واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم



علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم


عیسیٰ علیہ السلام کی نوری تخلیق وجہ قیام آسمانی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-02-12, 06:02 PM   #1
عیسیٰ علیہ السلام کی نوری تخلیق وجہ قیام آسمانی
rana ammar mazhar rana ammar mazhar آن لائن ہے 08-02-12, 06:02 PM


’’عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت جبرئیل اور مریم کے درمیان واقعہ ہوئی اس لئے وہ آسمان پر اب تک کچھ کھائے پیئے اور پیشاب و پاخانہ اور نیز دیگر بشری ضرورتوں کو پورا کئے بغیر جبرئیل و دیگر فرشتوں کی طرح زندہ ہیں۔‘‘
(اثبات توحیدص ۴۰)

وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الْأَسْوَاقِ ۗ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً أَتَصْبِرُونَ ۗ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيرًا (25:20)
اور ہم نے تم سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے ہیں سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ اور ہم نے تمہیں ایک دوسرے کے لئے آزمائش بنایا ہے۔ کیا تم صبر کرو گے۔ اور تمہارا پروردگار تو دیکھنے والا ہے۔
And the messengers whom We sent before thee were all (men) who ate food and walked through the streets: We have made some of you as a trial for others: will ye have patience? for Allah is One Who sees (all things).‎

والمسیح خلق من ماء مریم ونفخ الملک فکانت النفخۃ لہ کالاب لغیرہ۔

اور عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک طرف اپنی والدہ کے نطفہ سے اور دوسری طرف فرشتہ کا نفخہ آپ کے لئے بمنزلہ باپ کے ٹھہرایا گیا ہے

عیسیٰ علیہ السلام کا جسم جبریل کے وہمی پانی سے اور مریم علیہا السلام کے اصلی پانی سے بنا

آپ کی ولادت

آپ کی نوری تخلیق، خلقت سرور کائنات کے ساتھ ساتھ پیدائش عالم و آدم سے بہت پہلے ہو چکی تھی۔ لیکن انسانی شکل و صورت میں آپ کا ظہور و نمود بعد میں ہوا۔ آپ کی ماں مریم علیہا السلام اور فرشتہ کا نفخہ آپ کے لئے بمنزلہ باپ تھا۔

جیسا کہ آپ ۖ نے فرمایا : ''خدا وند عالم نے میرے نور سے عرش ، میرے بھا ئی علی بن ابی طالب کے نور سے ملائکہ ،میری بیٹی فاطمہ کے نور سے آسمان و زمین اور میرے فرزند حسن کے نور سے چاند ،سورج اور ستارے اور میرے نورعین حسین کے نور سے بہشت و حورالعین کو خلق کیا۔''اور ہاں سنو!''اوّلُ ما خلق اللّٰہ نوری ۔''یعنی سب سے پہلے جس موجود کو خدا وندعالم نے خلق کیا وہ میرا نور تھا ۔

تفسیر کی کوئی مفصل کتاب اُٹھائیں سورہ مریم کی آیت ۱۹ نکال لیں اور ’’فَاَرْسَلْنَا اِلَیْھَا رُوْحَنَا‘‘ کی تفسیر دیکھیں۔ اور اوپر والی قرآنی تشریح و تفسیر ذہن میں رکھیں:

’’جبریل علیہ السلام نے مریم رضی اللہ عنہا کو اس طرح حمل ٹھہرایا جس طرح شوہر اپنی بیوی کو جماع سے حمل ٹھہراتا ہے یا جیسے فرزند کی امید پر اس کے ماں باپ جماع کرتے ہیں‘‘

ایک اور نمونہ ملاحظہ فرمائیں:

’’جس طرح مرد اور عورت دونوں کی منی سے بچہ پیدا ہوتا ہے اسی طرح جبریل ؑ کی رطوبت اور مریمؓ کی رطوبت سے عیسیٰ ؑ پیدا ہوئے۔‘‘

ایک اور نمونہ:

’’اللہ پاک کی شروع سے سنت جاری چلی آ رہی ہے کہ زوجین یا کہ طرفین کے ملاپ کے بغیر فرزند پیدا نہیں ہوتا اور یہ آیت کریمہ بھی اس کی مؤیّد ہے کہ جب تک جبریل علیہ السلام نے متمثل ہو کر وہ کام نہیں کیا جس سے بچہ پیدا ہوتا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام ہر گز پیدا نہیں ہوئے۔‘‘ (ان تینوں عبارتوں کے تفسیری حوالے موجود ہیں انہیں الفاظ میں)۔

’’فکان نصرہ بشرا و نصف الاخر روحا مطھرا ملکا لان جبریل وھبہ لمریم۔‘‘ (فتوحات مکیہ ص۵۷۵)

’’دنیا میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آدھے بشر اور آدھے روح تھے۔ کیونکہ حضرت مریم تو بشر تھیں اور حضرت جبریل روح فَاَرْسَلْنَا اِلَیْھَا رُوْحَنَا ہم نے حضرت مریم کے پاس اپنی روح یعنی جبریل کو بھیجا اور آپ کی پیدائش حضرت جبریل کی پھونک سے ہوئی اس لئے دونوں امور آپ میں موجود ہیں۔‘‘ (جاء الحق ص۹۰) ۔

برادرِ من!

یہ تفسیر سلف کے نام سے مشہور و معروف اور نسلاً بعد نسلٍ بیان کی جا رہی ہے۔ جس کا قرآن مجید سے تعلق ہے اور حدیث رسول اللہ:ﷺ سے تعلق ہے ۔

١٧۔١ یہ علیحدگی اور حجاب (پردہ) اللہ کی عبادت کی غرض سے تھا تاکہ انہیں کوئی نہ دیکھے اور یکسوئی حاصل رہے یا طہارت حیض کے لئے۔ اور مشرقی مکان سے مراد بیت المقدس کی مشرقی جانب ہے۔

١٧۔٢ رُوْح سے مراد حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں، جنہیں کامل انسانی شکل میں حضرت مریم کی طرف بھیجا گیا، حضرت مریم نے جب دیکھا کہ ایک شخص بےدھڑک اندر آ گیا ہے تو ڈر گئیں کہ یہ بری نیت سے نہ آیا ہو۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا میں وہ نہیں ہوں جو تو گمان کر رہی ہے بلکہ تیرے رب کا قاصد ہوں اور یہ خوشخبری دینے آیا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تجھے لڑکا عطا فرمائے گا، بعض قرائتوں میں لِیَھَبَ صیغہ غائب ہے۔ متکلم کا صیغہ (جو موجودہ قراءت میں ہے) اس لئے بولا کہ ظاہری اسباب کے لحاظ سے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ان کے گریبان میں پھونک ماری تھی جس سے باذن اللہ ان کو حمل ٹھہر گیا تھا۔ اس لئے ہبہ کا تناسب اپنی طرف منسوب کر لیا۔ یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کا قول ہو اور یہاں حکایتًا نقل ہوا ہو۔ اس اعتبار سے تقدیر کلام یوں ہوگی۔ (اَ رْسَلَنِیْ، یَقُولُ لَکَ اَرْسَلٰتُ رَسُوْلِیْ اِلَیْکِ الأھَبَ لَکِ) 'یعنی اللہ نے مجھے تیرے لئے یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ میں نے تیری طرف اپنا قاصد یہ بتلانے کے لئے بھیجا ہے کہ میں تجھے ایک پاکیزہ بچہ عطا کروں گا 'اس طرح حذف اور تقدیر کلام قرآن میں کئی جگہ ہے۔

٢ ف سو حضرت مریم علیہا السلام کا اپنے اور لوگوں کے درمیان پردہ حائل کر لینا اس بات کا قرینہ اور ثبوت تھا کہ وہ اعتکاف میں بیٹھ گئیں۔ تو اس دوران اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس اپنا فرشتہ بھیجا۔ جو ایک تندرست و توانا آدمی کی شکل میں ان کے سامنے نمودار ہوا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ کا مقصود حضرت مریم علیہا السلام کا امتحان لینا تھا کہ فرشتہ حضرت مریم علہیا السلام کے سامنے انسانی شکل میں ظاہر ہوا۔ ورنہ حضرات انبیاء کرام کیلئے بھی فرشتوں کا ظہور عام طور پر اس طرح نہیں ہوتا تھا۔ سو اس حادثے کا جو اثر حضرت مریم پر ہوا جو کہ ابھی تک فرشتہ اور ہاتف غیبی وغیرہ سے ناآشنا تھیں اس کا اندازہ کرنا کچھ آسان کام نہیں۔ لیکن حضرت مریم نے اس موقع پر بےمثال کردار کا مظاہر فرمایا۔ جس سے آپ کی طہارت و پاکیزگی اور عفت و پاکدامنی کا عظیم الشان اور بےمثال نمونہ سامنے آتا ہے۔

ف ۹ حضرت جبرائیل نوجوان خوبصورت مرد کی شکل میں پہنچے، جیسا کہ فرشتوں کی عادت ہے کہ عموماً خوش منظر صورتوں میں متمثل ہوتے ہیں۔ اور ممکن ہے یہاں حضرت مریم علیہا السلام کی انتہائی عفت و پاکبازی کا امتحان بھی مقصود ہو کہ ایسے زبردست دواعی و محرکات بھی اس کے جذباتِ عفاف و تقویٰ کو ادنیٰ ترین جنبش نہ دے سکے۔

سُوْرَةُ مَرْیَم حاشیہ نمبر :14

14۔سورہ آل عمران میں یہ بتا یا جا چکا ہے کہ حضرت مریم کی والدہ نے اپنی مانی ہوئی نذر کے مطابق ان کو بیت المقدس میں عبادت کے لیئے بٹھا دیا تھا اور حضرت زکریا نے ان کی حفاظت و کفالت اپنے ذمے لے لی تھی ۔ وہاں یہ ذکر بھی گزر چکا ہے کہ حضرت مریم بیت المقدس کی ایک محراب میں معتکف ہو گئی تھیں ۔ اب یہاں یہ بتا یا جا رہا ہے کہ جس میں حضرت مریم معتکف تھیں بیت المقدس سے شرقی حصے میں واقع تھی اور انہوں نے معتکفین کے عام طریقے کے مطابق ایک پردہ لٹکا کر اپنے آپ کو دیکھنے والوں کی نگاہوں سے محفوظ کر لیا تھا ۔ جن لوگوں نے محض بائیبل کی موافقت کی خاطر مکاناً شرقیاً سے مراد لیا ہے انہوں نے غلطی کی ہے ، کیونکہ ناصرہ یروشلم کے شمال میں ہے نہ کہ مشرق میں ۔

(ف25) یعنی اپنے اور گھر والوں کے درمیان ۔

(ف26) جبریل علیہ السلام ۔

[٨] یعنی لوگوں سے جدا ہو کر عبادت کے لئے خلوت میں بیٹھی تھیں۔

[٩] روح یعنی فرشتہ۔

[١٧] سیدہ مریم کی بیت المقدس کے حجرہ میں عبادت: ۔ سیدنا یحییٰں کی خرق عادت پیدائش کے بعد اب سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ بغیر باپ پیدائش کا آغاز ہو رہا ہے۔ سیدہ مریمؑ بیت المقدس کے مشرقی جانب کے ایک حجرہ میں گوشہ نشین ہو کر اللہ کی عبادت میں مشغول رہا کرتیں۔ پھر اس کمرہ میں بھی ایک پردہ ڈال لیا تاکہ دوسرے لوگوں سے بھی الگ تھلگ رہ کر پوری یکسوئی سے ذکر و فکر میں مشغول رہ سکیں اور اس کا دوسرا مطلب یہ لیا گیا ہے کہ جب جوان ہوئیں تو انہیں حیض آگیا اور بہت زیادہ شرم محسوس ہوئی تو اس وقت سب لوگوں سے پردہ کر لیا۔ پھر اسی علیحدگی میں غسل حیض بھی کیا۔

[١٨] یہاں روح سے مراد فرشتہ ہے۔ سیدنا جبریل ایک نوجوان اور خوبصورت مرد کی شکل میں اسی پردہ کے مقام پر نمودار ہوگئے اور فرشتے جب انسانی شکل میں نبیوں یا برگزیدہ ہستیوں کے پاس آتے ہیں تو عموما خوش منظر صورتوں میں ہی آتے ہیں۔

[١٩] سیدہ مریم اور جبرئیل کا مکالمہ :۔ یہ صورت حال دیکھ کر سیدہ مریمؑ سخت خوفزدہ ہوگئیں اور ان کے لئے یہ انتہائی نازک وقت تھا۔ خود بھی نوجوان تھیں، سامنے نوجوان اور خوش شکل مرد کھڑا تھا۔ تنہائی تھی، کوئی دوسرا پاس موجود بھی نہ تھا۔ نووارد کا نورانی چہرہ دیکھ کر اندازہ کیا کہ آدمی تو کوئی پرہیز گار ہی معلوم ہوتا ہے۔ لہذا اسے اللہ کا واسطہ دے کر کہا کہ میں تیری طرف سے رحمن کی پناہ میں آتی ہوں۔ یعنی اس بات سے کہ تو مجھ پر کسی قسم کی دست درازی کرے۔

ف١٠ مریم نے اول وہلہ میں سمجھا کہ کوئی آدمی ہے۔ تنہائی میں دفعتاً ایک مرد کے سامنے آجانے سے قدرتی طور پر خوفزدہ ہوئیں اور اپنی حفاظت کی فکر کرنے لگیں۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ فرشتہ کے چہرہ پر تقویٰ و طہارت کے انوار چمکتے دیکھ کر اسی قدر کہنا کافی سمجھا کہ میں تیری طرف سے رحمان کی پناہ میں آتی ہوں۔ اگر تیرے دل میں خدا کا ڈر ہوگا (جیسا کہ پاک و نورانی چہرہ سے روشن تھا) تو میرے پاس سے چلا جائے گا اور مجھ سے کچھ تعرض نہ کرے گا۔

٣ ف سو حضرت مریم نے بڑے وقار کے ساتھ اس اچانک نمودار ہونے والے شخص کو مخاطب کر کے اس سے کہا کہ میں تجھ سے اپنے آپ کو خدائے رحمان کی پناہ میں دیتی ہوں اگر تو کوئی خدا ترس انسان ہے۔ جس میں ایک طرف تو اس بشر سَوِیّ (کامل انسان) کے دل کیلئے دستک ہے اور دوسری طرف خدائے رحمان کی رحمتوں بھرے آسرے اور سہارے پر اعتماد کا درس بھی، کہ اہل ایمان کیلئے بےبسی کے عالم میں ہمیشہ یہی سب سے بڑا سہارا ہے۔

٤ ف سو فرشتے نے حضرت مریم کی تسکین و تسلیہ کے طور پر ان سے کہا کہ آپ گھبرائیں نہیں، میں کوئی انسان اور بشر نہیں کہ آپ مجھ سے خوفزدہ ہوں۔ بلکہ میں تو آپ کے رب کا بھیجا ہوا فرشتہ ہوں۔ اور آیا بھی اس لئے ہوں کہ آپ کو ایک پاکیزہ بچہ عطا کروں۔ فرشتے کو چونکہ قدرت کی طرف سے بھیجا ہی اسی لئے گیا تھا اس لئے انہوں نے اس فعل عطا کی نسبت مجازی طور پر اپنے طرف کر لی۔ اسلئے اہل بدعت کا اس سے اپنے شرکیہ عقائد کیلئے استدلال کرنا قیاس مع الفارق، اور اس سے ان لوگوں کا یہ استدلال محض خام خیالی ہے آخر اور کون ایسا ہوسکتا ہے جس کے لئے اس طرح کی کسی نص کے ذریعے فرستادہ رب ہونے کی تصریح فرمائی گئی ہو؟ جب نہیں، اور یقینا نہیں تو پھر یہ قیاس کس طرح صحیح ہو سکتا ہے؟

ف١١ یعنی گھبراؤ نہیں میری نسبت کوئی برا خیال آیا ہو تو دل سے نکال دو۔ میں آدمی نہیں، تیرے اس رب کا (جس کی تو پناہ ڈھونڈتی ہے) بھیجا ہوا فرشتہ ہوں۔ اس لیے آیا ہوں کہ خداوند قدوس کی طرف سے تجھ کو ایک پاکیزہ، صاف ستھرا اور مبارک و مسعود لڑکا عطا کروں۔ (غُلٰمًا زَكِيًّا) 19۔مریم:19) (پاکیزہ لڑکا) کہنے میں اشارہ ہوگیا کہ وہ حسب و نسب اور اخلاق وغیرہ کے اعتبار سے بالکل پاک و صاف ہوگا۔

[٢٠] فرشتے نے جواب دیا۔ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ اگر میرے متعلق کوئی برا خیال آیا ہے تو اسے نکال دو۔ میں آدمی نہیں بلکہ تمہارے پروردگار کا فرستادہ فرشتہ ہوں اور اس لئے آیا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تجھے ایک پاکیزہ لڑکا عطاکروں۔ یہاں جبریلؑ نے لڑکا عطا کرنے کی نسبت جو اپنی طرف کی ہے تو اس سے یہ شبہ نہ ہونا چاہئے کہ فرشتے اللہ کے شریک ہیں اور اللہ نے انہیں کچھ اختیارات تفویض کر رکھے ہیں جیساکہ مشرکین سمجھتے ہیں یا مشرکین مکہ سمجھتے تھے۔ کیونکہ یہاں ساتھ ہی یہ وضاحت موجود ہے کہ ''میں تیرے پروردگار کا فرستادہ ہوں'' یعنی اس کام پر مامور ہوا ہوں۔ مجھے اس کام کا حکم دیا گیا ہے۔ گویا مدبرات امرکام کی نسبت کبھی براہ راست اللہ کی طرف کرتے ہیں، کبھی اپنی طرف اور جب اپنی طرف کریں تو وہ بھی حقیقتا اللہ ہی کی طرف ہوتی ہے۔ جیسے اسی واقعہ کی نسبت ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف کرتے ہوئے فرمایا :
( فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوْحِنَا 12۝ۧ) 66-التحريم:12)

[٢١] یعنی سیدہ مریم کا پہلا خوف تو دور ہوگیا کہ یہ کوئی بدکار آدمی نہیں بلکہ اللہ کا فرستادہ فرشتہ ہے اب حیرت اس بات پر ہوئی کہ لڑکا ہو کیسے سکتا ہے؟ جب تک کسی مرد سے صحبت نہ ہو خواہ یہ بالجبر کی صورت میں ہو یا بالرضا کی صورت میں؟ اور یہ دونوں باتیں یہاں مفقود تھیں۔

ف ١٢ مریم علیہ السلام کے دل میں خدا نے یقین ڈال دیا کہ بیشک یہ فرشتہ ہے، مگر تعجب ہوا کہ جس عورت کا شوہر نہیں جو اس کو حلال طریقہ سے چھو سکتا، اور بدکار بھی نہیں کہ حرام طریقہ سے بچہ حاصل کر لے، اس کو بحالت راہنہ پاکیزہ اولاد کیونکر مل جائے گی، جیسا کہ حضرت زکریا علیہ السلام نے اس سے کم عجیب بشارت پر سوال کیا تھا۔

٢١۔١ یعنی یہ بات تو صحیح ہے کہ تجھے مرد سے مقاربت کا کوئی موقع نہیں ملا ہے، جائز طریقے سے نہ ناجائز طریقے سے۔ جب کہ حمل کے لئے عادتًا یہ ضروری ہے۔
٢١۔٢ یعنی میں اسباب کا محتاج نہیں ہوں، میرے لئے یہ بالکل آسان ہے اور ہم اسے اپنی قدرت تخلیق کے لئے نشانی بنانا چاہتے ہیں۔ اس سے قبل ہم نے تمہارے باپ آدم کو مرد اور عورت کے بغیر، اور تمہاری ماں حوا کو صرف مرد سے پیدا کیا اور اب عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کر کے چوتھی شکل میں بھی پیدا کرنے پر اپنی قدرت کا اظہار کرنا چاہتے ہیں اور وہ ہے صرف عورت کے بطن سے، بغیر مرد کے پیدا کر دینا۔ ہم تخلیق کی چاروں صورتوں پر قادر ہیں۔

٢١۔٣ اس سے مراد نبوت ہے جو اللہ کی رحمت خاص ہے اور ان کے لئے بھی جو اس نبوت پر ایمان لائیں گے۔

٢١۔٤ یہ اسی کلام کا ضمیمہ ہے جو جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کی طرف سے نقل کیا ہے۔ یعنی یہ اعجازی تخلیق۔ تو اللہ کے علم اور اس کی قدرت ومشیت میں مقدر ہے۔

ف١ یہ وہی جواب ہے جو حضرت زکریا علیہ السلام کو دیا گیا تھا۔ گذشتہ رکوع میں دیکھ لیا جائے۔

ف٢ یعنی یہ کام ضرور ہو کر رہے گا، پہلے سے طے شدہ ہے، تخلف نہیں ہو سکتا۔ ہماری حکمت اسی کو مقتضی ہے کہ بدون مس بشر کے محض عورت کے وجود سے بچہ پیدا کیا جائے۔ اور وہ دیکھنے اور سننے والوں کے لیے ہماری قدرت عظیمہ کی ایک نشانی ہو کیونکہ تمام انسان مرد و عورت کے ملنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ آدم علیہ السلام دونوں کے بدون پیدا ہوئے اور حوا کو صرف مرد کے وجود سے پیدا کیا گیا۔ چوتھی صورت یہ ہے کہ جو حضرت مسیح میں ظاہر ہوئی کہ مرد کے بدون صرف عورت کے وجود سے ان کا وجود ہوا۔ اس طرح پیدائش کی چاروں صورتیں واقع ہوگئیں۔ پس حضرت مسیح علیہ السلام کا وجود قدرت الٰہیہ کا ایک نشان اور حق تعالیٰ کی طرف سے دنیا کے لیے بڑی رحمت کا سامان ہے۔

(ف27) یہی منظورِ الٰہی ہے کہ تمہیں بغیر مرد کے چھوئے ہی لڑکا عنایت فرمائے ۔

( ف 28 ) یعنی بغیر باپ کے بیٹا دینا ۔

(ف29) اور اپنی قدرت کی برہان ۔

(ف30) ان کے لئے جو اس کے دین کا اِتّباع کریں اس پر ایمان لائیں ۔

(ف31) لمِ الٰہی میں ، اب نہ رد ہو سکتا ہے نہ بدل سکتا ہے ۔ جب حضرت مریم کو اطمینان ہوگیا اور ان کی پریشانی جاتی رہی تو حضرت جبریل نے ان کے گریبان میں یا آستین میں یا دامن میں یا منہ میں دم کیا اور بقدرتِ الٰہی فی الحال حاملہ ہو گئیں اس وقت حضرت مریم کی عمر تیرہ سال یا دس سال کی تھی ۔

سُوْرَةُ مَرْیَم حاشیہ نمبر :15

15۔ جیسا کہ ہم حاشیہ نمبر 6 میں اشارہ کر آئے ہیں حضرت مریم کے استعجاب پر فرشتے کا یہ کہنا کہ " ایسا ہی ہو گا " ہر گزر اس معنی میں نہیں ہو سکتا کہ بشر تجھ کر چھوئے گا اور اس سے تیرے ہاں لڑکا پیدا ہوگا، بلکہ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ تیرے ہاں لڑکا ہوگا باوجود اس کے کہ تجھے کسی بشر نے نہیں چھوا ہے۔ اوپر انہی الفاظ میں حضرت زکریا کا استعجاب نقل ہو چکا ہے ۔ اور وہاں بھی فرشتے نے یہی جواب دیا ظاہر ہے کہ جو مطلب اس جواب کا وہاں ہے وہی یہاں بھی ہے ۔ اس طرح سورہ ، آیات (28۔ 30 ) میں جب فرشتہ حضرت ابراہیم کو بیٹے کی بشارت دیتا ہے اور حضرت سارہ کہتی ہیں کہ مجھ بوڑھی بانجھ کے ہاں بیٹا کیسے ہوگا تو فرشتہ ان کو جواب دیتا ہے کہ "کذلک " ایسا ہی ہوگا " ظاہر ہے کہ اس سے مراد بڑھاپے اور بانجھ پن کے باوجود ان کے ہاں اولاد ہونا ہے۔ علاوہ بریں اگر کذلک کا مطلب یہ لے لیا جائے کہ بشر تجھے چھوئے گا اور تیرے ہاں اس طرح لڑکا ہوگا جیسے دنیا بھر کی عورتوں کے ہاں ہوا کرتا ہے ، تو پھر بعد کے دونوں فقرے بالکل لے معنی ہو جاتے ہیں ۔ اس صورت میں یہ کہنے کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے کہ تیرا رب کہتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لیئے بہت آسان ہے ، اور یہ کہ ہم اس لڑکے کو ایک نشانی بنانا چاہتے ہیں ۔ نشانی کا لفظ یہاں صریحاً معجزہ کے معنی میں ہیں استعمال ہوا ہے۔ اور اسی معنی پر یہ فقرہ بھی دلالت کرتا ہے کہ "ایسا کرنا میرے لیئے بہت آسان ہے" لہذا اس ارشاد کا مطلب بجز اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ ہم اس لڑکے کی ذات ہی کو ایک معجزہ کی حیثیت سے بنی اسرائیل کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں ۔ بعد کی تفصیلات اس بات کی خود تشریح کر رہی ہیں کہ حضرت عیسی ؑ کی ذات کو کس طرح معجزہ بنا کر پیش کیا گیا ۔

[۱۰] یعنی مرد کے چھوئے بغیر لڑکا ہوگا۔

[١١] یعنی زندہ معجزہ۔

[٢٢] سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش خود ایک معجزہ تھی:۔ یعنی ناممکن ہونے کے باوجود ممکن ہے اور ایسا ہوکے رہے گا کیونکہ اللہ کے لئے یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ اور یہ اس لئے ہوگا کہ ہم اس لڑکے کو تمام لوگوں کے لئے ایک زندہ جاوید معجزہ بنا دیں۔ پھر یہ لڑکا ہماری طرف سے تمہارے لئے از راہ رحم و کرم عطیہ بھی ہے اور تمام لوگوں کے لئے بھی رحمت ثابت ہوگا۔

واضح رہے کہ تخلیق کے لئے چار ہی صورتیں ہوسکتی ہیں۔

ایک یہ کہ ماں اور باپ دونوں سے پیدا ہو، یہ صورت عام ہے اور سب انسان یا جاندار ایسے ہی پیدا ہوئے ہیں۔ دوسری یہ کہ ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا ہو۔ اس طرح سیدنا آدم کو پیدا کیا گیا۔ تیسری یہ کہ صرف مرد سے پیدا ہو۔ جیسے سیدہ حوا کو آدم سے پیدا کیا گیا۔ اور چوتھی یہ کہ صرف عورت سے پیدا ہو۔ یہ صورت ابھی تک وجود میں نہ آئی تھی جو سیدنا عیسی کی پیدائش سے پوری ہوگئی۔

[٢٣] سیدہ مریم میں روح جبرئیل نے پھونکی تھی یا اللہ تعالیٰ نے ؟ روایات میں ہے کہ یہ کہہ کر سیدنا جبریل نے سیدہ مریم کی قمیص کے گریبان میں روح پھونکی جسے سورہ تحریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا: (فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوْحِنَا 12۝ۧ) 66-التحريم:12)۔ یعنی یہ روح ہم نے پھونکی تھی۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ جبریل نے یہ کیوں کہا تھا ''تاکہ میں تجھے ایک پاکیزہ لڑکا عطا کروں'' اس نفخہ جبریل یا نفخہ الٰہی سے سیدہ مریم کو حمل قرار پا گیا۔ اسی وجہ سے آپ کو روح اللہ کہتے ہیں۔

حمل کی وجہ سے سیدہ مریم کا بیت المقدس سے چلے جانا :۔ جب آپ حاملہ ہوگئیں تو اب شرم کے مارے وہاں رہنا گوارا نہ کیا اور آپ بیت المقدس کا حجرہ چھوڑ کر دور کسی مقام پر چلی گئیں۔ کہتے ہیں کہ یہ مقام بیت اللحم تھا جو وہاں سے تقریبا آٹھ میل دور ہے۔

سُوْرَةُ مَرْیَم حاشیہ نمبر :16

16۔ دور کے مقام سے مراد لحم ہے ۔ حضرت مریم کا اپنے اعتکاف سے نکل کر وہاں جانا ایک فطری امر تھا ۔ نبی اسرائیل کے مقدس ترین گھرانے بی ہارون کی لڑکی ، اور پھر وہ جو بیت المقدس میں خدا کی عبادت کے لیئے وقف ہو کر بیٹھی تھی ، یکایک حاملہ ہو گئی ۔ اس حالت میں اگر وہ اپنی جائے اعتکاف پر بیٹھی رہتیں اور ان کا حمل لوگوں پر ظاہر ہو جاتا تو خاندان والے ہی نہیں " قوم کے دوسرے لوگ بھی ان کا جینا مشکل کر دیتے ۔ اس لیئے بے چاری اس شدید آزمائش میں مبتلا ہونے کے بعد خاموشی کے ساتھ اپنے اعتکاف کا حجرہ چھوڑ کر نکل کھڑی ہوئیں تاکہ جب تک اللہ کی مرضی پوری ہو، قوم کی لعنت ملامت اور عام بدنامی سے تو بچی رہیں ۔ یہ واقعہ بجائے خود اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ حضرت عیسی ؑ باپ کے بغیر پیدا ہوئے تھے ۔ اگر وہ شادی شدہ ہوتیں ور شوہر ہی سے ان کے ہاں بچہ چلی جاتیں ۔

(ف32) اپنے گھر والوں سے اور وہ جگہ بیت اللحم تھی ۔ وہب کا قول ہے کہ سب سے پہلے جس شخص کو حضرت مریم کے حمل کا علم ہوا وہ ان کا چچا زاد بھائی یوسف نجار ہے جو مسجدِ بیت المقدس کا خادم تھا اور بہت بڑا عابد شخص تھا اس کو جب معلوم ہوا کہ مریم حاملہ ہیں تو نہایت حیرت ہوئی ، جب چاہتا تھا کہ ان پر تہمت لگائے تو ان کی عبادت و تقوٰی ، ہر وقت کا حاضر رہنا ،کسی وقت غائب نہ ہونا یاد کر کے خاموش ہو جاتا تھا اور جب حمل کا خیال کرتا تھا تو ان کو بری سمجھنا مشکل معلوم ہوتا تھا بالآخر اس نے حضرت مریم سے کہا کہ میرے دل میں ایک بات آئی ہے ہر چند چاہتا ہوں کہ زبان پر نہ لاؤں مگر اب صبر نہیں ہوتا ہے آپ اجازت دیجئے کہ میں کہہ گزروں تاکہ میرے دل کی پریشانی رفع ہو ، حضرت مریم نے کہا کہ اچھی بات کہو تو اس نے کہا کہ اے مریم مجھے بتاؤ کہ کیا کھیتی بغیر تخم اور درخت بغیر بارش کے اور بچہ بغیر باپ کے ہو سکتا ہے ؟ حضرت مریم نے فرمایا کہ ہاں تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو سب سے پہلے کھیتی پیدا کی بغیر تخم ہی کے پیدا کی اور درخت اپنی قدرت سے بغیر بارش کے اگائے کیا تو یہ کہہ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پانی کی مدد کے بغیر درخت پیدا کرنے پر قادر نہیں ؟ یوسف نے کہا میں یہ تو نہیں کہتا بیشک میں اس کا قائل ہوں کہ اللہ ہر شے پر قادر ہے جسے کن فرمائے وہ ہو جاتی ہے ، حضرت مریم نے کہا کہ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور ان کی بی بی کو بغیر ماں باپ کے پیدا کیا ، حضرت مریم کے اس کلام سے یوسف کا شبہ رفع ہو گیا اور حضرت مریم حمل کے سبب سے ضعیف ہو گئیں تھیں اس لئے وہ خدمتِ مسجد میں ان کی نیابت انجام دینے لگا ، اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کو الہام کیا کہ وہ اپنی قوم سے علٰیحدہ چلی جائیں اس لئے وہ بیت اللحم میں چلی گئیں ۔

مریم علیہا السلام اور حضرت جبرائیل علیہ السلام ۔

مروی ہے کہ جب آپ فرمان الہٰی تسلیم کر چکیں اور اس کے آگے گردن جھکا دی تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ان کے کرتے کے گربیان میں پھونک ماری ۔ جس سے انہیں بحکم رب حمل ٹھہر گیا اب تو سخت گبھرائیں اور یہ خیال کلیجہ مسوسنے لگا کہ میں لوگوں کو کیا منہ دکھاؤں گی ؟ لاکھ اپنی برات پیش کروں لیکن اس انوکھی بات کو کون مانے گا ؟ اسی گھبراہٹ میں آپ تھیں کسی سے یہ واقعہ بیان نہیں کیا تھا ہاں جب آپ اپنی خالہ حضرت زکریا علیہا السلام کی بیوی کے پاس گئیں تو وہ آپ سے معانقہ کرکے کہنے لگیں بچی اللہ کی قدرت سے اور تمہارے خالو کی دعا سے میں اس عمر میں حاملہ ہوگئی ہوں ۔ آپ نے فرمایا خالہ جان میرے ساتھ یہ واقعہ گزرا اور میں بھی اپنے آپ کو اسی حالت میں پاتی ہوں چونکہ یہ گھرانہ نبی کا گھرانہ تھا ۔ وہ قدرت الہٰی پر اور صداقت مریم پر ایمان لائیں ۔ اب یہ حالت تھی کہ جب کبھی یہ دونوں پاک عورتیں ملاقات کرتیں تو خالہ صاحبہ یہ محسوس فرماتیں کہ گویا ان کا بچہ بھانجی کے بچے کے سامنے جھکتا ہے اور اس کی عزت کرتا ہے ۔ ان کے مذہب میں یہ جائز بھی تھا اسی وجہ سے حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے اور آپ کے والد نے آپ کو سجدہ کیا تھا ۔ اور اللہ نے فرشتوں کو حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ کرنے کاحکم دیا تھا لیکن ہماری شریعت میں یہ تعظیم اللہ کے لیے مخصوص ہو گئی اور کسی دوسرے کو سجدہ کرنا حرام ہو گیا کیونکہ یہ تعظیم الہٰی کے خلاف ہے ۔ اس کی جلالت کے شایان شان نہیں ۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام خالہ زاد بھائی تھے ۔ دونوں ایک ہی وقت حمل میں تھے ۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی والدہ اکثر حضرت مریم سے فرماتی تھیں کہ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میرا بچہ تیرے بچے کے سامنے سجدہ کرتا ہے ۔ امام مالک رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کیونکہ اللہ نے آپ کے ہاتھوں اپنے حکم سے مردوں کو زندہ کر دیا اور مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بھلا چنگا کر دیا ۔ جمہور کا قول تو یہ ہے کہ آپ نو مہینے تک حمل میں رہے ۔ عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں آٹھ ماہ تک ۔ اسی لئے آٹھ ماہ کے حمل کا بچہ عموما زندہ نہیں رہتا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں حمل کے ساتھ ہی بچہ ہو گیا ۔ یہ قول غریب ہے ۔ ممکن ہے آپ نے آیت کے ظاہری الفاظ سے یہ سمجھا ہو کیونکہ حمل کا الگ ہونے کا اور دردزہ کا ذکر ان آیتوں میں " ف " کے ساتھ ہے اور "ف" تعقیب کے لئے آتی ہے ۔ لیکن تعقیب ہر چیز کی اس کے اعتبار سے ہوتی ہے جیسے عام انسانوں کی پیدائش کا حال آیت قرآن ( وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰـلَـةٍ مِّنْ طِيْنٍ 12 ؀ۚ) 23-المؤمنون:12) میں ہوا ہے کہ ہم نے انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا پھر اسے بصورت نطفہ رحم میں ٹھہرایا پھر نطفے کو پھٹکی بنایا پھر اس پھٹکی کو لو تھڑا بنایا، پھر اس لوتھڑے میں ہڈیاں پیدا کیں ۔ یہاں بھی دو جگہ " ف" ہے اور ہے بھی تعقیب کے لیے۔ لیکن حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ان دو حالتوں میں چالیس دن کافاصلہ ہوتا ہے ۔ قرآن کریم کی آیت میں ہے ( اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً ۡ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَطِيْفٌ خَبِيْرٌ 63؀ۚ) 22-الحج:63) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برساتا ہے ۔ پس زمین سرسبز ہوجاتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ پانی برسنے کے بعد سبزہ اگتا ہے ۔ حالانکہ "ف" یہاں بھی ہے پس تعقیب ہر چیز کے اعتبار سے ہوتی ہے ۔ سیدھی سی بات تو یہ ہے کہ مثل عادت عورتوں کے آپ نے حمل کا زمانہ پورا گزارا مسجد میں ہی۔ مسجد کے خادم ایک صاحب اور تھے جن کا نام یوسف نجار تھا ۔ انہوں نے جب مریم علیہا السلام کا یہ حال دیکھا تو دل میں کچھ شک سا پیدا ہوا لیکن حضرت مریم کے زہد وتقوی ، عبادت وریاضت ، خشیت الہٰی اور حق بینی کو خیال کرتے ہوئے انہوں نے یہ برائی دل سے دور کرنی چاہی ، لیکن جوں جوں دن گزرتے گئے حمل کا اظہار ہوتا گیا اب تو خاموش نہ رہ سکے ایک دن با ادب کہنے لگے کہ مریم میں تم سے ایک بات پوچھتا ہوں ناراض نہ ہونا بھلا بغیر بیج کے کسی درخت کاہونا، بغیر دانے کے کھیت کا ہونا ، بغیر باپ کے بچے کا ہونا ممکن بھی ہے ؟ آپ ان کے مطلب کو سمجھ گئیں اور جواب دیا کہ یہ سب ممکن ہے سب سے پہلے جو درخت اللہ تعالیٰ نے اگایاوہ بغیر بیج کے تھا ۔ سب سے پہلے جو کھیتی اللہ نے اگائی وہ بغیر دانے کی تھی ، سب سے پہلے اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا وہ بےباپ کے تھے بلکہ بےماں کے بھی ان کی تو سمجھ میں آگیا اور حضرت مریم علیہا السلام اور اللہ کی قدرت کو نہ جھٹلا سکے ۔ اب حضرت صدیقہ نے جب دیکھا کہ قوم کے لوگ ان پر تہمت لگا رہے ہیں تو آپ ان سب کو چھوڑ چھاڑ کر دور دراز چلی گئیں ۔ امام محمد بن اسحاق رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں جب حمل کے حالات ظاہر ہوگئے قوم نے پھبتیاں پھینکی ، آوازے کسنے اور باتیں بنانی شروع کر دیں اور حضرت یوسف نجار جیسے صالح شخص پر یہ تہمت اٹھائی تو آپ ان سب سے کنارہ کش ہوگئیں نہ کوئی انہیں دیکھے نہ آپ کسی کو دیکھیں ۔

جب دردزہ اٹھا تو آپ کجھور کے ایک درخت کی جڑ میں آبیٹھیں کہتے ہیں کہ یہ خلوت خانہ بیت المقدس کی مشرقی جانب کا حجرہ تھا۔ یہ بھی قول ہے کہ شام اور مصر کے درمیان آپ پہنچ چکی تھیں اس وقت بچہ ہونے کا درد شروع ہوا ۔ اور قول ہے کہ بیت المقدس سے آپ آٹھ میل چلی گئی تھیں اس بستی کا نام بیت لحم تھا ۔ معراج کے واقعہ کے بیان میں پہلے ایک حدیث گزری ہے جس میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی جگہ بھی بیت لحم تھا ۔ واللہ اعلم ۔ مشہور بات بھی یہی ہے اور نصرانیوں کا تو اس پر اتفاق ہے اور اس حدیث میں بھی ہے اگر یہ صحیح ہو ۔ اس وقت آپ موت کی تمنا کرنے لگیں کیونکہ دین کے فتنے کے وقت یہ تمنا بھی جائز ہے ۔ جانتی تھیں کہ کوئی انہیں سچا نہ کہے گا انکے بیان کردہ واقعہ کو ہر شخص گھڑنت سمجھے گا ۔ دنیا آپ کو پریشان کر دے گی اور عبادت واطمینان میں خلل پڑے گا ۔ ہر شخص برائی سے یاد کرے گا اور لوگوں پر برا اثر پڑے گا ۔ تو فرمانے لگیں کاش کہ میں اس حالت سے پہلے ہی اٹھالی جاتی بلکہ میں پیدا ہی نہ کی جاتی اس قدر شرم وحیا دامن گیر ہوئی کہ آپ نے اس تکلیف پر موت کو ترجیح دی اور تمنا کی کہ کاش میں کھوئی ہوئی اور یاد سے اتری ہوئی چیز ہو جاتی کہ نہ کوئی یاد کرے ۔ نہ ڈھونڈے ، نہ ذکر کرے ، احادیث میں موت مانگنے کی ممانعت وارد ہے ۔ ہم نے ان روایتوں کو آیت (تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ ١٠١؁) 12-یوسف:101)، کی تفسیر بیان کردیا ہے ۔

ف٣ کہتے ہیں فرشتہ نے پھونک ماری حمل ٹھہر گیا۔ وفی البحر۔ "وَذَکَرُوْا اَنَّ جِبْرَءِ یْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ نَفَخَ فِیْ جَیْبِ دَرْعِہَا اَوْفِیْہِ وَفِیْ کُمِّہَا۔ والظاہران المسندالیہ لنفخ ہو اللّٰہ تعالیٰ لقولہ فنفخنا (ص١٨١/٦) کما قال فی ادم ونفخت فیہ من روحی واللّٰہ اعلم۔

ف٤ یعنی جب وضع حمل کا وقت قریب آیا شرم کے مارے سب سے علیحدہ ہو کر کسی بعید مکان میں چلی گئی۔ شاید وہ ہی جگہ ہو جسے "بیت اللحم" کہتے ہیں۔ یہ مقام "بیت المقدس" سے آٹھ میل ہے ذکرہ ابن کثیرعن وہب۔

جنس انسان اول کی پیدائش اس قادر مطلق اللہ نے جس طریقہ سے مناسب سمجھی ہے جس کا علم بجز ذات باری تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں ہے ہمیں تو صرف اور صرف اس کے بتانے سے معلوم ہوا کہ تمام کائنات میں سے جو اللہ ہی کی مخلوق ہے انسان کو احسن تقویم پیدا کیا ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ میں نے انسان اول کو اپنے ہاتھ (قدرت) سے بنایا اور اس میں اپنی تخلیق کی گئی روح پھونک دی اور اس کائنات کی تمام مخلوقات کا سیدو سردار اس کو بنا دیا اور اس جنس انسان اول میں نسل انسانی کی بقا کے لئے توالد و تناسل کا سلسلہ قائم کر دیا اور اعلان فرمایا کہ یہ جنس انسان اول میر ا فعل ہے اور اس کے لئے توالد و تناسل کا سلسلہ میرا قول بھی ہے اور فعل بھی اور میرے فعل اور قول میں تبدیلی کا امکان نہیں لہٰذا نسل انسانی کی پیدائش نطفہ سے جاری ہے اور اسی سے جاری رہے گی۔

جیسا کہ قرآن مجید میں جو اللہ تعالیٰ کا قول ہے سوہ نحل آیت نمبر ۴ میں فرمایا:

’’اس نے انسان کو ایک قطرہ منی سے پیدا کیا پھر وہ ایک جھگڑنے والا اور ابھرنے والا ہو گیا۔‘‘

اس کی مزید وضاحت یوں فرما دی:

(سورہ النجم آیت ۴۵،۴۶)

’’اور بلا شبہ اس نے نر و مادہ دونوں قسموں کو پیدا کیا۔ (اس) بوند سے جو ٹپکنے والی ہے۔‘‘

پھر اس کی مزید تشریح سورہ طارق (۵تا ۷) میں فرما دی:

’’پس انسان کو چاہیے وہ دیکھے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔ وہ اچھلتے پانی (کی ایک بوند ہی) سے توپیدا کیا گیا ہے۔ جو پانی پیٹھ اور سینہ (کی ہڈیوں) کے درمیان سے نکلتا ہے۔‘‘

لیکن تخلیق کا یہ ضابطہ نسل انسانی کے لئے ہے انسانِ اول کے لئے نہیں۔


یہ اور اس طرح کی دوسری آیات کریمات آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں اور مزید آگے پڑھیں گے پوری نسل انسانی کے لئے اس ضابطہ تخلیق نسل انسانی کا بیان ہے جس سے انسان (مرد و عورت) پیدا ہوئے، پیدا ہو رہے ہیں، پیدا ہوتے رہیں گے۔ جب تک اس نسل انسانی کی بقاء علم الٰہی میں موجود ہے۔

یہ قانون قدرت اس قادر مطلق نے اپنی مرضی سے بنایا اور اپنی مرضی سے اس کا اعلان فرما دیا اور اس میں کسی قسم کی کوئی استثناء نہیں فرمائی۔ قرآن مجید کی ان آیات کریمات کو بار بار پڑھیں اور خوب غور کریں آپ کسی ایک جگہ پر بھی استثنا نہیں پائیں گے۔

لیکن عیسیٰ علیہ السلام کو اس ضابطہ سے استثناء حاصل ہے کیونکہ آپ ؑ نوری مخلوق ہیں !!!

مذاہب عالم کا مطالعہ کرنے والا یقیناً اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ ہر مذہب کے ماننے والوں نے کسی نہ کسی انسان کو ضرور اس ضابطہ تخلیق انسانی سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔

چونکہ اللہ تعالیٰ کا واضح اور کھلا ارشاد ہے کہ

یٰاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی۔
(۴۹:۱۳)

اور قرآن کریم نے بھی اعلان فرمایا کہ:

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ۔
(۷۶:۲)
’’بلاشبہ ہم نے انسان کو مخلوط نطفے سے پیدا کیا‘‘

لیکن عیسیٰ علیہ السلام کو اس ضابطہ سے استثناء حاصل ہے کیونکہ آپ ؑ نوری مخلوق ہیں !!!

لہٰذا ہمارے علمائے گرامی قدر نے اس کی تاویل یوں کی ہے کہ جبرئیل نے وہ سب کام کیا جو اولاد کے لئے والد کرتا ہے۔ تب اولا دممکن ہوتی ہے۔

۱۔ ’’وکانت النفخۃ التی نفخہا فی جیب درعھا فنزلت حتی ولجت فرجہا بمنزلۃ لقاح الاب الام‘‘
(ابن کثیر)

۲۔ ’’ اتا ھا جبریل متمثلا بصورۃ شاب امرد سوی الخلق لتستانس بکلامہ و لعلہ لیھیج شہوتھا متحدر نطفتھا الی رحمھا۔‘‘
(بیضاوی)

۳۔ ’’ و ذکر غیر واحد من السلف انہ نفخ جیب درعھا فنزلت النفخۃ الی فرجھا فحملت من رورھا کما تحمل المرأۃ عند جماع زوجہا۔‘‘
(الجواب الفسیح)

۴۔ ’’ ثم ان مریم حاضت فی ایام سربان قوی الروحانیت فی تلک البقعۃ فلما ظہرت انتبذت الی مکان بعید من الناس لتغسل فاسدلت ستراً و نزعت ثیابھا فارسل اللہ الیھا جبرئیل فی صورۃ شاب سوی الخلق ممتلءًا شباباً و جمالاً فرأتہ مریم وھی شابۃ قفیۃ المزاج فخالفت علی نفسھا الفساد والتجأت الی اللہ بقلبھا لیعصمھا فکانت لھا حالہ عجیبۃ اما الطبیعۃ فحصل لھا ما یحصل عند الجماع من ثوران القوی النسلیۃ کما ان النظر وبما کان سببا للانزال واما النفس فححصل لھا الالتجاء الی اللہ واعتصام بہ حتی ملئت من حالۃ عصمیۃ فائضۃ من الغیب واما الصورۃ الانسانیۃ فکانت علی شرف الظھور لمخالطۃ الروح الامین۔ ولھا قال جبرئیل علیہ السلام (انا رسول ربک لاھب لک غلاماً زکیاً) ابتہجت وانشرحت و آنست ولما رای جبرئیل ھذا حالھا نفخ فی فرجھا فدغدت النفخۃ رحمھا فانزلت وکان فی منیھا قوۃ منی الذکر فحملت والقوی فی الجنین ما کان غالبا علی مریم من الاعتصام باللہ والالتجاء الیہ والابتھاج والانبساط بالھیءۃ الملکیۃ فان حالتھا سرت فی کل قوۃ من نفسھا حتی المصورۃ والمولدۃ والامر ما امر الاطباء لمن اراد ان یذکر و ولدہ ان یتصور فی حالۃ الجماع غلاما والقوی فیہ حکم عالم المثال و خواص الروح من قبل نفخ جبرئیل اذا ھو السبب فی التصور فحصلت فی حبلۃ ملکۃ راسخۃ شبیھۃ بجبرئیل وھذا معنی تائید اللہ بروح القدس۔‘‘
(تاویل الاحادیث ص۷۳)

۵۔ ’’ پھر مریم میں شہوت سرایت کی اور مریم کے اصل پانی اور جبریل کے وہمی پانی سے جو اس نفخ کی رطوبت میں آیا تھا عیسیٰ علیہ السلام کا جسم بنا کیونکہ جسم حیوانی کے نفخ میں رطوبت ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں ارکان اربعہ سے پانی کا رکن ہوتا ہے کہ اِس سے عیسیٰ علیہ السلام کا جسم جبریل کے وہمی پانی سے اور مریم علیہا السلام کے اصلی پانی سے بنا اور عیسیٰ علیہ السلام دو جہت سے بشر کی صورت ہوئے ایک جہت ان کی ماں کی طرف سے تھی اور دوسری جہت جبریل سے تھی کیونکہ وہ بشر کی صورت پر ظاہر ہوئی تھی۔ اور یہ دو جہتیں اس واسطے ہوئیں کہ اس نوع انسانی میں تکوین خلاف عادت نہ واقع ہو۔‘‘
(شخ اکبر، فصوص الحکم)

۶۔ ’’ جس طرح مرد اور عورت دونوں کی منی سے بچہ پیدا ہوتا ہے اسی طرح جبریل علیہ السلام کی رطوبت سے اور مریم رضی اللہ عنہا کی رطوبت سے عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تھے اور یہ جو بے نکاح کام ہوا دوسروں کے نکاح سے اچھا ہے۔‘‘
(تفسیر تبصیر الرحمن)

۷۔ ’’ جس طرح نر اپنی مادہ سے جفتی ہو کر اسے حمل ٹھہراتا ہے اس طرح جبریل علیہ السلام نے مباشرت فرما کر مریم رضی اللہ عنہا کو حمل ٹھہرایا تھا۔ لہٰذا جبریل علیہ السلام عیسیٰ علیہ السلام کے بمنزلہ باپ ٹھہرے۔‘‘
(تحفۃ الودود اور کتاب الروح)

۸۔ ’’ فرشتہ نہایت خوبصورت بے ریش گھنگریالے بال والا نوجوان بن کر آیا اور جس طرح نر مادہ سے مل کر یا جس طرح شوہر بیوی سے ہم بستر ہو کر اسے حمل ٹھہرا دیتا ہے اسی طرح اس نے اسے حمل ٹھہرا دیا۔‘‘
(ابو البرکات بغدادی)

۹۔ ’’ دنیا میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آدھے بشر اور آدھے روح تھے۔ کیونکہ حضرت مریم ؑ تو بشر تھیں اور حضرت جبریل روح(فَاَرْسَلْنَا اِلَیْھَا رُوْحَنَا) ہم نے حضرت مریم کے پاس اپنی روح یعنی جبریل کو بھیجااور آپ کی پیدائش حضرت جبریل ؑ کی پھونک سے ہوئی اس لئے دونوں امور آپ میں موجود ہیں۔‘‘
(جاء الحق ص۹۰)

۱۰۔ ’’ شبہ نیست در ایں کہ از قدیم عادت اللہ جاری بر ایں منوال است کہ اولاد از نطفتیں منعقد می شود و متولد می گیر دوبدوں آب منی تولد ولد حسب عادت جاریہ ممکن نیست۔ ما قبل آیت زیر بحث (فَتَمَثَّلَ لَھَا بَشَرًا ثَوِیًّا) نیز مؤید ہمیں مراہم است کہ تامتمثل بشر نزد مریم نبا ید حاملہ نشد۔‘‘

’’بر فرض تسلیم تاہم تو اند گفت کہ عیسیٰ ولد جبرئیل است واو قدسی می باشد پس بالیقین عیسیٰ غیر جنس است زیرا کہ از وجہ ولادت جز جبریل است و اعتبار ابوت وارد نہ اموت وگرنہ ذو اعتبارین بشری من جہتہ الام و ذو اعتبار قدسی بجہت فرشتہ بودن اب او می باشد تازہم بنص قرآن و زعم مسلماناں ثابت گردید کہ عیسیٰ فی الواقع بشرنیست۔‘‘
(سید علی جائری تفسیر القرآن)

۱۱۔ ’’ پھر حضرت مریم کو اس جگہ روحانی قوتوں کے جاری ساری ہونے کے زمانہ میں ماہواری کے دن آئے۔ جب ان سے پاک ہوئیں تو لوگوں سے ایک الگ مکان میں غسل کرنے کے لئے گئیں اور پردہ ڈال کر کپڑے اتار دئیے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ایک کامل خلقت جوان کی صورت میں جبرئیل کو بھیجا جو جوانی اور خوبصورتی سے بھرا ہوا تھا اور حضرت مریم نے ان کو دیکھا اور خود بھی جوان اور قوی مزاج والی تھیں ان کو اپنے نفس پر فساد کا ڈر لاحق ہوا اور دل سے اللہ کے حضور میں دعا کی کہ ان کی عصمت پر کوئی حرف نہ آئے پھر اس کو ایک عجیب حالت پیش آئی طبیعت میں قوائے نسلیہ کا ہیجان ہوا اور اس سے وہ (لذت کی ) کیفیت پیدا ہوئی جو جماع کے وقت ہوتی ہے جیسے کبھی کسی کو نظر کرنے سے انزال ہو جاتا ہے اور نفس کو اللہ تعالیٰ سے التجاء تھی اور اس کے ساتھ تمسک تھا۔ یہاں تک وہ غائب سے فائض ہونے والی پاک دامنی کی حالت میں مالا مال ہو گئیں۔

صورت انسانیہ کی یہ حالت تھی کہ جبرئیل کے اختلاط سے عنقریب ظاہر ہونے والی تھی۔

جب جبرئیل علیہ السلام نے ان سے یہ کہا میں تو تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں کہ دے جاؤں تجھ کو لڑکا ستھرا تو مریم خوش و خرم اور مانوس ہو گئیں اور حضرت جبرئیل نے جب ان کے حال کو دیکھا تو ان کے ستر میں پھونک لگا دی۔ اس پھونک سے اس میں تاثر ہوا اور وہ منزل ہو گئیں۔ حضرت مریم کے نطفے میں مرد کے نطفے جیسی قوت تھی اس لئے وہ حاملہ ہو گئیں اور جو بات سیدہ مریم میں تھی وہ سب اس بچہ میں آ گئی۔ مثلاً اللہ سے تمسک کرنا اس کی طرف التجاء کرنا اور ملکی ہیئت سے خوش و خرم ہونا۔

کیونکہ حضرت مریم کی حالت اس کے نفس کی ہر قوت مصورہ اور مولودہ تک اس میں سرایت کر گئی تھی اور بات وہ ہے جو اطباء کہتے ہیں کہ جو شخص چاہے کہ اس کے لڑکا پیدا ہو تو وہ جماع کے وقت لڑکے کا تصور پیدا کرے۔

حضرت جبرئیل کی پھونک سے اس لڑکے میں عالم مثال کا حکم اور روح کے خواص آ گئے تھے کیونکہ صورت بننے کا سبب وہی تھا اس سے حضرت مسیح کی جبلت میں جبرئیل کے مشابہ ایک راسخ ملکہ پیدا ہوا اور حضرت مسیحؑ کی روح القدس کے ساتھ تائید کا یہی مقصد ہے۔‘‘
(ماہ نامہ الرحیم ماہ دسمبر ۱۹۸۷ ؁ء اداریہ)

حضرت العلام حافظ محمد صاحب گوندلوی رحمۃ اللہ علیہ امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان رقمطراز ہیں:

۱۲۔ ’’عربی زبان میں لفظ ولد کا حقیقی اطلاق جہاں کہیں بھی ہوتا ہے اس کے لئے اصلین کا ہونا ضروری ہے اور ولد کے لئے اگر اس کی ماں کی طرف نسبت ہو تو دوسرا اس کا باپ ہونا چاہیے۔ پس ولد کی ماں ولد کے باپ کے لئے صاحبہ (بیوی) ہو گی نیز ولد کے لئے ضروری ہے کہ اصلین کے مادہ سے منفک ہو کر تیار ہو یعنی ولد کے لئے اصلین کی ضرورت ہے اور مادہ منفک بھی لازم ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ پس لفظ ولد کے معنی ہیں جزء خاص یعنی جس کی جزئیت میں دو شخصوں کو دخل ہو اسی طرح لفظ ابن بھی عربی زبان میں حقیقی طور پر ولد کا مترادف ہے اس کے اطلاق کے لئے بھی یہی شرائط ہیں۔ چونکہ مسیحؑ کو ابن مریم سے قرآن مجید میں تعبیر کیا گیا ہے اس کے لئے بھی اصلین کا ہونا ضروری ہے۔ ایک ان کی ماں مریم دوم جبرئیل علیہ السلام جن کو دوسرے لفظوں میں روح القدس سے تعبیر کرتے ہیں جو حمل مسیحؑ کا باعث ہوئے۔‘‘
(اثبات توحید ص۹)

پادری صاحب! ’’سنئے ولد بلا والد نہیں ہو سکتا اور ولد بلا اصلین متصور نہیں اور ولد کے لئے اصلین کے ساتھ انفکاک مادہ بھی ضروری ہے گویا ولد کا لفظ بلحاظ استعمال یہ معنی دیتا ہے کہ دو اصلین کے توسط سے بانفکاک مادہ پیدا ہونے والا۔ جہاں کہیں لفظ ولد کلام عرب میں استعمال کیا گیا ہے۔ وہاں اصلین کے لئے ضروری ہے وہ عرف میں اس کی والدہ ہو گی جو اس کے باپ کی جورو ہو گی ۔۔۔۔۔۔ پس مسیحؑ پر چونکہ ولد مریم کا اطلاق کرتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ اس کی والدہ ہو اور وہ مریم ہے اور دوسرا صل جس کے اتصال کے علاوہ مسیحؑ نہ پیدا ہوا ہم اہل اسلام کے نزدیک جبرئیل ہے جسے دوسری جگہ قرآن مجید میں روح القدس سے تعبیر کیا گیا ہے اور وہ بمنزلہ والد کے ہے کیونکہ نفخ جبرئیل کے قبل اور روح القدس کی قوت کے ظہور سے پہلے مریمؑ سے مسیحؑ ظاہر اور متولد نہ ہوئے۔‘‘
(اثبات توحید ص۴۵)

ان تحریریں کو بڑے محتاط انداز میں درج کیا گیا ہے۔ تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ قرآن کی کون سی وہ آیت ہے جس کی یہ تفسیر کی جا رہی ہے؟

قارئین کرام سے درخواست

اوپر جو حوالہ جات تحریر کئے گئے ہیں یہ قرآن کی اسلامی تفسیر ہیں !!!
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"

rana ammar mazhar
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 190
Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (16-02-12)
پرانا 09-02-12, 09:39 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default تفسیر بیضاوی میں ہے کہ:اور تفسیر مدارک میں ہے کہ:

تفسیر بیضاوی میں ہے کہ:
اتاھا جبریل متمثلا بصورۃ شاب امرد سوی الخلق لتستأنس بکلامہ و لعلہ لیھیج شھوتھا فتہدر نطفتھا الی رحمھا۔

اور تفسیر مدارک میں ہے کہ:
تمثل لھا فی صورہ ادمی شاب امرد و ضیء الوجہ جعد الشعر۔

جبرائیل علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک بے ریش گنگریالے بال خوبصورت نوجوان لڑکے کی شکل میں مریم رضی اللہ عنہا کے پاس آیا تھا تاکہ وہ جنسی خیال سے اس کی طرف خوب نظر دوڑا کر دیکھے اور ہیجان سے اس کا نطفہ اس کے رحم میں پہنچ کر حمل ٹھہر جائے، کیا خوب ہے؟

فرشتہ نے بھیس بدلا اور وہ بھی عورت کا نہیں، مرد کا، بوڑھے کا نہیں بلکہ جوان کا اور معمولی شکل کا نہیں بلکہ خوبصورت اور بال گنگریالے تاکہ عفیفہ کے دل میں اس کی امنگ پیدا ہو کر مذکورہ صورت پیدا ہو جائے۔
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (16-02-12)
پرانا 09-02-12, 09:44 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,645
کمائي: 28,550
شکریہ: 7,151
2,973 مراسلہ میں 8,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

آپ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ وضاحت فرمائیے۔
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (09-02-12), حیدر Rehan (16-02-12)
پرانا 09-02-12, 09:52 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default آپ کا کیا خیال ہے، نوک جھوک ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
آپ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ وضاحت فرمائیے۔
آپ کا کیا خیال ہے، نوک جھوک ؟؟؟
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 14-02-12, 09:49 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default کیا پاک نیٹ پر ڈپلیکیٹ تھریڈز کی اجازت ہے؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
کیا پاک نیٹ پر ڈپلیکیٹ تھریڈز کی اجازت ہے؟
لہذا نبی کریم ﷺ بھی پر نور تھے اور آل محمد ﷺ بھی بیٹی فاطمہؓ سے چلی ہے، لہذا یہ ایک مختلف تھریڈ ہے، اظہار خیال کا انتظار ہے !!!

جیسا کہ آپ ۖ نے فرمایا : ''خدا وند عالم نے میرے نور سے عرش ، میرے بھا ئی علی بن ابی طالب کے نور سے ملائکہ ،میری بیٹی فاطمہ کے نور سے آسمان و زمین اور میرے فرزند حسن کے نور سے چاند ،سورج اور ستارے اور میرے نورعین حسین کے نور سے بہشت و حورالعین کو خلق کیا۔''اور ہاں سنو!''اوّلُ ما خلق اللّٰہ نوری ۔''یعنی سب سے پہلے جس موجود کو خدا وندعالم نے خلق کیا وہ میرا نور تھا۔
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (16-02-12)
جواب

Tags
قیام آسمانی, چور, چوری, تخلیق, عیسیٰ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ولادت عیسیٰ کس طرح ؟ rana ammar mazhar علوم قرآن کریم 160 06-02-12 08:27 PM
بھارت میں حضرت عیسیٰؑ پر فلم بنے گی جاویداسد خبریں 1 02-09-10 10:46 PM
دجال، یاجوج ماجوج، عیسیٰ (علیہ السلام) اور قیامت باذوق مطالعہ حدیث 2 15-06-09 04:03 PM
قرآن اور ولادت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام Real_Light علوم قرآن کریم 4 24-12-08 10:13 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:06 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger