| علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 199
|
||||
| 3 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب رانا صاحب۔
ایک طرف انہی بوہیو صاحب کی فکر کے خلاف آپ ہی مضامین شائع کر رہے ہیںاور دوسری طرف انہی کی فکر کی ترویج میںبھی مصروف ہیں۔ روؤں دل کو کہ پیٹوںجگر کو میں۔ اور توہین رسالت پر واک آؤٹ کر جانے والا فلسفہ بھی خوب اخذکیا ہے آپ نے ۔ اگر آپ نے یہ مضمون پیش کیا ہے تو ہم یہی سمجھتے ہیں کہ آپ اس مضمون سے متفق رہے ہوںگے ۔ لہٰذا مضمون کے درج ذیل الفاظپہلے ملاحظہ فرمائیں: اقتباس:
اقتباس:
گویا کوئی توہین رسالت کا ارتکاب کرے تو آپ کان لپیٹ کر چل دیجئے اور جب وہ اس کام سے فارغ ہو جائے تو اس کےساتھ دوبارہ بیٹھ کر چائے سگریٹ نوش فرمائیں۔ لاجواب قرآنی غیرت ہے۔ اب ذرا میں آپ ہی کی طرز پر استدلال کرتے ہوئے آپ کی ماں، بہن، بیوی، بیٹی کو خوب گالیاںدینا شروع کرتا ہوں۔ آپ کے سارے حلال رشتوںکے ساتھ حرام کے تعلق کی داستانیں لوگوں کو سناتا ہوں۔ اور آپ اس دھاگے سے یا پاک نیٹفورم سے بس واک آؤٹکر جائیے گا۔ اور یہ سلسلہ ختم ہونے کے بعد ہم دونوںگپ شپ سیکشن میںجا کر گپیںلڑائیںگے۔ کیسا رہے گا؟ میںدیکھتا ہوں کہ آپ بھی اپنی درج بالا قرآنی غیرت پر قائم رہتے ہیں یا آپ کے ناک و کان سے دھواںنکلتا ہے۔ جو اپنی عزت کی خاطر لڑنے مرنے پر تیار ہو جائے اس سے آپ کہتے ہیں کہ ناموس رسالت میںگستاخی کا ارتکاب کرنے والوںکی مجلس سے واک آؤٹ کر جاؤ۔ جسے غیرت ایمانی چھو کر بھی گزری ہو وہ ایسا سوچ ہی نہیںسکتا۔
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65] |
||
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (01-12-11), کنعان (02-12-11) |
|
|
#3 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بہت خوب رانا صاحب، بہت خوب، لا جواب قرآنی غیرت ہے۔ غلبہ رسول کے اس مفہوم کے متعلق مو لانا مو دو دیؒ رقمطراز ہیں : ’’ اس امداد اورغلبہ کے معنی لازماً یہی نہیں ہیں کہ ہر زمانہ میں اللہ کے ہرنبی (مر سلین) اور اس کے پیروں کو سیاسی غلبہ ہی حاصل ہو بلکہ اس غلبے کی بہت سی صورتیں ہیں جن میں سے سیاسی غلبہ بھی ہے۔ جہاں اس نو عیت کا استیلاء اللہ کے نبیوں کو حاصل نہیں ہوا ہے ، وہاں بھی ان کا اخلاقی تفوّق ثابت ہو کر رہا ہے ‘‘ (تفہیم القرآن ج 4 سورہ الصفٰت : حاشیہ نمبر 93 ) قتل مر تد چونکہ اسی اصول ہی کی ایک فرع ہے اس لئے اس اصول کے عدم ثبوت کے بعد ارتداد کی سزا پر بحث کی چنداں ضروریات باقی نہیں رہ جاتی۔ ہم صرف چند پہلوؤں کی طرف توجہ دلانا چاہیں گے ۔ قرآن مجید کا اسلوب یہ دکھائی دیتا ہے کہ جن جرائم پر وہ کوئی سزا تجویز کر نا چاہتا ہے وہ اس جرم کے بیان کے موقع پر بتا دیتا ہے۔سورہ نور میں زنا کی سزا اور بہتان کی سزا، فوراً بیان کر دی گئی۔ ایسا نہیں ہوا کہ مجرد بہتان یا زنا کی سزا اصطلاحی تعریف پر اکتفا کر دیا گیا ہو ۔ سورہ المائدہ میں چوری کی سزا بیان کر دی ۔ کیا یہ امر حیرت انگیز نہیں کہ قرآن میں کم از کم چار مرتبہ ارتداد کا ذکر ہوا ہے لیکن کسی ایک جگہ پر بھی اشارۃً یا کنایۃً قتل تو دور کی بات، کسی بھی سزا کاذکر نہیں کیا گیا؟ سورہ آل عمران میں ارشاد ہوا کہ: ’’ اللہ ان لوگوں کو کس طرح با مراد کرے گا جنہوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا ۔۔۔درآنحا لیکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ رسول سچے ہیں اور ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں بھی آ چکی ہیں اور اللہ ظالموں کو با مراد نہیں کرے گا۔ ان لوگوں کا بدلہ یہ ہے کہ ان پر اللہ کی ، اس کے فرشتوں کی اور سارے لوگوں کی لعنت ہو گی ۔اور ان میں ہمیشہ رہیں گے ۔ نہ ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گا نہ ان کو مہلت دی جا ئے گی۔ ( آل عمران ۔86-88 / 3( ‘‘ اسی سورہ کی اگلی ہی آیت میں ایمان کے بعد کفر کا پھر ذکر کیا گیا ۔ ارشاد ہو تا ہے: ’’ بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اپنے ایمان کے بعد اور اپنے کفر میں بڑھتے گئے ان کی تو بہ ہر گز قبول نہیں ہو گی،(آل عمران : 3/90 )‘‘ سورہ النساء میں فر مایا گیا : ’’ بے شک جو لوگ ایمان لائے ، پھر کفر کیا، پھر ایمان لائے ، پھر کفر کیا ، پھر کفر میں بڑھتے گئے ، اللہ نہ ان کی مغفرت فر مانے والا ہے اور نہ ان کو راہ دکھانے والا ہے ۔ (النساء : 4/137 ) ‘‘ سورہ النحل میں ارشاد ہوا کہ : ’’ جو اپنے ایمان لانے کے بعد اللہ کا کفر کر ے گا بجز اس کے جس پر جبر کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو ، لیکن جو کفر کے لئے سینہ کھول دے گا تو ان پر اللہ کا غضب اور ان کے لئے عذاب عظیم ہے ‘‘ (الخل : 16/106 ) ‘‘ ان آیات کریمہ میں ایمان کے بعد کفر یا ایمان کے بعد کفر ، پھر ایمان ، پھر کفر ، یا کفر میں آگئے بڑھنے کا ذکر ہوا ہے ۔ سو چنے کا مقام یہ ہے کہ اگر مر تد کی سزا قتل ہو تی تو نفاذ سزا کے بعد کو ئی فرد کفر میں آگئے کس طرح بڑھتا جا ئے گا؟ نیز یہ کہ قتل کی سزا کے بعد دو بارہ کفر کے بعد ایمان کس طرح لائے گا ایمان کے بعد کفر ، پھر کفر کے بعد ایمان، پھر ایمان کے بعد کفر کا مرحلہ تب ہی آسکتا ہے جب پہلے ہی مر حلے پر ایمان کے بعد کفر کی صورت میں مر تد کو قتل نہ کیا گیا ہو ۔ ہمارا خیال ہے کہ اس نتیجے پر پہنچنے کے لئے کسی گہرے غوروفکر کی ضرورت نہیں ۔سورہ المائدہ میں تو صریحاً ارتداد کا ذکر کیاگیامگر قتل کی سزا پھربھی نہ سنائی گئی ! ارشاد باری تعالی ہے : ’’ اے ایمان والو جو تم میں سے اپنے دین سے پھرجا ئے گا ( من یر تد منکم عن دینہ) تو اللہ کو کو ئی پر واہ نہیں ‘‘ ( المائدہ : 5/54 ) قرآن مجید کی ان تصریحات سے جو باتیں سامنے آتی ہیں وہ یہ ہیں کہ ایمان کے بعد کفر یا ارتداد کی صورت میں ایسے لوگوں : 1۔ کو ہدایت نصیب نہیں ہوتی ۔ 2 ۔ پر اللہ ، فرشتوں اور لوگوں کو لعنت ہو گی۔ 3 ۔ کی تو بہ قبول نہیں کی جا ئے گی۔ 4 ۔ کی مغفرت نہیں ہو گی۔ 5 ۔ کے لئے اللہ کا غضب اور عذاب عظیم ہو گا۔ 6 ۔ کی اللہ کو پرواہ نہیں ، ان کی جگہ دوسرے لوگ آ جائیں گے ۔ مگر یہی ایک بات نہیں بتائی کہ مر تد کو قتل بھی کیا جا سکتا ہے !! اللہ تعالی نے یہ ساری باتیں تو تفصیل سے بتا دیں کہ جو مر تد ہو گا اس کو یہ اور یہ سزا ملے گی مگر نہیں بتائی تو یہی ایک بات کہ مر تد کو قتل بھی کیا جا سکتا ہے ‘ !! ۔ ہم نہیں سمجھتے کہ اللہ تعالی سے (نعوذ با للہ) کو ئی بھول چوک ہو گئی ہو گی۔ ارتداد کا ذکر ہو اور بار بار ہو اور سزا کا ذکر نہ ہو تو اس سے یہی ایک نتیجہ نکلتا ہے کہ قرآن نے مر تد کی سزا رکھی ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے زبردستی کے ایمان کا طریقہ سرے سے رکھا ہی نہیں ، ورنہ یہ سلسلہ آزمائش بالکل بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے ۔ انسان بالکل آزاد پیدا کیا گیا ہے اور اس اختیار کے ساتھ پیدا کیاگیا ہے کہ : ’’ وہ چاہے تو سیدھا راستہ اختیار کرے چاہے تو اس کا انکار کر دے ‘‘ ( الدھر : 76/3 ،الکھف 18/29 )۔ ’’ جو ہدایت اختیار کرے گا اپنے لیے ہی کرے گا اور گمراہ ہو گا تو اس کی گمراہی کا وبال اسی پر پڑے گا اور تم ( اے محمد ﷺ) ان کے اوپر کوئی دروغہ نہیں مقرر کیے گئے ‘‘۔ ( الزمہ: 39/41) ۔خود نبی اکرم ﷺ کو بھی یہ اختیار حاصل نہ تھا کہ وہ زبردستی لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کرتے ۔ یہ کام اگر مطلوب ہوتا تو کیا خود اللہ تعالیٰ یہ کام نہ کر سکتا تھا ۔ قرآن نے بالکل واضح کر دیا کہ: ’’ اور اگر تیرا رب چاہتا تو روئے زمین پر جتنے لوگ بھی ہیں سب ایمان قبول کر لیتے ۔ تو کیا تم لوگوں کو مجبور کروگے کہ وہ مومن بن جائیں ؟‘‘ (یونس : 10/99) ایک طرف یہ آیت ہے اور دوسری طرف نبی اکرم ﷺ سے منسوب ایک روایت یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ان لوگوں سے جنگ کروں ، یہاں تک کہ وہ لاالہٰ محمد رسولﷺ کی شہادت دیں ، نماز کا اہتمام کریں اور زکواۃ ادا کریں ‘‘ ( مسلم رقم ۲۲) مرتد کی سزا اور قانونِ اتمامِ حجت محمد عمار خان ناصر کی کتاب ’’حدودوتعزیرات : چند اہم مباحث ‘‘پر تبصرہ مؤلف : محمد انور عباسی Muhammad Anwar Abbasi |
|
|
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (02-12-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ارے بھائی، یہاں مرتد کہاںسے آ گیا۔ آپ کے مضمون میں توہین رسالت اور آیات قرآنی کا مذاق اڑانے والوں کے بارے میں کہا گیا تھا کہ جب تک وہ توہین کریںتو ان کے پاس سے اٹھ جاؤ اور بعد میںان سے میل ملاپ کرتے رہو۔ تو میں نے آپ سے پوچھا ہے کہ اگر میںاآپ کے خاندان کی خواتین کو گالیاںدینا شروع کروںتو اس توہین پر آپ اپنی اسی قرآنی غیرت کا مظاہرہ کریںگے یا نہیں؟
کمال ہے سیدھا سیدھا جواب تو دے دیں؟ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (01-12-11), کنعان (27-01-12) |
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
شکاری جی شکار میں اگر آپ کسی کے خاندان کی خواتین کو گالیاں دینا شروع کریں تو آپ اپنے حق میں بہت اچھا کریں گے ؟؟؟ وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ كَذَلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ مَرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ( 6:108 ) اور جن لوگوں کو یہ مشرک خدا کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں خدا کو بے ادبی سے بے سمجھے برا (نہ) کہہ بیٹھیں۔ اس طرح ہم نے ہر ایک فرقے کے اعمال (ان کی نظروں میں) اچھے کر دکھائے ہیں۔ پھر ان کو اپنے پروردگار ک طرف لوٹ کر جانا ہے تب وہ ان کو بتائے گا کہ وہ کیا کیا کرتے تھے Revile not ye those whom they call upon besides Allah, lest they out of spite revile Allah in their ignorance. Thus have We made alluring to each people its own doings. In the end will they return to their Lord, and We shall then tell them the truth of all that they did. اور انہیں گالی نہ دو جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں کہ وہ اللہ کی شان میں بے ادبی کریں گے زیادتی اور جہالت سے یوں ہی ہم نے ہر امت کی نگاہ میں اس کے عمل بھلے کر دیئے ہیں پھر انہیں اپنے رب کی طرف پھرنا ہے اور وہ انہیں بتا دے گا جو کرتے تھے ( مترجم : امام احمد رضا بریلوی ) اور (اے مسلمانو!) تم ان (جھوٹے معبودوں) کو گالی مت دو جنہیں یہ (مشرک لوگ) اللہ کے سوا پوجتے ہیں پھر وہ لوگ (بھی جواباً) جہالت کے باعث ظلم کرتے ہوئے اللہ کی شان میں دشنام طرازی کرنے لگیں گے۔ اسی طرح ہم نے ہر فرقہ (و جماعت) کے لئے ان کا عمل (ان کی آنکھوں میں) مرغوب کر رکھا ہے (اور وہ اسی کو حق سمجھتے رہتے ہیں)، پھر سب کو اپنے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے اور وہ انہیں ان اعمال کے نتائج سے آگاہ فرما دے گا جو وہ انجام دیتے تھے ( مترجم : ڈاکٹر طاہر القادری ) اور خبردار تم لوگ انہیں برا بھلا نہ کہو جن کو یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہیں کہ اس طرح یہ دشمنی میں بغیر سمجھے بوجھے خدا کو برا بھلا کہیں گے ہم نے اسی طرح ہر قوم کے لئے اس کے عمل کو آراستہ کردیا ہے اس کے بعد سب کی بازگشت پروردگار ہی کی بارگاہ میں ہے اور وہی سب کو ان کے اعمال کے بارے میں باخبر کرے گا ( مترجم : علامہ جوادی ) خزائن العرفان مفسر : حضرت علامہ نعیم الدین مرآدآبادی (رحمۃ اللہ علیہ) قتادہ کا قول ہے کہ مسلمان کُفّار کے بُتوں کی بُرائی کیا کرتے تھے تاکہ کُفّار کو نصیحت ہو اور وہ بُت پرستی کے عیب سے باخبر ہوں مگر ان ناخدا شَناس جاہلوں نے بجائے پند پذیر ہونے کے شانِ الٰہی میں بے ادبی کے ساتھ زبان کھولنی شروع کی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اگرچہ بُتوں کو برا کہنا اور ان کی حقیقت کا اظہار طاعت و ثواب ہے لیکن اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان میں کُفّار کی بدگوئیوں کو روکنے کے لئے اس کو منع فرمایا گیا ۔ |
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محترم، گالیاںدینے کا مجھے گناہ ہوگا اسے فی الحال الگ رہنے دیں۔ اصل مسئلے پر بات کریںکہ اگر کوئی بھی شخص آپ کے گھر کی خواتین کی بے حرمتی کرے ، گالیاںدے اور قصے کہانیاں بنا کر عوام میںمشہور کرتا رہے تو اس کے ساتھ آپ اسی ایمانی غیرت کا مظاہرہ فرمائیں گے جس کا آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والوںکے ساتھ برتاؤ کا دے رہے ہیں؟
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (02-12-11), کنعان (27-01-12) |
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
آپ نے جو بھی دلیل دینی ہے وہ قرآن و حدیث سے دینی ہے یا اپنے ذاتی کردار و عمل "گالیاں دینے کا مجھے گناہ ہوگا، خواتین کی بے حرمتی ، گالیاں اور قصے کہانیاں بنا کر عوام میںمشہور کرنا" سے دینی ہے ؟؟؟ |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فوٹو, ہندو, کالج, کتابوں, کراچی, پاکستان, قدم, قرآن, قرآن حکیم, قصہ, لوگ, نفرت, مکہ, منافقین, منشور, مسائل, احتجاج, تلاش, تعلیم, جرم, خواتین, خدا, راستہ, عقل, عبادت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ولی کی اجازت کے بغیر نکاح غیر موثر نہیں ہوسکتا، اسلام آباد ہائی کورٹ | گلاب خان | خبریں | 16 | 24-04-12 10:41 AM |
| نیوزی لینڈ نے سینئر کھلاڑیوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کرنے کی پالیسی اختیار کی ،اسٹیفن فلیمنگنیوزی لینڈ نے سینئر کھلاڑیوں کو غیر یقی | عبدالقدوس | کرکٹ | 0 | 29-10-07 11:48 AM |