واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم



علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم


شَھَادَتُ الْفُرْقَان علیٰ جَمْعِ الْقُرْاٰن : کاتب کتابت اور کتاب

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-11-11, 12:24 PM   #1
شَھَادَتُ الْفُرْقَان علیٰ جَمْعِ الْقُرْاٰن : کاتب کتابت اور کتاب
rana ammar mazhar rana ammar mazhar آن لائن ہے 27-11-11, 12:24 PM

شَھَادَتُ الْفُرْقَان علیٰ جَمْعِ الْقُرْاٰن : کاتب کتابت اور کتاب

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

فھرست::
تمہید:
مذہب اسلام کا ظہور اور قرآنِ مجید کی اشاعت ۔
ابراہیم اور اسمٰعیل علیھما السلام کی مشترکہ دعا۔
مکّہ میں بیت اللہ،روزاول سے مرجع عالم قرار دیاگیا۔
اللہ کاایمان والوں پر احسان کہ انہیں میں سے رسول بھیجا۔
میں تم میں عمر کا ایک حصّہ گزار چکا ہوں۔ کیا تم سوچتے نہیں؟
سب انسانوں کی طرف اللہ کا رسول --نبیوں کا ختم کرنا والا ہے ۔
بد ی کا مقابلہ اعلیٰ درجے کی نیکی سے کرو۔
فصلِ اوّل :1
کلماتِ وحی کا بصورت کتاب مرتب کرنا ابنیاء کی سُنتِ قدیمہ تھی۔
فصل دوم: 2
قرآن مجید کے نزول کے وقت کاغذ کا استعمال ہوتا تھا اورسلسلہ کتابت جاری تھا ۔
فصل سوم : 3
قرآن مجید نے فن کتابت کی اصل عظمت بحال رکھی ۔
ا ورمذہبی تحریرات کی قدرومنزلت کی حد قائم کی۔
وہ آیات جن میں اپنی طرف سے کتاب اللہ کو پیش کیا گیا ہے۔
آیات جن میں فریق مقابل سے آسمانی کتاب کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
فصل چہارم :4
قرآن مجید کی وحی کو بصورت کتاب دیکھنے کے متعلق قوم کی متفقہ خواہش تھی ۔
جماعت اوّل : مومنین کی خواہش ۔
جماعت دوم:مستہزئین کی خواہش۔
جماعت سوم :معترضین کی خواہش۔
فصل پنجم : 5
وحی کی کتابت ایک جماعت صالحہ کے اہتمام میں تھی ۔
فصل ششم: 6
کلمات وحی نزول کے بعد سب سے پہلے قرآن مجید میں لکھے جاتے تھے۔
فصل ہفتم : 7
قرآن مجید کی ترتیب وحی سے ہوئی ۔
وہ آیات جن سے خالص ترتیب کے مسئلہ پر روشنی پڑتی ہے۔
قرآن مجید باوجود متفرق طور پر نازل ہونے کے با ترتیب رکھا جاتا تھا ۔
قرآن مجید کی ترتیب کی تبدیلی پر وعید مرقوم ہے ۔
فصلِ ہشتم: 8
صفدربارِ رسالت میں قرآن مجید کا ایک جامع اور مرتب نسخہ ہر وقت موجود رہتا تھا ۔
آیات جن میں جناب خاتم النبین ﷺ کے ایمان بالکتاب کا بیان ہے ۔
آیات جن میں مخاطبین رسالت کو اصل مکتوب نسخہ قرآن مجید کی دعوت کی گئی ہے ۔
آیات جن سے اسی قرآن مجید کا نصاب تعلیم مقرر ہونا پایا جاتا ہے ۔
آیات جن سے جناب خاتم النبین ﷺ کے پاس وعظ ونصیحت کے وقت نسخہ قرآن مجید مکتوب کا موجودہونا پایا جاتا ہے۔
آیات جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مخاطبین کے سامنے ایک مرتب قرآن مجید غورو فکر کے واسطے پیش کیا جاتا تھا ۔
آیات جن سے قرآن مجید کا جامع وحی اور مُفصّل ہونا پایا جاتا ہے ۔
فصلِ نہم:9
اصل نسخہ قرآن مجید کی حفاظت میں سعی بلیغ کی جاتی تھی۔
نتیجہ: یہ قرآن مجید ایک محفوظ کتاب کی شکل میں ہے۔
قرآن مجید احسن الحدیث ہے۔
فصل دہم: 10
قرآن مجید کی نقول کی حفاظت کے واسطے مناسب ہدایات صادر کی گئیں۔
ضمن اول :کتاب اللہ کی کثرتِ اشاعت۔
ضمن دوم:کتاب اللہ کی دعوت کرنے والوں کا تقرر۔
ضمن سوم :کتاب اللہ کی اشاعت کا اہتمام ۔
ضمن چہارم :کتاب اللہ کے حفظ کا اہتمام ۔
ضمن پنجم :کتاب اللہ کی قرأت کا اہتمام ۔
فصل یازدہم : 11
قرآن مجید کو اصحاب کرام جناب خاتم النبین ﷺ سے بطور مذہبی وراثت کے حاصل کرتے رہے۔
جماعت اوّل :اس گرو ہ میں وہ لوگ داخل تھے جن کا مقصد یہ تھا کہ مسلمین کی جماعت میں تفرقہ ڈالیں۔
جماعت دوم : اس گروہ کا مقصد یہ تھا کہ قرآن مجید کی سماعت اور اطاعت کا اقرار کیا جائے تاکہ بد گمانی سے بچے رہیں ۔
یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی زبانی باتوں سے بجھا دیں۔
جماعت مومنین کے ہاتھوں میں یہ کتاب (قرآن مجید) بطور مذہبی وراثت کے پہنچتی گئی ۔
فصلِ دوازدہم: 12
اصحاب کرام کو قرآن مجید تفویض کرنے کے وقت شہداءِ کتابُ اللہ قرار دیا گیا ۔
شہادت کے چھپانے کے نتائج۔
فصل سیزدہم :13
قرآنِ مجید ایک کامل کتاب ہے ۔
عبادت کے لائق وہی رب العالمین ہے۔
دین میں زبردستی نہیں ہے ۔
آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا ۔
انسان کو اللہ تعالیٰ کی پناہ میں رہنے کا آرزو مند ہونا چاہئے۔

ـــــــــ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ (2:32) البقرۃ
انہوں نے کہا، تو پاک ہے۔ جتنا علم تو نے ہمیں بخشا ہے، اس کے سوا ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ بے شک تو دانا (اور) حکمت والا ہے
They said: "Glory to Thee, of knowledge We have none, save what Thou Hast taught us: In truth it is Thou Who art perfect in knowledge and wisdom."‎

شَھَادَتُ الْفُرْقَان علیٰ جَمْعِ الْقُرْاٰن
ـــــــــ
تمہید

مذہب اسلام کا ظہور اور قرآنِ مجید کی اشاعت ۔

دنیا کے جلیل القدرمذاہب( ادیان) میں سے اسلام آخری مذہب( دین )ہے۔ اس کا ظہور براعظم ایشیاء کے ملک عرب میں ہوا ۔ اسی مذہب( دین) نے، اس خطرناک زمانے کا خاتمہ کیا ،جس میں اہل عالم کی عملی حالت بالکل بگڑ چکی تھی ۔ چاروں طرف ظلمت اور ضلالت کے سوا کچھ دکھائی نہ دیتا تھا ۔ انسان اپنے اعمالِ بد کے حسرتناک نتیجے بھگت رہے تھے ۔ انسانی شرافت کے جوہر اخلاقی کثافت کی وجہ سے قریباً زائل ہو چکے تھے ۔ دیکھو آیت ذیل : (1)
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (30:41)الرّوم
خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے تاکہ خدا اُن کو اُن کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے عجب نہیں کہ وہ باز آجائیں
Mischief has appeared on land and sea because of (the meed) that the hands of men have earned, that (Allah) may give them a taste of some of their deeds: in order that they may turn back (from Evil).‎
خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال (بد) کی وجہ سے فساد پھیل گیا، تاکہ اللہُ ان کے بعض اعمال کا نتیجہُ ان کو چکھائے تاکہ وہ باز آجائیں ۔
اس مذہب کے ہادی بر حق کا مقدس او ر قابل احترام نام محمد رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم )ہے۔ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اُس پر آشوب زمانے میں مشعل ہدایت روشن کرکے دُنیا کو سلامتی کی راہیں دکھلادیں ، حسنات وبرکات سے بہرہ و ر کیا ، نوع انسان کے واسطے مواعظ الٰہی کا پُر حکمت سلسلہ جاری کیا ، روحانی بیماریوں کا علاج بتلایا،صراط مستقیم کے آرزو مندوں کے واسطے ہدایت اور رحمت کے دروازے کھول دئیے۔
دیکھو آیات ذیل : (2) (3)
يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِمَّا كُنْتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُبِينٌ (5:15) المائدہ
اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے
O people of the Book! There hath come to you our Messenger, revealing to you much that ye used to hide in the Book, and passing over much (that is now unnecessary): There hath come to you from Allah a (new) light and a perspicuous Book, -‎
يَهْدِي بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (5:16) المائدہ
جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے
Wherewith Allah guideth all who seek His good pleasure to ways of peace and safety, and leadeth them out of darkness, by His will, unto the light,- guideth them to a path that is straight.‎
بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی یعنی کتاب (ہر ایک بات کو) بیان کرنے والی آئی ہے۔ اللہ اس کی سلامتی کے راستو ں کی اُس شخص کو ہدایت کرتا ہے جو اس کی رضا مندی چاہتا ہے ۔اور ان کو اپنے حکم کے ذریعے اندھیروں سے روشنی میں نکالتا ہے اور اُن کو سیدھے راستے کی ہدایت کرتا ہے ۔
يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ (10:57) یونس
لوگو تمہارے پروردگار کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کی شفا۔ اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت آپہنچی ہے
O mankind! there hath come to you a direction from your Lord and a healing for the (diseases) in your hearts,- and for those who believe, a guidance and a Mercy.‎
اے لوگو بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی ہے ۔ اور علاج اُس بیماری کا جو دلوں میں ہے۔ اورایمان لانے والوں کے واسطے ہدایت اوررحمت ہے۔
اس ہادی عالم کا سلسلہ نسب اپنے جد اعلیٰ جناب ابراہیم علیہ السلام کے خاندان رسالت سے بواسطۂ جناب اسماعیل علیہ السلام ملتا ہے ۔ ان دونوں بزرگوارں نے مُلک عرب میں جس رسول کی بعثت کے واسطے د عا کی ، اور جس کو جناب باری تعالیٰ نے قبولیت کا شرف بخشا ، اس کا ظہور اسی فخر دوعالم کے وجود باجود سے ہوا ۔ دیکھو آیات ذیل: (4)
وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ( 2:127 ) البقرۃ
اور جب ابراہیم اور اسمٰعیل بیت الله کی بنیادیں اونچی کر رہے تھے (تو دعا کئے جاتے تھے کہ) اے پروردگار، ہم سے یہ خدمت قبول فرما۔ بےشک تو سننے والا (اور) جاننے والا ہے
And remember Abraham and Isma'il raised the foundations of the House (With this prayer): "Our Lord! Accept (this service) from us: For Thou art the All-Hearing, the All-knowing.‎
رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ( 2:128 ) البقرۃ
اے پروردگار، ہم کو اپنا فرمانبردار بنائے رکھیو۔ اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک گروہ کو اپنا مطیع بنائے رہیو، اور (پروردگار) ہمیں طریق عبادت بتا اور ہمارے حال پر (رحم کے ساتھ) توجہ فرما۔ بے شک تو توجہ فرمانے والا مہربان ہے
"Our Lord! make of us Muslims, bowing to Thy (Will), and of our progeny a people Muslim, bowing to Thy (will); and show us our place for the celebration of (due) rites; and turn unto us (in Mercy); for Thou art the Oft-Returning, Most Merciful.‎
رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (2:129) البقرۃ
اے پروردگار، ان (لوگوں) میں انہیں میں سے ایک پیغمبر مبعوث کی جیو جو ان کو تیری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنایا کرے اور کتاب اور دانائی سکھایا کرے اور ان (کے دلوں) کو پاک صاف کیا کرے۔ بےشک تو غالب اور صاحبِ حکمت ہے
"Our Lord! send amongst them a Messenger of their own, who shall rehearse Thy Signs to them and instruct them in scripture and wisdom, and sanctify them: For Thou art the Exalted in Might, the Wise."‎
اور جب ابراہیم ؑ کعبہ کی دیواریں اٹھا چکا اور اسما عیل ؑ (اس کے ) ساتھ تھا (تو دونوں نے کہا )اے ہمارے رب اس کو ہم سے قبول کر، بے شک تو سننے والا جاننے والا ہے۔ اے ہمارے رب ہم دونوں کو اپنے فرمانبردار رکھ ، اور ہماری اولاد کو اپنی فرما نبردارامت بنا، اور ہم کو ہماری عبادت کے طریقے دکھا اور ہم کو معاف کر، بے شک تو ہی بڑا معاف کرنے والا مہربان ہے ،اے ہمارے رب انہیں میں سے ایک رسول مبعوث کر کہ ان کو تیرے احکام سنائے اوران کو کتاب وحکمت کی تعلیم دے اور ان کو تزکیہٌ نفس کی راہ بتلائے۔ بے شک تو ہی غالب حکمت والا ہے ۔
ان آیات سے امور ذیل معلوم ہوتے ہیں ۔
1۔بیت اللہ کی تعمیر میں جناب ابراہیم واسماعیل علیھما السّلام دونوں شریک تھے ۔
2۔تعمیر کے زمانے میں جناب اسماعیل علیہ السلام مکلف تھے ۔ یہ امر اُن کی اُن دعاؤں سے ظاہر ہے جو انہوں نے تعمیر بیت اللہ کے بعد مانگیں اور جن کے مانگنے کی مکلف ہونے کے بعد ہی ضرورت ہوتی ہے ۔
3۔ دونوں قابل ادب اجداد نے شاخِ جناب اسماعیل ؑ کی ذریت میں اور ملک عرب میں جہاں بیت اللہ کی تعمیر کی تھی ایک رسول کے مبعوث ہونے کی دعا کی ۔
یہ بیت اللہ جس کی تعمیر کرنے والے دو اولُوالعزم رسول باپ بیٹا تھے اورجس کو اول بناء کے وقت ہی مرجع عالم قرار دینا منظور تھا۔ اس کی عزت مُلکِ عرب کے شہر مکہ کو حاصل ہوئی ۔ دیکھو آیت ذیل: (5)
إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ (3:96) اٰل عمران
پہلا گھر جو لوگوں (کے عبادت کرنے) کے لیے مقرر کیا گیا تھا وہی ہے جو مکے میں ہے بابرکت اور جہاں کے لیے موجبِ ہدایت
The first House (of worship) appointed for men was that at Bakka: Full of blessing and of guidance for all kinds of beings:‎
فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَقَامُ إِبْرَاهِيمَ ۖ وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا ۗ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ (3:97) اٰل عمران
اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں جن میں سے ایک ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جو شخص اس (مبارک) گھر میں داخل ہوا اس نے امن پا لیا اور لوگوں پر خدا کا حق (یعنی فرض) ہے کہ جو اس گھر تک جانے کا مقدور رکھے وہ اس کا حج کرے اور جو اس حکم کی تعمیل نہ کرے گا تو خدا بھی اہلِ عالم سے بے نیاز ہے
In it are Signs Manifest; (for example), the Station of Abraham; whoever enters it attains security; Pilgrimage thereto is a duty men owe to Allah,- those who can afford the journey; but if any deny faith, Allah stands not in need of any of His creatures.‎
بے شک پہلا گھر جو لوگوں کے لیے ( اللہ کی عبادت کرنے کو ) بنایا گیا ہے، وہ ہے جو مکہ میں ہے ، مبارک اور(موجب ) ہدایت ہے اہل عالم کے لئے ، اس میں صریح نشانیاں ہیں مقام ابراہیم کی ۔
اس دعا کے قبول ہونے پر برکاتِ آسمانی کے نزول کے واسطے جناب ابراہیم ؑ نے وادی مکہ میں اسی بیت اللہ کے قریب ایک مقام پر اپنی پیاری اولاد کو آباد کیا ، تاکہ بُت پرستی دُور ہو، اور اُس کی جگہ عبادت الٰہی کا سلسلہ مستقل طور پر قائم ہو ۔دیکھو آیات ذیل: (7) (6)
وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنَامَ (14:35) ابرٰھیم
اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ میرے پروردگار اس شہر کو (لوگوں کے لیے) امن کی جگہ بنا دے۔ اور مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے کہ بتوں کی پرستش کرنے لگیں بچائے رکھ
Remember Abraham said: "O my Lord! make this city one of peace and security: and preserve me and my sons from worshipping idols.‎
اور جب ابراہیم ؑ نے کہا اے میرے رب کر دے اس شہر (مکہ) کو امن والا اور مجھ کو اور میرے بیٹوں کو بتوں کی پرستش سے الگ رکھ ۔
رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ (14:37) ابرٰھیم
اے پروردگار میں نے اپنی اولاد کو میدان (مکہ) میں جہاں کھیتی نہیں تیرے عزت (وادب) والے گھر کے پاس لابسائی ہے۔ اے پروردگار تاکہ یہ نماز پڑھیں تو لوگوں کے دلوں کو ایسا کر دے کہ ان کی طرف جھکے رہیں اور ان کو میوؤں سے روزی دے تاکہ (تیرا) شکر کریں
"O our Lord! I have made some of my offspring to dwell in a valley without cultivation, by Thy Sacred House; in order, O our Lord, that they may establish regular Prayer: so fill the hearts of some among men with love towards them, and feed them with fruits: so that they may give thanks.‎
اے ہمارے رب بے شک میں نے اپنی بعض اولاد کو ،بن کھیتی کے میدان میں، تیرے حرمت والے گھر کے پاس آباد کیا ہے ، اے ہمارے رب (اس آبادی کی غرض یہ ہے ) کہ وہ صلوٰۃ قائم رکھیں ۔
ان آیات میں امور ذیل بتلائے گئے ہیں ۔
1۔ جناب ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بعض اولاد کو وادئ مکہ میں آباد کیا ۔
2۔آبادی کا موقع بیت اللہ کے متصل تھا جس کو دونوں بزرگوں نے مل کر تعمیر کیا تھا ۔
3۔آبادی کی غرض یہ تھی کہ تعمیر بیت اللہ کے بعدبُت پرستی کی جگہ خالص ربُّ العالمین
کے حضور میں مستقل سلسلہ ادائے صلوٰۃ قائم ہو ۔
دونوں برگزیدہ رسول اس امر کو اپنی زندگی کا اعلیٰ مقصد سمجھتے رہے جس کی کیفیت آیات ذیل سے معلوم ہوتی ہے ۔( 9 ) ( 8 )
رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ (14:40) ابرٰھیم
اے پروردگار مجھ کو (ایسی توفیق عنایت) کر کہ نماز پڑھتا رہوں اور میری اولاد کو بھی (یہ توفیق بخش) اے پروردگار میری دعا قبول فرما
O my Lord! make me one who establishes regular Prayer, and also (raise such) among my offspring O our Lord! and accept Thou my Prayer.‎
اے میرے رب مجھ کو صلوٰۃ قائم رکھنے والا کر اور میری اولاد کو بھی ۔ اے ہمارے رب میری دعا قبول فرما ۔
وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِسْمَاعِيلَ ۚ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُولًا نَبِيًّا (19:54) مریم
اور کتاب میں اسمٰعیل کا بھی ذکر کرو وہ وعدے کے سچے اور ہمارے بھیجے ہوئے نبی تھے
Also mention in the Book (the story of) Isma'il: He was (strictly) true to what he promised, and he was a messenger (and) a prophet.‎
وَكَانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَكَانَ عِنْدَ رَبِّهِ مَرْضِيًّا (19:55) مریم
اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰة کا حکم کرتے تھے اور اپنے پروردگار کے ہاں پسندیدہ (وبرگزیدہ) تھے
He used to enjoin on his people Prayer and Charity, and he was most acceptable in the sight of his Lord.‎
اورکتاب میں (اے رسول ؐ)اسماعیل ؑ کا حال یاد کر بے شک و ہ وعدے کا سچاتھا ، اور رسول نبی تھا، اور اپنے اہل کو صلوٰۃ اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا اور اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھا ۔
آیت نمبر 8 میں جناب ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہے کہ جس اقامتِ صلوٰۃ کی خدمت پر وہ مامور ہیں اُس پر وہ اور اُن کی اولاد استقلال سے قائم رہے۔
آیت نمبر 9 میں ہے کہ جناب اسمٰعیل علیہ السلام نے اپنے قابلِ احترام باپ کی منشاء کو پورا کیا اور اپنے تابعین کو ہمیشہ ادائے صلوٰۃ کا حکم دیتے رہے ۔
خاندان حضرت ابراہیم ؑ کے آفتاب جنابِ رسالت مآب کو نہایت استقلال سے اسی اہم خدمت کے انجام دینے کا حکم ہوا ۔ دیکھو آیات ذیل :
-1
وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا ۖ لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا ۖ نَحْنُ نَرْزُقُكَ ۗ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَى (20:132) طٰہٰ
اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کرو اور اس پر قائم رہو۔ ہم تم سے روزی کے خواستگار نہیں۔ بلکہ تمہیں ہم روزی دیتے ہیں اور (نیک) انجام (اہل) تقویٰ کا ہے
Enjoin prayer on thy people, and be constant therein. We ask thee not to provide sustenance: We provide it for thee. But the (fruit of) the Hereafter is for righteousness.‎
اور(اے رسولؐ ؐ) اپنے اہل کو صلوٰۃ قائم رکھنے کا حکم دے اور اس پر صبر کر۔
-2
اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ ۖ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ۗ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ (29:45) العنکبوت
(اے محمدﷺ! یہ) کتاب جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے اس کو پڑھا کرو اور نماز کے پابند رہو۔ کچھ شک نہیں کہ نماز بےحیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے۔ اور خدا کا ذکر بڑا (اچھا کام) ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اُسے جانتا ہے
Recite what is sent of the Book by inspiration to thee, and establish regular Prayer: for Prayer restrains from shameful and unjust deeds; and remembrance of Allah is the greatest (thing in life) without doubt. And Allah knows the (deeds) that ye do.‎
پڑھ سُنا کتاب سے جو تیری طرف وحی کیا گیا ہے اور قائم رکھ صلوٰۃ۔ بے شک صلوٰۃ بُرائیوں سے ا ور بُت پرستی سے روکتی ہے اور بے شک اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے اور اللہ جانتا ہے جو تم بنالیتے ہو ۔
چونکہ رسول ؐ موعود کی بعثت اسی ملک اور اسی ذُرِّیَّتْ ( اولا د) میں مقدر تھی جس کا اوپر بیان ہو چکا ہے ۔ اس واسطے چشمۂ ہدایت کے اُبلنے کا مقام بھی ملک عرب میں رَبُّ النّٰاس کا معبد اوّل ہی قرار پایا اور نورِ ہدایت بھی عربی زبان میں جلوہ افروز ہوا اور دعا مندرجہ آیت (4)کی قبولیت کا اُسی شکل میں اعلان کیا گیا جس میں وہ بیت اللہ کی تعمیر ہو جانے کے وقت مانگی تھی ۔ دیکھو آیت ذیل (10) :
لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ (3:164) اٰل عمرٰن
خدا نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں انہیں میں سے ایک پیغمبر بھیجے۔ جو ان کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور ان کو پاک کرتے اور (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں اور پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے
Allah did confer a great favour on the believers when He sent among them a messenger from among themselves, rehearsing unto them the Signs of Allah, sanctifying them, and instructing them in Scripture and Wisdom, while, before that, they had been in manifest error.‎
بے شک اللہ نے ایمان والوں پر احسان کیا ہے ،جب اُن میں انہیں میں سے رسول بھیجا ہے جو اُن کو اللہ کے احکام پڑھ کر سُناتا ہے ۔ اور ان کو تزکیہ نفس کی راہ بتلاتا ہے اور ان کو کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے اور بے شک وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے ۔
انبیا ء سابقین کے ذریعے دُنیا کو اسی رسالت کی بشارت مل چکی تھی۔ چنانچہ ظہورا سلام کے مبارک زمانے میں اُن جماعتوں کو جو آسمانی مذاہب کی پابند تھیں اُن بشارات کی طرف توجہ دلائی گئی جو پہلے نبیوں کی کتابوں میں اسی رسالت عظیمہ کے حق میں مرقوم تھیں ۔دیکھو آیاتِ ذیل (11):
وَإِنَّهُ لَتَنْزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ (26:192) الشعرا
اور یہ قرآن (خدائے) پروردگار عالم کا اُتارا ہوا ہے
Verily this is a Revelation from the Lord of the Worlds:‎
نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ (26:193) الشعرا
اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اُترا ہے
With it came down the spirit of Faith and Truth-‎
عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ (26:194) الشعرا
(یعنی اس نے) تمہارے دل پر (القا) کیا ہے تاکہ (لوگوں کو) نصیحت کرتے رہو
To thy heart and mind, that thou mayest admonish.‎
بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ (26:195) الشعرا
اور (القا بھی) فصیح عربی زبان میں (کیا ہے)
In the perspicuous Arabic tongue.‎
وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِينَ (26:196) الشعرا
اور اس کی خبر پہلے پیغمبروں کی کتابوں میں (لکھی ہوئی) ہے
Without doubt it is (announced) in the mystic Books of former peoples.‎
أَوَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ آيَةً أَنْ يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ (26:197) الشعرا
کیا ان کے لئے یہ سند نہیں ہے کہ علمائے بنی اسرائیل اس (بات) کو جانتے ہیں
Is it not a Sign to them that the Learned of the Children of Israel knew it (as true)?‎
وَلَوْ نَزَّلْنَاهُ عَلَى بَعْضِ الْأَعْجَمِينَ ( 26:198 ) الشعرا
اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اُتارتے
Had We revealed it to any of the non-Arabs,‎
فَقَرَأَهُ عَلَيْهِمْ مَا كَانُوا بِهِ مُؤْمِنِينَ ( 26:199 ) الشعرا
اور وہ اسے ان (لوگوں کو) پڑھ کر سناتا تو یہ اسے (کبھی) نہ مانتے
And had he recited it to them, they would not have believed in it.‎
اور یہ ترتیب قرآن رب العٰلمین کی ہے۔ اس کو روح الامین تیرے قلب پر لایا ہے۔ تاکہ تو آگا ہ کرنے والوں میں سے ہو۔ عربی بیان کرنے والی زبان میں۔ اور بے شک یہ پہلے نبیوں کی کتابوں میں مرقوم ہے ۔ کیا ان لوگوں کے واسطے نشان نہیں ہے کہ اس امر کو بنی اسرائیل کے عالم جانتے ہیں ۔اوراگر ہم اس قرآن کو کسی عجمی پر نازل کرتے پھر وہ اس کو انہیں پڑھ سناتا، یہ لوگ اس کو نہ مانتے۔
ان آیات سے امورِ ذیل کا انکشاف ہوتا ہے۔
1۔ قرآن مجید ایسی روح کے ذریعے سے جناب خاتم النبین ﷺ کے قلب پر نازل ہوا ہے جو امین تھی۔
2۔ قرآن مجید کی اصل زبان عربی ہے اور امور مندرجہ کی پوری وضاحت کرنے والی ہے۔
3۔ مُلک عرب میں جنابِ اسماعیل علیہ السلام کی شاخ سے رسولِ موعود کے مبعوث ہونے کا حال پہلی کتابوں میں مرقوم ہے ۔ اور بنی اسرائیل کے علما ء اس امر کو جانتے ہیں ۔
4۔ضرور تھا کہ قرآنِ مجید اس مُلک اور اسی ذُرِّیَّت میں عربی زبان میں نازل ہو ، تاکہ سلسلہ بشارات بوجہ احسن پُور ا ہو ۔
جناب رسولِ موعودؐ نے حسب ارشاد ربُ العالمین اپنی گزشتہ اور موجود زندگی کو بڑی دلیری سے ابناء وطن کے سامنے پیش کیا اور اس امتحان میں اُن کو آزادی سے نکتہ چینی کا موقع دیا ۔ اس طریق عمل نے اور بھی واضح کر دیا کہ اللہ تعالیٰ کا انتخاب قابلِ گرفت نہیں ہو سکتا اور قرآن مجید کی تعلیم سلامت روی اور صراط مستقیم پر مبنی ہے جس کا بڑا کام یہ ہے کہ لوگوں کو آنے والے سخت عذاب سے جو نتائج اعمال کی صورت میں ظاہر ہو گا قبل از وقت متنبہ کیا جائے ۔دیکھو آیات ذیل : ( 14 ) (13) (12)
أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا ۗ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِنْ جِنَّةٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ ( 7:184 ) (الاعراف
کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے رفیق محمد (ﷺ) کو (کسی طرح کا بھی) جنون نہیں ہے۔ وہ تو ظاہر ظہور ڈر سنانے والے ہیں
Do they not reflect? Their companion is not seized with madness: he is but a perspicuous warner.‎
کیا انہوں نے غورنہیں کیا کہ ان کے ساتھی (رسول موعودؐ) کو کچھ جنون نہیں ہے وہ تو صرف (بُری باتوں ) سے علانیہ آگاہ کرنے والا ہے۔
قُلْ لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلَا أَدْرَاكُمْ بِهِ ۖ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ( 10:16 ) یونس
(یہ بھی) کہہ دو کہ اگر خدا چاہتا تو (نہ تو) میں ہی یہ (کتاب) تم کو پڑھ کر سناتا اور نہ وہی تمہیں اس سے واقف کرتا۔ میں اس سے پہلے تم میں ایک عمر رہا ہوں (اور کبھی ایک کلمہ بھی اس طرح کا نہیں کہا) بھلا تم سمجھتے نہیں
Say: "If Allah had so willed, I should not have rehearsed it to you, nor would He have made it known to you. A whole life-time before this have I tarried amongst you: will ye not then understand?"‎
(اے رسول ؐ) کہہ دے کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ میں اِس قرآن مجید کو تمہارے سامنے پڑھتا اور نہ اللہ تم کو اس سے آگاہ کرتا، پھر میں بے شک تم میں اس سے پہلے عمر کا ایک حصّہ گزار چکا ہوں۔ کیا تم سوچتے نہیں ؟
قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ ۖ أَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنَى وَفُرَادَى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا ۚ مَا بِصَاحِبِكُمْ مِنْ جِنَّةٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ (34:46) سبا
کہہ دو کہ میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم خدا کے لئے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہوجاؤ پھر غور کرو۔ تمہارے رفیق کو سودا نہیں وہ تم کو عذاب سخت (کے آنے) سے پہلے صرف ڈرانے والے ہیں
Say: "I do admonish you on one point: that ye do stand up before Allah,- (It may be) in pairs, or (it may be) singly,- and reflect (within yourselves): your Companion is not possessed: he is no less than a warner to you, in face of a terrible Penalty."‎
(اے رسولؐ) کہہ دے میں تم کو صرف ایک امر کی نصیحت کرتا ہوں ، یہ کہ تم اللہ کے لئے دودو یا ایک ایک مل کر تیار ہو جاؤ ،پھر غور کرو، تمہارے ساتھی (رسولِ موعود)کو کچھ جنون نہیں،وہ تو صرف بُری باتوں سے اعلانیہ آگاہ کرنے والا ہے۔
انجام کار نہایت واضح طور پر بتلا دیا کہ جس طرح عاملان قدرت(شمس و قمر و نجم)اپنی رفتار میں غلط راہ اختیار نہیں کرتے،اسی طرح اس رسول کی زندگی بھی گم راہی سے محفوظ اور سرکشی سے مبرّا ہے۔دیکھو آیت ذیل(15):
وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى (53:1) النجم
تارے کی قسم جب غائب ہونے لگے
By the Star when it goes down,-‎
مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَى (53:2) النجم
کہ تمہارے رفیق (محمدﷺ) نہ رستہ بھولے ہیں نہ بھٹکے ہیں
Your Companion is neither astray nor being misled.‎
قسم ہے نجم کی،جب وہ اپنا دورہ کرتا ہے ،تمہارا ساتھی (رسول موعودؐ)نہ کبھی گم راہ ہوا ہے اور نہ سر کش ہوا ہے ۔
جناب ممدوح کے واقعی منصب کی نسبت کبھی کوئی غلط فہمی پیدا نہیں کی گئی نہ کوئی ابہام رکھا گیا ہے ، بلکہ نہایت وضاحت سے بیان کیا گیا کہ یہ رسول قدرت کے خزانوں کا مالک نہیں ، غیب نہیں جانتا ، فرشتہ نہیں ، منفعت اور مضرت میں اس کی ذات بھی اور انسانوں کی طرح اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین قدرت کے تابع ہے ۔ اس کا منصب یہ ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی وحی کے تابع ہو کر دُنیا کو بُرے کاموں کے بُرے نتائج سے آگاہ کرے اور نیک کاموں کے نیک نتائج کی خوشخبری دے ۔ دیکھو آیات ذیل (17) (16) :
قُلْ لَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُ ۚ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ (6:50) الانعام
کہہ دو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس الله تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ (یہ کہ) میں غیب جانتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتا کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اس حکم پر چلتا ہوں جو مجھے (خدا کی طرف سے) آتا ہے۔ کہہ دو کہ بھلا اندھا اور آنکھ والے برابر ہوتے ہیں؟ تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے
Say: "I tell you not that with me are the treasures of Allah, nor do I know what is hidden, nor do I tell you I am an angel. I but follow what is revealed to me." Say: "can the blind be held equal to the seeing?" Will ye then consider not?‎
(اے رسولؐ ) کہہ دے میں تم کو یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ،نہ یہ کہ میں غیب کی باتیں جانتا ہوں، نہ میں تم کو یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ، میں تو صرف اُس امر کی پیروی کرتا ہوں جس کی میری طر ف وحی ہوئی ہے۔ کہہ دے کیا اندھااور آنکھوں سے دیکھنے والا برابر ہیں ۔کیا پھر تم غور نہیں کرتے ۔1
1 : اَعْمٰی او ر بَصِےْرُ کی تفسیر دوسری آیت میں حسب ذیل کی گئی ہے ۔یعنی حقیقی بصیرت یہ ہے کہ انسان کتاب اللہ کے تابع ہو جائے ۔ دیکھو آیت ذیل :
قَدْ جَاءَكُمْ بَصَائِرُ مِنْ رَبِّكُمْ ۖ فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ عَمِيَ فَعَلَيْهَا ۚ وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيظٍ (6:104) الانعام
(اے محمدﷺ! ان سے کہہ دو کہ) تمہارے (پاس) پروردگار کی طرف سے (روشن) دلیلیں پہنچ چکی ہیں تو جس نے (ان کو آنکھ کھول کر) دیکھا اس نے اپنا بھلا کیا اور جو اندھا بنا رہا اس نے اپنے حق میں برا کیا۔ اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں
"Now have come to you, from your Lord, proofs (to open your eyes): if any will see, it will be for (the good of) his own soul; if any will be blind, it will be to his own (harm): I am not (here) to watch over your doings."‎
بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے دلائل آئے ہیں پھر جس نے ان کو غور سے اپنے (فائدے )کے لیے دیکھا اور جو کوئی ان سے اندھا ہوااُس کا نقصان اُسی کو ہے۔
قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ ۚ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ ۚ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ( 7:188 ) الاعراف
کہہ دو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو الله چاہے اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا اور مجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو مومنوں کو ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں
Say: "I have no power over any good or harm to myself except as Allah willeth. If I had knowledge of the unseen, I should have multiplied all good, and no evil should have touched me: I am but a warner, and a bringer of glad tidings to those who have faith."‎
(اے رسول ؐ) کہہ دے مجھ کو اپنے نفس کے واسطے بھی نفع اور نقصان پہنچانے کی قدرت نہیں مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب کی بات جانتا تو بہت بھلائیاں اکھٹی کر لیتا اور مجھ کو کبھی دُکھ نہ چھوتا، میں تو صرف آگا ہ کرنے والا اورایمان والوں کو خوشخبری دینے والا ہوں۔
یہ رسالت کسی قوم اور مقام کے واسطے مخصوص نہ تھی ، نوع انسان کی ترقی اوربہبودی کی غرض سے ربُّ العٰلمین کے اس پیغام کا تمام دنیا کی طرف خطاب کیا گیا ۔ دیکھو آیا تِ ذیل : (20) (19) ( 18 )
قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ ۖ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمَاتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ( 7:158 ) الاعراف
(اے محمدﷺ) کہہ دو کہ لوگو میں تم سب کی طرف خدا کا بھیجا ہوا (یعنی اس کا رسول) ہوں۔ (وہ) جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندگانی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ تو خدا پر اور اس کے رسول پیغمبر اُمی پر جو خدا پر اور اس کے تمام کلام پر ایمان رکھتے ہیں ایمان لاؤ اور ان کی پیروی کرو تاکہ ہدایت پاؤ
Say: "O men! I am sent unto you all, as the Messenger of Allah, to Whom belongeth the dominion of the heavens and the earth: there is no god but He: it is He That giveth both life and death. So believe in Allah and His Messenger, the Unlettered Prophet, who believeth in Allah and His words: follow him that (so) ye may be guided."‎
کہہ دے( اے رسولؐ ) بے شک میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول( پیغام پہنچانے والا )ہوں۔
تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (25:1) الفرقان
وہ (خدائے غزوجل) بہت ہی بابرکت ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ اہل حال کو ہدایت کرے
Blessed is He who sent down the criterion to His servant, that it may be an admonition to all creatures;-‎
بہت برکت والا وہ اللہ ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل کیا تاکہ وُہ دُنیا کو آگا کرنے والا ہو ۔
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ( 34:28 ) سبا
اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
We have not sent thee but as a universal (Messenger) to men, giving them glad tidings, and warning them (against sin), but most men understand not.‎
اور (اے رسول ؐ)ہم نے تجھ کو نہیں بھیجا مگر سب لوگوں کو بشارت دینے والا اور آگاہ کرنے والا لیکن بہت لوگ نہیں جانتے ۔
اسی مقصد عظیم کی وجہ سے جناب ممدوح کو ختم نبوت کی خلعتِ فاخرہ سے ممتاز فرمایا گیا اورایک جامع قانون عطا فرما کر سلسلہ نبوت کو ہمیشہ کے واسطے یہ کہہ کر ختم کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ جیسا انسان کے گزشتہ حالات سے آگاہ ہے اُسی طرح آئندہ حالات اور ضروریات کا علیم ہے ۔ دیکھو آیت ذیل (21):
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (33:40) الاحزاب
محمدﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں بلکہ خدا کے پیغمبر اور نبیوں (کی نبوت) کی مہر (یعنی اس کو ختم کردینے والے) ہیں اور خدا ہر چیز سے واقف ہے
Muhammad is not the father of any of your men, but (he is) the Messenger of Allah, and the Seal of the Prophets: and Allah has full knowledge of all things.‎
محمدؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں مگر اللہ کا رسول ہے اور نبیوں کا ختم کرنے والا ہے اور اللہ ہر ایک شئی کو جانتا ہے ۔
یہ نوع انسان کا ذی وقار غم خوار اپنی فطرت کاملہ کی وجہ سے نرم مزاج تھا اور انسان کا رنج ومصیبت میں ہونا اُسے نہایت شاق گزرتا تھا ، اُس کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ تمام دُنیا تاریکی میں سے نکل کر حقیقی نور ( قرآن مجید ) کی طرف آئے تاکہ وہ نور زندگی کے دشوار گزار مرحلوں میں ہمیشہ اُن کو صراط مستقیم کی ہدایت کرے ۔یہ مومنین کا دلی شفیق اور تمام عالم کے لیے باعث رحمت تھا ،ا نہیں اخلاق عظیم نے بارگاہ رب العزت سے انہیں رَحْمَۃًلِّلْعٰلَمِےْنَ کا اعلیٰ اعزازی لقب دلایا ۔ دیکھو آیات ذیل(25) (24) (23) (22) :
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ ۖ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ ۖ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ (3:159) اٰل عمران
(اے محمدﷺ) خدا کی مہربانی سے تمہاری افتاد مزاج ان لوگوں کے لئے نرم واقع ہوئی ہے۔ اور اگر تم بدخو اور سخت دل ہوتے تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے۔ تو ان کو معاف کردو اور ان کے لئے (خدا سے) مغفرت مانگو۔ اور اپنے کاموں میں ان سے مشورت لیا کرو۔ اور جب (کسی کام کا) عزم مصمم کرلو تو خدا پر بھروسا رکھو۔ بےشک خدا بھروسا رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے
It is part of the Mercy of Allah that thou dost deal gently with them Wert thou severe or harsh-hearted, they would have broken away from about thee: so pass over (Their faults), and ask for (Allah's) forgiveness for them; and consult them in affairs (of moment). Then, when thou hast Taken a decision put thy trust in Allah. For Allah loves those who put their trust (in Him).‎
پھر ( یہ امر )اللہ کی رحمت سے ہے کہ تو اُن کے لیے نرم مزاج ہوا۔
لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ ( 9:128 ) التّوبَة
(لوگو) تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک پیغمبر آئے ہیں۔ تمہاری تکلیف ان کو گراں معلوم ہوتی ہے اور تمہاری بھلائی کے خواہش مند ہیں اور مومنوں پر نہایت شفقت کرنے والے (اور) مہربان ہیں
Now hath come unto you a Messenger from amongst yourselves: it grieves him that ye should perish: ardently anxious is he over you: to the Believers is he most kind and merciful.‎
بے شک تم میں سے تمہارے پاس رسول ؐآیا ہے ۔ اس کو نا گوار ہے کہ تم دُکھ میں پڑو ، تمہاری بھلائی کا آرزو مند ہے ،ایمان والوں کے ساتھ شفقت کرنے والا مہربان ہے ۔
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ (21:107) الانبیآ
اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو تمام جہان کے لئے رحمت (بنا کر) بھیجا ہے
We sent thee not, but as a Mercy for all creatures.‎
اور اے رسول ؐ ہم نے تجھ کو نہیں بھیجا مگر اہل عالم کے لیے رحمت۔
وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (68:4) القلم
اور اخلاق تمہارے بہت (عالی) ہیں
And thou (standest) on an exalted standard of character.‎
اور بے شک تو بہت بڑے خُلق پر ہے ۔
اس خُلق مجسم رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ نے ہمیشہ بدی اور ایذا کا دفعیہ اعلی درجے کی نیکی سے کیا اسی بر گزیدہ وصف کے سبب اس کی جان کے دُشمن اس پر جان قربان کرنے لگے۔ دیکھو آیات ذیل (27) (26):
ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ ۚ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَصِفُونَ (23:96) أَلْمُؤمِنُوْن
اور بری بات کے جواب میں ایسی بات کہو جو نہایت اچھی ہو۔ اور یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے
Repel evil with that which is best: We are well acquainted with the things they say.‎
(اے رسول ؐ ) بد ی کا مقابلہ اعلیٰ درجے کی نیکی سے کر ، ہم خوب جانتے ہیں جو یہ کافر بیان کرتے ہیں۔
وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (41:34) حٰمٓ السجدۃ
اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی۔ تو (سخت کلامی کا) ایسے طریق سے جواب دو جو بہت اچھا ہو (ایسا کرنے سے تم دیکھو گے) کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمہارا گرم جوش دوست ہے
Nor can goodness and Evil be equal. Repel (Evil) with what is better: Then will he between whom and thee was hatred become as it were thy friend and intimate!‎
وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ (41:35) حٰمٓ السجدۃ
اور یہ بات ان ہی لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو برداشت کرنے والے ہیں۔ اور ان ہی کو نصیب ہوتی ہے جو بڑے صاحب نصیب ہیں
And no one will be granted such goodness except those who exercise patience and self-restraint,- none but persons of the greatest good fortune.‎
(اے رسولؐ) بدی کا مقابلہ اعلیٰ درجہ کی نیکی سے کرو پھر وہ شخص کہ تجھ میں اور اُس میں عداوت ہے،گویا کہ یگانہ دوست ہوگیا ۔ یہ اخلاق نہیں دئیے جاتے مگر اُن لوگوں کو جنہوں نے صبر کیا، اورنہیں دئیے جاتے یہ اخلاق مگر خوش قسمت لوگوں کو۔
جناب ممدوح نے حسب ارشاد رب العالمین نہایت کشادہ دلی سے اعلان کر دیا کہ میں ان مواعظ حسنہ کی بابت قوم سے کسی معاوضہ کا آرزو مند نہیں کیونکہ یہ نصیحت کسی قوم کے واسطے محدود نہیں بلکہ تما م اہل عالم کے واسطے سے ہے۔ میرا اجر وہی اللہ تعالیٰ دے گا جو کسی کے عمل کو ضائع نہیں کرتا اور ہر ایک شے کی حقیقت سے آگاہ ہے ۔دیکھو آیت ذیل (29) ( 28 ):
أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ ۗ قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا ۖ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَى لِلْعَالَمِينَ (6:90) الانعام
یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی تھی تو تم انہیں کی ہدایت کی پیروی کرو۔ کہہ دو کہ میں تم سے اس (قرآن) کا صلہ نہیں مانگتا۔ یہ تو جہان کے لوگوں کے لئےمحض نصیحت ہے
Those were the (prophets) who received Allah's guidance: Copy the guidance they received; Say: "No reward for this do I ask of you: This is no less than a message for the nations."‎
کہہ دے (اے رسول ؐ) میں تم سے اس پر کچھ بدلا نہیں مانگتا، یہ اور کچھ نہیں مگر تمام دنیا کے واسطے نصیحت ہے ۔
قُلْ مَا سَأَلْتُكُمْ مِنْ أَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ ۖ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ (34:47) سبا
کہہ دو کہ میں نے تم سے کچھ صلہ مانگا ہو تو وہ تم ہی کو (مبارک رہے)۔ میرا صلہ خدا ہی کے ذمے ہے۔ اور وہ ہر چیز سے خبردار ہے
Say: "No reward do I ask of you: it is (all) in your interest: my reward is only due from Allah: And He is witness to all things."‎
کہہ دے( اے رسول ؐ) جو کچھ میں نے تم سے اجر مانگا ہے وہ تمہارے واسطے ہے ، میرا اجر صرف اللہ پر ہے ۔ اور وہ ہر ایک شے پر شاہد ہے ۔
یہ کلمات طیبات اس طرح مقبول خلائق ہوئے جیسے وہ درخت جس کی جڑھ مضبوط ہو اورکثیر التعداد شاخیں فضا میں جھوم رہی ہوں موسم کی خوشگوار ہواؤں سے بڑھے پھولے اور پھلے ، وقت پر اپنے خوش ذائقہ اور پُر لطف پھل دے کر انسان کی زندگی کا سہارا ہو۔ انہیں مواعظ کی وجہ سے قومی نفرت الفت سے بدل گئی اور جانی دشمن پیارے بھائی ہو گئے ۔ ضلالت کی تاریکی ملک سے دور ہونی شروع ہوگئی اور کثیر التعداد جماعتیں دینِ اسلام میں داخل ہو کر اُ س کی برکات سے فیض یاب ہونے لگیں ۔ دیکھو آیات ذیل: ۔ (33) (32) (31) (30) (34)
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ۚ وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا ۗ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ (3:103) اٰل عمران
اور سب مل کر خدا کی (ہدایت کی رسی) کو مضبوط پکڑے رہنا اور متفرق نہ ہونا اور خدا کی اس مہربانی کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو خدا نے تم کو اس سے بچا لیا اس طرح خدا تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ
And hold fast, all together, by the rope which Allah (stretches out for you), and be not divided among yourselves; and remember with gratitude Allah's favour on you; for ye were enemies and He joined your hearts in love, so that by His Grace, ye became brethren; and ye were on the brink of the pit of Fire, and He saved you from it. Thus doth Allah make His Signs clear to you: That ye may be guided.‎
او ر یاد کر و اللہ کی نعمت کو جو (تم پر ) ہے جب کہ تم آپس میں دشمن تھے۔ پھر ملاپ کردیا اللہ نے تمہارے دلوں میں پھر تم اُس کی نعمت سے صبح کو اُٹھے آپس میں بھائی بھائی بن کر ۔
إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ (110:1) النصر
جب خدا کی مدد آ پہنچی اور فتح (حاصل ہو گئی)
When comes the Help of Allah, and Victory,‎
وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا (110:2) النصر
اور تم نے دیکھ لیا کہ لوگ غول کے غول خدا کے دین میں داخل ہو رہے ہیں
And thou dost see the people enter Allah's Religion in crowds,‎
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ ۚ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا (110:3) النصر
تو اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرو اور اس سے مغفرت مانگو، بے شک وہ معاف کرنے والا ہے
Celebrate the praises of thy Lord, and pray for His Forgiveness: For He is Oft-Returning (in Grace and Mercy).‎
جب آچکے اللہ کی مدد اور فتح اور تو لوگوں کو دیکھ لے کہ اللہ کے دین میں کثرت سے داخل ہوتے ہیں ۔ پھر تسبیح کر اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور اس سے بخشش (حفاظت) مانگ ۔وہ ہے رجوع کرنے والا ۔
جناب خاتم النبین ﷺ نے ربُّ العالمین کی طرف سے اہل عالم کے سامنے ایک کتاب پیش کی جس کا نام قرآن مجید ہے ۔ اس میں مذہب اسلام کے متعلق تمام اصول وضوابط، احکام وہدایات ، وعدہ وعید، قصص وتمثیلات وغیرہ ضروری امور مفصل اور مکمل موجود ہیں وہ تمام مذہبی معاملات میں قطعی فیصلہ صادر کرتا ہے ۔ دیکھو آیت ذیل (34) (33) (32) :
قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً ۖ قُلِ اللَّهُ ۖ شَهِيدٌ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ ۚ وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ ۚ أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ اللَّهِ آلِهَةً أُخْرَى ۚ قُلْ لَا أَشْهَدُ ۚ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَهٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ (6:19) الانعام
ان سے پوچھو کہ سب سے بڑھ کر (قرین انصاف) کس کی شہادت ہے کہہ دو کہ خدا ہی مجھ میں اور تم میں گواہ ہے اور یہ قرآن مجھ پر اس لیے اتارا گیا ہے کہ اس کے ذریعے سے تم کو اور جس شخص تک وہ پہنچ سکے آگاہ کردوں کیا تم لوگ اس بات کی شہادت دیتے ہو کہ خدا کے ساتھ اور بھی معبود ہیں (اے محمدﷺ!) کہہ دو کہ میں تو (ایسی) شہادت نہیں دیتا کہہ دو کہ صرف وہی ایک معبود ہے اور جن کو تم لوگ شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں
Say: "What thing is most weighty in evidence?" Say: "Allah is witness between me and you; This Qur'an hath been revealed to me by inspiration, that I may warn you and all whom it reaches. Can ye possibly bear witness that besides Allah there is another Allah?" Say: "Nay! I cannot bear witness!" Say: "But in truth He is the one Allah, and I truly am innocent of (your blasphemy of) joining others with Him."‎
کہہ دے ( اے رسولؐ) کون سی شہادت سب سے بڑی ہے۔ کہہ دے اللہ مجھ میں اور تم میں شاہد ہے ( اس امر کا) کہ مجھ کو یہ قرآن وحی کیا گیا ہے ،تاکہ میں اس کے ذریعے سے تم کو تنبیہ کروں اور اُن کو جن کے پاس اس کی خبر پہنچے ۔
وَلَقَدْ جِئْنَاهُمْ بِكِتَابٍ فَصَّلْنَاهُ عَلَى عِلْمٍ هُدًى وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (7:52) الاعراف
اور ہم نے ان کے پاس کتاب پہنچا دی ہے جس کو علم ودانش کے ساتھ کھول کھول کر بیان کر دیا ہے (اور) وہ مومن لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے
For We had certainly sent unto them a Book, based on knowledge, which We explained in detail,- a guide and a mercy to all who believe.‎
اور بے شک ہم نے دی اُن کو کتاب جس کو ہم نے اپنے علم سے مفصّل کر دیا ہے،ہدایت کرنے والی اوررحمت والی ہے اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں ۔
إِنَّهُ لَقَوْلٌ فَصْلٌ (86:13) الطّارق
کہ یہ کلام (حق کو باطل سے) جدا کرنے والا ہے
Behold this is the Word that distinguishes (Good from Evil):‎
وَمَا هُوَ بِالْهَزْلِ (86:14) الطّارق
اور بیہودہ بات نہیں ہے
It is not a thing for amusement.‎)
بے شک یہ قرآن قولِ فیصل ہے، بیہودہ نہیں ہے۔

راسخ العلم ابناءِ اسلام کا یہ اعتقاد ہے کہ یہ کتاب نہایت احتیاط کے ساتھ جناب خاتم النبین ﷺ کی زندگی اور نگرانی میں لکھی گئی ، مجموع ومرتب ہو کر نورِ رسالت کی روشنی پھیلانے کے واسطے اقطاعِ عالم میں پھیلائی گئی، اور دنیا نے اس کتاب کو قبول کرنے سے سعادت دارین حاصل کی ۔ یہ کتاب تمام پہلی کتابوں پر حاوی اور مشتمل ہے ۔ اس میں نوع انسان کے واسطے ایک مکمل ذخیرہ ہدایات کا موجود ہے ۔

اب اس قرآنِ مجید کی کتابت ، جمعیت ، ترتیب ، حفاظت اور تکمیل وغیرہ کے متعلق جس قدر شہادتیں خود اس کتاب مقدس میں موجود ہیں اُن کو مختصر طور پر ان اوراق کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے ۔

ـــــــــ
نام: شَھَادَتُ الْفُرْقَان علیٰ جَمَع الْقُرْاٰن
مصنّف : شیخ عطاء ا للّٰہ (وکیل گجرات)
طبع اول : 1907ء


نوٹ :: حضرت عثمان نے قرآن "مصحف امام" یعنی "المصحف نبوی" سے ہی نقل کرکے Multiple کاپیاں بنائی تھی جمع نہیں کیا تھا "جمع قرآن" کا کام نبی ﷺ نے خود کیا تھا۔ "جمع قرآن بعد عہد رسالت" کا افسانہ "اختلاف قراءت" کو سہارا دینے کے لیے گھڑا گیا تھا۔
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"

Last edited by rana ammar mazhar; 06-12-11 at 12:13 PM..

rana ammar mazhar
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 320
Reply With Quote
پرانا 27-11-11, 12:46 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default وحی کی کتابت ایک جماعت صالحہ کے اہتمام میں تھی۔

فصل پنجم :
وحی کی کتابت ایک جماعت صالحہ کے اہتمام میں تھی ۔


قرآن مجید سے اس امر کی روشن شہادت ملتی ہے ،کہ اس کے نزول کے زمانے میں کاتبان وحی کی ایک جماعتِ صالحہ مقرر کی گئی تھی، جو بلحاظ دیانت اور تقویٰ کے قوم میں ممتاز درجہ رکھتی تھی۔ اور قرآن مجید کی عظمت بدرجہ غایت اُن کے دلوں میں متمکن تھی۔ دیکھو آیا تِ ذیل: ( 1 )

كَلَّا إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ (80:11)عبس
دیکھو یہ (قرآن) نصیحت ہے
By no means (should it be so)! For it is indeed a Message of instruction:‎

فَمَنْ شَاءَ ذَكَرَهُ ( 80:12 )عبس
پس جو چاہے اسے یاد رکھے
Therefore let whoso will, keep it in remembrance.‎

فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ (80:13)عبس
قابل ادب ورقوں میں (لکھا ہوا)
It is) in Books held (greatly) in honour,‎)

مَرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ (80:14)عبس
جو بلند مقام پر رکھے ہوئے (اور) پاک ہیں
Exalted (in dignity), kept pure and holy,‎

بِأَيْدِي سَفَرَةٍ (80:15)عبس
(ایسے) لکھنے والوں کے ہاتھوں میں
Written) by the hands of scribes-‎ )

كِرَامٍ بَرَرَةٍ (80:16)عبس
جو سردار اور نیکو کار ہیں
Honourable and Pious and Just.‎

بے شک یہ قرآن ایک نصیحت ہے ، پھر جو شخص چاہے اِس کو یاد رکھے (یہ) لکھی ہوئی صورتوں میں ہے ، جو کرامت والی، ترتیب دی ہوئی، محفوظ ہیں جن کو بزرگ نیک کاتبوں کے ہاتھوں نے لکھا ہے ۔

سب سے پہلے اس آیت کے چند ضروری الفاظ کے معانی قرآن مجید کی دوسری تفسیری آیات سے بیان کئے جاتے ہیں ۔ پھر اس کا عام مفہوم بیان کیا جائے گا۔

تَذْکِرَۃ : اس سے مراد قرآن مجید ہے ،کیوں کہ یہ اعلیٰ درجے کی نصیحت ہے ۔اس کی تائید میں دیکھو آیات ذیل : (2) (3)

طه (20:1)طٰہٰ
طہٰ
Ta-Ha.‎

مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى (20:2)طٰہٰ
(اے محمدﷺ) ہم نے تم پر قرآن اس لئے نازل نہیں کیا کہ تم مشقت میں پڑ جاؤ
We have not sent down the Qur'an to thee to be (an occasion) for thy distress,‎

إِلَّا تَذْكِرَةً لِمَنْ يَخْشَى (20:3)طٰہٰ
بلکہ اس شخص کو نصیحت دینے کے لئے (نازل کیا ہے) جو خوف رکھتا ہے
But only as an admonition to those who fear (Allah),-‎

ہم نے تجھ پر قرآن اس لیے نہیں اتارا کہ تُو رنج میں پڑے مگر یہ اُس شخص کے واسطے نصیحت ہے ، جو ڈرتا ہے ۔

وَإِنَّهُ لَتَذْكِرَةٌ لِلْمُتَّقِينَ ( 69:48 )الحاقۃ
اور یہ (کتاب) تو پرہیزگاروں کے لئے نصیحت ہے
But verily this is a Message for the Allah-fearing.‎

بے شک یہ قرآن متقین کے واسطے نصیحت ہے۔

صُحُفٍ: جمع صحیفہ کی ہے ۔ صحیفہ سے مراد کتاب ہے۔ قرآن مجید میں تورات پر صحیفہ اور کتاب دونوں لفظوں کا اطلاق ہوا ہے ۔ دیکھو آیاتِ ذیل: (4) (5)

وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِيهِ ۗ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۚ وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ (41:45)حٰمٓ السجدۃ
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور یہ اس (قرآن) سے شک میں الجھ رہے ہیں
We certainly gave Moses the Book aforetime: but disputes arose therein. Had it not been for a Word that went forth before from thy Lord, (their differences) would have been settled between them: but they remained in suspicious disquieting doubt thereon.‎

اور پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی پھر اُس میں اختلاف کیا گیا۔

أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَى (53:36)النجم
کیا جو باتیں موسیٰ کے صحیفوں میں ہیں ان کی اس کو خبر نہیں پہنچی
Nay, is he not acquainted with what is in the Books of Moses-‎

وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّى (53:37)النجم
اور ابراہیمؑ کی جنہوں نے (حق طاعت ورسالت) پورا کیا
And of Abraham who fulfilled his engagements?-‎

کیا اُس کو خبر نہیں ملی اُس کی جو موسیٰ کے صحیفے میں ہے اور ابراہیم کے صحیفے میں، جس نے اپنا قول پورا کیا۔

مَرْفُوْعَۃٍ: اس لفظ سے اُن صحیفوں کی اعلیٰ اور احسن ترتیب مراد ہے۔دوسرے مقامات پر یہ لفظ انہیں معانی میں استعمال ہوا ہے دیکھو آیات ذیل : (6) (7)

وَفُرُشٍ مَرْفُوعَةٍ (56:34)الواقعۃ
اور اونچے اونچے فرشوں میں
And on Thrones (of Dignity), raised high.‎

اور فرش ترتیب دئیے ہوئے ہیں ۔

فِيهَا سُرُرٌ مَرْفُوعَةٌ (88:13)الغاشیۃ
وہاں تخت ہوں گے اونچے بچھے ہوئے
Therein will be Thrones (of dignity), raised on high,‎

اُس میں تخت ترتیب سے رکھے گئے ہیں ۔

آیت نمبر (6) میں فُرُشٌ جمع ہے فرش کی اور آیت نمبر (7) میں سُرُرٌ جمع ہے سر یر کی۔فرش اور سر یر ایک ہی مفہوم کو ظاہر کرتے ہیں ، اور دونوں آیات ایک دوسری کی مفسر ہیں یعنی قیام گاہ جس پر تکیہ لگایا جا سکے ۔اس مفہوم کی تائید آیات ذیل سے ہوتی ہے۔ : ( 8 ) ( 9 )

مُتَّكِئِينَ عَلَى سُرُرٍ مَصْفُوفَةٍ ۖ وَزَوَّجْنَاهُمْ بِحُورٍ عِينٍ (52:20)الطور
تختوں پر جو برابر برابر بچھے ہوئے ہیں تکیہ لگائے ہوئے اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ہم ان کا عقد کر دیں گے
They will recline (with ease) on Thrones (of dignity) arranged in ranks; and We shall join them to Companions, with beautiful big and lustrous eyes.‎

اہل جنت ایسے تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے جو باترتیب بچھے ہوئے ہوں گے ۔

عَلَى سُرُرٍ مَوْضُونَةٍ (56:15)الواقعۃ
(لعل و یاقوت وغیرہ سے) جڑے ہوئے تختوں پر
(They will be) on Thrones encrusted (with gold and precious stones),‎

مُتَّكِئِينَ عَلَيْهَا مُتَقَابِلِينَ (56:16)الواقعۃ
آمنے سامنے تکیہ لگائے ہوئے
Reclining on them, facing each other.‎

اہل جنت ایسے تختوں پر ہوں گے جو باترتیب لگے ہوئے ہوں گے۔ اُن پر تکیہ لگا کر آرام کرنے والے آمنے سامنے ہوں گے۔

آیت نمبر ( 8 ) میں سُرُرٍ(واحدسریر ) کی صفتمَصْفُوْفَۃٍ بیان ہوئی ہے اور آیت نمبر (9) میں سُرُرٍ کی صفت مَوْضُوْنَۃٍ بیان ہوئی ہے مصفوف اور موضون ایک ہی مفہوم کو ظاہر کرتے ہیں ، اور دونوں آیات ایک دوسری کی مفسر ہیں ، یعنی ایسی قیام گاہیں جن پر تکیہ لگایا جا سکے ، اور جو مناسب ترتیب سے لگائی گئی ہوں ۔

آیت نمبر (9) نے اس مفہوم کی نہایت واضح کر دیا ہے، یعنی اہل جنت ایسی قیا م گاہوں پرمتمکن ہوں گے جو مناسبت سے ترتیب وار سجائی ہوئی ہوں گی، اور اُن پر آرام کرنے والے متقابل (آمنے سامنے ) ہوں گے۔

نتیجہ یہ ہے کہ آیت مندرجۂ عنوان میں لفظ مَرْفُوْعَۃٍ کے معنیمَصْفُوْفَۃٍ (ترتیب دادہ شدہ) کے ہیں ۔
مُطَھَّرَۃٍ: اس لفظ کے معنے ہیں محفوظ کئے گئے ،یعنی یہ صحیفے شریروں کی دست برد سے محفوظ ہیں۔ اس مقام پر صُحُف کی صفت مُطَھَّرَۃٍ واقع ہوئی ہے۔ دوسرے مقام پر کتاب کی صفت محفوظ درج ہے ۔
(دیکھو مفصل بحث مندرجہ فصل دہم(صفحہ82)، جو کہ آگے آئے گی۔)

صحیفۃ اور کتاب مترادف الفاظ ہیں۔ چوں کہ صحیفۃ کی صفت مُطَھَّرَۃٍ اور کتاب کی صفت محفوظ واقع ہوئی ہے اس واسطے مُطَھَّرَۃ اور محفوظ بھی ہم معنے ہیں ۔

سَفَرَۃ :جمع سافر کی ہے ، جیسے کتبہ جمع کاتب کی ہے سافر اور کاتب ہم معنے ہیں ، سفر بالکسر کے معنے ہیں کتاب جس کی جمع اسفار بہ معنٰے کتب ہے ،قرآن مجید سے اس معنٰی کی تائید ہوئی ہے ۔ دیکھو آیاتِ ذیل: (10)

مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا ۚ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّهِ ۚ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ (62:5)الجمعۃ
جن لوگوں (کے سر) پر تورات لدوائی گئی پھر انہوں نے اس (کے بار تعمیل) کو نہ اٹھایا ان کی مثال گدھے کی سی ہے جن پر بڑی بڑی کتابیں لدی ہوں۔ جو لوگ خدا کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں ان کی مثال بری ہے۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
The similitude of those who were charged with the (obligations of the) Mosaic Law, but who subsequently failed in those (obligations), is that of a donkey which carries huge tomes (but understands them not). Evil is the similitude of people who falsify the Signs of Allah: and Allah guides not people who do wrong.‎

اُن لوگوں کی مثال جن کو تورات دی گئی پھر انہوں نے اُس کو نہ اٹھا یا ،اُس گدھے کی طرح جو کتابیں اٹھا تا ہے ۔

بَرَرَۃٍ: یا ابرار سے جماعت متقین مراد ہے ، ان کا ماخذ بِرّ ہے جس کی تعریف قرآن مجید میں اس طر ح کی گئی ہے ۔(11) :

لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا ۖ وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ ۗ أُولَئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا ۖ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ (2:177)البقرۃ
نیکی یہی نہیں کہ تم مشرق یا مغرب کو (قبلہ سمجھ کر ان) کی طرف منہ کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ خدا پر اور روز آخرت پر اور فرشتوں پر اور (خدا کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائیں۔ اور مال باوجود عزیز رکھنے کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو دیں اور گردنوں (کے چھڑانے) میں (خرچ کریں) اور نماز پڑھیں اور زکوٰة دیں۔ اور جب عہد کرلیں تو اس کو پورا کریں۔ اور سختی اور تکلیف میں اور (معرکہ) کارزار کے وقت ثابت قدم رہیں۔ یہی لوگ ہیں جو (ایمان میں) سچے ہیں اور یہی ہیں جو (خدا سے) ڈرنے والے ہیں
It is not righteousness that ye turn your faces Towards east or West; but it is righteousness- to believe in Allah and the Last Day, and the Angels, and the Book, and the Messengers; to spend of your substance, out of love for Him, for your kin, for orphans, for the needy, for the wayfarer, for those who ask, and for the ransom of slaves; to be steadfast in prayer, and practice regular charity; to fulfil the contracts which ye have made; and to be firm and patient, in pain (or suffering) and adversity, and throughout all periods of panic. Such are the people of truth, the Allah-fearing.‎

یہ کچھ نیکی نہیں ہے کہ اپنے مونہوں کو مشرق اور مغرب کی طرف پھیردو لیکن نیکی وہ شخص کرتا ہے جو ایمان لایا اللہ پر اور قیامت کے دن پر او ر ملائکہ پر اورتمام کتابوں پر اورتمام نبیوں پر اور دیا مال اس کی محبت پر قرابتیوں اور یتیمو ں اور مسکینوں اور مسافروں اور سوال کرنے والوں کواور غلاموں کے آزاد کرانے میں اور قائم کی صلوٰۃ اور دی زکوٰۃ اور اپنے عہد کے پورا کرنے والوں کو جب کہ وہ عہد کریں اور خوف اور تکلیف میں صبر کرنے والوں کو اور لڑائی کے وقت۔ یہی لوگ ہیں جو سچے ہیں اور یہی لوگ ہیں جو پرہیز گار ہیں ۔

اس آیت میں لفظ اَلْبِرُّ کی تشریح کے ساتھ یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ ابرار کو متقین بھی کہا گیا ہے ۔ تمام تعریف مندرجۂ آیت نوع انسان پر استعمال ہوئی ہے اور درحقیقت انسان ہی اس کا صحیح مورد ومصداق ہو سکتا ہے ۔

سَفَرَۃٍکِرَامٍ بَرَرَۃٍ سے کاتبین متقین کی جماعت مراد لینا بالکل آیاتِ مذکورہ بالا کے سیاق کے مطابق ہے ۔

آیت نمبر (1) مندرجہ شروع فصل کے تمام الفاظ کی تشریح اور تفسیر سے جو حسب آیات قرآن مجید کی گئی ہے اور الفاظِ آیت کے باہمی ربط کے لحاظ سے ایک صحیح دماغ انسانی اس نتیجہ پر بآسانی پہنچ جاتا ہے کہ قرآن مجید کا نصیحت ہونا، ایک قابل تکریم کتاب کی صورت میں با ترتیب ضبط تحریر میں آنا ، پاکباز جماعت کی حفاظت میں رہنا، نیکو کار کاتبوں کے ہاتھ سے لکھا جانا، شریروں کی مداخلت سے محفوظ ہونا، تمام ایسے اوصاف ہیں جو نوع انسان سے تعلق رکھتے ہیں ۔

اس تشریح کے بعد آیت (1) کا مطلب حسب ذیل ہوا :
یہ قرآن مجید ایک تذکرہ (نصیحت )ہے ،جو شخص چاہے اس کو یاد رکھے، یہ صحیفوں (سورتوں )پر مشتمل ہے، جن کو فضیلت دی گئی ہے ،باترتیب لگی ہوئی ہیں، شریروں کی دست برد سے محفوظ ہیں ، کاتبوں کی ایک جماعتِ صالحہ کے ہاتھوں سے ضبط تحریر میں آئی ہیں۔

Last edited by rana ammar mazhar; 28-11-11 at 08:57 PM.
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 27-11-11, 12:48 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default آپ بتائیں انہوں نے قرآن کتنے حروف تہجی میں لکھا ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
خیر مجھے یہ بتائیں کہ آپ کو کس نے بتایا کہ کوئی کاتبان وحی بھی ہوتے تھے اور یہ کہ انہوں نے جو کتاب یعنی صحیفہ لکھا تھا وہ کہاں موجود ہے؟
اللہ نے بتایا کہ کوئی کاتبان وحی بھی ہوتے تھے اور یہ کہ انہوں نے جو کتاب یعنی صحیفہ لکھا تھا وہ قرآن ہے !!!

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ (98:1)
جو لوگ کافر ہیں (یعنی) اہل کتاب اور مشرک وہ (کفر سے) باز رہنے والے نہ تھے جب تک ان کے پاس کھلی دلیل (نہ) آتی
Those who reject (Truth), among the People of the Book and among the Polytheists, were not going to depart (from their ways) until there should come to them Clear Evidence,-‎

رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً (98:2)
(یعنی) خدا کے پیغمبر جو پاک اوراق پڑھتے ہیں
An messenger from Allah, rehearsing scriptures kept pure and holy:‎

فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ (98:3)
جن میں( مستحکم) آیتیں لکھی ہوئی ہیں
Wherein are laws (or decrees) right and straight.‎ )

وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ (98:4)
اور اہل کتاب جو متفرق (و مختلف) ہوئے ہیں تو دلیل واضح آنے کے بعد( ہوئے ہیں)
Nor did the People of the Book make schisms, until after there came to them Clear Evidence.‎

آپ بتائیں انہوں نے قرآن کتنے حروف تہجی میں لکھا ؟؟؟
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 27-11-11, 12:56 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جو "صحیفہ" ابوبکر صدیق ؓ پڑھا کرتے تھے وہ کہاں ہے ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
جناب میں نے کاتبان وحی کا پوچھا ہے۔"صحیفہ" کا نہیں۔
اور آپ نے یہ تو بتا دیا کہ نبی پاک کوئی "صحیفہ" پڑھا کرتے تھے۔ لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ "صحیفہ" یا مقدس اوراق کہاں ہیں؟
قرآن کی آپ چند غیر متعلق آیات لکھتے ہیں۔ کہیں تو میں پورا قرآن کاپی کر دوں ادھر
جو "صحیفہ" ابوبکر صدیق ؓ پڑھا کرتے تھے وہ کہاں ہے ؟؟؟

کاتبان وحی ؓ نے نزول قرآن کے کتنے سال بعد کتابت کا کام شروع کیا تھا ؟؟؟
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 27-11-11, 01:33 PM   #5
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,094
شکریہ: 24,031
4,993 مراسلہ میں 14,718 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ (98:3)
جن میں( مستحکم) آیتیں لکھی ہوئی ہیں

یہ کس کا ترجمہ ہے جی؟؟"" لکھی ہوئی""
انگلش ترجمہ::
Wherein are laws (or decrees) right and straight.‎ )
بندے کو کالم اللہ کا ہی خیال کر لینا چاہیے کچھ.

افسوس صد افسوس
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (27-11-11)
پرانا 27-11-11, 01:58 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default قرآن کا لکھنا ہونا ثابت ہونے پر افسوس صد افسوس ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ (98:3)
جن میں( مستحکم) آیتیں لکھی ہوئی ہیں
یہ کس کا ترجمہ ہے جی؟؟"" لکھی ہوئی""
انگلش ترجمہ::
Wherein are laws (or decrees) right and straight.‎ )
بندے کو کالم اللہ کا ہی خیال کر لینا چاہیے کچھ.
افسوس صد افسوس
قرآن کا لکھنا ہونا ثابت ہونے پر افسوس صد افسوس ؟؟؟

كُتُبٌ :: لکھی ہیں !!!


[98:3] فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ :: فيها كتب قيمة

Tahir ul Qadri : جن میں درست اور مستحکم احکام (درج) ہیں

Yousuf Ali : Wherein are laws (or decrees) right and straight.

Ahmed Ali: جن میں درست مضامین لکھے ہوں

Ahmed Raza Khan: ان میں سیدھی باتیں لکھی ہیں

Shabbir Ahmed: جن میں لکھی ہوں تحریریں راست اور درست۔

Fateh Muhammad Jalandhary: جن میں( مستحکم) آیتیں لکھی ہوئی ہیں

Mehmood Al Hassan: اس میں لکھی ہیں کتابیں مضبوط

Literal: In it (are) straight/valuable Books.

Yusuf Ali: Wherein are laws (or decrees) right and straight.

Pickthal: Containing correct scriptures.

Arberry: therein true Books.

Shakir : Wherein are all the right ordinances.

Sarwar: holy Book which contain eternal laws of guidance.

H/K/Saheeh: Within which are correct writings.

Malik: containing infallible books.[3]

Maulana Ali**: Wherein are (all) right books.

Free Minds: In them are valuable books.

Qaribullah: in which there are valuable Books.

George Sale: wherein are contained right discourses.

JM Rodwell: Neither were they to whom the Scriptures were given divided into sects, till after this clear evidence had reached them!

Asad: wherein there are ordinances of ever-true soundness and clarity.

Khalifa**: In them there are valuable teachings.

Hilali/Khan**: Containing correct and straight laws from Allah.

QXP Shabbir Ahemd** Wherein are Authoritative Scriptures.

http://www.openburhan.net/ob.php?sid=98&vid=3

Last edited by rana ammar mazhar; 27-11-11 at 02:01 PM.
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (27-11-11)
پرانا 03-12-11, 07:23 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default قران کے نسخے کن ہاتھوں سے ہمارے ہاتھوں تک پہنچے؟ ابتدائی قرآن کی کتابت کی تاریخ

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، اللہ تعالیٰ آپ کی محنت قبول فرمائے۔آپ کے اس آرٹیکل سے اتنا تو بہرحال معلوم ہو گیا کہ قرآن کی حفاظت کا ثبوت مہیا کرنے کے لیے بھی "انسانوں کی لکھی ہوئی نئی پرانی کتب " سے مدد لیے بغیر چارہ نہیں۔
والسلام علیکم
قرآن کی حفاظت کا ثبوت مہیا کرنے کے لیے "انسانوں کی لکھی ہوئی نئی پرانی کتب " سے مدد لیے بغیر :: شَھَادَتُ الْفُرْقَان علیٰ جَمْعِ الْقُرْاٰن : کاتب کتابت اور کتاب

نام: شَھَادَتُ الْفُرْقَان علیٰ جَمَع الْقُرْاٰن
مصنّف : شیخ عطاء ا للّٰہ (وکیل گجرات)
طبع اول : 1907ء


Shahadat-Ul Furqan Ala Jama-Ul Quran by Ataullah

Shahadat-ul Furqan ala Jama-ul Quran by Ataullah : Shahadat-ul Furqan ala Jama-ul Quran by Ataullah : Free Download & Streaming : Internet Archive

قران کے نسخے کن ہاتھوں سے ہمارے ہاتھوں تک پہنچے؟ ابتدائی قرآن کی کتابت کی تاریخ
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 05-12-11, 01:43 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default "جمع قرآن" کے نام پر روایات میں "قرآن" کے بارے میں گمان و شکوک !!!


"جمع قرآن" کے نام پر روایات میں "قرآن" کے بارے میں گمان و شکوک !!!

ادھر نبی صلی اللہ دنیا سے رخصت ہوگئے اور ہم پر یہ واضح نہ فرما سکے کہ یہ اس کا حصہ ہے یا نہیں؟

میرا گمان یہ ہوا کہ سورت برائۃ، سورت انفال ہی کاجزو ہے اس لئے میں نے ان دونوں کو ملا دیا اور ان دونوں کے درمیان، بسم اللہ، والی سطر بھی نہیں لکھی اور اسے سبع طوال میں شمار کر لیا ۔


1 - ا ب ج : (26407)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدثنا إسماعيل بن إبراهيم حدثنا عوف بن أبي جميلة حدثني يزيد الفارسي حدثنا ابن عباس قال قلت لعثمان ما حملكم على أن عمدتم إلى سورة الأنفال وهي من المثاني وإلى سورة براة وهي من المين فقرنتم بينهما ولم تكتبوا بينهما سطر بسم الله الرحمن الرحيم فوضعتموها في السبع الطوال فما حملكم على ذلك قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم مما يأتي عليه الزمان وهو ينزل عليه من السور ذوات العدد فكان إذا أنزل عليه الشي دعا بعض من يكتب له فيقول ضعوا هذه في السورة التي يذكر فيها كذا وكذا وإذا أنزلت عليه الآيات قال ضعوا هذه الآيات في السورة التي يذكر فيها كذا وكذا وإذا أنزلت عليه الآية قال ضعوا هذه الآية في السورة التي يذكر فيها كذا وكذا وكانت سورة الأنفال من أوال ما نزل بالمدينة وكانت سورة براة من أواخر ما أنزل من القرآن قال فكانت قصتها شبيها بقصتها فظننا أنها منها وقبض رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يبين لنا أنها منها فمن أجل ذلك قرنت بينهما ولم أكتب بينهما سطر بسم الله الرحمن الرحيم ووضعتها في السبع الطوال

مسند احمد:جلد اول:حدیث نمبر 468 حدیث مرفوع
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ لوگوں نے سورت انفال کو جو مثانی میں سے ہے سورت برائۃ کے ساتھ جو کہ مئین میں سے ہے ملانے پر کس چیز کی وجہ سے اپنے آپ کو مجبور پایا اور آپ نے ان کے درمیان ایک سطر کی بسم اللہ تک نہیں لکھی اور ان دونوں کو سبع طوال میں شمار کرلیا آپ نے ایسا کیوں کیا؟
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی کا نزول ہو رہا تھا تو بعض اوقات کئی کئی سورتیں اکٹھی نازل ہو جاتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب کوئی وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی کاتب وحی کو بلا کر اسے لکھواتے اور فرماتے کہ اسے فلاں سورت میں فلاں جگہ رکھو، بعض اوقات کئی آیتیں نازل ہوئیں اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بتا دیتے کہ ان آیات کو اس سورت میں رکھو اور بعض اوقات ایک ہی آیت نازل ہوتی لیکن اس کی جگہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بتا دیا کرتے تھے۔ سورت انفال مدینہ منورہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی تھی، جبکہ سورت برائۃ نزول کے اعتبار سے قرآن کریم کا آخری حصہ ہے اور دونوں کے واقعات واحکام ایک دوسرے سے حد درجہ مشابہت رکھتے تھے، ادھر نبی صلی اللہ دنیا سے رخصت ہوگئے اور ہم پر یہ واضح نہ فرما سکے کہ یہ اس کا حصہ ہے یا نہیں؟ میرا گمان یہ ہوا کہ سورت برائۃ، سورت انفال ہی کاجزو ہے اس لئے میں نے ان دونوں کو ملا دیا اور ان دونوں کے درمیان، بسم اللہ، والی سطر بھی نہیں لکھی اور اسے سبع طوال میں شمار کر لیا ۔
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 05-12-11, 07:30 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default فصلِ اوّل : کلماتِ وحی کا بصورت کتاب مرتب کرنا ابنیاء کی سُنتِ قدیمہ تھی۔


فصلِ اوّل
کلماتِ وحی کا بصورت کتاب مرتب کرنا ابنیاء کی سُنتِ قدیمہ تھی۔


قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم سے تمام نبی یا رسول کلماتِ وحی کو بصورت کتاب قوم کے سامنے پیش کرتے رہے ہیں ۔ ایسا کرنا نبوت یا رسالت کا ضروری جزو تھا کیونکہ یہ مقدس لوگ دُنیا میں ہر وقت اورہر جگہ موجود نہیں رہے، قدرت کا نہ ٹلنے والا موت اور فنا کا فتویٰ ان پر بھی اسی طرح نافذ ہوتا رہا ہے جس طرح باقی تمام نفوس اور اشیاء پر دیکھو آیات ذیل ۔ : (1) (2)

كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ (29:57) العنکبوت
ہر متنفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے۔ پھر تم ہماری ہی طرف لوٹ کر آؤ گے
Every soul shall have a taste of death in the end to Us shall ye be brought back.‎
ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے ۔ پھر تم ہماری طرف پھیرے جاؤ گے ۔

كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ (55:26) الرحمٰن
جو (مخلوق) زمین پر ہے سب کو فنا ہونا ہے
All that is on earth will perish:‎

وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ (55:27) الرحمٰن
اور تمہارے پروردگار ہی کی ذات (بابرکات) جو صاحب جلال وعظمت ہے باقی رہے گی
But will abide (for ever) the Face of thy Lord,- full of Majesty, Bounty and Honour.‎
جو کچھ زمین پر ہے فنا ہونے والا ہے، اور باقی رہے گی تیرے رب کی ذات جو جلال اور کرامت والی ہے۔

اس جہان کو چھوڑنے یا دُور دراز مقامات تک تبلیغ کرنے کی صورتوں میں ، نبوت یا رسالت کا کتاب کے سوا سب سے بہتر کوئی قائم مقام نہیں ہو سکتا ۔ یہی وہ کتابیں تھیں، جن کا نام قرآن مجید کی زبان میں کتابُ اللّٰہِ یا اَلْکِتٰبُ ہے ، دیکھو آیاتِ ذیل: (3) (4) (5)

كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ وَأَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ ۚ وَمَا اخْتَلَفَ فِيهِ إِلَّا الَّذِينَ أُوتُوهُ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۖ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِهِ ۗ وَاللَّهُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (2:213) البقرۃ
(پہلے تو سب) لوگوں کا ایک ہی مذہب تھا (لیکن وہ آپس میں اختلاف کرنے لگے) تو خدا نے (ان کی طرف) بشارت دینے والے اور ڈر سنانے والے پیغمبر بھیجے اور ان پر سچائی کے ساتھ کتابیں نازل کیں تاکہ جن امور میں لوگ اختلاف کرتے تھے ان کا ان میں فیصلہ کردے۔ اور اس میں اختلاف بھی انہیں لوگوں نے کیا جن کو کتاب دی گئی تھی باوجود یہ کہ ان کے پاس کھلے ہوئے احکام آچکے تھے (اور یہ اختلاف انہوں نے صرف) آپس کی ضد سے (کیا) تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھا دی۔ اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھا رستہ دکھا دیتا ہے
Mankind was one single nation, and Allah sent Messengers with glad tidings and warnings; and with them He sent the Book in truth, to judge between people in matters wherein they differed; but the People of the Book, after the clear Signs came to them, did not differ among themselves, except through selfish contumacy. Allah by His Grace Guided the believers to the Truth, concerning that wherein they differed. For Allah guided whom He will to a path that is straight.‎
لوگ ایک گروہ تھے ، پھر بھیجا اللہ نے نبیوں کو خوش خبری دینے والے اورآگاہ کرنے والے ، اور اُن کے ساتھ برحق کتاب اتار دی تاکہ لوگوں میں اُس بات میں جس میں وہ مختلف ہو گئے حکم دیں۔
لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۖ وَأَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ ۚ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ (57:25) الحدید
ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی نشانیاں دے کر بھیجا۔ اور اُن پر کتابیں نازل کیں اور ترازو (یعنی قواعد عدل) تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔ اور لوہا پیدا کیا اس میں (اسلحہٴ جنگ کے لحاظ سے) خطرہ بھی شدید ہے۔ اور لوگوں کے لئے فائدے بھی ہیں اور اس لئے کہ جو لوگ بن دیکھے خدا اور اس کے پیغمبروں کی مدد کرتے ہیں خدا ان کو معلوم کرے۔ بےشک خدا قوی (اور) غالب ہے
We sent aforetime our messengers with Clear Signs and sent down with them the Book and the Balance (of Right and Wrong), that men may stand forth in justice; and We sent down Iron, in which is (material for) mighty war, as well as many benefits for mankind, that Allah may test who it is that will help, Unseen, Him and His messengers: For Allah is Full of Strength, Exalted in Might (and able to enforce His Will).‎
بے شک ہم نے اپنے رسولوں کو دلائل کے ساتھ بھیجا اور ہم نے اُن کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تا کہ لوگ عدل کو قائم رکھیں ۔

آیت (3) میں اَلنَّبِیّن کا لفظ ہے اور آیت (4) میں رُسُل کا لفظ ہے۔ دونوں آیتوں میں الفاظ أَنْزَلَ مَعَہُمُ الْکِتٰب اورَأَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْکِتٰب یکساں طور پر واقع ہوئے ہیں، جن سے نبی یارسول کے ساتھ کتاب کا ہونا صاف طور پر پایا جاتا ہے ۔

وَلِكُلِّ أُمَّةٍ رَسُولٌ ۖ فَإِذَا جَاءَ رَسُولُهُمْ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ (10:47) یونس
اور ہر ایک اُمت کی طرف سے پیغمبر بھیجا گیا۔ جب ان کا پیغمبر آتا ہے تو اُن میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور ان پر کچھ ظلم نہیں کیا جاتا
To every people (was sent) a messenger: when their messenger comes (before them), the matter will be judged between them with justice, and they will not be wronged.‎
اور ہر گروہ کے لیے رسول ہے، پھر جب انکے لئے اللہ کا رسول آیا، اُن میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا گیا، اور وہ ظلم نہیں کیے جاتے ۔

اس آیت کو جب آیات نمبر (3، 4) سے ملا کر دیکھا جائے تو اس امر کا قطعی فیصلہ ہو جاتا ہے کہ قرآن مجید میں نبی یا رسول کا مفہوم ایک ہے ، کیونکہ ان آیات میں نبوت یا رسالت کی جو اغراض بیان ہوئی ہیں وہ ایک ہی ہیں ۔

آیاتِ مذکورہ بالا میں نزولِ کتاب سے یہ مراد نہیں ہے کہ کا غذ وں پر لکھا مجموعہ آسمان سے اُترتا تھا، کیونکہ دوسرے مقام پر اس طرح کتابِ آسمانی کے نزول کی نفی موجود ہے۔ دیکھوآیات ذیل: (6)

أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِنْ زُخْرُفٍ أَوْ تَرْقَى فِي السَّمَاءِ وَلَنْ نُؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَقْرَؤُهُ ۗ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولًا (17:93) بنی اسرآئیل
یا تو تمہارا سونے کا گھر ہو یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ۔ اور ہم تمہارے چڑھنے کو بھی نہیں مانیں گے جب تک کہ کوئی کتاب نہ لاؤ جسے ہم پڑھ بھی لیں۔ کہہ دو کہ میرا پروردگار پاک ہے میں تو صرف ایک پیغام پہنچانے والا انسان ہوں
"Or thou have a house adorned with gold, or thou mount a ladder right into the skies. No, we shall not even believe in thy mounting until thou send down to us a book that we could read." Say: "Glory to my Lord! Am I aught but a man,- a messenger?"‎
ٍ یا تُو آسمان پر چڑھے ، اور ہم تیرے چڑھ جانے پر ایمان نہ لائیں گے ۔ یہاں تک کہ توہم پر ایک کتا ب اتار لائے جس کو ہم پڑھیں ، کہہ دے( اے رسول) پاک ہے میرا رب (ان امور سے ) میں اور کچھ نہیں مگر انسان رسول (پیغام لانے والا)

اصل مطلب یہ ہے کہ ابنیاء نے جن احکام کو اللہ تعالیٰ کی وحی سے بصورت کتاب مرتب کیا اور قوم کے سامنے پیش کیا اُن پر بموجب عام محاورہِ قرآن مجیدکے لفظِ نزول بولا گیا ہے ۔ اس محاورے کی تائید میں دیکھو آیاتِ ذیل : ( 7 ) ( 8 ) (9)

يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ وَرِيشًا ۖ وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ ۚ ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ (7:26) الاعراف
اے نبی آدم ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہارا ستر ڈھانکے اور (تمہارے بدن کو) زینت (دے) اور (جو) پرہیزگاری کا لباس (ہے) وہ سب سے اچھا ہے۔ یہ خدا کی نشانیاں ہیں تاکہ لوگ نصحیت پکڑ یں
O ye Children of Adam! We have bestowed raiment upon you to cover your shame, as well as to be an adornment to you. But the raiment of righteousness,- that is the best. Such are among the Signs of Allah, that they may receive admonition!‎
اے آدم کے بیٹو بے شک ہم نے تم پر ایک لباس اُتارا ہے جو تمہاری شرم گاہوں کوڈھانکتا ہے اور ( تمہاری ) زینت ہے، اور تقویٰ کا لباس، یہی اچھا ہے، یہ اللہ کی آیتوں میں سے ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا قُلْ آللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ ۖ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ (10:59) یونس
کہو کہ بھلا دیکھو تو خدا نے تمھارے لئے جو رزق نازل فرمایا تو تم نے اس میں سے (بعض کو) حرام ٹھہرایا اور (بعض کو) حلال (ان سے) پوچھو کیا خدا نے تم کو اس کا حکم دیا ہے یا تم خدا پر افتراء کرتے ہو
Say: "See ye what things Allah hath sent down to you for sustenance? Yet ye hold forbidden some things thereof and (some things) lawful." Say: "Hath Allah indeed permitted you, or do ye invent (things) to attribute to Allah?"‎
کہہ دے ( اے بنی آدم ) کیا تم نے دیکھا جوکچھ ہم نے تمہارے لیے رزق کی قسم سے اتارا ہے ،پھر تم نے اُس میں سے حرام اور حلال کر لیا ، کہہ دے کیا اللہ نے تم کو اجازت دی ہے یا تم اللہ پر افترا کرتے ہو ۔

لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۖ وَأَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ ۚ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ (57:25) الحدید
ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی نشانیاں دے کر بھیجا۔ اور اُن پر کتابیں نازل کیں اور ترازو (یعنی قواعد عدل) تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔ اور لوہا پیدا کیا اس میں (اسلحہٴ جنگ کے لحاظ سے) خطرہ بھی شدید ہے۔ اور لوگوں کے لئے فائدے بھی ہیں اور اس لئے کہ جو لوگ بن دیکھے خدا اور اس کے پیغمبروں کی مدد کرتے ہیں خدا ان کو معلوم کرے۔ بےشک خدا قوی (اور) غالب ہے
We sent aforetime our messengers with Clear Signs and sent down with them the Book and the Balance (of Right and Wrong), that men may stand forth in justice; and We sent down Iron, in which is (material for) mighty war, as well as many benefits for mankind, that Allah may test who it is that will help, Unseen, Him and His messengers: For Allah is Full of Strength, Exalted in Might (and able to enforce His Will).‎
اور ہم نے لوہا اتارا اس میں (سامان) سخت لڑائی (کا) ہے اور لوگوں کے واسطے فائدے ہیں۔

آیت نمبر (7) میں ہر قسم کے لباس کا ذکر ہے جو زمین کی چیزوں سے تیار ہوتا ہے۔ آیت نمبر ( 8 ) میں ہر قسم کے رزق کا ذکر ہے جو زمین سے پیدا ہوتا اور اُس پر موجود ہے۔ آیت نمبر(9) میں لوہے اور اُس کی ہم جنس دھاتوں کا ذکر ہے جو زمین سے نکلتی ہیں ۔

ان تمام اشیاء کی نسبت نزول کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ حالانکہ ان میں سے کوئی چیز بھی آسمان سے نہیں اُتری ۔ اسی طرح کتب سماوی کی نسبت بھی نزول کا لفظ بولا گیا ہے ۔

قرآن مجید میں انبیاء کی سنن قدیمہ بیان کرنے کا اصل مطلب یہ ہے کہ اُن کا اقتدا کیا جائے ۔ جس حالت میں کلمات وحی کا بصورت کتاب مرتب رکھنا ابنیاء کی مسلمہ سنت ہے، تو جناب خاتم النبین کا بھاری فرض یہ تھا کہ کلماتِ وحی کو بصورتِ کتاب جمع اور مرتب رکھتے ۔ دیکھو آیاتِ ذیل: (10) (11)

يُرِيدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ وَيَهْدِيَكُمْ سُنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَيَتُوبَ عَلَيْكُمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (4:26) النسآء
خدا چاہتا ہے کہ (اپنی آیتیں) تم سے کھول کھول کر بیان فرمائے اور تم کو اگلے لوگوں کے طریقے بتائے اور تم پر مہربانی کرے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
Allah doth wish to make clear to you and to show you the ordinances of those before you; and (He doth wish to) turn to you (In Mercy): And Allah is All-knowing, All-wise.‎
اللہ چاہتا ہے کہ تم کو بتادے اور تم کو اُن لوگوں کی راہ کی ہدایت کرے جو تم سے پہلے تھے، اور تم کو معاف کرے ، اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے ۔

أُولَئِكَ الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ۚ فَإِنْ يَكْفُرْ بِهَا هَؤُلَاءِ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَيْسُوا بِهَا بِكَافِرِينَ (6:89) الانعام
یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم (شریعت) اور نبوت عطا فرمائی تھی۔ اگر یہ (کفار) ان باتوں سے انکار کریں تو ہم نے ان پر (ایمان لانے کے لئے) ایسے لوگ مقرر کردیئے ہیں کہ وہ ان سے کبھی انکار کرنے والے نہیں
These were the men to whom We gave the Book, and authority, and prophethood: if these (their descendants) reject them, Behold! We shall entrust their charge to a new people who reject them not.‎

أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ ۗ قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا ۖ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَى لِلْعَالَمِينَ (6:90) الانعام
یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی تھی تو تم انہیں کی ہدایت کی پیروی کرو۔ کہہ دو کہ میں تم سے اس (قرآن) کا صلہ نہیں مانگتا۔ یہ تو جہان کے لوگوں کے لئےمحض نصیحت ہے
Those were the (prophets) who received Allah's guidance: Copy the guidance they received; Say: "No reward for this do I ask of you: This is no less than a message for the nations."‎
یہ وہ (بزرگ) لوگ ہیں جن کو ہم نے کتاب ،حکمت اور نبوت دی ، پھر اگر یہ کافر اس کا انکار کر یں تو بے شک ہم نے اس کے لیے اور قوم کو مقرر کیا ہے جو اس کا انکار کرنے والی نہیں ہے۔ یہ (انبیاء ) وہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی ہے پھر تو انہیں کی ہدایت کی پیروی کر ۔

آیت نمبر (11) کے عین ما قبل کی آیات میں انبیاء مندرجہ ذیل ابراہیم ؑ ، اسحاق ؑ ، یعقوبؑ ، نوحؑ ، داؤد، سلیمان ؑ ، ایوب ؑ ، یوسف ؑ ، موسیٰؑ ، ہارونؑ ، زکریاؑ ، یحییٰ ؑ ، عیسےٰؑ ، الیاسؑ ، اسمعےٰلؑ ، الیسعؑ ، یونسؑ ، لوطؑ کے اسماء گرامی اور ان کے مختصر اوصاف بیان کرنے کے بعد الفاظ ذیل أُوْلٰٓءِکَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰب مرقوم ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ان میں سے ہر ایک کو نبوت دی گئی ہے اسی طرح ہر ایک کو کتاب بھی دی گئی ہے ۔

اس آیت میں بجائے الفاظ أَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْکِتٰبَکے اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ کا استعمال ہوا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں فقرات کا مفہوم ایک ہے۔

اس آیت کے الفاظ فَبِہُدٰ ہُمُ اقْتَدِہْ اُس فرض کو ظاہر کرتے ہیں جن کے رو سے کتاب اللہ کی جمیعت اور ترتیب بھی جناب خاتم النبین ؐ کے ذمے تھی اور یہ فرض بالکل تبلیغ رسالت کے مساوی تھا۔

اس فرض کے پوراکرنے کے واسطے جناب ممدوح کو کئی پیرائیوں میں نہایت استقلال سے کاربند رہنے کا حکم ہوا اور صاف طور پر سمجھا دیا گیا کہ اس میں کسی شخص کی رائے کی نہ مداخلت ہو نہ اتباع ۔ دیکھو آیات ذیل : (12) (13) (14)

فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا ۚ إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (11:112) ھود
سو (اے پیغمبر) جیسا تم کو حکم ہوتا ہے (اس پر) تم اور جو لوگ تمہارے ساتھ تائب ہوئے ہیں قائم رہو۔ اور حد سے تجاوز نہ کرنا۔ وہ تمہارے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے
Therefore stand firm (in the straight Path) as thou art commanded,- thou and those who with thee turn (unto Allah); and transgress not (from the Path): for He seeth well all that ye do.‎
پھر تو (اے رسول اسی طرح) قائم رہ جس طرح تجھے حکم دیا گیا ہے اور وہ لوگ بھی جنہوں نے تیرے ساتھ توبہ کی ( اسی طرح قائم رہیں ) اور حدسے آگے نہ بڑھو ، بے شک وہ اللہ اُس کو جو تم کرتے ہو دیکھنے والا ہے ۔

فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ (15:94) الحجر
پس جو حکم تم کو (خدا کی طرف سے) ملا ہے وہ (لوگوں کو) سنا دو اور مشرکوں کا (ذرا) خیال نہ کرو
Therefore expound openly what thou art commanded, and turn away from those who join false gods with Allah.‎
پھر کھول کر بتلادے (اے رسولؐ)اس چیز کو جس کا تجھ کو حکم دیا جاتا ہے اور مشرکوں سے منہ پھیر لے ۔

فَلِذَلِكَ فَادْعُ ۖ وَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ ۖ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ ۖ وَقُلْ آمَنْتُ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنْ كِتَابٍ ۖ وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ ۖ اللَّهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ ۖ لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ ۖ لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ ۖ اللَّهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا ۖ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ (42:15) الشورٰی
تو (اے محمدﷺ) اسی (دین کی) طرف (لوگوں کو) بلاتے رہنا اور جیسا تم کو حکم ہوا ہے (اسی پر) قائم رہنا۔ اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا۔ اور کہہ دو کہ جو کتاب خدا نے نازل فرمائی ہے میں اس پر ایمان رکھتا ہوں۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ تم میں انصاف کروں۔ خدا ہی ہمارا اور تمہارا پروردگار ہے۔ ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال کا۔ ہم میں اور تم میں کچھ بحث وتکرار نہیں۔ خدا ہم (سب) کو اکھٹا کرے گا۔ اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
Now then, for that (reason), call (them to the Faith), and stand steadfast as thou art commanded, nor follow thou their vain desires; but say: "I believe in the Book which Allah has sent down; and I am commanded to judge justly between you. Allah is our Lord and your Lord: for us (is the responsibility for) our deeds, and for you for your deeds. There is no contention between us and you. Allah will bring us together, and to Him is (our) Final Goal.‎
اور قائم رہ جیسا تجھ کو حکم دیا گیا اور کفار کی خواہشوں کی پیروی نہ کر ، اور کہہ دے میرا ایمان اُس پر ہے جو کتاب میں سے اللہ نے نازل کیا ہے ۔

یہ تمام آیات اس امر کی روشن شہادت ہیں کہ سب نبی یا رسول کلماتِ وحی کو بصورتِ کتاب مرتب رکھتے تھے۔ انبیاء کے اس متفقہ عمل کی وجہ سے جناب خاتم النبین کو اس عمل میں بھی اُن کے ساتھ اقتدا کرنے کا حکم ہوا ، پھر اس اہم خدمت کو استقلال کے ساتھ انجام دینے کے واسطے بار بار تاکید ہوئی۔

انہیں احکام کی تعمیل میں اور انبیاء کی اسی سنتِ قدیمہ کے اقتداء میں جناب ممدوح نے تبلیغ رسالت کے ساتھ ہی قرآن مجید کے بصورت کتاب جمع اورمرتب رکھنے کی بنیاد قائم کی اور اُس کو اختتام تک پہنچایا ۔

ـــــــــ
نام: شَھَادَتُ الْفُرْقَان علیٰ جَمَع الْقُرْاٰن
مصنّف : شیخ عطاء ا للّٰہ (وکیل گجرات)
طبع اول : 1907ء
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
city, death, messenger, prayer, فن, فرض, کتابوں, پیارے, پاک, پسندیدہ, لوگ, نفرت, نماز, مکہ, موت, مجید, مشعل, آبادی, اچھا کام, تعلیم, ختم نبوت, خدا, دیکھو, دوست, سودا


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سُوۡرَةُ الفَتْح زارا علوم قرآن کریم 1 14-02-11 02:09 PM
سُوۡرَةُ الفَتْح زارا تلاوت اور تجوید 0 12-02-11 03:57 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:06 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger