واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم



علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم


ایک آیت کی تفسیر

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-05-11, 01:35 PM   #1
ایک آیت کی تفسیر
سحر سحر آن لائن ہے 01-05-11, 01:35 PM

سورۃ توبہ آیت نمبر 24

ترجمعہ ۔ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے عزیز و اقارب اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑجانے کا تم کو خوف ہے ، اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں ، تم کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کی راہ میں جہاد سے ذیادہ عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے ، اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کرتا ۔

اہل علم سے درخواست ہے کہ
اس آیت کی تفسیر سیاق وسباق کے ساتھ لکھ دیں ۔

اور مفسرین کی نظر میں یہاں جو جہاد کا ذکر ہے وہ کونسا جہاد ہے اس کی تفصیلات بھی لکھ دیں‌

جزاک اللہ
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے

 
سحر's Avatar
سحر
Administrator
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 557
Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (05-05-11), rana ammar mazhar (22-12-11), shafresha (05-05-11), فیصل ناصر (04-05-11), ننھا بچہ (01-05-11), مرزا عامر (01-05-11), wajee (01-05-11), آبی ٹوکول (01-05-11), احمد بلال (01-05-11), حیدر (01-05-11), رضی (05-05-11), عبداللہ آدم (01-05-11)
پرانا 04-05-11, 05:38 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 398
کمائي: 9,506
شکریہ: 1,248
330 مراسلہ میں 1,005 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default



آپ اسے دیکھئے
shafirajput آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے shafirajput کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-05-11), فیصل ناصر (04-05-11), مرزا عامر (04-05-11), رضی (05-05-11), سحر (04-05-11)
کمائي نے shafirajput کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
05-05-11 رضی thanks 0
پرانا 04-05-11, 06:12 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 398
کمائي: 9,506
شکریہ: 1,248
330 مراسلہ میں 1,005 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس مضمون کو وضاحت سے بیان فرمایا ہے مثلًا ایک موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : "یا رسول اللہ ! مجھے آپ، اپنے نفس کے سوا، ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں"- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جب تک میں اس کے اپنے نفس سے بھی زیادہ محبوب نہ ھوجاؤں ، اس وقت تک وہ مومن نہیں"- حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا " پس واللہ! اب آپ مجھے اپنے نفس سے بھی زیادہ ھیں"- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اے عمر! اب تم مومن ہو"-

صحیح بخاری- کتاب الایمان و النذور- باب کیف کان یمین النبی صلی اللہ علیہ وسلم


ایک دوسری روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں، جب تک میں اس کو، اس کے والد سے، اسں کی اولاد سے اور تمام لوگوں سے زیادہ، محبوب نہ ھوجاؤں"-

صحیح بخاری- کتاب الایمان- باب حب الرسول صلی اللہ علیہ وسلم من الایمان- ومسلم کتاب الایمان، باب بیان خصال من اتصف بھن وجد حلاوتہ الایمان

ایک اور حدیث میں جہاد کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: " جب تم بیع عینتھ (کسی کو مدت معینہ کے لئے چیز ادھار دے کر، پھر اس سے کم قیمت پر خرید لینا ( اختیار کر لو گے اور گایوں کی دمیں پکڑ کر کھیتی باڑی پر راضی و قانع ہوجاؤ گے اور جہاد چھوڑ بیٹھو گے تو اللہ تعالٰی تم پر ایسی ذلت مسلط فرما دے گا جس سے تم اس وقت تک نہ نکل سکو گے، جب تک اپنے دین کی طرف نہیں لوٹو گے

ابوداؤد، کتاب البیوع، باب النھی عن العینتھ- مسند احمد جلد 2 ، ص 42

میں نے جو تفسیر پڑھی اس میں اس آیات کے ساتھ یہ احادیث بیان کی گئی ہے اللہ کمی بیشی معاف کرے آمین
__________________
رب میرا اللہ، دین میرا اسلام، محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے نبی ھیں۔۔۔!!
shafirajput آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے shafirajput کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-05-11), مرزا عامر (04-05-11), آبی ٹوکول (04-05-11), رضی (05-05-11), سحر (04-05-11)
پرانا 04-05-11, 09:49 PM   #4
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں‌ اس آیت کی تفسیر اس لیے معلوم کرنا چاہ رہی تھی ۔
جیسا کہ ڈاکٹر اسرار احمد نے کہا کہ یہ آیت بہت اہم اور سخت ہے ۔

چند دنوں پہلے میں ایک درس میں‌گئی تھی ۔ وہاں اس آیت پر درس دیا گیا ۔ اور جہاد کا ترجمعہ ہی دین کی تبلیغ کیا انہوں نے ۔ اور پورا لیکچر محض دین کی تبلیغ پر کردیا گیا۔ مطلب جیسے جہاد صرف دین کی تبلیغ کو ہی کہتے ہیں

مجھے اتنا تو معلوم ہے کہ ہر آیت کی تفسیر اس کے شان نزول اور اس آیت پر کوئی حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہو یا صحابہ رضی اللہ نے کیا تفسیر کی پے یہ سب باتیں دیکھ کر آیات کی تفسیر ہوتیں ہیں ۔

اس لیے میں پوچھنا چاہ رہی تھی اس آیت کے شان نزول کے اعتبار سے یہاں جہاد فی سبیل اللہ کا عام مفہوم لیا جائے گا یا اس کو قتال کے لیے خاص کیا ہے مفسرین نے اور اس کا مفہوم صرف دین کی تبلیغ کہنا ٹھیک ہے یا نہیں
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-05-11), مرزا عامر (05-05-11), رضی (05-05-11)
پرانا 04-05-11, 09:59 PM   #5
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آیت سورۃ توبۃ کی ہے اگر اس سورۃ کے پورے مضمون پر غور کریں تو یہ جہاد کی قسم قتال سے متعلق ہے
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (05-05-11), rana ammar mazhar (22-12-11), shafresha (05-05-11), فیصل ناصر (04-05-11), کنعان (04-05-11), رضی (05-05-11), سحر (04-05-11)
پرانا 05-05-11, 01:17 AM   #6
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
میں‌ اس آیت کی تفسیر اس لیے معلوم کرنا چاہ رہی تھی ۔
جیسا کہ ڈاکٹر اسرار احمد نے کہا کہ یہ آیت بہت اہم اور سخت ہے ۔

چند دنوں پہلے میں ایک درس میں‌گئی تھی ۔ وہاں اس آیت پر درس دیا گیا ۔ اور جہاد کا ترجمعہ ہی دین کی تبلیغ کیا انہوں نے ۔ اور پورا لیکچر محض دین کی تبلیغ پر کردیا گیا۔ مطلب جیسے جہاد صرف دین کی تبلیغ کو ہی کہتے ہیں

مجھے اتنا تو معلوم ہے کہ ہر آیت کی تفسیر اس کے شان نزول اور اس آیت پر کوئی حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہو یا صحابہ رضی اللہ نے کیا تفسیر کی پے یہ سب باتیں دیکھ کر آیات کی تفسیر ہوتیں ہیں ۔

اس لیے میں پوچھنا چاہ رہی تھی اس آیت کے شان نزول کے اعتبار سے یہاں جہاد فی سبیل اللہ کا عام مفہوم لیا جائے گا یا اس کو قتال کے لیے خاص کیا ہے مفسرین نے اور اس کا مفہوم صرف دین کی تبلیغ کہنا ٹھیک ہے یا نہیں
السلام علیکم::

آپی جی! جہاں اپ گئی تھیں وہاں ہی سے میری سسٹر نے بھی تفسیر القرآن پڑھی ہے حال ہی میں، اور آپ کی طرح اسے بھی پتہ تھا کہ یہ آیات تبلیغ کی نہیں قتال کی ہیں..... ہمارے ہاں المیہ ہی ہے کہ جو بھی ادارہ جو بھی ایک کوئی سا شعبہ سنبھالے ہوئے ہے وہ اسے ہی مرکز بنا کر باقی سب کو nullify کرتا نظر اتا ہے..........

یہی حال تبلیغ فرمانے والے ہمارے بھائی ایات جہاد کے ساتھ فرماتے ہیں کہ ایت جہاد کی پڑھیں گے اور فٹ بوریہ بستر پر.... جو افسوسناک ہے....

قرآن کو محض قصے کہانیوں کی طرح پڑھنا ایک منہج ہے........... اس کو زندگی کا راہمنا بنا لینا ایک اور جہت ہے......... اور اس سے اسلامی تحریک کی اساس اور راستہ لینا ایک اور ڈائمنشن ہے.............. بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثریت مسلمانوں کی تو پہلے طریقے کے مطابق ساری زندگی گزار دیتی ہے اور کم ہی لوگ اسے زندگی میں نافز العمل کرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں..... اور ان میں سے تو بہت ہی کم لوگ اس سے اجتماعی زندگی یا اسلامی تحریکی اسوہ اخذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اکچر دروس القرآن اور تفسیر القرآن کے مراکز کا حال یہی ہے.....کہ ملت ابراہیم کا اتنا تو پتہ ہوتا ہے کہ بکروں چھتروں کی قربانی اور عید الضحٰی کی سنتیں اور پردہ و زیب و زینت کے مسائل........... لیکن یہ نہیں سکھایا اور پرھایا جاتا کہ پیش تو درحقیقت اسماعیل کو کیا گیا تھا اور قبولیت آج بھی اسماعیل کو پیش کرنے میں ہے.......!!! اور باطل کو للکارنا ابراہیم علیہ السلام کا اسوہ رہا ہے.....

مستشرقین نے یہاں اتنی محنت کی ہے کہ قرآن کی طرف پلتنے والے بھی اکثر ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھ پاتے...... کہ کہیں ان پر "شدت پسندی" کا الزام ہی نہ لگ جائے!!!؎

والسلام
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (05-05-11), shafresha (05-05-11), مرزا عامر (05-05-11), سحر (05-05-11)
پرانا 05-05-11, 08:31 AM   #7
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,607
کمائي: 172,604
شکریہ: 8,812
5,789 مراسلہ میں 21,398 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم::

آپی جی! جہاں اپ گئی تھیں وہاں ہی سے میری سسٹر نے بھی تفسیر القرآن پڑھی ہے حال ہی میں، اور آپ کی طرح اسے بھی پتہ تھا کہ یہ آیات تبلیغ کی نہیں قتال کی ہیں..... ہمارے ہاں المیہ ہی ہے کہ جو بھی ادارہ جو بھی ایک کوئی سا شعبہ سنبھالے ہوئے ہے وہ اسے ہی مرکز بنا کر باقی سب کو nullify کرتا نظر اتا ہے..........

یہی حال تبلیغ فرمانے والے ہمارے بھائی ایات جہاد کے ساتھ فرماتے ہیں کہ ایت جہاد کی پڑھیں گے اور فٹ بوریہ بستر پر.... جو افسوسناک ہے....

قرآن کو محض قصے کہانیوں کی طرح پڑھنا ایک منہج ہے........... اس کو زندگی کا راہمنا بنا لینا ایک اور جہت ہے......... اور اس سے اسلامی تحریک کی اساس اور راستہ لینا ایک اور ڈائمنشن ہے.............. بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثریت مسلمانوں کی تو پہلے طریقے کے مطابق ساری زندگی گزار دیتی ہے اور کم ہی لوگ اسے زندگی میں نافز العمل کرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں..... اور ان میں سے تو بہت ہی کم لوگ اس سے اجتماعی زندگی یا اسلامی تحریکی اسوہ اخذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اکچر دروس القرآن اور تفسیر القرآن کے مراکز کا حال یہی ہے.....کہ ملت ابراہیم کا اتنا تو پتہ ہوتا ہے کہ بکروں چھتروں کی قربانی اور عید الضحٰی کی سنتیں اور پردہ و زیب و زینت کے مسائل........... لیکن یہ نہیں سکھایا اور پرھایا جاتا کہ پیش تو درحقیقت اسماعیل کو کیا گیا تھا اور قبولیت آج بھی اسماعیل کو پیش کرنے میں ہے.......!!! اور باطل کو للکارنا ابراہیم علیہ السلام کا اسوہ رہا ہے.....

مستشرقین نے یہاں اتنی محنت کی ہے کہ قرآن کی طرف پلتنے والے بھی اکثر ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھ پاتے...... کہ کہیں ان پر "شدت پسندی" کا الزام ہی نہ لگ جائے!!!؎

والسلام
کیا امت مسلمہ کے زوال کی وجہ یہ تو نہیں ۔؟؟؟
جو قرآن کی تعلیم دیتے ہیں ان میں ہی کفار کا ڈر ہوگا یا اپنے آپ کو شدت پسند قرار پانے کا ڈر ہوگا تو پہر ہم دوسروں سے کیا امید رکھ سکتے ہیں

عالم دین کا فرض ہے کہ قرآن مین جو ہے اور جیسے ہے اس کو آگے بڑھادیں
جہاد کرنا اور نا کرنا آگے والوں کا کام ہے

جب عالم دین ہی آیات کا مفہوم بدل کر خیانت کریں گے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایسی نمازوں اور یہجد گزاری کا کیا فائدہ
کہ قرآن کے بعض حصون پر ایمان اور عمل کریں اور بعض کو چھپائیں ۔

میں سوچا کرتی تھی پاکستان میں لاکھوں لوگ اسلام کی طرف ہیں ۔ نماز روزے کے پابند ، تہجد گزار اور فلاحی کام کرنے والے پہر کیوں مسلمان زوال پذیر ہیں‌
اب معلوم ہوا کہ امت مسلمہ کے زوال کی وجہ
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (05-05-11), shafresha (05-05-11), مرزا عامر (05-05-11), عبداللہ آدم (05-05-11)
پرانا 05-05-11, 10:58 PM   #8
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

آیات سخت ہیں لیکن صریح ہیں..............علماء اور جاننے والے طبقے اپنی زات اور ادارہ ایک طرف کے کے قرآن کا مدعا سمجھانا شروع کر دیں تو ...............!!!

الَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِينَ

جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (کر کے تقسیم) کر ڈالا (یعنی موافق آیتوں کو مان لیا اور غیر موافق کو نہ مانا)

فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِيْنَ

سو آپ کے رب کی قسم! ہم ان سب سے ضرور پرسش کریں گے

عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ

ان اعمال سے متعلق جو وہ کرتے رہے تھے

فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ

پس آپ وہ (باتیں) اعلانیہ کہہ ڈالیں جن کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اور آپ مشرکوں سے منہ پھیر لیجئے

الحجر::91 تا 94
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (06-05-11), احمد نذیر (06-05-11), رضی (04-09-11), سحر (06-05-11)
پرانا 09-05-11, 06:50 PM   #9
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
چند دنوں پہلے میں ایک درس میں‌گئی تھی ۔ وہاں اس آیت پر درس دیا گیا ۔ اور جہاد کا ترجمعہ ہی دین کی تبلیغ کیا انہوں نے ۔ اور پورا لیکچر محض دین کی تبلیغ پر کردیا گیا۔ مطلب جیسے جہاد صرف دین کی تبلیغ کو ہی کہتے ہیں
دین کی تبلیغ نہایت اہم فریضہ ہے اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ لیکن آیت کو کسی اور مفہوم میں بیان کرنا بھی کوئی درست عمل نہیں
میرے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ جب بھی مدنی سورتوں میں جہاد کے لیئے نکلنے کا کہا گیا ہے اس کا مقصد لوٹے اور بستر لے کر نکلنا نہیں ہے بلکہ گھوڑے اور تلوار لے کر نکلنا ہے ۔
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (22-12-11), رضی (04-09-11), سحر (14-05-11), طاھر (09-05-11), عبداللہ آدم (09-05-11)
جواب

Tags
فیصلہ, کہہ, کمائے, کاروبار, گھر, پسند, وسلم, لے, نظر, اللہ, بھائی, بیٹے, بیویاں, باپ, توبہ, تمہاری, دیں, درخواست, ذکر, راہ, رسول, سامنے, ساتھ, علم, عزیز


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
آیت الکرسی کی تفسیر skjatala ویڈیوز 0 22-04-11 10:59 PM
جنوبی افریقہ نے سیریز جیت لی زارا کرکٹ 2 09-11-10 10:20 AM
ایشز:انگلینڈ نے سیریز جیت لی۔ تفسیر حیدر کرکٹ 0 24-08-09 01:14 AM
وزیر اعظم نے اختر مینگل سمیت تمام سیاسی اسیروں کی رہائی کا حکم دیدیا محمدعدنان خبریں 1 03-05-08 02:39 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:04 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger