| علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 441
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
قرآنِ کریم کی ہدایات(1) اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ، وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَنَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ اَمَّا بَعْدُ فَاِنَّ خَیْرَ الْحَدِیْثِ کِتَابُ اللّٰہِ وَخَیْرَ الْھَدْیِ ھَدْیُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ وَشَرَّ الْاُمُوْرِ مُحْدَثَاتُہا وَکُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٍ، وَکُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٍ وَکُلَّ ضَلٰلَۃٍ فِی النَّارِ۔ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِکُمْ حَتّٰی تَسْتَاْنِسُوْا وَتُسَلِّمُوْا عَآٰی اَہْلِہَاط ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَo فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْہَآ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْہَا حَتّٰی یُؤْذَنَ لَکُمْج وَاِنْ قِیْلَ لَکُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا ہُوَ اَزْکٰی لَکُمْط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ (النور۲۴:۲۷،۲۸) ’’اے ایمان والو! اپنے گھر کے علاوہ دوسرے گھروں میں مت داخل ہو جب تک اجازت نہ لے لو اور گھر والوں کو سلام نہ کر لو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو/27 پھر جب تم اس گھر میں کسی کو موجود نہ پاؤ تب اس میں مت داخل ہو جب تک تم کو اجازت نہ ملے اور اگر تم کو جواب ملے کہ واپس چلے جاؤ تو واپس ہو جاؤ یہ تمہارے لیے بہت پاکیزہ بات ہے اور جو کام تم کرتے ہو اللہ سب کچھ جانتا ہے/28 ‘‘ پردہ کا پہلا حکم قرآنِ کریم میں پردہ کے سلسلہ میں پہلا حکم قرآنِ کریم میں اس طرح دیا گیا ہے کہ ’’اے ایمان والو! دوسروں کے گھروں میں بے اجازت مت داخل ہو‘‘ تاکہ مرد و عورت کے باہمی اختلاط میں کمی آئے پھر اس پردے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا اور ہر ایک کے لیے الگ الگ دستور العمل نوازش کیا سب سے پہلے گھر کے پردے کی تفصیل بیان کی اور اس بات کی وضاحت فرما دی کہ دوسروں کے گھروں میں ناگہانی طور پر جانے سے فسادات پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ علیحدگی اور خلوت ہر شخص کا حق ہے دوسرا اس میں دخل دینے کا مجاز نہیں، پھر انسان ہر وقت ایک ہی حالت میں نہیں ہوتا بعض اوقات وہ یہ نہیں چاہتا کہ دوسرا آدمی اس کو دیکھے، گھر میں عورتیں ہوتی ہیں نہیں معلوم وہ اس وقت کس حالت میں ہوں، اس لیے شریعت نے ان تمام حالات کو پیش نظر رکھ کر حسب ذیل احکام دیئے ہیں جن میں سے دو کا ذکر آیت ۲۷ میں بیان ہوا: 1۔ اپنے گھروں کے سوا جب دوسرے گھروں میں داخل ہو تو اجازت لے لیا کرو گویا بغیر اجازت دوسروں کے گھروں میں داخل مت ہو۔ 2۔ اجازت ملنے کے بعد گھر والوں پر داخل ہو تب بھی داخل ہوتے وقت السلام علیکم ضرور کہا کرو۔ اس جگہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ قرآنِ کریم نے تمام مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وتسلموا علی اھلھا یعنی گھر والوں پر سلام پیش کرو۔ معلوم ہوا کہ اجازت طلب کرنے والا مرد ہو یا عورت گھر والوں کو السلام علیکم کہے گویا یہ آداب اجازت میں لازم ہے۔ اس میں ابہام نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی مرد اگر گھر میں عورتیں ہی ہوں تو ان کو سلام کیسے پیش کرے۔ سلام ہر مسلمان دوسرے مسلمان کو پیش کر سکتا ہے تو کیا عورتیں مسلمان نہیں؟ کسی بات کا رواج نہ ہونا یا کسی رواج کا ختم ہو جانا اس بات کی دلیل نہیں کہ یہ حکم عام نہیں۔ حکم عام ہے اور مرد عورتوں کو اور عورت مردوں کو السلام علیکم کہہ سکتے ہیں بلکہ کہنا چاہیے کیونکہ سلام ہمیشہ زبان سے پیش کیا جاتا ہے گویا ایک زبان سے السلام علیکم کے الفاظ ادا کرتا ہے اور دوسرا اُس کے الفاظ کو سن کر اُس کا اپنی زبان میں جواب پیش کرتا ہے اور اس میں قطعاً کسی طرح کی کوئی ممانعت نہیں بلکہ السلام علیکم پیش کرنے کی اجازت عام ہے جیسا کہ روایات میں بھی اس کا اکثر ذکر آتا ہے جیسے روایت ہے کہ: ابوحازم سہل سے روایت کرتے ہیں کہ ہم جمعہ کے دن بہت خوش ہوتے تھے۔ میں نے کہا کہ وہ کیوں؟ اُنہوں نے کہا کہ ہماری ایک بڑھیا تھیں جسے مدینہ کے نخلستان بضاعہ کی طرف بھیجا جاتا تھا وہ وہاں سے چقندر کی جڑیں لیتی اُنہیں ہنڈیا میں ڈال دیتی اور ان پر جو کا آٹا ڈال دیتی جب ہم نمازِ جمعہ سے فارغ ہوتے تو اس کے پاس آ کر اُسے سلام کہتے اور وہ اس کھانے کو ہمارے سامنے پیش کرتی تو ہم اس وجہ سے بہت خوش ہوا کرتے اور جمعہ کے بعد ہی اُس کے ہاں جاتے اور دوپہر کا کھانا کھاتے اور وہاں قیلولہ کیا کرتے تھے۔ (بخاری ۹۳۸، ۹۳۹، ۹۴۱، ۲۳۴۹، ۵۴۰۳، ۶۲۴۸، ۶۲۷۹) واضح رہے کہ اوپر روایت کے ترجمہ میں جو تحریر ہے کہ ’’ہماری ایک بڑھیا تھیں‘‘ اصل روایت کے الفاظ میں ہے کہ ’’کانت فینا امراۃ‘‘ یہ بات اس لیے ضروری سمجھی ہے کہ کسی کو یہ اعتراض نہ ہو کہ بڑھیا کو تو سلام پیش کیا جا سکتا ہے لیکن جوان کو نہیں۔ ایسی بات نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ انسان مدنی زندگی گزارتا ہے جس کا مطلب ہی یہ ہے کہ تمام انسان ایک دوسرے سے جائز مراسم رکھ سکتے ہیں اور ایک دوسرے کے ہاں آ جا سکتے ہیں خصوصاً جب ایکد وسرے سے شناسائی ہو جاتی ہے تو خواہش ہوتی ہے کہ فلاں سے ملاقات کی جائے اور وہاں رہ کر کچھ وقت گذارا جائے کیونکہ اس کے بہت فوائد ہیں اور خصوصاً ان روابط سے اسلام پھیلتا ہے اور مسلمانوں کی آپس کی محبت و پیار میں اضافہ ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ ’’عائشہ! یہ جبریل ہیں اور آپ کو سلام پیش کرتے ہیں‘‘ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے قریب ایک خاتون ام حرام کے ہاں اکثر تشریف لے جاتے اور اس کو سلام پیش کرتے۔ روایات میں ام ہانی کا آپؐ کے ہاں آنا اور سلام پیش کرنا۔ آپؐ کا ام ہانی کے ہاں جانا، سلام پیش کرنا۔ اور اس طرح کے بے شمار واقعات موجود ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آمد و رفت رکھنے اور اجازت لے کر کسی کے ہاں آنے جانے کی اجازت ہے اور اس طرح کے مراسم و روابط دوسروں سے قائم کرنے کا حکم عام ہے اور اس طرح انسانی طبائع دوسرے انسانوں کو اپنی طرف خود بخود مائل کر لیتے ہیں اور ایسے روابط قائم کرنا اسلام کا حکم عام ہے بلکہ آپؐ کا ارشاد یہ بھی ہے کہ ’’سلام کو پھیلاؤ اور ایک دوسرے کو کھانا کھلاؤ، ان کو بھی جن کو تم پہنچانتے ہو اور ان کو بھی جن کو تم نہیں پہچانتے‘‘ ظاہر ہے کہ ایسا ہو گا تو جن کو نہیں پہچانتے ان کو بھی پہچان جائیں گے اور اس طرح یہ سلسلہ آگے بڑھتا رہے گا۔ آیت ۲۸ میں فرمایا گیا ہے کہ: اجازت نہ ملنے کی دو صورتیں ممکن ہیں ایک یہ کہ اندر سے کوئی جواب ہی نہ آئے اور دوسری صورت یہ ہے کہ آواز آئے لیکن یہ کہ اس وقت ہم فارغ نہیں ہیں یا یہ کہ صاحب خانہ گھر پر نہیں ہے۔ 3۔ حکم یہ دیا گیا ہے کہ تین بار دستک دو، گھنٹی پر ہاتھ رکھو اگر اندر سے آواز نہ آئے تو چلے جاؤ پھر سہی، سمجھ لو کہ اندر جواب دینے والا کوئی آدمی نہیں ہے چاہے اندر لوگ موجود ہوں لیکن تم واپس چلے آؤ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بھی ہے کہ تین بار اجازت طلب کرنے کے بعد اگر اندر سے کوئی جواب نہ آئے تو وہاں سے واپس آ جانا چاہیے۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں بہت سے دوسرے صحابہ کرام کے ہمراہ ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اور یہ مجلس انصار کے ہاں قائم تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود تھے باہر سے ابوموسیٰ اشعریؓ کی آواز آئی کہ اُنہوں نے تین بار السلام علیکم کہا جب مجلس کی طرف سے ان کو جواب نہ ملا تو وہ واپس چلے گئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کسی کو بھیجا کہ باہر دیکھو کون ہے؟ اُنہوں نے بتایا کہ وہ ابوموسیٰ اشعریؓ تھے لیکن میرے دروازہ پر جانے سے پہلے وہ واپس چلے گئے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اُن کو طلب کیا۔ وہ تشریف لائے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اجازت تم نے مانگی تھی اور پھر واپس کیوں چلے گئے؟ تو اُنہوں نے جواب دیا کہ ’’میں نے تین بار سلام پیش کیا، جب اندر سے کوئی جواب نہ آیا تو میں چلا گیا، کیونکہ میں نے آپؐ سے سنا ہے کہ تین بار اجازت طلب کرو اگر جواب نہ آئے تو واپس لوٹ جاؤ اس لیے میں واپس چلا گیا تھا۔‘‘ (بخاری۲۰۶۲، ۶۲۴۵) 4۔ اگر اندر سے اطلاع آئے کہ اس وقت نہیں یا اس طرح کی کوئی دوسری بات تو بغیر غصہ کیے واپس چلے آؤ۔ روایات میں ہے کہ صحابہ کرام کسی کے ہاں جاتے اور اندر جانے کے لیے اجازت طلب کرتے اندر سے آواز نہ آتی تو واپس چلے آتے اور خوش ہوتے کہ ہم نے قرآنِ کریم کے اس حکم پر عمل کر لیا کہ ’’ فان لم تجدوا فیھا احدا فلا تدخلوھا ‘‘ جب تم گھر میں کسی کو موجود نہ پاؤ تو اندر مت داخل ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اندر سے جواب نہ آنے کے باعث یا یہ جو اب آنے کے باعث کہ ’’ ہم اس وقت مصروف ہیں‘‘ پھر کسی وقت، تو ایسا جواب سن کر یا جواب نہ پا کر دل تنگ نہیں ہونا چاہیے بلکہ خوش دلی کے ساتھ واپس چلے آنا چاہیے اور پھر دوبارہ حاضر ہونے سے معذرت نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ باتیں معمولاتِ زندگی کا حصہ ہیں۔ لیکن افسوس کہ آج ہم اس طرح کی خاموشی یا جواب کو سن کر اس طرح نفرت کرتے ہیں کہ دوبارہ اس گھر کی طرف منہ کرنے کے لیے کبھی تیار ہی نہیں ہوتے۔ جب کہ ایسا کرنا ہرگز درست عمل نہیں جواب میرا ہو یا کسی اور کا۔ اسلام نے عام مسلمان عورتوں پر کوئی ایسی پابندی عائد نہیں کی جس کا برداشت کرنا ان کے لیے مشکل ہو صرف یہ کہا ہے کہ کوئی عورت کسی ایک غیر محرم مرد کے ساتھ تخلیہ میں نہ جائے اور اسی طرح یہ بھی کہ کوئی ایک مرد کسی ایک غیر محرم خاتون کے ساتھ علحٰدگی میں ملاقات نہ کرے ہاں! ضروریات زندگی کے کاموں کے لیے عند الضرورت ایک سے زیادہ عورتیں مل کر یا ایک سے زیادہ مرد مل کر کسی ضروری بات چیت کے لیے ملاقات کریں تو مضائقہ نہیں کیونکہ ان باتوں کا تعلق معاشرتی زندگی کے ساتھ ہے اور اس طرح کی میل ملاقات حدود کے اندر رہتے ہوئے کی جا سکتی ہے۔ مساجد کی آمد و رفت، درس و تدریس میں ایک دوسرے سے تعاون لینا دینا، علم والے مردوں سے عورتوں کا مسائل پوچھنا، علم والی عورتوں سے مردوں کا مسائل دریافت کرنا سب جائز کام ہیں اور ان میں اپنی اپنی شخصیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے بات پوچھی اور بتائی جا سکتی ہے اور اس طرح کی ملاقات پر ایک دوسرے کو سلام بھی پیش کیا جا سکتا ہے لیکن یہ تمام کام ایک دوسرے سے اجازت حاصل کرنے کے بعد قاعدہ اسلامی کے مطابق سر انجام دینا چاہیے۔ اسلام قاعدہ و قانون اور وقت کی پابندی کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے اور بدنظمی و بے قاعدگی کا سخت مخالف ہے۔ اسلام مکمل ضابطہ حیات کا نام ہے۔ فی زماننا مسلمانوں کے طور طریقوں کو دیکھ کر کسی چیز کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس وقت تقریباً مسلم امہ اسلامی طور طریقوں سے انحراف کرتی نظر آ رہی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اپنا اصل مقام اقوامِ عالم کے مقابلہ میں کھو چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ ہم سب مسلمانوں کو صحیح اور سچا مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ مسلم امہ اپنا اصل مقام حاصل کر سکے رب یسر ولا تعسر وتمم بالخیر۔ یہ باتیں تمہاری پاکیزگی کے لیے کی گئی ہیں اگر تم ان کے مطابق عمل کرو گے تو ان شاء اللہ تمہارے لیے بہت آسانی رہے گی اللہ تمہارے اعمال سے خواب واقف ہے۔ بلاشبہ سماعت بھی بصارت کی طرح سمجھی گئی ہے مطلب یہ ہے کہ نابینا آدمی کو بھی اجازت طلب کرنی چاہیے اور اجازت ملے تو اندر جانا چاہیے کیونکہ اگر نابینا آدمی اچانک اندر داخل ہو جائے تو گھر والوں کی باتیں تو اُس کے کان میں پڑیں گی اور یہ چیز بھی نظر کی طرح تخلیہ کے حق میں بے جا مداخلت ہے۔ قرآنِ کریم کی آیات (2) قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (24:30) مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں۔ یہ ان کے لئے بڑی پاکیزگی کی بات ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں خدا ان سے خبردار ہے وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ ۖ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ ۚ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (24:31) اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش (یعنی زیور کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں مگر جو ان میں سے کھلا رہتا ہو۔ اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں اور اپنے خاوند اور باپ اور خسر اور بیٹیوں اور خاوند کے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجیوں اور بھانجوں اور اپنی (ہی قسم کی) عورتوں اور لونڈی غلاموں کے سوا نیز ان خدام کے جو عورتوں کی خواہش نہ رکھیں یا ایسے لڑکوں کے جو عورتوں کے پردے کی چیزوں سے واقف نہ ہوں (غرض ان لوگوں کے سوا) کسی پر اپنی زینت (اور سنگار کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیں۔ اور اپنے پاؤں (ایسے طور سے زمین پر) نہ ماریں (کہ جھنکار کانوں میں پہنچے اور) ان کا پوشیدہ زیور معلوم ہوجائے۔ اور مومنو! سب خدا کے آگے توبہ کرو تاکہ فلاح پاؤ ’’(اے پیغمبر اسلام!) آپ ایمان والوں سے فرما دیں کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنے ستروں کی حفاظت کریں یہ بات ان کے لیے بڑی پاکیزہ ہے بلاشبہ اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے/30 اور (اے پیغمبر اسلام!صلی اللہ علیہ وسلم) آپ ایمان والیوں سے فرما دیجئے کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنے ستروں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو اس میں کھلاہی رہتا ہے اور اپنی اوڑھنیاں اپنے سینہ پر ڈالے رہا کریں اور اپنی زیبائش کسی پر ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے باپوں کے یا اپنے خاوندوں کے باپوں کے یا اپنے بیٹوں کے یا اپنے خاوندوں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں کے سامنے یا اپنی بہنوں کے بیٹوں کے یا اپنی (عام) عورتوں کے (جو مسلمان ہیں) یا اپنی باندیوں اور غلاموں کے یا اپنے ان ملازمین کے جو عورتوں کی زیب و زینت سے غرض نہیں رکھتے یا لڑکوں کے جو عورتوں کے اسرار سے ابھی بے خبر ہیں اور یہ بھی کہ اپنے پاؤں کو زمین پر نہ مارو کہ جس زینت کو چھپا رہی ہو وہ آشکارا ہو جائے اور اے ایمان والو! (سب مل کر) اللہ کے حضور توبہ کر لو تاکہ تم فلاح پاؤ/31‘‘ پردہ کا دوسرا حکم قرآنِ کریم میں پردہ کا دوسرا حکم بھی مردوں اور عورتوں کے لیے یکساں حیثیت رکھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ دونوں فریق اپنی اپنی نظریں نیچی رکھیں اور ایک دوسرے کو ہیجان اور جنسی رغبت کی نظر سے نہ دیکھیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ فی نفسہٖ دیکھنے سے منع نہیں کیا گیا بلکہ ایسی نظر سے منع فرمایا گیا ہے جو بدکاری اور بدکرداری کی نظر ہے گویا جو نظر انسان کو حیوان سے ممتاز کرتی ہے جس کو محاورہ میں ’’نظر لڑانے‘‘ سے موسوم کیا جاتا ہے یعنی گھورا گھاری اور تاک جھانک سے منع فرمایا گیا ہے۔ غض کا مادہ غ ض ض ہے جس کے معنی نگاہوں کو نیچا رکھنے کے ہیں اور اسلام کی اصطلاح میں ’’آنکھ کا ان چیزوں کے دیکھنے سے روکنے کے ہیں جن کا دیکھنا اس کے لیے جائز نہیں‘‘ اور ہاتھ ایسے اعضاء ہیں جو ’’ستر‘‘ میں داخل ہی نہیں ہیں جن کا دیکھنا ممنوع قرار دیا جائے۔ چونکہ آنکھیں ہر چہرہ کا حصہ ہیں لہٰذا چہرہ اور آنکھوں کو ’’نظر بازی‘‘ سے بچانے کے حکم دیا گیا اور یہ حکم مردوں اور عورتوں کے لیے یکساں ہے اس میں عورتوں کے لیے کوئی تخصیص نہیں اگر اس کے پیش نظر نقاب ڈالنا ہے تو پھر دونوں کے لیے ضروری ہونا چاہیے حالانکہ اس کا کوئی بھی قائل نہیں خواہ وہ کون ہو، کہاں ہو اور کیسا ہو۔ اسلام ہم کو صرف اور صرف گناہوں ہی سے نہیں روکتا بلکہ وہ ان تمام وسائل اور ذرائع پر پابندی عائد کرتا ہے اور انہیں ممنوع قرار دیتا ہے جو انسانوں کو گناہوں کی طرف لے جاتے ہیں کیونکہ جب گناہوں کی طرف لے جانے والا راستہ ہی بند ہو گا تو گناہوں کا ارتکاب یقیناًنہیں ہو گا۔ طبیعت میں ہیجان پیدا کرنے والے اور جذبات میں شہوت کو مشتعل کرنے والے اسباب سے نہ رکنا اور ان کو کھلی چھٹی دے دینا اور پھر یہ توقع رکھنا کہ ہم اپنے قانون کی قوت سے لوگوں کو برائی سے بچا لیں گے بہت بڑی نادانی کی بات ہے اگر کوئی نظام ان عوامل اور محرکات کا قلع قمع نہیں کرتا جو انسان کو بدکاری کی طرف دھکیل کر لے جاتے ہیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ اس برائی کو برائی ہی نہیں سمجھتا اور نہ اس سے لوگوں کو بچانے کی مخلصانہ کوشش کرتا ہے۔ اس کی زبان پر جو کچھ ہے وہ اس کے دل کی صدا نہیں بلکہ محض ریاکاری اور ملمع کاری ہے۔ در میانِ قعر دریا تحتہ بندم کردہ ئ باز می گوئ کہ دامن تر مکن ہوشیار باش کسی کو چلتے دریا میں غوطہ زن کر دیا جائے اور پھر اُس کو یہ بھی کہا جائے کہ خبردار اپنے دامن کو پانی سے بچانا سراسر زیادتی ہے۔ بدکاری کا خطرناک راستہ نظر لڑانا ہے بدکاری کا سب سے خطرناک راستہ نظر لڑانا ہے اس لیے سب سے پہلے اس کو بند کیا جا رہا ہے۔ مردوں کو حکم دیاجا رہا ہے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھو اور دنیا کی جڑ کو سنبھال کر رکھو، کیوں؟ اس لیے کہ جب نگاہیں دوچار نہیں ہوں گی تو دل میں کسی قسم کی کشش پیدا نہیں ہو گی اور پھر جب کشش ہی پیدا نہیں ہو گی تو کسی بد فعل کا ارتکاب ہی آخر کیوں کر ہو گا۔ زیر نظر آیت میں آنکھوں کو مطلقاً بند رکھنے کا حکم نہیں دیاجا رہا ہے بلکہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اور نظر بھر کر دیکھنے سے منع کیا جا رہا ہے پھر یہ بھی کہ اتفاقی نظر کوئی جرم کی نظر نہیں ہاں! اتفاقی نظر پڑی اور اس سے دل میں ایک بار پھر دیکھنے کا داعیہ پیدا ہوا لیکن فوراً شریعت درمیان میں حائل ہو گئی اور اُس نے دوبارہ نظر اُوپر نہ اُٹھنے دی اور دل نے فوراً مہر ثبت کر دی کہ دوبارہ دیکھنا حرام ہے تو اس طرح سے رک جانا کمالاتِ انسانی میں سے ایک بہت بڑا کمال ہے۔ اللہ توفیق عطا فرمائے۔ دوسرا حکم عورتوں کے لیے بھی ویسا ہی ہے عورتوں کے لیے اپنی نظریں نیچی رکھنے کا حکم اُسی طرح ہے جس طرح مردوں کے لیے ہے لیکن اس وقت عورتوں کے لیے اس طرح کے پردے کا رواج ہے جس میں وہ نظریں نیچی رکھنے کی بجائے یک طرفہ اس سے آزاد ہو چکی ہیں کہ وہ جس کو چاہیں نظریں پھاڑ پھاڑ کر دیکھیں حالانکہ اس میں جو حکم مردوں کے لیے ہے وہی عورتوں کے لیے بھی ہے مزید وضاحت آگے آ رہی ہے۔ نبی اعظم و آخر صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی سختی سے نامحرم کی طرف بد نظری یعنی گھور کر دیکھنے سے منع فرمایا ہے چنانچہ حدیث میں ہے کہ : عن ابی امامۃ یقول سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکفلوا لی بست اکفل لکم بالجنۃ اذا حدث احدکم فلا یکذب واذا ائتمن فلا یخن واذا وعد فلا یخلف وغضوا ابصارکم وکفوا ایدیکم واحفظوا فروجکم۔ ’’ابوامامہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپؐ نے فرمایا کہ اگر تم میرے ساتھ چھ باتوں کا وعدہ کرو تو میں تمہارے لیے جنت کا ضامن ہوں: ۱۔ جب تم میں سے کوئی بات کرے تو جھوٹ نہ بولے۔ ۲۔ جب اُسے امین بنایا جائے تو خیانت نہ کرے۔ ۳۔ وعدہ کرے تو وعدہ خلافی نہ کرے۔ ۴۔ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھے۔ ۵۔ اپنے ہاتھوں کو روکے رکھے اور ۶۔ اپنی دنیا کی جڑ کی حفاظت کرے۔‘‘ بعض دفعہ دیکھنا آنکھوں کا زنا ہے یہ وہی دیکھنا ہے جس طرح کے دیکھنے سے روکا گیا ہے اور یہ اختیاری چیز ہے اتفاقی نہیں، لگاوٹ کی بات چیت زبان کا زنا ہے، آواز سے لذت لینا کانوں کا زنا ہے۔ بعض اوقات ہاتھ لگانا ہاتھ کا زنا ہوتا ہے اس طرح بعض اوقات چلنا پاؤں کا زنا ہے، اس طرح بدکاری و بے حیائی کی جب یہ ساری تمہیدیں پوری ہو چکتی ہیں تو پھر دنیا کی جڑ بعض اوقات اس کی تصدیق و تکمیل کر دیتی ہے۔ (بخاری و مسلم) مختصر یہ کہ نظر بازی کی ممانعت میں نبی کریم ﷺ کے بہت سے ارشادات کتب احادیث میں محفوظ ہیں اور معاشرہ کی حالت اس وقت آپ کی نگاہوں میں ہے خود غور کر لیا جائے کہ آج ہمارا اس پر کتنا اور کیسا عمل ہے اور اس نظر کے زنا سے کون بچا ہے اور کون نہیں؟ ہر انسان کو اپنا فیصلہ خود کر لینا چاہیے۔ نظر کے معاملہ میں ایک تساہل جو عام ہے نظر کے معاملہ میں ایک تساہل جو تقریباً ہر جگہ پایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ مردوں کو مردوں کی طرف دیکھنے اور عورتوں کو عورتوں کی طرف دیکھنے میں کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی اور اکثر اوقات نہانے، دھونے اور بول و براز کے موقع پر ستر کو دیکھنے کی کوئی پرہیز نہیں کی جاتی۔ نوجوان بچوں بلکہ سارے مردوں کا مل کر نہانے اور عورتوں کا آپس میں مل کر نہانے دھونے میں کوئی قباحت نہیں سمجھی جاتی حالانکہ یہ سراسر جہالت کی بات ہے اور احادیث میں اس کی ممانعت بھی موجود ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ لا ینظر الرجل الی عورۃ الرجل ولا تنظر المراۃ الی عورۃ المراۃ ’’کوئی مرد کسی مرد کے پردے کی جگہ پر نظر نہ ڈالے اور کوئی عورت کسی عورت کے پردے کی جگہ کو نہ دیکھے‘‘ (مسلم، احمد، ابوداؤد، ترمذی) حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ اے علی لا تنظر الی فخذحی ولا میت ’’ کسی مردہ یا زندہ انسان کی ران پر نگاہ مت ڈال‘‘ پھر احادیث میں پردے کی جگہ کی وضاحت بھی موجود ہے کہ مرد کے لیے آپؐ کا ارشاد ہے کہ عورۃ الرجل ما بین سرتہ الی رکبتہ ’’مرد کے پردے کی جگہ ناف سے گھٹنے تک ہے‘‘ (دار قطنی، بیہقی) اور ہی عورت کہ اُس کے پردے کی جگہ کہاں سے کہاں تک ہے اس میں کلام بہت لمبا ہے اور میرے نزدیک میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کفایت کرتا ہے کہ ان المراۃ اذا بلغت المحیض لم یصلح لھا ان یری منھا الا ھذا وھذا واشار الی وجہہ وکفیہ (ابوداؤد) ’’جب عورت بالغ ہو جائے تو جائز نہیں کہ منہ اور ہاتھ کے سوا اس کے جسم کا کوئی حصہ نظر آئے‘‘ علاوہ ازیں اپنی زینت کو وہ ظاہر کر سکتی ہیں تو صرف ان لوگوں پر جن کی نسبت طے ہے کہ ان کے جذبات شہوت بر انگیختہ نہ ہوں گے جیسے ایک عورت کا والد یا اُس مرد کا والد جس کی وہ بیوی ہے اور اپنے بیٹوں پر اسی طرح اپنے خاوندوں کے بیٹوں پر، اپنے بھائیوں پر اور بھائیوں کے بیٹوں پر اور اپنی بہنوں کے بیٹوں پر اور اس طرح دوسری میل جول رکھنے والی عورتوں پر بھی یہ ظاہری زینت کھلی رکھی جا سکتی ہے۔ نساء ھن کے لفظ کا تقاضا یہی ہے کہ اس سے ساری عورتیں یعنی عورتوں کی بعض مراد نہ لی جائیں جو عام طور پر میل جول رکھنے والی ہوں اور جانی پہچانی ہوں۔ موجودہ زمانہ میں اس امر کی سخت ضرور ت ہے کہ بعض خبیث عورتوں سے بھی پردہ کیا جائے اور اُن پر ساری زیب و زینت ظاہر نہ ہونے دی جائے کہ اس میں احتیاط کی بہت ضرورت ہے اور اسی طرح مانگنے والی اور سوال کرنے والی عورتوں کو بھی گھروں کے اندر عورتوں کے کمروں تک نہ پہنچنے دیا جائے۔ آباء کی وسعت دوسری تمام وسعتوں کو واضح کرتی ہے آباء کے لفظ میں وسعت ہے اور پھر جس طرح کی وسعت عورت کے آباء میں ہے بالکل اسی طرح کی وسعت اُس کے خاوند کے آباء کے اندر بھی موجود ہے اور یہی حال اپنے بیٹوں اور خاوندوں کے بیٹوں کا ہے کہ بیوی کے بیٹے بھی اس وسعت میں آ جاتے ہیں اسی طرح حرمت میں بھی وسعت مل جاتی ہے اور بالکل اجنبی اور گھر میں آنے جانے والوں میں جو اجازت طلب کر کے آتے رہتے ہیں فرق موجود رہتا ہے ان باتوں کو خود ہی سمجھ لینا چاہیے اسی طرح جو ضمنی محرمین کا حال ہے جیسے سالیوں، بہنویوں اور دیوروں کا معاملہ ہے یا ان کی اولاد کا کہ جب وہ دوسروں کی موجودگی میں اور خصوصاً عورت کے خاوند کی موجودگی میں آئیں جائیں تو شریعت بھی اجنبی لوگوں کی طرح سختی نہیں کرتی اور عورت و مرد دونوں کے ننھیال و ددھیال کے بزرگوں کے سامنے پردہ کے ساتھ آیا جایا جا سکتا ہے اور ظاہری زینت کی ممانعت بھی نہیں کی جا سکتی اور ہم نے قبل ازیں ایک ہی فقرہ میں اس کو عرض کر دیا ہے کہ ’’ہمارے علمائے گرامی قدر کی بے جا سختیوں کے رد عمل کے طور پر عورت کو آزاد رہنے بلکہ آزاد ہو جانے پر مجبور کیا ہے کہ اُس کو اس طرح پابند سلاسل کر دیا گیا کہ گویا وہ ایک انسان نہیں بلکہ کوئی چوری کا مال ہے‘‘۔ گھر کے ملازمین ، عورتیں اور بوڑھے مرد مستثنیٰ ہیں گھر کے ملازمین میں غیر مسلم عورتیں بھی شامل ہیں گذشتہ آیت میں نساء ھن کے لفظ میں مسلمان عورتوں کا ذکر تھا لیکن چونکہ ملازمین میں غیر مسلم عورتیں آنے کا بھی امکان تھا اس لیے ان کا ذکر الگ کر کے کر دیا گیا اور ما ملکت ایمانھن میں ملک یمین میں آنے والے مرد بھی شامل ہو گئے اگرچہ مفسرین نے ان سے مراد صرف لونڈیاں لی ہیں غلاموں کو اس کی اجازت نہیں دی اور یہ تقسیم بھی بڑی معنی خیز ہے کہ مردوں کی ملک یمین عورت ہو تو نکاح کی ضرورت ہی نہیں اور بغیر نکاح مالک اُس سے ازدواجی زندگی کی حیوانی خواہشات کو پورا کر لینا جائز اور حلال قرار دیا گیا لیکن اس کے عکس کو یعنی آزاد عورت کو اگر ملک یمین کے طور پر کوئی مرد مل جائے تو وہ اس کے سامنے بھی نہیں آ سکتی بلکہ اس کو مکمل طور پر پردہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن قرآنِ کریم میں اس کا کوئی ثبوت نہیں وہ ملک یمین کو صرف گھر میں آنے جانے والے مردوں اور عورتوں میں شامل کرتا ہے لیکن کسی حال میں بھی ان کو محرمات میں شامل نہیں کرتا جس کا تعلق صرف معاشرتی زندگی کے قیام کی سہولت کے لیے ہے اور زیر نظر آیت میں ان مردوں کو بھی اس حکم سے مستثنیٰ کر دیا گیا ہے جو اتنے بوڑھے ہو چکے ہیں کہ اب ان کو عورتوں کی کوئی حاجت ہی نہیں رہی یعنی کسی عورت کو بھی دیکھ کر اُن کی حیوانی خواہشات نہیں بھڑکتیں اور یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ یہ خواہشات یک طرفہ طور پر کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتیں یہی وجہ ہے کہ اسلام نے عنین، نامرد اور خصی شدہ لوگوں کو بھی اس زمرہ میں شامل کیا ہے۔ نابالغ بچوں کا معاملہ فرمایا اس حکم سے وہ بچے بھی مستثنیٰ ہیں جو عورتوں کے خفیہ معاملات سے ابھی تک بے خبر ہوں اور گھروں میں آنے جانے کی ضرورت بھی ہو، تاکہ معاشرتی زندگی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے یہ بچے ملازمین میں بھی شامل ہو سکتے ہیں اور طالب علم بچوں میں بھی اور ایسے بھی جو ہمسایوں اور عزیزوں کے گھروں سے آنے جانے والے ہوں اور ان کے لیے جو لازمی شرط قرار دی گئی ہے وہ یہی ہے کہ ایسے بچے جو ابھی تک عورتوں کے خاص رازوں سے واقف نہ ہوں اگر وہ اس ضمن میں نہ آئیں تو نابالغ ہونے کے باوجود بھی اُن سے ظاہری میل جول یا تخلیہ کی آمد و رفت درست نہیں اور یہی حال مردوں کے لیے بچیوں کا ہے کیونکہ ایک طرف کو بیان کیا گیا ہو تو دوسری طرف کو خود بخود اس میں شامل سمجھنا چاہیے اور سارے احکام میں یہی بات اصل ہے کہ قرآنِ کریم نے جہاں مردوں کا ذکر کیا ہے یعنی مذکر کے صیغوں سے تو عورتیں وہاں شامل ہیں اور جہاں مونث کے صیغوں سے بات کی ہے تو مردبھی اُس میں بلاریب شامل ہیں لیکن ہمارے مفسرین اکثر اس بات کو بھول جاتے ہیں یا جان بوجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں اور پھر اس پر بڑی بڑی بحثیں شروع کر دیتے ہیں۔ عورتوں کے لیے دوسری ہدایت کہ وہ چھپی زینت عیاں نہ کریں عورتوں کے زیورات میں سے ایسے زیور بھی ہوتے ہیں جن میں چھنکار کی آواز پیدا ہوتی ہے کبھی پاؤں میں ایسے زیور یعنی پازیب وغیرہ پہن کر نکلتی ہیں اور آج کل کپڑوں کے اوپر اس طرح کی چیزیں ٹانکی جاتی ہیں اور موتی اور ستارے کی کڑھائی اس طرح کی جاتی ہے کہ چلتے وقت اگر خاص احتیاط نہ کی جائے تو ایک آواز نکلتی ہے جو دوسرے انسان کو اپنی طرف متوجہ کر دیتی ہے اس لیے آیت کے ان الفاظ نے اس سے منع کیا ہے عورتیں ایسے زیور اور اس طرح کے کپڑے پہن کر اگر باہر نکلیں تو پاؤں کو زمین پر اس طرح زوردار طریقے سے نہ ماریں کہ ان کی جھنکار سن کر لوگ ان کی طرف متوجہ ہوں۔ ان تمام احکام کا مقصد تو یہ ہے کہ ایسے تمام اشتعال انگیز اطوار و عوامل پر قدغن لگا دی جائے جن کی وجہ سے اسلامی معاشرہ میں بدکاری اور بے حیائی کی راہیں کھل سکتی ہیں اور جن کی موجودگی میں وعظ و نصیحت بلکہ قانون کی شدت بھی گناہوں کا انسداد کرنے سے قاصر رہتی ہے اس آیت میں ایک خاص حرکت کا ذکر کر کے ہر ایسی چیز سے جو اُن کو نامحرم مردوں کی توجہ کا مرکز بنا دے اس سے منع کیا گیا ہے خواہ بھڑکیلا لباس پہن کر یا تیز خوشبو لگا کر یا کسی دوسری چیز سے جس سے لوگوں کی توجہ اُن کی طرف مبذول ہو منع کیا گیا ہے۔ جان بوجھ کر کی جانے والی باتیں پہلے ہی واضح ہیں آج ان باتوں کی وضاحت کی اس لیے ضرورت نہیں کہ فی زماننا جو کچھ کیا جا رہا ہے جان بوجھ کر اور سوچ سمجھ کر کیا جا رہا ہے ناسمجھی کی بنا پر نہیں اور یہ سب رواج کا دھارا ہے جس کے سامنے میں اور آپ سب پانی کی طرح بہتے چلے جا رہے ہیں اور اس بہاؤ کو روکنے کے لیے ہر کوشش ناکام ہو رہی ہے، کیوں؟ اس لیے کہ کوشش کرنے والا خود اس بیماری کا شکار ہے اور ہمارے گھروں کی صورتِ حال ناگفتہ بہ حد تک خراب ہو چکی ہے۔ دخترانِ اسلام کے لیے رسول اللہ ﷺ کا پیغام ہے کہ الرافلۃ فی الزینۃ فی غیر اھلھا کمثل ظلمۃ یوم القیمۃ لا نور لھا ’’وہ عورت جو آراستہ و پیراستہ ہو کر نامحرموں میں اترا اترا کر چلتی ہے قیامت کے دن وہ مجسم تاریکی ہو گی جہاں نور کی کرن تک نہیں پڑے گی۔‘‘ (ترمذی) لیکن اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ جب اُن کے سامنے اس طرح کی حدیث کا ذکر کیا جاتا ہے تو خواتین اُن کا مذاق اُڑاتی ہیں کہ کونسی قیامت اور کیسا نور؟ حوروں کے تصور پر زندگی گزارنے والے اور خیالی نہروں میں غوطہ زن دقیانوسی لوگوں کی یہ اختراعی کہانیاں ہیں اس کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ہم ان سے صرف یہی کہیں گے کہ اس ملک کی خاتونِ اول کا حال دیکھ لو اور عبرت حاصل کرو غور کرو کہ اللہ کی لاٹھی کتنی بے آواز ہے کہ کچھ رہا بھی نہیں اور کسی کو محسوس بھی نہیں ہوا کہ کیا ہوا ہے۔ ایمان والو! اللہ کے حضور توبہ کر لو تاکہ تم فلاح پاؤ انسان اور خطاء لازم و ملزوم ہیں پھر خطاء کا ہو جانا اور خطا کرنا دونوں میں بلاشبہ بہت بڑا فرق ہے بعض انسان وہ ہیں کہ ان سے خطاء ہوتی ہے لیکن کتنے ہی انسان ہیں جو خطائیں کرتے ہیں۔ انسانوں میں سے معصوم صرف اور صرف انبیاء کرام ہی ہوتے تھے اور نسیان کی لغزش اُن سے بھی ہوتی رہی۔ انسانیت کا کمال یہ ہوتا ہے کہ اس سے نسیان کے طور پر کوئی خطا ہو جائے یا کوئی خطا وہ کر بیٹھے یا بھول جائے تو فوراً تائب ہو جائے کیونکہ توبہ سے نہ صرف یہ کہ گناہ مٹ جاتے ہیں بلکہ وہ اجر و ثوب کا بھی مستحق ٹھہرتا ہے اس لیے آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ ’’اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو‘‘ جو صورتحال بھی ہوئی ہے اور جس صورتحال سے بھی تم دوچار ہوئے ہو تمہارے پروردگار سے پوشیدہ نہیں یہ اُس کا کتنا بڑا فضل ہے کہ اُس نے تمہاری حالت کو پوشیدہ رکھا اور لوگوں پر ظاہر نہ ہونے دیا اب تم اُس کے سامنے جھک جاؤ، اپنی غلطیوں کا اعتراف کر کے اُس سے معافی طلب کر لو اور بلا چون و چرا احکاماتِ الٰہی اور ارشاداتِ نبویہ کی تعمیل کے لیے تیار ہو جاؤ اس میں تمہارے لیے دونوں جہانوں کی کامیابی ہے۔ آفتابِ اسلام کے طلوع ہونے کے بعد اب اہل جاہلیت کے رسم و رواج کو اور اخلاق و عادات کو نہ چھوڑنا بہت بڑی ناانصافی ہے۔ خیال رہے کہ ایک بھولا ہوا انسان جب سچے دل سے توبہ کرتا ہے تو اُس کی مثال ایسی ہے جیسے اُس کے لیے اب ہی اسلام کا آفتاب طلوع ہوا ہے یا وہ آج ہی مسلمان ہوا ہے۔ اسلام کا پردہ بہت ہی آسان ہے مشکلات ہم نے خود پیدا کر لی ہیں اسلام کا پردہ نہایت آسان، بے حد صاف و شفاف ہے جس میں عورت کو اپنی زیب و زینت چھپانے کے لیے صرف ایک بڑی چادر کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس کو اپنے پورے جسم پر اُوڑھ سکے نہ وہ کسی کو تاکے جھانکے اور نہ اُس کو کوئی تاڑنے کی کوشش کرے۔ کیا کوئی عقلمند آدمی یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ جو پردہ آج ہم میں رائج ہے یہ اسلام کا حکم ہے ہرگز ہرگز نہیں یہی وجہ ہے کہ اس بے جا تقیید اور پابندی کی وجہ سے وہ تمام خرابیاں اسلامی گھرانوں میں پیدا ہو رہی ہیں جو اس کے قدرتی نتائج ہیں اور علمائے اسلام صنف نازک کی تمام ترقیاں یک قلم روک دینا چاہتے ہیں ہم نے اوپر بار بار عرض کیا ہے کہ انہی پابندیوں کا رد عمل ہے کہ آج عورتیں بالکل بے لگام ہو کر رہ گئی ہیں اور وہ ان پابندیوں کو برداشت کرنے کے لیے کسی حال بھی تیار نہیں اگر آج بھی اُن کو صحیح اسلامی پردہ سے روشناس کرایا جائے اور شروع سے تربیت اُن کی اسلامی خطوط کے مطابق کی جائے، حکومت جو اپنے آپ کو اسلامی حکومت کے نام سے موسوم کرتی ہے اسلام کے قانون کے مطابق ان کی تعلیم کا صحیح بندوبست کرے تو کبھی اُس کے اس طرح کے نتائج سامنے نہ آئیں ایک فطری امر اور ایک اختراعی پابندی میں جو فرق ہے اُس سے کون واقف نہیں؟ شروع ہی سے ایک لڑکی کو جب وہ بلوغت کے قریب پہنچے تو اُس کو اُس کی ذمہ داریوں سے روشناس کرایا جائے اور مرد عورت کا کردار الگ الگ کر کے سمجھایا جائے اور اُس کو باور کرایا جائے کہ تم ایک لڑکی ہو اور بڑی ہو کر تم پر کون کون سی ذمہ داریاں عائد ہونی ہیں اور کن کن حالات سے دوچار ہونا ہے، مردوں اور عورتوں کی ذمہ داریوں میں قدرت نے کیا فرق رکھا ہے اور کیوں رکھا ہے؟ عورت اور مرد دونوں کے مل جانے سے انسانیت کی تکمیل ہوتی ہے، عورت مرد کے بغیر ایک کامل انسان نہیں اور بالکل اسی طرح مرد عورت کے بغیر ایک مکمل انسان نہیں ہے۔ جس طرح ایک نوزائیدہ بچہ وہ لڑکی ہو یا لڑکا جسم، شکل و صورت اور ظاہری ڈیل ڈول میں بدلتا رہتا ہے اور بلوغت تک پہنچ کر وہ بالکل اپنی نوزائیدگی سے ایک مختلف شئے ہو جاتا ہے بالکل اسی طرح بلوغت کے بعد اس ایک جنس کی دونوں اصناف کے ملنے سے ایک کامل انسان بن جاتا ہے جس طرح ہر جسم کے مختلف اعضاء ہوتے ہیں اور سب کے سب اعضاء مل کر ایک جسم بنتا ہے اور سارے اعضاء اپنا اپنا کام کرتے ہیں کوئی ایک عضو دوسرے عضو کی کمی کو مکمل طور پر پورا نہیں کر سکتا ہر حال میں اُس کی کمی محسوس ہوتی رہتی ہے بالکل اسی طرح اس ایک جنس کی دونوں اصناف کا حال ہے کہ دونوں اصناف ایک دوسرے کے سوا اپنے اندر کمی رکھتے ہیں اور دونوں کے مل جانے سے وہ کمی دور ہو جاتی ہے اور وہ دونوں مل کر ایک مکمل انسان بنتے ہیں۔ اس طرح بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ انسان کے لیے نکاح کیوں ضروری ہے؟ اچھی طرح یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام کے نقطہ نظر میں نکاح فقط حیوانی خواہشات کے ازالہ کا باعث نہیں ہوتا بلکہ انسانیت کی تکمیل کے لیے ضروری ہے بلاشبہ وہ خود حیوان ہیں جن لوگوں نے نکاح کی غرض و غایت صرف یہی سمجھی ہے، اُنہوں نے عورت کو اُس کا صحیح مقام بالکل نہیں دیا اور نہ ہی دے سکتے ہیں۔ قرآنِ کریم نے محصن اور مسافح کے فرق کو واضح کر دیا ہے پھر احصان کا حکم دیا ہے اور سفاح سے منع فرمایا ہے غور کرو گے تو ان شاء اللہ سمجھ آئے گی اور قرآنِ کریم انہی لوگوں کی راہنمائی کرتا ہے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔ قرآنِ کریم کی آیات (3) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنْكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ۚ مِنْ قَبْلِ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُمْ مِنَ الظَّهِيرَةِ وَمِنْ بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ۚ ثَلَاثُ عَوْرَاتٍ لَكُمْ ۚ لَيْسَ عَلَيْكُمْ وَلَا عَلَيْهِمْ جُنَاحٌ بَعْدَهُنَّ ۚ طَوَّافُونَ عَلَيْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ ۚ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ( 24:58 ) مومنو! تمہارے غلام لونڈیاں اور جو بچّے تم میں سے بلوغ کو نہیں پہنچے تین دفعہ یعنی (تین اوقات میں) تم سے اجازت لیا کریں۔ (ایک تو) نماز صبح سے پہلے اور (دوسرے گرمی کی دوپہر کو) جب تم کپڑے اتار دیتے ہو۔ اور تیسرے عشاء کی نماز کے بعد۔ (یہ) تین (وقت) تمہارے پردے (کے) ہیں ان کے (آگے) پیچھے (یعنی دوسرے وقتوں میں) نہ تم پر کچھ گناہ ہے اور نہ ان پر۔ کہ کام کاج کے لئے ایک دوسرے کے پاس آتے رہتے ہو۔ اس طرح خدا اپنی آیتیں تم سے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے اور خدا بڑا علم والا اور بڑا حکمت والا ہے وَإِذَا بَلَغَ الْأَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَأْذِنُوا كَمَا اسْتَأْذَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (24:59) اور جب تمہارے لڑکے بالغ ہوجائیں تو ان کو بھی اسی طرح اجازت لینی چاہیئے جس طرح ان سے اگلے (یعنی بڑے آدمی) اجازت حاصل کرتے رہے ہیں۔ اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے۔ اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا يَرْجُونَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ أَنْ يَضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِينَةٍ ۖ وَأَنْ يَسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَهُنَّ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (24:60) اور بڑی عمر کی عورتیں جن کو نکاح کی توقع نہیں رہی، اور وہ کپڑے اتار کر سر ننگا کرلیا کریں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ اپنی زینت کی چیزیں نہ ظاہر کریں۔ اور اس سے بھی بچیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے۔ اور خدا سنتا اور جانتا ہے لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَى حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ بُيُوتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ آبَائِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أُمَّهَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ إِخْوَانِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخَوَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَعْمَامِكُمْ أَوْ بُيُوتِ عَمَّاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخْوَالِكُمْ أَوْ بُيُوتِ خَالَاتِكُمْ أَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَفَاتِحَهُ أَوْ صَدِيقِكُمْ ۚ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَأْكُلُوا جَمِيعًا أَوْ أَشْتَاتًا ۚ فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً ۚ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (24:61) نہ تو اندھے پر کچھ گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر اور نہ بیمار پر اور نہ خود تم پر کہ اپنے گھروں سے کھانا کھاؤ یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا اس گھر سے جس کی کنجیاں تمہارے ہاتھ میں ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے (اور اس کا بھی) تم پر کچھ گناہ نہیں کہ سب مل کر کھانا کھاؤ یا جدا جدا۔ اور جب گھروں میں جایا کرو تو اپنے (گھر والوں کو) سلام کیا کرو۔ (یہ) خدا کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ اس طرح خدا اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِذَا كَانُوا مَعَهُ عَلَى أَمْرٍ جَامِعٍ لَمْ يَذْهَبُوا حَتَّى يَسْتَأْذِنُوهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ أُولَئِكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ۚ فَإِذَا اسْتَأْذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَنْ لِمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (24:62) مومن تو وہ ہیں جو خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جب کبھی ایسے کام کے لئے جو جمع ہو کر کرنے کا ہو پیغمبر خدا کے پاس جمع ہوں تو ان سے اجازت لئے بغیر چلے نہیں جاتے۔ اے پیغمبر جو لوگ تم سے اجازت حاصل کرتے ہیں وہی خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔ سو جب یہ لوگ تم سے کسی کام کے لئے اجازت مانگا کریں تو ان میں سے جسے چاہا کرو اجازت دے دیا کرو اور ان کے لئے خدا سے بخششیں مانگا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا ۚ قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِوَاذًا ۚ فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (24:63) مومنو پیغمبر کے بلانے کو ایسا خیال نہ کرنا جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔ بےشک خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں تو جو لوگ ان کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہیئے کہ (ایسا نہ ہو کہ) ان پر کوئی آفت پڑ جائے یا تکلیف دینے والا عذاب نازل ہو أَلَا إِنَّ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ قَدْ يَعْلَمُ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ وَيَوْمَ يُرْجَعُونَ إِلَيْهِ فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوا ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (24:64) دیکھو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ جس (طریق) پر تم ہو وہ اسے جانتا ہے۔ اور جس روز لوگ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے تو جو لوگ عمل کرتے رہے وہ ان کو بتا دے گا۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ ’’اے ایمان والو! تمہارے باندی غلام اور وہ بچے جو سن بلوغ کو نہیں پہنچے انہیں تین وقتوں میں تم سے اجازت لینی چاہیے فجر کی نماز سے قبل اور دوپہرمیں اور عشاء کی نماز کے بعد جب تم اپنے (بعض) کپڑے اُتار دیا کرتے ہو یہ تین اوقات تمہارے پردے کے ہیں (اس لیے مذکورہ اوقات میں اجازت لیے بغیر جانا حرام ہے) اِن اوقات کے علاوہ تم پر کوئی مضائقہ نہیں کہ وہ تمہارے پاس اور تم ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے رہو اس طرح اللہ اپنے احکامات کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جانتا اور بڑی حکمت والا ہے /58 اور جب تمہارے بچے بلوغت کو پہنچ جائیں تو وہ بھی اس طرح اجازت لیں جس طرح ان سے قبل (دوسرے لوگ) اجازت لیتے ہیں، اس طرح اللہ اپنے احکام کو صاف اور واضح طور پر بیان کرتا ہے اور اللہ بڑا علم والا اور حکمت والا ہے/59 اور بیٹھ رہنے والی عورتیں جنہیں نکاح کی توقع (ضرورت) نہیں، ان پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے (بعض) کپڑے اُتار لیں (مخصوص طریقے سے اوڑھنیاں نہ اوڑھیں) بشرطیکہ اپنی زینت دکھانا مقصود نہ ہو اور اگر احتیاط برتیں تو ان کے لیے بہتر ہے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے/60 نہ اندھے کے لیے کوئی حرج ہے اور نہ لنگڑے کے لیے کوئی مضائقہ اور نہ بیمار کے لیے کوئی گناہ اور نہ خود تم پر کہ اپنے گھروں میں کھانا کھاؤ یا اپنے باپ دادوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچوں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا جن کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے، تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم آپس میں مل بیٹھ کر کھانا کھاؤ یا الگ الگ، غرض جب تم اپنے گھروں میں بھی داخل ہوا کرو تو ایک دوسرے کو سلام کہہ لیا کرو یہ اللہ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے، اس طرح اللہ اپنی آیتیں صاف اور واضح طور پر تم سے بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھو/61‘‘ مسلمانوں کے پردہ کے گھریلو احکامات کا تذکرہ قرآنِ کریم میں گھر کا نظام چلانے کے لیے بعض اوقات لونڈی غلام اور گھر میں کام کاج کرنے والے لوگوں کی آمد و رفت لازم و ضروری ہے اور نابالغ بچوں کا آنا جانا بھی ناگزیر ہے اس لیے اگر ان کو بھی ہر وقت گھر میں آنے جانے کی اجازت حاصل کرنی پڑے گی تو بہت مشکل ہو جائے گی اس لیے گھر والوں اور ان سب لوگوں کے لیے جن کا گھر میں آنا جانا ضروری ہے ان کی سہولت کے پیش نظر تین اوقات مقرر کر دیئے گئے کہ ان اوقات میں اجازت حاصل کیے بغیر وہ اندر داخل نہ ہوں تاکہ میاں بیوی اپنے محبت آمیز تعلقات سے تسکین حاصل کر سکیں۔ جو تین اوقات مقرر کیے گئے ہیں یہ بالکل فطری ہیں پہلا وقت وہ جب عادت کے مطابق کھانے پینے سے فارغ ہو کر آدمی آرام کرنے اور سونے کے لیے تیار ہو جائے بلکہ سو جانے کی جگہ پہنچ جائے اور یہ وقت فجر کی نماز کا وقت آنے تک ہے اور اس طرح دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد بھی جب انسان قیلولہ کرتا ہے مختصر یہ کہ جو جو اوقات آرام کے لیے ایک گھر میں مقرر کیے گئے ہیں اور عرف عام میں سب گھر میں آنے جانے والوں کو معلوم ہوں ان مخصوص اوقات میں اگر کسی کو اندر داخل ہونے کی ضرورت پیش آئے تو اجازت حاصل کئے بغیر یہ لوگ بھی ایک دوسرے کے کمرے میں نہ آئیں جائیں اور ان مقررہ اوقات کے علاوہ لونڈی، غلاموں اور گھر میں کام کاج کرنے والے لوگوں اور نابالغ بچوں کو اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ اس طرح صاحب خانہ کو بھی محتاط رہنا ہو گا کہ گھر میں کام کاج کرنے والوں کو آنے جانے کی ضرورت ہو گی اس لیے آرام کے لیے مخصوص وقت کے علاوہ کوئی ایسی حرکت نہ کریں جو تخلیہ کی ہو۔ اسی طرح مسلمانوں کے لیے پیروی کے احکامات کی یہ پہلی اور ابتدائی صورت واضح کر دی تاکہ اس کی پابندی کی جائے اور پردہ کی باتیں بے پردہ نہ ہوں۔ مخصوص اوقات کے علاوہ گھر میں آنے جانے والوں کے لیے اجازت کی ضرورت نہیں ان مخصوص اوقات کے علاوہ ان لوگوں کے لیے جو صاحب مکان کے لونڈی، غلام ہیں یا اس گھر میں کام کاج کرنے والے ہیں اُن کے آنے جانے پر کوئی پابندی نہیں اور نہ ہی اُن نابالغ بچوں پر کوئی پابندی ہے جو پردے کے معاملات سے پوری طرح واقف نہیں اور یہ بھی کہ ضرورت کے لیے اُن کے آنے جانے پر کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی وہ بچے اپنے قریبی رشتہ داروں کے ہوں یا دوسرے ہمسایہ وغیرہ کے یا جاننے بوجھنے والوں کے جن کا گھروں میں آنا جانا متعارف ہے اور ضرورت کے لیے سب لوگ ایک دوسرے کے ہاں اپنے بچوں کو بھیج دیا کرتے ہیں۔ فرمایا ہم نے تمہارے لیے یہ بات کھول کھول کر واضح کر دی ہے تاکہ اس کا کوئی پہلو مبہم نہ رہ جائے۔ خیال رہے کہ زیر نظر آیت میں ان لوگوں کا حکم بیان کیا گیا ہے جن کا ایک گھر میں آنا جانا ناگزیر ہے عام لوگوں کے لیے ایک دوسرے کے گھر میں جانے کے آداب پہلے بتائے جا چکے ہیں۔ بچے جب بالغ ہو جائیں تو اب وہ بغیر اجازت اندر نہ آئیں ایک دوسرے کے گھروں میں آنے جانے کے آداب پہلے ذکر کیے جا چکے ہیں اور اجازت لینے کی ضرورت اور اجازت حاصل کرنے کا طریقہ بتایا جا چکا ہے اُس عام اجازت سے گھروں میں کام کاج کرنے والے خادم اور لونڈی غلام اور نابالغ بچے مستثنیٰ کیے گئے تھے پھر ان مستثنیٰ کیے جانے والوں کے لیے بھی تین مخصوص اوقات میں اجازت لینا ضروری قرار دیا گیا اب زیر نظر آیت نمبر ۵۹ میں بتایا گیا ہے کہ وہ بچے جو نابالغ ہونے کے باعث ایک دوسرے کے گھروں میں آتے جاتے رہے ہیں جب وہ قریب البلوغ ہوں یا بالغ ہو جائیں تو اب اُن کے آنے جانے پر بھی وہی پابندی ہے جو عام لوگوں کو ایک دوسرے کے گھر جانے پر ہے۔ یعنی اب وہ بغیر اجازت حاصل کیے اندر نہ داخل ہوں گویا جو حکم دوسرے لوگوں کا ہے وہی اُن کا بھی ہے اور تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔ عمر رسیدہ عورتوں کے لیے خاص رعایت کا ذکر وہ بوڑھی عورتیں جنہیں اب اولاد کی امید باقی نہیں رہی اور وہ مخصوص اوقات میں الگ تھلگ بھی نہیں رہیں گی اور گھروں میں رہتے ہوئے گھر میں کام کاج کرنے والوں اور عام بچوں کے سامنے اگر سر سے دوپٹہ اُتار بھی دیں گی یا اُن کے سر سے دوپٹہ اتر بھی جائے گا تو ایسی صورت قابل برداشت ہے کیونکہ اب وہ نانی، دادی ہو چکی ہیں اور گھر میں ان کی ذمہ داری کی نوعیت بھی بدل چکی ہے اور ان کو خاص قسم کی زیب و زینت کی ضرورت بھی نہیں رہی کہ ہر بات کے لیے ایک وقت مقرر ہے اور قویٰ مضمحل ہو جائیں تو خواہشات بھی سرد پڑ جاتی ہیں۔ ہاں! ان کے لیے بھی جہالت کے مظاہرہ کی اجازت نہیں تاہم وہ حتی الامکان ایسی صورتِ حال سے بچیں تو یہ اُن کے لیے زیادہ اچھی بات ہے۔ رسم و رواج سے بچنا اُن کے لیے بھی ضروری ہے پیچھے گزر چکا ہے کہ عورتوں کے لیے عام حکم دیا گیا تھا ولیضربن بخمرھن علی جیوبھن وہ اپنی اوڑھنیوں کے آنچل سے اپنے گریبان ڈھانک لیا کریں اب ان بوڑھی عورتوں کو اس حکم سے مستثنیٰ کیا جا رہا ہے کیوں؟ اس لیے کہ اب ان کو نکاح کی ضرورت باقی نہیں رہی اس لیے اگر انہوں نے اپنی اوڑھنیوں کو اس خاص طریقہ سے استعمال نہ کیا تو بھی ان پر کوئی گناہ نہیں ہو گا تاہم ان کو اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ دورِ جہالت کے رسم و رواج کو دوبارہ اپنے گھروں میں رائج کر دیں اور ان کی دیکھا دیکھی پھر وہی جہالت کی باتیں شروع ہو جائیں اس لیے اتفاق اور بات ہے لیکن جان بوجھ کر اس میں سستی کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ بوڑھی عورتیں بھی احتیاط برتیں تو اس میں بھلائی ہے اس آیت میں القواعد من النساء کے الفاظ خاص طور پر قابل غور ہیں کہ یہ اس قدر بوڑھی اور معمر ہو چکی ہیں کہ ان کو خود خواہشات نفسانی کی حاجت نہ رہی ہو اور اُن کو دیکھ کر بھی کسی انسان کو اس طرح کا خیال نہ آئے۔ ایسی عمر رسیدہ عورتوں کو بھی دورِ جاہلیت کی عادات و خصائل کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ اُن کی آسانی کے پیش نظر ان کو مستثنیٰ کیا گیا ہے، دوسرے لفظوں میں ان معذور عورتوں کے عذر کو منظور کر لیا گیا ہے اور پھر تاکید بھی کی گئی ہے کہ یاد رکھو اللہ تعالیٰ خوب سننے والا اور علم رکھنے والا ہے وہ دلوں کے رازوں سے بھی خوب واقف ہے، وہ جانتا ہے کہ کس نے دورِ جہالت کی یاد کو تازہ کرنے کی غرض سے ایسا کیا ہے اور کون فی الواقع معذور ہے۔ گھریلو زندگی کے ذکر کے باعث اب گھروں میں کھانا کھانے کے آداب و احکام کو بیان کیا جا رہا ہے۔ جان لینا چاہیے کہ پردہ کا مقصد معاشرتی روابط کا انقطاع نہیں دورِ جاہلیت میں یہ رواج تھا کہ لوگ اندھوں ، لنگڑوں اور مریضوں کے ساتھ کھانا کھانے سے کراہت کرتے تھے اس لیے اُن سے مل کر کھانا نہیں کھاتے تھے حالانکہ کسی شخص کا اندھا، لنگڑا اور مریض ہو جانا اختیاری بات نہیں بلکہ ایسے کمزوروں کو اپنی کمزوری کا بہت خیال رہتا ہے اس لیے اُن کو اس بات کا احساس نہیں ہونے دینا چاہیے اور پھر یہ بھی کہ جب گھروں کے اندر جانے پر پابندیاں عائد کر دی گئیں جو گزشتہ آیات میں بیان ہوئی ہیں تو شاید کچھ لوگوں نے یہ محسوس کیا ہو گا کہ اسلام سوشل آزادیوں کو محدود کرنا چاہتا ہے کہ خاص اپنے عزیزوں، قریبیوں اور رشتہ داروں اور دوستوں کے گھروں میں کوئی شخص آزادی سے نہیں جا سکے گا اور اس طرح بہت سے وہ لوگ جو معذور و مجبور تھے اور خصوصاً اُس زمانہ میں جب چوطرفہ جنگ جاری تھی ایسے لوگوں کی کثرت ہو چلی تھی اور ایسے لوگ اپنی مجبوریوں کے باعث یقیناًاپنے عزیزوں اور رشتہ داروں ہی کے گھروں پر گزر بسر کر رہے تھے بلاشبہ اُنہوں نے محسوس کیا ہو گا کہ اب ان کی آزادی محددو ہو گئی اس طرح کے بہت سے عوامل پیدا ہو گئے ہوں گے اور لوگ ایک دوسرے سے تبصرے کرتے ہوں گے اور بلاشبہ ہر طرح کی آزادی کے بعد اس طرح کی پابندی بھی بعض طبائع پر شاق گزری ہو گی اس لیے رب ذوالجلال والاکرام نے ان سب کے شبہات کو دور کرنے کے لیے ایک ہی آیت میں اس سلسلہ کی بہت سی چیزوں کی وضاحت فرما دی کہ بعض احتیاطی پابندیاں عائد کرنے کا یہ مطلب نہیں جو لوگوں نے سمجھ لیا ہے اور اندھوں، لنگڑوں، اپاہجوں اور مریضوں کو اپنے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں سے محروم کرنا مقصود نہیں اور اجازت طلب کر کے اندر داخل ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ایک دوسرے کے ہاں آنے جانے سے روک دیا گیا ہو بلکہ اجازت سے مقصود بعض غلط قسم کے میل جول سے ممانعت کی گئی ہے جس سے انسانی آزادی کو بحال کرنا مقصود ہے نہ کہ انسانی زندگی پر خواہ مخواہ قیود بڑھانا۔ خود ہی غور کر لو کہ ایک انسان کو اپنے گھر کے اندر بھی آزادی سے رہنا نصیب نہ ہو اور وہ اپنی نفسانی خواہشات کو بھی جانوروں کی طرح راستوں ہی میں پورا کرنا شروع کر دے تو اُس کی انسانی زندگی کی آزادی سلب ہوئی یا انسانی آزادی محدود ہو کر رہ گئی اس لیے ان کو بتایا گیا کہ اسلام نے اس بات پر قطعاً پابندی عائد نہیں کی کہ وہ اپنے عزیز و قریب کے لوگوں سے آمد و رفت ہی مطلقاً بند کر دیں۔ کھانے کے اوقات تقریباً ہر جگہ متعین ہوتے ہیں کھانے کے اوقات ہر وقت نہیں ہوتے بلکہ ہر معاشرہ کے اندر کچھ کھانے کے اوقات مقرر کیے گئے ہیں اور جہاں جہاں جس کا کھانا چلتا ہے سب کو معلوم ہے وقت معین پر اجازت حاصل کر کے اندر جایا جا سکتا ہے اور کھانا کھانے میں کوئی پابندی اس طرح کی عائد نہیں کی گئی کہ معذور لوگ دوسرے لوگوں سے مل کر کھانا نہ کھائیں بلکہ اسلام نے پوری وسعت سے کام لیتے ہوئے آپس میں مل کر یا الگ الگ کھانے کی اجازت برقرار رکھی ہے بلکہ معذوروں کو ہر گھر سے کھانا کھا لینے کی وضاحت کر دی ہے اور ساتھ ہی تندرست لوگوں کو ایک طرح سے سمجھا دیا ہے کہ معاشرہ کے معذور لوگوں کے کھانے کا بندوبست کرنا بھی تم پر لازم ہے اور رشتہ داروں اور عزیزوں کے ہاں کھانا کھانے اور اس طرح دوستوں، یاروں کے ہاں بے جھجھک کھا لینے کی اجازت مرحمت فرمائی اور اس عادت کو بحال رکھا کہ یہ تمہاری مرضی کی بات ہے کہ تم مل کر کھانا کھاؤ یا الگ الگ اپنے اپنے برتن میں لے کر کھانا کھاؤ جس طرح سے تم کھانے کے عادی ہو اسلام نے اس سلسلہ میں تم پر کوئی پابندی نہیں عائد کی۔ پردہ کا اپنا مقام ہے اور ظاہر ہے کہ کھانا کھانے میں کن اعضاء کے کھولنے کی ضرورت ہے سب کو معلوم ہے کہ وہ منہ اور ہاتھ ہی تو ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ دونوں تو پہلے ہی پردہ سے مستثنیٰ رکھے گئے ہیں پھر اس معاملہ میں سب سے زیادہ احتیاط کی جو چیز ہے وہ آنکھ اور زبان ہے اور ان دونوں پر جو پابندی عائد کی گئی ہے وہ ہر حال میں موجود رہے گی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے اور خواہشات نفسانی سے پر لہجہ اختیار کرنے کی روک اپنی جگہ پر قائم ہے اور ان دونوں چیزوں کا کھانے سے کوئی تعلق نہیں اور پھر جن گھروں میں کھلم کھلا کھانے کی اجازت دی جاتی ہے ان گھروں میں رہنے والے تو سب لوگ محرم ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ ان کو روابط رکھنا پہلے ہی ممنوع نہیں ہے اور جو تین اوقات منع کیے گئے ہیں اُن میں بھی اجازت لے کر جانے کی عام اجازت دی گئی ہے لہٰذا اس میں کسی قسم کی دشواری موجود نہیں بلکہ انسانی زندگی کی نہایت اہم بات اس جگہ بیان کر دی گئی ہے اور ایک دوسرے کے ہاں پورے اہتمام کے ساتھ آنے جانے کو کہا گیا ہے اور مہمان اور میزبان دونوں کے لیے بہترین ادب سکھانے کی کوشش کی ہے اور پھر یہ قانون وقتی قانون نہیں ہے بلکہ ہمیشہ کے لیے یہ قانون بنا دیا گیا ہے جس میں آسانی اور سہولت کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ جن گھروں میں کھانا کھانے کی اجازت عام دی گئی ہے ان پر مزید ایک نگاہ ڈال لیں ان گھروں کی پوری فہرست پر ایک نظر ڈال لو ظاہر ہے کہ اپنے گھروں سے مراد وہی گھر ہیں جن گھروں کی ذمہ داری تمہارے اپنے کندھوں پر ہے اور اپنی اولاد کے گھر بھی ظاہر ہے کہ اس ضمن میں آتے ہیں باپ دادوں، ماؤں، بھائیوں اور بہنوں کے گھروں میں اپنے چچوں، پھوپھیوں، ماموؤں اور خالاؤں کے گھروں میں جا کر کھانا کھانے والوں کے ساتھ کھانا پکانے والیاں، کھانے کھلانے والیاں اور کھانے کھانے والوں میں کیسا کیسا رشتہ بنتا ہے اور کتنا قرب یہاں موجود ہے ایک ایک بات کو نگاہ میں رکھو اور یہ بھی کہ اگر تم وہاں سے کھا رہے ہو تو عین ممکن ہے کہ تمہاری اولاد بھی تمہارے ساتھ ہی ہو اور اس طرح ان لوگوں کی اولادوں کا وہاں موجود ہونا بھی تسلیم کیا جا سکتا ہے اور اس سلسلہ میں یہاں کسی قسم کی مزید وضاحت بھی نہیں کی گئی تو ان سب کے ہاں ظاہری طور پر سب کی موجودگی میں میل جول کی کوئی ممانعت بھی نہیں کی گئی اس بات پر ان لوگوں کو غور کرنا چاہیے جو پردے کے سلسلہ میں عورت کو ایک انسان سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں بلکہ وہ عورت کو محض ایک شیطان تسلیم کرتے ہیں اور اس چیز نے بعض لوگوں کو اس قدر غصہ دلایا کہ وہ آج اسلام کے نام سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں اور شاید ان کو بتانے والا ایک بھی نہیں جو اُن کو بتائے کہ اسلام نے تو عورت کو بہت بلند مقام دیا ہے یہ محض چند سرپھروں کی طرف سے کہی گئی بات ہو سکتی ہے اسلام نے مردوں اور عوتوں کو ایک جنس کی دو قسمیں ضرور قرار دیا ہے اور حیوانوں کی طرح اس نے ایک دوسرے کو سونگھنے کی اجازت نہیں دی بلکہ انسانی زندگی کا پورا پورا احترام سکھایا ہے اور ان دونوں صنفوں کو الگ الگ ذمہ داریوں سے روشناس کر دیا ہے اور ان کی فطرت کو اُجاگر کر کے دونوں کو اپنے اپنے مقام میں وقار کے ساتھ رہنے کا طریقہ سکھایا ہے اور ان کو باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ بلاشبہ تم حیوان ہو لیکن حیوانیت سے آگے بڑھ کر تم انسان بھی ہو اس لیے انسانیت کی قدر کرو کہ حیوانیت سے انسانیت کا درجہ بہت بلند ہے اور اپنی بلندی کو نظر انداز کر کے صرف حیوانیت کی طرف مائل نہ ہو جاؤ، ایک گھوڑے اور ایک انسان کے فرق کو مد نظر رکھو۔ وہ جن کی کنجیاں تمہارے سپرد کی گئی ہیں؟ اس حکم کے مختلف پہلو بتائے گئے ہیں بعض نے غزوات میں جاتے وقت معذور لوگوں کو پیچھے اپنی جائیدادوں پر مقرر کیے جانے والے لوگ مراد لیے ہیں اور بعض نے اس سے مراد اپنے غلام اور لونڈیاں لی ہیں اور بعض نے جائیدادوں کے مستقل انتظام کرنے والے مراد لیے ہیں، بڑی بڑی جاگیروں اور بڑے بڑے کاروباروں پر متعین کردہ لوگوں سے لی ہے اور ان الفاظ کی وسعت ان سب پر حاوی ہے اس لیے ضرورت کے ساتھ ہر ایک اس سے مراد لیا جا سکتا ہے لیکن جن مفسرین نے اس سے مراد وہ یتیم بچے لیے ہیں جن کی نگہبانی کے لیے کسی کو ان کا کفیل بنایا گیا ہو اور ہمارے نزدیک یہ لوگ اس سے مراد نہیں لیے جا سکتے کیونکہ یتیم کے مال کو اس طرح کھانے کی اجازت کسی حال میں بھی نہیں ہے ہاں باقی لوگوں کو جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے صاحب مال کے مال سے بقدر کفایت کھانا کھا لینے کا حق ہے اور یہ بات اُس حفاظت و نگہبانی کے ضمن میں آ سکتی ہے۔ Last edited by کنعان; 31-12-11 at 09:44 PM. وجہ: Re.organised |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
Last edited by rana ammar mazhar; 01-01-12 at 05:11 PM. |
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
قرآنِ کریم میں مردوں کو خطاب ہے تو عورتیں بھی اس میں موجود ہیں
قرآنِ کریم میں عام انسانوں کو مخاطب کر کے بات کی گئی ہے اور اسی طرح مسلمانوں کو مخاطب کر کے بھی احکام دیئے گئے ہیں اور ہر مقام پر چاہے صیغے جمع مذکر کے استعمال ہوتے ہیں لیکن بالاتفاق یہ بات تسلیم ہے کہ ہر مقام پر مردوں کے ساتھ عورتیں بھی مخاطب ہیں اس میں کوئی اس طرح کی بحث موجود نہیں کہ یہاں چونکہ مذکر کے صیغے استعمال ہوئے ہیں اس لیے عورتیں اس میں شامل نہیں، چنانچہ قرآنِ کریم میں ’’انس‘‘ کا لفظ ۲۴بار ’’للناس‘‘ کا لفظ ۴۱بار، ’’الناس‘‘ کا لفظ ۱۱۴ باراور ’’الانسان‘‘کا لفظ ۵۷ بار استعمال ہوا ہے اس میں ’’یایھا الناس‘‘ کا خطاب بھی شامل ہے اور ہر ایک جگہ مردوں کے ساتھ عورتیں بھی شامل ہیں کیونکہ اس مادہ کے الفاظ میں جہاں مرد آتے ہیں وہاں عورتیں بھی برابر کی شریک ہیں۔ اسی طرح ’’یایھا الذین امنوا‘‘ سے ۸۷ بار مخاطب کیا گیا ہے اور یہ تمام خطابات مدنی سورتوں میں ہیں مکی میں نہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ مدنی زندگی میں بھی عورتیں مردوں کے ساتھ برابر کی شریک رہی ہیں اور کسی ایک جگہ بھی عورتوں کو مستثنیٰ نہیں کیا گیا۔ ان بیانات کا مطلب یہی ہے کہ مردوں کے ساتھ عورتیں بھی ان تمام احکام و نواہی میں برابر کی شریک ہیں یہ دوسری بات ہے کہ بعض جگہوں پر مسلمان مردوں کے ساتھ مسلمان عورتوں کو بھی مخاطب کر کے بات کی گئی ہے جو اوپر والی بات کو مزید تقویت دیتی ہے تاکہ یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ عورت مرد کے ضمن ہی میں مخاطب ہوتی ہے براہ راست نہیں، ہرگز نہیں بلکہ قرآنِ کریم میں جس طرح مردوں کو مخاطب کر کے بات کی ہے بعض مقامات پر عورتوں کو بھی خصوصاً مردوں کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے اور سورہ الاحزاب میں جہاں مسلمان مردوں کی دس صفات کو اجاگر کر کے بیان کیا گیا ہے وہاں عورتوں کا بھی ان تمام صفات میں مردوں سے الگ نام لیا گیا ہے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے کہ ’’ان المسلمین والمسلمات‘‘ وغیرہ (۳۳:۱۵) مرد و زن کی اصل بھی ایک ہے اور خطاب بھی غور کیجئے کہ کیا مرد اور عورت کی اصل ایک نہیں؟ بلاشبہ ایک ہے، کیسے؟ ایسے کہ اللہ تعالیٰ جو تمام مخلوق کا خالق و مالک ہے قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے کہ ’’اے افرادِ نسل انسانی! اپنے پروردگار سے ڈرو وہ پروردگار جس نے تمہیں اکیلی جان سے پیدا کیا اور اس کی جنس سے اس کا جوڑا بھی پیدا کیا، پھر دونوں سے مردوں اور عورتوں کی بڑی تعداد دنیا میں پھیلا دی۔ پس دیکھو، اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس کے نام پر باہم دگر سوال کرتے ہو، نیز قرابتداری کے معاملہ میں بے پروا نہ ہو جاؤ یقین رکھو کہ اللہ تم پر نگرانِ حال ہے۔‘‘ (۴:۱) نسل انسانی میں دونوں یعنی مرد و زن برابر ہیں، اللہ تعالیٰ کا ڈر اور خوف دل میں رکھنے کے حکم میں دونوں برابر ہیں، نسل انسانی کے اجراء میں دونوں برابر کے شریک و سہیم ہیں دونوں قرابتداری کے معاملہ میں یکساں ایک جیسے سوال کیے جانے والے ہیں یعنی اپنی اپنی قرابتداری کے حقوق و فرائض کی ادئیگی میں برابر ہیں اگر دونوں کی اپنی اپنی شخصیت اور اپنی اپنی اہمیت نہ ہوتی تو دونوں ان معاملات میں برابر کیونکر ہوتے؟ بحیثیت انسان دونوں کی ذمہ داریاں بھی ایک جیسی ہیں قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ: ’’بلاشبہ آسمان و زمین کے پیدا کرنے میں اور رات دن ایک کے بعد ایک آتے رہنے میں اربابِ عقل و دانش کے لیے بڑی ہی نشانیاں ہیں۔ وہ لوگ ہیں جو کسی حال میں بھی اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہیں ہوتے، کھڑے ہوں، بیٹھے ہوں، لیٹے ہوں، جن کا شیوہ یہ ہوتا ہے کہ آسمان و زمین کی خلقت میں غور کرتے ہیں پھر پکار اُٹھتے ہیں اے اللہ! یہ سب کچھ تو نے بلاشبہ بیکار و عبث نہیں پیدا کیا، یقیناًتیری ذات اس سے منزہ ہے کہ ایک بے کار کام اس سے صادر ہو، اے ہمارے رب! ہمیں عذابِ آتش سے بچا لے۔ اے ہمارے رب! جو ایسا ہو کہ تو اُسے دوزخ میں ڈالے تو بلاشبہ تو نے اُسے رسوائی میں ڈالا اور ظلم کرنے والوں کے لیے کوئی مددگار نہیں۔ اے ہمارے رب! ہم نے ایک منادی کرنے والے کی منادی سنی جو ایمان کی طرف بلا رہا تھا کہ لوگو! اپنے رب پر ایمان لاؤ، تو ہم ایمان لے آئے، پس اے ہمارے رب! ہمارے گناہ بخش دے، ہماری برائیاں مٹا دے اور ایسا کر کہ ہمارا انجام نیک کرداروں کے ساتھ ہو۔ اے ہمارے رب! ہمیں وہ سب کچھ عطا فرما جس کا تو نے اپنے رسولوں کی زبانی وعدہ فرمایا ہے، قیامت کے دن ہمیں ذلت نہ ہو، بلاشبہ تیرا وعدہ کبھی خلاف نہیں ہوتا۔ پس ایسی دعائیں کرنے والوں کی دعائیں اُن کے رب نے قبول کر لیں اور فرمایا کہ بلاشبہ میں کبھی کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کرتا مرد ہو یا عورت تم سب ایک دوسرے کی جنس ہو لہٰذا نتائج عمل کا قانون بھی سب کے لیے ایک جیسا ہے، پس جن لوگوں نے راہِ حق میں ہجرت کی، اپنے گھروں سے نکالے گئے میری راہ میں ستائے گئے اور پھر راہِ حق میں قتال کیا اور قتل ہوئے تو یقیناًایسا ہو گا کہ میں ان کی خطائیں محو کر دوں اورانہیں ابدی باغوں میں پہنچا دوں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں، یہ اللہ کی طرف سے ان کے نیک اعمال کا ثواب ہو گا اور اللہ ہی ہے جس کے پاس بہتر ثواب ہے۔‘‘ (۳:۱۹۰تا۱۹۵) مذکورہ ذمہ داریوں کا تجزیہ اوپر ذکر کی گئی ذمہ داریاں اللہ رب کریم کی طرف سے عائد کردہ ہیں اور ان میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے کہ: ۱۔اربابِ عقل و دانش کے لیے نشانیاں ہیں اور ظاہر ہے کہ ان اربابِ عقل و دانش میں جہاں مردوں کو خطاب ہے وہاں عورتوں کو بھی گویا عقل و دانش میں مرد و زن برابر کے شریک ہیں۔ ۲۔’’وہ لوگ اللہ رب کریم سے کسی حال میں بھی غافل نہیں ہوتے‘‘ اس میں بھی دونوں فریق برابر کے حصہ دار ہیں اور اس غور و فکر کرنے میں بھی جس غور و فکر کا اس جگہ ذکر فرمایا گیا ہے۔ ۳۔عذاب دوزخ سے پناہ طلب کرنے میں دونوں برابر ہیں۔ پکارنے والے کی پکار سننے میں بھی دونوں یکساں ایک جیسے شریک ہیں اور دونوں اس پکار کا جواب دینے میں بھی شامل ہیں پھر اس طرح کی دعائیں کرنے والوں کی جب دعائیں قبول و منظور کی جاتی ہیں تو واضح طور پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میں کبھی بھی کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کرتا وہ مرد ہو خواہ عورت ہو اس لیے کہ تم دونوں یعنی مرد و عورت ایک ہی جنس کی دو اصناف ہو، اسی طرح ہجرت و جہاد میں دونوں شریک ہیں اور دونوں کی خطائیں معاف کرنے کا ذکر غیر مبہم الفاظ میں موجود ہے اور دونوں ثواب کی مستحق گردانے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں مرد و عورت کے بندہ ہونے میں کوئی فرق نہیں۔ اوامر و نواہی میں یکسانیت قرآنِ کریم ایسے بیانات سے بھرا پڑا ہے جن بیانات میں یہ باور کرایا گیا ہے کہ مرد و عورت دونوں اوامرو نواہی میں برابر برابر مخاطب ہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت قولی، فعلی اور مالی سب میں برابر کے شریک ہیں اللہ کی توحید نماز ، روزہ، حج اور زکوٰۃ کے احکامات دونوں اصناف پر لازم و ضروری ہیں۔ اخلاق و کردار کے لحاظ سے دونوں میں کسی طرح کا کوئی فرق نہیں ہر ذمہ داری دونوں فریق کے لیے برابر ہے۔ نیک و بد عمل میں مرد اور عورت کی برابری ’’جو کوئی اچھے کام کرے گا خواہ مرد ہو یا عورت اور وہ ایمان بھی رکھتا ہو تو ایسے ہی لوگ ہیں جو جنت میں داخل ہوں گے اور رائی برابر بھی ان کے ساتھ بے انصافی ہونے والی نہیں۔‘‘ (۴:۱۲۴) ’’جس کسی نے اچھا کام کیا خواہ مرد ہو خواہ عورت اور وہ ایمان بھی رکھتا ہے تو ہم ضرور اُسے دنیا میں ا چھی زندگی دیں گے اور آخرت میں بھی ضرور اسے اجر دیں گے انہوں نے جیسے اچھے کام کیے ہیں اس کے مطابق ہمارا اجر بھی ہوگا۔‘‘ (۱۶:۹۷) ’’یاد رکھو جس نے برائی کی تو اُس کو اس برائی کے برابر بدلہ ملے گا اور جس نے نیک عمل کیا خواہ مرد ہو یا عورت اور وہ صاحب ایمان بھی ہوا تو وہ سب کے سب جنت میں داخل ہوں گے اور وہاں ان کو بے حساب رزق ملے گا جس کا انہیں سان و گمان بھی نہیں ہو گا۔‘‘ (۴۰:۴۰) ازالہ وہم مذکورہ آیات میں ’’صاحب ایمان‘‘ ہونا شرط ہے اس لیے سمجھ لینا چاہیے کہ ’’صاحب ایمان‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ عمل اچھا ہو یا برا اُس کے ساتھ نیت و ارادہ کا ہونا بھی لازم ہے کیونکہ عمل کا تعلق نیت و ارادہ کے ساتھ ہے سہو و خطا کے ساتھ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سہو و خطا کا ازالہ ہو سکتا ہے جیسے ممکن ہو لیکن جزاء و سزا نہیں۔ ایمان، یقین کا دوسرا نام ہے اور یقین بالارادہ ہوتا ہے، یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کے مخاطبین اول خاندان کے مرد اور عورتیں نبی اعظم و آخر ﷺ جب مبعوث ہوئے تو سب سے پہلے آپؐ کو حکم دیا گیا کہ اپنے عزیز و اقارب اور خاندان والوں کو مخاطب کرو اور اپنی حیثیت ان پر واضح کر دو اور اُن کو ایمان کی طرف دعوت دو۔ آپؐ کی اس دعوت کا ذکر بخاری میں اس طرح کیا گیا ہے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ’’وانذر عشیرتک الاقربینo (۲۶:۲۱۴) ’’اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈر سنا دو‘‘ تو آپؐ اُٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا ’’اے قریش خاندان کے لوگو! اپنی جانوں کو خریدو یعنی عذابِ الٰہی سے بچاؤ، میں تمہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا۔ بنی عبدمناف! میں تمہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا۔ عباس بن عبدالمطلب! میں تمہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا۔ صفیہ! رسول کی پھوپھی میں تمہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا۔ فاطمہ بنت محمد! جو مال چاہو مانگو، میں تمہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا۔‘‘ (بخاری حدیث ۲۷۵۳، ۴۷۷۱) معلوم ہوا کہ آپؐ کی دعوت بھی اللہ رب کریم کے حکم سے برابر خاندان کے مرد و زن سب کے لیے یکساں ایک جیسی تھی اندازِ تخاطب بھی سب کے لیے یکساں ایک جیسا تھا، جو بات عقل و فکر کا تقاضا ہو کہنے میں باک نہیں ہونا چاہیے۔ مذکورہ حدیث سے یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ آپؐ کی اس دعوت جو سورہ شعراء کے نزول کے بعد تصور کی جائے تو بھی اُس وقت فاطمہ الزہراء بلوغت کو پہنچ چکی تھیں کیونکہ ان کو براہِ راست مخاطب فرمایا گیا ہے اور یہ زمانہ چار یا پانچ نبوت کا ہو سکتا ہے جس کا مطلب صاف ہے کہ فاطمہ الزاہراء رضی اللہ عنہا دس بارہ سال قبل از نبوت پیدا ہوئیں اگر یہ بات قارئین کے حافظہ میں محفوظ رہی تو ان کو واقعات کے بیان کرنے میں بہت مدد دے سکتی ہے خصوصاً اُن لوگوں کو جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی منگنی چھ سال کی عمر میں اور رخصتی ۸ یا ۹ سال کی عمر میں ہونے پر اپنا سارا علمی زور ختم کر دیتے ہیں اور بخاری شریف کی ان روایات کو جن میں سیدہ کی اس عمر کا ذکر سیدہ رضی اللہ عنہا کی اپنی زبان سے بیان کیا گیا ہے جب کہ حقائق روزِ روشن کی طرح واضح کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی منگنی ۱۶ سال کی عمر میں اور رخصتی ۱۹ سال کی عمر میں ہوئی ہے اور بخاری کی ان تمام روایات میں دہائی کا ہندسہ حذف کیا گیا ہے جس کا رواج اُس وقت بھی تھا اور آج بھی بدستور اسی طرح قائم چلا آ رہا ہے نیز یہ بھی کہ اس کی مثالیں بخاری شریف میں دوسری جگہوں پر بھی موجود ہیں۔ چلتے چلتے ایک مثال بھی سن لیں تاکہ بوقت ضرورت کام آئے دنیائے اسلام کے تمام مسلمان خواہ کہاں کے رہنے والے ہوں یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ ’’لیلۃ القدر‘‘ جس رات کو کہا جاتا ہے وہ رمضان المبارک کے مہینہ میں ہوتی ہے اور رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں وہ شمار کی جاتی ہے یعنی اکیسویں، تیئیسویں، پچیسویں، ستائیسویں اور انتیسویں راتوں میں اور زیادہ زور دو آخری تاریخوں پر دیا جاتا ہے اور روایات میں پچیسویں رات کو شامل کر کے آخری عشرہ کی آخری تین طاق راتوں کا ذکر اکثر پایا جاتا ہے۔ لیکن بخاری شریف کی روایات میں ان آخری طاق راتوں کا ذکر اس طریقہ سے آیا ہے اور ان روایات میں فی نفسہٖ عشرہ آخری کا ذکر بھی موجود نہیں بلکہ عشرہ آخری کا ذکر دوسری روایات میں ہے جو ان روایات کے علاوہ ہیں۔ التمسوھا فی السبع والتسع والخمس (۴۹) فالتمسوھا فی التاسعۃ والسابعۃ والخامسۃ(۲۰۲۳) فالتمسوھا فی التاسعۃ والسابعۃ والخامسۃ۔ (۶۰۴۹) علمائے کرام کی طرف مراجعت کرنے کی ہدایت اپنی اپنی فکر کے علمائے کرام سے پوچھ لیں کہ اوپر درج شدہ الفاط کا کیا مطلب ہے وہ ان تمام مقامات پر ’’عشرین‘‘ کا ہندسہ محذوف مانتے ہیں یا نہیں؟ اگر اس جگہ ’’عشرین‘‘ کا ہندسہ محذوف ہے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے سلسلہ میں بھی ’’عشر‘‘ کا ہندسہ محذوف تسلیم کر لیں جب کہ بہت سی دوسری روایات اس کی موید بھی ہیں اور زیادہ بحث نہ کریں کیونکہ مسئلہ اس قدر حساس ہے کہ اس کا بار بار اور مختلف دلائل سے تجزیہ کرنا مفید مطلب نہیں ہو گا اور مخالفین اسلام جو ان روایات کے سلسلہ میں اسلام کا منہ سیاہ کر کے دکھاتے نظر آتے ہیں وہ بھی دم بخود ہو کر رہ جائیں گے اور اس طرح ان شاء اللہ وہ ہرزہ سرائی سے باز آئیں گے جس کا ذمہ اُنہوں نے مدت سے اُٹھایا ہے اور ان کے مقابلہ میں علمائے اسلام تاویلیں کر کے تھک گئے ہیں اور ان تاویلوں کے باعث اُنہوں نے اسلام کے روشن چہرہ کو مخالفین کے جوابات میں مزید داغدار کر دیا ہے۔ الامان والحفیظ روایات بیان کرنے میں عورت کا کردار بات عورت کے مقام کی ہو رہی ہے کہ اسلام کی ہدایات اس سلسلہ میں کیا ہیں؟ اور اسلام ایک کھلی کتاب ہے کتاب و سنت میں کوئی ایسی بات نہیں جو اسلام نے واضح نہ کی ہو مزید یہ کہ بعض باتیں اتفاقی بھی ہوتی ہیں اور یہ اتفاق بھی بلاوجہ نہیں ہوتے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ روایات جس طرح مردوں نے بیان کی ہیں عورتوں نے بھی کی ہیں بنیادی طور پر براہِ راست آپؐ سے سن کر جس طرح صحابہ کرام نے بیان کیاہے صحابیات نے بھی بیان کیا ہے۔ بعد میں ان روایان حدیث پر جب بحث کی گئی ہے اور بہت سے مردوں کی روایات کو ان کے حالات کے باعث ترک کیا گیا ہے اور ان کی کمزوریاں گنائی گئی ہیں کم از کم میں نے کسی بھی عورت پر اس طرح کی بحث نہیں دیکھی کہ کسی عورت نے احادیث کے متعلق کوئی جھوٹ بولا ہو اور نہ کسی عورت کی روایت اس لیے مسترد کی گئی ہے کہ اس کو بیان کرنے والی ایک عورت ہے بلکہ روایات کو دیکھنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صحابیات نے بہت سے صحابہ کی باتوں کو سن کر ان کا علمی و عقلی طور پر رد کیا ہے اور کسی شارح نے اس پر نکیر بھی نہیں کی یہ اتفاق محض اتفاق ہی ہے یا اس کا باعث کوئی اور چیز بھی ہے اس کی وضاحت علمائے کرام ہی کر سکتے ہیں اور خصوصاً وہ جو اس فن کے ماسٹر ہیں اس جگہ اس سلسلہ میں چند ایک مثالیں عرض کی جاتی ہیں جن کا بغائر مطالعہ کرنا قارئین کے لیے ضروری ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت عمرؓ اور ابن عمرؓ کی رائے کو رد کرتی ہیں محمد المنتشر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا اور ان کے سامنے ابن عمرؓ یعنی عبداللہ بن عمرؓ کا یہ قول بیان کیا کہ وہ کہتے ہیں ’’میں پسند نہیں کرتاکہ اس حالت میں احرام کی نیت کروں جب مجھ سے خوشبو مہک رہی ہو (بخاری حدیث ۲۶۷) اور مسلم میں ہے کہ عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ ’’میں اپنے اوپر تار کول مل لوں، یہ بہتر ہے اس سے کہ میں خوشبو لگاؤں‘‘ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی پھر آپؐ ازواجِ مطہرات کے پاس سے ہو کر آئے اور احرام باندھ لیا (مسلم کتاب الحج باب الطیب للمحرم عنہ الاحرام ج۴ ص۱۲) اس روایت کو بیان کر کے فتح الباری میں جو اس پر بحث کی گئی ہے وہ بھی قابل دید ہے کیونکہ اُنہوں نے بحث کر کے یہ بات واضح کر دی ہے کہ مردوں میں سے خاص مرد یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی رائے کو سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے باپ اور دادا کی رائے کو رد کرتے تھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اوپر بیان کردہ روایت کے مطابق عمل کرنا پسند کرتے ہیں۔ سیدہ عائشہؓ اور سیدہ ام سلمہؓ ابوہریرہؓ اور فضل بن عباسؓ کی رائے کو رد کرتی ہیں ابوبکر بن عبدالرحمن بن الحارث سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ’’میں نے ابوہریرہؓ کو کہتے ہوئے سنا وہ اپنی روایات کے ضمن میں بیان کر رہے تھے کہ جب کوئی شخص حالت جنابت میں ہو اور اس پر فجر کا وقت داخل ہو جائے تو وہ روزہ نہ رکھے تو میں نے اپنے والد کے سامنے اس روایت کا تذکرہ کیا۔ ان کو یہ بات نئی لگی تو وہ حضرت عائشہؓ اور حضرت سلمہؓ کے پاس تشریف لے گئے جب کہ میں بھی ان کے ساتھ گیا والد گرامی نے ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا تو دونوں نے کہا آپؐ صبح کے وقت بعض اوقات حالت جنابت میں ہوتے اور جنابت بھی احتلام کے باعث نہ ہوتی پھر آپؐ روزہ رکھتے اور بعد میں غسل فرماتے۔ یہ بات دریافت کر کے ہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے جب ان کو بتایا تو اُنہوں نے کہا کیا ان دونوں نے یہ بات کہی ہے تو ہم نے کہا کہ جی ہاں! ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ دونوں بہتر جانتی ہیں بعد ازیں ابوہریرہ کہتے تھے کہ میں نے یہ بات فضل بن عباسؓ سے سنی تھی آپؐ سے براہ راست نہیں سنی تھی اس طرح گویا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے پہلے بیان سے رجوع کر لیا (بخاری حدیث ۱۹۲۵، ۱۹۲۶، ۱۹۳۰،۱۹۳۲) سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے عبداللہ بن عباسؓ کی رائے کو رد کر دیا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ زیاد بن ابوسفیان نے ان کو لکھا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو شخص ہدی یعنی حج کی قربانی کا جانور بھیجے تو اس جانور کے ذبح ہونے تک اس پر وہ چیزیں حرام ہو جاتی ہیں جو حاجی پر حرام ہوتی ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ایسا نہیں ہے کیونکہ میں نے اپنے ہاتھوں سے آپؐ کے قربانی کے جانوروں کے گلے میں لٹکائی جانے والی رسی بنائی اور آپؐ نے اپنے ہاتھوں سے اس رسی کو جانوروں کے گلے میں باندھا اور ان جانوروں کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھیج دیا تو ان جانوروں کی قربانی تک آپؐ پر کوئی ایسی چیز حرام نہ ہوئی یعنی آپؐ نے کوئی چیز ترک نہ کی جس کو اللہ نے حلال کیا ہے۔ (بخاری ۱۶۹۶،۱۶۹۸، ۱۶۹۹، ۱۷۰۰، ۱۷۰۱،۱۷۰۲،۱۷۰۳، ۱۷۰۴،۱۷۰۵، ۲۳۱۷، ۵۵۶۶) روایات کو مثلہ معہ کہہ کر قرآنِ کریم کے ساتھ نہیں ملایا جا سکتا مذکورہ روایات سے جہاں عورت کے مقام کی وضاحت ہوتی ہے وہاں یہ بات بھی معلوم ہو جاتی ہے کہ روایات کو ’’مثلہ معہ‘‘ سمجھنا یعنی قرآنِ کریم کی مثل قرار دینے کا نظریہ بھی صحیح نہیں کیونکہ روایات میں صحابہ کرامؓ کے اپنے اقوال و نظریات اور تفہیمات بھی پائی جاتی ہیں جب کہ قرآنِ کریم میں کسی انسان کے قول کی ہرگز ہرگز ذرا بھر بھی مداخلت نہیں یہاں تک نبی اعظم و آخر ﷺ کے اپنے فرمانات کی کتاب اللہ میں مداخلت نہ تھی آپؐ کا ذاتی کلام بہرحال مخلوق کا کلام ہے اور کتاب اللہ خالق کا کلام ہے اس میں جو کچھ مخلوق کی طرف سے آیا ہے وہ کتاب اللہ کی سند کے ساتھ اپنے لیے وہ سند رکھتا ہے جس میں شک و شبہ کا کوئی امکان نہیں کہ اس کو کوئی اپنے کلام سے رد کر سکے خواہ وہ کون ہو اور کہاں ہو۔ جس طرح آپ نے اوپر دیکھا ہے کہ ایک شخص دوسرے کے نظریہ کو رد کر رہا ہے حالانکہ ان سب کو روایات ہی میں شامل سمجھا جاتا ہے۔ تعلیم و تعلم میں عورتوں اور مردوں کی شراکت اور برابری تعلیم و تعلم کے سلسلہ میں جو شخص بھی تعلیم دے سکتا ہے وہ مرد ہے یا عورت اُس کے لیے ضروری ہے کہ وہ سب کو تعلیم دے اور تعلیم کا لفظ ہر طرح کی تعلیم پر استعمال ہوتا ہے فقط کتاب و سنت کی تعلیم یعنی دین کی تعلیم کو ہی تعلیم نہیں کہا جاتا خود نبی کریم ﷺ جس طرح مردوں کی تعلیم فرماتے تھے اور عورتوں کی بھی اسی طرح تعلیم کرتے تھے وعظ و نصیحت بھی دونوں اصناف کو ایک جیسا ہوتا تھا صدقہ و خیرات کا ارشاد بھی سب کو یکساں فرمایا جاتا تھا۔ عورت پر یہ پابندی ہرگز نہ تھی کہ وہ اگر صدقہ و خیرات کرنا چاہے تو پہلے خاوند سے اجازت لے جس طرح مردوں کی ملکیت تھی بالکل اسی طرح عورتوں کی بھی ملکیت تھی جس طرح مرد اپنے مال میں اپنی مرضی سے تصرف کرتے ہیں عورتوں کو بھی حق ہے کہ وہ اپنے مال میں اپنی مرضی سے تصرف کریں جس طرح تمام کے تمام مردوں میں مال کمانے کی صلاحیت موجود ہے عورتوں میں بھی موجود ہے ان کو مال کمانے سے روکا نہیں جا سکتا جس طرح مرد اپنے والدین کی میراث پاتے ہیں اسی طرح بقدر حصہ عورتوں کا بھی اپنے ماں باپ کی وراثت میں حق موجود ہے۔ جس طرح مرد اپنی بیوی کے مال میں اُس کی وفات کے بعد حصہ دار ہے بالکل اسی طرح عورت بھی اپنے خاوند کے مال میں اپنا مقرر حصہ رکھتی ہے جب اُس کا خاوند وفات پا جائے۔ کفر کی سرزمین سے مردوں اور عورتوں کی ہجرت میں برابری قرآنِ کریم میں جب ہجرت کا حکم نازل ہوا تو جہاں مردوں کے لیے ہجرت لازم تھی عورتوں کے لیے بھی تھی۔ یہ ضروری نہیں تھا کہ جن عورتوں کے محرم لوگ ہجرت کریں وہ اپنے محرم مردوں کے ساتھ ہجرت کر سکتی ہیں ہرگز نہیں قرآنِ کریم سب مردوں اور سب عورتوں کے لیے یکساں ایک جیسا حکم دیتا ہے اور اُنہوں نے اس حکم کے مطابق ہجرت کی۔ قرآنِ کریم میں ہجرت کے معاملہ میں مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ احکام نہیں جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ: ’’جو لوگ اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کر رہے ہیں ان کی روح قبض کرتے وقت فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ تم کس حال میں تھے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم کیا کرتے؟ ہم ملک میں کمزور اور بے بس تھے، اس پر فرشتے کہیں گے کیا اللہ کی زمین وسیع نہ تھی کہ کسی دوسری جگہ ہجرت کر کے چلے جاتے؟ غرض کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہوا، اور دوزخ کیا ہی بری جگہ ہے۔ مگر ہاں! جو مرد، عورتیں اوربچے ایسے مجبور اور بے بس ہوں کہ کوئی چارہ کار نہ رکھتے ہوں اور کوئی راہ نہ پاتے ہوں۔ تو امید ہے کہ اللہ اپنے علم کے باعث انہیں معاف فرما دے، اللہ معاف کر دینے والا اور بخش دینے والاہے۔‘‘ (۴:۹۷ تا۹۹) عورتیں مردوں کے بغیر بھی ہجرت کر کے آ سکتی ہوں تو آنے کا حکم موجود ہے ہجرت نبوی کے بعد مدینہ منورہ دارالاسلام ہو گیا اور مکہ کو دارالکفر قرار دیا گیا کیونکہ اُس وقت مکہ جس کا پہلا نام ’’بکہ‘‘ تھا وہ کافروں کے پاس تھا اور حکم یہ ہوا کہ وہاں سے لوگ ہجرت کرکے مدینہ منورہ کی طرف آ جائیں جیسے آپؐ اور آپؐ کے ساتھ بہت سے لوگ بھی ہجرت کر کے آ چکے تھے یہ حکم جس طرح مسلمان مردوں کے لیے تھا بالکل اسی طرح مسلمان عورتوں کے لیے بھی تھا۔ قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا گیا کہ اگر عورتیں ہجرت کر کے آ جائیں تو اُن کی آزمائش کر لو کہ وہ واقعۃً مسلمان ہو کر آئی ہیں یا مسلمان ہونے کے لیے آئی ہیں تو ان کو کافروں کی طرف مت جانے دو چاہے وہ ان کی عزیز رشتہ دار ہوں اور انکا کتنا ہی قریبی رشتہ ان کے ساتھ کیوں نہ ہو اس لیے کہ اسلام کا رشتہ تمام دوسرے رشتوں پر فوقیت رکھتا ہے چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ: ’’اے ایمان والو! جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو اُن کو جانچ لیا کرو، اللہ ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے پھر اگر تم کو ان کے ایمان کا یقین ہو جائے تو انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو کہ یہ عورتیں نہ ان کفار کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ کافر ان عورتوں کے لیے حلال ہیں۔‘‘ (۶۰:۱۰) علمائے کرام غور کریں کہ اس سے استدلال ہو سکتا ہے یا نہیں؟ جب مسلمان عورتوں کا ایک گروہ تشکیل پا جائے جس سے دو سے زیادہ عورتیں جمع ہو جائیں تو وہ بغیر کسی محرم کے سفر کر سکتی ہیں یا نہیں؟ اور اسی طرح یہ بھی کہ اگر کسی ایک یا دو عورتوں کے محرم بھی ساتھ ہوں تو دوسری عورتیں ان محرم والی عورتوں کے ساتھ مل کر کہیں آ جا سکتی ہیں یا نہیں؟ اگر مجھ سے پوچھا جائے تو میں برملا کہوں گا کہ دونوں صورتوں میں عورتیں سفر پر آ جا سکتی ہیں اس لیے جو خطرات کسی اکیلی عورت کو ہوتے ہیں یہ عورتیں ان خطرات سے محفوظ ہو جاتی ہیں اور آپؐ کے زمانہ اقدس میں عورتیں اس طرح کا سفر خصوصاً ہجرت کے سلسلہ میں جو اسلام کا کام ہے عورتیں ان دونوں طرح کے سفر میں شریک رہی ہیں۔ آپ پہلی ہجرت کے سفر پر بھی غور کریں اور دوسری ہجرت جو مدینہ کی طرف ہوئی اس پر بھی۔ شاہ حبشہ نے آپؐ کا نکاح کرنے کے بعد آپؐ کی زوجہ مطہرہ کو مدینہ بھیجنے کے سفرپر بھی غور کریں اور ہجرت مدینہ کے بعد مدینہ سے جن لوگوں کو خود آپؐ نے بنفس نفیس مکہ کو روانہ کیا اور آپؐ کے یارِ غار ابوبکر صدیق نے بھی جن آدمیوں کو مکہ روانہ کیا کہ ان کے اہل و عیال کو وہاں سے لایا جائے خصوصاً سیدہ زینب کے سفر پر غور کریں جو بدر کے بعد مکہ سے ہجرت کر کے آئیں باوجود اس کے کہ وہ کافروں سے زخم خوردہ بھی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرنے میں عورتوں کی مردوں سے برابری نبی اعظم و آخر ﷺ سے فرمایا گیا ہے کہ جب مومن عورتیں آپؐ کے پاس بیعت کے لیے آئیں تو ان سے بیعت لے لو اس لیے کہ بیعت محض وعدہ ہے اور ظاہر ہے کہ جس سے بھی کسی بات کا وعدہ کیاجائے اُس کا حق ہے کہ وہ وعدہ کرنے والے سے وعدہ میں کوتاہی ہونے میں اُس کو آگاہ کرتا رہے اور جس نے وعدہ کیا ہے وہ وعدہ ایفاء کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے چنانچہ قرآنِ کریم میں عورتوں کی بیعت کا اس طرح ارشاد فرمایا گیا ہے کہ: ’’اے نبی ﷺ! جب مسلمان عورتیں اس لیے آپؐ کے پاس آئیں کہ ان باتوں پر بیعت کریں کہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائیں گی اور نہ چوری کریں گی، نہ بدکاری کریں گی اور نہ اپنی اولادوں کو قتل کریں گی اور نہ اپنے ہاتھ پاؤں سے کسی پر کوئی بہتان باندھیں گی اور نہ ہی شریعت کے کاموں میں آپؐ کی نافرمانی کریں گی، تو آپؐ ان سے بیعت لے لیں اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کریں، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا، بہت ہی پیار کرنے والا ہے۔‘‘ (۶۰:۱۲) دنیا کے مصائب میں ہمیشہ عورتیں مردوں کے ساتھ رہیں یہ جملہ زبان زدِ خاص و عام ہے کہ دنیا دُکھوں کا گھر ہے۔ جہاں دنیا کی خاطر لوگوں نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور تنگ کرنے کی کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی وہاں محض دین کی خاطر بھی مردوں اور عورتوں کو محض اُن کے دین کے باعث ان کو تنگ کیا گیا، یہاں تک کہ ان کو قتل کیا گیا اور زندہ آگ میں پھینک دیا گیا وہ آگ میں جل مرے لیکن دین اسلام سے انحراف نہیں کیا۔ خیال رہے کہ دین اسلام ، انسانیت کے شروع سے اُس کے ساتھ آ رہا ہے اور تمام اقوامِ عالم کے نیک سیرت اور نیک کردار لوگ مسلمان تھے، ہیں اور رہیں گے، ان شاء اللہ۔ اسلام اچھے کردار ، اچھے اخلاق کا نام ہے، اچھی بات کہیں سے بھی ملے وہ اسلام کی ہے اور بری بات جہاں کہیں بھی ہو وہ کفر کی ہے۔ مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ اچھے اخلاق اور اچھے کردار کا مظاہرہ کرے صرف قول و قرار سے نہیں بلکہ عمل سے بھی۔ بات مصائب و مشکلات کے برداشت کرنے کی تھی اور عرض کیا جا رہا تھا کہ دین کے معاملہ میں مصائب و مشکلات برداشت کرنے میں عورتوں نے بھی مردوں کے ساتھ برابر حصہ لیا جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے کہ: ’’خندقوں والے ہلاک ہو گئے یعنی آگ کی خندقیں جن میں ایندھن تھا جب کہ وہ ان کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے اور جو سختیاں اہل ایمان کے ساتھ کر رہے تھے ان کو یہی بات مومنوں کی بری لگتی تھی کہ وہ اللہ پر ایمان لائے ہوئے تھے جو غالب و ستائش والا ہے وہی ہے جس کی آسمانوں اور زمین میں بادشاہت ہے اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔ بلاشبہ جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو اذیت پہنچائی پھر توبہ نہ کہ اور اسی حالت میں مر گئے تو اُن کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور اسی طرح جلنے کا عذاب بھی ہو گا۔‘‘ (۸۵:۵ تا۱۰) امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں مردوں کی برابری مومن ومسلم مردوں کا مومن و مسلم عورتوں کے پاس آنا جانا دین اسلام کی باتیں ایک دوسرے سے پوچھنا ایک دوسرے کے ہاں کھانا ، پینا، بیٹھنا اُٹھنا، اسلامی حدود کے اندر رہتے ہوئے سب جائز اور درست ہے خصوصاً دوست و احباب کے ہاں یہ تمام کام معمول کے مطابق سر انجام دینا سب جائز اور درست ہے اور اس طرح کی روایات بھی کثرت سے کتب روایات میں موجود ہیں اور قرآنِ کریم میں بھی جہاں عزیز و اقارب کے ہاں کھانے پینے کے احکامات بیان ہوئے ہیں وہاں دوست و احباب کے ہاں بھی بالکل اسی طرح کے احکامات موجود ہیں، معلوم نہیں کہ اتنی تنگ دلی کہاں سے آئی جس نے مسلمانوں کی زندگیوں کو اجیرن بنانے کے ساتھ ساتھ مخالفین اسلام کے لیے بھی بے شمار مواد فراہم کیا جس کی چِڑ میں اُنہوں نے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ اپنا اخلاقی نقصان کرنے میں بھی کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی اور اس طرح جو کچھ ہوا محض ضد کے باعث ہوا۔ قرآنِ کریم میں اس سلسلہ میں واضح ارشاد ہے کہ: ’’اور جو مرد اور عورتیں مومن ہیں تو وہ سب ایک دوسرے کے کارساز و روفیق ہیں نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اللہ اور اُس کے رسول (ﷺ) کی اطاعت کرتے ہیں، سو یہی لوگ ہیں جن پر عنقریب اللہ رحمت فرمائے گا یقیناًاللہ سب پر غالب آنے والا حکمت والا ہے۔‘‘ (۹:۷۱) قرآنِ کریم نے خبیث مردوں اور خبیث عورتوں کا الگ ذکر کیا ہے قرآنِ کریم میں جہاں مومن مردوں اور مومن عورتوں کا ذکر ہے وہاں خبیث مردوں اور خبیث عورتوں کا ذکر بھی پوری وضاحت سے فرمایا ہے پھر ان کے مقابلہ میں پاکیزہ خیالات مردوں اور پاکیزہ خیالات عورتوں کا ذکر فرما کر واضح فرما دیا ہے کہ فریقین میں ناپاک، ناپاک کے ساتھ اور پاکیزہ، پاکیزہ کے ساتھ ہوتے ہیں اور پاکیزہ اور ناپاکیزہ کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں اور ظاہر ہے کہ یہ پاکیزہ اور ناپاکیزہ کا تعلق اخلاق و کردار ہی کے ساتھ ہے جن مردوں اور عورتوں کے اخلاق و کردار پاکیزہ ہیں ان کو ان مردوں اور عورتوں کے ساتھ نہیں ملایا جا سکتا جن کے اخلاق و کردار ناپاک اور گندے ہیں۔ اور اس جگہ ان الفاظ سے مراد باتیں لی جائیں جیسا کہ اکثر مترجمین نے لی ہے تو بھی بات بدستور اسی طرح رہتی ہے۔ پھر پاک اور ناپاک کو کیسے ملا دیا گیا اور ان سب کو یکساں ایک جیسا کیسے تصور کر لیا گیا؟ برے اخلاق و کردار کے لوگوں کو اچھے اخلاق و کردار کے لوگوں کے ساتھ کیسے ملا دیا گیا اور ہر عورت کو مرغی ، چوزا اور ہر مرد کو پلا یا بلا کیوں تصور کر لیا گیا؟ اس پر افسوس نہ کیا جائے تو اور کیا کیا جائے؟ چنانچہ قرآنِ کریم میں ہے کہ: ’’ناپاک باتیں ناپاک لوگوں کا کام ہے اور ناپاک لوگ ہمیشہ ناپاک باتیں ہی کیا کرتے ہیں اور پاکیزہ باتیں پاکیزہ لوگ کرتے ہیں اور پاکیزہ لوگ ہمیشہ پاکیزہ باتیں ہی کیا کرتے ہیں۔ یہ سب لوگ یعنی مومن مرد ہوں یا عورتیں ایسی باتوں سے مبرا ہیں جو وہ لوگ کہتے ہیں، ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی بخشش اور عزت کی روزی ہے۔‘‘ (۲۴:۲۶) |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
التجا ان بزرگوں کے سامنے جو پردہ کے متعلق تشدد سے کام لیتے ہیں
عورتوں کے ہاتھوں، پاؤں اور چہروں کو کھلا رکھنے سے روکنے والوں سے درخواست ہے کہ وہ ایسی باتیں کرتے وقت اس کا خیال بھی رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قریب کے رشتوں کے ساتھ مل جل کر کھانے پینے اور ایک دوسرے کے ہاں آنے جانے کے آداب کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے آنے جانے کی جو اجازت دی ہے وہ بھی قرآنِ کریم میں واضح ہے اور خبیث لوگوں اور طیب لوگوں میں بھی تمیز کریں سب کو ایک ہی لاٹھی سے نہ ہانکنے لگیں بلکہ اسلامی معاشرہ کی صحیح اور درست تصویر لوگوں کے سامنے لائیں تاکہ لوگوں کے درمیان الفت و محبت پیدا ہو اور ان کو دنیوی زندگی کی زیادہ سے زیادہ آسانیاں میسر آئیں ان کو تنگیوں اور تکلیفوں میں مبتلا کرنے کی سعی کو ترک کر دیں خود نیک و بد میں تمیز کریں اور لوگوں کو نیک و بد میں تمیز کرنا سکھائیں جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ: رہنے سہنے کے لحاظ سے لوگوں کی آپس میں مختلف حیثیتیں قرآن کی نظر میں ’’نہ اندھے کے لیے کوئی حرج ہے نہ لنگڑے کے لیے کوئی مضائقہ ہے اور نہ بیمار کے لیے کوئی گناہ اور نہ خود تم پر کہ اپنے گھروں سے کھانا کھاؤ یا اپنے باپ دادوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا جن کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے، تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم آپس میں مل کر کھانا کھاؤ یا الگ الگ، غرض جب تم اپنے گھروں میں بھی داخل ہوا کرو تو ایک دوسرے کو سلام کہہ لیا کرو، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے، اس طرح اللہ اپنی آیتیں صاف اور واضح طور پر تم سے بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھو۔‘‘ (۲۴:۶۱) قرآنی آیات کے ساتھ ہمارے بزرگوں نے کیا کیا؟ قرآنِ کریم کی کوئی آیت ہو پہلے تو ہمارے مفسرین بزرگ یہ تحقیق کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ اس آیت کا شانِ نزول کیا ہے اور یہ بحث اتنی بڑھتی ہے کہ ایک ایک آیت کے بیسیوں شانِ نزول تک تحریر کر دیتے ہیں پھر ایک کو دوسرے پر ترجیح کا لا متناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور اس کو پڑھتے پڑھتے اصل موضوع سے دور نکل جاتے ہیں پھر ان آیات سے مسائل نکالنا شروع کر دیتے ہیں اور جب ان مسائل میں الجھتے ہیں تو آیت کے واضح مفہوم کے بالکل خلاف تک پہنچ جاتے ہیں اور یہی کچھ اس آیت کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ اس آیت کے مختلف حصوں میں تقسیم کرنے سے بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے دیکھنا مطلوب ہو تو کسی تفسیر کو اُٹھا کر دیکھیں۔ معذوروں کے ساتھ حسن سلوک کہ وہ اس کے مستحق ہیں 1۔’’اندھے سے مریض‘‘ تک آیت کے حصہ میں یہ بات باور کرائی گئی ہے کہ یہ معذور لوگ ہیں جو کھانے کمانے کے قابل نہیں ہیں لیکن حوائج و ضروریات ان کے ساتھ بھی ہیں ان سے نفرت نہ کرو بلکہ تمہارا سب مسلمانوں کا حق ہے کہ وہ ان کو پیار و محبت کے ساتھ ان کو کھانے میں شریک کریں اور شرکت کے مطلب سے یہ لازم نہیں کہ ضرور ساتھ بٹھا کر کھائیں بلکہ ان کے کھانے پینے کا انتظام کریں اور اس میں مذہب و ملت کا لحاظ بھی ضروری نہیں کیونکہ کھانے پینے کی حاجت سب کے لیے یکساں ہے۔ کھانے پینے میں اپنے گھروں تک محدود رہنا 2۔’’اپنے گھروں سے کھانا کھانے‘‘ کا مطلب بھی بالکل واضح ہے کہ اگر کوئی صرف اور صرف اپنے گھر تک محدود رہ کر کھانا پسند کرتا ہے اور اُس کو ایسے حالات بھی میسر ہیں کہ کسی دوسرے کے ہاں کھانے کی اس کو عام طور پر ضرورت نہیں تو وہ اس میں آزاد ہے گویا وہ دوسروں کو کھلاکر خوش ہے اور دوسروں کے ہاں کھانے کی اُس کو ضرورت نہیں تو اُس کو مجبور بھی نہیں کیا جا سکتا خصوصاً جب کہ اس میں نخوت و تکبر کی کوئی بات نہ ہو۔ قرآنِ کریم میں بیان کردہ عزیز و اقارب سے قرب کی علامت 3۔’’اپنے باپوں کے گھروں سے لے کر اپنی خالاؤں کے گھروں تک‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اس کے درمیان جتنے عزیز رشتہ داروں کا ذکر آیا ہے ان سب کے ہاں ان کی اجازت سے آنے جانے اور کھانے پینے کی بھی کوئی ممانعت نہیں کیونکہ یہ تمام رشتہ دار ایسے ہیں جیسے یہ سب گھر تمہارے اپنے گھر ہیں اور تم سب ایک ہی گھر کے افراد ہو جس طرح وہ آپ کے رشتہ دار ہیں اسی طرح تم بھی ان کے رشتہ دار ہو پھر اتنے قریب کے رشتہ داروں کے گھروں میں آنے جانے اور ان کے ہاں کھانے پینے کی نفرت چہ معنی دارد؟ تم ایک دوسرے کو اہتمام کے ساتھ بلاؤ تو بڑی خوشی سے اور اتفاقاً آنا جانا ہو گیا ہے اور دِلوں میں وسعت کے باعث تم سب ایک ہی جگہ بیٹھ کر کھانے میں سہولت سمجھتے ہو تو ایک جگہ بیٹھ کر کھاؤ، اگر الگ الگ مرد اور عورتیں سہولت سمجھتے ہو تو الگ الگ جیسے تم خوش ہو تمہارا اللہ راضی ہے۔ یہ قدرت کا نظام ہے جب تم ایک جگہ ایک دسترخوان پر کھاتے رہے ہو اب اگر تمہارے گھر الگ الگ ہو گئے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم اب وہ نہیں رہے بالکل نہیں تم وہی ہو جس طرح تم پہلے ہنسی خوشی ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر کھاتے پیتے رہے ہو اب بھی بالکل اسی طرح بلکہ اپنی اپنی اولادوں کو ساتھ بٹھا کر کھاؤ پیو تاکہ تمہاری اپنایت میں اجنبیت نہ داخل ہو جائے اور تم سب اتنے قریب کے رشتہ دار ہونے کے باوجود آپس میں نفرت نہ کرنے لگ جاؤ۔ عین ممکن ہے کہ تم سب کی مالی اور جسمانی حالت یکساں ایک جیسی نہ رہے اگر حالات نے اس طرح کا کچھ فرق کر دیا ہے تو جہاں تک ممکن ہو اس فرق کو مٹانے کی کوشش میں مصروف ہو اور یاد رکھو کہ عزیز داری کے مقابلہ میں مال ودولت کی کوئی حیثیت نہیں۔ اعتماد کرنے والوں سے تعلقات آمد و رفت و خورد و نوش 4۔’’جن کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہیں‘‘ اس کی کئی ایک صورتیں ہو سکتی ہیں مثلا اپنے عزیزوں، ہمسائیوں اور دلی تعلق رکھنے والوں کے درمیان ایسا ہوتا ہے کہ ایک گھر کے رہنے والے کہیں گئے اور جاتی دفعہ اپنے گھر کی چابیاں ان ہی سے کسی کو دے کر چلے گئے تاکہ کوئی ضرورت کی چیز لینے دینے کی ضرورت پڑے تو وہ لے لیں۔ یا مثلاً گھر سے عورت چلی گئی ہے اور مرد اپنے کام کاج میں مصروف گھر سے دور چلا گیا ہے تو جب واپس گھر میں آئے تو اپنے مکان کی چاپی لے لے تم کو معلوم ہو جائے گا تو اس کے کھانے پینے کا سامان آپ اس کے ہاں پہنچا دیں گے جس سے فریقین کو آسانی ہو گی۔ اس کی ہدایت کے مطابق آپ اُس کے گھر سے کھانے پینے کا سامان نکال کر اُس کے لیے کھانا تیار کر دیں گے وغیرہ وغیرہ گویا ایک دوسرے پر اس قدر انحصار رکھنا اور ایک دوسرے پر اعتماد کرنا یہ تمام باتیں وہ ہیں جن کی اسلام میں بہت اہمیت ہے کیونکہ انسان ایک دوسرے کے دُکھ سُکھ میں شریک ہو سکتا ہے اور ایک دوسرے کی ضروریات میں ایک دوسرے کو مدد دے سکتا ہے اس طرح خاندانی اجنبیت ہونے کے باوجود اجنبیت ختم ہو جاتی ہے اپنائیت فروغ پاتی ہے۔ دوست و احباب کے ساتھ تعلقات خوردونوش 5۔’’اپنے دوستوں اور یاروں کے گھروں سے بھی‘‘ دوستی وہ چیز ہے کہ اگر یہ حقیقی ہو تو عزیز و اقارب کو بھی بہت پیچھے چھوڑ دیتی ہے اسلام نے جن لوگوں کے درمیان بھائی چارہ اور مساوات قائم کیا تھا وہ اس بھائی چارہ کے باعث اتنے قریب ہو گئے اس قرب کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی چیز بھی ان کو الگ نہ کر سکی اور اس دوستی نے اونچ نیچ کی ساری باتیں ختم کر کے رکھ دیں۔ وہ ایک دوست کی عدم موجودگی میں بھی اُس کے گھر میں اُس کی بیوی کی اجازت سے داخل ہو جاتے اور اُس کی بیوی بھی اجازت دینے میں کچھ عار نہ سمجھتی روایات میں کتنے واقعات اس طرح کے آتے ہیں کہ لوگ اپنے دوستوں اور یاروں کو اتنی اہمیت دیتے تھے کہ کوئی ان کی دوستی کو دیکھ کر یہ مان ہی نہیں سکتا تھا کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی یا غیر ہیں سب یہی سمجھتے تھے کہ یہ بھائی بھائی ہیں یا باپ بیٹا ہیں۔ اگرچہ روایت صحیح نہیں تاہم اس کا مفہوم جو سمجھ میں آتا ہے افسوس کہ ہمارے ان مصنوعی پردہ کے داعیوں نے ایک دوسرے کے حقیقی بھائیوں کو بھی محض شادی ہونے کے باعث ایک دوسرے سے اجنبی کر دیا اور اس اجنبیت کو دین اسلام کا کام سمجھا افسوس کہ ان عقل و فکر کے اندھوں نے جہالت کا نام علم اور علم کا نام جہالت رکھ دیا لیکن اپنی ضد سے باز نہ آئے اور ’’دیور کو موت‘‘ کہنے والوں نے اپنی بے عقلی اور بے وقوفی کے باعث لوگوں کی زندگی کو اتنا اجیرن بنا دیا کہ اس کو دیکھ کر انسان کی زبان پر اناللہ وانا الیہ راجعون کے سوا کچھ نہیں آتا۔ ’’الحمو موت‘‘ والی روایت اگرچہ پختہ نہیں تاہم اس کا مفہوم اپنی جگہ بالکل واضح ہے کہ جس طرح موت ہر انسان کے ساتھ ہے بالکل اسی طرح بھائیوں کا تعلق بھی ہے کیا کسی کو موت سے مفر ہے گویا موت ہر جاندار کے ساتھ ہے اور اسی طرح انسان کی رشتہ داریاں بھی انسان کے ساتھ ہیں ایک نیا رشتہ قائم ہونے سے جس کی نوعیت اپنی ہے اصلی اور حقیقی رشتہ کو تو انسان سے الگ نہیں کیا جا سکتا کیا ایک بھائی کی شادی ہونے کے باعث دوسرے بھائی کو گھر سے نکال دیا جائے گا؟ ہرگز نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس نئے رشتہ کی نوعیت بالکل ایسی ہے جیسے بھائی اور بہن کی ہوتی ہے۔ عورت خواہ کہاں سے آئی ہے جب ایک بھائی کی بیوی ہے تو دوسرے کے لیے وہ بہن یا ماں کے درجہ پر ہے وہ اجنبیت جو تھی وہ بھائی کی وجہ سے ختم ہو گئی اور بھائی کی بیوی ہونے کی وجہ سے وہ دوسرے بھائی کے لیے حرام بھی ٹھہری جیسے کوئی بھی شادی شدہ عورت کسی بھی دوسرے مرد کے لیے جو محرم نہیں وہ حرام ہو گئی ہے کیونکہ ایک کے ساتھ شادی ہونے کے باعث اب اُس سے کوئی دوسرا مرد شادی نہیں کر سکتا بھائی کے لیے بھاوج ایک مقدس رشتہ ہے کوئی دیوث ہی ایسا ہو گا جو اس تقدس کو پامال کرنے کی سعی و کوشش کرے گا۔ بھائی کو دوسرے بھائی سے ہر وقت مشکوک کر دینے والا معاملہ کرنا شرعاً جائز ہے نہ عقلاً اور اعتماداً۔ علمائے کرام کہلانے والوں نے اس طرح کی بحثیں کر کے اپنے ناپاک خیالات کو ترویج دی ہے اسلام کا کوئی مسئلہ بیان نہیں کیا۔ قرآنِ کریم کی اوپر درج کردہ آیت پر ایک بار مزید غور کریں۔ کیا ایک بھائی دوسرے بھائی کے ہاں جائے گا تو اپنی بیوی بچوں کو ساتھ لے کر نہیں جائے گا؟ اور اگر لے جائے گا تو کیا ان کو کسی الگ جگہ بند کر دے گا جہاں اُس کا دوسرا بھائی آ جا نہ سکے جب قرآنِ کریم سب کے مل جل کر کھانے، ایک جگہ کھانے اور بیٹھنے کی ترغیب دے رہا ہے بلکہ حقیقی رشتہ داروں کے ساتھ دوست و احباب کے مل بیٹھنے اور کھانے پینے کو اسلامی معاشرت کا حصہ قرار دے رہا ہے۔ کیا نبی اعظم وآخر ﷺ کا اسوہ حسنہ ہمارے لیے کافی نہیں؟ کوئی بھی مسلمان یہ نہیں کہہ سکتا کہ آپؐ کا اسوہ حسنہ ہمارے لیے کفایت نہیں کرتا؟ اور آپؐ کا اسوہ حسنہ یہ ہے کہ ابوطالب آپؐ کا حقیقی چچا ہے اور اس کی بیٹی ام ہانی آپؐ کی چچا زاد ہے اور روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ آپؐ اپنی اس بہن کو دل سے چاہتے تھے اور ام ہانی بھی آپؐ سے محبت کرتی تھیں۔ روایات بتاتی ہیں کہ اپنی مجرد زندگی میں بھی ان کی یہ محبت موجود تھی کیونکہ چچازاد تھے اور ایک جگہ پرورش پائی تھی۔ خاندان کے چاہنے کے باوجود آپؐ کی شادی ام ہانی سے نہ ہو سکی بلکہ ان کی شادی دوسری جگہ ہو گئی۔ شادی ہونے کے بعد بحمداللہ وہ مسلمان ہو گئیں اور آپؐ کا ام ہانی کے ہاں آنا جانا، اس کے ہاں سونا جاگنا، اُس کے گھر میں غسل کرنا اور ام ہانی کے ساتھ دین اسلام کے متعلق محبت بھری باتیں کرنا سب کچھ موجود ہے اور آپؐ کا یہ اسوہ حسنہ ہمارے لیے کافی ہے ہمیں ان بناوٹی مولویوں کی اس سلسلہ میں راہنمائی کی اتنی ضرورت نہیں کہ ہم آپؐ کے کردار و اخلاق کو چھوڑ کر کسی بناوٹی کردار و اخلاق کے اپنانے کی کوشش کریں۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے تعلق کی مثال آپؐ کے اسوہ حسنہ سے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بڑی بیٹی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بہن اور آپؐ کی سالی تھیں۔ مدینہ میں ان کی شادی زبیر رضی اللہ عنہ سے تھی وہ اپنے خاوند کا ہاتھ بٹانے کے لیے ان کی زمینوں میں آتی جاتی تھیں ان کے جانوروں کو چارہ ڈالتی تھیں اس لیے کہ یہ زمین خاوند کی ہونے کے باعث ان ہی کی تھی اور اسی طرح یہ جانور بھی۔ وہ اپنی اس زمین سے واپس آ رہی تھیں اور کھجوروں یا کھجوروں کی گٹھلیوں کی ایک گٹھڑی اُن کے سر پر تھی آپؐ بھی اس راستہ سے آ رہے تھے تو آپؐ نے اپنا اونٹ بٹھا دیا اور اسماء کو اپنے پیچھے بطور ردیف سوار ہونے کا ارشاد فرمایا روایات کے مطابق اگرچہ وہ نہ بیٹھیں تاہم آپؐ کا یہ فعل ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے اور ہم لوگوں کو ان کی سالیوں کے متعلق کیا مسائل بتائے جاتے ہیں اور کیا کیا کہاوتیں ہم نے گھڑ رکھی ہیں۔ مذکورہ دونوں روایات صحیح بخاری میں ایک ایک سے زیادہ بار نقل کی گئی ہیں اور ان کے مقابلہ میں جن روایات کا کوئی سر پیر نہیں ان کو ہم کیا اہمیت دیتے ہیں؟ یہ عورتوں کے پردہ پر لکھی گئی کسی بھی کتاب کو اُٹھا کر دیکھ سکتے ہیں۔ معذوروں کے معاملہ میں حسب و نسب کا لحاظ ضروری نہیں قرآنِ کریم نے جن رشتہ داریوں کا ذکر کیا ہے اور جس انداز سے کیا ہے وہ آپ کے سامنے ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معذوروں کا سب سے پہلے ذکر کیا ہے، کیوں؟ اس لیے کہ معذور کوئی بھی ہو وہ ایسی دل چسپی کا باعث نہیں بن سکتا جو دلچسپی کسی بے راہ روی کی طرف لے جاتی ہے اس لیے وہ کوئی ہو، کون ہو اس کو زندگی بحال رکھنے کے لیے کھانے پینے کی ضرورت تو بہرحال ہے اس کی اس ضرورت کو پورا کرنا معاشرہ کے تمام افراد پر یکساں ایک جیسا فرض ہے وہ حسب و نسب یا ملت و مذہب کے لحاظ سے تعلق رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو اُس کے انسانی تعلق کو پورا کرنے کے لیے حسب و نسب یا ملت و مذہب کا خیال رکھنا ضروری نہیں سمجھا گیا بلکہ اس کا تعلق خصوصاً حقوق العباد سے ہے اور حقوق العباد کو پورا کرنا اہمیت کے لحاظ سے اولیت کا حق رکھتا ہے اس لیے ان کا ذکر پہلے کیا گیا۔ جب کوئی شخص اپنے ان گھروں میں جائے گا تو بیوی بچوں کو ساتھ نہیں لے جائے گا؟ بعد ازیں ایسے مخصوص گھروں کا ذکر فرمایا اور ان گھروں کو بھی گویا اپنے ہی گھر قرار دیا جو نہایت قریبی ہوتے ہیں جیسے باپ اور ماں کا گھر اور بھائیوں کے گھر، گویا قرآنِ کریم نے اس جگہ بھائیوں کے گھروں کو بھی اپنے گھر قرار دیا ہے پھر ان گھروں میں جب کوئی جائے گا تو ظاہر ہے کہ یہاں اپنے گھروں کے سے آداب کو ملحوظ خاطر تو رکھے گا جو انسانی فطرت کے تقاضے کے مطابق ہوتے ہیں۔ کیا اس سے ہم یہ مراد لے سکتے ہیں کہ جب ان اپنے گھروں میں جائیں گے تو اپنی بیوی اور بچوں کو ساتھ نہیں لے جائیں گے یا جانے والے کی بیوی اور بچوں کا وہ گھر نہیں ہو گا؟ ایک بھائی جب دوسرے بھائی کے گھر جائے گا بشرطیکہ ان کے رہنے سہنے کے گھر علحٰدہ ہیں تو ہر ایک بھائی کی بیوی دوسرے بھائی کی بھاوج ہو گی اور وہ خود اس کی بیوی کا دیور یا جیٹھ ہو گا جس کو آپ ’’حمو‘‘ قرار دے کر اُس کو موت سے تعبیر کرتے ہوئے ملاقات سے روک رہے ہیں، اس لیے میں نے کہا کہ اگر ایسی بات ہے تو پھر کیا موت سے کسی کو مفر ہے کہ وہ موت سے ملاقات نہ ہونے دے؟ انسانیت کے فطری رشتوں کے تقدس کو پامال نہ کریں علمائے گرامی قدر! یہ انسانیت کے فطری رشتے ہیں ان رشتوں کے تقدس کے پیش نظر اللہ رب کریم ایسے تمام گھروں میں آنے جانے، کھانے پینے، بیٹھنے اُٹھنے کی اجازت مرحمت فرما رہے ہیں، کیوں؟ اس لیے کہ ان رشتوں کا تقدس بحال رہے اور ان سے آپس کے پیار و محبت کے تعلقات مزید استوار ہوں گویا قرآن کریم ان قریبی رشتوں کے علاوہ دوست و احباب اور ہمسایوں اور دوسرے اعتماد کے رشتوں کو بھی ساتھ ملا کر سوسائٹی میں وسعت لانا چاہتا ہے تاکہ انسانوں کے لیے آسانیاں پیدا ہوں اور اسلامی بھائی چارہ اور اخوت و مساوات کے لحاظ سے ایک دوسرے پر اعتماد قائم ہو اور ہمارے علمائے کرام نے انسانیت کے آدھے سے بھی زیادہ حصہ کو انسانیت سے نکال دینے کا فتویٰ صادر کر دیا ہے کہ عورت گویا انسان نہیں نہ اُس کی کوئی شخصیت ’’دانا‘‘ ہے بلکہ وہ ایک حیوان ہے جس کو باندھ کر رکھنا ضروری ہے جو سراسر اسلامی نظریہ کے خلاف ہے ویسے بھی یہ ایک طرح کی محض تصنع اور بناوٹ ہے جس کو ’’پردہ‘‘ کا نام دے دیا گیا ہے کہ عورت ایک آنکھ کھلی رکھ سکتی ہے وہ بھی اس طرح کہ وہ اس آنکھ سے راستہ دیکھ سکے اور اس کی وہ آنکھ بھی کوئی مرد نہ دیکھ سکے بلکہ عورت کی آواز بھی کسی نامحرم مرد کے کان میں نہیں پڑنا چاہیے کیونکہ وہ بھی مردوں کے لیے باعث فتنہ بن سکتی ہے حالانکہ اس طرح کی تمام باتیں مصنوعی ہیں جن کا اسلام کے بتائے ہوئے پردہ سے ہرگز کوئی تعلق نہیں ہے۔ قرآنِ کریم میں آپؐ کے لیے اور آپؐ کی ازواج کے لیے مخصوص احکام بھی موجودہیں قرآنِ کریم نے جس طرح نبی کریم ﷺ کے لیے کچھ مخصوص احکام بیان کیے ہیں اسی طرح آپؐ کی ازدواج مطہرات کے لیے بھی کچھ مخصوص احکام بیان کیے ہیں اور وہ مخصوص احکام قرآنِ کریم میں ’’یٰنساء النبی‘‘ کے خطاب سے شروع ہوتے ہیں اور دوسری صورت ان کی یہ ہے کہ آپؐ کو مخاطب فرما کر فقط آپؐ کو اپنی بیویوں کے لیے ان کو بیان کرنے کا حکم فرمایا ہے کہ ’’یایھا النبی قل لازواجک‘‘ (۳۳:۲۸) ’’اے پیغمبر اسلام ﷺ! اپنی ازواج مطہرات سے فرما دیجئے‘‘ گویا یہ احکام عام مسلم عورتوں کے لیے نہیں اور اسی طرح ایمان والے مردوں سے یہ کہا گیا ہے کہ ’’جب تم آپؐ کی ازواج مطہرات سے کوئی چیز طلب کرو تو ان سے پردہ میں رہ کر طلب کرو‘‘ مختصر یہ کہ اس طرح جو احکام آپؐ کے لیے اور آپؐ کی ازواج مطہرات کے لیے خاص ہیں اور ان کی تفصیلات بہت زیادہ ہیں لیکن ان احکام کو عام مسلمانوں کے لیے بیان نہیں کیا جا سکتا اور نہ دوسرے تمام مسلمان ان احکام کے متحمل ہو سکتے ہیں تاہم فی نفسہٖ آپؐ کی ازواج سے بھی بات چیت نہ کرنے اور ضرورت کی چیز لینے دینے کی ممانعت نہیں اگر کوئی ایسی بات ہوتی تو آپؐ کی ازواج مطہرات سے مردوں کے مسائل پوچھنے اور ازواج مطہرات کے جوابات دینے کا جو ذکر روایات میں موجود ہے وہ کیسے جائز و درست ہوتا اور یہ بات تو روزِ روشن کی طرح ہے کہ جب کوئی چیز لینے دینے اور مسائل پوچھنے اور ان کے جوابات دینے کی اجازت تھی تو یہ بغیر آواز کے کیسے ممکن ہو سکتا ہے جب کہ رو در رو درپردہ میں رہ کر مسلمان مردوں کا مسائل پوچھنے کا ذکر عام ہے یعنی آپؐ کی ازواج مطہرات کے محرم مردوں کے ساتھ مل کر بھی اور بغیر ان کے بھی اور کتب روایات ایسے سوالوں اور جوابوں سے بھری پڑی ہیں بلکہ ان سوالوں جوابوں میں آپؐ کی اور آپؐ کی ازواج مطہرات کی نجی زندگی کے متعلق بھی کثرت سے سوال و جواب موجود ہیں کیونکہ آپؐ کی زندگی کے مخصوص مسائل کے علاوہ باقی تمام مسائل آپؐ کی امت کے لیے ایک نمونہ ہیں جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آپؐ کا ’’اسوہ حسنہ‘‘ مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بہترین نمونہ ہے جس کو حاصل کرنے میں مسلمانوں نے کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔ زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح عورتوں اور مردوں کا پردہ آپس میں بھی اور ایک دوسرے سے بھی ایک واضح شعبہ ہے اور اس مسئلہ میں بھی آپؐ کے اسوہ حسنہ کی ضرورت ہے اور آپؐ کے اسوہ حسنہ سے بڑھ کر کسی اور کا اسوہ حسنہ بہتر نہیں ہو سکتا لیکن اس وقت عورتوں کے پردہ کے متعلق جو کچھ بیان کیا جاتا ہے اس میں اکثر غلو کی حد تک مبالغہ پایا جاتا ہے اور جب بھی کوئی شخص اس مبالغہ کا ذکر کرتا ہے تو اس پر فوراً ’’روشن خیالی‘‘ کا الزام تھوپ دیا جاتا ہے اور ان کو ’’مغرب زدہ‘‘ قرار دیا جاتا ہے اور اس طرح کے الزام لگانے والوں نے اپنی زندگیوں کو بھی اجیرن بنا دیا ہے اور دوسروں کی زندگیوں کو بھی، جس کے باعث خاندانی زندگی مکمل طور پر اُلجھ کر رہ گئی ہے۔ فضول باتوں پر بحث کر کے ان کو دین کا حصہ بنا دینا کیسا ہے؟ جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ جو باتیں زیر بحث آنی چاہیں ان کا تو کوئی نام تک نہیں لیتا اور جو باتیں زیر بحث آنے والی نہ تھیں، نہ ہیں اور نہ ہوں گی ان پر بحث کرتے کرتے ہم بہت آگے نکل چکے ہیں۔ مثلاً یہ کہ عورتوں کی جسمانی ہیئت و ساخت مردوں سے مختلف ہے اس لیے ان کے لباس میں اختلاف ایک فطری چیز تھی، ہے اور رہے گی جس کا مطلب و مدعا یہ ہے کہ عورت کے لباس پہننے سے وہ فطری ہیئت و ساخت پوشیدہ ہو جائے وہ گھر کے اندر ہو یا باہر، چاہے جہاں بھی ہو تاکہ پردہ کا پہلا مقصد تو حل ہو لیکن یہ بات اس وقت کہیں بھی دیکھی نہیں گئی بلکہ اس کے برعکس لباس کا طریقہ ایسا اختیار کیا گیا ہے کہ عورت کی فطری ہیئت و ساخت پہلے سے بھی زیادہ نمایاں ہوکر نظر آئے خواہ وہ ماں ہے، بہن ہے یا بیٹی اسی طرح خواہ وہ کون ہے اس کا سینہ، اس کی گردن کے سامنے کا حصہ سینہ کے ابھار تک کھلا نظر آئے تاکہ وہ اپنے حرام رشتوں کو بھی جازب نظر ہو قمیص کے بازو سامنے سے کھلے رہیں یا کہنی سے اوپر تک رہیں۔ اس بیان کا ذکر یہاں تک ہی کافی ہے اگرچہ ابھی بہت کچھ کہا جا سکتا ہے لیکن کوئی شخص دیانت و امانت کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہے کہ اسلامی پردہ کا یہی منشاء ہے جو نہایت پردہ دار گھروں میں بھی اختیار کیا گیا ہے اور اس وقت کسی گھر کو بھی اس سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کیا یہ لباس پہننے کے باوجود ننگا رہنے کے مرادف نہیں؟ کالے کلوٹے زخم خوردہ جسم پر ایک نئی خوبصورت جلد بنا کر چڑھا دی جائے جس سے اس کا کالاپن چھپ جائے کیا اس کا نام پردہ یا لباس ہے؟ کیا اصل جسم کا سینہ کے ابھار تک غازہ و کریم کے ہتھیاروں سے لیس کر کے دکھانا لباس کہلاتا ہے؟ ایک بناوٹی چیز کو اصل بنانے کا طریقہ حوالہ کے اندراج کے لیے اس وقت جو سب کچھ نہیں ہونا چاہیے تھا وہ سب کچھ ہو رہا ہے اس لیے اب ہمارے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہا کہ ایک بھائی کی بیوی کو دوسرے بھائی سے چھپاؤ یعنی پردہ میں رکھو، چچا، ماموں، پھوپھی اور خالہ کے بچوں کو ایسے گھر میں مت داخل ہونے دو۔ عورتوں پر پابندی لگاؤ کہ وہ کہیں مسجد کی طرف نماز کے لیے نہ چلی جائیں ان کو حدیثیں بناوٹی اور گھڑی ہوئی سناؤ کہ ’’خیر مساجد النساء فھو بیوتھن‘‘ یعنی عورتوں کے لیے بہترین مسجدیں ان کے گھروں کا اندرونی حصہ ہے‘‘ اس پر جب مسند احمد اور طبرانی کا حوالہ درج کر دیں گے تو آخر یہ صحیح حدیث کیوں نہیں ہو جائے گی؟ اب اس کی مزید وضاحت کی ضرورت کہاں رہی حالانکہ بخاری و مسلم کی روایات بتا رہی ہیں کہ ’’لوگو! اللہ کی بندیوں کو مسجد میں جانے سے مت روکو جیسا کہ پیچھے وضاحت گزر چکی اور مزید وضاحت آگے آئے گی ان شاء اللہ العزیز۔ مسجدیں تو اللہ کا گھر ہیں اور مسلمانوں کی عبادت کے لیے تعمیر کی جاتی ہیں اور مسلمانوں میں مرد اور عورتیں سب شامل ہوتے ہیں لیکن صحابہ کرام کا جو عام معاشرتی نظام تھا اُس میں بھی ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا تھا اور مردوں کی طرح عورتیں بھی ایک دوسرے کے ہاں آتی جاتی تھیں جیسا کہ امام مسلم اپنی صحیح میں روایت درج کرتے ہیں کہ: ابوہریرہؓ اور ابوموسیٰ اشعریؓ کا فضل بن عباسؓ کی بیٹی کے گھر میں جمع ہونا ’’ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ میں ابوموسیٰؓ کے پاس گیا جب کہ وہ بنت فضل بن عباس کے گھر میں تھے، مجھے چھینک آئی تو اُنہوں نے مجھے ’’یرحمک اللہ‘‘ نہ کہا اُنہیں چھینک آئی تو میں نے اُنہیں یہ جواب دیا۔ میں اپنی والدہ کے پاس گیا تو میں نے اُنہیں یہ بتایا، جب وہ اُن کے پاس آئیں تو اُنہوں نے کہا کہ تمہارے پاس میرے بیٹے کو چھینک آئی تھی مگر تم نے اُسے جواب نہیں دیا اور تم کو چھینک آئی تو اُس نے تجھے جواب دیا تھا تو اُنہوں نے کہا کہ تمہارے بیٹے کو چھینک آئی تو اُس نے ’’الحمدللہ‘‘ نہ کہا اس لیے میں نے اُسے جواب نہ دیا۔ مجھے چھینک آئی تو میں نے ’’الحمدللہ‘‘ کہا تو اُس نے مجھے جواب دے دیا میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ بیان کرتے سنا ہے کہ ’’جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہ ’’الحمدللہ‘‘ کہے تو تم اُسے ’’یرحمک اللہ‘‘ کہو اور اگر وہ ’’الحمدللہ‘‘ نہ کہے تو تم بھی ’’یرحمک اللہ‘‘ نہ کہو‘‘۔ (مسلم کتاب الزہد والرقائق باب تشمیت العاطس) مذکورہ روایت سے کتنی باتیں معاشرہ اسلامی کی سمجھی جا سکتی ہیں غور کیجئے کہ اوپر درج کردہ روایت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے یا نہیں کہ صحابہ کرام کے دور میں جو گویا خود نبی اعظم و آخر ﷺ کا دورِ اقدس تھا صحابہ کی معاشرتی زندگیاں کیسی تھیں کیا وہ ایک دوسرے کے ہاں آتے جاتے اور صحابہ و صحابیات آپس میں گفتگو کرتے تھے یا نہیں؟ اور اسی طرح یہ بھی کہ جن باتوں کی ہمارے ہاں اس وقت کوئی قدر و قیمت نہیں چاہے ان کا تعلق اسلامی زندگی کے حسن و خوبصورتی کے ساتھ کتنا گہرا ہو اور اُس زمانہ میں لوگ ایسی باتوں کو جو آپؐ کے اسوہ حسنہ کے متعلق ہیں کتنی اہمیت دیتے تھے۔ اس طرح کی بے شمار روایات کتب روایات میں خصوصاً صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں دیکھی جا سکتی ہیں چنانچہ اس طرح کی ایک روایت میں ہے کہ: ابوبکر صدیق کا خاندانِ احمس کی ایک عورت کے ساتھ مکالمہ ’’قیس بن حازم سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خاندان احمس کی ایک عورت کے پاس گئے جسے زینب بن مہاجر کہا جاتا تھا۔ آپؓ نے دیکھا کہ وہ بات نہیں کر رہی تو پوچھا یہ بات کیوں نہیں کرتی؟ لوگوں نے بتایا کہ اس نے نذر مانی ہے کہ وہ خاموش رہ کر حج کرے گی، آپؓ نے فرمایا، بات کرو، ایسا کرنا حلال نہیں ہے۔ یہ زمانہ جاہلیت کا کام ہے۔ اُس نے بات کرنا شروع کر دی اور پوچھا کہ تم کون ہو؟ آپؓ نے جواب دیا میں مہاجرین میں سے ایک شخص ہوں، اُس نے کہا کون سے مہاجرین؟ آپؓ نے فرمایا قریش میں سے پھر اُس نے پوچھا کہ قریش کی کس شاخ سے؟ آپؓ نے فرمایا تم تو بہت سوال کرنے والی ہو، میں ابوبکر ہوں۔‘‘ الخ (بخاری حدیث نمبر ۳۸۳۴) ثابت بنانی کی موجودگی میں انس رضی اللہ عنہ کی اپنی بیٹی سے گفتگو ’’ثابت بنانی سے روایت ہے کہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، اُس وقت اُن کی بیٹی بھی موجود تھی، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور اُس نے اپنے تئیں آپؐ کی خدمت میں پیش کیا اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ! کیا آپؐ کو میری ضرورت ہے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی بیٹی نے کہا، کس قدر کم حیا تھی یعنی کس قدر بری عورت تھی اور اپنی بات کو دہرایا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی سے کہا کہ تم سے وہ بہتر تھی کیونکہ اُس نے ایک بہتر انسان یعنی نبی کریم ﷺ میں رغبت رکھتے ہوئے اپنے تئیں آپؐ کی خدمت میں پیش کر دیا تھا (آپؐ چاہتے تو اُس سے نکاح کر لیتے) (بخاری ۵۱۲۰،۶۱۲۳) آپؐ کا بنفس نفیس ام سلیم کے گھر بار بار جانا ’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ مدینہ میں ام سلیم کے علاوہ کسی اور گھر میں اس قدر نہیں جاتے تھے جب کہ عورت کا خاوند بھی گھر میں موجود نہ ہو، اس کے متعلق آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ میں اس پر اس لیے شفقت کرتا ہوں کہ اُس کا بھائی میرے ہمراہ جہاد کرتے ہوئے شہید ہو گیا تھا۔‘‘ (بخاری ۲۸۴۴) روایات میں اس طرح کے بہت سے دوسرے گھروں میں بھی آپؐ کی آمد و رفت تھی لیکن سب سے زیادہ آمد و رفت ام سلیم کے گھر تھی اس کی وجہ آپؐ سے پوچھی گئی تھی تو آپؐ نے یہ ارشاد فرمایا جس کا ذکر اوپر روایت میں کیا گیا ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کی والدہ اور خالہ ام حرام کے ہاں آپؐ کی آمد و رفت ’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے گھر میں اُس وقت میں، میری والدہ اور میری خالہ ام حرام تھیں آپؐ نے وہاں آرام فرمایا اور بعد میں اُٹھے اور سب کو حکم دیا کہ کھڑے ہوجاؤ تاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں (یعنی نماز نفل) پس آپؐ نے ہمیں نماز پڑھائی پھر آپؐ نے ہمارے گھر والوں کے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائی کی دُعا فرمائی۔‘‘ (مسلم کتاب الصلوٰۃ باب جواز الجماعۃ فی النافلۃ ج۲ ص۲۸) حضرت سلمانؓ اور حضرت ابو درداءؓ کے بھائی چارہ کے بعد ’’عون بن ابی جحیفہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سلمان اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہما کو ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا تو ایک دفعہ سلمان ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لیے گئے تو دیکھا کہ ام الدرداء نے پرانے اور بوسیدہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں اُنہوں نے اس سے پوچھا، کیا بات ہے؟ اُس نے جواب دیا کہ تمہارے بھائی کو دنیا کی کوئی ضرورت نہیں۔ اثنائے گفتگو ابوالدرداء بھی آ گئے اور اُنہوں نے سلمان کے لیے کھانا تیار کرایا تو سلمان نے کہا آپ بھی کھائیں تو اُنہوں نے کہا کہ میں نے روزہ رکھا ہے سلمان نے کہا اگر آپ نہیں کھائیں گے تو میں بھی نہیں کھاؤں گا، پس اُنہوں نے کھانا کھا لیا، رات ہوئی تو ابوالدرداءؓ اُٹھنے لگے سلمانؓ نے کہا کہ ابھی سو جاؤ، وہ سو گئے پھر اُٹھنے لگے تو سلمانؓ نے پھر روک لیا جب رات کا آخری حصہ ہوا تو سلمانؓ نے کہا کہ اب اُٹھیں تو پھر دونوں نے نماز پڑھی سلمانؓ نے اُن سے مخاطب ہو کر کہا کہ تمہارے رب کا تم پر حق ہے اور تمہارے نفس کا بھی اور تمہارے اہل و عیال کا بھی تم پر حق ہے لہٰذا ہر حق دار کو اس کا حق دو۔ ابوالدرداءؓ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس بات کا ذکر کیا جو سلمانؓ نے کہی تھی تو آپؐ نے فرمایا کہ سلمان نے سچ کہا ہے۔‘‘ (بخاری ۱۹۶۸،۶۱۳۹) کیا میں ’’الحموموت‘‘ کہنے والوں سے دریافت کر سکتا ہوں امام بخاری رحمہ اللہ کی اس روایت کو میں نے اچھی طرح دیکھا ہے میں ’’الحمو موت‘‘ کہنے والوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ بھی اس روایت کو اچھی طرح دیکھیں اس لیے کہ سلمان اور ابوالدرداء حقیقی اور نسبی بھائی نہیں ہیں بلکہ مواخات کے باعث بھائی بنائے گئے ہیں وہ اپنے اس بھائی کی بیوی سے براہِ راست مخاطب ہیں اور اپنے بنائے گئے بھائی کی عدم موجودگی میں اُس سے خاص نجی معاملہ کی گفتگو کرتے ہیں پھر وہاں اپنے اس بھائی کے ساتھ رات گذارتے ہیں اور رات کو ان کو نصیحت پر نصیحت کرتے ہیں جن میں اُن کی بیوی کے حق کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں پھر ابوالدرداء یہ بات من و عن نبی کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں تو آپؐ سلمانؓ کی بات کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کا ابوالدرداء کی بیوی سے اس طرح کی گفتگو سن کو خوشی کا اظہار فرماتے ہیں کیا حقیقی بھائی اپنے بھائی کی بیوی کے لیے کسی خطرناکی کا باعث بنتا ہے اور مواخاتی بھائی اپنے بھائی کی بیوی کے لیے رحمت کا باعث ہوتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ بعض رشتہ داروں کے ساتھ بھی اور بعض اجنبی لوگوں کے ساتھ بھی دلی لگاؤ ہو جاتا ہے جس کی وجہ زیادہ آمد و رفت اور ذہنی ہم آہنگی ہوتی ہے اور بعض رشتہ داریاں اتنی قریب کی ہوتی ہیں کہ اس رشتہ کے باعث انسان اس کا احترام کرتا ہے اور یہ ایک فطری چیز بھی ہے اور رواجی چیز بھی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ چھوٹا بھائی اپنے بڑے بھائی کی بیوی کو ماں کے درجہ پر دیکھتا ہے اور بڑا بھائی اپنے چھوٹے بھائی کی بیوی کو اپنی چھوٹی بہن یا بیٹی کی طرح دیکھتا ہے اور ان سب کا کھانا پینا بیٹھنا اُٹھنا ایک گھر میں زندگی بھر اکٹھا رہتا ہے اور اس طرح رہنے میں کسی کو بھی کسی سے کوئی خطرہ اور کوئی تکلیف نہیں پہنچتی بلکہ پورا خاندان ایک دوسرے کے لیے رحمت و شفقت کا باعث بنتا ہے اور اسلام کی ہدایت میں بھی اس طرح کا کوئی حکم نہیں کہ اس طرح کی رہائش اچھی نہیں ہوتی یا اس سے اسلام نے کہیں منع کیا ہو یہ سب کچھ علمی رنگ میں اندرونی جہالت کا اظہار ہے اور جاہل، عالم بن بیٹھنے والے اس طرح کی باتیں کرتے ہیں اور ان مقدس رشتوں کو ناپاکی کی نظر دیکھتے ہیں۔ اللہ سے دُعا ہے کہ وہ ہم کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ام حرام کے پاس آپؐ کی آمد و رفت اور وہاں آرام فرمانا ’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ام حرام بن ملحان کے پاس تشریف لاتے (یہ انسؓ کی خالہ تھیں) وہ آپؐ کو کھانا کھلاتیں ام حرام بن ملحان عبادہ بن صامت کی بیوی تھیں۔ ایک دفعہ آپؐ اُن کے پاس آئے کھانا کھایا اور لیٹ گئے تو ام حرام آپؐ کا سر دیکھنے لگیں کہ آپؐ سو گئے اور اچانک ہنستے ہوئے اُٹھ بیٹھے ام حرام نے آپؐ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ آپؐ ہنس کیوں رہے ہیں تو آپؐ نے ارشاد فرمایا میری امت کے کچھ لوگ مجھے جہاد کرتے ہوئے دکھائے گئے جو سمندر کی پشت پر سوار ہوں گے اور وہ تختوں پر بادشاہوں کی طرح جلوہ افروز ہوں گے۔ ام حرام نے کہا کہ آپؐ میرے لیے بھی دعا فرمائیں کہ میں ان میں شریک ہوں تو آپؐ نے دُعا فرما دی کہ اچانک پھر آپؐ کی آنکھ لگ گئی اور دوبارہ آپؐ ہنستے ہوئے بیدار ہوئے تو پھر آپؐ سے ام حرام نے دریافت فرمایا آپؐ نے فرمایا کہ مجھے میری امت کا ایک اور لشکر جنگ میں دکھایا گیا اور اس دفعہ بھی ام حرام نے اپنی شمولیت کی دعا کے لیے فرمایا تو آپؐ نے فرمایا نہیں آپ پہلے لشکر ہی میں شریک ہوں گی۔ (بخاری ۲۷۸۸، ۲۷۸۹،۲۸۰۰،۲۸۷۷، ۲۸۷۸ ، ۲۸۹۲، ۲۸۹۴، ۶۲۸۲، ۶۳۸۳، ۷۰۰۱، ۷۰۰۲) ام سلیم اور ام حرام دو بہنیں ہیں قبا کے قریب رہتی ہیں غور کیجئے کہ ام سلیم انس رضی اللہ عنہ کی والدہ اور ام حرام ان کی خالہ ہوتی ہیں اور انسؓ آپ کی خدمت میں رہنے کے باعث گویا آپؐ کے خادم خاص ہیں۔ یہ دونوں بہنیں دین اسلام کے ساتھ گہری دلچسپی رکھتی ہیں اور اسی دل چسپی کے باعث آپؐ کو وہ اپنے گھر آنے کی بار بار دعوت دیتی ہیں اور آپؐ بھی اکثر ان کے ہاں تشریف لے جاتے ہیں جب کہ انسؓ بھی آپؐ کے ساتھ ہوتے ہیں اس طرح آپؐ کے ان دونوں گھروں کے ساتھ نہایت روابط پیدا ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ ان کے ہاں آنا جانا کھانا پینا اور اُٹھنا بیٹھنا آپؐ کا معمول بن جاتا ہے اور اس طرح باوجود کسی طرح کی کوئی رشتہ داری نہ ہونے کے دینی رشتہ داری اتنی پختہ ہو جاتی ہے کہ اس طرح آنے جانے میں کسی کو کسی طرح کی کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی اور جس طرح انسان اپنے گھر میں زندگی گذارتا ہے وہاں کا بھی محمول ہو جاتا ہے یہی بات اس جگہ نظر آ رہی ہے اس پر ہمارے بزرگ کیا کیا حاشیہ لیس کریں گے اور کون کون سے مسائل اخذ کریں گے یہ ان کا معاملہ ہے ہم تو اس سے یہی سمجھتے ہیں کہ جہاں انسان کی ذہنی اور فکری ہم آہنگی ہو جاتی ہے وہ لوگ دوست اور یار بن جاتے ہیں جو قرآنِ کریم کے بیان کے مطابق ’’صدیقکم‘‘ کے الفاظ سے تعبیر ہوتے ہیں اور ان کے ہاں آنا جانا ان کے ساتھ بیٹھنا اُٹھنا اور کھانا پینا سب جائز اور درست ہے قرآنِ کریم کے اس ارشاد کی آپؐ نے اپنی زندگی میں مثال قائم کر دی اور اس معاشرہ کو اجنبیت سے نکال کر اپنائیت میں داخل کر دیا۔ اللھم صل علی محمد وعلی ال محمد کما صلیت علی ابراہیم وعلی اٰل ابراھیم انک حمید مجید۔ ابوموسیٰ اشعری یمن سے آ کر آپؐ کے حج میں شامل ہوتے ہیں اور احرام کھولتے ہیں ’’ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے یمن کی ایک قوم کی طرف بھیجا میں جب وہاں سے واپس آیا تو آپؐ حج کے لیے آتے ہوئے مقام بطحا میں پہنچ چکے تھے آپؐ نے فرمایا کہ تو نے تلبیہ کس طرح کہا تھا ؟ میں نے عرض کیا، میں نے کہا تھا کہ میرا تلبیہ اس طرح ہے جس طرح رسول اللہ ﷺ نے تلبیہ کہا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ تمہارے ساتھ قربانی کا جانور ہے؟ میں نے عرض کیا ، جی نہیں، آپؐ نے مجھے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کا حکم دیا جب میں فارغ ہوا تو آپؐ نے احرام کھول دینے کا ارشاد فرمایا۔ میں نے احرام کھول دیا اور اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس چلا گیا (یہ عورت آپؓ کی بھاوج تھیں) اُس نے میرے سر کے بالوں میں کنگھی کی اور میرے سر کو دھویا پھر میں وہاں سے ایک دوسری عورت (یعنی دوسری بھاوج) کے ہاں گیا وہاں لیٹ گیا تو اُس نے میرے سر سے جوئیں نکالیں۔‘‘ (بخاری ۱۵۵۹،۱۵۶۵، ۱۷۲۴، ۴۲۴۶،۴۳۹۷) حافظ ابن حجر اور ان کی فتح الباری میں اس کی وضاحت فتح الباری بخاری کی شرح ہے جو حافظ ابن حجر نے تحریر کی ہے وہ اس حدیث کے زیر تحت وضاحت فرماتے ہیں کہ ابو موسیٰ قیس بن سلیم کے بیٹے ہیں اور یہ بہت سے بھائی تھے جیسے ابو رہم اور ابوہریرہ وغیرہ یہ لوگ مدینہ میں ایک خاندان کی طرح اکٹھی رہائش رکھتے تھے۔ آپؐ نے یمن کی طرف ان کو بھیجا اور پروگرام کے مطابق آپؐ حج کے لیے جب گئے تو ابو موسیٰ بھی یمن سے واپس آ کر آپؐ کے ساتھ شریک حج ہو گئے۔ ابوموسیٰ کا حج تمتع تھا جس میں طواف و سعی صفا مروہ کے بعد احرام کھول دیا جاتا ہے اور احرام کھولنے کے بعد حاجی کی معمول کے مطابق زندگی شروع ہوجاتی ہے گویا اب وہ محرم نہیں رہتا اور احرام کھول دینے کے بعد یعنی حلال ہونے کے بعد وہ اپنے روزمرہ کے کام اپنی حسب خواہش شروع کر دیتا ہے۔ ابوموسیٰ نے جب احرام کھولا تو چونکہ اس کے خاندان کی عورتیں بھی اس حج کے سفر میں آپؐ کی شریک تھیں اور اُنہوں نے بھی احرام کھول دیا ہوا تھا کیونکہ وہ حج تمتع ادا کر رہی تھیں لہٰذا ابوموسیٰ ان کے ہاں جہاں وہ ٹھہری تھیں چلے گئے اور وہاں جا کر اُن کے ٹھہرنے کی جگہ ان کے پاس رہے اور وہاں کھانا کھایا آرام کیا نہائے دھوئے اور اپنی بھاوج کے ہاں سے ایک سے دوسری کے ہاں بھی گئے اور وہاں جا کر آرام کرنے لگے تو بھاوج نے ان کے سر کے بالوں کو دیکھ کر ان کی جوئیں نکالنا شروع کر دیں یہ گویا ان کے رہنے سہنے کے معمولات جیسے تھے وہاں بھی احرام کھولنے کے بعد شروع ہو گئے چونکہ ابوموسیٰ اپنے بھائیوں میں چھوٹے تھے اور وہ اپنی بھاوجوں کو اپنی ماں یا بڑی بہنوں کی طرح سمجھتے تھے اور وہ اُن کو چھوٹے بھائی کے مقام پر دیکھتی تھیں اور یہ اجتماعی زندگی گزارنے کا ثمرہ تھا۔ دیکھتے ہیں کہ ’’الحمو موت‘‘ والے اس کا کیا جوا ب دیتے ہیں۔ ان روایات پر علامہ یوسف قرضاوی جو بحث کرتے ہیں اس کا ماحصل محبت و شفقت کا یہ انداز جس میں قرب اور جسم کو چھونا بھی آتا ہے شرعاً جائز ہے خصوصاً جب کہ اس میں فتنہ کا کوئی اندیشہ نہ ہو اور یہ ظاہر ہے کہ فتنہ سے مخصوص حالات ہی میں محفوظ رہا جا سکتا ہے جیسا کہ مذکورہ نصوص سے واضح ہے۔ ایسے واقعات ایسے صالح اور پاکیزہ معاشرے ہی میں جنم لے سکتے ہیں جو فتنہ سے محفوظ رکھنے میں معاون ہو۔ محبت اور شفقت کے اس معیار کو قبول کرنے میں حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔ یہ معاشرتی انداز اس طرح بھی اشارہ کرتا ہے کہ صالح مسلمانوں میں طویل عرصہ تک معاشرت نہ ہو تو اس طرح کے پاکیزہ جذبات پیدا نہیں ہو سکتے۔ اس کی مثالوں میں اخوت کے وہ جذبات بھی شامل ہیں جو رسول اللہ ﷺ اور ام سلیم اور ام حرام کے مابین تھے۔ یہ وہ پاکیزہ جذبات ہیں جو انسانی شہوت کو دبا دیتے ہیں جس سے اجنبیت دور ہو کر اپنائیت لوٹ آتی ہے۔ یہی صورت ابوموسیٰ اور ان کے بڑے بھائیوں کی بیویوں کے درمیان تھی۔ اس کی مثال میں الحمو موت کے ان جذبات کو بھی بیان کیا جا سکتا ہے جو سالم مولیٰ ابی حذیفہ اور سہلہ بنت سہل زوجہ محترمہ حضرت ابو حذیفہ کے مابین ہوئے تھے سہلہ بنت سہل جو ابو حذیفہ کی بیوی تھیں انہوں نے آپؐ سے فرمایا کہ یا رسول اللہ سالم ہمارا غلام ہے جو اب جوان ہو گیا ہے چونکہ اس کا پچپن ہمارے ساتھ گذرا ہے اب اس کو جدا نہیں کیا جا سکتا اور ابوحذیفہ اب اس کا اس طرح گھر میں رہنا برداشت نہیں کرتے تو آپؐ نے اُس کو اپنا دودھ پلانے کا مشورہ دیا جس کا مطلب واضح طور پر یہ ہے کہ سالم گویا آپ کا یعنی سہلہ بنت سہل کا بیٹا ہے تو اس سے ابوحذیفہ کی وہ نفرت زائل ہو گئی اور سالم ان کے ہاں حسب معمول آتے جاتے رہے۔ نیز قرآنِ کریم کی آیت اوالتابعین غیر اولی الاربۃ من الرجال (۳۳: ) ’’نیز ان معمر خدام کے جو عورتوں کی خواہشیں نہیں رکھتے‘‘ میں بھی اسی طرح اشارہ ہے اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ کبیر السن ہونا ہی جنسی رغبت کی نفی نہیں بلکہ صالح مسلمانوں کی پیروی اور ان کے ساتھ طویل عرصہ کی معاشرت بھی جنسی خواہش کی نفی کے لیے ایک موثر ذریعہ ہے۔ اسی طرح یہ بھی کہ عورتوں کے مردوں سے طلب علم کے دوران جو ملاقات ہوتی ہے وہ بھی اس طرح کے جذبات کی وجہ سے جنس مخالف کی طرف دونوں کی شہوت کو کم کر دیتی ہے بلکہ بالکل نابود کر دیتی ہے اور صاحب علم و حلم سے یہ بات ہر گز پوشیدہ نہیں۔ ہم اپنے کلچر اور رہنے سہنے کی طرف بھی توجہ کرتے ہیں ہمارے معاشرہ میں خاندانی بیٹیاں یعنی ایک خاندان سے تعلق رکھنے والی سب خاندانوں کے بڑوں کے لیے بیٹیاں سمجھی جاتی ہیں اور اسی طرح وہ طالبات بھی جنہوں نے مستقل اپنے استاد کے ہاں رہ کر ایک عرصہ گزارا ہوتا ہے کہ وہ تمام بیٹیاں استاد کو باپ سے بھی زیادہ درجہ دیتی ہیں اور استاد بھی اکثر ایسی طالبات کو حقیقی بیٹیوں کی نگاہ سے دیکھتا ہے شاید ہی کوئی ایسا بدبخت ہو جو اس سے مستثنیٰ ہو۔ پھر ان طالبات یا خاندان کی بیٹیوں کی جب شادی ہو جاتی ہے تو استاد اور خاندان کے بڑے ان طالبات یا بیٹیوں کے سر پر ہاتھ رکھتے ہیں جس کو ہماری زبان میں ’’پیار دینا‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے اگر کوئی خاندان کا بڑا یا استاد اپنی خاندانی بیٹیوں یا طالبات سے ایسا سلوک نہ کرے یعنی پیار نہ دے تو اس کو برا خیال کیا جاتا ہے اور شکوہ ہوتا ہے کہ فلاں نے خاندان کی بیٹی یا اپنی طالبہ کے سر پر ہاتھ بھی نہیں رکھا یا ملاقات کے وقت اُس کے ہاتھ میں کچھ نہیں دیا اور اس طرح خاندانی بیٹیوں یا اپنی طالبات کے سر پر ہاتھ رکھنے سے اسلام کی نظر میں کچھ نہیں ہوتا اور اس طرح کا اظہار جائز اور صحیح ہے اس کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے حوصلہ شکنی نہیں کرنا چاہیے۔ آپؐ کی اخلاقی حدود بہت وسیع تھیں، غور کریں ’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کچھ عورتوں اور بچوں کو کسی شادی کی تقریب سے واپس آتے ہوئے دیکھا تو آپؐ ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہو گئے اور ارشاد فرمایا کہ ’’تم مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو۔‘‘ آپؐ نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔‘‘ (بخاری ۳۷۸۵، ۵۱۸۰) ایک دوسری روایت میں ہے کہ: ’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری عورت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اُس کے ساتھ اُس کے بچے بھی تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’اس ذات پاک کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مجھے تم سب لوگوں سے زیادہ عزیز ہو اور یہ بات آپؐ نے تین بار ارشاد فرمائی۔‘‘ (بخاری ۳۷۸۶، ۶۶۴۵) آپؐ کے اخلاق حسنہ کی حدود ان احادیث سے آپؐ کی اخلاقی حدود کی وسعت کا بیان ہے اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ کسی کو مخاطب کر کے یہ بات کہنے سے کہ تم مجھے تمام لوگوں سے محبوب ہو دوسروں کی محبت کے ساتھ تقابل کے طور پر کہا جا رہا ہے، ہرگز نہیں اس میں تقابل پیش نظر نہیں ہوتا بلکہ وقت کی نزاکت پیش نظر ہوتی ہے گویا اس وقت جو لوگ وہاں موجود ہوتے ہیں اُن سے مخاطبین کی محبت کے اظہار کا ایک طریقہ بیان ہے جس سے محض محبت، الفت اور پیار کا تذکرہ مقصود ہوتا ہے ایسی باتوں کا تعلق گویا تکیہ کلام سے ہوتا ہے لیکن اکثر لوگ ایسی باتوں کو حقیقت پر محمول کرتے ہوئے بحث شروع کر دیتے ہیں جو کسی لحاظ سے بھی صحیح اور درست نہیں اس طریقہ بیان سے تقابل ہر گز پیش نظر نہیں ہوتا بلکہ محبت و پیار کے اظہار کا یہ طریقہ ہے جس کو قائم رہنا چاہیے۔ ہند بنت عقبہ کا بیان بنی کریم ﷺ کے متعلق ’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہند بنت عقبہ آئی اور اُس نے آپؐ سے کہا یا رسول اللہ روئے زمین پر کسی کے گھر والے ایسے نہ تھے جن کے بارے میں میری یہ خواہش نہ ہو کہ وہ آپؐ کے گھر والوں سے زیادہ ذلیل ہوں مگر آج یہ کیفیت ہے کہ روئے زمین پر کوئی گھر ایسا نہیں جن کے بارے میں میری یہ خواہش ہو کہ وہ آپؐ کے گھر والوں سے زیادہ معزز ہوں، آپؐ نے فرمایا، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ہم وہی ہیں جو پہلے تھے۔‘‘ اخلاق کی اس صورت سے بہتر صورت اور کیا ہو سکتی ہے کہ کسی آدمی کی اتنی برداشت ہو کہ اپنے خلاف بات سن کر مثبت جواب دے اور کسی طرح کی سرزنش نہ کرے بلکہ خوش دلی سے اس کی طرف سے چشم پوشی کرے اور مخاطب کو صرف اتنا جواب دے کہ میں تو آج بھی وہی ہوں جو کل تھا مجھ میں کسی طرح کی تبدیلی نہیں ہوئی بلکہ آپ نے جو پہلے سمجھا تھا اُس کے برعکس اب تم نے سمجھا ہے اور اس کا فیصلہ بھی آپ ہی پر ہے کہ آپ کی پہلی سمجھ درست تھی یا دوسری۔ سمجھ لینا چاہیے کہ انسان کی یہ کیفیت اچھی نہیں قرار دی جا سکتی کہ جس کے ساتھ کسی طرح کی پرخاش یا دشمنی ہو تو اُس کی ہر بات کو برا سمجھے اور جس سے دوستی اور محبت ہو تو اُس کی ہر بات کو درست اور صحیح سمجھے خواہ وہ بات کتنی غلط کیوں نہ ہو۔ جو ایسا کرتا ہے وہ عقل مند اور سمجھدار انسان نہیں کہلا سکتا خواہ وہ کون ہو، کہاں اور کیسا ہو۔ اس عورت کا ذکر جس کو دنیا میں آپؐ نے جنت کی خوشخبری سے نوازا ’’عطا بن رباح سے روایت ہے کہ ابن عباس نے مجھ سے کہا کیا میں تمہیں ایک جنتی عورت نہ دکھاؤں؟ میں نے عرض کیا ضرور! اُنہوں نے فرمایا اس سیاہ عورت نے نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں عرض کیا تھا کہ مجھے مرگی کے دورے پڑتے ہیں اور میں برہنہ ہو جاتی ہوں اس لیے آپؐ اللہ تعالیٰ سے دُعا کریں کہ وہ مجھ کو اس موذی مرض سے نجات دے آپؐ نے اُسے جواباً فرمایا، تم چاہو تو صبر کرو، تمہارے لیے جنت ہے اور اگر چاہو تو میں دُعا کروں کہ اللہ تمہیں اس موذی مرض سے نجات دے؟ اُس نے کہا کہ میں صبر کرتی ہوں لیکن چونکہ میں برہنہ ہو جاتی ہوں آپؐ اللہ سے دُعا فرمائیں کہ میرے ساتھ ایسا نہ ہو تو آپؐ نے اُس کے لیے دُعا فرمائی‘‘ (بخاری ۵۶۵۲) کیا دو صحابہ کے دوران یہ مکالمہ اپنی دلیل آپ نہیں ہے غور کیجئے کہ عطاء بن رباح رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ دونوں نبی اعظم و آخر ﷺ کے صحابہ کرام ہیں ایک ان دونوں میں اس عورت کی طرف اشارہ کر کے دوسرے کو دکھا رہا ہے کیوں؟ اس لیے کہ آپؐ نے اس عورت کو جنت کی بشارت سنائی تھی اور اس لحاظ سے چاہے وہ کالی بھی تھی اور بیمار بھی لیکن فی الواقعہ وہ زیارت کے لائق تھی لیکن بیمار ہونے کے باوجود وہ کس طرح جنت کا شوق اپنے دل میں رکھتی تھی اور اس شوق کو دنیا کی محبت پر بھی ترجیح دیتی تھی، میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اُس کو یقیناًصحت بھی عطا فرمائی ہو گی اور خصوصاً ایسی مرض میں مبتلا ہو کر اُس کا برہنہ نہ ہونا ہی اُس کی صحت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ برہنہ ہونا بیہوشی کی علامت ہے اور برہنہ نہ ہونا ہوش و حواس قائم ہونے کی علامت ہے۔ اسماء رضی اللہ عنہا کا اپنے بیٹے کو آپؐ کی گود میں رکھنا ’’اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عبداللہ بن الزبیر ان کے پیٹ میں تھے، مدت حمل مکمل ہو چکی تھی کہ میں نے ہجرت کی اور مدینہ آئی وہ کہتی ہیں میں نے قبا میں قیام کیا اور قبا ہی میں عبداللہ کو جنم دیا، پھر میں اسے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لے آئی اور اُس بچہ کو آپؐ کی گود میں رکھ دیا۔ آپؐ نے کھجور طلب فرمائی پھر اسے اپنے منہ میں چبایا اور آب دہن کو بچہ کے منہ میں ڈال دیا یعنی اپنے منہ سے بچہ کے منہ میں کھجور کا شیرہ ڈال دیا اس طرح سب سے پہلی چیز جو عبداللہ کے پیٹ میں گئی وہ رسول اللہ ﷺ کا لعاب دہن تھا جو کھجور سے بنایا گیا تھا گویا اس طرح آپؐ نے اس کو کھجور کی گھٹی دی اور اس کے لیے برکت کی دُعا فرمائی اور یہ ہجرت کے بعد اسلام میں پیدا ہونے والا پہلا بچہ تھا۔‘‘ (بخاری ۳۹۰۹، ۵۴۶۹) اسماء رضی اللہ عنہا کا مکمل تعارف کہ وہ کون ہیں؟ اسماء رضی اللہ عنہ کون ہیں؟ وہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بڑی بیٹی، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بڑی بہن ہیں۔ اسماء رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کی سالی ہیں۔ اسماء رضی اللہ عنہا عبداللہ بن الزبیر کی والدہ ماجدہ ہیں اور یہ وہی عبداللہ ہیں جن کی نسبت سے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے آپؐ کے حکم سے اُس کے نام پر اپنی کنیت اس رکھی اور نسبت کے لحاظ سے ’’ام عبداللہ‘‘ کہلاتی تھیں۔ اسماء رضی اللہ عنہا وہ ہیں جنہوں نے آپؐ کی ہجرت کے وقت آپؐ کے لیے اور اپنے باپ ابوبکر صدیق کے لیے سفر خرچ باندھ کر دیا تھا اور اپنے ازار بند سے اُس کا منہ بند کیا تھا۔ اسماء رضی اللہ عنہا وہ ہیں جو اکثر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتی رہتی تھیں، اکیلے میں بھی اور دوسروں کی موجودگی میں بھی۔ اسماء رضی اللہ عنہا وہ ہیں جن کے ہاں نبی کریم ﷺ اکثر آتے جاتے رہتے تھے اور کھاتے پیتے، اُٹھتے بیٹھتے اور بعض اوقات قیلولہ تک فرما لیا کرتے تھے اسماء رضی اللہ عنہا وہ ہیں جنہوں نے اپنے بیٹے کو جنم دینے کے بعد سب سے پہلے آپؐ کی گود میں نہایت بے تکلفی کے ساتھ لا کر رکھ دیا۔ کیا سالی کے رشتہ کو ایک مقدس رشتہ نہیں کہا جا سکتا؟ اسماء رضی اللہ عنہا وہ ہیں جو آپؐ کے پھوپھی زاد بھائی کی بیوی ہونے کے لحاظ سے آپؐ کی ’’بھاوج ‘‘ بھی ہوتی ہیں اور زبیر رضی اللہ عنہ سے بڑے ہونے کی وجہ سے آپؐ کی یہ بھاوج اور سالی آپؐ کے لیے چھوٹی بہن کے مترادف بھی ہیں۔ سائب بن یزید کا بیان کہ میری خالہ مجھے آپؐ کے پاس لے گئیں ’’سائب بن یزید سے روایت ہے کہ میری خالہ مجھے نبی کریم ﷺ کے پاس لے گئیں اور عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ! میرے بھانجے کے پاؤں میں درد ہے آپؐ نے وضو فرمایا تو میں نے آپؐ کے وضو سے بچا ہوا پانی پیا، پھر میں آپؐ کے پیچھے کھڑا ہو گیا تو میں نے آپؐ کے دونوں کندھوں کے مابین نبوت کی مہر کو دیکھا جو کبوتری کے انڈے کی طرح یا انڈے کے برابر تھی۔‘‘ (بخاری ۱۹۰، ۳۵۴۰، ۳۵۴۱، ۵۶۰۰، ۶۳۵۳) آپؐ معلم بنا کر بھیجے گئے ہیں مردوں کے لیے بھی اور عورتوں کے لیے بھی ان روایات سے یہ بات روزِ روشن کی طرح صاف طور پر واضح ہے کہ آپؐ کے دور کی عورتیں یعنی صحابیات آپؐ کے ہاں اکثر آیا جایا کرتی تھیں اور آپؐ سے بے تکلف بات چیت کرتی تھیں اور مسائل پوچھنے میں بھی بالکل آزاد تھیں باجود اس کے آپؐ کے 9یا 11 گیارہ گھروں میں آپؐ کی ازواج مطہرات بھی مسائل بتانے کے لیے موجود تھیں تاہم آپؐ سے جو دل تسلی پاتے تھے وہ دوسروں سے کیسے سیراب ہو سکتے تھے اور آپؐ نے بھی اپنے پاس کسی آنے والی عورت کو منع نہیں فرمایا کہ جب میں نے آپ کو یعنی عورتوں کو سکھانے کا بہت بڑا انتظام کر دیا ہے تو تم لوگ اُسی انتظام پر اکتفا کرو، کیوں؟ محض اس لیے کہ بعد میں آنے والے لوگوں کے لیے آپؐ کا یہ اسوہ حسنہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قائم رہے اور عورتیں مردوں سے اور بعض اوقات مرد بھی عورتوں سے تعلیم حاصل کرنے میں قباحت نہ سمجھیں اور اپنی اپنی حدود میں رہ کر اسلام کے تبلیغی کام کو رواں دواں رکھیں اور یہ سلسلہ بحمداللہ اُس وقت سے لے کر برابر آج تک بدستور جاری و ساری ہے۔ تعجب ہے کہ عورتوں کے لیے ایک آنکھ کھلی رکھنے کا فتویٰ دینے والے خود بھی اس کام میں برابر کے شریک ہیں فتویٰ اس طرح صادر کرتے ہیں اور عمل اس کے مطابق کرتے ہیں اور اس تعلیم سے بھی تمام علوم کی تعلیم کو عملاً اختیار کرتے ہیں چاہے قولاً اس کی تردید کرتے ہوں کیوں؟ اس لیے کہ ان کی بہنیں اور بیٹیاں باقاعدہ یونیورسٹیوں تک تعلیم حاصل کرتی ہیں اور علاوہ ازیں بھی زندگی کے تمام شعبوں میں ایک سے بڑھ کر ایک خدمات سر انجام دے رہی ہیں اور اکثر غیر ممالک میں بھی اپنی اپنی ضرورت کے تمام کام سر انجام دیتی ہیں۔ عبداللہ بن ہشام نے آپؐ کی زیارت کی ’’عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اُنہوں نے نبی کریم ﷺ کی زیارت اس وقت کی جب وہ ابھی بالکل بچہ تھے اور ان کی والدہ زینب بنت حمید انہیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں لے گئیں اور آپؐ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! آپؐ اس سے بیعت لے لیں آپؐ نے فرمایا کہ یہ ابھی بہت چھوٹا ہے آپؐ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے دُعا فرمائی۔ (بخاری ۲۵۰۱،۷۲۱۰) ام قیس بن محصن کا بیان اپنے چھوٹے بیٹے کے متعلق ’’ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ اپنے چھوٹے بیٹے کو جس نے ابھی تک کھانا کھانا شروع نہیں کیا تھا لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے اُس بچہ کو اپنی گود میں اُٹھا لیا تو اُس نے آپؐ کے کپڑوں پر پیشاب کر دیا، آپؐ نے پانی منگوایا اور اپنے کپڑوں پر چھینٹے مار دیئے اور اُن کو دھویا نہیں تھا۔‘‘ (بخاری ۲۲۳، ۵۶۹۳) اوپر بیان کردہ روایات کا ماحصل مذکورہ روایات سے ہمیں کیا سبق حاصل ہوتا ہے؟ یہی کہ آپؐ کے پاس اکثر عورتوں کی آمد و رفت ہوتی تھی اور آپؐ ہر ایک آنے والی عورت کی بات کو بغور سنتے تھے اور کسی سے بھی کسی طرح کی نفرت نہیں کرتے تھے۔ خصوصاً یہ کہ آپؐ کو اپنی امت کے چھوٹے چھوٹے بچوں سے بہت محبت تھی اور آپؐ ہر بچے کو بخوشی گود میں لے لیتے تھے ان کو پیار کرتے تھے ان کی حرکتوں کو دیکھ کر خوش ہوتے تھے چھوٹے بچوں کے بول و براز کر دینے کو بھی ناگوار نہیں سمجھتے تھے۔ عورتوں کی ان باتوں سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ کھلے چہرہ اور کھلے ہاتھوں آتی جاتی تھیں اور ظاہر ہے کہ وہ کہیں اندر سے اچانک نہیں نکل آتی تھیں بلکہ اپنے گھروں سے آتی تھیں اور یہ بات بھی نہیں کہی جا سکتی کہ وہ اپنے اپنے محرمین کو ساتھ لاتی تھیں کیونکہ کسی بھی گھر کے رہنے والے اپنی اپنی عورتوں کے ساتھ ہر وقت نہیں رہ سکتے تھے جب آپؐ ان کے گھروں میں تشریف لے جاتے تو آپؐ بھی ان کے گھروں کو وہ اہمیت دیتے تھے جو اپنے عزیز و اقارب کے گھروں کو حیثیت حاصل ہوتی ہے کہ اجازت کے ساتھ ایک دوسرے کے گھر میں جایا جا سکتا ہے۔ قرآنِ کریم نے بھی اس طرح ایک دوسرے کے گھر میں آنے جانے کے لیے صرف اجازت لازم قرار دی ہے اور آپؐ کے اسوہ حسنہ سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے۔ ام اُسید کی شادی کا پہلا روز اور ولیمہ کی دعوت کا انتظام ’’حضرت سہل رضی اللہ نہ سے روایت ہے کہ جب ابو اُسید ساعدی رضی اللہ عنہ کی شادی ہوئی تو اُنہوں نے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کو ولیمہ کی دعوت پر بلایا، کھانا ان کی بیوی ام اُسید نے خود تیار کیا اور خود ہی مہمانوں کی خدمت میں پیش کیا حالانکہ وہ دلہن تھیں۔ اور اس مشروب کو بطور خاص آپؐ کی خدمت اقدس میں پیش کیا۔ (بخاری ۵۱۷۶،۵۱۸۲) یہ ایک سبق آموز واقعہ ہے جس پر غور کرنا ضروری ہے یہ ایک منفرد واقعہ ہے کہ دلہن اپنی شادی کا کھانا خود تیار کرے اور پھر خود ہی اُس کو کھانے والے مہمانوں کے سامنے پیش کرے اور اسی طرح آپؐ کے لیے وہ ایک خاص قسم کھا مشروب بھی تیار کرے اور آپؐ کی خدمت میں پیش کرے۔ ظاہر ہے کہ اُس کام کے کچھ حصہ کو مہمانوں نے دیکھا اور کچھ ان کو بخوشی بتایا گیا اور یہ تمام کام جو اس اللہ کی بندی نے اپنے ہاتھوں سر انجام دیا ان دعوت پر مدعو لوگوں نے دیکھا یہ اُس نے ایک آنکھ ہی سے کیا تھا تو ہاتھوں پر کیا چڑھا رکھا ہو گا کیونکہ اس تمام کام میں ہاتھوں کا بہت زیادہ عمل دخل ہے کیونکہ عورت کو ایک آنکھ کھلی رکھنے کی اجازت ہے اگر اُس کا چہرہ یا ہاتھ کھل گئے تو گویا اُس کا ستر کھل گیا۔ اس سے بہتر یہی ہے کہ تسلیم کر لیا جائے کہ عورت کے ہاتھ اور چہرہ ستر میں شامل نہیں اس لیے وہ اس طرح کے تمام کام آزادی کے ساتھ سر انجام دے سکتی ہے خصوصاً جب اُس کا خاوند بھی اس مجلس میں موجود ہے اور جن لوگوں کو اُس نے دعوت پر بلایا ہے اُن کی حقیقت و اصلیت کو وہ سمجھتا ہے اس مجلس کے تمام لوگ ایسے ہیں جو قرآنِ کریم کی اس ہدایت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں مردوں کو اپنے منہ دھیان رہ کر اپنا کام کرنا چاہیے اور عورتوں کو اپنے منہ دھیان رہ کر اپنا کام کرنا چاہیے اور کھانے پینے کی مجلس میں ایک دوسرے کو کوئی چیز پیش کرنا اور کھانے والوں کو اپنی ضرورت کی چیز طلب کرنے میں کچھ مضائقہ نہیں۔ اسلام کا چہرہ مسخ کرنے کے لیے اس وقت ہم نے اسلام کے ذمہ وہ چیزیں لگا دی ہیں جو اسلام کی ہرگز نہیں اور ان ہی چیزوں پر زیادہ زور دیتے ہیں جو خود گھڑی ہوئی ہیں۔ اللہ ہم سب کو اسلام کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور ہم کو پکا اور سچا مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ جمعہ کے روز نہایت خوش و خرم ہونے کا واقعہ ’’ابوحازم سے روایت ہے کہ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا ہم جمعہ کے دن بہت خوش و خرم ہوا کرتے تھے۔ میں نے سہل سے پوچھا کہ کیوں؟ اُس نے کہا ہماری بوڑھیا تھی جو کسی کو باغ کی طرف روانہ کرکے چقندر کی جڑیں منگاتی تھی اور ان کو ہنڈیا میں ڈال کر اوپر جو کے دانے پیس کر ان کا آٹا ڈال دیتی تھی۔ جب ہم نمازِ جمعہ ادا کر لیتے تو اُس بڑھیا کے پاس آتے اُسے سلام کہتے اور وہ اس کھانے کو ہمارے سامنے پیش کرتی ہم اس کی وجہ سے بہت خوش ہوتے تھے اور ہم جمعہ کے روز نمازِ جمعہ کے بعد وہاں ہی قیلولہ کرتے تھے اور دوپہر کا کھانا کھاتے تھے۔ (بخاری ۹۳۸، ۶۲۴۸) خالصۃً دینی محبت کے لیے ایک دوسرے سے ملاقات دعوت کرنے والی یہ بڑھیا کون ہیں اور دعوت کھانے والے کون؟ شارحین نے جو کچھ بیان کیا ہے اُس سے کہیں یہ ثابت نہیں کہ یہ ایک دوسرے کے محرم تھے بلکہ ان کا آپس میں سوائے اسلام کے کچھ رشتہ نہ تھا بوڑھیا محض صحابہ کی خدمت کے شوق میں یہ کام سر انجام دیتی تھیں اور صحابہ محض بڑھیا کی محبت کے اظہار کے لیے ان کے ہاں چلے جاتے تھے وہاں کھانا کھاتے اور قیلولہ کرتے بعد ازیں اپنی اپنی منزل کی طرف چلے جاتے تھے۔ اسلام پیار و محبت کا داعی ہے اور وہ جائز طریقہ سے ایک دوسرے کی عزت و احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کسی کے ہاں آنے جانے سے قطعاً نہیں روکتا جب کہ یہ آنا جانا اجازت کے ساتھ ہو اور آنے جانے والے جن کے ہاں آنا جانا ہے سب کے سب اس کو پسند کرتے ہوں اور ان کا یہ آنا جانا اللہ کی رضا اور اللہ کے دین کی خاطر ہو۔ مذکورہ حدیث پر فتح الباری میں امام ابن حجر کی وضاحت ابوحازم کی مذکورہ حدیث پر بحث کرتے ہوئے فتح الباری میں امام ابن حجر صحیحین کی ان روایات کے علاوہ دوسری کتب کے حوالہ سے درج کرتے ہیں کہ علاوہ ازیں روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ شوہروں کی عدم موجودگی میں بھی عورتوں کے لیے ایسے مہمانوں کے استقبال میں کوئی حرج نہیں جنہیں شوہر پہچانتے ہوں اور قابل اعتماد سمجھتے ہوں۔ طبری نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے عورتوں سے بیعت کے وقت یہ عہد بھی لیا کہ وہ نوحہ کریں گی اور نہ عام مردوں سے باتیں کریں گی تو عبدالرحمن بن عوف جو اُس وقت وہاں موجود تھے بول پڑے اور کہا کہ یا رسول اللہ ہمارے ہاں مہمان آتے ہیں جب کہ ہم اپنی بیویوں کے پاس موجود نہیں ہوتے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری مراد ایسے مردوں سے نہیں ہے کیونکہ اس طرح گھروں میں آنے جانے والے عام مرد نہیں۔ (فتح الباری جلد۱۰ ص۲۶۴) ایک گزشتہ حدیث کا حوالہ جو اس جگہ دیا جا سکتا ہے فتح الباری میں اس جگہ گزشتہ اس حدیث کا حوالہ نہیں دیا گیا حالانکہ صحیحین کا یہ حوالہ بھی اس سلسلہ میں اپنے اندر بہت وضاحت رکھتا ہے کہ جب آپؐ نے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ اور سلمان کے درمیان مواخات قائم کی اور سلمان ابوالدرداء کی غیر حاضری میں اُس کے گھر گئے اور اُس سے اس کے ایک ذاتی مسئلہ کی بات کی اور سلمان وہاں رک گئے اور ابوالدرداء کے ہاں رات گذاری اور اُس کو طریقہ اور سلیقہ سے تعلیم دی اور توجہ دلائی کہ اللہ کے بندے آپ پر اپنی جان اور اپنی بیوی کا بھی حق ہے اگر تم نے ان کے حقوق کا خیال نہ رکھا تو تمہاری عبادت بھی عبادت نہیں رہے گی بلکہ یہ ایک فریب بن جائے گا۔ امام بخاری کا تجزیہ حدیث جو اُنہوں نے خود ہی اپنی بیان کردہ روایت پر کیا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مجھے نبی ﷺ کی کسی بیوی پر اتنا رشک پیدا نہیں ہوا جتنا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر میں نے کیا ہے حالانکہ میری شادی سے پہلے ہی وہ انتقال فرما گئی تھیں۔ یہ رشک اس لیے آتا ہے کہ آپؐ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا کثرت سے ذکر کرتے تھے اور اللہ نے آپؐ کو حکم دیا تھا کہ انہیں جنت میں موتیوں سے بنے ہوئے ایک محل کی بشارت سنا دیں اور رسول اللہ ﷺ جب بھی کوئی بکری ذبح کرتے تو خدیجہ رضی اللہ عنہا کے سہیلیوں کو ان کی ضرورت کے مطابق اُس کا گوشت ارسال فرماتے۔ (بخاری ۳۸۱۶، ۳۸۱۷، ۵۲۲۹، ۶۰۰۴، ۷۴۸۴) اس پر امام بخاری کا تجزیہ یہ ہے وہ اس باب میں کہتے ہیں کہ اس کو مردوں اور عورتوں کے درمیان تحائف کا تبادلہ کہا جا سکتا ہے۔ مؤلف : عبدالکریم اثری |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (27-02-12), مرزا عامر (28-02-12) |
![]() |
| Tags |
| نظر, مقام، اسلام, بصیرت،شخصیت پردہ, عورت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| شریف برادران 30 سال سے کرپشن میں ملوث ہیں، بیرون ملک موجود اثاثے سامنے لائیں، فردوس عاشق اعوان | گلاب خان | خبریں | 4 | 13-07-11 01:42 PM |
| بینظیر قتل، رحمن ملک مکمل تحقیقات عوام کے سامنے لائیں، ناہید خان | گلاب خان | خبریں | 0 | 27-12-10 04:44 AM |
| نواز شریف قرض اتارو ملک سنوارو کا اکائونٹ نمبر بتا دیں، متاثرین کی مدد کی جائے ، بابر اعوان | جاویداسد | خبریں | 10 | 25-08-10 08:27 AM |
| مہاجر کارکنان اور عوام ذہنی و جسمانی طور پر آزاد ہو جائیں، عامر خان | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 17-04-08 09:22 AM |
| عوام مخلص اور بے لوث قیادت کو منتخب کریں، حلیم صدیقی | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-01-08 09:01 AM |