واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم



علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم


علم وحی سے جنگ کب سے؟ کیوں؟ اور کس کی؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-01-12, 08:03 PM   #1
علم وحی سے جنگ کب سے؟ کیوں؟ اور کس کی؟
rana ammar mazhar rana ammar mazhar آن لائن ہے 25-01-12, 08:03 PM

اللہ عز وجل نے جو اعلان فرمایا کہ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِن فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاء لِّلسَّائِلِينَ (10-41) یعنی اللہ نے اوپر سے جبل گاڑ دئے زمین میں جما کر اسے مستحکم بنانے کیلئے اور مقدر فرمائے زمین کے اندر مخلوق کے ارزاق چار مرحلوں میں حاجت مندوں کے درمیان برابری کے اصول پر، سو لٹیرے لوگوں کو اللہ کی یہ برابری والی بات راس نہیں آئی یہ لوگ اپنی استحصالی مزاج کی بنیاد پر مال دولت کو حاجت مند لوگوں کیلئے کھولے رکھنے کے بجائے مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُّرِيبٍ (25-50) اللہ کے بتائے ہوئے نظام معیشت سے سرکشی برتنے والے اور ہمارے اس معاملہ میں گرفت اور احتساب پر) شک کرنے والے تھے” ان لٹیروں سے مقابلہ کے وقت جب ہمارے انبیاء اور انقلاب لانے والے انبیاءکے پیروکار انہیں کہا کرتے تھے کہ علم وحی کے ذریعہ سے ملے ہوئے نظام معیشت میں یہ پاس شدہ اصول ہے کہ وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَى (39-53) ہر انسان کو اتنا حق پہنچتا ہے جتنا وہ کمائے اور محنت کرے” نکمے اور نکھٹو لوگوں کیلئے کچھ بھی نہیں” ساتھ ساتھ انبیاء علیہم السلام اور ان کے انقلابی پیروکار ڈٹ کر انہیں چئلنج دیتے تھے کہ خبردار ہمارے انقلاب کا دور آنیوالا ہے جس میں صرف قرآن کا منشور چلے گا، جو یہ ہوگا کہ لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَى (15-20) ہر شخص کو اسکے سعی و عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے کسی محنت کش کا صلہ اور اجرت کسی کو لوٹنے کا حق نہیں دیا جائیگا۔

انبیا‎ء علیہم السلام کی معرفت یہ تھا نظام معیشت جس میں بن کمائے دولت کا مالک بننے کے سارے راستے بند تھے جو لوگ مثل قارون کہتے تھے کہ وانما اوتیتہ علی علم عندی یعنی ہماری زیادہ کمائی ہماری اپنی ذہنی استعداد کی مرہون منت ہے تو انکی فلاسفی اور استدلال کو بھی قرآن حکیم نے رد فرمایا کہ وَاللّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الْرِّزْقِ فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُواْ بِرَآدِّي رِزْقِهِمْ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاء أَفَبِنِعْمَةِ اللّهِ يَجْحَدُونَ (71-16) یعنی روزی رزق کمانے کی ذہنی صلاحیتوں میں کسی کو کسی پر اللہ کی جانب سے فضیلت دی ہوئی ہے سو جن لوگوں کو زیادہ استعداد دی ہوئی ہو ان پر لازم ہے کہ وہ اپنی زیادہ کمائی ہوئی دولت کم استعداد والے ان لوگوں کو لوٹا دیں جو ان کی زیردستی میں انکے ساتھ شریک کار ہیں۔ اس لئے کہ وہ بھی حاجات انسانی میں ان کے برابر ہیں۔ (اگر یہ زیادہ استعداد والے لوگ گھمنڈ میں آ کر اسپر صرف اپنا حق سمجھتے کہ ہم اپنی کمائی ضرورت سے زائد کسی اور کو کیوں دیں؟) تو اللہ پاک نے انہیں جواب دیا کہ آپ کی ذہنی استعداد اور فضیلت یہ تو میری دی ہوئی ہے، آپ اگر میری دی ہوئی عطا پر صرف اپنا استحقاق جماتے ہیں، یہ تو آپ کی بے انصافی ہوگی؟ جس کیلئے فرمایا کہ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُم بَعْضًا سُخْرِيًّا وَرَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ (32-43) یعنی ہم نے دنیا کے اندر جو تقسیم معاش کا فارمولا دیا ہے (10-41) وہی نافذ کرنا ہوگا” (رہا تمہارا اعتراض کہ آپکی فاضل کمائی آپکی بہتر ذہنی استعداد کے طفیل ہے اسلئے اس پر آپ کا حق ہوگا سو یہ غلط ہے) اس لئے کہ ذہنی صلاحیتیں کم یا زیادہ یہ تو ہمنے ایسے تفاوت جان بوجھ کر رکھے ہیں تاکہ زیادہ صلاحیتوں کے مالک لوگ کم صلاحیت لوگوں سے حمالی چوکیداری چپراسی اور محنت والے ایسی کام جن میں ذہنی اور عقلی لاگت کم ہوتی ہو اور جسمانی طاقت زیادہ، اللہ عز وجل نے فرمایا کہ یہ تفاوت ہمنے اسلئے رکھا ہے کہ عقلمند سائنس داں قسم کے لوگ کم ذہن لوگوں سے ایسے کام لے سکیں جن میں ذہانت سے زیادہ جسمانی مشقت درکار ہوتی ہے، آگے جہاں تک سوال ہے ضروریات زندگی کے بنیادی مبادیات کا اس میں کھانا پینا جاء رہائش اور لباس یہ آپ سب کا برابری کے حساب سے حق بنتا ہے۔ (119-20) (10-41) کیا ذہین، عقلمند اور سائنس داں لوگ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ اللہ اگر چاہتا تو انکی استعداد زیرو پر کر لیتا تو یہ لوگ زیادہ کمانا تو درکنار بے ہنرے اور پاگل بنے پھرتے جو انہیں بھیک مانگنے پر بھی کچھ نہ ملتا، سو ذہیں عقلمند لوگوں پر فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی ذہانت سے زیادہ کمائی ہوئی دولت اپنے شریک کار ماتحت اسٹاف کو لوٹادیں۔

