واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم



علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم


فریاد برائے تبصرہ ، فریادی عزیز اللہ بوہیو

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-01-12, 07:10 PM   #1
فریاد برائے تبصرہ ، فریادی عزیز اللہ بوہیو
rana ammar mazhar rana ammar mazhar آن لائن ہے 01-01-12, 07:10 PM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (1:1)
شروع الله کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
In the name of Allah, Most Gracious, Most Merciful.‎

اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ ۗ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ (7:3)
(لوگو) جو (کتاب) تم پر تمہارے پروردگار کے ہاں نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا اور رفیقوں کی پیروی نہ کرو (اور) تم کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو
Follow (O men!) the revelation given unto you from your Lord, and follow not, as friends or protectors, other than Him. Little it is ye remember of admonition.‎

خلاصہ؛ تابعداری کرو اس علم کی جو تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے اور نہ پیروی کرو اس کے سوا کسی کی بھی اسے دوست قرار دیتے ہوئے۔ تھوڑے لوگ ہیں تم میں سے جو نصیحت حاصل کریں

بخدمت جناب چیف جسٹس صاحب سپریم کورٹ پاکستان
بخدمت جناب صدر مملکت اور وزیر اعظم پاکستان
بخدمت جناب وزیر تعلیم حکومت پاکستان

فریاد

جناب عالی!
ہماری فریاد ہے کہ اسلامی تعلیمات کا ماخذ اور اصل واحد صرف کتاب قرآن حکیم بلاشرکت غیرے تسلیم کیا جائے۔ ساتھ ساتھ جو صدیوں سے اسلام دشمن مافیائی تحریکوں نے بجائے اکیلے قرآن کے اور بھی مزید تین عدد اصول علم روایات، قیاس اور اجماع کو بھی شرک بالقرآن کا ارتکاب کرتے ہوئے نتھی کیا ہوا ہے ان تینوں کو قرآن حکیم کے دلیل سے جو اس فریاد کے شروع میں دی ہوئی آیت ہے اسکے حکم سے رد کیا جائے اور ممنوع قرار دیا جائے۔

عالی جناب!
علَم روایات اور اس سے ماخوذ تاریخ اور مستنبط امامی علوم نے قرآن حکیم کے جملہ انقلابی واصلاحی اعلانات کو مسخ کیا ہوا ہے، جیسے کہ حکم قرآن وان لیس للانسان الا ماسعیٰ (39، 53) یعنی جو محنت کرے اتناہی پائے۔ اور زندگی کی جملہ چیزیں وقد رفیھا اقواتھا فی اربعۃ ایام سواء للسائلین 41_10، یعنی سب چیزیں سب لوگوں میں برابری کے اصولوں پر تقسیم کرنی ہونگی، کمسن بچوں کے نکاحوں پر بندش عائد کرنے کیلئے نکاح کی عمر قرآن حکیم نے ذہنی رشد (6_4) اور جسمانی طور پر پکی جوانی (67_40) (152_6) (15_46) کو پہنچنا لازم قرار دیا ہوا ہے۔ جبکہ علم روایات نے قرآن کے ایسے انقلابی احکامات کو توڑنے کیلئے اور تو اور خود جناب رسول کی شادی خلاف حکم قرآن گڑیوں سے کھیلنے والی چھہ سال کی کمسن بچی سے کرائی ہے ایسے وقت میں جو رسول کی اپنی عمر اسوقت پچاس سال سے اوپر بنتی ہے۔

جناب حکمران مملکت!
آج جب کمسن بچیوں سے بڑی عمر والے مردوں خواہ چھوٹی عمروالے نابالغ لڑکوں کی شادیاں کرنے پر حکومت پاکستان ایسی شادیاں کرانے والوں کو اور نکاح پڑہانے والے ملاؤں کو اور جرگوں میں ایسے فیصلے کرنے والے سماجی وڈیروں کو گرفتار کر رہی ہے تو پھر اس قسم کے خلاف قرآن علوم یعنی حدیثوں اور فقہوں کے پڑ‎ھنے پڑھانے پر انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا جا تا اور انکے علوم والی خلاف قرآن کتابوں کی اشاعت پر بندش کیوں نہیں عائد کی جاتی حکومت کی ایسی ڈبل پالیسی پر تو چھوٹی عمروں میں شادیاں کرنے کرانے والے لوگ اپنی گرفتاریوں کے خلاف خود سرکار کی اس ڈپلومیسی کو اپنے بچاؤ کی ڈھال بنا لینگے

جناب حکمران مملکت!
یہ علم روایات ایجاد کرنے پر خود کو امام کہلانے والے لوگ اسلام کے دشمن ہیں انکی نظریاتی برادری والی گینگ نے اصلی تاریخی حقائق کو ہلاکو کے حملہ کے ایام میں دریاءدجلہ میں دریا بردکردیا نیز جلاکر بھی صفحہ ہستی سے گم کر دیا پھر جناب رسول کے پہلے خلیفہ کا نام بقول انکے عبداللہ تھا ، بجاء اسکے اسکی کنیت ابوبکر تجویز کرکے مشہور کی گئی جسکی معنی ہے کنواری لڑکی کا باپ یہ تلمیح ہے تبراکے مفہوم کی۔ دوسرے خلیفہ کے اصل نام عمر کے ساتھ فاروق کا لقب جوڑدیا جسکی معنی ہے ڈرپوک اور بزدل تیسرے خلیفہ کا اصل نام گم کرکے اسکا نام عثمان قرار دے دیا جسکی معنی ہے سانپ کا بچہ، اور جسے چوتھا خلیفہ قرار دیا اسکا نام اللہ کے صفاتی ناموں میں سے نام رکھا علی، جسکی معنی ہے بلند و بالا۔ اور پانچواں خلیفہ جسے قرار دیا ہوا ہے اسکا بھی اصل نام دریاء دجلہ کے ذخیروں میں ڈبودیا گیا اور جو اسکا نام انکی روایات اور تاریخ بنانے والوں نے تجویز کیا ہوا ہے وہ بھی تبرائی ذہنیت کی تسکین کے لئے “معاویہ” قرار دیا جسکی معنی ہے کتے کی بھونک، لومڑ کی آواز، گیدڑ کی آواز وغیرہ ۔

جناب والا!
قرآن حکیم کا جو فرمان ہے کہ بئس الاسم الفسوق بعدالایمان(11_49) یعنی ایمان لے آنے کے بعد بھی برے ناموں کو جاری رکھنا یہ بہت ہی برا کام ہے۔ سو اگر بالفرض لوگوں کے نام قبل اسلام زمانہ جاہلیت میں برے نام رکھے بھی گئے ہونگے تو یقین سے جناب رسول علیہ السلام نے اس حکم قرآن پر عمل کرتے ہوئے ان برے ناموں کی جگہ اچھی معنائوں والے نام رکھے ہونگے تاکہ قرآن کے عتاب و من لم یتب فاولائک هم الظالمون (11_49) سے بچا جاسکے پھر کوئی بتا سکتا ہے کہ بعد وفات رسول یہ بری معنائوں والے نام کب اور کیسے اور کن لوگوں نے روایات میں فٹ کردئے؟

عالی جناب!
اللہ نے قرآن میں جو زمین میں ودیعت کئے ہوئے روزگار کو لوگوں میں برابری کی بنیادوں پر تقسیم کرنے کا حکم دے رکھا ہے کہ “وقدر فیھا اقواتھا فی اربعۃ ایام سوا‎ء للسائلین (10_41) تو روایات کا علم گھڑنے والوں نے جناب رسول علیہ السلام پر حکم قرآن کی انحرافی کا الزام لگایا ہے کہ آپ نے اپنے صحابی زبیر کو جو جاگیر عطا کی تو اس کیلئے حدیث کے الفا‎ظ ہیں کہ عن ابن عمران النبی صلی اللہ علیہ وسلم اقطع الزبیر حضر فرسہ بارض یقال لھا ثریر فاجریٰ الفرس حتی قام ثم رمی سوطہ فقال اعطوہ حیث بلغ السوط “فتح الربانی مسند احمد جلد 15 صفحہ 135) یعنی ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول علیہ السلام نے جاگیر کے طور پر زمین عطا کی زبیر کو علائقہ ثریر کی، جتنے تک اسکا گھوڑا چل سکے، پھر زبیر نے چلایا گھوڑے کو اتنے تک جو وہ چلتے چلتے کھڑا ہوگیا، پھر زبیر نے وہاں سے آگے کی طرف اپنا چابک پھینکا، پھر رسول اللہ نے حکم دیا کہ اسے اتنی تک زمین دی جائے جتنے تک اسکا چابک پہنچا ہے۔

جناب حکمران مملکت!
عالمی سرمایہ داروں نے قرآن حکیم کے فلسفہ معاشیات وان لیس للانسان الاماسعیٰ (39_53) جو جتنا کمائے اتناہی پائے، اور حکم قرآن کہ واللہ فضل بعضکم علی بعض فی الرزق فما الذین فضلو ابرادی رزقھم علی ما ملکت ایمانھم فھم فیہ سواء (71_16) خلاصہ ، اللہ نے کچھ لوگوں کو کچھ پر روزگار کمانے کے ہنر میں زیادہ فضیلت دی ہے، لیتخذ بعضھم بعضاَ سخریا (32_43) اس لئے کہ ذہن کا ہوشیار آدمی جسمانی طور پر مضبوط لیکن ذہنی طور پر کم ہوشیار آدمی سے کام لے سکے جس سے دنیا کا کاروبار چل سکے۔ پھر جو لوگ اپنی ذہنی فضیلت سے کم ذہن والوں سے زیادہ کمالیتے ہیں انہیں اپنا زیادہ کمایا ہوا مال کم کمائی والے ماتحتوں کو لوٹا کر دینا ہے اس لئے کہ وہ ضروریات زندگی کے معاملہ میں انکے برابر ہیں۔ حکومت پاکستان کے متعلق یہ جانتے ہوئے کہ یہ ملک عالمی سرمایہ داروں کے قرضوں تلے دبا ہوا ہے اسکے باوجود آپ سے یہ درخواست اس بنا پر کر رہے ہیں کہ شاید آپ حکمرانوں کا ذہن و ضمیر قرآن حکیم کے انسان دوست قوانین سے وفا کرے۔

جناب والا!
پرانے سامراج کی عالمی سرمایہ دار شاہی اور جاگیردار شاہی نے شروع اسلام سے لیکر اپنے لے پالک دانشوروں کو امامت کے القاب دیکر ان سے اس قسم کی حدیثیں اور فقہیں قرآنی تعلیم کے رد میں تیار کرو اکر امت والونکو دینیات کے نصاب تعلیم کے طور پر پڑھنے پڑھانے کیلئے دی ہوئی ہیں، اسلئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اسلامیات اور دینیات کی تعلیم کیلئے ان قرآن دشمن امامی علوم کو نصاب تعلیم سے خارج کیا جائے۔ سرکاری تعلیمی اداروں خواہ پرائیویٹ طور پر دین کے نام سے چلنے والے مدارس عربیہ کے منتظمین کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے نصاب تعلیم سے امامی علوم کو خارج کرکے صرف قرآن حکیم سے دین سمجھائیں اور سکھائیں۔ اور فقہی جزئیات کے استخراج کیلئے قرآن کو واحد اصل اور ماخذ تسلیم کریں ان اماموں کی اسلام دشمنی کی ان گنت مثالیں دی جا سکتی ہیں بلکہ ہم اپنی متعدد کتابوں میں ایسی مثالیں لکھ بھی چکے ہیں۔

یہاں اپنی فریاد کے اختتام پر میں ان حدیث سازوں کی اسلام دشمنی کا صرف ایک مثال عرض کئے دیتا ہوں۔ امام بخاری نے رسول اللہ کی ایک شادی خلاف قرآن چھہ سال کی بچی سے کرائی ہے اور اس بچی کے نام پر ایک حدیث بھی بنائی ہے کہ وفات رسول کے بعد ایک شخص عائشہ کے بھائی کو لیکر اسکے گھر میں داخل ہوا اور مطالبہ کیا کہ وہ اسے رسول کے غسل کرنے کا طریقہ سکھائیں تو عائشہ نے وہیں کے وہیں پانی منگواکر رسول کے غسل کی طرح خود غسل کرکے دکھایا حدیث میں درمیاں میں حجاب کا بھی ذکر کیا گیا ہے ساتھ ساتھ سیکھنے کیلئے آئے ہوئے آدمی کا یہ قول بھی ہے کہ عائشہ نے اپنے سر پر پانی بہایا یعنی حجاب کے باوجود اسنے سر پر پانے ڈالنے کو دیکھا (بخاری حصہ اول کتاب الغسل باب الغسل بالصاع ونحوہ حدیث نمبر 246۔ کتاب الغسل کی چوتھی حدیث) پڑھنے والے اس گستاخانہ حدیث پر خود سوچیں کہ یہ حدیثوں والا علم، دین سکھا رہا ہے یا جناب رسول اور اس کی اہلیہ پر تبرا کر رہا ہے۔ خلاصہ فریاد کہ ان قرآن دشمن امامی علوم پر پابندی عائد کی جائے ازروء حکم قرآن کہ اتبعوا ماانزل الیکم ولا تتبعوا من دونہ اولیاء قلیلا ما تذکرون (3_7)

فریادی
عزیز اللہ بوہیو

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
قادیانیوں کے کفر کے بعد اگر پوری امت مسلمہ کا کسی گروہ کے کفر پر اجماع ہوا ہے تو وہ منکرین حدیث ہیں۔
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"

Last edited by rana ammar mazhar; 01-01-12 at 07:46 PM..

rana ammar mazhar
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 302
Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (01-01-12)
پرانا 01-01-12, 09:40 PM   #2
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,735
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

رانا عمار صاحب جس فریادی کا آپ نے ذکر کیا ہے اس کے متعلق آپ کے مراسلے کا تراشہ ۔ یہ وہ مراسلہ ہے جس میں آپ نے اس عزیزاللہ بوہیو کے گروپ کا ایک نام بھی رکھا جسے اہل ابوا کہتے ہیں ۔
اَلْمُرْجِفُوْنَ فِی الصَّلٰوۃ (یعنی) (مروجہ) نماز اسلام کے متعلق افواہیں اُڑانے والے
اقتباس:
ہاں اگر جناب غلام احمد پرویز صاحب، محمد علی رسولنگری صاحب، حشمت علی صاحب، مولوی عبداللہ صاحب اور عزیز اللہ بوہیو صاحب اور ان کے ہم زبان گھوڑوں، گدھوں، بلوں، پلوں، چیلوں، گدھوں اور چوہوں چمگادڑوں والی صلوٰۃ ادا کرنا چاہتے ہوں تو وہ اس کی تحقیق کرتے رہیں ہم اس بات کا اقرار کرنے کے باوجود کہ یہ تمام چیزیں اپنی اپنی صلوٰۃ و تسبیح ادا کرتی ہیں ان کی صلوٰۃ و تسبیح کے کھوج کی قطعاً ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ ہم اس کو لغت سے تلاش کر کر اس بے کار بحث میں اپنا وقت ضائع کرتے رہیں اور جب تک ان تمام چیزوں جیسی صلوٰۃ کی کہنہ معلوم نہ کر سکیں اُس وقت تک ’’صلوٰۃ‘‘ جیسے فریضہ کے قریب ہی نہ جائیں۔
ہم پورے وثوق اور ایمان و ایقان کے ساتھ یہ عرض کریں گے کہ جو لوگ بھی ان چیزوں کی صلوٰۃ و تسبیح میں مصروف رہے ہیں یا اس وقت مصروف ہیں وہ محض اپنے آپ کو اور دوسرے تمام لوگوں کو اور خصوصااللہ تعالیٰ کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ دراصل وہ اپنے آپ کو دھوکا میں مبتلا کئے ہوئے ہیں جیسا کہ اللہ رب کریم نے اپنے کلام لاریب کے شروع میں فرما دیا کہ:
یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَمَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَہُمْ وَمَا یَشْعُرُوْنo (۲:۹)
’’کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ اور ایمان والوں کو دھوکا دیتے ہیں، حالانکہ وہ خود ہی دھوکے میں ہیں، اگرچہ اس کا شعور نہیں رکھتے۔‘
اقتباس:
’’اہل اہواء‘‘ کی تحریرات دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جگہ جگہ قرآنِ کریم کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ اور چلتے چلتے اپنے مطلب کا ایک جملہ قرآنِ کریم کا بول دیتے ہیں یا تحریر کر دیتے ہیں جس سے قاری یہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ انہوں نے بیان کیا ہے یا تحریر کیا ہے وہ قرآنِ کریم ہے لہٰذا وہ جو کچھ فرما رہے ہیں وہ بالکل حق ہے۔ حالانکہ ان کی یہ بات ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کسی غیر نمازی کو کہا جائے کہ نماز ادا کیا کرو تو وہ کہنے والے پر یہ اعتراض جڑ دے کہ دیکھو یہ نماز تو پوجا پاٹ ہے اور پوجا پاٹ تو پارسی یعنی آگ پرست کرتے ہیں لہٰذا جو دعوت تم مجھے دے رہے ہو اسلام میں اس کا نام و نشان نہیں اور اگر ان سے کہا جائے کہ چلو معاف کرو ’’صلوٰۃ‘‘ ادا کیا کرو تو وہ کہہ دے کہ قرآنِ کریم میں صاف لکھا ہے کہ ’’لَا تَقْرَبُوا الصَّلوٰۃَ‘‘ کہ صلوٰۃ کے قریب مت جاؤ۔ کیا یہ قرآن کریم میں نہیں ہے؟
آپ ’’اہل اہوا‘‘ کی کسی کتاب کو اُٹھا کر دیکھ لیں جگہ جگہ آپ کو قرآنِ کریم کی آیات کے ٹکڑوں کا استعمال دیکھنے میں آئے گا کسی مقام پر بھی وہ قرآنِ کریم کی ایک مکمل آیت یا چند آیات کو تحریر کریں گے نہ بیان میں اس طرح کا ذکر کریں گے بلکہ جب بولیں گے قرآنِ کریم کی عبارت کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا حالانکہ خود قرآنِ کریم نے اس حرکت سے منع فرمایا ہے کیونکہ اس سے معنی اور مفہوم بالکل بدل جاتا ہے جیسا کہ اوپر ذکر کئے گئے قرآن کی اس عبارت کا کہ ’’لَا تَقْرَبُوا الصَّلوٰۃَ‘‘ نماز کے قریب مت جاؤ۔
اقتباس:
بات کو بدلنا کیا ہوتا ہے؟ یہی کہ جو کچھ کہا گیا ہو اس کا مفہوم بدل دیا جائے الفاظ چاہے وہی رہیں لیکن ان کا مفہوم کچھ اور لے لیا جائے جیسا کہ ’’اہل اہواء‘‘ کر رہے ہیں کہ الفاظ تو قرآنِ کریم کے بہت استعمال کرتے ہیں لیکن ان کا مفہو م بالکل بدل دیتے ہیں اور اس بات سے گذشتہ قوموں کو روکا گیا تھا جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے اور یہی بات وہ کر رہے ہیں۔
اللہ رب کریم عالم الغیب ہے اُس نے قرآنِ کریم میں ایسا عمل کرنے والوں کی بے شمار مثالیں بیان کی ہیں جو زبان سے ایک چیز کا اقرار کرتے ہیں اور عملاً اُس کا انکار کرتے ہیں اور بالکل نہیں مانتے۔ قرآنِ کریم نے خود ان کا کام ذکر کیا ہے کہ وہ کیا کرتے ہیں یہی کہ قرآنِ کریم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے ہیں تاکہ وہ اپنی مرضی کا مفہوم اخذ کر سکیں۔
اس کے علاوہ خود اپنا یہ تھریڈ بھی پڑھ لیں ۔
اقامت ’’صلوٰۃ ‘‘ یا ’’نظام ربوبیت‘‘

رانا عمار صاحب آپ کا پیش کردہ فریادی مشکوک ہے ۔ کسی کام کے بندے کو حاضر کریں ۔ یہ عدالت کیس خارج کرتی ہے ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (01-01-12), فیصل ناصر (01-01-12), کنعان (01-01-12), بلال الراعی (01-01-12), حیدر (01-01-12), شکاری (02-01-12), عبداللہ حیدر (09-01-12)
کمائي نے مرزا عامر کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
01-01-12 حیدر آپ کا پیش کردہ فریادی مشکوک ہے 10
پرانا 01-01-12, 09:56 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default لیکن کچھ باتیں قابل غور ہیں، ’’اہل اہوا‘‘ کی، جن کی سماعت ہونی چاہئیے۔ بہرحال اصرار نہیں ہے !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
رانا عمار صاحب جس فریادی کا آپ نے ذکر کیا ہے اس کے متعلق آپ کے مراسلے کا تراشہ ۔ یہ وہ مراسلہ ہے جس میں آپ نے اس عزیزاللہ بوہیو کے گروپ کا ایک نام بھی رکھا جسے ’’اہل اہوا‘‘ کہتے ہیں ۔
اَلْمُرْجِفُوْنَ فِی الصَّلٰوۃ (یعنی) (مروجہ) نماز اسلام کے متعلق افواہیں اُڑانے والے
اس کے علاوہ خود اپنا یہ تھریڈ بھی پڑھ لیں ۔
اقامت ’’صلوٰۃ ‘‘ یا ’’نظام ربوبیت‘‘
رانا عمار صاحب آپ کا پیش کردہ فریادی مشکوک ہے ۔ کسی کام کے بندے کو حاضر کریں ۔ یہ عدالت کیس خارج کرتی ہے ۔
لیکن کچھ باتیں قابل غور ہیں، ’’اہل اہوا‘‘ کی، جن کی سماعت ہونی چاہئیے۔ بہرحال اصرار نہیں ہے !!!
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (01-01-12)
پرانا 01-01-12, 10:09 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default مدارس عربیہ کے نصاب درس نظامی کا تعارف

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں
لیکن کچھ باتیں قابل غور ہیں، ’’اہل اہوا‘‘ کی، جن کی سماعت ہونی چاہئیے۔ بہرحال اصرار نہیں ہے !!!
مدارس عربیہ کے نصاب درس نظامی کا تعارف

مذہب کے نام پر ملک میں دینی مدارس میں رائج درس نظامی میں جو علوم و فنون پڑہائے جاتے ہیں، ان میں قرآن کو نظر انداز کردیا جاتا ہے کیونکہ ان مدارس کے علما‎‎ء کے ہاں دینی فقہ کا ماخذ قرآن نہیں ہے۔ یہ لوگ مذہبی مسائل اور فتوے اہل فارس کی بنائی ہوئی حدیثوں سے اخذ کرتے ہیں اور فقہ و علم حدیث کو دین کا اصل قرار دیتے ہیں جبکہ دین کا اصل واحد صرف قرآن ہے۔ اس لیئے یہ اپنے سارے نصاب درس نظامی میں دینیات کے نام پر فقہ و حدیث کی بہت ساری کتابیں پڑہاتے ہیں۔ قرآن حکیم پہلے تو بلکل پڑہاتے ہی نہیں تھے مگر اب حکومت سے اپنی سند کو ایم اے کے برابر منوانے کیلے نصابی کتابچہ میں رسمی حد تک ترجمہ قرآن پڑہانا شامل کیا گیا ہے۔ حقیقت میں یہ امت کے مولوی قرآنی احکامات کو مانتے ہی نہیں ہیں اور اسی سبب سے یہ مسلم امت کی اولاد کو مسائل حیات اور اصلاح زندگی کے لئے قرآن کے احکام نہیں سکھاتے کیونکہ اگر قرآنی احکام اور فہم القرآن کی تعلیم دیں گے تو اماموں کا تیار کردہ علم حدیث و فقہ جو سارے کا سارا خلاف قرآن ہے۔ اس کے بارے میں ہر طالب علم اپنے اساتذہ سے ضرور پوچھے گا کہ قرآن تو معاشیات، سماجیات، عمرانیات کی طرح کی عبادات کی تفصیل بتاتا ہے لیکن یہ علوم امامت اس کے سراسر خلاف اور مختلف کیوں ہیں؟ علاوہ ازیں مدارس میں علم حدیث کی ساری کتابیں ایک ہی سال میں پڑہائی جاتی ہیں۔ وہ بھی صرف تبرک کے طور پر فر فر پڑھ کر عبارت پوری کی جاتی ہے، باقاعدہ تفصیل سے اس لیے نہیں پڑھاتے کہ ان میں رسول اللہ و اصحاب رسول پر گالیوں والی حدیثیں تفصیل سے پڑھانے کی باعث، علم حدیث کی قرآن دشمنی ظاہر ہوجائے گی۔

گرہمین ست مکتب و مُلا_ کارطفلاں تمام خواہد شد

امامی علوم کے فاضلوں اور دانشوران امت اسلامیہ کی خدمت میں اپیل


تاریخ کے یہ مسلمہ حقائق ہیں کہ ہلاکو کے حملہ کے وقت خلافت اسلامیہ کے زوال کے ساتھ زمانہ نبوت سے جو ذخیرہ کتب امت مسلمہ کے علما‎ءنے کتابوں کی صورت میں تیار کیا تھا ایک طرف ان جملہ کتب کو دریاءدجلہ میں ڈبو دیا گیا دیگر اطراف مملکت کے کتب کو جو بغداد سے دور تھے انہیں جلایا گیا ساتھ ساتھ سقوط بغداد کے وقت علما‎ء کے سر کاٹ کر انکے مینار بنائے گئے اور اسپین کے زوال کے وقت وہاں مسلم نام کا کوئی ایک بھی شخص زندہ نہیں چھوڑا گیا یعنی مسلم آبادیں جملہ کی جملہ قتل کی گئیں یا انہیں عیسائی بنایا گیا مطلب عرض کرنے کا یہ ہے کہ ان جنگوں میں جو قتل عام کیا گیا اس میں بالخصوص علما‎ امت نشانہ بھنے دوسرے نمبر پر علمی ذخائر کتب نشانہ بنے سو اسپین اور مملکت بغداد کے آپریشن کے دوران جو علمی ذخیرے نشانہ بنائے گئے ان کتابوں کو جلانے اور دریا برد کرنے کی خاص وجہ یہ تھی کہ وہ جماعت کتب، قرآنی علوم سے تیار کردہ تھے اور قرآن کے بتائے ہوئے فن تصوف آیات کی روشنی میں لکھے ہوئے تھے، پھر اس علمی خلاکو پر کرنے کیلئے جو پہلی صدی ہجری سے لیکر یہود مجوس و نصاری کی اتحاد ثلاثہ والی ٹیم نے علم قرآن کا مقابلہ کرنے اور اسمیں تحریفات معنوی یلئے جو انڈر گراؤنڈ زیر زمین کی دام ہمرنگ کے طور پر علمی اور عملی تحریکیں چلائی ہوئی تھیں جنہوں نے علوم روایات، علوم باطنیہ علم تصوف کے کئی اسکول چلاکر الہامات اور القائات کی خانقاہیں قائم کی تھیں جن سب کا مقصد فکر قرآن، کہ انسان فکری طور پر آزاد پیدا کیا گیا ہے۔ (99_10) اور کمائ کا بنیاد محنت ہے (99_53) معاشی وسائل سب برابری کے اصول پر تقسیم کرنے ہونگے (10_41) مرد اور عورتیں برابر ہیں (1_4) عورتوں پر جبر کرنے کی بندش ہے (19_4) نکاح کی عمر کیلئے ذہنی رشد اور ساتھ جسمانی بلوغت بھی پکی جوانی (6_4) (67_40) (52_6) (15_46) کو پہنچنا لازمی قرار دیا ، تو اسطرح کے کئی انقلابی سماجی معاشی معاشرتی اعلانات کو رد کرنے اور انکی معنوی تاویلیں اور تحریفیں
کرنے کیلئے جناب رسول اللہ کی طرف جھوٹی نسبتوں سے علم الحدیث کے نام پر قرآنی احکامات کو منسوخ کرنے کے حیلے کئے ہیں اور عالمی سامراج کے اتحاد ثلاثہ کے ان لے پالک دانشوروں کو امامت کے القاب سے میدان علم میں لایا ہے جنہوں نے اپنی جدا جدا فقہیں رد قرآن کیلئے اس علم حدیث سے اخذ کیں ویسے تو یہ سارے امام اپنی جدا جدا فقہی مسلکوں کے حوالہ جات سے امت مسلمہ کی وحدت کو فرقوں میں مبتلا کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں لیکن انکے یہ سارے فرقے اور امام جدا جدا ہونے کے باوجود قرآن کی انقلابی فلاسفی کی مخالفت میں سب متحد ہیں۔
یہاں تک ان تھوڑی سی گذارشات کے پیش نظر ہماری درخواست ہے کہ جب ہمنے قرآن حکیم کے علوم کی طرف تھوڑی سی توجہ دی ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ قرآن پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ ہمنے جو آپ لوگوں کو عالمی سرمایہ داریت عالمی جاگیرداریت عالمی پاپائیت قارون فرعون اور ہامان کے تمثیلی نامون سے انکی خلاف علم وحی عداوتوں کی داستانیں بیان کرکے سمجھائی ہیں اور یہ بھی سمجھایا ہے کہ فرعونی لاؤلشکر کے علمی دانشوروں جنکا پیشوا ہامان تھا انکا ہم نے اپنی کتاب قرآن میں جو تعارف کرایا ہے کہ وجعلنا ہم ائمۃ یدعون الی النار و یوم القیامۃ لا ینصرون یعنی یہ لوگ جہنم کی آگ کی طرف بلانےکے امام بنے ہوئے ہیں (اس قسم کی امامت کو سمجھنے کیلعے ملاحظہ کریں آیات 38 سے 42 سورت القصص 28 ) سواب جو قرآن نے امامی علوم کو انسان دشمن ثابت کرکے دکھایا ہے تو اب کیوں نہیں ان جملہ امامی روایات اور فقہوں کو دریا برد کرکے قرآن حکیم کو اصل واحد اور ماخذ تسلیم کرکے اس سے دینی نصاب تعلیم تیار کرکے اپنی درسگاہوں میں پڑھائیں، جناب زعماء امت مسلمہ! آپکی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ صدیوں سے قرآن حکیم کی تعلیمات امت مسلمہ کی درسگاہوں سے بے دخل ہیں تفقہ قرآن کیلئے قرآن کی بتائی ہوئی ٹرمنالاجی انظر کیف نصرف الا ٰیات لعلھم یفقہون (65_6) پر بندش ہے مذہبی تعلیم کے خود کو فاضل اور دستار بند عالم دین کہلانے والے سارے مولوی علما‎ء یہ لوگ مخالف قرآن امامی علوم کے عالم ہیں، ان مولوی لوگوں کے ہاں نابالغ بچوں کے نکاح جائز ہیں ایسے نکاحوں کی عقدیں اور رسوم یہ حضرات روپیوں کے عوض خود سرانجام دیتے ہیں ہمارے ملک کے دینی مدارس میں قرآن حکیم کی تعلیم تصریف آیات کی روشنی میں پڑہانے پر بندش ہے، اس طرح کی تعلیم قرآن حکیم صدیوں سے کعبةاللہ اور مسجد نبوی میں بھی یعنی مکۃالمکرمہ اور مدینةالرسول سے بے دخل ہے وہاں بھی قرآن حکیم کی تعلیم پر اہل فارس کی قرآن دشمن روایات کا غلبہ ہے ۔

بیچ کھاتے ہو حرم پھر بھی مسلمان ہو تم
دل میں سوچو تو ذرا صاحب ایمان ہو تم
زمانہ علم بغاوت اٹھاکے بیٹھا ہے
وہ اپنی موت کی سوگند کھاکے بیٹھا ہے
میں ملوکیت کے دامن کو کروں گا تار تار
ٹوٹ جائے گی مری مضراب سے کہنہ ستار
پھر میرے ہاتھ شرارت پہ اتر آئے ہیں
پھر کسی شاہی گریبان کو ڈھونڈو یارو

روایات سازوں کی قرآن سے نفرت کا اندازہ تو کرو جو علم روایات کی ایک بڑی کتاب مسلم، امام مسلم نامی نیشاپوری کی حدیث کی کتاب میں یہ‎ بڑی گالی لکھی ہوئی ہے کہ شیطان لوگ جنہیں سلیمان نے سمندر میں جکڑ کر رکھا تھا وہ نکل کر لوگوں کو قرآن سنائینگے ( )سو غور کیا جائے امت مسلمہ کے سارے ممالک کی مساجد میں بھی قرآن حکیم کے سمجھائے ہوئے معاشی معاشرتی مسائل حیات سے بائیکاٹ کیا ہوا ہے مساجدو مدارس دینی میں، امای علوم والی مخالف قرآن تعلیم پڑھی پڑھائی جارہی ہے، ان امامی علوم کی روایات اور فقہوں کے قرآن مخالف ہونے کے ثبوت میں، میں متعدد کتابیں بھی لکھ چکا ہوں۔
موجودہ دور کے سامراج یعنی عالمی سرمایہ داروں کے آئی ایم ایف کے ڈائریکٹروں نے متعدد بار پاکستان میں آکر حکومت کے نمائندوں کو کہا ہے کہ آپ اپنے ملک کے مذہبی اداروں کے نصاب تعلیم میں کوئی تبدیلی نہ لائیں، انکو انکی پرانی ڈگر پر چلائے رکھیں انکی یہ ہدایت اور فرمائش ثابت کر رہی ہے کہ دنیا کے استحصالی لٹیرے قرآن کے معاشی نظام کو اپنے لئے موت سمجھ رہے ہیں، اس سے بچنے کیلئے مذہبی مدارس کے درس نظامی کو اپنے لئے چھتری سمجھتے ہیں، اسلئے وہ امت مسلمہ کی سیاسی قیادتوں پر جبر کر رہے ہیں کہ :

مست رکھو ذکر و فکر صبحگاہی میں انہیں
پختہ تر کردو مزاج خانقاہی میں انہیں

جان لینا چاہیئے کہ آئی ایم ایف کے ان افسروں کو بخوبی علم تھا کہ جب جناب خاتم الانبیاءعلیہ السلام نے اپنے منشور خاتم الکتب قرآن حکیم کی رہنمائی میں قیصرو کسری کی جڑین اکھاڑ کر رکھدیں تو آگے چلکر ان کی باقیات نے جو امامت نامی تحریک قائم کر کے ان سے قرآن مخالف علوم روایات و فقہیں تیار کرائے تھے نیز قرآن کا تفسیر بجاءتصریف آیات کے تفسیر بالروایات لکھواکر اس سے قرآن کی انقلابی اصطلاحات صلواة، زکواة حج، عمرہ، صبر، شکر، مسجد، محراب کی معنوی تحریفیں مشہور کرادیں ان علوم کو پھر زوال سلطنت بغداد واسپین کے بعد، پہلے والے تصریف آیات قرآن کے ہنر سے جو علوم تیار کرائے ہوئے تھے انہین غرق دریاء کرکے پھر انکی جگہ ان امامی علوم کو درس نظامی کے نام سے مذہبی مدارس میں شروع کرایا گیا جنکے اثرات کو کسی دل جلے نے اسطرح بتایا کہ :

گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا
کہاں سے آئے صدا لاالٰہ الااللہ

یہی سبب ہے جو آئی ایم ایف والوں کے نمائندوں نے پاکستان کے حکام کو روکا کہ آپ اپنے مذہبی اداروں کی تعلیم کو درس نظامی والے نصاب میں محدود رکھیں ۔

امت مسلمہ کے بہی خواہو! عالمی سامراج اور برطانوی اور امریکن جھنگل کی حویلیوں نے سعودی حکومت اور بھی دیگر مسلم ملکوں کے حکمرانوں کو حکم دیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ پرانے سامراج کے اتحاد ثلاثہ یہود، مجوس و نصاری نے جو خلاف قران علم حدیث ایجاد کرایا تھا،اور اسمیں تحریف قرآن کے عمل کو آسان بنانے کیلئے جو حدیثین بنائی گئی تھیں کہ قرآن سات قرائتوں میں نازل کیا گیا ہے، سواب وقت آگیا ہے کہ ان روایات کو بہانہ بناکر قرآن میں اختلاف قرائات کی آڑ لیکر ہر قرائت والے قرآن کے جدا جدا، ایڈیشن چھپوا‎ؤ! جس پر حکومت سعودی مصر کویت وغیرہ قرائت کے نام سے ملاوٹ والے قرآن چھپوادئے ہیں ۔ پھر دوسرے مرحلہ میں آگے چلکر روایات غیر متداولہ کی آڑ میں یہ عالمی سامراج والےامت مسلمہ کے حدیث پرست فرقوں کے نام سے اور خود مسلم حکومتوں سے قرآن میں خبر نہیں کہ کس کس قسم کی تحریفیں کرائینگے!!! اب یہ لوگ سوچ رہے ہیں کہ وہ ملاوٹ والے شائع کردہ نسخے کسطرح امت مسلمہ میں اور دنیا والوں میں تقسیم کریں میں عالمی سامراج اور اسکے غلام مسلم حکمرانوں اور قرآن مخالف فرقوں کو چئلنج کرتاہوں کہ تمہارے یہ قرائتوں کے نام سے چھپوائے ہوئے ملاوٹی نسخہائے قرآن ہم امت میں ، اور دنیا ‏ میں چلنے نہیں دینگے، سن لو! آل سعود اور انکے ہمنوا وہابیو!

آنے پائے نہ کوئی ورثہ نبوت کے قریب
دیکھئے خواجہ کونین کے دربان ہیں ہم
ہم نے روندا ہے زمانے میں فرنگی کا وقار
گرچہ مظلوم ہیں ہم بے سرو سامان ہیں ہم
ہم نہ گھبرائینگے تعزیر زمانہ سے کبھی
وقت بھی جانتا ہے وقت کی پہچان ہیں ہم

ہمارا مطالبہ ہے کہ روایات ساز اور روایات سے فقہ ساز اور تاریخ ساز پہلے لوگ کبھی کے مرچکے ہیں انکی روایات سے ڈنکے کی چوٹ انکی قرآن دشمنی ثابت ہور ہی ہے اسلئے ان علوم پر بندش بھی ڈالی جائے، امام بخاری نے اپنی کتاب میں کتاب النکاح کے باب من قال لانکاح الابولی باب نمبر 66 حدیث نمبر 114 میں لکھا ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں نکاح چار قسموں پر تھا۔آگے حدیث میں نکاح والی عورتوں کو اپنے شوہروں کے علاوہ دوسرے لوگوں سے زنا کرانے اور بیج لینے کا تفصیل ہے اس حدیث کو صحیح ماننے سے اصحاب رسول پر تبرا اور گالی پڑتی ہے کہ وہ ایسے قسم کے نکاحوں کی پئداوار ہیں۔ جناب رسول اللہ کے چچا کا نام ان حدیثیں بنانے والوں نے گالی والا نام عباس بتایا ہے جسکی معنی ہے بگڑے ہوئے چہرہ والا، لغت کی کتاب تاج العروس نے لکھا ہے کہ العبس کی معنی ہے وہ گوبر اور پیشاب جو اونٹ کی دم کو لگ کر پھر سوکھ جاتا ہے۔ اور شروع اسلام کے ایک قومی سردار جو جناب رسول کے ددھیال سے تعلق رکھتے ہیں اور کئی اصحاب رسول کے دادا ہیں جسکا نام روایت سازوں نے امیہ لکھا ہے یہ نام گویا کہ ان سب کورسول اللہ سمیت ایک گالی ہے کہ انکا دادا، امیہ تھا، امیہ یا اموی تھا اسمیں معنوی تلمیح بھی ہےاور لفظی اشباع بھی ہے بلکہ بجا‎ءتلمیح اور اشباع کے ایک واضح گالی ہے یعنی وہ ماں والا کرکے پکارا جاتا تھا یعنی متعین طور اسکا باپ معلوم نہیں تھا یعنی وہ ولد زنا تھا جناب قارئین غور کیا جائے کہ کسی رائل فیملی کے قومی سردار کو کوئی بھی شخص ایسی گالی والے نام سے پکارنے کی مجال بھی نہیں رکھ سکتا۔ سوال کیا جاتا ہے کہ اگر یہ نام غلط ہیں جھوٹے ہیں تو صحیح نام کیا ہیں، جواب یہ ہے کہ جناب عالی آپکا صحیح علم سارا کا سارا سوا‎ء قرآن کے ہلاکو کے حملہ میں دریا برد کیا گیا اور جلادیا گیا آپکے علما‎ء کے سرکاٹ کر انکے مینار بنائے گئے اور اسپین کے زوال کے وقت اگر آپ کے لاکھوں مسلمان قتل کئے گئے ایک بھی مسلم براء نام اسپین میں زندہ نہیں چھوڑا گیا تو کیا آپکے علوم کو انہوں سلامت چھوڑا ہوگا؟ اسلئے ہمارا مطالبہ ہے کہ ان قرآن دشمن امامی علوم کو بطور قصاص اور بدلہ کے سمندر کے حوالے کیا جائے اور جلایا جائے اور دینی ہدایات و قوانین سارے کے سارے قرآن حکیم سے لئے جائیں، اسلئے کہ دین کا اصل واحد قرآن ہے دوسرے تین نام نہاد علوم حدیث فقہ اجماع ،قرآن کے خلاف ہیں، جو دشمنان اسلام نے ترتیب دیئے ہیں۔ سوہماری تاریخ کےبڑے لوگوں کے صحیح نام ملیں یا نہ ملیں کسی کو ہم گالی والے ناموں سے کیوں پکاریں۔

کفر کی راہ میں کیوں کھوئے ہوئے ہو لوگو!
اپنے اللہ کے قرآن کو ڈھونڈو یارو
ہم نے آئین زمانہ سے بغاوت کی ہے
ہم نے اللہ کی قرآن کو لانا چاہا

ممکن ہے کہ کئی لوگ ہماری اس تحریر پر تشویس میں ہوں کہ اس قرآن نے مسلم امت کے چوروں لٹیروں کو کچھ نہیں کیا تو ہائی لیول کے یورپ و امریکہ کے پیٹ بھرے استحصالی لوگوں کو کیا کریگا، سوجان لینا چاہیئے کہ دنیا میں جتنےبھی نظام حکومت رائج ہیں وہ سب کے سب کسی نہ کسی فکر و فلسفہ کے بنیاد وں پر قائم ہیں خواہ وہ عوام کے بھلے کے ہوں یا نقصان کے، ازل سے لیکر دنیا کے لٹیروں اور غریب عوام کی محنتوں کا استحصال کرنے والوں کے خلاف اللہ عز وجل نے ہمیشہ اور ہر دور میں مستضعفین اور لوٹے ہوئے بے سہارا لوگوں کو بچانے کیلئے انہیں میں سے کسی ایک کو نبوت عطا کرکے معاشی برابری اور معاشرتی اعلیٰ اخلاقیات کی تعلیم انبیاء علیہم السلام کی معرفت بذریعہ وحی کتابوں اور صحیفوں کی شکل میں ارسال فرمائی ہے یہ وحی کی تعلیم جناب نوح علیہ السلام سے لیکر سیدنا محمد صلوات وسلام علیہ تک ایک ہی قسم کی تھی، جسکے کچھ حوالہ جات ہم اس اپیل کے شروع میں لکھ آئے ہیں، اس علم وحی کی تعلیم نے ایسے تو انقلابات لائے ہین جو تاریخ کے کئی فرعونوں ہامانوں قارونوں شدادوں نمرودوں کے تاجوں کو اچھال اچھال کر انقلابی کامریڈوں کے تھڈوں نے انہیں فٹ بال بنادیا، ان خدائی کے دعویدار بادشاہوں کے شاہی تخت انقلابیوں کے اشاروں سے الٹ دئے گئے، جب یہ علم وحی کی آخری کتاب جناب خاتم الانبیا سلام علیہ کی معرفت بھیجی گئی تو آج کا سامراج عالمی مترفین کا آئی ایم ایف نامی گروہ بخوبی جانتا ہے کہ انکا قدیم مورث اعلیٰ روم اور فارس چکی کے دوپاٹوں کی مثل دنیا کی انسانی آبادی کو غلام بناکر انہیں لوٹ رہا تھا، مسل رہا تھا، پیس رہا تھا، انہی ایام میں اللہ نے کمزور بنائےہوئے انسانوں پر رحم کھایا اور بکریوں بھیڑوں اور اونٹوں کی چرواہی قوم میں سے علم وحی کی رہنمائی میں انقلاب لانے کیلئے آخری نبی بھیجا جسکی تیارکردہ انقلابی ٹیم نے روم و فارس یعنی قیصر و کسری کی سلطنت کے حصے بخرے ادھیڑ کر رکھدئے پھر یہ معاشی و معاشرتی مساوات کا انقلاب صدیوں تک قائم رہا جسے ان مترفین روم و فارس کی تلچھٹ نے اقوال رسول اور علم حدیث کے نام سے خلاف قرآن ایسا علم ایجاد کیا جس سے آل رسول خاندانی تقدس اور شخصیت پرستی کے ڈھکو سلوں سے مساوات کے فلسفہ کو ملیا میٹ کردیا آگے ایسے علم روایات کیلئے مشہور کردیا کہ اس علم روایات کے ہوتے ہوئےقرآن سے مسائل حیات اخذ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اور علم حدیث کیلئے مشہور کیا کہ یہ علم اللہ کے علم قرآن کے اوپر قاضی ہے، یعنی حاکم ہے ،محترم قارئین! میں کھل کر دعوی کرتاہوں کہ امت مسلمہ کے حکمران اور امامی علوم کے علما‎ اور مل اونر متحد ہوکر قدیم عالمی سامراج کے ایجاد کرائے ہوئے قرآن دشمن علوم کی حفاظت کر رے ہیں اور غیر مسلم سامراج آئی ایم ایف والے بشمول سعودی حکمران ہر وقت خائف رہتے ہیں کہ بقول علامہ اقبال کہ، جو راز قل العفو میں پوشیدہ ہے اب تک اس دور میں شاید وہ حقیقت ہو نمودار یعنی ضرورت سے زائد شی پر تمہاری مالکی نہیں ہوگی اسے مستحقین کیلئے خرچ کرنا ہوگا، علامہ اقبال نے مساجد کے علما‎ء کیلئے بھی کہا ہے کہ اس راز کو کیا سمجھے دو رکعت کا امام علامہ صاحب کے بقول دور رکعت کا امام مولوی صاحب قرآن کا فلسفہ معیشت اسلئے نہیں سمجھے گا جو اس نے توجاگیرداری کے جواز کی حدیثیں پڑھی ہیں اور بیع مضاربت کے جواز والی امامی فقہیں پڑہی ہیں، اسلئے مسلم سرمایہ دار اور غیر مسلم سرمایہ دار قرآن دشمنی میں متفق اور متحد ہیں دونوں کی دوستی امامی علوم کے فاضل مولویوں سے پکی ہے اور رہیگی۔ ایک مولوی کو جب ہم قرآن کے مسائل حیات یعنی معاشی مساوات ، نابالغ بچوں کی شادیوں پر بندش، مردوں اور عورتوں کی برابری، وغیرہ کے قوانین سناتے ہیں تو وہ انہیں ماننے اور قبول کرنے سے انکار کرتا ہے، لیکن جب سوویت انقلابیوں کو عبیداللہ سندھی نے لینن کی حیاتی میں ماسکو میں جاکر بتایا کہ قرآن حکیم ذاتی ملکیت کا انکار کرتا ہے سامان معیشت کیلئے برابری کا حکم دیتا ہے تو کمیونسٹ کامریڈ کہنے لگے کہ اب تو ہم مارکسزم کو لاگو کرچکے ہیں اسکے باوجود ہم آپکی کتاب قرآن کے ان قوانین کو قبول کرتے ہیں پسند کرتے ہیں اور اپنی ریاست میں نافذ ‎بھی کرینگے لیکن صرف ایسا نظام اگر آپکے کسی ‎بھی مسلم ملک میں رائج اور رواں دیکھیں گے تو یقینا ہم بھی اپنے ہاں قران کا نظام اسلام چلائینگے، کامریڈوں کے اس سوال کا جواب مولانا صاحب کے پاس نہیں تھا یعنی دنیا میں کسی بھی مسلم ملک میں قرآن کا نظام معیشت والا قانون عملا نافذ نہیں تھا میرا مطلب یہ ہے کہ سوویت یونین کے انقلابی لوگ امامی علوم سے واقف نہیں تھے اسلئے انہوں نے جلد ہی قرآن والے نظام اسلام کو قبول کردیا، لیکن مسلم امت کے علما‎ اور عوام نے قرآن نہیں پڑھا ہے انہوں نے صرف رد قرآن والے امامی علوم پڑھے ہیں اسلئے وہ قرآن کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے، مطلب کہ جو عالمی استحصالی سامراج ہے اسنے مسلم امت کے اندر رد قرآن کے طور پر جو علوم روایات ایجاد کرائے ہوئے ہیں ان امامی علوم کے تیار شدہ فاضل علما‎ اور مسلم لوگوں نے خود اپنے قرآن سے مسائل حیات لینا سیکھنا بند کیا ہوا ہے، مزید برآن یہ مولوی عالمی سامراج کے حکم پر سوویت یونین کے معاشی مساوات والے نظام کو کافر کہکر افغانستان میں معاشی برابری کے نظام کو ختم کرانے میں انکی نوکری بھی کرچکا ہے اور اپنی اولاد کو امریکہ بھیج کر وہاں کی تعلیم بھی دلا رہا ہے، اسلئے سمجھنا چاہیئے کہ قران کسی مولوی کی ذاتی پراپرٹی نہیں ہے یہ کتاب ھدی للناس جملہ انسانوں کی فلاح کیلئے ہے، اس کتاب کے قوانین دنیا بھیر کے مظلوموں ستائے ہوئے لوٹے ہوئے مستضعفین کمزور بنائے ہوئے لوگوں کیلئے ہیں۔ اسلئے عالمی لٹیرے ضرور ضرور اس انقلابی کتاب کو دنیا سے گم کرنے کے حیلے کرتے رہتے ہیں اگر وہ اللہ کی حفاظت کے انتظاموں کے مقابلہ میں قرآن کو گم نہیں کرسکے تو اس کتاب کی معنوی تعبیرات میں امامی علوم کی تاویلات اور تشریحات سے اسمیں اپنے اغراض کی تفسیریں کرا رہے ہیں ساتھ ساتھ پرانے سامراج کی بنوائی ہوئی حدیثون کہ قرآن سات قرائتوں میں نازل کیا گیا ہے کی آڑ لیکر اب ان قرائات والے اضافی حروف کی ملاوٹ سے یہودیوں نے جیسے اپنی کتاب میں یحرفون الکام عن مواضعه تحریفیں کی تھیں اب حکومت سعودی مصری کویتی اور حدیث پرست لوگ سب ملکر عالمی سرمایہ دار لٹیروں کے حکم پر ملاوٹ والے قرآن شائع کر چکے ہیں ۔ اسلئے دنیا بھر کے مزدوروں محنت کشوں کمزور بنائے ہوئے لوٹے ہوئے مسکینوں کو دعوت دیتا ہوں کہ قرآن، آپ اور ہم سب کا محافظ کتاب ہے اسلئے اٹھو آؤ اسے ملکر بچائیں اور معاشی مساوات کا انقلاب لانے کیلئے صحیح اور سچے امام قرآن، کا قانون دنیا میں نافذ کریں سوجو میں نے لوگوں کے تشویش کی بات کی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ لٹیرون کی دنیا کو،برادری کو، یہ بھی یقین ہے کہ کتاب قرآن میں اتنی تو مقناطیسیت ہے جو اگر مسلم امت والے لوگ امامی علوم کے نرغے میں پھنسے رہنے کی وجہ سے قرآن کی طرف توجہ نہیں بھی کرینگے پھر بھی انکو ڈر ہے کہ کہیں یورپین لوگ نہ قرآن کو اٹھاکر یوم یقوم النساس لرب العالمین یعنی پوری انسانی آبادی جہانوں کی ربوبیت کے لئے لٹیروں کے خلاف اٹھ کھڑی ہوگی، اس قرآنی پیش گوئی کو سچار کر دکھائیں اسلئے قرائتوں کے حوالوں سے ملاوٹوں کے حیلے سب اسی ڈر کے مارے کئے جار ہے ہیں تاکہ قرآن کی جو خصوصیت ہے کہ وہ نزول کے زمانہ سے لیکر آج پندرہویں صدی تک بھی ٹس سے مس نہیں ہوا مکمل صحیح سالم وہی نسخہ ہے جو اللہ سے رسول کو ملا تھا ۔

جنہوں نے موت کو راہ حیات جان لیا
وہ رسن و دار سے بھی بانکپن سے گذرے ہیں
ہم نبھاتے ہی رہے دار و رسن کی رسمیں
کفر سے پوچھ یہاں وارث قرآن ہیں ہم

امت مسلمہ کے زعماء اور بہی خواہوں کی خدمت میں عرض ہے کہ اللہ عز وجل نے جب ہمیں خیر امت کے لقب سے نواز ا، اور اس اعزاز کی غرض و غایت یہ بتائی کہ کنتم خیر امت اخرجت للناس تامرون بالمعروف و تنہون عن المنکر وتومنون باللہ (110_3 ) یعنی اے جماعت مؤمنین! تمہیں پوری انسان ذات کیلئے میدان میں لایا گیا ہے کہ تم جملہ انسانوں کیلئے ایسا نظام قائم کرو جو تم اس سے معروف احکام و قوانین کے آرڈر نافذ کرو اور منکرات کو اپنی قوت اقتدار سے روکو، اس عظیم ذمہ داری کے لئے لازم ہے کہ پہلے آپ بھی قرآن کی سمجھائی ہوئی ان اوامر اور نواہی کی صداقتوں پر خود بھی ایمان لائو! اور ساتھ ساتھ یہ بھی حکم دیا کہ وان ہذا صراطی مستقیما فاتبعوہ ولاتتبعو ا السبل فتفرق بکم عن سبیلہ ذالکم وصاکم بہ لعکم تتقون (153_6) _خلاصہ) یعنی اللہ کی عطا کی ہوئی صراط مستقیم ہی میری صراط ہے پھر تم سب اس کی اتباع کرو اسکے علاوہ دوسرے راستوں کو نہ اپناؤ، دوسرے سارے راستے تمہیں اللہ کی اس صراط مستقیم سے الگ کرکے فرقوں کے عذاب عظیم میں مبتلا کردینگے (105_3)
شروع اسلام میں امت مسلمہ قرآن حکیم کے ان احکام پر عمل پیرا ہوکر وادی حجاز سے لیکر افریقہ ایشیا یورپ تک پھیل گئی اور عالمی لیول کی طاقت بنکر بلاشرکت غیرے ساتویں صدی تک بگ پاور بنی رہی لیکن جب سے امت مسلمہ والے اپنی درسگاہوں کے نصاب تعلیم سے زندہ اللہ حی و قیوم کی کتاب قرآن کو نکال کر اسکی جگہ مردہ اماموں کے قرآن مخالف علوم لے آئے اس وقت سے عالمی حاکمیت تو گئی اسکی جگہ اغیار کے غلام بھی ہوگئے اور امامی تعلیم کی فرقہ سازی سے صدیوں سے لیکر آج تک ایک دوسرے کو قتل کرتے آرہے ہیں اسلئے غلامی کی لعنت سے نجات اور آپس کی قتل وغارتگری سے چھوٹکارے اور فرقوں سے نجات کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی اور آئندہ نسلوں کی بھلائی کیلئے، فلاح کیلئےدینی تعلیم حاصل کرنے کا واحد ماخذ اور اصل صرف اللہ کی کتاب قرآن حکیم کو بلاشرکت غیرے بطور نصاب کے تسلیم کریں اور پرانے سامراج کی امامی تعلیمات سے لوگوں کو بچائیں جنہوں نے آج تلک یہ سمجھایا ہوا ہے کہ :

زندہ اللہ کا قرآن مردہ لوگوں کے ایصال ثواب کے لئے پڑھو
اور زندہ انسانوں کیلئے انکے مردہ اماموں کی تعلیمات کو پڑھو

دنیا کی سابق مفتوحہ عالمی طاقتوں نے بطور انتقام کے امت کے صفوں میں جو اپنے دانشور امامت کے نام سے فٹ کئے تھے انہوں نے زیر زمین جو علوم تفرق اور تشتت کی خاطر ایجاد کئے تھےان علوم میں میرٹ اور صلاحیت کے عوض نسل پرستی، خاندانی تفوق، شخصیت پرستی، کی فلاسفی اور اب کوئی بتائے کہ ان مرے ہوئے روایت ساز اماموں اور خلاف قرآن فقہ ساز مردہ اماموں سے کسطرح سوالات کریں کے تم نے یہ خلاف قرآن عورتوں کو ذلیل کرنے والی فلاسفی کیونکر امت مسلمہ کے سرپر ماری !!! اورکن لوگون کے کہنے پر ایسا کیا؟ مطلب اس گذارش سے یہ ہے کہ قرآن، اللہ حی و قیوم دائم قائم زندہ ہستی کی کتاب ہے جسکی چئلنج ہے کہ ہم سے جب بھی کوئی مثال پوچھو گے، سوال پوچھوگے،ہم اس کتاب سے اسکا بہت خوبصورت جواب دینگے، گویا کہ یہ کتاب اپنی علمی جامعیت کی بناپر ایک زندہ ہستی کی طرح ہے جسکے ہاں سے ہر سوالی کو ہر وقت جواب مل جاتاہے، اہل علم لوگ بخوبی جانتے ہونگے کہ قدیم سامراج کے اتحاد ثلاثہ یہود مجوس و نصاری کے کرایہ والے دانشوروں نے اپنی گھڑی ہوئی روایات سے قرآن حکیم کی سینکڑوں آیات کو منسوخ بھی مشہور کیا ہوا ہے۔ بہت سوچنے اور سمجھنے کی بات ہے کہ مسلم امت کے چھوٹے بڑے فرقے دیوبندی بریلوی اہل حدیث شیعہ سب لوگ ایک دوسرے کے افراد کو قتل کرنے کے حد تک آپس میں ٹکرے ہوئے ہونے کے باوجود اپنے دینی مدارس میں ایک ہی قرآن دشمن نصاب بنام درس نظامی پڑھاتے ہیں جو نصاب امامی روایات اور فقہی ملغوبوں پر مشتمل ہے یہ آپس میں کشت و خون میں مصروف و مشغول سارے فرقے اس وقت اپنے اختلاف بھلاکر متحد ہوجاتے ہیں جب کوئی شخص یہ منادی کرتا ہے کہ انسانی مسائل حیات کا حل صرف قرآن میں ہے اور قرآن کے مقابل سارے علوم سامراجی مفادات کی حفاظت کرتے ہیں تو ایسے وقت میں ان جملہ فرقوں والے لوگ آپس کے اختلافات کو ایک طرف کرکے قرآن کی بات کرنے والے کے خلاف اتحاد قائم کرلیتے ہیں ۔ ان مولویوں ملاؤں کو مذہب کے ان ٹھیکیداروں کو قرآن کھول کھول کر کہتا ہے کہ علم الحدیث جسکے وارث ہونے کی تم لوگ دعوی کرتے ہو وہ حقیقی اور اصلی علم حدیث تو انہ لقرآن کریم فی کتاب مکنون لایمسہ الاالمطہرون تنزیل من رب العالمین یعنی وہ قرآن معزز کتاب جو بڑی محفوظ ہے جسکے علمی معراج تک ذہنی پاکیزگی کے سوا پہنچا نہیں جا سکتا جسکی تنزیل رب العالمین کی جانب سے ہے ۔

ایسے قرآن کا مقابلا کرنے کے لئے

استحصال کے جواز کی تعبیریں اور پرائی کمایوں پر وجود میں آنیوالے مترفین طبقوں کی حمایت میں من گھڑت علم روایات اور فقہوں کے امام لوگ قرآن کے مقابلہ میں لے آئے انکی روایات نے جو کرتب دکھائے ان سے علم قرآن جو اللہ حی و قیوم کا کلام ہے جسمیں اللہ نے اپنے بندوں کو بلا بلا کر حکم دیا ہے کہ فلیستجیبولی (186_2) استجب لکم (60_ 40) آؤمجھ سے جب چاہو ہر وقت سوالات کے ذریعے جواب مانگو میں ضرور ضرور تمہارے ہر سوال کا جواب دونگا، اور وہ جواب بھی ایسا جو ولایاتونک بمٹل الاجئناک بالحق واحسن تفسیرا (33_ 25) یعنی کوئی بھی شخص ایسا کوئی سوال اور مثال نہیں لاسکتا جسکا نہایت ہی خوبصورت جواب ہم نہ دے سکتے ہوں اس سے یہ ثابت ہوا کہ جسطرح اللہ زندہ ہے جسکے علم اورقانون کے لئے فرمایا گیا ہے کہ و توکل علی الحی الذی لایموت (57_65) یعنی اس باری تعالی کے علم پر کتاب پر بھروسہ کر جو اللہ ہردم زندہ ہے اور جسکو موت کبھی بھی نہیں آئے گی، تو علم روایات ایجاد کرنے والوں نے ایصال ثواب کے ڈھکو سلوں سے زندہ اللہ کا کلام مردہ لوگوں کیلئے مخصوص کردیا، اور جو روایت ساز اور فقہ ساز امام کہلانے والے لوگ خلاف قرآن علوم بناکر سارے کے سارے مرگئے تو ان مردہ لوگوں کے علوم کو زندہ لوگوں کے حوائج دینی کا علم قرار دیا گیا، یعنی آج انکے فقہوں اور روایات کے حوالوں سے اگر ہم سوالات کریں کہ عورتوں کو نکاح کے مہر میں جو کچھ دیا جاتا ہے وہ قرآن واٰتوا النسا‎ صدقا تھن نحلہ س(4_4) یعنی عورتوں کو دیا جانے والا مہر یہ بلامعاوضہ کا تحفہ ہے لیکن تمہارے امامی علوم نے مہرکو عورت کے عضو مخصوص کا عوض کردیا اور عضو انسانی کو ملکیت قرار دیتے ہوئے ملک بضعہ قرار دیکر اسے بازار کا سودا بنادیا افبھٰذالحدیث انتم مدہنون کیا تم ان قرآنی احادیث کا نام چوری کرکے، قرآن میں خیانت کرکے، قرآنی تعلیمات کے اندر مداہنت سے کام لیتے ہو!! وہ بھی اسطرح کہ وتجعلون رزقکم انکم تکذبون (77_76_56) تم اپنے پیٹ کا دوزخ بھرنے کیلئے قرآنی حقائق کو بیچ کر کھاتے ہو!! تمہاری روزی کا ذریعہ صرف جھوٹ ہے!! تم لوگو اسے اگر مگر چونکہ چنانچہ کی لگی لپٹی باتوں سے قرآن کا نام احسن الحدیث (23_39) چراکر اسے دشمنان قرآن دانشوران آتش پرستوں کی خرافاتی روایات (6_31) پر فٹ کردیا ہے!!! اگر یہ ہماری شکایات ان منکرین قرآن سے متعلق غلط ہیں اور ان لوگوں کو اگر بہر صورت انکی والی امامی روایات کو حدیث رسول کا لقب دیکر انہیں کو دین قرار دینا ہے اور اپنے آپکو حکم قرآن اطیعو الرسول کا پیروکار ثابت کرنا ہے تو ایسے لوگ بتائیں کہ قرآن حکیم جو کہ پورا کا پورا انہ لقول رسول کریم ج(40_ 29) ہے یعنی سارا قرآن جب احادیث رسول بنا ہوا ہے کیوں کہ صحیح اصلی پکے اقوال ا وراحادیث تو قرآن کی آیات ہیں پھر قرآن کی صحیح احادیث واقوال رسول سے انکو کیوں دلچسپی نہیں ہے؟ جناب والا ان منکرین قرآن کو، اسکے علاوہ جو آیات قرآن جناب رسول سے لفظ قل کے امر والے صیغہ سے کہلوائی گئی ہیں وہ آیات بھی تو بحکم خدا وندی اقوال رسول ہوکر احادیث رسول بنگئیں وہ بھی اعلی درجہ کی احادیث قرار پاگئیں جنکی تعداد اندازا تین سو سے زیادہ ہے، پھر یہ لوگ فارس کے دانشوروں کی بنائی ہوئی روایات کو حدیث رسول کا نام دیکر جو شور مچائے جارہے ہیں اور فخر کے ساتھ خود کو اہل حدیث کے نام سے متعارف کراتے ہیں یہ لوگ خود سے سوال کریں کہ انہوں نے کسی بھی وقت جناب رسول کی ان قرآن سے ثابت شدہ حکم قل والی تین سو آیات والی احادیث کا کوئی مجموعہ مستند احادیث رسول کے نام سے شائع کیا؟ یا ان قرآنی احادیث کو فارس والے امامی گروہ کی احادیث کی طرح انکا جدا مجموعہ بنوا کر اسے درس نظامی میں داخل کرکے پڑھایا؟ جناب قارئین! یہ لوگ جو خود کو احادیث رسول کا عاشق اور پرستار مشہور کئے ہوئے ہیں یہ انکی دعوی سراسر جھوٹی ہے اگر واقعتا یہ لوگ اقوال رسول واحادیث رسول کے اتنے ہی عقید تمند ہوتے جتنی یہ دعوائیں کر رہے ہیں تو یقین سے یہ لوگ پورے قرآن کی اگر نہ سہی کم سے کم جو آیات قرآن، قل کے امر سے پختہ اقوال رسول بن گئی ہیں اور احادیث رسول بنگئی ہیں تو آخر کیا بات ہے جو یہ عاشقان علم رسول ان قرآنی احادیث رسول کا ذکر تک بھی نہیں کرتے“ سو انکا یہ اندا ز ثابت کرتا ہے کہ انکی اصل جنگ قرآن سے ہے، آخر میں ہم اپنی اپیل اور گذارش کو امت والوں کی خدمت میں پھر سے عرض کرتے ہیں کہ دینی تعلیم کا اصل واحداور ماخذ قرآن کو تسلیم کرتے ہوئے بقایا جملہ خرافاتی روایات کو ترک کیا جائے، اور امامی علوم کے فاضل علما‎ سے صاف صاف کہدیا جائے کہ آپ لوگ صرف و نحو منطق امامی فقہوں اور روایات کے دستاربند مولوی تو ضرور ہو لیکن قران حکیم کے مسائل حیات سے جبتک آپکا بائیکاٹ ہے اتنے تک ہم آپکو امت مسلمہ کی دینی پیشوائی کا اہل تسلیم نہیں کرتے اور اتنے تک آپکو دینی واسلامی تعلیم کا نمائندہ اور ترجمان تسلیم نہیں کرینگے جتنے تک مسائل حیات سے متعلق استفتا‎ء، استفسارات اور سوالوں کے جوابات آپ خالص قرآن حکیم کے حوالوں سے نہیں دیتے اور اگر آپنے ان جوابات میں امامی علوم کی روایات اور فقہی مسلکوں کی ملاوٹ کی تو آپکو ہم ہر گز ہرگز اسلام کا ترجمان اور نمائندہ تسلیم نہیں کرینگے ۔

دامن پیر پہ رقصاں ہے مریدوں کا لہو
دامن صوفی و ملا میں چھپے جام و سبو
یہ فقیہان زمانہ دین کے سوداگر ہیں
یہ تجارت ہے انہیں راس بڑے تاجر ہیں

Last edited by rana ammar mazhar; 09-01-12 at 08:05 PM.
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 13-01-12, 08:27 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default بانی درس نظامی۔ ملانظام الدین ؒسہالوی (بارہ بنکی یوپی))

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : gazali مراسلہ دیکھیں
خانوادہ علماء فرنگی محل غالبا دنیا کا تنہا خاندان ہے جس میں کم از کم ایک ہزار سال ہے نہ صرف پڑھے لکھے لوگ بلکہ نا بغہ روز گار علماء پیدا ہوتے رہے جنہوں نے مختلف زمانوں میں اہم علمی خدمات انجام دیں اس خاندان کا سلسلہ نسب مشہور صحابی اور میز بان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو ایوب خزرجی انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے۔
فرنگی محل کی خاندانی روایت کے مطابق اس خاندان کے اجداد موضع بر ناوا ضلع میرٹھ سے سہالی ضلع بارہ بنکی سے ہوتے ہوئے لکھنؤ آئے ۔ اس خاندان کے ایک بزرگ قطب عالم خواجہ علاء الدین الانصاری الہرویؒ خراسان سے ہندوستان آنے کے بعد اپنے ہم نام مخدوم علاء الدین برناوی کے آخری زمانے میں یا اس کے کچھ بعد اپنے ہم جد عزیزوں کے پاس بر ناوا میں مقیم ہوئے اور وہیں انتقال ہوا ۔
ان کے بیٹے شیخ نظام لدین انصاریؒ بر ناوا سے مو جودہ ضلع بارہ بنکی کے قصبہ سہا لی آگئے اور وہیں انتقال ہوا اور سہالی کے قریب ایک مقام ‘‘ روضہ‘‘ میں مدفون ہو ئے ۔

شیخ نظام لدین کے بعد سہالی علم وفن کا مر کز بن گیا اور ان کی آٹھویں پشت میں مشہور زمانہ عالم ملا قطب الدین شہید ہو ئے ۔جن کے متعلق علامہ غلام علی آزاد بلگرامی فر ماتے ہیں۔

ملا قطب الدین شہید امام اساتذہ ومقتدیٰ جہاندیدہ است ، معدن عقلیات ومخزن تعلیمات ۔۔۔۔۔ملا قطب الدین عمرہا انجمن درس آراست وجہان جہاں ارباب تحصیل را بپایہ تکمیل رساند ،امروز سلسلہ استفادہ اکثر علما ء کشور ہندوستان بہ او منتہی می شود‘‘ ۔

یہی ملا قطب الدین شہیدؒ خانوادہ علماء فر نگی محل کے جد امجد ہیں اور انہیں کے چاروں بیٹے یا ان کی اولادوں نے مشعل علم کو اس طرح روشن کیا کہ آٹھ پشتوں تک سارے ہندوستان میں اس کی روشنی پھیلتی رہی اور ہر نسل میں ایک سے زیادہ ایسے عالم پیدا ہوتے رہے جنہیں بجا طور پر نابغہ روز گار کہا جا سکتا ہے اور جن کے علم کی روشنی نے نہ صرف ہندوستان کو بلکہ اسلامی دنیا کے دوسرے حصوں کو بھی منور کیا اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے اگر چہ علم کی نوعیت بہت حد تک بدل چکی ہے ۔

ملا قطب الدین رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت ( 19 رجب1104ھ مطابق مارچ 1692ء کے بعد شہنشاہ عالمگیر کے حکم سے ملا شہید کی اولاد کے قیام کیلئے ان کے دونوں بڑے بیٹوں ملا اسعد کو لکھنؤ میں احاطہ چراغ بیگ میں ایک تیل اور گھوڑوں کے یورپین تاجر کی چھوڑی ہوئی خالی عمارت جو فرنگی محل کے نام سے مشہور تھی دے دی گئی اور 1694ء میں ملا سعیدؒ اپنے چھوٹے بھائیوں ملا نظام لدین ؒاور ملا رضا ؒنیز دیگر افراد خاندان کو اس فرنگی محل میں آباد کر کے حیدرآباد چلے گئے اور تمام افراد خاندان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اس کم عمر 16 سالہ نوجوان کے سر پر آپڑی جو آئندہ استاذ الہند ملا نظام لدینؒ کے نام سے مشہور ہوا اور جس نے عربی وفارسی کی تعلیم کے لئے وہ درس تر تبیب دیا ، جو آج بھی بیشتر عربی وفارسی مدارس میں رائج ہے اور جس نے اس ادارے کی بنیاد ڈالی جس کی بدولت سیکنڑوں سے زیادہ عربی و فارسی نیز ارسو تصانیف وجود میں آئیں ۔

ملا نظام الدین ؒ( پیدئش 1089 ح ،وفات 9 جمادی الاولیٰ 1161ھ مطابق 27 اپریل1748ء ) نے اپنے والد نیز دیگر علماء جیسے ملا امان اللہ بنارسیؒ ، ملا علی ولی جائسی ؒوغیرہ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کر نے بعد ملا غلام علی نقش بند ؒلکھنوی سے فاتحہ فراغ پڑھا اور پچیس سال کی عمر میں تحصیل سے فراغت کے بعد مسند درس آراستہ کیا اور اپنے چھوٹے بھائی ملا رضا ؒاور بڑے بھائی ملا سعید ؒکے بیٹوں ملا ( احمد عبد الحئی ؒ( وفات 9 ذی الحجہ 1167ح بمطابق 27 ستمبر 1754ء ) اور ملا عبد العزیز ؒ( متوفی 9 ذی قعدہ 1752ء ) کے ساتھ اس علمی ادارے کو وجود میں لائے جو ان کی فر نگی محل میں سکونت کی وجہ سے ‘‘فر نگی محل ‘‘ کے نام سے مشہور ہوا ۔اور جس میں اس وقت تک تین سو سے زیادہ حضرات گزر چکے ہیں جن میں شاید ہی کوئی کم علم رہا ہو ۔ یہ علماء بنیادی طورسے صاحبِ درس تھے اس لئے ان کی بیشتر تا لیفات کا تعلق بھی درس ہی سے ہے اور یہی سبب ہے کہ ان کی تالیفات میں شرحوں اور حاشیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن اس سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ وہ محض حواشی ہیں ۔حقیقتا وہ بلند پایہ مستقل تصانیف کا مرتبہ رکھتے ہیں۔
ملا نظام الدینؒ کے عہد میں پہلی مرتبہ اسلامی مدارس کے لئے متفقہ درس ترتیب دینے کا خیال ہوا، چنانچہ دہلی میں شاہ ولی اللہ ؒ نے اپنے درس میں منقولات پر زیادہ زور دیا ، جبکہ ملا نظام لدین ؒ نے اپنے ترتیب دادہ درس نظامی میں منقولات ومعقولات دونوں پر یکساں زور دیا تھا ۔ چنانچہ ملا نظاالدینؒ کے ترتیب دادہ اس درس نے پورے ملک میں شرف قبولیت حاصل کیا اور آج تک زیادہ تر مدارس میں اسی کے مطابق تعلیم دی جاتی ہے ۔ ملا نظام الدینؒ کو بحیثیت استاد کے اپنی زندگی میں وہ مرتبہ حاصل ہو گیا تھا کہ اکناف واطراف ملک سے ، نہ صرف طالبان علم ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے بلکہ دوسرے اساتذہ کے طلباء بھی فاتحہ فراغ کیلئے ملا نظام الدینؒ ( جو اس وقت تک استاذ الہند کے لقب سے شہرت حاصل کر چکے تھے)کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے ۔
ملا صاحب ؒ ایک زبردست استاذ ہو نے کے علاوہ متعدد اہم کتابوں کے مصنف بھی ہیں ۔ جن میں شرح مسلم الثبوت ، شرح تحریر الاصول ، ،متار الاصول ، حاشیہ شرح عقائد جلالی ، حواشی حاشیہ قدیمہ دوانیہ ،حاشیہ صدرا ، حاشیہ شمس بازغہ ،شرح رسالہ مبارزیہ ، مناقب رزاقیہ اور رسالہ دربیان وضو آنحضرت صلی اللہ علیہ شامل ہیں۔ملا نظام الدین ؒ نے جس شمع کو روشن کیا تھا اسکی روشنی نے ائندہ نسل میں پورے ہندوستان کو جگمگا دیا۔ اور آج تک زیادہ تر مدارس اس درس نظامی سے فیضاب ہورہے ہیں۔ شان کریمیٰ بانی درس نظامی ان کے آباء واجدادکی حشر تک ناز برداری کرتی رہے۔

بانی درس نظامی۔ ملانظام الدین ؒسہالوی (بارہ بنکی یوپی))
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فریاد, اللہ, بوہیو, تبصرہ ، فریادی, عزیز


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
حضرت عمربن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ sahj تاریخ و عبر 0 18-11-09 12:06 PM
وطن عزیز احمدنواز شعر و شاعری 3 14-08-09 01:50 AM
واہ شوکت عزیز صاحب Zullu230 سیاست 2 24-02-09 02:40 PM
عمر بن عبدالعزیز طارق راحیل سیاست 0 03-01-09 08:56 PM
طارق عزیز الدین کے بدلے ملا عبید اللہ کو رہا کروایا گیا ذرائع وجدان خبریں 0 21-05-08 10:21 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:07 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger