واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم



علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم


سبعۃ احرف، کیا، کیوں، کیسے؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-11-11, 03:48 PM   #1
سبعۃ احرف، کیا، کیوں، کیسے؟
عبداللہ آدم عبداللہ آدم آن لائن ہے 24-11-11, 03:48 PM

(( یہاں مین کوشش کر رہا ہوں کہ پچھلے دنوں کے مچے ہوئے گھرمس کی وجہ سے ذہنوں میں ممکنہ طور پر پیدا ہونے والے سوالات کا اس طرح جوابات دے سکوں کہ ایک مضمون میں اس سے متعلق بنیادی معلومات فراہم کر دوں، تاکہ منطقی طور پر ایک خاکہ سا بن جائے اور اس کو سمجھنا آسان ہو جائے، میری ناقص رائے میں سوالات تب بھی پیدا ہوتے ہیں جب ایک سبجیکت کی پوری تصویر یا جہات کو بندہ دیکھ نا پائے تو سوالات کا پیدا ہونا ایک قدرتی امر ہے، بھائیوں سے گزارش ہے کہ وہ میرے لیے دعا فرمائیں اور دو گزارشات ضروری سمجھتا ہوں::

1:: اس مضمون کا مقصد ، اور اگر اللہ نے مزید توفیق دی تو ایک یا دو اور مضامین، سبکا مقصد عام قاری کی سطح پر آکر علم القراءات کے بارے میں معلومات فراہم کرنا ہے، اس لیے اس میں علمی طریقہ کار کو بہت زیادہ تلاشا نہ جائے !!

2::میری گزارشات پوری ہونے تک احباب صبر فرمائیں، اللہ اجر دینے والا ہے.((


لغوی معنٰی::
سبعۃ سات کو کہا جاتا ہے اور احرف حرف کی جمع ہے، جس کے معنی میں عام طور پر ::حروف کو ملانے والے،کنارہ اور پہاڑ کا تیز سرا بھی نقل کیے گئے ہیں.

اصطلاح کاماخذ::
سبعۃ احرف کی اصطلاح احادیث سے لی گئی ہے، جو کافی زیادہ ہیں، صرف ایک درج کی جاتی ہے جس سے اس اصطلاح سے مراد واضح طور پر سمجھ بھی آجاتی ہے:؛

1:: حدثنا ابن المثنى حدثنا محمد بن جعفر حدثنا شعبة عن الحكم عن مجاهد عن ابن أبي ليلى عن أبي بن كعب أن النبي صلى الله عليه وسلم كان عند أضاة بني غفار فأتاه جبريل صلى الله عليه وسلم فقال إن الله عز وجل يأمرك أن تقرئ أمتك على حرف قال أسأل الله معافاته ومغفرته إن أمتي لا تطيق ذلك ثم أتاه ثانية فذكر نحو هذا حتى بلغ سبعة أحرف قال إن الله يأمرك أن تقرئ أمتك على سبعة أحرف فأيما حرف قرءوا عليه فقد أصابوا

ابی بن کعب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بنو غفار کے نشیبی علاقے میں تھے کہ جبرائیل آئے اور کہا:: اللہ نے اپ کو حکم دیا ہے کہ آپ کو حکم دیتا ہے کہ اپ کی امت ایک حرف پر قرآن پڑھے، اپ صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا:: میں اللہ سے عافیت اور مغفرت مانگتا ہوں میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی، پھر وہ دوبارہ آئے ، کہا اللہ اپ کو حکم کرتا ہے کہ اپ کی امت دو حروف پر قران پڑھے،آپ نے پھر وہی جواب دیا کہ میں اللہ سے عافیت اور مغفرت چاہتا ہوں لیکن میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی. . . . حتٰی کہ جبریل جب چوتھی مرتبہ آئے تو کہا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ اپ کی امت "سبعۃ احرف" پر قرآن پڑھے، جس بھی حرف پر وہ پڑھیں گے وہ درست ہو گا.
((مسلم ::کتاب صلوۃ المسافرین، ابوداؤد، ترمذی، مسند احمد، مسند ابی عوانہ((
صحاح ستہ اور دوسری کتب میں ایسی بہت سی احادیث موجود ہیں.

جاری ہے. . .
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"

 
عبداللہ آدم's Avatar
عبداللہ آدم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 897
Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (24-11-11), skjatala (24-11-11), فیصل ناصر (24-11-11), کنعان (25-11-11), ھارون اعظم (09-12-11), مرزا عامر (26-11-11), احمد نذیر (24-11-11), بنت حوا (25-11-11), حیدر (24-11-11), سحر (24-11-11), شکاری (25-11-11), شمشاد احمد (25-11-11)
پرانا 24-11-11, 06:01 PM   #2
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سبعۃ احرف سے کیا مراد ہے::

سات کا عدد عربی میں زیادتی کے لیے بھی اتا ہے اور 7 کے لیے بھی، سبعۃ احرف کے بارے میں بہت زیادہ قیل و قال سے صرف نظر کرتے ہوئے علمائے امت نے جو صائب رائے اس بارے میں نقل کی ہے وہ یہ ہے کہ ان احرف السبعہ سے مراد عرب کے قبائل کی ذیلی زبانیں ہیں،جن میں ایک ہی معانی کے لیے مختلف الفاط استعمال ہوتے تھے مثلالغاتِ قریش، ہذیل، ثقیف ، ہوازن، کنانہ، تمیم اور یمن .بعض نےسبعہ سے مراد زیادتی لی ہے تب یہ عدد (7(معین نہیں کیا جا سکتا،البتہ باقی حقیقت پر کوئی فرق نہیں پڑتا.

ایک اور حدیث سے اس حقیقت پر مزید روشنی پڑتی ہے::

""اعمش کہتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ نے آیت پرھی کہ:ان ناشت اللیل ھی اشد وطئا واصوب قیلا (مزمل::6( تو بعض لوگ کہنے لگے کہ اے ابو حمزہ یہ تو (اقوم(( ہے تو فرمایا کہ ((اقوم، اصوب اور ((اھیا(( ایک ہی ہیں.""
(طبری، ابو یعلٰی، بزار(

اوپر کی مثالوں میں ایک ہی جیسے ہم معنی الفاط استعمال کرنے کی بات کی گئی ہے جو مختلف قبائل کے ہاں ایک ہی معنٰی کے لیے بولے جاتے تھے. تعال، ھلم، اقبل سب کے معنی ایک ہیں، یعنی ہمارے پاس آئیے.

سبعۃ احرف اور قراءت میں کیا تعلق ہے::

اکثر عام لوگ جب سبعۃ احرف اور قراءات سبعۃ کا ذکر یکے بعد دیگرے سنتے ہیں تو ان کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے سبعۃ احرف سے مراد سات قراءات ہیں.
یہ غلط فہمی ہی ہے جس کا ذکر پرانے علماء نے بھی کیا ہے اور متفقہ طور پر اس غلط العام تصور کی اصلاح کی ہے. وہ اس طرح کہ قرات تو ادائیگی کا ایک طریقہ ہوتا ہے، جبکہ احرف ، جیسا کہ اوپر ہم واضح طور پر دیکھ چکے ہیں، عربی قبائل کی زبانوں کا اختلاف ہے، اور ان دونوں میں کوئی موافقت نہیں ہے سوائے نام کی اتفاقی مشابہت کے !!! تفصیل کے لیے الاتقان از علامہ سیوطی میں اس بحث کو ملاحظہ کیا جا سکتا ہے.

شیخ الاسلام ابن تیمیہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں :: علماء کے درمیاں اس بابت کوئی نزاع نہیں ہے کہ احرف السبعۃ سے مراد قراءات سبعۃ نہیں ہیں، بلکہ سب سے پہلے ان قراءات کو جمع کرنے والے ابن مجاھد ہیں ، جو تیسری صدی ھجری میں بغداد میں گزرے ہیں. انہیں اس بات کی چاہت تھی کہ وہ حرمین ، عراق اور شام کےشہروں اور ملکوں سے مشہور قراتوں کو جمع کریں. .. .
(مجموع الفتاوٰی،جلد 13(
اس طرح سبعۃ عشرہ کی قراءات کے مشہور ہونے اور احرف السبعۃ کی احادیث کے لسان رسالت مآ ب صلی اللہ علیہ و سلم سے صادر ہونے میں تین صدیوں کا وقفہ بنتا ہے!!!
جاری ہے. . .

Last edited by عبداللہ آدم; 24-11-11 at 09:50 PM. وجہ: آخری پیرا گراف کا اضافہ إإإ
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (24-11-11), skjatala (24-11-11), فیصل ناصر (24-11-11), کنعان (25-11-11), ھارون اعظم (09-12-11), معظم (09-12-11), احمد نذیر (24-11-11), حیدر Rehan (24-11-11), شکاری (25-11-11), شمشاد احمد (25-11-11)
پرانا 24-11-11, 09:09 PM   #3
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

قرآن کے احرف السبعۃ میں نازل ہونے کی حکمتیں::

احکام شرعیہ کی حقیقی علتیں تو اللہ رب العزت ہی کے علم میں ہیں، البتہ ان میں سے کچھ تو قرآن و سنت میں بتا دی جاتی ہیں اور یا پھر انسانی عقل جن چیزوں کا احاطہ کر پاتی ہے انہیں بطور حکمت بیان کر دیا جاتا ہے، اور یہ اپنی عقل و سمجھ کے مطابق ہی ہوتا نہ کہ اسے حتمی طور پر اللہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے.

اسی ضمن میں قرآن کے سات حروف پر نزول کی حکمتیں بھی ہیں، جو کہ کچھ تو قرآن و سنت سے ظاہری طور پر ملتی ہیں،اور کچھ وہ ہیں جنہیں عقل انسانی کی جولان گاہ سے علاقہ رہا ہے.

1::پہلا اور بڑا فائدہ ،جیسا کہ احادیث صحیحہ واضح بتلاتی ہیں، یہ ہوا کہ امیوں پر قرآن پڑھنے میں آسانی ہو گئی،ایک حدیث مبارکہ بھی ان الفاط کے ساتھ ملتی ہے کہ :: مجھے ان پڑھ امت کی طرف مبعوث کیا گیا ہے جس میں غلام بھی ہیں، خادم اور بزرگ بھی پائے جاتے ہیں ، تو جبریل نے کہا کہ پھر قران کو سبعۃ احرف پر پڑھ لیا کریں(مسند احمد، ابوداود، ترمذی(

2:: قران کا اس طرح نازل ہونا اعجاز قران کے باب میں بھی آتا ہے، وہ اس طرح کہ عرب قبائل میں بڑے بڑےفصیح و بلیغ مقرر، قادر الکلام شاعر اور معانی و تراکیب کے ماہرین پائے جاتے ، اب جب قران ان کی زبانوں میں نازل ہو گیا تو بحیثیت مجموعی ممتاز عرب قبائل کی ذیلی زبانوں تک میں یہ سب سے بڑا چیلنج ٹھہرا کہ یہ کتاب تمہاری بولیوں ہی میں نازل ہوئی ہے، ذرا لاؤ تو سہی اس کا مقابل !!!

3::فقہاء اور علماء نے ان سے مسائل کے استنباط میں مدد لی، جیسا کہ بعد احرف دوسروں کی توضیح و تشریح کرتے ہیں، وغیرہ وغیرہ.

احرف السبعۃ سے ایک حرف کی طرف::

ہم سب جانتے ہیں کہ عہد عثمان رضی اللہ عنہ میں قران کریم کی وہ فائنل تدوین ہوئی جس سے ہم اج بھی استفادہ کر رہے ہیں، اس سلسلے میں ایک سے زیادہ واقعات نقل کیے گئے ہیں جن کی بنا پر حضرت حذیفہ بن یمان اور دوسرے اصحاب کی توجہ اس طرف ہوئی کہ حرف قریش پر ہی امت میں قرآن کو جاری کر دینا چاہیے .

ان واقعات میں نومسلموں کے مابین جھگڑے، بچوں کے درمیاں اپنے ہی حرف اور تلاوت کو حتمی گرادننا اور سب سے بڑھ کر ان اختلافات کی بنیاد پر سنگین حالات کا دائرہ پھیلتے ہوئے دیکھنا.... یہ سب صحابہ کرام کی ایمان و بصیرت کے نور سے منور آنکھوں نے دیکھ لیاتھا جس کی بنیاد پر متفقہ طور پر مستقبل میں کسی بھی سنگین صورتحال سے بچنے کے لیے یہ فیسلہ کیا گیا کہ حرف قریش پر ہی مصحف عثمانی ترتیب دیا جائے اور اس کی نقول بصرہ، کوفہ ، شام، مدینہ وغیرہ شہروں میں رکھوا دی گئیں اور ان کے ساتھ ایک ایک قاری کو بھی بھیجا گیا جو لوگوں کو اس سے قرات کرواتا تھا.

اب صورتحال یہ ہے کہ صدیوں سے ہمارے پاس ایک مصحف موجود ہے جو قریش کی زبان پر ہے، اور اسی میں قراءات کا اختلاف ، جیسا کہ نقل کیا جاتا ہے، پایا جاتا ہے.

اللہ نے قران میں ہمیں "انعمت علیھم"" کی راہ پر چلنے کو کہا ہے، اور یہ فیصلہ "انعمت علیھم " کا متفقہ فیصلہ تھا.

ایک بات اور بھی علماء نے اس سلسلے میں شک رفع کرنے کے لیے کی ہے، اور وہ یہ کہ سبعۃ احرف پر قرآن پڑھنا ایک جائز قرار دیا گیا تھا، فرض کی حیثیت البتہ اسے کبھی نہیں دی گئی تھی، اسی طرح ان سب کے نہ پڑھنے والے پر کسی گناہ کا بوجھ بھی نہیں آتا تو صحابہ کرام نے اک ایسے میدان میں حد بندی کر دی جس میں اس کی گنجائش تھی،

صحابہ کرام ہم سے ہزارہا درجے قران کی حفاظت کرنے میں ذمہ دار اور حساس تھے.اگر اس سارے معاملے میں کسی بھی طرح قران کی حفاظت کو کوئی ٹھیس پہنچ رہی ہوتی تو وہ کسی صورت بھی اس پر متفق نہ ہوتے. ان کا اتفاق ہمارے لیے بہت کافی ہے اور جیسا کہ ہم پر خلفائے راشدین کی سنت بھی لازم ہےجب کہ وہ ہو بھی غیر اختلافی اور اجماعی، تو اس سلسلے میں ایمان والوں کو عقل اور نقل، دونوں حوالوں سے مطمئن رہنا چاہیے.


جاری ہے. . .
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (09-12-11), احمد نذیر (25-11-11), شکاری (25-11-11), شمشاد احمد (25-11-11)
پرانا 24-11-11, 10:11 PM   #4
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

احرف سبعہ میں ظاہری اختلاف اور ایک قاعدہ::

ہم نے دیکھا کہ احرف سبعہ میں اختلاف ظاہری ہے، یعنی الفاط مختلف ہیں، لیکن حقیقی نہیں ہے، یعنی کلام کے مفہوم پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا ہے. یہ تو ممکن ہے کہ ایک حرف((لغت(( دوسرے کو زیادہ کھول کر بیان کر رہا ہو، لیکن ایسا نہیں ہے کہ ایک حرف دوسرے کے متضاد جاتا نظر آتا ہو.

ایسے اختلاف کو اختلاف تنوع )varity(کہتے ہیں، جو اختلاف تضاد)contradiction( سے یکسر الگ چیز ہوتی ہے.

آخر میں یہ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قراءات کے سلسلے میں اس بات کو پلے سے باندھ لینا چاہیے کہ یہاں جتنا بھی اختلاف اختلاف پڑھنے اور سننے کو ملے گا، وہ یہی ورائتی والا اختلاف ہو گا، نہ کہ صحیح اور غلط، حق اور باطل والا اختلاف !!!

اس فن میں اختلاف کا مطلب تنوع ہوتا ہے، تضاد نہیں!!!

استفادہ جات::
علوم القران از مناع القطان.
مقالہ علم القراءات از شیخ دکتور تاج افسر، استاذ القراءات اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد.
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (09-12-11), کنعان (25-11-11), ھارون اعظم (09-12-11), احمد نذیر (25-11-11), حیدر (25-11-11), راجہ اکرام (24-11-11), شکاری (25-11-11), شمشاد احمد (25-11-11)
پرانا 25-11-11, 01:09 AM   #5
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں سبعۃ احراف کا یہ تصور کسی اور بھی جگہ پایا جاتا ہے یا یہ صرف قرآن کی قراءات تک محدود ہے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (09-12-11), مرزا عامر (26-11-11), حیدر (25-11-11), شمشاد احمد (25-11-11), عبداللہ آدم (25-11-11)
پرانا 25-11-11, 01:17 AM   #6
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

حدیث میں ایک روایت بالمعنٰی پائی جاتی ہے، شاید اپ اس کی طرف اشارہ کرنا چاہ رہے ہیں؟؟ اس کا مجھے زیادہ علم نہیں ہے،ٹیکنیکلی یہ تصور اس سے کتنا مماثل ہے ، اس بارے میں میں کچھ نہیں کہہ سکتا.
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (26-11-11), فیصل ناصر (25-11-11), حیدر (25-11-11), شمشاد احمد (25-11-11)
پرانا 25-11-11, 01:50 AM   #7
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نہیں مجھے اس کا علم نہیں جو آپ کہہ رہے ہیں
میں تو صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کیا سبعۃ احراف کا قراءات قرآن سے پہلے بھی کوئی وجود تھا یا یہ اصطلاح اسی سلسلے کے لئے وجود میں آئی ہے
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
حیدر (25-11-11), شمشاد احمد (25-11-11), عبداللہ آدم (25-11-11)
پرانا 25-11-11, 01:52 AM   #8
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ترتیب کا خیال رکھتے ہوئے حیدر بھائی کا ایک مراسلہ بھی یہیں اقتباس کردیتا ہوں جو پہلے ان اپروو کردیا تھا

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
میں یہ مراسلہ لکھ کر خود ہی "ان اپروو" کر رہا ہوں۔ تاکہ عبد اللہ آدم کی تحریر مکمل ہونے کے بعد اوپن کیا جا سکے۔

1: یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی کہ قرآن پہلے تو سات حروف میں نازل ہوا اور اس کا فائدہ گنوایا گیا کہ اُمیوں پر قرآن پڑھنا آسان ہو گیا۔ ۔ ۔ لیکن پھر آ گے جا کر بیان کیا جا رہا ہے کہ حضرت عثمان کے دور میں چند مسائل کی وجہ سے اس کو قریش کے حروف (یعنی ایک حرف پر )پر لاگو کر دیا گیا۔ اگر تو سات حروف میں نازل ہونا آسانی تھی تو پھر کیا وہ آسانی محض 30 سال کے اندر تکلیف بن گئی؟ اور جس چیز کی چھوٹ اللہ نے خؤد دے دی اس کو کوئی کیوں کر پابند کر سکتا ہے؟ یہ تو یہی ہوا کہ وضو، روزے،نماز کی قصر کی اجازت ہے، لیکن کوئی حکمران اس چھوٹ کو معطل کر دے۔

2: حدیث موجود مراسلہ نمبر ایک اور پھر حضرت عثمان غنی کی طرف سے قرآن کو ایک قرآت پر پیش کرنا ، اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سات قراتوں میں قرآن پڑھنے کی اجازت اللہ کی طرف سے ہماری آسانی کے لیے تھی۔ تاہم اللہ کو پسند یہی تھا کہ قرآن کو ایک ہی قرآت میں پڑھا جائے۔اسی لیے تو اللہ نے ایک قرآت میں پڑھنے کا حکم دیا تھا۔ ایسے میں اگر چند لوگ صرف ایک قرات پر اصرار کرتے ہیں تو ان کو گناہ گار سمجھنا ۔۔۔کیوں؟
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (09-12-11), ھارون اعظم (09-12-11), مرزا عامر (26-11-11), حیدر (25-11-11), شمشاد احمد (25-11-11), عبداللہ آدم (25-11-11)
پرانا 25-11-11, 01:56 AM   #9
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,193
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

رانا صاحب کا یہ مراسلہ بھی ان اپروو تھا
اپروو کرنے کے بجائے ترتیب درست رہنے کے سبب اسے بھی یہاں اقتباس کردیا

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں
لیکن ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں سبعۃ احراف کا یہ تصور کسی اور بھی جگہ پایا جاتا ہے یا یہ صرف قرآن کی قراءات تک محدود ہے ؟؟؟

حدیث میں بھی "سبعۃ احراف" ہے کیونکہ وہ قرآن کی تشریح ہے !!!





جواب کی جلدی نہیں ہے !!!
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (26-11-11), مرزا عامر (26-11-11), حیدر (25-11-11), شمشاد احمد (25-11-11), عبداللہ آدم (25-11-11)
پرانا 25-11-11, 02:22 AM   #10
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,511
کمائي: 118,725
شکریہ: 13,534
4,914 مراسلہ میں 16,709 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
سبعۃ احرف سے کیا مراد ہے::

اس طرح سبعۃ عشرہ کی قراءات کے مشہور ہونے اور احرف السبعۃ کی احادیث کے لسان رسالت مآ ب صلی اللہ علیہ و سلم سے صادر ہونے میں تین صدیوں کا وقفہ بنتا ہے!!!
جاری ہے. . .
السلام علیکم

سبعہ 7 اور

سبعۃ عشرہ اسے عربی میں ایسے پڑھتے ہیں (sbea teashar) اور یہ 17 کا عدد ھے۔ اور جب سبعۃ عشرہ کی قراءات لکھیں گے تو یہ 17 قراءت بنے گا۔

آپکی اضافی عبارت میں سبعۃ عشرہ قراءات سے آپکا مطلب کیا ھے یا لکھنے میں ایرر ہوا اس پر تھوڑا تفصیل واضع فرمائیں، شکریہ

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (26-11-11), مرزا عامر (26-11-11), ابن آدم (25-11-11), حیدر (25-11-11), شمشاد احمد (25-11-11), عبداللہ آدم (25-11-11)
پرانا 25-11-11, 11:07 AM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
نہیں مجھے اس کا علم نہیں جو آپ کہہ رہے ہیں
میں تو صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کیا سبعۃ احراف کا قراءات قرآن سے پہلے بھی کوئی وجود تھا یا یہ اصطلاح اسی سلسلے کے لئے وجود میں آئی ہے
جی سبعۃ‌احرف کی اصطلاح‌خاص‌قرآن کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ اس سے قبل میرے علم کی حد تک اس اصطلاح کا وجود نہ تھا۔ اور بذات خود یہ اصطلاح‌نہیں ہے۔ لیکن حدیث‌میں‌یہ الفاظ‌چونکہ وارد ہوئے ہیں، اس لئے تفہیم کے لئے یہی اصطلاح‌زبان زد عام ہو گئی۔ جیسے حروف مقطعات کی اصطلاح ہے۔ یہ بھی قرآن سے خاص‌ہے۔واللہ اعلم!

دخل در نامعقولات کے لئے معذرت۔ امید کرتا ہوں کہ عبداللہ آدم بھائی اس دھاگے میں‌میرے جوابات کا برا نہیں‌منائیں‌گے۔ اگر وہ خود جواب دینا چاہیں‌تو بصد شوق۔ ویسے اس طرح‌سوالات و جوابات سے دھاگے کا عام فہم رہنے کا جو مقصد تھا، شاید وہ فوت ہو جائے۔
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65]
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (26-11-11), ھارون اعظم (09-12-11), حیدر (25-11-11), شمشاد احمد (25-11-11), عبداللہ آدم (25-11-11)
پرانا 25-11-11, 03:58 PM   #12
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم::

کنعان بھائی! اپ کی بات درست ہے اس لفظ کا مطلب 17 ہی ہوتا ہے، لیکن قراءات میں یہ "سات اور تین دس" کے معنوں میں ستعمال ہوتا ہے، سات متواتر قراءات اور ان کے ساتھ تین دوسری قراءات کو مختصرا سبعۃ عشرۃ کہا جاتا ہے.

شکاری بھائی! میں تو کتنے دن اپ کا انتظار کرتا رہا کہ آپ تھریڈ لگائیں، یہ اپ کی دوری ہی کا تو فیض ہے کہ میں نے بھی کچھ نا کچھ کر ڈالا!!!
حیدر کااعتراض بڑا جاندار سا محسوس ہوتا ہے، اس کے بارے میں تھوڑا بہت میں نے بھی مطالعہ کیا ہے لیکن بہتر رہے گا اگر اپ برائے مہربانی آسان الفاط میں وضاحت فرما دیں.


منتظر. . .

والسلام
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (26-11-11), فیصل ناصر (25-11-11), کنعان (25-11-11), شمشاد احمد (25-11-11)
پرانا 25-11-11, 08:58 PM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
1: یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی کہ قرآن پہلے تو سات حروف میں نازل ہوا اور اس کا فائدہ گنوایا گیا کہ اُمیوں پر قرآن پڑھنا آسان ہو گیا۔ ۔ ۔ لیکن پھر آ گے جا کر بیان کیا جا رہا ہے کہ حضرت عثمان کے دور میں چند مسائل کی وجہ سے اس کو قریش کے حروف (یعنی ایک حرف پر )پر لاگو کر دیا گیا۔ اگر تو سات حروف میں نازل ہونا آسانی تھی تو پھر کیا وہ آسانی محض 30 سال کے اندر تکلیف بن گئی؟ اور جس چیز کی چھوٹ اللہ نے خؤد دے دی اس کو کوئی کیوں کر پابند کر سکتا ہے؟ یہ تو یہی ہوا کہ وضو، روزے،نماز کی قصر کی اجازت ہے، لیکن کوئی حکمران اس چھوٹ کو معطل کر دے۔
درج بالا سوال دراصل ایک غلط فہمی کا نتیجہ ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے چھ حروف کو منسوخ‌کر کے امت کو ایک حرف پر متحد کر دیا تھا۔ بھلا ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ‌اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو قرآن کو سات حروف پر پڑھنے کی اجازت دے دیں‌اور کوئی بھی امتی اس میں‌سے کسی نقطہ شوشہ کو بھی منسوخ کر سکے؟

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں‌قرآن میں‌اختلاف جو پیدا ہوا تھا اس میں‌کافی تفصیل ہے، جس کے لئے علیحدہ مضمون درکار ہے۔ مختصراً یہ کہ اسلام کے ہر چہار جانب پھیل جانے سے عجم و عرب کے اختلاط سے قرآن کے سلسلے میں‌کافی پیچیدگیاں پیدا ہو گئی تھی۔ لوگوں نے اپنے اپنے غیر مستند مصاحف بنا رکھے تھے جن کا معیار چیک کرنے والا کوئی نہ تھا۔ بعض جگہ کتابت کی غلطیاں‌تھیں ، تو کچھ لوگ منسوخ التلاوۃ‌ آیات کو بھی ابھی تک قرآن میں‌شامل سمجھے ہوئے تھے، کچھ لوگوں‌نے کسی آیت کے ضمن میں‌تفسیری نکات کو بھی قرآن سمجھ کر لکھ رکھا تھا، سازشی حضرات نے بھی قرآن مجید میں‌ تحریف کی راہیں ڈھونڈنا شروع کر دیں، اور مدینہ سے دور دراز کے علاقوں میں‌عصبیت کی بنیاد پر اختلاف زوروں‌پر پہنچ گیا۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ حکومتی نگرانی میں‌ کوئی مصدقہ مصحف تیار کروایا جائے جس سے اس قسم کے اختلافات ختم کئے جا سکیں۔اور یہی وہ کام تھا جو کیا گیا تھا۔ وہ قراءات جن کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے رکھی تھی، انہیں ہرگز منسوخ نہیں‌کیا گیا۔ بلکہ ان قرآنی مصاحف کو نقطوں‌اور اعراب سے خالی رکھنے کی ایک حکمت یہ بھی تھی کہ ایک ہی رسم الخط میں‌ تمام قراءات سموئی جا سکیں۔

صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے قرآن کریم کے بارہ بڑے بڑے ماہرین نے کام شروع کردیا۔ اس ضمن میں صرف ایک مقام پر یہ مشکل درپیش آئی کہ صحف ابی بکر میں امتداد زمانہ کی وجہ سے کلمہ التابوت کی دوسری تاء مٹ گئی تھی اور معلوم نہ ہو پارہا تھا کہ یہ کلمہ چھوٹی تاء کے ساتھ لکھا جائے یا بڑی تاء سے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر کی گئی تو انہوں نے ایک راہنما ارشاد یہ فرمایا:
( إذا اختلفتم أنتم وزید فاکتبوہ بلغۃ قریش، فإنما نزل بلسانہم) [بخاری:۳۵۰۶]

چنانچہ آپ کے ارشاد کی روشنی میں اس کلمہ کو لغت قریش کے مطابق لکھ دیا گیا۔ قابل نوٹ نکتہ یہ ہے کہ بعد ازاں اس اجتہاد کو اس طرح سے باقاعدہ قطعیت بھی یوں مل گئی کہ اس لفظ کو اس طرح سے لکھنے کی نص حاصل ہوگئی۔ اس طرح سے یہ کہنا اب ممکن ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے تیار کردہ مصاحف کا طریقہ کتاب ان کا اپنا ذاتی نہ تھا بلکہ رسول اللہ ہی سے منقول چلا آتا تھا۔

یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے لغت قریش کے مطابق لکھنے کا حکم دیا تھا، ناکہ لغت قریش کو باقی رکھ کر باقی لغات کو ختم کرنے کی تلقین فرمائی تھی، جیسا کہ بعض لوگوں کو مغالطہ ہوا ہے۔ اس لئے کہ روایت حفص ہی کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں لغت قریش کے علاوہ بعض دوسری لغات بھی موجود ہیں۔ چنانچہ حضرت حفص کے لئے مجریہا (ہود پارہ ۱۲ رکوع ۴) ”راء،، اور اس کے بعد والے ”الف،، کا امالہ ہے، حالانکہ امالہ اہل نجد کی لغت ہے ”تمیم،، اور ،،قیس،، کی لغت بھی یہی ہے، فتح اہل حجاز کی لغت ہے اور حفص کی روایت میں دونوں ہی ہیں یعنی ”مجریہا ومرسٰہا،،۔۔۔

Last edited by شکاری; 25-11-11 at 09:48 PM.
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (26-11-11), حیدر (25-11-11), شمشاد احمد (25-11-11), عبداللہ آدم (25-11-11)
پرانا 25-11-11, 09:14 PM   #14
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

پھر اگر یہ احرف منسوخ نہیں ہیں تو ان پر تلاوت کی جاسکتی ہے کیا؟؟ اصل سوال یہ ہے جو سارے لوگن کو چین نہیں لینے دے رہا !!! منھم شیخ فیصل و الحیدر و . . . . .
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (26-11-11), حیدر (25-11-11), شمشاد احمد (25-11-11)
پرانا 25-11-11, 09:37 PM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
2: حدیث موجود مراسلہ نمبر ایک اور پھر حضرت عثمان غنی کی طرف سے قرآن کو ایک قرآت پر پیش کرنا ، اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سات قراتوں میں قرآن پڑھنے کی اجازت اللہ کی طرف سے ہماری آسانی کے لیے تھی۔ تاہم اللہ کو پسند یہی تھا کہ قرآن کو ایک ہی قرآت میں پڑھا جائے۔اسی لیے تو اللہ نے ایک قرآت میں پڑھنے کا حکم دیا تھا۔ ایسے میں اگر چند لوگ صرف ایک قرات پر اصرار کرتے ہیں تو ان کو گناہ گار سمجھنا ۔۔۔کیوں؟
دراصل سبعہ احرف کا معاملہ ایسا نہیں ہے کہ آپ کو ہر علیحدہ قراءت یاد ہونی چاہئے یا پڑھنی ضروری ہے۔ بلکہ قرآن کسی بھی ایک قراءت میں‌پڑھ لیا جائے وہ کافی ہے۔ اور اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث‌موجود ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ سبعہ احرف آسانی اسی صورت میں بن سکتی ہے جب اس میں‌اپنی مرضی کی قراءت کا اختیار ہو، ورنہ تمام قراءات لازم کرنے سے تو مشکل یقیناً بڑھ جائے گی۔

لہٰذا جو شخص پوری زندگی صرف مثلاً روایت حفص کے مطابق قراءت کرتا رہا تو وہ کسی خیر سے محروم نہیں ہوگیا۔ قرآن کی ہر روایت بالکل کافی و شافی ہے۔ جو لوگ ان قراءات کا انکار جہل کی بنیاد پر کرتے ہیں ان کے لئے علیحدہ حکم ہے اور جو ضد و تعصب میں‌انکار کرتے ہیں ان کا علیحدہ۔ یہاں چونکہ فتویٰ بازی مقصود نہیں ۔اور نہ ہی اس کا کچھ فائدہ ہے۔اس لئے بس وہی بات دہرانا چاہوں گا جو بار بار واضح‌کر چکا ہوں کہ اگر ان قراءات کو منزل من اللہ نہ مانا جائے تو سب سے بڑی خرابی یہ پیدا ہوتی ہے کہ یہ ماننا پڑے گا کہ یہ مختلف روایات جو اس وقت دنیا میں موجود ہیں، یہ تحریف قرآن ہیں۔ اور تحریف بھی ایسی کہ امت کو خبر ہی نہیں‌کہ وہ قرآن سمجھ کر غیرازقرآن کی تلاوت جاری رکھے ہوئے ہے۔ اور نتیجہ یہ نکلے گا کہ آپ کبھی یہ دعویٰ‌نہیں کر سکیں‌گے کہ قرآن ایک محفوظ کتاب ہے جس کی حفاظت اللہ تعالیٰ‌کے ذمہ ہے۔

اور دوسری اہم ترین بات ہم عوام الناس کے نوٹ کرنے کی یہ ہے کہ پوری امت ان مختلف قراءات کے قرآن ہونے پر دور نزول قرآن سے اب تک متفق و متحد ہے۔ الحمدللہ۔ اور یہ قراءات کے منزل من اللہ ہونے کی بجائے خود سب سے بڑی دلیل ہے۔
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (26-11-11), ھارون اعظم (09-12-11), حیدر (25-11-11), شمشاد احمد (25-11-11), عبداللہ آدم (25-11-11)
جواب

Tags
color, magenta, ہیں،, ہوتے, ہے،, کوشش, کار, گئی, وسلم, قرآن, قران, مقصد, اللہ, تصویر, جائے, حکم, دیکھ, دے, دعا, طور, علم, علمی, علاقے, صبر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
مطالعہ ۔۔ کیوں، کیا، کیسے؟ ایکسٹو تعلیم و تربیت 0 26-09-10 03:55 PM
جامعۃ الازہر میں نقاب پر پابندی احمدنواز عمومی بحث 22 15-10-09 05:13 AM
مشاجرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں اہل السنۃ والجماعۃ کا موقف sahj تاریخ و عبر 0 04-10-09 03:39 PM
جمعۃ المبارک فضائل Real_Light نماز 0 20-09-08 02:31 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:05 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger