| علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 225
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,603
کمائي: 17,608
شکریہ: 6,996
953 مراسلہ میں 1,567 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
PART TWO : قرآنِ کریم میں تمثیلی زبان کا استعمال
قرآنِ کریم میں جس طرح جگہ جگہ علامتی زبان استعمال کی گئی ہے بالکل اسی طرح جگہ جگہ مثال دے کر بات کو سمجھانے کی کوشش بھی کی گئی جس کو تمثیلی زبان سے موسوم کیا جاتا ہے۔ جس طرح علامتی زبان انسان کو کسی بھی بات کی حقیقت سمجھنے کے بالکل قریب لے جاتی ہے بالکل اسی طرح تمثیلی زبان بھی مفہوم سمجھنے میں بہت ممد و معاون ہوتی ہے۔ مثال میں جو کچھ بیان کیا گیا ہو ممثل میں وہ سب کچھ ہونا ضروری ہوتا ہے مثلاً قرآنِ کریم میں نبی اعظم و آخر ﷺ اور آپؐ کے ساتھیوں کی جو مثال بیان کی گئی ہے اُس کے متعلق یہ بھی بیان ہے کہ ان کی یہ مثال گذشتہ آسمانی کتابوں یعنی توراۃ و انجیل میں بھی بیان کی گئی ہے جس میں پہلی بات یہ ہے کہ وہ کفار کے مقابلہ میں بہت سخت ہیں یعنی کافر اگر اُن کو اپنی باتوں میں لانا چاہیں تو نہیں لا سکتے کفر یا کافروں کے مقابلہ میں سخت ہونے کا یہی مفہوم ہے کیونکہ ایمان اصولوں کا نام ہے گویا وہ اسلامی اصولوں کے اتنے پابند ہیں کہ کوئی ان کو اصولوں سے ہٹانا چاہے تو نہیں ہٹا سکتا۔ دوسری صفت اس مثال میں ان کی یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ آپس میں بہت رحیم و کریم ہیں گویا جس طرح وہ کفار کے مقابلہ میں پتھر کی چٹان کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی سختی جو کچھ بھی ہے وہ کفار کے مقابلہ میں ہے وہ اہل ایمان کے لیے نہایت نرم مزاج اور خوش خو، ہمدرد اور غم گسار ہیں گویا اصول اور مقصد کے اتحاد نے ان کے اندر ایک دوسرے کے لیے محبت، ہم رنگی و سازگاری پیدا کر دی ہے۔ علاوہ ازیں تمام صفات جو اپنے اندر رکھتے ہیں وہ ان میں ہر دن رات دیکھی جا سکتی ہیں کیونکہ وہ اللہ رب کریم کے سامنے رکوع و سجود میں بھی مصروف رہتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے متلاشی ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق کماتے اور خرچ کرتے ہیں۔ خدا ترس، کریم النفس اور حسن اخلاق کے تمام آثار ان پر ظاہر ہوتے ہیں چونکہ انسان کا چہرہ اللہ تعالیٰ نے ایک کھلی کتاب بنایا ہے اس لیے اس طرح کی تمام نشانیاں ان پر عیاں ہوتی ہیں اور اس طرح کی نشانیاں ان کی گذشتہ کتابوں یعنی توراۃ و انجیل میں بھی بیان کی گئی ہیں۔ باوجود اس کے کہ ان کتابوں میں تصحیف ہو چکی ہے آج بھی اس طرح کے الفاظ ان کتابوں میں دیکھے جا سکتے ہیں جیسا فرمایا گیا کہ: ’’خدا سینا سے آیا اور شعیر سے اُن پر آشکارا ہوا۔ وہ کوہ فاران سے جلوہ گر ہوا اور لاکھوں قدسیوں میں سے آیا اُس کے داہنے ہاتھ پر اُن کے لیے آتشیں شریعت ہے وہ بے شک قوموں سے محبت رکھتا ہے۔(استثناء۳۳:۲۱) ’’اور اُس نے کہا خدا کی بادشاہی ایسی ہے جیسے کوئی آدمی زمین میں بیج ڈالے۔ اور رات کو سوئے اور دن کو جاگے اور وہ بیج اس طرح اُگے اور بڑھے کہ وہ نہ جانے۔ زمین آپ سے آپ پھل لاتی ہے پہلے پتی پھر بالیں۔ پھر بالوں میں تیار دانے، پھر جب اناج پک چکا تو وہ فی الفور درانتی لگاتا ہے کیونکہ کاٹنے کا وقت آ پہنچا۔ پھر اُس نے کہا کہ ہم خدا کی بادشاہی کو کس سے تشبیہ دیں اور کس تمثیل میں اُسے بیان کریں؟ وہ رائی کے دانے کی مانند ہے کہ جب زمین میں بویا جاتا ہے تو زمین کے سب بیجوں سے چھوٹا ہوتا ہے۔ مگر جب بو دیا گیا تو اُگ کر سب ترکاریوں سے بڑا ہو جاتا ہے اور بڑی ڈالیاں نکالتا ہے کہ ہوا کے پرندے اُس کے سایہ میں بسیرا کر سکتے ہیں‘‘۔ (مرقس باب ۱۴:۲۶ تا۳۲) ’’پھر اُس نے ایک اور تمثیل ان کے سامنے پیش کر کے کہا کہ آسمان کی بادشاہی اُس رائی کے دانے کی مانند ہے جسے کسی آدمی نے لے کر اپنے کھیت میں بو دیا۔ وہ سب بیجوں سے چھوٹا تو ہے مگر جب بڑھتا ہے تو سب ترکاریوں سے بڑا اور ایسا درخت ہو جاتا ہے کہ ہوا کے پرندے آ کر اُس کی ڈالیوں پر بسیرا کرتے ہیں‘‘۔ (متی باب ۱۳:۳۱،۳۲) اب قرآنِ کریم کی اس آیت کو بغور پڑھو جس کے متعلق تمثیلی زبان میں آپ تورات کتاب استثناء میں اور انجیل کی کتاب مرقس اور انجیل متی میں دیکھ چکے ۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے کہ: مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ط وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَھُمْ تَرٰھُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا سِیْمَاھُمْ فِیْ وُجُوْھِھِمْ مِنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ ذٰلِکَ مَثَلُھُمْ فِی التَّوْرٰۃِ وَمَثَلُھُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ کَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْءَہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوْقِہٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِھِمُ الْکُفَّارُ ط وَعَدَاللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْھُمْ مَغْفِرَۃً وَّاَجْرًا عَظِیْمًاo (۴۸:۲۹) ’’محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپؐ کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے مقابلہ میں بہت سخت ہیں لیکن آپس میں رحم دل، تو دیکھتا ہے کہ وہ رکوع میں اور کبھی سجدے میں ہوتے ہیں اور ان کے یہ اوصاف تورات و انجیل میں بھی بیان ہوئے ہیں۔ اُن کی مثال ایک کھیتی کی مانند ہے کہ اُس نے انگوری نکالی پھر وہ مضبوط ہو گئی اور موٹی ہو گئی پھر اپنے بل پر کھڑی ہو گئی وہ کاشتکاروں کو بھی بھلی معلوم ہونے لگی تاکہ کافروں کا جی جلے، اللہ نے اُن لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے۔‘‘ اسی طرح آپؐ اور آپؐ کے ساتھیوں کی جو مثال تورات و انجیل میں بیان ہوئی ہے اُس کو قرآنِ کریم نے بھی مثال ہی سے بیان کیا۔ قابل غور بات تو یہ ہے کہ آج ہم کو اس مثال کے مطابق اپنا تجزیہ کرنا چاہیے کہ ہم اس مثال کے کتنا قریب ہیں؟ اور کیا ہم ان اوصاف سے متصف ہیں؟ اگر نہیں تو اپنی اصلاح کریں تاکہ یہ مثال ہم پر منطبق ہو جائے لیکن افسوس کہ ہم گذشتہ لوگوں کی بحث میں مبتلا ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ آپؐ کے دور کے کن لوگوں پر یہ مثال منطبق ہوتی ہے اور کن لوگوں پر نہیں، گویا ہم آپؐ کے ساتھیوں میں نہیں۔ اس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ 1۔ قرآنِ کریم میں گمراہوں، مفسدوں اور منافقوں کے لیے جو مثال دی ہے وہ اس طرح ہے کہ: ’’ان لوگوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی نے سخت تاریکی میں روشنی کے لیے آگ سلگائی ہو جس کے شعلوں سے اُس کا آس پاس روشن ہو گیا تو قدرتِ الٰہی سے اُس کے شعلے بجھ گئے اور پھر اندھیرا چھا گیا اور اُس کی آنکھیں چندھیا کر رہ گئیں کہ کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا۔ گویا وہ گونگے، بہرے اور اندھے ہو کر رہ گئے، وہ کبھی نہیں لوٹ سکتے۔‘‘ (۲:۱۷،۱۸) 2۔ ایسے لوگوں کی دوسری مثال اس طرح دی گئی کہ: ’’یا اُن کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے پانی کا برسنا ہے کہ اس کے ساتھ کالی گھٹائیں، بادلوں کی گرج اور بجلی کی چمک ہوتی ہے، بادل جب زور سے گرجتے ہیں تو موت کا ڈر انہیں دہلا دیتا ہے تو اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونسنے لگتے ہیں اور اللہ کا قانون منکروں کو گھیرے ہوئے ہے۔ پھر جب بجلی زور سے چمکتی ہے تو قریب ہے کہ ان کی بینائی اچک لے، اس کی چمک سے جب فضا روشن ہو جاتی ہے تو وہ چار قدم چل لیتے ہیں اور جب اندھیرا چھا جاتا ہے تو پھر رک جاتے ہیں، اگر اللہ چاہے تو یہ لوگ بالکل بہرے، اندھے ہو کر رہ جائیں اور اللہ یقیناًہر بات کے لیے ایک اندازہ مقرر کرنے والا ہے۔‘‘ (۲:۱۹،۲۰) 3۔ کافروں کی مثال اس طرح بیان کی گئی ہے کہ: ’’اور جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چرواہا چارپایوں کے پیچھے چیختا چلاتا ہے اور چارپائے کبھی بھی نہیں سنتے مگر صرف بلانے اور پکارنے کی صدائیں، وہ بہرے، گونگے، اندھے ہو کر رہ گئے پس کبھی سوچنے سمجھنے والے نہیں‘‘۔ (۲:۱۷۱) 4۔ صرف دعویٰ ایمان کے بعد جنت مانگنے والوں کو گذشتہ لوگوں کی مثال کی طرف توجہ اس طرح دلائی گئی کہ: ’’تعجب ہے کہ تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ محض ایمانی دعویٰ سے تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے؟ حالانکہ ابھی تم کو وہ آزمائشیں تو پیش ہی نہیں آئیں جو تم سے پہلے لوگوں کو پیش آ چکی ہیں، ہر طرح کی سختیاں اور محنتیں انہیں پیش آئیں، شدتوں اور ہولناکیوں سے ان کے دل دہل گئے یہاں تک کہ اللہ کا رسول اور جو لوگ ایمان لائے تھے پکار اُٹھے (مومنوں نے کہا) اے نصرتِ الٰہی تیرا وقت کب آئے گا؟ (رسول نے کہا) گھبراؤ نہیں اللہ کی نصرت تم سے دور نہیں‘‘۔ (۲:۲۱۴) 5۔ فی سبیل اللہ خرچ کرنے والوں کی مثال اس طرح بیان فرمائی گئی: ’’جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں اُن کی اس نیکی کی مثال اُس بیج کے دانے کی سی ہے جو زمین میں بویا جاتا ہے اُس ایک دانہ سے سات بالیاں پیدا ہو گئیں ا ور ہر بالی میں سو سو دانے نکل آئے اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے اس سے بھی دوگنا کر دیتا ہے وہ بہت ہی وسعت رکھنے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘ (۲:۲۶۱) 6۔ دکھاوے کے لیے مال خرچ کرنے والوں کی مثال اس طرح بیان کی گئی: ’’جو دکھاوے کے لیے مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے پتھر کی چٹان جس پر مٹی کی ایک تہہ جم گئی ہو اور اس پر اُس نے بیج بو دیا ہو، جب زوردار بارش برسے تو ساری مٹی مع بیج بہ جائے اور ایک صاف چٹان کے سوا کچھ باقی نہ رہے، جو کچھ بھی خرچ کیا تھا سب رائیگاں کر دیا، اللہ ان لوگوں پر سعادت کی راہ نہیں کھولتا جو کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں۔‘‘ (۲:۲۶۴) 7۔ جب لوگ دلجمعی کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی ایک مثال اس طرح بھی بیان فرمائی گئی: ’’ہاں! جو لوگ اپنا مال صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں اور اس بات پر ان کے دل جم چکے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اونچی زمین پر اُگایا ہوا باغ ہو کہ اس پر پانی برسے تو پھل پھول پیدا ہو جائیں اور اگر زور سے پانی نہ برسے تو ہلکی بوندیں بھی اسے شاداب کر دینے کے لیے کافی ہوں اور یاد رکھو کہ تم جو کچھ بھی کرتے ہو وہ اللہ کی نظر سے پوشیدہ نہیں ہے۔‘‘ (۲:۲۶۵) 8۔ نصاریٰ یعنی مسیحی عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں ان کو عیسیٰ علیہ السلام کی مثال آدم علیہ السلام سے دے کر بتایا گیا ہے کہ بتاؤ آدم جو مٹی سے بنایا گیا وہ اللہ ہو سکتا ہے۔ اگر نہیں تو عیسیٰ جو آدم کی اولاد سے ہونے کے باعث مٹی سے بنایا گیا کیسے اللہ کا بیٹا ہو سکتا ہے؟ ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو عیسیٰ ایسا ہی ہے جیسا آدم کہ اُس کو مٹی سے پیدا کیا اور حکم دیا کہ ہو جا پس وہ ہو گیا (جیسا کہ ہر چیز کلمہ کن سے پیدا ہوئی) ایسے ہی عیسیٰ بھی کلمہ کن سے پیدا ہوا (تم بتاؤ کون ہے جو کلمہ کن سے پیدا نہیں ہوا؟)۔‘‘ (۳:۵۹) 9۔ ان لوگوں کی مثال جو محض دنیوی نمود و نمائش میں خرچ کرتے ہیں: ’’دنیا کی نمود و نمائش کیلئے یہ لوگ جو کچھ بھی خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ایسی ہے جیسے اس ہوا کا چلنا جس کے ساتھ سردی کی لہر شامل ہو، پھر ایک گروہ نے جو محنت و مشقت برداشت کر کے ایک کھیت تیار کیا لیکن اس سردی کی لہر سے سارا کھیت برباد ہو کر رہ جائے، ہاں! اس طرح جو کچھ ان کو پیش آیا تو اس لیے نہیں کہ اللہ نے ان پر ظلم کیا ہو بلکہ یہ خود اپنے ہاتھوں اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں۔‘‘ (۳:۱۱۷) 10۔ ان لوگوں کی مثال جو سب کچھ جاننے کے باوجود دنیا کمانے کے لیے بدعملیاں کرتے ہیں ان کی مثال اس طرح بیان فرمائی گئی: ’’اور ان لوگوں کو اس شخص کاحال پڑھ کر سناؤ جسے ہم نے اپنی نشانیاں دی تھیں لیکن اس نے پھر وہ جامہ اتار دیا پس شیطان اُس کے پیچھے لگا جس کے نتیجہ میں وہ گمراہوں سے ہو گیا۔ اگر ہم اپنے قانون کے مطابق چاہتے تو ان نشانیوں کے ذریعہ اس کا مرتبہ بلند کرتے اور وہ (دلائل حق کا جو علم اُس کو دیا تھا اُس پر قائم رہتا) مگر وہ پستی کی طرف جھک گیا اور ہوائے نفس کی پیروی کی تو اُس کی مثال اُس کتے کی سی ہو گئی کہ اُس کو مشقت میں ڈالو جب بھی ہانپے اور زبان لٹکائے اور اگر چھوڑ دو جب بھی ایسا ہی کرے، ایسی ہی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری نشانیاں جھٹلائیں، پس یہ حکایتیں لوگوں کو سنائیں تاکہ وہ ان میں غور و فکر کریں۔ کیا ہی بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے ہماری نشانیاں جھٹلائیں اور وہ اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کرتے رہے۔‘‘ (۷:۱۷۵ تا ۱۷۷) 11۔ دنیا کی زندگی کی مثال جس میں آخرت کا تصور ہی موجود نہ ہو قرآنِ کریم نے اس طرح بیان فرمائی ہے کہ: ’’دنیا کی زندگی کی مثال تو بس ایسی ہے جیسے یہ معاملہ کہ آسمان سے ہم نے پانی برسایا اور زمین کی نباتات جو انسانوں اور چارپایوں کے لیے غذا کا کام دیتی ہے اس سے شاداب ہو کر پھلی پھولیں اور ایک دوسرے سے مل گئیں پھر جب وہ وقت آیا کہ زمین نے اپنے سارے زیور پہن لیے اور خوش نما ہو گئی اور زمین کے مالک سمجھے کہ اب فصل ہمارے قابو میں آ گئی ہے تو اچانک ہمارا حکم دن کے وقت یا رات کے وقت آ نمودار ہوا اور ہم نے زمین کی ساری فصل اسی طرح بیخ و بن سے کاٹ کر رکھ دی گویا ایک دن پہلے تک اس کا نام و نشان ہی نہ تھا اس طرح ہم دلیلیں کھول کھول کر بیان کر دیتے ہیں تو محض اس لیے کہ لوگ غور و فکر کر لیں۔‘‘ (۱۰:۲۴) 12۔ ایمان اور کفر کی مثال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ بتاؤ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ مطلب یہ ہے کہ برابر نہیں ہو سکتے: ’’ان دو فریقوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اندھا، بہرا اور ایک دیکھنے والا اور سننے والا، پھر بتاؤ کیا دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ کیا تم غور و فکر نہیں کرتے؟‘‘ (۱۱:۲۴) 13۔ اللہ رب کریم کا انکار کرنے والوں کے اعمال کی مثال اس طرح بیان کی: ’’اُن کی مثال ایسی ہے جیسے راکھ کا ڈھیر کہ آندھی کے دن ہوا لے اُڑے جو کچھ انہوں نے کمایا ہے اس میں سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہ آئے گا، یہی گمراہی کی حالت ہے جو بڑی ہی گہری گمراہی ہے۔‘‘ (۱۴:۱۸) 14۔ انسان کی اچھی اور بری باتوں کی مثال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے: ’’کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ نے کس طرح ایک مثال بیان کی؟ ایک اچھی بات کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھا درخت کہ جڑ اس کی جمی ہوئی ہو اور ٹہنیاں آسمان تک پھیلی ہوئی ہوں وہ اپنے رب کے حکم سے ہر وقت پھل پیدا کرتا رہتا ہو، اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ سوچیں اور سمجھیں۔ اور نکمی بات کی مثال کیا ہے؟ ایسے جیسے ایک نکما درخت، زمین کی سطح پر اس کی جڑ کھوکھلی، جب چاہا اُکھاڑ پھینکا، اس لیے کہ اس کے لیے جماؤ نہیں ہے۔‘‘ (۱۴:۲۴تا۲۶) 15۔ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کی مثال اس طرح بیان فرمائی گئی ہے کہ: ’’اور انہیں فقط دنیا کی زندگی چاہنے والوں کی مثال سنا دو، اس کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے ہم نے پانی برسایا اور زمین کی روئیدگی اس سے مل جل کر اُبھر آئی، پھر سب کچھ سوکھ کر چورا چورا ہو گیا، ہوا کے جھونکوں نے اسے اُڑا کر منتشر کر دیا ہو، آخر کونسی بات ہے جس کے کرنے پر اللہ قادر نہیں۔ مال و دولت اور آل و اولاد دنیوی زندگی کی دلفریبیاں ہیں اور جو نیکیاں باقی رہنے والی ہیں تو وہی تمہارے پروردگار کے نزدیک بہ اعتبارِ ثواب بہتر ہیں اور یہی ہیں جن کے نتائج سے بہتر امید رکھی جا سکتی ہے۔‘‘ (۱۸:۴۵،۴۶) 16۔ اللہ وہ ذات ہے جس کے لیے کوئی مثال نہیں بیان کی جا سکتی ہاں! تفہیم کے لیے اُس کے مخلوق نور کی مثال اس طرح بیان کی جاتی ہے جو نور روشنی کے لیے اُس نے بنایا ہے سو اس کو دھیان سے سن لو چنانچہ ارشاد ہوتا ہے کہ: ’’اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اُس کے نور کی مثال ایسے طاق جیسی ہے جس میں ایک چراغ روشن ہو اور وہ روشن چراغ ایک فانوس میں ہو اور وہ فانوس گویا موتی کی طرح چمکتا ہوا ایک ستارہ ہے، وہ چراغ کہ شجر مبارکہ زیتون کے تیل سے روشن کیا گیا ہے جو نہ مشرق کے رخ واقع ہے اور نہ مغرب کے رُخ اس کا تیل اتنا لطیف ہے کہ اگر اس کو آگ نہ بھی چھوئے تو بھڑک پڑے اور فضاؤں کو منور کر دے وہ نور پر نور ہے اللہ جس کو چاہتا ہے اپنے قانون کے مطابق اپنے نور کی راہ دکھاتا ہے اور اللہ لوگوں کو سمجھانے کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ہے۔‘‘ (۲۴:۳۵) 17۔ جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر یا اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی اپنا کارساز بناتے ہیں اُن کی مثال اس طرح بیان کی جاتی ہے: ’’جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں اُن کی مثال مکڑے کی سی ہے جس نے گھر بنایا اور بلاشبہ تمام گھروں میں سب سے کمزور مکڑے کا گھر ہے، کاش وہ اس مثال پر غور کرتے اور اس کی حقیقت کو سمجھتے۔ بلاشبہ وہ جس چیز کو بھی اللہ کے سوا پکارتے ہیں اللہ اُسے جانتا ہے وہ بڑے غلبہ والا اور حکمت والا ہے اور یہ مثالیں جن کو ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں اور ان کو وہی سمجھتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔‘‘ (۳۹:۳۱،۳۲) 18۔ لوگوں کے لیے ان کی روز مرہ زندگی کے حالات میں سے ایک مثال بیان کی گئی ہے کہ تمہارے ملازم اور لونڈی غلام بھی تمہارے جیسے انسان ہیں لیکن جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کا ڈر رکھتے ہو کیا ان سے بھی ڈرتے ہو، نہیں، تو آخر کیوں؟ اس لیے کہ وہ تمہارے ساتھ تمہارے مالوں میں شریک نہیں ہیں۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے کہ: ’’تمہارے لیے تمہارے روز مرہ حالات میں سے ایک مثال بیان کی جاتی ہے تم بتاؤ تمہارے غلاموں (ملازموں) میں سے کوئی تمہارا اس مال و دولت میں شریک ہے جو ہم نے تم کو دیا ہے حالانکہ تم سب اس کے کمانے میں برابر کے شریک ہو کیا تم ان غلاموں (ملازموں) سے بھی ڈرتے ہو جیسے تم اپنوں سے ڈرتے ہو اور اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کھول کر ان لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔‘‘ (۳۰:۲۸) 19۔ ایسی زندگی جو محض دنیا کی زندگی ہے جس میں آخرت کا تصور موجود نہ ہو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کھیل و تماشا ہے یا ایسی ہے کہ کھیتی پکی اور کاٹ لی گئی پھر نئی کی تیاری شروع ہو گئی اس طرح گویا زندگی کی فصل بھی کٹ گئی اور آخرت کے لیے کچھ باقی نہ رہا چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ’’جان لو کہ دنیوی زندگی محض کھیل، تماشا اور آرائش ہے اور آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنا اور کثرت سے مال اور اولاد کا حصول ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے بارش کہ اس سے کھیتی اُگتی ہے جو کسانوں کو اچھی معلوم ہوتی ہے پھر وہ خوب زور پر آتی ہے اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور اللہ کی طرف سے مغفرت اور خوشنودی ہے ورنہ دنیا کی زندگی تو دھوکا ہی دھوکا ہے۔‘‘ (۵۷:۲۰) 20۔ ان لوگوں کی مثال جن کو تورات دی گئی لیکن اُنہوں نے اس کے علم سے کچھ فائدہ حاصل نہ کیا محض اُس کو اس طرح اُٹھایا رکھا جیسے گدھا کسی بوجھ کو اُٹھاتا ہے یہ اُن لوگوں کی مثال ہے جو علمائے یہود تھے اور اس مثال کے بیان کا مقصد یہ ہے کہ علمائے اسلام اس سے سبق حاصل کریں لیکن جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہر آنکھ دیکھ رہی ہے اور ہر کان سن رہا ہے چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ’’ان لوگوں کی مثال جن کو تورات پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا، پھر اُنہوں نے اس پر عمل نہیں کیا ایک گدھے کی طرح ہے جس پر بہت سی کتابیں لاد رکھی ہوں، کیسی بری مثال ہے اس قوم کی جس نے اللہ رب کریم کی نشانیوں کو جھٹلایا اور قانونِ الٰہی یہی ہے کہ اللہ ایسے ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ (۶۲:۵) قرآنِ کریم سے اس جگہ صرف بیس مقامات کا فقط ذکر کیا ہے تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ قرآنِ کریم میں تمثیلی زبان بھی کثرت سے استعمال کی گئی ہے اور جہاں بھی تمثیل بیان کی ہے اصل مضمون کو اُس نے مختصر سے مختصر الفاظ میں روزِ روشن کی طرح واضح کر دیا ہے تفصیل کے لیے ان مقامات کی تفسیر کی طرف مراجعت کی جا سکتی ہے اور تفسیر عروۃ الوثقیٰ میں ان امثلہ کی مکمل وضاحت بندہ نے کر دی ہے۔ زیر نظر مضمون میں قرآنِ کریم میں علامتی زبان کی حقیقت و ماہیت کے پیش نظر صرف چھ طرح کے الفاظ زیر بحث لائے ہیں حالانکہ قرآنِ کریم میں بے شمار ایسے الفاظ بیان ہوئے ہیں جو قرآنِ کریم میں علامتی زبان پر دلالت کرتے ہیں اور اس طرح تمثیلی زبان کے لیے بھی مشتے از خروارے عرض کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ قرآنِ کریم کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نوری ہے نہ ناری ہے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کتابوں, پھول, قدم, لوگ, نظر, مکمل, موت, مقابلہ, معلوم, آج, آدمی, ایمان, اللہ, انسان, اسلامی, حکم, حسن, خوش, خدا, دُعا, رات, زندگی, عیسیٰ, عقل, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کابل کا سفارتی علاقہ 19 گھنٹے میدان جنگ بنا رہا، خودکش دھماکے، جھڑپ میں حملہ آوروں سمیت 14 ہلاک | گلاب خان | خبریں | 1 | 15-09-11 07:07 AM |
| انا ہزارے جیت گئے، بھارتی پارلیمنٹ نے لوک پال بل میں ترمیم کی قرارداد منظور کرلی | گلاب خان | خبریں | 4 | 29-08-11 02:56 AM |
| ریمنڈ کے معاملہ پر سفارتی برادری امریکا کی حمایت نہیں کررہی | گلاب خان | خبریں | 2 | 14-02-11 09:56 AM |
| مُلائیت کی طبقاتی جان ،خرد دشمنی اور جہالت کے طوطے میں ہے | shafresha | عمومی بحث | 38 | 16-07-10 07:13 AM |
| مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کی جارحیت ۔3کشیمری شہید | جاویداسد | خبریں | 0 | 07-07-10 07:03 PM |