جناب قارئین!
مختصرا عرض یہ ہے کہ علم وحی کا نظام معیشت جو استحصالی لٹیرے، کم چور، اور پرائی محنت پر عیاشی کرنے والوں کو راس نہیں آیا سو ایسے مترفین جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے بھی انبیاءعلیہم السلام کی معرفت ملے ہوئے علم وحی کی فلاسفی کو يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِ (46-4) کے حربوں سےٹوٹل علم وحی میں بگاڑلے آئے اور آخری نبی کی آخری کتاب قرآن جو اللہ کی حفاظت اور پہرے میں ہے اسکے اندر ڈیوٹیون پر لگائی ہوئی اپنی پروردہ مذہبی پیشوائیت کو یہ سکھایا اور حکم دیا کہ إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا فَخُذُوهُ وَإِنْ لَمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوا (41-5) یعنی جناب رسول علیہ السلام کی مجلس وحی میں بھیجی ہوئی اپنی گماشتہ ٹیم کو انکے سرپرست ڈونر یہ سکھا کر بھیجتے ہیں کہ علم وحی کے قوانین کی ہماری والی یہ فلاسفی کہ انما اوتیتہ علی علم عندی ( 78-28 ) یعنی ہماری یہ فاضل دولت ہماری ذہنی ائپروچ کا کمال ہے، اسلئے اسپر صرف ہمارا حق ہوگا، قرآن کے حکم وَاللّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الْرِّزْقِ فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُواْ بِرَآدِّي رِزْقِهِمْ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاء أَفَبِنِعْمَةِ اللّهِ يَجْحَدُونَ (71-16) یعنی اپنی ضرورت سے زائد کمائی ہم اپنے ماتحت لوگوں کو انکی کمی دور کرنے کیلئے لوٹا دیں، اس لئے کہ وہ ہمارے برابر کا استحقاق رکھتے ہیں، ایسے احکام قرآن کو قبول نہ کریں ایسے احکامات ماننے سے فاحذروا بچکے رہیں۔

محترم قارئین!
قرآن حکیم نے بتایا ہے کہ إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَى نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِن بَعْدِهِ (163-4) یعنی اے رسول ! ہم نے جو وحی آپکی طرف نازل کی ہے یہ بعینہ وہ احکام ہیں جو ہم نے نوح اور اسکے بعد کے جملہ انبیاء علیہم السلام کی طرف وحی کئے تھے، مطلب عرض کرنے کا یہ ہے کہ علم وحی کی جملہ انبیاءکی طرف نازل کی ہوئی تعلیم ایک ہے، اور جناب نوح علیہ السلام سے لیکر جناب خاتم الانبیا‎ء محمد علیہ السلام تک جملہ انبیا ء کرام اپنے اپنے دور کے فرعونوں قارونوں اور ہامانوں کی استحصالی لوٹ کھسوٹ کے خلاف پاپائیٹ اور خانقاہیت کے دجل و فریب کے خلاف بھیجے گئے تھے” ان سب کی مشن ایک تھی، تحریک ایک تھی، نعرہ ایک تھا وہ یہ کہ قُلْ إِنَّمَا أَدْعُو رَبِّي وَلَا أُشْرِكُ بِهِ أَحَدًا (20-72) یعنی آپ اعلان کریں کہ میں جس نظام کی طرف دعوت دیتا ہوں (وہ میرے رب کا دیا ہوا نظام ربوبیت ہے، جس میں امام علوم کی ملاوٹ کو اسکے ساتھ شریک نہیں کرتا۔

میں نے اس مضمون کے عنوان میں جو تین عدد سوال رکھے ہیں ایک یہ کہ علم وحی کے خلاف جنگ کب سے؟ اس کا جواب آ گیا کہ یہ جنگ جناب نوح علیہ السلام سے لیکر تا ہنوز جاری ہے، دوسرا سوال یہ رکھا تھا کہ یہ جنگ کیوں کی جارہی ہے؟ اسکا جواب بھی آگیا کہ ان لڑنے والے لٹیروں کو اللہ کا دیا ہوا نظام معیشت فَهُمْ فِيهِ سَوَاء (71-16) برابری والا قبول نہیں تھا۔ تیسرا سوال یہ تھا کہ اس جنگ کے کارندے اور کردار کون کون سے ہیں۔ سو انکو بھی آپ سمجھ گئے ہونگے کہ وہ لوگ ایک تو استحصالی حرام خور تھے جن کا ذکر قرآن حکیم نے ہر نبی کے مخالف اور مقابل اپوزیشن والوں کا تعارف قال الملا الذین استکبروا من قومہ سے کرایا ہے یعنی جن لوگوں کے گوڈاؤن اور بئنک بئلنس مال دولت سے بھرے رہتے تھے، اور دوسرے وہ لوگ جنکے لئے قرآن نے فرمایا کہ یا ایہاالرسول لایحزنک الذین یسارعون فی الکفر من الذین قالوا آمنا بافواہہم ولم تؤمن قلوبہم یعنی اے رسول آپکو غم ناک نہ کرے ان لوگوں کی چلت جنکی زبانی دعوی تو خود کو مؤمن کہلانے کی ہے لیکن انکی دلوں نے ایمان نہیں لایا یہ لوگ کفر میں تیزی سے چلے جاتے ہیں، ان منافق لوگوں کا تعارف قرآن حکیم نے زمانہ نزول قرآن میں تو یہودیوں کی جاسوس تنظیموں کے کارکنوں کے ساتھ ملا کر کرایا کہ وَمِنَ الَّذِينَ هِادُواْ سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ سَمَّاعُونَ لِقَوْمٍ آخَرِينَ لَمْ يَأْتُوكَ (41-5) یعنی جو لوگ یہودیوں میں سے آپکی مجلس میں آتے ہیں اور بظاہر یہ آپکی باتیں تو سنتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ مخبری کرنے آتے ہیں ان لوگوں کیلئے جو آپکی مجلس میں نہیں آئے، سو یہ لوگ بھی ایک طرح سے یہودی مذہبی پیشوائیت کے نمائندے ہوئے جنکا کردار منافقانہ ہے، پھر یہ لوگ مجلس رسالت سے باتیں سنکر پیچھے ان لوگوں کو جو شریک نہیں ہوئے تھے جب انہیں سمجھاتے ہیں کہ اگر آپ کا کبھی علم رسالت کے منبع سے باتیں سننے کا اتفاق ہوجائے تو ہم جو کچھ آپکو سمجھارے ہیں اگر ایسی معنی و مفہوم والی باتیں وہ سنائیں تو لے لینا اگر ایسی نہ ملیں تو ان سے بچکے رہنا۔

دیکھا محترم قارئین!
مذہبی پیشوائیت کی اجارہ داری والی ذہنیت کو جو اللہ کے رسول سے سنی ہوئی باتوں کے متعلق بھی ان میں اپنی من مانی چلاتے ہیں کہ رسول کی باتیں بھی جب قبول کرو جب وہ انکے اقوال اور خیالوں کے موافق ہوں، جناب یہ تو قرآن حکیم نے یہودیوں کی ذہنیت بتائی لیکن ہو بہو یہی ذہنیت مسلم امت کے مذہبی پیشوائیت کی بھی ہے جو جب انہیں کوئی کہے گا کہ قرآن حکیم نے غلام سازی کو بند کر دیا ہے بحکم مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَكُونَ لَهُ أَسْرَى ( 67-8 ) اور (4-47) تو ٹھیک سے مولوی لوگ امامی روایات اور امامی فقہوں کے حوالے لے آئینگے کہ غلامی جائز ہے اور تاقیامت جاری رہیگی۔ اور اگر کوئی شخص یہ کہیگا کہ قرآن حکیم نے کسی عورت کیلئے نکاح کی عمر بہت ہی پکی پختہ، پچیس تیس سال سے بھی اوپر رکھی ہے بحوالہ قرآن وَأَخَذْنَ مِنكُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا (21-4) یعنی ان عورتوں نے آپ سے (بوقت نکاح) میثاق غلیظ لیا ہو اپنے، جسکی معنی ہے (پختہ عہد) اب قرآن سے ہی پوچھا جائے کہ میثاق غلیظ اور پختہ عہد کس عمر میں ہوتا ہے تو قرآن حکیم نے جواب میں فرمایا کہ وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ (83-2) یعنی جب اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا، تو کوئی بتائے کہ عہد معاہدہ اور میثاق یقینا عمائدین قوم سے ہوا ہوگا جو تجربہ کار عمررسیدہ ہونگے انکے بچوں سے تو نہیں ہوا ہوگا۔ اسی طرح قرآن نے بتایا کہ وَإِذْ أَخَذَ اللّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّيْنَ (81-3) یعنی جب اللہ نے انبیاٗ سے عہد لیا، میثاق لیا، سو سب لوگ جانتے ہیں کہ نبوت چالیس سال کی عمر کے بعد ملتی ہے ، تو قرآن حکیم نے عورتوں کے مردوں کے ساتھ نکاح کرنے کو جب لفظ میثاق غلیظ سے تعبیر فرمایا ہے تو میثاق والی ایگریمنٹ تو تیس سالوں کی عمر سے بھی اوپر دیکھنے میں آرہی ہے لیکن مسلم امت کا مولوی قرآن حکیم کی یہ بات سنتے ہی چیخ اٹھے گا کہ قرآن کی نہ مانو امامی روایات نے جناب رسول کی شادی چھ سالہ لڑکی سے کرائی ہے اور رخصتی نو سال کی عمر میں کرا رہا ہے اور امامی فیصلوں سے بنت رسول فاطمہ کی شادی اپنے والد کے چچہ زاد بھائی سوتیلے چاچا علی سے نو سال کی عمر میں کرائی ہے بحوالہ (اصول کافی)۔

جناب قارئین!
اللہ پاک نے یہودیوں کی مذہبی پیشوائیت کو تو سماعون للکذب سماعون لقوم آخرین کا لقب دیا، یعنی مخبری کرنے والوں جاسوس، سواگر کوئی مسلم امت کا مذہبی نمائندہ بعینہ یہودی ملاؤں کا کردار ادا کرے تو اس کو کس کی مخبری کرنے والا کہا جائیگا؟!!! کس کے لئے کام کرنے والا کہا جائے گا؟!!

سو جناب قارئین !

اس مضمون کے عنوان میں سوال کہ علم وحی کے خلاف جنگ کرنے والے کون کون ہیں؟ اس سوال کا جواب یہ ہوا کہ عالمی استحصالی قوتیں جو قرآن حکیم کے نظریہ معیشت کی منکر ہیں، وہ اور انکی پروردہ اور پارٹنر مذہبی پیشوائیت، جنکے لئے قرآن حکیم نے فرمایا کہ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّ كَثِيرًا مِّنَ الأَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَأْكُلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللّهِ وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلاَ يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ (34-9) یعنی اے ایمان والو! تحقیق کئی سارے پیر مولوی باطل طریقوں سے لوگوں کے اموال کھاجاتے ہیں اور اللہ کی قرآن والی راہ سے روکتے ہیں ا ور جو لوگ ذخیرہ کرتے ہیں انکے بئنک بئلنس بھرجاتے ہیں ذخیرہ کرتے ہیں سونے اور چاندی کا اور اسے خرچ نہیں کرتے اللہ کی راہ میں، ایسے لوگوں کو خوشخبری سناؤ دردناک عذاب کی۔

ملائیت کی مفاہیم قرآن پر اجارہ داری کے مثال
محترم قارئین!


آپ نے قرآن حکیم میں منافقین یہود کی مجلس رسول میں اگر قرآن سننے کے دوران گستاخی کا ملاحظہ کیا کہ جناب رسالت مآب کو یہ کہنا کہ سمعنا و عصینا ہمنے آپکی بات سنی اور اسکی نافرمانی کرینگے اطاعت نہیں کرینگے۔ یا کبھی یہ کہتے ہیں کہ اسمع غیر مسمع آپ ہماری بات سنیں! لیکن آپکی بات نہیں سنی جائیگی‘‘ اور کبھی جناب رسول کے شان میں اتنی گستاخی بھی کرجاتے تھے کہ راعنا لفظ کو زبان کی موچ سے راعینا کہکر نعوذ باللہ ہمارے چرواہے کہہ ڈالتے تھے (46-4) ان کی ان بدمعاشیوں پر قرآن حکیم نے بڑی سنجیدگی کی تعلیم دی کہ وَلَوْ أَنَّهُمْ قَالُواْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانظُرْنَا ل َكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَقْوَمَ وَلَكِن لَّعَنَهُمُ اللّهُ بِكُفْرِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُونَ إِلاَّ قَلِيلاً (46-4) یعنی یہ لوگ اگر یوں کہتے کہ ہم نے سنا اور اطاعت کرینگے اور آپ ہماری سنیں اور ہم پر نظر التفات فرمائیں تو یہ انکے لئے اچھا ہوتا اورانکی طرف سے بات سیدھی ہو جاتی لیکن انکے کفر یہ خرافات پر اللہ کی لعنت ہو یہ لوگ کبھی بھی ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ ان لوگوں کی ہفوات کی قرآن حکیم نے مثالیں دیکر انکا تعارف کرایا، آگے مزید علم وحی کے ساتھ انکی دشمنی اور مداخلت کو آیت نمبر (41-5( میں منافقوں کے ساتھ انکی ذہنی فکری مطابقت میں پیش کیا کہ يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لاَ يَحْزُنكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِينَ قَالُواْ آمَنَّا بِأَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِن قُلُوبُهُمْ وَمِنَ الَّذِينَ هِادُواْ سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ سَمَّاعُونَ لِقَوْمٍ آخَرِينَ لَمْ يَأْتُوكَ يُحَرِّفُون َ الْكَلِمَ مِن بَعْدِ مَوَاضِعِهِ يَقُولُونَ إِنْ أُوتِيتُمْ هَـذَا فَخُذُوهُ وَإِن لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُواْ (41-5(

جناب قارئین!
اس آیت کریمہ سے صاف صاف ثابت ہوتا ہے کہ یہودی ملا لوگ لوگوں کو صاف صاف اعلان کر رہے ہیں کہ تم قرآن سننے جاؤ، جو اگر ہماری والی معنائیں بتائی جائیں تو انہیں قبول کریں ورنہ نہیں‘‘ بعینیہ مسلم امت کے ملاؤں نے بھی آج تک قرآن حکیم کی معانی اور مفاہیم کے ساتھ وہی یہودی ملاؤوں کی اجارہ داری والا سلوک اختیار کیا ہوا ہے۔


از قلم: عزیز اللہ بوہیو
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"

rana ammar mazhar
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 136
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (06-02-12), مرزا عامر (26-01-12)
پرانا 01-02-12, 08:55 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default احادیث کے نام پر قران کو مشکوک بنانے کی کوشش

احادیث کے نام پر قران کو مشکوک بنانے کی کوشش
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
وحی, جنگ, علم, علم وحی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پښتو لیكلو كښے ګرانی؟ - پشتو لکھنے میں دشواری؟ محبوب عالم پشتو فورمز 2 07-01-12 06:07 PM
لیاری ہی کیوں؟ شمشاد احمد خبریں 2 29-07-11 11:17 PM
قومی حکومت کیوں؟:::::میر افسر امان JISOUTH اپکے کالم 0 15-05-11 11:49 AM
نیند سے محرومی کیوں؟ سیپ شعبہ طب 1 08-02-11 11:34 PM
نظام عدل کے نفاذ کی مخالفت کیوں؟ راجہ اکرام اپکے کالم 10 13-05-09 11:27 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:06 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger