| علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 756
|
||||
| 4 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
خاص طور پر عزیز اللہ بوہیو صاحب جن کے ایک مضمون کا حوالہ آخر میں بھی دیا گیا ہے ؟
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مرزا غلام احمد قادیانی نہیں تھا ۔ بلکہ اس نے تو قادیانیت کے خلاف ایک کتاب بھی لکھی ہے ۔
رانا صاحب یہ اہل ابواء کیا شے ہے ۔ کچھ مطلب سے آگاہ کیجیئے ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
خرد عقل نے۔۔۔ دن یہ دکھلائے
گھٹ گئے انسان، بڑھ گئے سائے اپ نے لکھا ہے کہ اہل حدیث ان کو اہل قران کہتے ہیں جو کہ اہل حدیث کو نہی کہنا چاہیے کیونکہ یہ بلکل اسی طرح جس طرح قادیانیوں کو احمدی نہی کہنا چاہیے۔ کیا اہل اہوا کا نام اور کتابوں اور مرسلوں میں لکھا جاچکا ہے یا صرف اپ کا تجویز کردہ ہے ؟ کیونکہ ہوتا یہی ہے کہ جو پہلے قبول ہوجائے وہی مشہور ہوجاتا ہے۔ اس فورم پر ہم لوگ اہل اہوا کہیں اور باہر جاکر پتا چلے کہ وہ تو اہل قرآن کے نام سے مشہور ہوچکے ہیں ۔ ۔
|
|
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (30-11-11) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بوہیو صاحب خوف زدہ کیوں ہیں؟
جو لوگ مسجدوں میں جاتے ہیں وہ ماتھا زمین پر لگا دیتے ہیں اور پیچھا اوپر کو اُٹھا دیتے ہیں لہٰذا وہ اس سجدہ کی ہیئت کو بدلنا چاہتے ہیں پھر انہوں نے سمجھا ہے کہ صرف سجدہ کی ہیئت کو بدلنے سے نہیں بلکہ سجدہ گاہ یعنی مسجد کے مفہوم ہی کو بدل دیا جائے تو وہ سجدہ کی ’’شرم والی بات‘‘ خود بخود بدل جائے گی۔ انہوں نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ قرآنِ کریم میں ’’مسجد کا لفظ 28 بار لایا گیا ہے اور کسی ایک جگہ بھی یہ نہیں فرمایا گیا کہ اس میں ’’یہ‘‘ والی موجودہ مروجہ نماز پڑھی جائے۔‘‘ اور وہ ’’یہ والی‘‘ موجودہ مروجہ نماز کی جگہ ’’وہ‘‘ والا سجدہ تحریر فرما دیتے تو زیادہ بہتر تھا کیونکہ ان کو در اصل مسجد سے یہ نفرت تو محض ’’وہ والے سجدہ‘‘ سے ہوئی ہے نہ کہ ’’یہ والی مروجہ نماز سے‘‘ جیسا کہ ان کی تحریر سے واضح ہو رہا ہے۔ بوھیو صاحب کا ’’مسجد‘‘ سے اقرار اور پھر فرار کاش کہ جس بات کا انہوں نے اپنے مضمون میں اعتراف کیا ہے کہ مسجد کا ذکر قرآنِ کریم میں 28 بار آیا ہے ان تمام آیات کو ایک جگہ جمع کر دیتے اور اس سے ثابت کر دیتے کہ مسجدوں میں اس طرح کا سجدہ نہیں بلکہ فلاں طرح کا سجدہ ادا کیا جاتا ہے کیونکہ ’’مسجد‘‘ سے مراد وہ خاص جگہ ہی لی جاتی ہے جہاں پہنچ کر لوگ سجدہ ریز ہو جاتے ہیں اور سجدہ دراصل تذلل کی ایک آخری صورت و ہیئت ہے جو انسان صرف اور صرف اللہ رب کریم کے سامنے اختیار کرتا ہے کسی انسان یا کسی دوسری ہستی کے سامنے نہیں اور اس سجدہ کے لیے وہ تمام ابتدائی مراحل جو پاکیزگی و طہارت کے ہوتے ہیں ان سے گزرنا پڑتا ہے ان مراحل سے گزرنے کے سوا ایسا کرنا ہرگز ہرگز اسلام کا یانماز کے اندر کا سجدہ نہیں کہلاتا۔ بوھیو صاحب کی آئیں ، بائیں شائیں اور مسجد کے تصور کی وضاحت محترم عزیز اللہ بوھیو صاحب تو صرف 28 بار کا ذکر کر کے دوسری باتوں میں مصروف ہو گئے اور ’’اہل اہواء‘‘ کی طرح آئیں بائیں، شائیں کرتے ہوئے پھر کبھی مسجد والی آیت کی طرف آئے تو قرآنِ کریم کے تین چار الفاظ جس میں مسجد کا لفظ بھی آئے ظاہر کرنے کے بعد پھر اُسی طرح اِدھر اُدھر کی باتوں میں لگ گئے تاکہ قاری کا ذہن ہٹا دیں کہ وہ یک جہتی کے ساتھ کسی بات کو سمجھ نہ سکے بہرحال یہ ان کا معاملہ ہے جو ان کے ساتھ ہے جس کے وہ خود ہی ذمہ دار ہیں ہم اس جگہ مسجد کا ذکر ذراتفصیل سے کریں گے تاکہ ’’مسجد‘‘ کا تصور واضح ہو جائے اور جس سجدہ کی وجہ سے اس کو مسجد کہا جاتا ہے اُس کی حقیقت بھی مبہم نہ رہے چنانچہ سمجھ لینا چاہیے کہ قرآنِ کریم میں ’’مسجد‘‘ کا لفظ تین بار ’’المسجد‘‘ سترہ بار ’’مسجداً‘ ‘دو بار ’’مساجد‘‘ چار بار اور ’’المساجد‘‘ کا لفظ دوبار آیا ہے اور ان الفاظ کی تعداد فی الحقیقت ۲۸ہوتی ہے جن کے مقامات کی تفصیل اس طرح ہے۔ لفظ ’’مسجد‘‘ اور قرآنِ کریم قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِقف وَاَقِیْمُوْا وُجُوْہَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَّادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ۵ط کَمَا بَدَاَکُمْ تَعُوْدُوْنَ o فَرِیْقًا ہَدٰی وَفَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْہِمُ الضَّلٰلَۃُط اِنَّہُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَیَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ مُّہْتَدُوْنَ o یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَّکُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلاَ تُسْرِفُوْاجط اِنَّہٗ لاَ یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ o قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِط قُلْ ہِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا خَالِصَۃً یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِط کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ o (۷:۲۹ تا۳۲) ’’(اے پیغمبر اسلام!) تم کہو میرے پروردگار نے جو کچھ حکم دیا ہے وہ تو یہ ہے کہ اعتدال کی راہ اختیار کرو اور ہر عبادت گاہ میں عبادت کے لیے جاؤ تو اپنی عبادت میں صرف اور صرف اللہ کی طرف توجہ رکھو اور دین کو اُس کے لیے خالص کر کے اُسے پکارو، اس نے جس طرح تمہاری ہستی شروع کی اسی طرح لوٹائے جاؤ گے۔ ایک گروہ کو کامیابی و کامرانی کی راہ دکھائی، دوسرے پر گمراہی ثابت ہو گئی، ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا رفیق بنا لیا بایں ہمہ سمجھے کہ وہ راہ راست پر ہیں۔ اے اولادِ آدم! عبادت کے ہر موقع پر جب عبادت گاہ میں جاؤ تو اپنے جسم کی زیب و زینت سے آراستہ رہا کرو نیز کھاؤ، پیو مگر حد سے گزر نہ جاؤ، اللہ انہیں پسند نہیں کرتا جو حد سے گزر جانے والے ہیں۔ ان لوگوں سے کہو اللہ کی زینتیں جو اس نے اپنے بندوں کے استعمال کے لیے پیدا کی ہیں اور کھانے پینے کی اچھی چیزیں کس نے حرام کی ہیں؟ تم کہو وہ تو اس لیے ہیں کہ ایمان والوں کے کام آئیں، دنیا کی زندگی میں بھی، قیامت کے دن بھی خالص ان کے لیے ہیں، اس طرح ہم ان لوگوں کے لئے کھول کھول کر نشانیاں بیان کرتے ہیں جو جاننے والے ہیں۔‘‘ مسجد کی حاضری عبادت کے لیے اور زیب و زینت مذکورہ آیات میں جو قرآنِ کریم کی سورہ الاعراف سے مسلسل ذکر کی گئیں ہیں دوبار ’’مسجد‘‘ کا ذکر آیا ہے جس سے مراد عبادت گاہ ہے اور وہاں کیوں جائیں گے؟ عبادت کے لیے، اس سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ اللہ رب کریم کی عبادت کے لیے حاضری دی جائے تو انسان کو اپنی زیب و زینت کا مکمل اہتمام کرنا چاہیے اور ’’زیب و زینت‘‘ میں جو کچھ آتا ہے سب کا سب اس میں شامل ہے یعنی اچھا اور صاف ستھرا لباس ہو اور عبادت کے لیے حاضر ہونے والا مرد ہے یا عورت اس کو بھی صاف ستھرا اور پاک و صاف ہونا چاہئے ظاہری طہارت و پاکیزگی بھی ہو اور باطنی طہارت و پاکیزگی بھی۔ ایک بات غور طلب یہ بھی ہے کہ جس ’’زیب و زینت‘‘ کا ذکر کیا گیا ہے کیا یہ ’’زیب و زینت‘‘ اسی طرح بنی بنائی آسمان سے اتری ہے یا اس جگہ بنائی گئی ہے؟ سب تسلیم کریں گے کہ یہ زیب و زینت اسی جگہ بنائی گئی ہے آسمان سے نہیں اتری۔ یہ زیب و زینت ایسی ایسی چیزوں کو قرار دیتے ہیں کہ ان کا نام سن کر ہی آدمی حیران رہ جاتا ہے پھر ان تمام چیزوں کے فیصلے خود انسان ہی کرتے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ میری نظر میں ایک چیز تہذیب اسلامی کے خلاف ہو اور آپ اس کو عین تہذیب اسلامی سمجھتے ہوں۔ دلائل میں بھی پیش کروں گا اور آپ بھی پھر آخر اس کا حل کیا ہے؟ میری نظر میں یہی کہ میں بھی برداشت سے کام لوں اور آپ بھی۔ آپ مجھے برا بھلا کہنا بند کر دیں اور میں آپ کو، میں یہی کہوں گا کہ ’’مسجد‘‘ کو ساری دنیا کے لوگ عبادت گاہ، عبادت کی جگہ، سجدہ گاہ، سجدہ ادا کرنے کی جگہ مزید آگے بڑھ کر یہ کہ مسجد کو ’’عبادت‘‘ سمجھتے ہیں کیونکہ اس کی تعمیر کو عبادت تصور کرتے ہیں لیکن ہمارے جو بھائی اور دوست ایسا نہیں سمجھتے ان کو چاہیے کہ وہ عدالتوں کو، جماعت گاہیں، عام مجلسوں کی جگہوں کو ’’مسجد‘‘ سمجھتے رہیں اور جو کچھ وہاں ہوتا ہے اُس کو عبادت سمجھیں لیکن دوسروں کی تضحیک و تسفیق نہ کریں کیونکہ اس طرح سمجھنے والے پہلے بھی گزر چکے ہیں جیسا کہ قرآنِ کریم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: مشرکین مکہ کی صلوٰۃ بیت اللہ کے قریب وَمَا کَانَ صَلاَ تُہُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلاَّ مُکَآءً وَّتَصْدِیَۃًط فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ o (۸:۳۵) ’’اور بیت اللہ میں ان کی نماز اس کے سوا کیا تھی کہ سیٹیاں بجائیں اور تالیاں پیٹیں، تو دیکھو تم جیسے کچھ کفر کرتے رہے ہو اب اس کی پاداش میں عذاب کا مزہ چکھو۔‘‘ زیر نظر آیت میں جس جگہ کو ’’البیت‘‘ کہا گیا ہے اس کو قرآنِ کریم نے متعدد جگہوں پر ’’مسجد حرام‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے مختلف ادوار میں اس جگہ کیا کچھ ہوتا رہا قرآنِ کریم کی اس آیت سے واضح ہے اب بھی یہ کام مسجد میں نہیں تو خانقاہوں پر ہوتا ہے اور زور و شور سے ہو رہا ہے اور خانقاہوں کو بھی متبرک مقام سمجھا جاتا ہے اگر بوھیو صاحب اور ان کے ہم نوا دوبارہ ایسے ہی کام مسجدوں میں کرنا چاہتے ہیں اور وہ اس سجدہ سے ایسے ڈرے ہیں کہ اس سجدہ کو متعارف سجدہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور خوف کے باعث وہ مسجدوں میں بھی دوسرے کام کرنے کی سعی و کوشش میں ہیں تو ہم سوائے اس کے کچھ نہیں کہہ سکتے قرآنِ کریم نے ایسے لوگوں کو جو کچھ کہا ہے وہ اوپر ہم نے سورہ الانفال کی آیت کے حوالہ سے عرض کر دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں ہے کہ: لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْہِط فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَہَّرُوْاط وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِیْن o (۹:۱۰۸) ’’البتہ وہ مسجد آپؐ کے کھڑے ہونے کی زیادہ مستحق ہے جس کی بنیاد روزِ اول ہی سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پسند کرتے ہیں کہ وہ صاف و ستھرے رہیں اور اللہ تعالیٰ صاف و پاک رہنے والوں کو زیادہ پسند کرتا ہے۔‘‘ قرآنِ کریم اور ’’المسجد‘‘ کا بیان شروع ہوتا ہے مساجد کا لفظ جو تین بار قرآنِ کریم میں مذکور ہوا اس کو بیان کرنے کے بعد ’’المسجد‘‘ کے لفظ کو جہاں جہاں مختلف مقامات پر ذکر کیا ہے ان کی واضح طور پر نشاندہی کی جاتی ہے اور قارئین کرام سے التماس ہے کہ وہ خود ان حوالہ جات سے قرآنِ کریم کے سیاق و سباق کے لیے آگے اور پیچھے کی آیات پر بھی نگاہ رکھیں ان شاء اللہ بات مزید واضح ہو جائے گی، اس جگہ ہم صرف آیات اور ان کے ترجمہ پر اکتفا کریں گے تفسیر کے لیے ہماری تفسیر عروۃ الوثقیٰ کی محولہ آیات کو دیکھیں چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے کہ: صلوٰۃ ادا کرنے کے لیے قبلہ رو ہونا لازم ہے قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَآءِج فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰہَاصفَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِط وَحَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْہَکُمْ شَطْرَہٗط وَاِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّہِمْط وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْن o (۲:۱۴۴) ’’ہم دیکھ رہے ہیں کہ تمہارا چہرہ آسمان کی طرف بار بار اُٹھتا ہے یقین کرو ہم عنقریب تمہارا رُخ اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس سے تم خوشنود ہو جاؤ گے۔ تم اپنا رخ مسجد حرام کی طرف پھیر لو اور جہاں کہیں بھی تم نکلو ضروری ہے کہ کہ اپنا رخ اسی طرف پھیرا کرو، جن لوگوں کو آپؐ سے پہلے کتاب دی گئی ہے وہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ ’’قبلہ‘‘ ان کے رب کی طرف سے ایک امر حق ہے اور جیسے کچھ ان کے اعمال ہیں اللہ ان سے غافل نہیں۔‘‘ وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِطوَ اِنَّہٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَط وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ o وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِط وَحَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْہَکُمْ شَطْرَہٗلا لِءَلاَّ یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّۃٌقلا اِلاَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ فَلاَ تَخْشَوْہُمْ وَاخْشَوْنِیْ وَلِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَہْتَدُوْن o (۲:۱۴۹، ۱۵۰) ’’آپؐ کہیں سے بھی نکلیں اور جہاں کہیں بھی ہیں رُخ انور اس طرح پھیر لو جس طرح مسجد حرام ہے اور یقین کرو یہ آپؐ کے رب کی طرف سے امر حق ہے اور تم جانتے ہو کہ اللہ تمہارے اعمال کی طرف سے غافل نہیں۔ اور تم کہیں سے بھی نکلو اور جہاں کہیں بھی ہو چاہئے کہ اپنا رُخ مسجد حرام ہی کی طرف کیا کرو تاکہ تمہارے خلاف لوگوں کے پاس کوئی دلیل باقی نہ رہے، وہ لوگ جو حق سے تجاوز کر گئے ہیں ان کی مخالفت تو ہر حال میں جاری رہے گی، ان سے مت خوف کھاؤ، ڈرو تو صرف مجھ ہی سے ڈرو تاکہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کر دوں، جس کے نتیجہ میں تم سیدھی راہ پر لگ جاؤ۔‘‘ مسجد الحرام کے احترام کا طریقہ اسلام میں وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُوْاطاِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ o وَاقْتُلُوْہُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْہُمْ وَاَخْرِجُوْہُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْکُمْ وَالْفِتْنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِج وَلاَ تُقٰتِلُوْہُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰی یُقٰتِلُوْکُمْ فِیْہِج فَاِنْ قٰتَلُوْکُمْ فَاقْتُلُوْہُمْطکَذٰلِکَ جَزَآءُ الْکٰفِرِیْنَ o فَاِنِ انْتَہَوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ o (۲:۱۹۰تا ۱۹۲) ’’اور جو لوگ تم سے اللہ کی راہ میں لڑائی لڑتے ہیں، تم بھی ان کے ساتھ لڑو ہاں کسی طرح کی زیادتی نہیں کرنی چاہیے، اللہ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو زیادتی کرنے والے ہوں۔ انہیں جہاں کہیں پاؤ قتل کرو اور جس جگہ سے انہوں نے تم کو نکالا ہے تم انہیں نکال باہر کرو کیونکہ فتنہ کا قائم رہنا قتل و خون ریزی سے بڑھ کر ہے جب تک وہ خود مسجد حرام کی حدود میں تم سے لڑائی نہ کریں، تم بھی ان سے لڑائی نہ کرو، ہاں! اگر انہوں نے اس مقام پر لڑائی شروع کر دی تو تمہارے لیے اس مقام پر لڑنا ضروری ہو جائے گا، منکرین حق کا یہی بدلہ ہے۔ جب وہ لڑائی سے باز آ گئے تو پھر اللہ کی بخشش کا دروازہ کھلا ہے بلاشبہ وہ رحمت سے بخش دینے والا ہے۔‘‘ تمتع حج اور قربانی یعنی جانور کا ذبیحہ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِج فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَسَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْط تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌط ذٰلِکَ لِمَنْ لَّمْ یَکُنْ اَہْلُہٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِط وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابo (۲:۱۹۶) ’’جو شخص تمتع حج کرے تو اس کے لیے بھی قربانی ہے جیسی کچھ اُس کو میسر آئے۔ البتہ جس شخص کو قربانی میسر نہ آئے تو تین روزے حج کے دنوں میں رکھے، سات روزے واپسی پر، یہ دس کی پوری گنتی ہو جائے گی، ہاں! یاد رہے کہ یہ حکم اس کے لیے ہے جس کا گھر بار مکہ مکرمہ میں نہ ہو اور دیکھو ہر حال میں اللہ کی نافرمانی سے بچو اور یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔‘‘ قربانی نہ کرنے والے دس روزے رکھ لیں لیکن کون؟ مذکورہ آیت تو محض ’’مسجد‘‘ کے ذکر کے باعث تحریر کی گئی ہے لیکن چونکہ اس میں تمتع حج کا ذکر ہے اور یہ بات بھی اس میں فرمائی گئی ہے کہ صرف تمتع حج ہی ایسا حج ہے جس میں قربانی لازم ہے بشرطیکہ میسر آئے اگر آسانی سے میسر نہ آئے تو مکہ مکرمہ کے علاوہ جو لوگ حج تمتع کے لیے جائیں ان کے لیے اس قربانی کا بدل دس روزے ہیں جن میں سے تین تو حج کے دونوں میں پورے کیے جائیں گے یعنی ۸/ ذی الحجہ سے تیرہ ذی الحجہ تک وقفہ کے ساتھ اور سات روزے حاجی جب گھر واپس آئے تو اُس وقت رکھ لے۔ آج جو وہاں قربانیوں کا حال ہے وہ سب کو معلوم ہے لیکن کوئی عالم یہ نہیں بتاتا کہ حج قران اور حج افراد میں تو قربانی لازم نہیں لہٰذا ان کو وہاں قربانی نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہاں گوشت کی ضرورت نہیں جس کے باعث جانوروں کی اضاعت ہوتی ہے اور تمتع حج کرنے والے بھی ضرورت محسوس نہ کریں تو ان کو روزے رکھ لینا چاہیے تاکہ اضاعت مال نہ ہو اور یہ مال ضرورت مند لوگوں کے کام آئے، کاش کہ اس معاملہ میں سوچا جاتا۔ یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِط قُلْ قِتَالٌ فِیْہِ کَبِیْرٌط وَصَدٌّعَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَکُفْرٌمبِہٖ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِق وَاِخْرَاجُ اَہْلِہٖ مِنْہُ اَکْبَرُ عِنْدَ اللّٰہِج وَالْفِتْنَۃُ اَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِط (۲:۲۱۷) ’’لوگ آپؐ سے پوچھتے ہیں جو مہینہ حرمت کا ہے اس میں لڑائی کرنا کیسا ہے؟ ان سے کہہ دو، اس میں لڑائی لڑنا بہت ہی بری بات ہے مگر کسی انسان کو اللہ کی راہ سے روکنا اور اس کا انکار کرنا اور مسجد حرام میں کسی کو نہ جانے دینا، یہاں تک کہ وہاں کے بسنے والوں کو نکال دینا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ برائی ہے اور فتنہ قتل سے بھی بڑھ کر برائی ہے۔‘‘ کسی قوم کی دشمنی مسجد حرام سے روکنے کا باعث نہ ہو وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی وَلاَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللّٰہَط اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ o (۵:۲) ’’اور ایسا نہ ہو کہ ایک گروہ کی دشمنی تمہیں اس بات پر ابھار دے کہ زیادتی کرنے لگو کیونکہ انہوں نے مسجد حرام سے تمہیں روک دیا تھا، نیکی اور پرہیزگاری کی ہر بات میں ایک دوسرے کی مدد کرو ، گناہ اور ظلم کی بات میں نہ کرو اور دیکھو اللہ کی نافرمانی سے بچو، یقیناًوہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ عذابِ الٰہی کے مستحق کون؟ کَیْفَ یَکُوْنُ لِلْمُشْرِکِیْنَ عَہْدٌ عِنْدَ اللّٰہِ وَعِنْدَ رَسُوْلِہٖٓ اِلاَّ الَّذِیْنَ عَاہَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِج فَمَا اسْتَقَامُوْا لَکُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَہُمْط اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْن o (۹:۷) ’’یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ان مشرکوں کا عہد اللہ اور اُس کے رسول کے نزدیک عہد ہو؟ جن لوگوں کے ساتھ تم نے مسجد حرام کے قریب عہد و پیمان باندھا تھا تو جب تک وہ تمہارے ساتھ قائم رہیں تو تم بھی قائم رہو، اللہ انہیں دوست رکھتا ہے جو متقی ہوتے ہیں۔‘‘ اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَآجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَجَاہَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِط لاَ یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰہِط وَاللّٰہُ لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ o (۹:۱۹) ’’کیا تم لوگوں نے یوں ٹھہرا رکھا ہے کہ حاجیوں کے لیے سبیل لگا دینا اور مسجد حرام کو آباد رکھنا اس درجہ کا کام ہے جیسا اس شخص کا کام جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا؟ اللہ کے نزدیک تو یہ دونوں برابر نہیں اور اللہ ظلم کرنے والوں پر راہ نہیں کھولتا۔‘‘ شرک ناپاکی ہے اور مشرکین ناپاک ہیں یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلاَ یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہٰذَاج وَاِنْ خِفْتُمْ عَیْلَۃً فَسَوْفَ یُغْنِیْکُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖٓ اِنْ شَآءَط اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ o (۹:۲۸) ’’اے مسلمانو! حقیقت حال اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ یہ مشرک نجس ہیں، بس چاہئے کہ اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے نزدیک نہ آئیں اور اگر تم کو فقر و فاقہ کا اندیشہ ہو تو گھبراؤ نہیں، اللہ چاہے گا تو عنقریب تمہیں اپنے فضل سے تونگر کر دے گا، اللہ سب کچھ جاننے والا، حکمت والا ہے۔‘‘ سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَاط اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ o (۱۷:۱) ’’پاکیزگی ہے اُس ذات کے لیے جس نے اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کہ اس کے اطراف کو ہم نے بڑی برکت دی ہے، سیر کرائی اور اس لیے سیر کرائی کہ اپنی نشانیاں اسے دکھا دیں، بلاشبہ وہی ذات ہے جو سننے والی اور دیکھنے والی ہے۔‘‘ یہ آیت مسلمانوں کے لیے اپنے اندر بہت سی نشانیاں اور نہایت واضح اسباق رکھتی ہے لیکن افسوس کہ مسلمانوں نے جس نہج پر سوچنا چاہئے تھا بالکل نہیں سوچا اور اغیار بہت کچھ سوچ رہے ہیں اور انہوں نے بہت حساس اور پیچیدہ پروگرام تشکیل دیئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی بھی آنکھیں کھول دے اور وہ حقیقت کو سمجھ جائیں۔ آگے جو آیت سورہ حج کی ’’مسجد‘‘ کی نسبت سے درج کی جا رہی ہے اُس کا مضمون بھی اس ’’حساسیت‘‘ کو تقویت دے رہا ہے غور کریں : اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰہُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ نِالْعَاکِفُ فِیْہِ وَالْبَادِط وَمَنْ یُّرِدْ فِیْہِ بِاِلْحَادٍمبِظُلْمٍ نُّذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ o (۲۲:۲۵) ’’جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی اور جو اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں نیز مسجد حرام سے جسے ہم نے بلا امتیاز تمام انسانوں کے لیے ٹھہرایا ہے خواہ وہاں کے رہنے والے ہوں یا باہر سے آنے والے اور ہر اس آدمی کو جو اس میں از راہِ ظلم حق سے منحرف ہونا چاہے گا عذاب دردناک کا مزہ چکھائیں گے۔‘‘ ہُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْہَدْیَ مَعْکُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّہٗط وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَنِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْہُمْ اَنْ تَطَءُوْہُمْ فَتُصِیْبَکُمْ مِّنْہُمْ مَّعَرَّۃٌمبِغَیْرِ عِلْمٍج (۴۸:۲۵) ’’یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانور بھی اپنی جگہ سے رکے رہے اور اگر مومن مرد اور مومن عورتیں مکہ میں نہ ہوتیں جن کو تم نہیں جانتے تھے تو یہ احتمال تھا کہ تم ان کو پیس ڈالتے پھر تم کو ان کے باعث اس کی وجہ سے نقصان پہنچتا جو اگرچہ تم بے خبری میں کرتے۔ پھر بھی یہ نقصان تو تھا۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کی صداقت لَقَدْ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوْلَہُ الرُّءْ یَا بِالْحَقِّج لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰہُ اٰمِنِیْنَ مُحَلِّقِیْنَ رُءُ وْسَکُمْ وَمُقَصِّرِیْنَلا لَا تَخَافُوْنَط فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِکَ فَتْحًا قَرِیْبًاo (۴۹:۲۷) ’’بے شک اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو حقیقت کے مطابق سچا خواب دکھایا کہ ان شاء اللہ تم مسجد حرام میں امن و امان سے داخل ہو گے سروں کو منڈاتے ہوئے اور بال کتراتے ہوئے تم کوکسی بات کا خوف نہ ہو گا پھر وہ جانتا ہے جو تم نہیں جانتے پھر اس نے فتح مکہ سے قبل ہی ایک فوری فتح دے دی۔‘‘ (یہ فتح خیبر تھی)۔ اوپر سترہ بار جو ’’المسجد‘‘ کا ذکر کیا تھا وہ تعداد بھی مکمل ہو گئی۔ ان آیات کو اچھی طرح غور و فکر کے ساتھ پڑھیں اور خود ہی دیانتداری کے ساتھ فیصلہ کر لیں کہ ’’مسجدیں‘‘ کس مقصد کے لیے تعمیر کی جاتی ہیں اور خصوصاً اسلام نے جس کو ’’مسجد حرام‘‘ اور ’’مسجد اقصیٰ‘‘ کے ناموں سے تعبیر کیا ہے اُس وقت وہاں کیا ہوتا تھا جب قرآنِ کریم نازل ہو رہا تھا اور آپؐ خود بنفس نفیس مدینہ طیبہ میں موجود تھے نیز وہ مسجد جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی تھی وہاں کیا کچھ ہوتا تھا۔ اب ان آیات کا ذکر کیا جاتا ہے جن میں ’’مسجداً‘‘ کا لفظ آیا ہے جو دو مقامات پر ہے چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے کہ: مسجد ’’ضرار‘‘ کس کو کہا گیا اور کیوں؟ نیز ’’مسجداً‘‘ کا لفظ قرآن کریم میں وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّکُفْرًا وَّتَفْرِیْقًا مبَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَاِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ مِنْ قَبْلُط وَلَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَآ اِلاَّ الْحُسْنٰیط وَاللّٰہُ یَشْہَدُ اِنَّہُمْ لَکٰذِبُوْن o (۹:۱۰۷) ’’اور جنہوں نے اس غرض سے ایک مسجد کھڑی کی کہ نقصان پہنچائیں، کفر کریں، مومنوں میں تفرقہ ڈالیں اور ان لوگوں کے لیے کمین گاہ پیدا کریں جو اب سے پہلے اللہ اور اُس کے رسول سے لڑ چکے ہیں، وہ ضرور قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہمارا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ بھلائی ہو لیکن اللہ کی گواہی یہ ہے کہ وہ اپنی قسموں میں قطعاً جھوٹے ہیں۔‘‘ آپؐ کی ہجرت سے قبل مدینہ کی حالت جب آپؐ ہجرت کر کے مدینہ پہنچے اُس وقت مسلمانوں کی ایک جماعت تشکیل پا چکی تھی۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی تعلیم و تبلیغ سے مدینہ کے اکثر خاندانوں سے لوگ اس جماعت میں داخل ہو چکے تھے آپؐ نے تشریف لاتے ہی پہلا کام ’’مسجد النبی‘‘ کی تعمیر کا سر انجام دیا کہ مسلمان وہاں باجماعت نماز اد کر سکیں اور وحی الٰہی کی تعلیم کو سیکھ سکیں۔ وہ وحی الٰہی جو مدینہ کی ہجرت سے پہلے نازل ہو چکی تھی وہ آپؐ کے اور صحابہ کرامؓ کے سینہ میں محفوظ ہونے کے ساتھ تحریری طور پر بھی موجود تھی جو مختلف اشیاء پر تحریر ہو چکی تھی اور ایک خاص صندوق میں محفوظ رکھی ہوتی تھی۔ یہ صندوق بھی ہجرت کے وقت آپؐ کے ساتھ آیا اور اس کو ایک خاص جگہ اس مسجد نبوی میں ایک ستون کے ساتھ مقفل رکھا گیا جس سے یہ بات تو روزِ روشن کی طرح واضح ہو گئی کہ مسجد کی تعمیر کیوں ہوئی اور وہ کتنی ضروری تھی کہ اپنی رہائش سے بھی پہلے آپؐ نے اس کی تعمیر کا بندوبست کیا۔ بلاشبہ قومی اور جماعتی مشاورت بھی اس جگہ ہوتی تھی۔ مثل ہے کہ ’’جہاں پھول وہاں کانٹا‘‘ جہاں سچے دل سے ایمان لانے والے لوگ موجود تھے وہاں اس دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنے والی جماعت میں کچے ایمان کے لوگ جن کو اسلام کی زبان میں منافق کہا جاتا ہے وہ بھی داخل ہو گئے چونکہ وہ اپنے دعویٰ ایمان کے باعث ان سچے مسلمانوں میں گھس گئے، مسلمانوں کو اور اسلام کو نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ آپؐ نے نہایت حکمت عملی کے ذریعہ اُن کا ایسا دفاع کیا کہ وہ اپنی سازشوں میں کامیاب نہ ہو سکے، ان کے رابطے بدستور مدینہ سے باہر مشرکین اور اہل کتاب کی ان جماعتوں سے رہے جو مدینہ کے مضافات میں رہتے تھے بلکہ دور دراز دوسرے ملکوں تک ان کے روابط قائم رہے جن کا ذکر تاریخ میں واضح طور پر موجود ہے۔ انہوں نے جب دیکھا کہ ہم باوجود ساری کوششوں کے ناکام و نامراد ہیں اور کھلے بندوں آپس میں بھی بیٹھ کر کسی طرح کی گفتگو نہیں کر سکتے کیونکہ اس کے ظاہر ہونے کا خطرہ ہر وقت موجود رہتا ہے اور اب اسلام کا لیبل بھی اُتارا نہیں جا سکتا تو اُنہوں نے آپس میں مشورہ کر کے ایک مسجد کی تعمیر شروع کر دی یہ وہ زمانہ تھا کہ آپؐ تبوک کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ اس مسجد کے تعمیر کرنے والے کسی سے پوشیدہ نہیں تھے لیکن اس کے باوجود چونکہ وہ مسلمانوں میں شمار ہوتے تھے لہٰذا ایک دن وہ آیا کہ انہوں نے آپؐ کے سامنے یہ درخواست پیش کر دی کہ آپؐ ہماری اس مسجد میں تشریف لائیں تاکہ اس کا افتتاح ہو جائے آپؐ نے فرمایا کہ اس وقت تو نہیں البتہ تبوک کے بعد اس سلسلہ میں کچھ کہہ سکوں گا۔ آپؐ تبوک چلے گئے، بہت سے لوگوں کو جو مضافات مدینہ میں رہتے تھے اور مدینہ کے منافقین کو ایک طرح سے مکمل یقین تھا کہ تبوک سے واپسی خیریت سے نہیں ہو گی کیونکہ رومی ایک نہایت سخت قوم ہے اور وہ اس معرکہ کے لیے مکمل تیار بھی ہو چکے ہیں لیکن اُس وقت ان تمام لوگوں کی اسکیموں پر پانی پھر گیا جب آپؐ اور آپؐ کے ساتھی بخیر و خوبی اس طویل سفر سے واپس آ گئے اور رومیوں نے مزاحمت کرنے کی بجائے پسپائی اختیار کر لی۔ مسجد ضرار کے انہدام کا حکم اور اس پر عمل آپؐ ابھی راستہ ہی میں تھے کہ یہ آیات نازل ہوئیں اور آپؐ نے ایک دستہ مدینہ پہنچنے سے پہلے ہی تیار کر دیا کہ وہ مدینہ جا کر اس ’’مسجد ضرار‘‘ کو منہدم کر دیں چنانچہ یہ ’’مسجد‘‘ منہدم کر دی گئی اور قرآنِ کریم نے اس مسجد کا نام ’’مسجد ضرار‘‘ بیان کیا اللہ تعالیٰ کی عبادت کی غرض سے نہیں بلکہ پکے اور سچے مسلمانوں کے خلاف بطور سازش تعمیر کی گئی تاکہ مسلمانوں کے خلاف بطور کمین گاہ کام دے اور آج بھی جو لوگ مسجدوں کو اللہ کی عبادت کے لیے نہیں بلکہ محض صلاح مشورہ اور جماعتی فیصلوں کے لیے تصور کرتے ہیں در اصل یہ تمام لوگ ان ہی منافقین مدینہ کے پیروکار ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسلام کی ان شناختوں کو بھی ختم کر دیا جائے جو اس وقت تک بطورِ رسم موجود چلی آ رہی ہیں۔ تعمیر مساجد کی موجودہ حالت پر افسوس آخر کیوں؟ ہم نہایت افسوس سے یہ بات بھی عرض کریں گے کہ مسجدوں پر مسجدیں بناتے چلے جانا اور مسلمانوں کی اس تفریق میں اضافہ کرنے کا باعث بننا بھی کوئی نیکی اور ثواب کا کام نہیں بلکہ مسجدوں کی رونق بحال کرنا، اللہ کے ذکر میں شامل رہنا، اللہ کی رضامندی کو تلاش کرنا اور آپس میں گھل مل کر رہنا اور ایک دوسرے کی خبرگیری کرنا، ایک دوسرے کے کام آنا، اپنے محلے، شہر گاؤں، قصبہ اورملک تک کے ساتھ مخلص رہتے ہوئے زندگی گزارنا اور ان کاموں کو تقویت دینے کے لیے مسجدوں میں حاضری ضروری ہے گویا مسجدیں اللہ تعالیٰ کی یاد کو تازہ کرنے کے لیے بنائی جاتی ہیں اور ان کے ذریعہ اپنے تعلقات کو استوار کرنے کا سبق یہاں سیکھا جاتا ہے اور اللہ کی توفیق ہی سے یہ کام سر انجام دیا جا سکتا ہے اللہ سے دُعا ہے کہ وہ ہم سب مسلمانوں کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ ’’مسجداً‘‘ کا دوسرا لفظ سورہ کہف میں اس طرح آیا ہے کہ: خانقاہوں پر مسجدیں بنانے کا رواج وَکَذٰلِکَ اَعْثَرْنَا عَلَیْہِمْ لِیَعْلَمُوْٓا اَنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّاَنَّ السَّاعَۃَ لَا رَیْبَ فِیْہَاج اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَہُمْ اَمْرَہُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْہِمْ بُنْیَانًاط رَبُّہُمْ اَعْلَمُ بِہِمْط قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلآی اَمْرِہِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْہِمْ مَّسْجِدًا o (۱۸:۲۱) ’’اور اسی طرح یہ بات بھی ہوئی کہ ہم نے لوگوں کو ان کے حال سے واقف کر دیا اور اس لیے واقف کر دیا کہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شبہ نہیں، اس وقت کی بات ہے کہ لوگ آپس میں بحث کرنے لگے، ان لوگوں کے معاملے میں کیا کیا جائے لوگوں نے کہا اس غار پر ایک عمارت بنا دو، ان پر جو کچھ گزری، ان کا پروردگار ہی اسے بہتر جانتا ہے، تب ان لوگوں نے کہا کہ معاملات میں غالب آ گئے تھے ، ٹھیک ہے ہم ضرور ان کے مرقد پر ایک عبادت گاہ (مسجد) بنائیں گے۔‘‘ انہوں نے وہاں مسجد بنا دی۔ اصحابِ کہف کے واقعہ کی تفصیلات بڑی عجیب ہیں اور یہ دیکھنے پڑھنے اور سمجھنے کے لائق ہے لیکن اس جگہ اس کے بیان کی گنجائش نہیں، ویسے بھی ہم نے اس کی پوری تفصیلات قرآنِ کریم کی تفسیر عروۃ الوثقیٰ میں دے دی ہیں۔ مختصر یہ کہ اصحابِ کہف کا معاملہ ایسا ہے کہ ابتداء میں قوم کے ظلم و ستم نے انہیں مجبور کیا تھا کہ وہ کسی غار میں جا کر پناہ لیں۔ لیکن ایک عرصہ گزرنے کے بعد قوم پر ان کے زہد و عبادت کا استغراق کچھ اس طرح چھا گیا کہ انہوں نے ان کے مرقد پر ایک عبادت گاہ (مسجد) تعمیر کر دی، اور عیسائیت سے یہ کام مسلمانوں میں بھی در آیا کہ ہر خانقاہ کے ساتھ ضرور ایک عبادت گاہ (مسجد) تعمیر کی جاتی ہے اور جو کچھ ان خانقاہوں اور ان مساجد میں ہوتا ہے اُس کا حال کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ’’مساجد‘‘ کا لفظ قرآنِ کریم میں چار بار موجود ہے ’’مساجد‘‘ کا لفظ قرآنِ کریم میں چار بار آیا ہے اور ظاہر ہے کہ ’’مساجد‘‘ مسجد ہی کی جمع ہے، اب اس کا ذکر دیکھیں کہ قرآنِ کریم میں کس طرح کیا گیا ہے ۔ چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے کہ: وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰہِ اَنْ یُّذْکَرَ فِیْہَا اسْمُہٗ وَسَعٰی فِیْ خَرَابِہَاط اُولٰٓءِکَ مَا کَانَ لَہُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْہَآ اِلاَّ خَآءِفِیْنَ۵طلَہُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّلَہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ o (۲:۱۱۴) ’’اس سے بڑھ کر ظلم کرنے والا کون ہے جو اللہ کی عبادت گاہوں میں اس کے نام کی یاد کو روکے اور ان کی ویرانی میں کوشاں ہو؟ جن لوگوں کے ظلم کا یہ حال ہے تو وہ اس قابل ہی نہیں کہ اللہ کی عبادت گاہوں میں وہ قدم رکھیں بجز اس حالت کے کہ وہ ڈرے، سہمے ہوئے ہوں، ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے سخت عذاب تیار کیا گیا ہے۔‘‘ مسجدیں آباد کرنے کا حق کن لوگوں کو ہے؟ مَا کَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰہِ شٰہِدِیْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ بِالْکُفْرِط اُوْلٰٓءِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْج وَفِی النَّارِ ہُمْ خٰلِدُوْنَ o اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَی الزَّکٰوۃَ وَلَمْ یَخْشَ اِلاَّ اللّٰہَقف فَعَسٰٓی اُولٰٓءِکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُہْتَدِیْن o (۹:۱۷،۱۸) ’’(اے پیغمبر اسلام! ان) مشرکوں کو اس بات کا حق نہیں پہنچتا کہ اللہ کی مسجدیں آباد کریں ایسی حالت میں کہ خود اپنے کفر کا اعتراف کر رہے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے سارے عمل اکارت گئے اور وہ عذابِ آتش میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ مسجدوں کو آباد کرنے والے تو وہ لوگ ہیں جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے، نماز قائم کی، زکوٰۃ ادا کی اور اللہ کے سوا اور کسی کا ڈر نہ مانا، جو لوگ ایسے ہیں ان ہی سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ سعادت و کامیابی کی راہ پانے والے ثابت ہوں گے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کن لوگوں کی مدد و نصرت فرماتا ہے اَلَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّآ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰہُط وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لَّہُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیْہَا اسْمُ اللّٰہِ کَثِیْرًاط وَلَیَنْصُرَنَّ اللّٰہُ مَنْ یَّنْصُرُہٗط اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْز o (۲۲:۴۰) ’’یہ وہ مظلوم ہیں جو بغیر کسی حق کے اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے ان کا کوئی جرم نہ تھا، وہ کہتے تھے ہمارا پروردگار اللہ ہے اور اگر اللہ بعض آدمیوں کے ہاتھوں بعض آدمیوں کی مدافعت نہ کراتا رہتا تو کسی قوم کی عبادت گاہ زمین پر محفوظ نہ رہتی، خانقاہیں، گرجے، عبادت گاہیں اور مسجدیں جن میں اس کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے سب کے سب کبھی کے ڈھائے جا چکے ہوتے۔ جو کوئی اللہ کے دین کی حمایت کرے گا ضروری ہے کہ اللہ بھی اُس کی مدد فرمائے، کچھ شبہ نہیں وہ یقیناًقوت رکھنے والا، غالب ہے۔‘‘ ’’المساجد‘‘ کے الفاظ قرآنِ کریم میں صرف دو بار قرآنِ کریم میں ’’مساجد‘‘ کے الفاظ مکمل ہو گئے اب ’’المساجد‘‘ کے الفاظ کا ذکر کیا جاتا ہے اور یہ لفظ قرآنِ کریم میں دو بار مذکور ہے جس کی وضاحت اس طرح پیش کی جا سکتی ہے کہ قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے: اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآءِکُمْط ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّہُنَّط عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَا عَنْکُمْط فَالْءٰنَ بَاشِرُوْہُنَّ وَابْتَغُوْا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْر ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیْلِج وَلاَ تُبَاشِرُوْہُنَّ وَاَنْتُمْ عَاکِفُوْنَ فِی الْمَسٰجِدِط تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلاَ تَقْرَبُوْہَاط کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَّقُوْنَ o (۲:۱۸۷) ’’روزہ کے دنوں میں رات کے وقت اپنی ازدواجی زندگی کی خواہش کی تکمیل چاہیں تو بلا جھجک کریں کیونکہ تم عورتوں کے رازداں ہو اور وہ تمہاری رازداں ہیں، اللہ سے یہ بات پوشیدہ نہیں کہ تم اپنے اندر ایک بات کا خیال رکھ کر پھر اس میں خیانت کرتے ہو، پس اس نے تمہاری ندامت و شرمندگی قبول کر لی اور جو تم کو غلطی محسوس ہوئی وہ معاف فرما دی، اور اب تم اپنی عورتوں سے ازدواجی زندگی کی خواہش پوری کرنی چاہتے ہو تو بے روک ٹوک کرو اور جو کچھ اللہ نے تمہارے لیے مقرر کر دیا ہے اس کے خواہش مند ہو اور حلال و طیب چیزیں کھاؤ، پیو یہاں تک کہ صبح کی سپیدی کالی دھاری سے نمایاں ہو جائے پھر اس وقت سے لے کر رات آنے تک روزے کو پورا کرو، ہاں اگر تم مسجدوں میں اعتکاف کر رہے ہو تو اس حالت میں ازدواجی زندگی کی خواہش پوری کرنے کی ممانعت ہے، یاد رکھو یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں پس ان سے دور رہنا چاہیے، اللہ اس طرح اپنے احکام واضح کر دیتا ہے تاکہ لوگ پرہیزگاری اختیار کریں۔‘‘ مساجد کیوں تعمیر کی جاتی ہیں؟ محض اللہ کے ذکر کے لیے وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰہِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًاo وَّاَنَّہٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰہِ یَدْعُوْہُ کَادُوْا یَکُوْنُوْنَ عَلَیْہِ لِبَدًا o (۷۲:۱۸،۱۹) ’’اور یہ کہ مسجدیں اللہ ہی کے لیے ہیں (پس اے لوگو!) تم ان میں اللہ کے سوا کسی کو مت پکارو، اور جب اللہ کا بندہ اللہ کو پکارنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو لوگ اس پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔‘‘ قارئین کرام! مسجد کے متعلق تمام الفاظ جو قرآنِ کریم میں آئے ہیں اوپر گزر چکے ہیں ان میں تین سورتیں مکی ہیں اور باقی تمام مدنی سورتیں ہیں مکی سورتوں میں الاعراف ، بنی اسرائیل، الکہف اور جن ہیں ’’مسجد‘‘ کا نام لیا گیا ہے جس سے واضح ہے کہ ’’مسجد‘‘ کا تصور ہمیشہ ’’عبادت گاہ‘‘ کے لیے قائم ہوا تھا، قائم ہے اور ان شاء اللہ قائم رہے گا۔ ’’صلوٰۃ‘‘ کا تعلق ’’مسجد‘‘ کے ساتھ، کیوں؟ ’’صلوٰۃ‘‘ کے بیسیوں سے بھی متجاوز معنی ہوں تو بھی جس ’’صلوٰۃ‘‘ کا تعلق مسجد کے ساتھ ہے جس کو نماز سے موسوم کرتے ہیں اُس سے مراد ’’عبادت‘‘ ہی لی جا سکتی ہے علاوہ ازیں دوسرا کوئی مطلب بھی اس ’’صلوٰۃ‘‘ کے ساتھ نہیں جوڑا جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت زبان کے ساتھ بھی کی جاتی ہے، عمل کے ساتھ بھی کی جاتی ہے، عمل کے ساتھ ساتھ مال کے ساتھ بھی اور اس سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ انسان کی زبان بہت کچھ کہہ سکتی ہے اور کہتی ہے لیکن ہر کہی گئی بات عبادت نہیں ہوتی لیکن انسان کی جس کہی ہوئی بات پر ’’عبادت‘‘ کا لفظ اطلاق کرے گا وہ غیر اللہ کیلئے نہیں ہو سکتی۔ یہی بات مالی عبادت کے لیے لازم ہے کہ مال انسان اپنی زندگی میں بے شمار جگہوں پر استعمال کرتا ہے لیکن ہر جگہ استعمال ہونے والا مال ’’عبادت‘‘ نہیں کہلا سکتا اور اللہ کے حکم کے مطابق اور اللہ تعالیٰ ہی کی راہ میں اللہ کی رضا کے لیے خرچ کیا گیا مال ’’عبادت‘‘ کہلاتا ہے اور یہی حال بدنی عبادت کا بھی ہے۔ ’’صلوٰۃ‘‘ کا تعلق ’’عبادت‘‘ کے اس مجموعہ سے ہے اور یہ خالصۃً اللہ تعالیٰ کی رضا ہی کے لیے اُس کا حکم سمجھ کر ادا کی جاتی ہے اور ادا کی جانی چاہیے۔ صلوٰۃ کے بنیادی ارکان اس میں بنیادی طور پر قیام، رکوع اور سجدہ جیسے اہم رکن ہیں جن کا ذکر قرآنِ کریم کی مذکورہ آیات میں اور علاوہ ازیں بہت سے مقامات پر موجود ہے اس کی ترتیب جو اسلام میں مقرر و متعین ہے وہ صدرِ اول سے لے کر آج تک بدستور اُسی طرح چلی آ رہی ہے جو ایک دوسرے سے بدستور منتقل ہوتی آ رہی ہے جس میں کسی طرح کا کوئی شک و شبہ نہیں اور بلاشبہ یہ چیزیں انسانی زندگی کے ساتھ اور خصوصاً ایک مسلمان کی زندگی کے ساتھ گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ قیام کے وقت قیام، رکوع کے وقت رکوع اور سجدہ کے وقت سجدہ ضروری قرار دیا گیا ہے جن کا تعلق انسانی زندگی کے ساتھ اس طرح قائم ہے جیسے جسم کے لیے جان۔ یہ وہی ’’صلوٰۃ‘‘ یعنی نماز ہے جس کے لیے وقت کی پابندی لازم قرار دی گئی جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ: فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوۃَ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ قِیَامًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِکُمْج فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَج اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتٰبًا مَّوْقُوْتًا o (۴: ۱۰۳) ’’پھر جب تم نماز پوری کر چکو تو چاہئے کہ کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے رہو پھر جب ایسا ہو کہ دشمن سے تم مطمئن ہو جاؤ (اور سفر سے گھر واپس لوٹ آؤ) تو نماز قائم رکھو (قصر کرنا ترک کر دو) بلاشبہ نماز مسلمانوں پر وقت کی قید کے ساتھ فرض کر دی گئی ہے۔‘‘ ’’صلوٰۃ‘‘ معلوم ہو گی تو قصر کا پتہ چلے گا خیال رہے کہ اس سے قبل سورہ النساء کی آیت ۱۰۱، ۱۰۲ میں فرمایا گیا تھا کہ ’’اگر تم سفر میں نکلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں ہے کہ اگر تم نمازیں قصر کر لو خصوصاً اُس وقت جب تم کو اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں کسی بڑی مصیبت میں نہ ڈال دیں کیونکہ بلاشبہ کافر تمہارے کھلے کھلے دشمن ہیں (اور ہر وقت موقع کی تلاش میں رہتے ہیں) اور اے پیغمبر اسلام! جب آپؐ مسلمانوں میں موجود ہوں اور آپؐ ان کے لیے نماز قائم کریں تو چاہئے کہ لوگوں (مجاہدین) کا ایک حصہ تمہارے ساتھ کھڑا ہو جائے اور اپنے ہتھیار لیے رہے پھر جب وہ سجدہ کر چکے تو پیچھے ہٹ جائے اور دوسرا حصہ جو نماز میں شریک نہ تھا آپؐ کے ساتھ شریک ہو جائے اور چاہئے کہ پوری ہوشیاری رکھے اور اپنے ہتھیار لیے رہے، جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے ان کی دلی تمنا ہے کہ تم اپنے ہتھیار اور سامان جنگ سے ذرا بھی غفلت کرو تو وہ یک بارگی تم پر ٹوٹ پڑیں اور اگر تمہیں برسات کی وجہ سے کچھ تکلیف ہو یا تم مجبور ہو تو پھر تم پر کچھ گناہ نہیں اگر ہتھیار اتار کر رکھ دو، لیکن اپنے بچاؤ سے غافل نہ ہونا چاہئے، اللہ نے منکرین حق کے لیے رسوا کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘ نماز کتنی ضروری ہے اور اس کی اہمیت کیا ہے؟ اندازہ کریں کہ یہ موقت صلوٰۃ یعنی نماز کتنی ضروری ہے اگر عین میدانِ کارزار میں اس کا وقت آ جائے تو اُس وقت بھی چاہے وہ قصر ہو جائے یعنی آدھی ادا کی جائے اس کو باجماعت ادا کرنا ضروری ہے۔ جب تک آپؐ جماعت میں موجود رہے آپؐ خود اس کا اہتمام کرتے رہے اور جب آپؐ دنیا سے تشریف لے گئے یا کسی میدان میں موجود نہ تھے تو قائد جماعت اس کی پابندی کرتے رہے اور آج بھی بدستور اسی طرح اس کی پابندی کا حکم موجود ہے۔ خواہ تو کون ہے، صلوٰۃ یعنی نماز کے انکار سے باز آ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اتنی سخت پابندی کے ساتھ ادا کی جانے والی نماز کے متعلق اس طرح کی بات کی جائے جس طرح کی بات ہمارے بھائی یعنی ’’اہل اہواء‘‘ کہتے ہیں اور جس صلوٰۃ یعنی نماز کے لیے وضو کا ہونا، جگہ، جسم اور لباس کا پاک و صاف ہونا وقت کا تعین لازم قرار دیا جانا سب باتیں قرآنِ کریم میں حکماً موجود ہیں پھر یہ بات بغیر کسی روک ٹوک کے کہی جائے کہ ’’پیشانی زمین پر ٹیک کر پیچھا اونچا کر دینے والی نماز کا اسلام میں کوئی تصور نہیں‘‘ کتنی لغو اور واہیات بات ہے جس کو خرافات کہا جاتا ہے اس پر ہم اپنے ’’اہل اہواء‘‘ دوستوں سے یہی عرض کر سکتے ہیں اور وہ نہایت عاجزانہ طور پر عرض کرتے ہیں کہ باز آ باز آ، ہر آنچہ ہستی باز آ ایں در گہ مادر گہ نومیدی نیست گر کافر و گبر و بت پرستی باز آ صد بار اگر توبہ شکستی باز آ عرفِ عام میں نماز کیا ہے اور کیوں ہے؟ برادرِ من! نماز اتنی معروف اور واضح چیز ہے کہ اس وقت مسلمانوں کی اکثریت نماز ادا نہ کرنے کے باوجود اُس سے مکمل طور پر واقف ہے اور کوئی مسلمان شاید ہی ایساہو گا جو نماز نہ دادا کر کے خوش ہو کہ میں نے وقت ضائع نہیں کیا اور اس وقت میں نے اتنا وقت بچا کر جو نماز میں خرچ ہونا فلاں کام کی تکمیل کر لی ہے۔ ہر مسلمان خواہ وہ کتنا ہی بریاں دل گناہوں میں لت پت کیوں نہ ہو وہ نماز ادا نہ کر کے سمجھتا ہے کہ میں نے غلط کیا ہے کہ نماز ادا نہیں کی۔ چاہے نماز ادا کرنے والے کردار کے لحاظ سے نماز ادا نہ کرنے والوں سے بھی گئے گزرے ہوں حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہئے پھر بھی غیر نمازی ان کے بارے میں یہی کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ اچھا کام کیا ہے اور ایک حد تک ان کا احترام کرتے ہیں۔ نماز ادا کرنے کے اوقات کا ذکر قرآنِ کریم میں صدر اول میں جب ابھی قرآنِ کریم نازل ہو رہا تھا اور آپؐ قوم میں بنفس نفیس موجود تھے تو اس نماز کا عرف قائم تھا اور بڑے تو بڑے بچے بھی اس سے واقف تھے چنانچہ قرآنِ کریم نے جن اوقات میں ایک دوسرے کے ہاں آنا، جانا ممنوع قرار دیا ہے اُس کاذکر ان الفاظ میں فرمایا ہے کہ: یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْکُمُ الَّذِیْنَ مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ وَالَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْکُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍط مِنْ قَبْلِ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ وَحِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَکُمْ مِّنَ الظَّہِیْرَۃِ وَمِنْمبَعْدِ صَلٰوۃِ الْعِشَآءِط ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّکُمْط لَیْسَ عَلَیْکُمْ وَلَا عَلَیْہِمْ جُنَاحٌ مبَعْدَہُنَّط طَوَّافُوْنَ عَلَیْکُمْ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍط کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ o وَاِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْکُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا کَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْط کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اٰیٰتِہٖط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمo (۲۴: ۵۸،۵۹) ’’اے ایمان والو! تمہارے باندی غلام اور وہ بچے جو سن بلوغ کو نہیں پہنچے انہیں تین وقتوں میں تم سے اجازت لینی چاہئے فجر کی نماز سے قبل اور دوپہر میں (ظہر کے وقت) اور عشاء کی نماز کے بعد جب تم اپنے (بعض) کپڑے اُتار دیا کرتے ہو، یہ تین اوقات تمہارے پردے کے ہیں۔ ان اوقات کے علاوہ تم پر کوئی مضائقہ نہیں کہ وہ تمہارے پاس اور تم ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے رہو، اس طرح اللہ اپنے احکام کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جانتا اور بڑی حکمت والا ہے۔ اور جب تمہارے اپنے بچے بلوغت کو پہنچ جائیں تو وہ بھی اسی طرح اجازت لیں جس طرح ان سے پہلے دوسرے لوگ اجازت لیتے ہیں، اس طرح اللہ اپنے احکام صاف اور واضح طور پر بیان کرتا ہے اور اللہ بڑا علم والا حکمت والا ہے۔‘‘ صلوٰۃ کا تعلق انسان کی روز مرہ زندگی سے کیا اب بھی کوئی شک و شبہ باقی رہ گیا ہے کہ ’’صلوٰۃ موقت‘‘ ایک معروف چیز ہے جو روز مرہ زندگی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے جس طرح ہر آدمی روزانہ کھاتا پیتا اور سوتا جاگتا ہے اور یہ اس کی زندگی کا معمول ہے اور یہ سب کچھ اس کو خود بخود ہی فطری طور پر رہنے سہنے کے طریقوں سے معلوم ہو جاتا ہے بالکل اسی طرح وہ صلوٰۃ کے اوقات کے ادا کرنے کے طریقے سیکھ لیتا ہے زبان یعنی بولی جیسی مشکل ترین چیز سے وہ مکمل طور پر واقف ہو جاتا ہے اور مکمل طور پر اپنی زبان کی لغت کو وہ استعمال کرتا ہے چاہے اس کو اسم نکرہ اور معرفہ، اسم آلہ، اسم صوت، اسم تصغیریا مصغر، اسم مکبر، اسم ظرف، ظرف زماں اور ظرف مکاں کا معلوم نہ ہو لیکن اپنی زبان میں وہ ان سب کا استعمال کرتا ہے چاہے وہ ماضی، حال اور مستقبل کے ناموں سے واقف نہ ہو لیکن وہ ان سب کو استعمال کرتا ہے۔ اس میں کسی صاحب علم و فکر کو کوئی اختلاف نہیں۔ وہ نہیں جانتا کہ بلا، کتا، گیدڑ اوربھیڑیا کیوں حرام ہیں لیکن وہ ان کے قریب بھی نہیں جاتا۔ زندگی کی بیسیوں نہیں سینکڑوں باتیں ہیں جن کو وہ باقاعدہ کسی استاد سے نہیں سیکھتا لیکن وہ اس کو معلوم ہو جاتی ہیں۔ اتنی باتیں انسان پڑھ کر نہیں سیکھتا جتنی بغیر پڑھے سیکھ لیتا ہے۔ صلوٰۃ کے جن اوقات کا ذکر اس جگہ کیا جا رہا ہے اور قرآنِ کریم کی آیات پیش کی جا رہی ہیں اکثریت اس ساری گفتگو سے ناواقف ہے لیکن ان پانچ اوقات سے کوئی ناواقف نہیں۔ یہی دوران لوگوں کو کھائے جا رہا ہے کہ تمام مسلمان مرد، عورتیں، چھوٹے بڑے اور جوان، بوڑھے اس نماز کا ذکر کیوں کرتے ہیں جب کہ باقی قوموں میں بھی یہ سب کچھ موجود تھا لیکن آج ان میں سے ایک چیز بھی یاد نہیں وہ کلہم ان سے ناواقف ہیں اسی طرح مسلمان ابھی تک باوجود نماز ادا نہ کرنے کے، روزہ ترک کرنے کے، زکوٰۃ ادا نہ کرنے کے دولت کے ہوتے ہوئے بھی فریضہ حج ادا نہ کرنے کے ان ساری چیزوں کا نام آخر کیوں لیتے ہیں؟ دوسری قوموں میں یہ سب کچھ نہ ہونے کے باوجود بھی وہ زندگی گزار رہی ہیں تو آخر مسلمانوں نے اس تصور سے کیوں گلو خلاصی نہیں کرائی وہ ایک مدت سے کراہ رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسلام میں یہ تصور ختم ہو جائے۔ کاش کہ وہ حقیقت صلوٰۃ کو سمجھیں کاش کہ! وہ اس حقیقت کو تسلیم کر لیں اور جتنا زور ان باتوں پر وہ صرف کر رہے ہیں اس بات پر صرف کریں کہ مسلمانوں کے ہاں صلوٰۃ محض تصور کے طور پر ہی موجود نہ رہے بلکہ حقیقت میں صلوٰۃ ادا کی جانے لگے اور اس سے وہ کمی و کوتاہی کو دور کرنے کی کوشش کریں جو مسلمانوں میں در کر آئی ہیں تاکہ آخرت میں نہ اُن کو پچتاوا ہو اور نہ دوسرے نماز نہ ادا کرنے والوں کو جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے کہ قیامت کے روز بعض لوگوں کو اس طرح کا پچتاوا ہو گا جب ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کو دوزخ میں کیا چیز لے آئی تو وہ برملا کہیں گے کہ: قَالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَo وَلَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَ o وَکُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآءِضِیْنَ o وَکُنَّا نُکَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِ o حَتّٰیٓ اَتٰنَا الْیَقِیْن o (۷۴:۴۳ تا ۴۷) ’’وہ کہیں گے کہ ہم نمازیں ادا نہیں کیا کرتے تھے اور محتاجوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے اور حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ ہم بھی باتیں بنایا کرتے تھے اور ہم جزا سزا کے دن کو جھٹلایا کرتے تھے، یہاں تک کہ ہم کو اس یقینی بات سے سابقہ پیش آ گیا۔‘‘ آخرت کا یقین کسی کے دل میں نہیں رہا خیال رہے کہ اس وقت آخرت کا یقین دلوں سے اُٹھ گیا ہے محض رسماً لوگ آخرت کا نام لیتے ہیں اور جن جاہل لوگوں کے دلوں میں کچھ اس کا تصور موجود ہے ان کو علمائے سوء نے ایسی طرف لگا دیا ہے کہ وہ اپنی آخرت کے متعلق اپنے ذہن میں یہ تصور رکھتے ہیں کہ ہم اپنے پہلوں کی بخشش کا سامان کریں گے تاکہ ہمارے مرنے کے بعد ہمارے پچھلے ہماری بخشش کے لیے کچھ کریں اس لیے ان کو ایسے اعمال کی فکر بالکل نہیں رہی کہ نمازیں انسان کی اس دنیوی زندگی کو درست کرنے اور سنوارنے کے لیے ادا کی جاتی ہیں، غریبوں اور مسکینوں کو کھانا کھلانے سے ہماری دنیوی زندگی پر کچھ اثر پڑتا ہے گویا انہوں نے ہر نیک کام کا تعلق محض آخرت سے جوڑ دیا ہے او سمجھتے ہیں کہ آخرت کا معاملہ تو مرنے کے بعد شروع ہو گا اور وہ جو آخرت میں چلے گئے ہیں ان کے لیے ہم ایسے کام کریں جو اُن کی آخرت کو درست کر دیں گے اور ہمارے مرنے کے بعد ہماری اولاد ،در اولاد ہماری آخرت کے لیے ختم درود کرائے گی اور ہماری آخرت درست ہو جائے گی۔ دین اسلام کے ساتھ استہزاء کتنی بری بات ہے مختصر یہ کہ اس وقت دین کی ہر بات کو ایک طرح کا مذاق اور ٹھٹھا بنا دیا ہے جس کا جی چاہتا ہے وہ دین اسلام کی بنیادوں کو اُکھاڑنا شروع کر دیتا ہے حالانکہ ایمان والوں کو اس طرح کی تعبیرات سے قرآنِ کریم نے واضح طور پر منع کیا ہے اور زور دے کر رَد کیا ہے چنانچہ ارشادِ الٰہی ہوتا ہے کہ: یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَکُمْ ہُزُوًا وَّلَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَالْکُفَّارَ اَوْلِیَآءَج وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ o وَاِذَا نَادَیْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ اتَّخَذُوْہَا ہُزُوًا وَّلَعِبًاط ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لاَّیَعْقِلُوْن o (۵:۵۷،۵۸) ’’اے مسلمانو! جن لوگوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنا رکھا ہے (اور اس کی تحقیر و تذلیل کرتے ہیں) تم انہیں اپنا دوست و مددگار نہ بناؤ اور اللہ کی نافرمانی سے ڈرو اگر فی الحقیقت تم ایمان رکھتے ہو، اور جب تم نماز کے لیے پکارتے ہو تو یہ اسے کھیل و تماشا بناتے ہیں اور اس کی ہنسی اُڑاتے ہیں یہ ایک ایسا گروہ ہے جو (دین کی) سمجھ بوجھ سے یک قلم بے بہرہ ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی لعنت کے مستحق کون ہیں؟ قرآنِ کریم نے آگے چل کر واضح الفاظ میں ان کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی لعنت کے مستحق ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ایسا غضب ہے اُن پر کہ یہ انسانی صفات سے عاری ہو چکے ہیں اندریں وجہ یہ انسان نہیں بلکہ بندر اور سور ہیں کیونکہ یہ اُن کی صفات کو اپنا رہے ہیں اور شریر قوتوں کے پوجنے میں لگے ہوئے ہیں اور بعض جگہ فرمایا ہے کہ انہوں نے در اصل اپنی خواہشات کو اپنا معبود و اِلٰہ بنا لیا ہے لہٰذا ان سے جتنے دور رہ سکتے ہو رہو اس لیے کہ بری صحبت میں بیٹھنے سے انسان برا ہو جاتا ہے۔ ایک جگہ مسلمانوں کو ہدایت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ: ’’اے مسلمانو! تم پر فقط تمہاری اپنی جانوں کی ذمہ داری ہے، اگر تم سیدھے راستے پر قائم ہو تو کسی کا گمراہ ہونا تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا، تم سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے، وہ بتا دے گا کہ تمہارے کام کیسے کچھ رہے ہیں۔‘‘ (۵:۱۰۵) برادرِ من! دین اسلام کے ساتھ طرح طرح کا مذاق کیا جا رہا ہے اور اسلام کی بنیادوں کو خود مسلمان کہلانے والوں نے اس قدر کھوکھلا کر دیا ہے کہ اب ان کا اکھاڑ پھینکنا کچھ مشکل نہیں رہا۔ اللہ تعالیٰ اپنے خاص ہاتھ سے سچے اور حقیقی مسلمانوں کی مدد فرمائے اور ان کو اسلام پر مضبوط بنا دے، قرآنِ کریم نے بطورِ پیش گوئی اپنے نزول کے وقت ہی یہ نصیحت فرما دی تھی کہ: دین کے ساتھ مذا ق کیا جا رہا ہو تو کیا کرنا چاہئے؟ ’’(اے مسلمانو!) دیکھو، اللہ اپنی کتاب میں تمہارے لیے یہ حکم نازل کر چکا ہے کہ جب تم دیکھو اور سنو کہ اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر کیا جا رہا ہے اور ان کی ہنسی اُڑائی جا رہی ہے تو جب تک ایسے لوگ کسی دوسری بات میں نہ لگ جائیں ان کے پاس نہ بیٹھو، اگر تم ان کے ساتھ ایسے حالات میں بھی بیٹھو گے تو تم بھی انہیں جیسے ہو جاؤ گے، بلاشبہ اللہ منافقوں اور منکرین حق سب کو جہنم میں اکٹھا کر دینے والا ہے۔‘‘ (۴:۱۴۰) ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ اس طرح کے منافق لوگ کرتے کیا ہیں اور ہوتا کیا ہے؟ فرمایا: منافقین کی نماز محض دکھاوا ہے اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَہُوَ خَادِعُہُمْج وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَی الصَّلٰوۃِ قَامُوْا کُسَالٰیلا یُرَآءُ وْنَ النَّاسَ وَلاَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ اِلاَّ قَلِیْلاً o مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِکَ لآَ اِلٰی ہٰٓؤُلَآءِ وَلآَ اِلٰی ہٰٓؤُلَآءِط وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَلَنْ تَجِدَ لَہٗ سَبِیْلاً o (۴:۱۴۲،۱۴۳) ’’منافق، اللہ کو دھوکا دے رہے ہیں اور (ان کو معلوم نہیں) اللہ نے اُن کے دھوکا کو ضائع کر دیا ہے اور جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو کاہلی اور نہ چاہتے ہوئے کھڑے ہو جاتے ہیں، محض لوگوں کو دکھانے کے لیے (نماز جنازہ میں) شریک ہوتے ہیں اور اللہ کا ذکر نہیں کرتے مگر برائے نام۔ یہ لوگ کفر اور ایمان کے درمیان متردد ہیں کہ اِدھر رہیں یا اُدھر رہیں۔ نہ تو اِن کی طرف ہیں اور نہ اُن کی طرف اور جس پر اللہ اپنے قانون کے مطابق راہ گم کر دے تو پھر ممکن نہیں کہ تم ان کے لیے کوئی راہ نکال سکو۔‘‘ مروجہ نماز کے ساتھ مسلمانوں نے کیا کیا؟ برادرِ من! اس نماز کے ساتھ مسلمان کہلانے والوں کے مختلف گروہوں نے مختلف طریقوں سے منہدم کرنے کی سعی و کوشش کی ان کا طریقہ واردات چاہے مختلف ہے مدعا سب کا ایک ہی ہے کہ یہ ارکانِ اسلام جو آج مسلمانوں میں تسلیم کیے جاتے ہیں تمام گزشتہ قوموں میں بھی تسلیم رہ چکے ہیں جس طرح گزشتہ قوموں نے ان سے دوری اختیار کی ہے اور آہستہ آہستہ وہ اس قدر دور ہو گئے ہیں کہ ان کے ناموں کی بھی ان کے ہاں شناخت نہیں رہی محض قرآنِ کریم ان کے متعلق بھی ان کے نام لیتا ہے لہٰذا قرآنِ کریم کے ان ناموں کا اگر مفہوم بدل دیا جائے تو مسلمانوں کی اکثریت جو پہلے ہی محض ان کے ناموں تک واقف ہے اور یہ نام تو ان کے ذہنوں سے قرآنِ کریم نکلنے بھی نہیں دے گا کیونکہ قرآنِ کریم سے ان کو نکالا نہیں جا سکتا لہٰذا انکا مفہوم بدل دیا جائے تو شاید ہم بھی دوسری اقوام عالم کی طرح ان سے گلو خلاصی کر سکیں اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ان میں سے بعض وہ ہیں جو صلوٰۃ کے اوقات میں اختلاف کر کے ثابت کرنے کی کوشش میں ہیں کہ نمازیں صرف دو وقت کی ہیں ایک صبح اور ایک شام، بعض ان کی تعداد کو مان کر کہتے ہیں کہ یہ تذکار اور وظائف جو صلوٰۃ میں پڑھے جاتے ہیں یہ غیر قرآنی ہیں لہٰذا ان کو قرآنی آیات سے بدل دیا جائے تو وہ اس کام میں مصروف ہیں اور بعض وہ ہیں جو نماز کی اس ہیئت کو تسلیم نہیں کرتے اور وہ اس طرح جھکنے اور گرنے سے بیزار ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’صلوٰۃ‘‘ کا یہ مفہوم مطلب ہی نہیں ہے بلکہ وہ تو حکومت کی میٹنگوں اور مشوروں کا نام ہے اور علاوہ ازیں بھی بہت کچھ وہ کہتے رہتے ہیں اور اس نماز کا مذاق اُڑاتے رہتے ہیں۔ جو کچھ آج یہ کر رہے ہیں کل ان سے پہلے دوسرے کرتے رہے ہیں، چنانچہ قرآنِ کریم بار بار کہتا ہے کہ ایسے لوگوں کے پاس جب بھی کوئی حکم اللہ کی طرف سے آیا تو اُنہوں نے ٹالنے کی کوشش کی، اُن کو پہلے لوگوں کا مذاق یاد کروا دو کہ جو کچھ ان کے ساتھ ہوا وہی کچھ اِن کے ساتھ بھی ہو جائے گا چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے کہ: وَمَا تَاْتِیْہِمْ مِّنْ اٰیَۃٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّہِمْ اِلاَّ کَانُوْا عَنْہَا مُعْرِضِیْنَ o فَقَدْ کَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَ ہُمْط فَسَوْفَ یَاْتِیْہِمْ اَنْبآؤُا مَا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِءُ وْنَ o (۶:۴،۵) ’’اور ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی نہیں جو ان کے سامنے آتی ہو اور انہوں نے اس سے گردن نہ موڑی ہو۔ جب بھی کوئی سچائی ان کے پاس آئی تو انہوں نے اُسے جھٹلا دیا اور جس بات کی وہ ہنستی اڑاتے رہے عنقریب اس کی حقیقت ان کو معلوم ہو جائے گی۔‘‘ قرآنِ کریم میں بہت سے مقامات پر گزشتہ انبیاء کرام اور ان کی امتوں کے واقعات بیان کیے گئے ہیں اور جگہ جگہ ان کے مذاق اور استہزاء کا ذکر فرمایا ہے اور اس بات کا ذکر کیا ہے کہ ان نبیوں کے دنیا سے اُٹھ جانے کے بعد ان کے ماننے والوں میں جو جو کمزوریاں پائی گئی ہیں ان میں سے ایک کمزوری ’’صلوٰۃ‘‘ سے انکار بھی تھا چنانچہ سورہ مریم میں بھی اس کا ذکر فرمایا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے کہ: صلوٰۃ موقت کو ضائع کرنے والے کون ہیں؟ فَخَلَفَ مِنْمبَعْدِہِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ وَاتَّبَعُوا الشَّہَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا o (۱۹:۵۹) ’’پھر ان کے بعد ان کے ناخلف ان کے جانشین ہوئے جنہوں نے نماز جیسی ضروری چیز کھو دی اور اپنی نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے سو قریب ہے کہ ان کی سرکشی ان کے آگے آئے۔‘‘ جیسا کہ اوپر بھی ذکر کیا گیا ہے کہ احکامات الٰہی کا مذاق اڑانے والے اور ان کو ٹھٹھہ سے اُڑانے والے اور ان کا کھلا انکار کرنے والے جب اس طرح کے خرافات میں مصروف ہوں تو ان سے دور ہو جانا اور ان کی مجلس سے اُٹھ جانا بھی اس بات کا علاج ہے کہ وہ شرم کھائیں اور کم از کم آپ کی موجودگی میں وہ ایسی حرکات سے باز آ جائیں آپؐ اپنا کام کرتے رہیں یعنی ان کو قرآن سناتے رہیں اور ان کی باتوں پر دھیان نہ دیں بلکہ اعراض کر جائیں۔ قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ: نماز موقت سے انکار شرک ہے فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَo اِنَّا کَفَیْنٰکَ الْمُسْتَہْزِءِ یْنَo (۱۵:۹۵) ’’(اے پیغمبر اسلام!) جو کچھ آپؐ کو حکم دیا گیا ہے لوگوں پر آشکارا کرو اور مشرکوں کی کچھ پروا نہ کرو، ان ہنسی اُڑانے والوں کے لیے ہم تمہاری طرف سے بس کرتے ہیں۔‘‘ قارئین کرام! کہہ سکتے ہیں کہ اوپر آیت میں ’’المشرکین‘‘ شرک کرنے والوں کا ذکر کیا گیا ہے اور بات ’’صلوٰۃ‘‘ یعنی نماز کی ہو رہی ہے پھر ’’صلوٰۃ‘‘ کا شرک کے ساتھ کیا جوڑ ہے، کیا یہ کھلی تحریف نہیں تو اور کیا ہے؟ قرآن صلوٰۃ کے انکار کو شرک سے تعبیر کرتا ہے التماس ہے کہ آپ قرآنِ کریم کا مطالعہ کریں، قرآن کریم نے ’’صلوٰۃ‘‘ یعنی نماز کو ادا نہ کرنے والوں اور دین میں تفریق پیدا کرنے والوں کو بھی ’’مشرک‘‘ قرار دیا ہے، کیونکہ یہ لوگ بھی اپنی خواہش کو اپنا معبود بناتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم اکثر جگہ ان کا ذکر ’’اہل اہواء‘‘ کے نام سے کرتے آ رہے ہیں۔ جو لوگ تقویٰ اختیار نہیں کرتے اور اللہ رب کریم کی طرف رجوع نہیں کرتے وہ وہی ہیں جو نمازوں کو ادا نہیں کرتے اور دین میں تفریق کے مرتکب ہوتے ہیں اور اس طرح دوہرے شرک میں مبتلا ہیں، چنانچہ قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ: مُنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ وَاتَّقُوْہُ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَلَا تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ o مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَہُمْ وَکَانُوْا شِیَعًاط کُلُّ حِزْبٍمبِمَا لَدَیْہِمْ فَرِحُوْن o (۳۰:۳۱،۳۲) ’’لوگو! اللہ کی طرف رجوع کرو اور اس سے ڈرتے رہو اور نماز قائم کرو اور شرک کرنے والوں سے مت ہو جاؤ، جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور گروہ گروہ ہو گئے اور ہر فرقہ اور گروہ اس پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے۔‘‘ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نماز میں کون سے ارکان ہیں، کسی سے مخفی نہیں
اسلام کی اس مروجہ نماز میں اصولی طور پر جو کچھ ہوتا ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے پوری دنیا کے انسان جو مسلمان کہلاتے ہیں اور جب بھی نماز کا ارادہ کرتے ہیں تو سب سے پہلے اس کے لیے کھڑے ہوتے ہیں اور اس خاص ایک جہت کو منہ کر کے کھڑے ہونے کو جب نماز کی پہلی شرائط وہ پوری کر چکے ہوں یعنی طہارت کی تو کھڑے ہوتے ہیں اور اس کو ’’قیام‘‘ کہا جاتا ہے اور قیام میں جو کچھ ہوتا ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اس کے بعد جھک جاتے ہیں اور جھکنے کو ’’رکوع‘‘ کا نام دیا جاتا ہے اور رکوع کی ادعیہ کے بعد جب کھڑے ہوتے ہیں یعنی ’’قیام‘‘ دوبارہ شروع ہو جاتا ہے اور اس ’’قیام‘‘ کے بعد سجدہ ریز ہو جاتے ہیں اور اس حالت کو ’’سجدہ‘‘ ہی سے موسوم کیا جاتا ہے۔ قرآنِ کریم میں ان مخصوص حالتوں کا ذکر موجود ہے اور نہایت تفصیل کے ساتھ ہے۔ ارکانِ نماز کا ذکر قرآنِ کریم میں فردِ واحد کے ’’قیام‘‘ کا بھی ذکر ہے اور پوری جماعت کے ’’قیام‘‘ کا بھی اور یہی بات دوسرے ارکانِ صلوٰۃ کے لیے متعلق بھی ہے ’’اہل اہواء‘‘ کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے تھا لیکن خواہش انسان کو اندھا کر دیتی ہے اور ظاہر ہے کہ اندھے کو کچھ نظر نہیں آتا ظاہری آنکھوں کے اندھوں کو لوگ دیکھتے ہیں اس لیے وہ تو اپنے اندھے پن کو مان جاتے ہیں لیکن دل کے اندھے چونکہ ظاہری آنکھیں رکھتے ہیں اور ان سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے بھی ہیں لیکن دل اندھے ہونے کے باعث جس طرح دیکھنا چاہئے وہ نہیں دیکھ سکتے اور اس کے باوجود وہ اپنے اندھے پن کو تسلیم بھی نہیں کرتے چنانچہ قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ: اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَکُوْنَ لَہُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِہَآ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِہَاج فَاِنَّہَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ o (۲۲:۴۶) ’’کیا یہ لوگ زمین (ملکوں) میں چلے پھرے نہیں کہ عبرت حاصل کرتے؟ ان کے پاس دل ہوتے تو سمجھتے بوجھتے، کان ہوتے تو سنتے اور پاتے، حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی اندھے پن میں پڑتا ہے تو آنکھیں اندھی نہیں ہو جایا کرتیں بلکہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں کے اندر پوشیدہ ہیں۔‘‘ فرد واحد کی نماز کی طرف اشارات بات ہو رہی تھی ارکانِ نماز کی کہ قرآنِ کریم میں ان ارکان کے وہ اشارات نہایت واضح صورت میں موجود ہیں جیسے باقی تمام چیزوں کے اصول و ارکان قرآنِ کریم میں موجود ہیں جیسے کھانا، پینا، اوڑھنا، بچھونا، سونا، جاگنا، چلنا پھرنا اور آنا جانا اور زندگی کے تمام دوسرے معمولات اور اُن کے حسن و قبائح اور احکامات و منیہات چنانچہ انفرادی ’’قیام‘‘ کا ذکر اس طرح ہے کہ: وَّاَنَّہٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰہِ یَدْعُوْہُ کَادُوْا یَکُوْنُوْنَ عَلَیْہِ لِبَدًاo قُلْ اِنَّمَآ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَلَآ اُشْرِکُ بِہٖٓ اَحَدًا o (۷۲:۱۹،۲۰) ’’اور جب اللہ کا بندہ اُسے یعنی اللہ کو پکارنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو لوگ اُس پر ٹوت پڑنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ (اے پیغمبر اسلام!) آپ کہہ دیجئے کہ میں تو اپنے پروردگار کی عبادت کرتا ہوں اور کسی کو اس کا شریک نہیں بناتا۔‘‘ جماعت سے مل کر نماز ادا کرنے کے آداب و احکام اجتماعی طور پر یعنی جماعت سے صلوٰۃ کے ادا کرنے کا ذکر جمع کے صیغہ سے بھی فرمایا گیا مثلاً ارشاد ہے کہ: اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ (۵:۶) ’’جب تم سب نماز کے لیے کھڑے ہونا چاہو‘‘ تو وضو کر لیا کرو اور پھر وضو کے ارکان کا ذکر بھی فرمایا کہ وہ کیا کیا ہیں؟ معروف وضو سے پہلے اگر فرض غسل کی ضرورت ہو تو اُس کو بھی مکمل کرنے کی ہدایت فرما دی اور قبلہ کی سمت کا ذکر اور لباس کا بیان بھی واضح الفاظ میں کر دیا جیسا کہ پیچھے بھی اس کا ذکر کر دیا گیا ہے۔ قیام کے بعد اسلام کی مروجہ صلوٰۃ میں ’’رکوع‘‘ کیا جاتا ہے اور اس کا ذکر بھی قرآنِ کریم میں موجود ہے آنکھوں والے دیکھتے ہیں اور جن کے دن اندھے نہیں وہ اس کو اچھی سمجھتے بھی ہیں جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ: وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَارْکَعُوْا مَعَ الرَّاکِعِیْنَ o (۲:۴۳) ’’نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور جب اللہ کے حضور جھکنے والے جھکیں تو ان کے ساتھ تم بھی سر نیاز جھکا دو۔‘‘ آیت میں صلوٰۃ، زکوٰۃ اور رکوع کا ذکر ہے اس لیے ’’اہل اہوا‘‘ نے اس رکوع کو صلوٰۃ کا رکن تسلیم کرنے کی بجائے کوئی اور چیز سمجھ لیا اور جھکنے سے مراد وہ ’’متعارف رکوع‘‘ کے علاوہ اپنی خواہش کا رکوع مراد لے لیا، اس طرح ارجاف سے کام لیتے ہوئے لوگوں کو اصل نماز کی پٹری سے اتارنے کی ناکام کوشش کی اور اس بات کا خیال نہ کیا کہ جہاں رکوع کے ساتھ معاً سجدہ کا ذکر ہے وہاں کیا مراد ہے چنانچہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے کہ: مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِط وَالَّذِیْنَ مَعَہٓٗ اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَہُمْ تَرٰہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًاقف یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوْہِہِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِط ذٰلِکَ مَثَلُہُمْ فِی التَّوْرٰۃِ وَمَثَلُہُمْ فِی الْاِنْجِیْلِقف (۴۸:۲۹) ’’محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپؐ کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے مقابلہ میں بہت سخت ہیں آپس میں بہت رحم دل ہیں تُو دیکھے گا کہ وہ کبھی رکوع میں ہوتے ہیں اور کبھی سجدہ میں وہ اللہ سے اس کے فضل اور رضامندی کے طلب گار ہیں ان کی یہ علامت ان کے چہروں پر نمایاں ہے جو سجدہ کا اثر ہے۔ ان کی اس تعریف کی مثال تورات میں موجود ہے اور انجیل میں بھی۔‘‘ ارکان نماز میں قیام کے بعد رکوع اور سجود کا ذکر علاوہ ازیں بھی قرآنِ کریم میں اسلام کی اس مروجہ نماز کے رکوع کا ذکر موجود ہے اور جیسا کہ رکوع کے بعد سجدہ کا ذکر اوپر کی آیت میں یکساں ایک جگہ ایک ساتھ موجود ہے دوسرے مقامات پر بھی ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ: وَمِنْ اٰیٰتِہِ الَّیْلُ وَالنَّہَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُط لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَہُنَّ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ o (۴۱:۳۷) ’’اور اس کی نشانیوں میں سے رات، دن، چاند اور سورج ہیں پس تم نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو بلکہ اللہ کو سجدہ کرو اور خاص اُس کی عبادت کرو جس نے ان کو پیدا کیا ہے اگر تم واقعی اللہ کے عبادت گذار ہو۔‘‘ واضح ہو گیا کہ ’’سجدہ‘‘ عبادت کا ایک اہم رکن ہے لہٰذا سجدہ صرف اور صرف اللہ رب کریم کی ذات کے لیے خاص ہے اور سجدہ کیا ہے؟ اللہ رب کریم کے سامنے زمین پر پیشانی کا رکھ دینا اور اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کا اقرار کرنا اور معافی طلب کرنا۔ سجدہ بھی عربی زبان کا لفظ ہے جس کے ایک سے زیادہ معنی ہیں ’’سجدہ‘‘ بھی چونکہ عربی زبان کا لفظ ہے اور جس طرح عربی میں ایک لفظ کے بہت سے معانی کیے جاتے ہیں ’’سجدہ‘‘ کے بھی کیے جاتے ہیں اور ان ہی معنوں میں ایک معنی اس ’’متعاف سجدہ‘‘ کے بھی ہیں جو عملاً نماز کے اندر رہ کر کیا جاتا ہے اور صلوٰۃ یعنی نماز کا ایک اہم رکن ہے جو متعارف ہے کیونکہ تمام اقوامِ عالم میں ادا کیا جاتا آیا ہے اور مسلمانوں میں بھی اس کو متعارف نماز کا اہم رکن سمجھا جاتا ہے جس میں کسی کو بھی کسی طرح کا کوئی اختلاف نہیں۔ ’’اہل اہواء‘‘ اپنی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں ’’اہل اہواء‘‘ چونکہ اس متعارف نماز کی ہیئت سے انکاری ہیں لہٰذا نماز کے ارکان کو وہ کیونکر تسلیم کریں گے لیکن خیال رکھنا چاہئے کہ اگر اس طرف مطلب و مفہوم بگاڑا گیا تو کوئی شخص بھی ’’ام‘‘ سے ماں ، ’’ولد‘‘ سے اولاد اور ’’والد‘‘ سے باپ اور ’’انسان‘‘ سے شخص یعنی انسان ثابت نہیں کر سکے گا اور ’’اہل اہواء‘‘ کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اس طرح وہ ان تمام رشتوں اور انسانیت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور ان کو تسلیم کرنا پڑے گا وہ ان تمام رشتہ داریوں کے علاوہ نہ معلوم کس جنس سے تعلق رکھنے والے ہیں جو انسانوں میں محض شکل و صورت کے لحاظ سے مل گئے ہیں جو ان کی ظاہری طور پر دیکھی جاتی ہے اور یہ لا یعنی مخلوق نسل آدم سے تعلق نہیں رکھتی، کیوں؟ اس لیے کہ یہ ’’عرفِ عام‘‘ کو تسلیم نہیں کرتے اور دلائل کے طور پر اپنی شخصیت کو ثابت نہیں کر سکتے اور یقیناًنہیں کر سکتے۔ معروف نماز کے ادا کرنے کا طریقہ قرآنِ کریم میں اب رہا ’’متعاف صلوٰۃ‘‘ کے ادا کرنے کا طریقہ تو اُس کے متعلق بھی قرآنِ کریم خاموش نہیں بلکہ جس طرح کے اصول قرآنِ کریم دوسری باتوں کے لیے پیش کرتا ہے صلوٰۃ ادا کرنے کے متعلق بھی وہ ہدایت دیتا ہے اور رہنمائی کرتا ہے جیسا کہ ارشاد ہے کہ: قُلْ اٰمِنُوْا بِہٖٓ اَوْلاَ تُؤْمِنُوْاط اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِہٖٓ اِذَا یُتْلٰی عَلَیْہِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا o وَّیَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلاً o وَیَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْکُوْنَ وَیَزِیْدُہُمْ خُشُوْعًا o قُلِ ادْعُوا اللّٰہَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَط اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَہُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰیط وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا وَابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلاً o (۱۷:۱۰۷ تا ۱۱۰) ’’ان لوگوں سے کہہ دو تم قرآن کو مانو یا نہ مانو لیکن جن لوگوں کو پچھلی کتابوں کا علم دیا گیا ہے انہیں جب یہ کلام سنایا جاتا ہے تو وہ بے اختیار ٹھوڑیوں کے بل سجدہ ریز ہو جاتے ہیں اور پکار اُٹھتے ہیں کہ ہمارے پروردگار کے لیے پاکیزگی ہو، بلاشبہ ہمارے پروردگار کا وعدہ اس لیے تھا کہ پورا ہو کر رہے۔ وہ ٹھوڑیوں کے بل گر پڑتے ہیں اور ان کی آنکھیں آشکبار ہو جاتی ہیں اور کلام حق کی سماعت ان کی عاجزی اور زیادہ کر دیتی ہے۔ (اے پیغمبر اسلام!) کہہ دیجئے تم اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر پکارو، جس نام سے پکارو اس کے سارے نام حسن و خوبی کے نام ہیں اور تو جب نماز میں مشغول ہو تو نہ تو چلا چلا کر (زور سے) پڑھو نہ بالکل چپکے چپکے چاہیے کہ درمیان کی راہ اختیار کی جائے۔‘‘ اِس کا مفہوم یہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ تو نماز ادا کرنے کے لیے علیحدہ ہونے اور چھپنے کا ارادہ بھی مت کر کہ کوئی دیکھ نہ لے اور ایسا خیال بھی نہ کر کہ مجھے نماز ادا کرتے ہوئے ضرور لوگ دیکھیں اور لوگوں پر میری یہ حالت ظاہر ہو۔ پہلی صورت سے معلوم ہو گا کہ تو لوگوں سے خوف کھاتا اور ڈرتا ہے اور دوسری صورت سے ریاکاری ظاہر ہوتی ہے۔ اس لیے دونوں باتوں کا خیال رکھنا اور ان سے بچنا ضروری ہوا۔ صاحب علم وہی ہو سکتے ہیں جو علم و فکر کی بات کریں مذکورہ آیت سے واضح ہو گیا کہ صاحب علم جو پہلی کتابوں کا علم بھی دیئے گئے ہیں ان کے سامنے جب قرآنِ کریم کی تلاوت ہوتی ہے اور وہ اس تلاوت کو سنتے ہیں تو بے اختیار ہو کر سجدہ میں گر جاتے ہیں اور ان کی پکار اپنے رب کی تحمید و تعریف اور پاکیزگی بیان کرنے کے سوا کچھ نہیں ہوتی اور ان کے دل اس بات کا یقین کر لیتے ہیں کہ یہ وہی کلام ہے جس کا وعدہ گزشتہ کتابوں میں یعنی تورات اور انجیل وغیرہ میں دیا گیا ہے اور جب کلام وہ ہے تو ظاہر ہے کہ جس پر یہ کلام نازل ہوا ہے وہ بھی گزشتہ کتابوں کی تعلیم کے مطابق وہی آخری نبی و رسول ہے، ان کی اس تصدیق کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ کبھی سجدوں میں گرتے ہیں اور کبھی اتنے بے اختیار ہو جاتے ہیں کہ آخرت کے خوف سے اُن کی آہیں نکلتی ہیں وُہ صرف ڈبڈبا ہی نہیں جاتے بلکہ اُن کی آہیں چیخوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں اور ان کا ڈر اور خوف دوبالا ہو جاتا ہے اور ان کی آنکھیں صرف نم نہیں ہوتیں بلکہ چھم چھم برسنے لگتی ہیں۔ اعتراض کرنے والوں کی اصل حقیقت اور وہم پھر آپؐ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ ان لوگوں کو جو ’’اللہ‘‘ کے متعارف نام کے سوا کسی اور نام سے تعارف نہیں رکھتے اور طرح طرح کے اعتراض شروع کر دیتے ہیں کہ ’’اللہ‘‘ کا صرف ایک ہی نام یعنی ’’اللہ‘‘ نہیں بلکہ علاوہ ازیں بھی وہ بہت سے دوسرے صفاتی ناموں سے پکارا اور جانا جاتا ہے جس نام سے بھی آپ ’’اللہ‘‘ کو پکاریں گے وہ تمام صفاتی ناموں سے بھی پکارے جانے کے لائق ہے اُس کے تمام نام ہی اچھے ہیں جو بے سمجھ ، اس طرح کے اعتراض کرے آپ ان کی باتوں پر دھیان نہ دیں۔ رہا تیری صلوٰۃ ادا کرنے کا معاملہ تو اس سلسلہ میں یہ ہدایت یاد رکھیں کہ اس کا کچھ حصہ جہر کر لیں اور کچھ خفی تاکہ آپ درمیانی راہ پر گامزن نظر آئیں اس لیے کہ جس کے سامنے آپ حاضر ہیں وہ جہر اور خفی دونوں طریقوں سے یکساں ایک جیسا واقف ہے البتہ جہر سے تیرے ساتھ مل کر نماز ادا کرنے والے بھی آپ کی طرف متوجہ رہیں گے اور ان کی توجہ کبھی اس کتاب اللہ پر ہو گی جس کی آپ تلاوت کرتے ہیں اور کبھی اپنی ادعیہ اور اپنی طلب پر جس کو وہ اپنے رب اپنے اللہ، اپنے رحمن سے طلب کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ ساری ستائشیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو نہ تو اولاد رکھتا ہے اور نہ اس کی فرمانروائی میں کوئی شریک ہے اور نہ کوئی ایسا ہے کہ اس کی درماندگی کی وجہ سے اس کا مددگار ہو، اس کی بڑائی اور بزرگی کی پکار بلند کرنی چاہیے کیونکہ وہ ہی اس بڑائی کا بلا شریک غیرے مستحق ہے۔ قرآنِ کریم لفظوں کی طرف نہیں بلکہ معنوں کی طرف اشارہ دیتا ہے مروجہ صلوٰۃ یعنی نماز کے ادا کرنے کا طریقہ روزِ روشن کی طرح واضح ہو گیا اور دنیا میں جو اختلاف رونما ہوتے ہیں ان کا بھی ساتھ ساتھ قلع قمع کر دیا گیا بشرطیکہ کوئی سمجھنے کے لیے تیار ہو۔ افسوس کہ قرآنِ کریم جس طرح کے اشارات دیتا ہے لوگوں کی نظر اُس طرف نہیں جاتی بلکہ ایسی بحث و تمحیص کی طرف جاتی ہے جس کو بے لذت گناہ ہی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ دنیا میں انسان کے اکثر اختلافات محض لفظ ، صورت کے اختلافات ہیں۔ وہ معنی پر نہیں لڑتا بلکہ اکثر لفظ پر لڑتا ہے۔ بسا اوقات ایک ہی حقیقت سب کے سامنے ہوتی ہے لیکن چونکہ نام مختلف ہوتے ہیں، صورتیں مختلف ہوتی ہیں، اسلوب اور ڈھنگ مختلف ہوتے ہیں، اس لیے ہر انسان دوسرے انسان سے لڑنے لگتا ہے اور نہیں سمجھتا کہ یہ ساری لڑائی محض لفظ کی لڑائی ہے، معنی کی لڑائی نہیں ہے مولانا رومی نے چار دوستوں کی نزاع کا قصہ سنایا ہے جن میں ہر شخص انگور کا خواہش مند تھا، لیکن چونکہ ایک آدمی ’’عنب‘‘ کہتا تھا دوسرا ’’تاک‘‘ تیسرا ’’انگور‘‘ اور چوتھا (Grape) اور اس لیے تلواریں نیام سے نکل آئی تھیں۔ اگرانسان صرف اتنی بات پا لے تو نوع انسانی کے دو تہائی اختلافات جنہوں نے دائمی نزاعوں اور جنگوں کی صورت اختیار کر لی ہے، ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں، کاشکہ ایسا ہو۔ اوپر مثال سے بہت کچھ سمجھا جا سکتا ہے اگر کوئی سمجھنا چاہے اس آیت اور اس جیسی بہت سی دوسری آیات میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مشرکین عرب ’’اللہ‘‘ کے لفظ سے آشنا تھے۔ کیونکہ یہ لفظ پروردگارِ عالم کے لیے بطور اسم ذات کے قدیم سے مستعمل رہا ہے لیکن وہ دوسرے ناموں سے آشنا نہ تھے جن کا قرآنِ کریم نے اس کی صفتوں کے لیے اعلان کیا ہے مثلاً ’’الرحمن‘‘ کا لفظ بولا جاتا تھا، لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ اسے ’’اللہ‘‘ کے لیے بولنا چاہیے پس جب ایسے اسماء وہ سنتے تو متعجب ہوتے اور طرح طرح کے اعتراض کرتے۔ قرآنِ کریم کہتا ہے تم اُسے ’’اللہ‘‘ کہہ کر پکار دیا ’’الرحمن‘‘ کہہ کر پکارو جس نام سے بھی پکارو، پکار اُس کے لیے ہے اور ناموں کے تعدد سے حقیقت متعدد نہیں ہو جاتی۔ اُس کا نام ایک ہی نہیں، اُس کے بہت سے نام ہیں لیکن جتنے نام ہیں، حسن و خوبی کے نام ہیں کیونکہ وہ سرتاسر حسن و کمال اور کبریائی و جلال ہے۔ تم ان ناموں میں سے کوئی نام بھی لو، تمہارا مقصود و مطلوب وہی ہونا چاہیے۔ عبادتنا شتیّٰ و حسنک واحد وکل الٰی ذاک الجمال یشیر یہ بات تسلیم ہے کہ ’’صلوٰۃ‘‘ ذکر ہے، ’’صلوٰۃ‘‘ دُعا ہے اور علاوہ ازیں بھی بہت کچھ ہے لیکن اس کے باوجود یہ بات بھی تسلیم ہے کہ ’’صلوٰۃ‘‘ ایک مخصوص طریقہ عبادت ہے جس کو اردو زبان میں نماز کے لفظ سے یاد کیا جاتا ہے جس میں قیام ہے رکوع ہے اور سجدہ جیسے وہ ارکان ہیں جو ایک خاص اور متعارف ہیئت کے ساتھ ادا کیے جاتے ہیں۔ جن کی وضاحت ہم نبی اعظم و آخر ﷺ کے دورِ اقدس سے لے کر آج تک بدستور پشت در پشت سنتے اور دیکھتے چلے آ رہے ہیں جس طرح زندگی کے دوسرے شعبوں کے متعلق بہت سی باتیں سنتے اور دیکھتے چلے آ رہے ہیں اور ان میں سے کسی سے بھی انکار نہیں کرتے اور نہ کر سکتے ہیں۔ قارئین سے التماس کہ وہ بات کو سمجھیں قارئین محسوس نہ کریں کہ ہم اس جگہ کسی مقام پر ’’حدیث‘‘ یا ’’روایت‘‘ سے کوئی ثبوت یا ذکر نہیں کر رہے کیونکہ ’’اہل اہواء‘‘ ان ناموں سے الرجک ( Alergic) ہیں اور ان کا نام سننا بھی وہ گوارا نہیں کرتے لہٰذا ہم ان کو یہ نام پیش کر کے جزبز نہیں کرنا چاہتے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ جب وہ قرآن، قرآن کا نام لیتے ہیں تو اُن کے سامنے صرف قرآن ہی کے نام سے پیش کریں جو کچھ پیش کریں تاکہ تمام قارئین پر واضح ہو جائے کہ وہ قرآن کا جو نام لیتے ہیں محض مسلمانوں کو فریب دینے کے لیے لیتے ہیں ان کے دل میں قرآن کی پیروی کرنا مقصود نہیں بلکہ خواہش نفس کو پورا کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ان کو ’’اہل اہواء‘‘‘ کے نام سے موسوم کر رہے ہیں اور مدت سے کرتے آ رہے ہیں، معلوم نہیں ہمارے دوستوں اور بزرگوں نے ان کو ’’اہل قرآن‘‘ کا نام کیوں دیا ہے؟ قرآنِ کریم نے اس صلوٰۃ کا ذکر کیا ہے جو متعارف ہے اگر قرآنِ کریم کو وہ فی الحقیقت تسلیم کرتے تو مسلمانوں کی اس موقت اور مروجہ صلوٰۃ سے انکار نہ کرتے بلکہ وہ خود اس ’’صلوٰۃ‘‘ کو قرآنِ کریم کے حکم کے مطابق ادا کر کے وہ نتائج لوگوں کے سامنے پیش کرتے جو نتائج اس صلوٰۃ کو صحیح طریقہ کے ساتھ ادا کرنے کا اشارہ قرآنِ کریم نے دیا ہے تاکہ دوسرے لوگوں کو معلوم ہوتا کہ ہماری ’’صلوٰۃ‘‘ میں کیا کیا کوتاہیاں ہیں جس کے باعث ہماری ’’صلوٰۃ‘‘ وہ نتیجہ پیش نہیں کر رہی جو اُس کو پیش کرنا چاہیے۔ اگر اس طرح کی کوئی کوشش کرتے اور لوگ دیکھتے کہ واقعی ’’صلوٰۃ‘‘ کو اس طرح نہیں ادا کرنا چاہیے بلکہ اس طرح ادا کرنا چاہیے جیسے ’’اہل قرآن‘‘ کہہ رہے ہیں تو ان کو ’’اہل اہواء‘‘ نہ کہا جاتا۔ صلوٰۃ کی حقیقی روح پہلے ہی ختم ہو چکی ہے کیا ’’صلوٰۃ‘‘ صرف باتیں کرنے اور آزادی کے ساتھ قرآنِ کریم کی بتائی اور سمجھائی ہوئی ’’صلوٰۃ‘‘ کو غلط کہہ دینے کا نام ہے؟ کیا ’’صلوٰۃ‘‘ عملی چیز نہیں؟ اگر عملی چیز ہے تو اس کی تصدیق یا تردید عملاً چاہئے تھی تاکہ اس عمل کو دیکھ کر سب حقیقت کو سمجھ جاتے۔ اس وقت مسلمانوں نے صرف ’’صلوٰۃ‘‘ کے ظاہری طریقہ یعنی اس کی ہیئت اور نام کو باقی رکھا ہوا ہے اور بوہیو صاحب اور ان کے اہل زبان نے ارادہ کیا ہے کہ اس کو بھی ختم کر دیا جائے تاکہ کسی وقت دوبارہ اس کی حقیقت کو زندہ نہ کر دیا جائے۔ کیونکہ اس کارگاہِ ہستی میں ایسا ہوتا آیا ہے کہ کبھی کوئی قوم اپنی بیماری کے باعث اُٹھ کر کھڑی ہونے کے قابل نہیں رہتی لیکن پھر اللہ تعالیٰ اس کو صحت مند کر دیتا ہے اور وہ اُٹھ کھڑی ہوتی ہے مسلمان قوم اس وقت عملاً یقیناًبیمار ہے اور ایسی بیمار ہے کہ شاید ایسی بیماری اس کو پہلے کبھی لاحق نہیں ہوئی ہو گی اس لیے بعض لوگوں نے یہ تہیہ کر لیا ہے کہ کوئی ایسی صورت پیدا ہو جائے کہ اس کے دوبارہ صحت مند ہونے کا خدشہ مکمل طور پر ختم ہو جائے۔ مروجہ موقت صلوٰۃ اسلام کی معاشرتی زندگی کا حسن ہے جب مسجدوں میں ’’صلوٰۃ‘‘ صحیح معنوں میں ادا ہوتی تھی تو لاریب قومِ مسلم زندہ تھی اور اس زندگی کو سب تسلیم کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ خود نبی اعظم و آخر کے دور کے منافقین نے تجویز کیا کہ ’’مسجد قبا‘‘ کے مقابلہ میں ایک نئی مسجد تعمیر کی جائے چنانچہ انہوں نے یہ کام ’’مسجد‘‘ ہی کے نام سے کر دکھایا اور قرآنِ کریم نے بھی اس کو ’’مسجد‘‘ ہی کے نام سے ذکر کیا چاہے اُس کا ’’مسجد ضرار‘‘ نام رکھا۔ کیونکہ وہ سچے اہل ایمان کو نقصان پہنچانے کے لیے تعمیر کی گئی تھی اور انجام کار اس کو اللہ رب کریم کے حکم سے منہدم کر دیا گیا جیسا کہ اس کا ذکر پیچھے اس مضمون میں بھی گزر چکا ہے۔ صلوٰۃ اگر اسلام کی معاشرتی زندگی کا حسن نہ ہوتا تو منافقین مدینہ کبھی نئی مسجد کا نہ سوچتے اور اگر اس صلوٰۃ کا اصل تعلق ’’مسجد‘‘ سے نہ ہوتا تو وہ ’’مسجد‘‘ کے نام سے اتنی بڑی عمارت کیوں بناتے؟ حالاتِ زمانہ کا تغیر و تبدل ایک فطری عمل ہے جس طرح زمانہ اپنے رنگ بدلتا رہتا ہے اور رنگ بدلنے سے مراد حالات کی تبدیلی ہوتی ہے لہٰذا حالات کے ساتھ ساتھ لوگوں کا طریق کار بھی بدل جاتا ہے آپؐ کے دورِ اقدس میں صلوٰۃ وقت ظاہری علامت تھی اسلام کی، کوئی مسلمان تب ہی مسلمان تصور ہوتا تھا جب وہ صلوٰۃ جیسی عبادت میں مسلمانوں کے ساتھ شریک ہو جاتا تھا لہٰذا اُس وقت کے منافقین کو بھی اسلام کی اس ظاہری علامت میں شریک ہونا پڑتا تھا چاہے ان کا دِل اس کو عبادت تسلیم کرتا تھا یا نہیں کرتا تھا لہٰذا وہ مسلمانوں کے ساتھ مسجدوں میں حاضری دیتے تھے۔ اس وقت زمانہ کے حالات بدل چکے ہیں اور ’’نماز‘‘ باقاعدہ ادا نہیں کی جاتی صرف اس کا نام لیا جاتا ہے اندریں وجہ اس سے انکار کر دینا اور اس کے نام کو بگاڑنا اس کی ہیئت پر اعتراض اُٹھانا آسان ہو گیا ہے اور یہ لوگ اس طرح کی حرکتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں خصوصاً برصغیر کے ان ملکوں میں جہاں ہم رہ رہے ہیں کیونکہ ان ملکوں میں نظامِ مساجد کسی بھی حکومت کے زیر اثر نہیں رہا اور نماز دین کا جزو نہیں بلکہ ایک رسم کے طور پر ادا کی جاتی ہے اور ’’مسجدیں‘‘ صرف نماز ادا کرنے کے لیے نہیں بلکہ ان رسوم کی ادائیگی کے لیے متصور ہوتی ہیں جن رسوم کو اسلام کی رسمیں تصور کر لیا گیا ہے چاہے اُن رسوم کا تعلق اسلام سے نہیں۔ چونکہ مسجدوں کا انتظام لوگوں کے ہاتھ میں ہے حکومت ان سے بے نیاز ہو چکی ہے اور جو لوگ مساجد کا نظام چلا رہے ہیں اُن کی آمدنی کا کوئی معقول انتظام نہیں اس لیے انہوں نے ان رسومات کو مساجد کے ساتھ جوڑ دیا ہے تاکہ ان کی معیشت کا انتظام چلتا رہے، گویا مساجد اللہ کی عبادت کے لیے نہیں بلکہ ان کا انتظام چلانے والوں کی معیشت کو بحال رکھنے کا کام دیتی ہیں اور یہ ایک طرح کا کاروبار بن کر رہ گئی ہیں پھر ظاہر ہے کہ جو انسان بھی کوئی کاروبار کرتا ہے اس میں اضافہ کے متعلق سوچتا ہے اس کو بند کر دینے کی سوچ وہ کیسے سوچ سکتا ہے؟ ان حالات کے پیش نظر منکرین صلوٰۃ یعنی ’’اہل اہواء‘‘ نے یہ کچھ کہنا اور کرنا شروع کر دیا ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں گویا زمانہ کے حالات کے ساتھ انہوں نے بھی اپنا طریقہ کار بدل دیا ہے۔ لاریب کفر بری چیز ہے لیکن اتنی بری نہیں جتنی منافقت قرآنِ کریم نے ’’کفر‘‘ کی طرح ’’نفاق‘‘ کا بھی جا بجا ذکر کیا ہے اور منافقوں کے اعمال و خصائل کی زیادہ تفصیل سورہ التوبہ میں ملتی ہے اگر تفصیل دیکھنا چاہیں تو ہماری تفسیر القرآن ’’عروۃ الوثقیٰ‘‘ سے سورہ التوبہ کی تفسیر کو ملاحظہ کریں اور علاوہ ازیں سورہ آل عمران، النساء، الانفال، الاحزاب، محمد، فتح، الحدید، المجادلہ اور الحشر کا مطالعہ بھی مفید ہو گا نیز اس سلسلہ میں ہمارا کتابچہ ’’نفاق کیا ہے؟‘‘ بھی ان شاء اللہ عنقریب طبع ہو گا۔ اس وقت صرف اتنی بات ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ منافقوں کی جماعت کس طرح کی جماعت ہوتی تھی اور ہوتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں فکر و عمل کا کوئی گوشہ ہو تین طرح کے لوگ ضرور ہوتے ہیں۔ تمام انسانوں کو تین گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے یا کیا جا سکتا ہے؟ مستعد اور صالح لوگ جو ہر اچھی بات کو پہچان لیتے ہیں اور قبول کر لیتے ہیں اور پھر سرگرم عمل ہو جاتے ہیں۔ مفسد لوگ جن کو ہر اچھی بات سے انکار ہوتا ہے کوئی سیدھی بات ان کے اندر نہیں اترتی۔ درمیانی گروہ کے لوگ جو ہر بات کو سن لینے اور مان لینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں لیکن فی الحقیقت ان کے اندر تیاری نہیں ہوتی وہ قدم اُٹھاتے ہیں لیکن چلنا نہیں چاہتے اور اگر چلتے بھی ہیں تو وہ قدم اُٹھاتے ہی لڑکھڑا جاتے ہیں کیونکہ ان میں پہلے گروہ جیسی مستعدی نہیں ہوتی اور نہ دوسرے گروہ کے لوگوں جیسی بے باکی اور جرأت ہوتی ہے بلکہ وہ دوغلی پالیسی اختیار کرتے ہیں جن کے متعلق قرآن کریم نے اس طرح اشارہ دیا ہے کہ: مُذَبْذَبِیَِْن بَیْنَ ذٰلِکَ لَا اِلٰی ھٰٓؤُلَآءِ وَلَا اِلٰی ھٰٓؤُلَآءِ (۴:۱۴۳) ’’یہ وہ لوگ ہیں جو کفر اور ایمان کے درمیان متردد کھڑے ہیں کہ اِدھر رہیں یا اُدھر نہ تو اِن کی طرف ہیں اور نہ اُن کی طرف۔‘‘ ان کے متعلق قرآنِ کریم کا فیصلہ نہایت صاف اور واضح ہے ’’اہل اہواء‘‘ تسلیم کریں یا نہ کریں، حق اس بات کا محتاج نہیں کہ کون اُس کو قبول کرتا ہے اور کون رد کر دیتا ہے، قرآنِ کریم اپنے فیصلہ کا اعلان اس طرح کرتا ہے کہ: اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِج وَلَنْ تَجِدَ لَہُمْ نَصِیْرًاo (۴:۱۴۵) ’’بلاشبہ منافقوں کے لیے یہی ہونا ہے کہ دوزخ کے سب سے نچلے درجہ میں ڈالے جائیں اور کوئی نہیں جو ان کا رفیق و مددگار ہو۔‘‘ انسانوں کے ان تینوں گروہوں کا مختصر تجزیہ قرآنِ کریم کہتا ہے کہ جزم و عزم اور یقین و ایمان پہلے گروہ کا خاصا ہے۔ انکار و جحود دوسرے کا اور شک و تذبذب اور بے عملی و تعطل تیسرے کا آپ سمجھ لیں کہ بعینہٖ یہی حال ایمان و عمل کے دائرے کا بھی ہے یہاں بھی طبیعت انسانی کی یہ تینوں حالتیں ظہور میں آتی ہیں۔ مستعد طبیعتیں قبول کر لیتی ہیں اور چل کھڑی ہوتی ہیں، یہ مومن ہیں، مفسد انکار کرتے اور مخالفت میں سرگرم ہو جاتے ہیں، یہ کافر ہیں، کچھ لوگ قبول کر لیتے ہیں لیکن فی الحقیقت قبولیت کی روح ان کے اندر نہیں ہوتی، یہ منافق ہیں۔ یہود و نصاریٰ کی طرح دین اسلام کے ماننے والوں نے بھی ’’غلو‘‘ سے کام لیا ہے اور ’’غلو‘‘ کی بھی بہت سی اقسام ہیں جن کا ذکر قرآنِ کریم نے بہت تفصیل سے کیا ہے۔ منافقت اور غلو کا چولی دامن کا ساتھ ہے جہاں دیکھو کہ لوگ اللہ کے دین کا نام تو بہت لیتے ہیں لیکن دین کے ہر کام پر دل کھول کر تنقید کرتے ہیں اور ایک ایک چیز پر ایسی بحث پیدا کرتے ہیں کہ لوگ اس سے بدظن ہو کر اس کے قریب نہ جائیں اور جو بدعملی ان میں پھیل چکی ہے اُس کو مزید تقویت حاصل ہو تو ان کے اس طرزِ عمل سے جہاں تک ممکن ہو دور رہیں اور جہاں تک ہو سکے اللہ کے حضور کھڑے ہوں اور اپنے گناہوں کو یاد کر کے اُس سے معافی طلب کریں۔ دوستوں کے لیے انتباہ اوربارگاہِ رب کریم میں آخری مناجات میرے دوستو! اگر فی الحقیقت مسلمان بن کر رہنا چاہتے ہو تو تم میں ایک روح بھی ایسی نہ ہو جس سے آنسوؤں کے چشمے نہ بہ رہے ہوں۔ یاد رکھیں دل کی آہوں اور آنکھوں کے آنسوؤں سے بڑھ کر اللہ رب کریم کی درگاہ میں کوئی شفیع نہیں ہو سکتا۔ پس جس طرح بھی ہو سکے اپنے اللہ کو راضی کرو، کھڑے ہو کر، جھک کر اور سجدہ میں گر کر اپنے اللہ کو منا لو، کیونکہ تم نے اپنی بد اعمالیوں سے اُسے غصہ دلایا ہے اور اُس کے پاک حکموں کی پروا نہیں کی۔ ہاں! ہاں! اس بات کا اقرار کرو اپنے رب کے سامنے اور اس کے سامنے پکار پکار کہو کہ اے رسول امی صلی اللہ علیہ وسلم کے رب! ہم نے تیرے عہد کی پروا نہ کی اور اپنی بدعملیوں سے تیری مقدس زمین کو ملوث اور گھناؤنا کر دیا، لیکن اب ہم اپنی سزاؤں کو پہنچ چکے اور ہم نے بڑے سے بڑا دُکھ اُٹھا لیا، ہم مثل یتیم بچوں کے ہو گئے ہیں جن کے والدین کو ان سے جدا کر دیا گیا ہو، کیونکہ اے اللہ! تو ہم سے راضی نہ رہا اور ہم غم گینی اور رسوائی کے لیے چھوڑ دیئے گئے پر اے حیّ و قیّوم رب! تو ہمارا رب ہے ہم پر رحم فرما، ہمارے قصوروں سے درگزر فرمااور ہم سے منہ نہ موڑ، گو ہماری خطائیں بے شمار ہیں لیکن ہم اے اللہ تیرے ہی نام کے پکارنے والے ہیں اور ہم تیرے دروازے کو چھوڑ کر کہیں جانے والے نہیں ہیں اگر نہ بہر من، از بہر خود عزیزم دار کہ بندۂ خوبی او خوبی خداوند است رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَo اَللّٰھُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ تِوْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ بِیَدِکَ الْخَیْرِ ط اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ o رَبَّنَا اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ oرَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُo اللھم آمین عبدالکریم اثری لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا ( 33:60 ) اگر منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے اور جو مدینے (کے شہر میں) بری بری خبریں اُڑایا کرتے ہیں (اپنے کردار) سے باز نہ آئیں گے تو ہم تم کو ان کے پیچھے لگا دیں گے پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہ رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن Truly, if the Hypocrites, and those in whose hearts is a disease, and those who stir up sedition in the City, desist not, We shall certainly stir thee up against them: Then will they not be able to stay in it as thy neighbours for any length of time: ’’اگر منافق اور جن لوگوں کے دلوں میں مرض موجود ہے اور مدینہ میں جھوٹی افواہیں اُڑانے والے باز نہ آئے تو ضرور ہم تم کو ان کے پیچھے لگا دیں گے پھر وہ آپ کے پاس اس شہر میں تھوڑے ہی دن رہ سکیں گے۔‘‘ 27نومبر 2011ء |
|
|
|
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
باقی شخصیات میں کوئی بھی قادیانی نہیں ہے !!! غلام احمد پرویز طلوع اسلام والے اقبال اور قائد اعظم کے دوست تھے، بلکہ آپ نے تو قادیانیت کے خلاف ایک کتاب بھی لکھی ہے ۔!!! عزیز اللہ بوہیو صاحب :: غیرت ایمانی کے اظہار کا وہ طریقہ جو قرآن حکیم نے سکھایا |
|
|
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | نورالدین (01-12-11) |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
دہلی کے اُس بوڑھے سکالر کے نام اپنی یہ کتاب منسوب کرتا ہوں جس سے میں اس کا نام پوچھنے کی جسارت نہ کر سکا۔ اکتوبر 1997 ء کی با ت ہے جب و نو بھا وے کی تنظیم اچا ریہ کل کے سمینار میں شرکت کے لئے مجھے بھارت کے شہر وار دھا (سیوا گرا م) مد عو کیا گیا تھا۔ وا پسی پر دہلی میں چند دن کا لج پت بھون میں ہند و پاک دو ستی کے تنظیم کے سر براہ ستیہ پال کے کے سا تھ میرا قیا م رہا۔ میری اور حکو مت پا کستان کی دو ستی کچھ چو ہے بلی کی دو ستی رہی ہے اس لئے اند یشہ تھا کہ ہو سکتا ہے لا ہور ایر پورٹ پر اتر تے ہی گر فتار کر لیا جا ئے گا اور میرے اہل خا نہ یہ سمجھیں گے میں ابھی تک ہندو ستان میں ہوں۔ تو سو چا کیوں نہ کسی دوست کو خط کے ذر یعے مطلع کر دوں۔ یہاں بھارت میں دو ہی زبا نیں مرو ج ہیں دیو نا گری اور انگر یزی پتہ لکھنے کے لئے میں ستیہ پال کے آ فس میں کلرک کے پاس گیا کہ اس پر ذرا انگر یزی میں پتہ ٹائپ کر دیں۔ خط تھا پیش امام کے نا م کلر ک نے پو چھا یہ امام کیا ہو تا ہے؟ میں سوچ میں پڑ گیا کہ کیا مقصد ہے اس کا کیا یہ سپیلنگ پو چھنا چا ہتا ہے؟ یا تشریح چاہتا ہے۔ وہیں ایک بو ڑھا شخص بیٹھا تھا اس نے تشر یح کر دی کہ اسلام کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو ان کی کتاب قر آن میں ہے دو سری وہ جو ایران سے در آمد کیا ہوا ہے جس میں امام لقب عام ہے یہ شخص مسجد کے اسی قسم کے امام مسجد کا پتہ آپ سے لکھوا رہا ہے۔ یہ لوگ ایرا نی لقب والے اسلام کے پیرو کا ر ہیں اور صر ف یہی نہیں بر صغیر ہند و پاک کے تمام مسلمان ایرانی اماموں والے اسلام کے پیرو کار ہیں۔ میری نظر میں اماموں کی یہ نئی اور انو کھی تشر یح تھی۔ میں نے سو چا اس شخص کو جوا ب دوں کہ میں اور میرا پیش امام دوست قرآن وا لے مسلم ہیں ، لیکن مجھے خد شہ ہوا کہ کہیں یہ پو چھ نہ بیٹھے کہ میں کس فقہ والی نماز پڑھتا ہوں (جو کہ میں ان دنوں پڑھا کر تا تھا) تو نماز کے معا ملے میں امام کا حوالہ دینا ضروری تھا۔ میں نے اپنا بھر م رکھنے کے لئے چپ رہنے میں عافیت سمجھی ، مگر آج تک یہ سو چتا رہا ہوں کہ امت مسلمہ اماموں والے اسلام میں کس بری طرح اسیر ہے اور قرآن والے اسلام کا کیمپ حد نظر تک خالی پڑا ہے۔ ۔۔۔۔عزیز اﷲ بو ہیو۔۔۔۔ |
|
|
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | نورالدین (01-12-11) |
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() |
مذکورہ دھاگے میں ایک طرف کا موقف بیان کیے بغیر مخالفت کی گئی ہے۔ کیا پہلے فریق کے موقف کے متعلق کوئی مضمون ہے آپ کے پاس ؟
اقتباس:
آپ نے مذکورہ اقتباس میں سوال کا کافی و شافی جواب نہيں دیا ۔ کہ نماز کس طرح روکتی ہے۔ خاص کر میں نے میڈیا کی دنیا میں رہتے ہوئے بے حیائی کا جو منہ زور طوفان دیکھا ہے ا س نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ وہ لوگ ایک طرف تو نماز بھی ( بہ ظاہر پابندی سے ) پڑھتے ہوئے نظر آتے ہيں اوروں کو لیکچر دے کر پارسا بنتے ہیں ۔ اور دوسری طرف مزے مزے لے لے کر اپنی زنا کاری کی کہانیاں بھی بتاتے ہيں گویا کہ جیسے یہ معاشرتی حیوان ہونے کی دلیل ہے ۔ اور جب خلاف توقع اس تضاد کے بارے میں پوچھا جائے تو کہتے ہیں کہ نماز اپنی جگہ موج مستی اپنی جگہ اللہ معاف کرنے والا ہے ۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ لوگ اگر بے حیائی سے رکتے ہيں تو اس میں بڑا ہاتھ سماجی احتساب اور قانونی گرفت کے خوف کا ہوتا ہے۔ سب سے بڑا ہاتھ تو ماحول کا ہوتا ہے۔ والدین کی تربیت ، ماحول کا اثر انسان کو بے حیائي سے دور بھی کر سکتا ہے۔ اور ملوث بھی کر سکتا ہے۔ مگر نماز سے آج تک کسی کو تبدیل ہوتے نہيں دیکھا ۔اور اگر کوئی تبدیل ہوتا بھی ہے تو وقتی طور پر کچھ عرصے بعد پھر پرانی روش پر آجاتا ہے۔ تو یہ کون سی صلوۃ ہے یا یہ کون سی نماز ہے ؟ اس کا مطلب مذکورہ آیت میں جس صلوۃ کا ذکر ہے اس سے مراد سسٹم ہی ہے ۔ جیسا کہ سزا و جزا ، معاشرے کی طرف سے لعن طعن ، فتنہ و فساد کا اندیشہ۔ نیز پرویزي و اہل قرآن وغیرہ کی طرف سے جو صلوۃ کی تشریح و معنی سازي کی جاتی ہے۔ ازراہ کرم وہ بھی بیان کر دیں کہ وہ لوگ کیا معنی لیتے ہیں ۔
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔ |
|
|
|
|
| نورالدین کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (01-12-11) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت شکریہ رانا صاحب۔
آپ نے ماشاءاللہ بہت اچھا ثبوت پیش کر دیا ہے فورم ممبران کے لئے کہ مسلمانوں میںاختلاف حدیثیا روایت کی وجہ سے نہیںہوا۔ بلکہ ضد اور تعصب کی وجہ سے ہوا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ کے پیش کردہ تمام صاحبان، غلام احمد پرویز، چکڑالوی، اسلم جیراجپوری، بوہیو، اثری صاحب وغیرہم، یہ سب تو بے چارے صرف قرآن کو ہی حجت ماننے والے مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ پھر بھی اتنے سنگین اختلافات کہ آج تک قرآن سے یہی طے نہ کر پائے کہ صلوٰۃ کا مطلب نظام کا قیام ہے یا عبادت کی ایک قسم؟ اثری صاحب صرف قرآن ہی کی بنیاد پر صلوٰۃکو عبادت کی ایک قسم قرار دیتے ہیںتو دیگر صاحبان جن کا اس مضمون میںرد کیا گیا ہے، وہ صلوٰۃ کو نماز کہنا بھی غلط سمجھتے ہیںاور اس سے مروجہ طریقہ عبادت مراد لینا بھی غلط سمجھتے ہیں۔ اور ماشاءاللہ ہر ایک دلیل میںقرآن ہی کو پیش کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر بندہ اپنی عقل سے اور وہ بھی مادہ پرستانہ قسم کی عقل سے اور مغربی تہذیب کی فکری اسیری کا شکار ہو کر قرآن کی تشریح کرنے بیٹھے گا تو ہر ایک کی تشریح الگ ہی ہونی ہے۔ استہزائیہ انداز میں"حدیثی اسلام" میں نماز کے متفقہ طریقہ کا ثبوت دینے کو ہم سے مطالبہ کیا جاتا ہے۔ ٹھیک ہے دنیا بھر میںمسلمانوںکے فرقوںمیںضمنی سے اختلافات موجود ہیں۔ ہاتھ باندھنے پر، امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنے پر، رفع الیدین پر، وغیرہ۔ لیکن ان معمولی اختلافات سے قطع نظر، آج تک پانچ نمازوں پر اختلاف نہیںہوا، کبھی ایک رکعت میںرکوع و سجود کی تعداد پر اختلاف نہیں ہوا، خود فرائض و سنن میں رکعتوں کی تعداد پر اختلاف نہیںہوا۔ تشہد، رکوع ، سجود، قیام ، قیام بعد الرکوع، ان کی ترتیب پر آج تک کوئی اختلاف نہیں ہوا۔ اذان، وضو، نماز کے چھوٹے بڑے تمام مسائل گنے جائیںتو سینکڑوںمسائل ہیں، جن میں سے صرف چند مسائل پر اختلاف ہے۔ اور اس پر ہمارے اہل قرآن حضرات یا اثری صاحب کی زبان میںاہل اہواء حضرات ہم پر حدیثی اسلام کے اختلافات کی پھبتیاں کستے رہتے ہیں۔ اور خود ان اہل اہواء و اہل قرآن میں اتنا اختلاف ہے کہ ان کے ایک فرقے کے نزدیک صلوٰۃ کا مطلب ہی بس نظام ربوبیت کا قیام ہے اور دوسرے کے نزدیک صلوٰۃ کا مطلب وہی ہے جو ’حدیثی اسلام‘ بتاتا ہے۔ اور اس کے لئے بھی یہ فرقہ احادیث کا سہارا لینے پر مجبور ہے۔ یا تو حرمین شریفین میں پناہ لیتے ہیں کہ وہاں نماز کا جو طریقہ رائج ہے وہی درست ہے، کیونکہ وہ ہدایت کا مرکز ہے اور سنت متواترہ سے نماز وہاں طریقہ رسول ﷺ کے مطابق پڑھی جاتی ہے۔ اور وہی ائمہ حرمین جب ان منکرین حدیث کے خلاف کفر کے فتاویٰ دیتے ہیں، تو انہیں یہ ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ اسی حرمین شریفین میں احادیث کی حجیت بھی سنت متواترہ سے ثابت ہوتی ہے لیکن اس کا انکار کیا جاتا ہے۔ کیا اس کی یہی وجہ نہیں کہ ان احباب کی عقل میں قرآن کی جو تشریح سماتی ہے، اسے وہ قرآن ہی کا درجہ دے کر عوام الناس پر امپوز کرتے ہیں۔ اور عوام بے چاری پہلے تو اس عالم کی عقل میں سمانے والی تشریح کو قرآن مان لیتی ہے اور پھر اس کے مخالف آنے والی ہر روایت کو خلاف قرآن قرار دے کر رد کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ روایت یا حدیث خلاف قرآن نہیں ہوتی بلکہ اس فہم کے خلاف ہوتی ہے جو اس عالم نے پیش کیا ہوتا ہے۔ فتدبر۔ اور منکرین حدیث میں سے جن گروہوں نے نے صلوٰۃ سے عبادت کی ایک قسم مراد لی ہے، تو ان میں بھی اس قدر سنگین اختلافات ہیں کہ ایک صاحب قرآن ہی سے تین نمازوں کا ثبوت لاتے ہیں، دوسرے صاحب قرآن ہی سے پانچ نمازوں کا ثبوت لے آتے ہیں۔ خود غلام احمد پرویز صاحب (مشہور منکر حدیث اسکالر) کا بیان تفسیر مطالب الفرقان جلد اول صفحہ ۱۳۵، پر موجود ہے، جس میں اہل قرآن کے مختلف فرقوں کا نمازوں کی تعداد میں اختلاف بیان کیا گیا ہے: مولانا چکڑالوی ۱۔ پانچ وقت کی نماز ۲۔ نماز میں دو تین چار رکعتیں ۳۔ ہر رکعت میں صرف دو سجدے لاہوری فرقہ ۱۔ تین وقت کی نماز ۲۔نماز کی صرف دو رکعتیں ۳۔ ہر رکعت میں صرف ایک سجدہ لہٰذا ایک منکر حدیث اسکالر کی گواہی کافی ہے کہ حدیث کو اختلاف کی جڑ کہنے والے، قرآن کو روشن کتاب، اور ہر شے کا واضح مفصل بیان کرنے والی کتاب کے بلند بانگ دعاوی کرنے والے خود کتنے بڑے بڑے اختلافات میں گرفتار ہیں کہ قرآن سے صلوٰۃ کا متفقہ مفہوم بھی بیان نہیں کر سکتے اور اس کا ذکر تک نہیں کرتے۔ فورم پر ہمارے اسکالر فاروق خاں صاحب، بھی اثری صاحب والے گروپ میں شامل ہیں، کہ صلوٰۃ کو مروجہ عبادت کا طریقہ ہی مانتے ہیں، لیکن جب تفصیلات طے کرنے کی باری آتی ہے تو حدیثی اسلام کی پناہ میں چلے جاتے ہیں۔ اور وہ بات بالکل درست ہے کہ منکرین حدیث کے ان سب گروہوں میں صرف ایک چیز پر اتفاق ہے کہ حدیث کا انکار اور خوب استہزاء کیا جائے۔ اور قرآن کی جو تشریح جس کے دماغ میں سمائے اسے قرآن ہی بنا کر پیش کیا جائے اور اگر اس عالم کے قرآنی فہم کا کوئی انکار کر دے تو وہ گویا قرآن ہی کا انکار ٹھہرے۔ لیکن جن بنیادوں پر یہ حدیث کا مذاق اڑاتے ہیں، اس سے کہیں سنگین تر مسائل میں خود گرفتار ہیں۔ جب خود کسی دعویٰ کے ثبوت کی بات آتی ہے جو قرآن سے کھرچ کھرچ کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا، تو پھر روایات کو موافق قرآن کہہ کر قبول کرتے ہیں اور اپنے دعویٰ کے ثبوت میں پیش کر دیتے ہیں، اور جہاں کوئی روایت ان کے قرآنی فہم کے خلاف پڑتی ہے، بجائے اس روایت کی بنیاد پر اپنے فہم قرآن کی تصحیح کرنے کے، اس روایت ہی کو خلاف قرآن کہہ کر رد کر دیتے ہیں۔ ایک صاحب نے بہت ویلڈ قسم کا سوال اٹھایا تھا کہ: آج اگر رسول اللہ ﷺ ہمارے دور میں آ حاضر ہوں، یا ہمارے یہ اہل القرآن و اہل ہواء حضرات رسول اللہ ﷺ کے دور میں موجود ہوتے، اور کسی قرآنی حکم کی تشریح خود رسول اللہ ﷺ سے سن لیتے جو ان کے فہم کے مطابق خلاف قرآن ہوتی، تو کیا یہ حضرات تب بھی رسول اللہ ﷺ کے سامنے یہی فرماتے کہ جناب آپ کی رسالت پر تو ہمارا ایمان ہے، لیکن معذرت کے ساتھ کہ آپ کی یہ تشریح (ہمارے فہم کے مطابق) قرآن کے خلاف پڑتی ہے، لہٰذا قابل قبول نہیں؟؟؟ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم میں سے جو بھی راہ ہدایت پر نہیں، اسے سیدھی سچی راہ دکھا۔ اور جو بھی ضلالت و گمراہی کے اندھیروں میں گھرا ہوا ہے، ہمیں اس کی اصلاح کرنے والا بنا۔ آمین یا رب العالمین۔
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65] |
|
|
|
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جو اپنی نماز (کی روح) سے بے خبر ہیں (یعنی انہیں محض حقوق اﷲ یاد ہیں حقوق العباد بھلا بیٹھے ہیں)o وہ لوگ (عبادت میں) دکھلاوا کرتے ہیں (کیونکہ وہ خالق کی رسمی بندگی بجا لاتے ہیں اور پسی ہوئی مخلوق سے بے پرواہی برت رہے ہیں)o سورۃ الماعون آیات 4 تا 6 ترجمہ جناب طاہر القادری ہوشیار اور خوب ہوشیار ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ایسے لوگوں کا عمل ہمیں نماز سے غافل کر دے اور ہم یہ سمجھ بیٹھیں کہ انہیں نماز نے کچھ نہیں دیا تو صلوٰۃ کا ہر گز مطلب نماز نہیں بلکہ صرف ایک نظام ہی ہے ۔ جو لوگ صرف اللہ کی خوشنودی کے لیئے نماز کو اپنا فرض سمجھ کر پڑھیں اور اس خالص عبادت میں کسی قسم کا دکھاوا نہ ہو تو نماز یقیناً بے حیائی اور برے کاموں سے روک دے گی۔ |
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (01-12-11), skjatala (18-02-12), فیصل ناصر (01-12-11), نورالدین (02-12-11), احمد نذیر (02-12-11), حیدر Rehan (02-12-11), عبداللہ حیدر (02-12-11) |
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
فحاشی کوختم کرنے والی چیز صلوٰۃ ہے اور یہ فارسی نماز .......... اللہ نے قرآن میں معاشرہ کی اصلاح کے لیے اکسیر نسخہ بتایا کہ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ 29.45 یعنی تحقیق صلوٰۃ فحاشی، برائی، بدکاری اور منکرات سے روکتی ہے۔ قرآن نے چونکہ صلوٰۃ کے معنی بتائے ہیں اتباع قانون ونظام قرآن۔ تواس آیت میں قرآن نے مزید وضاحت کے ساتھ سمجھایا کہ صلوٰۃ کس طرح برائیوں کو روکتی ہے ،فرمایا کہ وَلَذِکْرُاللّٰہِ اَکْبَر یعنی اللہ کا قانون اپنی افادیت میں، تاثیر میں ،نتیجہ اور ثمرات دکھانے میں نہایت کامیاب اور بلند ہے۔ اس لیے جوحکام، ایڈمنسٹریشن صلوٰۃ کی ڈیوٹیوں پر مستعد ہوگی تووہاں کسی کو بھی بدکاری کے ارتکاب کا حوصلہ ہی نہیں ہوسکے گا ۔مرے ماں کسی بدمعاش کی جو وہ بدمعاشی کا تصور بھی کرسکے۔ میں معذرت کے ساتھ نام لیے بغیر مثال عرض کرتا ہوں کہ ایک مدرسہ میں ناظم مدرسہ طالب علموں کو اصلاح اخلاق اور تعلیم میں انہماک کا لیکچر دے رہے تھے۔ اسی دوران فرمایا کہ مسجد میں نمازیوں کا رش بڑھ گیا ہے اس لیے تم طالب علم ان نمازیوں سے ہوشیار رہو۔ میں نے ناظم صاحب سے سوال کیا کہ آپ کی یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔ نماز پڑھنے والے زیادہ آگئے ہیں اس لیے ہمیں ان سے ہوشیار رہنا ہے یہ کیونکر اور کس طرح؟ جواب میں ناظم صاحب نے فرمایاکہ میں اس بستی والوں کو خوب جانتا ہوں۔ ان کو نماز سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ یہ لوگ تب کثرت سے نماز پڑھنے آتے ہیں جب مدرسہ میں کچھ خوبرو لڑکے پڑھنے آجاتے ہیں۔ یہ تو بہت چھوٹی مثال ہے لیکن بین الاقوامی اور عالمگیر مثال اس نماز کے ذریعہ فحاشی کو روکنے میں ناکامی کی عرض کرتا ہوں۔ وہ یہ کہ اس فارس والی نماز میں جماعت کے ساتھ رات دن میں پانچ بار گھر اور دکان چھوڑ کر جو شریک ہوتا ہے، اس کے لیے حدیث بنانے والوں نے خود ایسی باتیں لکھی ہیں کہ شروع اسلام میں مردوں کی طرح عورتیں بھی نماز کے اجتماعات میں شریک ہوا کرتی تھیں لیکن انہی ایام میں یعنی خود رسول کے زمانے میں ہی عورتوں کو لوگ نظر فاحش سے دیکھنے لگے اس لیے عورتوں پر جماعت میں شریک ہونا موقوف کیا گیا۔ تو جناب معزز قارئین! اللہ عزوجل نے معاشرہ کی بدکاریوں سے بچنے کا نسخہ تجویز فرمایا ہے کہ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ ، صلوٰۃ فحاشی سے روکتی ہے۔ تو امامیات کے علوم کے ذریعے صلوٰۃ کے غلط ترجمہ والی نماز کا حشر یہ ہے کہ فحاشی کا مرکز ہی اجتماعات نماز بن جاتے ہیں۔ اس طرح عربی محاورہ کے مطابق فرمن المطرقام تحت المیزاب یعنی بارش سے بچنے کی لیے کوئی چھت کے پر نالے کے نیچے کھڑا ہو۔ میں اس مدعا کے ثبوت میں کئی شہروں کے کئی اجتماعات میں نمازیوں کی ایسے مثالیں جانتا ہوں جو مجھے لکھنے میں بھی شرم آرہی ہے۔ جناب معزز قارئین! ایسی صورتحال میں اگر ہم فحاشی کو روکنے اور بند کرنے کے قرآن والے نسخے اقامت الصلوٰۃ کا معنی نماز پڑھنا کریں گے تو گویا اللہ کی بات غلط ثابت ہوجائے گی، قرآن کا فارمولا ناکام کہا جائے گا جو ہو ہی نہیں سکتا، قطعاً نہیں۔ تو یہ ثابت ہوا کہ صلوٰۃ کا ترجمہ موجودہ نماز نہیں ہے بلکہ صحیح ترجمہ وہ ہے جو قرآن نے خود بتایاہے کہ فَلَاصَدَّقَ وَلَاصَلّٰی 75.31 یعنی قرآن کے پیچھے چلنا قرآن کی تابعداری کرنا۔ عزیز اللہ بوہیو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت نماز کیلئے نکلی راستہ میں اسے ایک آدمی ملا وہ اس پر چڑھ دوڑا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت نماز کے لیے نکلی تو راستے میں ایک آدمی نے اسے پکڑ لیا اور اپنی حاجت پوری کر کے چل دیا۔ 34 - سزاؤں کا بیان : (137) جن لوگوں پر حد واجب ہو ان کے جرم کو چھپانا چاہیے حدثنا محمد بن يحيی بن فارس حدثنا الفريابي حدثنا إسرايل حدثنا سماک بن حرب عن علقمة بن وال عن أبيه أن امرأة خرجت علی عهد النبي صلی الله عليه وسلم تريد الصلاة فتلقاها رجل فتجللها فقضی حاجته منها فصاحت وانطلق فمر عليها رجل فقالت إن ذاک فعل بي کذا وکذا ومرت عصابة من المهاجرين فقالت إن ذلک الرجل فعل بي کذا وکذا فانطلقوا فأخذوا الرجل الذي ظنت أنه وقع عليها فأتوها به فقالت نعم هو هذا فأتوا به النبي صلی الله عليه وسلم فلما أمر به قام صاحبها الذي وقع عليها فقال يا رسول الله أنا صاحبها فقال لها اذهبي فقد غفر الله لک وقال للرجل قولا حسنا قال أبو داود يعني الرجل المأخوذ وقال للرجل الذي وقع عليها ارجموه فقال لقد تاب توبة لو تابها أهل المدينة لقبل منهم قال أبو داود رواه أسباط بن نصر أيضا عن سماک سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 985 حدیث مرفوع مکررات 2 محمد بن یحیی بن فارس، فریادی، اسرائیل، سماک بن حرب، عکرمہ بن حضرت وائل بن حجر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت نماز کیلئے نکلی راستہ میں اسے ایک آدمی ملا وہ اس پر چڑھ دوڑا۔ اور اس سے اپنی حاجت (جماع) پوری کرلی وہ عورت چیخی چلائی لیکن وہ مرد چلا گیا ایک اور آدمی اس کے پاس سے گذرا تو اس عورت نے اس سے کہا کہ بیشک فلاں شخص نے میرے ساتھ اس اس طرح کیا ہے اس دوران وہاں سے ایک جماعت مہاجرین کی گذری تو عورت نے ان سے کہا کہ فلاں شخص نے میرے ساتھ اس اس طرح کیا ہے وہ لوگ یہ سن کر چلے اور اس مرد کو پکڑ لائے جس کے بارے میں اس عورت نے دعوی کیا تھا کہ اس نے اس سے جماع کیا ہے اور اس عورت کے پاس لائے تو اس نے کہا کہ یہ وہی ہے تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے لیے رجم کا حکم دینے لگے تو وہ کھڑا ہوگیا جس نے اس عورت سے جماع کیا تھا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے اس عورت سے جماع کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا کہ تو چلی جا بیشک اللہ نے تیرا گناہ معاف فرما دیا (اس لیے کہ یہ زنا بالجبر تھا) اور اس شخص سے کوئی اچھی بات فرمائی۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بدکاری کرنے والے کے بارے میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے رجم کیا جائے آپ نے فرمایا کہ بیشک اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر وہ توبہ تمام اہل مدینہ کرتے تو ان سب کی طرف سے قبول کی جاتی امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو اسباط بن نصر نے بھی سماک سے روایت کیا ہے۔ Narrated Wa'il ibn Hujr: When a woman went out in the time of the Prophet (peace_be_upon_him) for prayer, a man attacked her and overpowered (raped) her. She shouted and he went off, and when a man came by, she said: That (man) did such and such to me. And when a company of the Emigrants came by, she said: That man did such and such to me. They went and seized the man whom they thought had had intercourse with her and brought him to her. She said: Yes, this is he. Then they brought him to the Apostle of Allah (peace_be_upon_him). When he (the Prophet) was about to pass sentence, the man who (actually) had assaulted her stood up and said: Apostle of Allah, I am the man who did it to her. He (the Prophet) said to her: Go away, for Allah has forgiven you. But he told the man some good words (AbuDawud said: meaning the man who was seized), and of the man who had had intercourse with her, he said: Stone him to death. He also said: He has repented to such an extent that if the people of Medina had repented similarly, it would have been accepted from them. 17 - حدود کا بیان : (46) عورت جس کے ساتھ زبردستی زنا کیا جائے حدثنا محمد بن يحيی النيسابوري حدثنا محمد بن يوسف عن إسرايل حدثنا سماک بن حرب عن علقمة بن وال الکندي عن أبيه أن امرأة خرجت علی عهد رسول الله صلی الله عليه وسلم تريد الصلاة فتلقاها رجل فتجللها فقضی حاجته منها فصاحت فانطلق ومر عليها رجل فقالت إن ذاک الرجل فعل بي کذا وکذا ومرت بعصابة من المهاجرين فقالت إن ذاک الرجل فعل بي کذا وکذا فانطلقوا فأخذوا الرجل الذي ظنت أنه وقع عليها وأتوها فقالت نعم هو هذا فأتوا به رسول الله صلی الله عليه وسلم فلما أمر به ليرجم قام صاحبها الذي وقع عليها فقال يا رسول الله أنا صاحبها فقال لها اذهبي فقد غفر الله لک وقال للرجل قولا حسنا وقال للرجل الذي وقع عليها ارجموه وقال لقد تاب توبة لو تابها أهل المدينة لقبل منهم قال أبو عيسی هذا حديث حسن غريب صحيح وعلقمة بن وال بن حجر سمع من أبيه وهو أکبر من عبد الجبار بن وال وعبد الجبار لم يسمع من أبيه جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 1495 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 2 محمد بن یحیی، محمد بن یوسف، اسرائیل، سماک بن حرب، علقمہ بن وائل کندی اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت نماز کے لیے نکلی تو راستے میں ایک آدمی نے اسے پکڑ لیا اور اپنی حاجت پوری کر کے چل دیا۔ وہ چیختی رہ گئی پھر اس کے پاس سے ایک دوسرا آدمی گزرا تو اس نے بتایا کہ اس شخص نے اس کے ساتھ اس طرح کیا ہے پھر مہاجرین کی ایک جماعت وہاں سے گذری تو انہیں بھی بتایا ان لوگوں نے دوڑتے ہوئے اس شخص کو پکڑ لیا جس کے متعلق اس عورت کا خیال تھا کہ اس نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے جب اس آدمی کو اس عورت کے سامنے لائے تو اس نے کہا ہاں یہی ہے۔ پھر وہ اسے رسول اللہ کے پاس لائے اور آپ نے اسے سنگسار کرنے کا حکم دیا تو اسی وقت ایک اور آدمی کھڑا ہوا جس نے درحقیقت اس عورت کے ساتھ زنا کیا تھا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے اس کے ساتھ زنا کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا کہ جاؤ اللہ نے تمہیں بخش دیا پہلے آدمی سے اچھا کلام کیا اور زانی کے بارے میں فرمایا کہ اسے سنگسار کر دو۔ پھر فرمایا اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اہل مدینہ سب کے سب ایسی توبہ کریں توبخش دیئے جائیں۔ یہ حدیث حسن غریب ہے علقمہ بن وائل بن حجر کو اپنے والد سے سماع حاصل ہے وہ عبدالجبار بن وائل سے بڑے ہیں عبدالجبار بن وائل نے اپنے والد سے کچھ نہیں سنا۔ Alqamah ibn Wail Kindi reported on the authority of his father that in the times of Allah’s Messenger (SAW) a woman proceeded to offer salah, on her way, a man caught hold of her and assaulted her sexually, satisfying his desire from her. She shouted. He went away. A man passed by her and she said to him that the man had done with her this and that. Then a group of muhajirs passed by and she told them that the man had done with her this and that. They went, got hold of the man who they thought had molested the woman. They brought him to her and she confirmed that he was the one, so they took him to Allah’s Messenger when he commanded that he should be stoned to death, the man who had assaulted the woman stood up and said, ‘0 Messenger of Allah. I was the one who had assaulted her (not he).” Allah’s Messenger (SAW) said (to the woman), “Go away. Indeed, Allah has forgiven you. And, to the man (whom the muhajirs had brought to him) he spoke a kind word, and for the man, who had assaulted her, he gave order to be stoned to death. He said, “He has repented in such a way that if (all) the people of Madinah repented like that then that would have been accepted from them’ اور جس وقت وہ خاتون رکوع کرتی تھی تو اس خاتون کو لوگ بغلوں کے درمیان سے جھانکتے تھے 7- اقامت نماز اور اس کا طریقہ : (630) نماز میں خشوع حدثنا حميد بن مسعدة وأبو بکر بن خلاد قالا حدثنا نوح بن قيس حدثنا عمرو بن مالک عن أبي الجوزا عن ابن عباس قال کانت امرأة تصلي خلف النبي صلی الله عليه وسلم حسنا من أحسن الناس فکان بعض القوم يستقدم في الصف الأول للا يراها ويستأخر بعضهم حتی يکون في الصف المؤخر فإذا رکع قال هکذا ينظر من تحت إبطه فأنزل الله ولقد علمنا المستقدمين منکم ولقد علمنا المستأخرين في شأنها سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1046 حدیث مرفوع مکررات 3 حمید بن مسعدة و ابوبکر بن خلاد، نوح بن قیس، عمرو بن مالک، ابوالجوزاء، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ایک بہت ہی خوبصورت عورت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھنے آ جاتی تھی تو بعض لوگ آگے بڑھ کر صف اول میں پہنچ جاتے تاکہ اس پر نگاہ نہ پڑے اور بعض پیچھے ہو جاتے حتیٰ کہ آخری صف میں پہنچ جاتے جب رکوع میں جاتے تو اس طرح بغلوں سے جھانکتے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِيْنَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِيْنَ) 15۔ الحجر : 24) (تر جمہ) اور ہم جانتے ہیں تم ہیں آگے بڑھنے والوں کو اور پیچھے ہٹنے والوں کو ۔ It was narrated that Ibn 'Abbas said: "A woman used to perform prayer behind the Prophet P.B.U.H and she was one of the most beautiful of people. Some of the people used to go into the first row so that they Would not see her, and some of them used to lag behind so that they would be in the last row, and when they bowed, they Would do like this so that they could see her from beneath their armpits. Then Allah revealed: "And indeed, We know the first generations of you who had passed away, and indeed, We know the present generations of you (mankind), and also those who will come afterwards. concerning her matter. (Da'if) 1 - ا ب ج : (26407) عبداللہ بن عباس کی مرویات حدثنا سريج حدثنا نوح بن قيس عن عمرو بن مالك النكري عن أبي الجوزا عن ابن عباس قال كانت امرأة حسنا تصلي خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فكان بعض القوم يستقدم في الصف الأول للا يراها ويستأخر بعضهم حتى يكون في الصف المؤخر فإذا ركع نظر من تحت إبطيه فأنزل الله عز وجل في شأنها ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين مسند احمد:جلد دوم:حدیث نمبر 907 حدیث مرفوع حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کہ ایک خوبصورت عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھا کرتی تھی، جس کی وجہ سے بعض لوگ تو اگلی صفوں میں جگہ تلاش کرتے تھے تاکہ اس پر نظر نہ پڑ جائے اور بعض لوگ پچھلی صف میں جگہ تلاش کرتے تاکہ آخری صف میں جگہ مل جائے اور جب رکوع کریں تو بغلوں کے نیچے سے اسے بھی جھانک کر دیکھ سکیں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ہم تم لوگوں میں سے آگے بڑھنے والوں کو بھی جانتے ہیں اور پیچھے رہنے والوں کو بھی جانتے ہیں۔ 10 - امامت کے متعلق احادیث : (99) جو شخص صف کے پیچھے تنہا نماز ادا کرے أخبرنا قتيبة قال حدثنا نوح يعني ابن قيس عن ابن مالک وهو عمرو عن أبي الجوزا عن ابن عباس قال کانت امرأة تصلي خلف رسول الله صلی الله عليه وسلم حسنا من أحسن الناس قال فکان بعض القوم يتقدم في الصف الأول للا يراها ويستأخر بعضهم حتی يکون في الصف المؤخر فإذا رکع نظر من تحت إبطه فأنزل الله عز وجل ولقد علمنا المستقدمين منکم ولقد علمنا المستأخرين سنن نسائی:جلد اول:حدیث نمبر 874 حدیث مرفوع مکررات 3 قتیبہ، نوح یعنی ابن قیس، ابن مالک، عمرو، ابوجوزا، عبداللہ ابن عباس سے روایت ہے کہ ایک بہت خوبصورت خاتون حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کیا کرتی تھی تو چند حضرات پہلی صف میں چلے جاتے تاکہ وہ نظر نہ آئے اور بعض حضرات آخری صف میں رہتے تھے اور جس وقت وہ خاتون رکوع کرتی تھی تو اس خاتون کو لوگ بغلوں کے درمیان سے جھانکتے تھے جس وقت خداوند قدوس نے یہ آیت نازل فرمائی آخر تک۔ اس آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ ہم اچھی طرح سے واقف ہیں ان لوگوں سے جو کہ نماز کے دوران آگے رہتے ہیں اور ہم ان سے بھی اچھی طرح واقف ہیں جو کہ پیچھے رہتے ہیں۔ Abu Bakrah narrated that he entered the Masjid when the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم was bowing, so he bowed outside the row. The Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: “May Allah increase you in keenness, but do not do this again.” (Sahih) 43 - قرآن کی تفسیر کا بیان : (445) تفسیر سورت حجر حدثنا قتيبة حدثنا نوح بن قيس الحداني عن عمرو بن مالک عن أبي الجوزا عن ابن عباس قال کانت امرأة تصلي خلف رسول الله صلی الله عليه وسلم حسنا من أحسن الناس فکان بعض القوم يتقدم حتی يکون في الصف الأول للا يراها ويستأخر بعضهم حتی يکون في الصف المؤخر فإذا رکع نظر من تحت إبطيه فأنزل الله تعالی ولقد علمنا المستقدمين منکم ولقد علمنا المستأخرين قال أبو عيسی وروی جعفر بن سليمان هذا الحديث عن عمرو بن مالک عن أبي الجوزا نحوه ولم يذکر فيه عن ابن عباس وهذا أشبه أن يکون أصح من حديث نوح جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1066 حدیث مرفوع مکررات 3 قتیبہ ، نوح بن قیس حدانی، عمرو بن مالک، ابوالجوزائ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھا کرتی تھی وہ بہت حسین بلکہ حسین ترین لوگوں میں سے تھی۔ بعض لوگ پہلی صف میں نماز پڑھنے کے لئے جاتے تاکہ اس پر نظر نہ پڑے جب کہ بعض لوگ پچھلی صفوں کی طرف آتے تاکہ اسے دیکھ سکیں۔ چنانچہ وہ جب رکوع کرتے تو اپنی بغلوں کے نیچے سے دیکھتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِيْنَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِيْنَ) 15۔ الحجر : 24) (اور ہمیں تم میں سے اگلے اور پچھلے سب معلوم ہیں اور بے شک تیرا رب ہی انہیں جمع کرے گا۔ بے شک وہ حکمت والا خبردار ہے۔) جعفر بن سلیمان یہ حدیث عمرو بن مالک سے وہ ابوجوزاء سے اسی طرح نقل کرتے ہیں لیکن اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں اور یہ نوح کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated: A women used to offer salah behind Allah’s Messenger and she was the most beautiful of the beautiful people. Some of the men would come forward as far as the first row so that they may not see her but some others would stay behind as far as the last row and when they went into ruku they would peep through their armpits. So Allah revealed: "And certainly We know those of you who hasten forward, and certainly We know those who lag behind." (15 : 24) [Ahmed 2783, Nisai 866, Ibn e Majah 1046] |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا | نورالدین (02-12-11), حیدر Rehan (02-12-11) |
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
شروع اسلام میں مردوں کی طرح عورتیں بھی نماز کے اجتماعات میں شریک ہوا کرتی تھیں لیکن انہی ایام میں یعنی خود رسول کے زمانے میں ہی عورتوں کو لوگ نظر فاحش سے دیکھنے لگے اس لیے عورتوں پر جماعت میں شریک ہونا موقوف کیا گیا۔ عورتوں پر جماعت میں شریک ہونا موقوف کیا گیا، قرآن کے حکم کو کیسے موقوف کیا گیا ؟؟؟ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا | نورالدین (02-12-11), حیدر Rehan (02-12-11) |
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
رانا صاحب،
آپ کی باتیں آپ ہی کی سمجھ میں آتی ہوںگی۔ غالباً آپ اپنے ہی بنائے ہوئے کسی دائرے میںگھوم پھر کر کچھ ارشاد فرما جاتے ہیں۔ جو ہم غریبوںکے پلے نہیں پڑتا۔ پہلے سمجھتا تھا کہ شاید یہ میں ہی ہوںجو آپ کے معیار کو نہیں پہنچ پاتا۔ پر اب دوسرے دھاگے میںشمشاد صاحب کی باتیںپڑھ کر اندازہ ہوا کہ اس ساحل پر اور لوگ بھی موجود ہیں، تو کچھ تسلی ہوئی ہے۔ ویسے ایک اندازہ یہ بھی ہوا ہے کہ اآپ خود بھی اپنی کاپی پیسٹ پوسٹس کو پڑھتے نہیں ہیں۔ دیکھئے، اسی دھاگے میں آپ کی پہلی پوسٹکے یہ الفاظ: اقتباس:
گویا عزیز اللہ بوہیو صاحب کی صلوٰۃ پر پیش کی گئی فکر کی تردید کی گئی ہے۔ اور اب آخری پوسٹمیںآپ انہی بوہیو صاحب کا مضمون کاپی پیسٹ کر لائے ہیں۔ اوپر پہلی پوسٹمیںجس صلوٰۃکو آپ نے مسلمانوں کی نماز سے ہم آہنگی ثابت کی تھی، آخری پوسٹمیںاسے پھر فارسی نماز ثابت کر رہے ہیں۔ اللہ کے بندے، کن بھول بھلیوں میںگھرے ہوئے ہو۔ لوٹ کر گھر آ جاؤ یار۔ |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (01-12-11), کنعان (02-12-11), نورالدین (02-12-11), مرزا عامر (02-12-11), احمد نذیر (02-12-11), حیدر Rehan (02-12-11) |
|
|
#15 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
کا جواب :: فحاشی کوختم کرنے والی چیز صلوٰۃ ہے اور یہ فارسی نماز .......... |
||
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا | نورالدین (02-12-11), حیدر Rehan (02-12-11) |
![]() |
| Tags |
| ہندو, فروخت, فرض, کتابوں, پاک, پاکستان, نفرت, چین, نماز, نظر, موت, موسیٰ علیہ السلام, معاشرہ, ایمان, انٹرنیٹ, اردو, تلاش, تعلیم, جھوٹ, حواری, خدا, دیکھو, عیسیٰ, عبادت, عشق |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| دنیا ( کے مال ) کے ذریعہ آزمائش کے متعلق اور ( انسان ) کیسے عمل کرے ؟ | میاں شاہد | صحیح المسلم | 8 | 08-08-10 03:46 PM |
| تعلیمی بورڈ کا لوٹ مار کا نیا ذریعہ ۔ امتحانی فیس معاف۔۔ | جاویداسد | خبریں | 0 | 07-08-10 09:47 PM |
| خلافۃ علی منہاج النبوۃ سے کیا مراد ہے؟ | راجہ اکرام | عمومی بحث | 156 | 27-01-10 02:01 PM |
| جن کی نماز، روزہ، حج، زکٰوۃ بے کار ہیں | عبداللہ حیدر | جہاد | 2 | 16-12-09 12:24 AM |
| رمضان اور زکٰوۃ | فیصل ناصر | گپ شپ | 3 | 24-08-09 01:28 AM |