| علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 320
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فصل پنجم :
وحی کی کتابت ایک جماعت صالحہ کے اہتمام میں تھی ۔ قرآن مجید سے اس امر کی روشن شہادت ملتی ہے ،کہ اس کے نزول کے زمانے میں کاتبان وحی کی ایک جماعتِ صالحہ مقرر کی گئی تھی، جو بلحاظ دیانت اور تقویٰ کے قوم میں ممتاز درجہ رکھتی تھی۔ اور قرآن مجید کی عظمت بدرجہ غایت اُن کے دلوں میں متمکن تھی۔ دیکھو آیا تِ ذیل: ( 1 ) كَلَّا إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ (80:11)عبس دیکھو یہ (قرآن) نصیحت ہے By no means (should it be so)! For it is indeed a Message of instruction: فَمَنْ شَاءَ ذَكَرَهُ ( 80:12 )عبس پس جو چاہے اسے یاد رکھے Therefore let whoso will, keep it in remembrance. فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ (80:13)عبس قابل ادب ورقوں میں (لکھا ہوا) It is) in Books held (greatly) in honour,) مَرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ (80:14)عبس جو بلند مقام پر رکھے ہوئے (اور) پاک ہیں Exalted (in dignity), kept pure and holy, بِأَيْدِي سَفَرَةٍ (80:15)عبس (ایسے) لکھنے والوں کے ہاتھوں میں Written) by the hands of scribes- ) كِرَامٍ بَرَرَةٍ (80:16)عبس جو سردار اور نیکو کار ہیں Honourable and Pious and Just. بے شک یہ قرآن ایک نصیحت ہے ، پھر جو شخص چاہے اِس کو یاد رکھے (یہ) لکھی ہوئی صورتوں میں ہے ، جو کرامت والی، ترتیب دی ہوئی، محفوظ ہیں جن کو بزرگ نیک کاتبوں کے ہاتھوں نے لکھا ہے ۔ سب سے پہلے اس آیت کے چند ضروری الفاظ کے معانی قرآن مجید کی دوسری تفسیری آیات سے بیان کئے جاتے ہیں ۔ پھر اس کا عام مفہوم بیان کیا جائے گا۔ تَذْکِرَۃ : اس سے مراد قرآن مجید ہے ،کیوں کہ یہ اعلیٰ درجے کی نصیحت ہے ۔اس کی تائید میں دیکھو آیات ذیل : (2) (3) طه (20:1)طٰہٰ طہٰ Ta-Ha. مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى (20:2)طٰہٰ (اے محمدﷺ) ہم نے تم پر قرآن اس لئے نازل نہیں کیا کہ تم مشقت میں پڑ جاؤ We have not sent down the Qur'an to thee to be (an occasion) for thy distress, إِلَّا تَذْكِرَةً لِمَنْ يَخْشَى (20:3)طٰہٰ بلکہ اس شخص کو نصیحت دینے کے لئے (نازل کیا ہے) جو خوف رکھتا ہے But only as an admonition to those who fear (Allah),- ہم نے تجھ پر قرآن اس لیے نہیں اتارا کہ تُو رنج میں پڑے مگر یہ اُس شخص کے واسطے نصیحت ہے ، جو ڈرتا ہے ۔ وَإِنَّهُ لَتَذْكِرَةٌ لِلْمُتَّقِينَ ( 69:48 )الحاقۃ اور یہ (کتاب) تو پرہیزگاروں کے لئے نصیحت ہے But verily this is a Message for the Allah-fearing. بے شک یہ قرآن متقین کے واسطے نصیحت ہے۔ صُحُفٍ: جمع صحیفہ کی ہے ۔ صحیفہ سے مراد کتاب ہے۔ قرآن مجید میں تورات پر صحیفہ اور کتاب دونوں لفظوں کا اطلاق ہوا ہے ۔ دیکھو آیاتِ ذیل: (4) (5) وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِيهِ ۗ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۚ وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ (41:45)حٰمٓ السجدۃ اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور یہ اس (قرآن) سے شک میں الجھ رہے ہیں We certainly gave Moses the Book aforetime: but disputes arose therein. Had it not been for a Word that went forth before from thy Lord, (their differences) would have been settled between them: but they remained in suspicious disquieting doubt thereon. اور پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی پھر اُس میں اختلاف کیا گیا۔ أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَى (53:36)النجم کیا جو باتیں موسیٰ کے صحیفوں میں ہیں ان کی اس کو خبر نہیں پہنچی Nay, is he not acquainted with what is in the Books of Moses- وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّى (53:37)النجم اور ابراہیمؑ کی جنہوں نے (حق طاعت ورسالت) پورا کیا And of Abraham who fulfilled his engagements?- کیا اُس کو خبر نہیں ملی اُس کی جو موسیٰ کے صحیفے میں ہے اور ابراہیم کے صحیفے میں، جس نے اپنا قول پورا کیا۔ مَرْفُوْعَۃٍ: اس لفظ سے اُن صحیفوں کی اعلیٰ اور احسن ترتیب مراد ہے۔دوسرے مقامات پر یہ لفظ انہیں معانی میں استعمال ہوا ہے دیکھو آیات ذیل : (6) (7) وَفُرُشٍ مَرْفُوعَةٍ (56:34)الواقعۃ اور اونچے اونچے فرشوں میں And on Thrones (of Dignity), raised high. اور فرش ترتیب دئیے ہوئے ہیں ۔ فِيهَا سُرُرٌ مَرْفُوعَةٌ (88:13)الغاشیۃ وہاں تخت ہوں گے اونچے بچھے ہوئے Therein will be Thrones (of dignity), raised on high, اُس میں تخت ترتیب سے رکھے گئے ہیں ۔ آیت نمبر (6) میں فُرُشٌ جمع ہے فرش کی اور آیت نمبر (7) میں سُرُرٌ جمع ہے سر یر کی۔فرش اور سر یر ایک ہی مفہوم کو ظاہر کرتے ہیں ، اور دونوں آیات ایک دوسری کی مفسر ہیں یعنی قیام گاہ جس پر تکیہ لگایا جا سکے ۔اس مفہوم کی تائید آیات ذیل سے ہوتی ہے۔ : ( 8 ) ( 9 ) مُتَّكِئِينَ عَلَى سُرُرٍ مَصْفُوفَةٍ ۖ وَزَوَّجْنَاهُمْ بِحُورٍ عِينٍ (52:20)الطور تختوں پر جو برابر برابر بچھے ہوئے ہیں تکیہ لگائے ہوئے اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ہم ان کا عقد کر دیں گے They will recline (with ease) on Thrones (of dignity) arranged in ranks; and We shall join them to Companions, with beautiful big and lustrous eyes. اہل جنت ایسے تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے جو باترتیب بچھے ہوئے ہوں گے ۔ عَلَى سُرُرٍ مَوْضُونَةٍ (56:15)الواقعۃ (لعل و یاقوت وغیرہ سے) جڑے ہوئے تختوں پر (They will be) on Thrones encrusted (with gold and precious stones), مُتَّكِئِينَ عَلَيْهَا مُتَقَابِلِينَ (56:16)الواقعۃ آمنے سامنے تکیہ لگائے ہوئے Reclining on them, facing each other. اہل جنت ایسے تختوں پر ہوں گے جو باترتیب لگے ہوئے ہوں گے۔ اُن پر تکیہ لگا کر آرام کرنے والے آمنے سامنے ہوں گے۔ آیت نمبر ( 8 ) میں سُرُرٍ(واحدسریر ) کی صفتمَصْفُوْفَۃٍ بیان ہوئی ہے اور آیت نمبر (9) میں سُرُرٍ کی صفت مَوْضُوْنَۃٍ بیان ہوئی ہے مصفوف اور موضون ایک ہی مفہوم کو ظاہر کرتے ہیں ، اور دونوں آیات ایک دوسری کی مفسر ہیں ، یعنی ایسی قیام گاہیں جن پر تکیہ لگایا جا سکے ، اور جو مناسب ترتیب سے لگائی گئی ہوں ۔ آیت نمبر (9) نے اس مفہوم کی نہایت واضح کر دیا ہے، یعنی اہل جنت ایسی قیا م گاہوں پرمتمکن ہوں گے جو مناسبت سے ترتیب وار سجائی ہوئی ہوں گی، اور اُن پر آرام کرنے والے متقابل (آمنے سامنے ) ہوں گے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آیت مندرجۂ عنوان میں لفظ مَرْفُوْعَۃٍ کے معنیمَصْفُوْفَۃٍ (ترتیب دادہ شدہ) کے ہیں ۔ مُطَھَّرَۃٍ: اس لفظ کے معنے ہیں محفوظ کئے گئے ،یعنی یہ صحیفے شریروں کی دست برد سے محفوظ ہیں۔ اس مقام پر صُحُف کی صفت مُطَھَّرَۃٍ واقع ہوئی ہے۔ دوسرے مقام پر کتاب کی صفت محفوظ درج ہے ۔ (دیکھو مفصل بحث مندرجہ فصل دہم(صفحہ82)، جو کہ آگے آئے گی۔) صحیفۃ اور کتاب مترادف الفاظ ہیں۔ چوں کہ صحیفۃ کی صفت مُطَھَّرَۃٍ اور کتاب کی صفت محفوظ واقع ہوئی ہے اس واسطے مُطَھَّرَۃ اور محفوظ بھی ہم معنے ہیں ۔ سَفَرَۃ :جمع سافر کی ہے ، جیسے کتبہ جمع کاتب کی ہے سافر اور کاتب ہم معنے ہیں ، سفر بالکسر کے معنے ہیں کتاب جس کی جمع اسفار بہ معنٰے کتب ہے ،قرآن مجید سے اس معنٰی کی تائید ہوئی ہے ۔ دیکھو آیاتِ ذیل: (10) مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا ۚ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّهِ ۚ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ (62:5)الجمعۃ جن لوگوں (کے سر) پر تورات لدوائی گئی پھر انہوں نے اس (کے بار تعمیل) کو نہ اٹھایا ان کی مثال گدھے کی سی ہے جن پر بڑی بڑی کتابیں لدی ہوں۔ جو لوگ خدا کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں ان کی مثال بری ہے۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا The similitude of those who were charged with the (obligations of the) Mosaic Law, but who subsequently failed in those (obligations), is that of a donkey which carries huge tomes (but understands them not). Evil is the similitude of people who falsify the Signs of Allah: and Allah guides not people who do wrong. اُن لوگوں کی مثال جن کو تورات دی گئی پھر انہوں نے اُس کو نہ اٹھا یا ،اُس گدھے کی طرح جو کتابیں اٹھا تا ہے ۔ بَرَرَۃٍ: یا ابرار سے جماعت متقین مراد ہے ، ان کا ماخذ بِرّ ہے جس کی تعریف قرآن مجید میں اس طر ح کی گئی ہے ۔(11) : لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا ۖ وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ ۗ أُولَئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا ۖ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ (2:177)البقرۃ نیکی یہی نہیں کہ تم مشرق یا مغرب کو (قبلہ سمجھ کر ان) کی طرف منہ کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ خدا پر اور روز آخرت پر اور فرشتوں پر اور (خدا کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائیں۔ اور مال باوجود عزیز رکھنے کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو دیں اور گردنوں (کے چھڑانے) میں (خرچ کریں) اور نماز پڑھیں اور زکوٰة دیں۔ اور جب عہد کرلیں تو اس کو پورا کریں۔ اور سختی اور تکلیف میں اور (معرکہ) کارزار کے وقت ثابت قدم رہیں۔ یہی لوگ ہیں جو (ایمان میں) سچے ہیں اور یہی ہیں جو (خدا سے) ڈرنے والے ہیں It is not righteousness that ye turn your faces Towards east or West; but it is righteousness- to believe in Allah and the Last Day, and the Angels, and the Book, and the Messengers; to spend of your substance, out of love for Him, for your kin, for orphans, for the needy, for the wayfarer, for those who ask, and for the ransom of slaves; to be steadfast in prayer, and practice regular charity; to fulfil the contracts which ye have made; and to be firm and patient, in pain (or suffering) and adversity, and throughout all periods of panic. Such are the people of truth, the Allah-fearing. یہ کچھ نیکی نہیں ہے کہ اپنے مونہوں کو مشرق اور مغرب کی طرف پھیردو لیکن نیکی وہ شخص کرتا ہے جو ایمان لایا اللہ پر اور قیامت کے دن پر او ر ملائکہ پر اورتمام کتابوں پر اورتمام نبیوں پر اور دیا مال اس کی محبت پر قرابتیوں اور یتیمو ں اور مسکینوں اور مسافروں اور سوال کرنے والوں کواور غلاموں کے آزاد کرانے میں اور قائم کی صلوٰۃ اور دی زکوٰۃ اور اپنے عہد کے پورا کرنے والوں کو جب کہ وہ عہد کریں اور خوف اور تکلیف میں صبر کرنے والوں کو اور لڑائی کے وقت۔ یہی لوگ ہیں جو سچے ہیں اور یہی لوگ ہیں جو پرہیز گار ہیں ۔ اس آیت میں لفظ اَلْبِرُّ کی تشریح کے ساتھ یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ ابرار کو متقین بھی کہا گیا ہے ۔ تمام تعریف مندرجۂ آیت نوع انسان پر استعمال ہوئی ہے اور درحقیقت انسان ہی اس کا صحیح مورد ومصداق ہو سکتا ہے ۔ سَفَرَۃٍکِرَامٍ بَرَرَۃٍ سے کاتبین متقین کی جماعت مراد لینا بالکل آیاتِ مذکورہ بالا کے سیاق کے مطابق ہے ۔ آیت نمبر (1) مندرجہ شروع فصل کے تمام الفاظ کی تشریح اور تفسیر سے جو حسب آیات قرآن مجید کی گئی ہے اور الفاظِ آیت کے باہمی ربط کے لحاظ سے ایک صحیح دماغ انسانی اس نتیجہ پر بآسانی پہنچ جاتا ہے کہ قرآن مجید کا نصیحت ہونا، ایک قابل تکریم کتاب کی صورت میں با ترتیب ضبط تحریر میں آنا ، پاکباز جماعت کی حفاظت میں رہنا، نیکو کار کاتبوں کے ہاتھ سے لکھا جانا، شریروں کی مداخلت سے محفوظ ہونا، تمام ایسے اوصاف ہیں جو نوع انسان سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس تشریح کے بعد آیت (1) کا مطلب حسب ذیل ہوا : یہ قرآن مجید ایک تذکرہ (نصیحت )ہے ،جو شخص چاہے اس کو یاد رکھے، یہ صحیفوں (سورتوں )پر مشتمل ہے، جن کو فضیلت دی گئی ہے ،باترتیب لگی ہوئی ہیں، شریروں کی دست برد سے محفوظ ہیں ، کاتبوں کی ایک جماعتِ صالحہ کے ہاتھوں سے ضبط تحریر میں آئی ہیں۔ Last edited by rana ammar mazhar; 28-11-11 at 08:57 PM. |
|
|
|
|
|
#3 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ (98:1) جو لوگ کافر ہیں (یعنی) اہل کتاب اور مشرک وہ (کفر سے) باز رہنے والے نہ تھے جب تک ان کے پاس کھلی دلیل (نہ) آتی Those who reject (Truth), among the People of the Book and among the Polytheists, were not going to depart (from their ways) until there should come to them Clear Evidence,- رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً (98:2) (یعنی) خدا کے پیغمبر جو پاک اوراق پڑھتے ہیں An messenger from Allah, rehearsing scriptures kept pure and holy: فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ (98:3) جن میں( مستحکم) آیتیں لکھی ہوئی ہیں Wherein are laws (or decrees) right and straight. ) وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ (98:4) اور اہل کتاب جو متفرق (و مختلف) ہوئے ہیں تو دلیل واضح آنے کے بعد( ہوئے ہیں) Nor did the People of the Book make schisms, until after there came to them Clear Evidence. آپ بتائیں انہوں نے قرآن کتنے حروف تہجی میں لکھا ؟؟؟ |
|
|
|
|
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کاتبان وحی ؓ نے نزول قرآن کے کتنے سال بعد کتابت کا کام شروع کیا تھا ؟؟؟ |
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ (98:3)
جن میں( مستحکم) آیتیں لکھی ہوئی ہیں یہ کس کا ترجمہ ہے جی؟؟"" لکھی ہوئی"" انگلش ترجمہ:: Wherein are laws (or decrees) right and straight. ) بندے کو کالم اللہ کا ہی خیال کر لینا چاہیے کچھ. افسوس صد افسوس
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد : "وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة، أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة" |
|
|
|
| عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (27-11-11) |
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
كُتُبٌ :: لکھی ہیں !!! [98:3] فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ :: فيها كتب قيمة Tahir ul Qadri : جن میں درست اور مستحکم احکام (درج) ہیں Yousuf Ali : Wherein are laws (or decrees) right and straight. Ahmed Ali: جن میں درست مضامین لکھے ہوں Ahmed Raza Khan: ان میں سیدھی باتیں لکھی ہیں Shabbir Ahmed: جن میں لکھی ہوں تحریریں راست اور درست۔ Fateh Muhammad Jalandhary: جن میں( مستحکم) آیتیں لکھی ہوئی ہیں Mehmood Al Hassan: اس میں لکھی ہیں کتابیں مضبوط Literal: In it (are) straight/valuable Books. Yusuf Ali: Wherein are laws (or decrees) right and straight. Pickthal: Containing correct scriptures. Arberry: therein true Books. Shakir : Wherein are all the right ordinances. Sarwar: holy Book which contain eternal laws of guidance. H/K/Saheeh: Within which are correct writings. Malik: containing infallible books.[3] Maulana Ali**: Wherein are (all) right books. Free Minds: In them are valuable books. Qaribullah: in which there are valuable Books. George Sale: wherein are contained right discourses. JM Rodwell: Neither were they to whom the Scriptures were given divided into sects, till after this clear evidence had reached them! Asad: wherein there are ordinances of ever-true soundness and clarity. Khalifa**: In them there are valuable teachings. Hilali/Khan**: Containing correct and straight laws from Allah. QXP Shabbir Ahemd** Wherein are Authoritative Scriptures. http://www.openburhan.net/ob.php?sid=98&vid=3 Last edited by rana ammar mazhar; 27-11-11 at 02:01 PM. |
|
|
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (27-11-11) |
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
نام: شَھَادَتُ الْفُرْقَان علیٰ جَمَع الْقُرْاٰن مصنّف : شیخ عطاء ا للّٰہ (وکیل گجرات) طبع اول : 1907ء Shahadat-Ul Furqan Ala Jama-Ul Quran by Ataullah Shahadat-ul Furqan ala Jama-ul Quran by Ataullah : Shahadat-ul Furqan ala Jama-ul Quran by Ataullah : Free Download & Streaming : Internet Archive قران کے نسخے کن ہاتھوں سے ہمارے ہاتھوں تک پہنچے؟ ابتدائی قرآن کی کتابت کی تاریخ |
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
"جمع قرآن" کے نام پر روایات میں "قرآن" کے بارے میں گمان و شکوک !!! ادھر نبی صلی اللہ دنیا سے رخصت ہوگئے اور ہم پر یہ واضح نہ فرما سکے کہ یہ اس کا حصہ ہے یا نہیں؟ میرا گمان یہ ہوا کہ سورت برائۃ، سورت انفال ہی کاجزو ہے اس لئے میں نے ان دونوں کو ملا دیا اور ان دونوں کے درمیان، بسم اللہ، والی سطر بھی نہیں لکھی اور اسے سبع طوال میں شمار کر لیا ۔ 1 - ا ب ج : (26407) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مرویات حدثنا إسماعيل بن إبراهيم حدثنا عوف بن أبي جميلة حدثني يزيد الفارسي حدثنا ابن عباس قال قلت لعثمان ما حملكم على أن عمدتم إلى سورة الأنفال وهي من المثاني وإلى سورة براة وهي من المين فقرنتم بينهما ولم تكتبوا بينهما سطر بسم الله الرحمن الرحيم فوضعتموها في السبع الطوال فما حملكم على ذلك قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم مما يأتي عليه الزمان وهو ينزل عليه من السور ذوات العدد فكان إذا أنزل عليه الشي دعا بعض من يكتب له فيقول ضعوا هذه في السورة التي يذكر فيها كذا وكذا وإذا أنزلت عليه الآيات قال ضعوا هذه الآيات في السورة التي يذكر فيها كذا وكذا وإذا أنزلت عليه الآية قال ضعوا هذه الآية في السورة التي يذكر فيها كذا وكذا وكانت سورة الأنفال من أوال ما نزل بالمدينة وكانت سورة براة من أواخر ما أنزل من القرآن قال فكانت قصتها شبيها بقصتها فظننا أنها منها وقبض رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يبين لنا أنها منها فمن أجل ذلك قرنت بينهما ولم أكتب بينهما سطر بسم الله الرحمن الرحيم ووضعتها في السبع الطوال مسند احمد:جلد اول:حدیث نمبر 468 حدیث مرفوع حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ لوگوں نے سورت انفال کو جو مثانی میں سے ہے سورت برائۃ کے ساتھ جو کہ مئین میں سے ہے ملانے پر کس چیز کی وجہ سے اپنے آپ کو مجبور پایا اور آپ نے ان کے درمیان ایک سطر کی بسم اللہ تک نہیں لکھی اور ان دونوں کو سبع طوال میں شمار کرلیا آپ نے ایسا کیوں کیا؟ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی کا نزول ہو رہا تھا تو بعض اوقات کئی کئی سورتیں اکٹھی نازل ہو جاتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب کوئی وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی کاتب وحی کو بلا کر اسے لکھواتے اور فرماتے کہ اسے فلاں سورت میں فلاں جگہ رکھو، بعض اوقات کئی آیتیں نازل ہوئیں اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بتا دیتے کہ ان آیات کو اس سورت میں رکھو اور بعض اوقات ایک ہی آیت نازل ہوتی لیکن اس کی جگہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بتا دیا کرتے تھے۔ سورت انفال مدینہ منورہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی تھی، جبکہ سورت برائۃ نزول کے اعتبار سے قرآن کریم کا آخری حصہ ہے اور دونوں کے واقعات واحکام ایک دوسرے سے حد درجہ مشابہت رکھتے تھے، ادھر نبی صلی اللہ دنیا سے رخصت ہوگئے اور ہم پر یہ واضح نہ فرما سکے کہ یہ اس کا حصہ ہے یا نہیں؟ میرا گمان یہ ہوا کہ سورت برائۃ، سورت انفال ہی کاجزو ہے اس لئے میں نے ان دونوں کو ملا دیا اور ان دونوں کے درمیان، بسم اللہ، والی سطر بھی نہیں لکھی اور اسے سبع طوال میں شمار کر لیا ۔ |
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فصلِ اوّل کلماتِ وحی کا بصورت کتاب مرتب کرنا ابنیاء کی سُنتِ قدیمہ تھی۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم سے تمام نبی یا رسول کلماتِ وحی کو بصورت کتاب قوم کے سامنے پیش کرتے رہے ہیں ۔ ایسا کرنا نبوت یا رسالت کا ضروری جزو تھا کیونکہ یہ مقدس لوگ دُنیا میں ہر وقت اورہر جگہ موجود نہیں رہے، قدرت کا نہ ٹلنے والا موت اور فنا کا فتویٰ ان پر بھی اسی طرح نافذ ہوتا رہا ہے جس طرح باقی تمام نفوس اور اشیاء پر دیکھو آیات ذیل ۔ : (1) (2) كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ (29:57) العنکبوت ہر متنفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے۔ پھر تم ہماری ہی طرف لوٹ کر آؤ گے Every soul shall have a taste of death in the end to Us shall ye be brought back. ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے ۔ پھر تم ہماری طرف پھیرے جاؤ گے ۔ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ (55:26) الرحمٰن جو (مخلوق) زمین پر ہے سب کو فنا ہونا ہے All that is on earth will perish: وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ (55:27) الرحمٰن اور تمہارے پروردگار ہی کی ذات (بابرکات) جو صاحب جلال وعظمت ہے باقی رہے گی But will abide (for ever) the Face of thy Lord,- full of Majesty, Bounty and Honour. جو کچھ زمین پر ہے فنا ہونے والا ہے، اور باقی رہے گی تیرے رب کی ذات جو جلال اور کرامت والی ہے۔ اس جہان کو چھوڑنے یا دُور دراز مقامات تک تبلیغ کرنے کی صورتوں میں ، نبوت یا رسالت کا کتاب کے سوا سب سے بہتر کوئی قائم مقام نہیں ہو سکتا ۔ یہی وہ کتابیں تھیں، جن کا نام قرآن مجید کی زبان میں کتابُ اللّٰہِ یا اَلْکِتٰبُ ہے ، دیکھو آیاتِ ذیل: (3) (4) (5) كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ وَأَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ ۚ وَمَا اخْتَلَفَ فِيهِ إِلَّا الَّذِينَ أُوتُوهُ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۖ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِهِ ۗ وَاللَّهُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (2:213) البقرۃ (پہلے تو سب) لوگوں کا ایک ہی مذہب تھا (لیکن وہ آپس میں اختلاف کرنے لگے) تو خدا نے (ان کی طرف) بشارت دینے والے اور ڈر سنانے والے پیغمبر بھیجے اور ان پر سچائی کے ساتھ کتابیں نازل کیں تاکہ جن امور میں لوگ اختلاف کرتے تھے ان کا ان میں فیصلہ کردے۔ اور اس میں اختلاف بھی انہیں لوگوں نے کیا جن کو کتاب دی گئی تھی باوجود یہ کہ ان کے پاس کھلے ہوئے احکام آچکے تھے (اور یہ اختلاف انہوں نے صرف) آپس کی ضد سے (کیا) تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھا دی۔ اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھا رستہ دکھا دیتا ہے Mankind was one single nation, and Allah sent Messengers with glad tidings and warnings; and with them He sent the Book in truth, to judge between people in matters wherein they differed; but the People of the Book, after the clear Signs came to them, did not differ among themselves, except through selfish contumacy. Allah by His Grace Guided the believers to the Truth, concerning that wherein they differed. For Allah guided whom He will to a path that is straight. لوگ ایک گروہ تھے ، پھر بھیجا اللہ نے نبیوں کو خوش خبری دینے والے اورآگاہ کرنے والے ، اور اُن کے ساتھ برحق کتاب اتار دی تاکہ لوگوں میں اُس بات میں جس میں وہ مختلف ہو گئے حکم دیں۔ لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۖ وَأَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ ۚ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ (57:25) الحدید ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی نشانیاں دے کر بھیجا۔ اور اُن پر کتابیں نازل کیں اور ترازو (یعنی قواعد عدل) تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔ اور لوہا پیدا کیا اس میں (اسلحہٴ جنگ کے لحاظ سے) خطرہ بھی شدید ہے۔ اور لوگوں کے لئے فائدے بھی ہیں اور اس لئے کہ جو لوگ بن دیکھے خدا اور اس کے پیغمبروں کی مدد کرتے ہیں خدا ان کو معلوم کرے۔ بےشک خدا قوی (اور) غالب ہے We sent aforetime our messengers with Clear Signs and sent down with them the Book and the Balance (of Right and Wrong), that men may stand forth in justice; and We sent down Iron, in which is (material for) mighty war, as well as many benefits for mankind, that Allah may test who it is that will help, Unseen, Him and His messengers: For Allah is Full of Strength, Exalted in Might (and able to enforce His Will). بے شک ہم نے اپنے رسولوں کو دلائل کے ساتھ بھیجا اور ہم نے اُن کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تا کہ لوگ عدل کو قائم رکھیں ۔ آیت (3) میں اَلنَّبِیّن کا لفظ ہے اور آیت (4) میں رُسُل کا لفظ ہے۔ دونوں آیتوں میں الفاظ أَنْزَلَ مَعَہُمُ الْکِتٰب اورَأَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْکِتٰب یکساں طور پر واقع ہوئے ہیں، جن سے نبی یارسول کے ساتھ کتاب کا ہونا صاف طور پر پایا جاتا ہے ۔ وَلِكُلِّ أُمَّةٍ رَسُولٌ ۖ فَإِذَا جَاءَ رَسُولُهُمْ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ (10:47) یونس اور ہر ایک اُمت کی طرف سے پیغمبر بھیجا گیا۔ جب ان کا پیغمبر آتا ہے تو اُن میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور ان پر کچھ ظلم نہیں کیا جاتا To every people (was sent) a messenger: when their messenger comes (before them), the matter will be judged between them with justice, and they will not be wronged. اور ہر گروہ کے لیے رسول ہے، پھر جب انکے لئے اللہ کا رسول آیا، اُن میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا گیا، اور وہ ظلم نہیں کیے جاتے ۔ اس آیت کو جب آیات نمبر (3، 4) سے ملا کر دیکھا جائے تو اس امر کا قطعی فیصلہ ہو جاتا ہے کہ قرآن مجید میں نبی یا رسول کا مفہوم ایک ہے ، کیونکہ ان آیات میں نبوت یا رسالت کی جو اغراض بیان ہوئی ہیں وہ ایک ہی ہیں ۔ آیاتِ مذکورہ بالا میں نزولِ کتاب سے یہ مراد نہیں ہے کہ کا غذ وں پر لکھا مجموعہ آسمان سے اُترتا تھا، کیونکہ دوسرے مقام پر اس طرح کتابِ آسمانی کے نزول کی نفی موجود ہے۔ دیکھوآیات ذیل: (6) أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِنْ زُخْرُفٍ أَوْ تَرْقَى فِي السَّمَاءِ وَلَنْ نُؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَقْرَؤُهُ ۗ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولًا (17:93) بنی اسرآئیل یا تو تمہارا سونے کا گھر ہو یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ۔ اور ہم تمہارے چڑھنے کو بھی نہیں مانیں گے جب تک کہ کوئی کتاب نہ لاؤ جسے ہم پڑھ بھی لیں۔ کہہ دو کہ میرا پروردگار پاک ہے میں تو صرف ایک پیغام پہنچانے والا انسان ہوں "Or thou have a house adorned with gold, or thou mount a ladder right into the skies. No, we shall not even believe in thy mounting until thou send down to us a book that we could read." Say: "Glory to my Lord! Am I aught but a man,- a messenger?" ٍ یا تُو آسمان پر چڑھے ، اور ہم تیرے چڑھ جانے پر ایمان نہ لائیں گے ۔ یہاں تک کہ توہم پر ایک کتا ب اتار لائے جس کو ہم پڑھیں ، کہہ دے( اے رسول) پاک ہے میرا رب (ان امور سے ) میں اور کچھ نہیں مگر انسان رسول (پیغام لانے والا) اصل مطلب یہ ہے کہ ابنیاء نے جن احکام کو اللہ تعالیٰ کی وحی سے بصورت کتاب مرتب کیا اور قوم کے سامنے پیش کیا اُن پر بموجب عام محاورہِ قرآن مجیدکے لفظِ نزول بولا گیا ہے ۔ اس محاورے کی تائید میں دیکھو آیاتِ ذیل : ( 7 ) ( 8 ) (9) يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ وَرِيشًا ۖ وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ ۚ ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ (7:26) الاعراف اے نبی آدم ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہارا ستر ڈھانکے اور (تمہارے بدن کو) زینت (دے) اور (جو) پرہیزگاری کا لباس (ہے) وہ سب سے اچھا ہے۔ یہ خدا کی نشانیاں ہیں تاکہ لوگ نصحیت پکڑ یں O ye Children of Adam! We have bestowed raiment upon you to cover your shame, as well as to be an adornment to you. But the raiment of righteousness,- that is the best. Such are among the Signs of Allah, that they may receive admonition! اے آدم کے بیٹو بے شک ہم نے تم پر ایک لباس اُتارا ہے جو تمہاری شرم گاہوں کوڈھانکتا ہے اور ( تمہاری ) زینت ہے، اور تقویٰ کا لباس، یہی اچھا ہے، یہ اللہ کی آیتوں میں سے ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا قُلْ آللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ ۖ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ (10:59) یونس کہو کہ بھلا دیکھو تو خدا نے تمھارے لئے جو رزق نازل فرمایا تو تم نے اس میں سے (بعض کو) حرام ٹھہرایا اور (بعض کو) حلال (ان سے) پوچھو کیا خدا نے تم کو اس کا حکم دیا ہے یا تم خدا پر افتراء کرتے ہو Say: "See ye what things Allah hath sent down to you for sustenance? Yet ye hold forbidden some things thereof and (some things) lawful." Say: "Hath Allah indeed permitted you, or do ye invent (things) to attribute to Allah?" کہہ دے ( اے بنی آدم ) کیا تم نے دیکھا جوکچھ ہم نے تمہارے لیے رزق کی قسم سے اتارا ہے ،پھر تم نے اُس میں سے حرام اور حلال کر لیا ، کہہ دے کیا اللہ نے تم کو اجازت دی ہے یا تم اللہ پر افترا کرتے ہو ۔ لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۖ وَأَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ ۚ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ (57:25) الحدید ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی نشانیاں دے کر بھیجا۔ اور اُن پر کتابیں نازل کیں اور ترازو (یعنی قواعد عدل) تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔ اور لوہا پیدا کیا اس میں (اسلحہٴ جنگ کے لحاظ سے) خطرہ بھی شدید ہے۔ اور لوگوں کے لئے فائدے بھی ہیں اور اس لئے کہ جو لوگ بن دیکھے خدا اور اس کے پیغمبروں کی مدد کرتے ہیں خدا ان کو معلوم کرے۔ بےشک خدا قوی (اور) غالب ہے We sent aforetime our messengers with Clear Signs and sent down with them the Book and the Balance (of Right and Wrong), that men may stand forth in justice; and We sent down Iron, in which is (material for) mighty war, as well as many benefits for mankind, that Allah may test who it is that will help, Unseen, Him and His messengers: For Allah is Full of Strength, Exalted in Might (and able to enforce His Will). اور ہم نے لوہا اتارا اس میں (سامان) سخت لڑائی (کا) ہے اور لوگوں کے واسطے فائدے ہیں۔ آیت نمبر (7) میں ہر قسم کے لباس کا ذکر ہے جو زمین کی چیزوں سے تیار ہوتا ہے۔ آیت نمبر ( 8 ) میں ہر قسم کے رزق کا ذکر ہے جو زمین سے پیدا ہوتا اور اُس پر موجود ہے۔ آیت نمبر(9) میں لوہے اور اُس کی ہم جنس دھاتوں کا ذکر ہے جو زمین سے نکلتی ہیں ۔ ان تمام اشیاء کی نسبت نزول کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ حالانکہ ان میں سے کوئی چیز بھی آسمان سے نہیں اُتری ۔ اسی طرح کتب سماوی کی نسبت بھی نزول کا لفظ بولا گیا ہے ۔ قرآن مجید میں انبیاء کی سنن قدیمہ بیان کرنے کا اصل مطلب یہ ہے کہ اُن کا اقتدا کیا جائے ۔ جس حالت میں کلمات وحی کا بصورت کتاب مرتب رکھنا ابنیاء کی مسلمہ سنت ہے، تو جناب خاتم النبین کا بھاری فرض یہ تھا کہ کلماتِ وحی کو بصورتِ کتاب جمع اور مرتب رکھتے ۔ دیکھو آیاتِ ذیل: (10) (11) يُرِيدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ وَيَهْدِيَكُمْ سُنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَيَتُوبَ عَلَيْكُمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (4:26) النسآء خدا چاہتا ہے کہ (اپنی آیتیں) تم سے کھول کھول کر بیان فرمائے اور تم کو اگلے لوگوں کے طریقے بتائے اور تم پر مہربانی کرے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے Allah doth wish to make clear to you and to show you the ordinances of those before you; and (He doth wish to) turn to you (In Mercy): And Allah is All-knowing, All-wise. اللہ چاہتا ہے کہ تم کو بتادے اور تم کو اُن لوگوں کی راہ کی ہدایت کرے جو تم سے پہلے تھے، اور تم کو معاف کرے ، اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے ۔ أُولَئِكَ الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ۚ فَإِنْ يَكْفُرْ بِهَا هَؤُلَاءِ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَيْسُوا بِهَا بِكَافِرِينَ (6:89) الانعام یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم (شریعت) اور نبوت عطا فرمائی تھی۔ اگر یہ (کفار) ان باتوں سے انکار کریں تو ہم نے ان پر (ایمان لانے کے لئے) ایسے لوگ مقرر کردیئے ہیں کہ وہ ان سے کبھی انکار کرنے والے نہیں These were the men to whom We gave the Book, and authority, and prophethood: if these (their descendants) reject them, Behold! We shall entrust their charge to a new people who reject them not. أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ ۗ قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا ۖ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَى لِلْعَالَمِينَ (6:90) الانعام یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی تھی تو تم انہیں کی ہدایت کی پیروی کرو۔ کہہ دو کہ میں تم سے اس (قرآن) کا صلہ نہیں مانگتا۔ یہ تو جہان کے لوگوں کے لئےمحض نصیحت ہے Those were the (prophets) who received Allah's guidance: Copy the guidance they received; Say: "No reward for this do I ask of you: This is no less than a message for the nations." یہ وہ (بزرگ) لوگ ہیں جن کو ہم نے کتاب ،حکمت اور نبوت دی ، پھر اگر یہ کافر اس کا انکار کر یں تو بے شک ہم نے اس کے لیے اور قوم کو مقرر کیا ہے جو اس کا انکار کرنے والی نہیں ہے۔ یہ (انبیاء ) وہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی ہے پھر تو انہیں کی ہدایت کی پیروی کر ۔ آیت نمبر (11) کے عین ما قبل کی آیات میں انبیاء مندرجہ ذیل ابراہیم ؑ ، اسحاق ؑ ، یعقوبؑ ، نوحؑ ، داؤد، سلیمان ؑ ، ایوب ؑ ، یوسف ؑ ، موسیٰؑ ، ہارونؑ ، زکریاؑ ، یحییٰ ؑ ، عیسےٰؑ ، الیاسؑ ، اسمعےٰلؑ ، الیسعؑ ، یونسؑ ، لوطؑ کے اسماء گرامی اور ان کے مختصر اوصاف بیان کرنے کے بعد الفاظ ذیل أُوْلٰٓءِکَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰب مرقوم ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ان میں سے ہر ایک کو نبوت دی گئی ہے اسی طرح ہر ایک کو کتاب بھی دی گئی ہے ۔ اس آیت میں بجائے الفاظ أَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْکِتٰبَکے اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ کا استعمال ہوا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں فقرات کا مفہوم ایک ہے۔ اس آیت کے الفاظ فَبِہُدٰ ہُمُ اقْتَدِہْ اُس فرض کو ظاہر کرتے ہیں جن کے رو سے کتاب اللہ کی جمیعت اور ترتیب بھی جناب خاتم النبین ؐ کے ذمے تھی اور یہ فرض بالکل تبلیغ رسالت کے مساوی تھا۔ اس فرض کے پوراکرنے کے واسطے جناب ممدوح کو کئی پیرائیوں میں نہایت استقلال سے کاربند رہنے کا حکم ہوا اور صاف طور پر سمجھا دیا گیا کہ اس میں کسی شخص کی رائے کی نہ مداخلت ہو نہ اتباع ۔ دیکھو آیات ذیل : (12) (13) (14) فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا ۚ إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (11:112) ھود سو (اے پیغمبر) جیسا تم کو حکم ہوتا ہے (اس پر) تم اور جو لوگ تمہارے ساتھ تائب ہوئے ہیں قائم رہو۔ اور حد سے تجاوز نہ کرنا۔ وہ تمہارے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے Therefore stand firm (in the straight Path) as thou art commanded,- thou and those who with thee turn (unto Allah); and transgress not (from the Path): for He seeth well all that ye do. پھر تو (اے رسول اسی طرح) قائم رہ جس طرح تجھے حکم دیا گیا ہے اور وہ لوگ بھی جنہوں نے تیرے ساتھ توبہ کی ( اسی طرح قائم رہیں ) اور حدسے آگے نہ بڑھو ، بے شک وہ اللہ اُس کو جو تم کرتے ہو دیکھنے والا ہے ۔ فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ (15:94) الحجر پس جو حکم تم کو (خدا کی طرف سے) ملا ہے وہ (لوگوں کو) سنا دو اور مشرکوں کا (ذرا) خیال نہ کرو Therefore expound openly what thou art commanded, and turn away from those who join false gods with Allah. پھر کھول کر بتلادے (اے رسولؐ)اس چیز کو جس کا تجھ کو حکم دیا جاتا ہے اور مشرکوں سے منہ پھیر لے ۔ فَلِذَلِكَ فَادْعُ ۖ وَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ ۖ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ ۖ وَقُلْ آمَنْتُ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنْ كِتَابٍ ۖ وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ ۖ اللَّهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ ۖ لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ ۖ لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ ۖ اللَّهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا ۖ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ (42:15) الشورٰی تو (اے محمدﷺ) اسی (دین کی) طرف (لوگوں کو) بلاتے رہنا اور جیسا تم کو حکم ہوا ہے (اسی پر) قائم رہنا۔ اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا۔ اور کہہ دو کہ جو کتاب خدا نے نازل فرمائی ہے میں اس پر ایمان رکھتا ہوں۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ تم میں انصاف کروں۔ خدا ہی ہمارا اور تمہارا پروردگار ہے۔ ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال کا۔ ہم میں اور تم میں کچھ بحث وتکرار نہیں۔ خدا ہم (سب) کو اکھٹا کرے گا۔ اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے Now then, for that (reason), call (them to the Faith), and stand steadfast as thou art commanded, nor follow thou their vain desires; but say: "I believe in the Book which Allah has sent down; and I am commanded to judge justly between you. Allah is our Lord and your Lord: for us (is the responsibility for) our deeds, and for you for your deeds. There is no contention between us and you. Allah will bring us together, and to Him is (our) Final Goal. اور قائم رہ جیسا تجھ کو حکم دیا گیا اور کفار کی خواہشوں کی پیروی نہ کر ، اور کہہ دے میرا ایمان اُس پر ہے جو کتاب میں سے اللہ نے نازل کیا ہے ۔ یہ تمام آیات اس امر کی روشن شہادت ہیں کہ سب نبی یا رسول کلماتِ وحی کو بصورتِ کتاب مرتب رکھتے تھے۔ انبیاء کے اس متفقہ عمل کی وجہ سے جناب خاتم النبین کو اس عمل میں بھی اُن کے ساتھ اقتدا کرنے کا حکم ہوا ، پھر اس اہم خدمت کو استقلال کے ساتھ انجام دینے کے واسطے بار بار تاکید ہوئی۔ انہیں احکام کی تعمیل میں اور انبیاء کی اسی سنتِ قدیمہ کے اقتداء میں جناب ممدوح نے تبلیغ رسالت کے ساتھ ہی قرآن مجید کے بصورت کتاب جمع اورمرتب رکھنے کی بنیاد قائم کی اور اُس کو اختتام تک پہنچایا ۔ ـــــــــ نام: شَھَادَتُ الْفُرْقَان علیٰ جَمَع الْقُرْاٰن مصنّف : شیخ عطاء ا للّٰہ (وکیل گجرات) طبع اول : 1907ء |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| city, death, messenger, prayer, فن, فرض, کتابوں, پیارے, پاک, پسندیدہ, لوگ, نفرت, نماز, مکہ, موت, مجید, مشعل, آبادی, اچھا کام, تعلیم, ختم نبوت, خدا, دیکھو, دوست, سودا |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سُوۡرَةُ الفَتْح | زارا | علوم قرآن کریم | 1 | 14-02-11 02:09 PM |
| سُوۡرَةُ الفَتْح | زارا | تلاوت اور تجوید | 0 | 12-02-11 03:57 PM |