واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم



علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم


قرآنِ کریم میں علامتی اور تمثیلی زبان کی حقیقت و ماہیت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-12-11, 10:12 AM   #1
قرآنِ کریم میں علامتی اور تمثیلی زبان کی حقیقت و ماہیت
rana ammar mazhar rana ammar mazhar آن لائن ہے 11-12-11, 10:12 AM

Reality & Essence of Symbolic & Allegoric Language in the Quran

PART ONE : قرآنِ کریم میں تمثیلی زبان کا استعمال

قرآنِ کریم میں علامتی اور تمثیلی زبان بہت زیادہ استعمال کی گئی ہے جس کی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ علامت بیان کرنے سے شک و شبہ کا احتمال مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے اور تمثیل سے بھی ایک بات کی اس طرح وضاحت ہو جاتی ہے کہ اس میں بھی کسی طرح کے شک و شبہ کا احتمال باقی نہیں رہتا گویا علامت بیان کرنے اور تمثیل کا ذکر کرنے کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے کہ اس طرح جو بات بیان کی جائے وہ سامع کے ذہن میں اس طرح بیٹھ جائے اور پیوست ہو جائے کہ اُس کے نکلنے کا احتمال باقی نہ رہے۔

قرآنِ کریم میں علامتی زبان کا استعمال

جس چیز کو علامت کہا جاتا ہے دراصل وہ ایک مختصر سا اشارہ ہوتا ہے لیکن ہوتا ایسا ہے کہ اُس پر نظر پڑتے ہی یا اُس کی طرف دھیان جاتے ہی حقیقت منکشف ہو جاتی ہے اور انسان اس کے مطابق عمل شروع کر دیتا ہے اگر وہ عمل کرنا چاہے اور اس کا وہ عمل بالکل صحیح ہوتا ہے اُس میں کسی قسم کی غلطی کا امکان نہیں رہتا بشرطیکہ اُس نے علامت کے سمجھنے میں غلطی نہ کی ہو اور اس طرح یہ بھی کہ کہیں اُس کا عمل اُس علامت کے خلاف نہ ہو گیا ہو۔

جس طرح اوپر اشارہ کیا گیا ہے کہ علامت ایک ایسا مختصر اشارہ ہے کہ اُس اشارہ کے مطابق جتنا عمل بڑھتا جائے گا اُس کا بیان وسیع سے وسیع تر ہوتا جائے گا یہاں تک اُس کی انتہا تک شاید کوئی پہنچ ہی نہ سکے اور راستہ ہی میں اُس کے عمل کی تکمیل ہو جائے۔

علامت کے معنی جس قدر بھی بیان کیے جائیں اور وہ کتنے ہی وسیع ہوتے جائیں ایک چیز ان میں یقیناًموجود رہے گی جس کو نشان کہتے ہیں جیسے جمع کا نشان + تفریق کا نشان ۔ تقسیم کا نشان ÷ ضرب کا نشان x نسبت کا نشان : اور تناسب کا نشان : : وغیرہ وغیرہ

اسی طرح اور بھی بہت سے نشان بنائے گئے ہیں اور بنائے جا سکتے ہیں اس موضوع پر جتنا چلتے جائیں گے اُن کا دائرہ وسیع ہوتا جائے گا اور اس طرح کی علامات جب صحیح طور پر ازبر ہو جائیں تو ان میں غلطی کا امکان باقی نہیں رہتا۔ ان علامات پر باقاعدہ حکومتی محکمے چلائے جا رہے ہیں اور ان سے بہت وسیع کام لیا جا رہا ہے۔

1

قرآنِ کریم میں بھی علامتی زبان کا استعمال عام ہے جب کسی ایک علامت کو ازبر کر لیا جائے تو ان شاء اللہ غلطی کا احتمال ختم ہو جاتا ہے۔ اس کی تفہیم کے لیے آپ اس طرح سمجھیں کہ قرآنِ کریم میں ’’یایھاالذین امنوا‘‘ کے الفاظ بار بار بیان کیے گئے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس خطاب سے مسلمانوں کو یعنی ایمان والوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔ یہ بھی معلوم ہے کہ قرآنِ کریم کی وحی کو دو مستقل ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے اور یہ تقسیم حقیقی تقسیم ہے آپؐ کی بعثت کا وہ دور جو مکہ میں گذرا یعنی ہجرت سے قبل تھا وہ مکی دور کہلاتا ہے اور جو دور ہجرت کے بعد کا ہے وہ مدنی دور کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ہجرت سے قبل جتنا قرآنِ کریم نازل ہوا اُس کو مکی نزول اور ہجرت کے بعد جو قرآنِ کریم نازل ہوا اُس کو مدنی نزول کہا گیا ہے یہ بھی معلوم ہے کہ مکہ میں آپؐ پر 86 سورتیں نازل ہوئیں اور مدینہ میں 28 اسی طرح یہ بھی واضح ہے کہ قرآنِ کریم کی کل سورتوں کی تعداد 114 ہے۔ علامتی بیان اس میں یہ ہے کہ ’’یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا‘‘ کا جملہ مدنی سورتوں میں مذکور ہوا ہے مکی سورتوں میں نہیں۔ صرف اور صرف اتنی بات ذہن نشین ہو جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ یہ جملہ جہاں بھی استعمال ہوا ہو گا وہ سورت مدنی سورت ہو گی مکی نہیں ہو سکتی۔

جس طرح جمع، تفریق، ضرب اور تقسیم وغیرہ کے نشانات یعنی علامتیں دیکھ لینے سے یقین ہو جاتا ہے کہ یہ کونسی علامت ہے اور اس کا کیا عمل ہے بالکل اسی طرح اس جملہ کو دیکھتے ہی فیصلہ کیا جا سکتا ہے بلکہ کر لینا چاہیے اگر ایسا سمجھ لیا جائے تو قرآنِ کریم کی بات کا مفہوم سمجھنے میں بہت مدد مل سکتی ہے لیکن افسوس کہ ہمارے مفسرین نے اس طرح کی باتوں کا ذکر نہیں کیا اور اب جو بھی اس طرح کا کوئی ذکر کرتا ہے اُس کی بات کو بغیر کسی دلیل کے محض اس لیے رد کر دیا جاتا ہے کہ یہ بات گذشتہ مفسرین میں سے کسی نے بیان نہیں کی اندریں وجہ اس کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا بلکہ ایسا بیان کرنے والے کو مستوجب سزا سمجھا جاتا ہے، کیوں؟ اس لیے کہ اس نے قرآنِ کریم کے متعلق ایک نئی بات کہہ دی ہے جس کا اس کو ہرگز ہرگز حق نہیں۔

جب علامت ہی کو تسلیم کرنے سے انکار کیا جائے تو اس علامت کے مطابق عمل کیسے کیا جائے؟ اسی طرح یہ بھی کہ اگر کوئی اس اصول یعنی علامت و نشان کے مطابق عمل کرنا شروع کر دے تو اُس کو کوئی تسلیم نہیں کرے گا کیونکہ موجودہ دور کے علماء گرامی قدر اس کو تسلیم نہیں کرتے خواہ وہ خود علم سے کورے اور عقل سلیم سے عاری ہوں۔

اگر اس علامت کو تسلیم کر لیا جائے تو روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ مکی سورتوں میں محض تبلیغ اور طریق تبلیغ بیان ہوا ہے اوامر و نواہی کا ذکر نہیں لہٰذا اوامر و نواہی کے لیے ہم کو صرف اور صرف مدنی سورتوں کا مطالعہ کرنا ضروری ہے کیونکہ مدنی سورتوں میں ہی اوامر نواہی مذکور ہیں۔ دوسری بات یہ کہ جب بھی اور جہاں بھی اس جملہ ’’یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا‘‘ کا ذکر آئے گا یقیناًکوئی امر یا نہی یا ایک ہی خطاب میں بہت سے اوامر و نواہی مذکور ہوں گے لہٰذا اس جملہ کے بعد کی عبارت کو خوب غور سے دیکھنا اور سمجھنا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس جگہ کون سے اوامر و نواہی مذکور ہوئے ہیں۔

اسی طرح یہ بھی کہ ’’یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا‘‘ سے خطاب تو ایمان والے مردوں کو کیا گیا ہے لیکن اس سے مراد تمام ایمان والے ہیں خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں اس علامت میں دونوں کا ذکر آتا ہے کسی ایک کا نہیں کیونکہ ایمان کے لحاظ سے دونوں اصناف برابر ہیں۔ ہاں اگر کسی جگہ دونوں اصناف میں سے کسی ایک کا ذکر ہو گا تو اُس کی اُس جگہ وضاحت موجود ہو گی تاکہ اس معاملہ میں کسی طرح کا ابہام باقی نہ رہے اور یہی اس معجزانہ کلام کا کمال ہے۔

مثلاً ’’یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا‘‘ سے مخاطب کرتے ہوئے سورہ المائدہ کی آیت نمبر 2 میں بھی کچھ احکام بیان ہوئے ہیں اور ان کا تذکرہ آیت نمبر 5 تک چلا گیا ہے۔ یہ احکام شعائر اللہ کی بے حرمتی نہ کرنے کے حکم سے شروع ہوئے ہیں جن میں شعائر حج کا ذکر فرماتے ہوئے ان جانوروں کی بے حرمتی نہ کرنے کا ذکر بھی کیا ہے جو قربانی کے لیے حجاج ساتھ لے جاتے ہیں پھر ایک دوسرے سے اچھے کاموں میں تعاون کرنے کا حکم اور برے کاموں میں تعاون نہ کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی جانوروں کی حلت و حرمت کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں اور ہوتے ہوتے ایمان والوں کے آپس میں ازدواجی زندگی میں منسلک ہونے کے ساتھ اہل کتاب کے ساتھ رشتہ ازدواج قائم کرنے کو بھی جائز و حلال قرار دیا گیا ہے اور ایک دوسرے کے کھانے کو بھی اور یہ تمام احکام جمع کے صیغوں ہی سے دیئے گئے ہیں اور جمع کے صیغے وہی استعمال کیے ہیں جو مردوں اور عورتوں کے ذکر میں قرآنِ کریم جمع مذکر ہی کے صیغوں سے احکام بیان کرتا ہے اس طرح چونکہ عورتوں کے ساتھ نکاح کا ذکر کیا ہے جس میں اہل کتاب کی عورتوں سے بھی نکاح جائز و حلال قرار دیا ہے اور اس خطاب کا تقاضا تو یہ ہے کہ جس طرح تمام احکام حلال و حرام میں مرد شامل ہیں بالکل اسی طرح ان احکام میں عورتیں بھی شامل ہیں لہٰذا جس طرح اہل کتاب کی عورتوں سے اہل ایمان مردوں کا نکاح جائز و حلال ہے اسی طرح اہل کتاب مردوں کا نکاح بھی اہل ایمان کی عورتوں سے جائز و حلال ہو لیکن اہل اسلام اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے حالانکہ قرآنِ کریم کے بیان سے یہ روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ تمام احکام قرآنی میں جس طرح اہل ایمان مرد شامل ہیں بالکل اسی طرح عورتیں بھی اور اس ایک مقام پر ان میں تحصیص کی کوئی وجہ موجود نہیں اس میں جو حقیقت تھی اُس کو تسلیم نہ کر کے مفسرین اہل اسلام نے من حیث القوم بہت نقصان اُٹھایا ہے لیکن مفسرین نے اس حقیقت کی طرف کبھی دھیان نہیں دیا اور نہ عوام اہل اسلام کو اس نقصان سے بچانے کی کوئی صورت بیان کی ہے۔ الی اللہ المشتکی

چونکہ یہ خطاب بار بار دہرایا گیا ہے جس طرح ایک بار مخاطب کر کے بہت سے اوامر و نواہی بیان کیے گئے ہیں اسی طرح بعض مقامات پر حکم یا نہی تو ایک ہے لیکن اُس حکم یا نہی کی تفصیل بہت سی آیات میں بیان کی گئی ہے لیکن اس طرح جو کچھ تفصیل میں بیان ہوا ہے بدقسمتی سے اُس کو الگ حکم سمجھ لیا گیا، جس کے باعث اُس حکم کو سمجھنے میں ایک سے زیادہ غلطیاں سرزد ہوئی ہیں جو بات کی تفصیل تھی اُس کو تفصیل نہ سمجھنے کے باعث اصل مضمون پر ایسا پردہ پڑا ہے کہ آج تک وہ واضح نہیں ہو سکا جس کے باعث اس پر یہ جملہ صادق آتا ہے کہ ’’حقیقت خرافات میں کھو گئی‘‘۔

مذکورہ خطاب سے شروع ہونے والی آیات اور ان کی تفصیلی آیات کو الگ الگ ذکر کیا جائے تو بات واضح ہو سکتی ہے لیکن اس طرح اس کو ایک مضمون کا نام نہیں بلکہ ایک مستقل کتاب کا نام دینا پڑے گا اس لیے اس جگہ صرف ان آیات کی نشاندہی پر اکتفا کیا جاتا ہے تاکہ قارئین کرام ان مقامات کو قرآنِ کریم سے نکال کر دیکھنا کرنا چاہیں تو ان کے لیے ایسا کرنا آسان ہو جائے چنانچہ قرآنِ کریم کی موجودہ ترتیب کے مطابق ان کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جو زیر نظر ہے:

(البقرہ ۲:۱۰۴) (۲:۱۵۳) (۲:۱۷۲) (۲:۱۷۸) (۲:۱۸۳) (۲:۲۰۸) (۲:۲۵۴) (۲:۲۶۴) (۲:۲۶۷) (۲:۲۷۸) (۲:۲۸۲) ، (آل عمران۳:۱۰۰) (۳:۱۰۲) (۳:۱۱۸) (۳:۱۳۰) (۳:۱۴۹) (۳:۱۵۶) (۳:۲۲۰)، (النساء۴:۱۹) (۴:۲۹) (۴:۴۳) (۴:۵۹) (۴:۷۱) (۴:۹۴) (۴:۱۳۵) (۴:۱۳۶) (۴:۱۴۴) ، (المائدہ۵:۱) (۵:۲) (۵:۸) (۵:۱۱) (۵:۳۵) (۵:۵۱) (۵:۵۴) (۵:۵۷) (۵:۸۷) (۵:۹۰) (۵:۹۴) (۵:۹۵) (۵:۱۰۱) (۵:۱۰۵) (۵:۱۰۶) ، (الانفال۸:۱۵) (۸:۲۰) (۸:۲۴) (۸:۲۷) (۸:۲۹) (۸:۴۵) ، (التوبہ۹:۲۳) (۹:۲۸) (۹:۳۴) (۹:۳۸) (۹:۱۹۹) (۹:۱۲۳)، (الحج۲۲:۷۷) ، (النور۲۴:۲۱) (۲۴:۲۷) (۲۴:۵۷)، (الاحزاب۳۳:۹) (۳۳:۴۱) (۳۳:۴۹) (۳۳:۶۹)، (محمد۴۷:۷) (۴۷:۳۳)، (الحجرات۴۹:۱) (۴۹:۲) (۴۹:۶) (۴۹:۱۱) (۴۹:۱۲) ، (الحدید۵۷:۲۸) ، (المجادلہ۵۸:۹) (۵۸:۱۱) (۵۸:۱۲)، (الحشر۵۹:۱۸) ، (الممتحنہ۶۰:۱) (۶۰:۱۱) (۶۰:۱۳)، (الصف۶۱:۲) (۶۱:۱۰) (۶۱:۱۴)، (الجمعہ۶۲:۹)، (المنافقون۶۳:۹)، (التغابن۶۴:۱۴) ، (التحریم۶۶:۶) (۶۶:۸)

اس جگہ صرف ابتدائی آیات کا ذکر کیا گیا ہے جہاں سے یہ خطاب شروع ہوا ہے لیکن بعض مقامات پر اس خطاب کے بعد آٹھ آٹھ، دس دس آیات میں مسلسل احکام و نواہی کا ذکر کیا گیا ہے جس طرح بعض مقامات پر ایک ہی حکم آٹھ آٹھ، دس دس آیت میں تشریح کے ساتھ بیان ہوا ہے قارئین ان مقامات پر اس بات کو بھی پیش نظر رکھ کر مطالعہ کریں گے تو ان شاء اللہ بات زیادہ مفید رہے گی ناچیز بندہ نے تفسیر عروۃ الوثقیٰ کے مذکورہ حوالہ جات پر اس کی تفصیل اپنی استعداد کے مطابق کر دی ہے جو تقریباً منفرد ہونے کا الزام بھی اپنے اوپر رکھتی ہے۔

2

قرآنِ کریم نے علامتی زبان کو جس انداز سے بیان کیا ہے اگر اُس کو پیش نظر رکھا جائے تو بہت سے معرکۃ ا لآراء مسائل اُس سے خود بخود حل ہو جاتے ہیں جیسے لفظ ’’ذَنْبٌ‘‘ کے معنی اکثر گناہ کے کیے جاتے ہیں حالانکہ علامتی زبان کے لحاظ سے اصل معنی ’’گناہ‘‘ کے نہیں بلکہ ’’الزام‘‘ کے ہیں اور ظاہر ہے کہ الزام وہ ہے جو لوگ خواہ مخواہ کسی کے ذمہ لگا دیں۔ عربی میں ’’ذنب‘‘ دُم کو کہتے ہیں جس کو عام زبان میں ’’پوشل‘‘ کہا جاتا ہے جو جانوروں کے پیچھے اللہ رب کریم نے ایک عضو کے طور پر لگا دیا ہے چونکہ وہ پیچھے ہوتا ہے اس لیے اگر لوگ کسی انسان کے پیچھے کوئی الزام لگا دیں تو عربی زبان میں اُس کو بھی ’’ذنب‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس لفظ کا قرآنِ کریم میں بھی جگہ جگہ ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ ایک جگہ آپؐ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ’’وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ‘‘ (۴۷:۵۵) اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا ’’لِیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ‘‘ (۴۸:۲) دونوں مقامات پر گناہ، لغزش اور کوتاہی کے معنی کیے گئے ہیں جو آپؐ کے شایانِ شان نہیں۔

یہ صحیح ہے کہ عوام الناس کے بعض الزامات بھی فی الحقیقت گناہ، لغزش اور کوتاہی کے ضمن میں آتے ہیں کیونکہ وہ اپنے اوپر خود ایسے الزامات عائد کر لیتے ہیں لیکن آپؐ کا معاملہ دوسرے عام انسانوں جیسا نہیں اور آپؐ کے لیے استعمال کیے گئے ان الفاظ کی بحث دوسروں کے لگائے گئے الزامات کے باعث ختم ہو جاتی ہے اور اس جگہ یہی مقصود حقیقی ہے۔

3

قرآنِ کریم میں تخلیق انسانی کا ذکر کرتے ہوئے ’’نفس واحدہ‘‘ کا ذکر آیا ہے اور علامتی طور سے ’’نفس واحدہ‘‘ سے مراد ’’جنس واحدہ‘‘ بھی لی گئی ہے لیکن اکثر مترجمین ’’نفس واحدہ‘‘ کا ترجمہ جان واحدہ‘‘ سے کرتے ہیں اور ’’نفس واحدہ‘‘کا معنی ’’ایک جان‘‘ سے کرتے ہوئے آدمؑ کو ایک جان مراد لیتے ہیں اور واضح طور پر بیان کرتے ہیں کہ اللہ رب کریم نے ’’اکیلے آدم‘‘ کو پیدا کیا یعنی مٹی سے ایک قد آدم بت بنا کر اس میں روح پھونک دی اور ’’وَخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا‘‘ (۴:۱) اور اُس سے اُس کا جوڑا یعنی حوا پیدا کی اور اس طرح اس کی پیدائش کے لیے ایک بہت لمبی فرضی کہانی گھڑی گئی جو تفاسیر میں دیکھی جا سکتی ہے پھر آدم سے حوا کی پیدائش بیان کر کے ان دونوں کو میاں بیوی بنا کر ان سے ایک ایک جوڑا یعنی لڑکا اور لڑکی توام پیدا کرنے کا تصور دیا گیا اور اس طرح پہلے جوڑے کی لڑکی کا نکاح دوسرے جوڑے کے لڑے اور پہلے جوڑے کے لڑے کا نکاح دوسرے جوڑے کی لڑکی سے کیا جانے کو بیان کیا گیا اور ایسا کہہ کر گویا حقیقی بہن بھائی کی شادی سے سلسلہ نسب چلایا گیا جس سے ایک ایسا تصور پیدا ہوتا ہے جو ناگفتہ بہ ہے۔

حالانکہ دوسرے مقامات پر خود قرآنِ کریم نے پیدائش اول کا ذکر جمع کے صیغہ سے کیا چنانچہ ارشاد ہے کہ ’’وَمِنْ اٰیٰتِہٖ اَنْ خَلَقَکُمْ مِنْ تُرَابٍ‘‘ (۳۰:۲۰) اُس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تم کو مٹی سے بنایا۔ اور اس کے معاً بعد ارشاد فرمایا ’’وَمِنْ اٰیٰتِہٖ اَنْ خَلَقَکُمْ مِنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا‘‘ (۳۰:۲۱) اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اُس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے جوڑے بنائے۔ اور تمام مفسرین نے مِنْ اَنْفُسِکُمْسے مراد ’’من جنسکم‘‘ لیے ہیں اور یہی علامتی معنی سورہ النساہ کی پہلی آیت میں بھی لیے جاتے تو اس سے قرآنِ کریم خود اپنے معنی کو جس طرح واضح کرتا ہے اُس سے ساری بحث ہی ختم ہو جاتی اور امر معلوم ہو جاتا ہے کہ ایک جان سے ایک جنس مراد لے کر اللہ تعالیٰ نے مخلوق اول کا ذکر فرمایا ہے جس میں مرد اور عورت پیدا فرما کے ان کو آپس میں جوڑ دینے کا ذکر فرمایا ہے اُس مخلوق اول کی تعداد خواہ کتنی تھی اُس میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی جیسا کہ ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ:

وَلَقَدْ خَلَقْنٰکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰکُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰءِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْا اِلَّا اِبْلِیْسَ۔ (۷:۱۱)

’’اور ہم نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہاری شکلیں اور صورتیں بنا دیں پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم (کی خلافت کو قبول کرتے ہوئے) سجدہ کرو، وہ سب سجدہ ریز ہو گئے ’’مگر ابلیس‘‘۔

اسی طرح قرآنِ کریم میں جو علامتی زبان استعمال کی گئی ہے اُس کی حقیقت و ماہیت واضح ہو جاتی ہے اور اس طرح اپنے پاس سے فرضی کہانیاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ قرآنِ کریم خود ایک مقام کی دوسرے مقام پر وضاحت فرما دیتا ہے جیسا کہ ان مقامات پر آپ دیکھ رہے ہیں۔

4

’’ملک یمین‘‘ کا مسئلہ بھی قرآنِ کریم کے معرکہ الآراء مسائل میں سے ایک ہے۔ حالانکہ قرآنِ کریم میں یہ لفظ علامتی زبان کے لحاظ سے استعمال کیا گیا ہے اس لیے کہ نزولِ قرآن کے وقت عربوں میں اس کا رواج عام تھا اور ان کے ہاں جانوروں اور تجارت کے عام مال و متاع کی طرح لونڈیاں اور غلام بھی خریدے اور بیچے جاتے تھے۔ قرآنِ کریم میں ان کا تذکرہ تقریباً پندرہ بار آیا ہے جس کے لیے مَامَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ، مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ اور مَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ جیسے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں گویا ان پر آزاد مردوں اور عورتوں کی ملکیت کو تسلیم کیا ہے اگرچہ ان کو آزاد کرنے کی مختلف طریقوں سے حوصلہ افزائی کی گئی ہے تاکہ اس صورتِ حال کا خاتمہ کیا جائے اور بحمداللہ اسلام نے اس رسم بد کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا ہے۔

لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ علمائے اسلام نے ابھی تک مکمل طور پر اس بحث کو ختم نہیں ہونے دیا اور آج بھی اس نظریہ کو قائم رکھا ہے کہ کنیز یعنی لونڈی خریدنے سے اُس کے ساتھ خریدنے والے مرد کو بغیر نکاح کیے ازدواجی تعلق قائم کرنے کی اجازت ہے لیکن اگر ’’ملک یمین‘‘ کوئی مرد یعنی غلام ہو اور آزاد عورت اُس کو خرید لے یا اُس کو وارثتاً اور ہبتہً مل جائے تو وہ اُس کے سامنے بھی نہیں آ سکتی کیونکہ وہ آزاد عورت اُس غلام کے لیے نامحرم ہے۔ لیکن اس طرح جو کچھ بیان کیا جاتا ہے اس کا تعلق قرآنِ کریم کی عبارت کے ساتھ مطلق قائم نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی صحیح حدیث سے اس طرح کی کوئی بات بیان ہوئی ہے۔ ہاں! کنیز یعنی لونڈی کے ساتھ نکاح کرنے کی عام اجازت ہے اگرچہ اس کو آزاد کر کے نکاح میں لانا اجر کا باعث بیان کیا گیا ہے جب کہ لونڈی رکھنے کے باوجود بھی نکاح کیا جا سکتا ہے اور بالکل اسی طرح عام آزاد عورت بھی کسی غلام سے نکاح کرنا چاہے تو نکاح کر سکتی ہے ہاں! طرفین میں محصنین و محصنات کی شرط قرآنِ کریم نے ضروری قرار دی ہے جس کے ساتھ ایمان کا ذکر بھی کیا گیا ہے اور اہل کتاب ہونے کی رعایت بھی دی گئی ہے۔ تعجب ہے کہ ہمارے علمائے کرام اس حقیقت کو محض اپنی ضد کے باعث تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

مجموعی طور پر قرآنِ کریم کی علامتی زبان کو پیش نظر رکھا جائے تو ازدواجی زندگی کے لیے سب سے زیادہ طرفین کی رضامندی کو اہمیت حاصل ہے۔ آزاد ہونا، اہل کتاب ہونا طرفین میں سے ایک کا آزاد یا لونڈی و غلام ہونا یا ایک کا اہل کتاب یعنی دوسری فکر سے ہونا ثانوی حیثیت رکھتا ہے اوّلیت ہر حال میں طرفین کی رضامندی کو دی گئی ہے کیونکہ ازدواجی زندگی میں اس کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے اور یہی اس زندگی کی گردن کا وہ مہرا ہے جس پر اس زندگی کا انحصار ہے جونہی یہ مہرا ٹوٹا تو گویا ازدواجی زندگی کی موت واقع ہو گئی اس کا نام طلاق بائن رکھیں یا خلع کا نام دے دیں اس کا انحصار حالات پر ہے۔ کیا غلامی کا پھندا ایک انسان کو انسان نہیں رہنے دیتا۔ فافہم

قرآنِ کریم کے مندرجہ ذیل مقامات پر ’’ملک یمین‘‘ کا ذکر کیا گیا ہے ایک ایک مقام کو سامنے رکھیں کسی مقام پر اشارہ تک اس نظریہ کا موجود نہیں کہ ’’ملک یمین‘‘ ملکیت میں آنے کے ساتھ ہی اگر وہ عورت ہے تو مالک کے لیے عام اجازت ہے کہ وہ اس کو بطور ازدواجی زندگی استعمال کر سکتا ہے۔ مثلاً:

(۴:۳) (۴:۲۴) (۴:۲۵) (۴:۳۹) (۱۶:۷۱) (۲۳:۶) (۲۴:۳۱) (۲۴:۳۳) (۲۴:۵۸) (۳۰:۲۸) (۳۳:۵۰) (۳۳:۵۲) (۳۳:۵۵) (۷۰:۳۰)۔

مذکورہ مقامات کو بغور دیکھیں کہ ’’ملک یمین‘‘ کا لفظ لونڈی غلام دونوں کے لیے یکساں ایک ہی طرح بولا گیا ہے جس طرح ’’ملک یمین‘‘ آزاد مرد کے لیے لونڈی غلام دونوں ہو سکتے ہیں بالکل اسی طرح آزاد عورت کے لیے ’’ملک یمین‘‘ لونڈی غلام دونوں ہو سکتے ہیں بلکہ آزاد عورتوں کے لیے ’’ملک یمین‘‘ مرد یعنی غلام ہونے کا واضح ارشاد سورہ النور کی آیت ۳۱ میں موجود ہے اس لیے کہ اس جگہ عورتوں کے اظہارِ زینت کا ذکر ہے کہ وہ اپنے محرم مردوں اور عام عورتوں کے ساتھ کس طرح اظہارِ زینت کے طور پر رہ سکتی ہیں اور ان محرم مردوں میں ’’مَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ‘‘ سے غلام ہی مراد ہو سکتے ہیں کیونکہ مرد وہی ہیں گویا مالکہ اپنے غلام کے سامنے اظہار زینت کر سکتی ہے جس طرح وہ اپنے محرم مردوں کے سامنے اظہار زینت کر سکتی ہے جن کا ذکر مذکورہ آیت میں کیا گیا ہے لیکن ہمارے علماء کرام اور مفسرین کی اکثریت اس کو تسلیم نہیں کرتی وہ فرماتے ہیں کہ اس جگہ ’’مَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ‘‘ سے مراد صرف لونڈیاں ہیں اور اس طرح وہ ان مقامات پر عام علامتی زبان کو تسلیم نہیں کرتے اور یہ بحث بہت طویل ہے جس کا یہ مقام نہیں تاہم ان آیات کریمات کا مختصر ذکر اس جگہ کر دیا جاتا ہے جو درج ذیل ہے۔

قبل اس کے کہ ملک یمین کی آیات کا مختصر ترجمہ پیش کیا جائے دیکھ لینا چاہیے کہ اس سلسلہ میں قرآنِ کریم میں کونسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اس طرح قرآنِ کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے قرآنِ کریم میں ’’مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ‘‘ ، ’’مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ‘‘ اور ’’مَامَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ‘‘ کے الفاظ آئے ہیں گویا بعض مقامات پر جمع مذکر حاضر کی ضمیر ’’کُمْ‘‘ بعض جگہ جمع مذکر غائب کی ضمیر ’’ھُمْ‘‘ اور بعض جگہ جمع مونث غائب کی ضمیر ’’ھُنَّ‘‘ استعمال ہوئی ہے ضمائر کے ان فرق کے باوجود اصل مطلب میں کوئی فرق نہیں آتا کیونکہ ہر جگہ ملکیت کا تصور موجود ہے خواہ ملکیت خریدنے سے، خواہ ہبہ سے اور خواہ وراثت سے قائم ہوئی ہے اور تمام مقامات پر ملکیت میں آنے والے غلام ہوں یا کنیزیں مراد ہو سکتے ہیں دونوں ہوں یا دونوں میں سے ایک یہ بات آیت کا مضمون ہی قریبنہ سے واضح کرتا ہے فی نفسہٖ الفاظ میں اس طرح کی کوئی تخصیص نہیں پائی جاتی۔ اب ہم ان آیات کو ترتیب وار نقل کرتے ہیں جن آیات میں یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں چنانچہ ایک جگہ ارشاد ہے کہ:

1۔ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِنَ النِّسَآءِ مَثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ذٰلِکَ اَدْنٰی اَلَّا تَعُوْلُوْاo (۴:۳)

’’اور دیکھو اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں کے معاملہ میں انصاف نہ کر سکو گے تو جو عورتیں تمہیں پسند آئیں نکاح کر لو، دو، تین ، چار تک کر سکتے ہو، اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ انصاف نہیں کر سکو گے تو پھر چاہیے کہ ایک بیوی سے زیادہ نہ کرو یا جو عورتیں تمہاری ملکیت میں آ چکی ہیں ان سے نکاح کر لو بے انصافی سے بچنے کے لیے ایسا کرنا زیادہ قرین صواب ہے‘‘۔

زیر نظر آیت سے کم از کم ایک آیت قبل اور ایک آیت بعد کو پیش نظر رکھنے سے قرآنِ کریم کے بیان کا تسلسل واضح کر رہا ہے کہ اس جگہ یتیم بچیوں کی پرورش کا معاملہ پیش نظر ہے اور حکم فرمایا جا رہا ہے کہ یتیم بچیوں کی پرورش کی ذمہ داری اگر تم پر عائد ہو تو اس کو احسن طریقہ سے پورا کرو ان کے مالوں کی حفاظت تم پر لازم ہے جب وہ بچیاں جوان ہو جائیں تو اگر تم شرعاً ان سے نکاح کر سکتے ہو تو کر لو بشرطیکہ وہ بھی پسند کریں لیکن تم کو خدشہ ہو کہ ان کے اموال میں اس طرح سے یعنی نکاح کرنے سے خرابی پیدا ہو گی تو ان کے علاوہ دوسری عورتوں سے نکاح کرو، تم چار تک کر سکتے ہو بشرطیکہ ان میں انصاف کر سکو، ہاں یہ مشکل ہو گا اندریں وجہ بہتر یہی ہے کہ ایک عورت سے نکاح کرو، اگر زیادہ ضرورت محسوس ہو تو اپنی ملکیت میں آنے والی عورتوں میں سے کسی سے نکاح کر لو کیونکہ اس طرح انصاف نہ ہونے کا اندیشہ جاتا رہے گا کیونکہ ایک آزاد عورت ہو گی اور دوسری ملک یمین ہو گی اور دونوں کے حقوق برابر نہیں ہیں۔ آیت سے جو چیز واضح ہو رہی ہے وہ دونوں کے حقوق کا فرق ہے جس کو ہمارے علماء گرامی قدر نے اس فرق کو بغیر نکاح بیوی بنا لینے کا حق قرار دے دیا ہے حالانکہ قرآنِ کریم کی آیات میں پیچھے نکاح کا ذکر چلا آ رہا ہے۔

نیز اس جگہ قابل غور جملہ ’’مَامَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ‘‘ ہے اس کا جو ترجمہ کیا گیا ہے اس کو ایک نظر دیکھ لیں۔

i۔ ’’جو عورتیں (لڑائی کے قیدیوں میں سے) تمہارے ہاتھ آ گئیں ہیں‘‘ (ابوالکلام آزادؒ )

ii۔ ’’کنیزیں جن کے تم مالک ہو‘‘ (محمد رفاعیؒ )

iii۔ ’’کنیزیں جن کے مالک ہوں تمہارے دائیں ہاتھ‘‘ (پیر محمد کرم شاہؒ )

iv۔ ’’پھر وہ کنیزیں ہیں جو تمہارے قبضے میں ہوں‘‘ (عبدالرحمن کیلانی ؒ )

v۔ ’’یا لونڈی جو اپنا مال ہے‘‘ (شبیر احمد عثمانی ؒ )

vi۔ ’’یا لونڈی جو اپنا مال ہے‘‘ (مفتی محمد شفیع ؒ )

vii۔ ’’یا ان عورتوں کو زوجیت میں لاؤ جو تمہارے قبضہ میں آئی ہیں‘‘ (سید مودودیؒ )

چونکہ اس جگہ عورتوں کے ساتھ نکاح کا ذکر تھا اس لیے سب نے اس جگہ ’’مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ‘‘ کا ترجمہ کنیزیں، لونڈیاں، عورتیں جو ملکیت میں آ چکی ہوں‘‘ کے الفاظ سے کیا ہے حالانکہ حقیقت میں ’’ملک یمین‘‘ کا لفظ لونڈی اور غلام دونوں کے لیے آیا ہے جیسا کہ آگے ذکر آے گا۔

چنانچہ ایک جگہ ارشاد ہے:

2۔ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَاءِ اِلَّا مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ کِتٰبَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَاُحِلَّ لَکُمْ مَّا وَرَآءَ ذَالِکُمْ(۴:۲۴)

’’اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں جو دوسروں کے نکاح میں ہیں۔ ہاں! جو عورتیں تمہاری ملک یمین ہو چکی ہوں یہ اللہ کی طرف سے تمہارے لیے ٹھہرا دیا گیا ہے ان عورتوں کے علاوہ تمام عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں۔‘‘

ان آیات میں بھی نکاح کا ذکر چلا آ رہا ہے کہ کن عورتوں سے نکاح جائز ہے اور کن سے ناجائز و حرام اس لیے اس جگہ بھی ’’مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ‘‘ کے الفاظ سے وہ عورتیں ہی مراد لی گئی ہیں جو تمہاری ملکیت میں آ چکی ہیں یعنی لونڈیوں، کنیزوں اور ملک یمین کے نام سے ان کو موسوم کیا جاتا ہے۔

3۔ وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ مِنْ فَتَیٰتِکُمُ الْمُؤْمِنٰتِ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِکُمْ ط(۴:۲۵)

’’اور تم میں کوئی شخص اس کا مقدور نہ رکھتا ہو کہ آزاد مسلمان بیبیوں سے نکاح کرے تو ان عورتوں سے نکاح کر سکتا ہے جو (لڑائی کے قیدیوں میں سے) تمہارے قبضے میں آتی ہیں اور وہ مومن ہیں اللہ تمہارے ایمان کا حال بہتر جاننے والا ہے۔‘‘

’’مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ‘‘ سے اس جگہ بھی کنیزیں اور لونڈیاں ہی مراد لی گئی ہیں، کیوں؟ اس لیے کہ قرآنِ کریم کی عبارت اس پر دال ہے کہ یہاں بھی عورتوں کے ساتھ نکاح کا ذکر ہے اور عام آزاد عورتوں کے ساتھ اُن کا بھی ذکر کیا گیا ہے البتہ اس جگہ نکاح کرنے کے لیے یا کسی دوسرے کو نکاح کر دینے کے لیے کنیز کا ایماندار ہونا بھی مذکور ہے اس کو بھی ذہن نشین کر لینا چاہیے۔

4۔ وَاعْبُدُوااللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْءًا وَّبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّبِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْجَارِذِی الْقُرْبٰی وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِیْلِ وَمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنْ کَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرًاo (۴:۳۶)

’’اور اللہ کی بندگی کرو اور کسی چیز کو اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہراؤ اور چاہیے کہ ماں باپ کے ساتھ، پڑوسیوں کے ساتھ، خواہ قرابت والے پڑوسی ہوں یا اجنبی ہوں، نیز پاس بیٹھنے اُٹھنے والوں کے ساتھ اور ان کے ساتھ جو مسافر ہوں، یا لونڈی غلام ہونے کی وجہ سے تمہارے قبضے میں ہوں احسان اور سلوک کے ساتھ پیش آؤ، اللہ ان لوگوں کو دوست نہیں رکھتا جو اترانے والے اور ڈینگیں مارنے والے ہیں۔‘‘

اس جگہ ’’مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ‘‘ کے الفاظ سے تمام مترجمین نے لونڈی اور غلام دونوں مراد لیے ہیں اس لیے کہ اس جگہ دوسروں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کا ذکر ہے اس لیے اس میں دونوں مراد لیے جا سکتے ہیں کیونکہ اصولاً دونوں اقسام ’’ملک یمین‘‘ میں داخل ہیں۔

5۔ وَاللّٰہُ فَضَّلَ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا بِرَآدِیْ رِزْقِھِمْ عَلٰی مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ فَھُمْ فِیْہِ سَوَآءٌ ط اَفَبِنِعْمَۃِ اللّٰہِ یَجْحَدُوْنَo(۱۶:۷۱)

’’اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر بہ اعتبار روزی کے برتری دی ہے (کوئی زیادہ کماتا ہے کوئی کم) پھر ایسا نہیں ہوتا کہ جس کسی کو زیادہ روزی دی گئی ہے وہ اپنی روزی زیردستوں (لونڈی غلاموں) پر لوٹا دے حالانکہ سب اس میں برابر کے حق دار ہیں پھر کیا یہ لوگ اللہ کی نعمتوں سے صریح منکر ہو رہے ہیں۔‘‘

’’مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ‘‘ کے الفاظ سے تمام زیردست اور لونڈی و غلام سب آ گئے، کیوں؟ اس لیے کہ قرآنِ کریم کی عبارت اس کا تقاضا کرتی ہے کہ یہاں سب کو شامل کیا جائے نیز یہ آیت مہمات قرآنی سے ہے جس کے تحت بہت کچھ سما سکتا ہے ضرورت ہو تو عروۃ الوثقیٰ میں مذکورہ آیت کی تفسیر دیکھیں۔

6۔ وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حٰفِظُوْنَo اِلَّا عَلٰی اَزْوَاجِھِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ فَاِنَّھُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَo (۲۳:۴،۵)

’’وہ لوگ جو اپنے ستر کی نگہداشت سے کبھی غافل نہیں ہوتے ہاں! اپنی بیویوں سے زناشوئی کا علاقہ رکھتے ہیں یا اُن سے جو اُن کی ملکیت میں آ گئی ہیں‘‘ (اور اُنہوں نے اُن سے نکاح کر لیا ہے)۔

’’مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ‘‘ سے مراد اس جگہ صرف ملک یمین عورتیں ہیں اس لیے کہ ایمان والے مردوں کی صفات ذکر کی جا رہی ہیں۔ ہاں! اگر مومنوں میں عورتوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو نظم قرآنی کے تحت ایسا کیا جا سکتا ہے اور پھر اس طرح عورتوں کی جگہ مردوں کے نکاح کی بات ہو گی تو ’’مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ‘‘ سے مراد غلام بھی لیے جا سکتے ہیں کیونکہ جس طرح مردوں کو نکاح کی ضرورت ہوتی ہے عورتوں کو بھی ہوتی ہے جس طرح مردوں کو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کا حکم ہے اسی طرح عورتوں کو بھی ہے اور دونوں کی حفاظت کا طریقہ بھی یکساں ہے۔ یہ طریق ادب ہے کہ ایسے حالات میں اکثر مزکر ہی کے صیغے استعمال ہوتے ہیں اور مرد ہی ان سے مراد لیے جاتے ہیں اگرچہ سب کو معلوم ہے کہ ضرورت بہرحال طرفین کو ایک جیسی ہوتی ہے اس لیے ہم نے ہر جگہ ’’مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ‘‘ دونوں صنفوں کا ذکر کیا ہے کیونکہ دونوں ہی اس سے مراد ہیں چاہے کسی جگہ ان دونوں میں سے کسی ایک کا مراد لیا جانا بھی صحیح ہو اس لیے کہ ان الفاظ میں کوئی فرق ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا جیسا کہ قرآنِ کریم کی آیات سے واضح ہے۔ جن بزرگوں نے اس آیت کو استشہاداً پیش کیا ہے کہ کنیز یعنی لونڈی سے نکاح کی ضرورت نہیں اُس کا ملک میں آنا ہی قائم مقام نکاح قرار دیا جاتا ہے یہ محض ان کی ضد ہے جس کا اس دنیا میں کوئی علاج نہیں۔

7۔ وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَھُنَّ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِھِنَّ اَوْ اٰبَآءِ ھِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِھِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ ھِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِھِنَّ اَوْ اِخْوَانِھِنَّ اَوْ بَنِیٓ اِخْوَانِھِنَّ اَوْ بَنِیٓ اَخَوَاتِھِنَّ اَوْ نِسَآءِ ھِنَّ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ اَوِ التَّابِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ (۲۴:۳۱)

’’اور اے پیغمبر اسلام ﷺ! آپؐ ایمان والیوں سے فرما دیجئے کہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں اور اپنے پردوں کے مقامات کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو اس میں کھلا ہی رہتا ہے اور اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈال لیا کریں اور اپنی زیبائش کسی پر ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے باپوں کے یا اپنے خاوندوں کے باپوں کے یا اپنے بیٹوں کے اور اپنے خاوندوں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں کے یا اپنی بہنوں کے بیٹوں کے یا اپنی عام عورتوں کے جو مسلمان ہیں یا اپنے غلاموں اور لونڈیوں کے یا اپنے ان ملازمین مردوں سے جو بہت بوڑھے ہو چکے ہوں اور عورتوں سے کسی قسم کی خواہش نفس نہ رکھتے ہوں۔‘‘

’’مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ‘‘ سے متعلق قرآنِ کریم کی عبارت سے بالکل واضح ہے کہ اس جگہ وہ غلام مراد ہیں جو آزاد عورتوں کے قبضہ قدرت میں آتے ہوں یعنی ان کے مملوک ہوں لیکن ہمارے اکثر مترجمین نے اس سے مراد لونڈیاں اور باندیاں ہی لی ہیں کیوں؟ اس لیے کہ وہ مردوں کے لیے بہت فیاض ہیں کہ آزاد مرد کو باندی مل جائے تو اُس کی رضا طلب کا خیال نہ کیا جائے مرد کو حق ہے کہ وہ جب چاہے اور جیسے چاہے جنسی خواہش کے لیے کنیز کو استعمال کرے لیکن آزاد عورت اگر کسی غلام کو حاصل کر لے تو وہ اپنے غلام کے سامنے بھی نہیں آ سکتی کیوں؟ اس لیے کہ وہ بدستور غیر محرم مرد ہے۔ اگر پوچھ لیا جائے کہ یہ نظریہ قرآنِ کریم کی کس آیت سے لیا گیا ہے تو جواب ملتا ہے آج تک تمام مترجمین اور مفسرین اور فقہائے اسلام اسی طرح کہتے چلے آ رہے ہیں اور اس وقت بھی متداول تفاسیر کو دیکھا جا سکتا ہے۔ جب کہ ان کی یہ دلیل کوئی وزن نہیں رکھتی۔

8۔ وَالَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْکِتٰبَ مِمَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ فَکَاتِبُوْھُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْھِمْ خَیْرًا(۲۴:۳۳)

’’اور تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو بھی تم سے مکاتبت چاہیں تو ان سے یہ عہد نامہ کر لو بشرطیکہ تم ان میں اس طرح کی صلاحیت پاؤ ‘‘۔

’’مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ‘‘ سے اس جگہ بھی لونڈی اور غلام دونوں پر مراد لیے گئے ہیں گویا جس طرح غلام اپنے مالک کو معاوضہ ادا کر کے اور آزادی طلب کرنے کا حق رکھتا ہے اسی طرح لونڈی بھی معاوضہ ادا کر کے آزادی طلب کر سکتی ہے اور ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ جو بھی آزادی حاصل کرنے کے لیے معاوضہ ادا کرنا چاہے تو اُس کی بات مان لو بلکہ اس کی مزید مدد بھی کرو تاکہ اُس کو آزادی حاصل ہو جائے کیونکہ اسلام ہر حال میں آزادی دینے کے حق میں ہے اُس کی جو صورت بھی ہو اسلام اُس کے حق میں ہے۔

9۔ یٰاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاذِنْکُمُ الَّذِیْنَ مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ وَالَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْکُمْ ثَلٰثَ مَرَّاتٍ ط (۲۴:۵۸)

’’اے ایمان والو! تمہارے باندی غلام اور وہ بچے جو سن بلوغ کو نہیں پہنچے انہیں تین وقتوں میں تم سے اجازت لینی چاہیے۔‘‘

’’مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ‘‘ کے الفاظ سے اس جگہ مراد غلام اور لونڈی دونوں لیے گئے ہیں اور خصوصاً علامہ مودودی صاحب نے اس پر جو حاشیہ دیا ہے اُس میں تحریر کیا ہے کہ ’’اس سے مراد لونڈیاں اور غلام دونوں ہیں کیونکہ لفظ عام استعمال کیا گیا ہے۔‘‘ یہ بات اپنی سمجھ میں نہیں آتی کہ گذشتہ آٹھ جگہ پر جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ خاص کیونکر ہیں اور یہ عام کیسے ہو گئے ہیں کیا حرف ’’ما‘‘ نے ان کو خاص کیا ہے یا کوئی اور قاعدہ ہے کوئی صاحب علم بتا دیں تو ان کا شکریہ۔

10۔ ضَرَبَ لَکُمْ مَثَلًا مِّنْ اَنْفُسِکُمْ ط ھَلْ لَّکُمْ مِّنْ مَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ شُرَکَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰکُمْ فَاَنْتُمْ فِیْہِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَھُمْ کَخِیْفَتِکُمْ اَنْفُسَکُمْ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَعْقِلُوْنَo (۳۰:۲۸)

’’ تمہارے لیے تمہارے (روز مرہ کے) حالات میں سے ایک مثال بیان کی جاتی ہے تم بتاؤ کیا تمہارے لونڈی غلاموں میں سے کوئی تمہارا اس مال و دولت میں شریک ہے جو ہم نے تم کو دیا ہے کہ تم سب اس میں برابر کے شریک ہو؟ کیا تم ان (لونڈی غلاموں) سے ڈرتے ہو جیسے تم اپنوں سے ڈرتے ہو، اس طرح ہم نشانیاں کھول کھول کر ان لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔‘‘

اس جگہ بھی ’’مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ‘‘ سے لونڈی غلام دونوں ہی مراد لیے گئے ہیں چاہے بعض نے ترجمہ میں لفظ صرف غلاموں کا استعمال کیا ہو۔

11۔ یٰاَ یُّھَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَکَ اَزْوَاجَکَ الّٰتِیٓ اٰتَیْتَ اُجُوْرَھُنَّ وَمَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ مِمَّا اَفَاءَ اللّٰہُ عَلَیْکَ (۳۳:۵۰)

’’اے پیغمبر اسلام ! ہم نے آپؐ کے لیے آپؐ کی بیویاں جن کو آپؐ مہر دے چکے ہیں حلال کر دی ہیں اور وہ عورتیں بھی جو آپؐ کی ملک میں ہیں (اور آپ اُن سے نکاح کر چکے ہیں)‘‘۔

اس جگہ ’’وَمَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ‘‘ سے مراد آپ کی کنیزیں یعنی لونڈیاں ہی مراد لی جا سکتی ہیں کیونکہ قرآنِ کریم کی عبارت کا اس جگہ یہی تقاضا ہے کہ آپؐ مرد ہیں اور آپؐ کو ان سے نکاح کرنے کی اجازت کا اس جگہ ذکر کیا گیا ہے جس سے یہ بات تو روزِ روشن کی طرح واضح ہے کنیز یعنی لونڈی سے مالک چاہے تو اُس کی مرضی سے نکاح کر سکتا ہے اور اُس کا حق مہر دینا بھی لازم و ضروری ہے ہاں! قرآنِ کریم کی دوسری عبارت سے اور روایات سے یہ بات بھی سمجھی جا تی ہے کہ آزاد کر کے نکاح کرنے سے اجر و ثواب بھی حاصل ہوتا ہے اور فقط نکاح کرنے سے اُس کے حقوق آزاد عورت کے ساتھ نکاح کے برابر حاصل نہیں ہوتے اور وہ بدستور کنیز یعنی لونڈی والی خدمت بھی ادا کرتی رہے گی۔

غور کرنے کی بات تو یہ ہے کہ جب نبی اعظم و آخر ﷺ کو بھی کنیز کے ساتھ نکاح ضروری ہے اگر بطور بیوی اُس کو رکھنا ضروری ہو تو دوسرے لوگ اس سے مستثنیٰ کیوں کر ہو سکتے ہیں اور علمائے اسلام نے ان کے لیے بغیر نکاح بطور بیوی استعمال کرنا کیسے جائز قرار دے دیا ہے اور ایسی بات جو کتاب و سنت کے سراسر خلاف ہے ان کو کرتے ہوئے شرم کیوں نہیں آئی؟

12۔ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْھِمْ فِیٓ اَزْوَاجِھِمْ وَمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ لِکَیْلَا یَکُوْنَ عَلَیْکَ حَرَجٌ ط (۳۳:۵۰)

’’بلاشبہ ہم کو معلوم ہے جو ہم نے ان پر ایمان والوں پر ان کی بیویوں اور ملک یمین کے متعلق مقرر کر دیا ہے تاکہ آپؐ پر کوئی تنگی نہ ہو‘‘۔ (۳۳:۵۰)

مذکورہ مقام پر بھی ایمان والوں کی بیوی کے ساتھ ہی ان کا ذکر کیا گیا ہے لہٰذا اس جگہ بھی ’’مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ‘‘ سے مراد ان کی کنیزیں اور لونڈیاں ہی مراد لی جا سکتی ہیں کیونکہ ’’عَلَیْھِمْ‘‘ کی ضمیر کا تقاضا مردوں سے ہے اور مردوں کو نکاح جس طرح آزاد عورتوں سے کرنا ہے ایسے ہی اپنی کنیزوں اور لونڈیوں سے بھی وہ کرنے کے مجاز ہیں چاہے ان کی اپنی کنیزیں ہوں یا دوسرے ایمان والے اپنی کنیزوں سے ان کو نکاح کی اجازت دے دیں اگر اُن کو اس طرح کا نکاح پسند ہو چاہے وہ آزاد ہوں یا غلام۔

13۔ لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَآءُ مِنم بَعْدُ وَلَآ اَنْ تُبَدَّلَ بِھِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّلَوْ اَعْجَبَکَ حُسْنُھُنَّ اِلَّا مَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ (۳۳:۵۲)

’’(اے پیغمبر اسلام!) ان کے علاوہ اور عورتیں آپؐ کے لیے جائز نہیں اور نہ ہی یہ کہ آپؐ اُن کی جگہ دوسری بیویوں کو لے لیں (یعنی ان کو چھوڑ کر کسی اور سے نکاح کر لیں) خواہ ان کا حسن آپؐ کو کتنا ہی اچھا لگے۔ ہاں! وہ جو آپؐ کی ملک یمین ہیں (اُن سے نکاح کی اجازت ہے)‘‘۔

ظاہر ہے کہ یہ حکم بھی نبی اعظم و آخر ﷺ کے لیے خاص ہے کہ اُس حکم نے نازل ہو کر آپؐ پر پابندی عائد کر دی ہے کہ آپؐ اس کے بعد کسی بھی آزاد عورت سے خواہ وہ آپؐ کی رشتہ دار ہو یا غیر رشتہ دار نکاح نہیں کر سکتے اور نہ ہی جن عورتوں سے پہلے آپؐ نکاح کر چکے ہیں ان میں سے کسی کو چھوڑ کر اُس کی جگہ کسی دوسری کو لا سکتے ہیں لیکن کنیز اور لونڈی اس حکم سے مستثنیٰ ہے کہ آپؐ نکاح کرنا چاہیں تو کسی کنیز سے نکاح کر سکتے ہیں اندریں وجہ اس جگہ بھی ’’مَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ‘‘ سے مراد لونڈی اور کنیز ہی لی جا سکتی ہے غلام مراد نہیں لیا جا سکتا۔

14۔ لَا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ فِي آبَائِهِنَّ وَلَا أَبْنَائِهِنَّ وَلَا إِخْوَانِهِنَّ وَلَا أَبْنَاءِ إِخْوَانِهِنَّ وَلَا أَبْنَاءِ أَخَوَاتِهِنَّ وَلَا نِسَائِهِنَّ وَلَا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ ۗ وَاتَّقِينَ اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدًا (۳۳:۵۵)

’’ان عورتوں یعنی نبی کریم ﷺ کی بیویوں پر کچھ گناہ نہیں اگر وہ اپنے باپوں کے سامنے آئیں اور نہ اپنے بیٹوں کے سامنے، نہ اپنے بھائیوں کے سامنے اور نہ اپنے بھائیوں کے بیٹوں کے سامنے اور نہ اپنی بہنوں کے بیٹوں کے سامنے اور نہ ہی اپنی عورتوں کے سامنے اور نہ اپنے ملک یمین کے سامنے آنے جانے میں کوئی گناہ ہے اور اللہ سے ڈرتی رہیں۔‘‘

اس جگہ مخاطب آپؐ کی ازواجِ مطہرات ہیں کہ وہ کن کن لوگوں کے سامنے آ جا سکتی ہیں لہٰذا اس جگہ ’’مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ‘‘ سے مراد لونڈی اور غلام دونوں ہی مراد لیے جائیں گے بلکہ قرینہ اس بات کا موجود ہے کہ اس جگہ مخصوص غلام ہی مراد لیے جائیں کیونکہ ذکر خصوصا ان مردوں کا ہے جن سے حجاب لٹکانا ضروری نہیں ہے اور صحیح روایات سے یہ بات روزِ روشن کی طرح ثابت ہے لیکن ہمارے علمائے گرامی قدر اس کو تسلیم نہیں کرتے اور تفصیلات کا یہ موقع نہیں۔

15۔ وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حٰفِظُوْنَo اِلَّا عَلٰی اَزْوَاجِھِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ فَاِنَّھُمْ غَیْرُ مُلُوْمِیْنَo (۷۰:۳۰)

’’اور وہ لوگ جو اپنے پردوں کے مقام کی حفاظت کرتے ہیں سوائے اپنی آزاد بیویوں اور منکوحہ لونڈیوں کے تو ان پر اس طرح کا کوئی الزام نہیں‘‘۔

یہ مقام بھی ان مقامات میں سے ہے جن میں ’’مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ‘‘ سے دونوں اقسام یعنی لونڈی اور غلام مراد لیے جا سکتے ہیں کیونکہ جس طرح مردوں کو اپنے پردے کے مقامات کی حفاظت کا حکم ہے بالکل اسی طرح عورتوں کو بھی اپنے پردے کے مقامات کی حفاظت کا حکم ہے اگرچہ اس جگہ فقط مردوں کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کیونکہ ضمائر مذکر استعمال کی گئی ہیں لیکن قرآنِ کریم میں اکثر جگہ مخاطب مردوں ہی کو کیا جاتا ہے لیکن ضمناً عورتیں بھی ان احکام میں برابر کی شریک ہوتی ہیں۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ آزاد مرد اگر ضرورت کے مطابق لونڈیوں سے نکاح کر سکتے ہیں تو آزاد عورتیں بھی اگر غلام مردوں سے نکاح کرنا چاہیں تو ان کو بھی کسی طرح کی کوئی رکاوٹ نہیں ہے چاہے علمائے اسلام اس حقیقت کو تسلیم نہ کریں۔

جس طرح اس جگہ اگرچہ مخاطب مردوں کو کیا گیا ہے اس طرح آیت بتیس تا پینتیس میں بھی مردوں ہی کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ ’’جو لوگ اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس کرتے ہیں۔ اور جو لوگ اپنی گواہیوں پر قائم رہتے ہیں۔ اور جو لوگ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو جنت میں عزت سے رہیں گے‘‘ ظاہر ہے کہ اس جگہ مراد جس طرح مرد ہیں بالکل اسی طرح مردوں کے ساتھ عورتیں بھی ہیں پھر ان احکام میں اگر عورتیں شامل ہیں تو آیت تیس اور اکتیس میں عورتیں کیوں شریک نہیں ہو سکتیں ہاں! بغیر کسی دلیل کے محض ضد کے لیے علمائے کرام تسلیم نہ کرنا چاہیں تو اس کا کوئی علاج اس دنیا میں نہیں۔ اللہ رب کریم سے دُعا ہے کہ وہ سمجھ کی توفیق عطا فرما دے۔

قرآنِ کریم کے جن پندرہ مقامات کا مختصر ذکر پیچھے کیا جا چکا ہے جن میں ’’مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ‘‘ ’’مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ‘‘ ’’مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ‘‘ جیسے الفاظ کا تذکرہ کیا گیا ہے جس سے روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ قرآنِ کریم میں علامتی زبان کس کثرت اور وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہے لیکن قومِ مسلم کو جس طرح اس سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے تھا نہیں کیا جس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔

مختصر بات یہ ہے کہ لونڈیوں اور غلاموں کا مسئلہ قبل از اسلام موجود تھا اسلام نے اس امتیاز کو ختم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جس کی کوششوں کی برکت سے آج یہ مسئلہ پوری دنیا سے معدوم ہو چکا ہے اسلام نے یہ حقیقت واضح کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے کہ آزاد مرد اور عورتیں جس طرح انسان ہیں بالکل اسی طرح لونڈی اور غلام بھی انسان ہیں اور سب کی نسل اور اصل ایک ہے اس لیے ان میں جو امتیاز قائم ہو چکا تھا اس کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے اس کو بحمداللہ بالکل معدوم کر دیا ہے لیکن افسوس کہ علمائے اسلام آج بھی اس امتیاز کو باقی رکھنے کی سرتوڑ کوشش میں مصروف نظر آتے ہیں یہاں تک کہ ایک دوسرے سے بازی لے جانے میں کوئی کسر باقی اُٹھا نہیں رکھتے گویا سب کے سب یا ان کی اکثریت بے لذت گناہ میں برابر کے شریک ہیں ۔ یہ مضمون اس کی تفصیلات کا متحمل نہیں تفصیل مطلوب ہو تو تفسیر القرآن عروۃ الوثقیٰ سے محولہ مقامات دیکھے جا سکتے ہیں جن کو دیکھنے سے ان شاء اللہ اس سلسلہ میں تشنگی باقی نہیں رہے گی۔

5

سورہ بقرہ کی آیت ۷۲ میں بنی اسرائیل کے ایک مقتول کا ذکر کیا گیا ہے جس کا قاتل معلوم نہیں ہو رہا تھا قرآنِ کریم نے علامتی طور پر اس کا اس طرح بیان کیا کہ قاتل کا پتہ بھی چل گیا اور بعد میں آنے والوں کے لیے ایسے معاملات کی سراغ رسانی کے لیے رہنمائی بھی حاصل ہو گئی اور اس اصول پر ایسے محکمے تشکیل دیئے گئے جو اس طرح کے واقعات کو روزِ روشن کی طرح واضح کر دیتے ہیں لیکن یہ سب کچھ ان کے لیے ہے جنہوں نے اس کو علامتی زبان قرار دے کراس سے استفادہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے خواہ وہ کون ہیں، کہاں ہیں اور کیسے ہیں؟ اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ قرآنِ کریم تمام انسانوں کی یکساں ایک جیسی راہنمائی کرتا ہے کیونکہ وہ تمام دنیا کے انسانوں کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ قرآنِ کریم میں اس واقعہ کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے:

وَاِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادَّرَءْ تُمْ فِیْھَا وَاللّٰہُ مُخْرِجٌ مَّا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَo فَقُلْنَا اضْرِبُوْہُ بِبَعْضِھَا کَذٰلِکَ یُحْیِ اللّٰہُ الْمَوْتٰی وَیُرِیْکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَo (۲:۷۲،۷۳)

’’اور پھر وہ واقعہ یاد کرو جب تم نے ایک جان ہلاک کر دی تھی اور اس کی نسبت تم آپس میں جھگڑتے اور ایک دوسرے پر الزام لگاتے تھے جس حقیقت کو تم چھپاتے تھے اللہ اس کو آشکارا کر دینا چاہتا تھا۔ پھر ایسا ہوا کہ ہم نے حکم دیا کہ اس مقتول کو اس کے بعض اعضاء سے مارو یعنی (Touch) کرو اس طرح قاتل کی شخصیت معلوم ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ اس طرح مردوں کو زندگی بخشتا ہے (چھپی باتوں کو ظاہر کر دیتا ہے) اور تمہیں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو۔‘‘

علامتی زبان تقاضا کرتی ہے کہ اس جگہ ضرورت اس کی ہے کہ اس مقتول کے قاتل کا پتہ چلے جو باعث نزاع ہے یعنی ’’نامعلوم قاتل معلوم ہو جائے۔‘‘ قرآنِ کریم نے اس کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ وَاللّٰہُ مُخْرِجٌ مَّا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ اور اس کا طریقہ اس طرح بیان فرمایا کہ اِضْرِبُوْہُ بِبَعْضِھَا جس کا مطلب بالکل صاف ہے کہ بنی اسرائیل کو ایک جگہ جمع کر کے ان کو اس بات کا حکم دو کہ اس کے بعض کو بعض سے (Touch) کریں تو قاتل معلوم ہو جائے گا کیونکہ جو لوگ قاتل نہیں ہیں وہ بسبب یقین اپنی بے جرمی کے ایسا کرنے میں کچھ خوف نہیں کریں گے مگر اصل قاتل بہ سبب خوف اپنے جرم کے جو از روئے فطرت انسان کے دل میں ہوتا ہے ایسا نہیں کریں گے دکھا وے کے لیے محض اعضاء کو پکڑ کر ہلا دیں گے اور دیکھنے والے کو اُس وقت معلوم ہو جائے گا کہ قاتل کون ہے۔

اس طرح اللہ رب کریم نے مخرج کے مقابلہ میں یحی اللہ اور تکتمون کے مقابلہ میں موتی کا لفظ فرما کر اس کی پوری حقیقت بیان فرما دی گویا یحی اللہ سے ظاہر ہونا قاتل کا اور موتی سے مراد نامعلوم ہونا قاتل کا مراد ہے یعنی اس طریقہ سے جو نامعلوم تھا وہ معلوم ہو گیا اور عقل والوں کے لیے اس میں جو نشانیاں اللہ نے رکھی تھیں وہ روزِ روشن کی طرح ظاہر ہو گئیں تاکہ آئندہ وہ ایسی نشانیوں سے مستفید ہوتے رہیں۔

سبحان اللہ! اس علامتی زبان کے اختیار کرنے سے واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت اور اپنی حکمت کو ان ہی باتوں میں جو انسان روز مرہ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں ظاہر کر دیتا ہے مگر انسان کا خیال اس پر قناعت نہیں کرتا اور دور از کار باتوں کو پسند کرتا ہے۔ افسوس کہ انسانی زندگی کے لیے کتنی راہنمائیاں تھیں جو صرف اس ایک واقعہ سے عیاں ہوتی ہیں اور کتنے وہ علوم ہیں جن کی بنیاد صرف اور صرف یہ واقعہ ہو سکتا ہے لیکن ہمارے بزرگوں نے ایسا اعجازی رنگ اس میں بھرا کہ یہ ایک واقعہ تھا جو ہو گیا اور اب ہمارے لیے صرف اتنا کافی ہے کہ اس کو واعظانہ رنگ کی چاشنی کے لیے بیان کریں اور لوگوں کو سر دھنتے دیکھیں یا مردوں کو بخشوانے کے لیے اس کی تلاوت کا ثواب ان کو پہنچاتے رہیں۔

خیال رہے کہ اس جگہ قرآنِ کریم کی آیات کی تفسیر بیان نہیں کی جا رہی بلکہ قرآنِ کریم میں علامتی زبان کی حقیقت و ماہیت بتائی جا رہی ہے۔ جن لوگوں نے اس زبان کی حقیقت کو سمجھا ہے اُنہوں نے قرآنِ کریم کے ان واقعات سے وہ کچھ سمجھا ہے جس پر عمل کر کے آج وہ لوگوں کو حیران و ششدر کر رہے ہیں اور ہمارے پاس سوائے الجھنے کے کچھ بھی باقی نہیں جس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔

اس واقعہ سے قبل قرآنِ کریم میں بنی اسرائیل کے بہت سے واقعات بیان کیے ہیں جیسے فرعون کے ظلم و ستم سے نجات دلانے کا واقعہ، ہجرت کے وقت سمندر سے بخریت پار گزرنے کا واقعہ، موسیٰ علیہ السلام کا کوہ طور پر جانے کا واقعہ، قوم بنی اسرائیل کا پانی طلب کرنے کا واقعہ، شہر میں داخل ہونے سے انکار کا واقعہ، بچھڑے کی پرستش کا واقعہ اور گائے کے ذبح کرنے کا واقعہ چونکہ اس واقعہ کے ساتھ ہی یہ قتل کا واقعہ بیان کیا گیا اس لیے مفسرین نے اس گائے کے بعض حصہ سے مقتول کے بعض حصہ کے مارنے یا (Touch) کرنے سے جوڑ دیا اس لیے قوم مسلم اس سے وہ سبق حاصل نہ کر سکی جو اقوامِ عالم نے اس سے حاصل کر لیا اور آج وہ ایسی ایسی باتوں کا کھوج لگانے میں کامیاب ہو چکے ہیں کہ ہم ان کو دیکھ اور سن کر حیران و ششدر ہیں اور ہمیں معلوم تک نہیں کہ یہ سب کچھ تو اُنہوں نے ہمارے ہی گھر سے لیا ہے اور ہمیں خبر تک نہیں ہونے دی۔

آج گائے کی پرستش کرنے والے ہمارے بیان کردہ اس واقعہ سے جیسا کہ ہماری تفاسیر میں درج ہے کہتے ہیں کہ اس طرح تو گویا گائے کی بزرگی روزِ روشن کی طرح واضح ہو گئی ہے کہ دیکھو ہم نے جو گائے کی پرستش کی اور گائے کو مبارک سمجھا اور متبرک جانا تو وہ بالکل صحیح نکلا کہ گائے کا ٹکڑا مقتول سے مس ہونا تھا کہ مقتول زندہ ہو گیا جس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ گائے فی الحقیقت ایک متبرک جانور ہے جو قابل پرستش ہے تب ہی تو اُس کے صرف (Touch) ہونے سے مردہ کی زندگی واپس لوٹ آئی، جب ذبح شدہ گائے میں یہ برکت ہے تو زندہ گائے کی برکت کیا ہونی چاہیے اس کا فیصلہ وہ مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ خود کر لی۔ فافہم فتدبر۔

6

’’الربوا‘‘ کا لفظ بھی قرآنِ کریم میں بطورِ علامت استعمال ہوا ہے۔ یہ لفظ تحریراً اور مفہوماً معجزانہ ہے۔ قرآنِ کریم میں صرف ایک مقام پر ’’رِبًا‘‘ کا تلفظ ہے اور اس سے مراد بھی ’’الربوا‘‘ نہیں جہاں ’’الربوا‘‘ کا لفظ تحریر ہوا ہے وہاں اس کی حرمت کا ذکر ہے گویا اس لفظ کی تحریر ’’الربوا‘‘ بالکل منفردانہ ہے۔ اس مخصوص حرمت کے علاوہ کتاب و سنت میں جہاں بھی لفظ تحریر ہوا ہے وہ ’’الربا‘‘ یا ’’ربا‘‘ کے رسم الخط سے تحریر ہوا ہے ’’الربوا‘‘ کے رسم الخط سے نہیں۔ قرآنِ کریم میں جس مقام پر بھی اس کی حرمت کا ذکر آیا ہے وہاں اس کی املا بھی مخصوص طور پر ’’الربوا‘‘ تحریر میں آئی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ قرآنِ کریم میں جہاں بھی یہ لفظ آیا ہے صدقہ و خیرات، قرضِ حسنہ، انفاق فی سبیل اللہ کے مقابلہ میں آیا ہے جس سے روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ’’وہ لوگ جو صدقہ و خیرات کے مستحق ہیں ان کو صدقہ و خیرات دینے کی بجائے بطورِ ادھار اضافہ کے ساتھ یا بغیر اضافہ کے جو چیز بھی دی جائے خواہ وہ روپیہ پیسہ ہو یا کوئی اور چیز وہ ’’الربوا‘‘ میں آئے گی‘‘ جس کو ہماری اردو زبان میں قرض کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے خواہ وہ نقود ہوں یا اجناس۔

قرآنِ کریم نے جب ’’الربوا‘‘ خوروں کو اس بری عادت سے روکا تو اُنہوں نے اس مخصوص قرض کو ’’البیع‘‘ کی مثل قرار دیا جن کو قرآنِ کریم نے نقد بنقد جواب سنا دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ’’البیع‘‘ کو حلال قرار دیا ہے اور ’’الربوا‘‘ کو حرام، گویا ان حرام خوروں نے ’’البیع‘‘ اور ’’الربوا‘‘ کو مثل یعنی مترادف بنایا لیکن اللہ رب کریم نے ان کو فوراً اُس وقت بتا دیا کہ یہ دونوں مثل یعنی مترادف نہیں بلکہ متضاد ہیں یہی وجہ ہے کہ ’’الربوا‘‘ کو بطور علامت قرآنِ کریم نے بیان کیا ہے جہاں بھی بیان کیا ہے۔

افسوس کہ اہل اسلام کے ذہن و دماغ میں ان ’’الربوا‘‘ خوروں کی بات اس طرح مرتسم ہو گئی کہ اُنہوں نے بھی ان کے بتائے ہوئے اس تعلق کو یعنی ’’البیع‘‘ کو ’’الربوا‘‘ سے متعلق سمجھ لیا اور کتب اسلام میں جہاں بھی اس کو بیان کیا بیع کے ساتھ ہی بیان کیا نتیجہ یہ ہوا کہ ’’الربوا‘‘ کی حرمت کو البیع کی حرمت کے ساتھ جوڑ دیا گویا جس طرح بیع کی بہت سی اقسام حرام ہیں ان اقسام میں بیع کی ایک قسم ’’الربوا‘‘ بھی ہے جو حرام ہے پھر اس کی وضاحت میں کہیں سے کہیں نکل گئے اور آج ’’الربوا‘‘ کے حرام ہونے کی اصل وجہ کسی کے ذہن میں موجود ہی نہ رہی۔

جب ضرورت نے لوگوں کو بینک بنانے پر مجبور کیا جو خالصتاً تجارتی ادارے ہیں ان کے لین دین کو بھی ’’الربوا‘‘ قرار دیا گیا اور اس طرح ’’الربوا‘‘ اُس کے اصل مقام سے اُٹھا کر ایسے مقام پر رکھ دیا جہاں اُس کے مٹنے کی کوئی صورت ہی نہ رہی کیونکہ ’’الربوا‘‘ کو مٹانے کے لیے قرآنِ کریم نے صدقات کو بڑھانے کا حکم دیا ہے اور یہ حکم اتنا پختہ ہے کہ اس کے علاوہ ’’الربوا‘‘ کو مٹایا جا ہی نہیں سکتا۔ اس سلسلہ میں اہل اسلام کے لیے سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ تھی کہ وہ دیکھتے کہ صدقات کیا ہیں؟ کیوں ہیں؟ اور وہ کن کو دیتے جاتے ہیں؟ اور ان کا دیا جانا کیوں ضروی ہے؟ ان کی کوئی مقدار اسلام نے مقرر نہیں کی، آخر کیوں؟

اس طرح کے بہت سے مزید سوال بھی اُٹھائے جا سکتے ہیں ان پر غور کیا جاتا اور ان صدقات کی حدود متعین کی جاتیں، ان کو قانوناً وصول کیا جاتا اور قانوناً صدقات کے حقداروں کو ان کا حق سمجھتے ہوئے پہنچایا جاتا اور ان کی تمام ضروریاتِ زندگی پوری کی جاتیں تو ایسا وقت یقیناًآ جاتا کہ ’’الربوا‘‘ اسلامی دنیا سے بھی مٹ جاتا۔

ہم دیکھ رہے ہیں کہ جو غیر اسلامی حکومتیں ہیں ان میں سے بعض نے ایسا کیا ہے کہ اپنے حکومتی دائرہ میں ان صدقات کو ٹیکس کا نام دے کر لوگوں سے قانوناً وصول کیا ہے اور اب وہی ٹیکس ملک کے ان باشندوں میں جو کسی وجہ سے کام نہیں کر سکتے یعنی کما نہیں سکتے ان پر باقاعدہ قانون کے تحت اُس کو تقسیم کر دیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان ممالک میں کوئی شخص ایسا نہیں رہا جس کو ضروریاتِ زندگی میسر نہ ہوں کیونکہ ان کی مکمل ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے اور حکومت اس کو پورا کر رہی ہے اور اس طرح انہوں نے اپنے ملکوں سے ’’الربوا‘‘ کو عملی طور پر ختم کر کے دکھا دیا ہے جس سے قرآنِ کریم کے اس حکم یَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقَاتِ کی صداقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو گئی ہے۔

مختصر یہ کہ ’’الربوا‘‘ کا لفظ قرآنِ کریم میں بطورِ علامت بیان ہوا ہے جس کی وضاحت خود قرآنِ کریم میں ایک سے زیادہ مقامات پر کر دی گئی ہے لیکن اہل اسلام نے اُس کو اس کے اصل مقام سے اُٹھا کر اور بطورِ علامت تسلیم نہ کر کے ایسی غلطی کی ہے جس کا کوئی حل اس وقت نظر نہیں آ رہا پھر جب تک اس کو اس کا اصل مقام نہیں دیا جائے گا اُس وقت تک اس کا مٹانا ناممکنات میں سے ہے تفصیل کے لیے بندہ کی کتاب ’’سود کیا ہے؟‘‘ کو دیکھا جا سکتا ہے۔

** عبدالکریم اثری
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"

Last edited by rana ammar mazhar; 11-12-11 at 10:43 AM..

rana ammar mazhar
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 225
Reply With Quote
پرانا 11-12-11, 10:25 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default قرآنِ کریم میں تمثیلی زبان کا استعمال PART TWO

PART TWO : قرآنِ کریم میں تمثیلی زبان کا استعمال

قرآنِ کریم میں جس طرح جگہ جگہ علامتی زبان استعمال کی گئی ہے بالکل اسی طرح جگہ جگہ مثال دے کر بات کو سمجھانے کی کوشش بھی کی گئی جس کو تمثیلی زبان سے موسوم کیا جاتا ہے۔ جس طرح علامتی زبان انسان کو کسی بھی بات کی حقیقت سمجھنے کے بالکل قریب لے جاتی ہے بالکل اسی طرح تمثیلی زبان بھی مفہوم سمجھنے میں بہت ممد و معاون ہوتی ہے۔ مثال میں جو کچھ بیان کیا گیا ہو ممثل میں وہ سب کچھ ہونا ضروری ہوتا ہے مثلاً قرآنِ کریم میں نبی اعظم و آخر ﷺ اور آپؐ کے ساتھیوں کی جو مثال بیان کی گئی ہے اُس کے متعلق یہ بھی بیان ہے کہ ان کی یہ مثال گذشتہ آسمانی کتابوں یعنی توراۃ و انجیل میں بھی بیان کی گئی ہے جس میں پہلی بات یہ ہے کہ وہ کفار کے مقابلہ میں بہت سخت ہیں یعنی کافر اگر اُن کو اپنی باتوں میں لانا چاہیں تو نہیں لا سکتے کفر یا کافروں کے مقابلہ میں سخت ہونے کا یہی مفہوم ہے کیونکہ ایمان اصولوں کا نام ہے گویا وہ اسلامی اصولوں کے اتنے پابند ہیں کہ کوئی ان کو اصولوں سے ہٹانا چاہے تو نہیں ہٹا سکتا۔

دوسری صفت اس مثال میں ان کی یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ آپس میں بہت رحیم و کریم ہیں گویا جس طرح وہ کفار کے مقابلہ میں پتھر کی چٹان کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی سختی جو کچھ بھی ہے وہ کفار کے مقابلہ میں ہے وہ اہل ایمان کے لیے نہایت نرم مزاج اور خوش خو، ہمدرد اور غم گسار ہیں گویا اصول اور مقصد کے اتحاد نے ان کے اندر ایک دوسرے کے لیے محبت، ہم رنگی و سازگاری پیدا کر دی ہے۔

علاوہ ازیں تمام صفات جو اپنے اندر رکھتے ہیں وہ ان میں ہر دن رات دیکھی جا سکتی ہیں کیونکہ وہ اللہ رب کریم کے سامنے رکوع و سجود میں بھی مصروف رہتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے متلاشی ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق کماتے اور خرچ کرتے ہیں۔ خدا ترس، کریم النفس اور حسن اخلاق کے تمام آثار ان پر ظاہر ہوتے ہیں چونکہ انسان کا چہرہ اللہ تعالیٰ نے ایک کھلی کتاب بنایا ہے اس لیے اس طرح کی تمام نشانیاں ان پر عیاں ہوتی ہیں اور اس طرح کی نشانیاں ان کی گذشتہ کتابوں یعنی توراۃ و انجیل میں بھی بیان کی گئی ہیں۔ باوجود اس کے کہ ان کتابوں میں تصحیف ہو چکی ہے آج بھی اس طرح کے الفاظ ان کتابوں میں دیکھے جا سکتے ہیں جیسا فرمایا گیا کہ:

’’خدا سینا سے آیا اور شعیر سے اُن پر آشکارا ہوا۔ وہ کوہ فاران سے جلوہ گر ہوا اور لاکھوں قدسیوں میں سے آیا اُس کے داہنے ہاتھ پر اُن کے لیے آتشیں شریعت ہے وہ بے شک قوموں سے محبت رکھتا ہے۔(استثناء۳۳:۲۱)

’’اور اُس نے کہا خدا کی بادشاہی ایسی ہے جیسے کوئی آدمی زمین میں بیج ڈالے۔ اور رات کو سوئے اور دن کو جاگے اور وہ بیج اس طرح اُگے اور بڑھے کہ وہ نہ جانے۔ زمین آپ سے آپ پھل لاتی ہے پہلے پتی پھر بالیں۔ پھر بالوں میں تیار دانے، پھر جب اناج پک چکا تو وہ فی الفور درانتی لگاتا ہے کیونکہ کاٹنے کا وقت آ پہنچا۔ پھر اُس نے کہا کہ ہم خدا کی بادشاہی کو کس سے تشبیہ دیں اور کس تمثیل میں اُسے بیان کریں؟ وہ رائی کے دانے کی مانند ہے کہ جب زمین میں بویا جاتا ہے تو زمین کے سب بیجوں سے چھوٹا ہوتا ہے۔ مگر جب بو دیا گیا تو اُگ کر سب ترکاریوں سے بڑا ہو جاتا ہے اور بڑی ڈالیاں نکالتا ہے کہ ہوا کے پرندے اُس کے سایہ میں بسیرا کر سکتے ہیں‘‘۔ (مرقس باب ۱۴:۲۶ تا۳۲)

’’پھر اُس نے ایک اور تمثیل ان کے سامنے پیش کر کے کہا کہ آسمان کی بادشاہی اُس رائی کے دانے کی مانند ہے جسے کسی آدمی نے لے کر اپنے کھیت میں بو دیا۔ وہ سب بیجوں سے چھوٹا تو ہے مگر جب بڑھتا ہے تو سب ترکاریوں سے بڑا اور ایسا درخت ہو جاتا ہے کہ ہوا کے پرندے آ کر اُس کی ڈالیوں پر بسیرا کرتے ہیں‘‘۔ (متی باب ۱۳:۳۱،۳۲)

اب قرآنِ کریم کی اس آیت کو بغور پڑھو جس کے متعلق تمثیلی زبان میں آپ تورات کتاب استثناء میں اور انجیل کی کتاب مرقس اور انجیل متی میں دیکھ چکے ۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے کہ:

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ط وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَھُمْ تَرٰھُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا سِیْمَاھُمْ فِیْ وُجُوْھِھِمْ مِنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ ذٰلِکَ مَثَلُھُمْ فِی التَّوْرٰۃِ وَمَثَلُھُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ کَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْءَہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوْقِہٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِھِمُ الْکُفَّارُ ط وَعَدَاللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْھُمْ مَغْفِرَۃً وَّاَجْرًا عَظِیْمًاo (۴۸:۲۹)

’’محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپؐ کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے مقابلہ میں بہت سخت ہیں لیکن آپس میں رحم دل، تو دیکھتا ہے کہ وہ رکوع میں اور کبھی سجدے میں ہوتے ہیں اور ان کے یہ اوصاف تورات و انجیل میں بھی بیان ہوئے ہیں۔ اُن کی مثال ایک کھیتی کی مانند ہے کہ اُس نے انگوری نکالی پھر وہ مضبوط ہو گئی اور موٹی ہو گئی پھر اپنے بل پر کھڑی ہو گئی وہ کاشتکاروں کو بھی بھلی معلوم ہونے لگی تاکہ کافروں کا جی جلے، اللہ نے اُن لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے۔‘‘

اسی طرح آپؐ اور آپؐ کے ساتھیوں کی جو مثال تورات و انجیل میں بیان ہوئی ہے اُس کو قرآنِ کریم نے بھی مثال ہی سے بیان کیا۔ قابل غور بات تو یہ ہے کہ آج ہم کو اس مثال کے مطابق اپنا تجزیہ کرنا چاہیے کہ ہم اس مثال کے کتنا قریب ہیں؟ اور کیا ہم ان اوصاف سے متصف ہیں؟ اگر نہیں تو اپنی اصلاح کریں تاکہ یہ مثال ہم پر منطبق ہو جائے لیکن افسوس کہ ہم گذشتہ لوگوں کی بحث میں مبتلا ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ آپؐ کے دور کے کن لوگوں پر یہ مثال منطبق ہوتی ہے اور کن لوگوں پر نہیں، گویا ہم آپؐ کے ساتھیوں میں نہیں۔ اس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔

1۔ قرآنِ کریم میں گمراہوں، مفسدوں اور منافقوں کے لیے جو مثال دی ہے وہ اس طرح ہے کہ:

’’ان لوگوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی نے سخت تاریکی میں روشنی کے لیے آگ سلگائی ہو جس کے شعلوں سے اُس کا آس پاس روشن ہو گیا تو قدرتِ الٰہی سے اُس کے شعلے بجھ گئے اور پھر اندھیرا چھا گیا اور اُس کی آنکھیں چندھیا کر رہ گئیں کہ کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا۔ گویا وہ گونگے، بہرے اور اندھے ہو کر رہ گئے، وہ کبھی نہیں لوٹ سکتے۔‘‘ (۲:۱۷،۱۸)

2۔ ایسے لوگوں کی دوسری مثال اس طرح دی گئی کہ:

’’یا اُن کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے پانی کا برسنا ہے کہ اس کے ساتھ کالی گھٹائیں، بادلوں کی گرج اور بجلی کی چمک ہوتی ہے، بادل جب زور سے گرجتے ہیں تو موت کا ڈر انہیں دہلا دیتا ہے تو اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونسنے لگتے ہیں اور اللہ کا قانون منکروں کو گھیرے ہوئے ہے۔ پھر جب بجلی زور سے چمکتی ہے تو قریب ہے کہ ان کی بینائی اچک لے، اس کی چمک سے جب فضا روشن ہو جاتی ہے تو وہ چار قدم چل لیتے ہیں اور جب اندھیرا چھا جاتا ہے تو پھر رک جاتے ہیں، اگر اللہ چاہے تو یہ لوگ بالکل بہرے، اندھے ہو کر رہ جائیں اور اللہ یقیناًہر بات کے لیے ایک اندازہ مقرر کرنے والا ہے۔‘‘ (۲:۱۹،۲۰)

3۔ کافروں کی مثال اس طرح بیان کی گئی ہے کہ:

’’اور جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چرواہا چارپایوں کے پیچھے چیختا چلاتا ہے اور چارپائے کبھی بھی نہیں سنتے مگر صرف بلانے اور پکارنے کی صدائیں، وہ بہرے، گونگے، اندھے ہو کر رہ گئے پس کبھی سوچنے سمجھنے والے نہیں‘‘۔ (۲:۱۷۱)

4۔ صرف دعویٰ ایمان کے بعد جنت مانگنے والوں کو گذشتہ لوگوں کی مثال کی طرف توجہ اس طرح دلائی گئی کہ:

’’تعجب ہے کہ تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ محض ایمانی دعویٰ سے تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے؟ حالانکہ ابھی تم کو وہ آزمائشیں تو پیش ہی نہیں آئیں جو تم سے پہلے لوگوں کو پیش آ چکی ہیں، ہر طرح کی سختیاں اور محنتیں انہیں پیش آئیں، شدتوں اور ہولناکیوں سے ان کے دل دہل گئے یہاں تک کہ اللہ کا رسول اور جو لوگ ایمان لائے تھے پکار اُٹھے (مومنوں نے کہا) اے نصرتِ الٰہی تیرا وقت کب آئے گا؟ (رسول نے کہا) گھبراؤ نہیں اللہ کی نصرت تم سے دور نہیں‘‘۔ (۲:۲۱۴)

5۔ فی سبیل اللہ خرچ کرنے والوں کی مثال اس طرح بیان فرمائی گئی:

’’جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں اُن کی اس نیکی کی مثال اُس بیج کے دانے کی سی ہے جو زمین میں بویا جاتا ہے اُس ایک دانہ سے سات بالیاں پیدا ہو گئیں ا ور ہر بالی میں سو سو دانے نکل آئے اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے اس سے بھی دوگنا کر دیتا ہے وہ بہت ہی وسعت رکھنے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘ (۲:۲۶۱)

6۔ دکھاوے کے لیے مال خرچ کرنے والوں کی مثال اس طرح بیان کی گئی:

’’جو دکھاوے کے لیے مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے پتھر کی چٹان جس پر مٹی کی ایک تہہ جم گئی ہو اور اس پر اُس نے بیج بو دیا ہو، جب زوردار بارش برسے تو ساری مٹی مع بیج بہ جائے اور ایک صاف چٹان کے سوا کچھ باقی نہ رہے، جو کچھ بھی خرچ کیا تھا سب رائیگاں کر دیا، اللہ ان لوگوں پر سعادت کی راہ نہیں کھولتا جو کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں۔‘‘ (۲:۲۶۴)

7۔ جب لوگ دلجمعی کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی ایک مثال اس طرح بھی بیان فرمائی گئی:

’’ہاں! جو لوگ اپنا مال صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں اور اس بات پر ان کے دل جم چکے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اونچی زمین پر اُگایا ہوا باغ ہو کہ اس پر پانی برسے تو پھل پھول پیدا ہو جائیں اور اگر زور سے پانی نہ برسے تو ہلکی بوندیں بھی اسے شاداب کر دینے کے لیے کافی ہوں اور یاد رکھو کہ تم جو کچھ بھی کرتے ہو وہ اللہ کی نظر سے پوشیدہ نہیں ہے۔‘‘ (۲:۲۶۵)

8۔ نصاریٰ یعنی مسیحی عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں ان کو عیسیٰ علیہ السلام کی مثال آدم علیہ السلام سے دے کر بتایا گیا ہے کہ بتاؤ آدم جو مٹی سے بنایا گیا وہ اللہ ہو سکتا ہے۔ اگر نہیں تو عیسیٰ جو آدم کی اولاد سے ہونے کے باعث مٹی سے بنایا گیا کیسے اللہ کا بیٹا ہو سکتا ہے؟

’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو عیسیٰ ایسا ہی ہے جیسا آدم کہ اُس کو مٹی سے پیدا کیا اور حکم دیا کہ ہو جا پس وہ ہو گیا (جیسا کہ ہر چیز کلمہ کن سے پیدا ہوئی) ایسے ہی عیسیٰ بھی کلمہ کن سے پیدا ہوا (تم بتاؤ کون ہے جو کلمہ کن سے پیدا نہیں ہوا؟)۔‘‘ (۳:۵۹)

9۔ ان لوگوں کی مثال جو محض دنیوی نمود و نمائش میں خرچ کرتے ہیں:

’’دنیا کی نمود و نمائش کیلئے یہ لوگ جو کچھ بھی خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ایسی ہے جیسے اس ہوا کا چلنا جس کے ساتھ سردی کی لہر شامل ہو، پھر ایک گروہ نے جو محنت و مشقت برداشت کر کے ایک کھیت تیار کیا لیکن اس سردی کی لہر سے سارا کھیت برباد ہو کر رہ جائے، ہاں! اس طرح جو کچھ ان کو پیش آیا تو اس لیے نہیں کہ اللہ نے ان پر ظلم کیا ہو بلکہ یہ خود اپنے ہاتھوں اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں۔‘‘ (۳:۱۱۷)

10۔ ان لوگوں کی مثال جو سب کچھ جاننے کے باوجود دنیا کمانے کے لیے بدعملیاں کرتے ہیں ان کی مثال اس طرح بیان فرمائی گئی:

’’اور ان لوگوں کو اس شخص کاحال پڑھ کر سناؤ جسے ہم نے اپنی نشانیاں دی تھیں لیکن اس نے پھر وہ جامہ اتار دیا پس شیطان اُس کے پیچھے لگا جس کے نتیجہ میں وہ گمراہوں سے ہو گیا۔ اگر ہم اپنے قانون کے مطابق چاہتے تو ان نشانیوں کے ذریعہ اس کا مرتبہ بلند کرتے اور وہ (دلائل حق کا جو علم اُس کو دیا تھا اُس پر قائم رہتا) مگر وہ پستی کی طرف جھک گیا اور ہوائے نفس کی پیروی کی تو اُس کی مثال اُس کتے کی سی ہو گئی کہ اُس کو مشقت میں ڈالو جب بھی ہانپے اور زبان لٹکائے اور اگر چھوڑ دو جب بھی ایسا ہی کرے، ایسی ہی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری نشانیاں جھٹلائیں، پس یہ حکایتیں لوگوں کو سنائیں تاکہ وہ ان میں غور و فکر کریں۔ کیا ہی بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے ہماری نشانیاں جھٹلائیں اور وہ اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کرتے رہے۔‘‘ (۷:۱۷۵ تا ۱۷۷)

11۔ دنیا کی زندگی کی مثال جس میں آخرت کا تصور ہی موجود نہ ہو قرآنِ کریم نے اس طرح بیان فرمائی ہے کہ:

’’دنیا کی زندگی کی مثال تو بس ایسی ہے جیسے یہ معاملہ کہ آسمان سے ہم نے پانی برسایا اور زمین کی نباتات جو انسانوں اور چارپایوں کے لیے غذا کا کام دیتی ہے اس سے شاداب ہو کر پھلی پھولیں اور ایک دوسرے سے مل گئیں پھر جب وہ وقت آیا کہ زمین نے اپنے سارے زیور پہن لیے اور خوش نما ہو گئی اور زمین کے مالک سمجھے کہ اب فصل ہمارے قابو میں آ گئی ہے تو اچانک ہمارا حکم دن کے وقت یا رات کے وقت آ نمودار ہوا اور ہم نے زمین کی ساری فصل اسی طرح بیخ و بن سے کاٹ کر رکھ دی گویا ایک دن پہلے تک اس کا نام و نشان ہی نہ تھا اس طرح ہم دلیلیں کھول کھول کر بیان کر دیتے ہیں تو محض اس لیے کہ لوگ غور و فکر کر لیں۔‘‘ (۱۰:۲۴)

12۔ ایمان اور کفر کی مثال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ بتاؤ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ مطلب یہ ہے کہ برابر نہیں ہو سکتے:

’’ان دو فریقوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اندھا، بہرا اور ایک دیکھنے والا اور سننے والا، پھر بتاؤ کیا دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ کیا تم غور و فکر نہیں کرتے؟‘‘ (۱۱:۲۴)

13۔ اللہ رب کریم کا انکار کرنے والوں کے اعمال کی مثال اس طرح بیان کی:

’’اُن کی مثال ایسی ہے جیسے راکھ کا ڈھیر کہ آندھی کے دن ہوا لے اُڑے جو کچھ انہوں نے کمایا ہے اس میں سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہ آئے گا، یہی گمراہی کی حالت ہے جو بڑی ہی گہری گمراہی ہے۔‘‘ (۱۴:۱۸)

14۔ انسان کی اچھی اور بری باتوں کی مثال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:

’’کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ نے کس طرح ایک مثال بیان کی؟ ایک اچھی بات کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھا درخت کہ جڑ اس کی جمی ہوئی ہو اور ٹہنیاں آسمان تک پھیلی ہوئی ہوں وہ اپنے رب کے حکم سے ہر وقت پھل پیدا کرتا رہتا ہو، اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ سوچیں اور سمجھیں۔ اور نکمی بات کی مثال کیا ہے؟ ایسے جیسے ایک نکما درخت، زمین کی سطح پر اس کی جڑ کھوکھلی، جب چاہا اُکھاڑ پھینکا، اس لیے کہ اس کے لیے جماؤ نہیں ہے۔‘‘ (۱۴:۲۴تا۲۶)

15۔ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کی مثال اس طرح بیان فرمائی گئی ہے کہ:

’’اور انہیں فقط دنیا کی زندگی چاہنے والوں کی مثال سنا دو، اس کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے ہم نے پانی برسایا اور زمین کی روئیدگی اس سے مل جل کر اُبھر آئی، پھر سب کچھ سوکھ کر چورا چورا ہو گیا، ہوا کے جھونکوں نے اسے اُڑا کر منتشر کر دیا ہو، آخر کونسی بات ہے جس کے کرنے پر اللہ قادر نہیں۔ مال و دولت اور آل و اولاد دنیوی زندگی کی دلفریبیاں ہیں اور جو نیکیاں باقی رہنے والی ہیں تو وہی تمہارے پروردگار کے نزدیک بہ اعتبارِ ثواب بہتر ہیں اور یہی ہیں جن کے نتائج سے بہتر امید رکھی جا سکتی ہے۔‘‘ (۱۸:۴۵،۴۶)

16۔ اللہ وہ ذات ہے جس کے لیے کوئی مثال نہیں بیان کی جا سکتی ہاں! تفہیم کے لیے اُس کے مخلوق نور کی مثال اس طرح بیان کی جاتی ہے جو نور روشنی کے لیے اُس نے بنایا ہے سو اس کو دھیان سے سن لو چنانچہ ارشاد ہوتا ہے کہ:

’’اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اُس کے نور کی مثال ایسے طاق جیسی ہے جس میں ایک چراغ روشن ہو اور وہ روشن چراغ ایک فانوس میں ہو اور وہ فانوس گویا موتی کی طرح چمکتا ہوا ایک ستارہ ہے، وہ چراغ کہ شجر مبارکہ زیتون کے تیل سے روشن کیا گیا ہے جو نہ مشرق کے رخ واقع ہے اور نہ مغرب کے رُخ اس کا تیل اتنا لطیف ہے کہ اگر اس کو آگ نہ بھی چھوئے تو بھڑک پڑے اور فضاؤں کو منور کر دے وہ نور پر نور ہے اللہ جس کو چاہتا ہے اپنے قانون کے مطابق اپنے نور کی راہ دکھاتا ہے اور اللہ لوگوں کو سمجھانے کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ہے۔‘‘ (۲۴:۳۵)

17۔ جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر یا اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی اپنا کارساز بناتے ہیں اُن کی مثال اس طرح بیان کی جاتی ہے:

’’جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں اُن کی مثال مکڑے کی سی ہے جس نے گھر بنایا اور بلاشبہ تمام گھروں میں سب سے کمزور مکڑے کا گھر ہے، کاش وہ اس مثال پر غور کرتے اور اس کی حقیقت کو سمجھتے۔ بلاشبہ وہ جس چیز کو بھی اللہ کے سوا پکارتے ہیں اللہ اُسے جانتا ہے وہ بڑے غلبہ والا اور حکمت والا ہے اور یہ مثالیں جن کو ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں اور ان کو وہی سمجھتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔‘‘ (۳۹:۳۱،۳۲)

18۔ لوگوں کے لیے ان کی روز مرہ زندگی کے حالات میں سے ایک مثال بیان کی گئی ہے کہ تمہارے ملازم اور لونڈی غلام بھی تمہارے جیسے انسان ہیں لیکن جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کا ڈر رکھتے ہو کیا ان سے بھی ڈرتے ہو، نہیں، تو آخر کیوں؟ اس لیے کہ وہ تمہارے ساتھ تمہارے مالوں میں شریک نہیں ہیں۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے کہ:

’’تمہارے لیے تمہارے روز مرہ حالات میں سے ایک مثال بیان کی جاتی ہے تم بتاؤ تمہارے غلاموں (ملازموں) میں سے کوئی تمہارا اس مال و دولت میں شریک ہے جو ہم نے تم کو دیا ہے حالانکہ تم سب اس کے کمانے میں برابر کے شریک ہو کیا تم ان غلاموں (ملازموں) سے بھی ڈرتے ہو جیسے تم اپنوں سے ڈرتے ہو اور اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کھول کر ان لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔‘‘ (۳۰:۲۸)

19۔ ایسی زندگی جو محض دنیا کی زندگی ہے جس میں آخرت کا تصور موجود نہ ہو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کھیل و تماشا ہے یا ایسی ہے کہ کھیتی پکی اور کاٹ لی گئی پھر نئی کی تیاری شروع ہو گئی اس طرح گویا زندگی کی فصل بھی کٹ گئی اور آخرت کے لیے کچھ باقی نہ رہا چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے:

’’جان لو کہ دنیوی زندگی محض کھیل، تماشا اور آرائش ہے اور آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنا اور کثرت سے مال اور اولاد کا حصول ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے بارش کہ اس سے کھیتی اُگتی ہے جو کسانوں کو اچھی معلوم ہوتی ہے پھر وہ خوب زور پر آتی ہے اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور اللہ کی طرف سے مغفرت اور خوشنودی ہے ورنہ دنیا کی زندگی تو دھوکا ہی دھوکا ہے۔‘‘ (۵۷:۲۰)

20۔ ان لوگوں کی مثال جن کو تورات دی گئی لیکن اُنہوں نے اس کے علم سے کچھ فائدہ حاصل نہ کیا محض اُس کو اس طرح اُٹھایا رکھا جیسے گدھا کسی بوجھ کو اُٹھاتا ہے یہ اُن لوگوں کی مثال ہے جو علمائے یہود تھے اور اس مثال کے بیان کا مقصد یہ ہے کہ علمائے اسلام اس سے سبق حاصل کریں لیکن جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہر آنکھ دیکھ رہی ہے اور ہر کان سن رہا ہے چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے:

’’ان لوگوں کی مثال جن کو تورات پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا، پھر اُنہوں نے اس پر عمل نہیں کیا ایک گدھے کی طرح ہے جس پر بہت سی کتابیں لاد رکھی ہوں، کیسی بری مثال ہے اس قوم کی جس نے اللہ رب کریم کی نشانیوں کو جھٹلایا اور قانونِ الٰہی یہی ہے کہ اللہ ایسے ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ (۶۲:۵)

قرآنِ کریم سے اس جگہ صرف بیس مقامات کا فقط ذکر کیا ہے تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ قرآنِ کریم میں تمثیلی زبان بھی کثرت سے استعمال کی گئی ہے اور جہاں بھی تمثیل بیان کی ہے اصل مضمون کو اُس نے مختصر سے مختصر الفاظ میں روزِ روشن کی طرح واضح کر دیا ہے تفصیل کے لیے ان مقامات کی تفسیر کی طرف مراجعت کی جا سکتی ہے اور تفسیر عروۃ الوثقیٰ میں ان امثلہ کی مکمل وضاحت بندہ نے کر دی ہے۔

زیر نظر مضمون میں قرآنِ کریم میں علامتی زبان کی حقیقت و ماہیت کے پیش نظر صرف چھ طرح کے الفاظ زیر بحث لائے ہیں حالانکہ قرآنِ کریم میں بے شمار ایسے الفاظ بیان ہوئے ہیں جو قرآنِ کریم میں علامتی زبان پر دلالت کرتے ہیں اور اس طرح تمثیلی زبان کے لیے بھی مشتے از خروارے عرض کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ قرآنِ کریم کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نوری ہے نہ ناری ہے
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کتابوں, پھول, قدم, لوگ, نظر, مکمل, موت, مقابلہ, معلوم, آج, آدمی, ایمان, اللہ, انسان, اسلامی, حکم, حسن, خوش, خدا, دُعا, رات, زندگی, عیسیٰ, عقل, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کابل کا سفارتی علاقہ 19 گھنٹے میدان جنگ بنا رہا، خودکش دھماکے، جھڑپ میں حملہ آوروں سمیت 14 ہلاک گلاب خان خبریں 1 15-09-11 07:07 AM
انا ہزارے جیت گئے، بھارتی پارلیمنٹ نے لوک پال بل میں ترمیم کی قرارداد منظور کرلی گلاب خان خبریں 4 29-08-11 02:56 AM
ریمنڈ کے معاملہ پر سفارتی برادری امریکا کی حمایت نہیں کررہی گلاب خان خبریں 2 14-02-11 09:56 AM
مُلائیت کی طبقاتی جان ،خرد دشمنی اور جہالت کے طوطے میں ہے shafresha عمومی بحث 38 16-07-10 07:13 AM
مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کی جارحیت ۔3کشیمری شہید جاویداسد خبریں 0 07-07-10 07:03 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:07 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger