واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم



علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم


غیرت ایمانی کے اظہار کا وہ طریقہ جو قرآن حکیم نے سکھایا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-11-11, 07:02 PM   #1
غیرت ایمانی کے اظہار کا وہ طریقہ جو قرآن حکیم نے سکھایا
rana ammar mazhar rana ammar mazhar آن لائن ہے 30-11-11, 07:02 PM

غیرت ایمانی کے اظہار کا وہ طریقہ جو قرآن حکیم نے سکھایا

قرآن حکیم کے انکار اور اس کا مذاق اڑانے پر احتجاج کرنے کا طریقہ قرآن حکیم نے اس طرح سکھایا ہے!
“وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللّهِ يُكَفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلاَ تَقْعُدُواْ مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُواْ فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِّثْلُهُمْ إِنَّ اللّهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِر ِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا۝ (140-4)
بیشک (اللہ عزوجل) نازل کرچکا ہے تم پر کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کا انکار کیا جا رہا ہے اور انکی ہنسی اڑائی جا رہی ہے تو ایسی مجلس والوں کے ساتھ مت بیٹھو! اتنے تک جو وہ لوگ ایسے مذاق اور طنز کے سوا کسی دوسری بات میں لگ جائیں (نہیں تو) ضرور تم بھی ان کی طرح والوں میں سے ہو جاو گے بلاشک اللہ، منافقوں اور کفار کو انکی وجہ جامعیت کے حوالے سے) اکٹھا کریگا جہنم میں۔
یہی حکم اور تلقین آپ سورت انعام کی آیت نمبر 68 میں پڑھ سکیں گے، وہاں اللہ عزوجل نے ان کفار اور منافقین کو قوم ظالمین کے لقب سے ملقب فرمایا ہے آیت کریمہ (140-4) پر غور فرمایا جائے تو اچھی طرح ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کی آیات کی تضحیک اور استہزا کرنے والے صرف دو ہی گروہ ہیں۔ ایک منافق دوسرا کافر۔ اب ان دونوں آیات کی ہدایات پر غور فرمائیں سورت النسا میں حکم دیا کہ “فَلاَ تَقْعُدُواْ مَعَهُمْ” اور سورت انعام میں حکم دیا کہ فاعرض عنہم یعنی جن مجالس میں آیات قرآنی کے خلاف انکا مذاق اڑایا جاتا ہو تو انکا بائیکاٹ کرنا ہے، وہاں سے واک آؤٹ کرنا ہے، ان کی مجلس سے اٹھ جانا ہے، لیکن یہ حکم کہ ایسے لوگوں کی مجلس میں مت بیٹھو صرف اتنے وقت تک ہے جو حَتَّى يَخُوضُواْ فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ یعنی ایسے گستاخان قرآن کی مجلس سے، گفتگو سے، میل جول سے، مستقل دائمی بائیکاٹ کا اور مستقل طور پر میل جول کی بندش کا حکم نہیں ہے، وہ واک آؤٹ اتنے تک ہے جب تک وہ گستاخی والی گفتگو کریں۔ اسکے بعد انکے ساتھ بیٹھا جا سکتا ہے” ان دو آیات میں بات ہوئی رسالت کے پئکیج کے حرمت کی، احترام کی، آیات قرآنی کی بے حرمتی پر احتجاج کرنے کے طریقہ کار کی اور غیرت ایمانی کے مظاہرے کی اور اختلاف نوٹ کرانے کے طریقہ کار کی، تاکہ کفار اور منافقین جان لیں کہ وہ مسلم امت والوں کی دل آزاری کر رہے ہیں، قرآن حکیم نے یہ جو احتجاج رکارڈ کرانے کا عملی مظاہرہ، ایسی مجالس سے واک آؤٹ کرجانے کی شکل میں سکھایا ہے۔ اس سے انسانوں کی اور مسلم امت کی فکری آزادی کا استحقاق بھی محفوظ کرانا مقصود ہے وہ اسطرح کہ جیسے کفار اور منافقین امت مسلمہ کی دل آزاری کر رہے ہیں تو جوابا مسلم امت والوں کو بھی یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ انکی ایسی میٹنگوں سیمیناروں اور کانفرنسوں سے واک آوٹ کرکے اپنا احتجاج نوٹ کرائیں کہ یہ بھی انکا حق ہے،
اس آیةکریمہ (140-4) کی تعلیم اور نصیحت کو، کوئی شخص سورت توبہ کی آیت نمبر 12 کے حکم اور اسکے مفہوم سے متصادم نہ سمجھے جسکا فرمان ہے کہ:
وَإِن نَّكَثُواْ أَيْمَانَهُم مِّن بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُواْ فِي دِينِكُمْ فَقَاتِلُواْ أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لاَ أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ (12-9)
یعنی اگر یہ (مشرکین معاہدہ کرنے کے بعد اپنے قسموں کو توڑدیں، اور تمہارے افکار و نظریات کے خلاف طعن و تشنیع بھی شروع کردیں تو انکے ساتھ معاہدہ ختم سمجھو، پھر انکے انقلاب دشمن قائدین اور لیڈر شپ کے ساتھ جنگ کرو (اسلئے کہ) ان کی قسموں کی میعاد ختم ہوگئی، لڑائی اتنی کرو جتنی سے آپکے نظریات کے خلاف یہ لوگ پراپگنڈہ کرنے سے رک جائیں، مطلب عرض کرنے کا یہ ہے کہ یہ آیت سورت النساءکی آیت (140-4) سے اسلئے ٹکر نہیں کھاتی جو اسمیں جنگ کرنے کا حکم ایک عہد شکن متوازی گورنمنٹ اور حکومت سے ہے، اور کوئی شخص اس آیت کریمہ )12-9) کا مصداق کسی انفرادی ذمی شخص کو بھی قرار نہ دے-
یہ اسلئے کہ اسکا ذکر آیت (6-9) میں آچکا ہے جو یہ ہے کہ :
وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلاَمَ اللّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ (6-9)
یعنی اگر کوئی ایک انقلاب دشمن مشرک آدمی، آپ سے پناہ لیکر آپکا ذمی بن جائے تو اسکو پناہ دو اور ساتھ ساتھ اسے کلام اللہ کی روسے اسکے ذمی بن کر رہنے کے شرائط کیا کیا ہونگی وہ بھی بتادو اسکے بعد اسے اسکے امن والے ٹھکانے تک پہنچادو۔

فکر کی آزادی کیلئے قرآن حکیم کا اعلان

وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَن شَاء فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاء فَلْيَكْفُرْ إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا ۝ ( 29- 18 )
یعنی اور کہدے کہ قوانین حقہ تمہارے رب کی طرف سے ہیں۔ اسکے بعد جو بھی کوئی چاہے تو ایمان لے آئے اور جو بھی کوئی چاہے تو کفر اختیار کرے، ہم نے ظالموں کے لئے ایسی آگ تیار کی ہے جو اسکی قناتیں انہیں گھیرے میں لے رکھیں گی۔ اس آیت پر غور کیا جائے کہ دین اسلام اور قرآن حکیم کی دعوت میں کتنا تو استغناء دکھایا گیا ہے، کتنا تو استغناء سکھایا گیا ہے،۔

اللہ کی حاکمیت اور بادشاہی کسی کے ایمان لانے کی محتاج نہیں ہے اور نہ ہی اسکو کسی کے گمراہ رہنے سے کوئی خطرہ ہے۔:


مَّنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدي لِنَفْسِهِ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۝ (17-15)
یعنی جو بھی شخص ہدایت پر آیا تو وہ اپنے لئے ہدایت پر آیا اور جو بھی گمراہ رہا تو اپنے اوپر گمراہی کا وبال لے آیا۔
اے رسول! تیرا مذاق اڑانے والوں کو سزا دینے کیلئے ہم کافی ہیں۔ آپکی ذمہ داری یہ ہے کہ:
فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ ۝ إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ ۝ (15-95)
یعنی پھر کھول کھول کر کہدے جو آپکو حکم دیا جاتا ہے، جو لوگ اللہ کے قوانین کے مقابلے میں دوسروں کے احکامات کو اہمیت دے کر انہیں اللہ کے ساتھ شریک قرار دیتے ہیں آپ ان کی طرف سے منہ پھیرلیں” ہم آپکی تضحیک اور توہین کرنے والوں کی (سزا کیلئے) کافی ہیں۔

دشمنوں سے احتساب کرنا ہماری ذمہ داری ہے:

فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلاَغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ (40-13)
تو آپکی ذمہ داری صرف ہماری رسالت پہنچا دینا ہے، حساب لینا ہماری ذمہ داری ہے تم مخالف لوگ اپنی راہوں پر چلو، میں اپنے راستے کا راہ رو ہوں۔
قُلْ يَا قَوْمِ اعْمَلُواْ عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن تَكُونُ لَهُ عَاقِبَةُ الدِّارِ إِنَّهُ لاَ يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ ۝ (136-16)
کہدیجئے کہ اے میری قوم تم اپنے منصوبے کے مطابق عمل کرتے چلو، میں بھی اپنے پروگرام کے مطابق کام کرنے والاہوں، پھر جلدی جان جاوگے کہ کس کے حق میں دنیا کی کامیابی آتی ہے، اللہ کی شان یہ ہے کہ ظالم کامیاب نہیں ہوتے (پھر دنیا نے دیکھا کہ مکہ تو فتح ہوا لیکن آگے چلکر روم، فارس اور افریقہ بھی فتح ہوا)

ناموس رسالت کی تکذیب کرنے والوں سے:

وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنتُمْ بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَاْ بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ ۝ (41-10)
اگر دشمن لوگ آپکے انتباہات کی تکذیب کریں اور آپکو جھٹلائیں تو آپ انہیں کہدیں کہ میرے لئے میرا عمل ہے، تمہارے لئے تمہارا عمل، میرے عمل کا نتیجہ میرے لئے ہوگا، تم لوگ اس کے ذمہ دار نہیں ہوگے، اور جو تمہارے اعمال کا نتیجہ تمہیں ملیگا اس کی ذمہ داری بھی تم پر ہوگی یعنی دونوں فریق ایک دوسرے کے اعمال اور انکے نتائج سے بری ہونگے جو کریگا وہ وہی پائے گا۔ اسی کے لئے دوسرے مقام پر فرمایا کہ :
لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ اللَّهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ ۝ (15-42)
یعنی ہمارے لئے ہمارے اعمال اور تمہارے لئے تمہارے اعمال لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ ہمارے تمہارے درمیاں کوئی جھگڑا نہیں اللہ ہمیں جمع کریگا اور اسی کے قانون کی طرف ہی لوٹنا ہے”

ناموس رسالت اور توہین رسول کی شکل میں جوابی کاروائی جو قرآن حکیم نے سکھائی

محترم قارئین! آپ نے غور فرمایا کہ اب تک کی پیش کردہ آیات سے علم حق اور ہدایت کی باتیں منوانے کیلئے اللہ کی تعلیم اور قرآن حکیم کی تعلیم سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپکی ذمہ داری صرف پیغام پہنچانے کی ہے، منوانے کی نہیں ہے،
یہ بات تو ہوئی صرف عام انسانوں کے حوالہ سے لیکن جو دشمنان اسلام اپنی دشمنی میں ہتک آمیز اور توہین آمیز لفاظی تک اتر آتے ہیں انکے لئے بھی قرآن نے تعلیم دی ہے کہ :
وَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَاهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِيلًا (10-73)
یعنی دشمنوں کی یاوہ گوئی اور ہرقسم کی خرافاتی لفاظی پر آپ اپنے پروگرام پر استقامت سے عمل پیرا رہیں، ان دشمنوں سے بطریق احسن کنارہ کش ہوجائیں، رہی بات انکی توہین کرنے کے جرم کی تو رب تعالی نے فرمایا کہ یہ معاملہ آپکی توہین کرنے والوں سے نمٹنے کا آپ میرے لئے چھوڑ دیں میرے قوانین ایسے تو ہیں جو انہیں خود بخود دبوچ لینگے فرمایا کہ :
وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا (11-73)
یہ توہین آمیز اور گستاخانہ حملوں سے آپکی ہتک عزت کرنا یہ ٹوٹل شرارت ان اولی النعمت عالمی سرمایہ داروں کی ہے اسلئے آپ مجھے چھوڑدیں ان شاتمین رسول مکذبین اور ان توہین کرنے والوں کیلئے وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا بس تھوڑی سی مہلت کی دیر ہے آپکا انقلاب آنے سے جب راج کریگی خلق خدا انکی ساری املاک خلق خدا کی تحویل میں آجائے گی یہ عالمی سرمایہ پرست مافیا والے آپکے انقلاب کو مؤخر کرنے کیلئے اور ایسے سبوٹاژ کرنے کیلئے جذباتیت کو ایکسپلائیٹ کرکے اکساکر یہ توہین رسالت کے حربوں سے قرآنی انقلاب کی آمد یوم یقوم الناس لرب العالمین یعنی جب کمزور لوگ لٹیروں کے خلاف ربوبیت عالمین کےلئے اٹھ کھڑے ہونگے، اس قرآنی فکر و فلسفہ میں رکاوٹیں ڈالنا چاہتے ہیں جب یہ مافیائی لوگ اللہ کی آیتوں کی توہین کیلئے مذاق اڑائیں تو آپکو ہمنے بتایا ہے کہ قرآن اپنا وکیل آپ ہے، آپ ایسی مجالس سے واک آؤٹ کرجائیں (140-4) اور جب آپ خاتم الرسل ہستی کی توہین ہو تو یقین جانیں کہ آپکے یہ دشمن دو قسم کے لوگ ہوسکتے ہیں ایک کافر دوسرے منافق سو جب کافر لوگ آپکی ذات اور رسالت کی توہین کریں اور انکار رسالت کرتے ہوئے جخ ماریں کہ لست مرسلا، آپ اللہ کے رسول ہی نہیں ہیں تو انکی اس خرافات پر مشتعل ہونے کے بجائے بڑی سنجیدگی سے :
قُلْ كَفَى بِاللّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِندَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ (43-14)
انہیں کہیں کہ یہ مسئلہ تو علمی ہے کہ میں رسول ہوں یا نہیں ہوں، یہ ایک تو اللہ کی شہادت سے حل ہوگا دوسرا ان لوگوں کے علمی دلائل اور براہین سے حل ہوگا جنکے پاس کتاب القرآن کا علم ہے، آگے یہ سوال کہ اللہ کی شہادت کیا ہے، کہاں ہے، کون بتائے گا۔ سو میری رسالت کیلئے اللہ کی شہادت کا جو مسئلہ ہے اسکیلئے سنیں کہ :
قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادةً قُلِ اللّهِ شَهِيدٌ بِيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ ۝ (19-6)
یعنی یہ کہدیجئے کہ شہادت کے لحاظ سے کون سی چیز سب سے بڑی ہے انہیں بتائیں کہ اللہ کی شہادت علم وحی کے حوالہ سے جو یہ کتاب قرآن ہے یہ میرے اور آپ کے درمیاں ہے، جس سے آپکو اور جن تک پہنچ پائے انکو انکار رسالت کے عواقب سے ڈراؤں، آپ بشیر اور نذیر کی ذمہ داریوں پر فائز نبی اور رسول ہیں، اسلئے آپکی ذمہ داری صرف بلاغ کی ہے لیکن ان منکرین کا احتساب کرنا یہ آپکی ذمہ داری نہیں ہے، یہ ہمارے ذمہ کی بات ہے،جسکے لئے حکم دیا کہ :
فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلاَغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ ۝ (40-13)
سو جو لوگ آپکی توہین اور اہانت کریں ان طنز اور استہزا‎ کرنے والوں کیلئے:
إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ (95-15)
یعنی ہم ہی کافی ہیں ایسے گستاخان رسول کے خلاف،
محترم قارئین! غور کیا جائے کہ قرآنی تعلیمات سے جناب رسول علیہ السلام کو نیز انکی انقلابی جماعت مؤمنین کو کیا تو تحمل اور بردباری کی قدم قدم پر تاکید کی جارہی ہے یہ سب اسلئے ہے کہ سرمایہ دار اور جاگیردار اولی النعمت مال کی فراوانیوں والے لوگ، جان بوجھ کر انقلاب کی آمد کو روکنے کیلئے اور نا کام بنانے کیلئے اجتماعی مفاد عامہ کا راستہ روکنے کیلئے انفرادی شخصی اشتعال انگیزی حربوں سے خود کو بچانے کیلئے قسم قسم کی جذباتی چکر بازیاں چلاتے ہیں جیسے کہ یہ دشمن قرآن اور دشمن رسول لوگ، بڑے ہی عاشق رسول ہوں اور عاشق قرآن ہوں،
میرے پاس روزنامہ اخبار “امت” کراچی تاریخ 2011-1-11 کا ایک شمارہ موجود ہے جسمیں ایک مضمون ہے جسکی سرخی یہ ہے کہ صومالی اسلام پسندوں نے شریعت نافذ کردی، جسمیں لکھا ہوا ہے کہ صومالیہ میں اسلام پسند ملیشیا “ال شباب” کی سربراہی میں مجتمع ہونے والے جنگجو گروپوں کی کاروائیاں مزید مربوط ہو رہی ہیں، بتایا گیا ہے کہ صومالی جنگجو رہنما مختار روبو اور ابو منصور نے اعلان کیا ہے کہ اگر 9 جنوری کے بعد صومالیہ بھر میں خواتین کو سیکیولر اور مغربی ممالک کی خواتین کی طرح عوامی مقامات پر مردوں اور غیر محرموں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے یا ہاتھ پکڑتے ہوئے دیکھا گیا تو ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔
جناب قارئین! اخبار امت کے لکھنے والوں نے صومالیہ میں شریعت نافذ کرنے والوں کو “اسلام پسند” کے لقب سے متعارف کرایا ہے، اس تعارف میں انکے نفاذ شریعت کے تفصیلی اسلامی احکامات میں استحصالی سرمایہ داریت سے جنگ کرنے اور بھوکے پیٹ والوں کی محتاجی دور کرنے کی کوئی بات نہیں ہے، صرف لباس کو مسلم اور کافر قرار دینے کا مفہوم انکے نفاذ اسلام کے احکامات سے عیاں ہوتا ہے، کم سے کم پاکستان کے اخبار بین حضرات تو جانتے ہونگے کہ پاکستان میں اسلام پسند کی اصطلاح جماعت اسلامی والے اپنے ہاں متعارف کراتے ہوئے آرہے ہیں۔ اور صومالیہ کی تنظیم الشباب کی لگ بھگ ہم نام شباب ملی” تنظیم بھی جماعت اسلامی کی ہمنوا تنظیموں میں سے ایک تنظیم ہے، پاکستان کی جماعت اسلامی نے اسلامی نظام قائم کرنے کے دعوی کے باوجود قرآن کے معاشی مساوت والے معاشی نظام (39-53) (219-2) (10-41) کے نفاذ اور قیام کی خاطر کبھی بھی ملکی اور عالمی سرمایہ داروں کے خاتمہ کیلئے کچھ بھی نہیں کیا،
پاکستان میں چھہ باتوں والا غیر قرآنی اسلام رائیونڈ کی تبلیغی جماعت کے نام سے بھی شہر شہر گاؤں گاؤں عام کیا جا رہا ہے مجھے کالج کے نوجوانوں نے بتایا کہ ہمنے تبلیغی جماعت والوں سے جان چھڑانے کا آسان نسخہ تیار کیا ہوا ہے وہ یہ کہ یہ لوگ جب جب بھی ہمیں ہاسٹلوں میں آکر ہماری تعلیم سے بہکانے اور محروم کرنے کیلئے اپنے ساتھ سفر میں لے جانے کی تلقین شروع کرتے ہیں کہ ہم ان کے کہنے پر ان کے پیچھے اپنی تعلیم چھوڑ کر بسترے اٹھا کر دربدر ہوں تو ان کے آتے ہی ہم فی الفور انہیں کہتے ہیں کہ “اوم نمستے” ہم ہندو ہیں تو پھر یہ لوگ ہمیں کافر سمجھتے ہوئے مسلمان بنانے والے وعظ کرنے کے بجائے سیدھا کسی دوسرے اناڑی کی تلاش میں چلے جاتے ہیں،
میرے پاس انگریزی رسالہ ہیرالڈ کے مضمون کا فوٹو اسٹیٹ موجود ہے جو کسی فوجی کیپٹن کا لکھا ہوا ہے شمارہ کچھ سال پرانا ہے اسمیں مضمون نگار نے لکھا ہے کہ شروع میں ہمنے آرمی کے اندر ملک کی ہر قسم کی تنظیموں پارٹیوں کے اوپر پابندی عائد کی ہوئی تھی کہ وہ اپنا اشاعتی یا میمبر سازی کا کام آرمی کے کیمپوں چھاونیوں میں، افراد میں نہ کریں سواء تبلیغی جماعت کے، سو شروع شروع میں صرف تبلیغی جماعت والے آرمی کی چھاونیوں وغیرہ میں آتے رہتے تھے پھرہمنے انکے کام کا بھی بغور جائزہ لیا کہ یہ کسطرح کے لوگ ہو سکتے ہیں تو ہمیں ان سے اندیشہ ہونے لگا کہ یہ لوگ یہ تنظیم کہیں فری میسن کی ذیلی تنظیم نہ ہو، سو ہمنے انکے تبلیغی کام پر بھی آرمی کے اندر بندش عائد کردی، بندش تو عائد کردی لیکن کیا کریں کہ ہمارے افسر لوگ تو رائیونڈ آتے جاتے رہتے ہیں انہیں کیسے روکیں، فری میسن تنظیم کو اہل مطالعہ لوگ جانتے ہونگے کہ یہ یہودیوں کی بڑی عالمی خفیہ تنظیم ہے جس میں ہر مذہب کا آدمی شریک ہوسکتا ہے جسکے ممبروں کے کل 33 گریڈ ہوتے ہیں ایک سے لیکر 23 تک تو ہر مذہب کے لوگوں کے پروموشن ہو سکتے ہیں لیکن چوبیس سے 33 تک صرف یہودی آدمیوں کے لوگ پروموٹ ہوسکتے ہیں، اس تنظیم کا کل مقصد یہ ہے کہ دنیا کی جملہ اقوام اور ممالک میں یہودیت کے مفادوں کی محافظ حکومتیں قائم ہوں، یہودیوں کی تابعدار فرمان بردار اور نوکر قسم کی حکومتیں قائم ہوں، جناب حافظ محمد اسماعیل مرحوم مہتمم مدرسہ مظہر العلوم کراچی کی تحقیق یہ تھی کہ اس تنظیم کا قیام جناب خاتم الانبیاءعلیہ السلام کے زمانہ سے بھی پہلے کا ہے، میں قارئین کی توجہ صومالیہ کے اسلام پسندوں کی نفاذ شریعت نامی تحریک کے پسمنظر کی طرف مبذول کرانا چاہتاہوں جو یہ ہے کہ افریقی ممالک میں بڑے پئمانے پر عیسائی مشنریوں کی تبلیغ مسلم لوگوں کو عیسائی بنانے کے لئے چلائی جا رہی ہے، صومالی اسلام پسندوں کی مسلم نوجوان عورتوں اور مردوں پر روڈوں اور پارکوں میں کھلے منہ اور ہاتھ ملاکر چلنے پر پابندی اور سزا اس وقت جاری کی گئی ہے جب سوڈان میں بظاہر امن قائم کرنے کے پردے میں امن پسند، انتہا پسند، عیسائیوں اور مسلم لوگوں میں ریفرنڈم کروا کر سوڈان کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جنوبی اور شمالی ناموں سے جو سوڈان کل تک متحد مسلم ملک تھا، اب وہ دو حصے بنکر عیسائی اورمسلم دو ملک بنگئے ہیں جسطرح کل ہی کی بات ہے جو ایک متحدملک انڈونیشیا کو بھی مذہب کے نام سے تقسیم کرکے ایک حصہ مسلم ملک اور دوسرا حصہ عیسائی انڈونیشیا بنایا گیا، سوڈان اور انڈونیشیا میں جو ریفرنڈم ہوئے جنکے طفیل ایک ہی مسلم ریاست کے کوکھہ سے دو عدد عیسائی ملکوں نے جنم لیا، عیسائیت کی اس ساری کامیابی کا سہرا مسلم لوگوں میں نفاذ اسلام کے نام پر تشدد اور انتہا پسندی کے افکار و رجحانات والی لٹھ بردارتنظیموں کے مرہون منت رہا ہے، میں نے جسطرح یونیورسٹی کے کچھ شاگردوں کا تبلیغی جماعت والوں کے وعظ سے جان چھڑانے کا قصہ عرض کیا اس طرح اگر صومالیہ کے اسلام پسندوں کی نفاذ اسلام والی تحریک کا صومالی مسلم لوگوں پر ان کی چلت پر قیدو بند اور کوڑوں کی شکل میں نازل ہوگا تو وہ بھی ایسے اسلام پسند گروہ کے چوبداروں کو یہ کہکر جان چھڑا لینگے کہ ہم مسیحی لوگ ہیں تم جاؤ کسی مسلم آدمی کو اپنا وعظ سناؤ، اور ان پر ڈنڈے برساؤ،تو آج کل جو سوڈان ‏میں عیسائی ریاست بنانے کیلئے ریفرنڈم ہو چکا ہے اور مسلم ریاستیں اپنا وجود کھو رہی ہیں تقسیم ہو رہی ہیں تو یہ ساری عنایت اور مہربانی اسلام کے نام پر لٹھ بردار مبلغ تنظیموں اور انکے والنٹیئروں کی ہے جو انکے تشدد سے دشمن ریفرنڈم جیت جاتے ہیں سو کل صومالیہ بھی مذہب کے نام پر سوڈان کی طرح دو ٹکڑے ہو جائیگا اور پاکستان کا بھی انڈونیشیا کی طرح مذہب کے نام پر عیسائی اور مسلم آبادی کی تقسیم سے بٹوارہ ہوجائے گا، پرانے دنوں میں یہاں مبلغ اسلام احمد دیدات مرحوم پاکستان میں آیا تھا وہ اصل میں افریقی ممالک میں عیسائیت کے خلاف بڑے پئمانے پر تبلیغ کرتا تھا اور دنیا بھر میں عیسائی مشنریوں کی کارکردگی کی بڑی معلومات رکھتا تھا، اسنے یہاں پاکستان میں بالخصوص پنجاب میں عیسائی مشنریوں کی کارکردگی کی جو رفتار کے اعداد و شمار پیش کیے تو اسپر یہ بھی بتایا کہ اس رفتار کے پیش نظر وہ دن دور نہیں جو اس خطہ میں اقلیت والے عیسائی اکثریت میں تبدیل ہوجائیں، اور بغیر کسی جنگی عمل کے یہ ملک بھی عیسائی ریاست بنجائے، ہمنے احمد دیدات کی اس پیشنگوئی کو پاکستان میں نہیں تو انڈونیشیا اور سوڈان میں ضرور دیکھ لیا ہے، لیکن یہ بات بھی قارئین کو ذہن میں محفوظ رکھنی چاہئے کہ قوموں اور ملکوں کی عمر کے سؤ سال کو افراد کی زندگی کے ایک سال کی عمر کے برابر سمجھنا چاہئے، خیال کریں کہ پاکستان میں اسلام کی رکھوالی کے دعویدار ذہنی طور پر قرآنی تربیت لااکراہ فی الدین کے تیار کردہ نہیں ہیں یہ لوگ صومالین لٹھ برداروں کی طرح فری میسن کی ٹرمنالاجی سے تیار کردہ ہیں، آج عالمی سامراج پھر سے دنیا میں مسلم بلاک کو اندلسی اور اسپینی مسلموں کی طرح ملیا میٹ کرنا چاہتا ہے ۔
جن دنوں برطانوی سامراج ترکوں کی خلافت اسلامیہ کو توڑ رہا تھا۔ ان دنوں وہاں ڈیوٹی کرنے والے برٹن سے آئے ہوئےافسر ہمفرے نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا (جو آجکل کتابی صورت میں مارکیٹ میں موجود ہے) کہ ہمیں برطانیہ سرکار نے یہ ٹارگیٹ دیا ہوا ہے کہ دنیا بھر سے ایک سو سال کے عرصہ میں اسلام کا خاتمہ کیا جائے، اس ہدف کو پہچنے کیلئے انہوں نے مسلم امت کیلئے مذہبی تعلیمی نصاب کا تشکیلی خاکہ بھی دیا گیا تھا جسمیں امت مسلمہ کو قرآنی تعلیم سے دور رکھنے کے بھی اشارات دئے ہوئے ہیں، اسی خاطر درس نظامی کے کتب احادیث میں فضائل قرآن کے ابواب تو لکھے گئے ہیں جن سے قرآن کو تعویذ گنڈوں کی کتاب تصور کرنے کے عندیے ملتے ہیں، لیکن مسائل قرآن کی رہنمائی ان کتابوں میں نہیں ہے جن سے قرآن کو مجموعہ قوانین اور ضابطہ حیات تصور کیا جا سکے، قرآن حکیم میں اللہ نے اپنے آپکو اپنے صفاتی نام حلیم (یعنی بردبار اور عقل فہم سے کام لینے والا) سے دس گیارہ بار متعارف کرایا ہے لیکن افسوس کہ ہم تحمل بردباری عقل و فہم سے کوسوں دور ہیں۔
سو امت مسلمہ کے بہی خواہوں کو یہ بات ہر وقت یاد رکھنی چاہے کہ ہماری دینی اور ایمانی غیرت کے اظہار کا صحیح صحیح پئمانہ وہ ہے جو قرآن حکیم نے سمجھایا کہ جو لوگ رسالت کے پئکیج قرآن حکیم کی توہین کرتے ہوں تو انکی مجلس سے اتنے تک علحدہ ہو جائیں جتنے تک یہ لوگ کوئی دوسری قسم کی بات شروع نہ کریں (140-4) اور جو کافر لوگ آپکی رسالت کا انکار کرکے توہین کریں تو ان سے بھی بجائے لڑنے بھڑنے کے انہیں کہیں کہ اس مسئلہ میں آؤ کہ ہم اور آپ علمی مباحثہ کریں (43-13)
اور جو منافق قسم کے لوگ آپکی توہین کریں اور رسالت کے پئکیج کے ساتھ خود رسول علیہ السلام کی ذاتی اور شتامت کے طور پر شخصی توہین کریں :
وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيِقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ(61-9)
یعنی آپکے ذات کے متعلق گستاخی کریں کہ معاذ اللہ آپ کانوں کے کچے ہیں تو انہیں بھی بتایا جائے کہ :
مَن يُحَادِدِ اللّهَ وَرَسُولَهُ فَأَنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيهَا ذَلِكَ الْخِزْيُ الْعَظِيمُ (63-9)
یعنی جو بھی شخص اللہ اور اسکے رسول سے جنگ لڑیگا تو اسکیلئے جہنم کی آگ ہے جسمیں وہ ہمیشہ رہیگا یہی رسوائی اور بڑی ذلت ہے (ایسے آدمی کیلئے) تو قرآن حکیم کی اس تعلیم پر غور کیا جائے، کیا تو نصیحت ملتی ہے یعنی پیغام رسول اپنی سچائی منوانے کیلئے علم و عقل کی راہ دکھاتا ہے حق سچ کسی ڈنڈے یا بندوق کا محتاج نہیں ہے کیونکہ :
لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىَ لاَ انفِصَامَ لَهَا وَاللّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ۝ (256-2)
یعنی دین میں زور زبردستی نہیں ہے رشد و ہدایت کی راہیں گمراہی کے مقابلہ میں عیاں ہوگئی ہیں قَدْ جَاءكُم بَصَآئِرُ مِن رَّبِّكُمْ فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ عَمِيَ فَعَلَيْهَا وَمَا أَنَاْ عَلَيْكُم بِحَفِيظٍ ۝ (104-6)
آپ لوگوں کے ہاں تمہارے رب کی طرف سے بصیرت عقل اور خرد والے دلائل آچکے ہیں جو کوئی انہیں دیکھتا ہے تو وہ اپنے فائدہ کیلئے ہے اور جو ایسے روشن دلائل کو دیکھنے سے اندہا رھا تو اس کا وبال اسی پر ہے میں رسول تمہارے اوپر کو محافظ نہیں ہوں،
اللہ کے رسولوں کی جب انکے منکرین نے توہین کی تو رب پاک نے اپنے رسولوں کو فرمایا کہ آپ انکے علاقوں سے نکل جائیں پھر میں جانوں اور یہ تمہاری اہانت کرنے والے جانیں (66-11) (74-65-15) (24-44) (79-7) جان لو کہ قوم عاد قوم ثمود اور جاگیرداریت کا سمبالک لٹھ سردار فرعون ان سب نے اپنے اپنے دور کے انبیاء اور رسل کی توہین کی اسپر اللہ کے قانون مکافات نے:
فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ (14-89)
انپر ایسا تو عذاب پہنچانے والا چابک چلایا (جو دنیا والوں نے دیکھ لیا کہ) تیرا رب (انکی) گھات میں ہے (کہ صرف انکو آنے دو پہنچنے دو) رب پاک نے اپنے رسول ہادئ برحق کو فرمایا کہ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ، آپ انکو صرف نصیحت یاد دلانے والے ہیں :
لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ ( 22-88 )
آپ ان کے اوپر کوئی داروغہ نہیں ہیں۔
قُلِ اللَّهَ أَعْبُدُ مُخْلِصًا لَهُ دِينِي فَاعْبُدُوا مَا شِئْتُمْ مِنْ دُونِهِ قُلْ إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَلَا ذَلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ ۝ (15-39)
یعنی اے رسول آپ اعلان کردیں کہ میں تو خالص اللہ کی عبادت کرتاہوں (اسے معبود سمجھتا ہوں) تمہارے معبودوں کا کہا نہیں مانوں گا،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ
میں تمہارے خداؤں کے کہے پر نہیں چلوں گا جنکے تم پجاری ہو۔
وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ
اور نہ ہی تم لوگ عبادت کرنے والے ہو اسکی جسکا میں عبد ہوں
لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ
تمہارا پوجا پاٹ والا دھرم تمہارے لئے اور میرا دین (جو مجموعہ قوانین ہے وہ) میرے لئے۔

منکرین حق سے معرکہ آرائی کا قرآنی اسلوب


قُلْ يَا قَوْمِ اعْمَلُواْ عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن تَكُونُ لَهُ عَاقِبَةُ الدِّارِ إِنَّهُ لاَ يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ ۝ (136-6)
کہدیجئے کہ اے میری قوم تم اپنی آ ماج گاہوں پر اپنے منصوبوں پر کام کئے جاؤ۔ میں بھی اپنے پروگرام پر عمل پیرا رہتا ہوں پھر (وقت آنے پر) جلدی جان جاؤگے کہ اس دنیا کی کامیابی کس کے حصے میں آتی ہے، (اللہ کی شان تو یہ ہے کہ) ظالم نہیں پنپ پاتا اس آیت کریمہ نے صاف صاف سمجھادیا ہے کہ دشمن سے مقابلہ میدان عمل میں کرنا ہے یعنی وہ بھی اپنے منشور پر عمل کریں آپ بھی اپنے منشور پر عمل کریں، وقت آنے پر فیصلہ ہوجائیگا۔

سامراج کے پروگرام میں انڈونیشیا اور سوڈان کے بٹوارے کے بعد پاکستان کی باری ہے۔

عالمی سامراج کی سازش سے جب خلافت ترکیہ کو توڑا جارہا تھا تو ان دنوں انکی تھنک ٹئنک نے اپنے سی آئی ڈی عملے کو حکم دیا کہ ایک سو سال کے عرصہ میں دنیا سے اسلام کا خاتمہ کرکے دکھاؤ، پھر جو انہوں نے اس ہدف کیلئے پلاننگ کی تو اسمیں انکے دانشوروں نے یہ حکمت پاس کی کہ لڑایوں اور جنگوں کے ذریعے مسلم ملکوں اور آبادیوں کو فتح کرکے انہیں عیسائی بنانے کے بجائے مسلم معاشروں اور ملکوں میں اسلام سے محبت عقیدت اور اسپر عمل پیرا ہونے کے دعووں اور ناموں سے انکے اندر ایسی تنظیمیں قائم کی جائیں جو ایک طرف سے انکو رہبانیت کے طریقوں سے دنیا سے نفرت کی بنیادوں پر دین کی تبلیغ میں مگن رکھیں جس سے یہ لوگ حکم قرآن :
وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا ۝ ( 77-28 )
یعنی دنیا سے اپنا حصہ لینا مت بھولو، والی فلاسفی کو بھول جائیں دوسری جانب انکے اندر ایسا تو اسلام کے نام سے کلچر متعارف کرایا جائے جو فلسفہ قرآن کہ:
قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللّهِ الَّتِيَ أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ ۝ (32-7)
یعنی اے نبی! کہدے کہ کس نے حرام کیا ہے اللہ کے زیب و زینت والے سنگھار کو جسے نکالا ہے اسنے اپنے بندوں کیلئے” اس قرآنی پرمٹ کے خلاف مسلم لوگوں کی شکل و شباہت کارٹون قسم کی جوکر چھاپ متعارف کراؤ پھر انکے ایسے یونیفارم کو کافر اور مسلم کے فرق کے طور پر جبر سے مروج کراؤ اور لاٹھی ڈنڈے سے کام لیکر حکم قرآن :
لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ ۝ (256-2)
یعنی دین میں زور زبردستی نہیں والی آیت کو ان سے بھلادو۔ سامراج کی اس چال کو اسلام کے نام سے قائم کردہ لٹھ بردار چوبداروں کے پیڈ ورکروں کی ہڑبھونگ سے ماضی قدیم میں اسپین کے اندر امت مسلمہ کے قتل عام کے بعد انڈونیشیا میں مسلم لوگوں کو عیسائی بنابناکر انکے آدھے حصہ پر جدا عیسائی مملکت قائم کردی اور یہی مذہبی نام کے پیڈ ورکر اب صومالیہ میں بھی کلچرل بہانوں سے لباسوں کو کافر اور مسلم قرار دیتے ہوئے وہاں بھی مسلم لوگوں پر اپنا مخصوص آپریشن کر رہے ہیں جسکا نتیجہ پھر وہاں بھی ریفرنڈم کے وقت شاید اسلامی چوبداروں سے تنگ آئے ہوئے مسلم لوگ بھی چاروناچار خود کو عیسائی ظاہر کریں پھر اسکے بعد پاکستان میں بھی دیگر مذہبی اقلیتوں کو ملاکر عیسائی مشنریوں کی قیادت میں مذہب کے نام سے بٹوارہ کرایا جائے، اصلی اور سچی جمہوریت کے تقاضوں کی روشنی میں۔ کہینگے کہ آدھا تمہارا آدھا ہمارا، ادھر تم ادھر ہم۔

عزیزاللہ بوہیو
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"

Last edited by rana ammar mazhar; 30-11-11 at 08:26 PM..

rana ammar mazhar
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 199
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (01-12-11), محمدمبشرعلی (01-12-11), مرزا عامر (01-12-11)
پرانا 01-12-11, 02:15 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب رانا صاحب۔
ایک طرف انہی بوہیو صاحب کی فکر کے خلاف آپ ہی مضامین شائع کر رہے ہیں‌اور دوسری طرف انہی کی فکر کی ترویج میں‌بھی مصروف ہیں۔ روؤں دل کو کہ پیٹوں‌جگر کو میں۔

اور توہین رسالت پر واک آؤٹ کر جانے والا فلسفہ بھی خوب اخذ‌کیا ہے آپ نے ۔ اگر آپ نے یہ مضمون پیش کیا ہے تو ہم یہی سمجھتے ہیں کہ آپ اس مضمون سے متفق رہے ہوں‌گے ۔ لہٰذا مضمون کے درج ذیل الفاظ‌پہلے ملاحظہ فرمائیں:

اقتباس:
مجالس میں آیات قرآنی کے خلاف انکا مذاق اڑایا جاتا ہو تو انکا بائیکاٹ کرنا ہے، وہاں سے واک آؤٹ کرنا ہے، ان کی مجلس سے اٹھ جانا ہے، لیکن یہ حکم کہ ایسے لوگوں کی مجلس میں مت بیٹھو صرف اتنے وقت تک ہے جو حَتَّى يَخُوضُواْ فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ یعنی ایسے گستاخان قرآن کی مجلس سے، گفتگو سے، میل جول سے، مستقل دائمی بائیکاٹ کا اور مستقل طور پر میل جول کی بندش کا حکم نہیں ہے، وہ واک آؤٹ اتنے تک ہے جب تک وہ گستاخی والی گفتگو کریں۔ اسکے بعد انکے ساتھ بیٹھا جا سکتا ہے
اور یہ بھی:

اقتباس:
یہ بات تو ہوئی صرف عام انسانوں کے حوالہ سے لیکن جو دشمنان اسلام اپنی دشمنی میں ہتک آمیز اور توہین آمیز لفاظی تک اتر آتے ہیں انکے لئے بھی قرآن نے تعلیم دی ہے کہ :
وَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَاهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِيلًا (10-73)
یعنی دشمنوں کی یاوہ گوئی اور ہرقسم کی خرافاتی لفاظی پر آپ اپنے پروگرام پر استقامت سے عمل پیرا رہیں، ان دشمنوں سے بطریق احسن کنارہ کش ہوجائیں، رہی بات انکی توہین کرنے کے جرم کی تو رب تعالی نے فرمایا کہ یہ معاملہ آپکی توہین کرنے والوں سے نمٹنے کا آپ میرے لئے چھوڑ دیں میرے قوانین ایسے تو ہیں جو انہیں خود بخود دبوچ لینگے فرمایا کہ :
وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا (11-73)
یہ توہین آمیز اور گستاخانہ حملوں سے آپکی ہتک عزت کرنا یہ ٹوٹل شرارت ان اولی النعمت عالمی سرمایہ داروں کی ہے اسلئے آپ مجھے چھوڑدیں ان شاتمین رسول مکذبین اور ان توہین کرنے والوں کیلئے وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا بس تھوڑی سی مہلت کی دیر ہے
بہت خوب رانا صاحب، بہت خوب۔
گویا کوئی توہین رسالت کا ارتکاب کرے تو آپ کان لپیٹ کر چل دیجئے اور جب وہ اس کام سے فارغ ہو جائے تو اس کےساتھ دوبارہ بیٹھ کر چائے سگریٹ نوش فرمائیں۔ لاجواب قرآنی غیرت ہے۔

اب ذرا میں‌ آپ ہی کی طرز پر استدلال کرتے ہوئے آپ کی ماں، بہن، بیوی، بیٹی کو خوب گالیاں‌دینا شروع کرتا ہوں۔ آپ کے سارے حلال رشتوں‌کے ساتھ حرام کے تعلق کی داستانیں لوگوں کو سناتا ہوں۔ اور آپ اس دھاگے سے یا پاک نیٹ‌فورم سے بس واک آؤٹ‌کر جائیے گا۔ اور یہ سلسلہ ختم ہونے کے بعد ہم دونوں‌گپ شپ سیکشن میں‌جا کر گپیں‌لڑائیں‌گے۔ کیسا رہے گا؟

میں‌دیکھتا ہوں کہ آپ بھی اپنی درج بالا قرآنی غیرت پر قائم رہتے ہیں یا آپ کے ناک و کان سے دھواں‌نکلتا ہے۔ جو اپنی عزت کی خاطر لڑنے مرنے پر تیار ہو جائے اس سے آپ کہتے ہیں کہ ناموس رسالت میں‌گستاخی کا ارتکاب کرنے والوں‌کی مجلس سے واک آؤٹ کر جاؤ۔ جسے غیرت ایمانی چھو کر بھی گزری ہو وہ ایسا سوچ ہی نہیں‌سکتا۔
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65]
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (01-12-11), کنعان (02-12-11)
پرانا 01-12-11, 06:39 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default غلبہ رسول کے اس مفہوم کے متعلق مو لانا مو دو دیؒ رقمطراز ہیں :

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
بہت خوب رانا صاحب، بہت خوب۔
گویا کوئی توہین رسالت کا ارتکاب کرے تو آپ کان لپیٹ کر چل دیجئے اور جب وہ اس کام سے فارغ ہو جائے تو اس کےساتھ دوبارہ بیٹھ کر چائے سگریٹ نوش فرمائیں۔ لا جواب قرآنی غیرت ہے۔

بہت خوب رانا صاحب، بہت خوب، لا جواب قرآنی غیرت ہے۔

غلبہ رسول کے اس مفہوم کے متعلق مو لانا مو دو دیؒ رقمطراز ہیں :

’’ اس امداد اورغلبہ کے معنی لازماً یہی نہیں ہیں کہ ہر زمانہ میں اللہ کے ہرنبی (مر سلین) اور اس کے پیروں کو سیاسی غلبہ ہی حاصل ہو بلکہ اس غلبے کی بہت سی صورتیں ہیں جن میں سے سیاسی غلبہ بھی ہے۔ جہاں اس نو عیت کا استیلاء اللہ کے نبیوں کو حاصل نہیں ہوا ہے ، وہاں بھی ان کا اخلاقی تفوّق ثابت ہو کر رہا ہے ‘‘ (تفہیم القرآن ج 4 سورہ الصفٰت : حاشیہ نمبر 93 )

قتل مر تد چونکہ اسی اصول ہی کی ایک فرع ہے اس لئے اس اصول کے عدم ثبوت کے بعد ارتداد کی سزا پر بحث کی چنداں ضروریات باقی نہیں رہ جاتی۔ ہم صرف چند پہلوؤں کی طرف توجہ دلانا چاہیں گے ۔ قرآن مجید کا اسلوب یہ دکھائی دیتا ہے کہ جن جرائم پر وہ کوئی سزا تجویز کر نا چاہتا ہے وہ اس جرم کے بیان کے موقع پر بتا دیتا ہے۔سورہ نور میں زنا کی سزا اور بہتان کی سزا، فوراً بیان کر دی گئی۔ ایسا نہیں ہوا کہ مجرد بہتان یا زنا کی سزا اصطلاحی تعریف پر اکتفا کر دیا گیا ہو ۔ سورہ المائدہ میں چوری کی سزا بیان کر دی ۔ کیا یہ امر حیرت انگیز نہیں کہ قرآن میں کم از کم چار مرتبہ ارتداد کا ذکر ہوا ہے لیکن کسی ایک جگہ پر بھی اشارۃً یا کنایۃً قتل تو دور کی بات، کسی بھی سزا کاذکر نہیں کیا گیا؟ سورہ آل عمران میں ارشاد ہوا کہ:

’’ اللہ ان لوگوں کو کس طرح با مراد کرے گا جنہوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا ۔۔۔درآنحا لیکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ رسول سچے ہیں اور ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں بھی آ چکی ہیں اور اللہ ظالموں کو با مراد نہیں کرے گا۔ ان لوگوں کا بدلہ یہ ہے کہ ان پر اللہ کی ، اس کے فرشتوں کی اور سارے لوگوں کی لعنت ہو گی ۔اور ان میں ہمیشہ رہیں گے ۔ نہ ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گا نہ ان کو مہلت دی جا ئے گی۔ ( آل عمران ۔86-88 / 3( ‘‘

اسی سورہ کی اگلی ہی آیت میں ایمان کے بعد کفر کا پھر ذکر کیا گیا ۔ ارشاد ہو تا ہے: ’’ بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اپنے ایمان کے بعد اور اپنے کفر میں بڑھتے گئے ان کی تو بہ ہر گز قبول نہیں ہو گی،(آل عمران : 3/90 )‘‘ سورہ النساء میں فر مایا گیا : ’’ بے شک جو لوگ ایمان لائے ، پھر کفر کیا، پھر ایمان لائے ، پھر کفر کیا ، پھر کفر میں بڑھتے گئے ، اللہ نہ ان کی مغفرت فر مانے والا ہے اور نہ ان کو راہ دکھانے والا ہے ۔ (النساء : 4/137 ) ‘‘

سورہ النحل میں ارشاد ہوا کہ : ’’ جو اپنے ایمان لانے کے بعد اللہ کا کفر کر ے گا بجز اس کے جس پر جبر کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو ، لیکن جو کفر کے لئے سینہ کھول دے گا تو ان پر اللہ کا غضب اور ان کے لئے عذاب عظیم ہے ‘‘ (الخل : 16/106 ) ‘‘

ان آیات کریمہ میں ایمان کے بعد کفر یا ایمان کے بعد کفر ، پھر ایمان ، پھر کفر ، یا کفر میں آگئے بڑھنے کا ذکر ہوا ہے ۔ سو چنے کا مقام یہ ہے کہ اگر مر تد کی سزا قتل ہو تی تو نفاذ سزا کے بعد کو ئی فرد کفر میں آگئے کس طرح بڑھتا جا ئے گا؟ نیز یہ کہ قتل کی سزا کے بعد دو بارہ کفر کے بعد ایمان کس طرح لائے گا ایمان کے بعد کفر ، پھر کفر کے بعد ایمان، پھر ایمان کے بعد کفر کا مرحلہ تب ہی آسکتا ہے جب پہلے ہی مر حلے پر ایمان کے بعد کفر کی صورت میں مر تد کو قتل نہ کیا گیا ہو ۔ ہمارا خیال ہے کہ اس نتیجے پر پہنچنے کے لئے کسی گہرے غوروفکر کی ضرورت نہیں ۔سورہ المائدہ میں تو صریحاً ارتداد کا ذکر کیاگیامگر قتل کی سزا پھربھی نہ سنائی گئی ! ارشاد باری تعالی ہے : ’’ اے ایمان والو جو تم میں سے اپنے دین سے پھرجا ئے گا ( من یر تد منکم عن دینہ) تو اللہ کو کو ئی پر واہ نہیں ‘‘ ( المائدہ : 5/54 )

قرآن مجید کی ان تصریحات سے جو باتیں سامنے آتی ہیں وہ یہ ہیں کہ ایمان کے بعد کفر یا ارتداد کی صورت میں ایسے لوگوں :

1۔ کو ہدایت نصیب نہیں ہوتی ۔

2 ۔ پر اللہ ، فرشتوں اور لوگوں کو لعنت ہو گی۔

3 ۔ کی تو بہ قبول نہیں کی جا ئے گی۔

4 ۔ کی مغفرت نہیں ہو گی۔

5 ۔ کے لئے اللہ کا غضب اور عذاب عظیم ہو گا۔

6 ۔ کی اللہ کو پرواہ نہیں ، ان کی جگہ دوسرے لوگ آ جائیں گے ۔

مگر یہی ایک بات نہیں بتائی کہ مر تد کو قتل بھی کیا جا سکتا ہے !!

اللہ تعالی نے یہ ساری باتیں تو تفصیل سے بتا دیں کہ جو مر تد ہو گا اس کو یہ اور یہ سزا ملے گی مگر نہیں بتائی تو یہی ایک بات کہ مر تد کو قتل بھی کیا جا سکتا ہے ‘ !! ۔

ہم نہیں سمجھتے کہ اللہ تعالی سے (نعوذ با للہ) کو ئی بھول چوک ہو گئی ہو گی۔ ارتداد کا ذکر ہو اور بار بار ہو اور سزا کا ذکر نہ ہو تو اس سے یہی ایک نتیجہ نکلتا ہے کہ قرآن نے مر تد کی سزا رکھی ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے زبردستی کے ایمان کا طریقہ سرے سے رکھا ہی نہیں ، ورنہ یہ سلسلہ آزمائش بالکل بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے ۔ انسان بالکل آزاد پیدا کیا گیا ہے اور اس اختیار کے ساتھ پیدا کیاگیا ہے کہ :

’’ وہ چاہے تو سیدھا راستہ اختیار کرے چاہے تو اس کا انکار کر دے ‘‘ ( الدھر : 76/3 ،الکھف 18/29 )۔ ’’ جو ہدایت اختیار کرے گا اپنے لیے ہی کرے گا اور گمراہ ہو گا تو اس کی گمراہی کا وبال اسی پر پڑے گا اور تم ( اے محمد ﷺ) ان کے اوپر کوئی دروغہ نہیں مقرر کیے گئے ‘‘۔ ( الزمہ: 39/41) ۔خود نبی اکرم ﷺ کو بھی یہ اختیار حاصل نہ تھا کہ وہ زبردستی لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کرتے ۔ یہ کام اگر مطلوب ہوتا تو کیا خود اللہ تعالیٰ یہ کام نہ کر سکتا تھا ۔ قرآن نے بالکل واضح کر دیا کہ: ’’ اور اگر تیرا رب چاہتا تو روئے زمین پر جتنے لوگ بھی ہیں سب ایمان قبول کر لیتے ۔ تو کیا تم لوگوں کو مجبور کروگے کہ وہ مومن بن جائیں ؟‘‘ (یونس : 10/99) ایک طرف یہ آیت ہے اور دوسری طرف نبی اکرم ﷺ سے منسوب ایک روایت یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ان لوگوں سے جنگ کروں ، یہاں تک کہ وہ لاالہٰ محمد رسولﷺ کی شہادت دیں ، نماز کا اہتمام کریں اور زکواۃ ادا کریں ‘‘ ( مسلم رقم ۲۲)

مرتد کی سزا اور قانونِ اتمامِ حجت
محمد عمار خان ناصر کی کتاب ’’حدودوتعزیرات : چند اہم مباحث ‘‘پر تبصرہ
مؤلف : محمد انور عباسی Muhammad Anwar Abbasi
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (02-12-11)
پرانا 01-12-11, 09:19 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ارے بھائی، یہاں مرتد کہاں‌سے آ گیا۔ آپ کے مضمون میں‌ توہین رسالت اور آیات قرآنی کا مذاق اڑانے والوں کے بارے میں کہا گیا تھا کہ جب تک وہ توہین کریں‌تو ان کے پاس سے اٹھ جاؤ اور بعد میں‌ان سے میل ملاپ کرتے رہو۔ تو میں نے آپ سے پوچھا ہے کہ اگر میں‌اآپ کے خاندان کی خواتین کو گالیاں‌دینا شروع کروں‌تو اس توہین پر آپ اپنی اسی قرآنی غیرت کا مظاہرہ کریں‌گے یا نہیں؟
کمال ہے سیدھا سیدھا جواب تو دے دیں؟
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (01-12-11), کنعان (27-01-12)
پرانا 02-12-11, 02:58 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اگر آپ کسی کے خاندان کی خواتین کو گالیاں ‌دینا شروع کریں‌ تو آپ اپنے حق میں بہت اچھا کریں گے !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
ارے بھائی، یہاں مرتد کہاں‌سے آ گیا۔ آپ کے مضمون میں‌ توہین رسالت اور آیات قرآنی کا مذاق اڑانے والوں کے بارے میں کہا گیا تھا کہ جب تک وہ توہین کریں ‌تو ان کے پاس سے اٹھ جاؤ اور بعد میں ‌ان سے میل ملاپ کرتے رہو۔ تو میں نے آپ سے پوچھا ہے کہ اگر میں آپ کے خاندان کی خواتین کو گالیاں‌دینا شروع کروں ‌تو اس توہین پر آپ اپنی اسی قرآنی غیرت کا مظاہرہ کریں‌گے یا نہیں؟
کمال ہے سیدھا سیدھا جواب تو دے دیں؟

شکاری جی شکار میں اگر آپ کسی کے خاندان کی خواتین کو گالیاں ‌دینا شروع کریں‌ تو آپ اپنے حق میں بہت اچھا کریں گے ؟؟؟

وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ كَذَلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ مَرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ( 6:108 )

اور جن لوگوں کو یہ مشرک خدا کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں خدا کو بے ادبی سے بے سمجھے برا (نہ) کہہ بیٹھیں۔ اس طرح ہم نے ہر ایک فرقے کے اعمال (ان کی نظروں میں) اچھے کر دکھائے ہیں۔ پھر ان کو اپنے پروردگار ک طرف لوٹ کر جانا ہے تب وہ ان کو بتائے گا کہ وہ کیا کیا کرتے تھے
Revile not ye those whom they call upon besides Allah, lest they out of spite revile Allah in their ignorance. Thus have We made alluring to each people its own doings. In the end will they return to their Lord, and We shall then tell them the truth of all that they did.‎

اور انہیں گالی نہ دو جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں کہ وہ اللہ کی شان میں بے ادبی کریں گے زیادتی اور جہالت سے یوں ہی ہم نے ہر امت کی نگاہ میں اس کے عمل بھلے کر دیئے ہیں پھر انہیں اپنے رب کی طرف پھرنا ہے اور وہ انہیں بتا دے گا جو کرتے تھے ( مترجم : امام احمد رضا بریلوی )

اور (اے مسلمانو!) تم ان (جھوٹے معبودوں) کو گالی مت دو جنہیں یہ (مشرک لوگ) اللہ کے سوا پوجتے ہیں پھر وہ لوگ (بھی جواباً) جہالت کے باعث ظلم کرتے ہوئے اللہ کی شان میں دشنام طرازی کرنے لگیں گے۔ اسی طرح ہم نے ہر فرقہ (و جماعت) کے لئے ان کا عمل (ان کی آنکھوں میں) مرغوب کر رکھا ہے (اور وہ اسی کو حق سمجھتے رہتے ہیں)، پھر سب کو اپنے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے اور وہ انہیں ان اعمال کے نتائج سے آگاہ فرما دے گا جو وہ انجام دیتے تھے ( مترجم : ڈاکٹر طاہر القادری )

اور خبردار تم لوگ انہیں برا بھلا نہ کہو جن کو یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہیں کہ اس طرح یہ دشمنی میں بغیر سمجھے بوجھے خدا کو برا بھلا کہیں گے ہم نے اسی طرح ہر قوم کے لئے اس کے عمل کو آراستہ کردیا ہے اس کے بعد سب کی بازگشت پروردگار ہی کی بارگاہ میں ہے اور وہی سب کو ان کے اعمال کے بارے میں باخبر کرے گا ( مترجم : علامہ جوادی )

خزائن العرفان مفسر : حضرت علامہ نعیم الدین مرآدآبادی (رحمۃ اللہ علیہ)

قتادہ کا قول ہے کہ مسلمان کُفّار کے بُتوں کی بُرائی کیا کرتے تھے تاکہ کُفّار کو نصیحت ہو اور وہ بُت پرستی کے عیب سے باخبر ہوں مگر ان ناخدا شَناس جاہلوں نے بجائے پند پذیر ہونے کے شانِ الٰہی میں بے ادبی کے ساتھ زبان کھولنی شروع کی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اگرچہ بُتوں کو برا کہنا اور ان کی حقیقت کا اظہار طاعت و ثواب ہے لیکن اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان میں کُفّار کی بدگوئیوں کو روکنے کے لئے اس کو منع فرمایا گیا ۔
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-12-11, 08:02 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 453
کمائي: 10,754
شکریہ: 354
449 مراسلہ میں 1,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

محترم، گالیاں‌دینے کا مجھے گناہ ہوگا اسے فی الحال الگ رہنے دیں۔ اصل مسئلے پر بات کریں‌کہ اگر کوئی بھی شخص آپ کے گھر کی خواتین کی بے حرمتی کرے ، گالیاں‌دے اور قصے کہانیاں بنا کر عوام میں‌مشہور کرتا رہے تو اس کے ساتھ آپ اسی ایمانی غیرت کا مظاہرہ فرمائیں گے جس کا آپ ہمیں‌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والوں‌کے ساتھ برتاؤ کا دے رہے ہیں؟
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (02-12-11), کنعان (27-01-12)
پرانا 02-12-11, 08:31 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default آپ نے جو بھی دلیل دینی ہے وہ قرآن و حدیث سے دینی ہے یا اپنے ذاتی کردار و عمل سے دینی ہے ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
محترم، گالیاں‌دینے کا مجھے گناہ ہوگا اسے فی الحال الگ رہنے دیں۔ اصل مسئلے پر بات کریں‌کہ اگر کوئی بھی شخص آپ کے گھر کی خواتین کی بے حرمتی کرے ، گالیاں‌دے اور قصے کہانیاں بنا کر عوام میں‌مشہور کرتا رہے تو اس کے ساتھ آپ اسی ایمانی غیرت کا مظاہرہ فرمائیں گے جس کا آپ ہمیں‌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والوں‌کے ساتھ برتاؤ کا دے رہے ہیں؟

آپ نے جو بھی دلیل دینی ہے وہ قرآن و حدیث سے دینی ہے یا اپنے ذاتی کردار و عمل "گالیاں ‌دینے کا مجھے گناہ ہوگا، خواتین کی بے حرمتی ، گالیاں اور قصے کہانیاں بنا کر عوام میں‌مشہور کرنا" سے دینی ہے ؟؟؟
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فوٹو, ہندو, کالج, کتابوں, کراچی, پاکستان, قدم, قرآن, قرآن حکیم, قصہ, لوگ, نفرت, مکہ, منافقین, منشور, مسائل, احتجاج, تلاش, تعلیم, جرم, خواتین, خدا, راستہ, عقل, عبادت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ولی کی اجازت کے بغیر نکاح غیر موثر نہیں ہوسکتا، اسلام آباد ہائی کورٹ گلاب خان خبریں 16 24-04-12 10:41 AM
نیوزی لینڈ نے سینئر کھلاڑیوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کرنے کی پالیسی اختیار کی ،اسٹیفن فلیمنگنیوزی لینڈ نے سینئر کھلاڑیوں کو غیر یقی عبدالقدوس کرکٹ 0 29-10-07 11:48 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:07 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger