیوں کہ جس طرح کے معاشرے میں ہم رہتے ہيں ۔ وہاں ہم یہ بات ہر جگہ دیکھتے ہيں ۔ کہ لوگ نماز بھی پڑھ رہے ہيں ۔ اور دیگر برائیوں میں ملوث ہیں ۔ اس پر سے مزید یہ کہ منافقانہ رویہ بھی ہوتا ہے۔ کوئی کوئي منہ پھاڑ کر کہہ دیتا ہے کہ تمہیں اس سے کیا اپنے کام سے کام رکھو ۔
آپ نے مذکورہ اقتباس میں سوال کا کافی و شافی جواب نہيں دیا ۔ کہ نماز کس طرح روکتی ہے۔
خاص کر میں نے میڈیا کی دنیا میں رہتے ہوئے بے حیائی کا جو منہ زور طوفان دیکھا ہے ا س نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔

وہ لوگ ایک طرف تو نماز بھی ( بہ ظاہر پابندی سے ) پڑھتے ہوئے نظر آتے ہيں اوروں کو لیکچر دے کر پارسا بنتے ہیں ۔ اور دوسری طرف مزے مزے لے لے کر اپنی زنا کاری کی کہانیاں بھی بتاتے ہيں گویا کہ جیسے یہ معاشرتی حیوان ہونے کی دلیل ہے ۔ اور جب خلاف توقع اس تضاد کے بارے میں پوچھا جائے تو کہتے ہیں کہ نماز اپنی جگہ موج مستی اپنی جگہ اللہ معاف کرنے والا ہے ۔
پس افسوس (اور خرابی) ہے ان نمازیوں کے لئےo
جو اپنی نماز (کی روح) سے بے خبر ہیں (یعنی انہیں محض حقوق اﷲ یاد ہیں حقوق العباد بھلا بیٹھے ہیں)o
وہ لوگ (عبادت میں) دکھلاوا کرتے ہیں (کیونکہ وہ خالق کی رسمی بندگی بجا لاتے ہیں اور پسی ہوئی مخلوق سے بے پرواہی برت رہے ہیں)o
سورۃ الماعون آیات 4 تا 6 ترجمہ جناب طاہر القادری

ہوشیار اور خوب ہوشیار ۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ ایسے لوگوں کا عمل ہمیں نماز سے غافل کر دے اور ہم یہ سمجھ بیٹھیں کہ انہیں نماز نے کچھ نہیں دیا تو صلوٰۃ کا ہر گز مطلب نماز نہیں بلکہ صرف ایک نظام ہی ہے ۔
جو لوگ صرف اللہ کی خوشنودی کے لیئے نماز کو اپنا فرض سمجھ کر پڑھیں اور اس خالص عبادت میں کسی قسم کا دکھاوا نہ ہو تو نماز یقیناً بے حیائی اور برے کاموں سے روک دے گی۔
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (01-12-11), skjatala (18-02-12), فیصل ناصر (01-12-11), نورالدین (02-12-11), احمد نذیر (02-12-11), حیدر Rehan (02-12-11), عبداللہ حیدر (02-12-11)
پرانا 01-12-11, 06:19 PM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default فحاشی کوختم کرنے والی چیز صلوٰۃ ہے اور یہ فارسی نماز ..........

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نورالدین مراسلہ دیکھیں
اس کا مطلب مذکورہ آیت میں جس صلوۃ کا ذکر ہے اس سے مراد سسٹم ہی ہے ۔ جیسا کہ سزا و جزا ، معاشرے کی طرف سے لعن طعن ، فتنہ و فساد کا اندیشہ۔
نیز پرویزي و اہل قرآن وغیرہ کی طرف سے جو صلوۃ کی تشریح و معنی سازي کی جاتی ہے۔ ازراہ کرم وہ بھی بیان کر دیں کہ وہ لوگ کیا معنی لیتے ہیں ۔

فحاشی کوختم کرنے والی چیز صلوٰۃ ہے اور یہ فارسی نماز ..........

اللہ نے قرآن میں معاشرہ کی اصلاح کے لیے اکسیر نسخہ بتایا کہ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ 29.45 یعنی تحقیق صلوٰۃ فحاشی، برائی، بدکاری اور منکرات سے روکتی ہے۔ قرآن نے چونکہ صلوٰۃ کے معنی بتائے ہیں اتباع قانون ونظام قرآن۔ تواس آیت میں قرآن نے مزید وضاحت کے ساتھ سمجھایا کہ صلوٰۃ کس طرح برائیوں کو روکتی ہے ،فرمایا کہ وَلَذِکْرُاللّٰہِ اَکْبَر یعنی اللہ کا قانون اپنی افادیت میں، تاثیر میں ،نتیجہ اور ثمرات دکھانے میں نہایت کامیاب اور بلند ہے۔ اس لیے جوحکام، ایڈمنسٹریشن صلوٰۃ کی ڈیوٹیوں پر مستعد ہوگی تووہاں کسی کو بھی بدکاری کے ارتکاب کا حوصلہ ہی نہیں ہوسکے گا ۔مرے ماں کسی بدمعاش کی جو وہ بدمعاشی کا تصور بھی کرسکے۔ میں معذرت کے ساتھ نام لیے بغیر مثال عرض کرتا ہوں کہ ایک مدرسہ میں ناظم مدرسہ طالب علموں کو اصلاح اخلاق اور تعلیم میں انہماک کا لیکچر دے رہے تھے۔ اسی دوران فرمایا کہ مسجد میں نمازیوں کا رش بڑھ گیا ہے اس لیے تم طالب علم ان نمازیوں سے ہوشیار رہو۔ میں نے ناظم صاحب سے سوال کیا کہ آپ کی یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔ نماز پڑھنے والے زیادہ آگئے ہیں اس لیے ہمیں ان سے ہوشیار رہنا ہے یہ کیونکر اور کس طرح؟ جواب میں ناظم صاحب نے فرمایاکہ میں اس بستی والوں کو خوب جانتا ہوں۔ ان کو نماز سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ یہ لوگ تب کثرت سے نماز پڑھنے آتے ہیں جب مدرسہ میں کچھ خوبرو لڑکے پڑھنے آجاتے ہیں۔ یہ تو بہت چھوٹی مثال ہے لیکن بین الاقوامی اور عالمگیر مثال اس نماز کے ذریعہ فحاشی کو روکنے میں ناکامی کی عرض کرتا ہوں۔ وہ یہ کہ اس فارس والی نماز میں جماعت کے ساتھ رات دن میں پانچ بار گھر اور دکان چھوڑ کر جو شریک ہوتا ہے، اس کے لیے حدیث بنانے والوں نے خود ایسی باتیں لکھی ہیں کہ شروع اسلام میں مردوں کی طرح عورتیں بھی نماز کے اجتماعات میں شریک ہوا کرتی تھیں لیکن انہی ایام میں یعنی خود رسول کے زمانے میں ہی عورتوں کو لوگ نظر فاحش سے دیکھنے لگے اس لیے عورتوں پر جماعت میں شریک ہونا موقوف کیا گیا۔ تو جناب معزز قارئین! اللہ عزوجل نے معاشرہ کی بدکاریوں سے بچنے کا نسخہ تجویز فرمایا ہے کہ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ ، صلوٰۃ فحاشی سے روکتی ہے۔ تو امامیات کے علوم کے ذریعے صلوٰۃ کے غلط ترجمہ والی نماز کا حشر یہ ہے کہ فحاشی کا مرکز ہی اجتماعات نماز بن جاتے ہیں۔ اس طرح عربی محاورہ کے مطابق فرمن المطرقام تحت المیزاب یعنی بارش سے بچنے کی لیے کوئی چھت کے پر نالے کے نیچے کھڑا ہو۔ میں اس مدعا کے ثبوت میں کئی شہروں کے کئی اجتماعات میں نمازیوں کی ایسے مثالیں جانتا ہوں جو مجھے لکھنے میں بھی شرم آرہی ہے۔ جناب معزز قارئین! ایسی صورتحال میں اگر ہم فحاشی کو روکنے اور بند کرنے کے قرآن والے نسخے اقامت الصلوٰۃ کا معنی نماز پڑھنا کریں گے تو گویا اللہ کی بات غلط ثابت ہوجائے گی، قرآن کا فارمولا ناکام کہا جائے گا جو ہو ہی نہیں سکتا، قطعاً نہیں۔ تو یہ ثابت ہوا کہ صلوٰۃ کا ترجمہ موجودہ نماز نہیں ہے بلکہ صحیح ترجمہ وہ ہے جو قرآن نے خود بتایاہے کہ فَلَاصَدَّقَ وَلَاصَلّٰی 75.31 یعنی قرآن کے پیچھے چلنا قرآن کی تابعداری کرنا۔

عزیز اللہ بوہیو

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت نماز کیلئے نکلی راستہ میں اسے ایک آدمی ملا وہ اس پر چڑھ دوڑا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت نماز کے لیے نکلی تو راستے میں ایک آدمی نے اسے پکڑ لیا اور اپنی حاجت پوری کر کے چل دیا۔


34 - سزاؤں کا بیان : (137)
جن لوگوں پر حد واجب ہو ان کے جرم کو چھپانا چاہیے
حدثنا محمد بن يحيی بن فارس حدثنا الفريابي حدثنا إسرايل حدثنا سماک بن حرب عن علقمة بن وال عن أبيه أن امرأة خرجت علی عهد النبي صلی الله عليه وسلم تريد الصلاة فتلقاها رجل فتجللها فقضی حاجته منها فصاحت وانطلق فمر عليها رجل فقالت إن ذاک فعل بي کذا وکذا ومرت عصابة من المهاجرين فقالت إن ذلک الرجل فعل بي کذا وکذا فانطلقوا فأخذوا الرجل الذي ظنت أنه وقع عليها فأتوها به فقالت نعم هو هذا فأتوا به النبي صلی الله عليه وسلم فلما أمر به قام صاحبها الذي وقع عليها فقال يا رسول الله أنا صاحبها فقال لها اذهبي فقد غفر الله لک وقال للرجل قولا حسنا قال أبو داود يعني الرجل المأخوذ وقال للرجل الذي وقع عليها ارجموه فقال لقد تاب توبة لو تابها أهل المدينة لقبل منهم قال أبو داود رواه أسباط بن نصر أيضا عن سماک

سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 985 حدیث مرفوع مکررات 2
محمد بن یحیی بن فارس، فریادی، اسرائیل، سماک بن حرب، عکرمہ بن حضرت وائل بن حجر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت نماز کیلئے نکلی راستہ میں اسے ایک آدمی ملا وہ اس پر چڑھ دوڑا۔ اور اس سے اپنی حاجت (جماع) پوری کرلی وہ عورت چیخی چلائی لیکن وہ مرد چلا گیا ایک اور آدمی اس کے پاس سے گذرا تو اس عورت نے اس سے کہا کہ بیشک فلاں شخص نے میرے ساتھ اس اس طرح کیا ہے اس دوران وہاں سے ایک جماعت مہاجرین کی گذری تو عورت نے ان سے کہا کہ فلاں شخص نے میرے ساتھ اس اس طرح کیا ہے وہ لوگ یہ سن کر چلے اور اس مرد کو پکڑ لائے جس کے بارے میں اس عورت نے دعوی کیا تھا کہ اس نے اس سے جماع کیا ہے اور اس عورت کے پاس لائے تو اس نے کہا کہ یہ وہی ہے تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے لیے رجم کا حکم دینے لگے تو وہ کھڑا ہوگیا جس نے اس عورت سے جماع کیا تھا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے اس عورت سے جماع کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا کہ تو چلی جا بیشک اللہ نے تیرا گناہ معاف فرما دیا (اس لیے کہ یہ زنا بالجبر تھا) اور اس شخص سے کوئی اچھی بات فرمائی۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بدکاری کرنے والے کے بارے میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے رجم کیا جائے آپ نے فرمایا کہ بیشک اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر وہ توبہ تمام اہل مدینہ کرتے تو ان سب کی طرف سے قبول کی جاتی امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو اسباط بن نصر نے بھی سماک سے روایت کیا ہے۔

Narrated Wa'il ibn Hujr:
When a woman went out in the time of the Prophet (peace_be_upon_him) for prayer, a man attacked her and overpowered (raped) her.
She shouted and he went off, and when a man came by, she said: That (man) did such and such to me. And when a company of the Emigrants came by, she said: That man did such and such to me. They went and seized the man whom they thought had had intercourse with her and brought him to her.
She said: Yes, this is he. Then they brought him to the Apostle of Allah (peace_be_upon_him).
When he (the Prophet) was about to pass sentence, the man who (actually) had assaulted her stood up and said: Apostle of Allah, I am the man who did it to her.
He (the Prophet) said to her: Go away, for Allah has forgiven you. But he told the man some good words (AbuDawud said: meaning the man who was seized), and of the man who had had intercourse with her, he said: Stone him to death.
He also said: He has repented to such an extent that if the people of Medina had repented similarly, it would have been accepted from them.


17 - حدود کا بیان : (46)
عورت جس کے ساتھ زبردستی زنا کیا جائے

حدثنا محمد بن يحيی النيسابوري حدثنا محمد بن يوسف عن إسرايل حدثنا سماک بن حرب عن علقمة بن وال الکندي عن أبيه أن امرأة خرجت علی عهد رسول الله صلی الله عليه وسلم تريد الصلاة فتلقاها رجل فتجللها فقضی حاجته منها فصاحت فانطلق ومر عليها رجل فقالت إن ذاک الرجل فعل بي کذا وکذا ومرت بعصابة من المهاجرين فقالت إن ذاک الرجل فعل بي کذا وکذا فانطلقوا فأخذوا الرجل الذي ظنت أنه وقع عليها وأتوها فقالت نعم هو هذا فأتوا به رسول الله صلی الله عليه وسلم فلما أمر به ليرجم قام صاحبها الذي وقع عليها فقال يا رسول الله أنا صاحبها فقال لها اذهبي فقد غفر الله لک وقال للرجل قولا حسنا وقال للرجل الذي وقع عليها ارجموه وقال لقد تاب توبة لو تابها أهل المدينة لقبل منهم قال أبو عيسی هذا حديث حسن غريب صحيح وعلقمة بن وال بن حجر سمع من أبيه وهو أکبر من عبد الجبار بن وال وعبد الجبار لم يسمع من أبيه

جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 1495 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 2
محمد بن یحیی، محمد بن یوسف، اسرائیل، سماک بن حرب، علقمہ بن وائل کندی اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت نماز کے لیے نکلی تو راستے میں ایک آدمی نے اسے پکڑ لیا اور اپنی حاجت پوری کر کے چل دیا۔ وہ چیختی رہ گئی پھر اس کے پاس سے ایک دوسرا آدمی گزرا تو اس نے بتایا کہ اس شخص نے اس کے ساتھ اس طرح کیا ہے پھر مہاجرین کی ایک جماعت وہاں سے گذری تو انہیں بھی بتایا ان لوگوں نے دوڑتے ہوئے اس شخص کو پکڑ لیا جس کے متعلق اس عورت کا خیال تھا کہ اس نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے جب اس آدمی کو اس عورت کے سامنے لائے تو اس نے کہا ہاں یہی ہے۔ پھر وہ اسے رسول اللہ کے پاس لائے اور آپ نے اسے سنگسار کرنے کا حکم دیا تو اسی وقت ایک اور آدمی کھڑا ہوا جس نے درحقیقت اس عورت کے ساتھ زنا کیا تھا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے اس کے ساتھ زنا کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا کہ جاؤ اللہ نے تمہیں بخش دیا پہلے آدمی سے اچھا کلام کیا اور زانی کے بارے میں فرمایا کہ اسے سنگسار کر دو۔ پھر فرمایا اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اہل مدینہ سب کے سب ایسی توبہ کریں توبخش دیئے جائیں۔ یہ حدیث حسن غریب ہے علقمہ بن وائل بن حجر کو اپنے والد سے سماع حاصل ہے وہ عبدالجبار بن وائل سے بڑے ہیں عبدالجبار بن وائل نے اپنے والد سے کچھ نہیں سنا۔

Alqamah ibn Wail Kindi reported on the authority of his father that in the times of Allah’s Messenger (SAW) a woman proceeded to offer salah, on her way, a man caught hold of her and assaulted her sexually, satisfying his desire from her. She shouted. He went away. A man passed by her and she said to him that the man had done with her this and that. Then a group of muhajirs passed by and she told them that the man had done with her this and that. They went, got hold of the man who they thought had molested the woman. They brought him to her and she confirmed that he was the one, so they took him to Allah’s Messenger when he commanded that he should be stoned to death, the man who had assaulted the woman stood up and said, ‘0 Messenger of Allah. I was the one who had assaulted her (not he).” Allah’s Messenger (SAW) said (to the woman), “Go away. Indeed, Allah has forgiven you. And, to the man (whom the muhajirs had brought to him) he spoke a kind word, and for the man, who had assaulted her, he gave order to be stoned to death. He said, “He has repented in such a way that if (all) the people of Madinah repented like that then that would have been accepted from them’


اور جس وقت وہ خاتون رکوع کرتی تھی تو اس خاتون کو لوگ بغلوں کے درمیان سے جھانکتے تھے

7- اقامت نماز اور اس کا طریقہ : (630)
نماز میں خشوع
حدثنا حميد بن مسعدة وأبو بکر بن خلاد قالا حدثنا نوح بن قيس حدثنا عمرو بن مالک عن أبي الجوزا عن ابن عباس قال کانت امرأة تصلي خلف النبي صلی الله عليه وسلم حسنا من أحسن الناس فکان بعض القوم يستقدم في الصف الأول للا يراها ويستأخر بعضهم حتی يکون في الصف المؤخر فإذا رکع قال هکذا ينظر من تحت إبطه فأنزل الله ولقد علمنا المستقدمين منکم ولقد علمنا المستأخرين في شأنها

سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1046 حدیث مرفوع مکررات 3
حمید بن مسعدة و ابوبکر بن خلاد، نوح بن قیس، عمرو بن مالک، ابوالجوزاء، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ایک بہت ہی خوبصورت عورت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھنے آ جاتی تھی تو بعض لوگ آگے بڑھ کر صف اول میں پہنچ جاتے تاکہ اس پر نگاہ نہ پڑے اور بعض پیچھے ہو جاتے حتیٰ کہ آخری صف میں پہنچ جاتے جب رکوع میں جاتے تو اس طرح بغلوں سے جھانکتے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِيْنَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِيْنَ) 15۔ الحجر : 24) (تر جمہ) اور ہم جانتے ہیں تم ہیں آگے بڑھنے والوں کو اور پیچھے ہٹنے والوں کو ۔

It was narrated that Ibn 'Abbas said: "A woman used to perform prayer behind the Prophet P.B.U.H and she was one of the most beautiful of people. Some of the people used to go into the first row so that they Would not see her, and some of them used to lag behind so that they would be in the last row, and when they bowed, they Would do like this so that they could see her from beneath their armpits. Then Allah revealed: "And indeed, We know the first generations of you who had passed away, and indeed, We know the present generations of you (mankind), and also those who will come afterwards. concerning her matter. (Da'if)

1 - ا ب ج : (26407)
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حدثنا سريج حدثنا نوح بن قيس عن عمرو بن مالك النكري عن أبي الجوزا عن ابن عباس قال كانت امرأة حسنا تصلي خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فكان بعض القوم يستقدم في الصف الأول للا يراها ويستأخر بعضهم حتى يكون في الصف المؤخر فإذا ركع نظر من تحت إبطيه فأنزل الله عز وجل في شأنها ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين

مسند احمد:جلد دوم:حدیث نمبر 907 حدیث مرفوع
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کہ ایک خوبصورت عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھا کرتی تھی، جس کی وجہ سے بعض لوگ تو اگلی صفوں میں جگہ تلاش کرتے تھے تاکہ اس پر نظر نہ پڑ جائے اور بعض لوگ پچھلی صف میں جگہ تلاش کرتے تاکہ آخری صف میں جگہ مل جائے اور جب رکوع کریں تو بغلوں کے نیچے سے اسے بھی جھانک کر دیکھ سکیں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ہم تم لوگوں میں سے آگے بڑھنے والوں کو بھی جانتے ہیں اور پیچھے رہنے والوں کو بھی جانتے ہیں۔

10 - امامت کے متعلق احادیث : (99)
جو شخص صف کے پیچھے تنہا نماز ادا کرے
أخبرنا قتيبة قال حدثنا نوح يعني ابن قيس عن ابن مالک وهو عمرو عن أبي الجوزا عن ابن عباس قال کانت امرأة تصلي خلف رسول الله صلی الله عليه وسلم حسنا من أحسن الناس قال فکان بعض القوم يتقدم في الصف الأول للا يراها ويستأخر بعضهم حتی يکون في الصف المؤخر فإذا رکع نظر من تحت إبطه فأنزل الله عز وجل ولقد علمنا المستقدمين منکم ولقد علمنا المستأخرين

سنن نسائی:جلد اول:حدیث نمبر 874 حدیث مرفوع مکررات 3
قتیبہ، نوح یعنی ابن قیس، ابن مالک، عمرو، ابوجوزا، عبداللہ ابن عباس سے روایت ہے کہ ایک بہت خوبصورت خاتون حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کیا کرتی تھی تو چند حضرات پہلی صف میں چلے جاتے تاکہ وہ نظر نہ آئے اور بعض حضرات آخری صف میں رہتے تھے اور جس وقت وہ خاتون رکوع کرتی تھی تو اس خاتون کو لوگ بغلوں کے درمیان سے جھانکتے تھے جس وقت خداوند قدوس نے یہ آیت نازل فرمائی آخر تک۔ اس آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ ہم اچھی طرح سے واقف ہیں ان لوگوں سے جو کہ نماز کے دوران آگے رہتے ہیں اور ہم ان سے بھی اچھی طرح واقف ہیں جو کہ پیچھے رہتے ہیں۔

Abu Bakrah narrated that he entered the Masjid when the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم was bowing, so he bowed outside the row. The Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: “May Allah increase you in keenness, but do not do this again.” (Sahih)

43 - قرآن کی تفسیر کا بیان : (445)
تفسیر سورت حجر
حدثنا قتيبة حدثنا نوح بن قيس الحداني عن عمرو بن مالک عن أبي الجوزا عن ابن عباس قال کانت امرأة تصلي خلف رسول الله صلی الله عليه وسلم حسنا من أحسن الناس فکان بعض القوم يتقدم حتی يکون في الصف الأول للا يراها ويستأخر بعضهم حتی يکون في الصف المؤخر فإذا رکع نظر من تحت إبطيه فأنزل الله تعالی ولقد علمنا المستقدمين منکم ولقد علمنا المستأخرين قال أبو عيسی وروی جعفر بن سليمان هذا الحديث عن عمرو بن مالک عن أبي الجوزا نحوه ولم يذکر فيه عن ابن عباس وهذا أشبه أن يکون أصح من حديث نوح

جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1066 حدیث مرفوع مکررات 3
قتیبہ ، نوح بن قیس حدانی، عمرو بن مالک، ابوالجوزائ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھا کرتی تھی وہ بہت حسین بلکہ حسین ترین لوگوں میں سے تھی۔ بعض لوگ پہلی صف میں نماز پڑھنے کے لئے جاتے تاکہ اس پر نظر نہ پڑے جب کہ بعض لوگ پچھلی صفوں کی طرف آتے تاکہ اسے دیکھ سکیں۔ چنانچہ وہ جب رکوع کرتے تو اپنی بغلوں کے نیچے سے دیکھتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِيْنَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِيْنَ) 15۔ الحجر : 24) (اور ہمیں تم میں سے اگلے اور پچھلے سب معلوم ہیں اور بے شک تیرا رب ہی انہیں جمع کرے گا۔ بے شک وہ حکمت والا خبردار ہے۔) جعفر بن سلیمان یہ حدیث عمرو بن مالک سے وہ ابوجوزاء سے اسی طرح نقل کرتے ہیں لیکن اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں اور یہ نوح کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated: A women used to offer salah behind Allah’s Messenger and she was the most beautiful of the beautiful people. Some of the men would come forward as far as the first row so that they may not see her but some others would stay behind as far as the last row and when they went into ruku they would peep through their armpits. So Allah revealed: "And certainly We know those of you who hasten forward, and certainly We know those who lag behind." (15 : 24)
[Ahmed 2783, Nisai 866, Ibn e Majah 1046]
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (02-12-11), حیدر Rehan (02-12-11)
پرانا 01-12-11, 07:16 PM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default عورتوں پر جماعت میں شریک ہونا موقوف کیا گیا، قرآن کے حکم کو کیسے موقوف کیا گیا ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
ایک صاحب نے بہت ویلڈ قسم کا سوال اٹھایا تھا کہ:
آج اگر رسول اللہ ﷺ ہمارے دور میں آ حاضر ہوں، یا ہمارے یہ اہل القرآن و اہل ہواء حضرات رسول اللہ ﷺ کے دور میں موجود ہوتے، اور کسی قرآنی حکم کی تشریح خود رسول اللہ ﷺ سے سن لیتے جو ان کے فہم کے مطابق خلاف قرآن ہوتی، تو کیا یہ حضرات تب بھی رسول اللہ ﷺ کے سامنے یہی فرماتے کہ جناب آپ کی رسالت پر تو ہمارا ایمان ہے، لیکن معذرت کے ساتھ کہ آپ کی یہ تشریح (ہمارے فہم کے مطابق) قرآن کے خلاف پڑتی ہے، لہٰذا قابل قبول نہیں؟؟؟

شروع اسلام میں مردوں کی طرح عورتیں بھی نماز کے اجتماعات میں شریک ہوا کرتی تھیں لیکن انہی ایام میں یعنی خود رسول کے زمانے میں ہی عورتوں کو لوگ نظر فاحش سے دیکھنے لگے اس لیے عورتوں پر جماعت میں شریک ہونا موقوف کیا گیا۔


عورتوں پر جماعت میں شریک ہونا موقوف کیا گیا، قرآن کے حکم کو کیسے موقوف کیا گیا ؟؟؟
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (02-12-11), حیدر Rehan (02-12-11)
پرانا 01-12-11, 09:06 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

رانا صاحب،
آپ کی باتیں آپ ہی کی سمجھ میں آتی ہوں‌گی۔ غالباً آپ اپنے ہی بنائے ہوئے کسی دائرے میں‌گھوم پھر کر کچھ ارشاد فرما جاتے ہیں۔ جو ہم غریبوں‌کے پلے نہیں پڑتا۔ پہلے سمجھتا تھا کہ شاید یہ میں ہی ہوں‌جو آپ کے معیار کو نہیں پہنچ پاتا۔ پر اب دوسرے دھاگے میں‌شمشاد صاحب کی باتیں‌پڑھ کر اندازہ ہوا کہ اس ساحل پر اور لوگ بھی موجود ہیں، تو کچھ تسلی ہوئی ہے۔
ویسے ایک اندازہ یہ بھی ہوا ہے کہ اآپ خود بھی اپنی کاپی پیسٹ پوسٹس کو پڑھتے نہیں ہیں۔ دیکھئے، اسی دھاگے میں آپ کی پہلی پوسٹ‌کے یہ الفاظ:

اقتباس:
ہاں اگر جناب غلام احمد پرویز صاحب، محمد علی رسولنگری صاحب، حشمت علی صاحب، مولوی عبداللہ صاحب اور عزیز اللہ بوہیو صاحب اور ان کے ہم زبان گھوڑوں، گدھوں، بلوں، پلوں، چیلوں، گدھوں اور چوہوں چمگادڑوں والی صلوٰۃ ادا کرنا چاہتے ہوں
۔۔۔
گویا عزیز اللہ بوہیو صاحب کی صلوٰۃ پر پیش کی گئی فکر کی تردید کی گئی ہے۔ اور اب آخری پوسٹ‌میں‌آپ انہی بوہیو صاحب کا مضمون کاپی پیسٹ کر لائے ہیں۔ اوپر پہلی پوسٹ‌میں‌جس صلوٰۃ‌کو آپ نے مسلمانوں کی نماز سے ہم آہنگی ثابت کی تھی، آخری پوسٹ‌میں‌اسے پھر فارسی نماز ثابت کر رہے ہیں۔
اللہ کے بندے، کن بھول بھلیوں میں‌گھرے ہوئے ہو۔ لوٹ کر گھر آ جاؤ یار۔
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (01-12-11), کنعان (02-12-11), نورالدین (02-12-11), مرزا عامر (02-12-11), احمد نذیر (02-12-11), حیدر Rehan (02-12-11)
پرانا 01-12-11, 10:14 PM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default نیز پرویزي و اہل قرآن وغیرہ کی طرف سے جو صلوۃ کی تشریح و معنی سازي کی جاتی ہے۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
گویا عزیز اللہ بوہیو صاحب کی صلوٰۃ پر پیش کی گئی فکر کی تردید کی گئی ہے۔ اور اب آخری پوسٹ‌میں‌آپ انہی بوہیو صاحب کا مضمون کاپی پیسٹ کر لائے ہیں۔ اوپر پہلی پوسٹ‌میں‌جس صلوٰۃ‌کو آپ نے مسلمانوں کی نماز سے ہم آہنگی ثابت کی تھی، آخری پوسٹ‌میں‌اسے پھر فارسی نماز ثابت کر رہے ہیں۔
اللہ کے بندے، کن بھول بھلیوں میں‌گھرے ہوئے ہو۔ لوٹ کر گھر آ جاؤ یار۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نورالدین مراسلہ دیکھیں
اس کا مطلب مذکورہ آیت میں جس صلوۃ کا ذکر ہے اس سے مراد سسٹم ہی ہے ۔ جیسا کہ سزا و جزا ، معاشرے کی طرف سے لعن طعن ، فتنہ و فساد کا اندیشہ۔
نیز پرویزي و اہل قرآن وغیرہ کی طرف سے جو صلوۃ کی تشریح و معنی سازي کی جاتی ہے۔ ازراہ کرم وہ بھی بیان کر دیں کہ وہ لوگ کیا معنی لیتے ہیں ۔
نیز پرویزي و اہل قرآن وغیرہ کی طرف سے جو صلوۃ کی تشریح و معنی سازي کی جاتی ہے۔ ازراہ کرم وہ بھی بیان کر دیں کہ وہ لوگ کیا معنی لیتے ہیں ۔

کا جواب ::

فحاشی کوختم کرنے والی چیز صلوٰۃ ہے اور یہ فارسی نماز ..........
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (02-12-11), حیدر Rehan (02-12-11)
جواب

Tags
ہندو, فروخت, فرض, کتابوں, پاک, پاکستان, نفرت, چین, نماز, نظر, موت, موسیٰ علیہ السلام, معاشرہ, ایمان, انٹرنیٹ, اردو, تلاش, تعلیم, جھوٹ, حواری, خدا, دیکھو, عیسیٰ, عبادت, عشق


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
دنیا ( کے مال ) کے ذریعہ آزمائش کے متعلق اور ( انسان ) کیسے عمل کرے ؟ میاں شاہد صحیح المسلم 8 08-08-10 03:46 PM
تعلیمی بورڈ کا لوٹ مار کا نیا ذریعہ ۔ امتحانی فیس معاف۔۔ جاویداسد خبریں 0 07-08-10 09:47 PM
خلافۃ علی منہاج النبوۃ سے کیا مراد ہے؟ راجہ اکرام عمومی بحث 156 27-01-10 02:01 PM
جن کی نماز، روزہ، حج، زکٰوۃ بے کار ہیں عبداللہ حیدر جہاد 2 16-12-09 12:24 AM
رمضان اور زکٰوۃ فیصل ناصر گپ شپ 3 24-08-09 01:28 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:04 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger